حج قضا کرنا قرضہ ادا کرنے جیسا ہے
أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ خُشَيْشُ بْنُ أَصْرَمَ النَّسَائِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الْحَكَمِ بْنِ أَبَانَ، عَنْعِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبِي مَاتَ وَلَمْ يَحُجَّ، أَفَأَحُجُّ عَنْهُ ؟ قَالَ: أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ عَلَى أَبِيكَ دَيْنٌ أَكُنْتَ قَاضِيَهُ ؟قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَدَيْنُ اللَّهِ أَحَقُّ.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے پوچھا: اللہ کے رسول! میرے والد انتقال کر گئے اور انہوں نے حج نہیں کیا، کیا میں ان کی طرف سے حج کرلوں؟ آپ نے فرمایا: کیا خیال ہے اگر تمہارے والد پر کچھ قرض ہوتا تو تم ادا کرتے؟ اس نے کہا: ہاں (میں ادا کرتا) تو آپ نے فرمایا: تو اللہ تعالیٰ کا قرض ادا کئے جانے کا زیادہ مستحق ہے ۔
It was narrated that Ibn ‘Abbas said: “A man said: ‘Messenger of Allah ﷺ! My father has died and he did not perform Hajj; shall I perform Hajj on his behalf?’ He said: ‘Don’t you think that if your father owed a debt you would pay it off?’ He said: ‘Yes.’ He said: ‘The debt owed to Allah is more deserving (of being paid off).” (Hasan)