Sahih Muslim

All 7,570 hadiths in order · Page 95 of 379

1888Sahih Muslim

قل ہو اللہ احد پڑھنے کی فضلیت کے بیان میں

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ جَمِيعًا عَنْ يَحْيَی قَالَ ابْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ کَيْسَانَ حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْشُدُوا فَإِنِّي سَأَقْرَأُ عَلَيْکُمْ ثُلُثَ الْقُرْآنِ فَحَشَدَ مَنْ حَشَدَ ثُمَّ خَرَجَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَرَأَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ثُمَّ دَخَلَ فَقَالَ بَعْضُنَا لِبَعْضٍ إِنِّي أُرَی هَذَا خَبَرٌ جَائَهُ مِنْ السَّمَائِ فَذَاکَ الَّذِي أَدْخَلَهُ ثُمَّ خَرَجَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنِّي قُلْتُ لَکُمْ سَأَقْرَأُ عَلَيْکُمْ ثُلُثَ الْقُرْآنِ أَلَا إِنَّهَا تَعْدِلُ ثُلُثَ الْقُرْآنِ

محمد بن حاتم، یعقوب بن ابراہیم، یحیی، ابن حاتم، یحییٰ بن سعید، یزید بن کیسان، ابوحازم، ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم سب اکٹھے ہوجاؤ تاکہ میں تمہارے سامنے تہائی قرآن مجید پڑھوں پھر جنہوں نے اکٹھا ہونا تھا وہ اکٹھے ہوگئے پھر نبی ﷺ نکلے اور آپ ﷺ نے سورت قل ہو اللہ احد پڑھی پھر آپ ﷺ تشریف لے گئے ہم آپس میں ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ شاید آسمان سے کوئی خبر آئی ہے جس کی وجہ سے آپ ﷺ اندر تشریف لے گئے ہیں پھر نبی ﷺ باہر تشریف لائے تو فرمایا میں تمہارے سامنے تہائی قرآن مجید پڑھتا ہوں سنو آگاہ رہو یہ سورت ( قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ) تہائی قرآن کے برابر ہے۔

It is reported on the authority of Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: Get together. for I am going to recite one-third of the Quran before you. And those who could get together gathered there. Then the Apostle of Allah ﷺ came out and recited:" Say: He, Allah, is One." He then entered (his house). Some of us said to the others: Perhaps there has been some news from the heaven on account of which he has gone Inside (the house). The Apostle of Allah ﷺ again came out and said: I told you that I was going to recite one-third of the Quran; keep in mind, this (Surah Ikhlas) is equivalent to one-third of the Quran.

1889Sahih Muslim

قل ہو اللہ احد پڑھنے کی فضلیت کے بیان میں

حَدَّثَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَی حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ عَنْ بَشِيرٍ أَبِي إِسْمَعِيلَ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ خَرَجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَقْرَأُ عَلَيْکُمْ ثُلُثَ الْقُرْآنِ فَقَرَأَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ اللَّهُ الصَّمَدُ حَتَّی خَتَمَهَا

واصل بن عبدالاعلی، ابن فضیل، بشیر ابواسماعیل، ابوحازم، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ہماری طرف تشریف لائے تو فرمایا کہ میں تمہارے اوپر تہائی قرآن مجید پڑھتا ہوں پھر آپ ﷺ نے ( قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ) اس کے ختم تک پڑھی۔

Abu Hurairah (RA) reported: The Messenger of Allah ﷺ came out to us and said: I am going to recite before you one-third of the Quran. He (the Holy Prophet) then recited:" Say: He is Allah, One--Allah, the Eternal," to the end of the Surah.

1890Sahih Muslim

قل ہو اللہ احد پڑھنے کی فضلیت کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبٍ حَدَّثَنَا عَمِّي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ أَنَّ أَبَا الرِّجَالِ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَهُ عَنْ أُمِّهِ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَکَانَتْ فِي حَجْرِ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ رَجُلًا عَلَی سَرِيَّةٍ وَکَانَ يَقْرَأُ لِأَصْحَابِهِ فِي صَلَاتِهِمْ فَيَخْتِمُ بِقُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ فَلَمَّا رَجَعُوا ذُکِرَ ذَلِکَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ سَلُوهُ لِأَيِّ شَيْئٍ يَصْنَعُ ذَلِکَ فَسَأَلُوهُ فَقَالَ لِأَنَّهَا صِفَةُ الرَّحْمَنِ فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَقْرَأَ بِهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبِرُوهُ أَنَّ اللَّهَ يُحِبُّهُ

