Sunan An Nasai

All 5,772 hadiths in order · Page 143 of 289

2838Sunan An Nasai

کوے کو مارنا

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: خَمْسٌ مِنَ الدَّوَابِّ لَا جُنَاحَ فِي قَتْلِهِنَّ عَلَى مَنْ قَتَلَهُنَّ فِي الْحَرَمِ وَالْإِحْرَامِ: الْفَأْرَةُ، وَالْحِدَأَةُ، وَالْغُرَابُ، وَالْعَقْرَبُ، وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ.

عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: پانچ جانور ایسے ہیں جنہیں حرم میں اور حالت احرام میں مارنے میں کوئی گناہ نہیں ہے: چوہیا، چیل، کوا، بچھو اور کاٹ کھانے والا کتا ۔

It was narrated from Salim that his father said: “The Prophet ﷺ said: ‘There are five kinds of animals for which there is no sin on the one who kills them, whether he is in Ihram or not: Mice, kites, crows, scorpions and vicious dogs.”(Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2835
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحج ٩ (١١٩٩)، سنن ابی داود/المناسک ٤٠ (١٨٤٦)، (تحفة الأشراف: ٨٦٢٥) (صحیح )
2839Sunan An Nasai

محرم کو جن چیزوں کو مار ڈالنا درست نہیں ہے

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي عَمَّارٍ، قَالَ: سَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ الضَّبُعِ، فَأَمَرَنِي بِأَكْلِهَا، قُلْتُ: أَصَيْدٌ هِيَ ؟ قَالَ: نَعَمْ، قُلْتُ: أَسَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ: نَعَمْ.

ابن ابی عمار کہتے ہیں کہ میں نے جابر بن عبداللہ ؓ سے بجو کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے مجھے اس کے کھانے کا حکم دیا، میں نے ان سے پوچھا: کیا وہ شکار ہے؟ کہا: ہاں، میں نے کہا: کیا آپ نے اسے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے؟ کہا: ہاں (میں نے سنا ہے) ۔

It was narrated that Ibn Abi ‘Ammar said: “I asked Jabir bin ‘Abdullah about hyenas, and he told me to eat them. I said: ‘Is it not game? He said: ‘Yes.’ I said: ‘Did you hear that from the Messenger of Allah ﷺ ?‘ He said: ‘Yes.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2836
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الأطعمة ٣٢ (٣٨٠١)، سنن الترمذی/الحج ٢٨ (٨٥١)، الأطعمة ٤ (١٧٩١)، سنن ابن ماجہ/الحج ٩٠ (٣٠٨٥)، الصید ١٥ (٣٢٣٦)، (تحفة الأشراف: ٢٣٨١)، مسند احمد (٣/٢٩٧، ٣١٨، ٣٢١)، سنن الدارمی/المناسک ٩٠ (٨٩٨٤، ١٩٨٥)، ویأتی عند المؤلف في الصید ٢٧ (برقم ٤٣٢٨) (صحیح )
2840Sunan An Nasai

محرم کو نکاح کرنے کی اجازت سے متعلق

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا دَاوُدُ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعَطَّارُ، عَنْ عَمْرٍو وَهُوَ ابْنُ دِينَارٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الشَّعْثَاءِيُحَدِّثُ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: تَزَوَّجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَيْمُونَةَ وَهُوَ مُحْرِمٌ.

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے میمونہ ؓ سے نکاح کیا اور آپ محرم تھے ١ ؎۔

It was narrated that Ibn ‘Abbas said: “The Prophet ﷺ married Maimunah when he was in Ihram.” (Sahih)

شاذصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2837
Notes · وضاحت
١ ؎: سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ اس سلسلہ میں ابن عباس کو وہم ہوا ہے کیونکہ ام المؤمنین میمونہ رضی الله عنہا کا خود بیان ہے کہ رسول اللہ نے مجھ سے شادی کی تو ہم دونوں حلال تھے، نیز ان دونوں کا نکاح کرانے والے ابورافع رضی الله عنہ کا بیان بھی ابن عباس رضی الله عنہما کے برعکس ہے، دراصل ابن عباس رضی الله عنہما نے مکہ نہ جا کر صرف ہدی کا جانور بھیج دینے کو بھی احرام سمجھا، حالانکہ یہ احرام نہیں ہوتا، اور یہ نکاح اسی حالت میں ہوا تھا کہ آپ ﷺ نے اشعار کر کے ہدی بھیج دی اور حج سے رہ گئے، اور بقول عائشہ رضی الله عنہا آپ نے اپنے اوپر احرام کی کوئی بات لاگو نہیں کی، (دیکھئیے سنن ابوداؤد حدیث رقم ١٨٤٢ ) ایک قول یہ بھی ہے کہ آپ نے حالت احرام میں نکاح سے ممانعت حجۃ الوداع میں کی تھی، اور میمونہ رضی الله عنہا سے نکاح اس حرمت سے پہلے کیا تھا۔ واللہ اعلم
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/ انکاح ٣٠ (٥١١٥)، صحیح مسلم/انکاح ٥ (١٤١٠)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الحج ٣٩ (١٨٤٤)، سنن الترمذی/ الحج ٢٤ (٨٤٤)، سنن ابن ماجہ/النکاح ٤٥ (١٩٦٥)، (تحفة الأشراف: ٥٣٧٦)، مسند احمد ١/٢٢١، ٢٢٨، ٢٤٥، ٢٦٦، ٢٧٠، ٢٨٣، ٢٨٥، ٢٨٦، ٣٢٤، ٣٣٠، ٣٣٣، ٣٣٦، ٣٣٧، ٣٤٦، ٣٥١، ٣٥٤، ٣٦٠، ٣٦١ سنن الدارمی/المناسک ٢١ (١٨٦٣)، ویأتی عند المؤلف فیما یأتی برقم: ٣٢٧٤ (صحیح) (ابن عباس کا وہم ہے کہ میمونہ سے شادی حالت احرام میں ہوئی، صحیح اور ثابت یہی ہے کہ احرام سے باہر یہ شادی ہوئی، اسی لیے علماء نے ابن عباس سے ثابت ان احادیث کو شاذ کہا ہے )
2841Sunan An Nasai

محرم کو نکاح کرنے کی اجازت سے متعلق

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، أَنَّ أَبَا الشَّعْثَاءِحَدَّثَهُ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَنَكَحَ حَرَامًا.

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حالت احرام میں نکاح کیا۔

It was narrated from Ibn ‘Abbas that the Messenger of Allah ﷺ got married when in Ihram. (Sahih)

سكت عنه الشيخصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2838
Takhrij · تخریج
انظرما قبلہ (صحیح) (لیکن شاذ ہے )
2842Sunan An Nasai

محرم کو پچھنے لگانا

أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُونُسَ بْنِ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَتَزَوَّجَ مَيْمُونَةَ وَهُمَا مُحْرِمَانِ.

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے میمونہ ؓ سے نکاح کیا اور دونوں محرم تھے۔

It was narrated from Ibn ‘Abbas that the Messenger of Allah ﷺ, married Maimunah when they were both in Ihram. (Sahih)

شاذصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2839
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٦٣٣٩١) (صحیح) (لیکن شاذ ہے )
2843Sunan An Nasai

قلیل صدقہ سے متعلق

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق الصَّاغَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاق، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْعِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَتَزَوَّجَ مَيْمُونَةَ وَهُوَ مُحْرِمٌ.

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے میمونہ ؓ سے نکاح کیا اور آپ محرم تھے۔

It was narrated from Ibn ‘Abbas that the Messenger of Allah ﷺ married Maimunah when he was in Ihram. (Sahih)

شاذصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2840
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٦٠٤٥)، مسند احمد (١/٢٤٥) (صحیح) (لیکن شاذ ہے )
2844Sunan An Nasai

محرم کو پچھنے لگانا

أَخْبَرَنِي شُعَيْبُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ إِسْحَاق، وَصَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو الْحِمْصِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ، قَالَ: حَدَّثَنَاالْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَتَزَوَّجَ مَيْمُونَةَ وَهُوَ مُحْرِمٌ.

