Mishkaat-al-Masabih

All 6,333 hadiths in order · Page 3 of 317

41Mishkaat-al-Masabih

ایمان کی عظمت

وَعَنْ اَبِیْ اُمَامَۃَ اَنَّ رَجُلًا سَاَلَ رَسُوْلَ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلممَالْاِ یْمَانُ قَالَ اِذَا سَرَّتْکَ حَسَنٰتُکَ وَسَاءَ تْکَ سَیِّئٰتُکَ فَاَنْتَ مُؤْمِنٌ قَالَ یَا رَسُوْلَ اﷲِ فَمَا الْاِثْمُ قَالَ اِذَا حَاکَ فِیْ نَفْسِکَ شَیْئٌ فَدَعَہ،۔ (رواہ مسند احمد بن حنبل)

حضرت ابوامامہ راوی ہیں کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا (یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ) ایمان کی سلامتی کی علامت کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا! جب تمہاری نیکی تمہیں بھلی لگے۔ اور تمہاری برائی تمہیں بری لگے تو (سمجھو کہ) تم (پکے) مومن ہو، پھر اس آدمی نے پوچھا، یا رسول اللہ! گناہ (کی علامت) کیا ہے؟ آنحضور صلی اللہ عنہ نے فرمایا! جب کوئی بات تمہارے دل میں کھٹک اور تردد پیدا کرے (تو سمجھو کہ وہ گناہ ہے) لہٰذا اس کو چھوڑ دو۔ ( مسند احمد بن حنبل) تشریح سوال کا مقصد یہ تھا کہ کوئی ایسی واضح علامت بتادی جائے جس کے ذریعہ ایمان کی سلامتی و استقامت کا اندازہ کیا جاسکے۔ چناچہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اگر تم اپنے اندر یہ کیفیت پاؤ کہ جب کوئی اچھا کام کرتے ہر تو تمہارا قلب و دماغ اس کام کی بھلائی کو خود محسوس کرتا ہے اور ایک خاص قسم کی طمانیت اور آسودگی پاتا ہے۔ احساس و شعور کی دنیا اللہ کی طرف سے نیکی کی توفیق اور مدد پانے پر فرحاں و شاداں اور رب کریم کی خوشنودی و قربت کی طلب گاری و امیدواری سے معمور ہوجاتی ہے۔ یا یہ کہ جب بتقضائے بشریت تم سے کوئی ایسا فعل صادر ہوجاتا ہے جو واضح طور پر گناہ و معصیت کا کام سمجھا جاتا ہے تو فوراً تمہارا دل اللہ کے خوف سے بھر جاتا ہے اور پروردگار کی ناراضگی کا احساس کر کے شرمسار و نادم ہوجانا تو سمجھ لو کہ ایمان تمہارے دل و دماغ میں رچ بس گیا ہے اور تم پکے مومن ہوگئے۔ کیونکہ نیکی اور بدی کے درمیان امتیاز کرنا اور ثواب اور گناہ کا احساس و شعور پیدا کرنا صرف ایمان کے خلاصہ ہے۔ اخروی جزا اور سزا اعتقاد جو قلب مومن میں ہوتا ہے، وہ غیر مومن کے قلب میں نہیں ہوتا۔ دوسرے سوال کا مطلب دراصل یہ تھا کہ مومن کو اپنی روز مرہ زندگی میں بعض ایسی چیزوں سے واسطہ پڑجاتا ہے جن کے بارے میں واضح طور پر علم نہیں ہوتا کہ آیا یہ چیز شرعی نقطہ نظر سے برائی کے حکم میں ہے اور اس سے کوئی گناہ لازم آتا ہے یا اس کو اختیار کرنے میں کوئی قباحت نہیں ہے تو ایسے مشتبہ عمل کی برائی یا بھلائی کو پہچاننے کی علامت کیا ہے؟ اس کے جواب میں سرکار دو عالم ﷺ کے ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ سچے اور پاکباز مومن کا قلب دراصل فطرت کی ایسی پاکیزہ لوح ہے جس پر صرف اسلامی اطاعت و فرمانبرداری اور نیکی و بھلائی ہی کے نقوش ابھر سکتے ہیں، اگر گناہ و معصیت کا ہلکا سا دھبہ بھی وہاں پہنچتا ہے تو اس کو کوئی جگہ نہیں ملتی اور وہ کھٹک و ترد کی صورت میں منڈلاتا پھرتا ہے پس کسی بھی عمل اور چیز کے بارے میں اگر یہ کیفیت ظاہر ہو کہ فطرت سلیم اس کو قبول کرنے پر تیار نہیں ہوتی، قلب اس کا بوجھ محسوس کرتا ہے اور دماغ میں خلش و ترد پیدا ہوگیا ہے تو جانو کہ وہ عمل برائی کا حامل ہے اور گناہ و معصیت کو لازم کرنے والا ہے اور نجات و فلاح اسی میں ہے کہ اس چیز کو فوراً چھوڑ دیا جائے یہی وجہ ہے کہ ارباب باطن اور اولیاء اللہ قلب و دماغ کی صفائی اور پاگیزگی کی بناء پر کسی عمل کی پوشیدہ ترین برائی کو بھی پہچان لیتے ہیں اور کسی بھی ایسی چیز کو اپنے قریب نہیں آنے دیتے جو گناہ معصیت کا ہلکا سا شائبہ بھی رکھتا ہو۔ ان کے ہاں مشتبہ عمل سے بھی اس درجہ کا اجتناب برتا جاتا ہے، جتنا اجتناب وہ کھلے ہوئے برے اعمال سے کرتے ہیں۔ کیونکہ ان کا دل و دماغ برائی کے شائبہ کو بھی بھانپ لیتا ہے اور ان کا اطمینان قلب اور عمل کا سرور صرف اسی صورت میں حاصل ہوتا ہے جب ان کا کوئی قد راہ مستقیم سے ہٹا ہوا نہیں ہوتا اور ان کا کوئی کام دین و شریعت کی روح کے منافی نہیں ہوتا۔

42Mishkaat-al-Masabih

ایمان و اسلام کی باتیں

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَۃَ قَالَ اَتَیْتُ رَسُوْلَ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلمفَقُلْتُ یَا رَسُوْلَ اﷲِ مَن مَّعَکَ عَلٰی ھٰذَا الْاَمْرِ قَالَ حُرٌّ و عَبْدٌ قُلْتُ مَا الْاِسْلَامُ قَالَ طِیْبَ الْکَلَامِ وَ اِطْعَامُ الطَّعَامِ قُلْتُ مَا الْاِیْمَانُ قَالَ الصَبْرُوَ السَّمَا حْۃُ قَالَ قُلْتُ اَیُّ الْاِسْلَامِ اَفْضَلُ قَالَ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُوْنَ مِنْ لِسَانِہٖ وَیَدِہٖ قَالَ قُلْتُ اَیُّ الْاِیْمَانِ اَفْضَلُ قَالَ خُلْقٌ حَسَنٌ قَالَ قُلْتُ اَیُّ الصَّلَاۃِ اَفْضَلُ قَاَل طُوْلُ الْقُنُوْتِ قَالَ قُلْتُ اَیُّ لْھِجْرَۃِ اَفْضَلُ قَالَ اَنْ تَھْجُرَ مَاکَرِہَ رَبُکَ قَاَل قُلْتُ فَاَیُّ الْجِھَادِ اَفْضَلُ قَالَ مَنْ عُقِرَ جَوَادُہُ وَاُھْرِیْقَ دَمُہ، قَاَل قُلْتُ اَیُّ السَّاعَاتِ اَفْضَلُ قَاَل جَوْفُ اللَّیْلِ الْاٰخِرُ۔ (رواہ مسند احمد بن حنبل)

حضرت عمرو بن عبسہ (آپ کا نام عمرو ہے عنبسہ کے بیٹے ہیں اور ابونجیح آپ کی کنیت ہے۔ اور حضرت علی کے دور خلاف میں انتقال فرمایا)۔ راوی ہیں کہ میں سرکار دو عالم ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ! دعوت اسلام کے آغاز میں، اس دین (اسلام) پر آپ ﷺ کے ساتھ کون تھا؟ آپ ﷺ نے فرمایا ایک آزاد (ابوبکر) اور ایک غلام (بلال) میں نے عرض کیا اسلام کی علامت کیا ہے؟ فرمایا پاکیزہ کلامی اور (مساکین کو) کھانا کھلانا، میں نے عرض کیا ایمان کی باتیں کیا ہیں؟ فرمایا! صبر اور سخاوت (یعنی بری باتوں سے باز رہنا اور طاعت فرمانبرداری پر مستعد ہونا) میں نے کہا کون سا مسلمان بہتر ہے؟ فرمایا جس کی زبان اور ہاتھ ( کی ایذاء) سے مسلمان محفوظ رہیں، میں نے کہا ایمان میں بہتر کیا چیز ہے؟ فرمایا یہ کہ تم اس چیز کو چھوڑ دو جس سے تمہارا پروردگار ناخوش ہوتا ہے میں نے کہا جہاد میں افضل کون ہے! فرمایا وہ آدمی افضل ہے جس کا گھوڑا مارا جائے اور خود بھی شہید ہوجائے۔ میں نے کہا سب سے افضل کون سا وقت ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا نصف شب کا آخری حصہ۔ (مسند احمد بن حنبل)

43Mishkaat-al-Masabih

ایمان اور اسلام پر مرنے والا جنتی ہے

وَعَنْ مُعَاذِبْنِ جَبَلٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم یَقُوْلُ مَنْ لَقِیَ اﷲَ لَا یُشْرِکُ بِہٖ شَیْأً وَیُصَلِّی الْخَمْسَ وَیَصَوْمُ رَمَضَانَ غَفِرَلَہُ قُلْتُ اَفَلَا اُبَشِّرُ ھُمْ یَا رَسُوْلَ اﷲِ قَالَ دَعْھُمْ یَعْمَلُوْا۔ (رواہ مسند احمد بن حنبل)

اور حضرت معاذ بن جبل فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا! جس آدمی نے اللہ کی طرف اس حال میں کوچ کیا کہ اس نے کسی کو اللہ تعالیٰ کا شریک نہیں ٹھہرا رکھا تھا۔ پانچوں وقت کی نماز پڑھتا تھا اور رمضان کے روزے رکھتا تھا تو وہ بخش دیا جائے گا۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! کیا میں لوگوں کو خوش خبری سنا دوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا! ان کو اپنے حال پر چھوڑ دو اور عمل میں لگا رہنے دو۔ (مسند احمد بن حنبل) تشریح اس بخشش کا تعلق گناہ صغیرہ سے ہے لیکن اللہ تعالیٰ کے رحم و کرم سے اس کی بھی امید ہے کہ اگر وہ چاہے گا تو کبیرہ گناہ بھی بخش دے گا۔ ویسے گناہ کبیرہ کی سزا بھگتنے کے بعد ہی بخشش اور جنت کا استحقاق ملے گا۔ اسی لئے جب حضرت معاذ ابن جبل ؓ نے اس خوشخبری کو عام کرنے کی اجازت چاہی تو رسول اللہ ﷺ نے منع فرما دیا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ لوگ اسی خوشخبری پر بھروسہ کر بیٹھیں اور عمل کرنا چھوڑ دیں یا بد اعمال میں مبتلا ہوجائیں اور گناہ و معصیت کا ارتکاب کرنے لگیں اور پھر عذاب کے مستوجب بن جائیں۔ اس حدیث میں حج اور زکوٰۃ کا ذکر اس لئے نہیں کیا گیا کہ ان فرائض کا تعلق خاص طور پر صاحب استطاعت اور مالدار لوگوں سے ہے چونکہ عمومی طور پر ہر آدمی زکوٰۃ و حج کی ادائیگی کی استطاعت نہیں رکھتا اس لئے صرف ان فرائض کا ذکر کیا گیا ہے جن کا تعلق بلا تخصیص امیر و غریب ہر آدمی سے ہے جیسے نماز روزہ کہ اس میں امیر و غریب کسی کی تخصیص نہیں ہے یہ سب پر فرض ہیں۔

44Mishkaat-al-Masabih

ایمان اور اسلام پر مرنے والا جنتی ہے

وَعَنْہُ اَنَّہُ سَاَلَ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلم عَنْ اَفْضَلِ الْاِیْمَانِ قَالَ اَنْ ُتحِبَّ لِلّٰہِ وَتُبْغِضَ ﷲِ وَتَعْمَلَ لِسَانَکَ فِیْ ذِکْرِ اﷲِ قَالَ وَمَاَذَا یَا رَسُوْلِ اﷲِ قَالَ وَاَنْ تُحِبَّ للِنَّاسِ مَاتُحِبُّ لِنَفْسِکَ وَ تَکْرَہُ لَھُمْ مَا تَکَرَہُ لِنَفْسِکَ۔ (رواہ مسند احمد بن حنبل)

اور حضرت معاذ بن جبل ؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا کہ ایمان کی اعلیٰ باتیں کیا ہیں؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ (کسی سے) تمہاری محبت بھی اللہ کے لئے ہو اور بغض و عداوت بھی اللہ ہی کے لئے ہو اور تم اپنی زبان کو (خلوص دل سے) اللہ کے ذکر میں مشغول رکھو، انہوں نے پوچھا یا رسول اللہ! اس کے علاوہ اور کیا ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا دوسروں کے لئے وہی چیز پسند کرو جو اپنے لئے پسند کرتے ہو۔ اور جس چیز کو اپنے لئے ناپسند کرتے ہو اس کو دوسروں کیلئے بھی ناپسند کرو۔ (مسند احمد بن حنبل)

