Sunan At-Tirmidhiسنن الترمذی

All 3,977 hadiths in order · Page 161 of 199

3269Sunan At-Tirmidhiصحیح

سورہ حجرات کی تفسیر

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، عَنِ الْمُسْتَمِرِّ بْنِ الرَّيَّانِ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، قَالَ: قَرَأَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ: وَاعْلَمُوا أَنَّ فِيكُمْ رَسُولَ اللَّهِ لَوْ يُطِيعُكُمْ فِي كَثِيرٍ مِنَ الأَمْرِ لَعَنِتُّمْ سورة الحجرات آية 7، قَالَ: هَذَا نَبِيُّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوحَى إِلَيْهِ وَخِيَارُ أَئِمَّتِكُمْ لَوْ أَطَاعَهُمْ فِي كَثِيرٍ مِنَ الْأَمْرِ لَعَنِتُوا فَكَيْفَ بِكُمُ الْيَوْمَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، قَالَ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ: سَأَلْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ الْقَطَّانَ، عَنِ الْمُسْتَمِرِّ بْنِ الرَّيَّانِ، فَقَالَ: ثِقَةٌ.

ابونضرہ کہتے ہیں کہ ابو سعید خدری (رض) نے آیت : «واعلموا أن فيكم رسول اللہ لو يطيعكم في كثير من الأمر لعنتم» جان لو تمہارے درمیان اللہ کا رسول موجود ہے، اگر وہ بیشتر معاملات میں تمہاری بات ماننے لگ جائے تو تم مشقت و تکلیف میں پڑجاؤ گے (الحجرات : ٧) ، تلاوت کی اور اس کی تشریح میں کہا : یہ تمہارے نبی اکرم ﷺ ہیں، ان پر وحی بھیجی جاتی ہے اور اگر وہ بہت سارے معاملات میں تمہاری امت کے چیدہ لوگوں کی اطاعت کرنے لگیں گے تو تم تکلیف میں مبتلا ہوجاتے، چناچہ (آج) اب تمہاری باتیں کب اور کیسے مانی جاسکتی ہیں۔

Abu Nadrah reported that Sayyidina Abu Saeed Khudri recited this verse: "And know that among you is Allahs Messenger, If he were to obey you in many a matter you would certainly be in trouble." (49: 7) He said, "This verse was revealed to your Prophet ﷺ while the best of your imams were there. If he had obeyed them in many affairs then they would have faced trouble. Then, how will it be with you today?"

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3269
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ٢- علی بن مدینی کہتے ہیں : میں نے یحییٰ بن سعید قطان سے مستمر بن ریان کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا : وہ ثقہ ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٤٣٨٣) (صحیح الإسناد)
3270Sunan At-Tirmidhiصحیح

سورہ حجرات کی تفسیر

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ النَّاسَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ، فَقَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَذْهَبَ عَنْكُمْ عُبِّيَّةَ الْجَاهِلِيَّةِ وَتَعَاظُمَهَا بِآبَائِهَا، فَالنَّاسُ رَجُلَانِ بَرٌّ تَقِيٌّ كَرِيمٌ عَلَى اللَّهِ، وَفَاجِرٌ شَقِيٌّ هَيِّنٌ عَلَى اللَّهِ، وَالنَّاسُ بَنُو آدَمَ، وَخَلَقَ اللَّهُ آدَمَ مِنْ تُرَابٍ، قَالَ اللَّهُ: يَأَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُمْ مِنْ ذَكَرٍ وَأُنْثَى وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ سورة الحجرات آية 13 . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ يُضَعَّفُ، ضَعَّفَهُ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ هُوَ وَالِدُ عَلِيِّ بْنِ الْمَدِينِيِّ، قَالَ: وَفِي الْبَابِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَعَبْدُ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ.

عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ فتح مکہ کے دن رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کو خطاب فرمایا : لوگو ! اللہ تعالیٰ نے تم سے جاہلیت کا فخر و غرور اور خاندانی تکبر ختم کردیا ہے، اب لوگ صرف دو طرح کے ہیں ( ١) اللہ کی نظر میں نیک متقی، کریم و شریف اور ( ٢) دوسرا فاجر بدبخت، اللہ کی نظر میں ذلیل و کمزور، لوگ سب کے سب آدم کی اولاد ہیں۔ اور آدم کو اللہ نے مٹی سے پیدا کیا ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : «يا أيها الناس إنا خلقناکم من ذکر وأنثی وجعلناکم شعوبا و قبائل لتعارفوا إن أكرمکم عند اللہ أتقاکم إن اللہ عليم خبير» اے لوگو ! ہم نے تمہیں نر اور مادہ (کے ملاپ) سے پیدا کیا اور ہم نے تمہیں کنبوں اور قبیلوں میں تقسیم کردیا، تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو، (کہ کون کس قبیلے اور کس خاندان کا ہے) بیشک اللہ کی نظر میں تم میں سب سے زیادہ معزز و محترم وہ شخص ہے جو اللہ سے سب سے زیادہ ڈرنے والا ہے۔ بیشک اللہ جاننے والا اور خبر رکھنے ولا ہے (الحجرات : ١٣) ۔

Sayyidina Abdullah ibn Umar (RA) reported that at the time of the liberation of Makkah, the Prophet ﷺ addressed the people. He said, "O you people, surely Allah has removed from you pride of pre-Islamic days and pride in high descent. Thus, men are of two kinds, man who is pious and God-fearing, and noble in the sight of Allah. The other kind is a sinner, hard-hearted and lowly in Allahs sight. But, men are children of Aadam and Allah had created Aadam from dust. He said: "And revile not one another with nicknames." (49: 12) [Ahmed 6642, Bukhari 330, Abu Dawud 4962, 1Muslim 3741]

صحيح، الصحيحة (2700)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3270
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث غریب ہے، ٢- ہم اس حدیث کو صرف اسی سند کے سوا جسے عبداللہ بن دینار ابن عمر سے روایت کرتے ہیں کسی اور سند سے مروی نہیں جانتے، ٣- عبداللہ بن جعفر ضعیف قرار دیئے گئے ہیں، انہیں یحییٰ بن معین وغیرہ نے ضعیف کہا ہے، اور عبداللہ بن جعفر - یہ علی ابن مدینی - کے والد ہیں، ٤- اس باب میں ابوہریرہ اور ابن عباس (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٧٢٠١) (صحیح) (سند میں علی بن المدینی کے والد عبد اللہ بن جعفر ضعیف راوی ہیں، لیکن شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے)
3271Sunan At-Tirmidhiصحیح

سورہ حجرات کی تفسیر

حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ سَهْلٍ الْأَعْرَجُ الْبَغْدَادِيُّ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ سَلَّامِ بْنِ أَبِي مُطِيعٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: الْحَسَبُ الْمَالُ وَالْكَرَمُ التَّقْوَى . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ سَمُرَةَ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ سَلَّامِ بْنِ أَبِي مُطِيعٍ وَهُوَ ثِقَةٌ.

