وصیتوں سے متعلقہ احادیث

Sunan An Nasai · Chapter 30 · 61 hadiths · Page 3 of 4

3681Sunan An Nasai

مرنے والے کی جانب سے صدقہ کے فضائل

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل، قَالَ: حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا مَاتَ الْإِنْسَانُ انْقَطَعَ عَمَلُهُ إِلَّا مِنْ ثَلَاثَةٍ مِنْ صَدَقَةٍ جَارِيَةٍ، وَعِلْمٍ يُنْتَفَعُ بِهِ، وَوَلَدٍ صَالِحٍ يَدْعُو لَهُ.

ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب انسان مرجاتا ہے تو اس کا عمل بھی ختم ہوجاتا ہے سوائے تین عمل کے (جن سے اسے مرنے کے بعد بھی فائدہ پہنچتا ہے) ایک صدقہ جاریہ، ١ ؎ دوسرا علم جس سے لوگ فائدہ اٹھائیں ٢ ؎، تیسرا نیک اور صالح بیٹا جو اس کے لیے دعا کرتا رہے ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said: "When a man dies all his good deeds come to an end except three: Ongoing charity (Sadaqah Jariyah), beneficial knowledge and a righteous son who prays for him.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3651
Notes · وضاحت
١ ؎: مثلاً مسجد، مدرسہ، تالاب اور مسافر خانہ وغیرہ عوام کے فائدہ کے لیے بنوایا جائے تو جب تک لوگ اس سے فائدہ اٹھاتے رہیں گے اسے ثواب ملتا رہے گا۔ ٢ ؎: مثلاً کوئی اچھی کتاب لکھ جائے جس سے لوگ فائدہ اٹھائیں یا ایسے شاگرد تیار کر جائے جو کتاب وسنت کی روشنی میں علم کی اشاعت کریں اور اسے دوسروں تک پہنچائیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الوصایا ٣ (١٦٣١)، سنن الترمذی/الأحکام ٣٦ (١٣٧٦)، (تحفة الأشراف: ١٣٩٧٥)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الوصایا ١٤ (٢٨٨٠)، مسند احمد ٢/٣١٦، ٣٥٠، ٣٧٢، سنن الدارمی/المقدمة ٤٦ (٥٧٨) (صحیح )
3682Sunan An Nasai

مرنے والے کی جانب سے صدقہ کے فضائل

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيل، عَنْ الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ أَبِي مَاتَ وَتَرَكَ مَالًا وَلَمْ يُوصِ فَهَلْ يُكَفِّرُ عَنْهُ أَنْ أَتَصَدَّقَ عَنْهُ ؟ قَالَ: نَعَمْ.

ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی اکرم ﷺ سے کہا: (اللہ کے رسول! ) میرے والد وصیت کئے بغیر انتقال کر گئے اور مال بھی چھوڑ گئے ہیں۔ اگر میں ان کی طرف سے صدقہ کروں تو کیا ان کی طرف سے کفارہ (اور ان کے لیے موجب نجات) ہوجائے گا؟ آپ نے فرمایا: ہاں ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that a man said to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم): "My father died and left behind wealth, but he did not leave a will. Will it expiate for him if I give charity on his behalf? He said: "Yes.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3652
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الوصایا ٢ (١٦٣٠)، (تحفة الأشراف: ١٣٩٨٤)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الوصایا ٨ (٢٧١٦)، مسند احمد (٢/٣٧١) (صحیح )
3683Sunan An Nasai

مرنے والے کی جانب سے صدقہ کے فضائل

أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِأَبِي سَلَمَةَ، عَنْ الشَّرِيدِ بْنِ سُوَيْدٍ الثَّقَفِيِّ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ إِنَّ أُمِّي أَوْصَتْ أَنْ تُعْتَقَ عَنْهَا رَقَبَةٌ، وَإِنَّ عِنْدِي جَارِيَةً نُوبِيَّةً أَفَيُجْزِئُ عَنِّي أَنْ أُعْتِقَهَا عَنْهَا ؟ قَالَ: ائْتِنِي بِهَا، فَأَتَيْتُهُ بِهَا، فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ رَبُّكِ ؟قَالتْ: اللَّهُ، قَالَ: مَنْ أنَا ؟ قَالَتْ: أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ، قَالَ: فَأَعْتِقْهَا فَإِنَّهَا مُؤْمِنَةٌ.

