Mishkaat-al-Masabih

All 6,333 hadiths in order · Page 5 of 317

81Mishkaat-al-Masabih

تقدیر پر ایمان لانے کا بیان

وَعَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَاقَالَتْ دُعِیَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اِلٰی جَنَازَۃِ صَبِیٍّ مِّنَ الْاَنْصَارِ فَقُلْتُ ےَا رَسُوْلَ اللّٰہِ طُوْبٰی لِھَذَا عُصْفُوْرٌ مِّنْ عَصَافِےْرِ الْجَنَّۃِ لَمْ ےَعْمَلِ السُّوْءَ وَلَمْ ےُدْرِکْہُ فَقَالَ اَوْغَےْرُ ذٰلِکَ ےَا عَائِشَۃُ اِنَّ اللّٰہَ خَلَقَ لِلْجَنَّۃِ اَھْلًا خَلَقَھُمْ لَھَا وَھُمْ فِیْ اَصْلَابِ اٰبَائِھِمْ وَخَلَقَ لِلنَّارِ اَھْلًا خَلَقَھُمْ لَھَا وَھُمْ فِیْ اَصْلَابِ اٰبَآئِھِمْ۔(صحیح مسلم)

اور حضرت عائشہ ( ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ، حضرت ابوبکر صدیق کی ذی شان صاحبزادی اور سرکار دو عالم ﷺ کی سب سے چہیتی اور محبوب زوجہ مطہرہ ہیں جن کا لقب صدیقہ ہے۔ آپ کی وفات کے وقت حضرت عائشہ کی عمر صرف اٹھارہ سال تھی۔ ٥٧ ھ، ٥٨ میں آپ کا انتقال ہوا ہے اور جنت البقیع میں مدفون ہیں ؓ۔ فرماتی ہیں کہ ایک انصاری بچہ کے جنازہ پر سرکار دوعالم ﷺ کو بلایا گیا، میں نے کہا، یا رسول اللہ! اس بچہ کو خوشخبری ہو، یہ تو جنت کی چڑیوں میں کی ایک چڑیا ہے، جس نے کوئی برا کام نہیں کیا اور نہ برائی کی حد تک پہنچا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا عائشہ! کیا اس کے سوا کچھ اور ہوگا؟ یعنی اس کے جنتی ہونے کا جزم و یقین نہ کرو کیونکہ اللہ نے جنت کے لئے مستحق لوگوں کو پیدا کیا ہے جب کہ وہ اپنے باپوں کی پشت میں تھے اور دوزخ کے لئے بھی مستحق لوگوں کو پیدا کیا ہے۔ جب کہ وہ اپنے باپوں کی پشت میں تھے۔ (صحیح مسلم) تشریح بظاہر تو اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ جنت اور دوزخ میں داخل ہونا نیک و بد عمل پر موقوف نہیں ہے بلکہ یہ تقدیری معاملہ ہے اللہ نے ایک جماعت کے لئے ازل ہی سے جنت لکھ دی ہے اس لئے وہ جنت میں جائے گی خواہ وہ نیک اعمال کریں یا نہ کریں، اسی طرح ایک گروہ دوزخ کے لئے پیدا کیا گیا ہے جو دوزخ میں یقینا جائے گا خواہ اس کے اعمال بد ہوں یا نہ ہوں۔ لہٰذا یہ لڑگا اگر دوزخ کے لئے پیدا کیا گیا تھا تو وہ دوزخ میں یقینا جائے گا اگرچہ اس سے اب تک اعمال بد صادر نہیں ہوئے ہیں۔ لیکن اس کے برخلاف اکثر آیات و احادیث اور علماء کے متفق علیہ اقوال ایسے ہیں جن سے یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ مسلمان بچہ اگر کمسنی کی حالت میں انتقال کر جائے تو وہ یقینا جنتی ہے بلکہ کفار و مشرکین کے کمسن بچوں کے بارے میں بھی صحیح یہی مسئلہ ہے کہ وہ بھی جنت میں داخل کئے جائیں گے۔ لہٰذا اب اس حدیث کی توجیح یہی کی جائے گی کہ چونکہ حضرت عائشہ نے اس کے جنتی ہونے پر اس عزم و یقینی کے ساتھ حکم لگایا تھا کہ گویا انہیں غیب کا علم ہے اور اللہ کی مصلحت ومرضی کی راز دان ہیں، اس لئے سرکار دو عالم ﷺ نے ان کے اس جزم و یقین پر یہ تنبیہ فرمائی کہ تم اپنے اس وثوق کی بنیاد پر گویا غیب دانی کا اقرار کر رہی ہو، جو کسی بندہ کے لئے مناسب نہیں ہے یا زیادہ صحیح توجیہ اس حدیث کی یہ ہوسکتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا یہ ارشاد اس وقت تک ہوگا جب تک بچوں کے جنتی ہونے کا حکم وحی کے ذریعہ معلوم نہیں ہوا تھا ( اللہ علم)

82Mishkaat-al-Masabih

تقدیر پر ایمان لانے کا بیان

وَعَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم مَا مِنْکُمْ مِّنْ اَحَدٍ اِلَّا وَقَدْ کُتِبَ مَقْعَدُہ، مِنَ النَّارِ وَمَقْعَدُہ، مِنَ الْجَنَّۃِ قَالُوْا ےَا رَسُوْلَ اللّٰہِ اَفَلَا نَتَوَکَّلُ عَلٰی کِتَابِنَا وَنَدَعُ الْعَمَلَ قَالَ اعْمَلُوْا فَکُلُّ مُّےَسَّرٌ لِمَا خُلِقَ لَہُ اَمَّا مَنْ کَانَ مِنْ اَھْلِ السَّعَادَۃِ فَسَےُےَسَّرُ لِعَمَلِ السَّعَادَۃِ وَاَمَّا مَنْ کَانَ مِنْ اَھْلِ الشِّقَاوَۃِ فَسَےُےَسَّرُ لِعَمَلِ الشَّقَاوَۃِ ثُمَّ قَرَأَ&& فَاَمَّا مَنْ اَعْطٰی وَاتَّقٰی وَصَدَّقَ بِالْحُسْنٰی الاےۃ&&(پ٣٠۔رکوع ١٧) (صحیح البخاری و صحیح مسلم )7-58

اور حضرت علی کرم وجہہ ( امیر المومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ سرکار دو عالم ﷺ کے چچا زاد بھائی، آپ کی سب سے لاڈلی صاحب زادی حضرت فاطمہ کے شوہر اور چوتھے خلیفہ راشد ہیں ان کی کنیت ابوالحسن اور ابوتراب ہے آخر عشرہ رمضان ٣٠ ھ میں آپ نے انتقال فرمایا اور شہادت کا درجہ پایا۔ اس وقت آپ کی عمر واقدی کی تحقیق کے مطابق ٦٣ برس کی تھی تین دن کم پانچ سال تک آپ خلیفہ رہے۔ ؓ۔ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے فرمایا تم میں سے ہر آدمی کی جگہ اللہ تعالیٰ نے جنت اور دوزخ میں لکھ دی ہے۔ (یعنی یہ معین ہوگیا کہ کون لوگ جنتی ہیں اور کون لوگ دوزخی ہیں) صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ! کیا ہم اپنے نوشتہ تقدیر پر بھروسہ کر بیٹھیں اور عمل کرنا چھوڑ دیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا تم عمل کرو اس لئے کہ جو آدمی جس چیز کے لئے پیدا کیا گیا ہے اس پر اسے آسانی اور توفیق دی جاتی ہے لہٰذا جو آدمی نیک بختی کا اہل ہوتا ہے اللہ اس کو نیک بختی کے اعمال کی توفیق دیتا ہے اور جو آدمی بدبختی کا اہل ہوتا ہے اس کو بدبختی کے اعمال کا موقع دیا جاتا ہے اس کے بعد آنحضور ﷺ نے یہ آیت پڑھی (ترجمہ) جس نے اللہ کر راہ میں دیا، پرہیزگاری کی اور اچھی بات (دین و اسلام) کو سچ مانا، اس کے لئے ہم آسانی کی جگہ (جنت) آسان کردیں گے لیکن جس نے بخل کیا اور (خواہشات نفسانی و دنیاوی چمک دمک میں پھنس کر) آخرت کی نعمتوں سے بےپروائی کی، نیز عمدہ بات (دین و اسلام) کو جھٹلایا تو اس کے لئے ہم مشکل جگہ (دوزخ کی راہ) آسان کردیں گے۔ الخ (صحیح البخاری و صحیح مسلم) تشریح رسول اللہ ﷺ کے جواب کا منشاء یہ تھا کہ تم لوگ تقدیر پر بھروسہ کر کے عمل چھوڑنے کو جو کہتے ہو وہ ٹھیک نہیں ہے کیونکہ جنت و دوزخ کا پہلے مقدر میں لکھا جانا اور ہر ایک کے بارے میں معین ہوجانا کہ کون نیک بخت ہے اور کون بدبخت، اعمال کو ترک کرنے کا باعث نہیں ہے اس لئے کہ اللہ نے اپنی ربوبیت و الوہیت کے اظہار کے طور پر جو کچھ احکام دیئے ہیں اور جو فرائض بندوں پر عائد کئے ہیں اس پر عمل کرنا اور احکام کی پیروی کرنا بمقتضائے عبودیت بندوں پر لازم و ضروری ہے کیونکہ عمل ہی کو نیک بختی و بدبختی کا نشان قرار دیا گیا ہے کہ جو کوئی عمل کرے گا اس کو نیک بخت سمجھا جائے اور جو عمل نہیں کرے گا اس کو بدبخت سمجھا جائے گا اور پھر یہ بھی تقدیری معاملہ ہے کہ اللہ نے جس کے مقدر میں نیک بخت ہونا لکھ دیا ہے وہ یقینا اعمال کو پورا کرے گا اور جس کے مقدر میں بدبخت ہونا لکھا گیا ہے وہ اعمال کو چھوڑ کر گمراہی میں جا پڑے گا۔ جہاں تک ثواب و عذاب کا معاملہ ہے وہ اللہ کی مرضی اور اس کی مصلحت پر موقوف ہے وہ جو بھی معاملہ کرے گا اس پر اسے اختیار ہوگا اس میں کسی کے جبر واکراہ کو دخل نہیں ہوگا۔

