خوش الحانی کے ساتھ قرآن مجید پڑھنے کے استح کے بیان میں
حَدَّثَنِي ابْنُ أَخِي ابْنِ وَهْبٍ حَدَّثَنَا عَمِّي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ مَالِکٍ وَحَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ عَنْ ابْنِ الْهَادِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ سَوَائً وَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَقُلْ سَمِعَ
ابن اخی ابن وہب، عبداللہ بن وہب، عمر وبن مالک وحیوہ بن شریح، ابن الہاد اس سند کے ساتھ یہ حدیث اسی طرح نقل کی گئی ہے لیکن اس میں آپ ﷺ نے سمع کا لفظ نہیں فرمایا۔
This hadith has been narrated with the same chain of transmitters by Ibn al-Had except this that Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying and he did not say:" He heard it."
خوش الحانی کے ساتھ قرآن مجید پڑھنے کے استح کے بیان میں
حَدَّثَنَا الْحَکَمُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا هِقْلٌ عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ عَنْ يَحْيَی بْنِ أَبِي کَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَذِنَ اللَّهُ لِشَيْئٍ کَأَذَنِهِ لِنَبِيٍّ يَتَغَنَّی بِالْقُرْآنِ يَجْهَرُ بِهِ
حکم بن موسی، ہقل، اوزاعی، یحییٰ بن ابی کثیر، ابوسلمہ، حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کسی چیز پر اتنا اجر عطا نہیں فرماتے جتنا کہ نبی کے خوش الحانی اور بلند آواز سے قرآن مجید پڑھنے پر عطا فرماتے ہیں۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: Allah has not heard anything (more pleasing) than listening to the Prophet ﷺ reciting the Quran in a sweet loud voice.
خوش الحانی کے ساتھ قرآن مجید پڑھنے کے استح کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَابْنُ حُجْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ حَدِيثِ يَحْيَی بْنِ أَبِي کَثِيرٍ غَيْرَ أَنَّ ابْنَ أَيُّوبَ قَالَ فِي رِوَايَتِهِ کَإِذْنِهِ
یحییٰ بن ایو ب، قتیبہ بن سعید، ابن حجر، ابن جعفر، محمد بن عمرو، ابوسلمہ، ابوہریرہ اس سند کے ساتھ حضرت ابوہریرہ ؓ نے نبی ﷺ سے اسی طرح نقل کیا ہے۔
This hadith has been narrated by another chain of transmitters but with a slight modification of words.
خوش الحانی کے ساتھ قرآن مجید پڑھنے کے استح کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا مَالِکٌ وَهُوَ ابْنُ مِغْوَلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ أَوْ الْأَشْعَرِيَّ أُعْطِيَ مِزْمَارًا مِنْ مَزَامِيرِ آلِ دَاوُدَ
ابوبکر بن ابی شیبہ، عبداللہ بن نمیر، ح، ابن نمیر، مغول، عبداللہ بن بریدہ اپنے والد سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ حضرت عبداللہ بن قیس ؓ یا حضرت اشعری ؓ کو آل داؤد کی خوش الحانی سے حصہ عطا فرمایا گیا ہے۔
Buraida reported on the authority of his father that the Messenger of Allah ﷺ had said: Abdullah bin Qais (RA) or al-Ashari has been gifted with a sweet melodious voice out of the voices of the family of David.
خوش الحانی کے ساتھ قرآن مجید پڑھنے کے استح کے بیان میں
حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا طَلْحَةُ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَی قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَبِي مُوسَی لَوْ رَأَيْتَنِي وَأَنَا أَسْتَمِعُ لِقِرَائَتِکَ الْبَارِحَةَ لَقَدْ أُوتِيتَ مِزْمَارًا مِنْ مَزَامِيرِ آلِ دَاوُدَ
داؤد بن رشید، یحییٰ بن سعید، طلحہ بن ابی بردہ، حضرت ابوموسی سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابوموسی ؓ سے فرمایا کہ اگر تم مجھے گزشتہ رات دیکھتے جب میں تمہارا قرآن مجید سن رہا تھا یقینا تمہیں آل داؤد کی خوش الحانی سے حصہ ملا ہے۔
Abu Burda narrated on the authority of Abu Musa that the Messenger of Allah ﷺ had said to Abu Musa (RA) : If you were to see me, as I was listening to your recitation (of the Quran) yester-night (you would have felt delighted). You are in fact endowed with a sweet voice like that of David himself.
