عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص عرفہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کھڑا تھا کہ وہ اپنی سواری سے گرگیا اور اس کی اونٹنی نے اسے کچل کر ہلاک کردیا۔ (راوی کو شک ہے کہ ابن عباس ؓ نے فأقعصه (مذکر کے صیغہ کے ساتھ) کہا یا فأقعصته (مونث کے صیغہ کے ساتھ) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اسے پانی اور بیر کی پتی سے غسل دو، اور اسے اس کے دونوں کپڑوں ہی میں کفنا دو، نہ اسے خوشبو لگاؤ، اور نہ اس کے سر کو ڈھانپو، اس لیے کہ اللہ عزوجل اسے قیامت کے دن لبیک پکارتا ہوا اٹھائے گا ۔
It was narrated that Ibn ‘Abbas said: “While a man was standing in ‘Arafat with the Messenger of Allah ﷺ, he fell from his mount and it killed him. The Messenger of Allah ﷺ said: ‘Wash him with water and lotus leaves, and shroud him in two cloths. Do not apply aromatics to him or cover his head, for Allah, the Mighty and Sublime, will raise him on the Day of Resurrection reciting the Talbiyah.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2855
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک محرم شخص کو اس کی اونٹنی نے گرا کر اس کی گردن توڑ دی اور اسے ہلاک کردیا، تو رسول اللہ ﷺ کے پاس لایا گیا تو آپ نے فرمایا: اسے نہلاؤ، اور کفناؤ، (لیکن) اس کا سر نہ ڈھانپنا اور نہ اسے خوشبو لگانا کیونکہ وہ (قیامت کے دن) لبیک پکارتا ہوا اٹھایا جائے گا ۔
It was narrated that Ibn ‘Abbas said: “The she-camel of a man in Ihram broke his neck and killed him. He was brought to the Messenger of Allah ﷺ and he said: ‘Wash him and shroud him, and do not cover his head, or bring any perfume near him, for he will be raised reciting Talbiyah,” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2856
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حج کر رہا تھا کہ اس کے اونٹ نے اسے گرا دیا جس سے وہ مرگیا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اسے غسل دیا جائے، اور دونوں کپڑوں ہی میں اسے کفنا دیا جائے، اور اس کا سر اور چہرہ نہ ڈھانپا جائے، کیونکہ وہ قیامت کے دن لبیک پکارتا ہوا اٹھے گا ۔
It was narrated from Ibn ‘Abbas that a man was performing Hajj with the Messenger of Allah ﷺ and his she-camel threw him and he died. The Messenger of Allah ﷺ said: “Wash him and shroud him in two garments, and do not cover his head or his face, for he will be raised on the Day of Resurrection reciting Talbiyah.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2857
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص احرام باندھے ہوئے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ آیا، تو وہ اپنے اونٹ پر سے گرپڑا تو اسے کچل ڈالا گیا اور وہ مرگیا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اسے پانی اور بیر کی پتی سے غسل دو، اور اسے اس کے یہی دونوں (احرام کے) کپڑے پہنا دو، اور اس کا سر نہ ڈھانپو کیونکہ وہ قیامت کے دن لبیک پکارتا ہوا آئے گا ۔
It was narrated that Ibn ‘Abbas said: “A man in Ihram came with the Messenger of Allah ﷺ and fell from atop his camel, breaking his neck, and he died. The Messenger of Allah ﷺ said: ‘Wash him with water and lotus leaves, and wrap him in his two garments. But do not cover his head, for he will be raised on the Day of Resurrection reciting the Talbiyah.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2858