83Mishkaat-al-Masabih

تقدیر پر ایمان لانے کا بیان

وَعَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اِنَّ اللّٰہَ کَتَبَ عَلَی ابْنِ اٰدَمَ حَظَّہُ مِنَ الزِّنَا اَدْرَکَ ذَالِکَ لَا مَحَالَۃَ فَزِنَاالْعَےْنِ النَّظَرُ وَزِنَا اللِّسَانِ الْمَنْطِقُ وَالنَّفْسُ تَتَمَنّٰی وَتَشْتَھِیْ وَالْفَرْجُ ےُصَدِّقُ ذٰلِکَ وَےُکَذِّبُہُ مُتَّفَقٌ عَلَےْہِ وَفِیْ رَوَاےَۃٍ لِّمُسْلِمٍ قَالَ کُتِبَ عَلَی ابْنِ اٰدَمَ نَصِےْبُہُ مِنَ الزِّنَا مُدْرِ کٌ ذالِکَ لَا مَحَالَۃَ الْعَےْنَانِ زِنَاھُمَا النَّظَرُ وَالْاُذُنَانِ زِنَاھُمَا الْاِسْتِمَاعُ وَاللِّسَانُ زِنَاہُ الْکَلاَمُ وَالْےَدُ زِنَاھَا الْبَطْشُ وَالرِّجْلُ زِنَاھَا الْخُطٰی وَالْقَلْبُ ےَھْوِیْ وَےَتَمَنّٰی وَےُصَدِّقُ ذَالِکَ الْفَرْجُ وَےُکَذِّبُہُ۔

اور حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ نے انسان کی تقدیر میں جتنا حصہ زنا کا لکھ دیا ہے وہ ضرور اس سے عمل میں آئے گا، آنکھوں کا زنا تو نامحرم کی طرف دیکھنا ہے اور زبان کا زنا نامحرم عورتوں سے شہوت انگیز باتیں کرنا اور نفس آرزو و خواہش کرتا ہے اور شرمگاہ اس آرزو کی تصدیق کرتی ہے یا تکذیب۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) کی ایک روایت ہے کہ آدمی کی تقدیر میں زنا کا جتنا حصہ لکھ دیا گیا ہے اس کو وہ ضرور عمل میں لائے گا۔ آنکھوں کا زنا (نامحرم کی طرف) دیکھنا ہے، کانوں کا زنا (نامحرم عورت سے شہوت انگیز باتیں سننا ہے اور زبان کا زنا نامحرم عورت سے شہوت انگیز) باتیں کرنا ہے اور ہاتھوں کا زنا (نامحرم عورت کو برے ارادہ سے) چھونا ہے اور پاؤں کا زنا (بدکاری کی طرف) جانا ہے اور دل خواہش و آرزو کرتا ہے اور شرم گاہ اس کی تصدیق یا تکذیب کرتی ہے۔ تشریح اصل زنا تو یہی ہے کہ کسی نا محرم عورت سے بدکاری میں مبتلا ہو، لیکن اصطلاح شریعت میں ان حرکات و اعمال کو بھی مجازاً زنا کہا جاتا ہے جو حقیقی زنا کے لئے اسباب کا درجہ رکھتے ہیں جو اس تک پہنچاتے ہیں، مثلاً کسی نامحرم عورت سے شہوت انگیز باتیں کرنا، یا بری نظر سے اس کی طرف دیکھنا، یا گندے خیال کے ساتھ اس کی باتیں سننا، یا برے ارادہ سے اس کا ہاتھ چھونا، یا اسی طرح گندے خیالات کے ساتھ کسی نامحرم عورت کے پاس جانا، یہ سب چیزیں چونکہ حقیقی زنا کی محرک بنتی ہیں جو آگے چل کر بدکاری میں مبتلا کرا دیتی ہیں اس لئے ان کو بھی مجازا زنا کہا جاتا ہے، تاکہ ان حرکات و اسباب کی نفرت و کراہت دلوں میں بیٹھ جائے اور لوگ ان سے بھی بچتے رہیں۔ بہر حال حدیث سے معلوم ہوا کہ جس آدمی کے مقدر میں زنا کا جنتا حصہ لکھ دیا جاتا ہے وہ اسے عمل میں لاتا ہے، اب چاہے تو اس کے مقدر میں محض مجازی زنا لکھا ہو یا حقیقی زنا، لیکن اللہ جن کو ان قبیح افعال سے محفوظ رکھتا ہے وہ ان سے باز رہتے ہیں اور وہ ان چیزوں سے بھی پرہیز کرتے رہتے ہیں جن کی موجودگی میں کسی معصیت و گناہ کے خیال کا بھی شائبہ پایا جاتا ہو جو گناہ و معصیت کی طرف لے جانے کا سبب بنتے ہوں۔ شرم گاہ کی تصدیق و تکذیب کا مطلب یہ ہے کہ جب نفس انسانی ہوا و ہوس کا غلام بن جاتا ہے اور وہ غلط و حرام فعل کی خواہش کرتا ہے تو اگر شرم گاہ اس کے اس غلط و ناجائز خواہش پر عمل کرتی ہے اور زنا میں مبتلا ہوجاتی ہے تو یہی اس کی تصدیق ہوتی ہے، یا اگر کسی احساس و شعور اور ضمیر اللہ کے عذاب سے لرزاں اور اس کے خوف سے بھرا ہوا ہوتا ہے تو شرمگاہ نفس کی خواہش کی تکمیل سے انکار کردیتی ہے اور وہ بدکاری میں مبتلا نہیں ہوتا یہ اس کی تکذیب ہوتی ہے۔

84Mishkaat-al-Masabih

تقدیر پر ایمان لانے کا بیان

وَعَنْ عِمْرَا نَ بْنِ حُصَےْنٍ ث اَنَّ رَجُلَےْنِ مِنْ مُّزَےْنَۃَ قَالَا ےَارَ سُوْلَ اللّٰہِ اَرَءَ ےْتَ مَا ےَعْمَلُ النَّاسُ الْےَوْمَ وَےَکْدَحُوْنَ فِےْہِ اَشَیْءٌ قُضِیَ عَلَےْھِمْ وَمَضٰی فِےْھِمْ مِّنْ قَدَرٍ سَبَقَ اَوْ فِےْمَا ےَسْتَقْبِلُوْنَ بِہٖ مِمَّا اَتٰھُمْ بِہٖ نَبِےُّھُمْ وَثَبَتَتِ الْحُجَّۃُ عَلَےْھِمْ فَقَالَ لَا بَلْ شَےْئیٌ قُضِیَ عَلَےْھِمْ وَمَضٰی فِےْھِمْ وَتَصْدِےْقُ ذالِکَ فِیْ کِتَابِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ &&وَنَفْسٍ وَّمَا سَوّٰھَا فَاَلْھَمَھَا فُجُوْرَھَا وَتَقْوٰھَا&&۔(پ٣٠۔ر کوع ١٦) (صحیح مسلم)

