Sunan An Nasaiسنن النسائی

All 5,772 hadiths in order · Page 209 of 289

4152Sunan An Nasaiصحیح

مال فئے کی تقسیم

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مَحْبُوبٌ، قَالَ: أَنْبَأَنَا أَبُو إِسْحَاق، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ خُصَيْفٍ، عَنْمُجَاهِدٍ، قَالَ: الْخُمُسُ الَّذِي لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ كَانَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَرَابَتِهِ لَا يَأْكُلُونَ مِنَ الصَّدَقَةِ شَيْئًا، فَكَانَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُمُسُ الْخُمُسِ، وَلِذِي قَرَابَتِهِ خُمُسُ الْخُمُسِ، وَلِلْيَتَامَى مِثْلُ ذَلِكَ، وَلِلْمَسَاكِينِ مِثْلُ ذَلِكَ، وَلِابْنِ السَّبِيلِ مِثْلُ ذَلِكَ. قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: قَالَ اللَّهُ جَلَّ ثَنَاؤُهُ: وَاعْلَمُوا أَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِي الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ سورة الأنفال آية 41، وَقَوْلُهُ عَزَّ وَجَلَّ: لِلَّهِ سورة الأنفال آية 41 ابْتِدَاءُ كَلَامٍ لِأَنَّ الْأَشْيَاءَ كُلَّهَا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَلَعَلَّهُ، إِنَّمَا اسْتَفْتَحَ الْكَلَامَ فِي الْفَيْءِ، وَالْخُمُسِ بِذِكْرِ نَفْسِهِ لِأَنَّهَا أَشْرَفُ الْكَسْبِ وَلَمْ يَنْسِبِ الصَّدَقَةَ إِلَى نَفْسِهِ عَزَّ وَجَلَّ، لِأَنَّهَا أَوْسَاخُ النَّاسِ، وَاللَّهُ تَعَالَى أَعْلَمُ، وَقَدْ قِيلَ يُؤْخَذُ مِنَ الْغَنِيمَةِ شَيْءٌ، فَيُجْعَلُ فِي الْكَعْبَةِ، وَهُوَ السَّهْمُ الَّذِي لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَسَهْمُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْإِمَامِ، يَشْتَرِي الْكُرَاعَ مِنْهُ وَالسِّلَاحَ وَيُعْطِي مِنْهُ مَنْ رَأَى مِمَّنْ رَأَى فِيهِ غَنَاءً وَمَنْفَعَةً لِأَهْلِ الْإِسْلَامِ، وَمِنْ أَهْلِ الْحَدِيثِ، وَالْعِلْمِ، وَالْفِقْهِ، وَالْقُرْآنِ، وَسَهْمٌ لِذِي الْقُرْبَى وَهُمْ بَنُو هَاشِمٍ، وَبَنُو الْمُطَّلِبِ بَيْنَهُمُ الْغَنِيُّ مِنْهُمْ وَالْفَقِيرُ، وَقَدْ قِيلَ: إِنَّهُ لِلْفَقِيرِ مِنْهُمْ دُونَ الْغَنِيِّ، كَالْيَتَامَى، وَابْنِ السَّبِيلِ، وَهُوَ أَشْبَهُ الْقَوْلَيْنِ بِالصَّوَابِ عِنْدِي، وَاللَّهُ تَعَالَى أَعْلَمُ، وَالصَّغِيرُ وَالْكَبِيرُ وَالذَّكَرُ وَالْأُنْثَى سَوَاءٌ، لِأَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ جَعَلَ ذَلِكَ لَهُمْ، وَقَسَّمَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِمْ، وَلَيْسَ فِي الْحَدِيثِ أَنَّهُ فَضَّلَ بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ، وَلَا خِلَافَ نَعْلَمُهُ بَيْنَ الْعُلَمَاءِ فِي رَجُلٍ لَوْ أَوْصَى بِثُلُثِهِ لِبَنِي فُلَانٍ أَنَّهُ بَيْنَهُمْ، وَأَنَّ الذَّكَرَ وَالْأُنْثَى فِيهِ سَوَاءٌ إِذَا كَانُوا يُحْصَوْنَ فَهَكَذَا كُلُّ شَيْءٍ صُيِّرَ لِبَنِي فُلَانٍ، أَنَّهُ بَيْنَهُمْ بِالسَّوِيَّةِ، إِلَّا أَنْ يُبَيِّنَ ذَلِكَ الْآمِرُ بِهِ، وَاللَّهُ وَلِيُّ التَّوْفِيقِ، وَسَهْمٌ لِلْيَتَامَى مِنَ الْمُسْلِمِينَ، وَسَهْمٌ لِلْمَسَاكِينِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، وَسَهْمٌ لِابْنِ السَّبِيلِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، وَلَا يُعْطَى أَحَدٌ مِنْهُمْ سَهْمُ مِسْكِينٍ، وَسَهْمُ ابْنِ السَّبِيلِ، وَقِيلَ لَهُ: خُذْ أَيَّهُمَا شِئْتَ، وَالْأَرْبَعَةُ أَخْمَاسٍ يَقْسِمُهَا الْإِمَامُ بَيْنَ مَنْ حَضَرَ الْقِتَالَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ الْبَالِغِينَ.

مجاہد کہتے ہیں کہ (قرآن میں) جو خمس اللہ اور رسول کے لیے آیا ہے، وہ نبی اکرم ﷺ اور آپ کے رشتہ داروں کے لیے تھا، وہ لوگ صدقہ و زکاۃ کے مال سے نہیں کھاتے تھے، چناچہ نبی اکرم ﷺ کے لیے خمس کا خمس تھا اور رشتہ داروں کے خمس کا خمس اور اتنا ہی یتیموں کے لیے، اتنا ہی فقراء و مساکین کے لیے اور اتنا ہی مسافروں کے لیے۔ ابوعبدالرحمٰن (امام نسائی) کہتے ہیں : اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اور جان لو کہ جو کچھ تمہیں مال غنیمت سے ملے تو : اللہ کے لیے، رسول کے لیے، رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں اور مسافروں کے لیے اس کا خمس ہے، اللہ کے اس فرمان واعلموا أنما غنمتم من شىء فأن لله خمسه وللرسول ولذي القربى واليتامى والمساکين وابن السبيل میں اللہ کا قول لِلَّهِ یعنی اللہ کے لیے ہے ابتدائے کلام کے طور پر ہے کیونکہ تمام چیزیں اللہ ہی کی ہیں اور مال فیٔ اور خمس کے سلسلے میں بات کی ابتداء بھی اس اپنے ذکر سے شاید اس لیے کی ہے کہ وہ سب سے اعلیٰ درجے کی کمائی (روزی) ہے، اور صدقے کی اپنی طرف نسبت نہیں کی، اس لیے کہ وہ لوگوں کا میل (کچیل) ہے۔ واللہ اعلم۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ غنیمت کا کچھ مال لے کر کعبے میں لگایا جائے گا اور یہی اللہ تعالیٰ کا حصہ ہے اور نبی کا حصہ امام کے لیے ہوگا جو اس سے گھوڑے اور ہتھیار خریدے گا، اور اسی میں سے وہ ایسے لوگوں کو دے گا جن کو وہ مسلمانوں کے لیے مفید سمجھے گا جیسے اہل حدیث، اہل علم، اہل فقہ، اور اہل قرآن کے لیے، اور ذی القربی کا حصہ بنو ہاشم اور بنو مطلب کا ہے، ان میں غنی (مالدار) اور فقیر سب برابر ہیں، ایک قول کے مطابق ان میں بھی غنی کے بجائے صرف فقیر کے لیے ہے جیسے یتیم، مسافر وغیرہ، دونوں اقوال میں مجھے یہی زیادہ صواب سے قریب معلوم ہوتا ہے، واللہ اعلم۔ اسی طرح چھوٹا، بڑا، مرد، عورت سب برابر ہوں گے، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ ان سب کے لیے رکھا ہے اور رسول اللہ ﷺ نے اسے انہی سب میں تقسیم کیا ہے، اور حدیث میں کہیں ایسا نہیں ہے کہ آپ نے ان میں سے ایک کو دوسرے پر ترجیح دی ہو، ہمیں اس سلسلے میں علماء کے درمیان کسی اختلاف کا بھی علم نہیں ہے کہ ایک شخص اگر کسی کی اولاد کے لیے ایک تہائی کی وصیت کرے تو وہ ان سب میں تقسیم ہوگا اور مرد و عورت اس سلسلے میں سب برابر ہوں گے جب وہ شمار کئے جائیں گے، اسی طرح سے ہر وہ چیز جو کسی کی اولاد کے لیے دی گئی ہو تو وہ ان میں برابر ہوگی، سوائے اس کے کہ اس چیز کا حکم کرنے والا اس کی وضاحت کر دے۔ واللہ ولی التوفیق۔ اور ایک حصہ مسلم یتیموں کے لیے اور ایک حصہ مسلم مساکین کے لیے اور ایک حصہ مسلم مسافروں کے لیے ہے۔ ان میں سے کسی کو مسکین کا حصہ اور مسافر کا حصہ نہیں دیا جائے گا، اور اس سے کہا جائے گا کہ ان (دو ) میں سے جو چاہے لے لے اور بقیہ چار خمس کو امام ان بالغ مسلمانوں میں تقسیم کرے گا جو جنگ میں شریک ہوئے۔

