نافع کہتے ہیں کہ ایک عورت رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں زیورات مانگ لیتی تھی، چناچہ اس نے زیور مانگا اور اسے اکٹھا کر کے رکھ لیا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اس عورت کو توبہ کرنی چاہیئے اور جو کچھ اس کے پاس ہے، اسے ادا کرنا چاہیئے، کئی بار (کہا) لیکن اس نے ایسا نہیں کیا تو آپ نے حکم دیا اور اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا ۔
It was narrated from Nafi that: a woman used to borrow jewelry during the time of the Messenger of Allah ﷺ. She borrowed some jewelry, collected it and kept it. The Messenger of Allah ﷺ said: "Let this woman repent and give back what she has," several times, but she did not do that, so he ordered that her hand be cut off.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4890
جابر ؓ کہتے ہیں کہ بنی مخزوم کی ایک عورت نے چوری کی، چناچہ اسے نبی اکرم ﷺ کے پاس لایا گیا، اس نے ام المؤمنین ام سلمہ ؓ کی پناہ لی تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اگر فاطمہ بنت محمد بھی ہوتی تو میں اس کا ہاتھ کاٹ دیتا ، چناچہ اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا۔
It was narrated from Jabir that: a woman from Banu Makhzum stole (something), and she was brought to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم). She sought the protection of Umm Salamah, but the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "If Fatimah bint Muhammad were to steal, I would cut off her hand." And he ordered that her hand be cut off.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4891
سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ بنی مخزوم کی ایک عورت نے کچھ لوگوں (کی گواہیوں) کے ذریعہ زیورات مانگے پھر ان سے مکر گئی، تو نبی اکرم ﷺ نے حکم دیا اور اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا۔
It was narrated from Saeed bin AL-Musayyab that: a woman from Banu Makhzum borrowed some jewelry, asking on behalf of others, then she denied (having done) that, and the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) ordered that her hand be cut off.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4892
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ١٨٧٠٥) (صحیح) (یہ روایت سعید بن مسیب کی مرسل ہے، لیکن سابقہ سن دوں سے یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے )
سفیان بن عیینہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مخزومی عورت سامان مانگ لیتی پھر مکر جاتی۔ یہ بات رسول اللہ ﷺ کو معلوم ہوئی، اس سلسلے میں گفتگو ہوئی تو آپ نے فرمایا: اگر فاطمہ بنت محمد ہوتی تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹتا ۔ سفیان سے کہا گیا: اسے کس نے بیان کیا؟ تو انہوں نے کہا: ایوب بن موسیٰ نے، انہوں نے زہری سے، انہوں نے عروہ سے، عروہ نے عائشہ ؓ سے روایت کیا۔
Sufyan said: "There was a Makhzumi woman who used to borrow things then deny that. She was brought to the Messenger of Allah ﷺ and he was told about her. He said: If it were Fatimah (who stole), I would cut off her hand." It was said to Sufyan: "Who told you that?" He said: "Ayyub bin Musa, from Az-Zuhri, from Urwah, from Aishah (RA), if Allah the mighty and Sublime, wills.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4894
Takhrij · تخریج
فضائل الصحابة ١٨ (٣٧٣٣)، (تحفة الأشراف: ١٦٤١٥)، مسند احمد (٦/٤١)، ویأتي عند المؤلف بالأرقام: ٤٨٩٩، ٤٩٠٠ (صحیح )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتے ہیں کہ ایک عورت نے چوری کی چناچہ وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس لائی گئی، لوگوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ سے اسامہ کے سوا کون (اس کی سفارش سے متعلق گفتگو کرنے کی) ہمت کرسکتا ہے؟ چناچہ اسامہ ؓ سے لوگوں نے کہا تو انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے اس سلسلے میں بات چیت کی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اسامہ! بنی اسرائیل صرف اس وجہ سے ہلاک و برباد ہوئے کہ جب ان میں سے کوئی اونچے طبقے کا آدمی کسی حد کا مستحق ہوتا تو اسے چھوڑ دیتے اور اس پر حد نافذ نہیں کرتے اور جب کوئی نچلے طبقے کا آدمی کسی حد کا مستحق ہوتا تو اسے نافذ کرتے، اگر (اس جگہ) فاطمہ بنت محمد بھی ہوتی تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹ دیتا ۔
It was narrated from `Aishah that: A woman stole (something) and she was brought to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم). They said: "Who would dare to speak to the Messenger of Allah ﷺ except Usamah." So they spoke to Usamah and he spoke to (the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم)). The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "O Usamah, the Children of Israel were destroyed because whenever a noble person among them committed a crime, for which a Hadd punishment was deserved, they would let him go. But if a low-class person among them committed such a crime, they would carry out the punishment on him. If Fatimah bint Muhammad were to steal, I would cut off her hand.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4895
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک چور لایا گیا ١ ؎ آپ نے اس کا ہاتھ کاٹ دیا، انہوں نے کہا: ہمیں آپ سے ایسی امید نہ تھی، آپ نے فرمایا: اگر فاطمہ ہوتی تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹ دیتا ۔
It was narrated that Aishah (RA) said: "A thief was brought to the hand." They said: "We did not think that you would take it so far." He said: "If it were Fatimah (who stole), I would cut off her hand.
ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4896
Notes · وضاحت
١ ؎: مراد وہی مخزومیہ عورت ہے جس کا تذکرہ پچھلی اور اگلی حدیثوں میں ہے۔
ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک عورت نے رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں چوری کی، ان لوگوں نے کہا: اس سلسلے میں ہم آپ سے بات نہیں کرسکتے، آپ سے صرف آپ کے محبوب اسامہ ہی بات کرسکتے۔ چناچہ انہوں نے آپ سے اس سلسلے میں عرض کیا تو آپ نے فرمایا: اسامہ! ٹھہرو، بنی اسرائیل انہی جیسی چیزوں سے ہلاک ہوئے، جب ان میں کوئی اونچے طبقے کا آدمی چوری کرتا تو اسے چھوڑ دیتے اور اگر ان میں کوئی نچلے طبقے کا آدمی چوری کرتا تو اس کا ہاتھ کاٹ دیتے۔ اگر اس جگہ فاطمہ بنت محمد بھی ہوتی تو میں اس کا ہاتھ بھی کاٹ دیتا ۔
It was narrated from Aishah (RA) that: a woman stole at the time of Messenger of Allah ﷺ and they said: "We cannot speak to him concerning her; there is no one who can speak to him except his beloved, Usamah." So he spoke to him, and he said"O Usamah, the Children of Israel were destroyed for such a thing. Whenever a noble person among them stole, they would let him go, but if a low-class person among them stole, they would cut off his hand. If it were Fatimah bint Muhammad (who stole), I would cut off her hand.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4897
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ ایک غیر معروف عورت نے کچھ معروف لوگوں (کی گواہی) کے ذریعہ زیورات عاریۃً مانگے، پھر اس نے زیورات بیچ کر اس کی قیمت لے لی، چناچہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس لائی گئی تو اس کے گھر والوں نے اسامہ بن زید ؓ کے پاس دوڑ بھاگ کی، انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے اس سلسلے میں بات کی تو آپ کے چہرے کا رنگ بدل گیا، پھر آپ نے ان سے فرمایا: کیا تم مجھ سے اللہ کی حدود میں سے کسی حد کے بارے میں سفارش کرتے ہو؟ اسامہ نے کہا: اللہ کے رسول! میری بخشش کے لیے اللہ سے دعا کر دیجئیے، پھر رسول اللہ ﷺ اس شام کھڑے ہوئے اور اللہ کی حمد بیان کی جس کا وہ مستحق ہے پھر اس کے بعد فرمایا: تم سے پہلے لوگ صرف اس لیے ہلاک و برباد ہوگئے کہ جب ان میں سے کوئی معزز آدمی چوری کرتا تو اسے چھوڑ دیتے اور جب ان میں سے کوئی کمزور آدمی چوری کرتا تو اس پر حد نافذ کرتے۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! اگر فاطمہ بنت محمد بھی چوری کرتی تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹ دیتا ، پھر اس عورت کا ہاتھ کاٹ دیا گیا۔
It was narrated that Aishah (RA) said: "A woman borrowed some jewelry, saying that other people whose names were known but hers was not then she sold it and kept the money. She was brought to the Messenger of Allah ﷺ, and her people went to Usamah bin Zaid, who spoke to the Messenger of Allah ﷺ concerning her. The face of ht Messenger of Allah ﷺ changed color while he was speaking to him. Then the Messenger of Allah ﷺ said to him: Are you interceding with me concerning one of ht Hadd punishments decreed by Allah? Usamah said: Pray for forgiveness for me, O Messenger of Allah ﷺ! Then the Messenger of Allah stood up that evening, he praised and glorified Allah, the mighty and sublime, as he deserves, then he said: The people who came before you were destroyed because, whenever a noble person among them stole, they let him go. But if a low-class person stole, they would carry out the punishment on him. By the One in whose hand is the soul of Muhammad, if Fatimah bint Muhammad were to steal, I would cut off her hand. Then he cut off that woman.
