حارث بن عمرو (رض) کہتے ہیں ہیں کہ میں حجۃ الوداع میں رسول اللہ ﷺ سے ملا۔ اور آپ سے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، میرے لیے مغفرت کی دعا کیجئے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ تم سب کو معاف فرمائے ، آپ ﷺ اپنی اونٹنی عضباء پر سوار تھے، پھر میں مڑا اور دوسری جانب گیا۔ اور پھر آگے پوری حدیث بیان کی۔
Yahya bin Zurarah As-Sahmi said: "My father narrated to me from his grandfather, Al-Harith bin Amr that he met the Messenger of Allah ﷺ during the Farewell Pilgrimage and said: May my father and mother be sacrificed for you! O Messenger of Allah; pray for forgiveness for me. He said: May Allah forgive you (plural). He was atop his slit-eared camel and I came around to the other side" and he quoted the Hadith.
ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4227
نبیشہ (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ سے بتایا گیا کہ ہم لوگ جاہلیت میں عتیرہ ذبح کرتے تھے۔ آپ نے فرمایا : اللہ کے لیے ذبح کرو چاہے کوئی سا مہینہ ہو، اور اللہ کے لیے نیک کام کرو اور لوگوں کو کھلاؤ۔
It was narrated that Nubaishah said: "It was said to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم): During the Jahiliyyah we used to offer the Atirah. He said: Slaughter for the sake of Allah, the Mighty and sublime, no matter what month it is; do good for the sake of Allah, the Mighty and sublime, and feed the poor.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4228
نبیشہ (رض) کہتے ہیں کہ ایک شخص نے منیٰ میں پکار کر کہا : اللہ کے رسول ! ہم لوگ جاہلیت میں رجب میں عتیرہ کرتے تھے۔ تو اللہ کے رسول ! ہمارے لیے آپ کا کیا حکم ہے ؟ آپ نے فرمایا : ذبح کرو جس مہینے میں چاہو اور اللہ کی اطاعت کرو اور لوگوں کو کھلاؤ، اس نے کہا : ہم فرع ذبح کرتے تھے، تو آپ کا کیا حکم ہے ؟ آپ نے فرمایا : ہر چرنے والے جانور میں ایک فرع ہے، جسے تم چراتے ہو، جب وہ مکمل اونٹ ہوجائے تو اسے ذبح کرو اور اس کا گوشت صدقہ کرو ۔
It was narrated that Nubaishah said: "A man called out while he was in Mina and said: O Messenger of Allah, we used to sacrifice the Atirah during the Jahiliyyah in Rajab; what do you command us to do? He said: Sacrifice during whatever month it is, do good for the sake of Allah, the Mighty and Sublime, and feed (the poor). They said: O Messenger of Allah, we used to sacrifice the Fara during the Jahiliyyah; what do you command us to do? He said: For every flock of grazing animals, feed the firstborn as you feed the rest of you flock until it reaches an age where it could be used carry loads, then sacrifice it, and give its meat in charity.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4229
بنی ہذیل کے ایک شخص نبیشہ (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ہم نے تم لوگوں کو تین دن کے بعد قربانی کا گوشت کھانے سے اس واسطے روکا تھا تاکہ وہ تم سب تک پہنچ جائے۔ اب اللہ تعالیٰ نے گنجائش دے دی ہے تو کھاؤ اور اٹھا (بھی) رکھو اور (صدقہ دے کر) ثواب (بھی) کماؤ۔ سن لو، یہ دن کھانے، پینے اور اللہ تعالیٰ کی یاد (شکر ادا کرنے) کے ہیں۔ ایک شخص نے کہا : ہم لوگ رجب کے مہینہ میں زمانہ جاہلیت میں عتیرہ ذبح کرتے تھے تو آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : اللہ کے لیے ذبح کرو چاہے کوئی سا مہینہ ہو، اور اللہ کے لیے نیک کام کرو اور لوگوں کو کھلاؤ۔ ایک شخص نے کہا : اللہ کے رسول ! ہم لوگ زمانہ جاہلیت میں فرع ذبح کرتے تھے، تو آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : ہر چرنے والی بکری میں ایک فرع ہے، جسے تم چراتے ہو، جب وہ مکمل اونٹ ہوجائے تو اسے ذبح کرو اور اس کا گوشت صدقہ کرو، یہی چیز بہتر ہے ۔