It was narrated that Mujahid said: "The Khumus that is for Allah and His Messenger was for the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and His relatives; they did not take anything from the Sadaqah. The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) was allocated one-fifth of the Khumus; his relatives were allocated one-fifth of the Khumus; the same was allocated to orphans, the poor and they wayfarers." (Da if) Abu Abdur-Rahman (An-Nasi) said: Allah, the Majestic is he and Praised, said: "And know that whatever of spoils of war that you may gain, verily, one-fifth of it is assigned to Allah, and to the Messenger, and to the near relatives ( of the Messenger (Muhammad)), (and also) the orphans, Al-Masakin (the Poor) and the wayfarer." His, the Mighty and Sublime, saying to Allah starts the speech since everything is of Allah, the Mighty and Sublime, saying to Allah starts the speech since everything is of Allah, the Mighty and Sublime. And perhaps He only oened His speech about the Fay and the Khumus, mentioning Himself, because that is the noblest of earnings. And He did not attribute Sadaqah to Himself, the Mighty and Sublime, because that is the dirt of people. And Allah knows best. It was said that something should be taken form the spoils of war and placed inside the Kabah, and this is the share that is for Allah, the Mighty and Sublime. The share of the Messenger is to be given to the imam to buy horses and weapons, and to give to whomever he thinks will benefit the people of Islam, and to the people of Hadith, Knowledge, Fiqh and the Quran. The share that is for near relatives should be given to Banu Hashim and Banu Al-Muttablib, rich and poor alike, or it was said that it should be given to the poor among them and not to the rich, such as orphans and wayfarers. This is the view that is more appropriate in my view, and Allah knows best. And the young and the old, male and female, are equal in that, because Allah, the mighty and sublime, has allocated it to them and the Messenger of Allah distributed it among them, and there is nothing in the Hadith to indicate that he preferred some of them over others. And there is no scholarly dispute, as far as we know, to suggest that if a man bequeaths one-third of his wealth to such a tribe, to be distributed out among them equally, that it should be done otherwise, unless the giver stipulated otherwise. And Allah is the source of strength. And (there is) a share for the orphans among the Muslims, and a share for the poor among the Muslims, and a share for the wayfarers among the Muslims. No one should be given both a share for the poor and a share for the wayfarer; it is to be said to him: "Take whichever of them you want." And the other four-fifths are to be divided by the imam among those adult Muslims who were present in the battle. (Daif)

ضعيف الإسناد مرسلصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4147
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١٩٢٦١) (ضعیف الإسناد مرسل) (خصیف اور شریک حافظے کے ضعیف راوی ہیں، نیز مجاہد نے نبی اکرم ﷺ سے روایت میں صحابی کا ذکر نہیں کیا )
4153Sunan An Nasaiصحیح

مال فئے کی تقسیم

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ، قَالَ: جَاء الْعَبَّاسُ، وَعَلِيٌّ إِلَى عُمَرَ يَخْتَصِمَانِ، فَقَالَ الْعَبَّاسُ اقْضِ بَيْنِي وَبَيْنَ هَذَا، فَقَالَ النَّاسُ: افْصِلْ بَيْنَهُمَا، فَقَالَ عُمَرُ: لا أَفْصِلُ بَيْنَهُمَا، قَدْ عَلِمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا نُورَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ، قَالَ: فَقَالَ الزُّهْرِيُّ: وَلِيَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخَذَ مِنْهَا قُوتَ أَهْلِهِ، وَجَعَلَ سَائِرَهُ سَبِيلَهُ سَبِيلَ الْمَالِ، ثُمَّ وَلِيَهَا أَبُو بَكْرٍ بَعْدَهُ، ثُمَّ وُلِّيتُهَا بَعْدَ أَبِي بَكْرٍ فَصَنَعْتَ فِيهَا الَّذِي كَانَ يَصْنَعُ، ثُمَّ أَتَيَانِي فَسَأَلَانِي، أَنْ أَدْفَعَهَا إِلَيْهِمَا عَلَى أَنْ يَلِيَاهَا بِالَّذِي وَلِيَهَا بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالَّذِي وَلِيَهَا بِهِ أَبُو بَكْرٍ، وَالَّذِي وُلِّيتُهَا بِهِ، فَدَفَعْتُهَا إِلَيْهِمَا، وَأَخَذْتُ عَلَى ذَلِكَ عُهُودَهُمَا، ثُمَّ أَتَيَانِي يَقُولُ: هَذَا اقْسِمْ لِي بِنَصِيبِي مِنَ ابْنِ أَخِي، وَيَقُولُ: هَذَا اقْسِمْ لِي بِنَصِيبِي مِنِ امْرَأَتِي، وَإِنْ شَاءَا أَنْ أَدْفَعَهَا إِلَيْهِمَا عَلَى أَنْ يَلِيَاهَا بِالَّذِي وَلِيَهَا بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالَّذِي وَلِيَهَا بِهِ أَبُو بَكْرٍ، وَالَّذِي وُلِّيتُهَا بِهِ دَفَعْتُهَا إِلَيْهِمَا، وَإِنْ أَبَيَا كُفِيَا ذَلِكَ، ثُمَّ قَالَ: وَاعْلَمُوا أَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِي الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ سورة الأنفال آية 41 هَذَا لِهَؤُلَاءِ إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ سورة التوبة آية 60 هَذِهِ لِهَؤُلَاءِ وَمَا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ مِنْهُمْ فَمَا أَوْجَفْتُمْ عَلَيْهِ مِنْ خَيْلٍ وَلا رِكَابٍ سورة الحشر آية 6. قَالَ الزُّهْرِيُّ: هَذِهِ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاصَّةً، قُرًى عَرَبِيَّةً فَدْكُ كَذَا وَكَذَا ! فَـ مَا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ مِنْ أَهْلِ الْقُرَى فَلِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِي الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ سورة الحشر آية 7 وَ لِلْفُقَرَاءِ الْمُهَاجِرِينَ الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ وَأَمْوَالِهِمْ سورة الحشر آية 8 وَ وَالَّذِينَ تَبَوَّءُوا الدَّارَ وَالإِيمَانَ مِنْ قَبْلِهِمْ سورة الحشر آية 9 وَ وَالَّذِينَ جَاءُوا مِنْ بَعْدِهِمْ سورة الحشر آية 10 فَاسْتَوْعَبَتْ هَذِهِ الْآيَةُ النَّاسَ، فَلَمْ يَبْقَ أَحَدٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ إِلَّا لَهُ فِي هَذَا الْمَالِ حَقٌّ، أَوْ قَالَ: حَظٌّ، إِلَّا بَعْضَ مَنْ تَمْلِكُونَ مِنْ أَرِقَّائِكُمْ وَلَئِنْ عِشْتُ، إِنْ شَاءَ اللَّهُ لَيَأْتِيَنَّ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ حَقُّهُ، أَوْ قَالَ: حَظُّهُ.

