Mishkaat-al-Masabih

All 6,333 hadiths in order · Page 2 of 317

21Mishkaat-al-Masabih

اللہ تعالیٰ کا صبر و تحمل

وَعَنْ اَبِیْ مُوْسَی الْاَشْعَرِیِّ ص قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم مَا اَحَدٌ اَصْبَرَ عَلٰی اَذًی ےَّسْمَعُہُ مِنَ اللّٰہِ ےَدْعُوْنَ لَہُ الْوَلَدَ ثُمَّ ےُعَافِےْھِمْ وَےَرْزُقُھُمْ۔(صحیح البخاری و صحیح مسلم)

اور حضرت ابوموسی اشعری فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تکلیف دہ کلمات سن کر اللہ تعالیٰ سے زیادہ صبر و تحمل کرنے والا کوئی نہیں، لوگ اس کے لئے بیٹا تجویز کرتے ہیں وہ اس پر بھی (ان سے انتقام نہیں لیتا بلکہ) ان کو عافیت بخشتا ہے اور روزی پہنچاتا ہے۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم ) تشریح رب قدوس کی ذات اس سے پاک اور بالاتر ہے کہ کوئی انسان اگر اپنے قول و فعل سے اس کو تکلیف پہنچانا ہے چاہے، تو وہ کامیاب ہوجائے یا کوئی آدمی اس کو نقصان پہنچانا چاہے تو اسے نقصان پہنچ جائے اس لئے یہاں یہ نہ سمجھنا چاہیے کہ واقعی اس کو انسان کے قول فعل سے تکلیف پہنچتی ہے اور وہ صبر و تحمل کرتا ہے اور نہ اس حدیث کا مقصد اس بات کو ظاہر کرتا ہے۔ اصل منشاء انسانی دل و دماغ کو جھنجوڑنا اور عقل و شعور کو بیدار کرنا ہے کہ جب اللہ کی اپنی بنائی ہوئی مخلوق اسی کے پیدا کئے ہوئے انسان اسی کے خزانہ قدرت سے مستفید ہونے والے لوگ اپنے قول و فعل سے اللہ کو ایذاء پہنچانے کے سامان تیار کرتے ہیں اس کو تکلیف دینے کا ادارہ کرتے ہیں جیسے اس کی نافرمانی کرنا اس کے احکام و ہدایات اور اس کے دین کا مذاق اڑانا اور اس کی طرف ان چیزوں کی نسبت کرنا جن سے اس کی ذات بالکل پاک اور منزہ ہے مثلاً کسی کو اس کا جوڑا قرار دینا تو یہ ایسی باتیں ہیں کہ جن پر اس کا غضب اگر بھڑک اٹھے تو نہ صرف ان لوگوں کا تمام نظام زندگی تباہ و برباد کر کے رکھ دے بلکہ پوری کائنات کو ایک ہی لمحے میں نیست و نابود کر ڈالے۔ مگر اس کے برداشت و تحمل کو دیکھو کہ وہ ہر چیز پر قدرت رکھنے کے باوجود کوئی انتقامی کاروائی نہیں کرتا، کسی کی روٹی روزی بند نہیں کرتا، کسی کو زندگی کے وسائل و ذرائع سے محروم نہیں کرتا، جس طرح اس کے نیک اور اطاعت گزار بندے اس کے فضل و کرم کے سایہ میں ہیں اسی طرح بدکار اور سرکش بندے بھی اس کے خزانہ رحمت سے پل رہے ہیں اس کی نعمتوں سے مستفید ہو رہے ہیں۔

22Mishkaat-al-Masabih

توحید کی اہمیت

عَنْ مُّعَاذٍص قَالَ کُنْتُ رِدْفَ النَّبِیِِّ صلی اللہ علیہ وسلم عَلٰی حِمَارٍ لَّےْسَ بَےْنِیْ وَبَےْنَہُ اِلَّا مُؤَخِّرَۃُ الرَّحْلِ فَقَالَ ےَا مُعَاذُ ھَلْ تَدْرِیْ مَا حَقُّ اللّٰہِ عَلٰی عِبَادِہٖ وَمَا حَقُّ الْعِبَادِ عَلَی اللّٰہِ قُلْتُ اَللّٰہُ وَرَسُوْلُہُ اَعْلَمُ قَالَ فَاِنَّ حَقَّ اللّٰہِ عَلَی الْعِبَادِ اَنْ ےَّعْبُدُوْہُ وَلَا ےُشْرِکُوْا بِہٖ شَےْئًا وَحَقُّ الْعِبَادِ عَلَی اللّٰہِ اَنْ لَّا ےُعَذِّبَ مَنْ لَّا ےُشْرِکُ بِہٖ شَےْئًا فَقُلْتُ ےَا رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اَفَلَا اُبَشِّرُ بِہِ النَّاسَ قَالَ لَا تُبَشِّرْھُمْ فَےَتَّکِلُوْا۔(صحیح البخاری و صحیح مسلم)

اور حضرت معاذ ( آپ کی کنیت ابوعبدالرحمن ہے لیکن معاذ بن جبل کے نام سے معروف ہیں انصاری صحابی ہیں۔ ٤٨ سال کی عمر میں ١٨ ھ میں وفات پائی)۔ فرماتے ہیں کہ (ایک سفر کے دوران سواری کے) گدھے پر میں رسول اللہ ﷺ کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا، میرے اور رسول اللہ ﷺ کے درمیان صرف کجاوے کا پچھلا حصہ حائل تھا، آنحضور ﷺ نے (مجھ سے) فرمایا معاذ! جانتے ہو بندوں پر اللہ کا کیا حق ہے؟ میں نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول ﷺ ہی بہتر جانتے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا۔ بندوں پر اللہ کا حق یہ ہے کہ وہ اس کی عبادت کریں اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہرائیں اور اللہ پر بندوں کا یہ حق ہے کہ جس نے کسی کو اللہ کا شریک نہ ٹھہرایا ہو، اسے عذاب نہ دے (یہ سن کر) میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! میں یہ خوشخبری لوگوں کو سنا دوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا۔ لوگوں کو یہ خوشخبری نہ سناؤ کیونکہ وہ اسی پر بھروسہ کر بیٹھیں گے (اور عمل کرنا چھوڑ دیں گے)۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم ) تشریح عرب کے گدھے ہماری طرف کے گھوڑوں سے بھی زیادہ تیز اور طاقتور ہوتے ہیں اس لئے وہاں سواری کے لئے گدھے بھی استعمال کئے جاتے تھے اور ان پر سواری کی جاتی تھی۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جس نے اللہ کو ایک مان لیا اس کی الوہیت و ربوبیت اور اس کی بھیجی ہوئی رسالت پر ایمان لے آیا اور اس کی عبادت و پرستش میں کسی کو شریک نہیں ٹھہرایا تو اس پر عذاب نہیں ہوگا لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ اگر کوئی آدمی اللہ اور اللہ کے رسول پر ایمان لے آیا اور شرک کا مرتکب نہیں ہوا تو اس پر دوزخ کی آگ بالکل حرام ہوجائے گی۔ اگرچہ وہ کتنا ہی بد عمل اور بدکار ہو۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ مشرکین اور کفار کی طرح اس پر ہمیشہ کے لئے عذاب مسلط نہیں کیا جائے گا اور نہ وہ ہمیشہ ہمیشہ دوزخ میں رہے گا بلکہ اپنے گناہوں کی سزا بھگت کر آخر کار اسے جنت میں داخل کردیا جائے گا۔

