Sunan An Nasaiسنن النسائی

All 5,772 hadiths in order · Page 215 of 289

4272Sunan An Nasaiصحیح

اگر کتا شکار کو قتل کر دے؟

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زُنْبُورٍ أَبُو صَالِحٍ الْمَكِّيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ: أُرْسِلُ كِلَابِي الْمُعَلَّمَةَ فَيُمْسِكْنَ عَلَيَّ فَآكُلُ، قَالَ: إِذَا أَرْسَلْتَ كِلَابَكَ الْمُعَلَّمَةَ، فَأَمْسَكْنَ عَلَيْكَ فَكُلْ، قُلْتُ: وَإِنْ قَتَلْنَ ؟، قَالَ: وَإِنْ قَتَلْنَ، قَالَ: مَا لَمْ يَشْرَكْهُنَّ كَلْبٌ مِنْ سِوَاهُنَّ، قُلْتُ: أَرْمِي بِالْمِعْرَاضِ فَيَخْزِقُ ؟ قَالَ: إِنْ خَزَقَ فَكُلْ، وَإِنْ أَصَابَ بِعَرْضِهِ فَلَا تَأْكُلْ.

عدی بن حاتم (رض) کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں سدھائے ہوئے کتے چھوڑتا ہوں تو وہ میرے لیے شکار پکڑ کر لاتے ہیں، کیا میں اسے کھا سکتا ہوں ؟ آپ نے فرمایا : جب تم سدھائے ہوئے کتے چھوڑو (اور وہ تمہارے لیے شکار پکڑ کر لائیں) تو اسے کھالو ، میں نے عرض کیا : اگر وہ اسے مار ڈالیں ؟ آپ نے فرمایا : اگرچہ وہ اسے مار ڈالیں، مگر یہ اسی وقت جب کہ اس کے ساتھ کوئی اور کتا شریک نہ ہوا ہو ١ ؎ میں نے عرض کیا : میں معراض پھینکتا ہوں اور وہ (جانور کے جسم میں) گھس جاتا ہے ؟ آپ نے فرمایا : اگر وہ گھس جائے تو تم کھالو اور اگر وہ آڑا پڑے تو نہ کھاؤ۔

It was narrated that Adiyy bin Hatim said: "I said: O Messenger of Allah, I release my trained dogs and they catch (game) for me; can I eat It? He said: When you release your trained dogs and they catch (game) for you, then eat. I said: Even if they kill it. He said: So long as no other dogs have joined them." I said: I shoot with the Mirad. And they penetrate (the game). He said If they penetrate it, then eat, but if the broad said strikes it, then do not eat.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4267
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے کئی مسئلے معلوم ہوئے : ١- سدھائے ہوئے کتے کا شکار مباح اور حلال ہے۔ ٢- کتا سدھایا ہو یعنی اسے شکار کی تعلیم دی گئی ہو۔ ٣- اس سدھائے ہوئے کتے کو شکار کے لیے بھیجا گیا ہو، پس اگر وہ خود سے بلا بھیجے شکار کر لائے تو اس کا کھانا حلال نہیں، یہی جمہور علماء کا قول ہے۔ ٤- کتے کو شکار پر بھیجتے وقت بسم اللہ کہا گیا ہو۔ ٥- سدھائے کتے کے ساتھ کوئی دوسرا کتا شکار میں شریک نہ ہو اگر دوسرا شریک ہے تو حرمت کا پہلو غالب ہوگا اور یہ شکار حلال نہ ہوگا۔ ٦- کتا شکار میں سے کچھ نہ کھائے بلکہ اپنے مالک کے لیے محفوظ رکھے تب یہ شکار حلال ہوگا ورنہ نہیں۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم : ٤٢٧٠ (صحیح )
4273Sunan An Nasaiصحیح

اگر اپنے کتے کے ساتھ دوسرا کتا شامل ہوجائے جو بسم اللہ کہہ کر چھوڑا گیا ہو

أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ يَحْيَى بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي شُعَيْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْعَاصِمِ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّيْدِ ؟، فَقَالَ: إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ فَخَالَطَتْهُ أَكْلُبٌ لَمْ تُسَمِّ عَلَيْهَا، فَلَا تَأْكُلْ فَإِنَّكَ لَا تَدْرِي أَيَّهَا قَتَلَهُ.

عدی بن حاتم (رض) سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے شکار کے متعلق سوال کیا۔ آپ نے فرمایا : جب تم (شکار پر) اپنا کتا چھوڑو پھر اس کے ساتھ کچھ ایسے کتے بھی شریک ہوجائیں جن پر تم نے بسم اللہ نہیں پڑھی ہے تو تم اسے مت کھاؤ۔ اس لیے کہ تمہیں نہیں معلوم کہ اسے کس کتے نے قتل کیا ہے ۔

It was narrated from Adiyy bin Hatim that he asked the Messenger of Allah ﷺ about hunting and he said: "If you release your dog and other dogs over with you have not mentioned the name of Allah join him, then do not eat (what they catch), because you do not know which of them killed it (the game).

