ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب انسان مرجاتا ہے تو اس کا عمل بھی ختم ہوجاتا ہے سوائے تین عمل کے (جن سے اسے مرنے کے بعد بھی فائدہ پہنچتا ہے) ایک صدقہ جاریہ، ١ ؎ دوسرا علم جس سے لوگ فائدہ اٹھائیں ٢ ؎، تیسرا نیک اور صالح بیٹا جو اس کے لیے دعا کرتا رہے ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said: "When a man dies all his good deeds come to an end except three: Ongoing charity (Sadaqah Jariyah), beneficial knowledge and a righteous son who prays for him.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3651
Notes · وضاحت
١ ؎: مثلاً مسجد، مدرسہ، تالاب اور مسافر خانہ وغیرہ عوام کے فائدہ کے لیے بنوایا جائے تو جب تک لوگ اس سے فائدہ اٹھاتے رہیں گے اسے ثواب ملتا رہے گا۔ ٢ ؎: مثلاً کوئی اچھی کتاب لکھ جائے جس سے لوگ فائدہ اٹھائیں یا ایسے شاگرد تیار کر جائے جو کتاب وسنت کی روشنی میں علم کی اشاعت کریں اور اسے دوسروں تک پہنچائیں۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی اکرم ﷺ سے کہا: (اللہ کے رسول! ) میرے والد وصیت کئے بغیر انتقال کر گئے اور مال بھی چھوڑ گئے ہیں۔ اگر میں ان کی طرف سے صدقہ کروں تو کیا ان کی طرف سے کفارہ (اور ان کے لیے موجب نجات) ہوجائے گا؟ آپ نے فرمایا: ہاں ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that a man said to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم): "My father died and left behind wealth, but he did not leave a will. Will it expiate for him if I give charity on his behalf? He said: "Yes.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3652
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الوصایا ٢ (١٦٣٠)، (تحفة الأشراف: ١٣٩٨٤)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الوصایا ٨ (٢٧١٦)، مسند احمد (٢/٣٧١) (صحیح )
شرید بن سوید ثقفی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے پاس آ کر آپ سے عرض کیا: میری ماں نے وصیت کی ہے کہ ان کی طرف سے ایک غلام آزاد کردیا جائے اور میرے پاس حبشی نسل کی ایک لونڈی ہے، اگر میں اسے ان کی طرف سے آزاد کر دوں تو کیا وہ کافی ہوجائے گی؟ آپ نے فرمایا: جاؤ اسے ساتھ لے کر آؤ چناچہ میں اسے ساتھ لیے ہوئے آپ کے پاس حاضر ہوگیا، آپ نے اس سے پوچھا: تمہارا رب (معبود) کون ہے؟ اس نے کہا: اللہ، آپ نے (پھر) اس سے پوچھا: میں کون ہوں؟ اس نے کہا: آپ اللہ کے رسول ہیں، آپ نے فرمایا: اسے آزاد کر دو، یہ مسلمان عورت ہے ۔
It was narrated that Ash-Sharid bin Suwaid Ath-Thaqafi said: "I came to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) and said: My mother left a will saying that a slave should be freed on her behalf. I have a Nubian slave girl; will it suffice if I free her on her behalf? He said: Bring her here. The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said to her: Who is your Lord? She said: Allah. He said: Who am I? She said: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم). He said: Set her free, for she is a believer.