23Mishkaat-al-Masabih

دوزخ سے رہائی

وَعَنْ اَنَسٍ ص اَنَّ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلم وَمُعَاذٌ رَّدِےْفُہُ عَلَی الرَّحْلِ قَالَ ےَا مُعَاذُ قَالَ لَبَّےْکَ ےَا رَسُوْلَ اللّٰہِ وَسَعْدَےْکَ قَالَ ےَا مُعَاذُ قَالَ لَبَّےْکَ ےَا رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم وَسَعْدَےْکَ قَالَ ےَا مُعَاذُ قَالَ لَبَّےْکَ ےَا رَسُوْلَ اللّٰہِ وَسَعْدَےْکَ ثَلٰثًا قَالَ مَا مِنْ اَحَدٍ ےَّشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم صِدْقًا مِّنْ قَلْبِہٖ اِلَّا حَرَّمَہُ اللّٰہُ عَلَی النَّارِ قَالَ ےَا رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اَفَلَا اُخْبِرُ بِہِ النَّاسَ فَےَسْتَبْشِرُوْا قَالَ اِذًا ےَتَّکِلُوْا فَاَخْبَرَ بِھَا مُعَاذٌ عِنْدَ مَوْتِہٖ تَاَثُّمًا۔(صحیح البخاری و صحیح مسلم)

اور حضرت انس راوی ہیں کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ نے اس وقت جب کہ (سفر کے دوران) سواری پر تھے اور آپ ﷺ کے پیچھے معاذ بیٹھے ہوئے تھے۔ فرمایا اے معاذ انہوں نے کہا حاضر ہوں یا رسول اللہ آنحضور ﷺ نے پھر فرمایا اے معاذ معاذ نے عرض کیا یا رسول اللہ حاضر ہوں آپ ﷺ نے پھر تیسری مرتبہ مخاطب فرمایا اے معاذ معاذ نے پھر کہا یا رسول اللہ حاضر ہوں آنحضور ﷺ نے اسی طرح تین مرتبہ معاذ کو مخاطب کرنے کے بعد فرمایا اللہ کا جو بندہ سچے دل سے اس بات کی گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں تو اس پر اللہ تعالیٰ دوزخ کی آگ حرام کردیتا ہے اور یہ سن کر معاذ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ کیا میں اس (خوشخبری) سے لوگوں کو آگاہ کردوں تاکہ وہ اس خوشخبری کو سن کر خوش ہوجائیں، آپ ﷺ نے فرمایا نہیں لوگ اسی پر بھروسہ کر بیٹھیں گے (حضرت انس فرماتے ہیں کہ آخر کار معاذ نے اس خوف سے کہ حدیث چھپانے کا) گناہ نہ ہو اپنی وفات کے وقت اس حدیث کو بیان کردیا تھا۔ (بخاری ومسلم) تشریح آنحضور ﷺ نے معاذ کو بار بار اس لئے مخاطب فرمایا تاکہ ان کے دل و دماغ میں مضمون کی اہمیت و عظمت بیٹھ جائے اور وہ جان لیں کہ جو بات کہی جانے والی ہے وہ ایسی نہیں ہے کہ سر سری طور پر سن لی جائے بلکہ اس کی عظمت کا تقاضا ہے کہ اس کو پوری توجہ سے سنا جائے اور دل و دماغ کی گہرائیوں تک اس کو پہنچایا جائے۔ فرمایا گیا کہ جس نے اللہ کی وحدانیت اور رسول کی رسالت کا اقرار صدق دل سے کرلیا اور اس پر دوزخ کی آگ حرام ہوجائے گی لیکن محض یہ تصدیق و اقرار ہی حرمت نار کے لئے کافی نہیں ہے بلکہ ضروری ہے کہ اس شہادت و تصدیق کے ساتھ ساتھ اس کے جو تقاضے ہیں ان کو بھی پورا کیا جائے یعنی دین و شریعت کی پوری پیروی کی جائے اور احکام الٰہی و فرمان رسول کی فرمانبرداری کی جائے اور یہ شہادت و تصدیق جن فرائض کو عائد کرتی ہیں ان پر عمل کیا جائے، اس طرح اللہ کا فضل و کرم اسے دوزخ کی آگ سے محفوظ رکھے گا، اسی لئے جب حضرت معاذ نے رسول اللہ ﷺ سے اس خوشخبری کو عام لوگوں تک پہنچانے کی اجازت چاہی تو آپ ﷺ نے یہ کہہ کر منع فرمایا کہ لوگ اس خوشخبری کو سن کر اسی پر بھروسہ کرلیں گے اور عمل کرنا چھوڑ دیں گے جس کا نیتجہ اللہ تعالیٰ کا عذاب ہے یا پھر وہی تاویل کی جائے گی جو پہلے کی گئی ہے کہ دوزخ کے ابدی عذاب سے نجات کا ضامن ہے، یعنی جس طرح کفار و مشرکین دوزخ کی آگ میں ہمیشہ ہمیشہ جلائے جائیں گے۔ اس طرح عقیدہ توحید و رسالت پر ایمان رکھنے والوں کو دوزخ کی آگ میں ہمیشہ کے لئے نہیں ڈالا جائے گا، ان میں سے جس آدمی نے شریعت پر عمل نہیں کیا ہوگا اور فرائض و واجبات کو پورا نہیں کیا ہوگا اس کو اس عرصہ کے لئے جو اللہ چاہے گا دوزخ میں ڈالا جائے گا اور جب وہ اپنی سزا پوری کرلے گا تو پھر اس کو ہمیشہ کے لئے جنت میں بھیج دیا جائے گا۔