نبی کا فتح مکہ کے دن سورت الفتح پڑھنا
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ وَوَکِيعٌ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُغَفَّلٍ الْمُزَنِيَّ يَقُولُا قَرَأَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ فِي مَسِيرٍ لَهُ سُورَةَ الْفَتْحِ عَلَی رَاحِلَتِهِ فَرَجَّعَ فِي قِرَائَتِهِ قَالَ مُعَاوِيَةُ لَوْلَا أَنِّي أَخَافُ أَنْ يَجْتَمِعَ عَلَيَّ النَّاسُ لَحَکَيْتُ لَکُمْ قِرَائَتَهُ
ابوبکر بن ابی شیبہ، عبداللہ بن ادریس، وکیع، شعبہ، معاویہ بن قرہ، حضرت عبداللہ بن مغفل مزنی فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ فتح مکہ والے سال اپنی سواری پر سورت الفتح پڑھتے ہوئے جا رہے تھے اور آپ ﷺ اپنی قرأت کو دہراتے تھے معاویہ کہتے ہیں کہ مجھے لوگوں سے یہ ڈر نہ ہوتا کہ مجھے گھیر لیں گے تو میں آپ ﷺ کی قرأت بیان کرتا۔
Muawiyah bin Qurra reported Abdullah bin Mughaffal al-Muzani as saying: The Apostle of Allah ﷺ recited on his ride Surat al Fath during a journey in the year of the Conquest (of Makkah), and he repeated (the words) in his recitation. Muawiyah said: If I were not afraid that the people would crowd around me, I would have given a demonstration of (the Prophets) recitation before you.
نبی کا فتح مکہ کے دن سورت الفتح پڑھنا
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُغَفَّلٍ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَکَّةَ عَلَی نَاقَتِهِ يَقْرَأُ سُورَةَ الْفَتْحِ قَالَ فَقَرَأَ ابْنُ مُغَفَّلٍ وَرَجَّعَ فَقَالَ مُعَاوِيَةُ لَوْلَا النَّاسُ لَأَخَذْتُ لَکُمْ بِذَلِکَ الَّذِي ذَکَرَهُ ابْنُ مُغَفَّلٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
محمد بن مثنی، محمد بن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، معاویہ بن قرہ، حضرت عبداللہ بن مغفل سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فتح مکہ کے دن اپنی اونٹنی پر سورت الفتح پڑھتے ہوئے دیکھا، راوی نے کہا کہ حضرت ابن مغفل ؓ نے قرآن پڑھا اور اسے دہرایا معاویہ نے کہا کہ اگر مجھے لوگوں کا خدشہ نہ ہوتا تو میں تمہیں اسی طرح بیان کرتا جس طرح حضرت ابن مغفل ؓ نے نبی ﷺ سے ذکر کیا۔
Muawiyah bin Qurra is reported to have heard Abdullah bin Mughaffal as saying: I saw the Messenger of Allah ﷺ reciting Surah Fath on his camel on the day of the Conquest of Makkah. He (the narrator) said: Ibn Mughaffal recited it and repeated it. Muawiyah said: Had there been (no crowed of) people, I would have given a practical demonstration of that which Ibn Mughaffal had mentioned from the Apostle of Allah ﷺ .
نبی کا فتح مکہ کے دن سورت الفتح پڑھنا
حَدَّثَنَاه يَحْيَی بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ح و حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ وَفِي حَدِيثِ خَالِدِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ عَلَی رَاحِلَةٍ يَسِيرُ وَهُوَ يَقْرَأُ سُورَةَ الْفَتْحِ
یحییٰ بن حبیب حارثی، خالد بن حارث، عبیداللہ بن معاذ، شعبہ اس سند کے ساتھ یہ روایت بھی اسی طرح نقل کی گئی ہے۔
This hadlth has been narrated by Khalid al-Harith with the same chain of transmitters (with these words:) (The Holy Prophet) was reciting Surat al-Fath as he was travelling on his mount.