سمرہ (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : «حسب» مال کو کہتے ہیں اور «کرم» سے مراد تقویٰ ہے ١ ؎۔

Sayyidina Samurah (RA) reported the Prophet ﷺ saying, "Pride in ancestry is property while generosity is piety." [Ahmed 21022, 1Muslim 4219J

صحيح، الإرواء (1870)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3271
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ٢- ہم اسے صرف سلام بن ابی مطیع کی روایت سے جانتے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : مؤلف یہ حدیث ارشاد باری تعالیٰ «إن أكرمکم عند اللہ أتقاکم إن اللہ عليم خبير» (الحجرات : ١٣) ۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الزہد ٢٤ (٤٢١٩) (تحفة الأشراف : ٤٥٩٨) ، وحإ (٥/١٠) (صحیح) (سند میں سلام بن ابی مطیع قتادہ سے روایت میں ضعیف راوی ہیں، نیز حسن بصری مدلس ہیں اور روایت عنعنہ سے کی ہے، لیکن شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے)
3272Sunan At-Tirmidhiصحیح

سورہ ق کی تفسیر

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ قَتَادَةَ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا تَزَالُ جَهَنَّمُ تَقُولُ: هَلْ مِنْ مَزِيدٍ حَتَّى يَضَعَ فِيهَا رَبُّ الْعِزَّةِ قَدَمَهُ، فَتَقُولُ: قَطْ قَطْ وَعِزَّتِكَ، وَيُزْوَى بَعْضُهَا إِلَى بَعْضٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَفِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ.

انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جہنم کہتی رہے گی «هل من مزيد» کوئی اور (جہنمی) ہو تو لاؤ، (ڈال دو اسے میرے پیٹ میں) (قٓ: ٣٠) ، یہاں تک کہ اللہ رب العزت اپنا قدم اس میں رکھ دے گا، اس وقت جہنم «قط قط» بس، بس کہے گی اور قسم ہے تیری عزت و بزرگی کی (اس کے بعد) جہنم کا ایک حصہ دوسرے حصے میں ضم ہوجائے گا ١ ؎۔

Sayyidina Anas ibn Maalik (RA) reported that the Prophet ﷺ said, "Hell does not cease to ask, Are there any more? till the Mighty Lord puts His foot over it. Forthwith, it will plead, Enough, enough, by Your Might. And some of it will encroach on some other of it." [Bukhari 6661, Ahmed 12383]

صحيح ظلال الجنة (531 - 534)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3272
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، ٢- اس باب میں ابوہریرہ (رض) سے بھی روایت ہے۔ فائدہ ١ ؎: یعنی ایک حصہ دوسرے حصہ سے چمٹ کر یکجا ہوجائے گا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأیمان والنذور ١٢ (٦٦٦١) ، صحیح مسلم/الجنة ١٣ (٢٨٤٨) (تحفة الأشراف : ١٢٩٥) (صحیح)
3273Sunan At-Tirmidhiصحیح

سورہ ذاریات کی تفسیر

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ سَلَّامٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ رَبِيعَةَ، قَالَ: قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ، فَدَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرْتُ عِنْدَهُ وَافِدَ عَادٍ، فَقُلْتُ: أَعُوذُ بِاللَّهِ أَنْ أَكُونَ مِثْلَ وَافِدِ عَادٍ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَمَا وَافِدُ عَادٍ ؟ قَالَ: فَقُلْتُ: عَلَى الْخَبِيرِ سَقَطْتَ، إِنَّ عَادًا لَمَّا أُقْحِطَتْ بَعَثَتْ قَيْلًا فَنَزَلَ عَلَى بَكْرِ بْنِ مُعَاوِيَةَ فَسَقَاهُ الْخَمْرَ وَغَنَّتْهُ الْجَرَادَتَانِ، ثُمَّ خَرَجَ يُرِيدُ جِبَالَ مَهْرَةَ، فَقَالَ: اللَّهُمَّ إِنِّي لَمْ آتِكَ لِمَرِيضٍ فَأُدَاوِيَهُ، وَلَا لِأَسِيرٍ فَأُفَادِيَهُ فَاسْقِ عَبْدَكَ مَا كُنْتَ مُسْقِيَهُ وَاسْقِ مَعَهُ بَكْرَ بْنَ مُعَاوِيَةَ يَشْكُرُ لَهُ الْخَمْرَ الَّتِي سَقَاهُ، فَرُفِعَ لَهُ سَحَابَاتٌ، فَقِيلَ لَهُ: اخْتَرْ إِحْدَاهُنَّ، فَاخْتَارَ السَّوْدَاءَ مِنْهُنَّ، فَقِيلَ لَهُ: خُذْهَا رَمَادًا رِمْدِدًا لَا تَذَرُ مِنْ عَادٍ أَحَدًا، وَذُكِرَ أَنَّهُ لَمْ يُرْسَلْ عَلَيْهِمْ مِنَ الرِّيحِ إِلَّا قَدْرُ هَذِهِ الْحَلْقَةِ يَعْنِي حَلْقَةَ الْخَاتَمِ، ثُمَّ قَرَأَ: إِذْ أَرْسَلْنَا عَلَيْهِمُ الرِّيحَ الْعَقِيمَ 41 مَا تَذَرُ مِنْ شَيْءٍ أَتَتْ عَلَيْهِ إِلا جَعَلَتْهُ كَالرَّمِيمِ 42 سورة الذاريات آية 41-42 الْآيَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: وَقَدْ رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ سَلَّامٍ أَبِي الْمُنْذِرِ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ الْحَارِثِ بْنِ حَسَّانَ، وَيُقَالُ لَهُ: الْحَارِثُ بْنُ يَزِيدَ.

