Sunan An Nasaiسنن النسائی

All 5,772 hadiths in order · Page 214 of 289

4252Sunan An Nasaiصحیح

مردار کی کھال سے متعلق

أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيل، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ذَكَاةُ الْمَيْتَةِ دِبَاغُهَا.

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مردار کی کھال کی پاکی ہی اس کی دباغت ہے ۔

It was narrated that Aishah (RA) said: "The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: The dead animal is purified by tanning it.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4247
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم : ٤٢٥٠ (صحیح )
4253Sunan An Nasaiصحیح

مردار کی کھال کس چیز سے دباغت دی جائے؟

أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، عَنْ ابْنِ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، وَاللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ فَرْقَدٍ، أَنَّعَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَالِكِ بْنِ حُذَافَةَ حَدَّثَهُ، عَنِ الْعَالِيَةِ بِنْتِ سُبَيْعٍ، أَنَّ مَيْمُونَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَتْهَا، أَنَّهُ مَرَّ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رِجَالٌ مِنْ قُرَيْشٍ يَجُرُّونَ شَاةً لَهُمْ مِثْلَ الْحِصَانِ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَوْ أَخَذْتُمْ إِهَابَهَا، قَالُوا: إِنَّهَا مَيْتَةٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يُطَهِّرُهَا الْمَاءُ وَالْقَرَظُ.

ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس سے قریش کے کچھ لوگ گزرے، وہ اپنی ایک بکری کو گدھے کی طرح گھسیٹ رہے تھے، ان سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اگر تم لوگ اس کی کھال رکھ لیتے (تو بہتر ہوتا) ، انہوں نے کہا : وہ مردار ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اسے پانی اور سلم درخت کا پتا (جس سے دباغت دی جاتی ہے) پاک کردیتے ہیں ١ ؎۔

It was narrated from Maimunah (RA), the wife of the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم), that: some men of Quraish passed by the Messenger of Allah ﷺ dragging a sheep the size of a donkey. He said to them: "Why dont you take its skin? They said: "It is dead meat." The Messenger of Allah ﷺ said: "Purify it with water and Qaraz.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4248
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ ضروری نہیں کہ ہمارے زمانہ میں بھی دباغت کے لیے پانی کے ساتھ ساتھ اس دور کے کانٹے دار درخت ہی کا استعمال کیا جائے، موجودہ ترقی یافتہ زمانہ میں جس پاک چیز سے بھی دباغت دی جائے مقصد حاصل ہوگا لیکن اس کے ساتھ پانی کا استعمال ضروری ہے (قرظ: ایک سلم نامی کانٹے دار درخت کے پتے) ۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/اللباس ٤١ (٤١٢٦) ، (تحفة الأشراف : ١٨٠٨٤) ، مسند احمد (٦/٣٣٣، ٣٣٤) (صحیح )
4254Sunan An Nasaiصحیح

مردار کی کھال کس چیز سے دباغت دی جائے؟

أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُكَيْمٍ، قَالَ: قُرِئَ عَلَيْنَا كِتَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَا غُلَامٌ شَابٌّ: أَنْ لَا تَنْتَفِعُوا مِنَ الْمَيْتَةِ بِإِهَابٍ وَلَا عَصَبٍ.

عبداللہ بن عکیم جہنی کہتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ ﷺ کا مکتوب گرامی پڑھ کر سنایا گیا (اس وقت میں ایک نوخیز لڑکا تھا) کہ تم لوگ مردے کی بغیر دباغت کی ہوئی کھال یا پٹھے سے فائدہ مت اٹھاؤ ١ ؎۔

It was narrated that Abdullah bin Ukaim said: "The letter of the Messenger of Allah ﷺ was read to us when I was a young boy: Do not make use of the skins and sinew of dead animals.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4249
Notes · وضاحت
١ ؎: بعض لوگوں نے اس حدیث کو ناسخ، اور ابن عباس اور میمونہ رضی اللہ عنہم کی حدیثوں کو منسوخ قرار دیا ہے کیونکہ یہ مکتوب آپ کی وفات سے چھ ماہ پہلے کا ہے، لیکن جمہور محدثین نے اس کے برخلاف پچھلی حدیثوں کو ہی سند کے لحاظ سے زیادہ صحیح ہونے کی بنیاد پر راجح قرار دیا ہے، صحیح بات یہ ہے کہ دونوں حدیثوں میں کوئی تضاد نہیں، پچھلی حدیثوں میں جو مردار کے چمڑے سے نفع اٹھانے کی اجازت ہے وہ دباغت کے بعد ہے، اور (مخضرم راوی) عبداللہ بن عکیم کی حدیث میں جو ممانعت ہے وہ دباغت سے پہلے کی ہے (دیکھئیے اگلی حدیث) امام ابوداؤد (رح) نے اس حدیث کے بعد نضر بن سہیل سے نقل کیا ہے کہ إہاب دباغت سے پہلے والے چمڑے کو کہتے ہیں، اور دباغت کے بعد چمڑے کو شف یا قرب ۃ کہتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/اللباس ٤٢ (٤١٢٧) ، سنن الترمذی/اللباس ٧ (١٧٢٧) ، سنن ابن ماجہ/اللباس ٢٦ (٣٦١٣) ، (تحفة الأشراف : ٦٦٤٢) ، مسند احمد (٤/٣١٠، ٣١١) ، ویأتي عند المؤلف بأرقام : ٤٢٥٥، ٤٢٥٦) (صحیح) (الإرواء ٣٨، وتراجع الالبانی ٤٧٠ )
4255Sunan An Nasaiصحیح