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عبداللہ اور سالم بن عبداللہ بن عمر دونوں نے انہیں خبر دی کہ ان دونوں نے جب حجاج بن یوسف کے لشکر نے ابن زبیر ؓ پر چڑھائی کی تو ان کے قتل کئے جانے سے پہلے عبداللہ بن عمر ؓ سے بات کی ان دونوں نے کہا: امسال آپ حج کے لیے نہ جائیں تو کوئی نقصان نہیں، ہمیں اندیشہ ہے کہ ہمارے اور بیت اللہ کے درمیان کوئی رکاوٹ نہ کھڑی کردی جائے، تو انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلے، تو کفار قریش بیت اللہ تک پہنچنے میں حائل ہوگئے، تو آپ ﷺ نے (وہیں) اپنی ہدی کا نحر کرلیا اور سر منڈا لیا (اور حلال ہوگئے) سنو! میں تمہیں گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میں نے عمرہ (اپنے اوپر) واجب کرلیا ہے۔ ان شاء اللہ میں جاؤں گا اگر مجھے بیت اللہ تک پہنچنے سے نہ روکا گیا تو میں طواف کروں گا، اور اگر میرے اور بیت اللہ کے درمیان کوئی رکاوٹ پیش آگئی تو میں وہی کروں گا جو رسول اللہ ﷺ نے کیا اور میں آپ کے ساتھ تھا۔ پھر وہ تھوڑی دیر چلتے رہے۔ پھر کہنے لگے بلاشبہ حج و عمرہ دونوں کا معاملہ ایک جیسا ہے، میں تمہیں گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میں نے عمرہ کے ساتھ حج بھی اپنے اوپر واجب کرلیا ہے۔ چناچہ انہوں نے حج و عمرہ دونوں میں سے کسی سے بھی احرام نہیں کھولا۔ یہاں تک کہ یوم النحر (دسویں ذی الحجہ) کو احرام کھولا، اور ہدی کی قربانی کی۔
It was narrated from Nafi’ that ‘Abdullah bin ‘Abdullah and Salim bin ‘Abdullah told him, that they spoke to ‘Abdullah bin ‘Umar when the army besieged Ibn Az Zubair before he was killed. They said: “It does not matter if you do not perform Hajj this year; we are afraid lest we are prevented from reaching the House.” He said: We went out with the Messenger of Allah ﷺ and the disbelievers of the Quraish prevented us from reaching the House. So the Messenger of Allah ﷺ slaughtered his Hadi and shaved his head. I ask you to bear witness that I have resolved to perform ‘Umrah. If Allah wills I will set out and if I am allowed to reach the House I will circumambulate it, and if I am prevented from reaching the House I will do what the Messenger of Allah ﷺ did when I was with him.” Then he traveled for a while, then he said: “They are both the same. I ask you to bear witness that I have resolved to perform Hajj as well as ‘Umrah.” And he did not exit Ihram for either until he exited Ihram on the Day of Sacrifice and offered his Hadi. (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2859
حجاج بن عمرو انصاری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا کہ جو شخص لنگڑا ہوجائے، یا جس کی کوئی ہڈی ٹوٹ جائے، تو وہ حلال ہوجائے گا، (اس کا احرام کھل جائے گا) اور اس پر دوسرا حج ہوگا ، (عکرمہ کہتے ہیں) میں نے عبداللہ بن عباس اور ابوہریرہ ؓ سے اس کے متعلق پوچھا، تو ان دونوں نے کہا کہ انہوں (یعنی حجاج انصاری) نے سچ کہا۔
It was narrated from ‘Ikrimah, from Al-Hajjaj bin ‘Amr Al-Ansari that he heard the Messenger of Allah ﷺ say: “Whoever suffers a leg injury or breaks his leg, he has exited Ihram, but he has to perform another Hajj.” I asked Ibn ‘Abbas and Abu Hurairah (RA) about that and he said: “He spoke the truth.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2860
حجاج بن عمرو رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس کی ہڈی ٹوٹ گئی، یا جو لنگڑا ہوگیا تو وہ حلال ہوگیا، اور اس پر دوسرا حج ہے (عکرمہ کہتے ہیں) میں نے ابن عباس اور ابوہریرہ ؓ سے پوچھا، تو ان دونوں نے کہا، انہوں (حجاج انصاری) نے سچ کہا ہے۔ اور شعیب اپنی روایت میں وعليه حجة أخرى ان پر دوسرا حج ہے کے بجائے وعليه الحج من قابل آئندہ سال ان پر حج ہے کہا ہے۔
It was narrated from ‘Ikrimah, from Al-Hajjaj bin ‘Amr that the Prophet ﷺ said: “Whoever breaks his leg or suffers a leg injury, then he has exited Ihram, but he has to perform another Hajj.” I asked Ibn ‘Abbas and Abu Hurairah (RA) and they said: “He spoke the truth.” And in his narration (one of the narrators) Shuaib said: “He has to perform Hajj the following year.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2861
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ذی طویٰ میں اترتے اور وہیں رات گزارتے، پھر صبح کی نماز پڑھ کر مکہ میں داخل ہوتے، اور رسول اللہ ﷺ کے نماز پڑھنے کی جگہ ایک سخت ٹیلے پر تھی نہ کہ مسجد میں جو وہاں بنائی گئی ہے، بلکہ اس مسجد سے نیچے ایک ٹھوس کھردرے ٹیلے پر ہے۔
