ان اوقات کے بیان میں کہ جن میں نماز پڑھنے سے منع کیا گیا ہے
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ ابْنِ إِسْحَقَ قَالَ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ خَيْرِ بْنِ نُعَيْمٍ الْحَضْرَمِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هُبَيْرَةَ السَّبَائِيِّ وَکَانَ ثِقَةً عَنْ أَبِي تَمِيمٍ الْجَيْشَانِيِّ عَنْ أَبِي بَصْرَةَ الْغِفَارِيِّ قَالَ صَلَّی بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَصْرَ بِمِثْلِهِ
زہیر بن حرب، یعقوب بن ابراہیم، ابن اسحاق، برید بن ابی حبیب، خیربن نعیم حضرمی، عبداللہ بن ہبیر سبائی، ابوتمیم جیشانی، ابوبصرہ غفاری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمارے ساتھ عصر کی نماز ادا فرمائی باقی حدیث مبارکہ اسی طرح ہے۔
This hadith has been narrated by Abu Basrahh Ghifari through another chain of transmitters.
ان اوقات کے بیان میں کہ جن میں نماز پڑھنے سے منع کیا گیا ہے
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ عَنْ مُوسَی بْنِ عُلَيٍّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ يَقُولُا ثَلَاثُ سَاعَاتٍ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَانَا أَنْ نُصَلِّيَ فِيهِنَّ أَوْ أَنْ نَقْبُرَ فِيهِنَّ مَوْتَانَا حِينَ تَطْلُعُ الشَّمْسُ بَازِغَةً حَتَّی تَرْتَفِعَ وَحِينَ يَقُومُ قَائِمُ الظَّهِيرَةِ حَتَّی تَمِيلَ الشَّمْسُ وَحِينَ تَضَيَّفُ الشَّمْسُ لِلْغُرُوبِ حَتَّی تَغْرُبَ
یحییٰ بن یحیی، عبداللہ بن وہب، موسیٰ بن علی، حضرت عقبہ بن عامر جہنی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمیں تین اوقات سے منع فرمایا کرتے تھے کہ (ان تین اوقات میں) نماز نہ پڑھیں یا ان میں اپنے مردوں کو دفن کریں ایک یہ کہ سورج کے نکلنے تک جب تک کہ سورج بلند نہ ہوجائے دوسرے یہ کہ ٹھیک دوپہر کے وقت جب تک زوال نہ ہوجائے اور تیسرے سورج کے غروب ہونے تک جب تک کہ وہ اچھی طرح نہ غروب ہوجائے۔
Uqba bin Amir said: There were the times at which Allahs Messenger ﷺ forbade us to pray, or bury our dead: When the sun begins to rise till it is fully up, when the sun is at its height at midday till it passes over the meridian, and when the sun draws near to setting till it sets.
عمر و بن عبسہ کے اسلام لانے کا بیان
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمَعْقِرِيُّ حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا عِکْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنَا شَدَّادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَبُو عَمَّارٍ وَيَحْيَی بْنُ أَبِي کَثِيرٍ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ عِکْرِمَةُ وَلَقِيَ شَدَّادٌ أَبَا أُمَامَةَ وَوَاثِلَةَ وَصَحِبَ أَنَسًا إِلَی الشَّامِ وَأَثْنَی عَلَيْهِ فَضْلًا وَخَيْرًا عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ قَالَ عَمْرُو بْنُ عَبَسَةَ السُّلَمِيُّ کُنْتُ وَأَنَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ أَظُنُّ أَنَّ النَّاسَ عَلَی ضَلَالَةٍ وَأَنَّهُمْ لَيْسُوا عَلَی شَيْئٍ وَهُمْ يَعْبُدُونَ الْأَوْثَانَ فَسَمِعْتُ بِرَجُلٍ بِمَکَّةَ يُخْبِرُ أَخْبَارًا فَقَعَدْتُ عَلَی رَاحِلَتِي فَقَدِمْتُ عَلَيْهِ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسْتَخْفِيًا جُرَئَائُ عَلَيْهِ قَوْمُهُ فَتَلَطَّفْتُ حَتَّی دَخَلْتُ عَلَيْهِ بِمَکَّةَ فَقُلْتُ لَهُ مَا أَنْتَ قَالَ أَنَا نَبِيٌّ فَقُلْتُ وَمَا نَبِيٌّ قَالَ أَرْسَلَنِي اللَّهُ فَقُلْتُ وَبِأَيِّ شَيْئٍ أَرْسَلَکَ قَالَ أَرْسَلَنِي بِصِلَةِ الْأَرْحَامِ وَکَسْرِ الْأَوْثَانِ وَأَنْ يُوَحَّدَ اللَّهُ لَا يُشْرَکُ بِهِ شَيْئٌ قُلْتُ لَهُ فَمَنْ مَعَکَ عَلَی هَذَا قَالَ حُرٌّ وَعَبْدٌ قَالَ وَمَعَهُ يَوْمَئِذٍ أَبُو بَکْرٍ وَبِلَالٌ مِمَّنْ آمَنَ بِهِ فَقُلْتُ إِنِّي مُتَّبِعُکَ قَالَ إِنَّکَ لَا تَسْتَطِيعُ ذَلِکَ يَوْمَکَ هَذَا أَلَا تَرَی حَالِي وَحَالَ النَّاسِ وَلَکِنْ ارْجِعْ إِلَی أَهْلِکَ فَإِذَا سَمِعْتَ بِي قَدْ ظَهَرْتُ فَأْتِنِي قَالَ فَذَهَبْتُ إِلَی أَهْلِي وَقَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَکُنْتُ فِي أَهْلِي فَجَعَلْتُ أَتَخَبَّرُ الْأَخْبَارَ وَأَسْأَلُ النَّاسَ حِينَ قَدِمَ الْمَدِينَةَ حَتَّی قَدِمَ عَلَيَّ نَفَرٌ مِنْ أَهْلِ يَثْرِبَ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةَ فَقُلْتُ مَا فَعَلَ هَذَا الرَّجُلُ الَّذِي قَدِمَ الْمَدِينَةَ فَقَالُوا النَّاسُ إِلَيْهِ سِرَاعٌ وَقَدْ أَرَادَ قَوْمُهُ قَتْلَهُ فَلَمْ يَسْتَطِيعُوا ذَلِکَ فَقَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَعْرِفُنِي قَالَ نَعَمْ أَنْتَ الَّذِي لَقِيتَنِي بِمَکَّةَ قَالَ فَقُلْتُ بَلَی فَقُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَخْبِرْنِي عَمَّا عَلَّمَکَ اللَّهُ وَأَجْهَلُهُ أَخْبِرْنِي عَنْ الصَّلَاةِ قَالَ صَلِّ صَلَاةَ الصُّبْحِ ثُمَّ أَقْصِرْ عَنْ الصَّلَاةِ حَتَّی تَطْلُعَ الشَّمْسُ حَتَّی تَرْتَفِعَ فَإِنَّهَا تَطْلُعُ حِينَ تَطْلُعُ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ وَحِينَئِذٍ يَسْجُدُ لَهَا الْکُفَّارُ ثُمَّ صَلِّ فَإِنَّ الصَّلَاةَ مَشْهُودَةٌ مَحْضُورَةٌ حَتَّی يَسْتَقِلَّ الظِّلُّ بِالرُّمْحِ ثُمَّ أَقْصِرْ عَنْ الصَّلَاةِ فَإِنَّ حِينَئِذٍ تُسْجَرُ جَهَنَّمُ فَإِذَا أَقْبَلَ الْفَيْئُ فَصَلِّ فَإِنَّ الصَّلَاةَ مَشْهُودَةٌ مَحْضُورَةٌ حَتَّی تُصَلِّيَ الْعَصْرَ ثُمَّ أَقْصِرْ عَنْ الصَّلَاةِ حَتَّی تَغْرُبَ الشَّمْسُ فَإِنَّهَا تَغْرُبُ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ وَحِينَئِذٍ يَسْجُدُ لَهَا الْکُفَّارُ قَالَ فَقُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ فَالْوُضُوئَ حَدِّثْنِي عَنْهُ قَالَ مَا مِنْکُمْ رَجُلٌ يُقَرِّبُ وَضُوئَهُ فَيَتَمَضْمَضُ وَيَسْتَنْشِقُ فَيَنْتَثِرُ إِلَّا خَرَّتْ خَطَايَا وَجْهِهِ وَفِيهِ وَخَيَاشِيمِهِ ثُمَّ إِذَا غَسَلَ وَجْهَهُ کَمَا أَمَرَهُ اللَّهُ إِلَّا خَرَّتْ خَطَايَا وَجْهِهِ مِنْ أَطْرَافِ لِحْيَتِهِ مَعَ الْمَائِ ثُمَّ يَغْسِلُ يَدَيْهِ إِلَی الْمِرْفَقَيْنِ إِلَّا خَرَّتْ خَطَايَا يَدَيْهِ مِنْ أَنَامِلِهِ مَعَ الْمَائِ ثُمَّ يَمْسَحُ رَأْسَهُ إِلَّا خَرَّتْ خَطَايَا رَأْسِهِ مِنْ أَطْرَافِ شَعْرِهِ مَعَ الْمَائِ ثُمَّ يَغْسِلُ قَدَمَيْهِ إِلَی الْکَعْبَيْنِ إِلَّا خَرَّتْ خَطَايَا رِجْلَيْهِ مِنْ أَنَامِلِهِ مَعَ الْمَائِ فَإِنْ هُوَ قَامَ فَصَلَّی فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَی عَلَيْهِ وَمَجَّدَهُ بِالَّذِي هُوَ لَهُ أَهْلٌ وَفَرَّغَ قَلْبَهُ لِلَّهِ إِلَّا انْصَرَفَ مِنْ خَطِيئَتِهِ کَهَيْئَتِهِ يَوْمَ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ فَحَدَّثَ عَمْرُو بْنُ عَبَسَةَ بِهَذَا الْحَدِيثِ أَبَا أُمَامَةَ صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ أَبُو أُمَامَةَ يَا عَمْرَو بْنَ عَبَسَةَ انْظُرْ مَا تَقُولُ فِي مَقَامٍ وَاحِدٍ يُعْطَی هَذَا الرَّجُلُ فَقَالَ عَمْرٌو يَا أَبَا أُمَامَةَ لَقَدْ کَبِرَتْ سِنِّي وَرَقَّ عَظْمِي وَاقْتَرَبَ أَجَلِي وَمَا بِي حَاجَةٌ أَنْ أَکْذِبَ عَلَی اللَّهِ وَلَا عَلَی رَسُولِ اللَّهِ لَوْ لَمْ أَسْمَعْهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا حَتَّی عَدَّ سَبْعَ مَرَّاتٍ مَا حَدَّثْتُ بِهِ أَبَدًا وَلَکِنِّي سَمِعْتُهُ أَکْثَرَ مِنْ ذَلِکَ
احمد بن جعفر معقری، نضر بن محمد، عکرمہ بن عمار، شداد بن عبداللہ، ابوعمار، یحییٰ بن ابی کثیر، ابوامامہ، واثلہ، انس، عمرو بن عبسہ فرماتے ہیں کہ زمانہ جاہلیت میں خیال کرتا تھا کہ لوگ گمراہی میں مبتلا ہیں اور وہ کسی راستے پر نہیں ہیں اور وہ سب لوگ بتوں کی پوجا پاٹ کرتے ہیں میں نے ایک آدمی کے بارے میں سنا کہ وہ مکہ میں بہت سی خبریں بیان کرتا ہے تو میں اپنی سواری پر بیٹھا اور ان کی خدمت میں حاضر ہوا یہ تو رسول اللہ ﷺ ہیں اور آپ ﷺ چھپ کر رہ رہے ہیں کیونکہ آپ ﷺ کی قوم آپ ﷺ پر مسلط تھی پھر میں نے ایک طریقہ اختیار کیا جس کے مطابق میں مکہ میں آپ ﷺ تک پہنچ گیا اور آپ ﷺ سے میں نے عرض کیا آپ ﷺ کون ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا میں نبی ہوں، میں نے عرض کیا نبی کسے کہتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا مجھے اللہ تعالیٰ نے بھیجا ہے، میں نے عرض کیا کہ آپ ﷺ کو کس چیز کا پیغام دے کر بھیجا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ پیغام دے کر بھیجا ہے کہ صلہ رحمی کرنا اور بتوں کو توڑنا اور یہ کہ اللہ تعالیٰ کو ایک ماننا اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنانا میں نے عرض کیا کہ اس مسئلہ میں آپ ﷺ کے ساتھ اور کون ہے؟ آپ نے فرمایا کہ ایک آزاد اور ایک غلام راوی نے کہا کہ اس وقت آپ ﷺ کے ساتھ حضرت ابوبکر ؓ اور حضرت بلال ؓ تھے جو آپ ﷺ پر ایمان لے آئے تھے میں نے عرض کیا کہ میں بھی آپ ﷺ کی پیروی کرتا ہوں آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس وقت تم اس کی طاقت نہیں رکھتے کیا تم میرا اور لوگوں کا حال نہیں دیکھتے اس وقت تم اپنے گھر جاؤ پھر جب سنو کہ میں ظاہر (غالب) ہوگیا ہوں تو پھر میرے پاس آنا وہ کہتے ہیں کہ میں اپنے گھر کی طرف چلا گیا اور رسول اللہ مدینہ منورہ میں آگئے تو میں اپنے گھر والوں میں ہی تھا اور لوگوں سے خبریں لیتا رہتا تھا اور پوچھتا رہتا تھا یہاں تک کہ مدینہ منورہ والوں سے میری طرف کچھ آدمی آئے تو میں نے ان سے کہا کہ اس طرح کے جو آدمی مدینہ منورہ میں آئے ہیں وہ کیسے ہیں تو انہوں نے کہا کہ لوگ ان کی طرف دوڑ رہے ہیں ان کی قوم کے لوگ انہیں قتل کرنا چاہتے ہیں لیکن وہ اس کی طاقت نہیں رکھتے تو میں مدینہ منورہ میں آیا اور آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا اے اللہ کے رسول کیا آپ ﷺ مجھے پہچانتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا ہاں تم تو وہی ہو جس نے مجھ سے مکہ میں ملاقات کی تھی میں نے عرض کیا جی ہاں پھر عرض کیا اے اللہ کے نبی اللہ نے آپ ﷺ کو جو کچھ سکھایا ہے مجھے اس کی خبر دیجئے اور میں اس سے جاہل ہوں مجھے نماز کے بارے میں خبر دیجئے آپ ﷺ نے فرمایا صبح کی نماز پڑھو پھر نماز سے رکے رہو یہاں تک کہ سورج نکل آئے اور نکل کر بلند ہوجائے کیونکہ جب سورج نکلتا ہے اور اس وقت کافر لوگ اسے سجدہ کرتے ہیں پھر نماز پڑھو کیونکہ اس وقت کی نماز کی گواہی فرشتے دیں گے اور حاضر ہوں گے یہاں تک کہ سایہ نیزے کے برابر ہوجائے پھر نماز سے رکے رہو کیونکہ اس وقت جہنم جھونکی جاتی ہے پھر جب سایہ آجائے تو نماز پڑھو کیونکہ اس وقت کی نماز کی فرشتے گواہی دیں گے اور حاضر کئے جائیں گے یہاں تک کہ تم عصر کی نماز پڑھو پھر سورج کے غروب ہونے تک نماز سے رکے رہو کیونکہ یہ شیطان کے سینگوں کے درمیان غروب ہوتا ہے اور اس وقت کافر لوگ اسے سجدہ کرتے ہیں میں نے عرض کیا وضو کے بارے میں بھی کچھ بتائیے آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی آدمی بھی ایسا نہیں جو وضو کے پانی سے کلی کرے اور پانی ناک میں ڈالے اور ناک صاف کرے مگر یہ کہ اس کے منہ اور نتھنوں کے سارے گناہ جھڑ جاتے ہیں کہ پھر جب وہ منہ دھوتا ہے جس طرح اللہ نے اسے حکم دیا ہے تو اس کے چہرے کے گناہ اس کی داڑھی کے کناروں کے ساتھ لگ کر پانی کے ساتھ گرجاتے ہیں پھر جب وہ اپنے پاؤں ٹخنوں تک دھوتا ہے تو دونوں پاؤں کے گناہ انگلیوں کے پوروں کی طرف سے پانی کے ساتھ گرجاتے ہیں پھر اگر وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھے اور اللہ کی حمد وثناء اور اس کی بزرگی اور اس کے شایان شان بیان کرے اور اپنے دل کو خالص اللہ کے لئے فارغ کرلے تو وہ آدمی اپنے گناہوں سے اس طرح پاک وصاف ہوجاتا ہے جس طرح کہ آج ہی اس کی ماں نے اسے جنا ہے چناچہ عمرو بن عبسہ نے اس حدیث کو رسول اللہ ﷺ کے صحابی حضرت ابوامامہ ؓ سے بیان کیا تو حضرت ابوامامہ ؓ نے فرمایا کہ اے عمرو بن عبسہ دیکھو! کیا کہہ رہے ہو کیا ایک ہی جگہ میں آدمی کو اتنا ثواب مل سکتا ہے تو حضرت عمرو بن عبسہ ؓ کہنے لگے اے ابوامامہ میں بڑی عمر والا ہوگیا ہوں اور میری ہڈیاں نرم ہوگئی ہیں اور میری موت قریب آگئی ہے تو اب مجھے کیا ضرورت ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے ایک مرتبہ یا دو مرتبہ یا تین مرتبہ یہاں تک کہ سات مرتبہ بھی سنتا تو میں کبھی بھی اس حدیث کو بیان نہ کرتا لیکن میں نے تو اس حدیث کو اس سے بھی بہت زیادہ مرتبہ سنا ہے۔