45Mishkaat-al-Masabih

گناہ کبیرہ اور نفاق کی علامتوں کا بیان

گناہ کبیرہ کے معنی ہیں۔ بڑے گناہ! چناچہ اصطلاح شریعت میں گناہ کبیرہ اس بڑے فعل کو فرماتے ہیں جس کا ارتکاب کرنے والا حد یعنی شریعت کی متعین کردہ سزا کا مسوجب ہوتا ہے، یا جس کے ارتکاب پر قرآن و حدیث میں سخت و عید و تنبیہ مذکورہ ہو، یا جس کے ارتکاب کو شریعت نے بطور مبالغہ ارتکاب کفر سے تعبیر کیا ہو (جیسے قصدا نماز ترک کرنے پر حدیث میں یہ وعید آئی ہے (حدیث من ترک الصلوۃ متعمد افقد کفر) یعنی جس آدمی نے نماز قصدا ترک کردی وہ کافر ہوگیا) یا جس کا فساد و نقصان گناہ کبیرہ کے فساد و نقصان کے برابر یا اس سے زیادہ ہو، یا جس کی ممانعت دلیل قطعی کے ساتھ ثابت ہو اور جس کا اختیار کرنا حرمت دین کی ہتک کا موجب ہو پس جس فعل اور بات میں ان میں سے کوئی بھی چیز پائی جائے گی اس کو گناہ کبیرۃ یعنی بڑا گناہ کہیں گے اور جس فعل یا بات میں ان میں سے کوئی چیز نہیں پائی جائے گی اور وہ اسلامی تعلیمات اور دینی تقاضا کے خلاف ہوگی اس کو گناہ صغیرہ یعنی چھوٹا گناہ کہا جائے گا یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ بعض اعتبار سے اگرچہ گناہ کبیرہ کے مختلف درجات ہیں کہ بعض کبیرہ گناہ تو بہت ہی برے اور نہایت ہی قابل نفرت ہیں اور بعض گناہ نسبۃ کچھ ہلکے درجہ کے ہیں لیکن شریعت کی نظر میں قابل مواخذہ و گرفت اور موجب عذاب ہونے کے اعتبار سے سب یکساں نوعیت رکھتے ہیں۔ احادیث میں ایک جگہ تمام کبیرہ گناہوں کا تعین اور تفصیل کے ساتھ ذکر موجود نہیں ہے، بلکہ موقع محل کی مناسبت یا کسی سائل کو جواب میں آنحضور ﷺ کی طرف سے بیان کردہ کبیرہ گناہوں کی جو فہرست مرتب کی ہے وہ مختصراً یوں ہے۔ (١) اللہ تعالیٰ کا شریک بنانا یعنی کسی کو اس کی عبادت یا اس کی صفات میں شریک کرنا مثلا استعانت (مدد چاہنے) میں، علم میں، قدرت میں، تصرف میں، تخلیق میں، پکارنے میں، نام رکھنے میں، ذبح کرنے میں، نذر ماننے میں اور لوگوں سے امور سونپنے میں کسی کو بھی وہ درجہ اور حیثیت دینا جو صرف اللہ تعالیٰ کی سزاوار ہے۔ (٢) گناہ پر اصرار و دوام کی نیت رکھنا۔ (٣) ناحق کسی کو قتل کرنا (٤) زنا کرنا۔ (٥) لواطت کرنا۔ (٦) چوری کرنا۔ (٧) جادو سیکھنا اور جادو کرنا (٨) شراب پینا اور نشہ آور اشیاء کا استعمال کرنا۔ (٩) محارم یعنی ماں، بیٹی، بہن، پھوپھی، نانی اور خالہ وغیرہ سے نکاح کرنا۔ (١٠) جوا سیکھنا اور جوا کھیلنا (١١) دار الحرب سے ہجرت نہ کرنا۔ (١٢) دشمناں دین سے ناروا دوستی اور تعلق رکھنا۔ (١٣) طاقت و قوت اور غالب حیثیت رکھنے کے باوجود دشمنان دین سے جہاد نہ کرنا۔ (١٤) سود کھانا۔ (١٥) خنزیر اور مردار کے گوشت کا استعمال کرنا۔ (١٦) نجومی اور کاہن کی تصدیق کرنا۔ (١٨) ناحق کسی کا مال ہڑپ کرلینا۔ (١٨) پاکباز مرد یا پاکدامن عورت پر زنا کی تہمت دھرنا۔ (١٩) جھوٹی گواہی دینا۔ (٢٠) کسی عذر شرعی کے بغیر قصدا رمضان کا روزہ نہ رکھنا یا روزہ توڑنا۔ (٢١) جھوٹی قسم کھانا۔ (٢٢) قطع تعلق کرنا۔ (٢٣) ماں باپ کو ستانا اور ان کی نافرمانی کرنا۔ (٢٤) جنگ کے موقع پر دشمناں دین کے مقابلہ سے فرار اختیار کرنا۔ (٢٥) یتیموں کا مال ناحق کھانا۔ (٢٦) ناپ تول میں خیانت کرنا۔ (٢٧) نماز کو وقت پر نہ پڑھنا۔ (٢٨) مسلمانوں سے ناحق لڑنا جھگڑنا۔ (٢٩) ذات رسالت مآب ﷺ پر جھوٹا الزام لگانا۔ (٣٠) رسول، کتاب اللہ اور فرشتوں کا انکار کرنا یا ان کا مذاق اڑانا۔ (٣١) احکام دین اور مسائل شریعت کا انکار کرنا۔ (٣٢) فرائض پر عمل نہ کرنا یعنی نماز نہ پڑھنا، زکوٰۃ ادا نہ کرنا، رمضان کے روزے نہ رکھنا اور استطاعت کے باوجود حج نہ کرنا۔ (صحابہ یا کسی صحابی کو برا کہنا۔ (٣٤) بالعذر کتمان شہادت کرنا۔ (٣٥) رشوت لینا۔ (٣٦) میاں بیوی کے درمیان نفاق ڈلوانا۔ (٣٧) حاکم کے سامنے کسی کی چغل خوری کرنا۔ (٣٨) غیبت کرنا۔ (٣٩) اسراف میں مبتلا ہونا۔ (٤٠) رہزنی کا ارتکاب کرنا۔ (٤١) دین کے نام پر یا کسی دنیوی غرض کے تحت روئے زمین پر فتنہ و فساد پھیلانا۔ (٤٢) گناہ صغیرہ پر اصرار و دوام اختیار کرنا۔ (٤٣) کسی کو گناہ کی طرف راغب کرنا یا گناہ کے ارتکاب میں مدد دینا۔ (٤٤) ہار مونیم، طبلہ اور دوسرے ممنوع باجوں کے ساتھ گانا۔ (٤٥) نہاتے وقت دوسروں کے سامنے ستر کھولنا۔ (٤٦) مالی مطالبات و واجبات کی ادائیگی میں بخل کرنا۔ (٤٧) خود کشی کرنا۔ (٤٨) اپنے اعضاء بدن میں سے کسی عضو کو ضائع کرنا اور تلف کردینا۔ (٤٩) منی اور پیشاب کی گندگی سے صفائی اور پاکی حاصل نہ کرنا۔ (٥٠) تقدیر کو جھٹلانا۔ (٥١) اپنے سردار اور حاکم سے عہد شکنی کرنا۔ (٥٢) کسی کی ذات اور نسب میں طعنہ زنی کرنا۔ (٥٣) غرور اور تکبر کے تحت پائنچے لٹکانا۔ (٥٤) لوگوں کو گمراہی کی طرف بلانا۔ (٥٥) میت پر نوحہ کرنا۔ (٥٦) برے طریقے اور بیہودہ رسمیں رائج کرنا۔ (٥٧) دھار دار آلہ سے کسی مسلمان کی طرف اشارہ کرنا۔ (٥٨) کسی کو خصی کردینا۔ (٥٩) اپنے بدن کے کسی حصہ کو کاٹنا۔ مثلاً داڑھی منڈانا یا ناک وغیرہ تھوڑی سی کاٹ ڈالنا۔ (٦٠) اپنے محسن سے احسان فراموشی کرنا۔ (٦١) حدودحرم میں ان کاموں کو کرنا جن کی ممانعت ہے۔ (٦٢) حدود حرم میں جاسوسی کرنا۔ (٦٣) نرد کھیلنا یا ایسا کوئی بھی کھیل کھیلنا جو بالا تفاق حرام ہو۔ (٦٤) کسی مسلمان کو کافر کہنا یا اس کو کسی ایسے الفاظ سے مخاطب کرنا جو صرف کافر کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ (٦٥) اگر ایک سے زائد بیویاں ہوں تو ان کے درمیان باری میں عدل نہ کرنا۔ (٦٦) جلق کرنا (مشت زنی کرنا)۔ (٦٧) غلہ وغیرہ کی گرانی سے خوش ہونا۔ (٦٨) جانوروں کے ساتھ بدفعلی کرنا۔ (٦٩) عالم کا اپنے علم پر عمل نہ کرنا۔ (٧٠) دنیا کی محبت میں مبتلا ہونا۔ (٧١) امرد پر بری نظر رکھنا۔ (٧٢) دوسروں کے گھر میں جھانکنا۔ (٧٣) صاحب خانہ کی اجازت کے بغیر اس کے گھر کے اندر داخل ہونا۔ (٧٤) دیوثی اور قرم ساقی کرنا۔ (٧٥) امر بالمعروف اور نہی عن المنکر (یعنی اچھے کاموں کی تبلیغ و تلقین اور برے کاموں سے روکنے) کا فریضہ باوجود قدرت کے انجام نہ دینا۔ (٧٦) پڑھنے کے بعد قرآن مجید کو بھلا دینا۔ (٧٧) جانوروں کو آگ میں جلانا (٧٨) عورت کا بغیر عذر شرعی اپنے شوہر کی نافرمانی کرنا۔ (٧٩) مرد کا عورت پر ظلم کرنا۔ (٨٠) اللہ کی رحمت و مغفرت سے ناامید ہونا۔ (٨١) اللہ کے عذاب سے بےخوف ہونا۔ (٨٢) علماء اور حفاظ کی توہین و تحقیر کرنا۔ (٨٣) بیوی سے ظہار کرنا، بعض علماء نے کبائز کی فہرست میں کچھ اور گناہوں کا بھی ذکر کیا ہے لیکن یہاں اختصار کی پیش نظر اسی فہرست پر اکتفا کیا جاتا ہے۔

46Mishkaat-al-Masabih

سب سے بڑے گناہ

وَ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍرَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَجُلٌ ےَا رَسُوْلَ اللّٰہِ اَیُّ الذَّنْبِ اَکْبَرُ عِنْدَاللّٰہِ قَالَ اَنْ تَدْعُوَلِلّٰہِ نِدًّا وَّھُوَ خَلَقَکَ قَالَ ثُمَّ اَیٌّ قَالَ اَنْ تَقْتُلَ وَلَدَکَ خَشْےَۃَ اَنْ ےَّطْعَمَ مَعَکَ قَالَ ثُمَّ اَیٌّ قَالَ اَنْ تُزَانِیَ حَلِےْلَۃَ جَارِکَ فَاَنْزَلَ اللّٰہُ تَعَالٰی تَصْدِےْقَھَا&& وَالَّذِےْنَ لَا ےَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰہِ اِلٰھًا اٰخَرَ وَلَا ےَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰہُ اِلَّا بِاْلحَقِّ وَلَا ےَزْنُوْنَ &&الاےۃ (پ١٩۔ع٤۔((صحیح البخاری و صحیح مسلم)

