حافظ قرآن سے قرآن سننے کی درخواست کرنے اور قرآن مجید سنتے ہوئے رونے اور اس کے معنی پر غور کرنے کی فضلیت کے بیان میں
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ وَمِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ التَّمِيمِيُّ جَمِيعًا عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَزَادَ هَنَّادٌ فِي رِوَايَتِهِ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَی الْمِنْبَرِ اقْرَأْ عَلَيَّ
ہناد بن سری، منجاب بن حارث تمیمی، علی بن مسہر، اعمش اس سند کے ساتھ یہ حدیث بھی اسی طرح نقل کی گئی ہے لیکن اس روایت میں اتنا زائد ہے کہ جب آپ ﷺ نے مجھے فرمایا تو اس وقت آپ ﷺ منبر پر تھے۔
This hadith has been narratted by Amash with the same chain of transmitters but with this addition:" The Messenger of Allah ﷺ was on the pulpit when he asked me to recite to him."
حافظ قرآن سے قرآن سننے کی درخواست کرنے اور قرآن مجید سنتے ہوئے رونے اور اس کے معنی پر غور کرنے کی فضلیت کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ حَدَّثَنِي مِسْعَرٌ وَقَالَ أَبُو کُرَيْبٍ عَنْ مِسْعَرٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ اقْرَأْ عَلَيَّ قَالَ أَقْرَأُ عَلَيْکَ وَعَلَيْکَ أُنْزِلَ قَالَ إِنِّي أُحِبُّ أَنْ أَسْمَعَهُ مِنْ غَيْرِي قَالَ فَقَرَأَ عَلَيْهِ مِنْ أَوَّلِ سُورَةِ النِّسَائِ إِلَی قَوْلِهِ فَکَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ کُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِکَ عَلَی هَؤُلَائِ شَهِيدًا فَبَکَی قَالَ مِسْعَرٌ فَحَدَّثَنِي مَعْنٌ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهِيدًا عَلَيْهِمْ مَا دُمْتُ فِيهِمْ أَوْ مَا کُنْتُ فِيهِمْ شَکَّ مِسْعَرٌ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، ابواسامہ، مسعر، عمرو بن مرہ، حضرت ابراہیم ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے فرمایا کہ مجھے قرآن مجید پڑھ کر سناؤ! میں نے عرض کیا کہ میں آپ ﷺ کو قرآن پڑھ کر سناؤں؟ حالانکہ قرآن تو آپ ﷺ پر نازل کیا گیا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں اس بات کو پسند کرتا ہوں کہ میں اپنے علاوہ کسی اور سے قرآن مجید سنوں، میں نے آپ ﷺ کو سورت النساء کے شروع سے سنانا شروع کیا جب میں اس آیت پر پہنچا (فَكَيْفَ اِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ اُمَّةٍ بِشَهِيْدٍ وَّجِئْنَا بِكَ عَلٰي هٰ ؤُلَا ءِ شَهِيْدًا) 4۔ النسآء: 41) تو آپ ﷺ رو پڑے، مسعر کہتے ہیں کہ مجھے سے معن، جعفر بن عمرو بن حریث نے اپنے باپ کے واسطہ سے حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ( وَكُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيْدًا مَّا دُمْتُ فِيْهِمْ ) 5۔ المائدہ: 117) کہ میں امت کے حال سے اس وقت تک واقف تھا جب تک کہ میں ان میں تھا مسعر کو شک ہے کہ دُمْتُ فرمایا یا کُنتُ فرمایا۔
Ibrahim reported that the Apostle of Allah ﷺ asked Abdullah bin Masud to recite to him (the Quran). He said: Should I recite it to you while it has been sent down or revealed to you? He (the Holy Prophet) said: I love to hear it from someone else. So he (Abdullah bin Masud) recited to him (from the beginning of Surat al Nisa up to the verse:" How shall then it be when We bring from every people a witness and bring you as a witness against them?" He (the Holy Prophet) wept (on listening to it). It is narrated on the authority of Ibn Masud through another chain of transmitters that the Apostle of Allah ﷺ also said that he had been a witness to his people as long as (said he): I lived among them or I had been among them.