احمد بن عبدالرحمن بن وہب، عبداللہ بن وہب، عمرو بن حارث، سعید بن ابی ہلال، ابوالرجال محمد بن عبدالرحمن، عمرہ بنت عبدالرحمن، حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک آدمی کو ایک سریہ میں امیر بنا کر بھیجا وہ اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھاتے تھے اور نماز میں قرأت ختم کر کے ( قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ) بھی پڑھتے تھے جب وہ لوگ واپس آئے تو اس کا ذکر رسول اللہ ﷺ سے کیا گیا آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس سے پوچھو کہ وہ اس طرح کیوں کرتا تھا تو لوگوں نے اس سے پوچھا کہ وہ اسطرح کیوں کرتا تھا تو اس نے کہا اس سورت میں رحمن (اللہ جل جلالہ) کی صفات بیان کی گئی ہیں اس لئے میں پسند کرتا ہوں کہ میں اسے پڑھوں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اس آدمی سے کہہ دو کہ اللہ تعالیٰ بھی اس سے محبت کرتا ہے۔

Aisha reported: The Messenger of Allah ﷺ sent a man in charge of an expedition and he would recite for his Companions during their prayer, ending (recitation) with:" Say, He is God, One." When they returned mention was made of it to the Messenger of Allah ﷺ . He (the Holy Prophet) told them to ask him why he had done like that. So they asked him and he said: Verily, it is an attribute of the Compassionate One, and (for this reason) I love to recite it. The Messenger of Allah ﷺ thereupon said: Inform him that Allah loves him.

1891Sahih Muslim

معوذتین پڑھنے کی فضلیت کے بیان میں۔

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ بَيَانٍ عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَمْ تَرَ آيَاتٍ أُنْزِلَتْ اللَّيْلَةَ لَمْ يُرَ مِثْلُهُنَّ قَطُّ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ وَقُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ

قتیبہ بن سعید، جریر، بیان، قیس بن ابی حازم، عقبہ بن عامر سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ کیا تو نے نہیں دیکھا کہ رات ایسی آیات نازل کی گئی ہیں کہ ان کی طرح پہلے کبھی نہیں دیکھی گئیں (قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ وَقُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ )۔

Uqba bin Amir reported Allahs Messenger ﷺ as saying: What wonderful verses have been sent down today. the like of which has never been seen! They are:" Say: I seek refuge with the Lord of the dawn," and" Say: I seek refuge with the Lord of men."

1892Sahih Muslim

معوذتین پڑھنے کی فضلیت کے بیان میں۔

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ عَنْ قَيْسٍ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُنْزِلَ أَوْ أُنْزِلَتْ عَلَيَّ آيَاتٌ لَمْ يُرَ مِثْلُهُنَّ قَطُّ الْمُعَوِّذَتَيْنِ

محمد بن عبداللہ بن نمیر، اسماعیل، قیس، حضرت عقبہ بن عامر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے فرمایا کہ مجھ پر (ایسی آیات) نازل کی گئی ہیں کہ ان کی طرح پہلے کبھی نہیں دیکھی گئیں (قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ اور قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ )

Uqba bin Amir reported: The Messenger of Allah ﷺ said to me: There have been sent down to me verses the like of which had never been seen before. They are the Muawwadhatain.

1893Sahih Muslim

معوذتین پڑھنے کی فضلیت کے بیان میں۔

حَدَّثَنَاه أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ کِلَاهُمَا عَنْ إِسْمَعِيلَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ وَفِي رِوَايَةِ أَبِي أُسَامَةَ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ وَکَانَ مِنْ رُفَعَائِ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

ابوبکر بن ابی شیبہ، وکیع، ح، محمد بن رافع، ابواسامہ، اسماعیل سے اس سند کے ساتھ یہ روایت بھی اسی طرح نقل کی گئی ہے۔

This hadith has been narrated through another chain of transmitters directly from the Companions of Muhammad ﷺ .

1894Sahih Muslim

قرآن مجید پر عمل کرنے والوں اور اسکے سکھانے والوں کی فضلیت کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ کُلُّهُمْ عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا حَسَدَ إِلَّا فِي اثْنَتَيْنِ رَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ الْقُرْآنَ فَهُوَ يَقُومُ بِهِ آنَائَ اللَّيْلِ وَآنَائَ النَّهَارِ وَرَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ مَالًا فَهُوَ يُنْفِقُهُ آنَائَ اللَّيْلِ وَآنَائَ النَّهَارِ

