Sunan An Nasai

All 5,772 hadiths in order · Page 147 of 289

2918Sunan An Nasai

خانہ کعبہ کی دیوار کے ساتھ سینہ اور چہرہ لگانا

أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَيْتَ، فَجَلَسَ، فَحَمِدَ اللَّهَ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ، وَكَبَّرَ، وَهَلَّلَ ثُمَّ مَالَ إِلَى مَا بَيْنَ يَدَيْهِ مِنْ الْبَيْتِ، فَوَضَعَ صَدْرَهُ عَلَيْهِ، وَخَدَّهُ وَيَدَيْهِ، ثُمَّ كَبَّرَ، وَهَلَّلَ، وَدَعَا، فَعَلَ ذَلِكَ بِالْأَرْكَانِ كُلِّهَا، ثُمَّ خَرَجَ، فَأَقْبَلَ عَلَى الْقِبْلَةِ وَهُوَ عَلَى الْبَاب:، فَقَالَ: هَذِهِ الْقِبْلَةُ، هَذِهِ الْقِبْلَةُ.

اسامہ بن زید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ خانہ کعبہ کے اندر گیا۔ آپ بیٹھے پھر آپ نے اللہ کی حمد و ثنا اور تکبیر و تہلیل کی، پھر آپ بیت اللہ کے اس حصہ کی طرف جھکے جو آپ کے سامنے تھا، اور آپ نے اس پر اپنا سینہ، رخسار اور اپنے دونوں ہاتھ رکھے، پھر تکبیر و تہلیل کی، اور دعا مانگی، آپ نے اسی طرح خانہ کعبہ کے سبھی ستونوں پر کیا، پھر باہر نکلے دروازے کے پاس آئے، اور قبلہ رخ ہو کر فرمایا: یہی قبلہ ہے یہی قبلہ ہے ١ ؎۔

It was narrated that Usamah bin Zaid said: “I entered the House with the Messenger of Allah ﷺ. He sat and praised Allah, and recited the Takbir, and the Tahlil. Then he went to the wall of the House that was in front of him, and placed his chest, cheek and hands on it, then he recited the Takbir, and the Tahlil, and supplicated. And he did that in all the corners, then he came out, and turned to face the Qiblah while he was in front of the door, and he said: ‘This is the Qiblah, this is the Qiblah.” (Hasan)

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2915
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی نماز اسی طرف منہ کر کے پڑھی جائے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٩١٢ (صحیح )
2919Sunan An Nasai

خانہ کعبہ میں نماز ادا کرنے کی جگہ سے متعلق

أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أُسَامَةَ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْبَيْتِ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ فِي قُبُلِ الْكَعْبَةِ، ثُمَّ قَالَ: هَذِهِ الْقِبْلَةُ.

اسامہ بن زید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ خانہ کعبہ سے باہر آئے، اور کعبہ کے سامنے آپ نے دو رکعتیں پڑھیں، پھر فرمایا: یہی قبلہ ہے ۔

It was narrated that Usamah said: “The Messenger of Allah ﷺ came out of the House and prayed two Rak‘ahs in front of the Ka’bah, then he said: ‘This is the Qiblah.” (Hasan)

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2916
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٩١٢ (صحیح الإسناد )
2920Sunan An Nasai

خانہ کعبہ میں نماز ادا کرنے کی جگہ سے متعلق

أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ خُشَيْشُ بْنُ أَصْرَمَ النَّسَائِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ: أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْبَيْتَ، فَدَعَا فِي نَوَاحِيهِ كُلِّهَا، وَلَمْ يُصَلِّ فِيهِ، حَتَّى خَرَجَ مِنْهُ، فَلَمَّا خَرَجَ رَكَعَ رَكْعَتَيْنِ فِي قُبُلِ الْكَعْبَةِ.

