Sunan An Nasai

All 5,772 hadiths in order · Page 133 of 289

2638Sunan An Nasai

اگر کوئی آدمی سواری پر سوار نہیں ہوسکتا تو اس کی جانب سے حج کرنا کیسا ہے؟

أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَبُو عُبَيْدِ اللَّهِ الْمَخْزُومِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، مِثْلَهُ.

اس سند سے بھی ابن عباس ؓ سے اسی کے مثل مروی ہے۔

It was narrated from Ibn Abbas: (Another chain) with a similar report narrated from Ibn Abbas. (sahih)

سكت عنه الشيخصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2636
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٦٣٦ (صحیح )
2639Sunan An Nasai

جو کوئی عمرہ ادا کرسکے تو اس کی جانب سے عمرہ کرنا کیسا ہے؟

أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا وَكِيعٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ سَالِمٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ، عَنْأَبِي رَزِينٍ الْعُقَيْلِيِّ، أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبِي شَيْخٌ كَبِيرٌ لَا يَسْتَطِيعُ الْحَجَّ وَلَا الْعُمْرَةَ وَالظَّعْنَ، قَالَ: حُجَّ عَنْ أَبِيكَ وَاعْتَمِرْ.

ابورزین عقیلی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے والد بہت بوڑھے ہیں، نہ وہ حج و عمرہ کرنے کی طاقت رکھتے ہیں، اور نہ ہی سواری پر چڑھ سکتے ہیں، آپ نے فرمایا: تم اپنے والد کی طرف سے حج و عمرہ کرلو ۔

It was narrated from Abu Razin Al-’Uqayli that he said: “Messenger of Allah ﷺ! My father is an old man who cannot perform Hajj or ‘Umrah, nor can he travel.” He said: “Perform Hajj and ‘Umrah on behalf of your father.” (Sahih).

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2637
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٦٢٢ (صحیح )
2640Sunan An Nasai

حج قضا کرنا قرضہ ادا کرنے جیسا ہے

أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ مِنْ خَثْعَمَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ أَبِي شَيْخٌ كَبِيرٌ لَا يَسْتَطِيعُ الرُّكُوبَ وَأَدْرَكَتْهُ فَرِيضَةُ اللَّهِ فِي الْحَجِّ فَهَلْ يُجْزِئُ أَنْ أَحُجَّ عَنْهُ ؟ قَالَ آنْتَ أَكْبَرُ وَلَدِهِ ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ عَلَيْهِ دَيْنٌ أَكُنْتَ تَقْضِيه ؟قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَحُجَّ عَنْهُ.

عبداللہ بن زبیر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ قبیلہ خثعم کا ایک شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا: میرے والد بہت بوڑھے ہیں وہ سواری پر چڑھ نہیں سکتے، اور حج کا فریضہ ان پر عائد ہوچکا ہے، میں ان کی طرف سے حج کرلوں تو کیا وہ ان کی طرف سے ادا ہوجائے گا؟ آپ نے فرمایا: کیا تم ان کے بڑے بیٹے ہو؟ اس نے کہا: جی ہاں (میں ان کا بڑا بیٹا ہوں) آپ نے فرمایا: تمہارا کیا خیال ہے اگر ان پر قرض ہوتا تو تم اسے ادا کرتے؟ اس نے کہا: ہاں (میں ادا کرتا) آپ نے فرمایا: تو تم ان کی طرف سے حج ادا کرو ۔

It was narrated that Abdullah bin Az-Zubair said: "A man from Khatham came to the Messenger of Allah and said: My father is an old man who cannot ride, and the command of Allah to perform Hajj has come. Will it be good enough if I perform Hajj on his behalf? He said: Are you the oldest of his children? He said: Yes. He said: Dont you think that if he owed a debt you would pay it off?, He said: Yes. He said: Then perform Hajj on his behalf.(Daif)

ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2638
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٥٢٩٢)، مسند احمد ٤/٥، سنن الدارمی/المناسک ٢٤ (١٨٧٨) ویأتي عند المؤلف برقم: ٢٦٤٥) (ضعیف الإسناد) (اس کے راوی ” یوسف “ لین الحدیث ہیں )
2641Sunan An Nasai

حج قضا کرنا قرضہ ادا کرنے جیسا ہے

أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ خُشَيْشُ بْنُ أَصْرَمَ النَّسَائِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الْحَكَمِ بْنِ أَبَانَ، عَنْعِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبِي مَاتَ وَلَمْ يَحُجَّ، أَفَأَحُجُّ عَنْهُ ؟ قَالَ: أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ عَلَى أَبِيكَ دَيْنٌ أَكُنْتَ قَاضِيَهُ ؟قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَدَيْنُ اللَّهِ أَحَقُّ.