ابو وائل شقیق بن سلمہ کہتے ہیں کہ قبیلہ بنی ربیعہ کے ایک شخص نے کہا : میں مدینہ آیا اور رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، وہاں آپ کے پاس (دوران گفتگو) میں نے قوم عاد کے قاصد کا ذکر کیا، اور میں نے کہا : میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں اس بات سے کہ میں عاد کے قاصد جیسابن جاؤں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : عاد کے قاصد کا قصہ کیا ہے ؟ میں نے کہا : (اچھا ہوا) آپ نے واقف کار سے پوچھا (میں آپ کو بتاتا ہوں) قوم عاد جب قحط سے دوچار ہوئی تو اس نے قیل (نامی شخص) کو (امداد و تعاون حاصل کرنے کے لیے مکہ) بھیجا، وہ (آ کر) بکر بن معاویہ کے پاس ٹھہرا، بکر نے اسے شراب پلائی، اور دو مشہور مغنیاں اسے اپنے نغموں سے محظوظ کرتی رہیں، پھر قیل نے وہاں سے نکل کر مہرہ کے پہاڑوں کا رخ کیا (مہرہ ایک قبیلہ کے دادا کا نام ہے) اس نے (دعا مانگی) کہا : اے اللہ ! میں تیرے پاس کوئی مریض لے کر نہیں آیا کہ اس کا علاج کراؤں، اور نہ کسی قیدی کے لیے آیا اسے آزاد کرا لوں، تو اپنے بندے کو پلا (یعنی مجھے) جو تجھے پلانا ہے اور اس کے ساتھ بکر بن معاویہ کو بھی پلا (اس نے یہ دعا کر کے) اس شراب کا شکریہ ادا کیا، جو بکر بن معاویہ نے اسے پلائی تھی، (انجام کار) اس کے لیے (آسمان پر) کئی بدلیاں چھائیں اور اس سے کہا گیا کہ تم ان میں سے کسی ایک کو اپنے لیے چن لو، اس نے ان میں سے کالی رنگ کی بدلی کو پسند کرلیا، کہا گیا : اسے لے لو اپنی ہلاکت و بربادی کی صورت میں، عاد قوم کے کسی فرد کو بھی نہ باقی چھوڑے گی، اور یہ بھی ذکر کیا گیا ہے کہ عاد پر ہوا (آندھی) اس حلقہ یعنی انگوٹھی کے حلقہ کے برابر ہی چھوڑی گئی۔ پھر آپ نے آیت «إذ أرسلنا عليهم الريح العقيم ما تذر من شيء أتت عليه إلا جعلته کالرميم» یاد کرو اس وقت کو جب ہم نے ان پر بانجھ ہوا بھیجی جس چیز کو بھی وہ ہوا چھو جاتی اسے چورا چورا کردیتی (الذاریات : ٤٢) ، پڑھی ١ ؎۔

Abu Wail reported that a man of the tribe of Rabiah said: I came to Madinah and met Allahs Messenger ﷺ . The envoy of Aad was mentioned there and I said, "I seek refuge in Allah lest I be like the envoy of Aad." So, Allahs Messenger ﷺ asked, "What about the envoy of Aad?" I said, "You have always come across good and adept envoys. As for the Aad, when they were afflicted with famine, they sent Qayl (one of their members). He came to Bakr ibn Muawiyah and he gave him wine to drink and two singing girls sang before him. Then he went out towards the mountain Mahrah, saying. O Allah, I have not come to treat a sick person or to ransom a captive. So, give to drink to Your slave what You will give, but with him give to Bakr ibn Muawiyah, too, this will show thankfulness for the wine served to me. Then many small couds were brought to him and he was asked to choose one them. He chose a black from them. He was told to pick up burning ashes that would not spare anyone of the Aad. Allahs Messenger said that only as much wind as the circle of his ring was sent to Aad. He then recited the verse: "When we loosed against them a blighting wind that left nothing it came upon, but made it like ashes." (51: 41-42) [Ibn e Majah 2816]

حسن الضعيفة تحت الحديث (1228)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3273
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- اس حدیث کو کئی لوگوں نے سلام ابومنذر سے، سلام نے عاصم بن ابی النجود سے، عاصم نے ابو وائل سے اور ابو وائل نے («عن رجل من ربیعة» کی جگہ) حارث بن حسان سے روایت کیا ہے۔ (یہ روایت آگے آرہی ہے) ٢- حارث بن حسان کو حارث بن یزید بھی کہا جاتا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الجھاد ٢٠ (٢٨١٦) (تحفة الأشراف : ٣٢٧٧) (حسن)
3274Sunan At-Tirmidhiصحیح

سورہ ذاریات کی تفسیر

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ، حَدَّثَنَا سَلَّامُ بْنُ سُلَيْمَانَ النَّحْوِيُّ أَبُو الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ أَبِي النَّجُودِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ الْحَارِثِ بْنَ يَزِيدَ الْبَكْرِيِّ، قَالَ: قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَدَخَلْتُ الْمَسْجِدَ، فَإِذَا هُوَ غَاصٌّ بِالنَّاسِ، وَإِذَا رَايَاتٌ سُودٌ تَخْفُقُ، وَإِذَا بِلَالٌ مُتَقَلِّدٌ السَّيْفَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قُلْتُ: مَا شَأْنُ النَّاسِ ؟ قَالُوا: يُرِيدُ أَنْ يَبْعَثَ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ وَجْهًا ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ نَحْوًا مِنْ حَدِيثِ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ بِمَعْنَاهُ، قَالَ: وَيُقَالُ لَهُ الْحَارِثُ بْنُ حَسَّانَ أَيْضًا.