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ مجھے اسامہ بن زید ؓ نے خبر دی ہے کہ نبی اکرم ﷺ کعبہ کے اندر گئے اور اس کے سبھی گوشوں میں (جا جا کر) دعا کی، اور اس میں نماز نہیں پڑھی یہاں تک کہ آپ اس سے باہر آگئے، اور باہر آ کر آپ نے کعبہ کے سامنے دو رکعتیں پڑھیں۔

It was narrated that ‘Ata’ said: “I heard Ibn ‘Abbas say: ‘Usamah bin Zaid told me that the Prophet ﷺ entered the House, and supplicated in all its corners, but he did not pray inside until he came out; when he came out he prayed two Rak’ahs in front of the Ka’bah.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2917
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحج ٦٨ (١٣٣٠)، (تحفة الأشراف: ٩٦)، مسند احمد (٥/٢٠١، ٢٠٨) (صحیح )
2921Sunan An Nasai

خانہ کعبہ میں نماز ادا کرنے کی جگہ سے متعلق

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنِي السَّائِبُ بْنُ عُمَرَ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ كَانَ يَقُودُ ابْنَ عَبَّاسٍ وَيُقِيمُهُ عِنْدَ الشُّقَّةِ الثَّالِثَةِ مِمَّا يَلِي الرُّكْنَ الَّذِي يَلِي الْحَجَرَ مِمَّا يَلِي الْبَاب، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: أَمَا أُنْبِئْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَكَانَ يُصَلِّي هَاهُنَا ؟ فَيَقُولُ: نَعَمْ، فَيَتَقَدَّمُ، فَيُصَلِّي.

عبداللہ بن سائب کہتے ہیں کہ وہ ابن عباس ؓ کو (جب بڑھاپے سے ان کی بینائی جاتی رہی تھی) سہارا دے کرلے جاتے اور لے کر خانہ کعبہ کے انہیں تیسرے کونے میں جو اس رکن کے قریب ہے جو حجر اسود سے متصل ہے اور بیت اللہ کے دروازے سے بھی قریب ہے کھڑا کردیتے تھے تو ابن عباس ؓ کہتے: کیا تمہیں نہیں بتایا گیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ یہیں نماز پڑھتے تھے، وہ کہتے: جی ہاں، بتایا گیا، تو وہ آگے بڑھتے اور نماز پڑھتے۔

Muhammad bin ‘Abdullah bin As-Sa’ib narrated from his father that he used to lead Ibn ‘Abbas and make him stand at the third side (of the Ka’bah) next to the corner that is next to the Stone, in between the Stone and the door. Ibn ‘Abbas said: “Have you heard that the Messenger of Allah ﷺ used to pray here?” He said: “Yes.” So he went forward and prayed. (Da’if)

ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2918
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الحج ٥٥ (١٩٠٠)، (تحفة الأشراف: ٥٣١٧)، مسند احمد (٣/٤١٠) (ضعیف) (اس کے راوی ” محمد بن عبداللہ بن سائب “ مجہول ہیں )
2922Sunan An Nasai

خانہ کعبہ کے طواف کی فضیلت

حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَحْمَدُ بْنُ شُعَيْبٍ مِنْ لَفْظِهِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، أَنَّ رَجُلًا، قَالَ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، مَا أَرَاكَ تَسْتَلِمُ إِلَّا هَذَيْنِ الرُّكْنَيْنِ ؟ قَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إِنَّ مَسْحَهُمَا يَحُطَّانِ الْخَطِيئَةَوَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: مَنْ طَافَ سَبْعًا، فَهُوَ كَعِدْلِ رَقَبَةٍ.

عبداللہ بن عبید بن عمیر سے روایت ہے کہ ایک شخص نے (عبداللہ بن عمر ؓ سے) نے کہا: ابوعبدالرحمٰن (کیا بات ہے) میں آپ کو صرف انہیں دونوں رکنوں کو (یعنی رکن یمانی اور حجر اسود کو) بوسہ لیتے دیکھتا ہوں؟ تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: ان کے چھونے سے گناہ جھڑتے ہیں اور میں نے آپ کو یہ بھی فرماتے سنا ہے: جس نے سات بار طواف کیا تو یہ ایک غلام آزاد کرنے کے برابر ہے ۔