Amr bin Abasa Sulami reported: I in the state of the Ignorance (before embracing Islam) used to think that the people were in error and they were not on anything (which may be called the right path) and worshipped the idols. In the meanwhile I heard of a man in Makkah who was giving news (on the basis of his prophetic knowledge) ; so I sat on my ride and went to him. The Messenger of Allah ﷺ was at that time hiding as his people had made life hard for him. I adopted a friendly attitude (towards the Makkahns and thus managed) to enter Makkah and go to him (the Holy Prophet) and I said to him: Who are you? He said: I am a Prophet ﷺ (of Allah). I again said: Who is a Prophet? He said: (I am a Prophet ﷺ in the sense that) I have been sent by Allah. I said: What is that which you have been sent with? He said: I have been sent to join ties of relationship (with kindness and affection), to break the Idols, and to proclaim the oneness of Allah (in a manner that) nothing is to be associated with Him. I said: Who is with you in this (in these beliefs and practices)? He said: A free man and a slave. He (the narrator) said: Abu Bakr (RA) and Bilal (RA) were there with him among those who had embraced Islam by that time. I said: I intend to follow you. He said: During these days you would not be able to do so. Dont you see the (hard) condition under which I and (my) people are living? You better go back to your people and when you hear that I have been granted victory, you come to me. So I went to my family. I was in my home when the Messenger of Allah ﷺ came to Madinah. I was among my people and used to seek news and ask people when he arrived in Madinah. Then a group of people belonging to Yathrib (Madinah) came. I said (to them): How is that person getting on who has come to Madinah? They said: The people are hastening to him, while his people (the polytheists of Makkah) planned to kill him, but they could not do so. I (on hearing It) came to Madinah and went to him and said: Messenger of Allah, do you recognise me? He said: Yes, you are the same man who met me at Makkah. I said: It is so. I again said: Prophet ﷺ of Allah, tell me that which Allah has taught you and which I do not know, tell me about the prayer.
He said: Observe the dawn prayer, then stop praying when the sun is rising till it Is fully up, for when it rises it comes up between the horns of Satan, and the unbelievers prostrate themselves to it at that time. Then pray, for the prayer is witnessed and attended (by angels) till the shadow becomes about the length of a lance; then cease prayer, for at that time Hell is heated up. Then when the shadow moves forward, pray, for the prayer is witnessed and attended by angels, till you pray the afternoon prayer, then cease prayer till the sun sets, for it sets between the horns of devil, and at that time the unbelievers prostrate themselves before it. I said: Apostle of Allah ﷺ , tell me about ablution also. He said: None of you who uses water for ablution and rinses his mouth, snuffs up water and blows it, but the sins of his face, and his mouth and his nostrils fall out. When he washes his face, as Allah has commanded him, the sins of his face fall out from the end of his beard with water. Then (when) he washes his forearms up to the elbows, the sins of his arms fall out along with water from his finger-tips. And when he wipes his head, the sins of his head fall out from the points of his hair along with water. And (when) he washes his feet up to the ankles, the sins of his feet fall out from his toes along with water. And if he stands to pray and praises Allah, lauds Him and glorifies Him with what becomes Him and shows wholehearted devotion to Allah, his sins would depart leaving him (as innocent) as he was on the day his mother bore him. Amr bin Abasa narrated this hadith to Abu Umama, a Companion of the Messenger of Allah ﷺ , and Abu Umama said to him: Amr bin Abasa, think what you are saying that such (a great reward) is given to a man at one place (only in the act of ablution and prayer). Upon this Amr said: Abu Umama, I have grown old and my bones have become weak and I am at the door of death; what impetus is there for me to attribute a lie to Allah and the Messenger of Allah ﷺ ? Had I heard it from the Messenger of Allah ﷺ once, twice, or three times (even seven times), I would have never narrated it, but I have heard it from him on occasions more than these.