حارث بن یزید البکری کہتے ہیں کہ میں مدینہ آیا، مسجد نبوی میں گیا، وہ لوگوں سے کھچا کھچ بھری ہوئی تھی، کالے جھنڈ ہوا میں اڑ رہے تھے اور بلال (رض) آپ کے سامنے تلوار لٹکائے ہوئے کھڑے تھے، میں نے پوچھا : کیا معاملہ ہے ؟ لوگوں نے کہا : آپ کا ارادہ عمرو بن العاص (رض) کو (فوجی دستہ کے ساتھ) کسی طرف بھیجنے کا ہے، پھر پوری لمبی حدیث سفیان بن عیینہ کی حدیث کی طرح اسی کے ہم معنی بیان کی۔ حارث بن یزید کو حارث بن حسان بھی کہا جاتا ہے۔

Sayyidina Harith ibn Yazid Bakri (RA) narrated: I came to Madinah and entered the mosque. It was full of people, black flags fluttered and Bilal (RA) stood, sword drawn, by Allahs Messenger ﷺ . I asked, "Why are the people assembled?" I was told that the Prophet ﷺ intended to send Amr ibn al-Aas on an expedition. Then he narrated thehadith in detail bearing the same meaning as the hadith of Sufyan ibnUyaynah. And he (Harith ibn Yazid) was also called Harith ibn Hassan. [Ibn e Majah 2816]

حسن انظر ما قبله (3273)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3274
Takhrij · تخریج
انظر ماقبلہ (حسن)
3275Sunan At-Tirmidhiضعیف

سورت طور کی تفسیر

حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ رِشْدِينَ بْنِ كُرَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِدْبَارُ النُّجُومِ الرَّكْعَتَانِ قَبْلَ الْفَجْرِ، وَإِدْبَارُ السُّجُودِ الرَّكْعَتَانِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ مَرْفُوعًا إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ فُضَيْلٍ، عَنْ رِشْدِينَ بْنِ كُرَيْبٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَسَأَلْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيل، عَنْ مُحَمَّدٍ وَرِشْدِينَ بْنِ كُرَيْبٍ، أَيُّهُمَا أَوْثَقُ ؟ قَالَ: مَا أَقْرَبَهُمَا، وَمُحَمَّدٌ عِنْدَ أَرْجَحُ، قَالَ: وَسَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ هَذَا فَقَالَ: مَا أَقْرَبْهُمَا عِنْدِي وَرِشْدِينُ بْنُ كُرَيْبٍ أَرْجَحُهُمَا عِنْدِي، قَالَ: وَالْقَوْلُ عِنْدِي مَا قَالَ أَبُو مُحَمَّدٍ، وَرِشْدِينُ أَرْجَحُ مِنْ مُحَمَّدٍ، وَأَقْدَمُ وَقَدْ أَدْرَكَ رِشْدِينُ ابْنَ عَبَّاسٍ وَرَآهُ.

عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : «إدبار النجوم» ١ ؎ (نجوم کے پیچھے) سے مراد نماز فجر سے پہلے کی دو رکعتیں یعنی سنتیں ہیں اور «إدبار السجود» (سجدوں کے بعد) سے مراد مغرب کے بعد کی دو رکعتیں ہیں ٢ ؎۔

Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that the Prophet ﷺ said, "After (the setting of) the stars pray two rakaat before the fair, and after the sujud (prostration, sunset) pray two rakaat." (That is, after maghrib).

ضعيف، الضعيفة (...) ، // ضعيف الجامع الصغير (248) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3275
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث غریب ہے، ٢- ہم اس حدیث کو مرفوعاً صرف محمد بن فضیل کی روایت سے جانتے ہیں جسے وہ رشدین بن کریب سے روایت کرتے ہیں، ٣- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے محمد (محمد بن فضیل) اور رشدین بن کریب کے بارے میں پوچھا کہ ان دونوں میں کون زیادہ ثقہ ہے ؟ انہوں نے کہا : دونوں ایک سے ہیں، لیکن محمد بن فضیل میرے نزدیک زیادہ راجح ہیں (یعنی انہیں فوقیت حاصل ہے) ٤- میں نے عبداللہ بن عبدالرحمٰن (دارمی) سے اس بارے میں پوچھا (آپ کیا کہتے ہیں ؟ ) کہا : کیا خوب دونوں میں یکسانیت ہے، لیکن رشدین بن کریب میرے نزدیک ان دونوں میں قابل ترجیح ہیں، کہتے ہیں : میرے نزدیک بات وہی درست ہے جو ابو محمد یعنی دارمی نے کہی ہے، رشدین محمد بن فضیل سے راجح ہیں اور پہلے کے بھی ہیں، رشدین نے ابن عباس کا زمانہ پایا ہے اور انہیں دیکھا بھی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : سورة الطور میں «إِدْبَارُ السُّجُودِ» (ہمزہ کے کسرہ ساتھ ) ہے ، اور سورة ق میں «أَدْبَارُ السُّجُودِ» لیکن اس حدیث میں یہاں بھی ہمزہ کے کسرہ کے ساتھ روایت ہے ، بہرحال یہاں انہی دونوں کی تفسیر مقصود ہے ، («ادبار السجود» بفتح الہمزہ کی صورت میں بعض لوگوں نے اس کا معنی سجدوں کے بعد یعنی نمازوں کے بعد کی تسبیحات بیان کیا ہے۔ ٢ ؎ : مولف یہ حدیث ارشاد باری تعالیٰ «ادبار السجود» (الطور : ٤٩) کی تفسیر میں لائے ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٦٣٤٨) (ضعیف) (سند میں رشدین بن کریب ضعیف راوی ہیں)
3276Sunan At-Tirmidhiصحیح

