Sunan An Nasaiسنن النسائی

All 5,772 hadiths in order · Page 208 of 289

4132Sunan An Nasaiصحیح

مسلمان کا خون حرام ہونا

أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْمُسْلِمٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ، وَلَا يُؤْخَذُ الرَّجُلُ بِجَرِيرَةِ أَبِيهِ، وَلَا بِجَرِيرَةِ أَخِيهِ.

عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم میرے بعد کافر نہ ہوجانا کہ آپس میں ایک دوسرے کی گردنیں مارو، کوئی شخص اپنے باپ کے گناہ کی وجہ سے نہ پکڑا جائے گا اور نہ ہی اس کے بھائی کے گناہ کی وجہ سے ۔

It was narrated that Abdullah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Do not revert to disbelievers after I am gone, striking the necks of one another (killing one another). No man is to be punished for the sins of his father, or the sins of his brother.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4127
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم : ٤١٣١ (صحیح )
4133Sunan An Nasaiصحیح

مسلمان کا خون حرام ہونا

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا أُلْفِيَنَّكُمْ تَرْجِعُونَ بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ، لَا يُؤْخَذُ الرَّجُلُ بِجَرِيرَةِ أَبِيهِ، وَلَا بِجَرِيرَةِ أَخِيهِ. هَذَا الصَّوَابُ.

مسروق کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میں تمہیں اس طرح نہ پاؤں کہ تم میرے بعد کافر ہوجاؤ کہ تم ایک دوسرے کی گردنیں مارو، آدمی سے نہ اس کے باپ کے جرم و گناہ کا مواخذہ ہوگا اور نہ ہی اس کے بھائی کے جرم و گناہ کا ۔ یہی صحیح ہے ١ ؎۔

It was narrated that Masruq said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: I do not want to see you after I am gone reverting to disbelievers, striking the necks of one another (killing one another). No man is punished for the crime of his father, or the crime of his brother." This is correct.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4128
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی مسروق کی سند سے مرسل روایت ہی صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم : ٤١٣١ (صحیح) (اس لیے کہ یہ روایت مرسل ہے )
4134Sunan An Nasaiصحیح

مسلمان کا خون حرام ہونا

أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا. مُرْسَلٌ.

مسروق کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میرے بعد کافر نہ ہوجانا ۔ (یہ حدیث) مرسل ہے۔

It was narrated from Masruq that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Do not revert to disbelievers after I am gone". It is Mursal.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4129
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم : ٤١٣١(صحیح) (مسروق نے صحابی کا ذکر نہیں کیا، اس لیے یہ روایت بھی مرسل ہے، لیکن دوسرے طرق سے تقویت پاکر حدیث صحیح ہے )
4135Sunan An Nasaiصحیح

مسلمان کا خون حرام ہونا

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيل، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي ضُلَّالًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ.

ابوبکرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم میرے بعد کافر نہ ہوجانا کہ آپس میں ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو ۔

It was narrated from Abu Bakrah that: The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Do not revert to misguidance after I am gone, striking the necks of one another (killing one another).

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4130
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١١٧٠٠) ، وقد أخرجہ : سنن ابی داود/المناسک ٦٨ (١٩٤٧) مسند احمد (٥/٣٧، ٤٤، ٤٥، ٤٩) (صحیح )
4136Sunan An Nasaiصحیح

مسلمان کا خون حرام ہونا

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُدْرِكٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا زُرْعَةَ بْنَ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ جَرِيرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ اسْتَنْصَتَ النَّاسَ، قَالَ: لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ.

جریر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حجۃ الوداع میں لوگوں کو خاموش کیا اور فرمایا : میرے بعد تم کافر نہ ہوجانا کہ تم ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو ۔

It was narrated from Jarir that : During the Farewell Pilgrimage, the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) asked the people to be quiet and listen, and said: "Do not revert to disbelievers after I am gone, striking the necks of one another (killing one another).

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4131
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/العلم ٤٣ (١٢١) ، المغازي ٧٧ (٤٤٠٥) ، الدیات ٢ (٦٨٦٩) ، الفتن ٨ (٧٠٨٠) ، صحیح مسلم/الإیمان ٢٩ (٦٥) ، سنن ابن ماجہ/الفتن ٥ (٣٩٤٢) ، (تحفة الأشراف : ٣٢٣٦) ، مسند احمد (٤/٣٥٨، ٣٦٣، ٣٦٦) ، سنن الدارمی/المناسک ٧٦ ١٩٦٢) (صحیح )
4137Sunan An Nasaiصحیح

مسلمان کا خون حرام ہونا

أَخْبَرَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ أَبِي السَّفَرِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل، عَنْ قَيْسٍ، قَالَ: بَلَغَنِي أَنَّجَرِيرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اسْتَنْصِتِ النَّاسَ، ثُمَّ قَالَ: لَا أُلْفِيَنَّكُمْ بَعْدَ مَا أَرَى تَرْجِعُونَ بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ.

جریر بن عبداللہ (رض) کہتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : لوگوں سے خاموش رہنے کو کہو ، پھر فرمایا : اس کے بعد جب میں تمہیں دیکھوں (قیامت کے روز) تو ایسا نہ پاؤں کہ تم کافر ہوجاؤ اور ایک دوسرے کی گردنیں مارو ۔

It was narrated that Jarir bin Abdullah said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said to me: Ask the people to be quiet and listen. Then he said: I do not want to see you after I am gone reverting to disbelievers, striking the necks of one another (killing one another).