شرید بن سوید ثقفی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے پاس آ کر آپ سے عرض کیا: میری ماں نے وصیت کی ہے کہ ان کی طرف سے ایک غلام آزاد کردیا جائے اور میرے پاس حبشی نسل کی ایک لونڈی ہے، اگر میں اسے ان کی طرف سے آزاد کر دوں تو کیا وہ کافی ہوجائے گی؟ آپ نے فرمایا: جاؤ اسے ساتھ لے کر آؤ چناچہ میں اسے ساتھ لیے ہوئے آپ کے پاس حاضر ہوگیا، آپ نے اس سے پوچھا: تمہارا رب (معبود) کون ہے؟ اس نے کہا: اللہ، آپ نے (پھر) اس سے پوچھا: میں کون ہوں؟ اس نے کہا: آپ اللہ کے رسول ہیں، آپ نے فرمایا: اسے آزاد کر دو، یہ مسلمان عورت ہے ۔

It was narrated that Ash-Sharid bin Suwaid Ath-Thaqafi said: "I came to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) and said: My mother left a will saying that a slave should be freed on her behalf. I have a Nubian slave girl; will it suffice if I free her on her behalf? He said: Bring her here. The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said to her: Who is your Lord? She said: Allah. He said: Who am I? She said: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم). He said: Set her free, for she is a believer.

حسن الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3653
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الأیمان والنذور ١٩ (٣٢٨٣)، (تحفة الأشراف: ٤٨٣٩)، مسند احمد (٤/٢٢٢، ٣٨٨، ٣٨٩)، سنن الدارمی/النذور ١٠ (٢٣٩٣) (حسن) (سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی ٣١٦١، تراجع الالبانی ١٠٧ )
3684Sunan An Nasai

مرنے والے کی جانب سے صدقہ کے فضائل

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عِيسَى، قَالَ: أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَن ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ سَعْدًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ وَلَمْ تُوصِ أَفَأَتَصَدَّقُ عَنْهَا ؟ قَالَ: نَعَمْ.

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ سعد ؓ نے نبی اکرم ﷺ سے پوچھا: میری ماں مرچکی ہیں اور کوئی وصیت نہیں کی ہیں، کیا میں ان کی طرف سے صدقہ کر دوں؟ آپ نے فرمایا: ہاں کر دو ۔

It was narrated from Ibn Abbas that Sad asked the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم): "My mother died and did not leave a will; shall I give charity on her behalf?" He said: "Yes.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3654
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اگر میں ان کی جانب سے صدقہ کروں تو کیا اس صدقہ کا ثواب انہیں ملے گا؟ ۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الوصایا ٢٠ (٢٧٧٠)، سنن ابی داود/الوصایا ١٥ (٢٨٨٢ مطولا)، سنن الترمذی/الزکاة ٣٣ (٦٦٩ مطولا)، (تحفة الأشراف: ٦١٦٤) (صحیح )
3685Sunan An Nasai

مرنے والے کی جانب سے صدقہ کے فضائل

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْأَزْهَرِ، قَالَ: حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا: زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاق، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أُمَّهُ تُوُفِّيَتْ أَفَيَنْفَعُهَا إِنْ تَصَدَّقْتُ عَنْهَا، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَإِنَّ لِي مَخْرَفًا فَأُشْهِدُكَ أَنِّي قَدْ تَصَدَّقْتُ بِهِ عَنْهَا.

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ ایک شخص نے کہا: اللہ کے رسول! میری ماں کا انتقال ہوگیا ہے اگر میں ان کی طرف سے صدقہ کر دوں تو کیا انہیں اس کا فائدہ پہنچے گا؟ آپ نے فرمایا: ہاں ، تو اس نے کہا: پھر تو میرے پاس کھجور کا ایک باغ ہے، آپ کو گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اپنی ماں کی طرف سے اسے صدقہ میں دے دیا۔

It was narrated from Ibn Abbas (RA) that a man said: "O Messenger of Allah, my mother died; will it benefit her if I give in charity on her behalf?" He said: "Yes." He said: "I have a garden and I ask you to bear witness that I am giving it in charity on her behalf.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3655
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح )
3686Sunan An Nasai

مرنے والے کی جانب سے صدقہ کے فضائل

أَخْبَرَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَفَّانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ، أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ وَعَلَيْهَا نَذْرٌ أَفَيُجْزِئُ عَنْهَا أَنْ أُعْتِقَ عَنْهَا، قَالَ: أَعْتِقْ عَنْ أُمِّكَ.

