عمل پر دوام کی فضیلت کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلَمَةَ يُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ أَيُّ الْعَمَلِ أَحَبُّ إِلَی اللَّهِ قَالَ أَدْوَمُهُ وَإِنْ قَلَّ
محمد بن مثنی، محمد بن جعفر، شعبہ، سعد بن ابراہیم، حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا کہ اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ کونسا عمل ہے آپ ﷺ نے فرمایا جو ہمیشہ ہو اگرچہ تھوڑا ہی ہو۔
Aisha is reported to have said that the Messenger of Allah ﷺ was asked about the act most pleasing to Allah. He replied: That which is done continuously, even if it is small.
عمل پر دوام کی فضیلت کے بیان میں
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ سَأَلْتُ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ قَالَ قُلْتُ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ کَيْفَ کَانَ عَمَلُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلْ کَانَ يَخُصُّ شَيْئًا مِنْ الْأَيَّامِ قَالَتْ لَا کَانَ عَمَلُهُ دِيمَةً وَأَيُّکُمْ يَسْتَطِيعُ مَا کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَطِيعُ
زہیر بن حرب، اسحاق بن ابراہیم، جریر، منصور، ابراہیم، علقمہ فرماتے ہیں کہ میں نے ام المومنین حضرت عائشہ ؓ سے پوچھا کہ رسول اللہ کے عمل کا طریقہ کیا تھا کیا دنوں میں کسی دن میں کوئی مخصوص عمل فرماتے تھے؟ انہوں نے فرمایا نہیں! آپ ﷺ تو ہمیشہ عمل فرماتے تھے اور تم میں سے کون ایسی طاقت رکھتا ہے جس کی رسول اللہ ﷺ طاقت رکھتے تھے۔
Alqama reported: I asked Aisha, the mother of the believers, saying O mother of the believers, how did the Messenger of Allah ﷺ act? Did he choose a particular act for a particular day? She said: No. He act was continuous, and who amongst you is capable of doing what the Messenger of Allah ﷺ did?
عمل پر دوام کی فضیلت کے بیان میں
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ سَعِيدٍ أَخْبَرَنِي الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَبُّ الْأَعْمَالِ إِلَی اللَّهِ تَعَالَی أَدْوَمُهَا وَإِنْ قَلَّ قَالَ وَکَانَتْ عَائِشَةُ إِذَا عَمِلَتْ الْعَمَلَ لَزِمَتْهُ
ابن نمیر، سعد بن سعید، قاسم بن محمد، حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ کو اعمال میں سب سے پسندیدہ ترین وہ عمل ہے کہ جو ہمیشہ ہو اگرچہ تھوڑا ہی ہو اور حضرت عائشہ ؓ جب بھی کوئی عمل کرتی تھیں تو پھر اسے اپنے لئے لازم کرلیتی تھیں۔
Aisha reported Allahs Messenger ﷺ as saying: The acts most pleasing to Allah are those which are done continuously, even if they are small. and when Aisha did any act she did it continuously.
عمل پر دوام کی فضیلت کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ح و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ وَحَبْلٌ مَمْدُودٌ بَيْنَ سَارِيَتَيْنِ فَقَالَ مَا هَذَا قَالُوا لِزَيْنَبَ تُصَلِّي فَإِذَا کَسِلَتْ أَوْ فَتَرَتْ أَمْسَکَتْ بِهِ فَقَالَ حُلُّوهُ لِيُصَلِّ أَحَدُکُمْ نَشَاطَهُ فَإِذَا کَسِلَ أَوْ فَتَرَ قَعَدَ وَفِي حَدِيثِ زُهَيْرٍ فَلْيَقْعُدْ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابن علیہ، زہیر بن حرب، اسماعیل، عبدالعزیز بن صہیب، انس فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مسجد میں داخل ہوئے اور ایک رسی دو ستونوں کے درمیان لٹکی ہوئی دیکھی، آپ ﷺ نے فرمایا یہ کیا ہے؟ صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا کہ حضرت زینب ؓ کی ہے وہ نماز پڑھتی رہتی ہیں تو جب انہیں سستی ہوتی ہے یا وہ تھک جاتی ہیں تو اس رسی کو پکڑ لیتی ہیں آپ نے فرمایا اس کو کھول دو تم میں سے ہر ایک کو نماز اپنے تازہ دم ہونے کے وقت پڑھنی چاہیے پھر جب سستی یا تھکاوٹ ہوجائے تو وہ بیٹھ جائے اور زہیر کی حدیث میں ہے کہ اسے چاہیے کہ وہ بیٹھ جائے۔
Anas reported that the Messenger of Allah ﷺ entered the mosque (and he found) a rope tied between the two pillars; so he said: What is this? They said: It is for Zainab. She prays and when she slackens or feels tired she holds it. Upon this he (the Holy Prophet) said: Untie it. Let one pray as long as one feels fresh but when one slackens or becomes tired one must stop it. (And in the hadith transmitted by Zuhair it is:" He should sit down." )
عمل پر دوام کی فضیلت کے بیان میں
حَدَّثَنَاه شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
شیبان بن فروخ، عبدالوارث، عبدالعزیز، حضرت انس ؓ نے نبی ﷺ سے اسی حدیث کی طرح نقل فرمائی۔
A hadith like this has been narrated from the Apostle of Allah ﷺ on the authority of Anas by another chain of transmitters.