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4132
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٣٢٤٤) (صحیح )
4138Sunan An Nasaiصحیح

مال فئے کی تقسیم

أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَمَّالُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ، أَنَّ نَجْدَةَ الْحَرُورِيَّ حِينَ خَرَجَ فِي فِتْنَةِ ابْنِ الزُّبَيْرِ، أَرْسَلَ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَسْأَلُهُ عَنْ سَهْمِ ذِي الْقُرْبَى: لِمَنْ تُرَاهُ ؟، قَالَ: هُوَ لَنَا لِقُرْبَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَسَمَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهُمْ، وَقَدْ كَانَ عُمَرُ عَرَضَ عَلَيْنَا شَيْئًا رَأَيْنَاهُ دُونَ حَقِّنَا فَأَبَيْنَا، أَنْ نَقْبَلَهُ، وَكَانَ الَّذِي عَرَضَ عَلَيْهِمْ، أَنْ يُعِينَ نَاكِحَهُمْ، وَيَقْضِيَ عَنْ غَارِمِهِمْ، وَيُعْطِيَ فَقِيرَهُمْ، وَأَبَى أَنْ يَزِيدَهُمْ عَلَى ذَلِكَ.

یزید بن ہرمز سے روایت ہے کہ نجدہ حروری جب عبداللہ بن زبیر کے عہد میں شورش و ہنگامہ کے ایام میں (حج کے لیے) نکلا ٢ ؎ تو اس نے ابن عباس (رض) کے پاس ایک شخص کو بھیجا کہ وہ ان سے معلوم کرے کہ (مال غنیمت میں سے) ذی القربی کا حصہ (اب) کس کو ملنا چاہیئے ٣ ؎، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ سے قربت کے سبب وہ ہمارا ہے، رسول اللہ ﷺ نے اسے انہیں قرابت والوں میں تقسیم کیا تھا، اور عمر (رض) نے ہمیں ہمارے حق سے کچھ کم حصہ دیا تھا تو ہم نے اسے قبول نہیں کیا، اور جو بات انہوں نے جواز میں پیش کی وہ یہ تھی کہ وہ اس کے ذریعہ (رسول اللہ ﷺ کے قرابت داروں کا) نکاح کرانے والوں کی مدد کریں گے، اور ان کے قرض داروں کا قرض ادا کیا جائے گا اور ان کے فقراء و مساکین کو دیا جائے گا، اور اس سے زائد دینے سے انکار کردیا۔

It was narrated from Yazid bin Hurmuz that: when Najdah Al-Haruriyyah rebelled during the Fitnah of Ibn Zubayr, he sent word to Ibn Abbas asking him about the share of the relatives (of the Messenger of Allah) -to whom did he think it should be given? He replied: "It is for us, because of our blood ties to the Messenger of Allah allocated it to them, but Umar offered us something we thought was less than what was our due, and we refused to accept it. What he offered to them who wanted to get married, and to help the debtors pay off their debts, and he gave to their indigent. But he refused to give them more than that.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4133
Notes · وضاحت
١ ؎: مال فئی اس مال کو کہتے ہیں جو مسلمانوں کو کفار سے جنگ و جدال کئے بغیر حاصل ہو، لیکن مؤلف نے اس میں فیٔ اور غنیمت دونوں سے متعلق احادیث ذکر کی ہیں، اور پہلی حدیث میں فیٔ کے ساتھ ساتھ غنیمت میں سے بھی رسول اللہ ﷺ کے ذوی القربی کے حصے کی بابت سوال کیا گیا ہے۔ ٢ ؎: یہ اس وقت کی بات ہے جب کہ حجاج نے مکہ پر چڑھائی کر کے عبداللہ بن زبیر (رض) کو قتل کیا تھا۔ ٣ ؎: رسول اللہ ﷺ نے مال غنیمت سے ذوی القربی کا حصہ اپنے رشتہ داروں میں تقسیم کیا تھا، آپ کی وفات کے بعد سوال یہ پیدا ہوا کہ یہ حصہ رسول اللہ ﷺ کے رشتہ داروں کا تھا یا امام وقت کے رشتہ داروں کا ؟ ابن عباس (رض) کا خیال تھا (نیز قرآن کا سیاق بھی اسی کی تائید کرتا ہے) کہ یہ رسول اللہ ﷺ کے رشتہ داروں کا تھا اور اب بھی ہے اس لیے ہمیں ملنا چاہیئے، جب کہ عمر (رض) نے آپ کے رشتہ داروں کے ہاتھ میں نہ دے کر خود ہی آپ کے رشتہ داروں کی ضروریات میں خرچ کیا، ابوبکر اور عمر (رض) کا موقف بھی یہی تھا کہ امام وقت ہی اس خمس (غنیمت کے پانچویں حصہ) کو رسول اللہ ﷺ کے رشتہ داروں میں خرچ کرے گا۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الجہاد ٤٨ (١٨١٢) ، سنن ابی داود/الخراج ٢٠(٢٩٨٢) ، سنن الترمذی/السیر ٨ (١٥٥٦) ، (تحفة الأشراف : ٦٥٥٧) ، مسند احمد (١/٢٤٨، ٢٩٤، ٣٠٨، ٣٢٠، ٣٤٤، ٣٤٩، ٣٥٢) ، سنن الدارمی/السیر ٣٢ (٢٥١٤) (صحیح )
4139Sunan An Nasaiصحیح

