سوید بن غفلہ سے روایت ہے کہ عمر ؓ نے (حجر اسود) کا بوسہ لیا، اور اس سے چمٹے، اور کہا: میں نے ابوالقاسم ﷺ کو تجھ پر مہربان دیکھا ہے۔
It was narrated from Suwaid bin Ghafalah that ‘Umar kissed the Black Stone and touched it, and said: “I saw Abu Al-Qasim paying attention to you.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2936
عابس بن ربیعہ کہتے ہیں کہ میں نے عمر ؓ کو دیکھا کہ وہ حجر اسود کے پاس آئے اور کہا: میں جانتا ہوں کہ تو پتھر ہے اور اگر میں نے رسول اللہ ﷺ کو تجھے بوسہ لیتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں تجھے بوسہ نہ لیتا، پھر وہ اس سے قریب ہوئے، اور اسے بوسہ لیا۔
It was narrated that ‘Abbas bin Rabi’ah said: “I saw ‘Umar coming to the Stone and saying: ‘I know that you are just a stone; had I not seen the Messenger of Allah ﷺ kiss you I would not have kissed you.’ Then he came closer to it and kissed it.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2937
حنظلہ کہتے ہیں کہ میں نے طاؤس کو دیکھا وہ رکن (یعنی حجر اسود) سے گزرتے، اگر وہاں بھیڑ پاتے تو گزر جاتے کسی سے مزاحمت نہ کرتے، اور اگر خالی پاتے تو اسے تین بار بوسہ لیتے، پھر کہتے: میں نے ابن عباس ؓ کو ایسا ہی کرتے دیکھا۔ اور ابن عباس ؓ کہتے ہیں: میں نے عمر بن خطاب ؓ کو دیکھا ہے انہوں نے اسی طرح کیا، پھر کہا: بلاشبہ تو پتھر ہے، تو نہ نفع پہنچا سکتا ہے نہ نقصان، اور اگر میں نے رسول اللہ ﷺ کو تجھے بوسہ لیتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں تجھے بوسہ نہ لیتا پھر عمر ؓ نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو اسی طرح کرتے دیکھا ہے۔
It was narrated that Hanzalah said: “I saw Tawus pass by the Corner. If he saw it was crowded, he would pass by and he would not push his way in. And if he saw it was free, he would kiss it three times, then he said: ‘I saw Ibn ‘Abbas doing that. Ibn ‘Abbas said: I saw ‘Umar bin Al-Khattab (RA) doing that, then he said: You are just a stone that can neither cause harm or bring benefit; were it not that I saw the Messenger of Allah ﷺ kissing you I would not have kissed you.’ Then ‘Umar said: ‘I saw the Messenger of Allah ﷺ doing that.” (Sahih)
ضعيف الإسناد منکر بهذا السياقصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2938
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٠٥٠٣) (ضعیف) (اس کے راوی ” ولید “ مدلس ہیں اور عنعنہ سے روایت کئے ہوئے ہیں، لیکن میں صرف ” تین بار “ کا لفظ منکر ہے )
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب مکہ آئے تو مسجد الحرام میں گئے، اور حجر اسود کا بوسہ لیا، پھر اس کے داہنے جانب (باب کعبہ کی طرف) چلے، پھر تین پھیروں میں رمل کیا، اور چار پھیروں میں معمول کی چال چلے، پھر مقام ابراہیم پر آئے اور آیت کریمہ: واتخذوا من مقام إبراهيم مصلى پڑھی پھر دو رکعت نماز پڑھی، اور مقام ابراہیم آپ کے اور کعبہ کے بیچ میں تھا۔ پھر دونوں رکعت پڑھ کر بیت اللہ کے پاس آئے، اور حجر اسود کا استلام کیا، پھر آپ صفا کی طرف نکل گئے۔
It was narrated that Jabir said: “When the Messenger of Allah ﷺ came to Makkah he entered the Masjid and touched the Stone, then he moved to his right and walked rapidly for three (rounds) and then walked (at a regular pace) for four. Then he came to the Maqam and said: ‘And take you (people) the Maqam (place) of Ibrahim as a place of prayer’ and prayed two Rak’ahs with the Maqam between him and the House. Then he came to the House after praying those two Rak’ahs and touched the Stone, then he went out to As-Safa.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2939
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر ؓ پہلے تین پھیروں میں رمل ١ ؎ کرتے اور چار پھیرے عام چال چلتے، اور کہتے: رسول اللہ ﷺ ایسا ہی کرتے تھے۔
It was narrated from Nafi’ that ‘Abdullah bin ‘Umar used to walk rapidly for three (rounds), and walk for four, and he said that the Messenger of Allah ﷺ used to do that. (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2940
