Sahih Muslim

All 7,570 hadiths in order · Page 96 of 379

1908Sahih Muslim

قرآن مجید ٹھہر ٹھہر کر پڑھنے اور بہت جلدی جلدی پڑھنے سے بچنے اور ایک رکعت میں دو سورتیں یا اس سے زیادہ پڑھنے کے جواز کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَابْنُ نُمَيْرٍ جَمِيعًا عَنْ وَکِيعٍ قَالَ أَبُو بَکْرٍ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي وَائِلٍ قَالَ جَائَ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ نَهِيکُ بْنُ سِنَانٍ إِلَی عَبْدِ اللَّهِ فَقَالَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ کَيْفَ تَقْرَأُ هَذَا الْحَرْفَ أَلِفًا تَجِدُهُ أَمْ يَائً مِنْ مَائٍ غَيْرِ آسِنٍ أَوْ مِنْ مَائٍ غَيْرِ يَاسِنٍ قَالَ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ وَکُلَّ الْقُرْآنِ قَدْ أَحْصَيْتَ غَيْرَ هَذَا قَالَ إِنِّي لَأَقْرَأُ الْمُفَصَّلَ فِي رَکْعَةٍ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ هَذًّا کَهَذِّ الشِّعْرِ إِنَّ أَقْوَامًا يَقْرَئُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ وَلَکِنْ إِذَا وَقَعَ فِي الْقَلْبِ فَرَسَخَ فِيهِ نَفَعَ إِنَّ أَفْضَلَ الصَّلَاةِ الرُّکُوعُ وَالسُّجُودُ إِنِّي لَأَعْلَمُ النَّظَائِرَ الَّتِي کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرُنُ بَيْنَهُنَّ سُورَتَيْنِ فِي کُلِّ رَکْعَةٍ ثُمَّ قَامَ عَبْدُ اللَّهِ فَدَخَلَ عَلْقَمَةُ فِي إِثْرِهِ ثُمَّ خَرَجَ فَقَالَ قَدْ أَخْبَرَنِي بِهَا قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ فِي رِوَايَتِهِ جَائَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي بَجِيلَةَ إِلَی عَبْدِ اللَّهِ وَلَمْ يَقُلْ نَهِيکُ بْنُ سِنَانٍ

ابوبکر بن ابی شیبہ، ابن نمیر، وکیع، ابوبکر، وکیع، اعمش، حضرت ابو وائل سے روایت ہے کہ ایک آدمی جسے نہیک بن سنان کہا جاتا ہے حضرت عبداللہ کے پاس آیا اور اس نے عرض کیا اے ابوعبدالرحمٰن! آپ اس حرف کو کیسے پڑھتے ہیں الف کے ساتھ یا یا کے ساتھ؟ مِنْ مَاءٍ غَيْرِ آسِنٍ أَوْ مِنْ مَاءٍ غَيْرِ يَاسِنٍ حضرت عبداللہ ؓ نے فرمایا تو نے اس حرف کے علاوہ پورا قرآن یاد کیا ہے؟ اس نے عرض کیا کہ میں مفصل کی ساری سورتیں ایک ہی رکعت میں پڑھتا ہوں، حضرت عبداللہ ؓ نے فرمایا کہ شعر کی طرح تو جلدی جلدی پڑھتا ہوگا بہت سے لوگ ایسے قرآن پڑھتے ہیں کہ (قرآن) ان کے گلے سے نیچے نہیں اترتا لیکن قرآن دل میں اتر جائے اور اس میں راسخ ہوجائے تو پھر نفع دیتا ہے نماز میں سب سے افضل ارکان رکوع اور سجود ہیں اور میں ان نظائر میں سے جانتا ہوں کہ جن کو رسول اللہ ﷺ ہر رکعت میں دو دو سورتیں ملا کر پڑھا کرتے تھے پھر حضرت عبداللہ کھڑے ہوئے حضرت علقمہ ؓ ان کے پیچھے گئے پھر وہ تشریف لائے اور فرمایا کہ مجھے انہوں نے اس چیز کی خبر دی ہے، ابن منیر نے اپنی روایت میں کہا کہ نبی بجیلہ کا ایک آدمی حضرت عبداللہ کی خدمت میں آیا اور نہیک بن سنان نہیں کہا۔

Abu Wail reported that a person named Nabik bin Sinan came to Abdullah (b. Masud) and said: Abu Abdul Rahman, how do you recite this word (alif) or (ya)? Would you read It as: min main ghaira asin or au min main ghaira yasin. (al-Quran, xlvii. 15)? Abdullah said: You (seem to) have memorised the whole of the Quran except this. He (again) said: I recite all the mufassal surahs in one rakah. Upon this Abdullah said: (You must have been reciting It) hastily like the recitation of poetry. Verily. There are people who recite the Quran, but it does not go down beyond their collar bones. It is (a fact with the Quran) that it is beneficial only when it settles in the heart and is rooted deeply in it. The best of (the acts) in prayer are bowing and prostration. I am quite aware of the occasions when the Messenger of Allah ﷺ combined together two surahs in every rakah. Abdullah then stood up and went out with Alqama following in his footstep. He said Ibn Numair had told him that the narration was like that:" A person belonging to Banu Bajila came to Abdullah," and he did not mention (the name of) Nahik bin Sinan.