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے میمونہ ؓ سے نکاح کیا اور آپ احرام باندھے ہوئے تھے۔

It was narrated from Ibn ‘Abbas that the Prophet ﷺ married Maimunah when he was in Ihram. (Sahih)

شاذصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2841
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/جزاء الصید ١٢ (١٨٣٧)، (تحفة الأشراف: ٥٩٠٣)، مسند احمد (١/٣٣٠) (صحیح )
2845Sunan An Nasai

اس کی ممانعت سے متعلق

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ نُبَيْهِ بْنِ وَهْبٍ، أَنَّ أَبَانَ بْنَ عُثْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَنْكِحُ الْمُحْرِمُ وَلَا يَخْطُبُ وَلَا يُنْكِحُ.

عثمان بن عفان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: محرم نہ اپنا نکاح کرے، نہ شادی کا پیغام بھیجے اور نہ ہی کسی دوسرے کا نکاح کرائے ۔

‘Uthman bin ‘Affan (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘The Muhrim should not get married, or propose marriage, or arrange a marriage for someone else.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2842
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/النکاح ٥ (١٤٠٩)، سنن ابی داود/الحج ٣٩ (١٨٤١) مطولا، سنن الترمذی/الحج ٢٣ (٨٤٠)، سنن ابن ماجہ/النکاح ٤٥ (١٩٦٦)، (تحفة الأشراف: ٩٧٧٦)، موطا امام مالک/الحج ٢٢ (٧٠)، مسند احمد (١/٥٧، ٦٤، ٦٥، ٦٨، ٦٩، ٧٣)، سنن الدارمی/المناسک ٢١ (١٨٦٤)، ویأتي عند المؤلف فی انکاح ٣٨ (برقم ٣٢٧٧، ٣٢٧٨) (صحیح )
2846Sunan An Nasai

اس کی ممانعت سے متعلق

أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنْ نُبَيْهِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُنَهَى أَنْ يَنْكِحَ الْمُحْرِمُ، أَوْ يُنْكِحَ، أَوْ يَخْطُبَ.

عثمان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے منع فرمایا: محرم اپنا نکاح کرے یا کسی دوسرے کا نکاح کرائے، یا کسی کو شادی کا پیغام بھیجے ۔

It was narrated from Aban bin ‘Uthman, from his father, that the Prophet ﷺ forbade the Muhrim to get married, arrange a marriage for anyone else, or propose marriage. (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2843
Takhrij · تخریج
انظر ماقبلہ (صحیح )
2847Sunan An Nasai

اس کی ممانعت سے متعلق

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، عَنْ نُبَيْهِ بْنِ وَهْبٍ، قَالَ: أَرْسَلَ عُمَرُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْمَرٍ إِلَى أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ يَسْأَلُهُ أَيَنْكِحُ الْمُحْرِمُ ؟ فَقَالَ أَبَانُ: إِنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ حَدَّثَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا يَنْكِحُ الْمُحْرِمُ، وَلَا يَخْطُبُ.

نبیہ بن وہب کہتے ہیں کہ عمر بن عبیداللہ بن معمر نے ابان بن عثمان کے پاس کسی کو یہ سوال کرنے کے لیے بھیجا کہ کیا محرم نکاح کرسکتا ہے؟ تو ابان نے کہا کہ عثمان بن عفان ؓ نے بیان کیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: محرم نہ نکاح کرے، اور نہ نکاح کا پیغام بھیجے ۔

‘Uthman bin ‘Affan (RA) narrated that the Prophet ﷺ said: “The Muhrim should not get married or propose marriage.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2844
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٨٤٥ (صحیح )
2848Sunan An Nasai

محرم کو پچھنے لگانا

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَاحْتَجَمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ.

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے پچھنا لگوایا، اور آپ احرام باندھے ہوئے تھے۔

It was narrated from Ibn ‘Abbas that the Messenger of Allah ﷺ was treated by means of cupping when he was in Ihram. (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2845
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/جزاء الصید ١١ (١٨٣٥)، الصوم ٣٢ (١٩٣٨)، الطب ١٢ (٥٦٩٤)، ١٥ (٥٦٩٥)، صحیح مسلم/الحج ١١ (١٢٠٢)، سنن ابی داود/الحج ٣٦ (١٨٣٥)، سنن الترمذی/الحج ٢٢ (٨٣٩)، (تحفة الأشراف: ٥٧٣٧)، مسند احمد (١/٢٢١، سنن الدارمی/المناسک ٢٠ (١٨٦٢) (صحیح )
2849Sunan An Nasai

محرم کو پچھنے لگانا

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ طَاوُسٍ، وَعَطَاءٌ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَاحْتَجَمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ.