ابوبکر بن ابی شیبہ، عمرو ناقد، زہیر بن حرب، ابن عیینہ، زہیر، سفیان بن عیینہ، زہری، حضرت سالم ؓ اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ دو آدمیوں کے سوا کسی پر حسد کرنا جائز نہیں ایک وہ آدمی کہ جسے اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید عطا فرمایا ہو اور وہ رات دن اس پر عمل کرنے کے ساتھ اس کی تلاوت کرتا ہو اور وہ آدمی کہ جسے اللہ تعالیٰ نے مال عطا فرمایا ہو اور وہ رات اور دن اسے اللہ کے راستہ میں خرچ کرتا ہو۔

Salim narrated on the authority of his father (Ibn Umar) that the Apostle of Allah ﷺ said: Envy is not justified but in case of two persons only: one who, having been given (knowledge of) the Quran by Allah, recites it during the night and day (and also acts upon it) and a man who, having been given wealth by God, spends it during the night and the day (for the welfare of others. seeking the pleasure of the Lord).

1895Sahih Muslim

قرآن مجید پر عمل کرنے والوں اور اسکے سکھانے والوں کی فضلیت کے بیان میں

حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا حَسَدَ إِلَّا عَلَی اثْنَتَيْنِ رَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ هَذَا الْکِتَابَ فَقَامَ بِهِ آنَائَ اللَّيْلِ وَآنَائَ النَّهَارِ وَرَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ مَالًا فَتَصَدَّقَ بِهِ آنَائَ اللَّيْلِ وَآنَائَ النَّهَارِ

حرملہ بن یحیی، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، حضرت سالم بن ابن عمر ؓ اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ دو آدمیوں کے سوا کسی پر حسد کرنا جائز نہیں ایک وہ کہ جسے اللہ تعالیٰ نے کتاب عطا فرمائی ہو اور وہ رات دن اس کی تلاوت کے ساتھ اس پر عمل بھی کرتا ہو اور دوسرا وہ آدمی کہ جسے اللہ تعالیٰ نے مال عطا فرمایا اور وہ اس مال سے رات دن صدقہ کرتا رہتا ہو۔

Salim son of Abdullah bin Umar is reported to have said on the authority of his father that the Messenger of Allah ﷺ observed: Envy is not justified but in case of two persons only: one who, having been given (knowledge of) the Quran by Allah, recites it during the night and during the day (and acts upon it), and the person who, having been given wealth by God, gives it in charity during the night and the day.

1896Sahih Muslim

قرآن مجید پر عمل کرنے والوں اور اسکے سکھانے والوں کی فضلیت کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ إِسْمَعِيلَ عَنْ قَيْسٍ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي وَمُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ عَنْ قَيْسٍ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا حَسَدَ إِلَّا فِي اثْنَتَيْنِ رَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ مَالًا فَسَلَّطَهُ عَلَی هَلَکَتِهِ فِي الْحَقِّ وَرَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ حِکْمَةً فَهُوَ يَقْضِي بِهَا وَيُعَلِّمُهَا

ابوبکر بن ابی شیبہ، وکیع، اسماعیل، قیس، حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا دو آدمیوں کے سوا کسی پر حسد کرنا جائز نہیں ایک وہ آدمی جسے اللہ تعالیٰ نے مال عطا فرمایا ہو اور وہ اسے حق کے راستے میں خرچ کرتا ہو اور دوسرا وہ آدمی جسے اللہ تعالیٰ نے دانائی عطا فرمائی اور وہ اس کے مطابق فیصلہ کرتا ہو اور اسے لوگوں کو سکھاتا ہو۔

Abdullah bin Masud reported Allahs Messenger ﷺ as saying: There should be no envy but only in case of two persons: one having been endowed with wealth and power to spend it in the cause of Truth, and (the other) who has been endowed with wisdom and he decides cases with the help of it and teaches it (to others).

1897Sahih Muslim

قرآن مجید پر عمل کرنے والوں اور اسکے سکھانے والوں کی فضلیت کے بیان میں

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَامِرِ بْنِ وَاثِلَةَ أَنَّ نَافِعَ بْنَ عَبْدِ الْحَارِثِ لَقِيَ عُمَرَ بِعُسْفَانَ وَکَانَ عُمَرُ يَسْتَعْمِلُهُ عَلَی مَکَّةَ فَقَالَ مَنْ اسْتَعْمَلْتَ عَلَی أَهْلِ الْوَادِي فَقَالَ ابْنَ أَبْزَی قَالَ وَمَنْ ابْنُ أَبْزَی قَالَ مَوْلًی مِنْ مَوَالِينَا قَالَ فَاسْتَخْلَفْتَ عَلَيْهِمْ مَوْلًی قَالَ إِنَّهُ قَارِئٌ لِکِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَإِنَّهُ عَالِمٌ بِالْفَرَائِضِ قَالَ عُمَرُ أَمَا إِنَّ نَبِيَّکُمْ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ قَالَ إِنَّ اللَّهَ يَرْفَعُ بِهَذَا الْکِتَابِ أَقْوَامًا وَيَضَعُ بِهِ آخَرِينَ