1909Sahih Muslim

قرآن مجید ٹھہر ٹھہر کر پڑھنے اور بہت جلدی جلدی پڑھنے سے بچنے اور ایک رکعت میں دو سورتیں یا اس سے زیادہ پڑھنے کے جواز کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي وَائِلٍ قَالَ جَائَ رَجُلٌ إِلَی عَبْدِ اللَّهِ يُقَالُ لَهُ نَهِيکُ بْنُ سِنَانٍ بِمِثْلِ حَدِيثِ وَکِيعٍ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فَجَائَ عَلْقَمَةُ لِيَدْخُلَ عَلَيْهِ فَقُلْنَا لَهُ سَلْهُ عَنْ النَّظَائِرِ الَّتِي کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ بِهَا فِي رَکْعَةٍ فَدَخَلَ عَلَيْهِ فَسَأَلَهُ ثُمَّ خَرَجَ عَلَيْنَا فَقَالَ عِشْرُونَ سُورَةً مِنْ الْمُفَصَّلِ فِي تَأْلِيفِ عَبْدِ اللَّهِ

ابوکریب، ابومعاویہ، اعمش، حضرت ابو وائل فرماتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت عبداللہ کی طرف آیا جسے نہیک بن سنان کہا جاتا ہے باقی حدیث وکیع کی حدیث کی طرح نقل کی اس حدیث میں ہے کہ پھر حضرت علقمہ آئے اور وہ حضرت عبداللہ ؓ کی خدمت میں گئے ہم نے ان سے کہا کہ ان سے ان نظائر کے بارے میں پوچھ لو کہ جن کو رسول اللہ ﷺ ایک رکعت میں پڑھتے تھے تو وہ گئے اور ان سے جا کر پوچھا پھر آکر بتایا کہ وہ مفصل میں سے تیس سورتیں ہیں کہ ان کو دس رکعتوں میں پڑھا جاتا تھا اور وہ حضرت عبداللہ ؓ کی تالیف میں سے ہیں۔

Abu Wail reported: A person came to Abdullah, who was called Nahik bin Sinan, and the rest of the hadith is the same but for this:" Alqama came to him (Abdullah bin Masud) and we said to him: Ask him about the manners in which he combined (two surahs) in one rakah. So he went to him and asked him and then came to us and said: Twenty are the mufassal surahs in the compilation (of the Quran) made by Abdullah."

1910Sahih Muslim

قرآن مجید ٹھہر ٹھہر کر پڑھنے اور بہت جلدی جلدی پڑھنے سے بچنے اور ایک رکعت میں دو سورتیں یا اس سے زیادہ پڑھنے کے جواز کے بیان میں

حَدَّثَنَاه إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا عِيسَی بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ بِنَحْوِ حَدِيثِهِمَا وَقَالَ إِنِّي لَأَعْرِفُ النَّظَائِرَ الَّتِي کَانَ يَقْرَأُ بِهِنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اثْنَتَيْنِ فِي رَکْعَةٍ عِشْرِينَ سُورَةً فِي عَشْرِ رَکَعَاتٍ

اسحاق بن ابراہیم، عیسیٰ بن یونس، اعمش اس سند کی حدیث میں ہے کہ حضرت عبداللہ نے فرمایا کہ میں ان سورتوں کو پہچانتا ہوں جو شمائل میں ہیں جن میں سے رسول اللہ ﷺ دو دو کو ملا کر ایک رکعت میں پڑھتے دس رکعتوں میں بیس سورتیں پڑھتے تھے۔

This hadith has been narrated by Amash with the same chain of transmitters in which (Abdullah bin Masud) said:" I know the manners in which the Messenger of Allah ﷺ recited the two surahs in one rakah and then twenty surahs in ten rakahs."