مردار کی کھال کس چیز سے دباغت دی جائے؟

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُكَيْمٍ، قَالَ: كَتَبَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنْ لَا تَسْتَمْتِعُوا مِنَ الْمَيْتَةِ بِإِهَابٍ، وَلَا عَصَبٍ.

عبداللہ بن عکیم جہنی کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں لکھ بھیجا : تم لوگ مردار کی غیر مدبوغ کھال اور پٹھے سے فائدہ نہ اٹھاؤ۔

It was narrated thatAbdullah bin Ukaim said: "The Messenger of Allah ﷺ wrote to us: Do not make use of the skins and sinew of dead animals.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4250
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح )
4256Sunan An Nasaiصحیح

مردار کی کھال کس چیز سے دباغت دی جائے؟

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ هِلَالٍ الْوَزَّانِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُكَيْمٍ، قَالَ: كَتَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى جُهَيْنَةَ: أَنْ لَا تَنْتَفِعُوا مِنَ الْمَيْتَةِ بِإِهَابٍ وَلَا عَصَبٍ. قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: أَصَحُّ مَا فِي هَذَا الْبَابِ فِي جُلُودِ الْمَيْتَةِ إِذَا دُبِغَتْ حَدِيثُ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ، وَاللَّهُ تَعَالَى أَعْلَمُ.

عبداللہ بن عکیم کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے قبیلہ جہینہ کے لوگوں کو لکھا : مردار کی غیر مدبوغ کھال اور پٹھے سے فائدہ نہ اٹھاؤ۔ ابوعبدالرحمٰن (امام نسائی) کہتے ہیں : اس باب میں مردار کی کھال جبکہ اسے دباغت دی گئی ہو سب سے صحیح حدیث زہری کی حدیث ہے جسے عبیداللہ بن عبداللہ، ابن عباس سے اور وہ ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں (نمبر ٤٢٣٩) ، واللہ اعلم۔

It was narrated that Abdullah bin Ukaim said: "The Messenger of Allah ﷺ wrote to Juhainah: Do not make use of the skin and sinew of dead animals." (Hasan) Abu Abdur-Rahman An-Nasai) said: The most correct about this topic, regarding the skins of the dead animal when it is tanned, is the narration of Az-Zuhri, from Ubaidullah bin Abdullah, from Ibn Abbas, from Maimunah, and Allah knows best.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4251
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم : ٤٢٥٤ (صحیح )
4257Sunan An Nasaiضعیف

مردار کی کھال سے دباغت کے بعد نفع حاصل کرنا

أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ. ح، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُسَيْطٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَمَرَ أَنْ يُسْتَمْتَعَ بِجُلُودِ الْمَيْتَةِ إِذَا دُبِغَتْ.

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ مردار جانور کی کھال سے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے جب کہ وہ دباغت دی گئی ہو۔

It was narrated from Aishah (RA) that: the Messenger of Allah ﷺ ordered that the hides of dead animals be made use of if they had been tanned. (Daif)

ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4252
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/اللباس ٤١ (٤١٢٤) ، سنن ابن ماجہ/اللباس ٢٥ (٣٦١٢) ، (تحفة الأشراف : ١٧٩٩١) ، مسند احمد ٧٣٦، ١٠٤، ١٤٨، ١٥٣ (ضعیف) (اس کی راویہ ” ام محمد “ لین الحدیث ہیں لیکن اس کا مضمون دیگر احادیث سے ثابت ہے )
4258Sunan An Nasaiصحیح

درندوں کی کھالوں سے نفع حاصل کرنے کی مما نعت

أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَهَى عَنْ جُلُودِ السِّبَاعِ.