اور حضرت عمران بن حصین ( آپ کا اسم گرامی عمران ابن حصین اور کنیت ابونجید ہے آپ فتح خیبر کے سال اسلام کی نعمت سے مشرف ہوئے تھے بمقام بصرہ ٥١ ھ میں وفات پائی)۔ راوی ہیں کہ ایک مرتبہ قبیلہ مزینہ کے دو آدمی بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ! ہمیں یہ بتائیے کہ آج (دنیا میں) لوگ عمل کرتے ہیں اور اعمال کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔ کیا یہ وہی چیز ہے جس کا حکم ہوچکا ہے اور نوشتہ تقدیر بن چکا ہے یا یہ عمل ان احکام کے موافق ہیں جو آئندہ ہونے والے ہیں جن کو اس کا نبی ﷺ لایا ہے اور جن پر دلیل قائم ہوچکی ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا نہیں یہ وہی چیز ہیں جس کا فیصلہ ہوچکا ہے اور نوشتہ تقدیر بن چکا ہے اور اس کی تصدیق کتاب اللہ کی اس آیت سے ہوتی ہے وَنَفْسِ وَّمَا سَوّٰھَا فَاَلْھَمَھَا فُجُوْرَھَا وَتَقْوَاھَا (القران الحکیم، پارہ ٣٠۔ رکوع ١٦)۔ قسم ہے (انسان کی) جان کی اور اس (ذات) کی جس نے اس کو بنایا پھر اس کی بد کرداری اور پرہیزگاری (دونوں کا) القاء کیا۔ (صحیح مسلم) تشریح سوال یہ تھا کہ یا رسول اللہ ہمیں یہ بتلا دیجئے کہ دنیا میں لوگ جتنے اعمال کرتے ہیں خواہ وہ اعمال خیر ہوں یا عمال بد کیا یہ وہی ہیں جو ان کے لئے ازل ہی میں مقدر ہوچکے تھے اور اب وقت پر وقوع پذیر ہوتے ہیں یا یہ وہ چیزیں ہیں جو ازل میں تو ان کے لئے نوشتہ تقدیر نہیں بنی تھیں بلکہ اب جب رسول آئے اور انہوں نے اللہ کی جانب سے دیئے گئے معجزات کے ذریعہ اپنی صداقت کا اعلان اور ان احکام و اعمال کے کرنے کا حکم دیا تو یہ اعمال وقوع پذیر ہونے لگے تو ایسی شکل میں کیا یہ کہا جائے گا کہ یہ اعمال بندوں کے مقدر میں پہلے سے نہیں لکھے ہوئے تھے بلکہ اپنے اختیار سے یہ اعمال کرتے ہیں چاہے وہ اچھے اعمال ہوں یا برے اعمال؟ بارگاہ رسالت سے جواب دیا گیا کہ یہ اعمال وہی ہیں جو ازل ہی سے بندوں کے مقدر میں لکھ دیئے گئے ہیں اور اب اسی نوشتہ تقدیر کے مطابق اپنے اپنے وقت پر صادر ہوتے رہتے ہیں۔

85Mishkaat-al-Masabih

تقدیر پر ایمان لانے کا بیان

وَعَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَ ص قَالَ قُلْتُ ےَا رَسُوْلَ اللّٰہِ اِنِّیْ رَجُلٌ شَآبٌّ وَّاَنَا اَخَافُ عَلٰی نَفْسِیْ الْعَنَتَ وَلَا اَجِدُ مَا اَتَزَوَّجُ بِہِ النِّسَآءَ کَاَنَّہُ ےَسْتَاْذِنُہُ فِی الْاِخْتِصَآءِ قَالَ فَسَکَتَ عَنِّیْ ثُمَّ قُلْتُ مِثْلَ ذٰلِکَ فَسَکَتَ عَنِّیْ ثُمَّ قُلْتُ مِثْلَ ذٰلِکَ فَسَکَتَ عَنِّیْ ثُمَّ قُلْتُ مِثْلَ ذٰلِکَ فَقَالَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم ےَا اَبَا ھُرَےْرَۃَ جُفَّ الْقَلَمُ بِمَا اَنْتَ لَاقٍ فَاخْتَصِ عَلٰی ذَالِکَ اَوْذَرْ۔(صحیح البخاری)

اور حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ میں نے سرکار دو عالم ﷺ سے عرض کیا، یا رسول اللہ میں ایک جوان مرد ہوں اور میں اپنے نفس سے ڈرتا ہوں کہ بدکاری کی طرف مائل نہ ہوجائے اور میرے اندر اتنی استطاعت نہیں ہے کہ کسی عورت سے شادی کرلوں گویا ابوہریرہ ؓ اپنے اندر سے قوت مردمی ختم کردینے کی اجازت مانگتے تھے ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے یہ سن کر سکوت فرمایا میں نے دوبارہ یہی کہا تو آپ ﷺ پھر خاموش رہے، میں نے پھر عرض کیا اس مرتبہ بھی آپ ﷺ نے کچھ نہیں فرمایا میں نے پھر اسی طرح عرض کیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ ابوہریرہ! جو کچھ ہونا ہے (اسے تمہارے مقدر میں لکھ کر) قلم خشک ہوچکا ہے لہٰذا تمہیں اختیار ہے کہ قوت مردمی ختم کرو یا نہ کرو۔ (صحیح البخاری ) تشریح سرکار دو عالم ﷺ کے جواب کا حاصل یہ ہے کہ تمہارے مقدر میں جو کچھ ہونا لکھا ہے وہ پورا ہوگا، اگر خدانخواستہ کسی بدکاری میں مبتلا ہونا تمہارے لئے نوشتہ تقدیر بن چکا ہے تو یہ قبیح فعل تم سے ضرور ہوگا اور اگر قضا و قدر نے تمہاری پاکدامنی اور معصیت سے حفاظت لی ہے تو چاہے تم اپنی قوت مردمی ختم کر کے نامرد بن جاؤ، یا اس فعل سے باز رہو، تمہارا نفس تمہیں نہیں بہکا سکتا اور تم پاک دامن رہو گے اسی طرف جف القلم کہہ کر اشارہ فرمایا گیا۔ اس حدیث میں اصل میں اس طرف تنبیہ اور تہدید مقصود ہے کہ اسباب و تدبیر کو تقدیر کے مقابلہ پر لانا اور نوشتہ تقدیر سے لاپرواہ ہو کر اس سے بھاگنا جائز نہیں ہے۔

86Mishkaat-al-Masabih

تقدیر پر ایمان لانے کا بیان

وَعَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو رَضِیَ اللّٰہ عَنْہ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اِنَّ قُلُوْبَ بَنِیْ اٰدَمَ کُلَّھَا بَےْنَ اِصْبَعَےْنِ مِنْ اَصَابِعِ الرَّحْمٰنِ کَقَلْبٍ وَّاحِدٍ ےُّصَرِّفُہُ کَےْفَ ےَشَآءُ ثُمَّ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اَللّٰھُمَّ مُصَرِّفَ الْقُلُوْبِ صَرِّفْ قُلُوْبَنَا عَلٰی طَاعَتِکَ۔ (صحیح مسلم)

اور حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تمام انسانوں کے دل اللہ کی انگلیوں میں سے دو انگلیوں کی درمیان اس طرح ہیں جیسے ایک انسان کا دل ہے اور وہ (اپنی انگلیوں سے) جس طرح چاہتا ہے قلوب کو گردش میں لاتا ہے اس کے بعد آنحضور ﷺ نے دعا کے طور پر یہ فرمایا۔ اے دلوں کو گردش میں لانے والے خدا! ہمارے دلوں کو اپنی اطاعت کی طرف پھیر دے۔ (صحیح مسلم) تشریح اس حدیث سے اللہ کے کمال قدرت کا اظہار مقصود ہے کہ وہ تمام چیزوں پر قادر ہے اور سب پر متصرف ہے یہاں تک کہ قلوب کے رخ اور دل کی دھٹرکنیں تک بھی اسی کے اختیار میں ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے لئے انگلیوں کا استعمال یہاں مجازا ہوا ہے کیونکہ اس کی پاک و صاف ذات مادیات اور اجسام کی ثقالت سے پاک ہے۔ حدیث کا مطلب یہ ہے کہ تمام قلوب اللہ کے قبضہ و تصرف میں ہیں، وہ جس طرف چاہتا ہے دلوں کو پھیر دیتا ہے کسی قلب کو گناہ و معصیت اور بدکاری کی طرف مائل کردینا بھی اسی کی صفت ہے اور کسی قلب کو عصیان و سرکشی کے جال سے نکال کر اطاعت و فرمانبرداری اور نیکوکاری کے راستہ پر بھی اسی کا کام ہے وہ جس طرح چاہتا ہے گمراہی و ضلالت کے اندھیرے میں پھینک دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے، ہدایت و راستی کے مرغزاروں میں چھوڑ دیتا ہے۔

87Mishkaat-al-Masabih

تقدیر پر ایمان لانے کا بیان

وَعَنْ اَبِیْ ہُرَےْرَۃَص قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم مَا مِنْ مَّوْلُوْدٍ اِلَّا ےُوْلَدُ عَلَی الْفِطْرَۃِ فَاَبَوَاہُ ےُھَوِّدَانِہٖ اَوْ ےُنَصِّرَانِہٖ اَوْ ےُمَجِّسَانِہٖ کَمَا تُنْتَجُ الْبَھِےْمَۃُ بَھِےْمَۃً جَمْعَآءَ ھَلْ تُحِسُّوْنَ فِےْھَا مِنْ جَدْعَآءَ ثُمَّ ےَقُوْلُ&& فِطْرَۃَ اللّٰہِ الَّتِیْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَےْھَا لَا تَبْدِےْلَ لِخَلْقِ اللّٰہِ ذَالِکَ الدِّےْنُ الْقَےِّمُ&&۔ (پ٢١۔ رکوع ٧) (صحیح البخاری و صحیح مسلم)