مال فئے کی تقسیم

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَهُوَ ابْنُ هَارُونَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق، عَنِ الزُّهْرِيِّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ، قَالَ: كَتَبَ نَجْدَةُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَسْأَلُهُ عَنْ سَهْمِ ذِي الْقُرْبَى: لِمَنْ هُوَ ؟، قَالَ يَزِيدُ بْنُ هُرْمُزَ: وَأَنَا كَتَبْتُ كِتَابَ ابْنِ عَبَّاسٍ إِلَى نَجْدَةَ كَتَبْتُ إِلَيْهِ: كَتَبْتَ تَسْأَلُنِي عَنْ سَهْمِ ذِي الْقُرْبَى: لِمَنْ هُوَ ؟ وَهُوَ لَنَا أَهْلَ الْبَيْتِ، وَقَدْ كَانَ عُمَرُ دَعَانَا إِلَى أَنْ يُنْكِحَ مِنْهُ أَيِّمَنَا، وَيُحْذِيَ مِنْهُ عَائِلَنَا، وَيَقْضِيَ مِنْهُ عَنْ غَارِمِنَا، فَأَبَيْنَا إِلَّا أَنْ يُسَلِّمَهُ لَنَا، وَأَبَى ذَلِكَ، فَتَرَكْنَاهُ عَلَيْهِ.

یزید بن ہرمز کہتے ہیں کہ نجدہ نے ابن عباس (رض) کو یہ سوال لکھا کہ (نبی اکرم ﷺ کے) رشتہ داروں کا حصہ (آپ کے بعد) کس کا ہے ؟ نجدہ کے پاس ابن عباس (رض) کا جواب میں نے ہی لکھ کر بھیجا، میں نے لکھا کہ تم نے یہ سوال مجھے لکھ کر بھیجا ہے کہ (نبی اکرم ﷺ کے) رشتہ داروں کا حصہ کس کا ہے ؟ وہ ہم اہل بیت کا ہے۔ البتہ عمر (رض) نے ہم سے کہا کہ وہ اس مال سے ہماری بیواؤں کا نکاح کرائیں گے، اس کو ہمارے فقراء و مساکین پر خرچ کریں گے اور ہمارے قرض داروں کا قرض ادا کریں گے، لیکن ہم اصرار کرتے رہے کہ وہ ہم ہی کو دیا جائے، تو انہوں نے اس سے انکار کیا، لہٰذا ہم نے اسے انہیں پر چھوڑ دیا۔

It was narrated that Yazid bin Hurmuz said: "Najdah wrote to Ibn Abbas and asked him about the share of the relatives (of the Messenger of Allah), to whom should it be given? Yazid bin Hurmuz said:"I wrote down the letter of Ibn Abbas to Najdah in which he said; You have written asking me about the share of the relatives (of the Messenger of Allah), to whom should it be given? It is for us, the members of the household (Ahl Al-Bait). Umar used to offer to help the single among us (to get married), and to give some to our poor and to pay off the debts of our debtors. We insisted that he should given it to us, but he refused, and we left it at that.

صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4134
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح )
4140Sunan An Nasaiصحیح

مال فئے کی تقسیم

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا مَحْبُوبٌ يَعْنِي ابْنَ مُوسَى، قَالَ: أَنْبَأَنَا أَبُو إِسْحَاق وَهُوَ الْفَزَارِيُّ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، قَالَ: كَتَبَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، إِلَى عُمَرَ بْنِ الْوَلِيدِ كِتَابًا فِيهِ: وَقَسْمُ أَبِيكَ لَكَ الْخُمُسُ كُلُّهُ، وَإِنَّمَا سَهْمُ أَبِيكَ كَسَهْمِ رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، وَفِيهِ حَقُّ اللَّهِ، وَحَقُّ الرَّسُولِ، وَذِي الْقُرْبَى، وَالْيَتَامَى، وَالْمَسَاكِينِ، وَابْنِ السَّبِيلِ، فَمَا أَكْثَرَ خُصَمَاءَ أَبِيكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَكَيْفَ يَنْجُو مَنْ كَثُرَتْ خُصَمَاؤُهُ، وَإِظْهَارُكَ الْمَعَازِفَ وَالْمِزْمَارَ بِدْعَةٌ فِي الْإِسْلَامِ، وَلَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَبْعَثَ إِلَيْكَ مَنْ يَجُزُّ جُمَّتَكَ جُمَّةَ السُّوءِ.

اوزاعی کہتے ہیں کہ عمر بن عبدالعزیز نے عمر بن ولید کو ایک خط لکھا : تمہارے باپ نے تقسیم کر کے پورا خمس (پانچواں حصہ) تمہیں دے دیا، حالانکہ تمہارے باپ کا حصہ ایک عام مسلمان کے حصے کی طرح ہے، اس میں اللہ کا حق ہے اور رسول، ذی القربی، یتیموں، مسکینوں اور مسافروں کا حق ہے۔ تو قیامت کے دن تمہارے باپ سے جھگڑنے والے اور دعوے دار کس قدر زیادہ ہوں گے، اور جس شخص پر دعوے دار اتنی کثرت سے ہوں گے وہ کیسے نجات پائے گا ؟ اور جو تم نے باجے اور بانسری کو رواج دیا ہے تو یہ سب اسلام میں بدعت ہیں، میں نے ارادہ کیا تھا کہ میں تمہارے پاس ایسے شخص کو بھیجوں جو تمہارے بڑے بڑے اور برے لٹکتے بالوں کو کاٹ ڈالے ١ ؎۔

It was narrated that Al-Awzai said: "Umar bin Abdul-Aziz wrote a letter to Umar bin Al-Walid in which he said: The share that your father gave to you was the entire Khumus,[1] but the share that your father is entitled to is the same as that of any man among the Muslims, on which is due the rights of Allah and His Messenger, and of relatives, orphans, the poor and wayfarers. How many will dispute with your father on the Day of Resurrection! How can he be saved who has so many disputants? And your openly allowing musical instruments and wind instruments is an innovation in Islam. I was thinking of sending someone to you who would cut off your evil long hair.

