جبیر بن مطعم (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے زمانہ میں چاند پھٹ کر دو ٹکڑے ہوگیا، ایک ٹکڑا اس پہاڑ پر اور ایک ٹکڑا اس پہاڑ پر، ان لوگوں نے کہا : محمد ( ﷺ ) نے ہم پر جادو کردیا ہے، لیکن ان ہی میں سے بعض نے (اس کی تردید کی) کہا : اگر انہوں نے ہمیں جادو کردیا ہے تو (باہر کے) سبھی لوگوں کو جادو کے زیر اثر نہیں لاسکتے ١ ؎۔
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3289
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
ان میں سے بعض نے یہ حدیث حصین سے حصین نے جبیر بن محمد بن جبیر بن مطعم سے، جبیر نے اپنے باپ محمد سے، محمد نے ان (جبیر پوتا) کے دادا جبیر بن مطعم سے اسی طرح روایت کی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : کیونکہ باہر سے آنے والوں نے چاند کے دو ٹکڑے ہونے کی خبر دی تھی۔
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ مشرکین قریش آ کر نبی اکرم ﷺ سے تقدیر کے مسئلہ میں لڑنے (اور الجھنے) لگے اس پر آیت کریمہ : «يوم يسحبون في النار علی وجوههم ذوقوا مس سقر إنا کل شيء خلقناه بقدر» یاد کرو اس دن کو جب جہنم میں وہ اپنے مونہوں کے بل گھسیٹے جائیں گے (کہا جائے گا) دوزخ کا عذاب چکھو ہم نے ہر چیز تقدیر کے مطابق پیدا کی ہے (القمر : ٤٨) ، نازل ہوئی۔
صحيح، ابن ماجة (83)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3290
جابر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اپنے صحابہ کے پاس آئے اور ان کے سامنے سورة الرحمن شروع سے آخر تک پڑھی، لوگ (سن کر) چپ رہے، آپ نے کہا : میں نے یہ سورة اپنی جنوں سے ملاقات والی رات میں جنوں کو پڑھ کر سنائی تو انہوں نے مجھے تمہارے بالمقابل اچھا جواب دیا، جب بھی میں پڑھتا ہوا آیت «فبأي آلاء ربکما تکذبان» پر پہنچتا تو وہ کہتے «لا بشيء من نعمک ربنا نکذب فلک الحمد» اے ہمارے رب ! ہم تیری نعمتوں میں سے کسی نعمت کا بھی انکار نہیں کرتے، تیرے ہی لیے ہیں ساری تعریفیں ١ ؎۔
Sayyidina ]abir (RA) narrated: Allahs Messenger ﷺ came to the Sahabah and recited to them surah ar-Rahman from its beginning to its end. They observed silence. He said, "I had recited it to the jinn on the night of jinn and they had been better than you at responding. Whenever I came to the words of Allah: "Which, then of the bounties of your lord, wil you belie." (55:13) They responded, "None of your bounties, O Our lord, do we belie and for you is all praise."
١- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے ولید بن مسلم کی روایت کے سوا جسے وہ زہیر بن محمد سے روایت کرتے ہیں، اور کسی سے نہیں جانتے، ٢- احمد بن حنبل کہتے ہیں : زہیر بن محمد جو شام میں ہیں، وہ زہیر نہیں جن سے اہل عراق روایت کرتے ہیں تو ان وہ دوسرے آدمی ہیں، لوگوں نے ان کا نام اس وجہ سے تبدیل کردیا ہے (تاکہ لوگ ان کا نام نہ جان سکیں) کیونکہ لوگ ان سے منکر احادیث بیان کرتے تھے، ٣- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ اہل شام زہیر بن محمد سے مناکیر (منکر احادیث) روایت کرتے ہیں، اور اہل عراق ان سے صحیح احادیث روایت کرتے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : «فبأي آلاء ربکما تکذبان» کا جملہ پوری سورت میں ٣١ بار آیا ہے ، تو کیا اس حدیث پر عمل کرتے ہوئے نماز میں مقتدی امام کے جواب میں ٣١ بار ایسا کہیں گے ؟ وہ بھی زور سے ، ایسا سلف سے کوئی تعامل مروی نہیں ہے ، اس لیے اس کا مطلب : یا تو یہ ہے کہ نماز سے باہر جب سنیں تو ایسا جواب دیں ، یا نماز میں ایک بار جواب دیں کافی ہوگا ، اس بارے میں امام احمد کا فتوی ہے کہ اپنے دل میں سرّاً کہہ لے ( مغنی ) اور زیادہ صرف نوافل اور سنن میں اس طرح کے جواب کے قائل ہیں۔
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ فرماتا ہے : میں نے اپنے نیک بندوں کے لیے ایسی چیزیں تیار کی ہیں جسے نہ کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ ہی کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی انسان کے دل میں اس کا خیال آیا ہے، تم چاہو تو اس آیت کو پڑھ لو «فلا تعلم نفس ما أخفي لهم من قرة أعين جزاء بما کانوا يعملون» ان کے نیک اعمال کے بدلے میں ان کی آنکھ کی ٹھنڈک کے طور پر جو چیز تیار کی گئی ہے اسے کوئی بھی نہیں جانتا (السجدۃ : ١٧) ، جنت میں ایک ایسا درخت ہے جس کی (گھنی) چھاؤں میں سوار سو برس تک بھی چلتا چلا جائے تو بھی اس کا سایہ ختم نہ ہو، تم چاہو تو آیت کا یہ ٹکڑا «وظل ممدود» پھیلا ہوا لمبا لمبا سایہ (الواقعہ : ٣٠) ، پڑھ لو، جنت میں ایک کوڑا رکھنے کی جگہ برابر دنیا اور دنیا میں جو کچھ ہے اس سے بہتر ہے، چاہو تو دلیل کے طور پر یہ آیت پڑھ لو «فمن زحزح عن النار وأدخل الجنة فقد فاز وما الحياة الدنيا إلا متاع الغرور» جو شخص جہنم سے بچا لیا گیا اور جنت میں داخل کردیا گیا تو وہ کامیاب ہوگیا اور دنیا کی زندگی تو دھوکے کا سامان ہے (آل عمران : ١٨٥) ۔
Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as narrating a hadith Qudsi. Allah said: I have prepared for My righteous slaves what no eye has seen and no ear has heard and what has not occured to the heart of any mortal. If you like, recite: "No sou! knows what delight of the eyes is kept hidden from them, as a recompense for what they used to do." -------------------------------------------------------------------------------- (32:17) In Paradise, there is a tree under whose shadow a rider may travel for a hundred years, but he will not be able to go through all of it. So recite, if you like: "And the spreading shade." (56:30) And, the space in Paradise enough to place a whip is better than the world and whatever it contains. So, if you like recite: "Whoever is removed from the Fire and admitted to the Garden, he indeed shall attain the triumph. And the life of this world is naught but comfort of illustion." -------------------------------------------------------------------------------- (3:185) [Ahmed 10428]
انس (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جنت میں ایک درخت ہے، سوار اس کے سایہ میں سو سال تک چلے گا پھر بھی اس درخت کے سایہ کو عبور نہ کرسکے گا، اگر چاہو تو پڑھو «وظل ممدود وماء مسکوب» ان کے لیے دراز سایہ ہے اور (فراواں) بہتا ہوا پانی (الواقعہ : ٣٠) ۔
Sayyidina Anas (RA) reported that the Prophet ﷺ said, "There is a tree in Paradise under whose shade a ride may ride for a hundred years but will not be able to cover it." He also said that if anyone likes, he might recite: "And the spreading shade, and water over-flowing." (56:30-31) [Ahmed 12071]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3293
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ابو سعید خدری سے بھی روایت ہے۔
ابو سعید خدری (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے آیت کریمہ : «وفرش مرفوعة» جنتیوں کے اونچے اونچے بچھونے ہوں گے (الواقعہ : ٣٤) ، کے سلسلے میں فرمایا : ان بچھونوں کی اونچائی اتنی ہے جنتا آسمان و زمین کے درمیان کا فاصلہ ہے اور ان کے درمیان چلنے کی مسافت پانچ سو سال کی ہے ۔
Sayyidina Abu Saeed (RA) reported from the Prophet ﷺ about Allahs Words: "And couches upraised." (56 : 34) He said, "Their heights would be like the distance between sarth and heaven. And the distance between them is a journey of five hundred years."
١- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف رشدین کی روایت سے جانتے ہیں، ٢- بعض اہل علم کہتے ہیں : اس حدیث میں «ارتفاعها كما بين السماء والأرض» کا مفہوم یہ ہے کہ بچھونوں کی اونچائی درجات کی بلندی کے مطابق ہوگی اور ہر دو درجے کے درمیان کا فاصلہ اتنا ہوگا جتنا آسمان و زمین کے درمیان کا فاصلہ ہے۔
علی (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے آیت «وتجعلون رزقکم أنكم تکذبون» اور تم اپنے رزق (کا شکریہ یہ ادا کرتے ہو کہ) تم (اللہ کی رزاقیت کی) تکذیب کرتے ہو (الواقعہ : ٨٢) ، کے متعلق فرمایا : تمہارا «شكر» یہ ہوتا ہے : تم کہتے ہو کہ یہ بارش فلاں فلاں نچھتر کے باعث اور فلاں فلاں ستاروں کی گردش کی بدولت ہوئی ہے۔ اس طرح تم جھوٹ بول کر حقیقت کو جھٹلاتے ہو ۔
Sayyidina Ali (RA) reported that Allahs Messenger ﷺ recited this verse: "And make it your livelihood that you should belie it?" (56: 82) Then he said, "You give thanks for your provision by refutation, you say that rain poured down because of such-and such a star." [Ahmed 677]
ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3295
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے، ہم اسے اسرائیل کی روایت کے سوا اور کسی سند سے مرفوع نہیں جانتے، ٢- اس حدیث کو سفیان ثوری نے عبدالاعلی سے، عبدالاعلیٰ نے ابوعبدالرحمٰن سلمی سے، اور عبدالرحمٰن نے علی سے اسی طرح روایت کیا ہے، اور اسے مرفوعاً روایت نہیں کیا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ١٠١٧٣) (ضعیف الإسناد) (سند میں ” عبد الاعلی بن عامر “ کو وہم ہوجایا کرتا تھا)
انس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے آیت : «إنا أنشأناهن إنشاء» ہم انہیں نئی اٹھان اٹھائیں گے نئی اٹھان (الواقعہ : ٨٢) ، کے سلسلے میں فرمایا : ان نئی اٹھان والی عورتوں میں وہ عورتیں بھی ہیں جو دنیا میں بوڑھی تھیں، جن کی آنکھیں خراب ہوچکی ہوں اور ان سے پانی بہتا رہتا ہو ۔
Sayyidina Anas (RA) reported the saying of Allahs Messenger ﷺ about this verse: "Surely we have created them (their spouses) by (special) creation." (56: 35) He said, "The women created specially are they who were old, blear-eyed and had theum in their eyes."
ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3296
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے مرفوع صرف موسیٰ بن عبیدہ کی روایت سے جانتے ہیں، ٢- اور موسیٰ بن عبیدہ اور یزید بن ابان رقاشی حدیث بیان کرنے میں ضعیف قرار دیئے گئے ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ١٦٧٦) (ضعیف الإسناد) (سند میں ” موسیٰ بن عبیدہ “ اور ” یزید بن ابان وقاشی “ دونوں ضعیف ہیں)
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ ابوبکر (رض) نے رسول اللہ ﷺ سے کہا : آپ تو بوڑھے ہو چلے ؟ آپ نے فرمایا : مجھے «هود» ،«الواقعة» ، «المرسلات» ، «عم يتساء لون» اور سورة «إذا الشمس کوّرت» نے بوڑھا کردیا ہے ١ ؎۔
Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that Sayyidina Abu Bakr (RA) submitted, "O Messenger of Allah! ﷺ You have grown old." He said, "The surah Hud, al-Waqiah, al-Mursalat, amma yata sa alun ( Surah an-Naba) and izash shamsu kuuuirat (Surah at-Takweer) have made me old."
١- یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے ابن عباس (رض) کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ٢- علی بن صالح نے یہ حدیث اسی طرح ابواسحاق سے، اور ابواسحاق نے ابوحجیفہ (رض) سے روایت کی ہے، ٣- اس حدیث کی کچھ باتیں ابواسحاق ابومیسرہ سے مرسلاً روایت کی گئی ہیں۔ ابوبکر بن عیاش نے ابواسحاق کے واسطہ سے، ابواسحاق نے عکرمہ سے، اور عکرمہ نے نبی اکرم ﷺ سے شیبان کی اس حدیث جیسی روایت کی ہے جسے انہوں نے ابواسحاق سے روایت کی ہے اور انہوں نے اس روایت میں ابن عباس (رض) سے روایت کا ذکر نہیں کیا ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : کیونکہ ان میں قیامت کی خبریں اور عذاب کی آیتیں ہیں۔
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ اس دوران کہ نبی اکرم ﷺ اور صحابہ بیٹھے ہوئے تھے، ان پر ایک بدلی آئی، نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا : کیا تم جانتے ہو یہ کیا ہے ؟ انہوں نے کہا : اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں، آپ نے فرمایا : یہ بادل ہے اور یہ زمین کے گوشے و کنارے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اس بادل کو ایک ایسی قوم کے پاس ہانک کرلے جا رہا ہے جو اس کی شکر گزار نہیں ہے اور نہ ہی اس کو پکارتے ہیں ، پھر آپ نے فرمایا : کیا تم جانتے ہو تمہارے اوپر کیا ہے ؟ لوگوں نے کہا : اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں، آپ نے فرمایا : یہ آسمان «رقیع» ہے، ایسی چھت ہے جو (جنوں سے) محفوظ کردی گئی ہے، ایک ایسی (لہر) ہے جو (بغیر ستون کے) روکی ہوئی ہے ، پھر آپ نے پوچھا : کیا تم جانتے ہو کہ کتنا فاصلہ ہے تمہارے اور اس کے درمیان ؟ لوگوں نے کہا : اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں، آپ نے فرمایا : تمہارے اور اس کے درمیان پانچ سو سال مسافت کی دوری ہے ، پھر آپ نے پوچھا : کیا تمہیں معلوم ہے اور اس سے اوپر کیا ہے ؟ لوگوں نے کہا : اللہ اور اس کے رسول کو زیادہ معلوم ہے، آپ نے فرمایا : اس کے اوپر دو آسمان ہیں جن کے بیچ میں پانچ سو سال کی مسافت ہے ۔ ایسے ہی آپ نے سات آسمان گنائے، اور ہر دو آسمان کے درمیان وہی فاصلہ ہے جو آسمان و زمین کے درمیان ہے، پھر آپ نے پوچھا : اور اس کے اوپر کیا ہے ؟ لوگوں نے کہا : اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں، اور اس کے رسول آپ نے فرمایا : اس کے اوپر عرش ہے، عرش اور آسمان کے درمیان اتنی دوری ہے جتنی دوری دو آسمانوں کے درمیان ہے ، آپ نے پوچھا : کیا تم جانتے ہو تمہارے نیچے کیا ہے ؟ لوگوں نے کہا : اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں : آپ نے فرمایا : یہ زمین ہے ، آپ نے فرمایا : کیا تم جانتے ہو اس کے نیچے کیا ہے ؟ ، لوگوں نے کہا : اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں آپ نے فرمایا : اس کے نیچے دوسری زمین ہے، ان دونوں کے درمیان پانچ سو سال کی مسافت کی دوری ہے ، اس طرح آپ نے سات زمینیں شمار کیں، اور ہر زمین کے درمیان پانچ سو سال کی مسافت کی دوری بتائی، پھر آپ نے فرمایا : قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے ! اگر تم کوئی رسی زمین کی نچلی سطح تک لٹکاؤ تو وہ اللہ ہی تک پہنچے گی، پھر آپ نے آیت «هو الأول والآخر والظاهر والباطن وهو بکل شيء عليم» وہی اول و آخر ہے وہی ظاہر و باطن ہے اور وہ ہر چیز سے باخبر ہے (الحدید : ٣) ، پڑھی ۔
Sayyidina Abu Hurayrah (RA) narrated: While the Prophet ﷺ and his sahabah were sitting once, some clouds appeared overhead. He asked, "Do you realise what this is" "They said, "Allah and His Messenger know best." He said, "These clouds (irrigate and) water the earth. Allah drives them to a people who do not thank Him and do not supplicate Him." Then he asked if they knew what was above them and on receiving an answer from the sahabah that only Allah and His Messenger ﷺ knew best, he said, "This is an elevated protective roof. It is like the sea without support." Then he asked ,if they knew the distance between them and it. They pleaded, "Allah and His Messenger ﷺ know best." He said, "Between you and it lies a journey of five hundred years." Again he asked them if they knew what was above that and when they pleaded that only Allah and His Messenger ﷺ knew, he said, "Above that are two heavens, the distance between them being a joarney of five hundred years till the count is seven heavens, the distance between every two being what it is between the heaven and earth." Again, he asked, "Do you realise what is above that"? They said, "Allah and His Messenger ﷺ know best." He said, "Above that is the throne and between it and the heaven is the distance between two heavens". Then he asked. "Do you realise what is underneath you"? They said, "Allah and His Messenger ﷺ know best." He said, "That is the erth." Th,en, he asked, "Do you know what is underneath that "? They said, I Allah and His Messenger ﷺ know best." He said, "Below it there is another earth and between the two is the distance of a journey of five hundred years, till the count is seven earths, between every two earths is a journey of five hundred years." Then he said, "By him in whose Hand is the soul of Muhammad, if you will throw down a rope to the lowest earth then it will drop down to Allah." He then recited: "He is the First and the Last, and the Manifest and the Hidden, and He is the knower of everything." (57:3) [Ahmed 8836]
ضعيف ظلال الجنة (578) // ضعيف الجامع الصغير (6094) ، المشکاة (5735) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3298
