Mishkaat-al-Masabih

All 6,333 hadiths in order · Page 4 of 317

61Mishkaat-al-Masabih

شیطان وسو سے پیدا کرے تو اللہ کی پناہ مانگو

وَعَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم ےَاْتِی الشَّےْطَانُ اَحَدَکُمْ فَےَقُوْلُ مَنْ خَلَقَ کَذَا مَنْ خَلَقَ کَذَا حَتّٰی ےَقُوْلَ مَنْ خَلَقَ رَبَّکَ فَاِذَاَ بَلَغَہُ فَلْےَسْتَعِذْ بِاللّٰہِ وَلْےَنْتَہِ۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)

اور حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا! تم میں سے بعض آدمیوں کے پاس شیطان آتا ہے اور یہ کہتا ہے کہ فلاں فلاں چیز کو کس نے پیدا کیا اور اس چیز کو کس نے پیدا کیا؟ تاآنکہ پھر وہ یوں کہتا ہے کہ تیرے پروردگار کو کس نے پیدا کیا؟ جب نوبت یہاں تک آجائے تو اس کو چاہیے کہ اللہ سے پناہ مانگے اور اس سلسلہ کو ختم کر دے۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم) تشریح شیطان انسان کے روحانی ارتقاء کا سب سے بڑا دشمن ہے۔ اس کا بنیادی نصب العین ہی یہ ہے کہ اللہ کے بندوں کو، جو اللہ کی ذات وصفات پر ایمان و یقین رکھتے ہیں، ورغلانے اور بہکانے میں لگا رہے ہیں، یہی نہیں کہ وہ فریب کاری کے ذریعہ انسان کے نیک عمل اور اچھے کاموں میں رکاوٹ اور تعطل پیدا کرنے کی سعی کرتا رہے بلکہ اس زبردست قدرت کے بل پر کہ جو حق اللہ تعالیٰ نے تکوینی مصلحت کے تحت اس کو دی ہے۔ وسوسہ اندازی کے ذریعہ انسان کی سوچ فکر اور خیالات کی دنیا میں مختلف انداز کے شبہات اور برائی بھی پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے، لیکن جن لوگوں کی سوچ فکر اور خیالات کے سر چشموں پر ایمان و یقین کی مضبوط گرفت ہوتی ہے وہ اپنے ایمان کی فکری اور شعوری طاقت سے شیطان کے وسوسوں کو ناکارہ بنا دیتے ہیں، چناچہ اس حدیث میں جہاں بعض شیطانی وسوسوں کی نشان دہی کی گئی ہے وہیں اس پہلو کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے جو ان وسوسوں کو غیر موثر اور ناکارہ بنانے سے تعلق رکھتا ہے۔ فرمایا گیا ہے کہ پہلے تو شیطان اللہ کی مخلوقات اور موجودات کے بارے میں وسوسہ اندازی کرتا ہے، مثلاً فکر و خیال میں یہ بات ڈالتا ہے کہ انسان کو وجود کس نے بنایا، یہ زمین و آسمان کی تخلیق کس کا کارنامہ ہے، چونکہ اللہ کی ذات وصفات پر ایمان رکھنے والوں کی عقل سلیم کائنات کی تمام مخلوقات و موجودات کی تخلیقی و تکوینی نوعیت کا بدیہی شعور و ادراک رکھتی ہے اس لئے مخلوقات کی حد تک شیطان کی وسوسہ اندازی زیادہ اہمیت نہیں رکھتی لیکن معاملہ وہاں نازک ہوجاتا ہے جب یہ سلسلہ نازک ہو کر ذات باری تعالیٰ تک پہنچ جائے اور وسوسہ شیطانی دل و دماغ سے سوال کرے جب یہ زمین و آسمان اور ساری مخلوقات اللہ کی پیدا کردہ ہیں تو پھر خود اللہ کو کس نے پیدا کیا؟ فرمایا گیا کہ جوں ہی یہ وسوسہ پیدا ہو اپنے اللہ سے پناہ مانگو اور اپنے ذہن سے اس فاسد خیال کو فوراً جھٹک دو تاکہ وسوسہ شیطانی کا سلسلہ منقطع ہوجائے اللہ کی پناہ چاہنے کا مطلب محض زبان سے چند الفاظ ادا کرلینا نہیں ہے بلکہ یہ کہ ایک طرف تو اپنے فکر و خیال کو یکسو کر کے اس عقیدہ یقین کی گرفت میں دے دو کہ اللہ تعالیٰ کی ذات قدیم ہے، وہ واجب الوجود ہے اس کو کسی نے پیدا نہیں کیا، وہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ اور دوسری طرف ریاضیت و مجاہدہ اور ذات باری تعالیٰ کے ذکر و استغراق کے ذریعہ اپنے نفس کے تزکیہ اور ذہن و فکر کے تحفظ اور سلامتی کی طرف متوجہ رہو۔ وسوسہ کی راہ روکنے کا ایک فوری موثر طریقہ علماء نے یہ بھی لکھا ہے کہ مجلس بدل دی جائے۔ یعنی جس جگہ بیٹھے یا لیٹے ہوئے اس طرح کا وسوسہ پیدا ہو وہاں سے فورا ہٹ جائے اور کسی دوسری جگہ جا کر کسی کام اور مشغلہ میں لگ جائے اس طرح دھیان فوری طور پر ہٹ جائے گا اور وسوسہ کی راہ ماری جائے گی۔

62Mishkaat-al-Masabih

شیطان وسو سے پیدا کرے تو اللہ کی پناہ مانگو

وَعَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم لَا ےَزَالُ النَّاسُ ےَتَسَآءَ لُوْنَ حَتّٰی ےُقَالَ ھٰذَا خَلَقَ اللّٰہُ الْخَلْقَ فَمَنْ خَلَقَ اللّٰہَ فَمَنْ وَجَدَ مِنْ ذٰلِکَ شَےْئًا فَلْےَقُلْ اٰمَنْتُ بِاللّٰہِ وَرُسُلِہٖ۔(صحیح البخاری و صحیح مسلم)

اور حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا! لوگ ہمیشہ اپنے دل میں مخلوقات وغیرہ کے بارے میں خیالات پکارتے رہیں گے، یہاں تک کہ کہا جائے گا (یعنی دماغ میں یہ وسوسہ آئے گا) کہ اس تمام مخلوق کو اللہ نے پیدا کیا ہے (تو) اللہ کو کس نے پیدا کیا ہے؟ پس جس آدمی کے دل و دماغ میں اس قسم کا کوئی خیال اور وسوسہ پیدا ہو تو وہ یہ کہے کہ میں اللہ تعالیٰ پر اور اس رسول پر ایمان لایا۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم) تشریح شیطان کی وسوسہ اندازی اور گمراہ کن خیالات کی روش سے بچنے کے لئے ایک طریقہ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ایسے موقع پر (میں اللہ پر اس کے رسول پر ایمان لایا) پڑھنا چاہیے، اس کلمہ کے ورد کے ذریعہ زبان یہ اقرار و اعتراف کرے گی کہ میں اللہ کی ذات پر اور اس کے سچے رسول پر ایمان رکھتا ہوں جس نے ہمیں آگاہ کیا ہے کہ اس کی ذات واجب الوجود ہے، وہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ اس کو کسی نے پیدا نہیں کیا بلکہ تمام جہاں کا اور تمام چیزوں کا وہی خالق ہے وہی دل و دماغ میں ان باتوں کی صحت و صداقت کا یقین راسخ ہوگا اور ذہن و فکر کو برے خیالات سے تحفظ و سلامتی حاصل ہوگی جس کے سبب شیطان اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوسکتا۔

63Mishkaat-al-Masabih

ہر انسان کے ساتھ ایک شیطان اور ایک فرشتہ مقرر کیا گیا ہے

وَ عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍص قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم مَا مِنْکُمْ مِّنْ اَحَدٍ اِلَّا وَقَدْ وُکِّلَ بِہٖ قَرِےْنُہُ مِنَ الْجِنِّ وَ قَرِےْنُہُ مِنَ الْمَلٰئِکَۃِ قَالُوْا وَاِےَّاکَ ےَا رَسُوْلَ اللّٰہِ قَالَ وَ اِےَّایَ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ اَعَانَنِیْ عَلَےْہِ فَاَسْلَمَ فَلَا ےَاْمُرُنِیْ اِلَّا بِخَےْرٍ۔(صحیح مسلم)