زہیر بن حرب، یعقوب بن ابراہیم، ابن شہاب، حضرت عامر بن واثلہ سے روایت ہے کہ نافع بن حارث نے حضرت عمر ؓ سے عسفان میں ملاقات کی حضرت عمر ؓ نے انہیں مکہ کا امیر مقرر کرنے کا حکم دیا ہوا تھا آپ نے فرمایا کہ تم نے مکہ میں کسے امیر بنایا ہے؟ تو اس نے عرض کیا کہ ابن ابزی کو، آپ نے پوچھا کہ ابزی کون آدمی ہے؟ اس نے جواب میں کہا کہ ہمارے غلاموں میں سے ایک غلام ہے آپ نے فرمایا کہ تو نے ایک غلام کو ان کا امیر بنادیا ہے؟ اس نے کہا کہ وہ اللہ کی کتاب کا قاری ہے اور اس کے احکامات پر عمل بھی کرتا ہے، حضرت عمر ؓ نے فرمایا کہ تمہارے نبی ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اسی کتاب کے ذریعہ لوگوں کو بلند کرتا ہے اور اسی کتاب کے ذریعہ لوگوں کو پست و ذلیل کرتا ہے۔

Amir bin Wathila reported that Nafi bin Abdul Harith met Umar at Usfan and Umar had employed him as collector in Makkah. He (Hadrat Umar) said to him (Nafi): Whom have you appointed as collector over the people of the valley? He said: Ibn Abza. He said: Who is Ibn Abza? He said: He is one of our freed slaves. He (Hadrat Umar) said: So you have appointed a freed slave over them. He said: He is well versed In the Book of Allah. the Exalted and Great, and he is well versed In the commandments and injunctions (of the Shariah). Umar said: So the Holy Prophet ﷺ said: By this Book, Allah would exalt some peoples and degrade others.

1898Sahih Muslim

قرآن مجید پر عمل کرنے والوں اور اسکے سکھانے والوں کی فضلیت کے بیان میں

حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَقَ قَالَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ حَدَّثَنِي عَامِرُ بْنُ وَاثِلَةَ اللَّيْثِيُّ أَنَّ نَافِعَ بْنَ عَبْدِ الْحَارِثِ الْخُزَاعِيَّ لَقِيَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ بِعُسْفَانَ بِمِثْلِ حَدِيثِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ

عبداللہ بن عبدالرحمن دارمی، ابوبکر بن اسحاق، ابوالیمان، شعیب، حضرت زہری ؓ سے اس سند کے ساتھ یہ روایت بھی اسی طرح نقل کی گئی ہے۔

This hadith has been narrated by Zuhri through another chain of transmitters.

1899Sahih Muslim

قرآن مجید کا سات حرفوں (قرائتوں) میں نازل ہونے اور اس کے معنی کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِيِّ قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يَقُولُا سَمِعْتُ هِشَامَ بْنَ حَکِيمِ بْنِ حِزَامٍ يَقْرَأُ سُورَةَ الْفُرْقَانِ عَلَی غَيْرِ مَا أَقْرَؤُهَا وَکَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْرَأَنِيهَا فَکِدْتُ أَنْ أَعْجَلَ عَلَيْهِ ثُمَّ أَمْهَلْتُهُ حَتَّی انْصَرَفَ ثُمَّ لَبَّبْتُهُ بِرِدَائِهِ فَجِئْتُ بِهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي سَمِعْتُ هَذَا يَقْرَأُ سُورَةَ الْفُرْقَانِ عَلَی غَيْرِ مَا أَقْرَأْتَنِيهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْسِلْهُ اقْرَأْ فَقَرَأَ الْقِرَائَةَ الَّتِي سَمِعْتُهُ يَقْرَأُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَکَذَا أُنْزِلَتْ ثُمَّ قَالَ لِي اقْرَأْ فَقَرَأْتُ فَقَالَ هَکَذَا أُنْزِلَتْ إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ أُنْزِلَ عَلَی سَبْعَةِ أَحْرُفٍ فَاقْرَئُوا مَا تَيَسَّرَ مِنْهُ