حافظ قرآن سے قرآن سننے کی درخواست کرنے اور قرآن مجید سنتے ہوئے رونے اور اس کے معنی پر غور کرنے کی فضلیت کے بیان میں
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ کُنْتُ بِحِمْصَ فَقَالَ لِي بَعْضُ الْقَوْمِ اقْرَأْ عَلَيْنَا فَقَرَأْتُ عَلَيْهِمْ سُورَةَ يُوسُفَ قَالَ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْقَوْمِ وَاللَّهِ مَا هَکَذَا أُنْزِلَتْ قَالَ قُلْتُ وَيْحَکَ وَاللَّهِ لَقَدْ قَرَأْتُهَا عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لِي أَحْسَنْتَ فَبَيْنَمَا أَنَا أُکَلِّمُهُ إِذْ وَجَدْتُ مِنْهُ رِيحَ الْخَمْرِ قَالَ فَقُلْتُ أَتَشْرَبُ الْخَمْرَ وَتُکَذِّبُ بِالْکِتَابِ لَا تَبْرَحُ حَتَّی أَجْلِدَکَ قَالَ فَجَلَدْتُهُ الْحَدَّ
عثمان بن ابی شیبہ، جریر، اعمش، ابراہیم، علقمہ، حضرت عبداللہ ؓ فرماتے ہیں کہ میں حمص میں تھا تو کچھ لوگوں نے کہا کہ ہمیں قرآن مجید پڑھ کر سنائیں میں نے انہیں سورت یوسف پڑھ کر سنائی، ان لوگوں میں سے ایک آدمی نے کہا کہ یہ سورت اس طرح نازل نہیں ہوئی میں نے کہا کہ تجھ پر افسوس ہے اللہ کی قسم میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ سورت اسی طرح سنائی تھا اس آدمی نے کہا کہ اچھا ٹھیک ہے، حضرت عبداللہ ؓ فرماتے ہیں کہ جب میں اس سے بات کر رہا تھا تو میں نے اس کے منہ سے شراب کی بدبو محسوس کی، میں نے کہا تو تو شراب پیتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی کتاب کو جھٹلاتا ہے میں تجھے یہاں سے نہیں جانے دوں گا یہاں تک کہ میں تجھے کوڑے لگاؤں حضرت عبداللہ ؓ نے فرمایا کہ پھر میں نے (اسے شراب کی حد میں) کوڑے لگائے۔
Abdullah (b. Masud) reported: I was in Homs when some of the people asked me to recite the Quran to them. So I recited Surah Yusuf to them. One of the persons among the people said: By Allah, this is not how it has been sent down. I said: Woe upon you! By Allah, I recited it to the Messenger of Allah ﷺ and he said to me: You have (recited) it well. I was talking with him (the man who objected to my recitation) that I sensed the smell of wine from him. So I said to him. Do you drink wine and belie the Book (of Allah)? You would not depart till I would whip you. So I lashed him according to the prescribed punishment (for the offence of drinking wine).
حافظ قرآن سے قرآن سننے کی درخواست کرنے اور قرآن مجید سنتے ہوئے رونے اور اس کے معنی پر غور کرنے کی فضلیت کے بیان میں
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ قَالَا أَخْبَرَنَا عِيسَی بْنُ يُونُسَ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ جَمِيعًا عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ فَقَالَ لِي أَحْسَنْتَ
اسحاق بن ابراہیم، علی بن خشرم، عیسیٰ بن یونس، ح، ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، ابومعاویہ، حضرت اعمش ؓ سے اس سند کے ساتھ یہ حدیث بھی اسی طرح نقل کی گئی ہے۔
This hadith has been narrated by Amash with the same chain of transmitters but with an exception that it is not mentioned in it:" He said to me: You recited (the Quran) well."