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے پوچھا: اللہ کے رسول! میرے والد انتقال کر گئے اور انہوں نے حج نہیں کیا، کیا میں ان کی طرف سے حج کرلوں؟ آپ نے فرمایا: کیا خیال ہے اگر تمہارے والد پر کچھ قرض ہوتا تو تم ادا کرتے؟ اس نے کہا: ہاں (میں ادا کرتا) تو آپ نے فرمایا: تو اللہ تعالیٰ کا قرض ادا کئے جانے کا زیادہ مستحق ہے ۔

It was narrated that Ibn ‘Abbas said: “A man said: ‘Messenger of Allah ﷺ! My father has died and he did not perform Hajj; shall I perform Hajj on his behalf?’ He said: ‘Don’t you think that if your father owed a debt you would pay it off?’ He said: ‘Yes.’ He said: ‘The debt owed to Allah is more deserving (of being paid off).” (Hasan)

ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2639
Notes · وضاحت
١ ؎: عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کی روایت میں صحیح بات یہ ہے کہ مسئلہ پوچھنے والی عورت تھی، اور اپنے باپ کے بارے میں پوچھا تھا جو زندہ مگر کمزور تھا، اور اس واقعہ کے وقت یا تو دونوں بھائی (عبداللہ اور فضل) موجود تھے یا فضل نے یہ واقعہ عبداللہ بن عباس سے بیان کیا، روایت کی صحت میں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، ابن عباس رضی الله عنہما کی روایت کے سوا دیگر صحابہ کی روایتوں میں دیگر واقعات بھی اسی طرح کے سوال و جواب کے ممکن ہیں، پوچھنے والے مرد و عورت بھی ہوسکتے ہیں، اور جن کے بارے میں پوچھا گیا وہ بھی مرد و عورت ہوسکتے ہیں، اور یہ کوئی ایسی بات نہیں، جس کو بنیاد بنا کر حدیث کی حجیت کے سلسلے میں شکوک و شبہات پیدا کئے جائیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٦٠٤١) (ضعیف الإسناد شاذ) (اس کے راوی ” محکم “ کو وہم ہوجایا کرتا تھا، اسی لیے انہوں نے پوچھنے والے کو مرد اور جس کے بارے میں پوچھا گیا اس کو عورت بنادیا ہے )
2642Sunan An Nasai

حج قضا کرنا قرضہ ادا کرنے جیسا ہے

أَخْبَرَنَا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى، عَنْ هُشَيْمٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ أَبِي أَدْرَكَهُ الْحَجُّ وَهُوَ شَيْخٌ كَبِيرٌ لَا يَثْبُتُ عَلَى رَاحِلَتِهِ فَإِنْ شَدَدْتُهُ خَشِيتُ أَنْ يَمُوتَ، أَفَأَحُجُّ عَنْهُ ؟ قَالَ: أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ عَلَيْهِ دَيْنٌ فَقَضَيْتَهُ، أَكَانَ مُجْزِئًا ؟قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَحُجَّ عَنْ أَبِيكَ.

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی اکرم ﷺ سے پوچھا: میرے باپ کو (فریضہ) حج نے اس حال میں پایا کہ وہ بہت بوڑھے ہوچکے ہیں اپنی سواری پر ٹک نہیں سکتے، اگر میں انہیں سواری پر بٹھا کر باندھ دوں تو ڈرتا ہوں کہ کہیں مر نہ جائیں۔ کیا میں ان کی طرف سے حج کرلوں؟ آپ نے فرمایا: تمہارا کیا خیال ہے اگر ان پر قرض ہوتا تو اسے ادا کرتے، تو وہ کافی ہوجاتا ؟ اس نے کہا: ہاں (کافی ہوجاتا) آپ نے فرمایا: پھر اپنے باپ کی طرف سے حج کرو ۔

It was narrated from ‘Abdullah bin ‘Abbas that a man asked the Prophet ﷺ “The (command of) Hajj has come while my father is an old man and cannot sit firmly in his saddle; if I tie him (to the saddle) I fear that he will die. Can I perform Hajj on his behalf?” He said: “Don’t you think that if your father owed a debt and you paid it off, that would be good enough?” He said: “Yes.” He said: “Then perform Hajj on behalf of your father.” (Hasan)

شاذ أو منکر بذکر الرجل والمحفوظ أن السائل امرأةصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2640
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلنسائي، (تحفة الأشراف: ٥٦٥٧)، انظر حدیث رقم: ٢٦٣٥ (شاذ أومنکر) (اس کے راوی ” ہشیم “ کثیر التدلیس ہیں، سائل کا عورت ہونا ہی محفوظ بات ہے )
2643Sunan An Nasai