صحيح الإسناد مقطوعصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4135
Notes · وضاحت
١ ؎: جمہ ایسے بالوں کو کہتے ہیں جو گردن تک لٹکتے ہیں، اس طرح کا بال رکھنا مکروہ نہیں ہے، عمر بن عبدالعزیز نے اس لیے ایسا کہا کیونکہ عمر بن الولید اپنے انہیں بالوں کی وجہ سے گھمنڈ میں مبتلا رہتا تھا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (صحیح الإسناد )
4141Sunan An Nasaiصحیح

مال فئے کی تقسیم

أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْيُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ جُبَيْرَ بْنَ مُطْعِمٍ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ جَاءَ هُوَ، وَعُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يُكَلِّمَانِهِ فِيمَا قَسَمَ مِنْ خُمُسِ حُنَيْنٍ بَيْنَ بَنِي هَاشِمٍ، وَبَنِي الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ مَنَافٍ ؟، فَقَالَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَسَمْتَ لِإِخْوَانِنَا بَنِي الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ مَنَافٍ، وَلَمْ تُعْطِنَا شَيْئًا، وَقَرَابَتُنَا مِثْلُ قَرَابَتِهِمْ. فَقَالَ لَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّمَا أَرَى هَاشِمًا، وَالْمُطَّلِبَ شَيْئًا وَاحِدًا، قَالَ جُبَيْرُ بْنُ مُطْعِمٍ: وَلَمْ يَقْسِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِبَنِي عَبْدِ شَمْسٍ، وَلَا لِبَنِي نَوْفَلٍ مِنْ ذَلِكَ الْخُمُسِ شَيْئًا كَمَا قَسَمَ لِبَنِي هَاشِمٍ، وَبَنِي الْمُطَّلِبِ.

جبیر بن مطعم (رض) بیان کرتے ہیں کہ وہ اور عثمان بن عفان (رض) رسول اللہ ﷺ کے پاس غزوہ حنین کے اس خمس ١ ؎ کے سلسلے میں آپ سے گفتگو کرنے آئے جسے آپ نے بنی ہاشم اور بنی مطلب بن عبد مناف کے درمیان تقسیم کردیا تھا، انہوں نے کہا کہ اللہ کے رسول ! آپ نے ہمارے بھائی بنی مطلب بن عبد مناف میں مال فیٔ بانٹ دیا اور ہمیں کچھ نہ دیا، حالانکہ ہمارا رشتہ انہی لوگوں کے رشتہ کی طرح ہے، رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا : میں تو ہاشم اور مطلب کو ایک ہی سمجھتا ہوں ، لیکن رسول اللہ ﷺ نے اس خمس میں سے بنی عبد شمس کو کچھ نہ دیا اور نہ ہی بنی نوفل کو جیسا کہ بنی ہاشم اور بنی مطلب کو دیا ٢ ؎۔

Saeed bin Al-Musayyab narrated that Jubair bin Mutim told him: "He and Uthman bin Affan came to the Messenger of Allah to speak to him about what he had distributed of the Khumus of Hunain to Banu Hashim and Banu Al-Muttalib bin Abd Manaf. They said: O Messenger of Allah, you distributed it to our brothers; Banu Al-Muttalib bin Abd Manaf, and you did not give us anything, and our relationship to you in the same as theirs. The Messenger of Allah said to them: I see that Hashim and Al-Muttalib are the same." Jubair bin Mutim said: "The Messenger of Allah did not allocate anything to Banu Abd Shams or Banu Nawfal from that Khumus, as he allocated to Banu Hashim and Banu Al-Muttalib.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4136
Notes · وضاحت
١ ؎: دونوں اس خمس کے بارے میں بات چیت کرنے آئے تھے جو ذوی القربیٰ کا حصہ ہے۔ ٢ ؎: جبیر بن مطعم اور عثمان (رض) عنہما کو اعتراض بنو ہاشم کو دینے پر نہیں تھا کیونکہ نبی اکرم ﷺ سے ان کا تعلق سب کو معلوم تھا، انہیں اعتراض بنو مطلب کو دے کر بنو عبد مناف کو نہ دینے پر تھا کہ بنو ہاشم کے سوا سب سے آپ ﷺ سے قرابت برابر تھی تو ایک کو دینا اور دوسرے کو نہ دینا ؟ اور آپ ﷺ کے جواب کا حاصل یہ تھا کہ بنو مطلب نے بھی بنو ہاشم کی طرح آپ کا زمانۂ جاہلیت میں بھی ساتھ دیا تھا، جبکہ بنو عبد مناف نے دشمن کا رول ادا کیا تھا۔ (دیکھئیے اگلی حدیث )
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الخمس ١٧ (٣١٤٠) ، المناقب ٢ (٣٥٠٢) ، المغازي ٣٨ (٤٢٢٩) ، سنن ابی داود/الخراج ٢٠ (٢٩٧٩، ٢٩٨٠) ، سنن ابن ماجہ/الجہاد ٤٦ (٢٨٨١) ، (تحفة الأشراف : ٣١٨٥) ، مسند احمد (٤/٨١، ٨٣، ٨٥) (صحیح )
4142Sunan An Nasaiصحیح