ابوالملیح کے والد اسامہ بن عمیر (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے درندوں کی کھالوں سے (فائدہ اٹھانے سے) منع فرمایا۔

It was narrated from Abu Al-Malih, from his father, that: the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) forbade (the use of) the hides of Predators. (Hassan)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4253
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/اللباس ٤٣ (٤١٣٢) ، سنن الترمذی/اللباس ٣٢ (١٧٧١) ، (تحفة الأشراف : ١٣١) ، مسند احمد (٥/٧٤، ٧٥) ، سنن الدارمی/الأضاحي ١٩ (٢٠٢٦، ٢٠٢٧) (صحیح )
4259Sunan An Nasaiصحیح

درندوں کی کھالوں سے نفع حاصل کرنے کی مما نعت

أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنْ بَحِيرٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْحَرِيرِ وَالذَّهَبِ، وَمَيَاثِرِ النُّمُورِ.

مقدام بن معد یکرب (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ریشم، سونے اور چیتوں کی کھال کے بستر یا کجاوے وغیرہ سے منع فرمایا۔

It was narrated that Al-Miqdam bin Ma di Karib said: "The Messenger of Allah ﷺ forbade silk, gold and saddlecloths (Miyathir) made of leopard skin.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4254
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/اللباس ٤٣ (٤١٣١) ، (تحفة الأشراف : ١١٥٥٥) ، مسند احمد (٤/١٣٢) (صحیح )
4260Sunan An Nasaiصحیح

درندوں کی کھالوں سے نفع حاصل کرنے کی مما نعت

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنْ بَحِيرٍ، عَنْ خَالِدٍ، قَالَ: وَفَدَ الْمِقْدَامُ بْنُ مَعْدِي كَرِبَ عَلَى مُعَاوِيَةَ، فَقَالَ لَهُ: أَنْشُدُكَ بِاللَّهِ، هَلْ تَعْلَمُأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ لُبُوسِ جُلُودِ السِّبَاعِ، وَالرُّكُوبِ عَلَيْهَا ؟، قَالَ: نَعَمْ.

خالد بن معدان کہتے ہیں کہ مقدام بن معد یکرب (رض) معاویہ (رض) کے پاس آئے اور ان سے کہا کہ میں آپ کو اللہ کی قسم دلاتا ہوں۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے درندوں کی کھالوں کے لباس پہننے اور ان پر سوار ہونے سے منع فرمایا ہے ؟ کہا : ہاں۔

It was narrated that Khalid said: "Al-Miqdam bin Madi Karib came to visit Muawiyah and said to him: I adjure you by Allah, do you know that the Messenger of Allah forbade wearing the Hides of predators and riding on them? He said: yes.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4255
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح )
4261Sunan An Nasaiصحیح

مردار کی چربی سے نفع حاصل کرنے کی ممانعت

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ وَهُوَ بِمَكَّةَ يَقُولُ: إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُولَهُ حَرَّمَ: بَيْعَ الْخَمْرِ، وَالْمَيْتَةِ، وَالْخِنْزِيرِ، وَالْأَصْنَامِ، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ شُحُومَ الْمَيْتَةِ، فَإِنَّهُ يُطْلَى بِهَا السُّفُنُ وَيُدَّهَنُ بِهَا الْجُلُودُ وَيَسْتَصْبِحُ بِهَا النَّاسُ ؟، فَقَالَ: لَا، هُوَ حَرَامٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ذَلِكَ: قَاتَلَ اللَّهُ الْيَهُودَ، إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمَّا حَرَّمَ عَلَيْهِم الشُّحُومَ جَمَّلُوهُ، ثُمَّ بَاعُوهُ فَأَكَلُوا ثَمَنَهُ.

جابر بن عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ انہوں نے فتح مکہ کے سال مکہ میں رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا، اللہ اور اس کے رسول نے شراب، مردار، سور اور بتوں کی خریدو فروخت حرام کردی ہے۔ عرض کیا گیا : اللہ کے رسول ! مردار کی چربی کے سلسلے میں آپ کا کیا خیال ہے ؟ اسے کشتیوں پر لگایا جاتا اور کھالوں پر ملا جاتا ہے اور لوگ اس سے چراغ جلاتے ہیں، آپ نے فرمایا : نہیں، وہ حرام ہے ، پھر آپ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ یہودیوں کو تباہ کرے، اللہ تعالیٰ نے جب ان پر چربی حرام کردی تو انہوں نے اسے گلایا، پھر بیچا، پھر اس کی قیمت کھائی ١ ؎۔