سعد بن عبادہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کے پاس آ کر کہا: میری ماں مرچکی ہیں اور ان کے ذمہ ایک نذر ہے، اگر میں ان کی طرف سے (ایک غلام) آزاد کر دوں تو کیا یہ ان کی طرف سے پوری ہوجائے گی؟ آپ نے فرمایا: (ہاں) اپنی ماں کی طرف سے غلام آزاد کر دو ۔

It was narrated from Sad bin Ubadah that he came to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and said: "My mother has died and she had a vow to fulfill. Will it suffice if I free a slave on her behalf?" He said: "Free a slave on behalf of your mother.

صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3656
Notes · وضاحت
١ ؎: سعد بن عبادہ کی ماں نے غلام آزاد کرنے کی نذر مانی تھی۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ٣٨٣٧، (حم (٦/٧) (صحیح) (آگے آنے والی حدیث سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے )
3687Sunan An Nasai

مرنے والے کی جانب سے صدقہ کے فضائل

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحَمَدَ أَبُو يُوسُفَ الصَّيْدَلَانِيُّ، عَنْ عِيسَى وَهُوَ ابْنُ يُونُسَ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ أَخْبَرَهُ، عَنْعُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ، أَنَّهُ اسْتَفْتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَذْرٍ كَانَ عَلَى أُمِّهِ فَتُوُفِّيَتْ قَبْلَ أَنْ تَقْضِيَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اقْضِهِ عَنْهَا.

سعد بن عبادہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے اس نذر کے متعلق مسئلہ پوچھا جو ان کی ماں کے ذمہ تھی اور اسے پوری کرنے سے پہلے ہی انتقال کرگئی تھیں؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اس نذر کو تم ان کی طرف سے پوری کر دو ۔

It was narrated from Sad bin Ubadah that he consulted the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) about a vow which his mother had to fulfill, but she died before doing so. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said: "Fulfill it on her behalf.

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3657
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٣٦٨٦ (صحیح )
3688Sunan An Nasai

مرنے والے کی جانب سے صدقہ کے فضائل

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَدَقَةَ الْحِمْصِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ أَخْبَرَهُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ، أَنَّهُ اسْتَفْتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَذْرٍ كَانَ عَلَى أُمِّهِ فَمَاتَتْ قَبْلَ أَنْ تَقْضِيَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَاقْضِهِ عَنْهَا.

سعد بن عبادہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے ایک نذر کے بارے میں پوچھا جوان کی ماں کے ذمہ تھی اور نذر پوری کرنے سے پہلے ہی ان کی موت ہوگئی تھی؟ آپ نے فرمایا: تم ان کی طرف سے نذر پوری کر دو ۔

It was narrated from Sad bin Ubadah that he consulted the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) about a vow which his mother had to fulfill, but she died before doing so. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said: "Fulfill it on her behalf.

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3658
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٣٦٨٦ (صحیح )
3689Sunan An Nasai

مرنے والے کی جانب سے صدقہ کے فضائل

أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي الزُّهْرِيُّ، أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَهُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: اسْتَفْتَى سَعْدٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَذْرٍ كَانَ عَلَى أُمِّهِ فَتُوُفِّيَتْ قَبْلَ أَنْ تَقْضِيَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اقْضِهِ عَنْهَا.