مال فئے کی تقسیم

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، قَالَ: لَمَّا قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَهْمَ ذِي الْقُرْبَى بَيْنَ بَنِي هَاشِمٍ، وَبَنِي الْمُطَّلِبِ، أَتَيْتُهُ أَنَا وَعُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَؤُلَاءِ بَنُو هَاشِمٍ لَا نُنْكِرُ فَضْلَهُمْ لِمَكَانِكَ الَّذِي جَعَلَكَ اللَّهُ بِهِ مِنْهُمْ، أَرَأَيْتَ بَنِي الْمُطَّلِبِ أَعْطَيْتَهُمْ، وَمَنَعْتَنَا، فَإِنَّمَا نَحْنُ وَهُمْ مِنْكَ بِمَنْزِلَةٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّهُمْ لَمْ يُفَارِقُونِي فِي جَاهِلِيَّةٍ وَلَا إِسْلَامٍ إِنَّمَا بَنُو هَاشِمٍ، وَبَنُو الْمُطَّلِبِ شَيْءٌ وَاحِدٌ، وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ.

جبیر بن مطعم (رض) کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ نے ذی القربی کا حصہ بنی ہاشم اور بنی مطلب میں تقسیم کیا تو میں اور عثمان بن عفان (رض) آپ کے پاس آئے، ہم نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! یہ بنی ہاشم ہیں، آپ کے مقام کی وجہ سے ان کی فضیلت کا انکار نہیں کیا جاسکتا کہ اللہ تعالیٰ نے اس مرتبے کے ساتھ آپ کو ان میں سے بنایا ہے، لیکن بنی مطلب کے بارے میں کیا خیال ہے ؟ آپ نے انہیں دیا اور ہمیں نہیں دیا۔ حالانکہ آپ کے لیے ہم اور وہ ایک ہی درجے کے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : انہوں نے مجھے نہ زمانہ جاہلیت میں چھوڑا اور نہ اسلام میں، بنو ہاشم اور بنو مطلب تو ایک ہی چیز ہیں ، اور آپ نے اپنے ہاتھوں کی انگلیاں ایک دوسرے کے اندر ڈالیں۔

It was narrated that Jubair bin Mutim said: "When the Messenger of Allah distributed the share for his relatives to Banu Hashim and BanuA-Muttalib, I came to himwith Uthman bin Affan and we said: O Messenger of Allah, no one denies the virtue of Banu Hashim because of the relationship between you and them. But how come you have given (a share) to Banu Al-Muttalib and not to us? They and we share the same degree of relationship to you. The Messenger of Allah said: "They did not abandon me during the Jahiliyyah or in Islam. Banu Hashim and Banu Al-Muttalib are the same thing, and he interlaced his fingers.

حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4137
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح )
4143Sunan An Nasaiصحیح

مال فئے کی تقسیم

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَحْبُوبٌ يَعْنِي ابْنَ مُوسَى، قَالَ: أَنْبَأَنَا أَبُو إِسْحَاق وَهُوَ الْفَزَارِيُّ، عَنْعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَيَّاشٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ أَبِي سَلَّامٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ: أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ وَبَرَةً مِنْ جَنْبِ بَعِيرٍ، فَقَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّهُ لَا يَحِلُّ لِي مِمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ قَدْرُ هَذِهِ إِلَّا الْخُمُسُ، وَالْخُمُسُ مَرْدُودٌ عَلَيْكُمْ. قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: اسْمُ أَبِي سَلَّامٍ: مَمْطُورٌ، وَهُوَ حَبَشِيٌّ، وَاسْمُ أَبِي أُمَامَةَ: صُدَيُّ بْنُ عَجْلَانَ، وَاللَّهُ تَعَالَى أَعْلَمُ.

عبادہ بن صامت (رض) کہتے ہیں کہ غزوہ حنین کے دن رسول اللہ ﷺ نے اونٹ کی دم کا بال (ہاتھ میں) لے کر فرمایا : لوگو ! جو اللہ تمہیں مال فیٔ کے طور پر دیتا ہے اس میں سے میرے لیے خمس (پانچواں حصہ) کے سوا اس کی مقدار کے برابر بھی حلال نہیں ہے، اور وہ خمس بھی تم ہی پر لوٹایا جاتا ہے ۔

It was narrated that Ubadah bin Al-Samit said: "On the day of Hunain the Messenger of Allah took a hair from the side of a camel and said: O you people, it is not permissible for me to take even the equivalent of this from the Fay that Allah has bestowed upon you, except the Khumus, and the Khumus will come back to you." (Sahih) Abu Abdur-Rahman (An-Nasai) said: Abu Sallams name is Mamtur and he is Ethiopian, and Abu Umamahs name is Sudai bin Ajlan.

حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4138
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٥٠٩٢) ، مسند احمد (٥/٣١٦، ٣١٨، ٣١٩) (حسن صحیح )
4144Sunan An Nasaiصحیح

مال فئے کی تقسیم

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى بَعِيرًا، فَأَخَذَ مِنْ سَنَامِهِ وَبَرَةً بَيْنَ إِصْبَعَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّهُ لَيْسَ لِي مِنَ الْفَيْءِ شَيْءٌ، وَلَا هَذِهِ إِلَّا الْخُمُسُ، وَالْخُمُسُ مَرْدُودٌ فِيكُمْ.