It was narrated from ‘Abdullah bin ‘Ubaid bin ‘Umair that a man said: “Abu ‘Abdur Rahman, why do I only see you touching these two corners?” He said: “I heard the Messenger of Allah ﷺ say: ‘Touching them erases sins.’ And I heard him say: ‘Whoever circumambulates seven times, it is like freeing a slave.” (Hasan)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2919
Notes · وضاحت
١ ؎: ابوعبدالرحمٰن عبداللہ بن عمر کی کنیت ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الحج ١١١ (٩٥٩)، (تحفة الأشراف: ٧٣١٧)، مسند احمد (٢/٣، ١١، ٩٥) (صحیح )
2923Sunan An Nasai

دورن طواف گفتگو کرنا

أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ الْأَحْوَلُ، أَنَّ طَاوُسًا أَخْبَرَهُ، عَنْابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَمَرَّ وَهُوَ يَطُوفُ بِالْكَعْبَةِ بِإِنْسَانٍ يَقُودُهُ إِنْسَانٌ بِخِزَامَةٍ فِي أَنْفِهِ، فَقَطَعَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ، ثُمَّ أَمَرَهُ أَنْ يَقُودَهُ بِيَدِهِ.

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ طواف کرتے ہوئے ایک ایسے شخص کے پاس سے گزرے جس کی ناک میں نکیل ڈال کر ایک آدمی اسے کھینچے لیے جا رہا تھا، تو نبی اکرم ﷺ نے اپنے ہاتھ سے نکیل کاٹ دی، پھر اسے حکم دیا کہ وہ اس کا ہاتھ پکڑ کرلے جائے۔

It was narrated from Ibn ‘Abbas that the Prophet ﷺ passed by while he was circumambulating the Ka’bah with a man who was leading another with a ring in his nose. The Messenger of Allah ﷺ stopped him with his hand then told him to lead him by his hand. (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2920
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحج ٦٥ (١٦٢٠)، ٦٦ (١٦٢١)، الأیمان والنذور ٣١ (٦٧٠٣)، سنن ابی داود/الأیمان والنذور ٢٣ (٣٣٠٢)، (تحفة الأشراف: ٥٧٠٤)، مسند احمد (١/٣٦٤)، ویأتی عند المؤلف برقم: ٣٨٤١ (صحیح )
2924Sunan An Nasai

دورن طواف گفتگو کرنا

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ الْأَحْوَلُ، عَنْطَاوُسٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ يَقُودُهُ رَجُلٌ بِشَيْءٍ ذَكَرَهُ فِي نَذْرٍ، فَتَنَاوَلَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَطَعَهُ، قَالَ: إِنَّهُ نَذْرٌ.

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک ایسے شخص کے پاس سے گزرے جسے ایک آدمی ایک ایسی چیز سے (باندھ کر) کھینچے لیے جا رہا تھا جسے اس نے نذر میں ذکر کیا تھا، تو نبی اکرم ﷺ نے اسے لے کر کاٹ دیا، فرمایا: یہ نذر ہے ١ ؎۔

It was narrated that Ibn ‘Abbas said: “The Messenger of Allah ﷺ passed by a man who was leading another man with something that he had stipulated in a vow. The Prophet ﷺ took it and broke it, and he said: ‘It is a vow.” (Sahih)

صحيح خ دون قوله إنه نذرصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2921
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی نذر اس طرح بھی ادا ہوجائے گی۔
Takhrij · تخریج
انظرماقبلہ (صحیح )
2925Sunan An Nasai

دوران طواف گفتگو کرنا درست ہے

أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ. ح وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنْ ابْنِ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ رَجُلٍأَدْرَكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: الطَّوَافُ بِالْبَيْتِ صَلَاةٌ فَأَقِلُّوا مِنَ الْكَلَامِ، اللَّفْظُ لِيُوسُفَ خَالَفَهُ حَنْظَلَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ.