24Mishkaat-al-Masabih

خاتمہ بالا یمان جنت کی ضمانت ہے

وَعَنْ اَبِیْ ذَرٍّ ص قَالَ اَتَےْتُ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلم وَعَلَےْہِ ثَوْبٌ اَبْےَضُ وَھُوَ نَآئِمٌ ثُمَّ اَتَےْتُہُ وَقَدِ اسْتَےْقَظَ فَقَالَ مَا مِنْ عَبْدٍ قَالَ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ ثُمَّ مَاتَ عَلٰی ذٰلِکَ اِلَّا دَخَلَ الْجَنَّۃَ قُلْتُ وَاِنْ زَنٰی وَاِنْ سَرَقَ قَالَ وَاِنْ زَنٰی وَاِنْ سَرَقَ قُلْتُ وَاِنْ زَنٰی وَاِنْ سَرَقَ قَالَ وَاِنْ زَنٰی وَاِنْ سَرَقَ قُلْتُ وَاِنْ زَنٰی وَاِنْ سَرَقَ قَالَ وَاِنْ زَنٰی وَاِنْ سَرَقَ عَلٰی رَغْمِ اَنْفِ اَبِی ذَرٍّ وَّکَانَ اَبُوْ ذَرٍّ اِذَا حَدَّثَ بِھٰذَا قَالَ وَاِنْ رَغِمَ اَنْفُ اَبِیْ ذَرٍّ۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)

اور حضرت ابوذر غفاری (اصل نام جندب بن جنادہ ہے اور بوذر غفار کی کنیت سے مشہور ہیں، آپ مکہ میں بالکل ابتداء اسلام میں ایمان سے بہرہ ور ہوگئے تھے۔ آپ کا انتقال ٣٢ ھ میں ہوا ہے)۔ فرماتے ہیں کہ میں (ایک مرتبہ) رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ ﷺ ایک سفید کپڑا اوڑھے سو رہے تھے (اس وقت تو میں واپس چلا آیا) پھر دوبارہ آپ ﷺ کی خدمت میں اس وقت حاضر ہوا جب آپ ﷺ بیدار ہوچکے تھے آپ ﷺ نے (مجھ کو دیکھ کر) فرمایا جس آدمی نے صدق دل سے لا الہ الا اللہ (یعنی اللہ کی وحدانیت کا سچے دل سے اعتراف و اقرار کیا) اور اسی عقیدہ پر اس کا انتقال ہوگیا تو وہ ضرور جنت میں داخل کیا جائے گا میں نے عرض کیا اگرچہ اس نے چوری اور زنا (جیسے بڑے گناہوں) کا ارتکاب کیا ہو؟ آپ ﷺ نے فرمایا ہاں، خواہ وہ چوری اور زنا کے جرم کا مرتکب کیوں نہ ہو۔ میں نے پھر (تعجب سے) سوال کیا، اگرچہ اس نے چوری اور زنا کا ارتکاب ہی کیوں نہ کیا ہو؟ آپ ﷺ نے فرمایا ہاں خواہ وہ چوری اور زنا کے جرم کا مرتکب کیوں نہ ہو؟ میں نے ( پھر تیسری بار بہت حیرت سے) عرض کیا، اگرچہ اس نے چوری اور زنا کے جرم کا ارتکاب کیا ہو؟ (تیسری مرتبہ بھی) آپ ﷺ نے یہی فرمایا ہاں خواہ وہ چوری اور زنا کا مرتکب ہی کیوں نہ ہوا ہو اور خواہ ابوذر کو کتنا ہی ناگوار گزرے۔ (راوی فرماتے ہیں کہ) جب بھی حضرت ابوذر یہ حدیث بیان کرتے (بطور فخر) اس آخری فقرہ خواہ ابوذر کو کتنا ہی ناگوار گزرے ضرور نقل کرتے تھے۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم ) تشریح بلاشبہ اللہ تعالیٰ کی ذات بےنیاز ہے اور اس کی رحمت بہت وسیع ہے۔ اس کے فضل و کرم سے کوئی بعید نہیں کہ وہ اس آدمی کو جنت میں داخل کر دے جو گناہ کبیرہ کا مرتکب ہوتا تھا مگر مرتے وقت اس کا دل ایمان و یقین کی روشنی سے منور تھا، تاہم محدثین اس حدیث کے ذیل میں لکھتے ہیں کہ اس کی بخشش و مغفرت اس کے ایمان کی بنا پر تو ہر حال میں ہوگی یعنی اس کو ابدی نجات سے سرفراز کیا جائے گا مگر دنیا میں اس نے جو گناہ کئے ہوں گے اور جن بداعمالیوں کا مرتکب ہوا ہوگا پہلے ان کی سزا اس کو بھگتنی ہوگی۔ چناچہ ابوذر غفاری کو اسی لئے تعجب ہو رہا تھا اور وہ بار بار پوچھ رہے تھے کہ کیا کوئی آدمی محض اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور اس کے رسول کی رسالت پر ایمان و اقرار کے بعد جنت میں داخل کردیا جائے گا خواہ اس نے شریعت کی اطاعت نہ کی ہو اور بڑے بڑے گناہوں کا مرتکب رہا ہو؟ مگر حقیقت میں نگاہ نبوت اللہ کی وسیع و بہت زیادہ رحمت کو دیکھ رہی تھی کہ بڑے بڑے سرکش اور بدکار انسان جنہوں نے پوری زندگی اللہ و رسول کے احکام سے سرکشی میں گزاری، جن کی عمر کا کوئی حصہ شریعت کی اطاعت میں نہیں گزرا انہوں نے جب آخر میں ندامت و شرمندگی اور خلوص دل سے توبہ کرلی اور مرتے وقت ان کا دل ایمان و یقین کے نور سے منور ہوگیا تو اللہ تعالیٰ کی بےپایاں رحمت نے اس توبہ وانابت اور ایمان و یقین کی بدولت جس نے سچائی اور اخلاص کے ساتھ ان کے اندر کی دنیا میں لمحہ میں انقلاب برپا کردیا تھا ان کی پوری زندگی کی سرکشی اور بدکاریوں کو معاف کردیا اور اپنے فضل و احسان کے سایہ میں لے کر ان کو ابدی نجات سے سرفراز کردیا۔

25Mishkaat-al-Masabih

نجات کا دارومدار کس پر ہے

وَعَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ ص قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم مَنْ شَھِدَ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِےْکَ لَہُ وَاَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُوْلُہُ وَاَنَّ عِےْسٰی عَبْدُاللّٰہِ وَرَسُوْلُہُ وَابْنُ اَمَتِہٖ وَکَلِمَتُہُ اَلْقٰھَا اِلٰی مَرْےَمَ وَرُوْحٌ مِّنْہُ وَالْجَنَّۃُ وَالنَّارُ حَقٌّ اَدْخَلَہُ اللّٰہُ الْجَنَّۃَ عَلٰی مَا کَانَ مِنَ الْعَمَلِ۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)