اور حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا تم میں سے کوئی آدمی ایسا نہیں ہے جس کے ساتھ ایک ہمزاد جنوں (شیطان میں سے اور ایک ہمزاد فرشتوں میں سے مقرر نہ کیا گیا ہو، صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ! کیا آپ ﷺ کے ساتھ بھی؟ آپ ﷺ نے فرمایا ہاں میرے ساتھ بھی لیکن اللہ نے مجھ کو اس (جن موکل) سے مقابلہ کرنے میں مدد دے رکھی ہے اس لئے میں اس (کے مکر و فریب اور اس کی گمراہی) سے محفوظ رہتا ہوں، بلکہ یہاں تک کہ) وہ بھی مجھے بھلائی کا مشورہ دیتا ہے۔ (صحیح مسلم) تشریح اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ ہر انسان کے ساتھ موکل ہوتے ہیں ان میں سے ایک تو فرشتہ ہے جو نیکی و بھلائی کی طرف رہنمائی کرتا ہے اور انسان کو اچھی باتیں و نیک کام سکھاتا ہے اور اس کے قلب میں خیر و بھلائی کی چیزیں ڈالا رہتا ہے، اس کو ملہم کہتے ہیں، دوسرا ایک جن (شیطان) ہوتا ہے، جس کا کام یہ ہوتا ہے کہ وہ انسان کو برائی کے راستہ پر ڈالتا رہے۔ چناچہ وہ گناہ و معصیت کی باتیں بتاتا ہے اور دل میں برے خیالات و غلط وسوسے پیدا کرتا رہتا ہے اس کا نام وسواس ہے۔

64Mishkaat-al-Masabih

شیطان انسان کی رگوں میں دوڑتا پھرتا ہے

وَعَنْ اَنَسٍص قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اِنَّ الشَّےْطَانَ ےَجْرِیْ مِنَ الْاِنْسَانِ مَجْرَیْ الدَّمِ ۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم )

اور حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا انسان کے اندر شیطان اس طرح دوڑتا پھرتا ہے جیسے رگوں میں خون گردش کرتا رہتا ہے۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم) تشریح مطلب یہ کہ شیطان انسان کو بہکانے کی کامل قدرت رکھتا ہے۔ صرف یہی نہیں کہ وہ مختلف صورتوں میں اچھے انسانوں اور نیک بندوں کو نیکی و بھلائی کے راستہ پر چلنے میں رکاوٹ پیدا کرتا ہے بلکہ انسان کی داخلی کائنات میں گھس کر اس کے ذہن و فکر اور اس کے قلب و دماغ کو پراگندہ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

65Mishkaat-al-Masabih

ولادت کے وقت بچہ کا رونا شیطانی عمل کا نتیجہ ہوتا ہے

وَعَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَ ص قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم مَا مِنْ بَنِیْ اٰدَمَ مَوْلُوْدٌ اِلَّا ےَمَسُّہُ الشَّےْطَانُ حِےْنَ ےُوْلَدُ فَےَسْتَھِلُّ صَارِخًا مِّنْ مَسِّ الشَّےْطَانِ غَےْرَ مَرْےَمَ وَابْنِھَا۔(صحیح البخاری و صحیح مسلم)

حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بنی آدم کے یہاں جو بھی بچہ پیدا ہوتا ہے شیطان اس کو چھوتا ہے جس کی وجہ سے بچہ چیخ اٹھتا ہے لیکن ابن مریم (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) اور ان کی ماں کو شیطان نے نہیں چھوا۔ (صحیح البخاری و مسلم) تشریح شیطان کے چھونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ ولادت کے وقت بچہ کی کوکھ میں اپنی انگلیاں اس طرح مارتا ہے کہ بچہ تکلیف محسوس کرتا ہے اور چلا چلا کر رونے لگتا ہے۔ اس شیطانی ایذاء کا شکار ہر بچہ ہوتا ہے۔ صرف حضرت مریم (علیہ السلام) اور ان کے بیٹے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اس شیطانی عمل سے محفوظ رہے تھے ان دونوں کا محفوظ رہنا بظاہر اس دعا کی مقبولیت کا نتیجہ تھا جو حضرت مریم کی والدہ نے کی تھی اور جس کو قرآن نے یوں نقل کیا ہے۔ (ا یت اِنِّیْ اُعِیْذُھَابِکَ وَذُرِّیَّتَھَا مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ۔ (ال عمران ٣٦) (اے خدا) میں اس مریم کو اس کی اولاد کو شیطان مردود سے آپ کی پناہ دیتی ہوں۔ یہاں یہ اشکال بھی نہیں کیا جاسکتا کہ اگر شیطان کو اتنی قدرت ہو تو وہ سب کو ہلاک کر دے۔ کیونکہ شیطان کو صرف اتنی ہی قدرت دی گئی ہے وہ اس سے زیادہ اور کچھ نہیں کرسکتا اور نہ اس کے اختیار میں ہے کہ وہ کسی کو اس سے زیادہ تکلیف پہنچا کر ہلاک کر دے، دوسرے شیطان کے مقابلہ میں ملائکہ بھی تو ہوتے ہیں جو نگہبانی کرتے ہیں اس لئے یہ کیسے ممکن ہے کہ اس کو جتنی قدرت دی گئی ہے اس سے تجاوز کر جائے اور اپنے کسی مہلک ارادہ میں کامیاب ہوجائے۔

66Mishkaat-al-Masabih

ولادت کے وقت بچہ کا رونا شیطانی عمل کا نتیجہ ہوتا ہے

وَعَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم صِےَاحُ الْمَوْلُوْدِ حِےْنَ یَقَعُ نَزْغٌ مِّنَ الشَےْطَانِ۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)

اور حضرت ابوہریرہ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا! ولادت کے وقت بچہ اس لئے چلاتا ہے کہ شیطان اس کو کچوکے لگاتا ہے۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)

67Mishkaat-al-Masabih

میاں بیوی کے درمیان شیطان کا پسند یدہ کام

وَعَنْ جَابِرٍص قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اِنَّ اِبْلِےْسَ ےَضَعُ عَرْشَہُ عَلَی الْمَآءِ ثُمَّ ےَبْعَثُ سَرَاےَاہُ ےَفْتِنُوْنَ النَّاسَ فَاَدْنٰھُمْ مِّنْہُ مَنْزِلَۃً اَعْظَمُھُمْ فِتْنَۃً ےَّجِئُ اَحَدُھُمْ فَےَقُوْلُ فَعَلْتُ کَذَا وَکَذَا فَےَقُوْلُ مَا صَنَعْتَ شَےْئًا قَالَ ثُمَّ ےَجِئُ اَحَدُھُمْ فَےَقُوْلُ مَا تَرَکْتُہُ حَتّٰی فَرَّقْتُ بَےْنَہُ وَبَےْنَ امْرَاَتِہٖ قَالَ فَےُدْنِےْہِ مِنْہُ وَےَقُوْلُ نِعْمَ اَنْتَ قَالَ الْاَعْمَشُ اَرَاہُ قَالَ فَےَلْتَزِمُہُ۔ (صحیح مسلم)

اور حضرت جابر ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ابلیس اپنا تخت حکومت پانی (یعنی سمندر) پر رکھتا ہے۔ پھر وہاں سے اپنی فوجوں کو روانہ کرتا ہے تاکہ لوگوں کو فتنہ اور گمراہی میں مبتلا کریں۔ اس کی فوجوں میں ابلیس کا سب سے بڑا مقرب وہ ہے جو سب سے بڑا فتنہ انداز ہو۔ ان میں سے ایک واپس آکر کہتا ہے۔ میں نے فلاں فلاں فتنے پیدا کئے ہیں۔ ابلیس اس کے جواب میں کہتا ہے تو نے کچھ نہیں کیا، رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ پھر ان میں سے ایک آتا ہے اور کہتا ہے! میں نے (ایک بندہ کو گمراہ کرنا شروع کیا اور) اس وقت تک اس آدمی کا پیچھا نہیں چھوڑا جب تک کہ اس کے اور اس کی بیوی کے درمیان جدائی نہ ڈالو دی۔ رسول اللہ فرماتے ہیں کہ ابلیس ( یہ سن کر) اس کو اپنے قریب بٹھا لیتا ہے اور کہتا ہے کہ تو نے اچھا کام کیا (حدیث کے ایک راوی) اعمش فرماتے ہیں میرا خیال ہے جابر ؓ نے بجائے (فیدنیہ کے) فیلتذمہ (پس ابلیس اس کو گلے لگا لیتا ہے) کے الفاظ نقل کئے تھے۔ (صحیح مسلم) تشریح جدائی ڈلوانے سے مراد لڑائی جھگڑے کے ذریعہ مرد کی زبان سے ناسمجھی میں ایسے الفاظ ادا کردینا ہے جس سے اس کی بیوی پر طلاق بائن پڑجائے۔ طلاق بائن میں عورت اپنے خاوند پر حرام ہوجاتی ہے، اس سے شیطان کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ مرد اپنی جہالت کے سبب اس عورت کو اپنے نکاح میں داخل سمجھتے ہوئے اس سے صحبت کرتا رہے جو دراصل حرام کاری ہوتی ہے اور اس طرح کے لوگوں کی حرام کاری کے نتیجہ میں ناجائز اولاد پیدا ہوتی رہے، جس سے روئے زمین پر ناجائز اولاد کی تعداد بڑھتی رہے اور وہ ناجائز پیدا ہونے والے لوگ دنیا میں فسق و فجور اور گناہ و معصیت زیادہ سے زیادہ پھیلاتے رہیں۔

