سورت واقعہ کی تفسیر
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنَّ فِي الْجَنَّةِ لَشَجَرَةً يَسِيرُ الرَّاكِبُ فِي ظِلِّهَا مِائَةَ عَامٍ لَا يَقْطَعُهَا، وَإِنْ شِئْتُمْ فَاقْرَءُوا: وَظِلٍّ مَمْدُودٍ 30 وَمَاءٍ مَسْكُوبٍ 31 سورة الواقعة آية 30-31. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَفِي الْبَابِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ.
انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جنت میں ایک درخت ہے، سوار اس کے سایہ میں سو سال تک چلے گا پھر بھی اس درخت کے سایہ کو عبور نہ کرسکے گا، اگر چاہو تو پڑھو «وظل ممدود وماء مسکوب» ان کے لیے دراز سایہ ہے اور (فراواں) بہتا ہوا پانی (الواقعہ: ٣٠) ۔
Sayyidina Anas (RA) reported that the Prophet ﷺ said, "There is a tree in Paradise under whose shade a ride may ride for a hundred years but will not be able to cover it." He also said that if anyone likes, he might recite: "And the spreading shade, and water over-flowing." (56:30-31) [Ahmed 12071]