قرآن مجید پڑھنے کی برکت سے سکینت نازل ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ الْبَرَائِ قَالَ کَانَ رَجُلٌ يَقْرَأُ سُورَةَ الْکَهْفِ وَعِنْدَهُ فَرَسٌ مَرْبُوطٌ بِشَطَنَيْنِ فَتَغَشَّتْهُ سَحَابَةٌ فَجَعَلَتْ تَدُورُ وَتَدْنُو وَجَعَلَ فَرَسُهُ يَنْفِرُ مِنْهَا فَلَمَّا أَصْبَحَ أَتَی النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ ذَلِکَ لَهُ فَقَالَ تِلْکَ السَّکِينَةُ تَنَزَّلَتْ لِلْقُرْآنِ
یحییٰ بن یحیی، ابوخیثمہ، ابواسحاق، براء فرماتے ہیں کہ ایک آدمی سورت کہف پڑھ رہا تھا اور اس کے پاس ایک گھوڑا دو رسیوں سے بندھا ہوا تھا کہ اچانک اس کو ایک بادل نے ڈھانپ لیا اور وہ بادل اس کے گرد گھومنے لگا اور اس کے قریب ہونے لگا اور اس کا گھوڑا بدکنے لگا پھر جب صبح ہوئی تو وہ نبی ﷺ کے پاس آیا اور اس کا ذکر کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ سکینہ ہے جو قرآن مجید کی وجہ سے نازل ہوا۔
Al-Bara reported that a person was reciting Surat al-Kahf and there was a horse tied with two ropes at his side, a cloud overshadowed him, and as it began to come nearer and nearer his horse began to take fright from it. He went and mentioned that to the Prophet ﷺ in the morning, and he (the Holy Prophet) said: That was tranquility which came down at the recitation of the Quran.
قرآن مجید پڑھنے کی برکت سے سکینت نازل ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّی قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَائَ يَقُولُا قَرَأَ رَجُلٌ الْکَهْفَ وَفِي الدَّارِ دَابَّةٌ فَجَعَلَتْ تَنْفِرُ فَنَظَرَ فَإِذَا ضَبَابَةٌ أَوْ سَحَابَةٌ قَدْ غَشِيَتْهُ قَالَ فَذَکَرَ ذَلِکَ لِلنَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ اقْرَأْ فُلَانُ فَإِنَّهَا السَّکِينَةُ تَنَزَّلَتْ عِنْدَ الْقُرْآنِ أَوْ تَنَزَّلَتْ لِلْقُرْآنِ
ابن مثنی، ابن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، ابواسحاق، حضرت براء فرماتے ہیں کہ ایک آدمی سورت الکہف پڑھ رہا تھا اور اس کے گھر میں ایک جانور تھا اچانک وہ جانور بدکنے لگا اس نے دیکھا کہ ایک بادل نے اس ڈھانپا ہوا ہے اس آدمی نے نبی ﷺ سے اس کا ذکر کیا آپ ﷺ نے فرمایا کہ قرآن پڑھو کیونکہ یہ سکینہ ہے جو قرآن کی تلاوت کے وقت نازل ہوتی ہے۔
Ibn Ishaq reported: I heard al-Bara as saying that a man recited al-Kahf when an animal was there in the house and it began to take fright. And as he looked around, he found a cloud overshadowing it. He mentioned that to the Apostle of Allah ﷺ . Upon this he said: O so and so, recite on (the surah) as- Sakina descends at the (recitation of the Quran) or on account (of the recitation) of the Quran.
قرآن مجید پڑھنے کی برکت سے سکینت نازل ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ وَأَبُو دَاوُدَ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَائَ يَقُولُا فَذَکَرَا نَحْوَهُ غَيْرَ أَنَّهُمَا قَالَا تَنْقُزُ
ابن مثنی، عبدالرحمن بن مہدی، ابوداد، شعبہ، ابواسحاق، براء اس سند کے ساتھ یہ حدیث بھی حضرت براء ؓ نے اسی طرح روایت کی۔
This hadith has been narrated on the authority of al-Bara with a slight modification of words.