سورت نجم کی تفسیر

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ، عَنْ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: لَمَّا بَلَغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِدْرَةَ الْمُنْتَهَى، قَالَ: انْتَهَى إِلَيْهَا مَا يَعْرُجُ مِنَ الْأَرْضِ، وَمَا يَنْزِلُ مِنْ فَوْقَ ، قَالَ: فَأَعْطَاهُ اللَّهُ عِنْدَهَا ثَلَاثًا لَمْ يُعْطِهِنَّ نَبِيًّا كَانَ قَبْلَهُ، فُرِضَتْ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ خَمْسًا، وَأُعْطِيَ خَوَاتِيمَ سُورَةِ الْبَقَرَةِ، وَغُفِرَ لِأُمَّتِهِ الْمُقْحِمَاتُ مَا لَمْ يُشْرِكُوا بِاللَّهِ شَيْئًا، قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: إِذْ يَغْشَى السِّدْرَةَ مَا يَغْشَى سورة النجم آية 16، قَالَ: السِّدْرَةُ فِي السَّمَاءِ السَّادِسَةِ، قَالَ سُفْيَانُ: فَرَاشٌ مِنْ ذَهَبٍ، وَأَشَارَ سُفْيَانُ بِيَدِهِ فَأَرْعَدَهَا، وَقَالَ غَيْرُ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ: إِلَيْهَا يَنْتَهِي عِلْمُ الْخَلْقِ لَا عِلْمَ لَهُمْ بِمَا فَوْقَ ذَلِكَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ (معراج کی رات) سدرۃ المنتہیٰ کے پاس پہنچے تو کہا : یہی وہ آخری جگہ ہے جہاں زمین سے چیزیں اٹھ کر پہنچتی ہیں اور یہی وہ بلندی کی آخری حد ہے جہاں سے چیزیں نیچے آتی اور اترتی ہیں، یہیں اللہ نے آپ کو وہ تین چیزیں عطا فرمائیں جو آپ سے پہلے کسی نبی کو عطا نہیں فرمائی تھیں، ( ١) آپ پر پانچ نمازیں فرض کی گئیں، ( ٢) سورة البقرہ کی «خواتیم» (آخری آیات) عطا کی گئیں، ( ٣) اور آپ کی امتیوں میں سے جنہوں نے اللہ کے ساتھ شرک نہیں کیا، ان کے مہلک و بھیانک گناہ بھی بخش دیئے گئے، (پھر) ابن مسعود (رض) نے آیت «إذ يغشی السدرة ما يغشی» ڈھانپ رہی تھی سدرہ کو جو چیز ڈھانپ رہی تھی (النجم : ١٦) ، پڑھ کر کہا «السدرہ» (بیری کا درخت) چھٹے آسمان پر ہے، سفیان کہتے ہیں : سونے کے پروانے ڈھانپ رہے تھے اور سفیان نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کر کے انہیں چونکا دیا (یعنی تصور میں چونک کر ان پروانوں کے اڑنے کی کیفیت دکھائی) مالک بن مغول کے سوا اور لوگ کہتے ہیں کہ یہیں تک مخلوق کے علم کی پہنچ ہے اس سے اوپر کیا کچھ ہے کیا کچھ ہوتا ہے انہیں اس کا کچھ بھی علم اور کچھ بھی خبر نہیں ہے۔

Sayyidina Ibn Masud (RA) reported that when Allahs Messenger ﷺ reached sidratul muntahah (during his miraj)-muntahah is to which one ascends from earth and from which one descends to earth-Allah gave him three things that were never given to any Prophet ﷺ before him. The five times salah was prescribed for him, the concluding verses of surah al-Baqarah were given to him, and his ummah were forgiven all major sins as long as they do not associate anything with Allah. Ibn Masud said about this verse; "When that which shrouds shrouded the Lote-tree." (53: 16) The sidrah is at the sixth heaven." Sufyan said, "That which shrouds are butterflies of gold", and he indicated with his hand how they fly. Maalik ibn Mighwal and others said that at this point the knowledge of the creatures ends none of them has knowledge beyond that.

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3276
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الإیمان ٧٦ (١٧٣) ، سنن النسائی/الصلاة ١ (٤٥٢) (تحفة الأشراف : ٩٥٤٨) ، و مسند احمد (١/٣٨٧، ٤٢٢) (صحیح)
3277Sunan At-Tirmidhiصحیح

سورت نجم کی تفسیر

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، حَدَّثَنَا الشَّيْبَانِيُّ، قَالَ: سَأَلْتُ زِرَّ بْنَ حُبَيْشٍ، عَنْ قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى سورة النجم آية 9 فَقَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ مَسْعُودٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى جِبْرِيلَ وَلَهُ سِتُّ مِائَةِ جَنَاحٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ.

شیبانی کہتے ہیں کہ میں نے زر بن حبیش سے آیت : «فكان قاب قوسين أو أدنی» دو کمانوں کے برابر یا اس سے بھی کچھ کم فرق رہ گیا (النجم : ٩) ، کی تفسیر پوچھی تو انہوں نے کہا : مجھے ابن مسعود (رض) نے خبر دی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جبرائیل کو دیکھا اور ان کے چھ سو پر تھے۔

Shaybani narrated: I asked Zirr ibn Habaysh about the words of Allah, the Majestic, the Glorious: "Till he was within two bows length or even nearer." (53: 9) He said that Ibn Masud (RA) had informed him that the Prophet ﷺ saw Jibril and he had six hundred wings. [Bukhari 4656, Muslim 174]

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3277
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/بدء الخلق ٧ (٣٢٣٢) ، وتفسیر سورة النجم ٢ (٤٨٥٦) ، و ٣ (٤٨٥٧) ، صحیح مسلم/الإیمان ٧٦ (١٧٤) (تحفة الأشراف : ٩٢٠٥) (صحیح)
3278Sunan At-Tirmidhiضعیف

سورت نجم کی تفسیر

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: لَقِيَ ابْنُ عَبَّاسٍ كَعْبًا بِعَرَفَةَ، فَسَأَلَهُ عَنْ شَيْءٍ، فَكَبَّرَ حَتَّى جَاوَبَتْهُ الْجِبَالُ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: إِنَّا بَنُو هَاشِمٍ، فَقَالَ كَعْبٌ إِنَّ اللَّهَ قَسَمَ رُؤْيَتَهُ وَكَلَامَهُ بَيْنَ مُحَمَّدٍ، وَمُوسَى، فَكَلَّمَ مُوسَى مَرَّتَيْنِ، وَرَآهُ مُحَمَّدٌ مَرَّتَيْنِ قَالَ مَسْرُوقٌ: فَدَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ، فَقُلْتُ: هَلْ رَأَى مُحَمَّدٌ رَبَّهُ ؟ فَقَالَتْ: لَقَدْ تَكَلَّمْتَ بِشَيْءٍ قَفَّ لَهُ شَعْرِي، قُلْتُ: رُوَيْدًا ثُمَّ قَرَأْتُ: لَقَدْ رَأَى مِنْ آيَاتِ رَبِّهِ الْكُبْرَى سورة النجم آية 18، فَقَالَتْ: أَيْنَ يُذْهَبُ بِكَ إِنَّمَا هُوَ جِبْرِيلُ، مَنْ أَخْبَرَكَ أَنَّ مُحَمَّدًا رَأَى رَبَّهُ، أَوْ كَتَمَ شَيْئًا مِمَّا أُمِرَ بِهِ، أَوْ يَعْلَمُ الْخَمْسَ الَّتِي قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ سورة لقمان آية 34 فَقَدْ أَعْظَمَ الْفِرْيَةَ، وَلَكِنَّهُ رَأَى جِبْرِيلَ، لَمْ يَرَهُ فِي صُورَتِهِ إِلَّا مَرَّتَيْنِ: مَرَّةً عِنْدَ سِدْرَةِ الْمُنْتَهَى، وَمَرَّةً فِي جِيَادٍ لَهُ سِتُّ مِائَةِ جَنَاحٍ قَدْ سَدَّ الْأُفُقَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: وَقَدْ رَوَى دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ هَذَا الْحَدِيثِ، وَحَدِيثُ دَاوُدَ أَقْصَرُ مِنْ حَدِيثِ مُجَالِدٍ.