طاؤس سے روایت ہے کہ ایک شخص جس نے رسول اللہ ﷺ کو پایا ہے، کہتے ہیں: بیت اللہ کا طواف نماز ہے تو (دوران طواف) باتیں کم کرو ۔ (ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں) اس حدیث کے الفاظ یوسف (یوسف بن سعید) کے ہیں۔ حنظلہ بن ابی سفیان نے ان کی یعنی حسن ١ ؎ مخالفت کی ہے۔

It was narrated from Tawus, from a man who met the Prophet ﷺ , that he said: “Tawaf of the House is a form of Salah, so speak little.” (Sahih Mawquf) This is the wording of Yusuf, which was contradicted by Hanzalah bin Abi Sufyan:

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2922
Notes · وضاحت
١ ؎: یہاں مخالفت سے لفظی مخالفت مراد ہے، معنوی نہیں کیونکہ مبہم اور مفسر میں کوئی تضاد نہیں ہے، حسن نے صحابی کے نام کو مبہم رکھا ہے، اور حنظلہ نے نام کی وضاحت کردی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٥٦٩٤)، مسند احمد (٣/٤١٤ و ٤/٦٤ و ٥/٣٧٧) (صحیح )
2926Sunan An Nasai

دوران طواف گفتگو کرنا درست ہے

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا الشَّيْبَانِيُّ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ طَاوُسٍ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ: أَقِلُّوا الْكَلَامَ فِي الطَّوَافِ، فَإِنَّمَا أَنْتُمْ فِي الصَّلَاةِ.

عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ طواف کے دوران باتیں کم کرو کیونکہ تم نماز میں ہو۔

‘Abdullah bin ‘Umar said: “Speak little when you are peforming Tawaf for you are in a state of Salah.” (Sahih Mawquf)

صحيح الإسناد موقوفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2923
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، وانظر ما قبلہ (صحیح الإسناد )
2927Sunan An Nasai

طواف کعبہ ہر وقت صیحیح ہے

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَابَاهَ، عَنْجُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ، لَا تَمْنَعُنَّ أَحَدًا طَافَ بِهَذَا الْبَيْتِ وَصَلَّى أَيَّ سَاعَةٍ شَاءَ مِنْ لَيْلٍ أَوْ نَهَارٍ.

جبیر بن مطعم رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اے بنی عبد مناف! تم اس گھر کے طواف کرنے سے، اور اس میں نماز پڑھنے سے کسی کو نہ روکو، رات اور دن کے جس حصہ میں وہ بھی چاہے ۔

It was narrated from Jubair bin Mut’im that the Prophet ﷺ said: “Banu ‘Abd Manaf, do not prevent anyone from circumambulating this House or praying at any time of the night or day he wishes.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2924
Takhrij · تخریج
انطر حدیث رقم: ٥٨٦ (صحیح )
2928Sunan An Nasai

مریض شخص کے طواف کعبہ کرنے کا طریقہ

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قراءة عليه وأنا أسمع، عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْمُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: شَكَوْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي أَشْتَكِي، فَقَالَ: طُوفِي مِنْ وَرَاءِ النَّاسِ وَأَنْتِ رَاكِبَةٌ، فَطُفْتُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي إِلَى جَنْبِ الْبَيْتِ، يَقْرَأُ ب: والطُّورِ وَكِتَابٍ مَسْطُورٍ.

ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے شکایت کی کہ میں بیمار ہوں۔ آپ نے فرمایا: لوگوں کے پیچھے سوار ہو کر طواف کرلو ، تو میں نے طواف کیا، اور رسول اللہ ﷺ بیت اللہ کے پہلو میں نماز پڑھ رہے تھے، اور آپ الطور * وکتاب مسطور پڑھ رہے تھے۔

It was narrated from Zainab bint Abi Salamah that Umm Salamah said: “I complained to the Messenger of Allah ﷺ that I was sick, and he said: ‘Perform Tawaf behind the people while you are riding.’ So I performed Tawaf while the Messenger of Allah ﷺ was praying beside the House, and reciting: ‘The Tur (Mount), and by the Book Inscribed.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2925
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصلاة ٧٨ (٤٦٤)، الحج ٦٤ (١٦١٩)، ٧١ (١٦٢١)، ٧٤ (١٦٣٣)، تفسیرالطور ١ (٤٨٥٣)، صحیح مسلم/الحج ٤٢ (١٢٧٦)، سنن ابی داود/الحج ٤٩ (١٨٨٢)، سنن ابن ماجہ/الحج ٣٤ (٢٩٦١)، (تحفة الأشراف: ١٨٢٦٢)، موطا امام مالک/الحج ٤٠ (١٢٣)، مسند احمد (٦/٢٩٠، ٣١٩) (صحیح )
2929Sunan An Nasai