مالک بن اوس بن حدثان کہتے ہیں کہ عباس اور علی (رض) جھگڑتے ہوئے عمر (رض) کے پاس آئے، عباس (رض) نے کہا : میرے اور ان کے درمیان فیصلہ کیجئیے، لوگوں نے کہا : ان دونوں کے درمیان فیصلہ فرما دیجئیے، تو عمر (رض) نے کہا : میں ان کے درمیان فیصلہ نہیں کرسکتا، انہیں معلوم ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے : ہمارا ترکہ کسی کو نہیں ملتا، جو کچھ ہم چھوڑیں وہ صدقہ ہے ۔ راوی کہتے ہیں : زہری ١ ؎ نے (آگے روایت کرتے ہوئے اس طرح) کہا : (عمر (رض) نے کہا :) رسول اللہ ﷺ (جب) اس مال کے ولی و نگراں رہے تو اس میں اپنے گھر والوں کے خرچ کے لیے لیتے اور باقی سارا اللہ کی راہ میں خرچ کرتے، پھر آپ کے بعد ابوبکر (رض) متولی ہوئے اور ان کے بعد میں متولی ہوا، تو میں نے بھی اس میں وہی کیا جو ابوبکر (رض) کرتے تھے، پھر یہ دونوں میرے پاس آئے اور مجھ سے مطالبہ کیا کہ اسے میں ان کے حوالے کر دوں کہ وہ اس میں اس طرح عمل کریں گے جیسے رسول اللہ ﷺ کرتے تھے اور جیسے ابوبکر (رض) کرتے تھے اور جیسے تم کرتے ہو، چناچہ میں نے اسے ان دونوں کو دے دیا اور اس پر ان سے اقرار لے لیا، پھر اب یہ میرے پاس آئے ہیں، یہ کہتے ہیں : میرے بھتیجے کی طرف سے میرا حصہ مجھے دلائیے ٢ ؎ اور وہ کہتے ہیں : مجھے میرا حصہ بیوی کی طرف سے دلائیے ٣ ؎، اگر انہیں منظور ہو کہ میں وہ مال ان کے سپرد کر دوں اس شرط پر کہ یہ دونوں اس میں اسی طرح عمل کریں گے جیسے رسول اللہ ﷺ نے کیا اور جیسے میں نے کیا تو میں ان کے حوالے کرتا ہوں، اور اگر انہیں (یہ شرط) منظور نہ ہو تو وہ گھر میں بیٹھیں ٤ ؎، پھر عمر (رض) نے یہ آیات پڑھیں : واعلموا أنما غنمتم من شىء فأن لله خمسه وللرسول ولذي القربى واليتامى والمساکين وابن السبيل جان لو جو کچھ تمہیں غنیمت میں ملے تو اس کا خمس اللہ کے لیے ہے، رسول کے لیے، ذی القربی، یتیموں، مسکینوں اور مسافروں کے لیے ہے (الانفال : ٤١) ۔ اور یہ ان لوگوں کے لیے ہے إنما الصدقات للفقراء والمساکين والعاملين عليها والمؤلفة قلوبهم وفي الرقاب والغارمين وفي سبيل اللہ صدقات فقراء، مساکین، زکاۃ کا کام کرنے والے لوگوں، مؤلفۃ القلوب، غلاموں، قرض داروں اور مسافروں کے لیے ہیں (التوبہ : ٦٠) ۔ اور یہ ان لوگوں کے لیے ہے وما أفاء اللہ على رسوله منهم فما أوجفتم عليه من خيل ولا رکاب اور ان کی طرف سے جو اللہ اپنے رسول کو لوٹائے تو جس پر تم نے گھوڑے دوڑائے اور زین کسے (الحشر : ٦) ۔ زہری کہتے ہیں کہ یہ رسول اللہ ﷺ کے لیے خاص ہے اور وہ عربیہ کے چند گاؤں ہیں جیسے فدک وغیرہ۔ اور اسی طرح ما أفاء اللہ على رسوله من أهل القرى فلله وللرسول ولذي القربى واليتامى والمساکين وابن السبيل، و، للفقراء المهاجرين الذين أخرجوا من ديارهم وأموالهم، والذين تبوء وا الدار والإيمان من قبلهم، والذين جاء وا من بعدهم جو اللہ گاؤں والوں کی طرف سے اپنے رسول پر لوٹائے تو وہ اللہ کے لیے رسول کے لیے اور ذی القربی، یتیموں، مسکینوں، مسافروں اور ان فقراء مہاجرین لوگوں کے لیے ہے جو اپنے گھروں اور اپنے اموال سے نکال دیے گئے اور جنہوں نے الدار (مدینہ) کو اپنا جائے قیام بنایا اور ایمان لائے اس سے پہلے اور اس کے بعد (الحشر : ٧-١٠) ، اس آیت میں سبھی لوگ آگئے ہیں، اور کوئی مسلمان ایسا نہیں جس کا اس مال میں حق نہ ہو، یا یہ کہا : حصہ نہ ہو، سوائے چند لوگوں کے جنہیں تم اپنا غلام بناتے ہو اور اگر میں زندہ رہا تو ان شاء اللہ ہر ایک کو اس کا حق۔ یا کہا : اس کا نصیب مل کر رہے گا۔