عبداللہ بن عمرو (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک اونٹ کے پاس آئے اور اس کی کوہان سے اپنی دو انگلیوں کے درمیان ایک بال لیا پھر فرمایا : خمس (پانچویں حصے) کے علاوہ مال فیٔ میں سے میرا کچھ بھی حق نہیں اس بال کے برابر بھی نہیں اور خمس بھی تم ہی پر لوٹا دیا جاتا ہے ۔

It was narrated from Amr bin Shuaib, from his father, from his grandfather, that: the Messenger of Allah went to a camel, and took a hair from its hump between his fingers and said: "I am not entitled to take anything from the Fay, not even this, except the Khumus, and the Khumus will come back to you.

حسن صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4139
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٨٧٩٢) (حسن، صحیح )
4145Sunan An Nasaiصحیح

مال فئے کی تقسیم

أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو يَعْنِي ابْنَ دِينَارٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ، عَنْ عُمَرَ، قَالَ: كَانَتْ أَمْوَالُ بَنِي النَّضِيرِ مِمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ مِمَّا لَمْ يُوجِفَ الْمُسْلِمُونَ عَلَيْهِ بِخَيْلٍ وَلَا رِكَابٍ، فَكَانَ يُنْفِقُ عَلَى نَفْسِهِ مِنْهَا قُوتَ سَنَةٍ، وَمَا بَقِيَ جَعَلَهُ فِي الْكُرَاعِ، وَالسِّلَاحِ عُدَّةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ.

عمر (رض) کہتے ہیں کہ بنی نضیر کا مال غنیمت مال فی میں سے تھا جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو عطا کیا یعنی مسلمانوں نے اس پر نہ گھوڑے دوڑائے اور نہ جنگ کی۔ آپ اسی میں سے سال بھر کا خرچ اپنے اوپر کرتے، جو بچ جاتا اسے گھوڑوں اور ہتھیار میں جہاد کی تیاری کے لیے صرف کرتے۔

It was narrated that Umar said: "The wealth of Banu An-Nadir was among the Fay that Allah bestowed upon His Messenger, in cases where the Muslims did not go out on and expedition with horses and camels. From it he kept for himself food for one year, and what was left he spent on cavalry and weapons equipment for the cause of Allah.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4140
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجہاد ٨٠ (٢٩٠٤) ، الخمس ١ (٣٠٩٤) ، المغازي ١٤ (٤٠٣٣) ، تفسیر سورة الحشر ٣ (٤٨٨٥) ، النفقات ٣ (٥٣٥٧) ، الفرائض ٣ (٦٧٢٨) ، الاعتصام ٥ (٧٣٠٥) ، صحیح مسلم/الجہاد ١٥ (١٧٥٧) ، سنن ابی داود/الخراج ١٩ (٢٩٦٥) ، سنن الترمذی/السیر ٤٤ (١٦١٠) ، الجہاد ٣٩ (١٧١٩) ، (تحفة الأشراف : ١٠٦٣١) ، مسند احمد (١/٢٥، ٤٨) (صحیح )
4146Sunan An Nasaiصحیح

مال فئے کی تقسیم

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَحْبُوبٌ يَعْنِي ابْنَ مُوسَى، قَالَ: أَنْبَأَنَا أَبُو إِسْحَاق هُوَ الْفَزَارِيُّ، عَنْشُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ فَاطِمَةَ أَرْسَلَتْ إِلَى أَبِي بَكْرٍ، تَسْأَلُهُ مِيرَاثَهَا مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ صَدَقَتِهِ، وَمِمَّا تَرَكَ مِنْ خُمُسِ خَيْبَرَ ؟، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا نُورَثُ.

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے ابوبکر (رض) کے پاس ایک آدمی بھیجا وہ ان سے نبی اکرم ﷺ کے صدقے میں سے اپنا حصہ اور خیبر کے خمس (پانچویں حصے) میں سے اپنا حصہ مانگ رہی تھیں، ابوبکر (رض) نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے : ہمارا (یعنی انبیاء کا) کوئی وارث نہیں ہوتا ۔

It was narrated from Aishah (RA) that: Fatimah sent word to Abu Bakr asking for her inheritance from the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم), from his charity and what was left of the Khumus of Khaibar. Abu Bakar said: "The Messenger of Allah said: We are not inherited from.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4141
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الخمس ١(٣٠٩٢) ، فضائل الصحابة ١٢ (٣٧١١) ، المغازي ١٤ (٤٠٣٥، ٤٠٣٦) ، ٣٨ (٤٢٤٠، ٤٢٤١) ، الفرائض ٣ (٦٧٢٥) ، صحیح مسلم/الجہاد ١٦ (١٧٥٩) ، سنن ابی داود/الخراج ١٩ (٢٩٦٨، ٢٩٦٩، ٢٩٧٠) ، (تحفة الأشراف : ٦٦٣٠) ، مسند احمد (١/٤، ٦، ٩، ١٠) (صحیح )
4147Sunan An Nasaiصحیح

مال فئے کی تقسیم

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا مَحْبُوبٌ، قَالَ: أَنْبَأَنَا أَبُو إِسْحَاق، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَطَاءٍ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلّ: وَاعْلَمُوا أَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِي الْقُرْبَى سورة الأنفال آية 41، قَالَ: خُمُسُ اللَّهِ وَخُمُسُ رَسُولِهِ وَاحِدٌ، كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحْمِلُ مِنْهُ، وَيُعْطِي مِنْهُ، وَيَضَعُهُ حَيْثُ شَاءَ، وَيَصْنَعُ بِهِ مَا شَاءَ.