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے پچھنا لگوایا اور آپ محرم تھے۔

It was narrated from Ibn ‘Abbas that the Prophet ﷺ was treated by means of cupping when he was in Ihram. (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2846
Takhrij · تخریج
انظرماقبلہ (صحیح )
2850Sunan An Nasai

محرم کو پچھنے لگانا

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَطَاءً قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍيَقُولُ: احْتَجَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ. (حديث موقوف) (حديث مرفوع) ثُمَّ قَالَ بَعْدُ: أَخْبَرَنِيطَاوُسٌ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، يَقُولُ: احْتَجَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ.

عطاء کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی الله عنہما کو کہتے سنا کہ نبی اکرم ﷺ نے پچھنا لگوایا اور آپ احرام باندھے ہوئے تھے، اس کے بعد انہوں نے یہ کہا کہ طاؤس نے ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے پچھنا لگوایا، اور آپ محرم تھے۔

It was narrated that Ibn ‘Abbas said: “The Prophet ﷺ was treated by means of cupping when he was in Ihram.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2847
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٨٤٨ (صحیح )
2851Sunan An Nasai

محرم کا کسی بیماری کی وجہ سے پچھنے لگانا

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَاحْتَجَمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ مِنْ وَثْءٍ كَانَ بِهِ.

جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک تکلیف کے باعث جو آپ کو لاحق تھی پچھنا لگوایا اور آپ محرم تھے۔

It was narrated from Jabir that the Prophet ﷺ was treated by means of cupping when he was in Ihram for a contusion that he had suffered. (Da’if)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2848
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٢٩٩٨)، مسند احمد (٣/٣٦٣)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الطب ٥ (٣٨٦٣)، سنن ابن ماجہ/الطب ٢١ (٣٤٨٥) (تعلیقاً ) (صحیح )
2852Sunan An Nasai

محرم کے پاؤں میں پچھنے لگوانے کے بارے میں

أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَاحْتَجَمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ عَلَى ظَهْرِ الْقَدَمِ مِنْ وَثْءٍ كَانَ بِهِ.

انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے پاؤں کے اوپری حصہ پر اس تکلیف کی وجہ سے جو آپ کو تھی پچھنا لگوایا اور آپ محرم تھے۔

It was narrated from Anas that the Messenger of Allah ﷺ was treated by means of cupping when he was in Ihram on the top of the foot for a contusion that he had suffered. (Da’if)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2849
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الحج ٣٦ (١٨٣٧)، سنن الترمذی/الشمائل ٤٩ (٣٤٨)، (تحفة الأشراف: ١٣٣٥)، مسند احمد (٣/١٦٤، ٢٦٧) (صحیح )
2853Sunan An Nasai

محرم کا سر کے درمیان فصد لگوانا کیسا ہے؟

أَخْبَرَنِي هِلَالُ بْنُ بِشْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ وَهُوَ ابْنُ عَثْمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، قَالَ: قَالَ عَلْقَمَةُ بْنُ أَبِي عَلْقَمَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ الْأَعْرَجَ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ ابْنَ بُحَيْنَةَ يُحَدِّثُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَاحْتَجَمَ وَسَطَ رَأْسِهِ وَهُوَ مُحْرِمٌ بِلَحْيِ جَمَلٍ مِنْ طَرِيقِ مَكَّةَ.

عبداللہ بن بحینہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مکہ کے راستہ میں لحی جمل میں اپنے سر کے بیچ میں پچھنا لگوایا، اور آپ محرم تھے۔

‘Abdullah bin Buhayanah narrated that the Messenger of Allah ﷺ was treated by means of cupping in the middle of his head, when he was in Ihram, in Lahi Jamal, on the road to Makkah.(Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2850
Notes · وضاحت
١ ؎: لحی جمل مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک جگہ کا نام ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/جزاء الصید ١١ (١٨٣٦)، والطب ١٤ (٥٦٩٨)، صحیح مسلم/الحج ١١ (١٢٠٣)، سنن ابن ماجہ/الطب ٢١ (٣٤٨١)، (تحفة الأشراف: ٩١٥٦)، مسند احمد (٥/٣٤٥)، سنن الدارمی/المناسک ٢٠ (١٨٦١) (صحیح )
2854Sunan An Nasai