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث اس سند سے غریب ہے، ٢- ایوب، یونس بن عبید اور علی بن زید سے مروی ہے، ان لوگوں نے کہا ہے کہ حسن بصری نے ابوہریرہ سے نہیں سنا ہے، ٣- بعض اہل علم نے اس حدیث کی تفسیر کرتے ہوئے کہا : مراد یہ ہے کہ وہ رسی اللہ کے علم پر اتری ہے، اور اللہ اور اس کی قدرت و حکومت ہر جگہ ہے اور جیسا کہ اس نے اپنی کتاب (قرآن مجید) میں اپنے متعلق بتایا ہے وہ عرش پر مستوی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ١٢٢٥٣) (ضعیف) (ابوہریرہ (رض) سے حسن بصری کا سماع نہیں ہے، نیز وہ مدلس ہیں)
سلمہ بن صخر انصاری (رض) کہتے ہیں کہ مجھے عورت سے جماع کی جتنی شہوت و قوت ملی تھی (میں سمجھتا ہوں) اتنی کسی کو بھی نہ ملی ہوگی، جب رمضان کا مہینہ آیا تو میں نے اس ڈر سے کہ کہیں میں رمضان کی رات میں بیوی سے ملوں (صحبت کر بیٹھوں) اور پے در پے جماع کئے ہی جاؤں کہ اتنے میں صبح ہوجائے اور میں اسے چھوڑ کر علیحدہ نہ ہو پاؤں، میں نے رمضان کے ختم ہونے تک کے لیے بیوی سے ظہار ١ ؎ کرلیا، پھر ایسا ہوا کہ ایک رات میری بیوی میری خدمت کر رہی تھی کہ اچانک مجھے اس کی ایک چیز دکھائی پڑگئی تو میں (اپنے آپ پر قابو نہ رکھ سکا) اسے دھر دبوچا، جب صبح ہوئی تو میں اپنی قوم کے پاس آیا اور انہیں اپنے حال سے باخبر کیا، میں نے ان سے کہا کہ میرے ساتھ رسول اللہ ﷺ کے پاس چلو تاکہ میں آپ کو اپنے معاملے سے باخبر کر دوں، ان لوگوں نے کہا : نہیں، اللہ کی قسم ! ہم نہ جائیں گے، ہمیں ڈر ہے کہ کہیں ہمارے متعلق قرآن (کوئی آیت) نازل نہ ہوجائے، یا رسول اللہ ﷺ کوئی بات نہ کہہ دیں جس کی شرمندگی برقرار رہے، البتہ تم خود ہی جاؤ اور جو مناسب ہو کرو، تو میں گھر سے نکلا اور رسول اللہ ﷺ کے پاس پہنچا اور آپ کو اپنی بات بتائی، آپ نے فرمایا : تم نے یہ کام کیا ہے ؟ میں نے کہا : جی ہاں، میں نے ایسا کیا ہے، آپ نے فرمایا : تم نے ایسا کیا ہے ؟ میں نے کہا : جی ہاں، میں نے ایسا کیا ہے آپ نے (تیسری بار بھی یہی) پوچھا : تو نے یہ بات کی ہے ، میں نے کہا : جی ہاں، مجھ سے ہی ایسی بات ہوئی ہے، مجھ پر اللہ کا حکم جاری و نافذ فرمائیے، میں اپنی اس بات پر ثابت و قائم رہنے والا ہوں، آپ نے فرمایا : ایک غلام آزاد کرو ، میں نے اپنی گردن پر ہاتھ مار کر کہا : قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے ! میں اپنی اس گردن کے سوا کسی اور گردن کا مالک نہیں ہوں (غلام کیسے آزاد کروں) آپ نے فرمایا : پھر دو مہینے کے روزے رکھو ، میں نے کہا : اللہ کے رسول ! مجھے جو پریشانی و مصیبت لاحق ہوئی ہے وہ اسی روزے ہی کی وجہ سے تو لاحق ہوئی ہے، آپ نے فرمایا : تو پھر ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا دو ، میں نے کہا : قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے ! ہم نے یہ رات بھوکے رہ کر گزاری ہے، ہمارے پاس رات کا بھی کھانا نہ تھا، آپ نے فرمایا : بنو زریق کے صدقہ دینے والوں کے پاس جاؤ اور اس سے کہو کہ وہ تمہیں صدقہ کا مال دے دیں اور اس میں سے تم ایک وسق ساٹھ مسکینوں کو اپنے کفارہ کے طور پر کھلا دو اور باقی جو کچھ بچے وہ اپنے اوپر اور اپنے بال بچوں پر خرچ کرو، وہ کہتے ہیں : پھر میں لوٹ کر اپنی قوم کے پاس آیا، میں نے کہا : میں نے تمہارے پاس تنگی، بدخیالی اور بری رائے و تجویز پائی، جب کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس کشادگی اور برکت پائی، رسول اللہ ﷺ نے مجھے تمہارا صدقہ لینے کا حکم دیا ہے تو تم لوگ اسے مجھے دے دو ، چناچہ ان لوگوں نے مجھے دے دیا۔
Salamah ibn Sakhr Ansari (RA) narrated: I was a man who was given potentiat for sexual intercourse with women that was not given to others. When the month of Ramadan began I made zihar with my wife so that (the month may pass and) I may not indulge in sexual intercourse with her in the night and continue with it into the day being unable to stop. However, while she was serving me one night, something of her body was spotted by me and I leaped on her. When it was morning. I went to my people and, informed them of the happening and asked them to accompany me to Allahs Messenger ﷺ that we might inform him of my plight. They said, "No, By Allah, we shall not do that for fear that the Quran night be revealed about us, or Allahs Messenger ﷺ might say something to us: words that could reflect on us. But, you go alone and do what seems correct to you. So I want and met Allahs Messenger ﷺ and informed him of my doings. He asked, "You alone did it"? I said, "Yes I did it myself. And, here I am, so impose on me Allahs command. I am patient over that." He said, "Emancipate a slave." I struck my neck with my hand and submitted, "By Him who has sent you with Truth. I do not own anything other than ths (my) neck." He said, "Then keep fast for two months." I pleaded, "O Messenger of Allah, has anything afflicted me except through fasting"? He said, "Then feed sixty poor people." I pleaded, "By Him who has sent you with the Truth, indeed, we spent our this night in hunger. We had no mea) for the night." He said, "Go to the officer collecting zakah of Banu Zurayq and ask him for it. He will give it to you and you feed with that a wassq each to sixty poor people and with that which remains with you help yourself and your family." Then I returned to my people and said to them, "I found with you constriction and wicked opinion, but I found with Allahs Messenger generosity and blessing. He has commanded me to collect your iakah. So pay it to me." Thus they paid their zakah to me.