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4268
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم : ٤٢٦٨ (صحیح )
4274Sunan An Nasaiصحیح

جب تم اپنے کتے کے ساتھ دوسرے کتے کو پاؤ۔

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا وَهُوَ ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَامِرٌ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْكَلْبِ ؟، فَقَالَ: إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ فَسَمَّيْتَ فَكُلْ، وَإِنْ وَجَدْتَ كَلْبًا آخَرَ مَعَ كَلْبِكَ فَلَا تَأْكُلْ، فَإِنَّمَا سَمَّيْتَ عَلَى كَلْبِكَ، وَلَمْ تُسَمِّ عَلَى غَيْرِهِ.

عدی بن حاتم (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے کتے کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا : جب تم اپنے کتے کو چھوڑو اور اس پر بسم اللہ پڑھو تو اسے (شکار کو) کھاؤ اور اگر تم اپنے کتے کے ساتھ کوئی دوسرا کتا پاؤ تو مت کھاؤ اس لیے کہ تم نے صرف اپنے کتے پر بسم اللہ پڑھی تھی، دوسرے کتے پر نہیں ۔

It was narrated that Adiyy bin Hatim said: "I asked the Messenger of Allah ﷺ about dogs and he said: If you release your dog and say the name of Allah, then eat, but if you find another dog with your dog then do not eat, for you only said the name of Allah over your dog, not any other.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4269
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم : ٤٢٦٨ (صحیح )
4275Sunan An Nasaiصحیح

جب تم اپنے کتے کے ساتھ دوسرے کتے کو پاؤ۔

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الشَّعْبِيُّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ وَكَانَ لَنَا جَارًا، وَدَخِيلًا، وَرَبِيطًا بِالنَّهْرَيْنِ، أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أُرْسِلُ كَلْبِي فَأَجِدُ مَعَ كَلْبِي كَلْبًا قَدْ أَخَذَ لَا أَدْرِي أَيَّهُمَا أَخَذَ ؟، قَالَ: لَا تَأْكُلْ، فَإِنَّمَا سَمَّيْتَ عَلَى كَلْبِكَ، وَلَمْ تُسَمِّ عَلَى غَيْرِهِ.

شعبی کہتے ہیں کہ عدی بن حاتم (رض) نہرین میں ہمارے پڑوسی تھے، ہمارے گھر آتے جاتے تھے اور ایک زاہد شخص تھے، ان سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے پوچھا : میں اپنا کتا چھوڑتا ہوں تو میں اپنے کتے کے ساتھ ایک کتا دیکھتا ہوں جس نے شکار پکڑ رکھا ہے مجھے نہیں معلوم ہوتا کہ ان میں سے کس نے پکڑا ہے، آپ نے فرمایا : اسے مت کھاؤ، اس لیے کہ تم نے بسم اللہ صرف اپنے کتے پر پڑھی تھی، دوسرے پر نہیں ۔

It was narrated from Ash-Sha bi that; "Adiyy bin Hatim who was neighbor, Dakhilan and Rabitan at An-Nahrain narrated that he asked the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) Saying: I releaser my dog and I find another dog with my dog, and I do not know which of them caught (the game). He said: Do not eat, for your only said the name of Allah over your dog, and not over any other dog.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4270
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصید ١ (١٩٢٩) ، (تحفة الأشراف : ٩٨٦١) ، مسند احمد (٤/٢٥٦) (صحیح )
4276Sunan An Nasaiصحیح

جب تم اپنے کتے کے ساتھ دوسرے کتے کو پاؤ۔

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَنِالشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِ ذَلِكَ.

عدی بن حاتم (رض) اس سند سے بھی نبی اکرم ﷺ سے اسی جیسی روایت کرتے ہیں۔

It was narrated from Adiyy bin Hatim: A similar report was narrated from Adiyy bin Hatim.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4271
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصید ١ (١٩٢٩) ، (تحفة الأشراف : ٩٨٥٨) ، مسند احمد (٤/٢٥٧) (صحیح )
4277Sunan An Nasaiصحیح

جب تم اپنے کتے کے ساتھ دوسرے کتے کو پاؤ۔

أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو الْغَيْلَانِيُّ الْبَصْرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَهْزٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي السَّفَرِ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قُلْتُ: أُرْسِلُ كَلْبِي ؟، قَالَ: إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ فَسَمَّيْتَ فَكُلْ، وَإِنْ أَكَلَ مِنْهُ فَلَا تَأْكُلْ، فَإِنَّمَا أَمْسَكَ عَلَى نَفْسِهِ، وَإِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ فَوَجَدْتَ مَعَهُ غَيْرَهُ فَلَا تَأْكُلْ، فَإِنَّكَ إِنَّمَا سَمَّيْتَ عَلَى كَلْبِكَ، وَلَمْ تُسَمِّ عَلَى غَيْرِهِ.