مردوں کا عورتوں کے ساتھ طواف کرنا

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ، عَنْ عَبْدَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا طُفْتُ طَوَافَ الْخُرُوجِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَطُوفِي عَلَى بَعِيرِكِ مِنْ وَرَاءِ النَّاسِ، عُرْوَةُ لَمْ يَسْمَعْهُ مِنْ أُمِّ سَلَمَةَ.

ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے تو واپسی کا طواف نہیں کیا ہے۔ تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب نماز کھڑی کردی جائے، تو تم اپنے اونٹ پر لوگوں کے پیچھے سے طواف کرلو ۔ عبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: عروہ کا ام سلمہ ؓ سے سماع نہیں ہے۔

It was narrated from Hisham bin ‘Urwah, from his father, from Umm Salamah, that she said: “Messenger of Allah ﷺ, by Allah! I have not performed the Farewell Tawaf.” The Prophet ﷺ said: “When the Iqamah is said for prayer, perform Tawaf on your camel behind the people.” ‘Urwah did not hear from Umm Salamah. (Sahih)

صحيح لغيرهصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2926
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٨١٩٨) (صحیح )
2930Sunan An Nasai

مردوں کا عورتوں کے ساتھ طواف کرنا

أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّهَا قَدِمَتْ مَكَّةَ وَهِيَ مَرِيضَةٌ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: طُوفِي مِنْ وَرَاءِ الْمُصَلِّينَ وَأَنْتِ رَاكِبَةٌ، قَالَتْ: فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عِنْدَ الْكَعْبَةِ يَقْرَأُ: وَالطُّورِ.

ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ وہ مکہ آئیں، اور وہ بیمار تھیں، تو انہوں نے اس کا ذکر رسول اللہ ﷺ سے کیا، تو آپ نے فرمایا سوار ہو کر نمازیوں کے پیچھے سے طواف کرلو ، تو میں نے رسول اللہ ﷺ کو سنا آپ کعبہ کے پاس والطور پڑھ رہے تھے۔

It was narrated from ‘Urwah from Zainab bint Umm Salamah, from Umm Salamah, that she came to Makkah when she was sick. She mentioned that to the Messenger of Allah ﷺ and he said: “Perform Tawaf behind those who are praying while you are riding.” She said: “And I heard the Messenger of Allah ﷺ at the Ka’bah, reciting ‘By the Tur (Mount).” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2927
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٩٢٨ (صحیح )
2931Sunan An Nasai

اونٹ پر سوار ہو کر خانہ کعبہ کا طواف کرنا

أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ وَهُوَ ابْنُ إِسْحَاق، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: طَافَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ حَوْلَ الْكَعْبَةِ عَلَى بَعِيرٍ يَسْتَلِمُ الرُّكْنَ بِمِحْجَنِهِ.

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حجۃ الوداع میں اونٹ پر سوار ہو کر کعبہ کے گرد طواف کیا، آپ اپنی خمدار چھڑی سے حجر اسود کا استلام (چھونا) کر رہے تھے۔

It was narrated that Aishah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ performed Tawaf around the Ka’bah during the Farewell Pilgrimage on a camel, touching the Corner with his crooked-ended stick.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2928
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحج ٤٢ (١٢٧٤)، (تحفة الأشراف: ١٦٩٥٧) (صحیح )
2932Sunan An Nasai

حج افراد کرنے والے شخص کا طواف کرنا

أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُوَيْدٌ وَهُوَ ابْنُ عَمْرٍو الْكَلْبِيُّ، عَنْ زُهَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَيَانٌ، أَنَّ وَبَرَةَ حَدَّثَهُ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ وَسَأَلَهُ رَجُلٌ أَطُوفُ بِالْبَيْتِ وَقَدْ أَحْرَمْتُ بِالْحَجِّ ؟ قَالَ: وَمَا يَمْنَعُكَ ؟ قَالَ: رَأَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ يَنْهَى عَنْ ذَلِكَ وَأَنْتَ أَعْجَبُ إِلَيْنَا مِنْهُ، قَالَ: رَأَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْرَمَ بِالْحَجِّ، فَطَافَ بِالْبَيْتِ وَسَعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ.