عمل پر دوام کی فضیلت کے بیان میں
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی وَمُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ عَنْ يُونُسَ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ الْحَوْلَائَ بِنْتَ تُوَيْتِ بْنِ حَبِيبِ بْنِ أَسَدِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّی مَرَّتْ بِهَا وَعِنْدَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ هَذِهِ الْحَوْلَائُ بِنْتُ تُوَيْتٍ وَزَعَمُوا أَنَّهَا لَا تَنَامُ اللَّيْلَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَنَامُ اللَّيْلَ خُذُوا مِنْ الْعَمَلِ مَا تُطِيقُونَ فَوَاللَّهِ لَا يَسْأَمُ اللَّهُ حَتَّی تَسْأَمُوا
حرملہ بن یحیی، محمد بن سلمہ مرادی، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، عروہ بن زبیر فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہ ؓ نے خبر دی کہ حولا بنت تویب بن حبیب بن اسد بن عبدالعزی ؓ ان کے پاس سے گزریں اور رسول اللہ ﷺ بھی ان کے پاس تشریف فرما تھے، میں نے عرض کیا کہ اس حولا بنت ثویب کے متعلق لوگوں کا خیال ہے کہ وہ رات کو نہیں سوتیں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا رات کو نہیں سوتیں؟ تم اتنا عمل کرو جس کی تم طاقت رکھتی ہو اللہ کی قسم اللہ ثواب عطا فرمانے سے نہیں تھکے گا، یہاں تک کہ تم تھک جاؤ گی۔
Urwa bin Zubair reported that Aisha, the wife of the Apostle of Allah ﷺ , told him that (once) Haula bint Tuwait bin Habib bin Asad bin Abdul Uzzi passed by her (at the time) when the Messenger of Allah ﷺ was with her. I (Aisha) said: It Is Haula bint Tuwait and they say that she does not sleep at night. Upon this the Messenger of Allah ﷺ said: (Oh) she does not sleep at night! Choose an act which you are capable of doing (continuously). By Allah, Allah would not grow weary, but you will grow weary.