Notes · وضاحت
١ ؎: اکڑ کر مونڈھے ہلاتے ہوئے چلنا جیسے سپاہی جنگ کے لیے چلتا ہے۔
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ مکہ آتے ہی جب حج یا عمرہ کا طواف کرتے تو تین پھیرے دوڑ کر چلتے اور چار پھیرے عام چال سے چلتے، پھر دو رکعت پڑھتے، پھر صفا ومروہ کے درمیان سعی کرتے۔
It was narrated from Ibn ‘Umar, that when the Messenger of Allah ﷺ performed Tawaf in Hajj and ‘Umrah - as he first arrived (in Makkah), he would hasten in three rounds, and walk (at a regular pace) in four. Then he prayed two Rak’ahs, then he performed Sa’i between As-Safa and Al-Marwah.(Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2941
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحج ٦٣ (١٦١٦)، صحیح مسلم/الحج ٣٩ (١٢٦١)، سنن ابی داود/الحج ٥١ (١٨٩٣)، (تحفة الأشراف: ٨٤٥٣)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/ المناسک ٢٩ (٢٩٥٠)، مسند احمد (٢/١١٤، ١٥٥) (صحیح )
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جس وقت مکہ آتے تو طواف کے شروع میں حجر اسود کا استلام کرتے، پھر سات پھیروں میں سے پہلے تین پھیروں میں دلکی چال (کندھے ہلا کر تیز) چلتے۔
It was narrated from Salim that his father said: “When the Messenger of Allah ﷺ came to Makkah, he touched the Black Stone and at the beginning of his Tawaf, he walked rapidly in (the first) three of the seven rounds.” (Sahih)
سكت عنه الشيخصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2942
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر ؓ جب حج یا عمرہ میں آتے تو پہلے تین پھیروں میں کندھے ہلاتے ہوئے دوڑتے اور باقی چار پھیروں میں عام رفتار سے چلتے، اور کہتے: رسول اللہ ﷺ ایسا ہی کرتے تھے۔
It was narrated from Nafi’ that ‘Abdullah bin ‘Umar used to walk rapidly in three rounds of his Tawaf when he came for Hajj or ‘Umrah, and walk (at a normal pace) in four. He said: “The Messenger of Allah ﷺ used to do that.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2943
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ حجر اسود سے حجر اسود تک رمل کرتے یہاں تک آپ نے تین پھیرے پورے کئے۔
It was narrated that Jabir bin ‘Abdullah said: “I saw the Messenger of Allah ﷺ walking rapidly from the Stone to the Stone, until he had finished three circuits.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2944
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جب نبی اکرم ﷺ اور آپ کے اصحاب (فتح کے موقع پر) مکہ تشریف لائے تو مشرکین کہنے لگے: انہیں یثرب یعنی مدینہ کے بخار نے لاغر و کمزور کردیا ہے، اور انہیں وہاں شر پہنچا ہے، تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی اکرم ﷺ کو بذریعہ وحی اس کی اطلاع دی تو آپ نے صحابہ کرام کو حکم دیا کہ وہ اکڑ کر کندھے ہلاتے ہوئے تیز چلیں، اور دونوں رکنوں (یعنی رکن یمانی اور حجر اسود) کے درمیان عام چال چلیں، اور مشرکین اس وقت حطیم کی جانب ہوتے تو انہوں نے (ان کو اکڑ کر کندھے اچکاتے ہوئے تیز چلتے ہوئے دیکھ کر) کہا: یہ تو یہاں سے بھی زیادہ مضبوط اور قوی ہیں۔
It was narrated that Ibn ‘Abbas said: “When the Prophet ﷺ and his Companions came to Makkah, the idolaters said: ‘The fever of Yathrib has weakened them, and they have suffered a great deal because of it.’ Allah informed His Prophet ﷺ about that, so he told his Companions to walk rapidly, and to walk (at a normal pace) between the two corners, and the idolaters were on the side of the Stone. They said: ‘They are stronger than such and such.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2945
زبیر بن عدی کہتے ہیں کہ ایک شخص نے ابن عمر سے حجر اسود کے استلام کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو اسے چھوتے اور چومتے دیکھا ہے، اس آدمی نے کہا: اگر میرے اس تک پہنچنے میں بھیڑ آڑے آجائے یا میں مغلوب ہوجاؤں اور نہ جا پاؤں تو؟ ابن عمر ؓ نے کہا: أرأیت ١ ؎ کو تم یمن میں رکھو، میں نے رسول اللہ ﷺ کو اسے چھوتے اور چومتے دیکھا ہے۔