قرآن مجید پڑھنے کی برکت سے سکینت نازل ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنِي حَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ وَتَقَارَبَا فِي اللَّفْظِ قَالَا حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ الْهَادِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ خَبَّابٍ حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ حَدَّثَهُ أَنَّ أُسَيْدَ بْنَ حُضَيْرٍ بَيْنَمَا هُوَ لَيْلَةً يَقْرَأُ فِي مِرْبَدِهِ إِذْ جَالَتْ فَرَسُهُ فَقَرَأَ ثُمَّ جَالَتْ أُخْرَی فَقَرَأَ ثُمَّ جَالَتْ أَيْضًا قَالَ أُسَيْدٌ فَخَشِيتُ أَنْ تَطَأَ يَحْيَی فَقُمْتُ إِلَيْهَا فَإِذَا مِثْلُ الظُّلَّةِ فَوْقَ رَأْسِي فِيهَا أَمْثَالُ السُّرُجِ عَرَجَتْ فِي الْجَوِّ حَتَّی مَا أَرَاهَا قَالَ فَغَدَوْتُ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ بَيْنَمَا أَنَا الْبَارِحَةَ مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ أَقْرَأُ فِي مِرْبَدِي إِذْ جَالَتْ فَرَسِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اقْرَأْ ابْنَ حُضَيْرٍ قَالَ فَقَرَأْتُ ثُمَّ جَالَتْ أَيْضًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اقْرَأْ ابْنَ حُضَيْرٍ قَالَ فَقَرَأْتُ ثُمَّ جَالَتْ أَيْضًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اقْرَأْ ابْنَ حُضَيْرٍ قَالَ فَانْصَرَفْتُ وَکَانَ يَحْيَی قَرِيبًا مِنْهَا خَشِيتُ أَنْ تَطَأَهُ فَرَأَيْتُ مِثْلَ الظُّلَّةِ فِيهَا أَمْثَالُ السُّرُجِ عَرَجَتْ فِي الْجَوِّ حَتَّی مَا أَرَاهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِلْکَ الْمَلَائِکَةُ کَانَتْ تَسْتَمِعُ لَکَ وَلَوْ قَرَأْتَ لَأَصْبَحَتْ يَرَاهَا النَّاسُ مَا تَسْتَتِرُ مِنْهُمْ
حسن بن علی حلوانی، حجاج شاعر، یعقوب بن ابراہیم، یزید بن الہاد، عبداللہ بن خباب، ابوسعید خدری بیان کرتے ہیں کہ حضرت اسید بن حضیر ؓ ایک رات اپنی کھجوروں کے کھلیان میں قرآن مجید پڑھ رہے تھے کہ انکا گھوڑا بدکنے لگا، آپ ؓ نے پھر پڑھا وہ پھر بدکنے لگا آپ نے پڑھا وہ پھر بدکنے لگا، حضرت اسید کہتے ہیں کہ میں ڈرا کہ کہیں وہ یحییٰ کو کچل نہ ڈالے میں اس کے پاس جا کر کھڑا ہوگیا میں کیا دیکھتا ہوں کہ ایک سائبان کی طرح میرے سر پر ہے وہ چراغوں سے روشن ہے وہ اوپر کی طرف چڑھنے لگا یہاں تک کہ میں اسے پھر نہ دیکھ سکا، صبح کے وقت میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ میں رات کے وقت اپنے کھلیان میں قرآن مجید پڑھ رہا تھا کہ اچانک میرا گھوڑا بدکنے لگا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ابن حضیر پڑھتے رہو انہوں نے عرض کیا کہ میں پڑھتا رہا وہ پھر اسی طرح بدکنے لگا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ابن حضیر پڑھتے رہو انہوں نے عرض کیا کہ میں پڑھتا رہا وہ پھر اسی طرح بدکنے لگا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ابن حضیر پڑھتے رہو ابن حضیر کہتے ہیں کہ میں پڑھ کر فارغ ہوا تو یحییٰ اس کے قریب تھا مجھے ڈر لگا کہ کہیں وہ اسے کچل نہ دے اور میں نے ایک سائبان کی طرح دیکھا کہ اس میں چراغ سے روشن تھے اور اوپر کی طرف چڑھا یہاں تک کہ اسے میں نہ دیکھ سکا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا وہ فرشتے تھے جو تمہارا قرآن سنتے تھے اور اگر تم پڑھتے رہتے تو صبح لوگ ان کو دیکھتے اور وہ لوگوں سے پوشیدہ نہ ہوتے۔