اور عبادہ بن صامت فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو آدمی اس بات کی گواہی دے (یعنی زبان سے قرار کرے اور دل سے سچ جانے) کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور کوئی اس کا شریک نہیں اور یہ کہ محمد ﷺ بلا شبہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں اور (اس بات کی بھی شہادت دے کہ) عیسیٰ (علیہ السلام) (بھی) اللہ کے بندے اور رسول اور اللہ کی لونڈی (مریم) کے بیٹے اور اس کا کلمہ ہیں جس کو اس نے مریم کی جانب ڈالا تھا اور اللہ کی بھیجی ہوئی روح ہیں اور یہ کہ جنت و دوزخ حق (اور واقعی چیزیں) ہیں تو اللہ تعالیٰ اسے جنت میں ضرور داخل کرے گا خواہ اس کے اعمال کیسے ہی ہوں (صحیح البخاری و صحیح مسلم ) تشریح اس حدیث کا حاصل یہی ہے کہ ابدی نجات کا دار و مدار ایمان و عقائد کی اصلاح پر ہے اس میں کسی قسم کی کوتاہی قابل معافی نہیں سکتی، ہاں اعمال کی کمزوریاں رحمت الٰہی سے معاف ہوسکتی ہیں۔ ایمان کی بنیاد چونکہ توحید کو ماننا اور اس کی شہادت دینا ہے اس لئے سب سے پہلے اسے ضروری قرار دیا گیا ہے کہ اللہ کی وحدانیت اور اس کی الوہیت و ربوبیت پر صدق دل سے اعتقاد اور یقین رکھا جائے پھر اس کے بعد رسالت کا درجہ ہے تو ضروری ہے کہ رسول کی رسالت پر ایمان لایا جائے اسی طرح تمام رسولوں کی رسالت پر ایمان رکھنا بھی نجات کے لئے ضروری ہے۔ یہاں صرف حضرت عیسیٰ کا ذکر علامت کے طور پر بھی ہے اور ایک خاص وجہ سے بھی دراصل ان کے بارے میں ایک گروہ (یعنی عیسائیوں) کا عقیدہ یہ ہے کہ عیسیٰ ابن اللہ ہیں۔ اس باطل عقیدہ کی تردید کے لئے ان کا ذکر کیا گیا اور وضاحت کردی گئی کہ عیسیٰ نہ تو اللہ کے بیٹے ہیں اور نہ اللہ ان کے اندر حلول کئے ہوئے ہے بلکہ وہ اللہ بندے اور اس کے رسول ہیں جسے اس نے اپنی ایک باندی مریم کے پیٹ سے پیدا کیا اسی لئے ان کو کلمۃ اللہ کہا جاتا ہے کہ ان کی پیدائش بغیر باپ کے صرف اللہ کے حکم کلمہ کن سے ہوئی۔ روح اللہ ان کو اس لئے نہیں کہا گیا کہ ان کے اندر اللہ کا کوئی جزو یا اللہ کی روح شامل ہے بلکہ روح اللہ آپ کا لقب اس لئے قرار دیا گیا کہ آپ اللہ کے حکم سے مردوں کو زندہ کردیا کرتے تھے اور مٹی کی چڑیاں بنا کر اور ان میں جان ڈال کر اڑا دیا کرتے تھے۔ عقیدہ توحید و رسالت کے بعد تصور آخرت کا عقیدہ بھی بنیادی ہے یعنی اس بات پر ایمان و یقین رکھنا کہ مرنے کے بعد دوبارہ جی اٹھنا برحق ہے اور جنت دروزخ واقعی چیزیں ہیں، یہ وہ عقائد ہیں جن کا ماننا، صدق دل سے ان پر ایمان رکھنا اور خلوص نیت سے ان کو تسلیم کرنا ابدی نجات کا ضامن ہے۔ ان عقائد کو مانتے ہوئے اگر اعمال کی کو تاہیاں بھی ہوں تو اس صورت میں بھی اس حدیث نے جنت کی خوشخبری دی ہے۔ لیکن جہاں تک مسئلے کا تعلق ہے یہ بات طے ہے کہ جو عملی کو تاہیاں اور بداعمالیاں رحمت الٰہی سے معاف نہیں ہوں گی ان پر سزا ضرور ملے گی مگر سزا پوری ہونے کے بعد اس کو بھی جنت میں داخل کردیا جائے گا۔ لہٰذا اس حدیث کو اس مفہوم میں لینا چاہیے کہ اگر ان عقائد کے ماننے کے بعد کسی نے اعمال بھی اچھے کئے، شریعت کی پیروی کرتے ہوئے تمام احکام بجالایا اور خلاف شرع کوئی کام نہیں کیا تو بغیر کسی عذاب و سزا کے اسے جنت میں داخل کیا جائے گا اور اگر کسی نے ان عقائد کو ماننے کے بعد اعمال اچھے نہ کئے شریعت کی پابندی نہیں کی، اللہ اور اللہ کے رسول کے احکام کی فرمانبرداری نہیں کی تو وہ اپنے گناہوں کی سزا بھگتے گا مگر آخر کار اسے جنت میں داخل کردیا جائے گا۔

26Mishkaat-al-Masabih

قبول اسلام سے سابقہ گناہ مٹ جاتے ہیں

وَعَنْ عَمْرِ وبْنِ الْعَاصِص قَالَ اَتَےْتُ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلم فَقُلْتُ اُبسُطْ ےَمِےْنَکَ فَلِاُ بَاےِِعَکَ فَبَسَطَ ےَمِےْنَہُ فَقَبَضْتُ ےَدِیْ فَقَالَ مَالَکَ ےَا عَمْرُو قُلْتُ اَرَدْتُّ اَنْ اَشتَرِطَ قَالَ تَشْتَرِطُ مَاذَا قُلْتُ اَنْ ےُّغْفَرَ لِیْ قَالَ اَمَا عَلِمْتَ ےَا عَمْرُو اَنَّ الْاِسْلَامَ ےَھْدِمُ مَا کَانَ قَبْلَہُ وَاَنَّ الْھِجْرَۃَ تَھْدِمُ مَا کَانَ قَبْلَھَا وَاَنَّ الْحَجَّ ےَھْدِمُ مَا کَانَ قَبْلَہُ ۔ وَالْحَدِےْثَانِ الْمَرْوِےَّانِ عَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَ قَالَ قَالَ اللّٰہُ تَعَالٰی اَنَا اَغْنِی الشُّرَکَآءِ عَنِ الشِّرْکِ وَالْاٰخَرُ الْکِبْرِےآءُ رِدَآئِیْ سَنَذْکُرُ ھُمَا فِیْ بِاَبِ الرِّّےآءِ وَالْکِبْرِ اِنْ شَآءَ اللّٰہُ تَعَالٰی۔رَوَاہُ مُسْلِمٌ 25-25