صحيح، ابن ماجة (2062)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3299
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن ہے، ٢- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں : سلیمان بن یسار نے میرے نزدیک سلمہ بن صخر سے نہیں سنا ہے، سلمہ بن صخر کو سلمان بن صخر بھی کہتے ہیں، ٣- اس باب میں خولہ بنت ثعلبہ سے بھی روایت ہے، اور یہ اوس بن صامت کی بیوی ہیں (رضی اللہ عنہما) ۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : میں نے کہہ دیا کہ تو مجھ پر میری ماں کی پیٹھ کی طرح حرام ہے۔ تاکہ رمضان بھر تو جماع سے بچا رہ سکوں ، اور حالت صوم میں جماع کی نوبت نہ آنے پائے۔
انس ابن مالک (رض) کہتے ہیں کہ ایک یہودی نے نبی اکرم ﷺ اور آپ کے صحابہ کے پاس آ کر کہا : «السام عليكم» (تم پر موت آئے) لوگوں نے اسے اس کے «سام» کا جواب دیا، نبی اکرم ﷺ نے لوگوں سے پوچھا : کیا تم جانتے ہو اس نے کیا کہا ہے ؟ لوگوں نے کہا : اللہ اور اس کے رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں، اے اللہ کے نبی ! اس نے تو سلام کیا ہے، آپ نے فرمایا : نہیں، بلکہ اس نے تو ایسا ایسا کہا ہے، تم لوگ اس (یہودی) کو لوٹا کر میرے پاس لاؤ، لوگ اس کو لوٹا کر لائے، آپ نے اس یہودی سے پوچھا : تو نے «السام عليكم» کہا ہے ؟ اس نے کہا : ہاں، نبی اکرم ﷺ نے اسی وقت سے یہ حکم صادر فرمایا دیا کہ جب اہل کتاب میں سے کوئی تمہیں سلام کرے تو تم اس کے جواب میں «عليك ما قلت» (جو تم نے کہی وہی تمہارے لیے بھی ہے) کہہ دیا کرو، اور آپ نے یہ آیت پڑھی «وإذا جاءوک حيوک بما لم يحيك به الله» یہ یہودی جب تمہارے پاس آتے ہیں تو وہ تمہیں اس طرح سلام کرتے ہیں جس طرح اللہ نے تمہیں سلام نہیں کیا ہے (المجادلہ : ٨) ۔
Sayyidina Anas ibn Maalik (RA) reported that a Jew came to the Prophet ﷺ and his sahabah. He wished them Assaam Alikum and they reciprocated (the salutation). The Prophet ﷺ asked them, "Do you realise what he had said ?" They said, "Allah and His Messenger know best. He saluted us, a Messenger of Allah." He said, "No, but his words were this or that, Bring him to tile." He was brought and he asked, "Did you say Assaam Alikum?" He confirmed that he had said so. The Prophet ﷺ said, "In that case, when one of the people of the scirpture greets you, say On you what you said." Then he recited: "And when they come to you (O Prophet) they greet you with a greeting wherewith Allah greets you not)." (58: 8) [Ahmed 11948, Bukhari 6926, 1Muslim 3687, Muslim 2163, Ahmed 5207]
علی بن ابی طالب (رض) سے روایت ہے کہ جب آیت کریمہ : «يا أيها الذين آمنوا إذا ناجيتم الرسول فقدموا بين يدي نجواکم صدقة» اے ایمان والو ! جب رسول اللہ ( ﷺ ) سے سرگوشی کرنا چاہو تو اپنی سرگوشی سے پہلے کچھ صدقہ دے دیا کرو (المجادلہ : ١٢) ، نازل ہوئی تو نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے پوچھا : تمہاری کیا رائے ہے، ایک دینار صدقہ مقرر کر دوں ؟ میں نے کہا : لوگ اس کی طاقت نہیں رکھتے، آپ نے فرمایا : تو کیا آدھا دینار مقرر کر دوں ؟ میں نے کہا : اس کی بھی طاقت نہیں رکھتے ، آپ نے فرمایا : پھر کتنا کر دوں ؟ میں نے کہا : ایک جو کردیں، آپ نے فرمایا : تم تو بالکل ہی گھٹا دینے والے نکلے ، اس پر یہ آیت نازل ہوئی «أأشفقتم أن تقدموا بين يدي نجواکم صدقات» کیا تم اس حکم سے ڈر گئے کہ تم اپنی سرگوشی سے پہلے صدقے دے دیا کرو (المجادلہ : ١٣) ، علی (رض) کہتے ہیں : اللہ نے میری وجہ سے فضل فرما کر اس امت کے معاملے میں تخفیف فرما دی (یعنی اس حکم کو منسوخ کردیا) ۔
Sayyidina Ali ibn Abu Talib (RA) narrated: When this was revealed; "O you who believe, when you counsel in private with the Messenger give alms before you counselling." (58: 12) The Prophet ﷺ said to me, "Do you advise a dinar? I said, "The people will not be able to pay that much." He asked, "Then half a dinar?" I repeated that they would not bear that much, so he asked me, "How much?" I said, "One barley." He remarked, "You are one to reduce too much." Then these words were revealed: "Is it that ye are afraid of spending sums in charity before your private consultation (with him)? If, then, ye do not so, and Allah forgives you, then (at least) establish regular prayer; practise regular charity; and obey Allah and His Messenger. And Allah is well-acquainted with all that ye do." (58: 13) Thus, because of me, Allah made it light on this ummah (and the earlier verse was abrogated).
ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3300
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن غریب ہے اور ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ٢- علی (رض) کے قول «شعيرة» سے مراد ایک جو کے برابر ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ١٠٢٤٩) (ضعیف الإسناد) (سند میں علی بن علقمہ لین الحدیث راوی ہیں)
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بنی نضیر کے کھجور کے درخت جلا دئیے اور کاٹ ڈالے، اس جگہ کا نام بویرہ تھا، اسی موقع پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت «ما قطعتم من لينة أو ترکتموها قائمة علی أصولها فبإذن اللہ وليخزي الفاسقين» جو ان کے درخت تم نے کاٹے یا ان کو اپنی جڑوں پر قائم (و سالم) چھوڑ دیا یہ سب کچھ اذن الٰہی سے تھا، اور اس لیے بھی تھا کہ اللہ ایسے فاسقوں کو رسوا کرے (الحشر : ٥) ، نازل فرمائی ١ ؎۔
Sayyidina Abdullah ibn Umar (RA) reported that Allahs Messenger ﷺ had the palm trees of Banu Nadir burnt down and chopped off. That place was al-Buwayrah. Allah revealed: "Whatsoever palm-trees you cut down, or left standing upon their roots, it was by Allahs leave, in order that He might abase the transgressors." (59: 5) [Bukhari 4031, Muslim 1346, Abu Dawud 2615, Ibn e Majah 2844]
صحيح، ابن ماجة (2844)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3302
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : یہ غزوہ بنو نضیر کا واقعہ ہے ، جس میں ایک جنگی مصلحت کے تحت نبی ﷺ نے بنو نضیر کے بعض کھجور کے درختوں کو کاٹ ڈالنے کا حکم دیا تھا ، اس پر یہودیوں نے یہ پروپیگنڈہ کیا تھا کہ دیکھو محمد دین الٰہی کے دعویدار بنتے ہیں ، بھلا دین الٰہی میں پھلدار درختوں کو کاٹ ڈالنے کا معاملہ جائز ہوسکتا ہے ؟ اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کو جواب دیا کہ یہ سب اللہ کے حکم سے کسی مصلحت کے تحت ہوا ( ایک خاص مصلحت یہ تھی کہ یہ مسلمانوں کی حکومت اور غلبے کا اظہار تھا ) ۔
عبداللہ بن عباس (رض) آیت «ما قطعتم من لينة أو ترکتموها قائمة علی أصولها» کی تفسیر میں فرماتے ہیں : «لينة» سے مراد کھجور کے درخت ہیں اور «وليخزي الفاسقين» (تاکہ اللہ فاسقوں کو ذلیل کرے) کے بارے میں کہتے ہیں : ان کی ذلت یہی ہے کہ مسلمانوں نے انہیں ان کے قلعوں سے نکال بھگایا اور (مسلمانوں کو یہود کے) کھجور کے درخت کاٹ ڈالنے کا حکم دیا گیا، تو ان کے دلوں میں یہ بات کھٹکی، مسلمانوں نے کہا : ہم نے بعض درخت کاٹ ڈالے اور بعض چھوڑ دیئے ہیں تو اب ہم رسول اللہ ﷺ سے پوچھیں گے کہ ہم نے جو درخت کاٹے ہیں کیا ہمیں ان کا کچھ اجر و ثواب ملے گا، اور جو درخت ہم نے نہیں کاٹے ہیں کیا ہمیں اس کا کچھ عذاب ہوگا ؟ تو اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی، «ما قطعتم من لينة أو ترکتموها قائمة علی أصولها» تم نے کھجوروں کے جو درخت کاٹ ڈالے یا جنہیں تم نے ان کی جڑوں پر باقی رہنے دیا، یہ سب اللہ تعالیٰ کے فرمان سے تھا اور اس لیے بھی تھا کہ اللہ فاسقوں کو رسوا کرے ۔
Sayyidina Ibn Abbas (RA) explained the words of Allah, the Mighty, the Glorious: "Whatsoever palm-trees you cut down, or left standing upon their roots, it was by Allahs leave, in order that He might abase the transgressors." (59: 5) He said al-linah is a palm-tree while abase to the transgressors is that the Mulims brought them (the Jews) from their forts. When they (the Muslims) were commanded to cut down their trees, they thought that they had cut off some and spared some, so they asked Allahs Messenger ﷺ about it : Will we be rewarded for the trees that we have cut down and punished for those that we have spared?" So, Allah revealed: "Whatsoever palm-trees you cut down, or left standing upon their roots, it was by Allahs leave, in order that He might abase the transgressors." (59: 5)
صحيح الإسناد
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3303
بعض اور لوگوں نے یہ حدیث بطریق : «حفص بن غياث عن حبيب بن أبي عمرة عن سعيد بن جبير» مرسلاً روایت کی ہے، اور اس کی سند میں عبداللہ بن عباس (رض) کا ذکر نہیں کیا ہے۔
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3303
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي في الکبری) ( تحفة الأشراف : ٥٤٨٨) (صحیح الإسناد)
انظر ما قبلہ (صحیح)
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ ایک انصاری شخص کے پاس رات میں ایک مہمان آیا، اس انصاری کے پاس (اس وقت) صرف اس کے اور اس کے بچوں بھر کا ہی کھانا تھا، اس نے اپنی بیوی سے کہا (ایسا کرو) بچوں کو (کسی طرح) سلا دو اور (کھانا کھلانے چلو تو) چراغ بجھا دو ، اور جو کچھ تمہارے پاس ہو وہ مہمان کے قریب رکھ دو ، اس پر آیت «ويؤثرون علی أنفسهم ولو کان بهم خصاصة» یہ خود محتاج و ضرورت مند ہوتے ہوئے بھی اپنے پر دوسروں کو ترجیح دیتے ہیں (الحشر : ٩) ، نازل ہوئی ١ ؎۔
Sayyidina Abu Hurayrah (RA) narrated: A guest visited a man of the Ansars, but he only had provision enough for himself and his family. So he said to his wife, "Put the children to sleep, put off the lantern and present whatever you have before the guest." This was revealed concerning it : "But preferring them above themeselves even though poverty was their lot." (59: 9) [Bukhari 3798, Muslim 2054]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3304
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : یہ انصاری شخص ابوطلحہ (رض) تھے ، جیسا کہ صحیح مسلم میں صراحت ہے ، اس واقعہ میں یہ بھی ہے کہ دونوں میاں بیوی اندھیرے میں برتن اپنے سامنے رکھ کر خود بھی کھانے کا مظاہرہ کر رہے تھے تاکہ مہمان کو یہ اندازہ ہو کہ وہ بھی کھا رہے ہیں ، چراغ بجھا دینے کی یہی حکمت تھی۔