68Mishkaat-al-Masabih

جزیرۃ العرب میں توحید کی مضبوط بنیاد سے شیطان مایوسی کا شکار!

وَعَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اِنَّ الشَّےْطَانَ قَدْ اَےِسَ مِنْ اَنْ ےَّعْبُدَہُ الْمُصَلُّوْنَ فِی جَزِےْرَۃِ الْعَرَبِ وَلٰکِنْ فِی التَّحْرِےْشِ بَےْنَھُمْ۔(صحیح مسلم)

اور حضرت جابر ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا! شیطان اس بات سے مایوس ہوگیا ہے کہ جزیرہ عرب میں مصلی (یعنی مسلمان) اس کی پرستش کریں لیکن ان کے درمیان فتنہ و فساد پھیلانے سے مایوس نہیں ہوا ہے۔ (صحیح مسلم) تشریح مطلب یہ کہ جزیرۃ العرب میں ایمان و اسلام کی جڑیں اتنی مضبوط ہوگئیں ہیں اور توحید کا کلمہ یہاں کے لوگوں کے دل و دماغ میں اس طرح جم گیا ہے کہ اب اس خطہ ارض میں بت پرستی جیسی لعنت کبھی نظر آئے گی چناچہ اس بارے میں شیطان نے بھی اپنی شکست تسلیم کرلی ہے اور وہ اس بات سے قطعا مایوس ہوگیا ہے کہ یہاں کے مومن و مسلمان اس کے بہکاوے میں آکر بت پرستی اور دوسری کھلی ہوئی مشرکانہ حرکتوں میں مبتلا ہوسکتے ہیں، لیکن بہر صورت بہکانا اور ورغلانا چونکہ شیطان کی فطرت ہے اس لئے اس نے جزیرۃ العرب کے لوگوں میں اپنا مشن ختم نہیں کیا ہے اور اس بات میں پر امید ہے کہ ان کے درمیان طرح طرح جذبات ابھار کر ان کو آپس میں لڑایا جاسکتا ہے۔ ان کو افتراق و انتشار کے فتنوں میں مبتلا کیا جاسکتا ہے۔ اس حدیث کے پس منظر میں یہ بات نوٹ کرنے کی ہے کہ زمانہ رسالت سے لے کر آج تک کبھی بھی جزیرۃ العرب میں بت پرستی نہیں ہوئی۔ کھلے ہوئے مشرکانہ اعمال کا کبھی مظاہرہ نہیں ہوا۔ یہ دوسری بات ہے کہ شیطان کمزور عقیدہ لوگوں کو ایمان و اسلام سے منحرف کرنے میں کامیاب ہوگیا، کچھ لوگ مرتد ہوگئے ہوں لیکن ان میں سے بھی کوئی بت پرست ہوگیا ہو ایسا ہرگز نہیں ہوا۔

69Mishkaat-al-Masabih

شیطانی وسوسہ سے محفوظ رہنے پر اللہ کا شکر ادا کرو

عَنِ ابْنِ عَبَّاسِ اَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ جَآءَ ہ، رَجُلٌ فَقَالَ اِنِّی اُحَدِّثُ نَفْسِیْ بِالشَّیْی ءِ لَاَنْ اَکُوْنَ حُمَمَۃً اُحَبُّ اِلَیَّ مِنْ اَنْ اَتَکَلَّمَ بِہٖ قَالَ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ رَدَّ اَمْرَہ، اِلَی الْوَسْوَسَۃِ۔ (رواہ ابوداؤد)

حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں ایک صحابی نے حاضر ہو کر عرض کیا ( یا رسول اللہ) میں اپنے اندر ایسا (برا) خیال پاتا ہوں کہ زبان سے اس کے اظہار کی بجائے جل کر کوئلہ ہوجانا مجھ کو زیادہ پسند ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے (یہ سن کر) فرمایا! اللہ کا شکر ادا کرو جس نے اس خیال کو وسوسہ کی حد تک رکھا۔ (سنن ابوداؤد) تشریح شیطان نے ان صحابی کے اندر کوئی برا خیال ڈال دیا ہوگا جس سے ان کے ایمان کی حسیاتی کیفیت بےچین ہوگئی ہوگی اور وہ بھاگتے ہوئے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئے، رسول اللہ ﷺ نے ان کو تسلی دی کہ اس سے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے، یہ تو اللہ کا بڑا فضل ہے کہ تمہارا ایمانی احساس و شعور پوری طرح بیدار رہے اور اس برے خیال کو خود تمہارے دل و دماغ نے قبول نہیں کیا اور وہ وسوسہ کی حد سے آگے بڑھنے نہیں پایا۔ اس طرح کے وسوسہ پر نہ کوئی مواخذہ ہے اور نہ کسی نقصان کا خدشہ، اس کو تو اللہ تعالیٰ نے معاف قرار دیا ہے، ہاں اگر وہ برا خیال وسوسہ کی حد سے آگے بڑھ کر تمہاری زبان یا عمل سے ظاہر ہوجاتا تو پھر تمہارے لئے خطرہ کی بات تھی۔

70Mishkaat-al-Masabih

اپنے اندر نیکی کی تحریک پر اللہ کا شکر ادا کرو اور شیطان کی وسوسہ اندازی کے وقت اللہ کی پناہ چاہو

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُوْدِ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِنَّ لِلشَّیْطَانِ لَمَّۃً بِاِبْنِ اٰدَمَ وَلِلْمَلَکِ لَمَّۃً فَامَّا لَمَّۃُ الشَّیْطَانِ فَاِیْعَادٌ بِالشَّرِّوَ تَکْذِیْبٌ بِالْحَقِّ وَاَمَّا لَمَّۃُ الْمَلَکِ فَاِیْعَادٌ باِلْخَیْرِوَ تَصْدِیْقٌ بِالْحَقِّ فَمَنْ وَجَدَ ذٰلِکَ فَلْیَعْلَمْ اَنَّہ، مِنَ اﷲِ فَلْیَحْمَدِ اﷲَ وَمَنْ وَجَدَ الْاُخْرٰی فَلْیَتَعَوَّذْ بِاﷲِ مِنَ الشَّیْطَانِ لرَّجِیْمِ ثُمَّ قَرَأَ الشَّیْطَانُ یَعِدُکُمْ الْفَقْرَوَیَأمُرُکُمْ بِالْفَحْشَائِ(البقرۃ٢٦٨) رَوَاہُ الْتِرْمِذِیُّ وَقَالَ ھٰذَا حَدِیْثٌ غَرِیْبٌ۔

