کعب بن عجرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس آئے، ہم نو لوگ تھے، آپ نے فرمایا : میرے بعد کچھ امراء ہوں گے، جو ان کے جھوٹ کی تصدیق کرے گا اور ظلم میں ان کی مدد کرے گا وہ میرا نہیں اور نہ میں اس کا ہوں، اور نہ ہی وہ (قیامت کے دن) میرے پاس حوض پہ آسکے گا۔ اور جس نے جھوٹ میں ان کی تصدیق نہیں کی اور ظلم میں ان کی مدد نہیں کی تو وہ میرا ہے اور میں اس کا ہوں اور وہ میرے پاس حوض پر آئے گا ١ ؎۔
It was narrated that Kab bin Ujrah said: "The Messenger of Allah ﷺ came out to us, and there were nine of us. He said; After me there will be rulers, whoever believes in their lies and helps them in their wrongdoing is not of me, and I am not of him, and he will not come to me at the Cistern. Whoever does not believe their lies and does not help them in their wrongdoing, he is of me, and I am of him, and he will come to me at the Cistern.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4207
Notes · وضاحت
١ ؎: کسی حکمران، امیر، صدر، ناظم، کسی ادارہ کے سربراہ کے حوالی موالی جو ہر نیک و بد میں اس کی خوشامد کرتے ہیں اس کی ہر ہاں میں ہاں ملاتے ہیں وہ اس حدیث میں بیان کردہ وعید شدید پر توجہ دیں، نیز یہ بات بھی قابل غور ہے کہ آپ ﷺ نے ظالم امیر کے ظلم میں تعاون کرنے والے کے لیے اتنی سخت وعید تو سنائی مگر اس ظالم امیر کو ہٹا دینے کی کوئی بات نہیں کی، ایسے ظالم کو نصیحت کی جائے گی یا سارے مسلمانوں کے اصحاب رائے کے مشورہ سے علاحدہ کیا جائے گا (بغیر فتنہ و فساد برپا کئے) ۔
کعب بن عجرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس آئے، ہم نو لوگ تھے، پانچ ایک طرح کے اور چار دوسری طرح کے، ان میں سے کچھ عرب تھے اور کچھ عجم۔ آپ ﷺ نے فرمایا : سنو ! کیا تم نے سنا ؟ میرے بعد عنقریب کچھ امراء ہوں گے، جو ان کے یہاں جائے گا اور ان کے جھوٹ کی تصدیق کرے گا اور ظلم میں ان کی مدد کرے گا تو وہ میرا نہیں اور نہ میں اس کا ہوں، اور نہ وہ میرے پاس (قیامت کے دن) حوض پر نہ آسکے گا، اور جو ان کے ہاں نہیں گیا، ان کے جھوٹ کی تصدیق نہیں کی، اور ظلم میں ان کی مدد نہیں کی تو وہ میرا ہے اور میں اس کا ہوں اور عنقریب وہ میرے پاس حوض پر آئے گا ۔
It was narrated that Kab bin Ujrah said: "The Messenger of Allah ﷺ came out to us and we were nine, fie and four, some Arabs and some non- Arabs. He said: Listen. Have you heard that after me there will be rulers, whoever enters upon them and believes their lies and help them in their wrongdoing is not of me, and I am not of him, and he will not come to me at the Cistern? Whoever does not enter upon them or belive their lies or help them in their wrongdoing is of me and I am of him, and he will come to me at the Cistern.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4208
طارق بن شہاب (رض) ١ ؎ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم ﷺ سے سوال کیا اور وہ یا آپ اپنا پیر رکاب میں رکھے ہوئے تھے، کون سا جہاد افضل ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ظالم حکمراں کے پاس حق اور سچ کہنا ۔
It was narrated from Tariq bin Shihab that: a man asked the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم), when he had put his leg in the stirrup: "Which kind of Jihad is best?" He said: " a word of truth spoken before an unjust rulers.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4209
Notes · وضاحت
١ ؎: طارق بن شہاب (رض) کو نبی اکرم ﷺ کو دیکھنے کا شرف تو حاصل ہے مگر آپ سے خود کوئی حدیث نہیں سنی تھی، آپ کی روایت کسی اور صحابی کے واسطہ سے ہوتی ہے، اور اس صحابی کا نام نہ معلوم ہونے سے حدیث کی صحت میں فرق نہیں پڑتا۔ کیونکہ سارے صحابہ کرام ثقہ ہیں اور سند سے معلوم ثقہ، بالخصوص صحابی کا ساقط ہونا حدیث کی صحت میں موثر نہیں، اس لیے کہ سارے صحابہ ثقہ اور عدول ہیں، اس طرح کی حدیث جس میں حدیث نقل کرنے میں صحابی واسطہ صحابی کا ذکر کئے بغیر حدیث کی نسبت رسول اللہ ﷺ کی طرف کر دے، علمائے حدیث کی اصطلاح میں مرسل صحابی کہتے ہیں، اور مرسل صحابی مقبول و مستفید ہے۔