حضرت عمرو بن العاص (آپ مشہور و معروف قریشی صحابی ہیں آپ کی کنیت ابوعبداللہ یا ابومحمد بیان کی گئی ہے آپ کا سن وفات ٤٣ ھ بیان کیا جاتا ہے)۔ فرماتے ہیں کہ میں (جب اللہ تعالیٰ نے اسلام کی روشنی سے میرے قلب و دماغ کو منور کیا تو) رسول اللہ ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ! لائیے اپنا ہاتھ آگے بڑھائیے میں آپ ﷺ سے اسلام کی بیعت کرتا ہوں، آپ نے (یہ سن کر) اپنا ہاتھ (جب) بڑھایا تو میں نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا تو آپ ﷺ نے (حیرت سے) فرمایا عمرو یہ کیا؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ! میں کچھ شرط لگانی چاہتا ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا کیا شرط ہے؟ میں نے عرض کیا (میں چاہتا ہوں) کہ میرے (ان) تمام گناہوں کو مٹا دیا جائے (جو میں نے اسلام سے پہلے کئے تھے) آپ نے فرمایا اے عمرو! کیا تم نہیں جانتے کہ اسلام ان تمام گناہوں کو مٹا دیتا ہے جو قبول اسلام سے پہلے کئے گئے ہوں، ہجرت ان تمام گناہوں کو دور کردیتی ہے جو اس (ہجرت) سے پہلے کئے گئے ہوں اور حج ان تمام گناہوں کو مٹا دیا جائے جو اس حج سے پہلے کئے گئے ہوں (صحیح مسلم) اور حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت کردہ دونوں حدیثیں یعنی قال اللہ تعالیٰ ان اغنی الشر کاء عن الشرک الخ اور الکبریاء ردائی الخ ریاء اور کبر کے باب میں نقل کی جائیں گی، انشاء اللہ تعالیٰ۔ تشریح ایک شخص اگر اپنی زندگی کا ایک اچھا خاصہ کفر وشرک میں گزار کر بعد میں اسلام کی دولت سے بہرہ ور ہوتا ہے، تو کیا اس کے زمانہ اسلام سے پہل کے اعمال پر مواخذہ ہوگا؟ یعنی کفر و شرک اور گناہ و معصیت جو اس سے پہلے صادر ہوتے رہے ہیں ان پر عذاب ہوگا یا نہیں؟ اس حدیث نے اس مسئلہ کو صاف کردیا کہ اسلام کی روشنی پہلی تمام تاریکی کو خواہ وہ کفر و شرک کا اندھیرا ہو یا گناہ و معصیت کی ظلمت، آن واحد میں ختم کر ڈالتی ہے اور صرف ایک کلمہ کی بدولت جو خلوص دل سے نکلا ہو، انسان کا قلب و دماغ بالکل مجلی ہوجاتا ہے، نہ وہاں شرک کی ظلمتوں کا کوئی نشان رہ جاتا ہے اور نہ گناہ معصیت پر عذاب کا کوئی خدشہ، لیکن اتنی بات جان لینی چاہیے کہ بخشش اور مغفرت کا تعلق ذنوب اور گناہوں سے ہے، ان حقوق کے ساتھ نہیں ہے جو قرض، امانت، عاریت اور خریدو فروخت کے سلسلے میں اس کے ذمہ ابھی باقی ہیں کیونکہ اسلام ان مطالبات کی ادائیگی کو معطل نہیں کرتا جن کا تعلق حقوق العباد سے ہے بلکہ اسلام لانے کے بعد بھی اس پر لازم رہے گا کہ وہ ان مطالبات کی ادائیگی کرے جو اس پر اسلام لانے سے پہلے واجب تھے، البتہ اس حدیث تحت ایسے حقوق العباد آسکتے ہیں جو زنا، چوری اور قتل و غارت گری کی صورت میں زمانہ اسلام سے قبل ناحق ضائع کردیئے گئے تھے، اسلام کے بعد ان پر کوئی مواخذہ نہیں ہوگا۔ اسلام کی دولت سے مستفیض ہونے کے بعد بھی چونکہ ایک مسلمان سے بتقاضائے بشریت گناہ سرزد ہوسکتے ہیں اس لئے ان کے کفارہ کے لئے اس حدیث نے حج اور ہجرت دو ایسے عمل بتا دیئے کہ اگر یہ دونوں کام اپنی تمام شرائط کے ساتھ پورے کئے جائیں تو یہ حقوق اللہ کے لئے کفارہ بن جائیں گے بلکہ حج کے بارے میں تو یہاں تک کہا جاتا ہے کہ اللہ کے فضل و کرم سے یہ حقوق العباد کے لئے بھی کفارہ بن جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس پر قادر ہے کہ اپنے خزانہ قدرت سے صاحب حقوق کو اس کے حقوق دے کر اس بندہ کو ان حقوق سے دستبرداری دلا دے اور اسے معاف کر دے۔ (ترجمان السنۃ)

27Mishkaat-al-Masabih

ارکان دین

عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ قُلْتُ یَا رَسُوْلَ اﷲِاَخْبِرْنِی بِعَمَلِ یُّدْخِلْنِیَ الْجَنَّۃَ وَیُبَا عِدُنِی مِنَ النَّارِ قَالَ لَقَدْ سَأَلْتَ عَنْ اَمْرٍ عَظِیْمٍ وَاِنَّہ، لَیَسِیْرٌ عَلٰی مَنْ یَسَّرَہ، اﷲُ تَعَالٰی عَلَیْہِ تَعْبُدُ اﷲَ وَلَا تُشْرِکْ بِہٖ شَیْئًا وَتُقِیْمُ الصَّلَاۃَ وَتُوْتِی الزَّکَاۃَ وَتَصُوْمُ رَمَضَانَ وَتَحُجُّ الْبَیْتَ ثُمَّ قَالَ اَلَآ اَدُلُّکَ عَلَی اَبْوَابِ الْخَیْرِ الصَّوْمُ جُنَّۃٌ وَالصَدَقَۃُ تُطْفِئُ الْخَطِیْئَۃَ کَمَا یُطْفِیُ الْمَآءُ النَّارَ وَصَلَاۃُ الرَّجُلِ فِی جَوْفِ الْلَّیْلِ ثُمَّ تَلِاَ (تَتَجَافٰی جُنُوْبُھُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِمْ) حَتَّی بَلَغَ یَعْمَلُوْنَ ثُمَّ قَالَ اَلَآ اَدُلُّکَ بِرَأْسِ الْاَمْرِوَعُمُوِدِہٖ وَذِرْوَۃِ سَنَامِہٖ قُلْتُ بَلٰی یَا رَسُوْلَ اﷲِ قَالَ رَأْسُ الْاَمْرِ اَلْاِسَلَامُ وَعُمُوْدُہ، الصَّلَاُۃ وَذِرْوَۃُ سَنَامِہِ الْجِھَادِ ثُمَّ قَالَ اَلَا اُخْبِرُکَ بِمِلَاَک ذٰلِکَ کُلِّہٖ قُلْتُ بَلٰی یَانَبِیَّ اﷲِ فَأَخَذَ بِلِسَانِہٖ وَقَالَ کُفَّ عَلَیْکَ ھٰذَا فَقُلْتُ یَا نَبِیَّ اﷲِ وَاِنَّا لَمُؤَا خَذُوْنَ بَمَا نَتَکَلَّمُ بِہٖ قَالَ ثَکِلَتْکَ اُمُّکَ یَامُعَاذُ وَھَلْ یَکُبُّ النَّاسُ فِی النَّارِ عَلٰی وُجُوْھِھِمْ اَوْعَلٰی مَنَا خِرِھِمْ اِلَّا حَصَائِدُ اَلْسِنَتِھِمْ۔ (رواہ مسند احمد بن حنبل الترمذی وابن ماجۃ)