Abu Said al-Khudri told of Usaid bin Hudair saying that one night he recited the Quran in his enclosure, when the horse began to jump about. He again recited and (the horse) again jumped. He again recited and it jumped as before. Usaid said: I was afraid lest it should trample (his son) Yahya. I stood near it (the horse) and saw something like a canopy over my head with what seemed to be lamps in it, rising up in the sky till it disappeared. I went to the Messenger of Allah ﷺ on the next day and said: Messenger of Allah, I recited the Quran during the night in my enclosure and my horse began to jump. Upon this the Messenger of Allah ﷺ said: You should have kept on reciting, Ibn Hudair. He (Ibn Hudair) said: I recited. It jumped (as before). Upon this the Messenger of Allah ﷺ again said: You should have kept on reciting, Ibn Hudair. He (Ibn Hudair) said: I recited and it again jumped (as before). The Messenger of Allah ﷺ again said: You should kave kept on reciting, Ibu Hudair. He (Ibn Hudair) said: (Messenger of Allah) I finished (the recitation) for Yahya was near (the horse) and I was afraid lest it should trample him. I saw something like a canopy with what seemed to be lamps in it rising up in the sky till it disappeared. Upon this the Messenger of Allah ﷺ said: Those were the angels who listened to you; and if you had continued reciting, the people would have seen them in the morning and they would not have concealed themselves from them.
قرآن مجید حفظ کرنے والوں کی فضلیت کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَأَبُو کَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ کِلَاهُمَا عَنْ أَبِي عَوَانَةَ قَالَ قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ عَنْ أَبِي مُوسَی الْأَشْعَرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ مَثَلُ الْأُتْرُجَّةِ رِيحُهَا طَيِّبٌ وَطَعْمُهَا طَيِّبٌ وَمَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِي لَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ مَثَلُ التَّمْرَةِ لَا رِيحَ لَهَا وَطَعْمُهَا حُلْوٌ وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ مَثَلُ الرَّيْحَانَةِ رِيحُهَا طَيِّبٌ وَطَعْمُهَا مُرٌّ وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ الَّذِي لَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ کَمَثَلِ الْحَنْظَلَةِ لَيْسَ لَهَا رِيحٌ وَطَعْمُهَا مُرٌّ
قتیبہ بن سعید، ابوکامل جحدری، ابوعوانہ، قتادہ، انس، حضرت ابوموسی اشعری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: مومن کے قرآن مجید پڑھنے کی مثال ترنج کی طرح ہے کہ اس کی خوشبو پاکیزہ اور ذائقہ خوشگوار ہے اور قرآن مجید نہ پڑھنے والے مومن کی مثال اس کھجور کی طرح ہے کہ جس میں خوشبو نہیں لیکن اس کا ذائقہ میٹھا ہے اور منافق کے قرآن پڑھنے کی مثال ریحان کی طرح ہے کہ اس کی خوشبو تو اچھی ہے اور اس کا ذائقہ کڑوا ہے اور منافق کے قرآن نہ پڑھنے کی مثال حنظلہ کی طرح ہے کہ جس میں خوشبو نہیں اور اس کا ذائقہ کڑوا ہے۔
Abu Musa al-Ashari reported Allahs Messenger ﷺ as saying: A believer who recites the Quran is like an orange whose fragrance is sweet and whose taste is sweet; a believer who does not recite the Quran is like a date which has no fragrance but has a sweet taste; and the hypocrite who recites the Quran is like a basil whose fragrance is sweet, but whose taste is bitter; and a hypocrite who does not recite the Quran is like the colocynth which has no fragrance and has a bitter taste.