It was narrated that Malik bin Aws bin Al-Hadathan said: "Al-Abbas and Ali (RA) came to Umar with a dispute. Al-Abbas (RA) said: Pass judgment between him and I. the people said: Pass judgment between them. Umar said: I will not pass judgment between them. They know that the Messenger of Allah said: We are not inherited from, what we leave behind is charity. He said: And (in this narration of it) Az-Zuhri said: It (the Khumus) was under the control of the Messenger of Allah , and he took provision for himself and for his family from it, and disposed to the rest of it as he disposed of other wealth (belonging to the Muslims). Then Abu Bakr took control of it, then I took control of it after Abu Bakr, and I did with it what he sued to do. Then these two came to me and asked me to give it to them so that they could dispose of it as the Messenger of Allah disposed of it, and as Abu Bakr disposed of it, and as I disposed of it. So I gave it to them and I took promises from them that they would take proper care of it. Then they came to me and this one said. Give me my share from my brothers son: and this one said: Give me my share from my wife. If they want me to give it to them on the condition that they would dispose of it in the same manner as the Messenger of Allah did, and as Abu Bakr did, and as I did, I would give it to them, but if they refuse, then they do not have to worry about it. Then he said: And know that whatever of spoils of war that you may gain, verily, one-fifth of it is assigned to Allah, and to the Messenger, and to the near relatives (of the Messenger (Muhammad), (and also) the orphans, Al-Masakin (the poor) and the wayfarer (Al-Anfal 8:41) this if for them. As-Sadaqat (here it means Zakah) are only for the Fuqara (poor), and Al-Masakin (the poor) and those employed to collect (the funds); and to attract the hearts of those who have been inclined (toward Islam); and to free the captives; and for those in debt; and for Allahs cause (I.e. for Mujahidun - those fighting in a holy battle) - this is for them. And what Allah gave as booty (Fay) to His Messenger (Muhammad) from them - for this you made no expeditin with either cavalry or camels. Az-Zuhri said: This applies exclusively to the Messenger of Allah and refers to an Arab village called Fadak, and so on. What Allah gave as booty (Fay) to His Messenger (Muhammad) from the people of the townships - it is for Allah, His Messenger (Muhammad), the kindred (of Messenger Muhammad), the orphans, Al-Masakin (the poor), and the wayfarer (And there is also a share in this booty) for the poor emigrants, who were expelled from their homes and their property And (it is also for) those who, before them, had homes (in Al-Madinah) and had adopted the Faith And those who came after them. These is no one left among the Muslims but he has some rights to this wealth, except for some of the slaved whom you own. If I live, if Allah wills, I will give every Muslim his right." Or he said: "His share.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4148
Notes · وضاحت
١ ؎: مالک بن اوس سے اس حدیث کو روایت کرنے والے ایک راوی زہری بھی ہیں، دیکھئیے حدیث نمبر : ٤١٤٥ ٢ ؎: کیونکہ عباس (رض) رسول اللہ ﷺ کے چچا تھے۔ ٣ ؎: کیونکہ علی (رض) فاطمہ رضی اللہ عنہا کے شوہر تھے۔ ٤ ؎: یعنی جس عہد و پیمان کے تحت یہ مال تمہیں دیا گیا ہے اسی پر اکتفا کرو مزید کسی مطالبہ کی قطعی ضرورت نہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/فرض الخمس ١ (٣٠٩٤) ، المغازي ١٤ (٤٠٣٣) ، النفقات ٣ (٥٣٥٨) ، الفرائض ٣ (٦٧٢٨) إعتصام ٥ (٧٣٠٥) ، صحیح مسلم/الجہاد ٥ (١٧٥٧) ، سنن ابی داود/الخراج ١٩ (٢٩٦٣) ، سنن الترمذی/السیر ٤٤ (١٦١٠) ، (تحفة الأشراف : ١٠٦٣٣) (صحیح )
4154Sunan An Nasaiصحیح

تابعداری کرنے سے بیعت

أَنْبَأَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْعُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ: بَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ، فِي الْيُسْرِ وَالْعُسْرِ، وَالْمَنْشَطِ وَالْمَكْرَهِ، وَأَنْ لَا نُنَازِعَ الْأَمْرَ أَهْلَهُ، وَأَنْ نَقُومَ بِالْحَقِّ حَيْثُ كُنَّا لَا نَخَافُ لَوْمَةَ لَائِمٍ.

عبادہ بن صامت (رض) کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ سے خوشحالی و تنگی، خوشی و غمی ہر حالت میں سمع و طاعت پر بیعت کی، نیز اس بات پر بیعت کی کہ ہم حکمرانوں سے حکومت کے لیے نہ جھگڑیں، اور جہاں بھی رہیں حق پر قائم رہیں، اور (اس سلسلے میں) ہم کسی ملامت گر کی ملامت سے نہ ڈریں ٢ ؎۔

It was narrated that Ubadah bin As-Samit said: "We pledged to the Messenger of Allah to hear and obey, both in times of ease and hardship, when we felt energetic and when we felt tired, that we would not contend with the orders of whomever was entrusted with it, that we would was entrusted with it, that we would stand firm in the way of truth wherever we may be, and that we would not fear the blame of the blamers.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4149
Notes · وضاحت
١ ؎: اس کتاب میں بیعت سے متعلق جو بھی احکام بیان ہوئے ہیں، یہ واضح رہے کہ ان کا تعلق صرف خلیفہ وقت یا مسلم حکمراں یا اس کے نائبین کے ذریعہ اس کے لیے بیعت لینے سے ہے۔ عہد نبوی سے لے کر زمانہ خیرالقرون بلکہ بہت بعد تک بیعت سے سیاسی بیعت ہی مراد لی جاتی رہی، بعد میں جب تصوف کا بدعی چلن ہوا تو شیخ طریقت یا پیر و مرشد قسم کے لوگ بیعت کے صحیح معنی و مراد کو اپنے بدعی اغراض و مقاصد کے لیے استعمال کرنے لگے، یہ شرعی معنی کی تحریف ہے، نیز اسلامی فرقوں اور جماعتوں کے پیشواؤں نے بھی بیعت کے صحیح معنی کا غلط استعمال کیا ہے، فالحذر، الحذر۔ ٢ ؎: یعنی : ہم آپ کی اور آپ کے بعد آپ کے خلفاء کی اگر ان کی بات بھلائی کی ہو اطاعت آسانی و پریشانی ہر حال میں کریں گے، خواہ وہ بات ہمارے موافق ہو یا مخالف، اور اس بات پر بیعت کرتے ہیں کہ جو آدمی بھی شرعی قانونی طور سے ولی الامر بنادیا جائے ہم اس سے اس کے عہدہ کو چھیننے کی کوشش نہیں کریں گے، وہ ولی الامر ہمارے فائدے کا معاملہ کرے یا اس کے کسی معاملہ میں ہمارا نقصان ہو، ہمارے غیروں کی ہم پر ترجیح ہو۔ اولیاء الأمور (اسلامی مملکت کے حکمرانوں) کے بارے میں سلف کا صحیح موقف اور منہج یہی ہے، اسی کی روشنی میں موجودہ اسلامی تنظیموں کو اپنے موقف ومنہج کا جائزہ لینا چاہیئے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الفتن ٢ (٧٠٥٦) ، الأحکام ٤٣ (٧١٩٩، ٧٢٠٠) ، صحیح مسلم/الإمارة ٨ (١٧٠٩) ، سنن ابن ماجہ/الجہاد ٤١ (٢٨٦٦) ، (تحفة الأشراف : ٥١١٨) ، موطا امام مالک/الجھاد ١ (٥) ، مسند احمد (٣/٤٤١، ٥/٣١٦، ٣١٨) ، ویأتي فیما یلي : ٤١٥٥-٤١٥٩ (صحیح )
4155Sunan An Nasaiصحیح

تابعداری کرنے سے بیعت

أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْأَبِيهِ، أَنَّ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ، قَالَ: بَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فِي الْعُسْرِ وَالْيُسْرِ، وَذَكَرَ مِثْلَهُ.

عبادہ بن صامت (رض) کہتے ہیں کہ ہم نے تنگی و خوشی کی حالت میں سمع و طاعت پر رسول اللہ ﷺ سے بیعت کی، پھر اسی طرح بیان کیا۔

It was narrated that Ubadah bin As-Samit said: "We pledged to the Messenger of Allah to hear and obey, both in times of hardship and ease." And he mentioned similarly.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4150
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح )
4156Sunan An Nasaiصحیح

اس پر بیعت کرنا کہ جو بھی ہمارا امیر مقرر ہوگا ہم اس کی مخالفت نہیں کریں گے

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قراءة عليه وأنا أسمع، عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْيَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَادَةُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ عُبَادَةَ، قَالَ: بَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ، فِي الْيُسْرِ وَالْعُسْرِ، وَالْمَنْشَطِ وَالْمَكْرَهِ، وَأَنْ لَا نُنَازِعَ الْأَمْرَ أَهْلَهُ، وَأَنْ نَقُولَ: أَوْ نَقُومَ بِالْحَقِّ حَيْثُمَا كُنَّا لَا نَخَافُ لَوْمَةَ لَائِمٍ.

