Sunan An Nasai 4905

چور کا ہاتھ کاٹنے سے متعلق احادیث مبارکہ

4905Sunan An Nasai

زیر نظر حدیث مبارکہ میں راویوں کے اختلاف کا بیان

أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَبَلَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ أَعْيَنَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ إِسْحَاق بْنِ رَاشِدٍ، عَنِالزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ قُرَيْشًا أَهَمَّهُمْ شَأْنُ الْمَخْزُومِيَّةِ الَّتِي سَرَقَتْ، فَقَالُوا: مَنْ يُكَلِّمُ فِيهَا ؟، قَالُوا: مَنْ يَجْتَرِئُ عَلَيْهِ إِلَّا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ حِبُّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَلَّمَهُ أُسَامَةُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّمَا هَلَكَ الَّذِينَ مَنْ قَبْلِكُمْ أَنَّهُمْ كَانُوا إِذَا سَرَقَ فِيهِمُ الشَّرِيفُ تَرَكُوهُ، وَإِذَا سَرَقَ فِيهِمُ الضَّعِيفُ أَقَامُوا عَلَيْهِ الْحَدَّ، وَايْمُ اللَّهِ لَوْ سَرَقَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ مُحَمَّدٍ لَقَطَعْتُ يَدَهَا.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ قریش کو مخزومی عورت کے معاملے نے فکر میں ڈال دیا جس نے چوری کی تھی۔ ان لوگوں نے کہا: اس کے بارے میں رسول اللہ ﷺ سے کون بات کرے گا؟ لوگوں نے کہا: اس کی جرات رسول اللہ ﷺ کے محبوب اسامہ بن زید کے سوا اور کون کرسکتا ہے؟ چناچہ اسامہ ؓ نے آپ سے بات کی تو آپ نے فرمایا: تم سے پہلے کے لوگ اس لیے ہلاک ہوگئے کہ جب ان میں کوئی معزز اور باوقار آدمی چوری کرتا تو اسے چھوڑ دیتے اور جب کوئی کمزور اور بےحیثیت آدمی چوری کرتا تو اس پر حد نافذ کرتے، اللہ کی قسم! اگر فاطمہ بنت محمد نے چوری کی ہوتی تو میں اس کا ہاتھ کاٹ دیتا ۔

It was narrated from Aishah (RA) the Quraish were worried about the case of the Makhzumi woman who stole, and they said: "Who will speak concerning her?" They said: "Who would dare to do that except Usamah bin Zaid, the beloved of the Messenger of Allah ﷺ?" said: "Those who came before you were destroyed because whenever a noble person among them stole they would let him go. But if a person who was weak stole, they would carry out the Hadd punishment. By Allah, if Fatimah, the daughter of Muhammad, were to steal, I would cut off her hand.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 4901
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: ١٦٤١٢) (صحیح )