1911Sahih Muslim

قرآن مجید ٹھہر ٹھہر کر پڑھنے اور بہت جلدی جلدی پڑھنے سے بچنے اور ایک رکعت میں دو سورتیں یا اس سے زیادہ پڑھنے کے جواز کے بیان میں

حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ حَدَّثَنَا وَاصِلٌ الْأَحْدَبُ عَنْ أَبِي وَائِلٍ قَالَ غَدَوْنَا عَلَی عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ يَوْمًا بَعْدَ مَا صَلَّيْنَا الْغَدَاةَ فَسَلَّمْنَا بِالْبَابِ فَأَذِنَ لَنَا قَالَ فَمَکَثْنَا بِالْبَابِ هُنَيَّةً قَالَ فَخَرَجَتْ الْجَارِيَةُ فَقَالَتْ أَلَا تَدْخُلُونَ فَدَخَلْنَا فَإِذَا هُوَ جَالِسٌ يُسَبِّحُ فَقَالَ مَا مَنَعَکُمْ أَنْ تَدْخُلُوا وَقَدْ أُذِنَ لَکُمْ فَقُلْنَا لَا إِلَّا أَنَّا ظَنَنَّا أَنَّ بَعْضَ أَهْلِ الْبَيْتِ نَائِمٌ قَالَ ظَنَنْتُمْ بِآلِ ابْنِ أُمِّ عَبْدٍ غَفْلَةً قَالَ ثُمَّ أَقْبَلَ يُسَبِّحُ حَتَّی ظَنَّ أَنَّ الشَّمْسَ قَدْ طَلَعَتْ فَقَالَ يَا جَارِيَةُ انْظُرِي هَلْ طَلَعَتْ قَالَ فَنَظَرَتْ فَإِذَا هِيَ لَمْ تَطْلُعْ فَأَقْبَلَ يُسَبِّحُ حَتَّی إِذَا ظَنَّ أَنَّ الشَّمْسَ قَدْ طَلَعَتْ قَالَ يَا جَارِيَةُ انْظُرِي هَلْ طَلَعَتْ فَنَظَرَتْ فَإِذَا هِيَ قَدْ طَلَعَتْ فَقَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَقَالَنَا يَوْمَنَا هَذَا فَقَالَ مَهْدِيٌّ وَأَحْسِبُهُ قَالَ وَلَمْ يُهْلِکْنَا بِذُنُوبِنَا قَالَ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْقَوْمِ قَرَأْتُ الْمُفَصَّلَ الْبَارِحَةَ کُلَّهُ قَالَ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ هَذًّا کَهَذِّ الشِّعْرِ إِنَّا لَقَدْ سَمِعْنَا الْقَرَائِنَ وَإِنِّي لَأَحْفَظُ الْقَرَائِنَ الَّتِي کَانَ يَقْرَؤُهُنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَمَانِيَةَ عَشَرَ مِنْ الْمُفَصَّلِ وَسُورَتَيْنِ مِنْ آلِ حم

شیبان بن فروخ، مہدی بن میمون، واصل احدب، حضرت ابو وائل فرماتے ہیں کہ ہم اگلے دن صبح کی نماز پڑھنے کے بعد حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کی طرف گئے اور دروازے سے سلام کیا تو انہوں نے ہمیں اجازت دیدی مگر ہم تھوڑی دیر دروازے کے ساتھ ٹھہرے رہے تو ایک باندی آئی اور اس نے کہا کہ تم اندر کیوں نہیں داخل ہو رہے ہو؟ تو پھر ہم اندر داخل ہوئے تو حضرت عبداللہ ؓ بیٹھے تسبیح پڑھ رہے ہیں انہوں نے فرمایا کہ تمہیں کس چیز نے اندر داخل ہونے سے روکا ہے جبکہ تمہیں اجازت دیدی گئی تھی! تو ہم نے کہا کہ کوئی بات نہیں سوائے اس کے کہ ہم نے خیال کیا کہ گھر والوں میں سے کوئی سو رہا ہو تو عبداللہ ؓ نے فرمایا کہ تم نے ابن ام عبد کے گھر والوں کے بارے میں غفلت کا گمان کیا؟ راوی نے کہا کہ پھر حضرت عبداللہ نے تسبیح پڑھنی شروع کردی یہاں تک کہ پھر خیال ہوا کہ سورج نکل گیا ہے تو باندی سے فرمایا دیکھو کیا سورج نکل آیا ہے اس نے دیکھا اور کہا کہ ابھی تک سورج نہیں نکلا تو آپ ؓ نے پھر تسبیح پڑھنی شروع کردی یہاں تک کہ پھر خیال ہوا کہ سورج نکل رہا ہے تو پھر باندی سے فرمایا کہ دیکھو سورج نکل گیا ہے؟ پھر اس نے دیکھا تو سورج نکل چکا تھا تو حضرت عبداللہ ؓ نے (الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَقَالَنَا يَوْمَنَا هَذَا) راوی مہدی نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ آپ نے یہ جملہ بھی فرمایا (وَلَمْ يُهْلِکْنَا بِذُنُوبِنَا) اور ہم کو ہمارے گناہوں کی وجہ سے ہلاک نہیں فرمایا جماعت میں سے ایک آدمی نے کہا میں نے آج کی رات مفصل کی ساری سورتیں پڑھی ہیں تو حضرت عبداللہ ؓ نے فرمایا تو نے اس طرح پڑھا ہوگا کہ جس طرح کہ (شاعر) شعر تیزی کے ساتھ پڑھتا ہے بیشک ہم نے قرآن مجید سنا اور مجھے وہ ساری سورتیں یاد ہیں کہ جن کو رسول اللہ ﷺ پڑھا کرتے تھے اور مفصل کی وہ اٹھارہ سورتیں ہیں اور دو سورتیں ختم کے لفظ سے شروع ہوتی ہیں۔