یحییٰ بن یحیی، مالک، ابن شہاب، عروہ بن زبیر، عبدالرحمن بن عبدالقاری، عمر بن خطاب فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ہشام ؓ بن حکیم بن حزام ؓ سے سنا کہ وہ سورت الفرقان کو اس قرأت پر نہیں پڑھ رہے کہ جس قرأت کے ساتھ رسول اللہ ﷺ نے مجھے پڑھائی قریب تھا کہ میں ان پر جلدی کرتا لیکن میں نے انہیں مہلت دی تاکہ وہ نماز سے فارغ ہوجائیں پھر میں ان کو چادر سے کھینچتا ہوا رسول اللہ ﷺ کے پاس لے آیا میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! میں نے ان کو سورت الفرقان اس طرح پڑھتے سنا ہے جس طرح آپ ﷺ نے مجھے نہیں پڑھایا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اسے چھوڑ دو تم پڑھو، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ سورت اسی طرح نازل کی گئی ہے پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ قرآن سات حرفوں پر نازل کیا گیا ہے تمہیں جس طرح آسانی ہو پڑھو۔

Umar bin Khattab said: I heard Hisham bin Hakim bin Hizam reciting Surah al-Furqan in a style different from that in which I used to recite it, and in which Allahs Messenger ﷺ had taught me to recite it. I was about to dispute with him (on this style) but I delayed till he had finished that (the recitation). Then I caught hold of his cloak and brought him to the Messenger of Allah ﷺ and said: Messenger of Allah, I heard this man reciting Surah al-Furqan in a style different from the one in which you taught me to recite. Upon this the Messenger of Allah ﷺ told (me) to leave him alone and asked him to recite. He then recited in the style in which I beard him recite it. The Messenger of Allah ﷺ then said: Thus was it sent down. He then told me to recite and I recited it, and he said: Thus was it sent down. The Quran was sent down in seven dialects. So recite what seems easy there from.

1900Sahih Muslim

قرآن مجید کا سات حرفوں (قرائتوں) میں نازل ہونے اور اس کے معنی کے بیان میں

حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخَرَمَةَ وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَبْدٍ الْقَارِيَّ أَخْبَرَاهُ أَنَّهُمَا سَمِعَا عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يَقُولُا سَمِعْتُ هِشَامَ بْنَ حَکِيمٍ يَقْرَأُ سُورَةَ الْفُرْقَانِ فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِهِ وَزَادَ فَکِدْتُ أُسَاوِرُهُ فِي الصَّلَاةِ فَتَصَبَّرْتُ حَتَّی سَلَّمَ

حرملہ بن یحیی، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، عروہ بن زبیر، مسوربن مخرمہ، عبدالرحمن بن عبدالقاری، حضرت عمر ؓ بن خطاب فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ہشام بن حکیم ؓ سے سورت الفرقان پڑھتے ہوئے رسول اللہ ﷺ کی زندگی مبارک ہی میں سنی اس سے آگے حدیث مذکورہ حدیث کی طرح ہے اور اس میں اتنا زائد ہے کہ فرمایا قریب تھا کہ میں اسے نماز ہی میں گھسیٹ کرلے آتا لیکن میں نے اس کے سلام پھیرنے تک صبر کیا۔ حضرت زہری سے اس سند کے ساتھ یہ روایت بھی اس طرح نقل کی گئی ہے۔

This hadith has been transmitted thus by Umar bin Khattab (with a slight change of words):" I heard Hisham bin Hakim reciting Surah al-Furqan during the lifetime of Allahs Messenger ﷺ ." The rest is the same but with this addition:" I was about to catch hold of him in prayer, but I exercised patience till he pronounced salutation.

1901Sahih Muslim

قرآن مجید کا سات حرفوں (قرائتوں) میں نازل ہونے اور اس کے معنی کے بیان میں

حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ کَرِوَايَةِ يُونُسَ بِإِسْنَادِهِ

اسحاق بن ابراہیم، عبد بن حمید، عبدالرزاق، معمر، حضرت زہری ؓ سے اس سند کے ساتھ یہ روایت بھی اسی طرح نقل کی گئی ہے۔

This hadith has been transmitted by Zuhri.

1902Sahih Muslim

قرآن مجید کا سات حرفوں (قرائتوں) میں نازل ہونے اور اس کے معنی کے بیان میں

حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَقْرَأَنِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام عَلَی حَرْفٍ فَرَاجَعْتُهُ فَلَمْ أَزَلْ أَسْتَزِيدُهُ فَيَزِيدُنِي حَتَّی انْتَهَی إِلَی سَبْعَةِ أَحْرُفٍ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ بَلَغَنِي أَنَّ تِلْکَ السَّبْعَةَ الْأَحْرُفَ إِنَّمَا هِيَ فِي الْأَمْرِ الَّذِي يَکُونُ وَاحِدًا لَا يَخْتَلِفُ فِي حَلَالٍ وَلَا حَرَامٍ