حسن الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3653
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ سعد ؓ نے نبی اکرم ﷺ سے پوچھا: میری ماں مرچکی ہیں اور کوئی وصیت نہیں کی ہیں، کیا میں ان کی طرف سے صدقہ کر دوں؟ آپ نے فرمایا: ہاں کر دو ۔
It was narrated from Ibn Abbas that Sad asked the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم): "My mother died and did not leave a will; shall I give charity on her behalf?" He said: "Yes.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3654
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اگر میں ان کی جانب سے صدقہ کروں تو کیا اس صدقہ کا ثواب انہیں ملے گا؟ ۔
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ ایک شخص نے کہا: اللہ کے رسول! میری ماں کا انتقال ہوگیا ہے اگر میں ان کی طرف سے صدقہ کر دوں تو کیا انہیں اس کا فائدہ پہنچے گا؟ آپ نے فرمایا: ہاں ، تو اس نے کہا: پھر تو میرے پاس کھجور کا ایک باغ ہے، آپ کو گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اپنی ماں کی طرف سے اسے صدقہ میں دے دیا۔
It was narrated from Ibn Abbas (RA) that a man said: "O Messenger of Allah, my mother died; will it benefit her if I give in charity on her behalf?" He said: "Yes." He said: "I have a garden and I ask you to bear witness that I am giving it in charity on her behalf.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3655
سعد بن عبادہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کے پاس آ کر کہا: میری ماں مرچکی ہیں اور ان کے ذمہ ایک نذر ہے، اگر میں ان کی طرف سے (ایک غلام) آزاد کر دوں تو کیا یہ ان کی طرف سے پوری ہوجائے گی؟ آپ نے فرمایا: (ہاں) اپنی ماں کی طرف سے غلام آزاد کر دو ۔
It was narrated from Sad bin Ubadah that he came to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and said: "My mother has died and she had a vow to fulfill. Will it suffice if I free a slave on her behalf?" He said: "Free a slave on behalf of your mother.
صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3656
Notes · وضاحت
١ ؎: سعد بن عبادہ کی ماں نے غلام آزاد کرنے کی نذر مانی تھی۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ٣٨٣٧، (حم (٦/٧) (صحیح) (آگے آنے والی حدیث سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے )
سعد بن عبادہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے اس نذر کے متعلق مسئلہ پوچھا جو ان کی ماں کے ذمہ تھی اور اسے پوری کرنے سے پہلے ہی انتقال کرگئی تھیں؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اس نذر کو تم ان کی طرف سے پوری کر دو ۔
It was narrated from Sad bin Ubadah that he consulted the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) about a vow which his mother had to fulfill, but she died before doing so. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said: "Fulfill it on her behalf.
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3657
سعد بن عبادہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے ایک نذر کے بارے میں پوچھا جوان کی ماں کے ذمہ تھی اور نذر پوری کرنے سے پہلے ہی ان کی موت ہوگئی تھی؟ آپ نے فرمایا: تم ان کی طرف سے نذر پوری کر دو ۔
It was narrated from Sad bin Ubadah that he consulted the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) about a vow which his mother had to fulfill, but she died before doing so. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said: "Fulfill it on her behalf.
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3658
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ سعد بن عبادہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے ایک نذر کے متعلق پوچھا جو ان کی ماں کے ذمہ تھی اور اسے پوری کرنے سے پہلے ہی وہ انتقال کر گئیں، تو آپ نے فرمایا: تم ان کی طرف سے نذر پوری کر دو ۔
It was narrated that Ibn Abbas said: "Sad consulted the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) about a vow which his mother had to fulfill, but she died before doing so. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said: Fulfill it on her behalf.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3659
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ سعد بن عبادہ ؓ نے نبی اکرم ﷺ سے ایک نذر کے متعلق مسئلہ پوچھا جو ان کی ماں کے ذمہ تھی اور جسے پوری کرنے سے پہلے ہی وہ مرگئیں۔ تو آپ نے فرمایا: اسے تم ان کی طرف سے پوری کر دو ۔
It was narrated that Al-Harith bin Miskin said, it being read to him while I was listening: "From Sufyan, from Az-Zuhri, from Ubaidullah bin Abdullah, from Ibn Abbas, that Sad bin Ubadah consulted the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) about a vow which his mother had to fulfill, but she died before doing so. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said: Fulfill it on her behalf.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3660
سعد بن عبادہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میری ماں مرگئیں اور ان کے ذمہ ایک نذر تھی تو میں نے نبی اکرم ﷺ سے اس کے متعلق پوچھا تو آپ نے مجھے حکم دیا کہ میں اسے ان کی طرف سے پوری کر دوں۔
Muhammad bin Abdullah bin Yazid said: "Sufyan narrated to us from Az-Zuhri, from Ubaidullah bin Abdullah, from Ibn Abbas, that Sad said: My mother died and there was an (outstanding) vow that she had to fulfill. I asked the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and he told me to fulfill it on her behalf.