نماز میں قرآن مجید پڑھنے اور اسے سیکھنے کی فضلیت کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ قَالَا حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُحِبُّ أَحَدُکُمْ إِذَا رَجَعَ إِلَی أَهْلِهِ أَنْ يَجِدَ فِيهِ ثَلَاثَ خَلِفَاتٍ عِظَامٍ سِمَانٍ قُلْنَا نَعَمْ قَالَ فَثَلَاثُ آيَاتٍ يَقْرَأُ بِهِنَّ أَحَدُکُمْ فِي صَلَاتِهِ خَيْرٌ لَهُ مِنْ ثَلَاثِ خَلِفَاتٍ عِظَامٍ سِمَانٍ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوسعید اشج، وکیع، اعمش، ابوصالح، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ کیا تم میں سے کوئی اس کو پسند کرتا ہے کہ جب وہ اپنے گھر والوں کی طرف واپس جائے تو وہاں تین حاملہ اونٹنیاں موجود ہوں اور وہ بہت بڑی اور موٹی ہوں ہم نے عرض کیا کہ جی ہاں آپ ﷺ نے فرمایا تم میں سے جو کوئی اپنی نماز میں تین آیات پڑھتا ہے وہ تین بڑی بڑی موٹی اونٹنیوں سے اس کے لئے بہتر ہے۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: Would any one of you like, when he returns to his family, to find there three large, fat, pregnant she-camels? We said: Yes. Upon this he said: Three verses that one of you recites in his prayer are better for him than three large, fat, pregnant she-camels.
نماز میں قرآن مجید پڑھنے اور اسے سیکھنے کی فضلیت کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُکَيْنٍ عَنْ مُوسَی بْنِ عُلَيٍّ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ فِي الصُّفَّةِ فَقَالَ أَيُّکُمْ يُحِبُّ أَنْ يَغْدُوَ کُلَّ يَوْمٍ إِلَی بُطْحَانَ أَوْ إِلَی الْعَقِيقِ فَيَأْتِيَ مِنْهُ بِنَاقَتَيْنِ کَوْمَاوَيْنِ فِي غَيْرِ إِثْمٍ وَلَا قَطْعِ رَحِمٍ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ نُحِبُّ ذَلِکَ قَالَ أَفَلَا يَغْدُو أَحَدُکُمْ إِلَی الْمَسْجِدِ فَيَعْلَمُ أَوْ يَقْرَأُ آيَتَيْنِ مِنْ کِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ خَيْرٌ لَهُ مِنْ نَاقَتَيْنِ وَثَلَاثٌ خَيْرٌ لَهُ مِنْ ثَلَاثٍ وَأَرْبَعٌ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَرْبَعٍ وَمِنْ أَعْدَادِهِنَّ مِنْ الْإِبِلِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، فضل بن دکین، موسیٰ بن علی، حضرت عقبہ بن عامر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ اس حال میں تشریف لائے کہ ہم صفہ میں تھے آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کیا تم میں سے کوئی یہ پسند کرتا ہے کہ وہ روزانہ صبح بطحان کی طرف یا عقیق کی طرف جائے اور وہ وہاں سے بغیر کسی گناہ اور بغیر کسی قطع رحمی کے دو بڑے بڑے کوہان والی اونٹنیاں لے آئے؟ ہم نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ہم سب اس کو پسند کرتے ہیں تو آپ ﷺ نے فرمایا کیا تم میں سے کوئی صبح مسجد کی طرف نہیں جاتا ہے کہ وہ اللہ کی کتاب کی دو آیتیں خود سیکھے یا سکھائے یہ اس کے لئے دو اونٹنیوں سے بہتر ہے اور تین تین سے بہتر ہے اور چار چار سے بہتر ہے اس طرح آیتوں کی تعداد اونٹنیوں کی تعداد سے بہتر ہے۔
Uqba bin Amir reported: When we were in Suffa, the Messenger of Allah ﷺ came out and said: Which of you would like to go out every morning to Buthan or al-Aqiq and bring two large she-camels without being guilty of sin or without severing the ties of kinship? We said: Messenger of Allah, we would like to do it. Upon this he said: Does not one of you go out in the morning to the mosque and teach or recite two verses from the Book of Allah. the Majestic and Glorious? That is better for him than two she-camels, and three verses are better (than three she-camels). and four verses are better for him than four (she-camels), and to on their number in camels.