عورت کا مرد کی جانب سے حج ادا کرنا

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قراءة عليه وأنا أسمع، عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ رَدِيفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَتْهُ امْرَأَةٌ مِنْ خَثْعَمَ تَسْتَفْتِيهِ وَجَعَلَ الْفَضْلُ يَنْظُرُ إِلَيْهَا وَتَنْظُرُ إِلَيْهِ، وَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْرِفُ وَجْهَ الْفَضْلِ إِلَى الشِّقِّ الْآخَرِ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ فَرِيضَةَ اللَّهِ فِي الْحَجِّ عَلَى عِبَادِهِ أَدْرَكَتْأَبِي شَيْخًا كَبِيرًا لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَثْبُتَ عَلَى الرَّاحِلَةِ، أَفَأَحُجُّ عَنْهُ ؟ قَالَ: نَعَمْوَذَلِكَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ.

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ فضل بن عباس ؓ رسول اللہ ﷺ کے پیچھے سواری پر تھے، تو قبیلہ خثعم کی ایک عورت رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک مسئلہ پوچھنے آئی، تو فضل اسے دیکھنے لگے، اور وہ فضل کو دیکھنے لگی، اور آپ فضل کا چہرہ دوسری طرف پھیرنے لگے، تو اس عورت نے پوچھا: اللہ کے رسول! اپنے بندوں پر اللہ کے عائد کردہ فریضہ حج نے میرے باپ کو اس حال میں پایا: انتہائی بوڑھے ہوچکے ہیں، سواری پر ٹک نہیں سکتے، کیا میں ان کی طرف سے حج کرلوں؟ آپ نے فرمایا: ہاں کرلو ، یہ واقعہ حجۃ الوداع کا ہے۔

It was narrated from ‘Abdullah bin ‘Abbas (RA): “Al-Fadal bin ‘Abbas was riding behind the Messenger of Allah ﷺ: when a woman from Khath’am came and asked him a question. Al-Fadal started looking at her and she at him, and the Messenger of Allah ﷺ turned Al-Fadal’s face to the other side. She said: ‘Messenger of Allah ﷺ! The command of Allah has come for His slaves to perform Hajj)’, but my father is an old man and cannot sit firmly in the saddle; should I perform Hajj on his behalf?’ He said: ‘Yes.’ That happened during the Farewell Pilgrimage.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2641
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٦٣٥ (صحیح )
2644Sunan An Nasai

عورت کا مرد کی جانب سے حج ادا کرنا

أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّسُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ امْرَأَةً مِنْ خَثْعَمَ اسْتَفْتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ وَالْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ رَدِيفُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ فَرِيضَةَ اللَّهِ فِي الْحَجِّ عَلَى عِبَادِهِ أَدْرَكَتْأَبِي شَيْخًا كَبِيرًا لَا يَسْتَوِي عَلَى الرَّاحِلَةِ فَهَلْ يَقْضِي عَنْهُ أَنْ أَحُجَّ عَنْهُ ؟ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَعَمْ، فَأَخَذَ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ يَلْتَفِتُ إِلَيْهَا، وَكَانَتِ امْرَأَةً حَسْنَاءَ، وَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْفَضْلَ، فَحَوَّلَ وَجْهَهُ مِنَ الشِّقِّ الْآخَرِ.

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ حجۃ الوداع کے موقع پر قبیلہ خثعم کی ایک عورت رسول اللہ ﷺ کے پاس مسئلہ پوچھنے آئی اور فضل بن عباس ؓ رسول اللہ ﷺ کے پیچھے اونٹ پر سوار تھے، اس عورت نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اپنے بندوں پر عائد کردہ اللہ کے فریضہ حج نے میرے والد کو اس حال میں پایا کہ وہ بہت بوڑھے ہوچکے ہیں وہ سواری پر سیدھے نہیں رہ سکتے، تو کیا اگر میں ان کی طرف سے حج کروں تو ان کی طرف سے پورا ہوجائے گا؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہاں ہوجائے گا ، تو فضل بن عباس ؓ اسے مڑ کر دیکھنے لگے، وہ ایک خوبصورت عورت تھی تو رسول اللہ ﷺ نے فضل بن عباس کو پکڑ کر ان کا چہرہ دوسری جانب پھیر دیا۔

Ibn “Abbas narrated that a woman from Khath’am asked the Messenger of Allah ﷺ a question during the Farewell Pilgrimage, when Al-Fadal bin ‘Abbas (RA) was riding behind the Messenger of Allah ﷺ She said: “Messenger of Allah ﷺ! The command of Allah has come for His slaves to perform Hajj, but my father is an old man and cannot sit upright in the saddle. Will it be paid off on his behalf if I perform Hajj on his behalf?” The Messenger of Allah ﷺ said to her: “Yes.” And Al-Fadal started to turn toward her, as she was a beautiful woman, but the Messenger of Allah ﷺ took hold of Al-Fadal’s face and turned it to the other side. (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2642
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٦٣٥ (صحیح )
2645Sunan An Nasai