Ibn ‘Umar narrated that the Messenger of Allah ﷺ used to dismount at Dhi Tuwa and stay there overnight until he prayed Subh when he was approaching Makkah. The place where the Messenger of Allah ﷺ prayed was on top of the big hillock and not in the Masjid that was built later on, but it was lower than that, on top of the big hillock. (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2862
محرش کعبی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ رات میں جعرانہ ٢ ؎ سے نکلے جس وقت آپ عمرہ کرنے کے لیے چلے پھر آپ رات ہی میں جعرانہ واپس آگئے اور جعرانہ میں اس طرح صبح کی گویا آپ نے رات وہیں گزاری ہے یہاں تک کہ جب سورج ڈھل گیا تو آپ جعرانہ سے چل کر بطن سرف پہنچے، سرف سے مدینہ کی راہ لی۔
It was narrated from Muharrish Al-Ka’bi, that the Prophet ﷺ, went out at night from Al-Ji’rranah when he set out for ‘Umrah, and came back to Al Ji’rranah in the morning, as if he had stayed there. Then, when the sun had passed its zenith he went out from Al-Ji’rranah in the valley of Sarf until the road joined the road to Al-Madinah from Sarf. (Hasan)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2863
Notes · وضاحت
١ ؎: جعرانہ مکہ اور طائف کے درمیان ایک جگہ کا نام ہے۔ سرف ایک جگہ کا نام ہے۔
محرش کعبی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ جعرانہ سے رات میں نکلے گویا آپ کھری چاندی کے ڈلے ہوں (یعنی آپ کا رنگ سفید چاندی کی طرح چمکدار تھا) آپ نے عمرہ کیا، پھر آپ نے جعرانہ ہی میں صبح کی جیسے آپ نے وہیں رات گزاری ہو۔
It was narrated from Muharrish Al-Kabi that: the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) set out from Al-Jirranah at night as if he were an ingot of silver (i.e., in whiteness and purity) and perfomed Umrah, then he came back in the mooring as if he had stayed there overnight.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2864
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ مکہ میں ثنیہ علیا سے داخل ہوئے جو کہ بطحاء میں ہے، اور ثنیہ سفلی سے واپس نکلے۔
It was narrated from Ibn Umar that: the Messenger of Allah entered Makkah from the upper valley which is in Al-Batha and he left from the lower valley.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2865
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ (فتح مکہ کے موقع پر) خود پہنے ہوئے مکہ میں داخل ہوئے، تو آپ سے کہا گیا کہ ابن خطل کعبہ کے پردوں سے لپٹا ہوا ہے، تو آپ نے فرمایا: اسے قتل کر دو ١ ؎۔
It was narrated from Anas that the Prophet ﷺ entered Makkah wearing a helmet. It was said that Ibn Khatal was hanging on to the drapes of the Ka’bah and he said: “Kill him.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2867
Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ وہ نبی اکرم ﷺ کو بہت اذیت پہنچایا کرتا تھا۔
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ فتح مکہ کے دن مکہ میں داخل ہوئے، آپ کے سر پر کالی پگڑی تھی، اور آپ بغیر احرام کے تھے ١ ؎۔
It was narrated from Jabir bin ‘Abdullah that the Prophet ﷺ entered on the day of the Conquest of Makkah wearing a black ‘Imamah, without being in Ihram. (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2869
Notes · وضاحت
١ ؎: دونوں روایتوں میں کوئی تعارض نہیں کیونکہ ہوسکتا ہے کہ عمامہ خود کے اوپر رہا ہو، یا خود عمامہ کے اوپر رہا ہو یا داخل ہوتے وقت سر پر خود رہا ہو پھر آپ نے اسے ہٹا کر پگڑی باندھ لی ہو، واللہ اعلم۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحج ٨٤ (١٣٥٨)، (تحفة الأشراف: ٢٩٤٧)، مسند احمد (٣/٣٨٧)، ویأتی عند المؤلف فی الزینة ١٠٩، برقم ٥٣٤٦ (صحیح )