عمل پر دوام کی فضیلت کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ح و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَاللَّفْظ لَهُ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ عَنْ هِشَامٍ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدِي امْرَأَةٌ فَقَالَ مَنْ هَذِهِ فَقُلْتُ امْرَأَةٌ لَا تَنَامُ تُصَلِّي قَالَ عَلَيْکُمْ مِنْ الْعَمَلِ مَا تُطِيقُونَ فَوَاللَّهِ لَا يَمَلُّ اللَّهُ حَتَّی تَمَلُّوا وَکَانَ أَحَبَّ الدِّينِ إِلَيْهِ مَا دَاوَمَ عَلَيْهِ صَاحِبُهُ وَفِي حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ أَنَّهَا امْرَأَةٌ مِنْ بَنِي أَسَدٍ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، ابواسامہ، ہشام بن عروہ، زہیر بن حرب، یحییٰ بن سعید، ہشام، حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ میرے پاس تشریف لائے اور ایک عورت میرے پاس بیٹھی ہوئی تھی تو آپ ﷺ نے فرمایا یہ عورت کون ہے؟ میں نے کہا یہ ایک ایسی عورت ہے جو سوتی نہیں ہے نماز پڑھتی رہتی ہے، آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم پر اتنا عمل لازم ہے جس کی تم طاقت رکھتی ہو، اللہ کی قسم اللہ تعالیٰ ثواب عطا فرمانے سے نہیں تھکتا یہاں تک کہ تم تھک جاتی ہو اور آپ ﷺ کو دین میں سب سے زیادہ پسندیدہ وہی عمل تھا کہ جس پر دوام ہو اور ہمیشہ ہو اور ابواسامہ کی حدیث میں ہے کہ وہ عورت قبیلہ بنی اسد کی عورت تھی۔
Aisha said: The Messenger of Allah ﷺ came to me when a woman was sitting with me. He said: Who is she? I said: She is a woman who does not sleep but prays. He said: Do such acts which you are capable of doing. By Allah, Allah does not grow weary but you will grow weary. The religious act most pleasing to Him is one the doer of which does it continuously. (And in the hadith transmitted by Abu Usama [the words are]:" She was a woman from Banu Asad." )
نماز یا قرآن مجید کی تلاوت یا ذکر کے دوران اونگھنے یا سستی غالب آنے پر اس کے جانے تک سونے یا بیٹھے رہنے کے حکم کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي ح و حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ جَمِيعًا عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ح و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَاللَّفْظُ لَهُ عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا نَعَسَ أَحَدُكُمْ فِي الصَّلَاةِ فَلْيَرْقُدْ حَتَّى يَذْهَبَ عَنْهُ النَّوْمُ فَإِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا صَلَّى وَهُوَ نَاعِسٌ لَعَلَّهُ يَذْهَبُ يَسْتَغْفِرُ فَيَسُبُّ نَفْسَهُ
ابوبکر بن ابی شیبہ، عبداللہ بن نمیر، ابوکریب، ابواسامہ، ہشام بن عروہ۔ قتیبہ بن سعید، مالک بن انس، ہشام بن عروہ، حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ جب تم میں سے کسی آدمی کو اونگھ آجائے تو اسے چاہیے کہ وہ سو جائے یہاں تک کہ اس کی نیند اس سے جاتی رہے، اس لئے کہ جب تم میں سے کسی کو نماز کی حالت میں اونگھ آتی ہے تو ہوسکتا ہے کہ وہ استغفار کرنے کی بجائے اپنے آپ ہی کو برا کہنے لگ جائے۔
Aisha reported Allahs Apostle ﷺ as saying: When anyone amongst you dozes in prayer, he should sleep, till sleep is gone, for when one of you prays while dozing he does not know whether he may be asking pardon or vilifying himself.
نماز یا قرآن مجید کی تلاوت یا ذکر کے دوران اونگھنے یا سستی غالب آنے پر اس کے جانے تک سونے یا بیٹھے رہنے کے حکم کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ عَنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ أَحَدُکُمْ مِنْ اللَّيْلِ فَاسْتَعْجَمَ الْقُرْآنُ عَلَی لِسَانِهِ فَلَمْ يَدْرِ مَا يَقُولُ فَلْيَضْطَجِعْ
محمد بن رافع، عبدالرزاق، معمر، ہمام بن منبہ، ابوہریرہ، حضرت ابوہریرہ رسول اللہ ﷺ سے نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی آدمی رات کو نماز کے لئے کھڑا ہو تو اس کی زبان قرآن مجید پڑھنے میں اٹک رہی ہو اور وہ نہ سمجھ رہا ہو کہ وہ کیا پڑھ رہا ہے تو اسے چاہئے کہ وہ لیٹ جائے۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger ﷺ as saying: When any one of you gets up at night (for prayer) and his tongue falters in (the recitation) of the Quran, and he does not know what he is reciting, he should go to sleep.
قرآن مجید یاد رکھنے کے حکم اور یہ کہنے کی ممانعت کے بیان میں کہ میں فلاں آیت بھول گیا اور آیت بھلا دی گئی کہنے کے جواز میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ رَجُلًا يَقْرَأُ مِنْ اللَّيْلِ فَقَالَ يَرْحَمُهُ اللَّهُ لَقَدْ أَذْکَرَنِي کَذَا وَکَذَا آيَةً کُنْتُ أَسْقَطْتُهَا مِنْ سُورَةِ کَذَا وَکَذَا
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، ابواسامہ، ہشام اپنے والد سے، حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ رات کو ایک آدمی کا قرآن مجید پڑھنا سنا کرتے تھے آپ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ اس پر رحم فرمائے کہ اس نے مجھے فلاں فلاں آیت یاد دلا دی کہ جسے میں فلاں سورت سے چھوڑ دیتا تھا۔
Aisha reported that the Apostle of Allah ﷺ heard a person reciting the Quran at night. Upon this he said: May Allah show mercy to him; he has reminded me of such and such a verse which I had missed in such and such a surah.