It was narraterd from Jabir bin Abdullah that, during the year of the Conquest, while he was in Makkah, he heard the Messenger of Allah ﷺ say: "Allah, the Mighty and Sublime, and His Messenger have forbidden the sale of alcohol, dead meat, pigs and idols." It was said to him: "O Messenger of Allah, what do you think of their fat of dead animals, for it is used to caulk ships, it is daubed on animal skins, and people use it to light their lamps?" He said: "No, it is unlawful." Then the Messenger of Allah ﷺ said: "May Allah, the Mighty and Sublime, curse the Jews, for Allah forbade them the fat (of dead animals) but they rendered it, sold it, and consumed its price.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4256
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے حیلہ کی ممانعت ثابت ہوتی ہے، یہ ایسی ہی ہے جیسے یہودیوں نے سنیچر کے دن شکار کی ممانعت پر حیلہ کیا تھا کہ جمعہ کے دن پانی میں جال پھیلا دیتے تاکہ مچھلیاں پھنس جائیں اور سنیچر کی مدت ختم ہونے کے بعد آسانی سے شکار ہاتھ میں آجائے، کسی بھی حرام چیز سے کسی طرح بھی فائدہ اٹھانا حرام ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/البیوع ١١٢ (٢٢٣٦) ، المغازي ٥١ (٤٢٩٦) ، تفسیر سورة الأنعام ٦ (٤٦٣٣) ، صحیح مسلم/المساقاة ١٣ (البیوع ٣٤) (١٥٨١) ، سنن ابی داود/البیوع ٦٦ (٣٤٨٦) ، سنن الترمذی/البیوع ٦١ (١٢٩٧) ، سنن ابن ماجہ/التجارات ١١ (٢١٦٧) ، (تحفة الأشراف : ٢٤٩٤) ، مسند احمد (٣/٣٢٤، ٣٢٦، ٣٧٠) ، ویأتي عند المؤلف في البیوع ٩٣ (برقم : ٤٦٧٣) (صحیح )
4262Sunan An Nasaiصحیح

حرام شے سے فائدہ حاصل کرنے کی ممانعت سے متعلق حدیث

أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: أُبْلِغَ عُمَرُ أَنَّ سَمُرَةَ بَاعَ خَمْرًا، قَالَ: قَاتَلَ اللَّهُ سَمُرَةَ، أَلَمْ يَعْلَمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: قَاتَلَ اللَّهُ الْيَهُودَ حُرِّمَتْ عَلَيْهِمُ الشُّحُومُ فَجَمَّلُوهَا. قَالَ سُفْيَانُ: يَعْنِي أَذَابُوهَا.

عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ عمر (رض) کو خبر پہنچی کہ سمرہ (رض) نے شراب بیچی ہے تو انہوں نے کہا : اللہ سمرہ کو ہلاک و برباد کرے، کیا اسے نہیں معلوم کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ یہودیوں کو ہلاک و برباد کرے، ان پر چربی حرام کی گئی تو انہوں نے اسے گلایا۔ سفیان کہتے ہیں : یعنی اسے پگھلایا ١ ؎۔

It was narrated that IbnAbbas said: "It reached Umar that Samurah had sold some wine, and he said: May Allah ruin Samurah! Does he not know that the Messenger of Allah ﷺ said: May Allah curse the Jews, for animal fat was forbidden to them, but they rendered it. Sufyan (one of the narrators) said: "Meaning: They melted it down.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4257
Notes · وضاحت
١ ؎: پھر اس کا تیل بیچا اور اس کی قیمت کھائی۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/البیوع ١٠٣(٢٢٢٣) ، الأنبیاء ٥٠ (٣٤٦٠) ، صحیح مسلم/المساقاة ١٣ (١٥٨٢) ، سنن ابن ماجہ/الأشربة ٧ (٣٣٨٣) ، (تحفة الأشراف : ١٠٥٠١) ، مسند احمد (١/٢٥) ، سنن الدارمی/الأشربة ٩ (٢١٥٠) (صحیح )
4263Sunan An Nasaiصحیح

اگر چوہا گھی میں گر جائے تو کیا کرنا ضروری ہے؟

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ، أَنَّ فَأْرَةً وَقَعَتْ فِي سَمْنٍ، فَمَاتَتْ فَسُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَلْقُوهَا وَمَا حَوْلَهَا وَكُلُوهُ.

ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک چوہیا گھی میں گر کر مرگئی تو نبی اکرم ﷺ سے پوچھا گیا ؟ آپ نے فرمایا : اسے اور اس کے اردگرد گھی کو نکال کر پھینک دو اور پھر اسے کھاؤ۔

It was narrated from Ibn Abbas (RA), form Maimunah, that: a mouse fell into some cooking fat and died. The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) was asked (about that) and he said: "Throw it away, and whatever is around it, and eat (the rest).