حضرت معاذ بن جبل ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ مجھے کوئی عمل ایسا بتا دیجئے جو مجھ کو جنت میں لے جائے اور دوزخ کی آگ سے محفوظ رکھے، آپ ﷺ نے فرمایا حقیقت تو یہ ہے کہ تم نے ایک بہت بڑی چیز کا سوال کیا ہے لیکن جس پر اللہ تعالیٰ آسان کر دے اس کے لئے یہ بہت آسان بھی ہے پھر فرمایا اللہ تعالیٰ کی بندگی کرو اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہراؤ، نماز پابندی کے ساتھ ادا کرو، زکوٰۃ دو، رمضان کے روزے رکھو اور خانہ کعبہ کا حج کرو، پھر اس کے بعد فرمایا اے معاذ! کیا تمہیں خیر و بھلائی کے دروازوں تک نہ پہنچادوں (تو سنو) روزہ (ایک ایسی) ڈھال ہے (جو گناہ سے بچاتی ہے اور دوزخ کی آگ سے محفوظ رکھتی ہے) اور اللہ کی راہ میں کرچ کرنا گناہ کو اس طرح مٹا دیتا ہے جیسے پانی آگ کو بجھا دیتا ہے (اور اسی طرح) رات (تہجد) میں مومن کا نماز پڑھنا (گناہ کو ختم کردیتا ہے) پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی (جس میں تہجد گزاروں اور رات میں اللہ کی عبادت کرنے والوں کی فضیلت بیان کی گئی ہے اور اس پوری آیت کا ترجمہ ہے) ان (مومنین صالحین) کے پہلو (رات میں) بستروں سے الگ رہتے ہیں (اور) وہ اپنے پروردگار کو خوف وامید سے پکارتے اور جو (مال) ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے وہ (اللہ کی راہ میں) خرچ کرتے ہیں، کوئی متنفس نہیں جانتا کہ ان (مومنین صالحین) کے لئے آنکھوں کی ٹھنڈک چھپا کر رکھی گئی ہے یہ ان کے اعمال کا صلہ (انعام) ہے جو وہ کرتے تھے، پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا تمہیں اس چیز (یعنی دین) کا سر اور اس کے ستون اور اس کے کوہان کی بلندی نہ بتادوں؟ میں نے عرض کیا ہاں یا رسول اللہ! ضرور بتائیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا اس چیز (دین) کا سر اسلام ہے، اس کے ستون نماز ہے اور اس کوہان کی بلندی جہاد ہے۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا۔ کیا تمہیں ان تمام چیزوں کی جڑ نہ بتادوں؟ میں نے عرض کیا ہاں اللہ کے نبی ضرور بتائیے آپ ﷺ نے اپنی زبان مبارک پکڑی اور (اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے) فرمایا اس کو بند رکھو۔ میں نے عرض کیا اے اللہ کے نبی ہم اپنی زبان سے جو بھی لفظ نکالتے ہیں ان سب پر مواخذہ ہوگا، آپ نے فرمایا معاذ! (دعا ثکتک امک) (تمہاری ماں تمہیں گم کر دے اچھی طرح جان لو کہ) (یہ ایک محا ورہ ہے جو عربی زبان میں اظہار تعجب کے لئے بولا جاتا ہے)۔ لوگوں کو ان کے منہ کے بل یا پیشانی کے بل دوزخ میں گرانے والی اسی زبان کی (بری) باتیں ہوں گی۔ (مسند احمد بن حنبل، ترمذی، ابن ماجہ) تشریح اس حدیث میں دین کی تصویر بڑے نفیساتی انداز میں اجاگر کی گئی ہے۔ مطلب یہ کہ جس طرح کسی جسمانی وجود کا مدار سر پر ہوتا ہے کہ اگر سر کو اڑا دیا جائے تو جسمانی وجود بھی باقی نہیں رہے گا، اسی طرح ایمان و اسلام یعنی عقیدہ توحید و رسالت دین کے لئے بمننرلہ سر کے ہیں کہ اگر توحید و رسالت کے اعتقاد کو ہٹا دیا جائے تو دین کا وجود بھی باقی نہیں رہے گا، پھر جس طرح کسی جسمانی وجود کو برقرار رکھنے اور کار آمد بنانے کے لئے ستون اولین اہمیت کا حامل ہوتا ہے اسی طرح دین کا ستون نماز ہے۔ نماز ہی وہ بنیادی طاقت ہے جو دین کے وجود کو وابستہ اور قائم رکھتی ہے اگر نماز کو ہٹا دیا جائے تو دین کو وجود اپنی اصلی حالت کی برقراری سے محروم ہوجائے۔ اور پھر جس طرح کسی جسمانی وجود کو باعظمت بنانے اور اس کی شوکت بڑھانے کے کسی امیتازی اور منفرد وصف و خصوصیت کی ضرورت ہوتی ہے اسی طرح جہاد ضرورت ہے جس پر دین کی عظمت و شوکت اور ترقی و وسعت کا انحصار ہے اگر جہاد کو (خواہ وہ قلم سے ہو یا زبان سے اور خواہ تلوار سے ہو یا تبیلغی جدوجہد سے) اہل اسلام کے ملی وصف سے خارج کردیا جائے تو دین ایک بےشکوہ اور بےاثر ڈھانچہ بن کر رہ جائے۔ حدیث کا آخری حصّہ زبان سے متعلق اس ہدایت پر مشتمل ہے جو دین کو اضمحلال اور دینی گندگی کو گھن سے بچانے کے لئے ایک بڑے نفسیاتی نکتہ کی غماز ہے۔ مطلب یہ کہ دین کے وجود، دین کے بقا اور دین کی عطمت و شوکت کو پہنچانے کی جڑ زبان ہے زبان کو قابو میں رکھنا دین و دنیا کی فلاح و نجات کا پیش خیمہ ہے اور زبان کو بےقابو چھوڑ دینا خود کو دین و دنیا کی تباہی کی طرف دھکیل دینا ہے لہٰذا لازم ہے کہ زبان بند رکھی جائے یعنی منہ سے ایسے الفاظ نہ نکالے جائیں جو برائی فحاشی اور بدکلامی کے حامل ہوں، وہ برے کلام جو کفر امیز یا گناہ اور فحاشی کے ہوں، یا کسی کی غیبت کرنا، جھوٹ بولنا اور یا الزام تراشی کرنا ایسی برائیاں ہیں جن سے زبان و ذہن کی حفاظت نہ کی گئی تو سمجھ لو دوزخ کا عذاب سامنے ہے۔ دین و دنیا کی بھلائی چاہنے والے اور ابدی نجات وسعادت کے طلب گار اسی لئے اپنی زبان پر قابو رکھتے ہیں کہ نہ معلوم کب اس سے کوئی ایسا لفظ و کلام نکل جائے جس سے کفر بکنا یا گناہ و معصیت کی بات کہنا لازم آجائے اور پھر اس کی پاداش میں اللہ کا عذاب بھگتنا پڑے۔ درحقیقت زبان بہت بڑی وجہ سعات بنتی ہے جب اس سے نیک کلام اچھی باتیں، خیر و بھلائی کے الفاظ اور وعظ و نصیحت کے جملے نکلتے ہیں، دنیا و آخرت میں اسی انسان کا رتبہ بلند مانا جاتا ہے جو زبان کی عطمت و تقدیس کو ہر حال میں ملحوظ رکھے۔ بدکلامی اور بری باتوں سے بہر صورت اجتناب کرتا ہوں۔