حضرت عبداللہ مسعود ( اسم گرامی عبداللہ بن مسعود اور کنیت ابوعبدالرحمن ہے، آپ کو حضور ﷺ نے جنت کی خوشخبری دی ہے آپ نے ٢٣ ھ بعمر کچھ اوپر ساٹھ سال بمقام مدینہ میں انتقال فرمایا)۔ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے سوال کیا، یا رسول اللہ ﷺ! اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے بڑا گناہ کون سا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا! یہ کہ جس اللہ نے تمہیں پیدا کیا ہے۔ تم کسی کو اس کا شریک ٹھہراؤ پھر اس آدمی نے پوچھا! اس کے بعد سب سے بڑا گناہ کون سا ہے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا! یہ کہ تم اپنی اولاد کو اس خیال سے مار ڈالو کہ وہ تمہارے ساتھ کھائے گی۔ پھر اس نے پوچھا، اس کے بعد سب سے بڑا گناہ کون سا ہے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا! یہ کہ تم اپنے ہمسایہ کی بیوی سے زنا کرو (حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ) سرکار ﷺ کے اسی ارشاد کی تصدیق میں یہ آیت نازل ہوئی (جس کا ترجمہ ہے) وہی بندگان خاص ہیں جو اللہ کے سوا کسی دوسرے کو معبود نہیں ٹھہراتے اور جس جاندار کو قتل کرنا اللہ نے حرام قرار دیا ہے اس کو ناحق قتل نہیں کرتے اور نہ زنا کرتے ہیں (جو کوئی ایسا کرے گا وہ گناہ کے وبال میں پڑے گا)۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم) تشریح اس حدیث میں چند ایسی باتوں کی نشاندہی کی گئی جو اخلاق و انسانیت کے اعتبار سے بھی نہایت پستی اور گراوٹ کی علامت ہیں اور شریعت نے بھی ان کو سب سے بڑے گناہوں میں شمار کیا ہے اور جن کا ارتکاب کرنے والا اللہ تعالیٰ کے سخت عذاب کا مستوجب قرار پاتا ہے۔ سب سے بڑا گناہ جس بات کو بتایا گیا ہے وہ کسی کو اپنے خالق اور پروردگار کا شریک ٹھہرانا ہے اور ان تدعو اللہ ندا کی تشریح میں علماء نے لکھا ہے کہ شریک ٹھہرانے کا مطلب ذات وصفات اور عبادت میں کسی کا اللہ کا ہمسر و ہم تاب بنانا ہے مثلاً عبادت و بندگی اور اظہار عبدیت کے جو طریقے اور جو افعال صرف ذات باری تعالیٰ کی عبادت کے لئے مخصوص ہیں۔ وہ طریقے اور افعال اللہ کے سوا کسی اور کے لئے بھی اختیار کرنا یا جس طرح اللہ کو یا اللہ کہہ کر یاد کیا جاتا ہے، اسی طرح کسی غیر اللہ کو پکارنا اور یاد کرنا اور یا جس طرح اللہ تعالیٰ حاجتوں کو پورا کرنے والا ہے اسی طرح کسی اور کو بھی حاجت روا مان کر یوں فریاد رسی کرنا کہ اے فلاں میری یہ حاجت پوری کر، میری مدد کردو وغیرہ وغیرہ۔ دوسرا بڑا گناہ یہ بتایا گیا ہے کہ کوئی آدمی اپنی اولاد کو اس خوف سے موت کے گھاٹ اتار دے کہ وہ میرے سر کا بوجھ بنے گی، اس کو کھلانا پلانا پڑے گا اور اس کی پرورش و تربیت کی معاشی ذمہ داریاں برداشت کرنا پڑیں گی، جیسا کہ زمانہ جاہلیت میں ظالمانہ طریقہ رائج تھا کہ لوگ افلاس کے خوف سے اپنی اولاد کو موت کے گھاٹ اتار دیتے تھے۔ تیسرا بڑا گناہ یہ بتایا گیا ہے کہ کوئی آدمی اپنے ہمسایہ کی بیوی سے زنا کرے۔ یوں تو مطلقاً زنا ایک گناہ ہے اور اس پر سخت سزا مقرر ہے۔ لیکن پڑوسی کی بیوی سے زنا کرنا بہت ہی بڑا گناہ ہے جس طرح کہ مطلقاً ناحق قتل کرنا ایک بڑا گناہ ہے، لیکن اولاد کو قتل کردینا نہایت ہی بڑا گناہ ہے۔

47Mishkaat-al-Masabih

والدین کی نا فرمانی اور جھوٹی قسم کھانا

وَعَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْرٍورَضِیَ اللّٰہ عَنْہُمَا قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اَلْکَبَائِرُ الْاِشْرَاکُ بِاللّٰہِ وَعُقُوْقُ الْوَالِدَےْنِ وَقَتْلُ النَّفْسِ وَالْےَمِےْنُ الْغَمُوْسُ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ وَفِی رِوَاےَۃِ اَنَسٍ وَّشَھَادَۃُ الزُّوْرِ بَدَلَ الْےَمِےْنِ الْغَمُوْسِ۔(صحیح البخاری و صحیح مسلم)

اور حضرت عبداللہ بن عمرو فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کسی کو اللہ کا شریک ٹھہرانا، ماں باپ کی نافرمائی کرنا، ناحق کسی کو مار ڈالنا اور جھوٹی قسم کھانا بڑے گناہ ہیں (صحیح البخاری) اور حضرت انس کی روایت میں جھوٹی قسم کھانا کے بجائے جھوٹی گواہی دینا کی الفاظ ہیں۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم) تشریح عقوق کے ایک معنی ایذاء دینے کے بھی آتے ہیں، لہٰذا شریعت نے نہ صرف یہ کہ والدین کی نافرمانی کو بڑا گناہ قرار دیا ہے بلکہ یہ بھی حکم ہے کہ مسلمان ماں باپ کو نہ کوئی اذیت پہنچائی جائے اور نہ ان کو ناحق ستایا جائے، ویسے کافر ماں باپ کو بھی اذیت پہنچانے سے روکا گیا ہے، لیکن ان کو کفر کی لعنت سے نکالنے اور قبول اسلام پر آمادہ کرنے کے لئے ان کے ساتھ تھوڑے بہت سخت برتاؤ کی اجازت ہے، بشرطیکہ وہ سخت برتاؤ قطعی طور پر ناگزیر ہو اور اخلاق و انسانیت سے گرا ہوا نہ ہو۔ تفسیر عزیزی میں ارشاد ربانی (ا یت وبالو الدین احسانا) کی تفیسر میں لکھا ہے کہ ماں باپ کے ساتھ احسان اور حسن سلوک کا حکم بطور خاص تین باتوں کو شامل ہے اور یہ کہ ان کو کسی قسم کی اذیت نہ پہنچائے خواہ ہاتھ سے ہو یا زبان وغیرہ سے، یعنی نہ تو ان کو مار پیٹ کر تکلیف پہنچائے اور نہ ان کے ساتھ بد زبانی و بدکلامی کرے، دوسرے یہ کہ جہاں تک ممکن ہو سکے جان و مال دونوں طرح سے ان کی خدمت کرے اور تیسرے یہ کہ ان کی اطاعت و فرمانبرداری کرے اور وہ جس وقت اور جس ضرورت سے بلائیں فوراً ان کے پاس حاضر ہوجائے۔ تاہم علماء نے یہ وضاحت بھی کردی ہے کہ والدین کی خدمت کا حکم اس شرط کے ساتھ ہے کہ اگر ماں باپ اولاد کے محتاج ہوں اور اولاد اتنی قوت و استطاعت رکھتی ہو کہ ان کی ہر طرح کی خدمت کرسکے تو ان کی خدمت کرنا اس پر واجب ہے اور اگر یہ صورت ہو کہ نہ تو والدین اس کے محتاج ہوں اور نہ اولاد اس پر قادر ہے تو اس پر ان کی خدمت واجب نہیں اسی طرح والدین کی حکم برداری کا مسئلہ بھی اس وضاحت کے ساتھ ہے کہ اگر وہ اچھے کام کا حکم دیں یا خلاف شرع چیزوں سے روکیں یا شرع کے خلاف حکم نہ دیں تو ان کی اطاعت کرنا ضروری ہے لیکن اگر وہ خلاف شرع چیزوں کا حکم دیں مثلاً واجبات کو ترک کرنے کے لئے کہیں یا فرض حج کرنے سے روک دیں اور منع کریں تو ان چیزوں میں ان کی اطاعت نہ کرنی چاہیے اگر سنت موکدہ کو چھوڑنے کے لئے کہیں مثلاً نماز کی جماعت میں شریک ہونے سے روکیں، یا عرفہ کے روزہ کو منع کریں تو اس میں زیادہ صحیح قول یہ ہے اس طرح کا حکم دو ایک مرتبہ مان لینے اور ان کی اطاعت میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن ان چیزوں کی اگر وہ عادت ہی ڈلوا دیں یا ہمیشہ منع کرتے رہیں تو ان کا حکم نہ مانے۔ ہاں اگر وہ کسی نفلی عبادت سے روکیں اور کہیں کہ اس کی بجائے ہماری خدمت میں رہو تو ان کی حکم برداری کرنی چاہئے۔ یمین غموس اس جھوٹی قسم کو کہتے ہیں جس کا تعلق گذشتہ چیز سے ہو، مثلاً کوئی آدمی کسی فعل کے بارے میں اس طرح قسم کھائے کہ اللہ کی قسم میں نے فلاں کام نہیں کیا ہے۔ درآنحالیکہ واقع میں اس نے وہ کام کیا ہے تو یہ یمین غموس کہلائے گی اس کی سخت ممانعت ہے کیونکہ یہ بہت بڑا گناہ ہے اسی طرح جھوٹی گواہی دینا بھی ایک بہت بڑا گناہ ہے جو اللہ کے سخت عذاب کا مستوجب بناتا ہے۔

48Mishkaat-al-Masabih

ہلاک کردینے والی باتوں سے بچو

وَعَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اِجْتَنِبُواالسَّبْعَ الْمُوْبِقَاتِ قَالُوْا ےَا رَسُوْلَ اللّٰہِ وَمَاھُنَّ قَالَ اَلشِّرْکُ بِاللّٰہِ وَالسِّحْرُ وَقَتْلُ النَّفْسِ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰہُ اِلَّا بِالْحَقِّ وَاَکْلُ الرِّبٰو وَاَکْلُ مَالِ الْےَتِےْمِ وَالتَّوَلِّی ےَوْمَ الزَّحْفِ وَقَذْفُ الْمُحْصَنَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ الْغَافِلَاتِ۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم )

اور حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا (لوگو) سات ہلاک کردینے والی باتوں سے بچو، پوچھا گیا یا رسول اللہ! وہ سات ہلاک کرنے والی باتیں کون سی ہیں؟ فرمایا کسی کو اللہ کا شریک ٹھہرانا۔ (٢) جادو کرنا۔ (٣) جس جان کو مار ڈالنا اللہ نے حرام قرار دیا ہے اس کو ناحق قتل کرنا۔ (٤) یتیم کا مال کھانا۔ (٥) جہاد کے دن دشمن کو پیٹھ دکھانا۔ (٦) پاکدامن ایمان والی اور بیخبر عورتوں کو زنا کی تہمت لگانا۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح اسلامی اعتقادت و نظریات اور بد یہی مسلمات کو دل سے ماننا، زبان سے اقرار کرنا اور عائد شدہ فرائض پر عمل کرنا ایمان ہے اور ان پر بدیہی مسلمات میں سے کسی ایک بات کا انکار کردیا جائے خواہ بقیہ سب کا اقرار موجود ہے تو بھی کفر عائد ہوجاتا ہے پھر علماء کی تصریح ہے کہ کفر صرف قول ہی کے ساتھ خاص نہیں بلکہ بعض افعال بھی موجب کفر ہوسکتے ہیں، چناچہ فقہاء ایسے افعال پر بھی کفر کا حکم لگا دیتے ہیں جو قلبی و اعتقادی کفر کے صحیح ترجمان سمجھے جاتے ہیں۔ یوں تو کفر کی ہر قسم انسانیت کے دامن پر سب سے بد نما داغ ہے لیکن اس کی جو قسم سب سے بدتر ہے وہ شرک ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی ذات، اس کی صفات، اس کی عبادات اور اس کی حدود عظمت میں کسی کو شریک بنا لینا نہ صرف اعتقادی حیثیت سے ایمان و اسلام سے صریح بیزاری کا اظہار ہے، بلکہ فطرت پر ایک بہت بڑا ظلم اور عقل و دانش سے سب سے بڑی بغاوت بھی ہے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کی تخلیق کر کے اس کی فطرت کو کفر و شرک کی ہر قسم کی آلودگی سے پاک و صاف رکھا ہے، اب اگر انسان اپنی فطرت کو شرک کی نجاست سے ملوث کرتا ہے تو ظاہر ہے کہ وہ اپنی فطرت اور اپنے خمیر کی صداقت آمیز آواز کا گلا گھونٹ کر مذہب و انسانیت دونوں حیثیت سے تباہی و بربادی کے غار میں گرتا ہے۔ اس لئے پروردگار عالم کا اٹل فیصلہ ہے کہ اس کی بارگاہ میں ہر کوتاہی و لغزش قابل معافی ہوسکتی ہے۔ مگر شرک کا جرم ہرگز معافی نہیں ہوگا جس کی سخت سزا مشرک کو بھگتنی ہوگی۔ اور اللہ تعالیٰ کی پاک جنت میں اس کے لئے کوئی جگہ نہ ہوگی۔ ارشاد ربانی ہے اِنَّ ا لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرِکَ بِہ وَیَغْفِرُ مَادُوْنَ ذٰلِکَ لِمَنْ یَّشَآئُ۔ (القرآن الحکیم، النساء ١١٦) بلا شبہ اللہ تعالیٰ اس جرم کو نہیں بخشے گا کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا جائے وہاں اس کے سوا اور جس گناہ کو چاہے گا بخش دے گا۔ چونکہ شرک انسانی فطرت سے سعادت و نیک بختی کا تخم جڑ سے اکھاڑ پھینکتا ہے اور انسان کی روحانی ترقی کی تمام استعداد کو موت کے گھاٹ اتار دیتا ہے نیز خود قرآن کی نظر میں شرک اللہ تعالیٰ پر سب سے بڑا افتراء اور سب سے بڑے کر بےدلیل اور خلاف ضمیربات اور نفس انسان کے لئے ابدی موت ہے اس لئے حدیث میں جن ہلاکت خیز باتوں کی نشاندہی کی گئی ہے ان میں شرک کا جرم سر فہرست ہے۔ شرک کی تعریف اور اقسام اس موقعہ پر مناسب ہے کہ شرک کی تعریف اور اس کی اقسام کی کچھ تفصیل بیان کردی جائے، شرح عقائد میں ہے کہ اصطلاح شریعت میں شرک، اسے فرماتے ہیں کہ خدائی اختیارات میں غیر اللہ کو شریک ٹھہرائے جیسا کہ مجوسی اہرمن ویزداں کو مانتے ہیں یا اللہ کے علاوہ کسی دوسرے کو بھی پرستش و عبادت کے لائق جانے جیسا کہ بت پرست عقیدہ رکھتے ہیں۔ یہ بات پہلے بتائی جا چکی ہے کہ شرک کفر کی ایک قسم ہے اور اسی لئے شریعت میں شرک کفر کے معنی میں بھی آتا ہے۔ چناچہ حضرت شیخ عبدالحق نے اپنے ترجمہ مشکوٰۃ میں شرح عقائد کی بیان کردہ شرک کی ان دونوں قسموں کو ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ یہاں شرک سے مراد کفر ہے، خیالی میں بھی اس کی تصریح ہے اور مولانا عصمۃ اللہ سے بھی یہی منقول ہے۔ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی فرماتے ہیں کہ شریعت کی اصطلاح میں شرک اسے فرماتے ہیں کہ جو صفات خاص باری تعالیٰ عزاسمہ کے ساتھ مختص ہیں ان کو اللہ کے علاوہ کسی دوسرے میں بھی ثابت کرے۔ جیسے اللہ کے علاوہ کسی دوسرے کو بھی عالم الغیب جانے۔ یا جس طرح دنیا کی ہر چیز پر اللہ کو قادر مانتا ہے کسی دوسرے کو بھی قادر جانے، یا جیسے اللہ تعالیٰ کو اپنے ارادہ کے ساتھ دنیا کی تمام چیزوں پر متصرف جانتا ہے، ایسے ہی کسی دوسرے کو بھی متصرف جانے۔ مثلاً کسی کے بارے میں یہ عقیدہ رکھے کہ فلاں نے نظر کرم کے ساتھ مجھ سے برتاؤ کیا اس لئے مجھ کو مال و زر کی وسعت اور خوشی حاصل ہوگئی یا فلاں نے مجھ کو پھٹکار دیا تھا تو اس کے سبب میں بیمار ہوگیا یا میرا مقدر پھوٹ گیا، وغیرہ وغیرہ۔ اللہ کی ذات اور صفات اور خدائی اختیارات میں شرک کے علاوہ تفسیر عزیزی میں شرک کی اور جو اقسام ذکر کی گئی ہیں۔ ان میں ایک تو یہی ہے کہ عبادت میں کسی کو اللہ کا شریک ٹھہرایا جائے، یا کسی کا نام تقرب و فضیلت کے طریقہ پر اللہ کے نام کی طرح لیا جائے اور اس کو اللہ کا ہمسر قرار دیا جائے۔ مثلاً کسی کو اٹھتے بیٹھتے و مصائب و مشکلات میں اس کا نام لے کر اسے یاد کرے ایسے ہی کسی کا نام بجائے عبداللہ یا عبدالرحمن کے بندہ فلاں یا عبد فلاں رکھا جائے اس کو شرک فی التسمیہ فرماتے ہیں یا غیر اللہ کے نام پر ذبح کیا جائے اور اس کی نذر مانی جائے، یا بلاوجہ شر کے دفعیہ اور حصول منفعت کے لئے اللہ کے علاوہ کسی دوسرے کو پکارا جائے اور ان کی طرف رجوع کیا جائے۔ یا علم وقدرت میں اللہ کے نام کے ساتھ کسی دوسرے کو شریک کیا جائے جیسے کوئی کہے ماشاء اللہ و شئت یعنی جو اللہ چاہے اور تم چاہو وہی ہوگا۔ منقول ہے کہ ایک مرتبہ کسی ناواقف نے رسول اللہ ﷺ کے سامنے اسی طرح کے الفاظ کہے تو آپ ﷺ بہت فروختہ ہوئے اور فرمایا کہ تم نے مجھے اللہ کا شریک ٹھہرا دیا اور فرمایا کہ اس طرح کہو مَا شَآءَ ا ُ وَحدَہُ۔ یعنی جو صرف اللہ چاہے گا وہی ہوگا۔ بعض کبیرہ گناہوں کو بھی شرک کہا گیا ہے، جیسے حدیث میں وارد ہے کہ جس آدمی نے اللہ کے علاوہ کسی دوسرے کی قسم کھائی اور اس نے یقینا شرک کیا، یا کہا جاتا ہے کہ بد شونی لینا شرک ہے یا منقول کہ ریاکاری شرک ہے، یا اسی طرح منقول ہے کہ جو عورت اپنے خاوند کی محبت کے لئے ٹوٹ کہ کرے شرک ہے گویا یہ گناہ اپنے مہلک اثرات کی بنا پر شرک کی طرح ہیں اس لئے ان سے اجتناب بھی اتنا ہی ضروری ہے، جتنا شرک سے۔ اسی طرح وہ افعال جو اگرچہ شرک حقیقی یعنی کفر کے دائرے میں تو نہ آتے ہوں لیکن مشرکین اور بت پرستوں کے افعال و اعمال کے مشابہ اور ان کے ہم مثل سمجھے جاتے ہیں تو ان سے بھی شرک ہی کی طرح پرہیز ضروری ہے، جیسے علماء اور بادشاہ کے آگے جبین سائی کرنا یا ان کے سامنے آکر زمین کو چو سنایا ان کو سجدہ تعظیم کرنا۔ چونکہ یہ افعال حرام اور گناہ کبیرہ ہیں اس لئے ان کا ارتقاب کرنے والا بھی گناہ گار اور مستوجب عذاب ہوگا اور جو لوگ اس طرح کے افعال سے خوش ہوں گے اور قدرت کے باوجود ان افعال کے ارتکاب کو روکنے کی کوشش نہیں کریں گے وہ بھی گناہ گار ہوں گے، یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ اگر علماء یا بادشاہ پیروں کے آگے جبین سائی کرنا اور زمین کو بوسہ دنیا عبادت و تعظیم کی نیت سے ہوگا تو اس کو صریحا کفر کہا جائے گا اگر عبادت و تعظیم کی نیت سے نہیں بلکہ محض اظہار ادب کے لئے ہوگا تو اس پر کفر کا اطلاق نہیں ہوگا لیکن گناہ کبیرہ ضرور کہلائے گا۔ اس حدیث میں دوسرا ہلاکت خیز فعل سحر بتایا گیا ہے۔ سحر کے بارے میں علماء فرماتے ہیں کہ جس طرح سحر اور جادو کرنا حرام اور ہلاکت خیز چیز ہے اسی طرح جادو سیکھنا اور سحر کا علم حاصل کرنا بھی حرام ہے، جو آخرت میں ہلاکت کا موجب بنے گا، شرح عقائد کے حاشیہ خیالی میں لکھا ہے کہ سحر کرنا کفر ہے اور صحابہ وغیرہ کی ایک جماعت تو اس پر متفق ہے کہ ساحر کو فوراً مار ڈالنا چاہیے۔ جب کہ بعض کی رائے یہ ہے کہ اگر ساحر اس طرح کا ہو جس سے کفر لازم آتا ہو اور ساحر اس سے توبہ نہ کرے تو اس کو موت کے گھاٹ اتار دینا چاہیے۔ اسی طرح نجوم، کہانت رمل اور شعبدہ بازی کی تعلیم حاسل کرنا، ان چیزوں کو اختیار کرنا اور ان سے روزی اور پیسہ کمانا اور نجومی و کاہن وغیرہ سے سوالات کرنا اور ان کی بتائی ہوئی باتوں پر اعتقاد رکھنا بھی حرام ہے۔ حدیث میں دشمن کے مقابلہ سے راہ فرار اختیار کرنے کے مذموم فعل کو بھی ہلاکت کا موجب بتایا گیا ہے اس لئے کہ جس آدمی نے اتنی بزدلی اور پست ہمتی دکھائی کہ عین اس موقع پر جب کہ اس کی ایمانی شجاعت و دلیری کا مظاہرہ کرنا چاہیے تھا، دشمن کو پیٹھ دکھا کر بھاگ کھڑا ہو وہ دراصل اپنی اس مذموم حرکت کے ذریعہ اہل اسلام کی رسوائی کا سبب بنا لہٰذا اس کو آخرت کے عذاب اور ہلاکت کا مستوجب گردانا جائے گا۔ اس سلسلہ میں جہاں تک تفصیلی مسئلہ کا تعلق ہے وہ یہ ہے کہ اگر ایک مسلمان کے مقابلہ میں دو کافر ہوں تو اس کو ان کے مقابلے سے راہ فرار اختیار کرنا گناہ کبیرہ ہے ہاں اگر مقابلہ پر دشمن دو سے زیادہ کی تعداد میں ہوں تو پھر بھاگنا حرام نہیں ہے بلکہ جائز ہے مگر اس میں اولیٰ اور بہتر یہی ہے کہ وہ اس صورت میں بھی پیٹھ نہ دکھلائے بلکہ مقابلہ کرے خواہ جان سے ہاتھ دھونا پڑے۔

49Mishkaat-al-Masabih

وہ بد ترین گناہ جن کے ارتکاب کے وقت ایمان باقی نہیں رہتا

وَعَنْہ، قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم لَا ےَزْنِی الزَّانِیْ حِےْنَ ےَزْنِیْ وَھُوَ مُؤْمِنٌ وَلَا ےَسْرِقُ السَّارِقُ حِےْنَ ےَسْرِقُ وَھُوَ مُؤْمِنٌ وَّلَا ےَشْرَبُ الْخَمْرَ حِےْنَ ےَشْرَبُھَا وَھُوَ مُؤْمِنٌ وَلَا ےَنْتَھِبُ نَھْبَۃً ےَّرْفَعُ النَّاسُ اِلَےْہِ فِےْھَا اَبْصَارَھُمْ حِےْنَ ےَنْتَھِبُھَا وَھُوَ مُؤْمِنٌ وَلَا ےَغُلُّ اَحَدُکُمْ حِےْنَ ےَغُلُّ وَھُوَ مُؤْمِنٌ فَاِےَّاکُمْ اِےَّاکُمْ۔ )مُتَّفَقٌ عَلَےْہِ( وَفِیْ رِوَاےِۃِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا وَّلَا ےَقْتُلُ حِےْنَ ےَقْتُلُ وَھُوَ مُؤْمِنٌ قَالَ عِکْرِمَۃُ قُلْتُ لِاِبْنِ عَبَّاسٍ ص کَےْفَ ےُنْزَعُ الْاِےْمَانُ مِنْہُ قَالَ ھٰکَذَا وَشَبَّکَ بَےْنَ اَصَابِعِہٖ ثُمَّ اَخْرَجَھَا قَالَ فَاِنْ تَابَ عَادَ اِلَےْہِ ھٰکَذَا وَشَبَّکَ بَےْنَ اَصَابِعِہٖ وَقَالَ اَبُوْ عَبْدِاللّٰہِ لَا ےَکُوْنُ ھَذَا مُؤْمِنًا تَآمًّا وَّلَا ےَکُوْنُ لَہُ نُوْرُ الْاِےْمَانِ ھَذَا لَفْظُ الْبُخَارِیِّ

اور حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا! زنا کرنے والا جب زنا کرتا ہے تو اس وقت اس کا ایمان باقی نہیں رہتا، شراب پینے والا جب شراب پیتا ہے تو اس وقت اس کا ایمان نہیں رہتا اور چھینا جھپٹی کرتا ہے اور لوگ اس کو (کھلم کھلا) چھینا جھپٹی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں (لیکن خوف و دہشت کے مارے بےبس ہوجاتے ہیں اور چیخ و پکار کے علاوہ اس کا کچھ نہیں بگاڑ پاتے) تو اس وقت اس کا ایمان باقی نہیں رہتا پس تم (ان گناہوں سے) بچو۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم) اور عبداللہ ابن عباس کی روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ! قتل کرنے والا جب ناحق قتل کرتا ہے تو اس وقت اس کا ایمان باقی نہیں رہتا۔ عکرمہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ سے (یہ حدیث سن کر) پوچھا کہ اس سے ایمان علیحدہ کس طرح کرلیا جاتا ہے، تو انہوں نے کہا اس طرح ( یہ کہہ کر) انہوں نے اپنے دونوں ہاتھوں کی انگلیاں ایک دوسری میں داخل کیں اور پھر ان انگلیوں کو ایک دوسری سے علیحدہ کرلیا اس کے بعد انہوں نے فرمایا اگر وہ توبہ کرلیتا ہے تو ایمان اس طرح واپس آجاتا ہے اور یہ (کہہ کر) انہوں نے انگلیوں کو پھر ایک دوسری میں داخل کرلیا۔ نیز ابوعبداللہ (یعنی عبداللہ بن اسماعیل بخاری) نے کہا ہے کہ (اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ) وہ آدمی ارتکاب معصیت کے وقت مومن کامل نہیں رہتا اور اس میں سے ایمان کا نور نکل جاتا ہے (بخاری) تشریح جیسا کہ پہلے بھی بتایا گیا، مومن کا قلب ایک ایسے حساس اور پاکیزہ ظرف کی مانند ہے جس میں صرف ایمان کا نور ٹھہر سکتا ہے، ایمان کے منافی کوئی بھی چیز در انداز ہونے کی کوشش کرتی ہے تو نہ قلب مومن اس کا روا دار ہوتا ہے اور نہ نور ایمان اس کو برداشت کرتا ہے، چناچہ وہ بد ترین اور سنگین گناہ جس کا حدیث بالا میں ذکر ہوا، ایسی منافی ایمان باتیں ہیں جن کا تحمل نور ایمان کسی حالت میں نہیں کرسکتا، ادھر انسان ان میں سے کسی گناہ کا ارتکاب شروع کرتا ہے کہ ادھر نور ایمان اس کے قلب سے رخصت ہوجاتا ہے اور پھر جب تک کہ اس گناہ پر نادم و شرمندہ ہو کر آئندہ کے لئے خلوص دل سے توبہ نہیں کرلیتا ایمان کی وہ نورانی کیفیت جو ارتکاب گناہ سے قبل اس کو حاصل تھی، اس کے قلب میں واپس نہیں آتی، اسی صورت حال کو حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ نے اپنی انگلیوں کی مثال کے ذریعہ واضح کیا، انہوں نے پہلے اپنے ایک ہاتھ کے پنجہ کو دوسرے ہاتھ کے پنجہ میں داخل کیا اور دکھایا کہ یہ گویا ارتکاب معصیت سے قبل کی حالت ہے کہ نور ایمان مومن کے قلب میں جاگزیں ہے پھر انہوں نے دونوں پنجوں کو ایک دوسرے سے علیحدہ کر کے بتایا کہ جس طرح یہ پنجہ دوسرے پنجہ سے الگ ہوگیا ہے، اسی طرح ارتکاب معصیت کے وقت نور ایمان مومن کے قلب سے علیحدہ ہوجاتا ہے اور پھر انہوں نے دوسرے پنجوں کو ایک دوسرے میں داخل کردیا اور کہا کہ جس طرح یہ پنجے پھر ایک دوسرے میں داخل ہوگئے ہیں اسی طرح اگر مومن ارتکاب معصیت کے بعد توبہ کرلیتا ہے تو اس کا نور ایمان پہلے کی طرح اپنی جگہ واپس آجاتا ہے۔ امام ابن ابی شیبہ نے لکھا ہے کہ ارتکاب معصیت کے وقت ایمان کے باقی نہ رہنے کا مطلب یہ ہے کہ مرتکب معصیت کامل مومن نہیں رہ جاتا اس کا ایمان ناقص ہوجاتا ہے (ترجمان السنتہ) اور یہی حاصل عبداللہ بن اسماعیل بخاری کے قول کا ہے جو روایت کے آخری فقرہ سے معلوم ہوا۔