عدی بن حاتم (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا : میں اپنا کتا چھوڑتا ہوں ؟ آپ نے فرمایا : جب تم اپنا کتا چھوڑو اور اس پر بسم اللہ پڑھ لو تو اسے (شکار کو) کھاؤ اور اگر اس نے اس (شکار) میں سے کچھ کھایا ہو تو تم اسے نہ کھاؤ، اس لیے کہ اسے اس کتے نے اپنے لیے شکار کیا ہے، اور جب تم اپنے کتے کو چھوڑو پھر اس کے ساتھ اس کے علاوہ (کوئی کتا) پاؤ تو اس شکار کو مت کھاؤ، اس لیے کہ تم نے بسم اللہ صرف اپنے کتے پر پڑھی ہے، دوسرے پر نہیں۔

It was narrated that Adiyy bin Hatim said: "I asked the Messenger of Allah ﷺ: I release my dog. He said: If you release your dog and mention the name of Allah, then eat. But it he has eaten some of it, the do not eats, for the caught it for himself. If you release your dog then you find another dog with it, then do not eat, for you said the name of Allah over your dog, and not over any other.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4272
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الوضوء ٣٣ (١٧٥) ، البیوع ٣ (٢٠٥٤) ، الصید ٢ (٥٤٧٦) ، (٥٤٨٦) ، صحیح مسلم/الصید ١ (١٩٢٩) ، سنن ابی داود/الصید ٢ (٢٨٥٤) ، (تحفة الأشراف : ٩٨٦٣) ، مسند احمد (٤/٣٨٠) سنن الدارمی/الصید ١ (٢٠٤٥) ، ویأتي عند المؤلف برقم : ٤٣١١) (صحیح )
4278Sunan An Nasaiصحیح

جب تم اپنے کتے کے ساتھ دوسرے کتے کو پاؤ۔

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي السَّفَرِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، وَعَنِ الْحَكَمِ، عَنِالشَّعْبِيِّ، وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قُلْتُ: أُرْسِلُ كَلْبِي فَأَجِدُ مَعَ كَلْبِي كَلْبًا آخَرَ لَا أَدْرِي أَيَّهُمَا أَخَذَ ؟، قَالَ: لَا تَأْكُلْ، فَإِنَّمَا سَمَّيْتَ عَلَى كَلْبِكَ، وَلَمْ تُسَمِّ عَلَى غَيْرِهِ.

عدی بن حاتم (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا : میں اپنا کتا چھوڑتا ہوں تو اپنے کتے کے ساتھ دوسرے کتے کو پاتا ہوں۔ مجھے نہیں معلوم کہ ان میں سے کس نے شکار کیا ؟ ۔ آپ نے فرمایا : اسے (شکار کو) مت کھاؤ، اس لیے کہ تم نے صرف اپنے کتے پر بسم اللہ پڑھی تھی، کسی دوسرے (کتے) پر نہیں ۔

It was narrated that Adiyy bin Hatim said: "I asked the Messenger of Allah ﷺ: I release my dog, and I find another dog with mine, and I do not know which mine, and I do not know which of them caught (the game). He said: do not eat it, for you said the name of Allah over your dog, but not over any other.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4273
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم : ٤٢٧٥، ٤٢٧٦، ٤٢٧٧ (صحیح )
4279Sunan An Nasaiصحیح

اگر کتا شکار میں سے کچھ کھالے تو کیا حکم ہے؟

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَهُوَ ابْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَنَا زَكَرِيَّا، وَعَاصِمٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَيْدِ الْمِعْرَاضِ ؟، فَقَالَ: مَا أَصَابَ بِحَدِّهِ فَكُلْ، وَمَا أَصَابَ بِعَرْضِهِ فَهُوَ وَقِيذٌ، قَالَ: وَسَأَلْتُهُ عَنْ كَلْبِ الصَّيْدِ ؟، فَقَالَ: إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ وَذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ فَكُلْ، قُلْتُ: وَإِنْ قَتَلَ ؟، قَالَ: وَإِنْ قَتَلَ، فَإِنْ أَكَلَ مِنْهُ فَلَا تَأْكُلْ، وَإِنْ وَجَدْتَ مَعَهُ كَلْبًا غَيْرَ كَلْبِكَ وَقَدْ قَتَلَهُ فَلَا تَأْكُلْ، فَإِنَّكَ إِنَّمَا ذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى كَلْبِكَ، وَلَمْ تَذْكُرْ عَلَى غَيْرِهِ.