اگر کسی محرم کو جوؤں کی وجہ سے تکلیف ہو تو کیا کرنا چاہیے؟

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قراءة عليه وأنا أسمع، عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْعَبْدِ الْكَرِيمِ بْنِ مَالِكٍ الْجَزَرِيِّ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، أَنَّهُ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحْرِمًا، فَآذَاهُ الْقَمْلُ فِي رَأْسِهِ، فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَحْلِقَ رَأْسَهُ، وَقَالَ: صُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، أَوْ أَطْعِمْ سِتَّةَ مَسَاكِينَ مُدَّيْنِ مُدَّيْنِ، أَوِ انْسُكْ شَاةً، أَيَّ ذَلِكَ فَعَلْتَ أَجْزَأَ عَنْكَ.

کعب بن عجرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ وہ احرام باندھے ہوئے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے، تو ان کے سر کے جوئیں انہیں تکلیف دینے لگیں۔ تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں سر منڈا لینے کا حکم دیا اور فرمایا: (اس کے کفارہ کے طور پر) تین دن کے روزے رکھو، یا چھ مسکینوں کوفی مسکین دو دو مد کے حساب سے کھانا کھلاؤ، یا ایک بکری ذبح کرو، ان تینوں میں سے جو بھی کرلو گے تمہاری طرف سے کافی ہوجائے گا ۔

It was narrated from Kab bin Ujra: That he was with the Messenger of Allah in Ihram and he suffered an infestation of head lice. The Messenger of Allah commanded him to shave his head and told him: "Fast for three days, or fed six poor persons two Mudds earch, or sacrifice a sheep. Whichever one of these you do will be sufficient for you.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2851
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المحصر ٥، ٦، ٧، ٨ (١٨١٤-١٨١٨)، المغازی ٣٥ (٤١٥٩)، تفسیر البقرة ٣٢ (٤٥١٧)، المرضی ١٦ (٥٦٦٥)، الطب ١٦ (٥٧٠٣)، الکفارات ١ (٦٧٠٨)، صحیح مسلم/الحج ١٠ (١٢٠١)، سنن ابی داود/الحج ٤٣ (١٨٥٧)، سنن الترمذی/الحج ١٠٧ (٩٥٣)، و تفسیر البقرة (٢٩٧٣، ٢٩٧٤)، (تحفة الأشراف: ١١١١٤)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الحج ٨٦ (٣٠٧٩)، موطا امام مالک/الحج ٧٨ (٢٣٧)، مسند احمد (٤/ ٢٤١، ٢٤٢، ٢٤٣، ٢٤٤) (صحیح )
2855Sunan An Nasai

اگر کسی محرم کو جوؤں کی وجہ سے تکلیف ہو تو کیا کرنا چاہیے؟

أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الرِّبَاطِيُّ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَهُوَ الدَّشْتَكِيُّ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَمْرٌو وَهُوَ ابْنُ أَبِي قَيْسٍ، عَنْ الزُّبَيْرِ وَهُوَ ابْنُ عَدِيٍّ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، قَالَ: أَحْرَمْتُ فَكَثُرَ قَمْلُ رَأْسِي، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَانِي وَأَنَا أَطْبُخُ قِدْرًا لِأَصْحَابِي، فَمَسَّ رَأْسِي بِإِصْبَعِهِ، فَقَالَ: انْطَلِقْ فَاحْلِقْهُ، وَتَصَدَّقْ عَلَى سِتَّةِ مَسَاكِينَ.