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4258
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الوضوء ٦٧ (٢٣٥، ٢٣٦) ، الذبائح ٣٤ (٥٥٣٨، ٥٥٣٩، ٥٥٤٠) ، سنن ابی داود/الأطعمة ٤٨ (٣٨٤١، ٣٨٤٢، ٣٨٤٣) ، سنن الترمذی/الأطعمة ٨ (١٧٩٩) ، (تحفة الأشراف : ١٨٠٦٥) ، موطا امام مالک/الاستئذان ٧ (٢٠) ، مسند احمد (٦/٣٢٩، ٣٣٠، سنن الدارمی/الطھارة ٥٩ (٧٦٥) (صحیح )
4264Sunan An Nasaiصحیح

اگر چوہا گھی میں گر جائے تو کیا کرنا ضروری ہے؟

أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ النَّيْسَابُورِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِالزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ فَأْرَةٍ وَقَعَتْ فِي سَمْنٍ جَامِدٍ ؟، فَقَالَ: خُذُوهَا وَمَا حَوْلَهَا فَأَلْقُوهُ.

ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ سے اس چوہیا کے بارے میں پوچھا گیا جو کسی جمے ہوئے گھی میں گرجائے تو آپ نے فرمایا : اسے اور اس کے اردگرد کے گھی کو لے کر پھینک دو ۔

It was narrated from Ibn Abbas, from Maimunah, that: the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) was asked about a mouse that had fallen into some solid cooking fat. He said. "Take it, and whatever is around it, and throw it away.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4259
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح )
4265Sunan An Nasaiضعیف

اگر چوہا گھی میں گر جائے تو کیا کرنا ضروری ہے؟

أَخْبَرَنَا خُشَيْشُ بْنُ أَصْرَمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بُوذُوَيْهِ، أَنَّ مَعْمَرًا ذَكَرَهُ، عَنِالزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ سُئِلَ، عَنِ الْفَأْرَةِ تَقَعُ فِي السَّمْنِ، فَقَالَ: إِنْ كَانَ جَامِدًا فَأَلْقُوهَا، وَمَا حَوْلَهَا، وَإِنْ كَانَ مَائِعًا فَلَا تَقْرَبُوهُ.

ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ سے اس چوہیا کے متعلق پوچھا گیا جو گھی میں گرجائے ؟ تو آپ نے فرمایا : اگر گھی جما ہوا ہو تو اسے اور اس کے اردگرد کے گھی کو نکال پھینکو اور اگر جما ہوا نہ ہو تو تم اس کے قریب نہ جاؤ۔

It was narrated from Ibn Abbas, from Maimunah, that: the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) was asked about a mouse that fell into the cooking fat. He said: "If it (the fat) is solid, then throw it away, and whatever is around it. If it is liquid then do not use it at all."(Daif)

شاذصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4260
Notes · وضاحت
١ ؎: سند اور علم حدیث کے قواعد کے لحاظ سے یہ حدیث درجہ میں پہلی حدیث سے کم تر ہے، اور اس کے مخالف ہونے کی وجہ سے شاذ ہے، لیکن پہلی حدیث کے مضمون ہی سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ اسی قسم کے گھی کا اردگرد ہوسکتا ہے جو جامد ہو، اور اگر سیال (بہنے والا) ہو تو اس کا اردگرد کیسے ہوسکتا ہے ؟ اسی لیے بہت سے علماء اس حدیث کے مطابق فتوی دیتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (شاذ) (معمر کے سوا زہری کے اکثر تلامذہ اس کو بغیر تفصیل کے روایت کرتے ہیں جیسے پچھلی دونوں روایتوں میں ہے )
4266Sunan An Nasaiصحیح

اگر چوہا گھی میں گر جائے تو کیا کرنا ضروری ہے؟

أَخْبَرَنَا سَلَمَةُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سُلَيْمِ بْنِ عُثْمَانَ الْفَوْزِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَدِّي الْخَطَّابُ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حِمْيَرَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ثَابِثُ بْنُ عَجْلَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِعَنْزٍ مَيِّتَةٍ، فَقَالَ: مَا كَانَ عَلَى أَهْلِ هَذِهِ الشَّاةِ لَوِ انْتَفَعُوا بِإِهَابِهَا.

عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک مردہ بکری کے پاس سے گزرے تو فرمایا : اس بکری والوں پر کوئی حرج نہ ہوتا اگر وہ اس کی کھال (دباغت دے کر) سے فائدہ اٹھا لیتے ۔

Ibn Abbas said: " I heard Saeed bin Jubair say: The Messenger of Allah ﷺ passed by a dead goat and said: "Why didnt the owners of this sheep makes use of its skin?