عطاء آیت کریمہ : واعلموا أنما غنمتم من شىء فأن لله خمسه وللرسول ولذي القربى جان لو کہ تمہیں جو مال غنیمت ملا ہے اس کا خمس اللہ کے لیے اور رسول اور ذی القربی کے لیے ہے ۔ (الأنفال : ٤١) کے سلسلے میں کہتے ہیں : اللہ کا خمس اور رسول کا خمس ایک ہی ہے، رسول اللہ ﷺ اس سے لوگوں کو سواریاں دیتے، نقد دیتے، جہاں چاہتے خرچ کرتے اور جو چاہتے اس سے کرتے۔

It was narrated that Ata said concerning the saying of Allah, the Mighty and Sublime: "And know that whatever of spoils of war that you may gain, verily, (1/5th) of it is assigned to Allah, and to the Messenger, and to the near relatives (of the Messenger (Muhammad)" "The Khumus (one-fifth) of Allah and of His Messenger is the same. The Messenger of Allah used to provide mounts (for jihad) with it, and give some (to the poor), and distribute it however he wanted, and do with it whatever he wanted.

صحيح الإسناد مرسلصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4142
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١٩٠٥٦) (صحیح الإسناد) (سند صحیح ہے، لیکن متن مرسل ہے اس لئے کہ عطاء نے اسے نبی اکرم سے منسوب کر کے بیان کیا ہے، واسطہ میں صحابی کا ذکر نہیں کیا ہے )
4148Sunan An Nasaiصحیح

مال فئے کی تقسیم

أخبرنا عمرو بن يحيى بن الحارث قال حدثنا محبوب - يعني ابن موسى - قال أنبأنا أبو إسحاق - هو الفزاري - عن سفيان عن قيس بن مسلم قال سألت الحسن بن محمد عن قوله عز وجل واعلموا أنما غنمتم من شىء فأن لله خمسه قال هذا مفاتح كلام الله الدنيا والآخرة لله قال اختلفوا في هذين السهمين بعد وفاة رسول الله صلى الله عليه وسلم سهم الرسول وسهم ذي القربى فقال قائل سهم الرسول صلى الله عليه وسلم للخليفة من بعده وقال قائل سهم ذي القربى لقرابة الرسول صلى الله عليه وسلم وقال قائل سهم ذي القربى لقرابة الخليفة فاجتمع رأيهم على أن جعلوا هذين السهمين في الخيل والعدة في سبيل الله فكانا في ذلك خلافة أبي بكر وعمر .

قیس بن مسلم کہتے ہیں کہ میں نے حسن بن محمد سے آیت کریمہ : واعلموا أنما غنمتم من شىء فأن لله خمسه کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا : یہ تو اللہ سے کلام کی ابتداء ہے جیسے کہا جاتا ہے دنیا اور آخرت اللہ کے لیے ہے ، انہوں نے کہا : ان دونوں حصوں یعنی رسول اور ذی القربی کے حصہ میں رسول اللہ ﷺ کی موت کے بعد لوگوں میں اختلاف ہوا، تو کہنے والوں میں سے کسی نے کہا کہ رسول کا حصہ ان کے بعد خلیفہ کا ہوگا، ایک جماعت نے کہا کہ ذی القربی کا حصہ رسول اللہ ﷺ کے رشتہ داروں کا ہوگا، دوسروں نے کہا : ذی القربی کا حصہ خلیفہ کے رشتہ داروں کا ہوگا۔ بالآخر ان کی رائیں اس پر متفق ہوگئیں کہ ان لوگوں نے ان دونوں حصوں کو گھوڑوں اور جہاد کی تیاری کے لیے طے کردیا، یہ دونوں حصے ابوبکر اور عمر (رض) کی خلافت کے زمانہ میں اسی کام کے لیے رہے۔

It was narrated that Qais bin Muslim said: " Iasked Al-Hasan bin Muhammad about the saying of Allah, the Might and Sublime: and know that whatever of spoils of war that you may gain, verily, one-fifth of it is assigned to Allah. He said: This is the key to the Speech of Allah. This world and the Hereafter belling to Allah. He said: They differed concerning these two shares after the death of the Messenger of Allah, the share of the Messenger and the share of the near relatives (of the Messenger of Allah). Some said that the share of the near relatives was for the relatives of the Messenger, and some said that the share of the near relatives was for the relatives of the Khalifah. Then they agreed that these two shares should be spent on horses and equipment in the cause of Allah, and they were allocated for this purpose during the Khalifah of Abu Bakr and Umar (RA).

صحيح الإسناد مرسلصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4143
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١٨٥٧٩) (صحیح الإسناد مرسل )
4149Sunan An Nasaiصحیح

مال فئے کی تقسیم

أخبرنا عمرو بن يحيى بن الحارث قال حدثنا محبوب قال أنبأنا أبو إسحاق عن موسى بن أبي عائشة قال سألت يحيى بن الجزار عن هذه الآية واعلموا أنما غنمتم من شىء فأن لله خمسه وللرسول قال قلت كم كان للنبي صلى الله عليه وسلم من الخمس قال خمس الخمس .

موسیٰ بن ابی عائشہ کہتے ہیں کہ میں نے یحییٰ بن جزار سے اس آیت : واعلموا أنما غنمتم من شىء فأن لله خمسه وللرسول کے بارے میں پوچھا، میں نے کہا : نبی اکرم ﷺ کا خمس میں سے کتنا حصہ ہوتا تھا : انہوں نے کہا : خمس کا خمس ١ ؎۔

It was narrated that Musa bin Abi Aishah said: "I asked Yahya bin Al-Jazzar about this Verse: and know that whatever of spoils of war that you may gain, verily, one-fifth of it is assigned to Allah, and to the Messenger". He said: "I said: How much of the Khumus did he Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) take? He said: One-fifth of the Khumus.