مرد کا عورت کی جانب سے حج کرنے سے متعلق

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَهُوَ ابْنُ هَارُونَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا هِشَامٌ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ كَانَ رَدِيفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أُمِّي عَجُوزٌ كَبِيرَةٌ، وَإِنْ حَمَلْتُهَا لَمْ تَسْتَمْسِكْ، وَإِنْ رَبَطْتُهَا خَشِيتُ أَنْ أَقْتُلَهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ عَلَى أُمِّكَ دَيْنٌ أَكُنْتَ قَاضِيَهُ ؟قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَحُجَّ عَنْ أُمِّكَ.

فضل بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پیچھے سواری پر سوار تھے تو آپ کے پاس ایک شخص آیا اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میری ماں بہت بوڑھی ہوچکی ہیں، اگر میں انہیں سواری پر چڑھا دوں تو وہ بیٹھی نہیں رہ سکتیں، اور اگر میں انہیں (سواری پر بٹھا کر) باندھ دوں تو ڈرتا ہوں کہ کہیں ان کی جان نہ لے بیٹھوں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا خیال ہے اگر تمہاری ماں پر قرض ہوتا تو تم اسے ادا کرتے؟ اس نے کہا: جی ہاں (میں ادا کرتا) آپ نے فرمایا: تو تم اپنی ماں کی جانب سے حج کرو ۔

It was narrated from Al-Fadal bin ‘Abbas (RA) that he was riding behind the Messenger of Allah ﷺ and a man came and said: “Messenger of Allah ﷺ! My mother is an old woman and she cannot sit firmly in the saddle. If I tie her I fear that I may kill her.” The Messenger of Allah ﷺ said: “Don’t you think that if your mother owed a debt you would pay it off?” He said: “Yes.” He said: “Then perform Hajj on behalf of your mother.”(Sahih).

شاذصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2643
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١١٠٤٤)، مسند احمد (١/٢١٢)، ویأعند المؤلف برقم: ٥٣٩٦، ٥٣٩٧ (شاذ) (سائل کا عورت ہونا ہی محفوظ بات ہے )
2646Sunan An Nasai

والد کی طرف سے بڑے بیٹے کا حج کرنا مستحب ہے

أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ يُوسُفَ، عَنْ ابْنِ الزُّبَيْرِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِرَجُلٍ: أَنْتَ أَكْبَرُ وَلَدِ أَبِيكَ فَحُجَّ عَنْهُ.

عبداللہ بن زبیر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک شخص سے فرمایا: تم اپنے باپ کا بڑے بیٹے ہو تو تم ان کی طرف سے حج کرو ۔

It was narrated from Ibn Az Zubair that the Prophet ﷺ said to a man: “You are the oldest son of your father, so perform Hajj on his behalf.” (Da’if)

ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2644
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٣٦٣٩ (ضعیف) (اس کے راوی ” یوسف “ لین الحدیث ہیں )
2647Sunan An Nasai

نا بالغ بچہ کو حج کرانے سے متعلق

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ امْرَأَةً رَفَعَتْ صَبِيًّا لَهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِأَلِهَذَا حَجٌّ ؟ قَالَ: نَعَمْ، وَلَكِ أَجْرٌ.

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ایک عورت نے اپنے بچے کو رسول اللہ ﷺ کے سامنے اٹھایا اور پوچھا: اللہ کے رسول! کیا اس کا بھی حج ہے؟ آپ نے فرمایا: ہاں (اس کا بھی حج ہے) اور تمہیں اس کا اجر ملے گا ١ ؎۔

It was narrated from Ibn ‘Abbas that a woman held up a child of hers to the Messenger of Allah ﷺ and said: “Messenger of Allah ﷺ, is there Hajj for this one?” He said: “Yes, and you will be rewarded.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2645
Notes · وضاحت
١ ؎: مطلب یہ ہے کہ چھوٹے بچے کو حج کرانا جائز ہے اس کا اجر ماں باپ کو ملے گا لیکن کوئی بچہ بالغ ہونے کے بعد صاحب استطاعت ہوجائے تو اس کے لیے دوبارہ فریضہ حج کی ادائیگی ضروری ہوگی بچپن کا کیا ہوا حج کافی نہیں ہوگا۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحج ٧٢ (١٣٣٦)، (تحفة الأشراف: ٦٣٦٠)، مسند احمد (١/٣٤٣) (صحیح )
2648Sunan An Nasai

نا بالغ بچہ کو حج کرانے سے متعلق

أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنْابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: رَفَعَتِ امْرَأَةٌ صَبِيًّا لَهَا مِنْ هَوْدَجٍ، فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِأَلِهَذَا حَجٌّ ؟ قَالَ: نَعَمْ، وَلَكِ أَجْرٌ.