Abu Wail reported: One day we went to Abdullah bin Masud after we had observed the dawn prayer and we paid salutation at the door. He permitted us to enter, but we stayed for a while at the door, when the slave-girl came out and said: Why dont you come in? So we went in and (we found Abdullah bin Masud) sitting and glorifying Allah (i. e. he was busy in dhikr) and he said: What obstructed you from coming in though you had been granted permission for it? We said: There was nothing (behind it) but we entertained the idea that some inmate of the house might be sleeping. He said: Do you presume any idleness on the part of the family of Ibn Umm Abd (the mother of Abdullah bin Masud)? He was again busy with the glorification of Allah till he thought that the sun had risen. He said: Girl, see whether (the sun) has arisen. She glanced but it had not risen (by that time). He was again busy with the glorification (of Allah) and he (again) thought that the sun had arisen. She glanced (and confirmed) that, it had risen. Upon this he (Abdullah bin Masud) said: Praise be to Allah Who did not call us to account for our sins today. Mahdi said: I think that he said, He did not destroy us for our sins. One among the people said: I recited all the mufassal surahs during the night. Abdullah said: (You must have recited them) like the (recitation) of poetry. I heard (the Holy Prophet) combining (the sarahs) and I remember the combinations which the Messenger of Allah ﷺ made In the recitation (of surahs). These were constituted of eighteen mufassal surahs and two surahs (commencing with) Ha-Mim.

1912Sahih Muslim

قرآن مجید ٹھہر ٹھہر کر پڑھنے اور بہت جلدی جلدی پڑھنے سے بچنے اور ایک رکعت میں دو سورتیں یا اس سے زیادہ پڑھنے کے جواز کے بیان میں

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ عَنْ زَائِدَةَ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ شَقِيقٍ قَالَ جَائَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي بَجِيلَةَ يُقَالُ لَهُ نَهِيکُ بْنُ سِنَانٍ إِلَی عَبْدِ اللَّهِ فَقَالَ إِنِّي أَقْرَأُ الْمُفَصَّلَ فِي رَکْعَةٍ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ هَذًّا کَهَذِّ الشِّعْرِ لَقَدْ عَلِمْتُ النَّظَائِرَ الَّتِي کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ بِهِنَّ سُورَتَيْنِ فِي رَکْعَةٍ

عبد بن حمید، حسین بن علی جعفی، زائدہ، منصور، حضرت شقیق ؓ سے روایت ہے کہ بنی بجیلہ کا ایک آدمی جسے نہیک بن سنان کہا جاتا ہے حضرت عبداللہ ؓ کی طرف آیا اور کہنے لگا کہ میں ایک رکعت میں مفصل پڑھتا ہوں حضرت عبداللہ ؓ نے فرمایا کہ تم شعر کی طرح تیزی سے پڑھتے ہو گے، میں ان شمائل سورتوں کو جانتا ہوں جن سے رسول اللہ ﷺ ایک رکعت میں دو سورتیں پڑھا کرتے تھے۔

Shaqiq reported: A person from Banu Bajila who was called Nabik bin Sinan came to Abdullah and said: I recite mufassal surahs in one rakah. Upon this Abdullah said: (You recite) like the recitation of poetry. I know the manner in which the Messenger of Allah ﷺ recited two surahs in one rakah.

1913Sahih Muslim

قرآن مجید ٹھہر ٹھہر کر پڑھنے اور بہت جلدی جلدی پڑھنے سے بچنے اور ایک رکعت میں دو سورتیں یا اس سے زیادہ پڑھنے کے جواز کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا وَائِلٍ يُحَدِّثُ أَنَّ رَجُلًا جَائَ إِلَی ابْنِ مَسْعُودٍ فَقَالَ إِنِّي قَرَأْتُ الْمُفَصَّلَ اللَّيْلَةَ کُلَّهُ فِي رَکْعَةٍ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ هَذًّا کَهَذِّ الشِّعْرِ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ لَقَدْ عَرَفْتُ النَّظَائِرَ الَّتِي کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرُنُ بَيْنَهُنَّ قَالَ فَذَکَرَ عِشْرِينَ سُورَةً مِنْ الْمُفَصَّلِ سُورَتَيْنِ سُورَتَيْنِ فِي کُلِّ رَکْعَةٍ