قرآن مجید اور سورت البقرہ پڑھنے کی فضلیت کے بیان میں
حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ وَهُوَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ يَعْنِي ابْنَ سَلَّامٍ عَنْ زَيْدٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلَّامٍ يَقُولُ حَدَّثَنِي أَبُو أُمَامَةَ الْبَاهِلِيُّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ اقْرَئُوا الْقُرْآنَ فَإِنَّهُ يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ شَفِيعًا لِأَصْحَابِهِ اقْرَئُوا الزَّهْرَاوَيْنِ الْبَقَرَةَ وَسُورَةَ آلِ عِمْرَانَ فَإِنَّهُمَا تَأْتِيَانِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ کَأَنَّهُمَا غَمَامَتَانِ أَوْ کَأَنَّهُمَا غَيَايَتَانِ أَوْ کَأَنَّهُمَا فِرْقَانِ مِنْ طَيْرٍ صَوَافَّ تُحَاجَّانِ عَنْ أَصْحَابِهِمَا اقْرَئُوا سُورَةَ الْبَقَرَةِ فَإِنَّ أَخْذَهَا بَرَکَةٌ وَتَرْکَهَا حَسْرَةٌ وَلَا تَسْتَطِيعُهَا الْبَطَلَةُ قَالَ مُعَاوِيَةُ بَلَغَنِي أَنَّ الْبَطَلَةَ السَّحَرَةُ
حسن بن علی حلوانی، ابوتوبہ (ربیع بن نافع)، ابن سلام، زید، حضرت ابوامامہ باہلی فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ آپ ﷺ فرماتے ہیں کہ قرآن مجید پڑھا کرو کیونکہ یہ قیامت کے دن اپنے پڑھنے والوں کے لئے سفارشی بن کر آئے گا اور دو روشن سورتوں کو پڑھا کرو سورت البقرہ اور سورت آل عمران کیونکہ یہ قیامت کے دن اس طرح آئیں گی جیسے کہ دو بادل ہوں یا دو سائبان ہوں یا دو اڑتے ہوئے پرندوں کی قطاریں ہوں اور وہ اپنے پڑھنے والوں کے بارے میں جھگڑا کریں گی، سورت البقرہ پڑھا کرو کیونکہ اس کا پڑھنا باعث برکت ہے اور اس کا چھوڑنا باعث حسرت ہے اور جادوگر اس کو حاصل کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔
Abu Umama said he heard Allahs Messenger ﷺ say: Recite the Quran, for on the Day of Resurrection it will come as an intercessor for those who recite It. Recite the two bright ones, al-Baqarah and Surah Al Imran, for on the Day of Resurrection they will come as two clouds or two shades, or two flocks of birds in ranks, pleading for those who recite them. Recite Surah al-Baqarah, for to take recourse to it is a blessing and to give it up is a cause of grief, and the magicians cannot confront it. (Muawiyah said: It has been conveyed to me that here Batala means magicians.)
قرآن مجید اور سورت البقرہ پڑھنے کی فضلیت کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ أَخْبَرَنَا يَحْيَی يَعْنِي ابْنَ حَسَّانَ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ وَکَأَنَّهُمَا فِي کِلَيْهِمَا وَلَمْ يَذْکُرْ قَوْلَ مُعَاوِيَةَ بَلَغَنِي
عبداللہ بن عبدالرحمن دارمی، یحییٰ بن حسان، معاویہ اس سند کے ساتھ یہ حدیث بھی اسی طرح نقل کی گئی ہے۔
This hadith has been narrated by Muawiyah with the same chain of transmitters but with this exception that in this the words of Muawiyah:" It has been conveyed to me..." have not been mentioned.