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4261
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الذبائح ٣٠ (٥٥٣٢) ، (تحفة الأشراف : ٥٤٤٦) (صحیح الإسناد )
4267Sunan An Nasaiصحیح

اگر مکھی برتن میں گر جائے؟

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا وَقَعَ الذُّبَابُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ فَلْيَمْقُلْهُ.

ابو سعید خدری (رض) روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جب تم میں سے کسی کے برتن میں مکھی گرجائے تو اسے اچھی طرح ڈبو دو (پھر اسے نکال کر پھینک دو ) ۔

It was narrated from Abu Saeed Al-Khudri that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "If a fly falls into the vessel of one of you, let him dip it in.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4262
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الطب ٣١ (٣٥٠٤) ، (تحفة الأشراف : ٤٤٢٦) مسند احمد (٣/٢٤، ٦٧) (صحیح )
4268Sunan An Nasaiصحیح

شکار اور ذبح کرنے کے وقت بسم اللہ کہنا

عَنْ سُوَيْدِ بْنِ نَصْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّيْدِ ؟، فَقَالَ: إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ فَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ، فَإِنْ أَدْرَكْتَهُ لَمْ يَقْتُلْ فَاذْبَحْ وَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ، وَإِنْ أَدْرَكْتَهُ قَدْ قَتَلَ وَلَمْ يَأْكُلْ فَكُلْ فَقَدْ أَمْسَكَهُ عَلَيْكَ، فَإِنْ وَجَدْتَهُ قَدْ أَكَلَ مِنْهُ فَلَا تَطْعَمْ مِنْهُ شَيْئًا، فَإِنَّمَا أَمْسَكَ عَلَى نَفْسِهِ، وَإِنْ خَالَطَ كَلْبُكَ كِلَابًا، فَقَتَلْنَ: فَلَمْ يَأْكُلْنَ فَلَا تَأْكُلْ مِنْهُ شَيْئًا، فَإِنَّكَ لَا تَدْرِي أَيُّهَا قَتَلَ.

عدی بن حاتم (رض) سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے شکار کے بارے میں پوچھا، تو آپ نے فرمایا : جب تم اپنے کتے کو شکار کے لیے بھیجو تو اس پر بسم اللہ پڑھ لو، اب اگر تمہیں وہ شکار مل جائے اور مرا ہوا نہ ہو تو اسے ذبح کرو اور اس پر اللہ کا نام لو ١ ؎ اور اگر تم اسے مردہ حالت میں پاؤ اور اس (کتے) نے اس میں سے کچھ نہ کھایا ہو تو اس کو کھاؤ، اس لیے کہ اس نے تمہارے لیے ہی اس کا شکار کیا ہے۔ البتہ اگر تم دیکھو کہ اس نے اس میں سے کچھ کھالیا ہے تو تم اس میں سے نہ کھاؤ۔ اس لیے کہ اب اس نے اسے اپنے لیے شکار کیا ہے۔ اور اگر تمہارے کتے کے ساتھ دوسرے کتے بھی مل گئے ہوں اور انہوں نے اس (شکار) کو قتل کردیا ہو اور اسے کھایا نہ ہو تب بھی تم اس میں سے کچھ مت کھاؤ، اس لیے کہ تمہیں نہیں معلوم کہ ان میں سے اسے کس نے قتل کیا ہے ۔

It was narrated from Adiyy bin Hatim that: he asked the Messenger of Allah ﷺ about hunting. He said: "When you release your dog, mention the name of Allah over him, and if you catch up with him and he has not killed (the game), then slaughter it and mention the name of Allah over it. If you catch up with him and he has killed (the game) but has not eaten any of it, then eat, for he caught it for you. If you find that the has eaten some of it, then do not eat any of it for he caught it for himself. If there are other dogs with your dog and they have killed (the game) but have not eaten any of it, then do not eat any of it, because you do not know which of them killed it.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4263
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی : اللہ کا نام لے کر ذبح کرو۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الوضوء ٣٣ (١٧٥) ، البیوع ٣ (٢٠٥٤) ، الصید ٢ (٥٤٧٦) ، ٧(٥٤٨٣) ، ٨(٥٤٨٤) ، ٩(٥٤٨٦) ، ١٠(٥٤٨٧) ، صحیح مسلم/الصید ١ (١٩٢٩) ، سنن ابی داود/الصید ٢ (٢٨٤٨، ٢٨٤٩) ، سنن الترمذی/الصید ٥ (١٤٦٩) ، سنن ابن ماجہ/الصید ٦ (٣٢١٣) ، (تحفة الأشراف : ٩٨٦٢) ، مسند احمد (٤/٢٥٦، ٢٥٧، ٢٥٨، ٣٧٨، ٣٧٩، ٣٨٠) ، ویأتی عند المؤلف بأرقام : ٤٢٧٣، ٤٢٧٩، ٤٣٠٣، ٤٣٠٤) (صحیح )
4269Sunan An Nasaiصحیح