حرملہ بن یحیی، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، عبیداللہ بن عبداللہ بن عقبہ، حضرت ابن عباس ؓ سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے مجھے ایک حرف پر قرآن مجید پڑھایا میں نے انہیں زیادہ کے لئے کہا یہاں تک کہ سات حرفوں تک قرآن مجید کی قرأت ہوگئی ابن ہشام راوی کہتے ہیں کہ مجھے یہ بات یاد نہیں ہے کہ سات حرفوں کا معنی ایک ہوتا ہے جس میں حلال اور حرام میں کوئی اختلاف نہیں ہوتا۔

Ibn Abbas reported Allahs Messenger ﷺ as saying: Gabriel (علیہ السلام) taught me to recite in one style. I replied to him and kept asking him to give more (styles), till he reached seven modes (of recitation). Ibn Shibab said: It has reached me that these seven styles are essentially one, not differing about what is permitted and what is forbidden.

1903Sahih Muslim

قرآن مجید کا سات حرفوں (قرائتوں) میں نازل ہونے اور اس کے معنی کے بیان میں

حَدَّثَنَاه عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ

عبد بن حمید، عبدالرزاق، معمر، حضرت زہری ؓ سے اسی سند کے ساتھ یہ روایت نقل کی گئی ہے۔

This hadith has been narrated by Zuhri with the same chain of transmitters.

1904Sahih Muslim

قرآن مجید کا سات حرفوں (قرائتوں) میں نازل ہونے اور اس کے معنی کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَی بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَی عَنْ جَدِّهِ عَنْ أُبَيِّ بْنِ کَعْبٍ قَالَ کُنْتُ فِي الْمَسْجِدِ فَدَخَلَ رَجُلٌ يُصَلِّي فَقَرَأَ قِرَائَةً أَنْکَرْتُهَا عَلَيْهِ ثُمَّ دَخَلَ آخَرُ فَقَرَأَ قِرَائَةً سِوَی قَرَائَةِ صَاحِبِهِ فَلَمَّا قَضَيْنَا الصَّلَاةَ دَخَلْنَا جَمِيعًا عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ إِنَّ هَذَا قَرَأَ قِرَائَةً أَنْکَرْتُهَا عَلَيْهِ وَدَخَلَ آخَرُ فَقَرَأَ سِوَی قِرَائَةِ صَاحِبِهِ فَأَمَرَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَرَأَا فَحَسَّنَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَأْنَهُمَا فَسَقَطَ فِي نَفْسِي مِنْ التَّکْذِيبِ وَلَا إِذْ کُنْتُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَلَمَّا رَأَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا قَدْ غَشِيَنِي ضَرَبَ فِي صَدْرِي فَفِضْتُ عَرَقًا وَکَأَنَّمَا أَنْظُرُ إِلَی اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَرَقًا فَقَالَ لِي يَا أُبَيُّ أُرْسِلَ إِلَيَّ أَنْ اقْرَأْ الْقُرْآنَ عَلَی حَرْفٍ فَرَدَدْتُ إِلَيْهِ أَنْ هَوِّنْ عَلَی أُمَّتِي فَرَدَّ إِلَيَّ الثَّانِيَةَ اقْرَأْهُ عَلَی حَرْفَيْنِ فَرَدَدْتُ إِلَيْهِ أَنْ هَوِّنْ عَلَی أُمَّتِي فَرَدَّ إِلَيَّ الثَّالِثَةَ اقْرَأْهُ عَلَی سَبْعَةِ أَحْرُفٍ فَلَکَ بِکُلِّ رَدَّةٍ رَدَدْتُکَهَا مَسْأَلَةٌ تَسْأَلُنِيهَا فَقُلْتُ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِأُمَّتِي اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِأُمَّتِي وَأَخَّرْتُ الثَّالِثَةَ لِيَوْمٍ يَرْغَبُ إِلَيَّ الْخَلْقُ کُلُّهُمْ حَتَّی إِبْرَاهِيمُ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