اور حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے فرمایا۔ جو بچہ پیدا ہوتا ہے اس کو فطرت پر پیدا کیا جاتا ہے (یعنی امر حق کو قبول کرنے کی اس میں صلاحیت ہوتی ہے پھر اس کے ماں باپ اس کو یہودی یا نصرانی یا مجوسی بنا دیتے ہیں جس طرح ایک چار پایہ جانور پورا چار پایہ بچہ دیتا ہے، کیا تم اس میں کوئی کمی پاتے ہو پھر آپ نے یہ آیت تلاوتی فرمائی (ترجمہ) یہ اللہ تعالیٰ کی اس بنائی کے موافق ہے جس پر اللہ نے آدمیوں کو پیدا کیا ہے، اللہ کی خلقت میں تغیر و تبدل نہیں ہوتا یہ دین مستحکم ہے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح اللہ تعالیٰ نے انسان کی تخلیق فطرت پر کی ہے اور فطرت صرف امر حق یعنی ایمان و اسلام کو قبول کرسکتی ہے۔ لہٰذا جب کوئی بچہ پیدا ہوتا ہے۔ تو وہ اس فطرت پر ہوتا ہے لیکن خارجی اثر سے وہ فطرت کے تقاضوں سے دور ہوجاتا ہے اور خلاف اصول و فطرت طریقوں پر چلنے لگتا ہے یعنی اگر اس کے ماں باپ مجوسی ہوتے ہیں تو وہ بھی ان کے مذہب میں رنگ جاتا ہے۔ چنانچہ مثال کے طور پر فرمایا کہ جس طرح کسی جانور کے کوئی بچہ پیدا ہوتا ہے تو وہ اپنی اصلی حالت میں پیدا ہوتا ہے اس کے اندر کسی قسم کی کوئی کمی یا کوئی نقصان نہیں ہوتا، ہاں اگر خارجی طور پر کوئی اس کے ہاتھ پیر کاٹ ڈالے یا اس کے جسم میں کوئی عیب پیدا کر دے تو وہ اپنی اصلی اور تخلیقی حالت کھو دیتا ہے، اسی طرح انسان پیدا کے وقت اپنی اصلی فطرت یعنی اسلام پر پیدا ہوتا ہے لیکن اس کا ماحول، اس کی سوسائٹی یعنی ماں باپ وغیرہ اس کے احساسات و شعور اور اس کے عقائد پر اپنے مذہب کا رنگ چڑھا کر اس کے ذہن و فکر اور قلب و دماغ کو غلط راستہ پر موڑ دیتے ہیں جس کی وجہ سے وہ اپنی اصلی اور تخلیقی فطرت پر قائم نہیں رہتا بلکہ کافر ہوجاتا ہے، ہاں اگر ایسا نہیں ہوتا اور اس کے ماں باپ مسلمان ہوتے ہیں تو وہ بھی مسلمان رہتا ہے۔

88Mishkaat-al-Masabih

تقدیر پر ایمان لانے کا بیان

وَعَنْ اَبِیْ مُوْسٰی رَضِیَ اللّٰہ عَنْہ قَالَ قَامَ فِےْنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم بِخَمْسِ کَلِمَاتٍ فَقَالَ اِنَّ اللّٰہَ لَا ےَنَامُ وَلَا ےَنْبَغِیْ لَہُ اَنْ ےَّنَامَ ےَخْفِضُ الْقِسْطَ وَےَرْفَعُہُ ےُرْفَعُ اِلَےْہِ عَمَلُ اللَّےْلِ قَبْلَ عَمَلِ النَّھَارِ وَعَمَلُ النَّھَارِ قَبْلَ عَمَلِ اللَّےْلِ حِجَابُہُ النُّوْرُ لَوْ کَشَفَہُ لَاَحْرَقَتْ سُبُحَاتُ وَجْہِہٖ مَا انْتَھٰی اِلَےْہِ بَصَرُہُ مِنْ خَلْقِہٖ۔(صحیح مسلم)

اور حضرت ابوموسی ؓ راوی ہیں کہ (ایک مرتبہ) سرکار دو عالم ﷺ نے خطبہ دیا اور پانچ باتیں ارشاد فرمائیں۔ اللہ تعالیٰ سوتا نہیں ہے اور سونا اس کی شان کے مناسب نہیں ہے۔ وہ ترازو کو بلندو پست کرتا ہے، دن کے عمل سے پہلے رات کے عمل اور رات کے عمل سے پہلے دن کے عمل اس کے پاس پہنچا دیئے جاتے ہیں اور اس کا حجاب نور ہے جسے اگر وہ اٹھا دے تو اس کی ذات پاک کا نور مخلوقات کی تاحد نگاہ تمام چیزوں کو جلا کر خاکستر کر دے۔ (صحیح مسلم) تشریح ترازو کو بلندو پست کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی بندہ پر رزق کی وسعت کرتا ہے اور اسے مال و زر کی فراوانی سے نوازتا ہے اور کس پر اسباب معیشت اور رزق کے دروازے تنگ کر کے اسے محتاجی و تنگدستی میں مبتلا کردیتا ہے، اسی طرح کسی بندہ کو وہ ان کی اطاعت و فرمانبرداری اور نیکوکاری کی بدولت عزت و عظمت اور شرف و فضیلت سے نوازتا ہے اور کسی گناہ گار بندہ کو اس کی سرکشی و نافرمانی اور بدکاری کی بنا پر اسے ذلیل و خوار کردیتا ہے اور اسے تباہی و بربادی کے غار میں ڈال دیتا ہے۔ ایسے ہی دن کے عمل سے پہلے رات کے عمل سے پہلے دن کے عمل اس کے پاس پہنچا دیئے جانے کا مطلب یہ ہے کہ بندہ سے جو کوئی عمل سرزد ہوتا ہے وہ فوراً بلا تاخیر بارگاہ الوہیت تک پہنچ جاتا ہے یعنی ابھی سورج بھی نہیں نکلتا اور کوئی عمل صادر ہونے بھی نہیں پاتا کہ رات کے عمل جو بندہ سے سرزد ہوئے ہیں اوپر پہنچ چکے ہوتے ہیں، اسی طرح رات شروع بھی نہیں ہوتی کہ دن کے عمل وہاں پہنچ جاتے ہیں، اب جو نیک عمل اور اچھا ہوتا ہے اسے قبولیت کے شرف سے نواز کر اس پر جزاء و انعام کا پروانہ صادر کردیا جاتا ہے اور اس پر عذاب و سزا کا حکم دے دیا جاتا ہے۔

89Mishkaat-al-Masabih

تقدیر پر ایمان لانے کا بیان

وَعَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَص قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم ےَدُاللّٰہِ مَلْئٰی لَا تَغِےْضُھَا نَفَقَۃٌ سَحَّآءُ اللَّےْلَ وَالنَّھَارَ اَرَءَ ےْتُمْ مَّا اَنْفَقَ مُذْ خَلَقَ السَّمَآءَ وَالْاَرْضَ فَاِنَّہُ لَمْ ےَغِضْ مَا فِیْ ےَدِہٖ وَکَانَ عَرْشُہُ عَلَی الْمَآءِ وَبِےَدِہِ الْمِےْزَانُ ےَخْفِضُ وَےَرْفَعُ۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم) وَفِیْ رِوَایَۃِ لِّمُسُلِمٍ &&یَمِیْنُ اللّٰہِ مَلْاٰی قَالَ ابْنُ نُمَیْرٍ مَلْاٰنُ سَحَّآءُ لَا یَغِیِْضُھَا شَیءٌ اللَّیْلُ وَالنَّھَارُ

اور حضرت ابوہریرہ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ اللہ تعالیٰ کا ہاتھ (یعنی اس کا خزانہ) بھرا ہوا ہے، دن اور رات ہر وقت خرچ کرنا بھی اس میں کمی پیدا نہیں کرتا، کیا تم نہیں دیکھتے؟ کہ جب سے کہ اس نے زمین و آسمان کو پیدا کیا اور جب کہ اس کا عرش (بھی) پانی پر تھا، کتنا خرچ کیا ہے، لیکن (اتنا زیادہ) خرچ کرنے کے باوجود جو کچھ اس کے ہاتھ میں ہے (یعنی اس کا خزانہ) اس میں کمی نہیں ہوئی ہے۔ اور اس کے ہاتھ میں ترازو ہے جسے وہ بلندو پست کرتا ہے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) اور مسلم کی روایت ہے اللہ کا داہنا ہاتھ بھرا ہوا ہے۔ اور ابن نمیر کی روایت میں ہے (اللہ کا ہاتھ بھرا ہوا اور ہمیشہ دینے والا ہے، رات اور دن خرچ کرنے کے باوجود) اس میں کوئی چیز کمی نہیں کرتی۔ تشریح ابن نمیر حضرت امام مسلم کے استاد ہیں، ان کی سند سے جو حدیث ہے اس میں بجائے ملای کے ملان کا لفظ ہے اور ان الفاظ میں کچھ تقدیم و تاخیر بھی ہے ویسے ازروئے لغت ملای ہی صحیح ہے اور یہی الفاظ مناسب ہے۔

90Mishkaat-al-Masabih

تقدیر پر ایمان لانے کا بیان

وَعَنْہُ قَالَ سُئِلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم عَنْ ذَرَارِیِّ الْمُشْرِکِےْنَ قَالَ اَللّٰہُ اَعْلَمُ بِمَا کَانُوْا عَامِلِےْنَ۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)