جس پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو اس شکار کو کھانے کی ممانعت

أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ زَكَرِيَّا، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَيْدِ الْمِعْرَاضِ ؟، فَقَالَ: مَا أَصَبْتَ بِحَدِّهِ فَكُلْ، وَمَا أَصَبْتَ بِعَرْضِهِ، فَهُوَ وَقِيذٌ، وَسَأَلْتُهُ عَنِ الْكَلْبِ ؟، فَقَالَ: إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ فَأَخَذَ وَلَمْ يَأْكُلْ فَكُلْ، فَإِنَّ أَخْذَهُ ذَكَاتُهُ، وَإِنْ كَانَ مَعَ كَلْبِكَ كَلْبٌ آخَرُ فَخَشِيتَ أَنْ يَكُونَ أَخَذَ مَعَهُ فَقَتَلَ فَلَا تَأْكُلْ، فَإِنَّكَ إِنَّمَا سَمَّيْتَ عَلَى كَلْبِكَ، وَلَمْ تُسَمِّ عَلَى غَيْرِهِ.

عدی بن حاتم (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے معراض (بےپر کے تیر) کے شکار کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا : اگر اسے نوک لگی ہو تو کھاؤ اور اگر اسے آڑی لگی ہو تو وہ موقوذہ ہے ١ ؎ میں نے آپ سے کتے کے (شکار کے) بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا : جب تم (شکار پر) کتا دوڑاؤ پھر وہ اسے پکڑے اور اس میں سے کھایا نہ ہو تو تم اسے کھاؤ اس لیے کہ اس کا پکڑ لینا ہی گویا شکار کو ذبح کرنا ہے۔ لیکن اگر تمہارے کتے کے ساتھ کوئی اور کتا ہو اور تمہیں اندیشہ ہو کہ تمہارے کتے کے ساتھ دوسرے کتے نے بھی پکڑا ہو اور وہ شکار مرگیا ہو تو مت کھاؤ۔ اس لیے کہ تم نے بسم اللہ صرف اپنے کتے پر پڑھی تھی دوسرے کتے پہ نہیں۔

It was narrated that `Adiyy bin Abi Hatim said: "I asked the Messenger of Allah ﷺ about hunting with a Mi`rad. He said: If you strike (the game) with its sharp point, then eat, but if you strike it with its broad side, then the animal has been killed with a blow. I asked him about dogs and he said: If you release your dog and he catches (the game) but does not eat it, then eat, because his catching it is its slaughter. If you find another dog with your dog and you fear that it caught (the game) with him and killed it, then do not eat, for you said the name of Allah over your dog, but you did not say His name over the other one.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4264
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی جو شکار کسی بھاری چیز سے مارا گیا ہو جیسے لاٹھی یا پتھر وغیرہ سے، یا کوئی جانور چھت وغیرہ سے گر کر مرجائے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصید ١ (٥٤٧٥) ، صحیح مسلم/الصید ١ (١٩٢٩) ، سنن الترمذی/الصید ٧ (١٤٧١) ، سنن ابن ماجہ/الصید ٦ (٣٢١٤) ، (تحفة الأشراف : ٩٨٦٠) ، مسند احمد (٤/٢٥٦) ، سنن الدارمی/الصید ١ (٢٠٤٥) ، ویأتي عند المؤلف بأرقام : ٤٢٧٤، ٤٢٧٩، ٤٣١٣) (صحیح )
4270Sunan An Nasaiصحیح

سدھے ہوئے کتے سے شکار

أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الصَّمَدِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ، عَنْإِبْرَاهِيمَ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أُرْسِلُ الْكَلْبَ الْمُعَلَّمَ فَيَأْخُذُ ؟، فَقَالَ: إِذَا أَرْسَلْتَ الْكَلْبَ الْمُعَلَّمَ وَذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ فَأَخَذَ فَكُلْ، قُلْتُ: وَإِنْ قَتَلَ، قَالَ: وَإِنْ قَتَلَ، قُلْتُ: أَرْمِي بِالْمِعْرَاضِ، قَالَ: إِذَا أَصَابَ بِحَدِّهِ فَكُلْ، وَإِذَا أَصَابَ بِعَرْضِهِ فَلَا تَأْكُلْ.