اس بات کے بیان میں تم اپنی نمازوں کو سورج کے طلوع ہونے تک اور سورج کے غروب ہونے کے وقت تک نہ پڑھو۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ وَهِمَ عُمَرُ إِنَّمَا نَهَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُتَحَرَّی طُلُوعُ الشَّمْسِ وَغُرُوبُهَا
محمد بن حاتم، بہز، وہب، عبداللہ بن ط اس، حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ حضرت عمر ؓ کو وہم ہوگیا ہے کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے سورج کے طلوع اور سورج کے غروب ہونے کے وقت میں نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔
Aisha reported that Umar misconstrued the fact that the Messenger of Allah ﷺ had prohibited the observance of prayer at the time of the rising sun and at the time of its setting.
اس بات کے بیان میں تم اپنی نمازوں کو سورج کے طلوع ہونے تک اور سورج کے غروب ہونے کے وقت تک نہ پڑھو۔
حَدَّثَنَا حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ لَمْ يَدَعْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّکْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ قَالَ فَقَالَتْ عَائِشَةُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَتَحَرَّوْا طُلُوعَ الشَّمْسِ وَلَا غُرُوبَهَا فَتُصَلُّوا عِنْدَ ذَلِکَ
حسن حلوانی، عبدالرزاق، معمر، ابن ط اس، حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے عصر کے بعد کی دو رکعتیں کبھی نہیں چھوڑیں حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ سورج کے طلوع اور غروب ہونے کے وقت نماز پڑھنے کا ارادہ نہ کرو۔
Aisha said that the Messenger of Allah ﷺ did not abandon observing two rakahs after Asr, but she reported Allahs Messenger ﷺ as saying: Do not get used to observe prayer at the time of the rising sun and at the time of its setting and (exhorted the Muslims) to pray at their times.
ان دو رکعتوں کے بیان میں کہ جن کو نبی ﷺ عصر کی نماز کے بعد پڑھا کرتے تھے
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی التُّجِيبِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرٌو وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ عَنْ بُکَيْرٍ عَنْ کُرَيْبٍ مَوْلَی ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَزْهَرَ وَالْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ أَرْسَلُوهُ إِلَی عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا اقْرَأْ عَلَيْهَا السَّلَامَ مِنَّا جَمِيعًا وَسَلْهَا عَنْ الرَّکْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ وَقُلْ إِنَّا أُخْبِرْنَا أَنَّکِ تُصَلِّينَهُمَا وَقَدْ بَلَغَنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی عَنْهُمَا قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَکُنْتُ أَضْرِبُ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ النَّاسَ عَلَيْهَا قَالَ کُرَيْبٌ فَدَخَلْتُ عَلَيْهَا وَبَلَّغْتُهَا مَا أَرْسَلُونِي بِهِ فَقَالَتْ سَلْ أُمَّ سَلَمَةَ فَخَرَجْتُ إِلَيْهِمْ فَأَخْبَرْتُهُمْ بِقَوْلِهَا فَرَدُّونِي إِلَی أُمِّ سَلَمَةَ بِمِثْلِ مَا أَرْسَلُونِي بِهِ إِلَی عَائِشَةَ فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَی عَنْهُمَا ثُمَّ رَأَيْتُهُ يُصَلِّيهِمَا أَمَّا حِينَ صَلَّاهُمَا فَإِنَّهُ صَلَّی الْعَصْرَ ثُمَّ دَخَلَ وَعِنْدِي نِسْوَةٌ مِنْ بَنِي حَرَامٍ مِنْ الْأَنْصَارِ فَصَلَّاهُمَا فَأَرْسَلْتُ إِلَيْهِ الْجَارِيَةَ فَقُلْتُ قُومِي بِجَنْبِهِ فَقُولِي لَهُ تَقُولُ أُمُّ سَلَمَةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَسْمَعُکَ تَنْهَی عَنْ هَاتَيْنِ الرَّکْعَتَيْنِ وَأَرَاکَ تُصَلِّيهِمَا فَإِنْ أَشَارَ بِيَدِهِ فَاسْتَأْخِرِي عَنْهُ قَالَ فَفَعَلَتْ الْجَارِيَةُ فَأَشَارَ بِيَدِهِ فَاسْتَأْخَرَتْ عَنْهُ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ يَا بِنْتَ أَبِي أُمَيَّةَ سَأَلْتِ عَنْ الرَّکْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ إِنَّهُ أَتَانِي نَاسٌ مِنْ عَبْدِ الْقَيْسِ بِالْإِسْلَامِ مِنْ قَوْمِهِمْ فَشَغَلُونِي عَنْ الرَّکْعَتَيْنِ اللَّتَيْنِ بَعْدَ الظُّهْرِ فَهُمَا هَاتَانِ
حرملہ بن یحییٰ تجیبی، عبداللہ بن وہب، ابن الحارث، بکیر، کریب حضرت ابن عباس ؓ کے غلام سے روایت ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ اور حضرت عبدالرحمن بن ازہر اور مسور بن مخرمہ ؓ نے مجھے نبی ﷺ کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہ ؓ کی طرف بھیجا اور انہوں نے کہا کہ ہم سب کی طرف سے ان کو سلام کہنا اور نماز عصر کے بعد کی دو رکعتوں کے بارے میں ان سے پوچھنا اور کہنا کہ ہمیں خبر ملی ہے کہ آپ ﷺ ان کو پڑھتی ہیں اور ہمیں رسول اللہ ﷺ کی یہ حدیث پہنچی ہے کہ آپ ﷺ اس سے منع فرماتے تھے حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ میں حضرت عمر ؓ کے ساتھ مل کر اس نماز سے منع کرتا تھا کریب نے کہا کہ میں حضرت عائشہ ؓ کے پاس گیا جنہوں نے مجھے بھیجا ان کا پیغام بھی ان تک پہنچا دیا حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا کہ تو ام سلمہ ؓ سے پوچھ تو میں واپس ان کی طرف گیا اور انہیں حضرت عائشہ ؓ کے فرمان کی خبر دی تو انہوں نے مجھے حضرت ام سلمہ ؓ کی طرف لوٹا دیا وہی پیغام دے کر جو پیغام دے کر حضرت عائشہ ؓ کی طرف بھیجا تھا تو حضرت ام سلمہ ؓ فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اس سے منع فرماتے ہوئے سنا ہے پھر میں نے آپ ﷺ کو یہی دو رکعتیں پڑھتے ہوئے بھی دیکھا جس وقت آپ ﷺ کو یہ دو رکعتیں پڑھتے ہوئے دیکھا تو آپ ﷺ عصر کی نماز پڑھ چکے تھے پھر آپ ﷺ تشریف لائے تو میرے پاس انصار کے قبیلہ بنی حرام کی چند عورتیں تھیں آپ ﷺ نے دو رکعتیں پڑھیں تو میں نے ایک باندی کو آپ ﷺ کی طرف بھیجا میں نے اس سے کہا کہ تو آپ ﷺ کے پہلو میں کھڑی رہنا پھر آپ ﷺ سے عرض کرنا اے اللہ کے رسول ام سلمہ کہتی ہیں کہ میں نے آپ ﷺ سے ان دو رکعتوں کے بارے میں منع کرتے ہوئے سنا ہے اور پھر آپ ﷺ کو پڑھتے ہوئے بھی دیکھا ہے پھر اگر ہاتھ سے اشارہ فرمائیں تو پیچھے کھڑی رہنا حضرت ام سلمہ ؓ فرماتی ہیں کہ اس باندی نے ایسے ہی کیا آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے اشارہ فرمایا تو وہ پیچھے ہوگئی پھر جب آپ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا اے ابوامیہ کی بیٹی تو نے عصر کی نماز کے بعد کی دو رکعتوں کے بارے میں پوچھا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ بنی عبدالقیس کے کچھ لوگ ان کی قوم میں سے اسلام قبول کرنے کے لئے آئے تھے جس میں مشغولیت کی وجہ سے ظہر کی نماز کے بعد کی دو رکعتیں رہ گئی تھیں ان کو میں نے پڑھا ہے۔