عامر شراحیل شعبی کہتے ہیں کہ ابن عباس (رض) کی ملاقات کعب الاحبار سے عرفہ میں ہوئی، انہوں نے کعب سے کسی چیز کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے تکبیرات پڑھیں جن کی صدائے بازگشت پہاڑوں میں گونجنے لگی، ابن عباس (رض) نے کہا : ہم بنو ہاشم سے تعلق رکھتے ہیں، کعب نے کہا : اللہ تعالیٰ نے اپنی رویت و دیدار کو اور اپنے کلام کو محمد ﷺ اور موسیٰ (علیہ السلام) کے درمیان تقسیم کردیا ہے۔ اللہ نے موسیٰ سے دو بار بات کی، اور محمد ﷺ نے اللہ کو دو بار دیکھا۔ مسروق کہتے ہیں : میں ام المؤمنین عائشہ (رض) کے پاس پہنچا، میں نے ان سے پوچھا : کیا محمد ﷺ نے اپنے رب کو دیکھا ہے ؟ انہوں نے کہا : تم نے تو ایسی بات کہی ہے جسے سن کر میرے رونگٹے کھڑے ہوگئے ہیں، میں نے کہا : ٹھہریئے، جلدی نہ کیجئے (پوری بات سن لیجئے) پھر میں نے آیت «لقد رأى من آيات ربه الکبری» پھر آپ نے اللہ کی بڑی آیات و نشانیاں دیکھیں (النجم : ١٨) ، تلاوت کی ام المؤمنین عائشہ (رض) نے فرمایا : تمہیں کہاں لے جایا گیا ہے ؟ (کہاں بہکا دیے گئے ہو ؟ ) یہ دیکھے جانے والے تو جبرائیل تھے، تمہیں جو یہ خبر دے کہ محمد ﷺ نے اپنے رب کو دیکھا ہے ؟ یا جن باتوں کا آپ کو حکم دیا گیا ہے ان میں سے آپ نے کچھ چھپالیا ہے، یا وہ پانچ چیزیں جانتے ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ «إن اللہ عنده علم الساعة وينزل الغيث» اللہ ہی کے پاس قیامت کا علم ہے اور اللہ ہی جانتا ہے کہ بارش کب اور کہاں نازل ہوگی (سورۃ لقمان : ٣٤) ، اس نے بڑا جھوٹ بولا، لیکن یہ حقیقت ہے کہ آپ نے جبرائیل (علیہ السلام) کو دیکھا، جبرائیل (علیہ السلام) کو آپ نے ان کی اپنی اصل صورت میں صرف دو مرتبہ دیکھا ہے، (ایک بار) سدرۃ المنتہیٰ کے پاس اور ایک بار جیاد میں (جیاد نشیبی مکہ کا ایک محلہ ہے) جبرائیل (علیہ السلام) کے چھ سو بازو تھے، انہوں نے سارے افق کو اپنے پروں سے ڈھانپ رکھا تھا ۔

Shabi reported that Ibn Abbas (RA) met Kab (RA) at Arafat. He asked him (Kab) about something and he began to call the takbir (Allah Akbar) till it echoed from the mountain. Ibn Abbas (RA) said, "We are children of Hashim." Kab said, "Surely, Allah divided His vision and speach between Muhammad and Musa. Musa conversed with Him twice and Muhammad saw Him twice." Masruq said that he went to Sayyidah Ayshah (RA) and asked her, "Did Muhammad see his Lord"? She said, "You have certainly said something that makes my hair stand on ends." He said, "Be patienet." Then he recited: "Certainly he saw of the greatest signs of his Lord." (53: 18) She said, "Where are you senses? That was only Jibril. Who informed you that Muhammad saw his Lord? Or, Muhammad concealed something (from his ummah) of what Allah had commanded him? Or, that he knew the five things of which Allah says: "Surely the knowledge of the Hour is with Allah alone, and He sends down the rain?" -------------------------------------------------------------------------------- (31: 34) That man lies. But of course, Muhammad ﷺ did see Jibril and he saw him in his real appearance only twice, once at the sidratul muntaha and the second time at Jiyad, he has six hundred wings that covered the horzion." [Ahmed 26099, Bukhari 3234, Muslim 177]

ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3278
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
داود بن ابی ہند نے شعبی سے، شعبی نے مسروق سے اور مسروق نے عائشہ (رض) کے واسطہ سے، نبی اکرم ﷺ سے اس جیسی حدیث روایت کی، داود کی حدیث مجالد کی حدیث سے چھوٹی ہے (لیکن وہی صحیح ہے) ۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (بقصة ابن عباس مع کعب) وانظر حدیث رقم ٣٠٦٨ (للجزء الأخیر) (ضعیف الإسناد)
3279Sunan At-Tirmidhiضعیف

سورت نجم کی تفسیر

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمْرِو بْنِ نَبْهَانَ بْنِ صَفْوَانَ الْبَصْرِيُّ الثَّقَفِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ كَثِيرٍ الْعَنْبَرِيُّ أَبُو غَسَّانَ، حَدَّثَنَاسَلْمُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ أَبَانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: رَأَى مُحَمَّدٌ رَبَّهُ، قُلْتُ: أَلَيْسَ اللَّهُ يَقُولُ: لا تُدْرِكُهُ الأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الأَبْصَارَ سورة الأنعام آية 103 قَالَ: وَيْحَكَ ذَاكَ إِذَا تَجَلَّى بِنُورِهِ الَّذِي هُوَ نُورُهُ، وَقَالَ: أُرِيَهُ وَقَدْ رَأَى مُحَمّدُ رَبَّهُ مَرَّتَيْنِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.

عکرمہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عباس (رض) نے کہا : محمد ﷺ نے اپنے رب کو دیکھا ہے، میں نے کہا : کیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا ہے «لا تدرکه الأبصار وهو يدرک الأبصار» اس کو آنکھیں نہیں پاسکتی ہیں ہاں وہ خود نگاہوں کو پا لیتا ہے (الانعام : ١٠٣) ، انہوں نے کہا : تم پر افسوس ہے (تم سمجھ نہیں سکے) یہ تو اس وقت کی بات ہے جب وہ اپنے ذاتی نور کے ساتھ تجلی فرمائے، انہوں نے کہا : آپ نے اپنے رب کو دو بار دیکھا ہے۔

Sayyidina Ikrimah (RA) reported that Sayyidina Ibn Abbas (RA) said, "Muhammad saw his Lord." He (Ikrimah) asked, "Does not Allah say: "Vision comprehends him not, but He comprehends all vision?" (6: 103) He said, "Woe to you! That is when He appears in Hit" Light which is His own Light. In fact, Muhammad saw his Lord two times."

ضعيف ظلال الجنة (190 / 437)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3279
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي في الکبری) ( تحفة الأشراف : ٦٠٤٠) (ضعیف) (سند میں حکم بن ابان سے وہم ہوجایا کرتا تھا)
3280Sunan At-Tirmidhiصحیح

سورت نجم کی تفسیر

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي قَوْلِ اللَّهِ فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى 9 فَأَوْحَى إِلَى عَبْدِهِ مَا أَوْحَى 10 سورة النجم آية 9-10، وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَى 13 عِنْدَ سِدْرَةِ الْمُنْتَهَى 14 سورة النجم آية 13-14 ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: قَدْ رَآهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ.

ابوسلمہ سے روایت ہے کہ ابن عباس (رض) نے آیت : «ولقد رآه نزلة أخری عند سدرة المنتهى» ١ ؎ «فأوحی إلى عبده ما أوحی» ٢ ؎«فكان قاب قوسين أو أدنی» ٣ ؎ کی تفسیر میں کہا : نبی اکرم ﷺ نے اللہ تعالیٰ کو دیکھا ہے۔

Sayyidina Ibn Abbas (RA) said about the verse: "And certainly he saw him yet another time, by the lote tree of the utmost boundary." (53: 13-14) "Thus did (Allah) reveal to His servant that which He revealed." (53: 10) "Till he was within two bows length or even rearer." (53: 9) The Prophet ﷺ had seen Him." Ibn Abbas (RA) explained that the Prophet ﷺ had seen Allah. [Muslim 176]

حسن صحيح الظلال (191 / 439)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3280
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : النجم : ١٣ ، ٢ ؎ : النجم : ١٠ ، ٣ ؎ : النجم : ٩
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٦٥٦٣) (حسن صحیح)
3281Sunan At-Tirmidhiصحیح

سورت نجم کی تفسیر

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، وَابْنُ أَبِي رِزْمَةَ، وأبو نعيم، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَى سورة النجم آية 11، قَالَ: رَآهُ بِقَلْبِهِ . قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ.

عبداللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے کہ انہوں نے آیت «ما کذب الفؤاد ما رأى» جو کچھ انہوں نے دیکھا اسے دل نے جھٹلایا نہیں (بلکہ اس کی تصدیق کی) (النجم : ١١) ، پڑھی، کہا : نبی اکرم ﷺ نے اپنے رب کو دل کی آنکھ سے دیکھا۔

Sayyidina Ibn Abbas (RA) explained the verse: "The heart lied not of what he saw." (53: 11) He said, "The Prophet ﷺ saw Allah with his heart." [M178]

صحيح الظلال (191 / 439)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3281
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٦١٢١) (صحیح) (عکرمہ سے سماک کی روایت میں اضطراب پایا جاتا ہے، لیکن شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے)
3282Sunan At-Tirmidhiصحیح

سورت نجم کی تفسیر

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التُّسْتَرِيِّ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي ذَرٍّ: لَوْ أَدْرَكْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَسَأَلْتُهُ، فَقَال: عَمَّا كُنْتَ تَسْأَلُهُ ؟ قُلْتُ: كُنْتُ أَسْأَلُهُ، هَلْ رَأَى مُحَمَّدٌ رَبَّهُ ؟ فَقَالَ: قَدْ سَأَلْتُهُ، فَقَالَ: نُورٌ أَنَّى أَرَاهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ.

عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ میں نے ابوذر (رض) سے کہا : اگر میں نے نبی اکرم ﷺ کو پایا ہوتا تو آپ سے پوچھتا، انہوں نے کہا : تم آپ ﷺ سے کیا پوچھتے ؟ میں نے کہا : میں یہ پوچھتا کہ کیا آپ (محمد ﷺ ) نے اپنے رب کو دیکھا ہے ؟ ابوذر (رض) نے کہا : میں نے آپ سے یہ بات پوچھی تھی، آپ نے فرمایا : وہ نور ہے میں اسے کیسے دیکھ سکتا ہوں ۔

Abdullah ibn Shaqiq narrated: I said to Abu Dharr, "If I had met the Prophet ﷺ then I would have asked him (a question)." He asked, "About what would you have asked?" I said that I would have asked him if he had seen his Lord. Abu Dharr (RA) said, "I had asked him and he said that He is Light, how could he see Him." [Ahmed 21450]

صحيح الظلال (192 / 441)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3282
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الإیمان ٧٨ (١٧٨) (تحفة الأشراف : ١١٩٣٨) (صحیح)
3283Sunan At-Tirmidhiصحیح

سورت نجم کی تفسیر

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، وَابْنُ أَبِي رِزْمَةَ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ: مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَى سورة النجم آية 11، قَالَ: رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جِبْرِيلَ فِي حُلَّةٍ مِنْ رَفْرَفٍ قَدْ مَلَأَ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

عبداللہ بن مسعود (رض) اس آیت : «ما کذب الفؤاد ما رأى» کی تفسیر میں کہتے ہیں : رسول اللہ ﷺ نے جبرائیل (علیہ السلام) کو باریک ریشمی جوڑا پہنے ہوئے دیکھا۔ آسمان و زمین کی ساری جگہیں ان کے وجود سے بھر گئی تھیں۔

Sayyidina Abdullah (RA) explained the verse: "The heart lied not of what he saw. "(53: 11) He said, "Allahs Messenger ﷺ saw Jibril dressed in silk garment, his being having filled .up that which is between heaven and earth."