اور حضرت ابوہریرہ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ سے مشرکوں کی اولاد کے بارے میں پوچھا گیا ( کہ مرنے کے بعد دوزخ میں جائیں گے یا جنت میں) آپ ﷺ نے فرمایا۔ اللہ ہی بہتر جانتا ہے (اگر زندہ رہتے تو وہ کیا عمل کرتے)۔ ( صحیح البخاری و صحیح مسلم ) تشریح یعنی یہ تو اللہ ہی کو معلوم ہے کہ اگر وہ اس صغر سنی کی حالت میں نہ مرتے اور زندہ رہتے تو بڑے ہو کر کیا عمل کرتے، لہٰذا اب ان کے ساتھ جو معاملہ ہوگا اسی کے مطابق ہوگا اور یہ کہ اللہ ہی کو معلوم ہے کہ آیا وہ جنت میں جاتے ہیں یا دوزخ میں، وہاں کی حالت کسی بندہ کو کیا معلوم!۔ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے یہ اس وقت فرمایا ہوگا جب کہ ابھی تک مشرکوں کی اولاد کے بارے میں وحی کے ذریعہ کچھ معلوم نہیں ہوا تھا۔ اس مسئلہ میں علماء کے مختلف اقوال ہیں لیکن صحیح اور اولیٰ یہی ہے کہ اس بارے میں توقف کرنا چاہیے یعنی نہ تو ان کو دوزخی کہا جائے اور نہ جنتی۔

91Mishkaat-al-Masabih

تقدیر پر ایمان لانے کا بیان

عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِنَّ اَوَّلَ مَا خَلَقَ اللّٰہُ الْقَلَمُ فَقَالَ لَہ، اُکْتُبْ قَالَ مَآ اَکْتُبُ قَالَ اُکْتُبِ الْقَدَرَ فَکَتَبَ مَا کَانَ وَمَا ھُوَا کَآئِنٌ اِلٰی الْاَبَدِ۔ رَوَاہُ التِّرْمَذِیُّ وَقَالَ ھٰذَا حَدِیْثٌ غَرِیْبٌ اِسْنَادًا۔

حضرت عبادہ بن صامت ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ نے سب سے پہلے جس چیز کو پیدا کیا وہ قلم تھا، پھر اس (قلم) کو لکھنے کا حکم دیا۔ قلم نے کہا، الہٰ العالمین! کیا لکھوں بارگاہ الوہیت سے جواب ملا تقدیر لکھو! لہٰذا اس قلم نے ان چیزوں کو لکھا جو (اب تک) ہوچکی ہیں اور ان چیزوں کو لکھا جو آئندہ ہونے والی ہیں۔ امام ترمذی نے اس حدیث کو روایت کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث سند کے اعتبار سے غریب ہے۔

92Mishkaat-al-Masabih

تقدیر پر ایمان لانے کا بیان

وَعَنْ مُسْلِمِ بْنِ یَسَارِ قَالَ سُئِلَ عُمَرُ بْنِ الْخَطَّابِ عَنْ ھٰذِہِ الْاٰیَۃِ وَاِذْا اَخَذَ رَبُّکَ مِنْ بَنِیْۤ اٰدَمَ مِنْ ظُھُوْرِ ھِمْ ذُرِّیَّتُھُمْ اَلْاٰیَۃَ قَالَ عُمَرُ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اﷲِصَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُسْئَلُ عَنْھَا فَقَالَ اِنَّ اﷲَ خَلَقَ اٰدَمَ ثُمَّ مَسَحَ ظَھْرَہ، بِیَمِیْنِہٖ فَاسْتَخْرَجَ مِنْہُ ذُرِّیَّۃً فَقَالَ خَلَقْتُ ھَؤُ لَآ ءِ لِلْجَنَّۃِ وَ بِعَمَلِ اَھْلِ الْجَنَّۃِ یَعْمَلُوْنَ ثُمَّ مَسَحَ ظَھْرَہ، بِیَدِہٖ فَاسْتَخْرَجَ مِنْہُ ذُرِّیَّۃً فَقَالَ خَلَقْتُ ھٰۤؤُ لَآ ءِ لِلنَّارِ وَ بِعَمَلِ اَھْلِ النَّارِ یَعْمَلُوْنَ فَقَالَ رَجُلٌ فَفِیْمَ الْعَمَلْ یَا رَسُوْلَ اﷲِ فَقَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِنَّ اﷲَ اِذَا خَلَقَ الْعَبْدَ لِلْجَنَّۃِ اِسْتَعْمَلَہ، بِعَمَلِ اَھْلِ الْجَنَّۃِ حَتّٰی یَمُوْتَ عَلٰی عَمَلِ مِنْ اَعْمَالِ اَھْلِ الْجَنَّۃِ فَیُدْ خِلُہ، بِہٖ الْجَنَّۃَ وَ اِذَا خَلَقَ الْعَبْدَ لِلنَّارِ اِسْتَعْمَلَہ، بِعَمَلِ اَھْلِ النَّارِ حَتّٰی یَمُوْتَ عَلٰی عَمَلِ مِنْ اَعْمَاِل اَھْلِ النَّارِ فَیُدْ خِلْہ، بِہٖ النَّارَ۔ (رواہ موطا امام مالک والجامع ترمذی وابوداؤد، الاعراف ١٧٢)

اور حضرت مسلم بن یسار راوی ہیں کہ حضرت عمر فاروق ؓ سے اس آیت (وَاِذْاَخَذَ رَبُّکَ مِنْ بنی ادم من ظہورھم ذریتھم؟ قَالُوْا بَلٰی شَھِدْنَا اَنْ تَقُوْلُوْ ایَوْاَم الْقِیٰمَۃِ اِنَّا کُنَّا عَنْ ھٰذَا غَافِلِیْنَ۔ (الاعراف ١٧٢) ترجمہ اور جب آپ کے رب نے اولاد آدم کی پشت سے ان کی اولاد کا نکالا اور (سب کچھ سمجھ عطا کر کے) ان سے ان ہی کے متعلق اقرار لیا کہ میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ سب نے جواب دیا کہ کیوں نہیں! ہم سب (اس واقعہ کے) گواہ بنتے ہیں۔ تاکہ تم لوگ قیامت کے روز یوں نہ کہنے لگو کہ ہم تو اس (توحید سے محض بیخبر تھے) کے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ جب اس آیت کے بارے میں سرکار دو عالم ﷺ سے سوال کیا گیا تو میں نے آپ ﷺ کو فرماتے سنا کہ۔ اللہ تعالیٰ نے آدم کو پیدا کیا پھر ان کی پیٹھ پر داہنا ہاتھ پھیرا اور اس میں سے ان کی اولاد نکالی اور فرمایا کہ میں نے ان کو جنت کے لئے اور جنت والوں کے سے اعمال کرنے کے لئے جو وہ کریں گے پیدا کیا ہے۔ پھر اپنا ہاتھ آدم کی پشت پر پھیرا اور اس میں سے ان کی اولاد نکالی اور فرمایا کہ میں نے ان کو دوزخ کے لئے اور دوزخیوں کے سے کام کرنے کے لئے جو وہ کریں گے پیدا کیا ہے۔ یہ سن کر ایک آدمی نے کہا یا رسول اللہ! پھر عمل کی کیا ضرورت ہے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب اللہ تعالیٰ کسی بندہ کو جنت کے لئے پیدا کرتا ہے تو اس سے جنت والوں ہی کے سے عمل کراتا ہے یہاں تک کہ اس (بندہ) کی وفات جنت والوں جیسے اعمال پر ہوجاتی ہے چناچہ اللہ تعالیٰ ان اعمال کی بنا پر اسے جنت میں داخل کردیتا ہے اور جب کسی بندہ کو دوزخ کے لئے پیدا کرتا ہے تو اس سے دوزخیوں کے سے اعمال صادر کراتا ہے یہاں تک کہ وہ اہل دوزخ جیسے اعمال پر مرجاتا ہے لہٰذا اسے ان اعمال کی بناء پر دوزخ میں ڈال دیتا ہے۔ (مؤطامالک، جامع ترمذی، ابوداؤد) تشریح یہ عہد میثاق عالم ارواح میں ہوا تھا جیسا کہ دیگر احادیث میں آتا ہے کہ رب قدوس نے تمام روحوں کو جو ازل سے لے کر ابد تک دنیا میں آنے والی تھیں ننھی ننھی چیونٹیوں کی شکل میں جمع کیا اور پھر ان کو عقل و دانائی بھی عنایت فرمائی اور اپنی ربوبیت و الوبیت کا سب سے اقرار کرایا۔ اولاد آدم کی پشت سے ان کی اولاد نکالنے کا مطلب یہ ہے کہ ازل سے ابد تک دنیا میں جتنے بھی انسان پیدا ہوں گے سب کی پشت سے ان کی اولاد نکالی گئی تھی مثلاً رسول اللہ ﷺ کی پشت سے ان کی اولاد نکالی گئی ان کی پشت سے ان کی اولاد اسی طرح قیامت تک جتنے انسان پیدا کئے جائیں گے سب کی پشت سے ان کی اولاد نکالی گئی۔ داہنے ہاتھ کے پھیرنے کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرشتہ کو داہنا ہاتھ پھیرنے کا حکم دیا تھا ورنہ اللہ تعالیٰ کی نورانی ذات ہاتھ پیر کی ظاہری ثقالت سے پاک و صاف ہے۔ یا پھر یہ کہا جائے کہ اس سے اپنی قوت وقدرت کا اظہار مقصود ہے۔