28Mishkaat-al-Masabih

ایمان کامل کیا ہے؟

وَعَنْ اَبِی اَمَامَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلَ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم مَنْ اَحَبَّ لِلّٰہِ وَاَبْغَضَ لِلّٰہِ وَاَعْطَی لِلّٰہِ وَمَنَعَ لِلّٰہِ فَقَدِ اسْتَکْمَلَ الْاِیْمَانَ رَوَاہُ اَبُوْدَاؤُدَ وَرَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ عَنْ مُعَاذِبْنِ اَنَسٍ مَعَ تَقْدِیْمٍ وَتَأْخِیْرٍ وَفِیْہٖ فَقَدِ اسْتَکْمَلَ اِیْمَانَہ،۔

اور حضرت ابی امامہ (اصل نام سدی بن عجلان بن حارث ہے مگر اپنی کنیت ابوامامہ سے مشہور ہیں، آپ قبیلہ باہلہ کی ایک شاخ سہم سے تعلق رکھتے تھے اس لئے آپ باہلی سہمی کہلاتے ٧ تھے آپ کی وفات ٨١ ھ میں بیان کی گئی ہے)۔ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو آدمی اللہ ہی کے لئے محبت کرے اور اللہ ہی کے لئے بغض و عداوت رکھے اور اللہ ہی کے لئے خرچ کرے اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو آدمی اللہ ہی کے لئے محبت کرے اور اللہ ہی کے لئے خرچ نہ کرے تو یقینا اس نے ایمان کو کامل کیا (ابوداؤد) اور ترمذی نے اس روایت کو معاذ بن انس سے کسی قدر تقدیم و تاخیر کے ساتھ نقل کیا ہے۔ جس کے آخری الفاظ یہ ہیں تو یقینا اس نے اپنے ایمان کو کامل کیا۔ تشریح مطلب یہ کہ بندہ جو کام بھی کرے محض اللہ کی خوشنودی اور اس کی رضا حاصل کرنے کے لئے کرے، اس کا کوئی بھی فعل و عمل کسی غرض فاسد، جذبہ نام و نمود اور نمائش و ریا کے تحت نہ ہو۔ مثلاً اگر وہ کسی سے محبت وتعلق رکھتا ہے یا کسی سے دشمنی و عداوت رکھتا ہے تو اس کی بنیاد محض نفس کی خواہش یا کسی دنیاوی مقصد و غرض پر نہ ہو بلکہ یہ دیکھے کہ کس آدمی سے محبت رکھنا اللہ کے نزدیک پسندیدہ ہے اس لئے وہ اس آدمی سے محبت وتعلق رکھے جو نیک، صالح، اطاعت گزار اور مخلص مومن و مسلمان ہوا اور چونکہ ایسے آدمی سے بغض و عداوت رکھنا ہی اللہ کو مطلوب ہے جو سرکش و نافرمانبردار ہو اس لئے اس سے بغض و عداوت رکھے اور اس سے محبت کا تعلق قائم نہ کرے۔ اسی طرح اپنا مال خرچ کرنے اور کرچ نہ کرنے کے بارے میں بھی اللہ ہی کی رضا و خوشنودی کو سامنے رکھے یعنی اگر خرچ کرے تو ایسی جگہ اور ایسے مصارف میں خرچ کرے جہاں خرچ کرنے کا حکم اللہ نے دیا ہے اور جن مصارف میں خرچ کرنا اللہ کو مطلوب و پسندیدہ ہے، جہاں خرچ کرنا نہ صرف یہ کہ کوئی ثواب کا کام نہیں ہے بلکہ گناہ کو لازم کرتا ہے وہاں خرچ کرنے سے اجتناب کرے اور کسی ایسے آدمی یا جماعت کے ساتھ مالی امداد و معاونت نہ کرے جو اللہ کی نظر میں مقبول و پسندیدہ ہو یہی ہو چیز ہے جس کو تکمیل ایمان کا باعث قرار دیا گیا ہے۔

29Mishkaat-al-Masabih

سب سے افضل عمل کیا ہے

وَعَنْ اَبِی ذَرٍّ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم اَفْضَلُ الْاَعْمَالِ اَلْحُبُّ فِی اﷲِ وَ الْبُغْضُ فِی اﷲِ۔ (رواہ ابوداؤد)

اور حضرت ابوذر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا (باطنی) اعمال میں سب سے افضل مرتبہ اس عمل کا ہے کہ اللہ ہی کے لئے (کسی سے) محبت ہو اور اللہ ہی کے لئے (کسی سے) بغض و عداوت رکھی جائے۔ (ابوداؤد) تشریح اگر بندہ کا احساس اتنا لطیف اور اس جذبہ اتنا پاکیزہ ہوجائے تو ظاہر ہے کہ قدم قدم پر یہی روشنی اس کی راہنمائی کرتی رہے گی جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ بری باتوں اور گناہوں سے بچتا رہے گا اور اچھی باتیں اور نیک کام کرتا رہے گا اسی لئے جذبہ کو بہترین عمل قرار دیا گیا ہے۔