عبیداللہ بن ابورافع کہتے ہیں کہ میں نے علی (رض) کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے زبیر اور مقداد بن اسود کو بھیجا، فرمایا : جاؤ، روضہ خاخ ١ ؎ پر پہنچو وہاں ایک ھودج سوار عورت ہے، اس کے پاس ایک خط ہے، وہ خط جا کر اس سے لے لو، اور میرے پاس لے آؤ، چناچہ ہم نکل پڑے، ہمارے گھوڑے ہمیں لیے لیے دوڑ میں ایک دوسرے سے آگے بڑھ جانے کی کوشش کر رہے تھے، ہم روضہ پہنچے، ہمیں ہودج سوار عورت مل گئی، ہم نے اس سے کہا : خط نکال، اس نے کہا : ہمارے پاس کوئی خط نہیں ہے، ہم نے کہا : خط نکالتی ہے یا پھر اپنے کپڑے اتارتی ہے ؟ (یہ سن کر) اپنی چوٹی (جوڑے) سے اس نے خط نکالا، ہم اسے لے کر رسول اللہ ﷺ کے پاس آ گئے، وہ خط حاطب بن ابی بلتعہ (رض) کی جانب سے تھا، مکہ کے کچھ مشرکین کے پاس بھیجا گیا تھا، نبی اکرم ﷺ کے بعض اقدامات کی انہیں خبر دی گئی تھی، آپ نے فرمایا : حاطب ! یہ کیا ہے ؟ انہوں نے کہا : اللہ کے رسول ! ہمارے خلاف حکم فرمانے میں جلدی نہ کریں، میں ایک ایسا شخص تھا جو قریش کے ساتھ مل جل کر رہتا تھا، لیکن (خاندانی طور پر) قریشی نہ تھا، باقی جو مہاجرین آپ کے ساتھ تھے ان کی وہاں رشتہ داریاں تھیں جس کی وجہ سے وہ رشتہ دار مکہ میں ان کے گھر والوں اور ان کے مالوں کی حفاظت و حمایت کرتے تھے، میں نے مناسب سمجھا کہ جب ہمارا ان سے کوئی خاندانی و نسبی تعلق نہیں ہے تو میں ان پر احسان کر کے کسی کا ہاتھ پکڑ لوں جس کی وجہ سے یہ اہل مکہ ہمارے گھر اور رشتہ داروں کی حفاظت و حمایت کریں، میں نے ایسا کفر اختیار کرلینے یا اپنے دین سے مرتد ہوجانے یا کفر کو پسند کرلینے کی وجہ سے نہیں کیا ہے، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : حاطب نے سچ اور (صحیح) بات کہی ہے ، عمر بن خطاب (رض) نے کہا : اللہ کے رسول ! مجھے اجازت دیجئیے، میں اس منافق کی گردن مار دوں، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : یہ جنگ بدر میں موجود رہے ہیں، تمہیں معلوم نہیں، یقیناً اللہ نے بدر والوں کی حالت (یعنی ان کے جذبہ جاں فروشی) کو دیکھ کر کہہ دیا ہے : جو چاہو کرو ہم نے تمہارے گناہ بخش دیئے ہیں ، اسی سلسلے میں یہ پوری سورة «يا أيها الذين آمنوا لا تتخذوا عدوي وعدوکم أولياء» اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو، میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ، تم انہیں دوستی کا پیغام بھیجتے ہو (الممتحنۃ : ١) ، آخر تک نازل ہوئی۔ عمرو (راوی حدیث) کہتے ہیں : میں نے عبیداللہ بن ابی رافع کو دیکھا ہے، وہ علی (رض) کے کاتب (محرر) تھے۔
Sayyidina Ali ibn Abu Talib (RA) narrated: Allah’s Messenger sent me, Zubayr and Miqdad ibn Aswad, saying, “Go till you are at Rawdah Khakh. A woman is these and she carries a letter. Seize it from her and bring it to me.” So we went. Our horses galloping at full pace till we came to the Rawdah and, behold, we came upon her. We said, “Take out the letter.” She said, “I have no letter with me.” We said, “You will surely take out the letter or we strip your garments.” She took it out of her hair braid, and we brought it to Allah’s Messenger ﷺ It was from Hatib ibn Abu Balta’ah to certain people of the Makkan idolaters. It informed them of some affairs of the Prophet ﷺ . He said, “What is this, O Hatib?” He said, “Do not be hasty concerning me, O Messenger of Allah. I have certain affairs with the Quraysh, but am not one of them, while the muhajirs with you have relatives and properties in Makkah. I have no relationship with them, so I thought that if I do them a favour, they would protect my relatives. I have not done this out of disbelief or apostasy from religion, nor from being pleased with disbelief.” The Prophet ﷺ said, “He has spoken the truth.” Umar ibn Khattab (RA) said, “Permit me O Messenger of Allah ﷺ that I may sever the neck of this hypocrite.” The Prophet ﷺ said, “He was a participant at Badr. What may make you understand-Allah has looked at the people of Badr, sayings “Do what you like, for I have forgiven you.” It is about him that this surah was revealed: "O you who believe, take not My enemy and your enemy for friends offering them love." (60: 1 the entire surah). Amr said, “I had seen Ibn Abu Rafi. He was the scribe for Ali ibn Abu Talib.” lAhmed 600, Bukhari 3007, Muslim 2494, Abu Dawud 265]
صحيح، صحيح أبي داود (2381)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3305
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اسی طرح کئی ایک نے یہ حدیث سفیان بن عیینہ سے روایت کی ہے، اور ان سبھوں نے بھی یہی لفظ ذکر کیا ہے کہ علی اور زبیر (رض) وغیرہ نے کہا : تمہیں خط نکال کردینا ہوگا، ورنہ پھر تمہیں کپڑے اتارنے پڑیں گے، ٣- ابوعبدالرحمٰن السلمی سے بھی یہ حدیث مروی ہوئی ہے، انہوں نے علی (رض) سے اسی حدیث کے مانند روایت کیا ہے، ٤- اس باب میں عمر اور جابر بن عبداللہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ اور بعضوں نے ذکر کیا کہ انہوں نے کہا کہ تو خط نکال دے ورنہ ہم تجھے ننگا کردیں گے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : خاخ ایک جگہ کا نام ہے اس کے اور مدینہ کے درمیان ١٢ میل کا فاصلہ ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجھاد ١٤١ (٣٧٠٠) ، والمغازي ٩ (٣٩٨٣) ، وتفسیر سورة الممتحنة ١ (٤٨٩٠) ، صحیح مسلم/فضائل الصحابة ٣٦ (٢٤٩٤) (تحفة الأشراف : ١٠٢٢٧) ، و مسند احمد (١/٧٩) (صحیح)