قرآن مجید اور سورت البقرہ پڑھنے کی فضلیت کے بیان میں
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُهَاجِرٍ عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُرَشِيِّ عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ قَالَ سَمِعْتُ النَّوَّاسَ بْنَ سَمْعَانَ الْکِلَابِيَّ يَقُولُا سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يُؤْتَی بِالْقُرْآنِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَأَهْلِهِ الَّذِينَ کَانُوا يَعْمَلُونَ بِهِ تَقْدُمُهُ سُورَةُ الْبَقَرَةِ وَآلُ عِمْرَانَ وَضَرَبَ لَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَةَ أَمْثَالٍ مَا نَسِيتُهُنَّ بَعْدُ قَالَ کَأَنَّهُمَا غَمَامَتَانِ أَوْ ظُلَّتَانِ سَوْدَاوَانِ بَيْنَهُمَا شَرْقٌ أَوْ کَأَنَّهُمَا حِزْقَانِ مِنْ طَيْرٍ صَوَافَّ تُحَاجَّانِ عَنْ صَاحِبِهِمَا
اسحاق بن منصور، یزید بن عبدربہ، ولید بن مسلم، محمد بن مہاجر، ولید بن عبدالرحمن جرشی، جبیر بن نفیر فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت نو اس ؓ بن سمعان کلابی سے سنا وہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ قیامت کے دن قرآن مجید اور ان لوگوں کو جو اس پر عمل کرنے والے تھے لایا جائے گا ان کے آگے سورت البقرہ اور سورت آل عمران ہوں گی رسول اللہ ﷺ نے ان سورتوں کے لئے تین مثالیں ارشاد فرمائی ہیں جنہیں میں اب تک نہیں بھولا وہ اس طرح سے ہیں جس طرح کہ دو بادل ہوں یا دو سیاہ سائبان ہوں اور ان دونوں کے درمیان روشنی ہو یا صف بندھی ہوئی پرندوں کی دو قطاریں ہوں وہ اپنے پڑھنے والوں کے بارے میں جھگڑا کریں گی۔
An-Nawwas bin Saman said he heard the Apostle ﷺ say: On the Day of Resurrection the Quran and those who acted according to it will be brought with Surah al-Baqarah and AI Imran preceding them. The Messenger of Allah ﷺ likened them to three things, which I did not forget afterwards. He (the Holy Prophet) likened them to two clouds, or two black canopies with light between them, or like two flocks of birds in ranks pleading for one who recited them.
سورت فاتحہ اور سورت بقرہ کی آخری آیات کی فضلیت اور سورت بقرہ کی آخری آیات پڑھنے کی ترغیب کے بیان میں
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ وَأَحْمَدُ بْنُ جَوَّاسٍ الْحَنْفِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ عَمَّارِ بْنِ رُزَيْقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَی عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ بَيْنَمَا جِبْرِيلُ قَاعِدٌ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ نَقِيضًا مِنْ فَوْقِهِ فَرَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ هَذَا بَابٌ مِنْ السَّمَائِ فُتِحَ الْيَوْمَ لَمْ يُفْتَحْ قَطُّ إِلَّا الْيَوْمَ فَنَزَلَ مِنْهُ مَلَکٌ فَقَالَ هَذَا مَلَکٌ نَزَلَ إِلَی الْأَرْضِ لَمْ يَنْزِلْ قَطُّ إِلَّا الْيَوْمَ فَسَلَّمَ وَقَالَ أَبْشِرْ بِنُورَيْنِ أُوتِيتَهُمَا لَمْ يُؤْتَهُمَا نَبِيٌّ قَبْلَکَ فَاتِحَةُ الْکِتَابِ وَخَوَاتِيمُ سُورَةِ الْبَقَرَةِ لَنْ تَقْرَأَ بِحَرْفٍ مِنْهُمَا إِلَّا أُعْطِيتَهُ
حسن بن ربیع، احمد بن جو اس حنفی، ابوالاحوص، عمار بن رزیق، عبداللہ بن عیسی، سعد بن جبیر، حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ ہمارے درمیان حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نبی ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک اوپر سے ایک آواز سنی تو آپ ﷺ نے اپنا سر مبارک اٹھایا حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے فرمایا کہ یہ دروازہ آسمان کا ہے جسے صرف آج کے دن کھولا گیا اس سے پہلے کبھی نہیں کھولا گیا پھر اس سے ایک فرشتہ اترا حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے فرمایا کہ یہ فرشتہ جو زمین کی طرف اترا ہے یہ آج سے پہلے کبھی نہیں اترا اس فرشتے نے سلام کیا اور کہا کہ آپ ﷺ کو ان دو نوروں کی خوشخبری ہو جو آپ ﷺ کو دیئے گئے جو کہ آپ ﷺ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دیئے گئے ایک سورت الفاتحہ اور دوسری سورت البقرہ کی آخری آیات آپ ﷺ ان میں سے جو حرف بھی پڑھیں گے آپ ﷺ کو اس کے مطابق دیا جائے گا۔
Ibn Abbas reported that while Gabriel (علیہ السلام) was sitting with the Apostle ﷺ he heard a creaking sound above him. He lifted his head and said: This As a gate opened in heaven today which had never been opened before. Then when an angel descended through it, he said: This is an angel who came down to the earth who had-never come down before. He greeted and said: Rejoice in two lights given to you which have not been given to any prophet before you: Fatihat al-Kitab and the concluding verses of Surah al-Baqarah. You will never recite a letter from them for which you will not be given (a reward).