عبادہ بن صامت (رض) کہتے ہیں کہ ہم ایک مجلس میں نبی اکرم ﷺ کے پاس تھے تو آپ نے فرمایا : تم لوگ مجھ سے بیعت کرو کہ تم اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراؤ گے، نہ چوری کرو گے، نہ زنا کرو گے، پھر آپ نے لوگوں کو (سورۃ الممتحنہ کی) آیت پڑھ کر سنائی ١ ؎، پھر فرمایا : تم میں سے جس نے بیعت کو پورا کیا تو اس کا اجر اللہ پر ہے، اور جس نے اس میں سے کسی غلط کام کو انجام دیا اور اللہ تعالیٰ نے اسے چھپائے رکھا تو اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے چاہے تو اسے سزا دے، اور چاہے تو اسے معاف کر دے ۔
It was narrated that Ubadah bin As-Samit said: "We were with the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) in a gathering and he said: Pledge to me that you will not associate anything with Allah, you will not steal, and you will not have unlawful sexual relations. He recited the Verse to them (and said) Whoever does any of these things, and Allah conceals him then it is up to Allah, the mighty and Sublime: If He wills, He will punish him, and if He wills, He will forgive him.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4210
Notes · وضاحت
١ ؎: اس آیت سے مراد سورة الممتحنہ کی یہ آیت ہے : يا أيها النبي إذا جائك المؤمنات يبايعنک على أن لايشرکن بالله شيئا … (سورة الممتحنة : 12 )
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : عنقریب تم لوگ امارت و سرداری کی خواہش کرو گے لیکن وہ باعث ندامت و حسرت ہوگی، اس لیے کہ دودھ پلانے والی کتنی اچھی ہوتی ہے، اور دودھ چھڑانے والی کتنی بری ہوتی ہے ١ ؎۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "You will become keen for positions of authority, but that will become a regret and loss. What a good life they will live, but how hard it will be for them when they die.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4211
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی حکومت ملتے وقت وہ بھلی لگتی ہے اور جاتے وقت بری لگتی ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأحکام ٧ (٧١٤٨) ، (تحفة الأشراف : ١٣٠١٧) ، مسند احمد (٢/٤٤٨، ٤٧٦) ویأتي عند المؤلف في القضاء (برقم ٥٣٨٧) (صحیح )
عبداللہ بن عمرو (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے عقیقہ کے سلسلے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ عقوق کو پسند نہیں کرتا ۔ گویا کہ آپ کو یہ نام ناپسند تھا۔ لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا : ہم تو آپ سے صرف یہ پوچھ رہے ہیں کہ جب ایک شخص کے یہاں اولاد پیدا ہو تو کیا کرے ؟ آپ نے فرمایا : جو اپنی اولاد کی طرف سے قربانی کرنا چاہے ١ ؎ کرے، لڑکے کی طرف سے ایک ہی عمر کی دو بکریاں اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری ۔ داود بن قیس کہتے ہیں : میں نے زید بن اسلم سے مكافئتان کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا : دو مشابہ بکریاں جو ایک ساتھ ذبح کی جائیں ٢ ؎۔
It was narrated from Amr bin Shuaib, from his fahther, that his grandfather said: "The Messenger of Allah was asked about the Aqiqah and he said: "Allah, the mighty and sublime, does not like Al-Uquq as if he disliked the word (Al-Aqiqah). He said to the Messenger of Allah ﷺ: But one of us may offer a sacrifice when a child is born to him. He said: Whoever wants to offer a sacrifice for his child, let him do so, for a boy; two sheep, Mukafaatan, (of equal age), and for a girl, one. (One of the narrators) Dawud said: I asked Ziad bin Aslam about the word Mukafaatan and he said: Two similar sheep that are slaughtered together.
حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4212
Notes · وضاحت
١ ؎: اسی جملے سے استدلال کرتے ہوئے بعض ائمہ کہتے ہیں کہ عقیقہ فرض نہیں مندوب و مستحب ہے، جب کہ فرض قرار دینے والے حدیث نمبر ٤٢١٩ سے استدلال کرتے ہیں جس میں حکم ہے کہ بچے کی طرف سے خون بہاؤ نیز اور بھی کچھ الفاظ ایسے وارد ہیں جن سے عقیقہ کی فرضیت معلوم ہوتی ہے، إلا یہ کہ کسی کو عقیقہ کے وقت استطاعت نہ ہو تو بعد میں استطاعت ہونے پر قضاء کرلے۔ ٢ ؎: عمر میں برابر ہوں یا وصف میں ایک دوسرے سے قریب تر ہوں۔
سلمان بن عامر ضبی (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : لڑکے کی پیدائش پر ١ ؎ اس کا عقیقہ ہے، تو اس کی جانب سے خون بہاؤ ٢ ؎ اور اس سے تکلیف دہ چیز کو دور کرو ٣ ؎۔
It was narrated from Salman bin Amir Ad-Dabbi that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "For a boy there shoud be an Aqiqah, so shed blood for him, and remove the harm from him.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4214
Notes · وضاحت
١ ؎: اس جملہ سے بعض لوگوں نے یہ استدلال کیا ہے کہ عقیقہ صرف لڑکے کی پیدائش پر ہے۔ لڑکی کی پیدائش پر نہیں، لیکن یہ استدلال صرف ایک حدیث پر نظر رکھنے کا نتیجہ ہے جو اصول استدلال کے خلاف ہے، متعدد دیگر احادیث وارد ہیں جن میں لڑکی کی طرف سے بھی خون بہا نے کا حکم دیا گیا ہے۔ (دیکھئیے اگلی حدیث) ٢ ؎: اسی جملہ سے (نیز حدیث نمبر ٤٢٢٥ کے مفہوم) سے عقیقہ کے واجب ہونے پر استدلال کیا جاتا ہے، جب کہ بعض لوگ حدیث نمبر ٤٢١٨ کے جملہ جو چاہے وہ عقیقہ کرے سے استحباب پر استدلال کرتے ہیں، سلمان (رض) کی حدیث صحیح بخاری کی ہے جب کہ عبداللہ بن عمرو (رض) کی حدیث صرف سنن کی ہے، نیز سلمان (رض) کی حدیث کے معنی کی تائید حدیث نمبر ٤٢٢٥ کے اس مفہوم سے بھی ہوتی ہے جو امام احمد بن حنبل نے بیان کیا ہے، نیز ام کرز رضی اللہ عنہا کی حدیث سے بھی وجوب ہی کی تائید ہوتی ہے، ہاں جس کو عقیقہ کرنے کی استطاعت ہی نہ ہو تو اس سے معاف ہے، اگر ماں باپ کو اکیسوئیں دن بھی عقیقہ کرنے کی استطاعت ہوجائے تو کر دے، اس کے بعد وجوب ساقط ہوجائے گا۔ ٣ ؎: یعنی سر کے بال مونڈو اور غسل دو ۔
ام کرز رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (عقیقہ کے لیے) لڑکے میں دو ہم عمر بکریاں اور لڑکی میں ایک بکری (کافی) ہے ١ ؎۔
It was narrated from Umm Kurz that the Messenger of Allah ﷺ said: "for a boy two sheep, Mukafatan (of equal age), and for a girl, one sheep.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4215
Notes · وضاحت
١ ؎: لڑکے کی طرف سے دو جانور اور لڑکی کی طرف سے ایک جانور ذبح کرنے کی حکمت یہ ہے کہ بچے کی طرف سے خون بہانا اس کی جان کی بقاء کی خاطر ہے، تو یہ گویا دیت کی طرح ہوا، اور دیت میں نر جان کی دیت مادہ جان سے دگنی ہوتی ہے (کما فی المغنی مسألۃ نمبر ١٤٧٢ ) نیز ایک حدیث میں ہے جس نے ایک نر جان کو آزاد کیا اس کا ہر عضو جہنم سے آزاد کیا جائے گا، اور جس نے دو ماہ جان کو آزاد کیا اس کو بھی یہی اجر ملے گا۔ (فتح الباری تحت ٥٤٧١ من کتاب العقیقۃ )
ام کرز رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں حدیبیہ میں ہدی کے گوشت کے بارے میں پوچھنے کے لیے نبی اکرم ﷺ کے پاس آئی، تو میں نے آپ کو فرماتے ہوئے سنا : لڑکا ہونے پر دو بکریاں ہیں اور لڑکی پر ایک بکری، نر ہوں یا مادہ اس سے تم کو کوئی نقصان نہیں ہوگا ۔