عبادہ بن صامت (رض) کہتے ہیں کہ ہم نے تنگی و خوشحالی، خوشی و غمی ہر حال میں رسول اللہ ﷺ سے سمع و طاعت (سننے اور حکم بجا لانے) پر بیعت کی اور اس بات پر کہ ہم اپنے حکمرانوں سے حکومت کے لیے جھگڑا نہیں کریں گے، اور اس بات پر کہ ہم جہاں کہیں بھی رہیں حق کہیں گے یا حق پر قائم رہیں گے اور (اس بابت) ہم کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈریں گے۔

It was narrated that Ubadah said: "We pledged to the Messenger of Allah to hear and obey both in times of hardship and ease, when we felt energetic and when we felt tired, that we would not contend with the orders of whomever was entrusted with it, that we would speak the truth or stand firm in the way of truth wherever we may be, and that we would not fear the blame of the blamers.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4151
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم : ٤١٥٤ (صحیح )
4157Sunan An Nasaiصحیح

سچ کہنے پر بیعت کرنا

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ ابْنِ إِسْحَاق، وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: بَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فِي الْعُسْرِ وَالْيُسْرِ، وَالْمَنْشَطِ وَالْمَكْرَهِ، وَأَنْ لَا نُنَازِعَ الْأَمْرَ أَهْلَهُ وَعَلَى أَنْ نَقُولَ بِالْحَقِّ حَيْثُ كُنَّا.

عبادہ بن صامت (رض) کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ سے تنگی و خوشحالی، خوشی و غمی ہر حالت میں سمع و طاعت (سننے اور حکم بجا لینے) پر بیعت کی، اور اس بات پر کہ ہم حکمرانوں سے حکومت کے لیے جھگڑ انہیں کریں گے، اور اس بات پر کہ جہاں کہیں بھی رہیں حق بات کہیں گے۔

It was narrated from Ubadah bin Al-Walid bin Ubadah bin As-Samit, frim this father, that his grandfather said: "We pledged to the Messenger of Allah to hear and obey both in times of hardship and ease, when we felt energetic and when we felt tired, and when others are preferred over us, that we would not contend with the orders of whomever was entrusted with it, and that we would speak the truth wherever we may be.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4152
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم : ٤١٥٤ (صحیح )
4158Sunan An Nasaiصحیح

انصاف کی بات کہنے پر بیعت کرنے سے متعلق

أَخْبَرَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْوَلِيدُ بْنُ كَثِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُبَادَةُ بْنُ الْوَلِيدِ، أَنَّ أَبَاهُ الْوَلِيدَ حَدَّثَهُ، عَنْ جَدِّهِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ: بَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ، فِي عُسْرِنَا وَيُسْرِنَا، وَمَنْشَطِنَا وَمَكَارِهِنَا، وَعَلَى أَنْ لَا نُنَازِعَ الْأَمْرَ أَهْلَهُ، وَعَلَى أَنْ نَقُولَ: بِالْعَدْلِ أَيْنَ كُنَّا لَا نَخَافُ فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ.

عبادہ بن صامت (رض) کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ سے اپنی تنگی و خوشحالی اور خوشی و غمی ہر حال میں سمع و طاعت (سننے اور حکم بجا لینے) پر بیعت کی، اور اس بات پر کہ حکمرانوں سے حکومت کے سلسلے میں جھگڑا نہیں کریں گے، نیز اس بات پر کہ جہاں کہیں بھی رہیں عدل و انصاف کی بات کہیں گے اور اللہ تعالیٰ کے معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈریں گے۔

It was narrated that Ubadah bin As-Samit said: "We pledged to the Messenger of Allah to hear and obey during our hardship and our ease, when we felt energetic and when we felt tired, that we would not contend with the orders of whomever was entrusted with it, that we would stand for justice wherever we may be, and that we would not fear the blame of any blamer for the sake of Allah.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4153
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم : ٤١٥٤ (صحیح )
4159Sunan An Nasaiصحیح

کسی کی فضیلت پر صبر کرنے پر بیعت کرنا

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَيَّارٍ، وَيَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّهُمَا سَمِعَا عُبَادَةَ بْنَ الْوَلِيدِ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ، أَمَّا سَيَّارٌ، فَقَالَ: عَنْ أَبِيهِ، وَأَمَّا يَحْيَى، فَقَالَ: عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: بَايَعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ، فِي عُسْرِنَا وَيُسْرِنَا وَمَنْشَطِنَا وَمَكْرَهِنَا وَأَثَرَةٍ عَلَيْنَا، وَأَنْ لَا نُنَازِعَ الْأَمْرَ أَهْلَهُ، وَأَنْ نَقُومَ بِالْحَقِّ حَيْثُمَا كَانَ لَا نَخَافُ فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ، قَالَ شُعْبَةُ: سَيَّارٌ لَمْ يَذْكُرْ هَذَا الْحَرْفَ: حَيْثُمَا كَانَ، وَذَكَرَهُ يَحْيَى. قَالَ شُعْبَةُ: إِنْ كُنْتُ زِدْتُ فِيهِ شَيْئًا، فَهُوَ عَنْ سَيَّارٍ، أَوْ عَنْ يَحْيَى.

عبادہ بن صامت (رض) کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ سے تنگی و خوشحالی اور خوشی و غمی اور دوسروں کو اپنے اوپر ترجیح دئیے جانے کی حالت میں سمع و طاعت (حکم سننے اور اس پر عمل کرنے) پر بیعت کی اور اس بات پر بیعت کی کہ ہم حکمرانوں سے حکومت کے سلسلے میں جھگڑا نہیں کریں گے اور یہ کہ ہم حق پر قائم رہیں گے جہاں بھی ہو۔ ہم اللہ کے معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈریں گے۔ شعبہ کہتے ہیں کہ سیار نے حیث ما کان کا لفظ ذکر نہیں کیا اور یحییٰ نے ذکر کیا۔ شعبہ کہتے ہیں : اگر میں اس میں کوئی لفظ زائد کروں تو وہ سیار سے مروی ہوگا یا یحییٰ سے۔

It was narrated from Shubah, from Sayyar and Yahya bin Saeed that they heard Ubadah bin Al-Walid narrating from his father. Sayyar said: "From his father," and Yahya said: "From his father," from his grandfather, whom said: We pledged to the Messenger of Allah to hear and obey during our hardship and our ease, when we felt energetic and when we felt tired, and when others are preferred over us, that we would not contend with the orders of whomever was entrusted with it, that we would stand firm for the truth wherever it may be, and that we would not fear the blame of any blamer for the sake of Allah." (Sahih) Shubah said: "Sayyar did not mention this statement: Wherever it may be while Yahya mentioned it." Shubah said: "If I have added anything to it, then it is from Sayyar or from Yahya.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4154
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم : ٤١٤٥ (صحیح )
4160Sunan An Nasaiصحیح

کسی کی فضیلت پر صبر کرنے پر بیعت کرنا

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: عَلَيْكَ بِالطَّاعَةِ، فِي مَنْشَطِكَ وَمَكْرَهِكَ وَعُسْرِكَ وَيُسْرِكَ وَأَثَرَةٍ عَلَيْكَ.

ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم پر (امیر و حاکم کی) اطاعت لازم ہے۔ خوشی میں، غمی میں، تنگی میں، خوشحالی میں اور دوسروں کو تم پر ترجیح دئیے جانے کی حالت میں ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah said: "You have to obey when you feel energetic and when you feel tired, during your ease and your hardship, and when others are preferred over you.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4155
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الإمارة ٨ (١٨٣٦) ، (تحفة الأشراف : ١٢٣٣٠) ، مسند احمد (٢/٣٨١) (صحیح )
4161Sunan An Nasaiصحیح

اس بات پر بیعت کرنا کہ ہر ایک مسلمان کی بھلائی چاہیں گے

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ: بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى النُّصْحِ لِكُلِّ مُسْلِمٍ.