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک عورت نے اپنے بچے کو ہودج سے اوپر اٹھایا اور کہنے لگی: اللہ کے رسول! کیا اس کا بھی حج ہے؟ آپ نے فرمایا: ہاں (اس کا بھی حج ہے) اور تمہیں اس کا اجر ملے گا۔

It was narrated that Ibn ‘Abbas said: “A woman lifted up a child of her from a howdah (litter) and said: ‘Messenger of Allah ﷺ, is there Hajj for this one?’ He said: ‘Yes, and you will be rewarded.”(Sahih).

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2646
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٦٤٦ (صحیح )
2649Sunan An Nasai

نا بالغ بچہ کو حج کرانے سے متعلق

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: رَفَعَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَبِيًّا، فَقَالَتْ: أَلِهَذَا حَجٌّ ؟ قَالَ: نَعَمْ، وَلَكِ أَجْرٌ.

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک عورت نے ایک بچے کو نبی اکرم ﷺ کے سامنے اٹھایا اور پوچھنے لگی: کیا اس کا بھی حج ہے؟ آپ نے فرمایا: ہاں (اس کا بھی حج ہے) اور تمہیں اس کا اجر ملے گا ۔

It was narrated that Ibn ‘Abbas said: “A woman lifted a child up to the Messenger of Allah ﷺ, and said: ‘Is there Hajj for this one?’ He said: ‘Yes, and you will be rewarded.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2647
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحج ٧٢ (١٣٣٦)، سنن ابی داود/الحج ٨ (١٧٣٦)، (تحفة الأشراف: ٦٣٣٦)، موطا امام مالک/الحج ٨١ (٢٤٤)، مسند احمد (١/٢٤٤، ٢٨٨، ٣٤٤) (صحیح )
2650Sunan An Nasai

نا بالغ بچہ کو حج کرانے سے متعلق

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُقْبَةَ. ح وحَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: صَدَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا كَانَ بِالرَّوْحَاءِ لَقِيَ قَوْمًا، فَقَالَ: مَنْ أَنْتُمْ ؟ قَالُوا: الْمُسْلِمُونَ، قَالُوا: مَنْ أَنْتُمْ ؟ قَالُوا: رَسُولُ اللَّهِ، قَالَ: فَأَخْرَجَتِ امْرَأَةٌ صَبِيًّا مِنَ الْمِحَفَّةِ فَقَالَتْ: أَلِهَذَا حَجٌّ ؟ قَالَ: نَعَمْ، وَلَكِ أَجْرٌ.

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ چلے جب روحاء پہنچے تو کچھ لوگوں سے ملے تو آپ نے پوچھا: تم کون لوگ ہو؟ ان لوگوں نے کہا: ہم مسلمان ہیں، پھر ان لوگوں نے پوچھا: آپ کون ہیں؟ لوگوں نے بتایا: آپ اللہ کے رسول ہیں ، یہ سن کر ایک عورت نے کجاوے سے ایک بچے کو نکالا، اور پوچھنے لگی: کیا اس کے لیے حج ہے؟ آپ نے فرمایا: ہاں اور ثواب تمہیں ملے گا ۔

It was narrated that Ibn ‘Abbas said: “The Messenger of Allah ﷺ set out and when he was in Ar-Rawha’ he met some people and said: ‘Who are you?’ They said: ‘Muslims.’ They said: ‘Who are you?’ They said: ‘The Messenger of Allah ﷺ.’ A woman brought a child out of the litter and said: ‘Is there Hajj for this one?’ He said: ‘Yes, and you will be rewarded.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2648
Notes · وضاحت
١ ؎: مکہ کے راستے میں مدینہ سے ٣٦ میل ( ٧٥ کلومیٹر) کی دوری پر ایک مقام کا نام ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٦٤٦ (صحیح )
2651Sunan An Nasai

نا بالغ بچہ کو حج کرانے سے متعلق

أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ حَمَّادِ بْنِ سَعْدٍ ابْن أَخِي رِشْدِينَ بْنِ سَعْدٍ أَبُو الرَّبِيعِ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنْ ابْنِ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَرَّ بِامْرَأَةٍ وَهِيَ فِي خِدْرِهَا، مَعَهَا صَبِيٌّ، فَقَالَتْ: أَلِهَذَا حَجٌّ ؟ قَالَ: نَعَمْ، وَلَكِ أَجْرٌ.