اور حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا! حقیقت یہ ہے کہ ہر انسان پر ایک تصرف تو شیطان کا ہوا کرتا ہے اور ایک تصرف فرشتہ کا شیطان کا تصرف تو یہ ہے کہ وہ برائی پر ابھارتا ہے اور حق کو جھٹلاتا ہے اور فرشتہ کا تصرف یہ ہے کہ وہ نیکی پر ابھارتا ہے اور حق کی تصدیق کرتا لہٰذا جو آدمی (نیکی پر فرشتہ کے ابھارنے کی) یہ کیفیت اپنے اندر پائے تو اس کو سمجھنا چاہیے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے (ہدایت) ہے اس پر اس کو اللہ کا شکر بجا لانا چاہیے اور جو آدمی دوسری کیفیت (یعنی شیطان کی وسوسہ اندازی) اپنے اندر پائے تو اس کو چاہیے کہ شیطان مردود سے اللہ کی پناہ طلب کرے پھر آپ ﷺ نے یہ قرآنی آیت پڑھی (جس کا ترجمہ ہے) شیطان تمہیں فقر سے ڈراتا ہے اور گناہ کے لئے اکساتا ہے۔ اس روایت کو جامع ترمذی نے نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے۔ تشریح فرشتہ کے ابھارنے کا مطلب تو یہ ہے کہ وہ نیکی کی اہمیت اور نیکی پر ملنے والے اجر و انعام کی کشش ظاہر کرتا ہے اور انسان کے احساس و شعور میں یہ بات ڈالتا ہے کہ اللہ کا سچا دین ہی انسانیت کی بقا و ترقی کا ضامن ہے اللہ کے رسول جو شریعت لے کر آئے ہیں اسی میں بنی آدم کی دنیاوی اور آخروی نجات پوشیدہ ہے۔ اگر اپنی فلاح و نجات چاہتے ہو تو برائی کے راستہ سے بچو اور نیکی کے راستہ کو اختیار کرو۔ شیطان کا ابھارنا یہ ہوتا ہے کہ وہ راہ حق کو تاریک کر کے دکھاتا ہے وسوسہ اندازی کے ذریعہ دین کی بنیادی باتوں مثلاً تو حید، نبوت آخرت اور دوسرے معتقدات میں تردد و تشکیک پیدا کرتا ہے۔ نیکی کو بدنما صورت میں اور بدی کو اچھی شکل و صورت میں پیش کرتا ہے، انسانی دماغ یہ میں بات بٹھانے کی سعی کرتا ہے کہ اگر ان چیزوں کو اختیار کرو گے جو نیکی سے تعبیر کی جاتی ہیں تو پریشانیاں اٹھاؤ گے، تکلیفیں، برداشت کرو گے، مثلاً توکل و قناعت کی زندگی اختیار کرو گے اور اپنے اوقات کو دنیا سازی میں صرف کرنے کی بجائے اللہ کی عبادت اور دین کی خدمت میں لگاؤ گے تو تم نہ مال دولت حاصل کر پاؤ گے اور نہ دنیا کی کوئی آسائش و راحت اٹھا پاؤ گے، الٹے فقر و محتاجگی میں مبتلا ہوجاؤ گے۔

71Mishkaat-al-Masabih

وسوسے پیدا ہوں تو شیطان کو تھتکار دو اور اللہ تعالیٰ کی پناہ چاہو

وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ اَنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا یَزَالُ النَّاسُ یَتَسَآءَ لُوْنَ حَتّٰی یُقَالَ ھٰذَا خَلَقَ اﷲُ الْخَلْقَ فَمَنْ خَلَقَ اﷲُ فَاِذَا قَالُوْا ذٰلِکَ فَقُوْلُوْا اﷲُاَحَدٌاﷲُا لصَّمَدُ لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُوْلَدْ وَلَمْ یَکُنْ لَّہ، کُفُوًا اَحَدٌ ثُمَّ لِیَتْفُلْ عَنْ یَسَارِہٖ ثَلَاثًا وَلْیَسْتَعِذْ بِاﷲِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ رَوَاہُ اَبُوْدَاؤدَ وَسَنَدْ کُرُ حَدِیْثَ عَمْرِوبْنِ الْاَحْوَصِ فِی بَابِ خُطْبَۃِ یَوْمِ النَّحْرِاِنْ شَآءَ اﷲُ تَعَالیٰ۔

اور حضرت ابوہریرہ ؓ رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا! لوگ (پہلے تو مخلوقات وغیرہ کے بارے میں) پوچھا پوچھی کریں گے۔ اور پھر آخر میں یہ سوال کھڑا کیا جائے گا کہ ساری مخلوقات کو اللہ نے پیدا کیا ہے تو خود اللہ کو کس نے پیدا کیا ہے؟ جب یہ سوال کھڑا کیا جائے تو تم کہو اللہ ایک ہے، اللہ بےنیاز ہے نہ اس نے کسی کو جنا ہے اور نہ کسی نے اس کو جنا ہے۔ اور کوئی اس کا ہمسر (یعنی جوڑا نہیں ہے) پھر اپنی بائیں طرف تین بار تھتکار دو۔ اور شیطان مردود سے اللہ کی پناہ مانگو۔ (ابوداؤد) اور (صاحب مشکوۃ فرماتے ہیں) کہ عمرو بن احوص کی روایت (جس کو صاحب مصابیح نے یہاں نقل کیا تھا) ہم اس کو خطبہ یوم النحر) کے باب میں نقل کریں گے انشاء اللہ تعالیٰ ( کیونکہ وہ روایت اسی باب کے موضوع سے تعلق رکھتی ہے)۔

72Mishkaat-al-Masabih

شیطانی وسوسوں سے چوکنا رہو

وَعَنْ اَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم لَنْ ےَّبْرَحَ النَّاسُ ےَتَسَآءَ لُوْنَ حَتّٰی ےَقُوْلُوْا ھَذَا اللّٰہُ خَلَقَ کُلَّ شَےْئٍی فَمَنْ خَلَقَ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ وَلِمُسْلِمٍ قَالَ قَالَ اَللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ اِنَّ اُمَّتَکَ لَا ےَزَالُوْنَ ےَقُوْلُوْنَ مَا کَذَا مَا کَذَا حَتّٰی ےَقُوْلُوْا ھٰذَا اللّٰہُ خَلَقَ الْخَلْقَ فَمَنْ خَلَقَ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ

حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا! لوگ آپس میں پوچھا پوچھی کرتے رہیں گے (یعنی شیطانی وسوسوں کی صورت میں ان کے اندر اس طرح کے خیالات پیدا ہوتے رہیں گے) کہ جب ہر چیز کو اللہ نے پیدا کیا (تو) اللہ بزرگ و برتر کو کس نے پیدا کیا؟ (صحیح البخاری و صحیح مسلم کی روایت میں یوں ہے! انس ؓ نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا! اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ آپ ﷺ کی امت کے لوگ (اگر شیطان کے وسوسہ اندازی سے چوکنا نہ رہے تو پہلے) یوں کہیں گے کہ یہ کیا ہے؟ اور یہ کیسے ہوا؟ ( یعنی مخلوقات کے بارے میں تحقیق و تجسس کریں گے) اور پھر آخر میں یہ کہیں گے کہ تمام چیزوں کو اللہ نے پیدا کیا ہے تو اللہ بزرگ و برتر کو کس نے پیدا کیا؟۔

73Mishkaat-al-Masabih

نماز کے دوران شیطان کی خلل اندازی

وَعَنْ عُثْمَانَ بْنِ اَبِی الْعَاصِ ث قَالَ قُلْتُ ےَا رَسُوْلَ اللّٰہِ اِنَّ الشَّےْطٰنَ قَدْ حَالَ بَےْنِیْ وَبَےْنَ صَلٰوتِیْ وَبَےْنَ قِرَأَتِیْ ےُلَبِّسُھَا عَلَیَّ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم ذَاکَ شَےْطَانٌ ےُّقَالُ لَہُ خِنْزَبٌ فَاِذَا اَحْسَسْتَہُ فَتَعَوَّذْ بِاللّٰہِ مِنْہُ وَاتْفُلْ عَلٰی ےَسَارِکَ ثَلٰثًا فَفَعَلْتُ ذٰلِکَ فَاَذْھَبَہُ اللّٰہُ عَنِّی (صحیح مسلم)