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اور آپ کے اصحاب چار ذی الحجہ کی صبح کو حج کا تلبیہ پکارتے ہوئے مکہ آئے، تو آپ نے انہیں حکم دیا کہ (عمرہ کر کے) احرام کھول ڈالیں۔
It was narrated that Ibn ‘Abbas said: “The Messenger of Allah ﷺ and his Companions came on the morning of the fourth day (of Dhul-Hijjah), reciting the Talbiyah for Hajj, and the Messenger of Allah ﷺ commanded them to exit Ihrám.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2870
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ چار ذی الحجہ کو (مکہ) آئے، آپ نے حج کا احرام باندھ رکھا تھا، تو آپ نے صبح کی نماز بطحاء میں پڑھی، اور فرمایا: جو اسے عمرہ بنانا چاہے وہ بنا لے (یعنی طواف کر کے احرام کھول دے، اور حلال ہوجائے) ۔
It was narrated that Ibn ‘Abbas said: “The Messenger of Allah ﷺ came on the fourth day of Dhul-Hijjah having entered Ihram for Hajj. He prayed Subh in Al Batha’ and said: ‘Whoever wants to make it ‘Umrah, let him do so.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2871
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ عمرہ قضاء میں مکہ میں داخل ہوئے اور عبداللہ بن رواحہ ؓ آپ کے آگے آگے چل رہے تھے، وہ کہہ رہے تھے: خلوا بني الکفار عن سبيله اليوم نضربکم على تنزيله ضربا يزيل الهام عن مقيله ويذهل الخليل عن خليله اے کافروں کی اولاد! ان کے راستے سے ہٹ جاؤ (کوئی مزاحمت اور کوئی رکاوٹ نہ ڈالو) ، ورنہ آج ہم ان پر نازل شدہ حکم کے مطابق تمہیں ایسی مار ماریں گے جو سروں کو ان کی خواب گاہوں سے جدا کر دے گی اور دوست کو اپنے دوست سے غافل کر دے گی، تو عمر ؓ نے ان سے کہا: ابن رواحہ! رسول اللہ ﷺ کے سامنے اور اللہ عزوجل کے حرم میں تم شعر پڑھتے ہو؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: چھوڑو ان کو (پڑھنے دو ) کیونکہ یہ ان پر تیر سے زیادہ اثرانداز ہیں ۔
It was narrated from Anas that the Prophet ﷺ entered Makkah during the ‘Umratul-Qaza’, and ‘Abdullah bin Rawahah was walking in front of him and saying: Get out of his way, you unbelievers, make way. Today we will fight about its revelation with blows that will remove heads from shoulders and make friend unmindful of friend. ‘Umar said to him: “Ibn Rawahah! In front of the Messenger of Allah ﷺ and in the Sanctuary of Allah, the Mighty and Sublime, you recite poetry?” The Prophet ﷺ, said: “Let him do so, for what he is saying is more effective than shooting arrows at them.” (Hasan)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2873
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ فتح مکہ کے دن رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یہ وہ شہر ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اسی دن سے محترم قرار دیا ہے جس دن اس نے آسمان اور زمین کو پیدا کیا، لہٰذا یہ اللہ کی حرمت کی سبب سے قیامت تک حرمت والا رہے گا، نہ اس کے کانٹے کاٹے جائیں گے، نہ اس کے شکار بدکائے جائیں گے، نہ وہاں کی کوئی گری پڑی چیز اٹھائے گا سوائے اس شخص کے جو اس کی پہچان کرائے اور نہ وہاں کی ہری شاخ کاٹی جائے گی ، اس پر ابن عباس ؓ نے کہا: اللہ کے رسول! سوائے اذخر کے ١ ؎ تو آپ نے ایک بات کہی جس کا مفہوم ہے سوائے اذخر کے۔
It was narrated that Ibn ‘Abbas said: “The Messenger of Allah ﷺ said on the day of the Conquest: ‘Allah made this land sacred the day He created the Heavens and the Earth, so it is sacred by the Decree of Allah until the Day of Resurrection. Its thorny shrubs are not to be cut, or its game disturbed, or its lost property to be picked up, except by the one who will announce it publicly, or is its green grass to be uprooted or cut.’ Al-’Abbas said: ‘Messenger of Allah ﷺ! Except Idhkhir.” And he said something that meant: “Except Idhkhir.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2874
Notes · وضاحت
١ ؎: اذخر ایک قسم کی مشہور گھاس ہے جو خوشبودار ہوتی ہے۔