It was narrated that umm Kurz said: "I came to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and asked him about the sacrificial meat. I heard him say: For a boy, two sheep, and for a girl, one sheep, and it does not matter if they are male or female.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4217
ام کرز رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : لڑکے کی طرف سے دو بکریاں ہوں گی اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری، نر ہوں یا مادہ اس میں تمہارا کوئی نقصان نہیں ۔
It was narrated from Umma Kurz that the Messenger of Allah ﷺ said: "For a boy, two sheep, and for a girl, one sheep, and it does not matter if they are male or female
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4218
سمرہ بن جندب (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ہر بچہ اپنے عقیقہ کے بدلے گروی ہے ١ ؎ اس کی طرف سے ساتویں روز ذبح کیا جائے ٢ ؎، اس کا سر مونڈا جائے، اور اس کا نام رکھا جائے ۔
It was narrated from Qatadah, from Al-Hasan, from Samurh bin Jundab that the Messenger of Allah ﷺ said: "Every boy is in pledge for his Aqiqah, so slaughter (the animal) for him on the seventh day, and shave his head, and a name.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4220
Notes · وضاحت
١ ؎: اسی حدیث سے استدلال کرتے ہوئے بعض علماء عقیقہ کے فرض ہونے کے قائل ہیں، کیونکہ اس میں بچے کے عقیقہ کے بدلے گروی باقی رہ جانے کی بات ہے، اور گروی رہنے کا مطلب علماء نے یہ بیان کیا ہے کہ جس لڑکے کا عقیقہ نہ کیا جائے اور وہ بلوغت سے پہلے مرجائے تو وہ قیامت کے دن اپنے ماں باپ کی سفارش (شفاعت) نہیں کرے گا، بعض علماء نے اس کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ جس طرح رہن رکھی ہوئی چیز کے بدلے کی ادائیگی ضروری ہے اسی طرح ذبح (عقیقہ) ضروری ہے، وغیرہ وغیرہ۔ ٢ ؎: اگر ساتویں دن عقیقہ کی استطاعت نہیں ہوسکی تو چودہویں دن کرے، اور اگر اس دن میں نہ ہو سکے تو اکیسویں دن کرے، جیسا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مستدرک حاکم میں ( ٤/٢٣٨ ) صحیح سند سے مروی ہے، اگر اکیسویں دن بھی نہ ہو سکے تو جو لوگ واجب قرار دیتے ہیں ان کے نزدیک زندگی میں کسی دن بھی قضاء کرنا ہوگا۔
حبیب بن شہید کہتے ہیں کہ مجھ سے محمد بن سیرین نے کہا : حسن (حسن بصری) سے پوچھو، انہوں نے عقیقہ کے سلسلے میں اپنی حدیث کس سے سنی ہے ؟ چناچہ میں نے ان سے اس بارے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا : یہ حدیث میں نے سمرہ (رض) سے سنی ہے۔
It was narrated from Habib bin Ash-Shahid: "Muhammad bin Sirin said to me: Ask Al-Hasan (Al-Basri) from whom he heard this Hadith about the Aqiqah. I asked him about that and he said: I heard it from Samurh.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4221
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : فرع اور عتیرہ واجب نہیں ١ ؎۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "There is no fara and no Atirah.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4222