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ سعد بن عبادہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے ایک نذر کے متعلق پوچھا جو ان کی ماں کے ذمہ تھی اور اسے پوری کرنے سے پہلے ہی وہ انتقال کر گئیں، تو آپ نے فرمایا: تم ان کی طرف سے نذر پوری کر دو ۔

It was narrated that Ibn Abbas said: "Sad consulted the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) about a vow which his mother had to fulfill, but she died before doing so. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said: Fulfill it on her behalf.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3659
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الوصایا ١٩ (٢٧٦١)، الأیمان ٣٠ (٦٦٩٨)، الحیل ٣ (٦٩٥٩)، صحیح مسلم/النذور ١ (١٦٣٨)، سنن ابی داود/الأیمان ٢٥ (٣٣٠٧)، سنن الترمذی/الأیمان ١٩ (١٥٤٦)، سنن ابن ماجہ/الکفارات ١٩ (٢١٣٢)، (تحفة الأشراف: ٥٨٣٥)، ویأتي عند المؤلف: ٣٨٤٨، ٣٨٤٩، ٣٨٥٠) (صحیح )
3690Sunan An Nasai

حضرت سفیان سے متعلق زیر نظر حدیث میں راوی کے اختلاف سے متعلق

قَالَ: الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ اسْتَفْتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَذْرٍ كَانَ عَلَى أُمِّهِ فَتُوُفِّيَتْ قَبْلَ أَنْ تَقْضِيَهُ، فَقَالَ: اقْضِهِ عَنْهَا.

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ سعد بن عبادہ ؓ نے نبی اکرم ﷺ سے ایک نذر کے متعلق مسئلہ پوچھا جو ان کی ماں کے ذمہ تھی اور جسے پوری کرنے سے پہلے ہی وہ مرگئیں۔ تو آپ نے فرمایا: اسے تم ان کی طرف سے پوری کر دو ۔

It was narrated that Al-Harith bin Miskin said, it being read to him while I was listening: "From Sufyan, from Az-Zuhri, from Ubaidullah bin Abdullah, from Ibn Abbas, that Sad bin Ubadah consulted the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) about a vow which his mother had to fulfill, but she died before doing so. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said: Fulfill it on her behalf.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3660
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٣٦٨٩ (صحیح )
3691Sunan An Nasai

حضرت سفیان سے متعلق زیر نظر حدیث میں راوی کے اختلاف سے متعلق

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ سَعْدٍ، أَنَّهُ قَالَ: مَاتَتْ أُمِّي وَعَلَيْهَا نَذْرٌ فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَفَأَمَرَنِي أَنْ أَقْضِيَهُ عَنْهَا.

سعد بن عبادہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میری ماں مرگئیں اور ان کے ذمہ ایک نذر تھی تو میں نے نبی اکرم ﷺ سے اس کے متعلق پوچھا تو آپ نے مجھے حکم دیا کہ میں اسے ان کی طرف سے پوری کر دوں۔

Muhammad bin Abdullah bin Yazid said: "Sufyan narrated to us from Az-Zuhri, from Ubaidullah bin Abdullah, from Ibn Abbas, that Sad said: My mother died and there was an (outstanding) vow that she had to fulfill. I asked the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and he told me to fulfill it on her behalf.

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3661
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٣٦٨٩ (صحیح الإسناد )
3692Sunan An Nasai

حضرت سفیان سے متعلق زیر نظر حدیث میں راوی کے اختلاف سے متعلق

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: اسْتَفْتَى سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ الْأَنْصَارِيُّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَذْرٍ كَانَ عَلَى أُمِّهِ فَتُوُفِّيَتْ قَبْلَ أَنْ تَقْضِيَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اقْضِهِ عَنْهَا.

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ سعد بن عبادہ انصاری ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے ایک نذر سے متعلق جو ان کی ماں کے ذمہ تھی مسئلہ پوچھا اور اسے پوری کرنے سے پہلے وہ انتقال کر گئیں تھیں، تو آپ نے ان سے فرمایا: اسے ان کی طرف سے تم پوری کر دو ۔

It was narrated that Ibn Abbas said: "Sad bin Ubadah Al-Ansari consulted the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) about an (outstanding) vow that his mother had to fulfill, but she died before doing so. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said: Fulfill it on her behalf.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3662
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٣٦٨٦ (صحیح )
3693Sunan An Nasai

حضرت سفیان سے متعلق زیر نظر حدیث میں راوی کے اختلاف سے متعلق

أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاق الْهَمْدَانِيُّ، عَنْ عَبْدَةَ، عَنْ هِشَامٍ هُوَ ابْنُ عُرْوَةَ، عَنْ بَكْرِ بْنِ وَائِلٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْعُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: جَاءَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ وَعَلَيْهَا نَذْرٌ وَلَمْ تَقْضِهِ، قَالَ: اقْضِهِ عَنْهَا.