Kuraib, the freed slave of Ibn Abbas, reported that Abdullah bin Abbas, Abdul Rahman bin Azhar, al-Miswar bin Makhrama sent him to Aisha, the wife of the Messenger of Allah ﷺ , telling him to give her their greetings, and ask her about the two rakahs after the afternoon prayer, (for)" we have heard that you observe them whereas it has been conveyed to us that the Messenger of Allah ﷺ prohibited their observance." Ibn Abbas said: I along with Umar bin al-Khattab dissuaded people to do so (to observe two rakahs of prayer). Kuraib said: I went to her (Aisha) and conveyed to her the message with which I was sent. She said: (Better) ask Umm Salamah. So I went to them (those who had sent him to Hadrat Aisha) and informed them about what she had said. They sent me back to Umm Salamah with that with which I was sent to Aisha. Umm Salamah said: I beard the Messenger of Allah ﷺ prohibiting them, and then afterwards I saw him observing them. And when he observed them (two rakahs) he had already observed the Asr prayer. Then he (the Holy Prophet) came, while there were with me ladies of Banu Haram, a tribe of the Ansar and he (the Holy Prophet) observed them (the two rakahs). I sent a slave-girl to him asking her to stand by his side and say to him that Umm Salamah says: Messenger of Allah, I heard you prohibiting these two rakahs, whereas I saw you observing them; and if he (the Holy Prophet) points with his hand (to wait), then do wait. The slave-girl did like that. He (the Holy Prophet) pointed out with his hand and she got aside and waited, and when he had finished (the prayer) he said: Daughter of Abu Umayya. you have asked about the two rakahs after the Asr prayer. Some people of Abu al-Qais came to me for embracing Islam and hindered me from observing the two rakahs which come after the noon prayer. So those are the two I have been praying.
ان دو رکعتوں کے بیان میں کہ جن کو نبی ﷺ عصر کی نماز کے بعد پڑھا کرتے تھے
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ أَخْبَرَنِي مُحَمَّدٌ وَهُوَ ابْنُ أَبِي حَرْمَلَةَ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ عَنْ السَّجْدَتَيْنِ اللَّتَيْنِ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّيهِمَا بَعْدَ الْعَصْرِ فَقَالَتْ کَانَ يُصَلِّيهِمَا قَبْلَ الْعَصْرِ ثُمَّ إِنَّهُ شُغِلَ عَنْهُمَا أَوْ نَسِيَهُمَا فَصَلَّاهُمَا بَعْدَ الْعَصْرِ ثُمَّ أَثْبَتَهُمَا وَکَانَ إِذَا صَلَّی صَلَاةً أَثْبَتَهَا قَالَ يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ قَالَ إِسْمَعِيلُ تَعْنِي دَاوَمَ عَلَيْهَا
یحییٰ بن ایوب، قتیبہ بن سعید، علی بن حجر، ایوب، ابن جعفر، ابن ابی حرملہ، حضرت ابوسلمہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے حضرت عائشہ ؓ سے ان دو رکعتوں کے بارے میں پوچھا، جنہیں رسول اللہ ﷺ عصر کے بعد پڑھا کرتے تھے تو حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا کہ آپ ﷺ ان دو رکعتوں کو عصر کی نماز سے پہلے پڑھا کرتے تھے پھر آپ ﷺ ایک مرتبہ کسی کام میں مشغول ہوگئے یا آپ ﷺ ان کو پڑھنا بھول گئے تو آپ ﷺ نے ان دو رکعتوں کو عصر کی نماز کے بعد پڑھا پھر آپ ﷺ اسے پڑھتے رہے آپ ﷺ جو نماز بھی پڑھتے تھے اس پر دوام فرماتے۔
Abu Salama asked Aisha about the two prostrations (i. e. rakahs) which the Messenger of Allah ﷺ made after the Asr. She said: He (the Holy Prophet) observed them before the Asr prayer, but then he was hindered to do so, or he forgot them and then he observed them after the Asr, and then he continued observing them. (It was his habit) that when he (the Holy Prophet) observed prayer, he then continued observing it. Ismail said: It implies that he always did that.
ان دو رکعتوں کے بیان میں کہ جن کو نبی ﷺ عصر کی نماز کے بعد پڑھا کرتے تھے
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي جَمِيعًا عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مَا تَرَکَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَکْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ عِنْدِي قَطُّ
زہیر بن حرب، جریر، ابن نمیر، ہشام بن عروہ، حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے میرے ہاں عصر کے بعد کی دو رکعتیں کبھی نہیں چھوڑیں۔
Aisha reported: The Messenger of Allah ﷺ did not abandon at all observing two rakahs after the Asr in my house.
ان دو رکعتوں کے بیان میں کہ جن کو نبی ﷺ عصر کی نماز کے بعد پڑھا کرتے تھے
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ح و حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ وَاللَّفْظُ لَهُ أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَقَ الشَّيْبَانِيُّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ صَلَاتَانِ مَا تَرَکَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِي قَطُّ سِرًّا وَلَا عَلَانِيَةً رَکْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ وَرَکْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، علی بن مسہر، ح، علی بن حجر، علی بن مسہر، ابواسحاق شیبانی، عبدالرحمن بن اسود، حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے میرے گھر میں دو نمازیں کبھی چھوڑیں نہ باطناً نہ ظاہراً فجر سے پہلے کی دو رکعتیں اور عصر کے بعد کی دو رکعتیں۔
Aisha reported: Two are the prayers which the Messenger of Allah ﷺ always observed in my house-openly or secretly-two rakahs before the dawn and two rakahs after the Asr.
ان دو رکعتوں کے بیان میں کہ جن کو نبی ﷺ عصر کی نماز کے بعد پڑھا کرتے تھے
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ الْأَسْوَدِ وَمَسْرُوقٍ قَالَا نَشْهَدُ عَلَی عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ مَا کَانَ يَوْمُهُ الَّذِي کَانَ يَکُونُ عِنْدِي إِلَّا صَلَّاهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِي تَعْنِي الرَّکْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ
ابن مثنی، ابن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، ابواسحاق، اسود، مسروق، حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ جس دن بھی رسول اللہ ﷺ کی باری میرے گھر میں ہوتی تو آپ ﷺ یہ نماز پڑھتے یعنی عصر کی نماز کے بعد دو رکعتیں۔
Aswad and Masruq reported: We bear testimony to the fact that Aisha said: Never was there a day that he (the Holy Prophet) was with me and he did not observe two rakahs of prayer in my house, i. e. two rakahs after the Asr.