قرآن مجید حفظ کرنے والوں کی فضلیت کے بیان میں
حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ عَنْ شُعْبَةَ کِلَاهُمَا عَنْ قَتَادَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ هَمَّامٍ بَدَلَ الْمُنَافِقِ الْفَاجِرِ
ہداب بن خالد، ہمام، ح، محمد بن مثنی، یحییٰ بن سعید، قتادہ اس سند کے ساتھ حضرت قتادہ ؓ سے یہ حدیث بھی اسی طرح نقل کی گئی ہے لیکن اس میں منافق کی جگہ فاجر کا لفظ ہے۔
This hadith has been narrated by Qatada with the same chain of transmitters but with one alteration that instead of the word:" hypocrite" (Munafiq), there it is" wicked" (fajir).
قرآن مجید کے ماہر اور اس کو اٹک اٹک کر پڑھنے والے کی فضلیت کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْغُبَرِيُّ جَمِيعًا عَنْ أَبِي عَوَانَةَ قَالَ ابْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَی عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَاهِرُ بِالْقُرْآنِ مَعَ السَّفَرَةِ الْکِرَامِ الْبَرَرَةِ وَالَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَيَتَتَعْتَعُ فِيهِ وَهُوَ عَلَيْهِ شَاقٌّ لَهُ أَجْرَانِ
قتیبہ بن سعید، محمد بن عبید غبری، ابوعوانہ، قتادہ، زرارہ بن اوفی، سعد بن ہشام، حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو آدمی قرآن مجید میں ماہر ہو وہ ان فرشتوں کے ساتھ ہے جو معزز اور بزرگی والے ہیں اور جو قرآن مجید اٹک اٹک کر پڑھتا ہے اور اسے پڑھنے میں دشواری پیش آتی ہے تو اس کے لئے دوہرا اجر ہے۔
Aisha reported Allahs Messenger ﷺ (as saying): One who is proficient in the Quran is associated with the noble, upright, recording angels; and he who falters in it, and finds it difficult for him, will have a double reward.
قرآن مجید کے ماہر اور اس کو اٹک اٹک کر پڑھنے والے کی فضلیت کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ سَعِيدٍ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتَوَائِيِّ کِلَاهُمَا عَنْ قَتَادَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ و قَالَ فِي حَدِيثِ وَکِيعٍ وَالَّذِي يَقْرَأُ وَهُوَ يَشْتَدُّ عَلَيْهِ لَهُ أَجْرَانِ
محمد بن مثنی، ابن ابی عدی، سعید، ح، ابوبکر بن ابی شیبہ، وکیع، ہشام دستوائی، حضرت قتادہ ؓ سے اس سند کے ساتھ یہ روایت بھی اسی طرح نقل کی گئی ہے۔
This hadith has been reported with the same chain of transmitters by Qatada except with this change:" He who finds it hard (to recite the Quran) will have a double reward."
سب سے بہتر قرآن پڑھنے والوں کا اپنے سے کم درجہ والوں کے سامنے قرآن مجید پڑھنے والوں کے استح کے بیان میں
حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأُبَيٍّ إِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي أَنْ أَقْرَأَ عَلَيْکَ قَالَ آللَّهُ سَمَّانِي لَکَ قَالَ اللَّهُ سَمَّاکَ لِي قَالَ فَجَعَلَ أُبَيٌّ يَبْکِي
ہداب بن خالد، ہمام، قتادہ، حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابی بن کعب ؓ سے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہیں قرآن مجید پڑھ کر سناؤں انہوں نے عرض کیا کہ کیا اللہ تعالیٰ نے میرا نام لے کر فرمایا ہے آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تیرا نام لے کر مجھے فرمایا ہے راوی نے کہا کہ حضرت ابی ؓ یہ سن کر رونے لگ پڑے۔
Anas reported Allahs Messenger ﷺ as saying to Ubayy bin Kab: Allah has commanded me to recite the Quran to you. He said: Did Allah mention me to you by name? He (the Holy Prophet) said: Allah made a mention of your name to me. (On hearing this) Ubayy bin Kab wept.