کعب بن عجرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عمرہ کا احرام باندھا تو میرے سر میں جوئیں بہت ہوگئیں، نبی اکرم ﷺ کو اس کی خبر پہنچی تو آپ میرے پاس تشریف لائے، اس وقت میں اپنے ساتھیوں کے لیے کھانا پکا رہا تھا، تو آپ نے اپنی انگلی سے میرا سر چھوا اور فرمایا: جاؤ، سر منڈا لو اور چھ مسکینوں پر صدقہ کر دو ۔

It was narrated that Ka’b bin ‘Ujrah said: “I entered Ihram, then I had a severe infestation of head lice. News of that reached the Prophet ﷺ and he came to me when I was cooking something in a pot for my companions. He touched my head with his finger and said: ‘Go and shave it, and give charity to six poor persons.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2852
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١١١٠٨) (صحیح )
2856Sunan An Nasai

اگر محرم مر جائے تو اس کو بیری کے پتے ڈال کر غسل دینے سے متعلق

أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، قَالَ: أَنْبَأَنَا أَبُو بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلًا كَانَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَقَصَتْهُ نَاقَتُهُ وَهُوَ مُحْرِمٌ، فَمَاتَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْهِ، وَلَا تُمِسُّوهُ بِطِيبٍ، وَلَا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ، فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّيًا.

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی اکرم ﷺ کے ساتھ تھا، اس کی اونٹنی نے گرا کر اس کی گردن توڑ دی، اور وہ محرم تھا تو وہ مرگیا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اسے پانی اور بیری کے پتے سے غسل دو اور اسے اس کے (احرام کے) دونوں کپڑوں ہی میں کفنا دو، نہ اسے خوشبو لگاؤ، اور نہ اس کا سر ڈھانپو کیونکہ وہ قیامت کے دن لبیک پکارتا ہوا اٹھایا جائے گا ۔

It was narrated from Ibn ‘Abbas that a man was with the Messenger of Allah ﷺ, and his she-camel broke his neck when he was in Ihram, and he died. The Messenger of Allah ﷺ said: “Wash him with water and lote leaves, and shroud him in his two garments, and do not put any perfume on him or cover his head, for he will be raised on the Day of Resurrection reciting the Talbiyah.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2853
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ١٩٠٥ (صحیح )
2857Sunan An Nasai

اگر محرم مر جائے تو اس کو کس قدر کپڑوں میں کفن دینا چاہیے؟

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلًا مُحْرِمًا صُرِعَ عَنْ نَاقَتِهِ فَأُوقِصَ، ذُكِرَ أَنَّهُ قَدْ مَاتَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْنِ، ثُمَّ قَالَ: عَلَى إِثْرِهِ خَارِجًا رَأْسُهُ، قَالَ: وَلَا تُمِسُّوهُ طِيبًا، فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّيًا، قَالَ شُعْبَةُ: فَسَأَلْتُهُ بَعْدَ عَشْرِ سِنِينَ، فَجَاءَ بِالْحَدِيثِ كَمَا كَانَ يَجِيءُ بِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: وَلَا تُخَمِّرُوا وَجْهَهُ وَرَأْسَهُ.

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ایک محرم اپنی اونٹنی سے گرگیا، تو اس کی گردن ٹوٹ گئی، ذکر کیا گیا کہ وہ مرگیا تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اسے پانی اور بیر کی پتی سے غسل دو، اور دو کپڑوں ہی میں اسے کفنا دو ، اس کے بعد یہ بھی فرمایا: اس کا سر کفن سے باہر رہے ، فرمایا: اور اسے کوئی خوشبو نہ لگانا کیونکہ وہ قیامت کے دن تلبیہ پکارتا ہوا اٹھایا جائے گا ۔ شعبہ (جو اس حدیث کے راوی ہیں) کہتے ہیں: میں نے ان سے (یعنی اپنے استاد ابوبشر سے) دس سال بعد پوچھا تو انہوں نے یہ حدیث اسی طرح بیان کی جیسے پہلے کی تھی البتہ انہوں نے (اس بار اتنا مزید) کہا کہ اس کا منہ اور سر نہ ڈھانپو ۔

It was narrated from Ibn ‘Abbas that a man in Ihram was thrown by his she-camel and his neck was broken. It was said that he had died, so the Prophet ﷺ said: “Wash him with water and lotus leaves, and shroud him in two cloths.” Then he said: “Do not put any perfume on him for he will be raised on the Day of Resurrection reciting the Talbiyah.” Shu’bah said: “Ten years later, I asked him (the narrator Abu Bishr) about that. And he narrated the Hadith as he had the first time, except that he said: ‘And do not cover his face and head.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2854
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٧١٤ (صحیح )