قرآن مجید یاد رکھنے کے حکم اور یہ کہنے کی ممانعت کے بیان میں کہ میں فلاں آیت بھول گیا اور آیت بھلا دی گئی کہنے کے جواز میں
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ وَأَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ کَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَمِعُ قِرَائَةَ رَجُلٍ فِي الْمَسْجِدِ فَقَالَ رَحِمَهُ اللَّهُ لَقَدْ أَذْکَرَنِي آيَةً کُنْتُ أُنْسِيتُهَا
ابن نمیر، عبدہ، ابومعاویہ، ہشام، حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ مسجد میں ایک آدمی کا قرآن پڑھنا سنا کرتے تھے آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اس پر رحم فرمائے کہ اس نے مجھے ایک آیت یاد دلا دی جسے مجھے بھلا دیا گیا تھا۔
Aisha reported that the Apostle of Allah ﷺ listened to the recitation of the Quran by a man in the mosque. Thereupon he said: May Allah have mercy upon him; be reminded me of the verse which I had been made to forget.
قرآن مجید یاد رکھنے کے حکم اور یہ کہنے کی ممانعت کے بیان میں کہ میں فلاں آیت بھول گیا اور آیت بھلا دی گئی کہنے کے جواز میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّمَا مَثَلُ صَاحِبِ الْقُرْآنِ کَمَثَلِ الْإِبِلِ الْمُعَقَّلَةِ إِنْ عَاهَدَ عَلَيْهَا أَمْسَکَهَا وَإِنْ أَطْلَقَهَا ذَهَبَتْ
یحییٰ بن یحیی، مالک، نافع، ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ قرآن مجید پڑھنے والے کی مثال اس اونٹ کی طرح ہے جو بندھا ہوا ہو کہ اگر اس کے مالک نے اس کا خیال رکھا ہو تو وہ رک جائے اور اگر اسے چھوڑ دے تو وہ چلا جائے۔
Abdullah bin Umar reported Allahs Messenger ﷺ as saying: The example of a man who has memorised the Quran is like that of a hobbled camel. If he remained vigilant, he would be able to retain it (with him), and if he loosened the hobbled camel it would escape.
قرآن مجید یاد رکھنے کے حکم اور یہ کہنے کی ممانعت کے بیان میں کہ میں فلاں آیت بھول گیا اور آیت بھلا دی گئی کہنے کے جواز میں
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ قَالُوا حَدَّثَنَا يَحْيَی وَهُوَ الْقَطَّانُ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي کُلُّهُمْ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَيُّوبَ ح و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَقَ الْمُسَيَّبِيُّ حَدَّثَنَا أَنَسٌ يَعْنِي ابْنَ عِيَاضٍ جَمِيعًا عَنْ مُوسَی بْنِ عُقْبَةَ کُلُّ هَؤُلَائِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَی حَدِيثِ مَالِکٍ وَزَادَ فِي حَدِيثِ مُوسَی بْنِ عُقْبَةَ وَإِذَا قَامَ صَاحِبُ الْقُرْآنِ فَقَرَأَهُ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ ذَکَرَهُ وَإِذَا لَمْ يَقُمْ بِهِ نَسِيَهُ
زہیر بن حرب، محمد بن مثنی، عبیداللہ بن سعید، یحیی، ح، ابوبکر ابن ابی شیہ، ابوخالد احمر، ح، ابن نمیر، عبیداللہ، ح، ابن ابی عمر، عبدالرزاق، معمر، ایوب، ح، قتیبہ بن سعید، یعقوب، ح، محمد بن اسحاق مسیبی، ابن عیاض، موسیٰ بن عقبہ، نافع، ابن عمر اس سند کے ساتھ یہ روایت بھی اسی طرح نقل کی گئی ہے لیکن اس میں اتنا زائد ہے کہ جب قرآن پڑھنے والا اسے رات دن پڑھتا رہے تو اسے یاد رہتا ہے اور جب اسے نہ پڑھے تو وہ اسے بھول جاتا ہے۔
This hadith has been narrated by Ibn Umar from the Apostle of Allah ﷺ , but in the hadith transmitted by Musa bin Uqba, this addition is made:" When one who had committed the Quran to memory (or who is familiar with it) gets up (for night prayer) and recites it night and day, it remains fresh in his mind, but if he does not get up (for prayer and thus does not recite it) he forgets it."