وبرہ کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عمر ؓ سے سنا اس حال میں کہ ایک شخص نے ان سے پوچھا کہ میں نے حج کا احرام باندھ رکھا ہے، تو کیا میں بیت اللہ کا طواف کروں؟ تمہیں کیا چیز روک رہی ہے؟ اس نے کہا: میں نے عبداللہ بن عباس ؓ کو اس سے روکتے دیکھا ہے ١ ؎، لیکن آپ ہمیں ان سے زیادہ پسند ہیں انہوں نے کہا: ہم نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا آپ نے حج کا احرام باندھا پھر بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا ومروہ کے درمیان سعی کی۔

Wabarah said: “I heard ‘Abdullah bin ‘Umar say, when a man asked him whether he could perform Tawaf around the House when he had entered Ihram for Hajj: ‘What is stopping you?’ He said: ‘I saw ‘Abdullah bin ‘Abbas forbidding that, but you are telling us something different.’ He said: ‘We saw the Messenger of Allah ﷺ enter Ihram for Hajj, then circumambulate the House then perform Sai between As-Safa and Al-Marwah.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2929
Notes · وضاحت
١ ؎: ابن عباس رضی الله عنہما کا کہنا تھا کہ طواف کرنے سے احرام کھولنا ضروری ہوجاتا ہے، لہٰذا جو اپنے احرام پر باقی رہنا چاہے وہ طواف نہ کرے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحج ٢٨ (١٢٣٣)، (تحفة الأشراف: ٨٥٥٥)، مسند احمد (٢/٦، ٥٦) (صحیح )
2933Sunan An Nasai

جو کوئی عمرہ کا احرام باندھے اس کا طواف کرنا

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ وَسَأَلْنَاهُ عَنْ رَجُلٍ قَدِمَ مُعْتَمِرًا، فَطَافَ بِالْبَيْتِ، وَلَمْ يَطُفْ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ أَيَأْتِي أَهْلَهُ ؟ قَالَ: لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَطَافَ سَبْعًا، وَصَلَّى خَلْفَ الْمَقَامِ رَكْعَتَيْنِ، وَطَافَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، وَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ.

عمرو کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر ؓ سے سنا، اور ہم نے ان سے ایک شخص کے بارے میں پوچھا جو عمرہ کی نیت کر کے آیا، اور اس نے بیت اللہ کا طواف کیا، لیکن صفا ومروہ کے درمیان سعی نہیں کی۔ کیا وہ اپنی بیوی کے پاس آسکتا ہے انہوں نے جواب دیا، جب رسول اللہ ﷺ مکہ مکرمہ آئے تو آپ نے بیت اللہ کے سات پھیرے کیے، اور مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعت نماز پڑھی اور صفا ومروہ کے درمیان سعی کی، اور تمہارے لیے رسول اللہ ﷺ میں بہترین نمونہ ہے ١ ؎۔

It was narrated that ‘Amr said: “I heard Ibn ‘Umar say -when we asked him about a man who came for ‘Umrah, and performed Tawaf around the House, but did not perform Sa’i between As-Safa and Al-Marwah, could he be intimate with his wife? He said: ‘When the Messenger of Allah ﷺ came, he circumambulated seven times, and prayed two Rak’ahs behind the Maqam, and performed Sa’i between As-Safa and Al Marwah. And you have the best of examples in the Messenger of Allah ﷺ “ (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2930
Notes · وضاحت
١ ؎: اس لیے تمہیں رسول اللہ ﷺ کی پیروی کرنی چاہیئے، اور سعی کئے بغیر بیوی سے صحبت نہیں کرنی چاہیئے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصلاة ٣٠ (٣٩٥)، الحج ٦٩ (١٦٢٣)، ٧٢ (١٦٢٧)، ٨٠ (١٤٤٥، ١٤٤٧)، العمرة ١١ (١٧٩٣)، صحیح مسلم/الحج ٢٨ (١٢٣٤)، سنن ابن ماجہ/الحج ٣٣ (٢٩٥٩)، (تحفة الأشراف: ٧٣٥٢)، مسند احمد (٢/١٥، ١٥٢، ٣/٣٠٩)، ویأتي عند المؤلف بأرقام ٢٩٦٣، ٢٩٦٩ (صحیح )
2934Sunan An Nasai