Notes · وضاحت
١ ؎: فرع : زمانہ جاہلیت میں جانور کے پہلوٹے کو بتوں کے واسطے ذبح کرنے کو فرع کہتے ہیں، ابتدائے اسلام میں مسلمان بھی ایسا اللہ تعالیٰ کے واسطے کرتے تھے پھر کفار سے مشابہت کی بنا پر اسے منسوخ کردیا گیا اور اس سے منع کردیا گیا۔ اور عتیرہ : زمانہ جاہلیت میں رجب کے پہلے عشرہ میں تقرب حاصل کرنے کے لیے ذبح کرتے تھے، اور اسلام کی ابتداء میں مسلمان بھی ایسا کرتے تھے۔ کافر اپنے بتوں سے تقرب کے لیے اور مسلمان اللہ تعالیٰ سے تقرب کے لیے ذبح کرتے تھے، پھر یہ دونوں منسوخ ہوگئے اب نہ فرع ہے اور نہ عتیرہ بلکہ مسلمانوں کے لیے عید الاضحی کے روز قربانی ہے۔
مخنف بن سلیم (رض) کہتے ہیں کہ ہم عرفہ میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ اسی دوران آپ نے فرمایا : لوگو ! ہر گھر والے پر ہر سال قربانی اور عتیرہ ہے ١ ؎۔ معاذ کہتے ہیں : ابن عون رجب میں عتیرہ کرتے تھے، ایسا میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔
Mikhnaf bin Sulaim said: "While we were standing with the Messenger of Allah ﷺ at Arafat, he said: O people, it is upon each family to offer a sacrifice (Udhiyah) and an Atirah each year." (One of the narrators) Muadh said: "Ibn Awn used to offer slaughter the Atirah, and I saw that with my own eyes during Rajab." (Daif)
حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4224
Notes · وضاحت
١ ؎: فرع اور عتیرہ کے سلسلے میں مروی تمام احادیث کے مطالعے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ یہ دونوں ایام جاہلیت میں جاہلی انداز میں انجام دیئے جاتے تھے جس میں شرک کی ملاوٹ ہوتی تھی، رسول اللہ ﷺ نے اسلام میں ان کو جائز قرار تو دیا، مگر وہ شرک و کفر سے خالی اور جاہلی عادات کی مشابہت سے دور ہو، اور اگر نہ انجام دیئے جائیں تو بہتر ہے، خاص طور پر فرع کو اگر چھوڑ رکھا جائے تو یہ جانور بڑا ہو کر زیادہ مفید ثابت ہوسکتا ہے، واللہ اعلم (دیکھئیے اگلی روایات) ۔
محمد بن عبداللہ بن عمرو اور زید بن اسلم سے روایت ہے لوگوں (صحابہ) نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! فرع کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : حق ہے، البتہ اگر تم اسے چھوڑ دو یہاں تک کہ وہ جوان ہوجائے اور تم اسے اللہ کی راہ میں دو ، یا اسے کسی مسکین، بیوہ کو دے دو تو یہ بہتر ہے اس بات سے کہ تم اسے (بچہ کی شکل میں) ذبح کرو اور (اس کے کاٹے جانے کی وجہ سے) اس کا گوشت چمڑے سے لگ جائے ۔ (یعنی دبلی ہوجائے گی) پھر تم اپنا برتن اوندھا کر کے رکھو گے (کہ وہ دودھ دینے کے لائق ہی نہ ہوگی) اور تمہاری اونٹنی تکلیف میں رہے گی ۔ لوگوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! اور عتیرہ کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : عتیرہ بھی حق ہے ١ ؎۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں : ابوعلی حنفی چار بھائی ہیں : ابوبکر، بشر، شریک اور ایک اور ہیں۔