اور حضرت عثمان ابن ابی العاص ( عثمان بن ابی العاص کی کنیت ابوعبداللہ ہے قبیلہ ثقیف سے تعلق رکھتے ہیں اس لئے تقفی کہلاتے ہیں آپ قبیلہ ثقیتف کے وفد کے ہمراہ دربار رسالت میں حاضر ہوئے اور رسول اللہ ﷺ کے دست مبارک پر اسلام قبول کر کے ہدایت سے مشرف ہوئے۔ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے ان کو اپنے قبیلہ کا امیر مقرر کردیا تھا وفات نبوی کے بعد جب اہل طائف ارتداد کی طرف مائل ہونے لگے تو عثمان بن ابی العاص ہی کی ذات تھی جس نے ان کو ارتداد سے باز رکھا آپ نے بصرہ میں ٥١ ھ میں وفات پائی)۔ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ! میرے اور میری نماز اور میری قرأت کے درمیان شیطان حائل ہوجاتا ہے اور ان چیزوں میں شبہ ڈالتا رہتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ وہ شیطان ہے جس کو خنزب کہا جاتا ہے۔ پس جب تمہیں اس کا احساس ہو ( کہ شیطان وسو اس و شبہات میں مبتلا کرے گا) تو تم اس (شیطان مردود) سے اللہ کی پناہ مانگو اور بائیں طرف تین دفعہ تھتکار دو۔ حضرت عثمان غنی ؓ فرماتے ہیں کہ (رسول اللہ ﷺ کے اس ارشاد کے مطابق) میں نے اسی طرح کیا تو اللہ تعالیٰ نے مجھے اس کے وسو اس و شبہات سے محفوظ رکھا۔ (صحیح مسلم)

74Mishkaat-al-Masabih

وہم اور سوسہ کو نظر انداز کر کے اپنی نماز جاری رکھو

وَعَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدِ اَنَّ رَجُلًا سَأَلَہ، فَقَالَ اِنِّیْ اَھِمُ فِیْ صَلَاتِیْ فَیَکْبُرُ ذٰلِکَ عَلَیَّ فَقَالَ لَہ، اِمْضِ فِیْ صَلَاتِکَ فَاِنَّہ، لَنْ یَذْھَبَ ذٰلِکَ عَنْکَ حَتّٰی تَنْصَرِفَ وَاَنْتَ تَقُوْلُ مَا اَتْمَمْتُ صَلَاتِیْ۔ (رواہ موطا امام مالک)

اور حضرت قاسم بن محمد ( آپ حضرت ابوبکر صدیق کے پوتے اور محمد بن ابوبکر صدیق کے صاحب زادے ہیں، مدینہ کے سات مشہور فقہاء میں سے ایک آپ بھی ہیں اکابر اور جلیل القدر تابعین میں آپ کا شمار ہوتا ہے یحییٰ بن سعید کا قول ہے کہ ہم نے مدینہ میں قاسم بن محمد سے زیادہ افضل کسی کو نہیں پایا بعمر ٧٠ سال ١٠١ ھ میں آپ کا انتقال ہوا)۔ سے ایک آدمی نے عرض کیا کہ مجھے اپنی نماز میں وہم ہوتا رہتا ہے (یعنی کبھی تو یہ شک ہوتا ہے کہ میری نماز درست ادا نہیں ہوئی کبھی یہ وہم ہوجاتا ہے کہ ایک رکعت پڑھنے سے رہ گئی ہے) اس کی وجہ سے مجھے گرانی ہوتی ہے؟ انہوں نے فرمایا (تم اس طرح کے خیال پر دھیان نہ دو اور) اپنی نماز پوری کرو، اس لئے کہ وہ (شیطان) تم سے جب ہی دور ہوگا کہ تم اپنی نماز پوری کرلو اور کہو کہ ہاں میں نے اپنی نماز پوری نہیں کی۔ (مالک) تشریح نماز ہی وہ سب سے اہم عبادت ہے جس میں اللہ کے نیک بندوں کا بہکانے اور ورغلانے کے لئے شیطان اپنی سعی و کوشش سب سے زیادہ صرف کرتا ہے یہ شیطان کی تخریب کاری ہوتی ہے۔ جو عام لوگوں کو نماز کے دوران پوری ذہنی یکسوئی سے محروم رکھتی ہے اور جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ نماز کی نیت باندھتے ہیں دل و دماغ میں دنیا بھر کے خیالات کا اجتماع ہونا شروع ہوجاتا ہے وہ باتیں جو کبھی یاد نہیں آتیں نماز ہی کے دوران ذہن میں کلبلانے لگتی ہیں۔ شیطان طرح طرح کے وسوسے اور خیالات پیدا کرتا رہتا ہے، کبھی تو یہ پھونک دیتا ہے کہ نماز مکمل نہیں ہوئی ہے بلکہ ایک رکعت یا دو رکعت چھوٹ گئی ہے، کبھی یہ وہم گزار دیتا ہے کہ نماز صحیح نہیں ہوئی ہے۔ فلاں رکن ترک ہوگیا ہے۔ قرأت میں فلاں آیت چھوٹ گئی ہے۔ اس وسوسہ اندازی سے شیطان کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ اپنی نماز کا سلسہ منقطع کر دے اور نیت توڑ دے شیطان کی اس تخریب کاری سے محفوظ رہنے کا طریقہ یہ بتایا گیا ہے کہ جب شیطانی اثر سے اس طرح کے واہمے اور شکوک پیدا ہوں تو اپنی نماز کا سلسلہ منقطع نہ کرو، نیت نہ توڑو، بلکہ نماز پوری کرو اور شیطان سے کہو کہ ہاں میں غلطی کر رہا ہوں، نماز میری درست نہیں ہو رہی ہے لیکن میں نماز پڑھوں گا اور تیرے کہنے پر عمل نہیں کروں گا۔ علماء لکھتے ہیں کہ یہ طریقہ شیطانی اثرات سے محفوظ رہنے کے لئے بہت ہی کارگر ہے۔ اس لئے کہ اس طرح شیطان نمازی سے مایوس ہوجاتا ہے اور جب وہ یہ جان لیتا ہے کہ یہ میرے قبضے میں آنے والا نہیں ہے تو اس کے پاس سے ہٹ جاتا ہے۔ لیکن یہ بات ذہن نشین رہے کہ یہ حکم اس وقت ہے جب کہ نمازی کو یقین ہے کہ میں نماز ٹھیک پڑھ رہا ہوں، نماز کے ارکان و افعال اور قرأت میں کوئی کوتاہی یا غلطی واقع نہیں ہو رہی ہے اور اگر واقعی اس کی نماز میں کوئی کوتاہی واقع ہو رہی ہے یا ارکان کی ادائیگی میں غلطی ہو رہی ہے اور اس کا احساس ہو رہا ہے تو اس غلطی و کوتاہی کو دور کرنا اور نماز کی صحت و درستی کی طرف متوجہ ہونا ضروری ہے۔ دراصل اس حکم ( کہ شیطانی خلل اندازی سے صرف نظر کر کے اپنی پوری کرو) کا بنیادی مقصد اس طرف متوجہ کرنا ہے کہ شیطان سے چوکنا رہو، اس کو اثر انداز ہونے کا موقع نہ دو اپنے دل و دماغ کو اتنا پاکیزہ اور مجلی رکھو کہ شیطانی وسوسوں اور واہموں کو راہ نہ ملے۔ نماز اس قدر ذہنی یکسوئی توجہ اور حضور قلب کے ساتھ پڑھو کہ شیطان تمہارے پاس آنے کا ارادہ ہی نہ کرے اس حکم کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ غیر درست عمل کو درست نہ کرو اور سہل انگاری دکھاؤ۔

