سورت قمر کی تفسیر
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: انْشَقَّ الْقَمَرُ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى صَارَ فِرْقَتَيْنِ عَلَى هَذَا الْجَبَلِ وَعَلَى هَذَا الْجَبَلِ ، فَقَالُوا: سَحَرَنَا مُحَمَّدٌ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَئِنْ كَانَ سَحَرَنَا مَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَسْحَرَ النَّاسَ كُلَّهُمْ . قَالَ أَبُو عِيسَى: وَقَدْ رَوَى بَعْضُهُمْ هَذَا الْحَدِيثَ عَن حُصَيْنٍ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِجُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، نَحْوَهُ.
جبیر بن مطعم ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے زمانہ میں چاند پھٹ کر دو ٹکڑے ہوگیا، ایک ٹکڑا اس پہاڑ پر اور ایک ٹکڑا اس پہاڑ پر، ان لوگوں نے کہا: محمد ( ﷺ ) نے ہم پر جادو کردیا ہے، لیکن ان ہی میں سے بعض نے (اس کی تردید کی) کہا: اگر انہوں نے ہمیں جادو کردیا ہے تو (باہر کے) سبھی لوگوں کو جادو کے زیر اثر نہیں لاسکتے ١ ؎۔