Amr bin Shuaib bin Muhammad bin Abdullah bin Amr (narrated) that his father and Zaid bin Aslam said: "O Messenger of Allah! (What about) the Fara?" He said: "It is a duty, but if you leave it (the animal) until it becomes half-grown and you load upon it (in Jihad) in the cause of Allah or give it to a widow, that is better than if you slaughter it (when it is just born) and its flesh is difficult to separate from its skin, then you turn your vessel upside down (because you will no longer be able to get milk from the mother) and you cause your she-camel to grieve (at the loss of its young)." They said: "O Messenger of Allah, (what about) the Atirah?" He said: "The Atirah is a duty." (Hasan) Abu Abdur-Rahman (An-Nasai) said: Abu Ali Al-Hanafi (one of the narrators); they are four brothers: One of them is Abu Bakr, and Bishr, and Sharik, and the other.
حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4225
حارث بن عمرو (رض) کہتے ہیں کہ میں حجۃ الوداع میں رسول اللہ ﷺ سے ملا، آپ اپنی اونٹنی عضباء، پر سوار تھے۔ میں آپ کی ایک جانب گیا اور عرض کیا : اللہ کے رسول ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، میرے لیے مغفرت کی دعا کیجئے، آپ نے فرمایا : اللہ تم لوگوں کی مغفرت فرمائے ۔ پھر میں آپ کی دوسری جانب گیا، مجھے امید تھی کہ آپ خاص طور پر میرے لیے دعا کریں گے، میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میرے لیے مغفرت کی دعا کیجئے۔ آپ نے اپنے ہاتھوں (کو اٹھا کر) فرمایا : اللہ تعالیٰ تم سب کو معاف کرے ۔ پھر لوگوں میں سے ایک شخص نے کہا : اللہ کے رسول ! عتیرہ اور فرع کے بارے میں کیا حکم ہے ؟ آپ نے فرمایا : جو چاہے عتیرہ ذبح کرے اور جو چاہے نہ کرے اور جو چاہے فرع کرے اور جو چاہے نہ کرے، بکریوں میں صرف قربانی ہے ، اور آپ نے اپنی سب انگلیاں بند کرلیں سوائے ایک کے (یعنی : سالانہ صرف ایک قربانی ہے) ۔
It was narrated that Yahya bin Zurarah bin Karim bin Al-Harith bin Amr Al-Bahili said: "I heard my father say, that he heard his grandfather Al-Harith bin Amr, that he met the Messenger of Allah ﷺ during the Farewell Pilgrimage, when he was atop his slit-eared camel. (He said): I said: O Messenger of Allah, May my father and mother be ransomed for you; pray for forgiveness for me. He said: May Allah forgive you (plural). Then I came to him from the other side, hoping that he would supplicate just for me alone, and not them. I said: O Messenger of Allah, pray for forgiveness for me. He said: May Allah forgive you (plural). Then a man among the people said: O Messenger of Allah, (what about) the Atirah and Fara? He said: Whoever wishes to offer and Atirah may do so, and whoever does not wish to, may not. Whoever wishes to offer a Fara may do so, and whoever does not wish to, may not. And with regard to sheep, a sacrifice should be offered. And he clasped between his fingers except for one.
ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4226
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٣٢٧٩) ، وقد أخرجہ : سنن ابی داود/المناسک ٩ (١٧٤٢) ، مسند احمد (٣/٤٨٥) (ضعیف) (اس کے راوی ” یحییٰ بن زرارہ “ لین الحدیث ہیں، مگر اس حدیث کے مضامین دیگر صحیح احادیث سے ثابت ہیں )