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک عورت کے پاس سے گزرے وہ پردے میں تھی اور اس کے ساتھ ایک چھوٹا بچہ تھا، اس نے کہا: کیا اس کے لیے حج ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں، اور ثواب تمہیں ملے گا ۔

It was narrated from Ibn ‘Abbas that the Messenger of Allah ﷺ passed by a woman when she was in her seclusion and had a child with her. She said: “Is there Hajj for this one?” He said: “Yes, and you will be rewarded.” (Sahih)

صحيح م دون ذکر الخدرصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2649
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٢٦٤٨ (صحیح )
2652Sunan An Nasai

جب حضرت رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ منورہ سے حج کرنے کے واسطے نکلے

أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ ابْنِ أَبِي زَائِدَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: أَخْبَرَتْنِي عَمْرَةُ، أَنَّهَا سَمِعَتْ عَائِشَةَ، تَقُولُ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِخَمْسٍ بَقِينَ مِنْ ذِي الْقِعْدَةِ لَا نُرَى إِلَّا الْحَجَّ حَتَّى إِذَا دَنَوْنَا مِنْ مَكَّةَ، أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ إِذَا طَافَ بِالْبَيْتِ أَنْ يَحِلَّ الْمَوَاقِيتُ.

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ذی قعدہ کی پانچ تاریخیں رہ گئی تھیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ (مدینہ سے) سے نکلے، ہمارے پیش نظر صرف حج تھا، یہاں تک کہ جب ہم مکہ کے قریب پہنچے تو رسول اللہ ﷺ نے ان لوگوں کو جن کے پاس ہدی (قربانی کا جانور) نہیں تھا حکم دیا کہ وہ طواف کر چکیں تو احرام کھول دیں۔

Aishah (RA) said: “We went out with the Messenger of Allah ﷺ when there were five days left of Dhul-Qa’dah, with no intention other than to perform Hajj. When we were close to Makkah, the Messenger of Allah ﷺ commanded those who did not have a Hadi (sacrificial animal) with them to exit Ihram after circumambulating the House.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2650
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحج ٣٤ (١٥٦١)، ١١٥ (١٧٠٩)، ١٢٤ (١٧٢٠)، والجہاد ١٠٥ (٢٩٥٢)، صحیح مسلم/الحج ١٧ (١٢١١)، سنن ابن ماجہ/الحج ٤١ (٢٩٨١)، (تحفة الأشراف: ١٧٩٣٣)، سنن ابی داود/الحج ٢٣ (١٧٨٣)، موطا امام مالک/الحج ٥٨ (١٧٩)، مسند احمد (٦/٢ ١٢، ١٩٤، ٢٦٦، ٢٧٣)، سنن الدارمی/المناسک ٣١ (١٨٨٨)، ویأتي عند المؤلف برقم: ٢٨٠٦ (صحیح )
2653Sunan An Nasai

مدینہ منورہ کے لوگوں کا میقات

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَخْبَرَهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: يُهِلُّ أَهْلُ الْمَدِينَةِ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ، وَأَهْلُ الشَّامِ مِنْ الْجُحْفَةِ، وَأَهْلُ نَجْدٍ مِنْ قَرْنٍ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: وَبَلَغَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: وَيُهِلُّ أَهْلُ الْيَمَنِ مِنْ يَلَمْلَمَ.

عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مدینے والے ذوالحلیفہ سے تلبیہ پکاریں، اور اہل شام حجفہ سے اور نجد والے قرن المنازل سے ۔ عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ مجھے یہ اطلاع بھی ملی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یمن والے یلملم سے تلبیہ پکاریں ۔