سورت فاتحہ اور سورت بقرہ کی آخری آیات کی فضلیت اور سورت بقرہ کی آخری آیات پڑھنے کی ترغیب کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ لَقِيتُ أَبَا مَسْعُودٍ عِنْدَ الْبَيْتِ فَقُلْتُ حَدِيثٌ بَلَغَنِي عَنْکَ فِي الْآيَتَيْنِ فِي سُورَةِ الْبَقَرَةِ فَقَالَ نَعَمْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْآيَتَانِ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ مَنْ قَرَأَهُمَا فِي لَيْلَةٍ کَفَتَاهُ
احمد بن یونس، زہیر، منصور، ابراہیم، عبدالرحمن بن یزید فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابومسعود ؓ سے بیت اللہ کے پاس ملا تو میں نے کہا کہ سورت البقرہ کی دو آیتوں کے بارے میں آپ ﷺ کی حدیث مجھ تک پہنچی ہے انہوں نے فرمایا کہ ہاں رسول اللہ ﷺ نے سورت البقرہ کی آخری دو آیتوں کے بارے میں فرمایا کہ جو اسے رات کو پڑھے گا وہ اسے کافی ہوں گی۔
Abdul Rahman bin Yazid reported: I met Abu Masud near the House (Ka’bah) and said to him: A hadith has been conveyed to me on your authority about the two (concluding verses of Surah al-Baqarah. He said: Yes. The Messenger of Allah ﷺ (in fact) said: Anyone who recites the two verses at the end of Surah al-Baqarah at night, they would suffice for him.
سورت فاتحہ اور سورت بقرہ کی آخری آیات کی فضلیت اور سورت بقرہ کی آخری آیات پڑھنے کی ترغیب کے بیان میں
حَدَّثَنَاه إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ کِلَاهُمَا عَنْ مَنْصُورٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ
اسحاق بن ابراہیم، جریر، ح، محمد بن مثنی، ابن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، حضرت منصور ؓ سے اس سند کے ساتھ یہ روایت بھی اسی طرح نقل کی گئی ہے۔
This hadith has been narrated by Mansur with the same chain of transmitters.
سورت فاتحہ اور سورت بقرہ کی آخری آیات کی فضلیت اور سورت بقرہ کی آخری آیات پڑھنے کی ترغیب کے بیان میں
حَدَّثَنَا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ التَّمِيمِيُّ أَخْبَرَنَا ابْنُ مُسْهِرٍ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ قَيْسٍ عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَرَأَ هَاتَيْنِ الْآيَتَيْنِ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ فِي لَيْلَةٍ کَفَتَاهُ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَلَقِيتُ أَبَا مَسْعُودٍ وَهُوَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ فَسَأَلْتُهُ فَحَدَّثَنِي بِهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
منجاب بن حارث تمیمی، ابن مسہر، اعمش، ابراہیم، عبدالرحمن بن یزید، علقمہ بن قیس، حضرت ابومسعود انصاری سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو آدمی سورت البقرہ کی آخری دو آیتیں رات کے وقت پڑھے گا وہ اسے کافی ہوجائیں گی راوی عبدالرحمن نے کہا میں حضرت ابومسعود ؓ سے بیت اللہ کے طواف کے دوران ملا میں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے نبی ﷺ سے نقل کر کے یہی حدیث بیان کی۔
Abu Masud reported Allahs Messenger ﷺ as saying: If anyone recites the two verses at the end of Surah al-Baqarah at night, they would suffice for him Abdul Rahman said: I met Abu Masud and he was circumambulating the House (of Allah) and asked him about this (tradition) and he narrated it to me from the Apostle of Allah ﷺ .