50Mishkaat-al-Masabih

منافق کی علامتیں

وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اٰےَۃُ الْمُنَافِقِ ثَلٰثٌ زَادَ مُسْلِمٌ وَاِنْ صَامَ وَصَلّٰی وَزَعَمَ اَنَّہُ مُسْلِمٌ ثُمَّ اتَّفَقَا اِذَا حَدَّثَ کَذَبَ وَاِذَا وَعَدَ اَخْلَفَ وَاِذَائْتُمِنَ خَانَ۔(صحیح مسلم)

اور حضرت ابوہریرہ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے فرمایا! منافق کی تین علامتیں ہیں، اس کے بعد مسلم نے اپنی روایت میں اتنا اضافہ کیا اگرچہ وہ نماز پڑھے اور روزہ رکھے اور مسلمان ہونے کا دعویٰ بھی کرے اس کے بعد صحیح البخاری و صحیح مسلم دونوں متفق ہیں (وہ تین علامتیں یہ ہیں) جب بات کرے تو جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے تو اس کے خلاف کرے اور جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت کرے۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم) تشریح جب بھی کوئی اصلاحی تحریک انقلابی رفتار سے آگے بڑھنے لگتی ہے اور معاشرہ پر اس کا تسلط پھیلتا جاتا ہے تو اس کے متفقین اور مخالفین کے درمیان ایک تیسرا طبقہ بھی پیدا ہوجاتا ہے، یعنی ایک تو وہ لوگ ہوتے ہیں جو اس تحریک کے مکمل ہمنوا بن جاتے ہیں اور کامل ذہنی و جسمانی وابستگی کے ساتھ اس کے دائرہ اثر و اطاعت میں داخل ہوجاتے ہیں۔ ان کے مقابلہ پر دوسرا طبقہ مخالفین کا ہوتا ہے جو تحریک کی کھلم کھلا مخالفت کرتا ہے اور اپنی پوری طاقت اور تمام تر وسائل کے ساتھ علانیہ طور پر تحریک کے داعیوں اور حامیوں کے مد مقابل رہتا ہے اور ان دونوں کے درمیان جو تیسرا طبقہ پیدا ہوتا ہے وہ ان رو باصفت لوگوں پر مشتمل ہوتا ہے جو نہ اس تحریک کے دل سے حامی بنتے ہیں اور نہ کھلم کھلا مخالفت پر خود کو قادر پاتے ہیں اس طرح کے لوگ اپنی ذہنی و قلبی وابستگی اپنے سابقہ عقائد و نظریات ہی کے تئیں رکھتے ہیں لیکن جسمانی طور پر حامیان تحریک کی صفوں میں شامل ہوجاتے ہیں، یہی صورت حال اسلام کو بھی پیش آئی پیغمبر اسلام کی مکی زندگی کے بعد جب مدنی زندگی کا آغاز ہوا اور اسی کے ساتھ دعوت اسلام کی تحریک انقلابی رفتار سے آگے بڑھنے لگی اور اہل اسلام کو بھی طاقت و شوکت میسر آنے لگی تو یہ تیسرا طبقہ پیدا ہوگیا۔ پہلے مکہ میں ایک طرف تو وہ خوش نصیب لوگ تھے جنہوں نے کامل صدق و اخلاص کے ساتھ دعوت اسلام کو قبول کیا۔ اسلام اور پیغمبر اسلام کے فدا کار خادم بنے۔ یہ خوش نصیب تعداد میں بھی کم تھے اور مادی وسائل و ذرائع سے محروم بھی تھے، ان کے مقابلہ پر اکثریت ان لوگوں کی تھی جنہوں نے دعوت اسلام کو قبول کرنے سے انکار کردیا تھا، اس پر بس نہ کر کے دعوت اسلام کی بھر پور مخالفت پر کمر بستہ تھے، ان لوگوں کو طاقت و شوکت بھی حاصل تھی اور تمام تر مادی وسائل و ذرائع کی پشت پناہی بھی۔ چناچہ یہاں ان کو اسلام کی کھلم کھلا دشمنی سے کوئی امر مانع نہیں تھا اور اہل اسلام کی مخالفت سماجی طور پر کسی خطرہ یا نقصان کا باعث بھی نہیں تھی۔ لیکن اب مدینہ آنے کے بعد دعوت اسلام کا ماحول دوسرا ہوگا، تحریک کامیابی سے آگے بڑھتی رہی، متفقین اور ہمنواؤں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہونے لگا۔ طاقت و شوکت بھی بڑھنے لگی اور سماجی طور پر اہل اسلام کو غلبہ بھی ملنے لگا۔ لہٰذا اب اسلام کے مخالفین اور معاندین کو بھی عداوت کی شکل بدل دینی پڑی۔ انہوں نے یہ مستقل پالیسی بنالی کہ بظاہر تو اسلام کے نام لیوا بن جاؤ اور مسلمانوں کے ساتھ رہنے لگو۔ مگر اندرونی طور پر مخالفین اسلام یعنی کافروں کے ہمنوا رہو اور خفیہ معاندانہ کاروائیوں کے ذریعہ دعوت اسلام کی راہ میں کانٹے بچھاتے رہو، چناچہ یہی سے نفاق کی بنیاد قائم ہوئی اور اس طرح کے لوگوں کو اسلام میں منافق کہا گیا اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جس طرح کسی بھی تحریک کے لئے نفاق سب سے بڑا گھن ثابت ہوتا ہے اسی طرح اسلام کے حق میں یہ طبقہ منافقین سب سے زیادہ نقصان رساں ثابت ہوا، ابتداء میں تو ان منافقین کا مکروہ چہرہ مسلمانوں کے سامنے چھپا رہا، جب ان کی منافقانہ پالیسی اور عیارانہ کاروائیوں نے اسلام اور مسلمانوں کو زیادہ نقصان پہنچانا شروع کیا اور اسلام کے خلاف ان کی خفیہ نقل و حرکت کا علم ہونے لگا تو ان کی شخصیتیں سامنے آنے لگیں اور پھر تو اس طبقہ کی اتنی اہمیت محسوس کی گئی کہ اس کے نام پر مستقل ایک سورت المافقین نازل کی گئی، اس کے علاوہ بھی قرآن کریم میں جا بجا منافقوں سے خبردار کیا گیا اور ان کی ریشہ دوانیوں اور تباہ کاریوں سے مسلمانوں کو متنبہ کیا گیا۔ نفاق کی قسمیں جس طرح ایمان اور کفر کی مختلف قسمیں اور صورتیں ہیں اسی طرح نفاق کی بھی کئی قسمیں ہیں ایک تو اعتقادی نفاق ہے اور یہی حقیقی نفاق ہے یعنی بظاہر اللہ کی تو حید، رسالت، فرشتے اور حشر و نشر کے اعتقاد رکھنے کا دعوی کرنا مگر اندر ان تمام اعتقادی مسلمات کا پورا پورا انکار و انحراف مضمر ہونا۔ یہی وہ نفاق ہے جو رسول اللہ ﷺ کے دور میں تھا۔ اسی نفاق کو قرآن مجید نے کفر بھی کہا ہے اور اسی نفاق کے بارے میں یہ وعید آئی ہے کہ دوزخ میں منافقین کا ٹھکانا کافروں سے بھی نیچے ہوگا، پھر یہ ہوا کہ ان منافقین کے جو عادات و خصائل اور طور طریقے تھے ان پر بھی نفاق کا اطلاق کیا جانے لگا۔ کیونکہ ان میں سے اکثر باتیں وہی ہیں جو انسان کی اخلاقی اور عملی زندگی کو عیب دار بنا دیتی ہیں جو اسلام کی تعلیمات، اعلیٰ انسانی اقدار اور امانت و دیانت کے صریح منافی ہونے کے سبب ایمان و اسلام سے ذرا بھی میل نہیں کھاتیں۔ چناچہ جب مسلمانوں کی دینی زندگی میں انحطاط کا دور آیا اور انہوں نے ان باتوں کو اختیار کرنا شروع کردیا جو منافقین اسلام کا خاصۃ تھیں تو ارباب اصطلاح نے نفاق کی ایک اور قسم متعین کی اور اس کا نام عملی نفاق رکھا۔ پس حدیث بالا میں جس چیز کے خلاف تنبیہ کرنا مقصود ہے اس سے یہی عملی نفاق مراد ہے۔ مطلب یہ کہ بات چیت میں دروغ گوئی اختیار کرنا، وعدہ کا پورا نہ کرنا اور امانتوں میں خیانت کرنا ان بری عادتوں میں سے ہیں جو ایک منافق میں تو پائی جاتی ہیں لیکن کسی مومن میں ان کا پایا جانا عجوبہ سے کم نہیں۔ لہٰذا اگر مسلمان دانستہ یا نا دانستہ طور پر ان میں سے کسی بری عادت کا شکار ہے تو اس کو فوراً اپنا احتساب کرنا چاہیے اور اس بری عادت سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہیے ورنہ آخرت میں سخت عذاب بھگتنا ہوگا۔

51Mishkaat-al-Masabih

منافق بنانے والی چار باتیں

وَعَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْرٍورَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اَرْبَعٌ مَّنْ کُنَّ فِےْہِ کَانَ مُنَافِقًا خَالِصًا وَمَنْ کَانَتْ فِےْہِ خَصْلَۃٌ مِّنْھُنَّ کَانَتْ فِےْہِ خَصْلَۃٌ مِّنَ النِّفَاقِ حَتّٰی ےَدَعَھَا اِذَائْتُمِنَ خَانَ وَاِذَا حَدَّثَ کَذَبَ وَاِذَا عَاھَدَ غَدَرَ وَاِذَا خَاصَمَ فَجَرَ۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم )

اور حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس آدمی میں چار باتیں ہوں گی وہ پورا منافق ہے اور جس میں ان میں سے کوئی ایک بات بھی پائی جائے گی (تو سمجھ لو) اس میں نفاق کی ایک خصلت پیدا ہوئی تاوقتیکہ اس کو چھوڑ نہ دے (اور وہ چار باتیں یہ ہیں) جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت کرے، جب بات کرے تو جھوٹ بولے، جب قول و اقرار کرے تو اس کے خلاف کرے اور جب جھگڑے تو گالیاں بکے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) فائدہ یہاں بھی نفاق سے مراد عملی نفاق ہے یعنی اگر کوئی مومن و مسلمان ان چار بری باتوں کا شکار ہے تو مطلب یہ ہوگا کہ وہ پورے طور پر عملی نفاق میں مبتلا ہے اور عملاً منافق بن گیا ہے اور اگر ان چاروں میں سے کوئی ایک خصلت و عادت اس کے اندر پیدا ہوجائے تو جانو کہ اس میں نفاق کی ایک خصلت پیدا ہوگئی ہے، لہٰذا متنبہ کیا جاتا ہے کہ جس کے نادر خواہ یہ تمام خصلتیں جمع ہوگئی ہوں یا ایک خصلت ہو وہ جان لے کہ اب اس کا نقشہ زندگی منافق ہوتا جا رہا ہے۔ اگر وہ ایمان کا دعوی کرتا ہے تو اس کے اندر ان خصلتوں کا ہونا مناسب نہیں ہے اور اگر وہ اپنی دنیا و آخرت کی بھلائی چاہتا ہے تو اس کے لئے ضروری ہے کہ ان باتوں کو فورًا چھوڑ دے۔