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ سعد بن عبادہ ؓ نے نبی اکرم ﷺ کے پاس آ کر عرض کیا: میری ماں انتقال کرگئی ہیں اور ان کے ذمہ ایک نذر ہے اور وہ اسے پوری نہیں کرسکی ہیں؟ آپ نے فرمایا: تم اسے ان کی طرف سے پوری کر دو ۔

It was narrated that Ibn Abbas said: Sad bin Ubadah came to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and said: "My mother has died and she had a vow to fulfill but she did not do so." He said: "Fulfill it on her behalf.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3663
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٣٦٨٩ (صحیح )
3694Sunan An Nasai

حضرت سفیان سے متعلق زیر نظر حدیث میں راوی کے اختلاف سے متعلق

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ أَفَأَتَصَدَّقُ عَنْهَا، قَالَ: نَعَمْ، قُلْتُ: فَأَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ ؟، قَالَ: سَقْيُ الْمَاءِ.

سعد بن عبادہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: اللہ کے رسول! میری ماں مرگئیں ہیں، کیا میں ان کی طرف سے صدقہ کرسکتا ہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں ، میں نے پوچھا: کون سا صدقہ افضل ہے؟ آپ نے فرمایا: (پیاسوں کو) پانی پلانا ١ ؎۔

It was narrated that Sad bin Ubadah said: "I said: O Messenger of Allah, my mother has died; shall I give in charity on her behalf? He said: Yes. I said: What kind of charity is best? He said: Providing drinking water.

حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3664
Notes · وضاحت
١ ؎: نل لگوا دینا، کنواں، تالاب وغیرہ کھودوانا جس سے لوگ سیراب ہوں یہ بہترین صدقہ ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الزکاة ٤١ (١٦٨٠)، سنن ابن ماجہ/الأدب ٨ (٣٦٨٤)، (تحفة الأشراف: ٣٨٣٤)، مسند احمد (٥/٢٨٤، ٢٨٥ و ٦/٧)، ویأتي فیما یلي: ٣٦٩٥، ٣٦٩٦ (حسن )
3695Sunan An Nasai

حضرت سفیان سے متعلق زیر نظر حدیث میں راوی کے اختلاف سے متعلق

أَخْبَرَنَا أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، عَنْ وَكِيعٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ: سَقْيُ الْمَاءِ.

سعد بن عبادہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: اللہ کے رسول! کون سا صدقہ سب سے بہتر ہے؟ آپ نے فرمایا: پانی پلانا ١ ؎۔

It was narrated that Sad bin Ubadah said: "I said: O Messenger of Allah, what kind of charity is best? He said: Providing drinking water.

حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3665
Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ پانی آب حیات ہے زیادہ دیر تک نہ ملے تو آدمی زندہ نہیں رہ سکتا۔
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح )
3696Sunan An Nasai

حضرت سفیان سے متعلق زیر نظر حدیث میں راوی کے اختلاف سے متعلق

أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ، عَنْ حَجَّاجٍ، قَالَ: سَمِعْتُ شُعْبَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ يُحَدِّثُ، عَنْسَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ، أَنَّ أُمَّهُ مَاتَتْ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ أَفَأَتَصَدَّقُ عَنْهَا، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَأَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ: سَقْيُ الْمَاءِ، فَتِلْكَ سِقَايَةُ سَعْدٍ بِالْمَدِينَةِ.

سعد بن عبادہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ان کی ماں مرگئیں تو انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میری ماں انتقال کر گئیں ہیں، کیا میں ان کی طرف سے صدقہ کرسکتا ہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں ، انہوں نے کہا: کون سا صدقہ سب سے بہتر ہے؟ آپ نے فرمایا: پانی پلانا تو یہ ہے مدینہ میں سعد ؓ کی پانی کی سبیل۔

It was narrated from Sad bin Ubadah that his mother died. He said: "O Messenger of Allah, my mother has died; can I give charity on her behalf?" He said: "Yes." He said: "What kind of charity is best?" He said: "Providing drinking water." And that is the drinking-fountain of Sad in Al-Madinah.