93Mishkaat-al-Masabih

تقدیر پر ایمان لانے کا بیان

وَعَنْ عَبْدِ اﷲِ بْنِ عَمْرِ وَقَالَ خَرَجَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَفِیْ یَدَ ْیِہ کِتَابَانِ فَقَالَ اَتَدْرُوْنَ مَا ھٰذَانِ الْکِتَابَانِ قُلْنَا لَا یَا رَسُوْلَ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم اِلَّا اَنْ تُخْبِرَ نَا فَقَالَ لِلَّذِیْ فِیْ یَدِہِ الْیُمْنٰی ھٰذَا کِتَابٌ مِنْ رَّبِّ الْعَالَمِیْنَ فِیْھَا اَسْمَآ ءُ اَھْلِ الْجَنَّۃِ وَ اَسْمَآءَ اٰبَآئِھِمْ وَ قَبَآئِلِھِمْ ثُمَّ اُجْمِلَ عَلٰۤی اٰخِرِھِمْ فَلَا یُزَادُفِیْھِمْ وَلَا یُنْقَصُ مِنْھُمْ اَبَدًا ثُمَّ قَالَ لِلَّذِیْ فِیْ شِمَالِہٖ ھٰذَا کِتَابٌ مِّنْ رَّبِّ الْعَالَمِیْنَ فِیْہِ اَسْمَآءُ اَھْلِ النَّارِ وَ اَسْمَآءُ اٰبَآئِھِمْ وَ قَبَائِلِھْمْ ثُمَّ اُجْمِلَ عَلٰۤی اٰخِرِھِمْ فَلَا یُزَادُ فِیْھِمْ وَلَا یُنْقَصُ مِنْھُمْ اَبَدًافَقَالَ اَصْحَابُہ، فَفِیْمَ الْعَمَلُ یَا رَسُوْلَ اﷲِ اِنْ کَانَ اَمْرٌ قَدْ فُرِغَ مِنْہُ فَقَالَ سَدِّدُوْاوَقَارِبُوْا فَاِنَّ صَاحِبَ الْجَنَّۃِ یُخْتَمُ لَ،ہ بِعَمَلِ اَھْلِ الْجَنَّۃِ وَاِنْ عَمِلَ اَیَّ عَمَلِ وَاِنَّ صَاحِبَ النَّارِ یُخْتَمُ لَہ، بِعَمَلِ اَھْلِ النَّارِوَاِنْ عَمَلِ ثُمَّ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِیَدَیْہِ فَنَبَذَ ھُمَا ثُمَّ قَالَ فَرَغَ رَبُّکُمْ مِنَ الْعِبَادِ فَرِیْقٌ فِی الْجَنَّۃِ وَفَرِیْقٌ فِی السَّعِیْرِ۔ (رواہ الجامع ترمذی)

اور حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ راوی ہیں کہ (ایک مرتبہ) سرکار دو عالم ﷺ باہر تشریف لائے آپ ﷺ کے ہاتھوں میں دو کتابیں تھیں اور (صحابہ کو خطاب کرتے ہوئے) فرمایا جانتے ہو یہ دونوں کتابیں کیا معلوم آپ ﷺ ہی بتا دیجئے (یہ کتابیں کیا ہیں) آپ ﷺ نے اس کتاب کے بارے میں فرمایا جو داہنے ہاتھ میں تھی کہ یہ اللہ کی جانب سے ہے جس میں اہل جنت ان کے باپ اور ان کے قبیلوں کے نام لکھے ہوئے ہیں پھر آخر میں جمع بندی کردی گئی ہے لہٰذا اس میں کمی بیشی نہیں ہوتی، اس کے بعد بائیں ہاتھ والی کتاب کے متعلق فرمایا کہ یہ اللہ کی جانب سے ایک ایسی کتاب ہے جس پر اہل دوزخ ان کے باپ اور ان کے قبیلوں کے نام لکھے ہیں پھر آخر میں جمع بندی کردی گئی ہے۔ لہٰذا اب نہ تو اس میں کمی ہوتی ہے اور نہ زیادتی۔ یہ (سن کر) صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ! اگرچہ یہ چیز پہلے سے ہی طے ہوچکی ہے (کہ جنت و دوزخ کا مدار نوشتہ تقدیر پر ہے تو پھر عمل کی کیا ضرورت ہے؟ ) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا (دین و شریعت کے مطابق اپنے اعمال کو) اچھی طرح مضبوط کرو اور (حق تعالیٰ کا) تقرب حاصل کرو۔ اس لئے کہ جنتی کا خاتمہ اہل جنت کے اعمال پر ہوتا ہے خواہ (زندگی میں) اس نے کیسے ہی (نیک یا بد) عمل کئے ہوں اور دوزخمی کا خاتمہ اہل دوزخ کے عمل پر ہوتا ہے خواہ اس کے اعمال جیسے بندوں کے بارے میں یہ پہلے سے طے کرچکا ہے کہ ایک جماعت جنتی ہے اور ایک جماعت دوزخی ہے۔ (جامع ترمذی) تشریح کتابوں کو پیچھے ڈال دینا اہانت کے طور پر نہیں تھا بلکہ اس طرف اشارہ مقصود تھا کہ بارگاہ الوہیت سے اس معاملہ میں کہ دوزخی و جنتی کون کون لوگ ہیں ازل ہی میں حکم ہوچکا ہے اور جو نوشتہ تقدیر بن چکا ہے۔ ظاہری طور پر تو اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ سرکار دو عالم ﷺ کے دست مبارک میں واقعی کتابیں تھیں جن کو آپ ﷺ نے صحابہ کو دکھلا بھی دیا تھا۔ لیکن ان کے اندر جو مضمون لکھے ہوتے تھے وہ نہیں دکھلائے تھے، لیکن بعض حضرات فرماتے ہیں کہ حقیقت میں کتابیں نہیں تھیں بلکہ آپ ﷺ نے مثال کے طور پر اس انداز سے فرمایا تاکہ یہ مسئلہ صحابہ کے ذہن نشین ہوجائے۔

94Mishkaat-al-Masabih

تقدیر پر ایمان لانے کا بیان

وَعَنْ اَبِیْ خَزَامَۃَ عَنْ اَبِیْہِ قَالَ قُلْتُ یَا رَسُوْلَ اﷲِ اَرَاَیْتَ رُقًی نَسْتَرْ قِیْھَا وَدَوَآئً نَتَدَاوٰی بِہٖ وَتُقَاۃً نَتَّقِیْھَا ھَلْ تَرُدُّ مِنْ قَدْرِ اﷲِ شَیْئًا قَالَ ھِیَ مِنْ قَدْرِ اﷲِ ۔ (رواہ مسند احمد بن حنبل و الجامع ترمذی وابن ماجۃ)

اور ابی خزامہ ( ابی خزامہ تابعی ہیں ان کے والد کا نام عمیر ہے جو صحابی ہیں اور جن سے ابوخزامہ روایت کرتے ہیں ابی خزامہ سے زہری روایت کرتے ہیں) اپنے والد مکرم سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ میں نے سرکار دو عالم ﷺ سے عرض کیا یا رسول اللہ! وہ عملیات جن کو ہم (شفاء کے لئے) پڑھواتے ہیں اور وہ دوائیں جن کو ہم (حصول صحت کے لئے) استعمال کرتے ہیں اور وہ ہر چیزیں جن سے ہم حفاظت حاصل کرتے ہیں (مثلاً ڈھال اور زرہ وغیرہ ان کے بارے میں مجھے بتائیے کہ کیا یہ سب چیزیں نوشتہ تقدیر میں کچھ اثر انداز ہوجاتی ہیں؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ یہ چیزیں بھی نوشتہ تقدیر ہی کے مطابق ہیں)۔ (مسند احمد بن حنبل، جامع ترمذی، سنن ابن ماجہ) تشریح جواب کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح بیماری وغیرہ امر مقدر ہیں، اسی طرح ان کا علاج اور ان سے حفاظت کے اسباب بھی نوشتہ تقدیر ہی کے مطابق ہوتے ہیں یعنی جس طرح کسی آدمی کے مقدر میں کوئی بیماری لکھ دی گئی ہے تو اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی نوشتہ تقدیر بن چکا ہے کہ یہ بیمار فلاں وقت میں اپنی بیماری کا علاج کرے گا اور یہ بھی طے ہوچکا ہے کہ اس علاج و معالجہ سے اسے فائدہ ہوگا یا نہیں، اگر فائدہ ہونا لکھا ہے تو فائدہ ہوجائے گا اور فائدہ ہونا نہیں لکھا ہے تو نہیں ہوگا، اس لئے اگر کسی بیمار نے اپنی بیماری کا علاج کیا اور اسے فائدہ نہیں ہوا تو اسے سمجھنا چاہیے کہ تقدیر میں شفا نہیں لکھی تھی! لہٰذا معلوم ہوا کہ بیماری میں علاج کرنا، یا اپنی حفاظت کے لئے خارجی اسباب کا سہارا لینا نوشتہ تقدیر کے خلاف نہیں ہے۔ تعویذ گنڈے اور جھاڑ پھونک کا مسئلہ یہ ہے کہ تعویذ گناہ ہے اگر قرآن کی آیتوں اور احادیث کی دعاؤں کے مطابق ہوں یا جھاڑنا، پھونکنا اور دم کرنا اگر اسماء وصفات الہٰی اور قرآن و حدیث کے مطابق ہو۔ نیز ان کو موثر حقیقی سمجھنے کا عقیدہ بھی نہ ہو یعنی یہ یقین نہ رکھتا ہو کہ ان چیزوں سے یقینا فائدہ ہوگا خواہ مرضی الہٰی ہو یا نہ ہو بلکہ یہ عقیدہ ہو کہ شفا و صحت کا عطا کرنے والا تو اللہ ہے یہ صرف اسباب و تبرک کے درجہ میں ہیں تو ایسی شکل میں یہ چیزیں جائز ہوں گی، اگر اس کے برخلاف ہو کہ جھاڑنا پھونکنا اور تعویذ گنڈے غیر شرعی ہوں یعنی اس میں غیر اللہ کی مدد لی جاتی ہو تو یہ حرام ہوگا۔