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4898
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ قریش کو اس مخزومی عورت کے معاملے نے فکر میں ڈال دیا جس نے چوری کی تھی۔ ان لوگوں نے کہا کہ اس کے بارے میں رسول اللہ ﷺ سے کون بات چیت کرے گا؟ لوگوں نے کہا: آپ سے بات چیت کی جرات آپ کے محبوب اسامہ کے سوا کون کرسکتا ہے؟ چناچہ اسامہ ؓ نے آپ سے عرض کیا تو آپ نے فرمایا: کیا تم اللہ کی حدود میں سے کسی حد میں سفارش کرتے ہو؟ پھر آپ کھڑے ہوئے، خطبہ دیا اور فرمایا: تم سے پہلے کے لوگ صرف اس لیے ہلاک و برباد ہوگئے کہ ان کا معزز آدمی چوری کرتا تو اسے چھوڑ دیتے اور جب ان کا کمزور آدمی چوری کرتا تو اس پر حد نافذ کرتے، اللہ کی قسم! اگر فاطمہ بنت محمد بھی چوری کرتی تو میں اس کا ہاتھ کاٹ دیتا ۔
It was narrated from Aishah (RA) that Quraish were worried about the Mkahzumi woman who had stolen. They said; Who will speak to the Messenger of Allah ﷺ concerning her?" They said: "Who would dare to do that except Usamah bin Zaid, the beloved of the Messenger of Allah ﷺ?" so Usamah spoke to him and the Messenger of Allah ﷺ said: "Are you interceding concerning one of the Hadd punishments decreed by Allah?" Then he stood up and addressed (the people) and said: "Those who came before you were destroyed because, whenever a noble person among them stole, they would let him go. But if a person who was weak stole, they would carry out the punishment on him. By Allah, if Fatimah the daughter of Muhammad were to steal, I would cut off her hand.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4899
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ قریش یعنی بنی مخزوم کی ایک عورت نے چوری کی، اسے نبی اکرم ﷺ کے پاس لایا گیا، کچھ لوگوں نے کہا: آپ سے اس کے بارے میں کون بات چیت کرے گا؟ لوگوں نے جواب دیا: اسامہ بن زید، چناچہ وہ آپ کے پاس آئے اور عرض کیا تو آپ نے انہیں ڈانٹ دیا اور فرمایا: بنی اسرائیل کا جب کوئی معزز آدمی چوری کرتا تو اسے چھوڑ دیتے اور جب کوئی عام آدمی چوری کرتا تو اس کا ہاتھ کاٹ دیتے۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! اگر فاطمہ بنت محمد نے چوری کی ہوتی تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹ دیتا ۔
It was narrated that Aishah (RA) said: "A woman of Quraish, from banu Makhzum, stole, and she was brought to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم). They said: Who will speak to him concerning her? They said: Usamah bin Zaid. So he came to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and spoke to him. But he rebuked him, and he said; Among the Children of Israel, if a noble person stole, they would let him go. But if a low-class person stole, they would cut off his hand. By the One in whose hand is the soul of Muhammad, if Fatimah bint Muhammad were to steal, I would cut off her hand.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4900
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ قریش کو مخزومی عورت کے معاملے نے فکر میں ڈال دیا جس نے چوری کی تھی۔ ان لوگوں نے کہا: اس کے بارے میں رسول اللہ ﷺ سے کون بات کرے گا؟ لوگوں نے کہا: اس کی جرات رسول اللہ ﷺ کے محبوب اسامہ بن زید کے سوا اور کون کرسکتا ہے؟ چناچہ اسامہ ؓ نے آپ سے بات کی تو آپ نے فرمایا: تم سے پہلے کے لوگ اس لیے ہلاک ہوگئے کہ جب ان میں کوئی معزز اور باوقار آدمی چوری کرتا تو اسے چھوڑ دیتے اور جب کوئی کمزور اور بےحیثیت آدمی چوری کرتا تو اس پر حد نافذ کرتے، اللہ کی قسم! اگر فاطمہ بنت محمد نے چوری کی ہوتی تو میں اس کا ہاتھ کاٹ دیتا ۔
It was narrated from Aishah (RA) the Quraish were worried about the case of the Makhzumi woman who stole, and they said: "Who will speak concerning her?" They said: "Who would dare to do that except Usamah bin Zaid, the beloved of the Messenger of Allah ﷺ?" said: "Those who came before you were destroyed because whenever a noble person among them stole they would let him go. But if a person who was weak stole, they would carry out the Hadd punishment. By Allah, if Fatimah, the daughter of Muhammad, were to steal, I would cut off her hand.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4901