75Mishkaat-al-Masabih

تقدیر پر ایمان لانے کا بیان

تقدیر پر ایمان لانا فرض اور لازم ہے یعنی وجود ایمان کے لئے یہ اعتقاد رکھنا ضروری ہے کہ بندوں کے تمام اعمال خواہ وہ نیک ہوں یا بد، ان کے پیدا ہونے سے پہلے ہی لوح محفوظ میں لکھ دیئے گئے ہیں، بندہ سے جو عمل بھی سر زد ہوتا ہے وہ اللہ کے علم و اندازہ کے مطابق ہوتا ہے، لیکن اللہ نے انسان کو عقل و دانش کی دولت سے نواز کر اس کے سامنے نیکی اور بدی دونوں راستے واضح کردیئے ہیں اور ان پر چلنے کا اختیار دے دیا اور بتادیا کہ اگر نیکی کے (راستہ کو) اختیار کرو گے تو اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کا باعث ہوگا جس پر جزاء و انعام سے نوازے جاؤ گے اور اگر بدی کے راستہ کو اختیار کرو گے تو یہ اللہ کے غضب اور اس کی ناراضگی کا باعث ہوگا جس کی وجہ سے سزا اور عذاب کے مستحق گردانے جاؤ گے۔ اب اس واضح اور صاف ہدایت کے بعد جو آدمی نیکی و بھلائی کے راستہ کو اختیار کرتا ہے تو وہ ازراہ فضل و کرم اللہ کی رحمت سے نوازا جائے گا اور اس پر اللہ کی جانب سے فلاح وسعادت کے دروازے کھول دیئے جائیں گے اور اگر کوئی عقل کا اندھا اپنے کسب و اختیار سے برائی کے راستہ کو اختیار کرتا ہے تو وہ ازراہ عدل سزا کا مستوجب ہوگا اور اسے عذاب و تباہی کے غار دوزخ میں پھینک دیا جائے گا۔ یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ تقدیر کا مسئلہ عقل و فکر کی رسائی سے باہر ہے کیونکہ یہ اللہ کا ایسا ایک راز ہے جس کا انسانی عقل میں آنا تو درکنار اسے نہ تو کسی مقرب فرشتہ پر ظاہر کیا گیا ہے اور نہ ہی اس کا بھید کسی پیغمبر اور رسول کو معلوم ہے۔ اس لئے اس مسئلہ میں زیادہ غور و فکر کرنا اور اس میدان میں عقل کے گھوڑے دوڑانا جائز نہیں ہے بلکہ تحقیق و جستجو کے تمام راستوں سے ہٹ کر صرف یہ اعتقاد رکھنا ہی فلاح وسعادت کا ضامن ہے کہ اللہ نے یہ مخلوق پیدا کر کے ان کو دو گروہوں میں تقسیم کردیا ہے، ایک گروہ وہ ہے جو اچھے اعمال اور نیک کام کرنے کی بنا پر اللہ کی جنت اور اس کی نعمتوں کا مستحق ہوگا جو محض اس کا فضل و کرم ہوگا۔ اور دوسرا گروہ وہ ہے جو برے اعمال کرنے کی وجہ سے دوزخ میں ڈالا جائے گا جو عین عدل ہوگا۔ منقول ہے کہ ایک آدمی نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے قضا وقدر کے بارے میں سوال کیا، حضرت علی ؓ نے فرمایا یہ ایک بڑا راستہ ہے اس پر نہ چلو اس آدمی نے پھر یہی سوال کیا انہوں نے فرمایا یہ ایک گہرا دریا ہے، اس میں نہ اترو وہ آدمی نہ مانا اور اس نے پھر سوال کیا۔ آخر میں حضرت علی ؓ نے فرمایا یہ اللہ کا ایک راز ہے جو تم سے پوشیدہ ہے اس لئے اس کی تفتیش و تحقیق میں مت پڑو۔ لہٰذا اخروی سعادت اسی میں ہے کہ اس مسئلہ کے بارے میں اللہ اور اللہ کے رسول نے جو کچھ بتایا ہے اور جن اعتقادات کو ماننے کے لئے کہا ہے اس پر عمل پیرا ہوجائے، ورنہ اپنی عقل کے تیر چلانا درحقیقت گمراہی کا راستہ اختیار کرنا اور تباہی و بربادی کی راہ پر لگنا ہے۔

76Mishkaat-al-Masabih

تقدیر پر ایمان لانے کا بیان

وَعَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو رَضِیَ اللّٰہُ عَنْھُمَا قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم کَتَبَ اللّٰہُ مَقَادِےْرَ الْخَلَائِقِ قَبْلَ اَنْ ےَّخْلُقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ بِخَمْسِےْنَ اَلْفَ سَنَۃٍ قَالَ وَکَانَ عَرْشُہُ عَلَی الْمَاءِ ۔ (صحیح مسلم)

اور حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے سے پچاس ہزار برس پہلے مخلوقات کی تقدیروں کو لکھا ہے۔ اور فرمایا (اس وقت) اللہ تعالیٰ کا عرش پانی پر تھا۔ (صحیح مسلم) تشریح ظاہر ہے کہ اللہ کی ذات اجسام ظاہری اور مادیات کی ثقاوت سے پاک ہے اس لئے یہ تو نہیں کہا جاسکتا کہ اللہ نے خود اپنے ہاتھ سے تقدیریں لکھ دی تھیں، بلکہ اس کا مطلب یہی ہے کہ خدا نے تمام مخلوقات کو پیدا کرنے سے پہلے ہی ان کی تقدیریں قلم کو جاری ہونے کا حکم دے کر اس کے ذریعہ لوح محفوظ میں ثبت کردی تھیں، یا یہ کہ فرشتوں کو حکم دے کر ان سے تقدیریں لکھوادی تھیں۔ منقول ہے کہ زمین و آسمان اور تمام مخلوق کے پیدا ہونے سے پہلے پانی ہی پانی تھا اور کہا جاتا ہے کہ پانی کا استقرار ہوا پر تھا اور ہوا اللہ کی قدرت پر قائم تھی۔ اس لئے فرمایا گیا کہ اس عالم میں ازل سے لے کر ابد تک ہونے والے تمام واقعات و اعمال اسی وقت اللہ کے علم میں تھے۔ جب کہ یہ زمین و آسمان بھی پیدا نہیں ہوئے تھے اور اس کا عرش پانی پر تھا جس کے درمیان کوئی دوسری چیز حائل نہیں تھی۔

77Mishkaat-al-Masabih

تقدیر پر ایمان لانے کا بیان

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَث قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم کُلُّ شَیْءٍ بِقَدَرٍ حَتَّی الْعَجْزُ وَالْکَےْسُ۔

اور حضرت عبداللہ بن عمر فاروق ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہر چیز تقدیر سے ہوتی ہے، یہاں تک کہ دانائی اور نادانی۔ (صحیح مسلم)

78Mishkaat-al-Masabih

تقدیر پر ایمان لانے کا بیان

عَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَص قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اِحْتَجَّ اٰدَمُ وَمُوْسٰی عِنْدَ رَبِّھِمَا فَحَجَّ اٰدَمُ مُوْسٰی قَالَ مُوْسٰی اَنْتَ اٰدَمُ الَّذِیْ خَلَقَکَ اللّٰہُ بِےَدِہٖ وَنَفَخَ فِےْکَ مِنْ رُّوْحِہٖ وَاَسْجَدَ لَکَ مَلٰئِکَتَہُ وَاَسْکَنَکَ فِیْ جَنَّتِہٖ ثُمَّ اَھْبَطْتَّ النَّاسَ بِخَطِےْئَتِکَ اِلَی الْاَرْضِ قَالَ اٰدَمُ اَنْتَ مُوْسٰی الَّذِی اصْطَفَاکَ اللّٰہُ بِرِسَالَتِہٖ وَبِکَلَامِہٖ وَاَعْطَاکَ الْاَلْوَاحَ فِےْھَا تِبْےَانُ کُلِّ شَیْءٍ وَقَرَّ بَکَ نَجِّےًا فَبِکَمْ وَجَدتَّ اللّٰہَ کَتَبَ التَّورٰۃَ قَبْلَ اَنْ اُخْلَقَ قَالَ مُوْسٰی بِاَرْبَعِےْنَ عَامًا قَالَ اٰدَمُ فَھَلْ وَجَدْتَّ فِےْھَا وَعَصٰی اٰدَمُ رَبَّہُ فَغَوٰی قَالَ نَعَمْ قَالَ اَفتَلُوْمُنِی عَلٰی اَنْ عَمِلْتُ عَمَلًا کَتَبَہُ اللّٰہُ عَلَیَّ اَنْ اَعْمَلَہُ قَبْلَ اَنْ ےَّخْلُقَنِیْ بِاَرْبَعِےْنَ سَنَۃً قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم فَحَجَّ اٰدَمُ مُوْسَی۔(صحیح مسلم)