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کسی کا امتحان نہیں لیا کرتے تھے مگر اس آیت سے جس میں اللہ نے «إذا جاءک المؤمنات يبايعنك» اے مومنوا ! جب تمہارے پاس مومن عورتیں (مکہ سے) ہجرت کر کے آئیں تو تم ان کا امتحان لو، اللہ تو ان کے ایمان کو جانتا ہی ہے، اگر تم یہ جان لو کہ یہ واقعی مومن عورتیں ہیں تو ان کو ان کے کافر شوہروں کے پاس نہ لوٹاؤ، نہ تو وہ کافروں کے لیے حلال ہیں نہ کافر ان کے لیے حلال ہیں (الممتحنۃ : ١٠) ، کہا ہے ١ ؎۔ معمر کہتے ہیں : ابن طاؤس نے مجھے اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے خبر دی ہے کہ ان کے باپ نے کہا : رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ نے اس عورت کے سوا جس کے آپ مالک ہوتے کسی عورت کا ہاتھ نہیں چھوا ٢ ؎۔
Sayyidah Ayshah (RA) narrated Allah’s Messenger ﷺ used to examine (women) because of this verse: "When believing women come to you swearing fealty to you that they will not associate with Allah anything, that they will not steal, that they will not commit adultery, that they will not kill their children, that they will not come up with a calumny they forged between their hands and their feet, and that they will not disobey you in what is right, then you accept their fealty and ask Allah’s forgiveness for them. Surely Allah is Forgiving, Merciful." (60 : 12) Mamar said that Ibn Tawus informed him from his father that the hand of Allah’s Messenger ﷺ never touched the hand of a woman except the woman whom he possessed. [Ahmed 24883, Bukhari 2713, Muslim 1866, Abu Dawud 2941, Ibn e Majah 2875]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3306
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : اور امتحان لینے کا مطلب یہ ہے کہ کافر ہوں اور اپنے شوہروں سے ناراض ہو کر ، یا کسی مسلمان کے عشق میں گرفتار ہو کر آئی ہوں ، اور جب تحقیق ہوجائے تب بھی صلح حدیبیہ کی شق کے مطابق ان عورتوں کو واپس نہیں کیا جاسکتا کیونکہ مسلمان عورت کافر مرد کے لیے حرام ہے ، ( مردوں کو بھلے واپس کیا جائے گا ) ٢ ؎ : اس سے اشارہ اس بات کا ہے کہ آپ عورتوں سے بیعت زبانی لیتے تھے ، اور بعض روایات میں آتا ہے کہ آپ نے اپنا ہاتھ ان کے ہاتھوں پر رکھ کر بیعت لیا وہ اکثر مرسل روایات ہیں ، نیز یہ بھی ممکن ہے کہ آپ نے اپنے اور ان کے ہاتھوں کے درمیان کوئی حائل ( موٹا کپڑا وغیرہ ) رکھا ہو ، جیسا کہ بعض روایات میں آتا ہے «لیس فی نسخۃ الالبانی ، وہوضعیف لأجل أبی نصرالاسدی فہومجہول»۔
ام سلمہ انصاریہ (رض) کہتی ہیں کہ عورتوں میں سے ایک عورت نے عرض کیا : (اللہ کے رسول ! ) اس معروف سے کیا مراد ہے جس میں ہمیں آپ کی نافرمانی نہیں کرنی چاہیئے، آپ نے فرمایا : وہ یہی ہے کہ تم (کسی کے مرنے پر) نوحہ مت کرو ، میں نے کہا : اللہ کے رسول ! فلاں قبیلے کی عورتوں نے نوحہ کرنے میں میری مدد کی تھی جب میں نے اپنے چچا پر نوحہ کیا تھا، اس لیے میرے لیے ضروری ہے کہ جب ان کے نوحہ کرنے کا وقت آئے تو میں ان کے ساتھ نوحہ میں شریک ہو کر اس کا بدلہ چکاؤں، آپ نے انکار کیا، (مجھے اجازت نہ دی) میں نے کئی بار آپ سے اپنی عرض دہرائی تو آپ نے مجھے ان کا بدلہ چکا دینے کی اجازت دے دی، اس بدلہ کے چکا دینے کے بعد پھر میں نے نہ ان پر اور نہ ہی کسی اور پر اب قیامت تک نوحہ (جبکہ) میرے سوا کوئی عورت ایسی باقی نہیں ہے جس نے نوحہ نہ کیا ہو ١ ؎۔
Sayyidah Umm Salamah (RA) reported that a woman asked, “What is that ‘known thing’ in which it is not allowed to us to disobey you?” He said, “That you do not wail (over anyone).” Sayyidah Umm Salamah (RA) said that she asked, “O Messenger of Allah, the women of a certain tribe had joined me in wailing over my paternal uncle. So, I am bound to reciprocate.” But, he forbade her (to do so). When she pursued the matter repeatedly, he gave permission to reciprocate a favour. Thereafter, she never wailed over anyone. There was no woman, apart from her, who had sworn fealty yet wailed over anyone. [Ibn e Majah 1579]
حسن، ابن ماجة (1579)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3307
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن ہے، ٢- اس باب میں ام عطیہ (رض) سے بھی روایت ہے، ٣- عبد بن حمید کہتے ہیں، ام سلمہ انصاریہ ہی اسماء بنت یزید بن السکن ہیں (رض) ۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : یعنی ان عورتوں میں سے ہر عورت نے نوحہ کیا ہے۔
عبداللہ بن عباس (رض) اس آیت «إذا جاء کم المؤمنات مهاجرات فامتحنوهن» کی تفسیر میں کہتے ہیں : جب کوئی عورت نبی اکرم ﷺ کے پاس ایمان لانے کے لیے آتی تو آپ اسے اللہ تعالیٰ کی قسم دلا کر کہلاتے کہ میں اپنے شوہر سے ناراضگی کے باعث کفر سے نہیں نکلی ہوں بلکہ میں اللہ اور اس کے رسول کی محبت لے کر اسلام قبول کرنے آئی ہوں۔
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث غریب ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ : یہ حدیث تحفۃ الأحوذی میں نہیں ہے ، نیز سنن ترمذی کے مکتبۃ المعارف والے نسخے میں بھی نہیں ہے ، جب کہ ضعیف سنن الترمذی میں یہ حدیث موجود ہے ، اور شیخ البانی نے إتحاف الخیرۃ المہرۃ ٨/ ١٧٤) کا حوالہ دیا ہے ، واضح رہے کہ یہ حدیث عارضۃ الأحوذی شرح صحیح الترمذی لابن العربی المالکی کے مطبوعہ نسخے ب تحقیق جمال مرعشلی میں موجود ہے ، اور حاشیہ میں یہ نوٹ ہے کہ مزی نے اس حدیث کو تحفۃ الأشراف میں نہیں ذکر کیا ہے ، اور یہ ترمذی کے دوسرے نسخوں میں موجود نہیں ہے ١٢/١٤١)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : لم یوردہ في ترجمة أبي نصر عن ابن عباس) (ضعیف) (سند میں راوی قیس بن الربیع کوفی صدوق راوی ہیں، لیکن بڑھاپے میں حافظہ میں تبدیلی آ گئی تھی، اور ان کے بیٹے نے ان کی کتاب میں وہ احادیث داخل کردیں جو ان کی روایت سے نہیں تھیں، اور انہوں ان روایات کو بیان کیا، اور ابوالنصر اسدی بصری کو ابو زرعہ نے ثقہ کہا ہے، اور امام بخاری کہتے ہیں کہ ابو نصر کا سماع ابن عباس سے غیر معروف ہے (صحیح البخاری، النکاح (٥١٠٥) تہذیب الکمال ٣٤/٣٤٣) اور حافظ ابن حجر ابو نصر أسدی کو مجہول کہتے ہیں (التقریب) ١ ؎۔