محمد بن مثنی، ابن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، عمرو بن مرہ، حضرت ابو وائل ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت ابن مسعود ؓ کی طرف آیا اور کہنے لگا کہ میں نے رات ایک رکعت میں پوری مفصل پڑھی ہیں تو حضرت عبداللہ ؓ نے فرمایا کہ تو نے شعر کی طرح تیزی سے پڑھا ہوگا حضرت عبداللہ ؓ نے فرمایا کہ میں ان شمائل سورتوں کو جانتا ہوں کہ جن کو رسول اللہ ﷺ ملا کر پڑھا کرتے تھے پھر حضرت ابن مسعود ؓ نے مفصل میں سے بیس (20) سورتوں کا ذکر کیا ایک رکعت میں دو دو سورتیں۔

Abu Wail reported: A person came to Abdullah bin Masud and said: I recited all the mufassal surahs in one rakah during the night. Abdullah said: You must have recited hastily like the recitation of poetry. Abdullah said: I remember well the manner in which the Messenger of Allah ﷺ used to combine them, and he then mentioned twenty of the mufassal surahs, and (their combinations in) two in every rakah.

1914Sahih Muslim

قرات سے متعلق چیزوں کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَقَ قَالَ رَأَيْتُ رَجُلًا سَأَلَ الْأَسْوَدَ بْنَ يَزِيدَ وَهُوَ يُعَلِّمُ الْقُرْآنَ فِي الْمَسْجِدِ فَقَالَ كَيْفَ تَقْرَأُ هَذِهِ الْآيَةَ فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ أَدَالًا أَمْ ذَالًا قَالَ بَلْ دَالًا سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مُدَّكِرٍ دَالًا

احمد بن عبداللہ بن یونس، زہیر، حضرت ابواسحاق ؓ کہتے ہیں کہ میں نے ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ اسود بن یزید سے پوچھ رہا تھا اس حال میں کہ وہ مسجد میں قرآن سکھا رہے تھے اس نے کہا کہ آپ اس آیت (فَھَل مِن مُّدَّکِر) (المدثر) کو کیسے پڑھتے ہیں؟ کیا دال پڑھتے ہیں یا ذال پڑھتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ دال، میں نے حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ﷺ مُدَّکِر دال کے ساتھ پڑھتے تھے۔

Abu Ishaq reported: I saw a man asking Aswad bin Yazid who taught the Quran in the mosque: How do you recite the verse (fahal min muddakir) whether (the word muddakir) Is with (d) or (dh)? He (Aswad) said: It was with (d). I heard Abdullah bin Masud saying that he had heard the Messenger of Allah ﷺ reciting (muddakir) with (d).

1915Sahih Muslim

قرات سے متعلق چیزوں کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ کَانَ يَقْرَأُ هَذَا الْحَرْفَ فَهَلْ مِنْ مُدَّکِرٍ

محمد بن مثنی، ابن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، اسحاق، اسود، حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ اس حرف کو (فَھَل مِن مُّدَّکِر) پڑھا کرتے تھے۔

Ishaq is reported to have said on the authority of Aswad who quoted on the authority of Abdullah bin Masud that the Apostle of Allah ﷺ used to recite these words as (fahal min muddakir).

1916Sahih Muslim

قرات سے متعلق چیزوں کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَکْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ قَدِمْنَا الشَّامَ فَأَتَانَا أَبُو الدَّرْدَائِ فَقَالَ أَفِيکُمْ أَحَدٌ يَقْرَأُ عَلَی قِرَائَةِ عَبْدِ اللَّهِ فَقُلْتُ نَعَمْ أَنَا قَالَ فَکَيْفَ سَمِعْتَ عَبْدَ اللَّهِ يَقْرَأُ هَذِهِ الْآيَةَ وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَی قَالَ سَمِعْتُهُ يَقْرَأُ وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَی وَالذَّکَرِ وَالْأُنْثَی قَالَ وَأَنَا وَاللَّهِ هَکَذَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَؤُهَا وَلَکِنْ هَؤُلَائِ يُرِيدُونَ أَنْ أَقْرَأَ وَمَا خَلَقَ فَلَا أُتَابِعُهُمْ

ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، ابومعاویہ، اعمش، ابراہیم، علقمہ سے روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ (ملک) شام گئے تو ہمارے پاس حضرت ابوالدرداء ؓ تشریف لائے اور فرمایا کہ تم میں کوئی حضرت عبداللہ کی قرأت پر پڑھنے والا ہے؟ میں نے عرض کیا ہاں میں ہوں انہوں نے فرمایا کہ تو نے اس آیت کو حضرت عبداللہ کو کبھی پڑھتے سنا ہے (وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَی) تو میں نے کہا کہ میں نے (وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَی وَالذَّکَرِ وَالْأُنْثَی) پڑھتے ہوئے سنا ہے تو انہوں نے فرمایا کہ اللہ کی قسم میں نے بھی رسول اللہ ﷺ کو اسی طرح پڑھتے ہوئے سنا ہے لیکن یہ سارے لوگ چاہتے ہیں کہ میں (وَمَا خَلَقَ ) پڑھوں لیکن میں ان کی بات نہیں مانتا۔