اور حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا (عالم رواح میں) آدم و موسیٰ علیہما السلام نے اپنے پروردگار کے سامنے مناظرہ کیا اور حضرت آدم (علیہ السلام) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر غالب آگئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا آپ وہی آدم ہیں جن کو اللہ نے اپنے ہاتھ سے بنایا تھا آپ میں اپنی روح پھونکی تھی، فرشتوں سے آپ کو سجدہ کرایا تھا اور اپنی جنت میں آپ کو رکھا تھا اور پھر آپ نے اپنی خطاء سے لوگوں کو زمین پر اتروا دیا تھا (یعنی اگر آپ خطا نہ کرتے تو یہاں زمین پر نہ اتارے جاتے اور آپ کی اولاد اس دنیا میں نہ پھیلتی بلکہ جنت میں رہتی) آدم (علیہ السلام) نے کہا تم وہی موسیٰ ہو جن کو اللہ نے اپنے منصب رسالت سے نواز کر برگزیدہ کیا اور ہم کلامی کے شرف سے مشرف فرمایا تھا اور تم کو وہ تختیاں دی تھیں جن میں ہر چیز کا بیان تھا اور پھر تم کو سر گوشی کے لئے تقرب کی عزت بخشی تھی اور کیا تم جانتے ہو اللہ نے میری پیدائش سے کتنے عرصہ پہلے تورات کو لکھ دیا تھا؟ موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا چالیس سال پہلے! آدم علیہ ا السلام نے پوچھا کیا تم نے تورات میں یہ لکھے ہوئے الفاظ نہیں پائے (ا یت وعصی آدم ربہ فغوی) (یعنی آدم نے اپنے رب کی نافرمانی کی اور گمراہ ہوگیا۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے کہاں ہاں۔ آدم (علیہ السلام) نے کہا پھر تم مجھ کو میرے اس عمل پر کیوں ملامت کرتے ہو جس کو اللہ نے میری پیدائش سے چالیس سال پہلے میرے لئے لکھ دیا تھا، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اس دلیل سے) آدم (علیہ السلام) موسیٰ (علیہ السلام) پر غائب آگئے۔ (صحیح مسلم) تشریح حضرت آدم (علیہ السلام) نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے سامنے جو دلیل پیش کی اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اللہ نے چونکہ میری پیدائش سے بھی چالیس سال پہلے یہ لکھ دیا تھا کہ میں شیطان کے گمراہ کرنے کی وجہ سے بہک جاؤں گا اور اللہ کے حکم کی نافرمانی کر کے شجر ممنوع کا استعمال کرلوں گا۔ لہٰذا اس میں میرے کسب و اختیار کو کوئی دخل نہیں ہے بلکہ یہ گمراہی میرے مقدر میں لکھی گئی تھی اس لئے اس کا مجھ سے صادر ہونا لازم و ضروری تھا لہٰذا میں مورد الزام نہیں ٹھہر سکتا۔ علامہ تورپشتی فرماتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ چونکہ اللہ تعالیٰ نے اس گمراہی کو میری پیدائش سے بھی پہلے میرے لئے لوح محفوظ میں مقدر فرما دیا تھا جس کا ملطب یہ تھا کہ وہ ضرور بروقت وقوع پذیر ہوگی، لہٰذا جب وقت مقدر آپہنچا تو یہ کیسے ممکن تھا کہ امر مقدر اور اللہ تعالیٰ کے علم کے خلاف دہ عمل ممنوع سر زد نہ ہوتا چناچہ تم مجھ پر یہ الزام تو ڈال رہے ہو اور تمہیں سبب ظاہری یعنی میرا کسب و اختیار تو یاد رہا لیکن اصل چیز یعنی مقدر سے تم صرف نظر کر گئے۔ حضرت آدم و موسیٰ علیہما السلام کا مناظرہ اس عالم دنیا میں نہیں ہوا جہاں اسباب سے قطع نظر درست نہیں ہے بلکہ یہ مناظرہ عالم بالا میں ان دونوں کی روجوں کے درمیان ہوا تھا۔ اسی لئے یہاں یہ بات بطور خاص ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ اگر کوئی عاصی و گناہ گار اس قسم کی دلیل کا سہارا لینے لگے تو وہ اس کے لئے کار آمد نہیں ہوگی، کیونکہ حضرت آدم کا معاملہ اس جہاں میں تھا جہاں وہ اسباب کے مکلف نہیں تھے اور پھر ان کی یہ خطاء بارگارہ الوہیت سے معاف بھی کردی گئی تھی، لہٰذا یہاں تو کسب و اختیار اور ابواب کی بنا پر مواخذہ ہوگا کہا جاتا ہے کہ حضرت موسیٰ پر جو تختیاں اتری تھیں وہ زمرد کی تھیں اور ان کی تعداد اتنی زیادہ تھی کہ ستر اونٹوں پر لادی جاتی تھیں، ان تختیوں میں ان کی قوم کے لئے اللہ کی جانب سے احکام و مسائل لکھے ہوئے تھے، ان تختیوں میں جو مضامین مذکور تھے وہ قدیم ہیں لہٰذا چالیس سال کی تحدید ان مضامین کے بارے میں نہیں ہوگی بلکہ یہ کہا جائے گا کہ وہ مضامین جو ان تختیوں پر لکھے گئے تھے، ان کے لکھنے کی مدت آدم کی پیدائش سے چالیس سال قبل ہے۔

79Mishkaat-al-Masabih

تقدیر پر ایمان لانے کا بیان

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍرَضِیَ اللّٰہُ عَنْہ قَالَ حَدَّثَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم وَھُوَ الصَّادِقُ الْمَصْدُوْقُ اِنَّ خَلْقَ اَحَدِکُمْ ےُجْمَعُ فِیْ بَطْنِ اُمِّہٖ اَرْبَعِےْنَ ےَوْمًا نُّطْفَۃً ثُمَّ ےَکُوْنُ عَلَقَۃً مِثْلَ ذٰلِکَ ثُمَّ ےَکُوْنُ مُضْغَۃً مِثْلَ ذٰلِکَ ثُمَّ ےَبْعَثُ اللّٰہُ اِلَےْہِ مَلَکًا بِاَرْبَعِ کَلِمَاتٍ فَےَکْتُبُ عَمَلَہُ وَاَجَلَہُ وَ رِزْقَہُ وَشَقِیٌّ اَوْ سَعِےْدٌ ثُمَّ ےُنْفَخُ فِےْہِ الرُّوْحُ فَوَالَّذِیْ لَا اِلٰہَ غَےْرُہُ اِنَّ اَحَدَکُمْ لَےَعْمَلُ بِعَمَلِ اَھْلِ الْجَنَّۃِ حَتّٰی مَا ےَکُوْنَ بَےْنَہُ وَبَےْنَھَا اِلَّا ذِرَاعٌ فَےَسْبِقُ عَلَےْہِ الْکِتَابُ فَےَعْمَلُ بِعَمَلِ اَھْلِ النَّارِ فَےَدْخُلُھَاوَاِنَّ اَحَدَکُمْ لَےَعْمَلُ بِعَمَلِ اَھْلِ النَّارِ حَتّٰی مَا ےَکُوْنَ بَےْنَہُ وَبَےْنَھَا اِلَّا ذِرَاعٌ فَےَسْبِقُ عَلَےْہِ الْکِتَابُ فَےَعْمَلُ بِعَمَلِ اَھْلِ الْجَنَّۃِ فَےَدْخُلُھَا۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم )

اور حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ راوی ہیں کہ صادق و مصدوق سرکار دو عالم ﷺ نے ہم سے فرمایا۔ تم میں سے ہر آدمی کی تخلیق اس طرح ہوتی ہے کہ (پہلے) اس کا نطفہ ماں کے پیٹ میں چالیس دن جمع رہتا ہے، پھر اتنے ہی دنوں یعنی چالیس دن کے بعد وہ جما ہوا خون بنتا ہے۔ پھر اتنے ہی دنوں کے بعد وہ لوتھڑا ہوجاتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ اس کے پاس ایک فرشتہ کو چار باتوں کے لکھنے کے لئے بھیجتا ہے، چناچہ وہ فرشتہ اس کے عمل اس کی موت (کا وقت) اس کے رزق (کی مقدار) اور اس کا بدبخت و نیک بخت ہونا اللہ کے حکم سے اس کی تقدیر میں لکھ دیتا ہے قسم ہے اس ذات کی جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے تم میں سے ایک آدمی جنت والوں کے سے عمل کرتا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ اس کے اور جنت کے درمیان صرف ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے کہ تقدیر کا لکھا ہوا آگے آتا ہے۔ اور وہ دوزخیوں کے سے کام کرنے لگتا ہے اور دوزخ میں داخل ہوجاتا ہے اور تم میں ایک آدمی دوزخیوں کے سے اعمال کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ اس کے اور دوزخ کے درمیان ہاتھ بھر کا فاصلہ رہ جاتا ہے کہ تقدیر کا لکھا سامنے آتا ہے اور وہ جنت والوں کے سے کام کرنے لگتا ہے اور جنت میں داخل ہوجاتا ہے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح ایسا کم ہوتا ہے کہ لوگ بھلائی کے راستہ کو چھوڑ کر برائی کا راستہ اختیار کرتے ہوں لیکن اللہ کی رحمت کاملہ کے صدقے اکثر ایسا ہی ہوتا ہے کہ جو لوگ بدبختی و برائی کے راستہ کو اختیار کئے ہوئے ہوتے ہیں وہ بھلائی کی طرف آجاتے ہیں اور نیکی کے راستہ کو اختیار کرلیتے ہیں۔ اس حدیث نے اس طرف اشارہ کردیا ہے کہ ابدی نجات و عذاب کا دار و مدار خاتمہ پر ہے، اگر کسی کی پوری زندگی گناہ و معصیت یا کفر و شرک میں گزری لیکن اس نے آخر وقت میں صدق دل سے اپنی بداعمالیوں اور گمراہی پر نادم و شرمسار ہو کر نیک بختی وسعادت کے راستہ کو اختیار کرلیا تو وہ نجات پا جائے گا۔ اسی طرح اگر کوئی آدمی تمام عمر نیکی و بھلائی کرتا رہا اور اس کی تمام زندگی اللہ اور اللہ کے رسول کی اطاعت و فرمانبرداری میں گزری لیکن آخر وقت میں وہ شیطان کی گمراہی یا اپنے نفس کی شرارت سے گمراہ ہوگیا اور اس نے اپنی حیات کے آخری لمحوں کو برائی و بدبختی کی بھینٹ چڑھا دیا تو وہ اپنی زندگی بھر کی نیکیوں کے باوجود اللہ تعالیٰ کے عذاب میں مبتلا کیا جائے گا۔ لہٰذا اس حدیث سے ظاہر ہوا کہ بھلائی و بہتری اور اخروی نجات اسی میں ہے کہ بندہ ہمیشہ اطاعت الہٰی اور فرمان نبوی ﷺ کی بجا آوری میں مصروف رہے، اس کی زندگی کا کوئی لمحہ بھی حدود شریعت سے تجاوز کرنے نہ پائے اور ہر آنے والے لمحہ کو یہ سوچ کر کہ شاید میری زندگی کا یہ آخری لمحہ ہو نیکی و بھلائی میں صرف کرتا رہے تاکہ خاتمہ بالخیر کی سعادت سے نوازا جائے۔ اس موقع پر اتنی بات اور بھی ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ جو لوگ قضا و قدر کے مسئلوں کو دیکھ کر یہ نظریہ قائم کر بیٹھے ہیں کہ جب نجات و عذاب، نیک بختی و بدبختی اور جنت و دوزخ کا ملنا تقدیری چیز ہے تو عمل کی کیا ضرورت ہے؟ وہ سخت گمراہی میں مبتلا ہیں چناچہ بعض صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے بھی جو اس مسئلہ کی حقیقت کو نہیں سمجھ پائے تھے سرکار دو عالم ﷺ کے سامنے اس قسم کی بات کہی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم عمل کئے جاؤ کیونکہ جس کے مقدر میں جو کچھ لکھا ہے اس پر اس کو اختیار بھی دیا گیا ہے۔ یعنی قضا و قدر پر بھروسہ کر کے تمہارا عمل میں توقف کرنا یا عمل سے انکار کرنا کوئی کار آمد نہیں ہوگا اس لئے کہ احکام شارع کی جانب سے وارد ہوئے ہیں اور اس کے ساتھ ہی تم کو سوچنے سمجھنے کی قابلیت اور نیکی و بدی میں امتیاز کرنے کی صلاحیت بھی دی گئی ہے، نیز تمہارے اندر قصد و جہد کا مادہ بھی پیدا کیا گیا ہے تاکہ تم ان اسباب کے ذریعہ عمل کرسکو، لہٰذا اب اگر تم قضا و قدر کا سہارا لے کر اسباب سے قطع نظر کرو گے اور اعمال کو چھوڑ دو گے تو تباہی و بربادی کے غار میں جا گرو گے۔ ہاں یہ اللہ کی یقینا کوئی مصلحت ہوگئی جس کی حقیقت و حکمت کو تو وہی جانتا ہے کہ ایک طرف تو اس نے قضا و قدر کے مسئلہ کو سامنے کردیا دوسری طرف اعمال و افعال کے کرنے کا حکم دیا اور پھر اس مسئلہ میں تحقیق و تفتیش کرنے سے بھی منع فرما دیا اور پھر قضا و قدر کے سہارے اعمال کی ضرورت سے انکار کردیا جائے تو اس کا کیا جواب ہوگا کہ اللہ کی جانب سے شریعت کا اتارنا، احکام بھیجنا اور رسولوں کی بعثت جن کا مقصد احکام الٰہی پر عمل کرنے کی ترغیب دینا ہوتا تھا بلا وجہ ہوئی کیونکہ جب محض تقدیر پر بھروسہ ہوگا کہ جس کے مقدر میں جنت میں جانا لکھا ہوگا وہ جنت میں یقینا جائے گا اور جس کے مقدر میں دوزخ لکھی ہوگی اور دوزخ میں یقینا جائے گا تو ان رسولوں کی بعثت اور احکام و اعمال کی بجا آوری کی تاکید کی کوئی ضرورت باقی نہیں رہے گی، لہٰذا اس حیثیت سے بھی دیکھا جائے تو یہ خیال غلط ثابت ہوگا۔ بہر حال جس طرح اور بہت سے اسرار الہٰی ہیں کہ ان کی بندوں کو خبر نہیں ہے اسی طرح یہ بھی ایک راز ہے جو بندوں سے پوشیدہ رکھا گیا ہے، اس لئے کسی کے ظاہری عمل کو دیکھ کر اس کے جنتی یا دوزخی ہونے کا حکم نہیں لگایا جاسکتا بلکہ یہ اللہ کی مرضی پر موقوف ہے کہ (ا یت یعذب من یشاء و یرحم من یشاء) ( یعنی وہ جس کو چاہے (بداعمالیوں کی بنا پر) عذاب میں مبتلا کر دے اور جس کو چاہے اپنے فضل و کرم سے بخش دے)۔

80Mishkaat-al-Masabih

تقدیر پر ایمان لانے کا بیان

وَعَنْ سَہْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اِنَّ الْعَبْدَ لَیَعْمَلُ عَمَلَ اَھْلِ النَّارِ وَاِنَّہُ مِنْ اَھْلِ الْجَنَّۃِ وَ یَعْمَلُ عَمَلَ اَھْلِ الْجَنَّہِ وَاِنَّہُ مِنْ اَھْلِ النَّار وَاِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالْخَوَاتِیْمِ o (صحیح البخاری و صحیح مسلم)

اور حضرت سہل بن سعد ( سہل بن سعد بن مالک کا پہلا نام حزن تھا لیکن بعد میں رسول اللہ ﷺ نے سہل رکھا، کنیت ابوالعباس اور بعض نے ابویحیی بھی لکھی ہے مدینہ میں ٨٨ ھ میں بعمر ٩٦ سال آپ کا انتقال ہوا)۔ راوی ہیں کہ آقائے نامدار ﷺ نے فرمایا بندہ دوزخیوں کے سے کام کرتا رہتا ہے لیکن وہ جنتی ہوتا ہے اور جنت والوں کے سے کام کرتا ہے لیکن وہ دوزخی ہوتا ہے کیونکہ (نجات و عذاب کا) دار و مدار خاتمہ کے عمل پر ہے۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم) تشریح اس حدیث نے پہلی حدیث کی توثیق کردی ہے کہ اعمال سابق کا اعتبار نہیں ہوگا بلکہ ان اعمال کا اعتبار ہوگا جس پر کا خاتمہ ہوا ہے اس لئے کسی کی نجات و عذاب کا دار و مدار اس کے خاتمہ پر ہوگا، خاتمہ بالخیر ہوگا تو اللہ کی نعمتوں اور اس کی جنت کی سعادت سے نوازا جائے گا اور اگر خدانخواستہ خاتمہ خیر پر نہیں ہوا تو پھر عذاب میں مبتلا کیا جائے گا۔ چنانچہ اس حدیث نے صراحۃً یہ بات واضح کردی کہ بندہ کو چاہیے کہ وہ اپنی زندگی کا ایک ایک لمحہ اطاعت الہٰی میں مصروف رہے اور ہر وقت معاصی و گناہ سے بچتا رہے اس لئے کہ نامعلوم اس کا وقت آخر کب آجائے اور وہ کسی گناہ میں مبتلا ہو کہ اچانک موت کا زبردست پنجہ اس کا گلا دبوچ لے اور اسے توبہ کی بھی مہلت نہ ملے جس کے نتیجہ میں وہاں کے دائمی خسران و عذاب میں گرفتار ہوجائے۔