حسن لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3666
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٣٦٩٤ (صحیح )
3697Sunan An Nasai

یتیم کے مال کا والی ہونے کی ممانعت سے متعلق

أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي سَالِمٍ الْجَيْشَانِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا أَبَا ذَرٍّ إِنِّي أَرَاكَ ضَعِيفًا، وَإِنِّي أُحِبُّ لَكَ مَا أُحِبُّ لِنَفْسِي لَا تَأَمَّرَنَّ عَلَى اثْنَيْنِ وَلَا تَوَلَّيَنَّ عَلَى مَالِ يَتِيمٍ.

ابوذر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ابوذر! میں تمہیں کمزور دیکھتا ہوں اور تمہارے لیے وہی چیز پسند کرتا ہوں جو اپنے لیے پسند کرتا ہوں (لہٰذا تم) دو آدمیوں کا بھی سردار نہ بننا اور نہ یتیم کے مال کا والی بننا ١ ؎۔

It was narrated that Abu Dharr said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ و آلہ سلم) said to me: O Abu Dharr, I think that you are weak, and I like for you what I like for myself. Do not accept a position of Amir over two people, and do not agree to be the guardian of an orphans property.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3667
Notes · وضاحت
١ ؎: اس لیے کہ یہ دونوں بڑے اہم اور ذمہ داری کے کام ہیں اگر آدمی سنبھال نہ پائے تو خود عذاب و عقاب کا مستحق بن جائے گا۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الإمارة ٤ (١٨٢٦)، سنن ابی داود/الوصایا ٤ (٢٨٦٨)، (تحفة الأشراف: ١١٩١٩)، مسند احمد (٥/١٨٠) (صحیح )
3698Sunan An Nasai

اگر کوئی آدمی یتیم کے مال کا متولی ہو تو کیا اس میں سے کچھ وصول کرسکتا ہے؟

أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ حُسَيْنٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنِّي فَقِيرٌ لَيْسَ لِي شَيْءٌ وَلِي يَتِيمٌ، قَالَ: كُلْ مِنْ مَالِ يَتِيمِكَ غَيْرَ مُسْرِفٍ، وَلَا مُبَاذِرٍ، وَلَا مُتَأَثِّلٍ.

عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی اکرم ﷺ کے پاس آ کر عرض کیا: میں محتاج و فقیر ہوں، میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے اور میری سرپرستی میں ایک یتیم ہے۔ آپ نے فرمایا: یتیم کے مال سے کھالیا کرو (لیکن دیکھو) فضول خرچی اور اسراف مت کرنا اور نہ ہی یتیم کا مال لے لے کر اپنا مال بڑھانا ۔

It was narrated from Amr bin Shuaib, from his father, from his grandfather, that a man came to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and said: "I am poor and I do not have anything, and I have an orphan (under my care)." He said: "Eat from the property of your orphan without being extravagant, wasteful or keeping it as capital for yourself.

حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3668
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الوصایا ٨ (٢٨٧٢)، سنن ابن ماجہ/الوصایا ٩ (٢٧١٨)، (تحفة الأشراف: ٨٦٨١)، (تحفة الأشراف: ٨٦٨١)، مسند احمد (٢/١٨٦، ٢١٥) (حسن صحیح )
3699Sunan An Nasai

اگر کوئی آدمی یتیم کے مال کا متولی ہو تو کیا اس میں سے کچھ وصول کرسکتا ہے؟

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّلْتِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو كُدَيْنَةَ، عَنْ عَطَاءٍ وَهُوَ ابْنُ السَّائِبِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَلا تَقْرَبُوا مَالَ الْيَتِيمِ إِلا بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ سورة الأنعام آية 152، وَ إِنَّ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ أَمْوَالَ الْيَتَامَى ظُلْمًا سورة النساء آية 10، قَالَ: اجْتَنَبَ النَّاسُ مَالَ الْيَتِيمِ وَطَعَامَهُ فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ، فَشَكَوْا ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ: وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْيَتَامَى قُلْ إِصْلاحٌ لَهُمْ خَيْرٌ سورة البقرة آية 220، إِلَى قَوْلِهِ: لأَعْنَتَكُمْ سورة البقرة آية 220.