95Mishkaat-al-Masabih

تقدیر پر ایمان لانے کا بیان

وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ خَرَجَ عَلَیْنَا رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَتَنَازَعُ فِی الْقَدْرِ فَغَضِبَ حَتّٰی اِحْمَرَّ وَجْھُہ، حَتّٰی کَاَنَّمَا فُقِئَ فِیْ وَجْنَتَیْہِ حَبُّ الرُّمَّانِ فَقَالَ اَبِھٰذَا مُرِتْمُْ اَ ْم بِھٰذَا اُرْسِلْتُ إِلَیْکُمْ اِنَّمَا ھَلَکَ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ حَیْنَ تَنَازَعُوْا فِیْ ھٰذَا الْاَمْرِ عَزَمْتُ عَلَیْکُمْ عَزَمْتُ عَلَیْکُمْ اَن لَّا تَنَازَعُوْا فِیْہِ رَوَاہُ التِّرْمَذِیُّ وَرَوَی ابْنُ مَاجَۃَ نَحْوَہ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبِ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ جَدِّہٖ۔

اور حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ (ایک دن) ہم قضا و قدر کے مسئلہ پر بحث کر رہے تھے کہ سرکار دو عالم ﷺ تشریف لے آئے (ہمیں اس مسئلہ میں الجھا ہوا دیکھ کر) آپ ﷺ کا چہرہ انور غصہ کی وجہ سے سرخ ہوگا اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ گویا انار کے دانے آپ ﷺ کے رخسار مبارک پر نچوڑ دیئے گئے ہیں ( اسی حالت میں) آپ ﷺ نے فرمایا کہ تمہیں اس چیز کا حکم دیا گیا ہے اور میں اسے لئے تمہارے پاس (رسول بنا کر بھیجا) گیا ہوں؟ جان لو! تم سے پہلے کے لوگ اس لئے ہلاکت کی وادی میں پھینک دئیے گئے کہ انہوں نے اس سلسلہ میں الجھنا اپنا مشغلہ بنا لیا تھا لہٰذا میں تمہیں بات کی قسم دیتا ہوں (اور پھر دو بار) قسم دیتا ہوں کہ تم اس مسئلہ پر بحث نہ کیا کرو (جامع ترمذی) اور ابن ماجہ نے اسی طرح کی روایت عمر و بن شعیب سے نقل کی ہے جو انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے اپنے دادا سے روایت کی ہے۔ تشریح صحابہ آپس میں تقدیر کے مسئلہ پر بحث کر رہے تھے بعض صحابہ تو یہ کہہ رہے تھے کہ تمام چیزیں اللہ تعالیٰ ہی کی جانب سے نوشتہ تقدیر کے مطابق ہیں تو پھر ثواب و عذاب کا ترتب کیوں ہوتا ہے؟ جیسا کہ معتزلہ کا مذہب ہے اور کچھ حضرات یہ کہہ رہے تھے کہ اس میں اللہ کی کیا مصلحت و حکمت ہے کہ بعض انسانوں کو تو جنت کے لئے پیدا کیا اور بعض انسانوں کو دوزخ کے لئے پیدا کیا ہے؟ کچھ صحابہ نے اس کا جواب دیا کہ یہ اس لئے ہے کہ انسانوں کو کچھ اختیارات بھی اعمال کے کرنے اور نہ کرے کا دے دیا ہے، کچھ نے کہا یہ اختیار کس نے دیا؟ بہر حال اس قسم کی گفتگو ہو رہی تھی اور اپنی عقل و دانش کے بل بوتہ پر اللہ کے اس رازو مصلحت کے حقیقت تک پہنچنے کی کوشش کی جا رہی تھی کہ سرکار دو عالم ﷺ نے جب ان کو اس بحث مباحثہ میں مشغول پایا تو غصہ و غضب سے چہرہ مقدس سرخ ہوگیا اس لئے صحابہ کو بتلا دیا گیا کہ یہ تقدیر کا مسئلہ اللہ کا ایک راز و بھید ہے جو کسی پر ظاہر نہیں کیا گیا ہے لہٰذا اس میں اپنی عقل لڑانا اور غور و تحقیق گمراہی کی راہ اختیار کرنا ہے، چناچہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں اس لئے دنیا میں نہیں بھیجا گیا ہوں کہ تقدیر کے بارے میں بتاؤں اور تم اس میں بحث و مباحثہ کرو، میری بعثت کا مقصد صرف یہ ہے کہ اللہ و تعالیٰ کے احکام تم لوگوں تک پہنچا دوں اور اطاعت فرمانبرداری کی راہ پر تمہیں لگاؤں۔ دین و شریعت کے فرائض و اعمال کے کرنے کا تمہیں حکم دوں، لہٰذا ایک سچے و مخلص ہونے کے ناطے پر صرف اتنا ہی فرض ہے کہ تم ان احکام فرائض پر عمل کرو اور جن اعمال کے کرنے کا تمہیں حکم دوں اس کی بجا آوری میں لگے رہو، تم اس تقدیر کے مسئلہ میں مت پڑو پس اتنا ہی اعتقاد تمہارے لئے کافی ہے کہ یہ اللہ کا ایک راز ہے جس کی حقیقت و مصلحت وہی جانتا ہے، اس کو اسی کی مرضی پر چھوڑ دو۔ آخر حدیث میں صاحب مشکوۃ نے ابن ماجہ کی اسی طرح کی روایت کردہ حدیث کی سند کا ذکر کیا ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ حدیث شعیب نے اپنے دادا سے نقل کی ہے جو عبداللہ بن عمرو بن العاص ہیں اور شعیب سے ان کے صاحبزادے عمرو روایت کرتے ہیں اس طرح عن ابیہ کی ضمیر عمرو بن شعیب کی طرف راجع ہوگی اور عن جدہ کی ضمیر شعیب کی طرف راجع ہوگی اس لئے کہ عمر اپنے دادا سے روایت نہیں کرتے ہیں کیونکہ ان کے دادا محمد بن عبداللہ سے وہ روایت منقول نہیں ہے، یہ سلسلہ نسب اس طرح ہے عمر بن شعیب بن محمد بن عبداللہ بن عمرو بن العاص۔ اس کی فائدہ اس لئے یہاں ضروری ہے کہ دوسری احادیث میں اس طرح کی عبارات میں عن جدہ کی ضمیر عمرو بن شعیب کی طرف راجع ہوتی ہے لیکن یہاں سے اس کے برخلاف ہے۔

96Mishkaat-al-Masabih

تقدیر پر ایمان لانے کا بیان

وَعَنْ اَبِیْ مُوْسٰی قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ اِنَّ اﷲَ خَلَقَ اٰدَمَ مِنْ قَبْضَۃِ قَبَضَھَا مِنْ جَمِیْعِ الْاَرْضِ فَجَآءَ بَنُوْۤا اٰدَمَ عَلٰی قَدْرِ الْاَرْضِ مِنْھُمُ الْاَحْمَرُ وَلْاَبْیَضُ وِالْاَسْوَدُ وَبَیْنَ ذٰلِکَ وَ السَّھْلُ وَالْحَزْنُ وَالْخَبِیْثُ وَالطَّیِّبُ۔ (رواہ مسند احمد بن حنبل والجامع ترمذی وابودؤد)

اور حضرت ابوموسی راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کی تخلیق ایک مٹھی (مٹی) سے کی جو ہر جگہ کی زمین سے لی گئی تھی لہٰذا آدم کی اولاد (انہیں) زمین کے موافق پیدا ہوئی چناچہ (انسانوں میں) بعض سرخ، بعض سفید، بعض کالے، بعض درمیانہ رنگ کے، بعض نرم مزاج، بعض تند مزاج بعض پاک اور بعض ناپاک ہیں۔ (مسند احمد بن حنبل، جامع ترمذی، سنن ابوداؤد) تشریح حضرت آدم کی تخلیق کے وقت ایک فرشتہ حضرت عزرائیل کو حکم دیا گیا کہ وہ ایک مٹھی بھر کے مٹی لے آئیں چناچہ وہ تمام روئے زمین سے ہر خطہ و ہر جگہ کی تھوڑی مٹی اپنی مٹھی میں بھر لائے اسی سے حضرت آدم (علیہ السلام) کی تخلیق کی گئی اسی لئے آدم کی اولاد میں مختلف رنگ و نسل اور مختلف طبائع کے انسان پیدا ہوتے ہیں کوئی کالا ہوتا ہے تو کوئی گورا اور کسی کا رنگ گندمی ہوتا ہے اسی طرح کچھ انسان اپنی طبیعت و مزاج کے اعتبار سے نرم خو، خوش اخلاق اور میٹھی زبان کے ہوتے ہیں کچھ لوگوں کی طبیعت سخت و تیز اور غیر معتدل ہوتی ہے، بعض انسان فطرتاً پاک و صاف ہوتے ہیں اور بعض گندگی و نجاست سے ملوث رہتے ہیں اور یہ فرق و اختلاف اسی بنیادی مادہ کی وجہ سے ہے جس سے حضرت آدم (علیہ السلام) کی تخلیق کی گئی تھی۔