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ ایک عورت نے رسول اللہ ﷺ کے عہد میں فتح مکہ کے وقت چوری کی، چناچہ اسے رسول اللہ ﷺ کے پاس لایا گیا تو اسامہ بن زید ؓ نے اس کے بارے میں آپ سے بات کی۔ جب انہوں نے آپ سے بات کی تو آپ کے چہرے کا رنگ بدل گیا، آپ نے فرمایا: کیا تم اللہ کی حدود میں سے کسی حد کے بارے میں سفارش کرتے ہو؟ اسامہ ؓ نے آپ سے کہا: میرے لیے اللہ کے رسول! اللہ سے مغفرت طلب کیجئیے۔ جب شام ہوگئی تو رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے، اللہ کی حمد بیان کی جس کا وہ اہل ہے، پھر فرمایا: تم سے پہلے کے لوگ صرف اس لیے ہلاک ہوئے کہ جب ان کا معزز اور باحیثیت آدمی چوری کرتا تو اسے چھوڑ دیتے اور جب کوئی کمزور اور بےحیثیت آدمی چوری کرتا تو اس پر حد نافذ کرتے ، پھر فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر فاطمہ بنت محمد نے بھی چوری کی ہوتی تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹ دیتا ۔
It was narrated from Aishah (RA) that: a woman stole at the time of the Messenger of Allah ﷺ, during the Conquest, and she was brought to the Messenger of Allah ﷺ. Usamah bin Zaid spoke to him concerning her. But when he spoke to him, the face of the Messenger of Allah ﷺ changed coluor, and the Messenger of Allah said: "Are you interceding concerning one of the Hadd punishment decreed by Allah?" Isa,aj said to him: "O Messenger of Allah ask Allah to forgive me!" When evening came, the Messenger of Allah ﷺ stood up and praised and glorified Allah, the mighty and sublime, as He deserves, then he said: "The people who came before you were destroyed because whenever a noble person among them stole, they would let him go. But if one who was weak stole, they would carry out the Hadd punishment on him." Then he said: "By the One in whose hand is my soul, if Fatimah bint Muhammad were to steal, I would cut off her hand.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4902
عروہ بن زبیر کہتے ہیں کہ فتح مکہ کے وقت رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ایک عورت نے چوری کی ( فتح مکہ کے وقت کا لفظ مرسل ہے) تو اس کے خاندان کے لوگ گھبرا کر سفارش کا مطالبہ کرنے کے لیے اسامہ بن زید ؓ کے پاس گئے۔ جب اسامہ نے آپ سے اس کے بارے میں بات چیت کی تو رسول اللہ ﷺ کے چہرے کا رنگ بدل گیا، آپ نے فرمایا: تم مجھ سے اللہ کی حدوں میں سے کسی ایک حد کے بارے میں بات کر رہے ہو؟ اسامہ ؓ نے کہا: اللہ کے رسول! میرے لیے اللہ سے بخشش طلب کیجئے، جب شام ہوگئی تو رسول اللہ ﷺ خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے، آپ نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی جو اس کے لائق ہے، پھر فرمایا: تم سے پہلے کے لوگ اس لیے ہلاک ہوگئے کہ جب ان میں کوئی معزز آدمی چوری کرتا تو اسے چھوڑ دیتے اور جب کوئی کمزور آدمی چوری کرتا تو اس پر حد نافذ کرتے۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! اگر فاطمہ بنت محمد نے بھی چوری کی ہوتی تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹ دیتا ۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے اس عورت کے ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا اور اسے کاٹ دیا گیا، پھر اس کے بعد اس نے اچھی طرح سے توبہ کرلی، عائشہ ؓ کہتی ہیں: وہ اس کے بعد میرے پاس آتی تو میں اس کی ضرورت رسول اللہ ﷺ تک پہنچا دیتی تھی۔