Alqama reported. We went to Syria and Abu Darda came to us and said: Is there anyone among you who recites according to the recitation of Abdullah? I said: Yes, it is I. He again said: How did you hear Abdullah reciting this verse: (wal-lail-i-idha yaghsha = when the night covers)? He (Alqama) said: I heard him reciting it (like this) (wal-lail-i-idha yaghsha) wa-dhakar wal untha = when the night covers and the males and the females). Upon this he said: By Allah, I heard the Messenger of Allah ﷺ reciting in this way, but they (the Muslims of Syria) desire us to recite: (wa ma khalaqa), but I do not yield to their desire.

1917Sahih Muslim

قرات سے متعلق چیزوں کے بیان میں

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مُغِيرَةَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ أَتَی عَلْقَمَةُ الشَّامَ فَدَخَلَ مَسْجِدًا فَصَلَّی فِيهِ ثُمَّ قَامَ إِلَی حَلْقَةٍ فَجَلَسَ فِيهَا قَالَ فَجَائَ رَجُلٌ فَعَرَفْتُ فِيهِ تَحَوُّشَ الْقَوْمِ وَهَيْئَتَهُمْ قَالَ فَجَلَسَ إِلَی جَنْبِي ثُمَّ قَالَ أَتَحْفَظُ کَمَا کَانَ عَبْدُ اللَّهِ يَقْرَأُ فَذَکَرَ بِمِثْلِهِ

قتیبہ بن سعید، جریر، مغیرہ، ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت علقمہ ؓ (ملک) شام آئے وہ مسجد میں داخل ہوئے انہوں نے اس میں نماز پڑھی پھر ایک حلقہ کی طرف تشریف لے گئے اور اس میں بیٹھ گئے پھر ایک آدمی آیا میں نے محسوس کیا کہ اسے ان لوگوں سے ناراضگی اور وحشت ہے وہ میرے پہلو میں آکر بیٹھ گئے پھر انہوں نے کہا کیا تمہیں یاد ہے کہ حضرت عبداللہ ؓ کیسے پڑھتے تھے؟۔

Ibrahim reported: Alqama came to Syria and entered the mosque and prayed there and then went to a (place where people were sitting in a) circle and he sat therein. Then a person came there and I perceived that the people were annoyed and perturbed (on this arrival). and he sat on my side and then said: Do you remember how Abdullah used to recite (the Quran)? And then the rest of the hadith was narrated.

1918Sahih Muslim

قرات سے متعلق چیزوں کے بیان میں

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ لَقِيتُ أَبَا الدَّرْدَائِ فَقَالَ لِي مِمَّنْ أَنْتَ قُلْتُ مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ قَالَ مِنْ أَيِّهِمْ قُلْتُ مِنْ أَهْلِ الْکُوفَةِ قَالَ هَلْ تَقْرَأُ عَلَی قِرَائَةِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ فَاقْرَأْ وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَی قَالَ فَقَرَأْتُ وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَی وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّی وَالذَّکَرِ وَالْأُنْثَی قَالَ فَضَحِکَ ثُمَّ قَالَ هَکَذَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَؤُهَا

علی بن حجر سعدی، اسماعیل بن ابراہیم، داود بن ابی ہند، شعبی، حضرت علقمہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابوالدردا ؓ سے ملا انہوں نے مجھ سے فرمایا کہ تو کہاں کا رہنے والا ہے؟ میں نے عرض کیا میں عراق والوں میں سے ہوں انہوں نے فرمایا کہ کس شہر کے؟ میں نے عرض کیا کوفہ والوں میں سے، انہوں نے فرمایا کہ تو نے حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کی قرأت کو پڑھا ہے؟ میں نے عرض کیا کہ ہاں، انہوں نے فرمایا کہ تو پڑھ (وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَی) تو میں نے پڑھا ( وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَی وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّی وَالذَّکَرِ وَالْأُنْثَی) تو وہ ہنس پڑے پھر فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اسی طرح پڑھتے ہوئے سنا ہے۔

Alqama reported: I met Abu Darda, and he said to me: To which country do you belong? I said: I am one of the people of Iraq. He again said: To which city? I replied: City of Kufa. He again said: Do you recite according to the recitation of Abdullah bin Masud? I said: Yes. He said: Recite this verse (By the night when it covers) So I recited it: (By the night when it covers, and the day when it shines, and the creating of the male and the female). He laughed and said: I have heard the Messenger of Allah ﷺ reciting like this.