صحيح الإسناد مرسلصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4144
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی پانچویں حصے کا پانچواں حصہ، کیونکہ خمس کا اکثر حصہ تو آپ ﷺ اسلامی کاموں میں خرچ کردیتے تھے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١٩٥٣١) (صحیح الإسناد مرسل) (سند صحیح ہے، لیکن رسول اکرم صلی للہ علیہ وسلم سے روایت کرنے والے صحابی کا تذکرہ سند میں نہیں ہے )
4150Sunan An Nasaiصحیح

مال فئے کی تقسیم

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَحْبُوبٌ، قَالَ: أَنْبَأَنَا أَبُو إِسْحَاق، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ، قَالَ: سَأَلْتُ يَحْيَى بْنَ الْجَزَّارِ، عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ وَاعْلَمُوا أَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُ وَلِلرَّسُولِ سورة الأنفال آية 41، قَالَ: قُلْتُ: كَمْ كَانَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْخُمُسِ ؟ قَالَ: خُمُسُ الْخُمُسِ.

مطرف کہتے ہیں کہ عامر شعبی سے نبی اکرم ﷺ کے حصے اور آپ کے صفی کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا : نبی اکرم ﷺ کا حصہ ایک مسلمان شخص کے حصے کی طرح ہوتا تھا۔ رہا صفی ١ ؎ کے حصے کا معاملہ تو آپ کو اختیار ہوتا کہ غلام، لونڈی اور گھوڑے وغیرہ میں سے جسے چاہیں لے لیں۔

It was narrated that Mutarrif said: "Ash-Shabi was asked about the share of the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and what he chose for himself. He said: The share of the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) was like the share of any Muslim man, and what he chose for himself was something precious; he chose whatever he wanted to.

صحيح الإسناد مرسلصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4145
Notes · وضاحت
١ ؎: صفی مالِ غنیمت کے اس حصے کو کہتے ہیں جسے حاکم تقسیم سے قبل اپنے لیے مقرر کرلے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الخراج ٢١(٢٩٩١) ، تحفة الأشراف : ١٨٨٦٨) (صحیح الإسناد مرسل) (سند صحیح ہے، لیکن رسول اکرم صلی للہ علیہ وسلم سے روایت کرنے والے صحابی کا تذکرہ سند میں نہیں ہے )
4151Sunan An Nasaiصحیح

مال فئے کی تقسیم

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا مَحْبُوبٌ، قَالَ: أَنْبَأَنَا أَبُو إِسْحَاق، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الشِّخِّيرِ، قَالَ: بَيْنَا أَنَا مَعَ مُطَرِّفٍ بِالْمِرْبَدِ إِذْ دَخَلَ رَجُلٌ مَعَهُ قِطْعَةُ أَدَمٍ، قَالَ: كَتَبَ لِي هَذِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَهَلْ أَحَدٌ مِنْكُمْ يَقْرَأُ ؟ قَالَ: قُلْتُ: أَنَا أَقْرَأُ، فَإِذَا فِيهَا: مِنْ مُحَمَّدٍ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِبَنِي زُهَيْرِ بْنِ أُقَيْشٍ، أَنَّهُمْ إِنْ شَهِدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، وَفَارَقُوا الْمُشْرِكِينَ، وَأَقَرُّوا بِالْخُمُسِ فِي غَنَائِمِهِمْ، وَسَهْمِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَفِيِّهِ، فَإِنَّهُمْ آمِنُونَ بِأَمَانِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ.

یزید بن شخیر کہتے ہیں کہ میں مطرف کے ساتھ کھلیان میں تھا کہ اچانک ایک آدمی چمڑے کا ایک ٹکڑا لے کر آیا اور بولا : میرے لیے رسول اللہ ﷺ نے یہ لکھا ہے، تو کیا تم میں سے کوئی اسے پڑھ سکتا ہے ؟ انہوں نے کہا : میں پڑھوں گا، تو دیکھا کہ اس تحریر میں یہ تھا : اللہ کے نبی محمد ﷺ کی طرف سے بنی زہیر بن اقیش کے لیے : اگر یہ لوگ لا إله إلا اللہ وأن محمدا رسول اللہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں کی گواہی دیں اور کفار و مشرکین کا ساتھ چھوڑ دیں اور اپنے مال غنیمت میں سے خمس، نبی کے حصے اور ان کے صفی کا اقرار کریں تو وہ اللہ اور اس کے رسول کی امان میں رہیں گے ۔

It was narrated that Yazid bin Ash-Shikhkhir said: "While I was with Mutarrif in Al-Mirbad, a man came in carrying a piece of leather and said: This was written to me by the Messenger of Allah. Is there anyone among you who can read? I said: I can read. And it was (a letter) from Muhammad the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) to Banu Zuhair bin Uqaish, who had testified to Lailah illallah, and that Muhammad is the Messenger of Allah, and had left the idolaters, and had agreed to give the Khumus from their spoils of the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم), and wheatever he chose for himself, so they became safe and secure by the covenant of Allah and His Messenger.

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4146
Notes · وضاحت
١ ؎: صفی مالِ غنیمت کے اس حصے کو کہتے ہیں جسے حاکم تقسیم سے قبل اپنے لیے مقرر کرلے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الخراج ٢١ (٢٩٩٩) ، (تحفة الأشراف : ١٥٦٨٣) ، مسند احمد (٥/٧٧، ٧٨، ٣٦٣) (صحیح الإسناد )