قرآن مجید یاد رکھنے کے حکم اور یہ کہنے کی ممانعت کے بیان میں کہ میں فلاں آیت بھول گیا اور آیت بھلا دی گئی کہنے کے جواز میں
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِئْسَمَا لِأَحَدِهِمْ يَقُولُ نَسِيتُ آيَةَ کَيْتَ وَکَيْتَ بَلْ هُوَ نُسِّيَ اسْتَذْکِرُوا الْقُرْآنَ فَلَهُوَ أَشَدُّ تَفَصِّيًا مِنْ صُدُورِ الرِّجَالِ مِنْ النَّعَمِ بِعُقُلِهَا
زہیر بن حرب، عثمان بن ابی شیبہ، اسحاق بن ابراہیم، جریر، منصور، ابو وائل، حضرت عبداللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ برا ہو اس کا تم میں سے جو کوئی یہ کہے کہ میں فلاں فلاں بھول گیا بلکہ وہ بھلا دیا گیا قرآن مجید کو یاد رکھو اور اس کا خیال رکھو کیونکہ وہ لوگوں کے سینوں میں سے ان چار پایوں سے زیادہ دوڑنے والا ہے جن کا ایک پاؤں بندھا ہوا ہے۔
Abdullah reported Allahs Messenger ﷺ as saying: What a wretched person is he amongst them who says: I have forgotten such and such a verse. (He should instead of using this expression say): I have been made to forget it. Try to remember the Quran for it is more apt to escape from mens minds than a hobbled camel.
قرآن مجید یاد رکھنے کے حکم اور یہ کہنے کی ممانعت کے بیان میں کہ میں فلاں آیت بھول گیا اور آیت بھلا دی گئی کہنے کے جواز میں
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ح و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَاللَّفْظُ لَهُ قَالَ أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ شَقِيقٍ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ تَعَاهَدُوا هَذِهِ الْمَصَاحِفَ وَرُبَّمَا قَالَ الْقُرْآنَ فَلَهُوَ أَشَدُّ تَفَصِّيًا مِنْ صُدُورِ الرِّجَالِ مِنْ النَّعَمِ مِنْ عُقُلِهِ قَالَ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَقُلْ أَحَدُکُمْ نَسِيتُ آيَةَ کَيْتَ وَکَيْتَ بَلْ هُوَ نُسِّيَ
ابن نمیر، ابومعاویہ، ح، یحییٰ بن یحیی، ابومعاویہ، اعمش، شقیق فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ ؓ نے فرمایا کہ قرآن مجید کا خیال رکھو کیونکہ وہ لوگوں کے سینوں میں سے ان چوپایوں سے زیادہ بھاگنے والا ہے جن کا ایک پاؤں بندھا ہوا ہو اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی یہ نہ کہے کہ میں فلاں فلاں آیت کو بہت بھول گیا بلکہ وہ یہ کہے کہ مجھے بھلا دیا گیا۔
Abdullah is reported to have said: Keep refreshing your knowledge of the sacred books (or always renew your knowledge of these sacred books) and sometimes he would mention the Quran for it is more apt to escape from mens minds than animals which are hobbled, and the Messenger of Allah ﷺ said: None of you should say: I forgot such and such a verse, but he has been made to forget.
قرآن مجید یاد رکھنے کے حکم اور یہ کہنے کی ممانعت کے بیان میں کہ میں فلاں آیت بھول گیا اور آیت بھلا دی گئی کہنے کے جواز میں
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ حَدَّثَنِي عَبْدَةُ بْنُ أَبِي لُبَابَةَ عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ بِئْسَمَا لِلرَّجُلِ أَنْ يَقُولَ نَسِيتُ سُورَةَ کَيْتَ وَکَيْتَ أَوْ نَسِيتُ آيَةَ کَيْتَ وَکَيْتَ بَلْ هُوَ نُسِّيَ
محمد بن حاتم، محمد بن بکر، ابن جریج، عبدہ ابن ابی لبابہ، شقیق بن سلمہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے سنا وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ کسی آدمی کے لئے یہ کہنا برا ہے کہ میں فلاں فلاں سورت بھول گیا یا فلاں فلاں آیت بھول گیا بلکہ وہ یہ کہے کہ مجھے بھلا دیا گیا۔
Ibn Masud reported Allahs Messenger ﷺ as saying: Wretched is the man who says: I forgot such and such a sura, or I forget such and such a verse, but he has been made to forget.