جریر (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے ہر مسلمان کے ساتھ خیر خواہی کرنے پر بیعت کی ١ ؎۔

It was narrated that Jarir (RA) said: "I pledged to the Messenger of Allah to be sincere toward ever Muslim.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4156
Notes · وضاحت
١ ؎: نصیحت کے معنی ہیں : خیر خواہی، کسی کا بھلا چاہنا، یوں تو اسلام کی طبیعت و مزاج میں ہر مسلمان بھائی کے ساتھ خیر خواہی و بھلائی داخل ہے، مگر آپ ﷺ کبھی کسی خاص بات پر بھی خصوصی بیعت لیا کرتے تھے، اسی طرح آپ کے بعد بھی کوئی مسلم حکمراں کسی مسلمان سے کسی خاص بات پر بیعت کرسکتا ہے، مقصود اس بات کی بوقت ضرورت و اہمیت اجاگر کرنی ہوتی ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الإیمان ٤٢ (٥٨) ، مواقیت الصلاة ٣ (٥٢٤) ، الزکاة ٢ (١٤٠١) ، البیوع ٦٨ (٢١٥٧) ، الشروط ١ (٢٧١٤) ، الأحکام ٤٣ (٧٢٠٤) ، صحیح مسلم/الإیمان ٢٣ (٥٦) ، (تحفة الأشراف : ٣٢١٠) ، مسند احمد (٤/٣٥٧، ٣٦١) (صحیح )
4162Sunan An Nasaiصحیح

اس بات پر بیعت کرنا کہ ہر ایک مسلمان کی بھلائی چاہیں گے

أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، قَالَ جَرِيرٌ: بَايَعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ، وَأَنْ أَنْصَحَ لِكُلِّ مُسْلِمٍ.

جریر (رض) کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ سے بیعت کی سمع و طاعت (بات سننے اور اس پر عمل کرنے) پر اور اس بات پر کہ میں ہر مسلمان کے ساتھ خیر خواہی کروں گا۔

Jarir said: "I pledged to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) to hear and obey and to be sincere toward every Muslim.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4157
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الأدب ٦٧ (٤٩٤٥) ، (تحفة الأشراف : ٣٢٣٩) ، مسند احمد (٤/٣٦٤) (صحیح )
4163Sunan An Nasaiصحیح

جنگ سے نہ بھا گنے پر بیعت کرنا

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، سَمِعَ جَابِرًا، يَقُولُ: لَمْ نُبَايِعْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمَوْتِ، إِنَّمَا بَايَعْنَاهُ عَلَى، أَنْ لَا نَفِرَّ.

جابر کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ سے موت پر نہیں بلکہ میدان جنگ سے نہ بھاگنے پر بیعت کی ١ ؎۔

Jabir said: "We did not give our pledge to the Messenger of Allah for death, rather we pledged not to flee (from battle).

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4158
Notes · وضاحت
١ ؎: موت پر بیعت کرنے کی ضرورت اس لیے نہیں ہے کہ موت اللہ کے سوا کسی کے اختیار میں نہیں ہے اور نہ ہی کسی مومن کے لیے جائز ہے کہ جان بوجھ کر اپنی جان دیدے۔ ہاں جنگ سے نہ بھاگنا ہر ایک کے اپنے اختیار کی بات ہے اس لیے آپ سے لوگوں نے میدان جنگ سے نہ بھاگنے پر خاص طور سے بیعت کی (نیز دیکھئیے اگلی حدیث اور اس کا حاشیہ) ۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الإمارة ١٨ (١٨٥٦) ، سنن الترمذی/السیر ٣٤ (١٥٩١) ، (تحفة الأشراف : ٢٧٦٣) ، مسند احمد (٣/٣٨١) (صحیح )
4164Sunan An Nasaiصحیح

مرنے پر بیعت کرنے سے متعلق

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ، قَالَ: قُلْتُ لِسَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ: عَلَى أَيِّ شَيْءٍ بَايَعْتُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ، قَالَ: عَلَى الْمَوْتِ.

یزید بن ابی عبید کہتے ہیں کہ میں نے سلمہ بن الاکوع (رض) سے کہا : حدیبیہ کے دن نبی اکرم ﷺ سے آپ لوگوں نے کس چیز پر بیعت کی ؟ انہوں نے کہا : موت پر ١ ؎۔

It was narrated that Yazid bin Abi Ubaid said: "I said to Salamah bin Al-Akwa: What pledge did you make to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) on the Day of Al-Hudaibiyyah? He said: For death.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4159
Notes · وضاحت
١ ؎: موت کسی کے اختیار میں نہیں ہے، اس لیے موت پر بیعت کرنے کا مطلب میدان جنگ سے نہ بھاگنے پر بیعت ہے، ہاں میدان جنگ سے نہ بھاگنے پر کبھی موت بھی ہوسکتی ہے، اسی لیے بعض لوگوں نے کہا کہ موت پر بیعت کی ۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجہاد ١١٠ (٢٩٦٠) ، المغازي ٣٥ (٤١٦٩) ، الأحکام ٤٣ (٧٢٠٦) ، ٤٤ (٧٢٠٨) ، صحیح مسلم/الإمارة ١٨ (١٨٦٠) ، سنن الترمذی/السیر ٣٤ (١٥٩٢) ، (تحفة الأشراف : ٤٥٣٦) ، مسند احمد (٤/٤٧، ٥١، ٥٤) (صحیح )
4165Sunan An Nasaiضعیف

جہاد پر بیعت کرنے سے متعلق

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّعَمْرَو بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أُمَيَّةَ ابْنَ أَخِي يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ حَدَّثَهُ، أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّ يَعْلَى بْنَ أُمَيَّةَ، قَالَ: جِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَبِي أُمَيَّةَ يَوْمَ الْفَتْحِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بَايِعْ أَبِي عَلَى الْهِجْرَةِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أُبَايِعُهُ عَلَى الْجِهَادِ، وَقَدِ انْقَطَعَتِ الْهِجْرَةُ.

یعلیٰ بن ابی امیہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس فتح مکہ کے دن ابوامیہ کو لے کر آیا اور میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میرے باپ نے ہجرت پر بیعت کرلی ہے۔ تو آپ نے فرمایا : میں ان سے جہاد پر بیعت لیتا ہوں اور ہجرت کا سلسلہ تو بند ہوگیا ١ ؎۔

It was narrated that Yala bin Umayyah said: "I came to the Messenger of Allah with my father Umayyah on the Day of the Conquest (of Makkah) and said: O Messenger of Allah, accept my fathers pledge for emigration (Al-Hijrah). The Messenger of Allah said: I will accept his pledge to fight in Jihad, for the emigration (Al-Hijrah) has ceased.

ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4160
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی مکہ سے ہجرت کا سلسلہ بند ہوگیا کیونکہ مکہ تو دارالاسلام بن چکا ہے، البتہ دارالحرب سے دارالاسلام کی طرف ہجرت کا سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١١٨٤٣) ، وأعادہ المؤلف برقم ٤١٧٣ (ضعیف) (اس کے راوی ” عمرو بن عبدالرحمن “ لین الحدیث ہیں )
4166Sunan An Nasaiصحیح

جہاد پر بیعت کرنے سے متعلق

أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَمِّي، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيُّ، أَنَّ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ، قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ، وَحَوْلَهُ عِصَابَةٌ مِنْ أَصْحَابِهِ: تُبَايِعُونِي عَلَى أَنْ لَا تُشْرِكُوا بِاللَّهِ شَيْئًا، وَلَا تَسْرِقُوا، وَلَا تَزْنُوا، وَلَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُمْ، وَلَا تَأْتُوا بِبُهْتَانٍ تَفْتَرُونَهُ بَيْنَ أَيْدِيكُمْ وَأَرْجُلِكُمْ، وَلَا تَعْصُونِي فِي مَعْرُوفٍ، فَمَنْ وَفَّى فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ، وَمَنْ أَصَابَ مِنْكُمْ شَيْئًا فَعُوقِبَ بِهِ فَهُوَ لَهُ كَفَّارَةٌ، وَمَنْ أَصَابَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا ثُمَّ سَتَرَهُ اللَّهُ، فَأَمْرُهُ إِلَى اللَّهِ إِنْ شَاءَ عَفَا عَنْهُ، وَإِنْ شَاءَ عَاقَبَهُ. خَالَفَهُ أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ.