محمد بن عبداللہ بن نمیر، اسماعیل بن ابی خالد، عبداللہ بن عیسیٰ بن عبدالرحمن بن ابی لیلی اپنے دادا سے، حضرت ابی بن کعب ؓ فرماتے ہیں کہ میں مسجد میں تھا کہ ایک آدمی مسجد میں داخل ہوا اور نماز پڑھنے لگا اور وہ ایسی قرأت پڑھنے لگا کہ جو میرے علم میں نہیں تھی پھر ایک دوسرا آدمی مسجد میں داخل ہوا اور وہ اس کے علاوہ کوئی اور قرأت پڑھنے لگا پھر جب ہم نے نماز پوری کرلی تو ہم سب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئے میں نے عرض کیا کہ اس آدمی نے ایسی قرأت پڑھی کہ جس پر مجھے تعجب ہوا اور پھر ایک دوسرا آدمی آیا تو اس نے اس کے علاوہ کوئی اور قرأت پڑھی، رسول اللہ ﷺ نے ان دونوں کو حکم فرمایا تو انہوں نے پڑھا تو نبی ﷺ نے ان دونوں کے پڑھنے کو اچھا فرمایا اور میرے دل میں ایسی تکذیب سی آئی جو زمانہ جاہلیت میں تھی تو جب رسول اللہ ﷺ نے میری اس کیفیت کو دیکھا جو مجھ پر ظاہر ہو رہی تھی تو آپ ﷺ نے میرے سینے پر ہاتھ مارا جس سے میں پسینہ پسینہ ہوگیا گو یا کہ میں اللہ کی طرف دیکھ رہا ہوں پھر آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا اے ابی پہلے مجھے حکم تھا کہ میں قرآن کو ایک حرف پر پڑھوں تو میں نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کیا کہ میری امت پر آسانی فرما دوسری مرتبہ مجھے دو حرفوں پر پڑھنے کا حکم ملا تو میں نے پھر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کیا کہ میری امت پر آسانی فرما تو تیسری مرتبہ مجھے سات حرفوں پر پڑھنے کا حکم ملا کہ آپ ﷺ نے جتنی مرتبہ امت کی آسانی کے لئے مجھ سے سوال کیا ہے اتنی ہی مرتبہ کے بدلہ میں مجھ سے مانگو، میں نے عرض کیا اے اللہ میری امت کی مغفرت فرما اے اللہ میری امت کی مغفرت فرما اور تیسری دعا میں نے اس دن کے لئے محفوظ کرلی جس دن ساری مخلوق حتی کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بھی میری طرف آئیں گے۔

Ubayy bin Kab reported: I was in the mosque when a man entered and prayed and recited (the Quran) in a style to which I objected. Then another man entered (the mosque) and recited in a style different from that of his companion. When we had finished the prayer, we all went to Allahs Messenger ﷺ and said to him: This man recited in a style to which I objected, and the other entered and recited in a style different from that of his companion. The Messenger of Allah ﷺ asked them to recite and so they recited, and the Apostle of Allah ﷺ expressed approval of their affairs (their modes of recitation). and there occurred In my mind a sort of denial which did not occur even during the Days of Ignorance. When the Messenger of Allah ﷺ saw how I was affected (by a wrong idea), he struck my chest, whereupon I broke into sweating and felt as though I were looking at Allah with fear. He (the Holy Prophet) said to me: Ubayy. a message was sent to me to recite the Quran in one dialect, and I replied: Make (things) easy for my people. It was conveyed to me for the second time that it should be recited in two dialects. I again replied to him: Make affairs easy for my people. It was again conveyed to me for the third time to recite in seven dialects And (I was further told): You have got a seeking for every reply that I sent you, which you should seek from Me. I said: O Allah! forgive my people, forgive my people, and I have deferred the third one for the day on which the entire creation will turn to me, including even Ibrahim (peace be upon him) (for intercession).

1905Sahih Muslim

قرآن مجید کا سات حرفوں (قرائتوں) میں نازل ہونے اور اس کے معنی کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنِي إِسْمَعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِيسَی عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَی أَخْبَرَنِي أُبَيُّ بْنُ کَعْبٍ أَنَّهُ کَانَ جَالِسًا فِي الْمَسْجِدِ إِذْ دَخَلَ رَجُلٌ فَصَلَّی فَقَرَأَ قِرَائَةً وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ

ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن بشر، اسماعیل بن ابی خالد، عبداللہ بن عیسی، عبدالرحمن ابن ابی لیلیٰ، حضرت ابی بن کعب ؓ فرماتے ہیں کہ میں مسجد میں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک آدمی داخل ہو اس نے نماز پڑھی قرآن مجید پڑھا آگے مذکورہ حدیث کی طرح ہے۔

Ubayy bin Kab reported that he was sitting in a mosque that a person entered it and he observed prayer, and made recitation, the rest of the hadith is the same.