سورت فاتحہ اور سورت بقرہ کی آخری آیات کی فضلیت اور سورت بقرہ کی آخری آیات پڑھنے کی ترغیب کے بیان میں
حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ أَخْبَرَنَا عِيسَی يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ جَمِيعًا عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
علی بن خشرم، ابن یونس، ح، ابوبکر بن ابی شیبہ، عبداللہ بن نمیر، اعمش، ابراہیم، علقمہ، عبدالرحمن بن یزید، ابومسعود ؓ نے نبی ﷺ سے یہی روایت نقل کی ہے۔
A hadith like this has been narrated by Abu Masud from the Apostle of Allah ﷺ through another chain of transmitters.
سورت فاتحہ اور سورت بقرہ کی آخری آیات کی فضلیت اور سورت بقرہ کی آخری آیات پڑھنے کی ترغیب کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا حَفْصٌ وَأَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
ابوبکر بن ابی شیبہ، حفص، ابومعاویہ، اعمش، ابراہیم، عبدالرحمن بن یزید، ابومسعود ؓ نے نبی ﷺ سے اسی طرح روایت نقل کی ہے۔
It is through another chain of transmitters that this hadith has been reported by Abu Masud from the Apostle of Allah ﷺ .
سورت الکہف اور آیة الکرسی کی فضلیت کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ قَتَادَةَ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ الْغَطَفَانِيِّ عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمَرِيِّ عَنْ أَبِي الدَّرْدَائِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ حَفِظَ عَشْرَ آيَاتٍ مِنْ أَوَّلِ سُورَةِ الْکَهْف عُصِمَ مِنْ الدَّجَّالِ
محمد بن مثنی، معاذ بن ہشام، ابوقتادہ، سالم، ابی الجعد غطفانی، معدان، ابوطلحہ یعمری، ابودرداء ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا جو آدمی سورت کہف کی ابتدائی دس آیات یاد کرلے گا وہ دجال کے فتنہ سے محفوظ رہے گا۔
Abu Darda reported Allahs Apostle ﷺ as saying: If anyone learns by heart the first ten verses of the Surah al-Kahf, he will be protected from the Dajjal.
سورت الکہف اور آیة الکرسی کی فضلیت کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ح و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ جَمِيعًا عَنْ قَتَادَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ قَالَ شُعْبَةُ مِنْ آخِرِ الْکَهْفِ و قَالَ هَمَّامٌ مِنْ أَوَّلِ الْکَهْف کَمَا قَالَ هِشَامٌ
محمد بن مثنی، ابن بشار، محمد بن جعفر، ح، زہیر بن حرب، عبدالرحمن بن مہدی، ہمام، قتادہ سے اس سند کے ساتھ یہ حدیث اسی طرح روایت کی گئی ہے لیکن اس میں شعبہ کی روایت میں سورت کہف کی آخری آیات اور ہمام کی روایت میں سورت کہف کی ابتدائی آیات کا ذکر ہے۔
This hadith has been transmitted by Qatada with the same chain of transmitters. But Shubah (one of the narrators) said: At the end of Surah al-Kahf, but Hammam said: At the beginning of Surah al-Kahf.