جو آدمی حج اور عمرہ ایک ہی احرام میں ساتھ ساتھ ادا کرنے کی نیت کرے اور ہدی ساتھ نہ لے جائے تو اس کو کیا کرنا چاہیے؟

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْأَزْهَرِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَشْعَثُ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَخَرَجْنَا مَعَهُ فَلَمَّا بَلَغَ ذَا الْحُلَيْفَةِ، صَلَّى الظُّهْرَ، ثُمَّ رَكِبَ رَاحِلَتَهُ، فَلَمَّا اسْتَوَتْ بِهِ عَلَى الْبَيْدَاءِ، أَهَلَّ بِالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ جَمِيعًا، فَأَهْلَلْنَا مَعَهُ، فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ وَطُفْنَا، أَمَرَ النَّاسَ أَنْ يَحِلُّوا فَهَابَ الْقَوْمُ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَوْلَا أَنَّ مَعِي الْهَدْيَ لَأَحْلَلْتُ، فَحَلَّ الْقَوْمُ، حَتَّى حَلُّوا إِلَى النِّسَاءِ، وَلَمْ يَحِلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ يُقَصِّرْ إِلَى يَوْمِ النَّحْرِ.

انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نکلے اور ہم بھی آپ کے ساتھ نکلے۔ جب ذوالحلیفہ پہنچے تو آپ نے ظہر پڑھی، پھر اپنی سواری پر سوار ہوئے اور جب وہ بیداء میں آپ کو لے کر سیدھی کھڑی ہوئی تو آپ نے حج و عمرہ دونوں کا ایک ساتھ تلبیہ پکارا، ہم نے بھی آپ کے ساتھ تلبیہ پکارا پھر جب رسول اللہ ﷺ مکہ آئے، اور ہم نے طواف کرلیا تو آپ نے لوگوں کو حکم دیا کہ وہ احرام کھول کر حلال ہوجائیں۔ تو لوگ ڈرے (کہ یہ کیا بات ہوئی کہ خود تو آپ نے احرام نہیں کھولا ہے، اور ہمیں کھول ڈالنے کا حکم دے رہے ہیں) تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: اگر ہمارے ساتھ ہدی نہ ہوتی تو میں بھی احرام کھول ڈالتا ، تو سب لوگ (احرام کھول کر) حلال ہوگئے یہاں تک کہ بیویوں کے لیے بھی حلال ہوگئے اور رسول اللہ ﷺ قربانی کے دن (یعنی دسویں ذی الحجہ) تک حلال نہیں ہوئے اور نہ ہی آپ نے بال کتروائے۔

It was narrated that Anas said: “The Messenger of Allah ﷺ set out and we set out with him. When he reached Dhul-Hulaifah he prayed Zuhr, then he rode his mount, and when it stood up with him at Al-Baida’, he initiated Ihram for Hajj and ‘Umrah together, and we initiated Ihram with him. When the Messenger of Allah ﷺ came to Makkah and we had performed Tawaf, he told the people to exit Ihram but they hesitated. The Messenger of Allah ﷺ said to them: ‘Were it not for the fact that I have the Hadi with me, I would have exited Ihram.’ So the people exited Ihram completely, such that intimacy with their wives became permissible. But the Messenger of Allah ﷺ did not exit Ihram, and he did not cut his hair until the Day of Sacrifice.” (Sahih)

ضعيفصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2931
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٦٦٣ (صحیح )
2935Sunan An Nasai

قران کرنے والے شخص کے طواف سے متعلق

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَرَنَ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ، فَطَافَ طَوَافًا وَاحِدًا، وَقَالَ: هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُهُ.

عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے حج و عمرہ کو ایک ساتھ ملایا، اور (ان دونوں کے لیے) ایک ہی طواف کیا، اور کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اسی طرح کرتے دیکھا ہے۔

It was narrated that Ibn ‘Umar joined Hajj and ‘Umrah (Qarn) and he performed one Tawaf and said: “This is what I saw the Messenger of Allah ﷺ doing.” (Sahih)

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2932
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٧٦٠٢)، مسند احمد (٢/١١، ١٢)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/المناسک ٣٩ (٢٩٧٣) (صحیح الإسناد )
2936Sunan An Nasai

قران کرنے والے شخص کے طواف سے متعلق

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ الرَّقِّيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ، وَأَيُّوبُ بْنُ مُوسَى، وَإِسْمَاعِيل بْنُ أُمَيَّةَ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ: خَرَجَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، فَلَمَّا أَتَى ذَا الْحُلَيْفَةِ أَهَلَّ بِالْعُمْرَةِ، فَسَارَ قَلِيلًا، فَخَشِيَ أَنْ يُصَدَّ عَنْ الْبَيْتِ، فَقَالَ: إِنْ صُدِدْتُ صَنَعْتُ كَمَا صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: وَاللَّهِ مَا سَبِيلُ الْحَجِّ إِلَّا سَبِيلُ الْعُمْرَةِ، أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ مَعَ عُمْرَتِي حَجًّا، فَسَارَ حَتَّى أَتَى قُدَيْدًا فَاشْتَرَى مِنْهَا هَدْيًا، ثُمَّ قَدِمَ مَكَّةَ، فَطَافَ بِالْبَيْتِ سَبْعًا وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَقَالَ: هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ.

عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ وہ نکلے تو جب وہ ذوالحلیفہ آئے تو انہوں نے عمرے کا احرام باندھا، پھر تھوڑی دیر چلے، پھر وہ ڈرے کہ بیت اللہ تک پہنچنے سے پہلے ہی انہیں روک نہ دیا جائے تو انہوں نے کہا: اگر مجھے روک دیا گیا تو میں ویسے ہی کروں گا جیسے رسول اللہ ﷺ نے کیا تھا۔ انہوں نے کہا: قسم اللہ کی! حج کی راہ بھی وہی ہے جو عمرہ کی ہے، میں تم لوگوں کو گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اپنے عمرہ کے ساتھ حج بھی اپنے اوپر واجب کرلیا ہے، پھر وہ چلے یہاں تک کہ وہ قدید آئے، اور وہاں سے ہدی (قربانی کا جانور) خریدا، پھر مکہ آئے۔ اور بیت اللہ کے سات پھیرے کیے اور صفا ومروہ کے درمیان سعی کی اور کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو اسی طرح کرتے دیکھا ہے۔

It was narrated that Nafi’ said: “Abdullah bin ‘Umar went out and he came to Dhul-Hulaifah he entered Ihram for ‘Umrah. Then he traveled a short distance. Then he was afraid that he might be prevented from reaching the House. He said: ‘If I am prevented I will do what the Messenger of Allah ﷺ did.’ He said: ‘By Allah, Hajj is just like ‘Umrah; I ask you to bear witness that I have resolved to do Hajj with my ‘Umrah.’ He traveled on until he reached Qudaid, where he bought a Hadi. Then he came to Makkah, and circumambulated the House seven times, and performed Sa‘i between As-Safa and Al-Marwah and said: ‘This is what I saw the Messenger of Allah ﷺ doing.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2933
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٧٤٧ (صحیح )
2937Sunan An Nasai

قران کرنے والے شخص کے طواف سے متعلق

أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ، أَخْبَرَنِي هَانِئُ بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَطَافَ طَوَافًا وَاحِدًا.

جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک ہی طواف کیا۔

It was narrated from Jabir bin ‘Abdullah that the Prophet ﷺ performed one Tawaf. (Hasan)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2934
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٢٢٨٥)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الحج ٣٩ (٢٩٧٣)، مسند احمد (٣/٣٨١) (صحیح )