عبادہ بن صامت (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا (اور اس وقت آپ کے اردگرد صحابہ کی ایک جماعت تھی) : تم مجھ سے اس بات پر بیعت کرو کہ اللہ کے ساتھ شرک نہ کرو گے، چوری نہیں کرو گے، زنا نہیں کرو گے، اپنے بچوں کو قتل نہیں کرو گے، اور اپنی طرف سے گھڑ کر کسی پر بہتان نہیں لگاؤ گے، کسی معروف (بھلی بات) میں میری نافرمانی نہیں کرو گے۔ (بیعت کے بعد) جو ان باتوں کو پورا کرے گا تو اس کا اجر اللہ کے ذمے ہے، تم میں سے کسی نے کوئی غلطی کی ١ ؎ اور اسے اس کی سزا مل گئی تو وہ اس کے لیے کفارہ ہوگی اور جس نے غلطی کی اور اللہ نے اسے چھپائے رکھا تو اس کا معاملہ اللہ کے پاس ہوگا، اگر وہ چاہے تو معاف کر دے اور چاہے تو سزا دے۔ احمد بن سعید نے اسے کچھ اختلاف کے ساتھ روایت کیا ہے ٢ ؎۔

It was narrated that Ubadah bin As-Samit said: "While there was a group of his companions around him, the Messenger of Allah said: Pledge to me, that you will not associate anything with Allah, nor steal, nor commit unlawful sexual relations, nor kill your children; you will not utter slander, fabricating from between your hands and feet, and you will not disobey me in goodness (Maruf). Whoever fulfills (this pledge), his reward will be with Allah, and whoever commits any of these actions and is punished for it, it will be an expiation for him. Whoever commits any of these actions then Allah conceals him, then his affair is up to Allah; if He wills He will forgive him, and if He wills punish him." (Sahih) Ahmed bin Saeed contradicted him.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4161
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی شرک کے علاوہ، کیونکہ توبہ کے سوا شرک کا کوئی کفارہ نہیں ہے۔ ٢ ؎: یہ اختلاف اس طرح ہے کہ احمد بن سعید کی روایت (جو آگے آرہی ہے) میں صالح بن کیسان اور زہری کے درمیان حارث بن فضیل کا اضافہ ہے، اور زہری اور عبادہ بن صامت کے درمیان ابوادریس خولانی کا اضافہ نہیں ہے، اس اختلاف سے اصل حدیث کی صحت میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الإیمان ١١ (١٨) ، مناقب الأنصار ٤٣ (٣٨٩٢) ، المغازي ١٢ (٣٩٩٩) ، تفسیرالممتحنة ٣ (٤٨٩٤) ، الحدود ٨ (٦٧٨٤) ، ١٤ (٦٨٠١) ، الدیات ٢ (٦٨٧٣) ، الأحکام ٤٩ (٧٢١٣) ، التوحید ٣١ (٧٤٦٨) ، صحیح مسلم/الحدود ١٠ (١٧٠٩) ، سنن الترمذی/الحدود ١٢ (١٤٣٩) ، (تحفة الأشراف : ٥٠٩٤) ، مسند احمد (٥/٣١٤) ، سنن الدارمی/السیر ١٧ (٢٤٩٧) ، ویأتي عند المؤلف بأرقام : ١٤٨٣، و ٤٢١٥، و ٥٠٠٥ (صحیح )
4167Sunan An Nasaiصحیح

جہاد پر بیعت کرنے سے متعلق

أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ الْحَارِثِ بْنِ فُضَيْلٍ، أَنَّابْنَ شِهَابٍ حَدَّثَهُ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَلَا تُبَايِعُونِي عَلَى مَا بَايَعَ عَلَيْهِ النِّسَاءُ، أَنْ لَا تُشْرِكُوا بِاللَّهِ شَيْئًا، وَلَا تَسْرِقُوا، وَلَا تَزْنُوا، وَلَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُمْ، وَلَا تَأْتُوا بِبُهْتَانٍ تَفْتَرُونَهُ بَيْنَ أَيْدِيكُمْ وَأَرْجُلِكُمْ، وَلَا تَعْصُونِي فِي مَعْرُوفٍ، قُلْنَا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَبَايَعْنَاهُ عَلَى ذَلِكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَمَنْ أَصَابَ بَعْدَ ذَلِكَ شَيْئًا فَنَالَتْهُ عُقُوبَةٌ فَهُوَ كَفَّارَةٌ، وَمَنْ لَمْ تَنَلْهُ عُقُوبَةٌ، فَأَمْرُهُ إِلَى اللَّهِ إِنْ شَاءَ غَفَرَ لَهُ، وَإِنْ شَاءَ عَاقَبَهُ.

عبادہ بن صامت (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کیا تم مجھ سے ان باتوں پر بیعت نہیں کرو گے جن پر عورتوں نے بیعت کی ہے کہ تم اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں کرو گے، نہ چوری کرو گے، نہ زنا کرو گے، نہ اپنے بچوں کو قتل کرو گے اور نہ خود سے گھڑ کر بہتان لگاؤ گے، اور نہ کسی معروف (اچھے کام) میں میری نافرمانی کرو گے ؟ ، ہم نے عرض کیا : کیوں نہیں، اللہ کے رسول ! چناچہ ہم نے ان باتوں پر آپ سے بیعت کی، تو آپ ﷺ نے فرمایا : جس نے اس کے بعد کوئی گناہ کیا اور اسے اس کی سزا مل گئی تو وہی اس کا کفارہ ہے، اور جسے اس کی سزا نہیں ملی تو اس کا معاملہ اللہ کے پاس ہے، اگر چاہے گا تو اسے معاف کر دے گا اور چاہے گا تو سزا دے گا ۔

It was narrated from Ubadah bin As-Samit that the Messenger of Allah said: "Why dont you pledge to me upon that which the women have pledged: That you will not associate anything with Allah, that you will not steal, that you will not have unlawful sexual relations, that you will not utter slander, fabricating from between your hands and feet, and that you will not disobey me in goodness (Maruf)?" We said: "yes, O Messenger of Allah." So we gave him our pledge, on that basis. The Messenger of Allah said: "Whoever commits any of these actions after that, and is punished, that will be an expiation. Whoever is not punished, then his affair is up to Allah; if He wills, He will forgive him, and if He wills, He will punish him.

صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4162
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح )
4168Sunan An Nasaiصحیح

ہجرت پر بیعت کرنے سے متعلق

أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنِّي جِئْتُ أُبَايِعُكَ عَلَى الْهِجْرَةِ وَلَقَدْ تَرَكْتُ أَبَوَيَّ يَبْكِيَانِ، قَالَ: ارْجِعْ إِلَيْهِمَا فَأَضْحِكْهُمَا كَمَا أَبْكَيْتَهُمَا.