1919Sahih Muslim

قرات سے متعلق چیزوں کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنِي عَبْدُ الْأَعْلَی حَدَّثَنَا دَاوُدُ عَنْ عَامِرٍ عَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ أَتَيْتُ الشَّامَ فَلَقِيتُ أَبَا الدَّرْدَائِ فَذَکَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ

محمد بن مثنی، عبدالاعلی، داود، عامر، حضرت علقمہ ؓ فرماتے ہیں کہ میں شام آیا اور میں نے حضرت ابوالدردا ؓ سے ملاقات کی پھر ابن علیہ کی حدیث کی طرح ذکر کیا۔

This hadith has been narrated by another chain of transmitters.

1920Sahih Muslim

ان اوقات کے بیان میں کہ جن میں نماز پڑھنے سے منع کیا گیا ہے

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَی بْنِ حَبَّانَ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی عَنْ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّی تَغْرُبَ الشَّمْسُ وَعَنْ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصُّبْحِ حَتَّی تَطْلُعَ الشَّمْسُ

یحییٰ بن یحیی، مالک، محمد بن یحییٰ بن حبان، اعرج، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عصر کے بعد سورج کے غروب ہونے تک اور صبح کی نماز کے بعد سورج کے نکلنے تک نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔

Abu Hurairah (RA) is reported to have said that the Messenger of Allah ﷺ prohibited to observe prayer after the Asr prayer till the sun is set, and after the dawn till the sun rises.

1921Sahih Muslim

ان اوقات کے بیان میں کہ جن میں نماز پڑھنے سے منع کیا گیا ہے

حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ وَإِسْمَعِيلُ بْنُ سَالِمٍ جَمِيعًا عَنْ هُشَيْمٍ قَالَ دَاوُدُ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا مَنْصُورٌ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَالِيَةِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ سَمِعْتُ غَيْرَ وَاحِدٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَکَانَ أَحَبَّهُمْ إِلَيَّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی عَنْ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْفَجْرِ حَتَّی تَطْلُعَ الشَّمْسُ وَبَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّی تَغْرُبَ الشَّمْسُ

داؤد بن رشید، اسماعیل بن سالم، ہشیم، منصور، قتادہ، ابوالعالیہ، حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کرام ؓ میں سے ایک حضرت عمر بن خطاب ؓ جو مجھے بہت محبوب تھے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فجر کی نماز کے بعد سورج کے نکلنے تک اور عصر کی نماز کے بعد سورج کے غروب ہونے تک نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔

Ibn Abbas reported: I heard it from so many Companions of the Messenger of Allah ﷺ and one among them is Umar bin Khattab, and he is most dear to me among them that the Messenger of Allah ﷺ prohibited observing of prayer after the dawn prayer till the sun rose and after the Asr till the sun set. This hadith has been narrated by Qatada with the same chain of transmitters with a minor alteration of words.

1922Sahih Muslim

ان اوقات کے بیان میں کہ جن میں نماز پڑھنے سے منع کیا گیا ہے

حَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ عَنْ شُعْبَةَ ح و حَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَی حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنِي أَبِي کُلُّهُمْ عَنْ قَتَادَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ سَعِيدٍ وَهِشَامٍ بَعْدَ الصُّبْحِ حَتَّی تَشْرُقَ الشَّمْسُ

زہیر بن حرب، یحییٰ بن سعید، شعبہ، ح، ابوغسان مسمعی، عبدالاعلی، سعید، ح، اسحاق بن ابراہیم، معاذ بن ہشام، قتادہ ؓ سے یہ حدیث اسی طرح نقل کی گئی ہے سوائے اس کے کہ معبد اور ہشام کی روایت میں ہے کہ صبح کی نماز کے بعد سورج کے چمکنے تک۔

This hadith has been narrated by Qatada with the same chain of transmitters with a minor alteration of words.

1923Sahih Muslim

ان اوقات کے بیان میں کہ جن میں نماز پڑھنے سے منع کیا گیا ہے

حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ أَخْبَرَهُ قَالَ أَخْبَرَنِي عَطَائُ بْنُ يَزِيدَ اللَّيْثِيُّ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا صَلَاةَ بَعْدَ صَلَاةِ الْعَصْرِ حَتَّی تَغْرُبَ الشَّمْسُ وَلَا صَلَاةَ بَعْدَ صَلَاةِ الْفَجْرِ حَتَّی تَطْلُعَ الشَّمْسُ

حرملہ بن یحیی، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، عطاء بن یزید لیثی، حضرت ابوسعید خدری ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ عصر کی نماز کے بعد سورج کے غروب ہونے تک کوئی نماز نہیں اور فجر کی نماز کے بعد سورج کے نکلنے تک کوئی نماز نہیں۔

Abu Said al-Khudri reported Allahs Messenger ﷺ as saying: No prayer is valid after the Asr prayer till the sun sets and no prayer is valid after the dawn prayer till the sun rises.