It was narrated from Nubaishah, a man of Hudhail, that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "I used to forbid you to store the meat of the sacrifices for more than three days so that there would be enough for everyone. But now Allah, the mighty and sublime, has bestowed plenty upon us, so eat some, give some in charity and store some, For these days are the days of eating, drinking and remembering Allah." A man said: "O Messenger of Allah, we used to sacrifice the Atirah during the Jahiliyyah in Rajab; what do you command us to do?" He said: "Sacrifice to Allah, the Mighty and Sublime, whatever month it is, do good for the sake of Allah, the Mighty and Sublime, and feed (the poor)." He said: "O Messenger of Allah, we used to sacrifice the Fara during the Jahiliyyah; what do you command us to do?" He said: "For every flock of grazing animals, feed the firstborn as you feed the rest of your flock, until it reaches an age where it could be used to carry loads, then sacrifice it, and give its meat in charity to the wayfarer, for that is good.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4230
نبیشہ (رض) کہتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم ﷺ کو پکار کر کہا : ہم لوگ عتیرہ ذبح کرتے تھے۔ یعنی زمانہ جاہلیت میں رجب کے مہینے میں، تو اب آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : جس مہینہ میں چاہو اسے ذبح کرو، اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرو اور لوگوں کو کھلاؤ، اس نے کہا : ہم لوگ عہد جاہلیت میں فرع ذبح کرتے تھے ؟ آپ نے فرمایا : ہر چرنے والے جانور میں فرع ہے یہاں تک کہ جب وہ مکمل (جانور) ہوجائے تو تم اسے ذبح کرو اور اس کا گوشت صدقہ کرو، یہی چیز بہتر ہے ۔
It was narrated that Nubaishah said: "A man called out to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and said: We used to sacrifice the Atirah - i.e., during the Jahiliyyah - in Rajab; what do you command us to do? He said: Sacrifice, whatever month it is, do good for the sake of Allah, the Mighty and Sublime, and feed (the poor). He said: We used to sacrifice the Fara during the Jahiliyyah; what do you command us to do? He said: For every flock of grazing animals, feed the firstborn as you feed the rest of your flock until it reaches an age where it could be used to carry loads, then sacrifice it, and give its meat in charity, for that is good.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4231
نبیشہ ہذلی (رض) کہتے ہیں کہ ایک شخص نے کہا : اللہ کے رسول ! ہم لوگ زمانہ جاہلیت میں عتیرہ ذبح کرتے تھے، تو اب آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے جس مہینے میں چاہو ذبح کرو، اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرو اور لوگوں کو کھلاؤ۔
It was narrated that Nubaishah Al-Hudhali said: "A man said: O Messenger of Allah, we used to sacrifice the Atirah during the Jahiliyyah in Rajab; what do you command us to do? He said: Sacrifice to Allah, the Mighty and Sublime, whatever month it is, do good for the sake of Allah, the Mighty and Sublime, and feed (the poor).
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4232
ابورزین لقیط بن عامر عقیلی (رض) کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہم لوگ جاہلیت میں رجب کے مہینے میں کچھ جانور ذبح کیا کرتے تھے، ہم خود کھاتے تھے اور جو ہمارے پاس آتا اسے بھی کھلاتے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اس میں کوئی حرج نہیں ۔ وکیع بن عدس کہتے ہیں : چناچہ میں اسے نہیں چھوڑتا۔
It was narrated that Abu Razin Laqit bin Amir Al-Uqaili said: "I said: O Messenger of Allah, we used to offer sacrifices during the Jahiliyyah in Rajab, and eat of (their meat) and offer some to those who came to us. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: There is nothing wrong with that." (One of the narrators) Waki bin Udus said: "I will not leave it.
صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4233
ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ کا گزر ایک پڑی ہوئی مردار بکری کے پاس سے ہوا، آپ نے فرمایا : یہ کس کی ہے ؟ لوگوں نے کہا : میمونہ کی۔ آپ نے فرمایا : ان پر کوئی گناہ نہ ہوتا اگر وہ اس کی کھال سے فائدہ اٹھاتیں ، لوگوں نے عرض کیا : وہ مردار ہے۔ تو آپ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے (صرف) اس کا کھانا حرام کیا ہے ١ ؎۔
It was narrated from Ibn Abbas (RA), from Maimunah (RA), that: the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) passed by a dead sheep that had been thrown aside. He said: "Who does this belong to?" They said: "Maimunah." He said: "Why did she not make use of its skin?" They said: "It is dead meat (i.e., it was not slaughtered properly)." He said: "Allah, the Mighty and Sublime, has only forbidden us to eat it.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4234
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اس کے جسم کے دیگر اعضاء مثلاً بال، دانت، سینگ وغیرہ سے استفادہ کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کا گزر ایک مردار بکری کے پاس سے ہوا جو آپ نے ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کی لونڈی کو دی تھی، آپ نے فرمایا : تم نے اس کی کھال سے کیوں فائدہ نہیں اٹھایا ؟ لوگوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! وہ مردار ہے۔ تو آپ نے فرمایا : اس کا کھانا حرام کیا گیا ہے ۔
It was narrated that Ibn Abbas (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ passed by a dead sheep that he had given to a freed slave woman of Maimunah, the wife of the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم). He said: Why dont you make use of its hide? They said: O Messenger of Allah, it is dead meat. The Messenger of Allah ﷺ said: It is only forbidden to eat it.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4235
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک مردار بکری کو دیکھا جو ام المؤمنین میمونہ کی لونڈی کی تھی اور وہ بکری صدقے کی تھی، آپ نے فرمایا : اگر لوگوں نے اس کی کھال اتار لی ہوتی اور اس سے فائدہ اٹھایا ہوتا (تو اچھا ہوتا) ۔ لوگوں نے عرض کیا : وہ مردار ہے، آپ نے فرمایا : صرف اس کا کھانا حرام کیا گیا ہے ۔
IbnAbbas said: "The Messenger of Allah ﷺ saw a dead sheep that belonged to the freed slave woman of Maimunah, and had come from the Sadaqah." He said: "Why dont you take off its hide and make use of it?" They said: "It is dead meat." He said: "It is only unlawful to eat it.
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4236
ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک بکری مرگئی، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کیا تم لوگوں نے اس کی کھال نہیں اتاری کہ اس سے فائدہ اٹھاتے ۔
It was narrated from Ibn Abbas (RA): "Maimunah told me that a sheep died, and the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Why dont you tan its skin and make use of it?
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4237
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کی ایک مردار بکری کے پاس سے گزرے، تو آپ نے فرمایا : کیا تم لوگوں نے اس کی کھال نہیں اتاری کہ اسے دباغت دے کر فائدہ اٹھا لیتے ۔
Ibn Abbas (RA) said: "The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) passed by a sheep belonging to Maimunah that had died and said: Why dont you take its skin and tan it and make use of it?
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4238
ام المؤمنین سودہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہماری ایک بکری مرگئی تو ہم نے اس کی کھال کو دباغت دی، پھر ہم اس میں ہمیشہ نبیذ بناتے رہے یہاں تک کہ وہ پرانی ہوگئی۔
It was narrated that Sawdah, the wife of the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم), said: "A sheep of ours died, and we tanned its skin, and continued to make Nabidh in it until it wore out.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4240
عبدالرحمٰن بن وعلہ کہتے ہیں کہ انہوں نے ابن عباس (رض) سے پوچھا : ہم لوگ مغرب کے علاقہ میں جہاد کو جا رہے ہیں، وہاں کے لوگ بت پرست ہیں، ان کے پاس مشکیں ہیں جن میں دودھ اور پانی ہوتا ہے ؟ ابن عباس (رض) نے کہا : دباغت کی ہوئی کھالیں پاک ہوتی ہیں۔ عبدالرحمٰن بن وعلہ نے کہا : یہ آپ کا خیال ہے یا کوئی بات آپ نے رسول اللہ ﷺ سے سنی ہے۔ انہوں نے کہا : بلکہ رسول اللہ ﷺ سے (سنی) ہے۔
It was narrated from Ibn Walah that he asked Ibn Abbas: "We are attacking the Maghrib, and they are people who worship idols, and they have waterskins in which they keep milk and water." Ibn Abbas said: "Tanning is purification." Ibn Walah said: "Is this your own opinion, or something that you heard from the Messenger of Allah ﷺ?" He said: "No, (I heard it) from the Messneger of Allah صلى الله عليه وسلم.
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4242
سلمہ بن محبق (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے غزوہ تبوک میں ایک عورت کے پاس سے پانی منگوایا۔ اس نے کہا : میرے پاس تو ایک ایسی مشک کا پانی ہے جو مردار کی کھال کی ہے، آپ نے فرمایا : تم نے اسے دباغت نہیں دی تھی ؟ وہ بولی : کیوں نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا : اس کی دباغت ہی اس کی پاکی ہے ۔
It was narrated from Salamah bin Al-Muhabbaq that: during the campaign of Tabuk, the Prophet of Allah called for water from a woman. She said: "I only have a waterskin of mine made from a dead animal." He said: "Didnt you tan it?" She said: "Of course." He said: "Tanning it purifies it." (Daif)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4243
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/اللباس ٤١ (٤١٢٥) ، (تحفة الأشراف : ٤٥٦٠) ، مسند احمد (٣/٤٧٦ و ٥/٦، ٧) (صحیح )