52Mishkaat-al-Masabih

منافق کی مثال

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَرَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم مَثَلُ الْمُنَافِقِ کَالشَّاۃِ الْعَآئِرَۃِ بَےْنَ الْغَنَمَےْنِ تَعِےْرُ اِلٰی ھٰذِہٖ مَرَّۃً وَّاِلٰی ھٰذِہٖ مَرَّۃً۔ (صحیح مسلم)

حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا منافق کی مثال اس بکری کی سی ہے جو دو ریوڑوں کے درمیان (ماری ماری) پھرتی ہے کہ (اپنے نر کی تلاش میں) کبھی اس طرف مائل ہوجاتی ہے اور کبھی اس طرف۔ (صحیح مسلم) تشریح منافق کی مثال اس بکری سے دی گئی ہے جو اپنے نر کی تلاش میں ادھر ادھر ماری ماری پھرتی ہے اسی طرح منافق کی حالت ہوتی ہے کہ اس کے سامنے چونکہ صرف دنیا کا لالچ اور مال و جاں کی حفاظت کا مقصد ہوتا ہے اس لئے وہ مادہ صفت بن کر کبھی تو مسلمانوں کی آغوش میں آکر پناہ لیتا ہے اور کبھی کافروں کے گروہ میں جا کر اپنا مقصد حاصل کرنا چاہتا ہے، نفاق سے نفرت پیدا کرنے کے لئے ظاہر ہے کہ یہ تشبیہ بہت موثر ہے۔

53Mishkaat-al-Masabih

منافق کی مثال

عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالَ ص قَالَ یَھُوْدِیٌ لِصَاحِبِہٖ اِذْھَبْ بِنَا اِلٰی ہٰذَاالنَّبِیِّ فَقَالَ لَہُ صَاحِبُہُ لَا تَقُلْ نَبِیُّ اِنَّہُ لَوْ سَمِعَکَ لَکَانَ لَہُ اَرْبَعُ اَعْیُنٍ فَاَتَیَا رَسُوْلَ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلمفَسَاَ لَہُ عَنْ تِسْعِ اٰیَاتٍ بَیِّنَاتٍ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلملاَ تُشْرِکُوْ ابِاﷲِ شَیْأً وَلَا تَسْرِ قُوْا وَلَا تَزَنُوْا َو لَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اﷲُ اِلَّا بِالْحَقِّ وَلَا َتمْشُوْا اِلٰی ذِیْ سُلْطَانٍ لِیَقْتَلَہُ وَلَا تَسْحَرُوْا وَلَا تَاْکُلُوْا الرِّبَا وَلَا تَقْذِفُوْا مُحْصِنَۃٌ وَلَا تَوَلُّوْا لِلْفِرَارِیَوْمَ الزَّحْفِ وَ عَلَیْکُمْ خَاصَّۃً الیَھُوْدَ اَن لَّا تَعْتَدوْا فِیْ السَّبْتِ قَالَ فَقَبَّلَا یَدَیْہِ وَرِجْلَیْہِ وَقَالَا نَشْھَدُ اَنَّکَ نَبِیٌّ قَالَ فَمَا یَمْنَعُکُمْ اَنْ تَتَّبِعُوْنِیْ ؟ قَالَ اِنَّ دَاؤدَ عَلَیْہِ اسَّلَامُ دَعَارَبَّہَ اَنْ لَّایَزَالَ مِنْ ذُرِّیَّتِہٖ نَبِیٌّ وَاِنَّا نَخَافُ اِنْ تَبِعْنَاکَ اَنْ یَقْتُلَنَا الْیَھُوْدُ۔ (رواہ الجامع ترمذی وابوداؤ و السنن نسائی )

حضرت صفواں بن عسال ( صفوان بن عسال مرادی کی نسبت سے مشہور ہیں حضرت علی المرتضیٰ کے دور خلافت میں آپ کا انتقال ہوا)۔ فرماتے ہیں کہ (ایک دن) ایک یہودی نے اپنے ایک (یہودی) ساتھی سے کہا کہ آؤ اس نبی ﷺ کے پاس چلیں! اس کے ساتھی نے کہا! انہیں نبی نہ کہو، کیونکہ اگر انہوں نے سن یا (کہ یہودی بھی مجھے نبی فرماتے ہیں) تو ان کی چار آنکھیں ہوجائیں گی (یعنی خوشی سے پھولے نہیں سمائیں گے) بہر حال وہ دونوں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئے اور آپ ﷺ سے نو واضح احکام کے بارے میں سوال کیا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا! کسی کو اللہ کا شریک نہ ٹھہراؤ، چوری نہ کرو، جس جان کو مار ڈالنا اللہ نے حرام قرار دیا ہے اس کا ناحق قتل نہ کرو، کسی بےگناہ کو قتل کرانے کے لئے ( اس پر غلط الزام عائد کر کے) حاکم کے پاس مت لے جاؤ، جادو نہ کرو، سود نہ کھاؤ پاک دامن عورت کو (زنا کی) تہمت نہ لگاؤ، میدان جنگ میں دشمن کو پیٹھ نہ دکھاؤ اور اے یہودیو! تمہارے لئے خاص طور پر واجب ہے کہ یوم شنبہ کے معاملہ میں (حکم الہٰی سے) تجاوز نہ کرو، راوی فرماتے ہیں کہ (یہ سن کر) دونوں یہودیوں نے رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ پیر چوم لئے اور بولے ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ ﷺ واقعی نبی ہیں۔ سرکار ﷺ نے فرمایا (جب تمہیں میری رسالت پر یقین ہے تو) میری اتباع سے تم کو کون سا امر مانع ہے؟ انہوں نے کہا حقیقت یہ ہے کہ داؤد (علیہ السلام) نے اپنے رب سے دعا کی تھی کہ ان کی اولاد میں ہمیشہ نبی ہوا کرے لہٰذا ہم ڈرتے ہیں کہ اگر آپ ﷺ کی پیروی کریں تو یہودی ہمیں مار ڈالیں گے۔ (جامع ترمذی، سنن ابوداؤد، سنن نسائی) تشریح حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل کی ہدایت کے لئے اللہ کی جانب سے دنیا میں تشریف لائے تھے۔ نبوت کی دلیل طور پر ان کو جو دو بڑے معجزے عطا کئے گئے تھے ان میں ایک عصا تھا عصا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا سب سے بڑا معجزہ تھا جس کے ذریعہ وہ بڑے بڑے کام انجام دیا کرتے تھے۔ چناچہ جب فرعون کی جانب سے ان کے اور اس زمانہ کے مشہور ساحروں اور جادوگروں کے درمیان مقابلہ ہوا تو اللہ نے ان کو عصا ہی کے ذریعے اس طرح کامیابی عنایت فرمائی کہ ان جادو گروں نے جب اپنے سحر و جادو کے بل بوتہ پر رسیوں کو سانپ بنا کر زمین پر ڈالا تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ کے حکم سے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا جس نے دیکھتے دیکھتے ایک عظیم اور ہیبت ناک اژدھے کا روپ دھار کر تمام سانپوں کو نگل لیا۔ اس طرح ان کا دوسرا بڑا معجزہ یدبیضا تھا جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنا دست مبارک بغل میں ڈال کر باہر نکالتے تو وہ آفتاب کی مانند شعاعیں بکھیرنے لگتا تھا۔ اتنے بڑے معجزوں کے باوجود جب ان کی قوم راہ راست نہیں آئی تو اللہ نے ان کو بلائے عام میں اس طرح مبتلا کردیا کہ ان پر قحط مسلط کردیا اور ان کے پھلوں کی پیداوار میں کمی کردی پھر بعد میں جب ان کی سرکشی اور نافرمانیاں اور زیادہ بڑھیں تو ان پر مختلف قسم کے عذاب بھیجے جانے لگے۔ مثلاً بارش اتنی کثرت سے برسادی گئی کہ طوفان نے ان کو آگھیرا، ان کے کھیتوں پر ٹڈیاں بھیج دی گئیں جس کی وجہ سے ان کی تیار فصلیں تباہ و برباد ہونے لگی، یا ان کے غلوں میں گھن کا کیڑا لگا دیا جس نے ان کے غلوں کے انبار کو ختم کرنا شروع کردیا، ان پر مینڈک کا عذاب بھیج دیا گیا کہ ان کی ہر چیز میں خواہ کھانے کی ہو یا پینے کی مینڈک ہی مینڈک ہوگئے اور پھر ان کا پانی خون کردیا گیا کہ جب بھی وہ پانی پیتے وہ خون کی شکل اختیار کرلیتا۔ بہر حال یہ نو چیزیں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزے اور ان کی نبوت کی خاص نشانیاں تھیں۔ اس حدیث میں ان دونوں یہودیوں نے جن نو واضح احکام کے بارے میں سوال کیا، ان سے یا تو وہی احکام مراد تھے جو رسول اللہ ﷺ نے ان سے ارشاد فرمائے یا پھر ان کی مراد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے انہی نو معجزات اور نشانیوں کے بارے میں سرکار دو عالم ﷺ کی زبان مقدس سے آگاہی اور توثیق حاصل کرنا تھی اس صورت میں کہا جائے گا کہ یا تو خود رسول اللہ ﷺ نے ان کا ذکر اس لئے نہیں کیا کہ یہ قرآن کریم میں تفصیل کے ساتھ موجود ہیں اور جو ضروری احکام تھے ان کا حکم ان کو بتادیا، یا یہ کہ ان کے سوال کے جواب میں ان نو چیزوں کا ذکر فرما کر پھر ان کو اپنی طرف سے یہ احکام دیئے اور راوی نے ان کے مشہور ہونے کی وجہ سے ان کا ذکر نہیں کیا۔ راہی اس خاص حکم کی بات جو رسول اللہ ﷺ نے مذکورہ نو احکام کے علاوہ خاص طور پر یہودیوں کو دیا تو اس کی تفصیل یہ ہے کہ جس طرح تمام قوموں کے لئے ہفتہ میں ایک دن عبادت کے لئے مخصوص تھا اسی طرح یہودیوں کے لئے بھی شنبہ کا دن عبادت کے لئے متعین کردیا گیا تھا اور ان کو حکم دیا گیا تھا کہ وہ اس دن اللہ کی عبادت میں مشغول رہا کریں چونکہ یہ قوم شکار کا خاص ذوق اور شغف رکھتی تھی اس لئے ان کو اس دن شکار سے بھی منع کردیا گیا، لیکن اس قوم نے اس حکم کو کوئی اہمیت نہیں دی اور سخت ممانعت کے باوجود اس دن مچھلی وغیرہ کا شکار کرنے لگے، اللہ کی جانب سے ان کو بار بار متنبہ کیا گیا لیکن جب نہیں مانے تو آخر کار ان کو سخت عذاب میں مبتلا کیا گیا! اس لئے رسول اللہ ﷺ نے ان یہودیوں کو اس کے بارے میں بطور خاص تاکید کی کہ تم اس معاملہ میں اللہ کی قائم کی ہوئی حد سے تجاوز نہ کرو اور چونکہ تمہیں اس دن شکار کھیلنے سے منع کردیا گیا ہے اس لئے اس ممانعت پر عمل کرو اور اس حکم کی نافرمانی مت کرو۔ ان یہودیوں کا رسول اللہ ﷺ سے احکام سن کر آپ ﷺ کی رسالت کی گواہی دینا بطور قبول اور صدق دل سے نہیں تھا بلکہ اپنے علم کے اظہار اور اعتراف کے طور پر تھا۔ مطلب یہ کہ یہودیوں نے اپنی مذہبی کتابوں میں رسول اللہ ﷺ کا نبی مرسل ہونا پڑھ لیا تھا اور وہ خوب جانتے تھے کہ محمد واقعۃً اللہ کے بھیجے ہوئے نبی اور رسول ہیں۔ مگر یہ ان کی بدبختی تھی کہ اس صحیح علم کے باوجود ان کو قبول اسلام کی توفیق نہیں ہوتی تھی اور تعصب و ہٹ دھرمی نے ان کو اتنا اندھا کردیا تھا کہ ان کو بالکل سامنے کی راہ حق نظر نہیں آتی تھی۔ چناچہ ان دونوں یہودیوں نے بھی اس موقع پر بس اتنا ہی کیا کہ اپنے علم کا اعتراف کرلیا اور گواہی دی کہ آپ ﷺ واقعۃً اللہ کے نبی اور رسول ہیں۔ ظاہر ہے کہ محض علم ہونا یا اپنے علم کا اعتراف کرنا وجود ایمان کے لئے کافی نہیں ہوسکتا ہے۔ رہا ان دونوں یہودیوں کا یہ کہنا کہ حضرت داؤد (علیہ السلام) نے یہ دعا کی تھی کہ ان کی اولاد میں ہمیشہ ایک نبی ہوا کرے اور ان کی یہ دعا چونکہ یقینا قبول ہوئی ہوگی اس لئے ان کی اولاد میں سے کسی کا نبی ہونا بھی یقینی ہے اور جب وہ نبی ظاہر ہوگا اور تمام یہودی اس نبی کے تابع و مطیع ہو کر شوکت و غلبہ پائیں گے تو پھر ہماری شامت آجائے گی۔ یعنی تمام یہودی ہمیں اس جرم میں مار ڈالیں گے کہ ہم نے آپ کا دین کیوں قبول کیا۔ اس خوف سے ہم آپ ﷺ پر ایمان نہیں لا رہے ہیں۔ ظاہر ہے یہ ان دونوں یہودیوں کا حضرت داؤد (علیہ السلام) کی طرف ایک غلط بات کی نسبت کرنا اور یقینی طور پر کہ ایک مفروضہ اور واہمہ تھا۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) نے ہرگز یہ دعا نہیں کی تھی اور وہ اس طرح کی دعا کرتے بھی کیسے، انہوں نے تو خود تو رات اور زبور میں پڑھ رکھا تھا کہ محمد ﷺ خاتم النبیین ہیں اور ان کا دین تمام دینوں کا ناسخ ہے۔