قرآن مجید یاد رکھنے کے حکم اور یہ کہنے کی ممانعت کے بیان میں کہ میں فلاں آیت بھول گیا اور آیت بھلا دی گئی کہنے کے جواز میں
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَرَّادٍ الْأَشْعَرِيُّ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ بُرَيْدٍ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَی عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ تَعَاهَدُوا هَذَا الْقُرْآنَ فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَهُوَ أَشَدُّ تَفَلُّتًا مِنْ الْإِبِلِ فِي عُقُلِهَا وَلَفْظُ الْحَدِيثِ لِابْنِ بَرَّادٍ
عبداللہ بن براد اشعری، ابوکریب، ابواسامہ، برید، ابوبردہ، حضرت ابوموسی فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ قرآن مجید کا خیال رکھو قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ وقدرت میں محمد ﷺ کی جان ہے یہ قرآن مجید اونٹ سے زیادہ بھاگنے والا ہے اپنے باندھنے سے۔
Abu Musa al-Ashari reported Allahs Apostle ﷺ as saying: Keep refreshing your knowledge of the Quran, for I swear by Him in Whose Hand is the life of Mohammad that it is more liable to escape than camels which are hobbled.
خوش الحانی کے ساتھ قرآن مجید پڑھنے کے استح کے بیان میں
حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا أَذِنَ اللَّهُ لِشَيْئٍ مَا أَذِنَ لِنَبِيٍّ يَتَغَنَّی بِالْقُرْآنِ
عمرو ناقد، زہیر بن حرب، سفیان بن عیینہ، زہری، ابوسلمہ، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کسی چیز کو ایسے پیار اور محبت سے نہیں سنتا جتنا کہ وہ اس نبی کی آواز کو کہ جو خوش الحانی کے ساتھ قرآن پڑھے۔
Abu Hurairah (RA) reported this directly from the Messenger of Allah ﷺ : God has not listened to anything as He listens to a Prophet ﷺ reciting the Quran in a sweet voice.
خوش الحانی کے ساتھ قرآن مجید پڑھنے کے استح کے بیان میں
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ ح و حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرٌو کِلَاهُمَا عَنْ ابْنِ شِهَابٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ قَالَ کَمَا يَأْذَنُ لِنَبِيٍّ يَتَغَنَّی بِالْقُرْآنِ
حرملہ بن یحیی، ابن وہب، یونس، ح، یونس، عبدالاعلی، ابن وہب، عمرو، حضرت ابن شہاب کی سند کے ساتھ اس حدیث میں ہے کہ جس طرح اس نبی سے سنتا ہے کہ جو خوش الحانی کے ساتھ قرآن پڑھے۔
This hadith has been narrated by Ibn Shihab with the same chain of transmitters with words:" As He listens to a Prophet ﷺ reciting the Quran in a sweet voice."
خوش الحانی کے ساتھ قرآن مجید پڑھنے کے استح کے بیان میں
حَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ الْحَکَمِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَهُوَ ابْنُ الْهَادِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا أَذِنَ اللَّهُ لِشَيْئٍ مَا أَذِنَ لِنَبِيٍّ حَسَنِ الصَّوْتِ يَتَغَنَّی بِالْقُرْآنِ يَجْهَرُ بِهِ
بشر بن حکم، عبدالعزیز بن محمد، یزید بن الہاد، محمد بن ابراہیم، ابوسلمہ، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالیٰ اس طرح کسی چیز کو نہیں سنتا جس طرح کہ اس نبی کی آواز کو جو خوش الحانی اور بلند آواز سے پڑھے۔
Abu Hurairah (RA) is reported to have heard Allahs Messenger ﷺ as saying: Allah does not listen to anything, (more approvingly) as He listens to a Prophet ﷺ reciting loudly the Quran in a sweet voice.