عدی بن حاتم (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے معراض کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا : اگر وہ نوک سے مارا جائے تو کھالو اور اگر وہ آڑے سے مارا جائے تو وہ موقوذہ ہے (جو حرام ہے) ۔ میں نے آپ سے شکاری کتے کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا : جب تم اپنا کتا چھوڑو اور اس پر اللہ کا نام لے لو تو اسے (شکار کو) کھاؤ، میں نے عرض کیا : اگرچہ وہ اسے مار ڈالے ؟ آپ نے فرمایا : اگرچہ وہ اسے مار ڈالے، ہاں اگر اس میں سے اس نے بھی کھالیا تو تم مت کھاؤ اور اگر تم اس کے ساتھ اپنے کتے کے علاوہ کوئی کتا دیکھو اور اس نے شکار مار ڈالا ہو تو مت کھاؤ، اس لیے کہ تم نے اللہ کا نام صرف اپنے کتے پر لیا تھا کسی اور کتے پر نہیں ۔

It was narrated that Adiyy bin Hatim said: "I asked the Messenger of Allah ﷺ about hunting with the Mirad. He said: whatever is struck with the sharp edge, eat, and whatever is hit with its broad side, it is an animal killed by a blow. "" He said: "And I asked him about hunting dogs. He said: If you release your dog and mention the name of Allah over it, then eat., I said: Even if he kills it? He said: Even if he kills it?" He said: Even if he kills it. But if he has eaten some of it, then do not eat. And if you find another dog with your dog and he has killed (the game), then do not eat, for you only said the name of Allah over your dog, not over your dog, not over any other.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4274
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم : ٤٦٦٩ (صحیح )
4280Sunan An Nasaiصحیح

اگر کتا شکار میں سے کچھ کھالے تو کیا حکم ہے؟

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي شُعَيْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْعَاصِمِ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ الطَّائِيِّ، أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّيْدِ ؟، قَالَ: إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ فَذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ، فَقَتَلَ وَلَمْ يَأْكُلْ فَكُلْ، وَإِنْ أَكَلَ مِنْهُ فَلَا تَأْكُلْ، فَإِنَّمَا أَمْسَكَهُ عَلَيْهِ، وَلَمْ يُمْسِكْ عَلَيْكَ.

عدی بن حاتم (رض) سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے شکار کے بارے میں پوچھا، تو آپ نے فرمایا : جب تم اپنے کتے کو چھوڑو اور اس پر اللہ کا نام لے لو پھر وہ اسے مار ڈالے اور اس نے اس میں سے کچھ نہ کھایا ہو تو تم کھاؤ، اور اگر اس نے اس میں سے کچھ کھایا ہو تو مت کھاؤ اس لیے کہ اس نے اسے اپنے لیے پکڑا ہے نہ کہ تمہارے لیے ۔

It was narrated from Adiyy bin Hatim At-Tai that: he asked the Messenger of Allah ﷺ about hunting. He said: "If you release your dog and mention the name of Allah over him, and he kills (the game), but does not eat any of it, then eat. But if he has eaten form it, then do not eat, for he caught it for himself, and not for you.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4275
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم : ٤٢٦٨ (صحیح )
4281Sunan An Nasaiصحیح

کتوں کو مارنے کا حکم

أَخْبَرَنَا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ السَّبَّاقِ، قَالَ: أَخْبَرَتْنِي مَيْمُونَةُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَالَ لَهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام: لَكِنَّا لَا نَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ، وَلَا صُورَةٌ. فَأَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ، فَأَمَرَ بِقَتْلِ الْكِلَابِ، حَتَّى إِنَّهُ لَيَأْمُرُ بِقَتْلِ الْكَلْبِ الصَّغِيرِ.

ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے جبرائیل (علیہ السلام) نے فرمایا : لیکن ہم ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا ہو اور مجسمہ (مورت) ہو ۔ اس دن جب صبح ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے کتوں کو مار ڈالنے کا حکم دیا، یہاں تک کہ آپ چھوٹے چھوٹے کتوں (پلوں) کو بھی مارنے کا حکم دے رہے تھے ١ ؎۔

It was narrated that Az-Zuhri said: "Ibn As-Sabbaq said: "Maimunah told me that Jibril, peace be upon him, said to the Messenger of Allah ﷺ We (Angles) do not enter a house in which there is a dog or a picture, The next day the Messenger of Allah ﷺ commanded that all dogs be killed, even small dogs.