عدی بن حاتم (رض) سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا : میں (شکار پر) سدھایا ہوا کتا چھوڑتا ہوں اور وہ جانور پکڑ لیتا ہے ؟ آپ نے فرمایا : جب تم سدھایا کتا چھوڑو اور اس پر اللہ کا نام لے لو پھر وہ شکار پکڑے تو تم اسے کھاؤ میں نے عرض کیا : اگر وہ اسے مار ڈالے ؟ تو آپ نے فرمایا : اگرچہ وہ اسے مار ڈالے ۔ میں نے عرض کیا : میں معراض پھینکتا ہوں ؟ آپ نے فرمایا : اگر نوک لگے تو کھاؤ اور اگر آڑا لگے تو نہ کھاؤ۔

It was Narrated from Adiyy bin Hatim the he asked the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم): "I release my trained dog and he catches (game)." He said: "If you release the trained dog and you say the name of Allah over him, and he catches (something), then eat." I said: "Even if he kills it?" He said: shoot with the Mirad." He said: "If it hits (the game) with its sharp point, then eat, but if it hits it with its broad side, then do not eat.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4265
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصید ٣ (٥٤٧٧) ، التوحید ١٣ (٧٣٩٧) ، صحیح مسلم/الصید ١ (١٩٢٩) ، سنن ابی داود/الصید ٢ (٢٨٢٧) ، سنن الترمذی/الصید ١ (١٤٦٥) ، سنن ابن ماجہ/الصید ٦ (٣٢١٥) ، (تحفة الأشراف : ٩٨٧٨) ، مسند احمد (٤/٢٥٦، ٢٥٨، ٣٧٧، ٣٨٠) (صحیح )
4271Sunan An Nasaiصحیح

جو کتا شکاری نہیں ہے اس کے شکار سے متعلق

أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْكُوفِيُّ الْمُحَارِبِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَبِيعَةَ بْنَ يَزِيدَ، يَقُولُ: أَنْبَأَنَا أَبُو إِدْرِيسَ عَائِذُ اللَّهِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيَّ، يَقُولُ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا بِأَرْضِ صَيْدٍ أَصِيدُ بِقَوْسِي، وَأَصِيدُ بِكَلْبِي الْمُعَلَّمِ، وَبِكَلْبِي الَّذِي لَيْسَ بِمُعَلَّمٍ، فَقَالَ: مَا أَصَبْتَ بِقَوْسِكَ فَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ وَكُلْ، وَمَا أَصَبْتَ بِكَلْبِكَ الْمُعَلَّمِ فَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ وَكُلْ، وَمَا أَصَبْتَ بِكَلْبِكَ الَّذِي لَيْسَ بِمُعَلَّمٍ فَأَدْرَكْتَ ذَكَاتَهُ فَكُلْ.

ابوثعلبہ خشنی (رض) کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہم لوگ اس سر زمین میں رہتے ہیں جہاں شکار بہت ملتا ہے۔ میں تیر کمان سے شکار کرتا ہوں اور سدھائے ہوئے کتے سے بھی شکار کرتا ہوں اور غیر سدھائے ہوئے کتے سے بھی۔ آپ نے فرمایا : جو شکار تم تیر سے کرو تو اللہ کا نام لے کر اسے کھاؤ ١ ؎ اور جو شکار تم سدھائے ہوئے کتے سے کرو تو اللہ کا نام لے کر اسے کھاؤ، اور جو شکار تم غیر سدھائے ہوئے کتے سے کرو تو اگر اسے ذبح کرسکو تو کھالو ٢ ؎۔

Abu Thalabah Al-Khushani said: "I said: O Messenger of Allah, we live in a land where people hunt, and I hunt with my bow and with my trained dog, and with trained dog, and with my dog which ins not trained. He said: whatever you catch with your bow, mention the name of Allah over it and eat. Whatever you catch with the trained dog, mention the name of Allah over it and eat. Whatever you catch with your untrained dog and you reach it while it is still alive, then slaughter it, and eat.""( Sahih).

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4266
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی تیر پھینکتے وقت اللہ کا نام لو پھر اسے کھاؤ۔ ٢ ؎: اور اگر پانے سے پہلے مرگیا ہو تو مت کھاؤ۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصید ٤ (٥٤٧٨) ، ١٠(٥٤٨٨) ، ١٤(٥٤٩٦) ، صحیح مسلم/الصید ١(١٩٣٠) ، سنن ابی داود/الصید ٢(٢٨٥٥) ، سنن الترمذی/السیر ١١ (١٥٦٠ م) ، سنن ابن ماجہ/الصید ٣ (٣٢٠٧) ، (تحفة الأشراف : ١١٨٧٥) ، مسند احمد (٤/١٩٣، ١٩٤، ١٩٥) ، سنن الدارمی/السیر ٥٦ (٢٥٤١) (صحیح )