نماز مغرب سے قبل دو رکعتیں پڑھنے کے استح کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ جَمِيعًا عَنْ ابْنِ فُضَيْلٍ قَالَ أَبُو بَکْرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ عَنْ مُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ قَالَ سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ عَنْ التَّطَوُّعِ بَعْدَ الْعَصْرِ فَقَالَ کَانَ عُمَرُ يَضْرِبُ الْأَيْدِي عَلَی صَلَاةٍ بَعْدَ الْعَصْرِ وَکُنَّا نُصَلِّي عَلَی عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَکْعَتَيْنِ بَعْدَ غُرُوبِ الشَّمْسِ قَبْلَ صَلَاةِ الْمَغْرِبِ فَقُلْتُ لَهُ أَکَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّاهُمَا قَالَ کَانَ يَرَانَا نُصَلِّيهِمَا فَلَمْ يَأْمُرْنَا وَلَمْ يَنْهَانا
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، ابن فضیل، حضرت مختار بن فلفل ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت انس بن مالک ؓ سے عصر کے بعد کے نفلوں کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ حضرت عمر ؓ عصر کے بعد نماز پڑھنے والوں پر ہاتھ مارتے تھے اور ہم رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں سورج کے غروب ہونے کے بعد مغرب کی نماز سے پہلے دو رکعتیں پڑھتے تھے تو میں نے ان سے عرض کیا کہ کیا رسول اللہ ﷺ بھی یہ دو رکعتیں پڑھتے تھے انہوں نے فرمایا کہ آپ ﷺ ہمیں ان دو رکعتوں کو پڑھتے ہوئے دیکھتے لیکن نہ ہمیں اس کا حکم فرماتے اور نہ ہمیں ان سے منع فرماتے تھے۔
Mukhtar bin Fulful said: I asked Anas bin Malik (RA) about the voluntary prayers after the afternoon prayer, and he replied: Umar struck hit hands on prayer observed after the Asr prayer and we used to observe two rakahs after the sun set before the evening prayer during the time of the Apostle of Allah ﷺ . I said to him: Did the Messenger of Allah ﷺ observe them? He said: He saw us observing them, but he neither commanded us nor forbade us to do so.
نماز مغرب سے قبل دو رکعتیں پڑھنے کے استح کے بیان میں
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَهُوَ ابْنُ صُهَيْبٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ کُنَّا بِالْمَدِينَةِ فَإِذَا أَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ لِصَلَاةِ الْمَغْرِبِ ابْتَدَرُوا السَّوَارِيَ فَيَرْکَعُونَ رَکْعَتَيْنِ رَکْعَتَيْنِ حَتَّی إِنَّ الرَّجُلَ الْغَرِيبَ لَيَدْخُلُ الْمَسْجِدَ فَيَحْسِبُ أَنَّ الصَّلَاةَ قَدْ صُلِّيَتْ مِنْ کَثْرَةِ مَنْ يُصَلِّيهِمَا
شیبان بن فروخ، عبدالوارث، ابن صہیب، حضرت انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں کہ مدینہ میں جب مؤذن نماز مغرب کی اذان دیتا تھا تو ہم لوگ ستون کی آڑ میں دو رکعات پڑھا کرتے تھے مسجد میں کوئی نیا آدمی آتا تو بہت سی تعداد میں نماز پڑھنے والوں سے یہ خیال کرتا کہ نماز ہوگئی ہے۔
Anas bin Malik (RA) reported: When we were in Madinah, the moment the Muadhdhin made the call to the sunset prayer, the people hastened to the pillars of the mosque and prayed two rakahs with the result that any stranger coming into the mosque would think that the obligatory prayer had been observed owing to the number who were praying then.
ہر اذان اور اقامت کے درمیان نماز کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ وَوَکِيعٌ عَنْ کَهْمَسٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ الْمُزَنِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ کُلِّ أَذَانَيْنِ صَلَاةٌ قَالَهَا ثَلَاثًا قَالَ فِي الثَّالِثَةِ لِمَنْ شَائَ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابواسامہ، وکیع، کہمس، عبداللہ بن بریدہ، حضرت عبداللہ بن مغفل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ہر اذان اور اقامت کے درمیان نماز ہے آپ ﷺ نے تین مرتبہ فرمایا تیسری مرتبہ میں فرمایا کہ جو جس کا دل چاہے پڑھے لے۔
Abdullah bin Mughaffal reported Allahs Messenger ﷺ u saying: There Is between the two calls (Adhan and Iqama) a prayer. And he mentioned it three times, and at the third time he said: This applies to those who wish to do it.
ہر اذان اور اقامت کے درمیان نماز کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَی عَنْ الْجُرَيْرِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فِي الرَّابِعَةِ لِمَنْ شَائَ
ابوبکر بن ابی شیبہ، عبدالاعلی، جریری، عبداللہ بن بریدہ، حضرت عبداللہ بن مغفل ؓ نے نبی ﷺ سے اسی طرح نقل فرمایا لیکن اس میں ہے کہ چوتھی مرتبہ میں آپ ﷺ نے فرمایا کہ جو جس کا دل چاہے پڑھ لے (سوائے سنت مؤ کدہ)
This hadith has been narrated by Abdullah bin Mughaffal by another chain of transmitters, but with this variation that he (the Holy Prophet) said at the fourth time:" He who wishes (may do to)."
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ صَلَّی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْخَوْفِ بِإِحْدَی الطَّائِفَتَيْنِ رَکْعَةً وَالطَّائِفَةُ الْأُخْرَی مُوَاجِهَةُ الْعَدُوِّ ثُمَّ انْصَرَفُوا وَقَامُوا فِي مَقَامِ أَصْحَابِهِمْ مُقْبِلِينَ عَلَی الْعَدُوِّ وَجَائَ أُولَئِکَ ثُمَّ صَلَّی بِهِمْ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَکْعَةً ثُمَّ سَلَّمَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَضَی هَؤُلَائِ رَکْعَةً وَهَؤُلَائِ رَکْعَةً
عبد بن حمید، عبدالرزاق، معمر، زہری، سالم، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے دو جماعتوں میں سے ایک کے ساتھ ایک رکعت پڑھی اور دوسری جماعت دشمن کے سامنے تھے پھر یہ جماعت دشمن کے مقابلہ میں کھڑے ہونے والوں کی جگہ جا کر کھڑی ہوگئی اور وہ جماعت آئی پھر نبی ﷺ نے ان کو ایک رکعت پڑھائی پھر آپ ﷺ نے سلام پھیر دیا پھر دونوں جماعتوں کے سب لوگوں نے ایک رکعت پڑھی۔
Salim bin Abdullah bin Umar reported: The Messenger of Allah ﷺ (may peace he upon him) led one of the two groups In one rakah of prayer in danger, while the other group faced the enemy. Then they (the members of the first group) went back and replaced their companions who were facing the enemy. And then they (the members of the second group) came and the Apostle of Allah ﷺ led them in one rakah of prayer. Then the Apostle of Allah ﷺ pronounced salutation, and then they (the members of the Ant group) completed the rakah and they (the members of the second group) completed the rakah.