54Mishkaat-al-Masabih

وہ تین باتیں جو ایمان کر جڑ ہیں

وَعَنْ اَنَسٍ صقَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم ثَلَاثٌ مِنْ اَصْلِ الْاِیْمَانِ الْکُفُّ عَمَّنْ قَالَ لَا اِلٰہَ اِلاَّ اﷲُ لَا تُکَفِّرْہُ بِذَنْبٍ وَلَا تُخْرِجْہُ مِنَ الْاِسْلَامِ بِعَمَلِ وَ الْجِھَادُ مَاضٍ مُذْبَعَثَنِیَ اﷲُ اِلٰی اَنْ یُقَاتِلَ اٰخِرُ ہٰذِہِ الْاُمَّۃِ الدَّ جَّالُ لَا یُبْطِلُہُ جَوْرُ جَائِرٍ وَلَا عَدْلُ عَادِلٍ وَ الْاِیْمَانُ بِالْاَقْدَارِ۔ (رواہ ابودؤد)

اور حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا! تین باتیں ایمان کی جڑ ہیں (١) جو آدمی لا الہ اللہ کا اقرار کرے اس سے جنگ و مخاصمت ختم کردینا، اب کسی گناہ کی وجہ سے اس کو کافر مت کہو اور نہ کسی عمل کی وجہ سے اس پر اسلام سے خارج ہونے کا فتوی لگاؤ (٢) جب سے اللہ تعالیٰ نے مجھے رسول بنا کر بھیجا ہے جہاد ہمیشہ کے لئے جاری رہے گا۔ یہاں تک کہ اس امت کے آخر میں ایک آدمی آکر دجال سے جنگ کرے گا۔ کسی عادل (بادشاہ) کے عدل یا کسی ظالم کے ظلم کا بہانہ لے کر جہاد ختم نہیں کیا جاسکتا (٣) اور تقدیر پر ایمان لانا۔ (ابوداؤد) تشریح کسی مسلمان کو کافر کہنے کی ممانعت اس حدیث نے واضح طور پر ثابت کردی ہے، مطلب یہ ہے جس طرح اچھے کام کرنے والے کافر کو مسلمان کہنا منع ہے تاوقتیکہ وہ توحید و رسالت کا اقرار نہ کرے اسی طرح کسی مسلمان کو صرف اس کی بداعمالیوں کی بنا پر کافر کہنا بھی سخت جرم ہے جب تک کہ وہ عقیدہ کفریہ کا اعلان نہ کرے پس لَا تُکَفِّرْہُ بِذَنْبٍ ( کسی گناہ کی وجہ سے اس کو کافر مت کہو) کے الفاظ ہیں تو خارجیوں کی تردید ہے۔ جن کا کہنا ہے کہ مومن اگر گناہ کا مرتکب ہوجائے خواہ وہ گناہ صغیرہ ہی کیوں نہ ہو تو وہ وہ کافر ہوجاتا ہے اور وَلَا تُخْرِجْہُ مِنَ الْاِ سْلَامِ بِعَمَلٍ ( اور نہ کسی عمل کی وجہ سے اسے خارج اسلام قرار دو ) کے الفاظ میں (معتزلہ) کی تردید ہے جو فرماتے ہیں کہ بندہ گناہ کبیرہ کے ارتکاب سے خارج از اسلام ہوجاتا ہے اگرچہ کافر نہیں ہوتا۔ مرتکب گناہ کبیرہ کے لئے وہ ایک درمیانی درجہ مانتے ہیں، یعنی نہ تو اس کو مسلمان فرماتے ہیں اور نہ کافر۔ بہرحال خارجیوں اور معتزلہ سے قطع نظر موجودہ دور کے ان مسلمانوں کو بھی اس حدیث کے آئینہ میں اپنا چہرہ دیکھنا چاہیے جو کفر سازی کے کارخانے چلاتے ہیں اور اپنے مکتب فکر کے علاوہ دوسرے تمام مسلمانوں کو بےدریغ کافر قرار دیتے ہیں۔ یہ شقی القلب محض ذاتی اغراض اور نفساتی خواہشات کے تحت نہ صرف عام مسلمانوں کو بلکہ علماء حق اور اولیاء اللہ تک کو کافر کہنے سے ذرا نہیں جھجکتے۔ ان لوگوں کو ٹھنڈے دل و دماغ سے سوچنا چاہیے کہ جب لسان نبوت نے عاصی مسلمان کو بھی کافر کہنے سے سخت منع فرمایا ہے تو پھر ان بزرگان دین اور پیشوا اسلام کا کافر کہنا کہ جن کی زندگیوں کا تمام حصہ مذہب کی خدمت و اشاعت میں گزرتا ہے اور جو ان کو کافر نہ کہے اس کو بھی کافر کہنا احکام شریعت اور فرمان رسالت سے کتنا مضحکہ خیز معاملہ ہے جس کا نتیجہ ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کا عذاب اور خسران آخرت کے علاوہ اور کچھ نکل سکتا۔ حدیث میں جن باتوں کو ایمان کی جڑ فرمایا گیا ہے ان میں سے پہلی بات تو وہی ہے جس کی وضاحت اوپر ہوئی۔ دوسری بات جہاد ہے، اس بارے میں ارشاد نبوت کا مطلب یہ ہے کہ اب روئے زمین پر دین حق (جو اللہ کا آخری اور کامل دین ہے) کے ظاہر ہوجانے اور رسول اللہ کی رسالت کا اعلان ہوجانے کے بعد سے اس وقت تک کہ آخر میں قیامت کے قریب دجال مارا نہ جائے، یاجوج ماجوج ظاہر ہو کر فنا کے گھاٹ نہ اترجائیں اور یہ روئے زمین دین کے ایک ایک دشمن اور منکر سے پاک نہ ہوجائے، جہاد برابر جاری رہے گا۔ جہاد کی فرضیت اور اہمیت اس صورت میں بھی ختم نہیں ہوگی جب کہ کوئی اسلامی سربراہ مملکت ظالم و جابر ہو اگر دشمنان دین کے خلاف وہ جہاد کا اعلان کر دے تو اس کو ماننا اور اس کے ساتھ جہاد میں شریک ہونا شرعی طور پر ضروری ہوگا۔ یہ نہیں کہ اس کے ظلم و جبر کا بہانہ لے کر جہاد میں شریک اور مددگار بننے سے انکار کردیا جائے اسی طرح اگر کسی دشمن دین قوم کا سربراہ اور بادشاہ اتفاق سے عادل اور منصف مزاج ہو تو ہرچند کہ بادشاہ کا عدل امن و انصاف کا باعث ہوتا ہے، لیکن اسلام کی شوکت بڑھانے اور دین کا بول بالا کرنے کے لئے اس عادل بادشاہ کی قوم کے خلاف بھی جہاد کو غیر ضروری نہیں دیا جاسکتا۔ تیسری بات تقدیر پر اعتقاد و یقین رکھنا ہے یعنی ایمان کی سلامتی کے لئے یہ یقین رکھنا اشد ضروری ہے کہ کائنات میں جو کچھ ہو رہا ہے اور جو بھی حادثات و واقعات پیش آتے ہیں وہ سب قضا و قدر الہٰی کے تحت ہے۔

55Mishkaat-al-Masabih

ارتکاب زنا کے وقت ایمان باہر آجاتا ہے

وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ صقَالَ قَالَ رَسُوْلَ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم اِذَا زَنَی الْعَبْدُ خَرَجَ مِنْہُ الْاِیْمَانُ فَکَانَ فَوْقَ رَاْسِہٖ کَالظُّلَّۃِ فَاِذَا خَرَجَ مِنْ ذٰلِکَ الْعَمَلِ رَجَعَ اِلَیْہِ الْاِیْمَانُ۔ (رواہ الجامع ترمذی وابوداؤد)

حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا! جب بندہ زنا کرتا ہے تو ایمان اس سے نکل جاتا ہے اور اس کے سر پر سائبان کی طرح معلق ہوجاتا ہے اور پھر جب وہ اس معصیت سے فارغ ہوجاتا ہے تو ایمان اس کی طرف لوٹ آتا ہے۔ ( جامع ترمذی، سنن ابوداؤد) تشریح حافظ ابن تیمیہ نے اس موقع پر بڑی اچھی مثال دی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ ایک گناہ گار کی مثال ایسی ہے۔ جیسی آنکھیں بند کرنے کے بعد ایک بینا آدمی اپنی آنکھیں بند کرے تو اسے کچھ بھی نظر نہیں آتا۔ اور اس لحاظ سے یہ بینا اور ایک نابینا دونوں برابر ہوجاتے ہیں، نہ یہ دیکھتا ہے نہ وہ، لیکن فرق یہ ہے کہ نابینا آنکھوں کی روشنی ہی نہیں رکھتا اور بینا اگرچہ روشنی تو رکھتا ہے مگر غلاف چشم کی وجہ سے وہ روشنی کام نہیں کرتی اسی طرح ایک مومن کے نور بصیرت پر جب بہیمیت و ضلالت کا حجاب پڑجاتا ہے تو وہ بھی کافر کی طرح معصیت اور طاعت کا فرق نہیں پہنچانتا۔ اس لئے یہ کہنا بالکل بجا ہے کہ مومن جس حالت میں زنا کرتا ہے اس کا نور ایمانی بہیمیت و معصیت کی تاریکی سے ایسا مدہم پڑجاتا ہے کہ اسے بھی معصیت کرنے میں کوئی باق نہیں رہتا اور جب بندہ اس معصیت کے بعد صدق دل سے توبہ کرلیتا ہے تو یہ حجاب بہیمیت پر چاک ہوجاتا ہے اور نور ایمانی پھر جگمگانے لگتا ہے۔ (ترجمان السنۃ)

56Mishkaat-al-Masabih

حضرت معاذ کو دس باتوں کی وصیت

عَنْ مُعَاذٍ قَالَ اَوْصَانِیْ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم بِعَشَرِ کَلِمَاتٍ قَالَ لَا تُشْرِکْ بِاﷲِ شَیْاً وَاِنْ قُتِلْتَ وَ حُرِقْتَ وَلَا تُعُقُّنَّ وَالِدَیْکَ وَاِنْ اَمَرَاکَ تَخْرُجَ مَنْ اَھْلِکَ وَمَالِکَ وَلَا تَتَرُکُنَّ صَلَاۃً مَکْتُوْبَۃً مُتَعَمِّدًا فَاِنَّ مَنْ تَرَکَ صَلَاۃً مَکْتُوْبَۃً مُتَعَمِّدًا فَقَدْ بَرِاَتْ مِنْہُ ذِمَّۃ ُاﷲِ وَلَا تَشْرَ بَنَّ خَمْرًا فَاِنَّہُ رَاْسُ کُلِّ فَاحِشَۃٍ وَاِیَّاکَ وَالْمُعْصِیَۃ فان بالمعصیۃ حل سخط اﷲ وایاک والفرار من الزحف وان ھلک الناس واذا اصاب الناس موت وانت فیھم فاثبت وانفق علی عیالک من طولک ولا ترفع عنھم عصاک ادباو اخفھم فی اﷲ۔ (رواہ مسند احمد بن حنبل)