1906Sahih Muslim

قرآن مجید کا سات حرفوں (قرائتوں) میں نازل ہونے اور اس کے معنی کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ عَنْ شُعْبَةَ ح و حَدَّثَنَاه ابْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ الْحَکَمِ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَی عَنْ أُبَيِّ بْنِ کَعْبٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ عِنْدَ أَضَاةِ بَنِي غِفَارٍ قَالَ فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُکَ أَنْ تَقْرَأَ أُمَّتُکَ الْقُرْآنَ عَلَی حَرْفٍ فَقَالَ أَسْأَلُ اللَّهَ مُعَافَاتَهُ وَمَغْفِرَتَهُ وَإِنَّ أُمَّتِي لَا تُطِيقُ ذَلِکَ ثُمَّ أَتَاهُ الثَّانِيَةَ فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُکَ أَنْ تَقْرَأَ أُمَّتُکَ الْقُرْآنَ عَلَی حَرْفَيْنِ فَقَالَ أَسْأَلُ اللَّهَ مُعَافَاتَهُ وَمَغْفِرَتَهُ وَإِنَّ أُمَّتِي لَا تُطِيقُ ذَلِکَ ثُمَّ جَائَهُ الثَّالِثَةَ فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُکَ أَنْ تَقْرَأَ أُمَّتُکَ الْقُرْآنَ عَلَی ثَلَاثَةِ أَحْرُفٍ فَقَالَ أَسْأَلُ اللَّهَ مُعَافَاتَهُ وَمَغْفِرَتَهُ وَإِنَّ أُمَّتِي لَا تُطِيقُ ذَلِکَ ثُمَّ جَائَهُ الرَّابِعَةَ فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُکَ أَنْ تَقْرَأَ أُمَّتُکَ الْقُرْآنَ عَلَی سَبْعَةِ أَحْرُفٍ فَأَيُّمَا حَرْفٍ قَرَئُوا عَلَيْهِ فَقَدْ أَصَابُوا

ابوبکر بن ابی شیبہ، غندر، شعبہ، ح، ابن مثنی، ابن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، حکم، مجاہد، ابن ابی لیلیٰ، حضرت ابی بن کعب ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ قبیلہ غفار کے تالاب پر تھے کہ آپ ﷺ کے پاس حضرت جبرائیل (علیہ السلام) آئے اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ آپ ﷺ کو حکم فرماتے ہیں کہ اپنی امت کو ایک حرف پر قرآن پڑھائیے، آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں اللہ تعالیٰ سے اس کی معافی اور مغفرت کا سوال کرتا ہوں اور یہ کہ میری امت اس کی طاقت نہیں رکھتی پھر حضرت جبرائیل (علیہ السلام) دوسری مرتبہ آپ ﷺ کے پاس آئے اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو حکم دیا ہے کہ اپنی امت کو دو حرفوں پر قرآن مجید پڑھائیے آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں اللہ تعالیٰ سے اس کی معافی اور مغفرت کا سوال کرتا ہوں کہ میری امت اس کی بھی طاقت نہیں رکھتی پھر حضرت جبرائیل (علیہ السلام) تیسری مرتبہ آئے اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو حکم دیا ہے کہ اپنی امت کو تین حرفوں پر قرآن مجید پڑھائیے آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں اللہ تعالیٰ سے اس کی معافی اور مغفرت کا سوال کرتا ہوں کہ میری امت اس کی بھی طاقت نہیں رکھتی پھر حضرت جبرائیل (علیہ السلام) چوتھی مرتبہ آپ ﷺ کے پاس آئے اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو حکم دیا ہے کہ آپ ﷺ اپنی امت کو سات حرفوں پر قرآن مجید پڑھائیں اور ان حرفوں میں سے جس حرف پر قرآن مجید پڑھیں گے وہ صحیح ہوگا۔

Ubayy bin Kab reported that the Apostle of Allah ﷺ was near the tank of Banu Ghifar that Gabriel (علیہ السلام) came to him and said: Allah has commanded you to recite to your people the Quran in one dialect. Upon this he said: I ask from Allah pardon and forgiveness. My people are not capable of doing it. He then came for the second time and said: Allah has commanded you that you should recite the Quran to your people in two dialects. Upon this he (the Holy prophet) again said: I seek pardon and forgiveness from Allah, my people would not be able to do so. He ( Gabriel (علیہ السلام)) came for the third time and said: Allah has commanded you to recite the Quran to your people in three dialects. Upon this he said: I ask pardon and forgiveness from Allah. My people would not be able to do it. He then came to him for the fourth time and said: Allah has commanded you to recite the Quran to your people in seven dialects, and in whichever dialect they would recite, they would be right.

1907Sahih Muslim

قرآن مجید کا سات حرفوں (قرائتوں) میں نازل ہونے اور اس کے معنی کے بیان میں

حَدَّثَنَاه عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ

عبیداللہ بن معاذ اپنے والد سے، شعبہ اس سند کے ساتھ یہ روایت بھی اسی طرح سے نقل کی گئی ہے۔

This hadith has been narrated by Shubah with the same chain of transmitters.