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جب آیت کریمہ: ولا تقربوا مال اليتيم إلا بالتي هي أحسن یتیم کے مال کے قریب نہ جاؤ مگر اس طریقے سے جو کہ مستحسن ہو (یہاں تک کہ وہ اپنے سن رشد کو پہنچ جائے) (الأنعام: ١٥٢) اور إن الذين يأکلون أموال اليتامى ظلما اور جو لوگ یتیموں کا مال ظلم و زیادتی کر کے کھاتے ہیں (وہ دراصل مال نہیں کھاتے وہ اپنے پیٹوں میں انگارے بھر رہے ہیں (النساء: ١٠) نازل ہوئی تو لوگ یتیموں کے مال کے قریب جانے (اور ان کی حفاظت کی ذمہ داریاں سنبھالنے) اور ان کا مال کھانے سے بچنے لگے۔ تو یہ چیز مسلمانوں پر شاق (دشوار) ہوگئی، چناچہ لوگوں نے نبی اکرم ﷺ سے اس کی شکایت کی جس پر اللہ تعالیٰ نے آیت کریمہ: ويسألونک عن اليتامى قل إصلاح لهم خير سے لأعنتکم اور تم سے یتیموں کے بارے میں بھی سوال کرتے ہیں۔ آپ کہہ دیجئیے کہ ان کی خیر خواہی بہتر ہے اگر تم ان کا مال اپنے مال میں ملا بھی لو تو وہ تمہارے بھائی ہیں۔ بدنیت اور نیک نیت ہر ایک کو اللہ خوب جانتا ہے۔ اور اگر اللہ چاہتا تو تمہیں مشقت میں ڈال دیتا، یقیناً اللہ تعالیٰ غلبہ اور حکمت والا ہے (البقرہ: ٢٢٠) تک نازل فرمائی ٣ ؎۔

It was narrated that Ibn Abbas said: "When these Verses were revealed - And come not near to the orphans property, except to improve it, and Verily, those who unjustly eat up the property of orphans - the people avoided the property and food of the orphans. That caused hardship to the Muslims and they complained about that to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم). Then Allah revealed: And they ask you concerning orphans. Say: The best thing is to work honestly in their property, and if you mix your affairs with theirs, then they are your brothers. And Allah knows him who means mischief (e.g. to swallow their property) from him who means good (e.g. to save their property). And if Allah had wished, He could have put you into difficulties.

حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3669
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الوصایا ٧ (٢٨٧١)، (تحفة الأشراف: ٥٥٦٩)، مسند احمد (١/٣٢٥) (حسن )
3700Sunan An Nasai

اگر کوئی آدمی یتیم کے مال کا متولی ہو تو کیا اس میں سے کچھ وصول کرسکتا ہے؟

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ: إِنَّ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ أَمْوَالَ الْيَتَامَى ظُلْمًا سورة النساء آية 10، قَالَ: كَانَ يَكُونُ فِي حَجْرِ الرَّجُلِ الْيَتِيمُ فَيَعْزِلُ لَهُ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ وَآنِيَتَهُ فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: وَإِنْ تُخَالِطُوهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ سورة البقرة آية 220 فِي الدِّينِ، فَأَحَلَّ لَهُمْ خُلْطَتَهُمْ.

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما آیت کریمہ: إن الذين يأکلون أموال اليتامى ظلما کے سلسلہ میں کہتے ہیں کہ جب یہ آیت اتری تو جس کی پرورش میں یتیم ہوتا تھا وہ اس کا کھانا پینا اور اس کا برتن الگ کردیتا تھا لیکن یہ چیز مسلمانوں پر گراں گزری تو اللہ تعالیٰ نے آیت کریمہ: وإن تخالطوهم فإخوانکم اگر ان کو ملا کر رکھو تو وہ تمہارے بھائی ہیں (البقرہ: ٢٢٠) نازل فرمائی اور یہ کہہ کر اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے ساتھ ملا لینے کو جائز قرار دے دیا۔

It was narrated that Ibn Abbas said -concerning the Verse: "Verily, those who unjustly eat up the property of orphans" -A man would have an orphan in his care, and he would keep his food, drink and vessels separate. This caused hardship to the Muslims, so Allah, the Mighty and Sublime, revealed: "And they ask you concerning orphans. Say: The best thing is to work honestly in their property, and if you mix your affairs with theirs, then they are your brothers" (in religion), so it is permissible for you to mix with them.

حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 3670
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ٥٥٧٤) (حسن )