سورت الکہف اور آیة الکرسی کی فضلیت کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَی بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَی عَنْ الْجُرَيْرِيِّ عَنْ أَبِي السَّلِيلِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ أُبَيِّ بْنِ کَعْبٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ يَا أَبَا الْمُنْذِرِ أَتَدْرِي أَيُّ آيَةٍ مِنْ کِتَابِ اللَّهِ مَعَکَ أَعْظَمُ قَالَ قُلْتُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ يَا أَبَا الْمُنْذِرِ أَتَدْرِي أَيُّ آيَةٍ مِنْ کِتَابِ اللَّهِ مَعَکَ أَعْظَمُ قَالَ قُلْتُ اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ قَالَ فَضَرَبَ فِي صَدْرِي وَقَالَ وَاللَّهِ لِيَهْنِکَ الْعِلْمُ أَبَا الْمُنْذِرِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، عبدالاعلی بن عبدالاعلی، جریری، ابوالسلیل، عبداللہ بن رباح انصاری، ابی بن کعب ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے ابوالمنذر کیا تجھے معلوم ہے کہ تیرے نزدیک اللہ کی کتاب میں سے سب سے بڑی آیت کونسی ہے؟ میں نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول ہی زیادہ جانتے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا کیا تجھے معلوم ہے کہ تیرے نزدیک اللہ تعالیٰ کی کتاب میں سب سے عظیم آیت کونسی ہے میں نے کہا ( اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ ) آخر تک آپ ﷺ نے میرے سینہ پر ہاتھ مارا اور فرمایا اے ابوالمنذر یہ علم تجھے مبارک ہو۔
Ubayy bin Kab said: Allahs Messenger ﷺ said: O Abu al-Mundhir, do you know the verse from the Book of Allah which, according to you, is the greatest? I said: Allah and His Apostle ﷺ know best. He again said: Abul-Mundhir, do you know the verse from the Book of Allah which, according to you, is the greatest? I said: Allah, there is no god but He, the Living, the Eternal. Thereupon he struck me on my breast and said: May knowledge be pleasant for you, O Abul-Mundhir!
قل ہو اللہ احد پڑھنے کی فضلیت کے بیان میں
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَبِي الدَّرْدَائِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَيَعْجِزُ أَحَدُکُمْ أَنْ يَقْرَأَ فِي لَيْلَةٍ ثُلُثَ الْقُرْآنِ قَالُوا وَکَيْفَ يَقْرَأْ ثُلُثَ الْقُرْآنِ قَالَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ تَعْدِلُ ثُلُثَ الْقُرْآنِ
زہیر بن حرب، محمد بن بشار، یحییٰ بن سعید، شعبہ، قتادہ، سالم بن ابی الجعد، معدان بن ابی طلحہ، حضرت ابوالدرداء ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ کیا تم میں سے کوئی آدمی رات میں تہائی قرآن مجید پڑھ سکتا ہے؟ صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا کہ وہ کیسے پڑھا جاسکتا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ سورت ( قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ) تہائی قرآن مجید کے برابر ہے۔
Abu Darda reported Allahs Apostle ﷺ as saying: Is any one of you incapable of reciting a third of the Quran in a night? They (the Companions) asked: How could one recite a third of the Quran (in a night)? Upon this he (the Holy Prophet) said:" He is Allah, One" (QurAn. cxii.) is equivalent to a third of the Quran.
قل ہو اللہ احد پڑھنے کی فضلیت کے بیان میں
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبَانُ الْعَطَّارُ جَمِيعًا عَنْ قَتَادَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَفِي حَدِيثِهِمَا مِنْ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ جَزَّأَ الْقُرْآنَ ثَلَاثَةَ أَجْزَائٍ فَجَعَلَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ جُزْئًا مِنْ أَجْزَائِ الْقُرْآنِ
اسحاق بن ابراہیم، محمد بن بکر، سعید بن ابی عروبہ، ح، ابوبکر بن ابی شیبہ، عفان، ابان عطار، حضرت قتادہ سے اس سند کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کا یہ فرمان نقل کیا گیا ہے آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کے تین حصے فرمائے ہیں اور قرآن کے ان تین حصوں میں سے ( قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ) کو ایک حصہ مقرر فرمایا ہے۔
This hadith has been narrated by Qatada with the same chain of transmitters in these words: He (the Apostle of Allah ﷺ ) said: Allah divided the Quran into three parts, and he made:" Say: He, Allah is One." one part out of the (three) parts of the Quran.