حَدَّثَنِيهِ أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ کَانَ يُحَدِّثُ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْخَوْفِ وَيَقُولُ صَلَّيْتُهَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْمَعْنَی
ابوربیع زہرانی، فلیح، زہری، سالم بن عبداللہ، حضرت ابن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ خوف کی نماز اسی طریقے سے پڑھی ہے۔
This hadith has been narrated by another chain of transmitters.
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ آدَمَ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ مُوسَی بْنِ عُقْبَةَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ صَلَّی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْخَوْفِ فِي بَعْضِ أَيَّامِهِ فَقَامَتْ طَائِفَةٌ مَعَهُ وَطَائِفَةٌ بِإِزَائِ الْعَدُوِّ فَصَلَّی بِالَّذِينَ مَعَهُ رَکْعَةً ثُمَّ ذَهَبُوا وَجَائَ الْآخَرُونَ فَصَلَّی بِهِمْ رَکْعَةً ثُمَّ قَضَتْ الطَّائِفَتَانِ رَکْعَةً رَکْعَةً قَالَ وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ فَإِذَا کَانَ خَوْفٌ أَکْثَرَ مِنْ ذَلِکَ فَصَلِّ رَاکِبًا أَوْ قَائِمًا تُومِئُ إِيمَائً
ابوبکر بن ابی شیبہ، یحییٰ بن آدم، سفیان، موسیٰ بن عقبہ، نافع، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کچھ دنوں میں خوف کی نماز اس طرح سے پڑھی کہ ایک جماعت آپ ﷺ کے ساتھ کھڑی ہوگئی اور ایک جماعت دشمن کے سامنے کھڑی ہوگئی پھر آپ ﷺ نے ان لوگوں کو ایک رکعت پڑھائی پھر وہ چلے گئے اور دوسری جماعت آگئی ان کو آپ ﷺ نے ایک رکعت پڑھائی پھر دونوں جماعتوں نے اپنی ایک ایک رکعت پوری کی حضرت ابن عمر ؓ نے فرمایا کہ جب خوف حد سے بڑھ جائے تو سواری پر یا کھڑے کھڑے اشارے سے نماز پڑھے۔
Ibn Umar (RA) reported that the Messenger of Allah ﷺ observed prayer in danger on some day (in this way): a group stood with him (the Holy Prophet) (for prayer) and the other group stood In front of the enemy. Then those who were with (him) observed one rakah of prayer and they went back and the others came and they observed one rakah (with him). Then both the groups completed one rakah each. Ibn Umar (RA) said: When there is greater danger, then observe prayer even on the ride or with the help of gestures in a standing posture.
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ عَنْ عَطَائٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْخَوْفِ فَصَفَّنَا صَفَّيْنِ صَفٌّ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْعَدُوُّ بَيْنَنَا وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ فَکَبَّرَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَکَبَّرْنَا جَمِيعًا ثُمَّ رَکَعَ وَرَکَعْنَا جَمِيعًا ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ مِنْ الرُّکُوعِ وَرَفَعْنَا جَمِيعًا ثُمَّ انْحَدَرَ بِالسُّجُودِ وَالصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ وَقَامَ الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ فِي نَحْرِ الْعَدُوِّ فَلَمَّا قَضَی النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السُّجُودَ وَقَامَ الصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ انْحَدَرَ الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ بِالسُّجُودِ وَقَامُوا ثُمَّ تَقَدَّمَ الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ وَتَأَخَّرَ الصَّفُّ الْمُقَدَّمُ ثُمَّ رَکَعَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَکَعْنَا جَمِيعًا ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ مِنْ الرُّکُوعِ وَرَفَعْنَا جَمِيعًا ثُمَّ انْحَدَرَ بِالسُّجُودِ وَالصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ الَّذِي کَانَ مُؤَخَّرًا فِي الرَّکْعَةِ الْأُولَی وَقَامَ الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ فِي نُحُورِ الْعَدُوِّ فَلَمَّا قَضَی النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السُّجُودَ وَالصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ انْحَدَرَ الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ بِالسُّجُودِ فَسَجَدُوا ثُمَّ سَلَّمَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَلَّمْنَا جَمِيعًا قَالَ جَابِرٌ کَمَا يَصْنَعُ حَرَسُکُمْ هَؤُلَائِ بِأُمَرَائِهِمْ
محمد بن عبداللہ بن نمیر، عبدالملک بن ابی سلیمان، عطاء، حضرت جابر ؓ فرماتے ہیں کہ خوف کی نماز پڑھتے وقت میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھا ہم نے دو صفیں بنائیں ایک صف رسول اللہ ﷺ کے پیچھے اور دشمن ہمارے اور قبلہ کے درمیان میں تھا تو نبی ﷺ نے تکبیر کہی اور ہم سب نے بھی تکبیر کہی پھر آپ ﷺ نے رکوع کیا اور ہم سب نے بھی رکوع کیا پھر آپ ﷺ نے سر رکوع سے اٹھایا اور ہم سب نے بھی سر اٹھایا پھر آپ ﷺ آپ ﷺ سجدہ میں چلے گئے تو اس صف والے جو آپ ﷺ کے قریب تھے پہلی رکعت میں سب سجدہ میں گئے اور پچھلی صف والے دشمن کے مقابلے میں کھڑے رہے پھر جب نبی ﷺ نے اور وہ صف جو آپ ﷺ کے قریب تھی سجدہ کیا پھر رسول اللہ ﷺ اور ہم سب نے سلام پھیرا جابر ؓ نے فرمایا کہ جس طرح آج کل کے محافظ اپنے حکمرانوں کے ساتھ کرتے ہیں۔
Jabir bin Abdullah reported: I observed prayer in danger with the Messenger of Allah ﷺ . We drew ourselves up in two rows, one row behind him with the enemy between us and the Qibla. The Apostle of Allah ﷺ said: Allah is Most Great, and we all said it. He then bowed and we all bowed. He then raised his head from bowing, we all raised (our heads). He then went down in prostration along with the row close to him, and the rear row faced the enemy; then when the Apostle of Allah ﷺ completed the prostration, ; and then stood up, the row near to him also did it; then went down the rear row in prostration; then they stood up; then the rear row went to the front and the front row went to the rear. Then the Apostle of Allah ﷺ (may peace he upon him) bowed down and we all bowed. He then raised his head from bowing and we also raised (our heads). He and the row close to him which I had been in the rear then went down in prostration In the first rakah, whereas the rear row faced the enemy. And when the Apostle of Allah ﷺ and the rear row close to him had finished the prostration, the rear row went down and prostrated themselves; then the Apostle of Allah ﷺ pronounced the salutation and we also pronounced the salutation. (Jabir said we hadith) as your guards behave with their chiefs.