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3283
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي في الکبری) وراجع صحیح البخاری/ (٤٨٥٨) (تحفة الأشراف : ٩٣٩٤) (صحیح)
3284Sunan At-Tirmidhiصحیح

سورت نجم کی تفسیر

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ إِسْحَاق، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِابْنِ عَبَّاسٍ: الَّذِينَ يَجْتَنِبُونَ كَبَائِرَ الإِثْمِ وَالْفَوَاحِشَ إِلا اللَّمَمَ سورة النجم آية 32 قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنْ تَغْفِرِ اللَّهُمَّ تَغْفِرْ جَمَّا، وَأَيُّ عَبْدٍ لَكَ لَا أَلَمَّا . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ زَكَرِيَّا بْنِ إِسْحَاق.

عبداللہ بن عباس (رض) آیت «الذين يجتنبون کبائر الإثم والفواحش إلا اللمم» جو لوگ بڑے گناہوں سے بچتے ہیں مگر چھوٹے گناہ (جو کبھی ان سے سرزد ہوجائیں تو وہ بھی معاف ہوجائیں گے) (النجم : ٣٢) ، کی تفسیر میں کہتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے رب اگر بخشتا ہے تو سب ہی گناہ بخش دے، اور تیرا کون سا بندہ ایسا ہے جس سے کوئی چھوٹا گناہ بھی سرزد نہ ہوا ہو ۔

Sayyidina Ibn Abbas (RA) spoke about this verse: "They are those who avoid great sins and indecencies save small offences." (53: 32) He said that the Prophet ﷺ said, "If you forgive, O Allah, then forgive all sin, for which of your slaves has not commited small offences?" [Ahmed 3971, Bukhari 3233]

صحيح، المشکاة (2349 / التحقيق الثانی)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3284
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ہم اسے صرف زکریا بن اسحاق کی روایت سے جانتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٥٩٤٩) (صحیح)
3285Sunan At-Tirmidhiصحیح

سورت قمر کی تفسیر

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى فَانْشَقَّ الْقَمَرُ فَلْقَتَيْنِ: فَلْقَةٌ مِنْ وَرَاءِ الْجَبَلِ، وَفَلْقَةٌ دُونَهُ، فَقَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اشْهَدُوا يَعْنِي: اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ سورة القمر آية 1 ، قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ اس دوران کہ ہم منیٰ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے، چاند دو ٹکڑے ہوگیا، ایک ٹکڑا (اس جانب) پہاڑ کے پیچھے اور دوسرا ٹکڑا اس جانب (پہاڑ کے آگے) رسول اللہ ﷺ نے ہم سے فرمایا : گواہ رہو، یعنی اس بات کے گواہ رہو کہ «اقتربت الساعة وانشق القمر» یعنی : قیامت قریب ہے اور چاند کے دو ٹکڑے ہوچکے ہیں۔

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3285
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
؎ : قیامت قریب آچکی ہے اور چاند کے دو ٹکڑے ہوچکے ہیں ( القمر : ١) ۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المناقب ٢٧ (٣٦٣٦) ، ومناقب الأنصار ٣٦ (٣٨٦٩) ، وتفسیر سورة القمر ١ (٤٨٦٤) ، صحیح مسلم/المنافقین ٨ (٢٨٠٠) (تحفة الأشراف : ٩٣٣٦) (صحیح)
3286Sunan At-Tirmidhiصحیح

سورت قمر کی تفسیر

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: سَأَلَ أَهْلُ مَكَّةَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آيَةً فَانْشَقَّ الْقَمَرُ بِمَكَّةَ مَرَّتَيْنِ، فَنَزَلَتْ: اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ إِلَى قَوْلِهِ سِحْرٌ مُسْتَمِرٌّ سورة القمر آية 1 ـ 2، يَقُولُ: ذَاهِبٌ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

انس (رض) کہتے ہیں کہ اہل مکہ نے نبی اکرم ﷺ سے نشانی (معجزہ) کا مطالبہ کیا جس پر مکہ میں چاند دو بار دو ٹکڑے ہوا، اس پر آیت «اقتربت الساعة وانشق القمر» سے لے کر «سحر مستمر» نازل ہوئی، راوی کہتے ہیں : «سحر مستمر» میں «مستمر» کا مطلب ہے «ذاہب» (یعنی وہ جادو جو چلا آ رہا ہو)

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3286
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : اس حدیث میں «مرتین» کا معنی یہ نہیں ہے کہ چاند کے ٹکڑے ہونے کا واقعہ دو مرتبہ ہوا ، یہ واقعہ دو مرتبہ ہوا نہیں ، صرف ایک مرتبہ ہوا ، یہاں «مرتين» سے مراد «فلقتين» ہی ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المنافقین ٨ (٢٨٠) (تحفة الأشراف : ١٣٣٤) (صحیح)
3287Sunan At-Tirmidhiصحیح

سورت قمر کی تفسیر

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: انْشَقَّ الْقَمَرُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اشْهَدُوا . قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں چاند دو ٹکڑے ہو تو نبی اکرم ﷺ نے ہم سے فرمایا : تم سب گواہ رہو ۔

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3287
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم ٣٢٨٥ (صحیح)
3288Sunan At-Tirmidhiصحیح

سورت قمر کی تفسیر

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: انْفَلَقَ الْقَمَرُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اشْهَدُوا . قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں چاند دو ٹکڑے ہوا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم سب گواہ رہو ۔

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3288
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المنافقین ٨ (٢٨٠١) (تحفة الأشراف : ٧٣٩) (صحیح)