97Mishkaat-al-Masabih

تقدیر پر ایمان لانے کا بیان

وَعَنْ عَبْدِ اﷲِ بْنِ عَمْرِوقَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ اِنَّ اﷲَ خَلَقَ خَلْقَہ، فِی ظُلْمَۃِ فَاَلْقٰی عَلَیْھِمْ مِنْ نُّوْرِہٖ فَمَنْ اَصَابَہ، مِنْ ذٰلِکَ النُّوْرِ اِھْتَدَی وَمَنْ اَخْطَأَہ، ضَلَّ فَلِذٰلِکَ اَقُوْلُ جَفَّ الْقَلَمُ عَلٰی عِلْمِ اﷲِ۔(رواہ مسند احمد بن حنبل والجامع ترمذی)

اور حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے سرکار عالم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق (جن وانس) کو اندھیرے میں پیدا کیا اور پھر ان پر اپنے نور کا پر تو ڈالا، لہٰذا جس کو اس نور کی روشنی میسر آگئی وہ راہ راست پر لگ گیا اور جو اس کی مقدس شعاعوں سے محروم رہا وہ گمراہی میں پڑا رہا، اسی لئے میں کہتا ہوں کہ تقدیر الہٰی پر قلم خشک ہوچکا ہے (کہ اب تقدیر میں تغیر و تبدل ممکن نہیں۔ (مسند احمد بن حنبل جامع ترمذی ) تشریح اندھیرے سے مراد نفس امارہ کی ظلمت ہے کہ انسان کی جبلت میں خواہشات نفسانی اور غفلت کا مادہ رکھا تھا لہٰذا جس کا قلب و دماغ ایمان و احسان کی روشنی سے منور ہوگیا اور اس نے طاعت الہٰی سے اللہ کی ذات کا عرفان حاصل کرلیا تو وہ نفس امارہ کے مکر و فریب اور اس کی ظلمت سے نکل کر اللہ پرستی و نیکو کاری کے لالہ زار میں آگیا اور جو اپنے نفس کے مکر و فریب میں پھنس کر طاعت الہٰی کے نور سے محروم رہا وہ گمراہی میں پڑا رہ گیا۔

98Mishkaat-al-Masabih

تقدیر پر ایمان لانے کا بیان

وَعَنْ اَنَسِ قَالَ کَانَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُکْثِرُ اَنْ یَّقُوْلَ یَا مُقَلِّبَ الْقُلُوْبِ ثَبِّتْ قَلْبِیْ عَلٰی دِیْنِکَ فَقُلْتُ یَانَبِیَّ اﷲِ اٰمَنَّابِکَ وَبِمَا جِئْتَ بِہٖ فَھَلْ تَخَافُ عَلَیْنَا قَالَ نَعَمْ اِنَّ الْقُلُوْبَ بَیْنَ اِصْبَعَیْنِ مِنْ اَصَابِعِ اﷲِ یُقَلِّبُھَا کَیْفَ یَشَآئُ۔ (رواہ الجامع ترمذی و ابن ماجۃ)

اور حضرت انس راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ اکثر بیشتر بطور دعا کے یہ فرمایا کرتے تھے۔ اے قلوب کو پھیرنے والے! میرے دل کو اپنے دین پر قائم رکھ! میں نے کہا یا رسول اللہ! ہم آپ ﷺ کے لائے ہوئے دین و شریعت پر بھی ایمان لائے تو کیا اب بھی ہمارے بارے میں آپ ﷺ ڈرتے ہیں (کہ کہیں ہم گمراہ نہ ہوجائیں) آپ ﷺ نے فرمایا بیشک قلوب اللہ کی انگلیوں میں سے دو انگلیوں کے درمیان ہیں ( یعنی اس کے تصرف و اختیار میں ہیں اور جس وہ طرح چاہتا ہے ان کو گردش میں لاتا رہتا ہے)۔ (جامع ترمذی، سنن ابن ماجہ) فائدہ حضرت انس کے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ آپ ﷺ تو بالک معصوم اور محفوظ ہیں۔ نعوذ باللہ کسی گمرائی کا شائبانہ بھی آپ ﷺ کے اندر نہیں آسکتا ظاہر ہے کہ یہ دعا آپ ﷺ ہمارے لئے ہی کرتے ہوں گے کہ کہیں ہم دنیا کے چمک دمک میں پھنس کر اپنے دین و ایمان سے گمراہ نہ ہوجائیں تو کیا ایسی شکل میں جب کہ آپ ﷺ ہمارے درمیان موجود ہیں اور ہم آپ ﷺ کی رسالت اور آپ ﷺ کی لائی ہوئی شریعت کی صداقت کا اعتقاد رکھتے ہیں، نیز ہمارے قلوب ایمان و ایقان کی حقیقی کیفیت سے سر شار ہیں ہمارے گمراہ ہونے کا کیا خدشہ ہوسکتا ہے اس پر سرکار دو عالم ﷺ نے جواب دیا کہ قلوب کے رخ اللہ کے ہاتھ میں ہیں اور جس طرح چاہتا ہے ان کو پھیرتا رہتا ہے، نہ معلوم کس کے قلب کا رخ گمراہی کی طرف کب ہوجائے اس لئے دعا مانگی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ دل کو ہمیشہ سلامتی کی راہ پر لگائے رہے اور گمراہی کی طرف نہ مڑنے دے۔

99Mishkaat-al-Masabih

تقدیر پر ایمان لانے کا بیان

وَعَنْ اَبِی مُوْسٰی قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَثَلُ الْقَلْبِ کَرِیْشَۃِ بِاَرْضِ فُلاَۃِ یُقَلِّبُھَا الرِّیَاحُ ظَھْرًا لِبَطْنِ۔ (رواہ مسند احمد بن حنبل)

اور حضرت ابوموسی راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا دل کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کوئی پرَ کسی میدان میں پڑا ہو اور ہوائیں اس کی پیٹھ سے پیٹ اور پیٹ سے پیٹھ کی طرف پھرتی رہتی ہیں۔ (مسند احمد بن حنبل) تشریح اسی طرح دلوں کا حال ہے کہ کبھی وہ برائی سے بھلائی کی طرف رخ کرلیتے ہیں اور کبھی بھلائی سے برائی کے راستہ پر جا لگتے ہیں۔

100Mishkaat-al-Masabih

تقدیر پر ایمان لانے کا بیان

وَعَنْ عَلِیِّ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَا یُؤْمِنُ عَبْدٌ حَتّٰی یُؤْمِنَ بِاَرْبَعِ یَشْھَدُ اَنْ لَا اِلٰہَ اِلَّا اﷲُ وَاَنِّیْ رَسُوْلُ اﷲِ بَعَثَنِیْ بِالْحَقِّ وَیُؤْمِنْ بِالْمَوْتِ وَ الْبَعْثِ بَعْدَ الْمَوْتِ وَیُؤْمِنُ بِالْقَدْرِ۔ (رواہ التہ مذی وابن ماجۃ)

اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا کوئی بندہ اس وقت تک مومن نہیں ہوتا جب تک کہ وہ چار چیزوں پر ایمان نہ لائے۔ (١) اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ (٢) اور میں بلاشبہ اللہ کی جانب سے بھیجا ہوا رسول ہوں اور حق (دین اسلام) لے کر اس دنیا میں آیا ہوں۔ (٣) موت اور مرنے کے بعد (میدان حشر میں) اٹھنے پر ایمان لانا۔ (٤) اور تقدیر پر ایمان لانا۔ (جامع ترمذی، سنن ابن ماجہ) تشریح موت پر ایمان لانے کا مطلب یہ ہے کہ اس بات کو یقینی جانے کہ اس دنیا کی تمام زندگی عارضی اور فانی ہے جو اپنے وقت پر ختم ہوجائے گی۔ اور اس دنیا میں جو کچھ ہے سب ایک دن فنا کے گھاٹ اتر جائے گا یا اس سے یہ مراد ہے کہ اس بات پر صدق دل سے یقین و اعتقاد رکھا جائے کہ موت کا ایک دن مقرر ہے اور وہ خداوند کے حکم سے آتی ہے کوئی بیماری، حادثہ یا تکلیف موت کا حقیقی سبب نہیں ہے بلکہ یہ چیزیں بادی النظر میں ظاہری اسباب ہوتے ہیں کسی انسان کی زندگی اور موت کلیۃً اللہ کے ہاتھ میں ہے جب تک اس کا حکم ہوتا ہے زندگی رہتی ہے اور جب وہ چاہتا ہے موت بھیج کر زندگی ختم کردیتا ہے۔