عبداللہ بن عمرو (رض) سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی اکرم ﷺ کے پاس آ کر کہا : میں آپ کے پاس آیا ہوں تاکہ آپ سے ہجرت پر بیعت کروں، اور میں نے اپنے ماں باپ کو روتے چھوڑا ہے، آپ نے فرمایا : تم ان کے پاس واپس جاؤ اور انہیں جس طرح تم نے رلایا ہے اسی طرح ہنساؤ ١ ؎۔

It was narrated from Abdullah bin Amr that a man came to the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and said: "I have come pledging to emigrate (Hijrah), and I have left my parents weeping." He said: "Go back to them, and make them smile as you made them weep.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4163
Notes · وضاحت
١ ؎: نبی اکرم ﷺ نے ہجرت پر بیعت کرنے سے انکار نہیں کیا، صرف اس آدمی کے مخصوص حالات کی بنا پر ہجرت کی بجائے ماں باپ کی خدمت میں لگے رہنے کی ہدایت کی، اس لیے اس حدیث سے ہجرت پر بیعت لینے کا جواز ثابت ہوتا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الجہاد ٣٣ (٢٥٢٨) ، سنن ابن ماجہ/الجہاد ١٢ (٢٧٨٢) ، (تحفة الأشراف : ٨٦٤٠) ، مسند احمد (٢/١٦٠، ١٩٤، ١٩٧، ١٩٨، ٢٠٤) (صحیح )
4169Sunan An Nasaiصحیح

ہجرت ایک دشوار کام ہے

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ: أَنَّ أَعْرَابِيًّا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْهِجْرَةِ ؟، فَقَالَ: وَيْحَكَ، إِنَّ شَأْنَ الْهِجْرَةِ شَدِيدٌ، فَهَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ ؟، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَهَلْ تُؤَدِّي صَدَقَتَهَا ؟. قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: فَاعْمَلْ مِنْ وَرَاءِ الْبِحَارِ، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَنْ يَتِرَكَ مِنْ عَمَلِكَ شَيْئًا.

ابو سعید خدری (رض) سے روایت ہے کہ ایک اعرابی نے رسول اللہ ﷺ سے ہجرت کے متعلق سوال کیا تو آپ نے فرمایا : تمہارا برا ہو۔ ہجرت کا معاملہ تو سخت ہے۔ کیا تمہارے پاس اونٹ ہیں ؟ اس نے کہا : جی ہاں۔ آپ نے فرمایا : کیا تم ان کی زکاۃ نکالتے ہو ؟ کہا : جی ہاں، آپ نے فرمایا : جاؤ، پھر سمندروں کے اس پار رہ کر عمل کرو، اللہ تمہارے عمل سے کچھ بھی کم نہیں کرے گا ١ ؎۔

It was narrated from Abu Saeed that: a Bedouin asked the Messenger of Allah about emigration (Hijrah). He said: "Woe to you, emigration is very important. Do you have any camels?" He said: "Yes. He said: "Do you pay Sadaqah on them?" He said: "Yes." He said: "Do righteous deeds no matter how far away you are from the Muslims, for Allah, the Mighty and sublime, will never cause any of your deeds tobe lost.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4164
Notes · وضاحت
١ ؎: مفہوم یہ ہے کہ تمہاری جیسی نیت ہے اس کے مطابق تمہیں ہجرت کا ثواب ملے گا تم خواہ کہیں بھی رہو۔ اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ہجرت ان لوگوں پر واجب ہے جو اس کی طاقت رکھتے ہوں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الزکاة ٣٦ (١٤٥٢) ، الہبة ٣٥ (٢٦٣٣) ، مناقب الأنصار ٤٥ (٣٩٢٣) ، الأدب ٩٥ (٦١٦٥) ، صحیح مسلم/الإمارة ٢٠ (٨٧) ، سنن ابی داود/الجہاد ١ (٢٤٧٤) ، (تحفة الأشراف : ٤١٥٣) ، مسند احمد (٣/١٤، ٦٤ (صحیح )
4170Sunan An Nasaiصحیح

بادیہ نشین کی ہجرت سے متعلق

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ الْهِجْرَةِ أَفْضَلُ ؟، قَالَ: أَنْ تَهْجُرَ مَا كَرِهَ رَبُّكَ عَزَّ وَجَلَّ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْهِجْرَةُ هِجْرَتَانِ: هِجْرَةُ الْحَاضِرِ، وَهِجْرَةُ الْبَادِي، فَأَمَّا الْبَادِي، فَيُجِيبُ إِذَا دُعِيَ وَيُطِيعُ إِذَا أُمِرَ، وَأَمَّا الْحَاضِرُ فَهُوَ أَعْظَمُهُمَا بَلِيَّةً وَأَعْظَمُهُمَا أَجْرًا.

عبداللہ بن عمرو (رض) کہتے ہیں کہ ایک شخص نے کہا : اللہ کے رسول ! کون سی ہجرت زیادہ بہتر ہے ؟ آپ نے فرمایا : یہ کہ وہ تمام چیزیں چھوڑ دو جو تمہارے رب کو ناپسند ہیں ، اور فرمایا : ہجرت دو قسم کی ہے : ایک شہری کی ہجرت اور ایک اعرابی (دیہاتی) کی ہجرت، رہا اعرابی تو وہ جب بلایا جاتا ہے آجاتا ہے اور اسے جو حکم دیا جاتا ہے مانتا ہے، لیکن شہری کی آزمائش زیادہ ہوتی ہے، اور اسی (حساب سے) اس کو بڑھ کر ثواب ملتا ہے ١ ؎۔

It was narrated that Abdullah bin Amr said: "A man said: O Messenger of Allah! Which emigration (Hijrah) is best? He said: To leave what your Lord, the Mighty and Sublime, dislikes. He said: There are two kinds of emigration, the emigration of the town dweller and the emigration of the Bedouin. As for the Bedouin, when he is called (to fight in Jihad) he must respond, and he must obey when he is commanded, and as for the town dweller, he is the one who is more severely tested and more greatly rewarded.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4165
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث کا خلاصہ یہ ہے کہ حقیقی ہجرت تو اللہ تعالیٰ نے جن چیزوں سے روکا ہے اس کا چھوڑنا ہی ہے، خود ترک وطن بھی ممنوع چیزوں سے بچنے کا ایک ذریعہ ہے، اور شہر میں رہنے والے سے زیادہ اعرابی (دیہاتی) کے لیے وطن چھوڑنا آسان ہے، کیونکہ آبادی میں رہنے والوں کے معاشرتی مسائل بہت زیادہ ہوتے ہیں اس لیے ان کے لیے ترک وطن بڑا ہی تکلیف دہ معاملہ ہوتا ہے، اور اسی لیے ان کی ہجرت (ترک وطن) کا ثواب بھی زیادہ ہوتا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٨٦٣٠) ، مسند احمد (٣/١٦٠، ١٩١، ١٩٣، ١٩٤، ١٩٥) (صحیح )
4171Sunan An Nasaiصحیح

ہجرت کا مفہوم

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُبَشِّرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ، عَنْ يَعْلَى بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ كَانُوا مِنَ الْمُهَاجِرِينَ، لِأَنَّهُمْ هَجَرُوا الْمُشْرِكِينَ، وَكَانَ مِنَ الْأَنْصَارِ مُهَاجِرُونَ، لِأَنَّ الْمَدِينَةَ كَانَتْ دَارَ شِرْكٍ، فَجَاءُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْعَقَبَةِ.

عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، ابوبکر اور عمر مہاجرین میں سے تھے۔ اس لیے کہ انہوں نے مشرکین (ناطے داروں) کو چھوڑ دیا تھا۔ انصار میں سے (بھی) بعض مہاجرین تھے اس لیے کہ مدینہ کفار و مشرکین کا گڑھ تھا اور یہ لوگ (شرک کو چھوڑ کر) عقبہ کی رات رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے تھے ١ ؎۔

It was narrated that Jabir bin Zaid said: "Ibn Abbas said: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم), Abu Bakr and Umar were among the Muhajirin (emigrants), because they forsook (hajaru) the idolators, and some of the Ansar were Muhajirun because Al-Madinah was a land of shirk, and they came to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) on the Night of Al-Aqabah.

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 4166
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی : ہجرت کے اصل معنی کے لحاظ سے مہاجرین و انصار دونوں ہی مہاجرین تھے۔ ترک وطن کا مقصد اصلی شرک کی جگہ چھوڑنا ہی تو ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٥٣٩٠) (صحیح الإسناد )