سب سے بہتر قرآن پڑھنے والوں کا اپنے سے کم درجہ والوں کے سامنے قرآن مجید پڑھنے والوں کے استح کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأُبَيِّ بْنِ کَعْبٍ إِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي أَنْ أَقْرَأَ عَلَيْکَ لَمْ يَکُنْ الَّذِينَ کَفَرُوا قَالَ وَسَمَّانِي لَکَ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَبَکَی
محمد بن مثنی، ابن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، قتادہ، حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابی بن کعب ؓ سے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا کہ میں تجھے (لَمْ يَکُنْ الَّذِينَ کَفَرُوا) پڑھ کر سناؤں حضرت ابی بن کعب ؓ نے عرض کیا کیا اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ سے میرا نام لیا ہے آپ ﷺ نے فرمایا ہاں حضرت ابی ؓ یہ سن کر رو پڑے۔
Anas reported Allahs Messenger ﷺ as saying to Ubayy bin Kab: Aliah has commanded me to recite to you:" Those who disbelieve were not..." (al-Quran, xcviii. 1). He said: Did He mention me by name? He (the Holy Prophet ﷺ said): Yes. Upon this he shed tears (of gratitude).
سب سے بہتر قرآن پڑھنے والوں کا اپنے سے کم درجہ والوں کے سامنے قرآن مجید پڑھنے والوں کے استح کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأُبَيٍّ بِمِثْلِهِ
یحییٰ بن حبیب حارثی، ابن الحارث، شعبہ، حضرت قتادہ ؓ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت انس ؓ سے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابی ؓ سے فرمایا باقی حدیث اسی طرح ہے۔
Qatada said: I heard Anas saying that the Messenger of Allah ﷺ said to Ubayy the same thing.
حافظ قرآن سے قرآن سننے کی درخواست کرنے اور قرآن مجید سنتے ہوئے رونے اور اس کے معنی پر غور کرنے کی فضلیت کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ جَمِيعًا عَنْ حَفْصٍ قَالَ أَبُو بَکْرٍ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَبِيدَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اقْرَأْ عَلَيَّ الْقُرْآنَ قَالَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَقْرَأُ عَلَيْکَ وَعَلَيْکَ أُنْزِلَ قَالَ إِنِّي أَشْتَهِي أَنْ أَسْمَعَهُ مِنْ غَيْرِي فَقَرَأْتُ النِّسَائَ حَتَّی إِذَا بَلَغْتُ فَکَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ کُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِکَ عَلَی هَؤُلَائِ شَهِيدًا رَفَعْتُ رَأْسِي أَوْ غَمَزَنِي رَجُلٌ إِلَی جَنْبِي فَرَفَعْتُ رَأْسِي فَرَأَيْتُ دُمُوعَهُ تَسِيلُ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، حفص بن غیاث، اعمش، ابراہیم، عبیدہ، حضرت عبداللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے فرمایا کہ مجھے قرآن پڑھ کر سناؤ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ! میں آپ ﷺ کو قرآن پڑھ کر سناؤں، حالانکہ قرآن تو آپ ﷺ پر نازل کیا گیا ہے آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں چاہتا ہوں کہ میں اپنے علاوہ کسی اور سے قرآن مجید سنوں، میں نے سورت النسا پڑھنی شروع کردی یہاں تک کہ جب میں اس (فَکَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ کُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِکَ عَلَی هَؤُلَاءِ شَهِيدًا) پر پہنچا تو میں نے اپنا سر اٹھایا تو میں نے دیکھا کہ آپ ﷺ کے آنسو جاری ہیں۔
Abdullah (b. Masud) reported: The Messenger of Allah ﷺ (may peace be upon (him) asked me to recite the Quran. He said: Messenger of Allah, (how) should I recite to you whereas it has been sent down to you? He (the Holy Prophet) said: I desire to hear it from someone else. So I recited Surat al-Nisa till I reached the verse: How then shall it be when We shall bring from every people a witness and bring you against them as a witness?" (verse 41). I lifted my head or a person touched me in my side, and so I lifted my head and saw his tears falling (from the Holy Prophets eyes).