It was narrated that Az-Zuhri said: "Urwah bin Az-Zubair told me that a woman stole at the time of the Messenger of Allah ﷺ, during the Conquest. Her people went to Usamah bin Zaid, to ask him to intercede." Urwah said: "When Usamah spoke to him concerning her, the face of the Messenger of Allah ﷺ changed color and he said: Are you speaking to me concerning one of the Hadd punishments of Allah?" Usamah said: Pray to Allah for forgiveness for me, O Messenger of Allah. When evening came, the Messenger of Allah ﷺ stood up to deliver a speech. He praised Allah as He deserves, then he said: The people who came before you were destroyed because, whenever a noble person among them stole, they would carry out the Hadd punishment on him. By the One in whose hand is my soul, if Fatimah bint Muhammad were to steal, I would cut off her hand. Then the Messenger of Allah ﷺ ordered that the hand of that woman be cut off. After that she repented sincerely, and Aishah (RA) said: She used to come to me after that, and I would convey her needs to the Messenger of Allah ﷺ.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4903
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ایک حد کا نافذ ہونا اہل زمین کے لیے تیس دن بارش ہونے سے بہتر ہے ١ ؎۔
Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah ﷺ said: A Hadd punishment that is carried out on earth is better for the people of earth than if it were to rain for thirty mornings." (Daif)
حسن بلفظ أربعينصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4904
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی بارش عام طور پر رزق میں وسعت اور خوشحالی کا سبب ہوتی ہے، مگر حد کا نفاذ اس بابت زیادہ فائدہ مند ہے اس لیے کہ معاشرہ میں امن و امان کے قیام میں بہت ہی موثر چیز ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الحدود ٣ (٢٥٣٨)، (تحفة الأشراف: ١٤٨٨٨) حم ٢/٣٦٢، ٣٠٢، ٣٠٢ (حسن) لفظ ” أربعین “ کے ساتھ یہ حدیث حسن ہے، ابن ماجہ میں ” أربعین صباحا “ کا لفظ آیا ہے، اور اگلی حدیث میں اربعین لیلة کا لفظ آ رہا ہے )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ زمین میں ایک حد کا نفاذ زمین والوں کے لیے چالیس دن کی بارش سے زیادہ بہتر ہے۔
It was narrated that Abu Zurah said: "Abu Hurairah said: Carrying out a Hadd punishment in a land is better for its people than if it were to rain for forty nights." (Daif)
حسن موقوف في حکم المرفوعصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4905
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (حسن) (یہ موقوف حدیث حکم کے اعتبار سے مرفوع حدیث ہے )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک ڈھال کی چوری میں ہاتھ کاٹا، جس کی قیمت پانچ درہم تھی، راوی نے اسی طرح کہا ١ ؎۔
Abdullah bin Amr said: "The Messenger of Allah ﷺ cut off (a thiefs hand) for a shield which was worth five Durhams." This is how he (the narrator) said it. (Daif)
صحيح بلفظ ثلاثةصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4906
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی یہ راوی کا وہم ہے کہ ڈھال کی قیمت پانچ درہم تھی، صحیح یہ ہے کہ اس کی قیمت تین درہم تھی، جیسا کہ اگلی روایت میں ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحدود ١ (١٦٨٦)، (تحفة الأشراف: ٧٦٥٣) (صحیح) (لفظ ” ثلاثة “ کے ساتھ یہ حدیث صحیح ہے جیسا کہ آگے آ رہا ہے )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک ڈھال (چرانے) میں ہاتھ کاٹا جس کی قیمت تین درہم تھی۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: یہی روایت صحیح اور درست ہے۔
Abdullah bin Umar said: "The Messenger of Allah ﷺ cut off (a thiefs hand) for a shield which was worth three Dirham." (Sahih) Abu Abdur-Rahman (An-Nasai) said: This is correct.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4907
عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک چور کا ہاتھ کاٹا جس نے عورتوں کے چبوترے سے ایک ڈھال چرائی، جس کی قیمت تین درہم تھی۔
Abdullah bin Umar narrated that: the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) cut off the hand of a thief, who stole a shield, from a portico allocated to women, the price of which was three Dirhams.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4909