It was narrated that Az Zubair bin ‘Arabiy said: “A man asked Ibn ‘Umar about touching the Black Stone and he said: ‘I saw the Messenger of Allah ﷺ touching it and kissing it.’ The man said: ‘What if it is too crowded and I am overwhelmed?’ Ibn ‘Umar (RA), said: ‘Leave your “what if” in Yemen! I saw the Messenger of Allah ﷺ touching it and kissing it.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2946
Notes · وضاحت
١ ؎: أرأیت مطلب یہ ہے کہ اگر مگر چھوڑو جسے سنت رسول کی جستجو ہوا سے اس طرح کے سوالات زیب نہیں دیتے یہ تو تارکین سنت کا شیوہ ہے، سنت رسول کو جان لینے کے بعد اس پر عمل پیرا ہونے کے لیے جہاں تک ممکن ہو کوشش کرنی چاہیئے۔
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دونوں یمانی رکنوں ١ ؎ کے علاوہ کسی اور چیز پر ہاتھ پھیرتے نہیں دیکھا۔
It was narrated from Salim that his father said: “I did not see the Messenger of Allah ﷺ touching any part of the House except the two Yemeni Corners.”(Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2949
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے مراد رکن یمانی اور حجر اسود ہے حجر اسود کو یمانی تغلیباً کہا گیا ہے۔
عبید بن جریج کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر ؓ سے کہا: میں نے آپ کو کعبہ کے چاروں ارکان میں سے صرف انہیں دونوں یمانی (رکن یمانی اور حجر اسود) کا استلام کرتے دیکھا، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو ان دونوں رکنوں کے علاوہ کسی اور رکن کا استلام کرتے نہیں دیکھا، یہ حدیث مختصر ہے۔
It was narrated that ‘Ubaid bin Juraij said: “I said to Ibn ‘Umar (RA): ‘I see that you only touch these two Yemeni corners.’ He said: ‘I only saw the Messenger of Allah ﷺ touch these two corners.” This is an abridgement of it. (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2950
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ بیت اللہ کے ارکان میں سے کسی کا استلام نہیں کرتے تھے سوائے حجر اسود اور اس رکن کے جو جمحی لوگوں کے گھروں کی طرف حجر اسود سے قریب ہے۔
It was narrated from Salim that his father said: “The Messenger of Allah ﷺ did not touch any of the corners of the House except the Black Corner and the one that is next to it, in the direction of the houses of Al-Jumahiyyin.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2951
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جب سے میں نے رسول اللہ ﷺ کو رکن یمانی اور حجر اسود کا استلام کرتے دیکھا، میں نے ان دونوں رکنوں کا استلام نہیں چھوڑا، نہ سختی میں اور نہ آسانی میں۔
It was narrated that Nafi’ said: “Abdullah (RA), said: ‘I have not failed to touch these two corners since I saw the Messenger of Allah ﷺ touching them, the Yemeni Corner and the Black Stone, either when it is difficult or when it is easy.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2952
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جب سے میں نے رسول اللہ ﷺ کو حجر اسود کا استلام کرتے دیکھا، آسانی اور پریشانی کسی حال میں بھی اس کا استلام نہیں چھوڑا۔
It was narrated that Ibn ‘Umar said: “Since I saw the Messenger of Allah ﷺ touch it, I did not fail to touching the Stone whether it was easy or difficult.”(Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2953
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حجۃ الوداع میں اونٹ پر سوار ہو کر طواف کیا، آپ ایک خمدار چھڑی سے حجر اسود کا استلام کر رہے تھے۔
It was narrated from ‘Abdullah bin ‘Abbas that the Messenger of Allah ﷺ. circumambulated (the Ka’bah) during the Farewell Pilgrimage on a camel, touching the Corner with a crook-ended stick. (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2954