It was narrated from ‘Abdullah bin ‘Umar that the Messenger of Allah ﷺ said: “The people of Al-Madinah should enter into Ihram from Dhul-Hulaifah, the people of Ash-Sham from Al Jubfah, the people of Najd from Qarn.” ‘Abdullah said: “And it was conveyed to me, that the Messenger of Allah ﷺ said: ‘And the people of Yemen should enter into Ihram from Yalamlam.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2651
Notes · وضاحت
١ ؎: مواقیت: میقات کی جمع ہے میقات اس مقام کو کہتے ہیں جہاں سے حاجی یا عمرہ کرنے والے کو تلبیہ پکارنا اور احرام باندھنا ضروری ہوجاتا ہے البتہ حاجی یا عمرہ کرنے والے مکہ میں ہوں یا میقات کے اندر رہتے ہوں تو ان کے لیے گھر سے نکلتے وقت احرام باندھ لینا اور تلبیہ پکارنا ہی کافی ہے میقات پر جانا ضروری نہیں۔ ٢ ؎: ذوالحلیفہ مدینہ مکہ روڈ پر مسجد نبوی سے ( ٩ ) کلو میٹر کی دوری پر واقع ہے، افسوس ہے کہ شیعی روایات کی بنا پر یہ مشہور ہے کہ علی رضی الله عنہ کا جنوں سے مقابلہ ہوا اور آپ نے ان کو اس مقام کے کنوؤں میں بند کردیا، اور اس سے اس جگہ کو ابیار علی کہا جانے لگا، شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے اپنے منسک حج میں اس خرافات پر تنبیہ فرمائی ہے۔ ٣ ؎: مکہ مدینہ روڈ پر جُحفہ مکہ سے پانچ یا چھ مراحل کی دوری پر رابغ کے قریب ایک بستی کا نام ہے۔ ٤ ؎: قرن طائف کے قریب ایک بستی کا نام ہے یا پوری وادی کا نام ہے، اسے قرن المنازل اور قرن التعالب بھی کہا جاتا ہے۔ ٥ ؎: یلملم مکہ سے دو مرحلے کی دوری پر ایک جگہ کا نام ہے جس کے محاذاۃ میں مشرق جیسے ریاض، اور دمام نیز ہندوستان اور پاکستان وغیرہ سے آنے والے حجاج کرام کو جہاز میں باخبر کیا جاتا ہے کہ اب یلملم کی میقات کی محاذاۃ سے جہاز گزرنے والا ہے، حجاج احرام باندھنے اور تلبیہ پکارنے کے لیے تیار ہوجائیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/العلم ٥٢ (١٣٣)، والحج ٥ (١٥٢٢)، ٨ (١٥٢٥)، ١٠ (١٥٢٨)، صحیح مسلم/الحج ٢ (١١٨٢)، سنن ابی داود/المناسک ٩ (١٧٣٧)، سنن ابن ماجہ/المناسک ١٣ (٢٩١٤)، (تحفة الأشراف: ٨٣٢٦)، موطا امام مالک/االحج ٨ (٢٢)، مسند احمد ٢/٤٨، ٥٥، ٦٥، سنن الدارمی/المناسک ٥ (١٨٣١) (صحیح )
2654Sunan An Nasai

ملک شام کے لوگوں کا میقات

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا نَافِعٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَجُلًا قَامَ فِي الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مِنْ أَيْنَ تَأْمُرُنَا أَنْ نُهِلَّ ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يُهِلُّ أَهْلُ الْمَدِينَةِ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ، وَيُهِلُّ أَهْلُ الشَّامِ مِنْ الْجُحْفَةِ، وَيُهِلُّ أَهْلُ نَجْدٍ مِنْ قَرْنٍ، قَالَ ابْنُ عُمَرَ: وَيَزْعُمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: وَيُهِلُّ أَهْلُ الْيَمَنِ مِنْ يَلَمْلَمَوَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَقُولُ: لَمْ أَفْقَهْ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص مسجد (نبوی) میں کھڑا ہوا اور پوچھنے لگا: اللہ کے رسول! آپ ہمیں کہاں سے تلبیہ پکارنے کا حکم دیتے ہیں؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اہل مدینہ ذوالحلیفہ سے تلبیہ پکاریں گے، اور اہل شام حجفہ سے اور اہل نجد قرن سے۔ عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ لوگوں کا خیال ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے (یہ بھی) فرمایا: اہل یمن یلملم سے تلبیہ پکاریں گے ، ابن عمر ؓ کہتے تھے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے اسے نہیں سنا ہے۔

It was narrated from ‘Abdullah bin ‘Umar that a man stood up in the Masjid and said: “Messenger of Allah ﷺ, from where do you command us to enter Ihram?” The Messenger of Allah ﷺ said: “The people of Al-Madinah should enter Ihrarn from Dhul-Hulaifah, the people of Ash-Sham should enter Ihram from Al-Juhfah, the people of Najd should enter Ihram from Qarn.” Ibn ‘Umar said: “And they say that the Messenger of Allah ﷺ said: ‘The people of Yemen should enter into Ihram from Yalamlam.” And ‘Ibn ‘Umar used to say: “I did not hear this from the Messenger of Allah ﷺ .“ (Sahih).

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2652
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/العلم ٥٢ (١٣٣)، (تحفة الأشراف: ٩٢٩١) (صحیح )
2655Sunan An Nasai

مصر کے لوگوں کا میقات

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ بَهْرَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُعَافَى، عَنْ أَفْلَحَ بْنِ حُمَيْدٍ، عَنْ الْقَاسِمِ، عَنْعَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَوَقَّتَ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ ذَا الْحُلَيْفَةِ، وَلِأَهْلِ الشَّامِ وَمِصْرَ الْجُحْفَةَ، وَلِأَهْلِ الْعِرَاقِ ذَاتَ عِرْقٍ، وَلِأَهْلِ الْيَمَنِ يَلَمْلَمَ.

ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اہل مدینہ کے لیے ذوالحلیفہ کو۔ اہل شام و مصر کے لیے حجفہ کو، اہل عراق کے لیے ذات عرق کو، اور اہل یمن کے لیے یلملم کو میقات مقرر کی ہے۔

It was narrated from Aishah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ designated Dhul-Hulaifah as the Miqat for the people of Al Madinah, Al-Juhfah for the people of Ash-Sham and Egypt, Dhat ‘Irq for the people of Al-’Iraq, and Yalamlam for the people of Yemen. (Sahih).

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2653
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الحج ٩ (١٧٣٩)، (تحفة الأشراف: ١٧٤٣٨)، ویأتی عند المؤلف فی ٢٢ (برقم ٢٦٥٧) (صحیح )
2656Sunan An Nasai

یمن والوں کے میقات

أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ صَاحِبُ الشَّافِعِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، وَحَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْعَبْدِ اللَّهِ بْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَوَقَّتَ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ ذَا الْحُلَيْفَةِ، وَلِأَهْلِ الشَّامِ الْجُحْفَةَ، وَلِأَهْلِ نَجْدٍ قَرْنًا، وَلِأَهْلِ الْيَمَنِ يَلَمْلَمَ، وَقَالَ: هُنَّ لَهُنَّ وَلِكُلِّ آتٍ أَتَى عَلَيْهِنَّ مِنْ غَيْرِهِنَّ، فَمَنْ كَانَ أَهْلُهُ دُونَ الْمِيقَاتِ حَيْثُ يُنْشِئُ حَتَّى يَأْتِيَ ذَلِكَ عَلَى أَهْلِ مَكَّةَ.

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اہل مدینہ کے لیے ذوالحلیفہ کو، اہل شام کے لیے جحفہ کو، اہل نجد کے لیے قرن کو اور اہل یمن کے لیے یلملم کو میقات مقرر کی اور فرمایا: یہ یہاں کے لوگوں کی میقات ہیں اور ان تمام لوگوں کی بھی جو یہاں سے ہو کر گزریں چاہے جہاں کہیں کے بھی رہنے والے ہوں۔ اور جو لوگ ان میقاتوں کے اندر کے رہنے والے ہیں تو ان کی میقات وہیں سے ہے جہاں سے وہ چلیں یہاں تک کہ مکہ والوں کی میقات مکہ ہے ۔

It was narrated from Ibn ‘Abbas that the Messenger of Allah ﷺ designated Dhul-Hulaifah as the Miqat for the people of Al Madinah, Al-Juhfah for the people of Ash-Sham, Qarn for the people of Najd, and Yalamlam for the people of Yemen. He said: “They are for them, and for anyone who comes to them from elsewhere. If a person’s place of residence is within the boundary of the Miqat, then (he should enter into Ihram) from where he starts his journey, and this also applies to the people of Makkah.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2654
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحج ٧ (١٥٢٤)، ١٢ (١٥٣٠)، وجزاء الصید ١٨ (١٨٤٥)، صحیح مسلم/الحج ٢ (١١٨١)، (تحفة الأشراف: ٥٧١١)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الحج ٩ (١٧٣٨)، مسند احمد (١/٢٣٨، ٢٤٩، ٢٥٢، ٢٣٢، ٣٣٩)، سنن الدارمی/المناسک ٥ (١٨٣٣)، ویأتي عند المؤلف برقم: ٢٦٥٨ (صحیح )
2657Sunan An Nasai

نجد والوں کے میقات

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: يُهِلُّ أَهْلُ الْمَدِينَةِ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ، وَأَهْلُ الشَّامِ مِنْ الْجُحْفَةِ، وَأَهْلُ نَجْدٍ مِنْ قَرْنٍ، وَذُكِرَ لِي وَلَمْ أَسْمَعْ أَنَّهُ قَالَ: وَيُهِلُّ أَهْلُ الْيَمَنِ مِنْ يَلَمْلَمَ.

عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مدینہ والے ذوالحلیفہ سے تلبیہ پکاریں گے، شام والے حجفہ سے، اور نجد والے قرن (المنازل) سے ، اور میں نے تو نہیں سنا ہے لیکن مجھ سے ذکر کیا گیا ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: اور یمن والے یلملم سے تلبیہ پکاریں گے ۔

It was narrated from Salim, from his father, that the Prophet ﷺ said: “The people of Al Madinah should enter into Ihram from Dhul-Hulaifah, the people of Ash-Sham from Al-Juhfah, the people of Najd from Qarn.” And it was mentioned to me, although I did not hear him say it: “And the people of Yemen should enter into Ihram from Yalamlam.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 2655
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحج ٩ (١٥٢٧)، صحیح مسلم/الحج ٢ (١١٨٢)، (تحفة الأشراف: ٦٨٢٢٤)، مسند احمد (٢/٩) (صحیح )