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3661
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ سعد بن عبادہ انصاری ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے ایک نذر سے متعلق جو ان کی ماں کے ذمہ تھی مسئلہ پوچھا اور اسے پوری کرنے سے پہلے وہ انتقال کر گئیں تھیں، تو آپ نے ان سے فرمایا: اسے ان کی طرف سے تم پوری کر دو ۔
It was narrated that Ibn Abbas said: "Sad bin Ubadah Al-Ansari consulted the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) about an (outstanding) vow that his mother had to fulfill, but she died before doing so. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said: Fulfill it on her behalf.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3662
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ سعد بن عبادہ ؓ نے نبی اکرم ﷺ کے پاس آ کر عرض کیا: میری ماں انتقال کرگئی ہیں اور ان کے ذمہ ایک نذر ہے اور وہ اسے پوری نہیں کرسکی ہیں؟ آپ نے فرمایا: تم اسے ان کی طرف سے پوری کر دو ۔
It was narrated that Ibn Abbas said: Sad bin Ubadah came to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and said: "My mother has died and she had a vow to fulfill but she did not do so." He said: "Fulfill it on her behalf.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3663
سعد بن عبادہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: اللہ کے رسول! میری ماں مرگئیں ہیں، کیا میں ان کی طرف سے صدقہ کرسکتا ہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں ، میں نے پوچھا: کون سا صدقہ افضل ہے؟ آپ نے فرمایا: (پیاسوں کو) پانی پلانا ١ ؎۔
It was narrated that Sad bin Ubadah said: "I said: O Messenger of Allah, my mother has died; shall I give in charity on her behalf? He said: Yes. I said: What kind of charity is best? He said: Providing drinking water.
حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3664
Notes · وضاحت
١ ؎: نل لگوا دینا، کنواں، تالاب وغیرہ کھودوانا جس سے لوگ سیراب ہوں یہ بہترین صدقہ ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الزکاة ٤١ (١٦٨٠)، سنن ابن ماجہ/الأدب ٨ (٣٦٨٤)، (تحفة الأشراف: ٣٨٣٤)، مسند احمد (٥/٢٨٤، ٢٨٥ و ٦/٧)، ویأتي فیما یلي: ٣٦٩٥، ٣٦٩٦ (حسن )
سعد بن عبادہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ان کی ماں مرگئیں تو انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میری ماں انتقال کر گئیں ہیں، کیا میں ان کی طرف سے صدقہ کرسکتا ہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں ، انہوں نے کہا: کون سا صدقہ سب سے بہتر ہے؟ آپ نے فرمایا: پانی پلانا تو یہ ہے مدینہ میں سعد ؓ کی پانی کی سبیل۔
It was narrated from Sad bin Ubadah that his mother died. He said: "O Messenger of Allah, my mother has died; can I give charity on her behalf?" He said: "Yes." He said: "What kind of charity is best?" He said: "Providing drinking water." And that is the drinking-fountain of Sad in Al-Madinah.
حسن لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3666
ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ابوذر! میں تمہیں کمزور دیکھتا ہوں اور تمہارے لیے وہی چیز پسند کرتا ہوں جو اپنے لیے پسند کرتا ہوں (لہٰذا تم) دو آدمیوں کا بھی سردار نہ بننا اور نہ یتیم کے مال کا والی بننا ١ ؎۔
It was narrated that Abu Dharr said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said to me: O Abu Dharr, I think that you are weak, and I like for you what I like for myself. Do not accept a position of Amir over two people, and do not agree to be the guardian of an orphans property.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3667
Notes · وضاحت
١ ؎: اس لیے کہ یہ دونوں بڑے اہم اور ذمہ داری کے کام ہیں اگر آدمی سنبھال نہ پائے تو خود عذاب و عقاب کا مستحق بن جائے گا۔
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی اکرم ﷺ کے پاس آ کر عرض کیا: میں محتاج و فقیر ہوں، میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے اور میری سرپرستی میں ایک یتیم ہے۔ آپ نے فرمایا: یتیم کے مال سے کھالیا کرو (لیکن دیکھو) فضول خرچی اور اسراف مت کرنا اور نہ ہی یتیم کا مال لے لے کر اپنا مال بڑھانا ۔
It was narrated from Amr bin Shuaib, from his father, from his grandfather, that a man came to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and said: "I am poor and I do not have anything, and I have an orphan (under my care)." He said: "Eat from the property of your orphan without being extravagant, wasteful or keeping it as capital for yourself.
حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3668
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جب آیت کریمہ: ولا تقربوا مال اليتيم إلا بالتي هي أحسن یتیم کے مال کے قریب نہ جاؤ مگر اس طریقے سے جو کہ مستحسن ہو (یہاں تک کہ وہ اپنے سن رشد کو پہنچ جائے) (الأنعام: ١٥٢) اور إن الذين يأکلون أموال اليتامى ظلما اور جو لوگ یتیموں کا مال ظلم و زیادتی کر کے کھاتے ہیں (وہ دراصل مال نہیں کھاتے وہ اپنے پیٹوں میں انگارے بھر رہے ہیں (النساء: ١٠) نازل ہوئی تو لوگ یتیموں کے مال کے قریب جانے (اور ان کی حفاظت کی ذمہ داریاں سنبھالنے) اور ان کا مال کھانے سے بچنے لگے۔ تو یہ چیز مسلمانوں پر شاق (دشوار) ہوگئی، چناچہ لوگوں نے نبی اکرم ﷺ سے اس کی شکایت کی جس پر اللہ تعالیٰ نے آیت کریمہ: ويسألونک عن اليتامى قل إصلاح لهم خير سے لأعنتکم اور تم سے یتیموں کے بارے میں بھی سوال کرتے ہیں۔ آپ کہہ دیجئیے کہ ان کی خیر خواہی بہتر ہے اگر تم ان کا مال اپنے مال میں ملا بھی لو تو وہ تمہارے بھائی ہیں۔ بدنیت اور نیک نیت ہر ایک کو اللہ خوب جانتا ہے۔ اور اگر اللہ چاہتا تو تمہیں مشقت میں ڈال دیتا، یقیناً اللہ تعالیٰ غلبہ اور حکمت والا ہے (البقرہ: ٢٢٠) تک نازل فرمائی ٣ ؎۔
It was narrated that Ibn Abbas said: "When these Verses were revealed - And come not near to the orphans property, except to improve it, and Verily, those who unjustly eat up the property of orphans - the people avoided the property and food of the orphans. That caused hardship to the Muslims and they complained about that to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم). Then Allah revealed: And they ask you concerning orphans. Say: The best thing is to work honestly in their property, and if you mix your affairs with theirs, then they are your brothers. And Allah knows him who means mischief (e.g. to swallow their property) from him who means good (e.g. to save their property). And if Allah had wished, He could have put you into difficulties.
حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3669
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما آیت کریمہ: إن الذين يأکلون أموال اليتامى ظلما کے سلسلہ میں کہتے ہیں کہ جب یہ آیت اتری تو جس کی پرورش میں یتیم ہوتا تھا وہ اس کا کھانا پینا اور اس کا برتن الگ کردیتا تھا لیکن یہ چیز مسلمانوں پر گراں گزری تو اللہ تعالیٰ نے آیت کریمہ: وإن تخالطوهم فإخوانکم اگر ان کو ملا کر رکھو تو وہ تمہارے بھائی ہیں (البقرہ: ٢٢٠) نازل فرمائی اور یہ کہہ کر اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے ساتھ ملا لینے کو جائز قرار دے دیا۔
It was narrated that Ibn Abbas said -concerning the Verse: "Verily, those who unjustly eat up the property of orphans" -A man would have an orphan in his care, and he would keep his food, drink and vessels separate. This caused hardship to the Muslims, so Allah, the Mighty and Sublime, revealed: "And they ask you concerning orphans. Say: The best thing is to work honestly in their property, and if you mix your affairs with theirs, then they are your brothers" (in religion), so it is permissible for you to mix with them.
حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3670