1924Sahih Muslim

ان اوقات کے بیان میں کہ جن میں نماز پڑھنے سے منع کیا گیا ہے

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَتَحَرَّی أَحَدُکُمْ فَيُصَلِّيَ عِنْدَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَلَا عِنْدَ غُرُوبِهَا

یحییٰ بن یحیی، مالک، نافع، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی آدمی سورج کے نکلنے تک نماز پڑھنے کا ارادہ نہ کرے اور نہ ہی سورج کے غروب ہونے تک نماز پڑھنے کا ارادہ کرے۔

Ibn Umar reported Allahs Messenger ﷺ as saying: Let not any one of you intend to observe prayer at the time of the rising of the sun or of the setting sun.

1925Sahih Muslim

ان اوقات کے بیان میں کہ جن میں نماز پڑھنے سے منع کیا گیا ہے

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي وَمُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ قَالَا جَمِيعًا حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَحَرَّوْا بِصَلَاتِکُمْ طُلُوعَ الشَّمْسِ وَلَا غُرُوبَهَا فَإِنَّهَا تَطْلُعُ بِقَرْنَيْ شَيْطَانٍ

ابوبکر بن ابی شیبہ، وکیع، ح، محمد بن عبداللہ بن نمیر، محمد بن بشر، ہشام، حضرت ابن عمر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم سورج کے نکلنے تک نماز کا ارادہ نہ کرو اور نہ ہی سورج کے غروب ہونے تک نماز پڑھنے کا ارادہ کرو کیونکہ سورج شیطان کے دو سینگوں کے درمیان سے نکلتا ہے۔

Ibn Umar reported Allahs Messenger ﷺ as saying: Do not intend to observe prayer at the time of the rising of the sun nor at its setting, for it rises between the horns of Satan.

1926Sahih Muslim

ان اوقات کے بیان میں کہ جن میں نماز پڑھنے سے منع کیا گیا ہے

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي وَابْنُ بِشْرٍ قَالُوا جَمِيعًا حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا بَدَا حَاجِبُ الشَّمْسِ فَأَخِّرُوا الصَّلَاةَ حَتَّی تَبْرُزَ وَإِذَا غَابَ حَاجِبُ الشَّمْسِ فَأَخِّرُوا الصَّلَاةَ حَتَّی تَغِيبَ

ابوبکر بن ابی شیبہ، وکیع، محمد بن عبداللہ بن نمیر، ابن بشر، ہشام، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب سورج کی شعاعیں ظاہر ہوجائیں تو نماز کو اس وقت تک روکے رکھو جب تک سورج اچھی طرح ظاہر نہ ہوجائے اور جب سورج کی کرن غائب ہوجائے تو نماز کو اس وقت تک روکے رکھو جب تک کہ سورج مکمل طور پر غائب نہ ہوجائے۔

Ibn Umar reported Allahs Messenger ﷺ as saying: When the rim of the sun starts appearing defer prayer till it completely appears, and when the rim of the sun disappears defer prayer till it completely disappears.

1927Sahih Muslim

ان اوقات کے بیان میں کہ جن میں نماز پڑھنے سے منع کیا گیا ہے

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ خَيْرِ بْنِ نُعَيْمٍ الْحَضْرَمِيِّ عَنْ ابْنِ هُبَيْرَةَ عَنْ أَبِي تَمِيمٍ الْجَيْشَانِيِّ عَنْ أَبِي بَصْرَةَ الْغِفَارِيِّ قَالَ صَلَّی بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَصْرَ بِالْمُخَمَّصِ فَقَالَ إِنَّ هَذِهِ الصَّلَاةَ عُرِضَتْ عَلَی مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ فَضَيَّعُوهَا فَمَنْ حَافَظَ عَلَيْهَا کَانَ لَهُ أَجْرُهُ مَرَّتَيْنِ وَلَا صَلَاةَ بَعْدَهَا حَتَّی يَطْلُعَ الشَّاهِدُ وَالشَّاهِدُ النَّجْمُ

قتیبہ بن سعید، لیث، خیر بن نعیم حضرمی، عبداللہ بن ہبیرہ، ابوتمیم جیشانی، حضرت ابوبصرہ غفاری ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمارے ساتھ مخمص میں عصر کی نماز پڑھی آپ ﷺ نے فرمایا یہ نماز تم سے پہلی امتوں پر بھی پیش کی گئی انہوں نے اس کو ضائع کردیا تو جو آدمی اس کی حفاظت کرے گا اسے دوہرا اجر ملے گا اور اس کے بعد کوئی نماز نہیں جب تک کہ ستارے ظاہر نہ ہوجائیں۔

Abu Basrahh Ghifari reported: The Messenger of Allah ﷺ led us in the Asr prayer at (the place known as) Mukhammas, and then said: This prayer was presented to those gone before you, but they lost it, and he who guards it has two rewards in store for him. And no prayer is valid after till the onlooker appears (by onlooker is meant the evening star).