اور حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے دس باتوں کی وصیت فرمائی، چناچہ فرمایا (١) اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا اگرچہ تمہیں جان سے مار ڈالا جائے اور جلا دیا جائے (٢) اپنے والدین کی نافرمانی نہ کرو اگرچہ وہ تمہیں اپنے اہل اور مال چھوڑ دینے کا حکم دیں (٣) جان بوجھ کر کوئی فرض نماز نہ چھوڑو کیونکہ جو آدمی عمداً نماز چھوڑ دیتا ہے اللہ تعالیٰ اس سے بری الذمہ ہوجاتے ہیں (٤) شراب مت پیو کیونکہ شراب تمام برائیوں کی جڑ ہے (٥) اللہ کی نافرمانی اور گناہ سے بچو کیونکہ نافرمانی کرنے سے اللہ کا غصہ اتر آتا ہے۔ (٦) جہاد میں دشمنوں کو ہرگز پیٹھ نہ دکھلاؤ اگرچہ تمہارے ساتھ کے تمام لوگ ہلاک ہوجائیں۔ (٧) جب لوگوں میں موت (وباء کی صورت میں) پھیل جائے اور تم ان میں موجود ہو تو ثابت قدم رہو یعنی ان کے درمیان سے بھاگو مت (٨) اپنے اہل و عیال پر اپنی وسعت کے مطابق خرچ کرتے رہو۔ (٩) تادیباً اپنا ڈنڈا ان سے نہ ہٹاؤ (١٠) اور اللہ تعالیٰ کے معاملہ میں انہیں ڈراتے رہو یعنی اہل و عیال میں سے کسی کو سزاء یا تا دیبا کچھ مارنا پیٹنا ضروری ہو تو اس سے پہلو تہی نہ کرو اور ان کو اچھی اچھی باتوں کی نصیحت و تلقین کرتے رہا کرو اور دین کے احکام و مسائل کی تعلیم دیا کرو اور ان کو بری باتوں سے بچانے کی کوشش کرو۔ (مسند احمد بن حنبل) تشریح شرک اپنی برائی کے اعتبار سے کس قدر خطرناک ہے اور اخروی حیثیت سے کتنی ہلاکت خیزی رکھتا ہے اس کا اندازہ اس بات سے کیا جاسکتا ہے کہ آپ ﷺ نے حضرت معاذ کو وصیت فرمائی کہ اگر تمہیں جان سے مار ڈالے جانے کا بھی خطرہ ہو یا تمہیں آگ میں ڈالا جا رہا ہو تو بھی تم توحید کے معاملہ میں اپنے عقیدہ سے ایک انچ نیچے مت اترنا بلکہ موت کی پروا کئے بغیر اپنے اعتقاد پر پختگی کے ساتھ قائم رہنا، تاہم جہاں تک نفس مسئلہ کا تعلق ہے تو کہا جاتا ہے کہ حضرت معاذ ؓ چونکہ اپنی فطرت کے اعتبار سے شریعت کی پیروی میں انتہائی سخت تھے اور کسی بھی مسئلہ کے اسی پہلو کو اختیار کرتے تھے جو اولیٰ ہوتا تھا۔ اس لئے رسول اللہ ﷺ نے ان کے مزاج اور ذوق کے مطابق اس قدر اہمیت کے ساتھ ان کو حکم دیا، ورنہ ایسے موقع پر جب کہ اپنے ایمان واسلام کا اظہار اپنی موت کو دعوت دینے والا اور کفر و شرک کا کلمہ زبان سے ادا کئے بغیر جان نہ بچتی ہو تو اس کی اجازت ہے کہ کفر و شرک کا کوئی کلمہ زبان سے ادا کرے بشرطیکہ دل میں ایمان پوری طرح موجود رہے۔ والدین کی اطاعت و فرمانبرداری کی بھی اہمیت و تاکید ہی کو ظاہر کرنے کے لئے بطور مبالغہ فرمایا گیا کہ اگر ماں باپ تمہیں تمہارے اہل و عیال سے الگ ہوجانے یا تمہیں تمہارے مال و اسباب اور املاک و جائیداد سے دستبردار ہوجانے کا بھی حکم دیں تو اس حکم کی اطاعت کرو، اس بارے میں بھی اصل مسئلہ یہ ہے کہ ماں باپ کا یہ حکم ماننا واجب نہیں ہے تاکہ حرج و نقصان میں مبتلا ہونا لازم نہ آئے۔ فرض نماز کی اہمیت جتلانے کے لئے فرمایا گیا کہ اگر تم جان بوجھ کر فرض نماز چھوڑ دو گے تو پھر اپنے آپ کو دنیا اور آخرت میں اللہ کی ذمہ داری سے باہر سمجھو، دنیا میں تم اس اعتبار سے کہ اسلامی نظام اور اسلامی حکومت کے قانون کے تحت جس تعزیر کے مستوجب قرار پاؤ گے اس میں اللہ کی طرف سے کوئی امن و عافیت تمہیں نہیں ملے گی اور آخرت میں اس اعتبار سے کہ وہاں ترک نماز کے سبب خود اللہ تمہیں عذاب میں گرفتار کرے گا۔ دشمن کو پیٹھ دکھانے کے بارے میں جیسا کہ پہلے بھی گزرا۔ یہ مسئلہ ہے کہ اگر دشمن دو تہائی تک بھی زائد ہوں یعنی ایک مسلمان کے مقابلہ پر دو دشمن دین ہوں تو اس صورت میں مقابلہ سے ہٹ جانا اور راہ فرار اختیار کرنا کسی مسلمان کو ہرگز جائز نہیں ہے ہاں اگر ایک کے مقابلہ میں دو سے زائد ہوں تو پھر تباہی کا خطرہ دیکھ کر مقابلہ سے ہٹ جانا اور جان بچانے کے لئے راہ فرار اختیار کرلینا جائز ہوگا۔ پس رسول اللہ ﷺ نے معاذ ؓ کو یہ حکم مبالغہ کے طور پر دیا کہ تم کسی بھی صورت میں اپنے دشمن کو پیٹھ مت دکھانا خواہ تمہارے تمام ساتھی شہید ہوجائیں اور دشمن کے مقابلہ پر تم تنہا ہی کیوں نہ رہ جاؤ اس حدیث میں ایک اعتقادی کمزوری کی بھی نشان دہی کی گئی ہے اور اس کے خلاف حضرت معاذ ؓ کو متنبہ کیا گیا ہے۔ یعنی اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جب کسی آبادی میں کوئی وبا پھیل جاتی ہے اور موتیں کثرت سے واقع ہونے لگتی ہیں تو عوام دہشت زدہ ہو کر اپنے گھر بار چھوڑ دیتے ہیں اور اس آبادی سے نکل بھاگتے ہیں۔ اس بارے میں بھی اصل مسئلہ یوں ہے کہ جو لوگ اس آبادی میں پہلے سے مقیم نہ ہوں بلکہ دوسری جگہوں پر ہوں تو ان کے لئے جائز ہے کہ وہ اس آبادی سے دور رہیں اور وہاں نہ آئیں لیکن جو لوگ پہلے ہی سے آبادی میں مقیم ہوں ان کے لئے جائز نہیں ہے کہ وہ موت کے خوف سے اس آبادی کو چھوڑ دیں اور وہاں سے نکل بھاگیں، کیونکہ وباء زدہ آبادی سے نکل بھاگنا ایسا ہی گناہ ہے جیسا دشمن کے مقابلہ سے بھاگ کھڑا ہونے کا بلکہ جو آدمی اس اعتقاد سے بھاگے گا کہ اگر یہاں رہا تو مرجاؤں گا اور یہاں سے نکل بھاگنے پر موت سے بچ جاؤں گا تو وہ کافر ہوجائے گا۔

57Mishkaat-al-Masabih

اب کفر ہے یا ایمان

وَعَنْ حُذَےْفَۃَص قَالَ اِنَّمَا النِّفَاقُ کَانَ عَلَی عَھْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم فَاَمَّا الْےَوْمَ فَاِنَّمَا ھُوَ الْکُفْرُ اَوِ الْاِےْمَانُ۔(صحیح البخاری)

اور حضرت حذیفہ ؓ (آپ کا اسم گرامی حذیفہ بن یمان ہے اور کنیت ابوعبداللہ عیسیٰ ہے۔ آپ کی وفات حضرت عثمان کی شہادت کے بعد چالیسوں دن ٣٦ ھ میں ہوئی)۔ فرماتے ہیں کہ نفاق کا حکم رسول اللہ ﷺ کے عہد پر ختم ہوگیا لہٰذا اب تو (دوہی صورتیں ہوں گی کہ) کفر ہوگا یا ایمان۔ (صحیح البخاری ) تشریح عہد رسالت میں بعض مصلحتوں کی بنا پر منافقین کو مسلمانوں ہی کے حکم میں رکھا جاتا تھا اور ان کی ریشہ دوانیوں و سازشوں سے چشم پوشی کی جایا کرتی تھی، لیکن اب یہ حکم باقی نہیں رہا، فرض کرو اگر کسی مسلمان کے بارے میں یہ ظاہر ہوجائے کہ یہ آدمی مومن نہیں ہے، بلکہ حقیقی منافق ہے تو اس پر کفر و ارتداد کا حکم لاگو ہوگا اور اسلامی حکومت اس کو سزائے موت دے دے گی۔

58Mishkaat-al-Masabih

یہ و سوسہ کے بیان میں ہے

وسوسہ گناہ یا کفر سے متعلق اس خیال کو کہتے ہیں جو دل میں گزرے یا شیطان دل و دماغ میں ڈالے اس کے مقابلہ پر الہام اس اچھے اور نیک خیال کو فرماتے ہیں جو اللہ کی طرف سے دل و دماغ میں ڈالا جاتا ہے۔ وسوسہ کی قسمیں وسوسہ کی مختلف صورتیں اور نوعیتیں ہوتی ہیں اور اسی اعتبار سے علماء نے اس کی الگ الگ قسمیں متعین کی ہیں چناچہ وسوسہ کی ایک قسم تو ضروری یعنی اضطراری ہے اور دوسری قسم اختیاری ہے۔ ضروری یا اضطراری وسوسہ اس کو فرماتے ہیں کہ کسی گناہ کا یا ایمان و یقین کے منافی کسی بات کا خیال اچانک اور بےاختیار دل و دماغ میں گزر جائے اس کو اصطلاحی طور پر ہاجس سے تعبیر کیا جاتا ہے اس (ہاجس) کی معافی گزشتہ امتوں میں بھی رہی ہے اور اس امت میں بھی ہے اور اگر وہی برا خیال دل و دماغ میں ٹھہر جائے اور خلجانی کیفیت پیدا ہوجائے تو اس کو خاطر سے تعبیر کیا جاتا ہے اور یہ (خاطر) بھی امت سے معاف ہے۔ اختیاری و سوسہ اس کو فرماتے ہیں کہ کسی گناہ یا ایمان و یقین کے منافی کسی بات کا خیال دل و دماغ میں پیدا ہو، ٹھہرا رہے، لگاتار رہے۔ مستقل خلجان کرتا رہے، طبیعت کی خواہش بھی اس کے کرنے کی ہو اور ایک گونہ لذت و محبت بھی اس کے تئیں محسوس ہو۔ اختیاری وسوسہ کی یہ صورت ہم کہلاتی ہے اور یہ بھی صرف اس امت سے معاف ہے، اس پر کوئی مواخذہ نہیں اور جب تک یہ عملی صورت اختیار نہ کرے اس پر کوئی گناہ نامہ اعمال میں نہیں لکھا جاتا۔ بلکہ اگر عمل کا قصد ہوجائے اور پھر اپنے آپ کو عمل سے باز رکھے تو اس کے عوض نیکی لکھی جاتی ہے۔ ہم کے مقابلہ پر اختیاری وسوسہ کی دوسری صورت کا نام عزم ہے یعنی انسانی طبیعت اور نفس کا کسی برے خیال اور بری بات کو اپنے اندر کرنا اور جما لینا اور نہ صرف یہ کہ اس خیال سے نفرت و کراہیت نہ ہو بلکہ اس پر عمل کرنے کا ایسا پختہ ارادہ کرلینا کہ اگر کوئی خارجی مانع نہ ہو اور اسباب و ذرائع مہیا ہوں تو وہ یقینی طور پر عملی صورت اختیار کرلے وسوسہ کی یہ صورت ایسی ہے جو قابل مواخذہ ہے لیکن اس مواخذہ کی نوعیت عملی طور پر ہونے والے مواخذہ سے ہلکی ہوگی، مطلب یہ کہ وسوسہ جب تک اندر رہے گا اس پر کم گناہ ہوگا اور جب اندر سے نکل کر عملی صورت اختیار کرے گا تو گناہ زیادہ ہوگا۔ یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ وسوسہ کی مذکورہ بالا تقسیم ان افعال و اعمال کی نسبت سے ہے جن کے وقوع اور صدور کا تعلق ظاہری اعضاء جسم سے جیسے زنا اور چوری وغیرہ وغیرہ جو باتیں دل و دماغ کا فعل کہلاتی ہیں جیسے برا عقیدہ اور حسد وغیرہ وغیرہ تو وہ اس تقسیم میں داخل نہیں ہیں ان کے ہمیشہ استمرار پر بھی مواخذہ ہوتا ہے

59Mishkaat-al-Masabih

وسوسوں کی معافی

وَعَنْ اَبِیْ ہُرَےْرَۃَص قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اِنَّ اللّٰہَ تَجَاوَزَ عَنْ اُمَّتِیْ مَا وَسْوَسَتْ بِہٖ صَدْرُھُا مَا لَمْ تَعْمَلْ بِہٖ اَوْ تَتَکَلَّمْ۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)

حضرت ابوہریرۃ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا! حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے میری امت کے لوگوں کے ان وسوسوں کو معاف کردیا ہے جو ان کے دلوں میں پیدا ہوتے ہیں جب تک کہ وہ ان وسوسوں پر عمل نہ کریں اور ان کو زبان پر نہ لائیں۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)

60Mishkaat-al-Masabih

وسوسہ کو برا سمجھنا ایمان کی علامت ہے

وَعَنْہُ قَالَ جَاءَ نَاسٌ مِّنْ اَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اِلَی النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم فَسَاَلُوْہُ اِنَّا نَجِدُ فِی اَنْفُسِنَا مَا ےَتَعَاظَمُ اَحَدُنَا اَنْ ےَّتَکَلَّمَ بِہٖ قَالَ اَوَقَدْ وَجَدْتُّمُوْہُ قَالُوْا نَعَمْ قَالَ ذَاکَ صَرِےْحُ الْاِےْمَانِ ۔(رواہ صحیح مسلم)

اور حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ (ایک دن) رسول اللہ ﷺ کے چند صحابی بارگاہ رسالت مآب ﷺ میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ ہم اپنے دلوں میں بعض ایسی باتیں (یعنی وسوسے) پاتے ہیں جس کا زبان پر لانا بھی ہم برا سمجھتے ہیں۔ سرکار نے پوچھا! کیا تم واقعی ایسا پاتے ہو۔ (کہ جب کوئی ایسا وسوسہ تمہارے اندر پیدا ہوتا ہے تو خود تمہارا دل اس کو ناپسند کرتا ہے اور اس کا زبان پر لانا بھی تم برا جانتے ہو؟ ) صحابہ نے عرض کیا! جی ہاں تب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ یہ کھلا ہوا ایمان ہے۔ (صحیح مسلم)