صحيح بلفظ يقتل کلب الحائط الصغير ويترك كلب الحائط الكبيرصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4276
Notes · وضاحت
١ ؎: صحیح مسلم کے الفاظ یہ ہیں چھوٹے باغوں کے کتوں کو مارنے اور بڑے باغوں کے کتوں کو چھوڑ دینے کا حکم دے رہے تھے، بعد میں یہ حکم منسوخ ہوگیا، اور صرف کالے کتوں کو مارنے کا حکم دیا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١٨٠٧٥) (صحیح) (یہ حدیث صحیح مسلم (٢١٠٥) ، سنن ابی داود (٤١٥٧) میں بسند عبید بن السباق عن ابن عباس عن میمونہ آئی ہے ۔
4282Sunan An Nasaiصحیح

کتوں کو مارنے کا حکم

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَمَرَ بِقَتْلِ الْكِلَابِ غَيْرَ مَا اسْتَثْنَى مِنْهَا.

عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے کتوں کو مار ڈالنے کا حکم دیا سوائے ان (کتوں) کے جو اس حکم سے مستثنی (الگ) ہیں ١ ؎۔

It was narrated from Ibn Umar that: the Messenger of Allah ﷺ commanded that dogs be killed, except those which were exempted.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4277
Notes · وضاحت
١ ؎: جیسے کھیتی، مویشی اور شکار کے کتے، لیکن بعد میں یہ حکم بھی منسوخ ہوگیا، اور صرف کالے کتوں کو مارنے کا حکم برقرار رہا، لیکن عام کتوں کو بھی بغیر ضرورت پالنے کو ناپسندیدہ عمل قرار دیا گیا (دیکھئیے اگلی حدیث) ۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/بدء الخلق ١٧ (٣٣٢٣) ، صحیح مسلم/المساقاة ١٠ (١٥٧٠) ، سنن ابن ماجہ/الصید ١(٣٢٠٢) ، (تحفة الأشراف : ٨٣٤٩) ، موطا امام مالک/الاستئذان ٥ (١٤) ، مسند احمد (٢/٢٢- ٢٣، ١١٣، ١٣٢، ١٣٦) ، سنن الدارمی/الصید ٣ (٢٠٥٠) (صحیح )
4283Sunan An Nasaiصحیح

کتوں کو مارنے کا حکم

أَخْبَرَنَا وَهْبُ بْنُ بَيَانٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، قَالَ: قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَافِعًا صَوْتَهُ: يَأْمُرُ بِقَتْلِ الْكِلَابِ، فَكَانَتِ الْكِلَابُ تُقْتَلُ إِلَّا كَلْبَ صَيْدٍ، أَوْ مَاشِيَةٍ.

عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اونچی آواز سے کتوں کو مار ڈالنے کا حکم فرماتے سنا، چناچہ کتے مار دیے جاتے سوائے شکاری کتوں کے یا جو جانوروں کی رکھوالی کرتے ہوتے۔

Salim bin Abdullah narrated that his father said: "I heard the Messenger of Allah ﷺ raise his voice with the command to kill dogs. All dogs were to be killed except dogs used for hunting or herding livestock.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4278
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الصید ١ (٣٢٠٣) ، (تحفة الأشراف : ٧٠٠٢) ، مسند احمد (٢/١٣٣) (صحیح )
4284Sunan An Nasaiصحیح

کتوں کو مارنے کا حکم

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَمْرٍو، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَمَرَ بِقَتْلِ الْكِلَابِ إِلَّا كَلْبَ صَيْدٍ، أَوْ كَلْبَ مَاشِيَةٍ.

عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے شکاری، یا جانوروں کی رکھوالی کرنے والے کتوں کے سوا باقی کتوں کو مار ڈالنے کا حکم دیا۔

It was narrated form Ibn Umar that: the Messenger of Allah ﷺ commanded that all dogs be killed except dogs used for hunting or herding livestock.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4279
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساقاة ١١ (١٥٧١) ، سنن الترمذی/الصید ٤ (١٤٨٨) ، (تحفة الأشراف : ٧٣٥٣) (صحیح )
4285Sunan An Nasaiصحیح

آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کس طرح کے کتے کو ہلاک کرنے کا حکم فرمایا؟

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَوْلَا أَنَّ الْكِلَابَ أُمَّةٌ مِنَ الْأُمَمِ لَأَمَرْتُ بِقَتْلِهَا، فَاقْتُلُوا مِنْهَا الْأَسْوَدَ الْبَهِيمَ، وَأَيُّمَا قَوْمٍ اتَّخَذُوا كَلْبًا لَيْسَ بِكَلْبِ حَرْثٍ، أَوْ صَيْدٍ، أَوْ مَاشِيَةٍ، فَإِنَّهُ يَنْقُصُ مِنْ أَجْرِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطٌ.