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَوْمًا مِنْ جُهَيْنَةَ فَقَاتَلُونَا قِتَالًا شَدِيدًا فَلَمَّا صَلَّيْنَا الظُّهْرَ قَالَ الْمُشْرِکُونَ لَوْ مِلْنَا عَلَيْهِمْ مَيْلَةً لَاقْتَطَعْنَاهُمْ فَأَخْبَرَ جِبْرِيلُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِکَ فَذَکَرَ ذَلِکَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَقَالُوا إِنَّهُ سَتَأْتِيهِمْ صَلَاةٌ هِيَ أَحَبُّ إِلَيْهِمْ مِنْ الْأَوْلَادِ فَلَمَّا حَضَرَتْ الْعَصْرُ قَالَ صَفَّنَا صَفَّيْنِ وَالْمُشْرِکُونَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ قَالَ فَکَبَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَکَبَّرْنَا وَرَکَعَ فَرَکَعْنَا ثُمَّ سَجَدَ وَسَجَدَ مَعَهُ الصَّفُّ الْأَوَّلُ فَلَمَّا قَامُوا سَجَدَ الصَّفُّ الثَّانِي ثُمَّ تَأَخَّرَ الصَّفُّ الْأَوَّلُ وَتَقَدَّمَ الصَّفُّ الثَّانِي فَقَامُوا مَقَامَ الْأَوَّلِ فَکَبَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَکَبَّرْنَا وَرَکَعَ فَرَکَعْنَا ثُمَّ سَجَدَ مَعَهُ الصَّفُّ الْأَوَّلُ وَقَامَ الثَّانِي فَلَمَّا سَجَدَ الصَّفُّ الثَّانِي ثُمَّ جَلَسُوا جَمِيعًا سَلَّمَ عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ ثُمَّ خَصَّ جَابِرٌ أَنْ قَالَ کَمَا يُصَلِّي أُمَرَاؤُکُمْ هَؤُلَائِ
احمد بن عبداللہ بن یونس، زہیر، ابوالزبیر، حضرت جابر ؓ فرماتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ قبیلہ جہینہ کی ایک قوم کے ساتھ جہاد کیا انہوں نے ہم سے بہت سخت جنگ کی جب ہم نے ظہر کی نماز پڑھی لی مشرکوں نے کہا کاش ہم ان پر ایک دم حملہ آور ہوتے تو انہیں کاٹ کر رکھ دیتے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے رسول اللہ ﷺ کو اس سے باخبر کیا اس کا ذکر رسول اللہ ﷺ نے ہم سے کیا اور فرمایا کہ مشرکوں نے کہا کہ ان کی ایک اور نماز آئے گی جو ان کو اپنی اولاد سے بھی زیادہ محبوب ہے تو جب عصر کی نماز کا وقت آیا تو ہم نے دو صفیں بنالیں اور مشرک ہمارے اور قبلہ کے درمیان میں تھے رسول اللہ ﷺ نے تکبیر کہی اور ہم نے بھی تکبیر کہی اور آپ ﷺ نے رکوع فرمایا تو ہم نے بھی رکوع کیا پھر آپ ﷺ نے سجدہ فرمایا تو آپ ﷺ کے ساتھ پہلی صف والوں نے سجدہ کیا پھر جب آپ ﷺ اور پہلی صف والے کھڑے ہوگئے تو دوسری صف والوں نے سجدہ کیا اور پہلی صف والے پیچھے اور دوسری صف والے آگے ہوگئے پھر رسول اللہ ﷺ نے تکیبر کہی اور ہم نے بھی تکبیر کہی پھر آپ نے رکوع فرمایا ہم نے بھی آپ ﷺ کے ساتھ رکوع کیا پھر جب آپ ﷺ نے سجدہ کیا اور دوسری صف والوں نے سجدہ کیا پھر سب بیٹھ گئے پھر رسول اللہ ﷺ نے سب کے ساتھ سلام پھیرا حضرت ابوالزبیر فرماتے ہیں کہ پھر حضرت جابر ؓ نے فرمایا کہ جس طرح آج کل تمہارے یہ حکمران نماز پڑھتے ہیں۔
Jabir reported: We fought In the company of the Messenger of Allah ﷺ with the tribe of Juhaina. They fought with us terribly. When we had finished the noon prayer, the polytheists said: Had we attacked them at once. we would have killed them. Gabriel (علیہ السلام) informed the Messenger of Allah ﷺ about It (about their evil design). The Messenger of Allah ﷺ made a mention of it to us, adding that they (the polytheists) had also said: Shortly there would be time for the Asr prayer. which is dearer o them (the Muslims) than even their children. So when the time of the Asr prayer came. we formed ourselves into two rows, while the polytheists were between us and the Qibla. The Messenger of Allah ﷺ said: Allah is Most Great, and we also said so. He bowed and we also bowed. He went down in prostration and the first row prostrated along with him. When they stood up, the second row went down in prostration. Then the first row went into the rear, and the second row came in the front and occupied the place of the first row. The Messenger of Allah ﷺ then said: Allah is Most Great, and we also said so. He then bowed, and we also bowed. He then went down in prostration and along with him the row also (went down in prostration), and the second row remained standing. And when the second row had also prostrated and all of them sat down then the Messenger of Allah ﷺ pronounced salutation to them. Abu Zubair said: Jabir made a mention specially of this thing: just as your chiefs observe prayer.
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ صَالِحِ بْنِ خَوَّاتِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّی بِأَصْحَابِهِ فِي الْخَوْفِ فَصَفَّهُمْ خَلْفَهُ صَفَّيْنِ فَصَلَّی بِالَّذِينَ يَلُونَهُ رَکْعَةً ثُمَّ قَامَ فَلَمْ يَزَلْ قَائِمًا حَتَّی صَلَّی الَّذِينَ خَلْفَهُمْ رَکْعَةً ثُمَّ تَقَدَّمُوا وَتَأَخَّرَ الَّذِينَ کَانُوا قُدَّامَهُمْ فَصَلَّی بِهِمْ رَکْعَةً ثُمَّ قَعَدَ حَتَّی صَلَّی الَّذِينَ تَخَلَّفُوا رَکْعَةً ثُمَّ سَلَّمَ
عبیداللہ بن معاذ عنبری، شعبہ، عبدالرحمن بن قاسم، صالح بن خوات بن جبیر، حضرت سہل بن ابی حثمہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے صحابہ کرام ؓ کو خوف کی نماز پڑھائی آپ نے اپنے پیچھے دو صفیں بنائیں تو جو صف آپ ﷺ کے قریب تھی آپ ﷺ نے اسے ایک رکعت پڑھائی پھر آپ ﷺ کھڑے ہوئے یہاں تک کہ پچھلی صف والوں نے ایک رکعت نماز پڑھ لی پھر وہ آگے بڑھے اور اگلی صف والے پیچھے چلے گئے پھر بیٹھ گئے یہاں تک کہ پچھلی صف والوں نے ایک رکعت نماز پڑھ لی پھر آپ ﷺ نے سلام پھیر دیا۔
Sahl bin Abu Hathma reported that the Messenger of Allah ﷺ led his Companions in prayer in danger. He made them stand in two rows behind him. He led them who were close to him in one rakah. He then stood up and kept standing till those who were behind them observed one rakah. Then they (those standing in the second row) came in front and those who were in front went into the rear. He then led them In one rakah. He then sat down, till those who were behind him observed one rakah and then pronounced salutation.