عبداللہ بن مغفل (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اگر یہ بات نہ ہوتی کہ کتے بھی امتوں (مخلوقات) میں سے ایک امت (مخلوق) ہیں ١ ؎ تو میں ان سب کو قتل کا ضرور حکم دیتا، اس لیے تم ان میں سے بالکل کالے کتے کو (جس میں کسی اور رنگ کی ذرا بھی ملاوٹ نہ ہو) قتل کرو، اس لیے کہ جن لوگوں نے بھی کھیت، شکار یا جانوروں کی رکھوالی کرنے والے کتوں کے علاوہ کسی کتے کو رکھا تو ان کے اجر میں سے روزانہ ایک قیراط کم ہوتا ہے ٢ ؎۔

It was narrated form Abdullah bin Mughaffal that the Messenger of Allah ﷺ said: "Were it not that dogs form one of the communities (or nations of creatures), I would have commanded that they be killed. But kill those that are all black. Any people who keep a dog, except for dogs used for farming, hunting or herding livestock, one Qirat will be deducted from their reward each day.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4280
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اللہ تعالیٰ کی دیگر مخلوقات کی طرح یہ بھی ایک مخلوق ہیں۔ ٢ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ چوپایوں کی نگہبانی، زمین جائیداد کی حفاظت اور شکار کی خاطر کتوں کا پالنا درست ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصید ١(٢٨٤٥) ، سنن الترمذی/الصید ٣(١٤٨٦) ، ٤(١٤٨٩) ، سنن ابن ماجہ/الصید ٢(٣٢٠٥) ، (تحفة الأشراف : ٩٦٤٩) مسند احمد (٤/٨٥، ٨٦ و ٥/٥٤، ٥٦، ٥٧) ، سنن الدارمی/الصید ٣ (٢٠٥١) ، ویأتي عند المؤلف برقم : ٤٢٩٣ (صحیح )
4286Sunan An Nasaiضعیف

جس مکان میں کتا موجود ہو وہاں پر فرشتوں کا داخل نہ ہو نا

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَليِّ بْنِ مُدْرِكٍ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُجَيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الْمَلَائِكَةُ لَا تَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ، وَلَا كَلْبٌ، وَلَا جُنُبٌ.

علی بن ابی طالب (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ملائکہ (فرشتے) ١ ؎ اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں تصویر (مجسمہ) ہو یا کتا ہو یا جنبی (ناپاک شخص) ہو ٢ ؎۔

It was narrated from Ali bin Abi Talib that the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "The angels do not enter a house in which there is a picture, a dog or a person who is Junub.

صحيح ق دون قوله ولا جنبصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4281
Notes · وضاحت
١ ؎: فرشتوں سے مراد رحمت کے فرشتے ہیں نہ کہ حفاظت کرنے والے فرشتے، کیونکہ حفاظت کرنے والے فرشتوں کا کسی انسان یا انسان کے رہنے والی جگہ سے دور رہنا ممکن نہیں۔ ٢ ؎: حدیث میں صحت و ثبوت ہونے کے اعتبار سے جنبی کا لفظ منکر یعنی ضعیف ہے اور کتا سے مراد شکار، کھیتی یا جانوروں کی حفاظت کے مقصد سے پالے جانے والے کتوں کے علاوہ کتے مراد ہیں، اور تصویر سے وہ تصویریں مراد ہیں جس کا سایہ ہوتا ہے، یعنی ہاتھ سے بنائے ہوئے مجسمے، یا دیواروں پر لٹکائی جانے والی کاغذ پر بنی ہوئی تصویریں ہیں، کرنسی نوٹوں، کتابوں اور رسائل و جرائد میں بنی ہوئی تصویروں سے بچنا اس زمانہ میں بڑا مشکل بلکہ محال ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم : ٢٦٢ (ضعیف) ” حدیث ولا جنب کے لفظ سے ضعیف ہے) (اس کے راوی ” نجی “ لین الحدیث ہیں، لیکن اگلی روایت سے یہ حدیث صحیح ہے، مگر اس میں ” جنبی “ کا لفظ نہیں ہے )
4287Sunan An Nasaiصحیح

جس مکان میں کتا موجود ہو وہاں پر فرشتوں کا داخل نہ ہو نا

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، وَإِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، عَنِ سُفْيَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْأَبِي طَلْحَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ، وَلَا صُورَةٌ.

ابوطلحہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ایسے گھر میں فرشتے داخل نہیں ہوتے جس میں کتے، یا تصاویر (مجسمے) ہوں ۔

It was narrated that Abu Talhah said: "The Messenger of Allah ﷺ said: ; The angels do not enter a house in which there is a dog or a picture.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4282
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/بدء الخلق ٧ (٣٢٢٥) ، ١٧(٣٣٢٢) ، المغازي ١٢ (٤٠٠٢) ، اللباس ٨٨ (٥٩٤٩) ، ٩٢ (٥٩٧٥) ، صحیح مسلم/اللباس ٢٦ (٢١٠٦) ، سنن ابی داود/اللباس ٤٨ (٤١٥٣) ، سنن الترمذی/الأدب ٤٤ (٢٨٠٤) ، سنن ابن ماجہ/اللباس ٤٤ (٣٦٤٩) ، (تحفة الأشراف : ٣٧٧٩) ، مسند احمد (٤/٢٨، ٢٩، ٣٠) ویأتي عند المؤلف في الزینة ١١١ (بأرقام ٥٣٤٩، ٥٣٥٠) (صحیح )
4288Sunan An Nasaiصحیح

جس مکان میں کتا موجود ہو وہاں پر فرشتوں کا داخل نہ ہو نا

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ خَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ السَّبَّاقِ، عَنِابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: أَخْبَرَتْنِي مَيْمُونَةُ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصْبَحَ يَوْمًا وَاجِمًا، فَقَالَتْ لَهُ مَيْمُونَةُ: أَيْ رَسُولَ اللَّهِ لَقَدِ اسْتَنْكَرْتُ هَيْئَتَكَ مُنْذُ الْيَوْمَ. فَقَالَ: إِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام كَانَ وَعَدَنِي أَنْ يَلْقَانِي اللَّيْلَةَ فَلَمْ يَلْقَنِي، أَمَا وَاللَّهِ مَا أَخْلَفَنِي. قَالَ: فَظَلَّ يَوْمَهُ كَذَلِكَ، ثُمَّ وَقَعَ فِي نَفْسِهِ جَرْوُ كَلْبٍ تَحْتَ نَضَدٍ لَنَا، فَأَمَرَ بِهِ، فَأُخْرِجَ، ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِهِ مَاءً فَنَضَحَ بِهِ مَكَانَهُ، فَلَمَّا أَمْسَى لَقِيَهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَدْ كُنْتَ وَعَدْتَنِي أَنْ تَلْقَانِي الْبَارِحَةَ. قَالَ: أَجَلْ، وَلَكِنَّا لَا نَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ، وَلَا صُورَةٌ. قَالَ: فَأَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ ذَلِكَ الْيَوْمِ فَأَمَرَ بِقَتْلِ الْكِلَابِ.

ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک روز صبح کو رسول اللہ ﷺ بہت غمگین اور اداس اٹھے، میمونہ رضی اللہ عنہا نے آپ سے عرض کیا : اللہ کے رسول ! مجھے آپ کی حالت آج کچھ بدلی بدلی عجیب و غریب لگ رہی ہے، آپ نے فرمایا : جبرائیل نے مجھ سے رات میں ملنے کا وعدہ کیا تھا، لیکن وہ ملنے نہیں آئے، اللہ کی قسم ! انہوں نے کبھی وعدہ خلافی نہیں کی ، آپ اس دن اسی طرح (غمزدہ) رہے، پھر آپ کو کتے کے ایک بچے (پلے) کا خیال آیا جو ہمارے تخت کے نیچے تھا، آپ نے حکم دیا تو اسے نکالا گیا پھر آپ نے اپنے ہاتھ میں پانی لے کر اس سے اس جگہ پر چھینٹے مارے، پھر جب شام ہوئی تو آپ کو جبرائیل (علیہ السلام) ملے، رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا : آپ نے مجھ سے گزشتہ رات ملنے کا وعدہ کیا تھا ؟ انہوں نے فرمایا : جی ہاں، لیکن ہم ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جہاں کتا ہو یا تصویر (مجسمہ) ہو، پھر جب صبح ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے کتوں کو مار ڈالنے کا حکم دیا۔

Maimunah (RA), the wife of the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) narrated: "The Messenger of Allah ﷺ was upset one morning and Maimunah said to him: "O Messenger of Allah, you look upset today., He said: Jibril علیہ السلام, had promised to meet me last night but he did not come, and by Allah, he never failed to keep an appointment,; The day passed, then he thought of a puppy that was beneath a table of ours. He ordered that it be taken out, and then he took some water In his hand and sprinkled it over the place where it had been. That evening, Jibril, peace be upon him, came and met him. The Messenger of Allah ﷺ said to him: You [promised to meet me last night,; He said: Yes, but we do not enter a house in which there is a dog or a picture,; the next day the Messenger of Allah ﷺ Commanded that dogs be killed.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4283
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/اللباس ٢٦ (٢١٠٥) ، سنن ابی داود/اللباس ٤٨ (٤١٥٧) ، (تحفة الأشراف : ١٨٠٦٨) ، مسند احمد (٦/٣٣٠) (صحیح )
4289Sunan An Nasaiصحیح

جانوروں کے گلے کی حفاظت کی خاطر کتا پالنے کی اجازت

أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرِ بْنِ سُوَيْدٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ وَهُوَ ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ حَنْظَلَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ سَالِمًا يُحَدِّثُ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنِ اقْتَنَى كَلْبًا نَقَصَ مِنْ أَجْرِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطَانِ إِلَّا ضَارِيًا، أَوْ صَاحِبَ مَاشِيَةٍ.

عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس نے کوئی کتا پالا تو روزانہ اس کے اجر سے دو قیراط اجر کم ہوگا، سوائے شکاری یا جانوروں کی رکھوالی کرنے والے کتے کے ۔

It was narrated that IbnUmar said: "The Messenger of Allah ﷺ said: whoever keeps a dog, two Qirats will be detracted from his reward each day, except a trained hunting dog, or a dog for herding livestock.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4284
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصید ٦ (٥٤٨٠) ، صحیح مسلم/المساقاة ١٠(١٥٧٤) ، (تحفة الأشراف : ٦٧٥٠) مسند احمد (٢/٤٧، ١٥٦) (صحیح )
4290Sunan An Nasaiصحیح

جانوروں کے گلے کی حفاظت کی خاطر کتا پالنے کی اجازت

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرِ بْنِ إِيَاسِ بْنِ مُقَاتِلِ بْنِ مُشَمْرِجِ بْنِ خَالِدٍ السَّعْدِيُّ، عَنْ إِسْمَاعِيل وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ يَزِيدَ وَهُوَ ابْنُ خُصَيْفَةَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي السَّائِبُ بْنُ يَزِيدَ، أَنَّهُ وَفَدَ عَلَيْهِمْ سُفْيَانُ بْنُ أَبِي زُهَيْرٍ الشَّنَائِيُّ، وَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنِ اقْتَنَى كَلْبًا لَا يُغْنِي عَنْهُ زَرْعًا، وَلَا ضَرْعًا نَقَصَ مِنْ عَمَلِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطٌ. قُلْتُ: يَا سُفْيَانُ، أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟، قَالَ: نَعَمْ وَرَبِّ هَذَا الْمَسْجِدِ.

سائب بن یزید (رض) کہتے ہیں کہ سفیان بن ابی زہیر شنائی (رض) ہمارے پاس آئے اور کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے : جس نے ایسا کتا پالا جو نہ کھیت کی حفاظت کرے اور نہ جانوروں کی تو اس کے عمل میں سے ہر روز ایک قیراط کم ہوگا ، میں نے عرض کیا : سفیان ! کیا آپ نے اسے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے ؟ انہوں نے کہا : جی ہاں، اس مسجد کے رب کی قسم ! ١ ؎۔

As-Saib bin Yazid narrated that Surfyan bin Abi Zuhair Ash-Shanai I came to visit them and said: "The Messenger of Allah ﷺ said: Whoever keeps a dog which he does not need for farming or livestock, one Qirt will be deducted from his (good) deeds each day. It was said to him: did you hear this from the Messenger of Allah ﷺ He said: Yes, by the Lord of this Masjid.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4285
Notes · وضاحت
١ ؎: ایک قیراط اور دو قیراط کا اختلاف شاید زمان و مکان کے اعتبار سے ہے، چناچہ ابتداء میں کتوں کے قتل کا حکم ہوا پھر یہ حکم منسوخ ہوگیا اور ثواب میں سے دو قیراط کی کمی کی خبر دی گئی پھر اس میں تخفیف ہوئی اور ایک قیراط کی خبر دی گئی (واللہ اعلم) ۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحرث ٣ (٢٣٢٣) ، بدء الخلق ١٧ (٣٣٢٥) ، صحیح مسلم/المساقاة ١٠ (١٥٧٦) ، سنن ابن ماجہ/الصید ٢ (٣٢٠٦) ، (تحفة الأشراف : ٤٤٧٦) ، موطا امام مالک/الإستئذان ٥ (١٣) ، مسند احمد (٥/٢١٩، ٢٢٠) ، سنن الدارمی/الصید ٢ (٢٠٤٨) (صحیح )
4291Sunan An Nasaiصحیح

شکار کرنے کے واسطے کتا پالنے کی اجازت سے متعلق

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ سَمِعَهُ، يَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ أَمْسَكَ كَلْبًا إِلَّا كَلْبًا ضَارِيًا، أَوْ كَلْبَ مَاشِيَةٍ نَقَصَ مِنْ أَجْرِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطَانِ.

عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس نے شکار کرنے والے کتے یا جانوروں کی دیکھ بھال کرنے والے کتے کے سوا کوئی کتا پالا تو روزانہ اس کا اجر دو قیراط کم ہوگا ۔

It was narrated that Ibn Umar said: "The Messenger of Allah ﷺ said: whoever keeps a dog except one that is trained for hunting or a dog for herding livestock, two Qirats will be deducted from his reward each day.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4286
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٨٣١٦) (صحیح )