30Mishkaat-al-Masabih

سچا مومن کون ہے

وَعَنْ اَبِی ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم اَلْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُوْنَ مِن لِّسَانِہٖ وَیَدِہٖ وَالْمُؤْمِنُ مَنْ اَمِنَہُ النَّاسُ عَلَی دِمَائِھِمْ وَاَمْوَالِھِمْ رَوَاہُ التِّرِمِذِیُّ وَالنِّسَائِیُ وَزَادَ الْبَیْھَقِیُّ فِیْ شُعَبِ الْاِیْمَانِ بِرِوَایَۃِ فُضَالَۃَ وَالْمُجَاھِدُ مَنْ جَاھَدَ نَفْسَہُ فِی طَاعَۃِ اﷲِ وَالْمُھَا جِرُمَنْ ھَجَرَ الْخَطَایَا وَلذُّنُوْبِ۔

اور حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا (کامل اور سچا) مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان (کی ایذاء سے) مسلمان محفوظ رہیں اور (پکا و صادق) مومن وہ ہے جس سے لوگ اپنی جان و اپنے مال کو مامون سمجھیں (جامع ترمذی و سنن نسائی) اور شعب الایمان میں بیہقی نے فضالہ سے جو روایت نقل کی ہے اس میں یہ الفاظ بھی ہیں اور (حقیقی) مجاہد وہ ہے جس نے اللہ کی اطاعت و عبادت میں اپنے نفس سے جہاد کیا اور (اصل) مہاجر وہ ہے جس نے تمام چھوٹے اور بڑے گناہوں کو ترک کردیا۔ تشریح صحیح معنی میں مومن وہی ہے جس کا وجود اللہ کی مخلوق کے لئے باعث اطمینان و راحت ہو، لوگوں کو اس پر پورا پورا اعتماد بھروسہ ہو۔ اس کی امانت و دیانت، عدالت و صداقت اور اخلاق و پاکیزگی اس طرح نمایاں ہو کہ نہ تو کسی کو اپنے مال کے ہڑپ کر لئے جانے کا خوف ہو اور نہ کسی کو اس کی طرف سے اپنی جان و آبرو کے نقصان کا خدشہ اور نہ کسی کے دل میں اس کی جانب سے کسی اور طرح کا خوف وہراس ہو۔ حقیقی مجاہد بھی وہ نہیں ہے جو دشمنوں سے جنگ کرتا ہے بلکہ مجاہد وہ ہے جو اپنے نفس امارہ سے جہاد کرتا ہے اور اللہ کی راہ میں بڑی سے بڑی قربانی پیش کرنے کے اور اس کی اطاعت و فرمانبرداری کی خاطر نفس کی تمام خواہشات کو موت کے گھاٹ اتا دیتا ہے۔ ایسے ہی حقیقی مہاجر بھی وہ ہے جس نے ان تمام چیزوں کو ترک کردیا ہے جن سے اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ نے منع کر رکھا ہو اس لئے کہ ہجرت کی حکمت یہی ہے کہ مومن طاعت الہٰی میں بغیر کسی رکاوٹ کے مصروف رہے اور اللہ نے جن چیزوں سے منع کردیا ہے ان سے بچتا رہے۔ مہاجر کی حقیقی شان یہی ہے۔

31Mishkaat-al-Masabih

امانت اور ایفاء عہد کی اہمیت

وَعَنْ اَنَسٍ قَالَ قَلَّمَا خَطَبَنَا رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلماِلَّاقَالَ لَااِیْمَانَ لِمَنْ لَا اَمَانَۃَ لَہ، وَلَا دِیْنَ لِمَنْ لَّا عَھْدَ لَہ۔ رَوَاہُ الْبَیْھَقِیُّ فِی شُعَبِ الْاِیْمَانِ۔

اور حضرت انس فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایسا خطبہ کم دیا ہوگا جس میں یہ نہ فرمایا ہو کہ جس آدمی میں امانت نہیں اس کا ایمان بھی کچھ نہیں اور جس میں ایفاء عہد نہیں اس کا دین بھی کچھ نہیں۔ (شعب الایمان) تشریح امانت و دیانت اور ایفاء عہد وہ اعلیٰ اوصاف ہیں جن کا ہر مسلمان و مومن میں ہونا ضروری ہے ان اوصاف کی اہمیت کا اندازہ اس حدیث سے ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب بھی وعظ و نصیحت فرمایا کرتے تھے یا خطبہ دیا کرتے تھے، تو امانت و دیانت اور ایفائے عہد کے بارے میں ضرور تاکید فرمایا کرتے تھے اس لئے مومن کی فطرت ہی امانت و دیانت کے سانچے میں ڈھلی ہوئی ہوتی ہے۔ اس کے اندر ان اوصاف کے جوہر فطری طور پر ہوتے ہیں جو زندگی کے ہر موڑ پر نیکی و بھلائی کی طرف راہنمائی کرتے ہیں۔ اسی طرح ایفاء عہد بھی فطرت سیلم اور ایمان کا خاصہ ہے اسی لئے فرمایا گیا کہ جس آدمی کے اندر یہ اوصاف ہوں گے وہ دین و ایمان کی حقیقی لذت سے بھی لطف اندوز نہیں ہو سکے گا، تاہم اس حدیث کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اس کا ایمان بالکل ہی ختم ہوجائے گا بلکہ ان اوصاف کی اہمیت و عظمت کی بنا پر مبالغہ سے کام لیا گیا اور تاکیدا اس طرح فرمایا گیا تاکہ ان کی اہمیت دلوں میں بیٹھ جائے۔

32Mishkaat-al-Masabih

ابدی نجات کی ضمانت

وَعَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم ےَقُوْلُ مَنْ شَھِدَ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ حَرَّمَہُ اللّٰہُ عَلَےْہِ النَّارَ۔(رواہ صحیح مسلم)

حضرت عبادہ بن صامت فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جس آدمی نے (سچے دل سے) اس بات کی گواہی دی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں تو اللہ تعالیٰ (اپنے فضل و کرم سے) اس پر دوزخ کی آگ حرام کر دے گا۔ (صحیح مسلم)

33Mishkaat-al-Masabih

توحید کی اہمیت

وَعَنْ عُثْمَانَ صقَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم مَنْ مَّاتَ وَھُوَ ےَعْلَمُ اَنَّہُ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ دَخَلَ الْجَنَّۃَ۔(صحیح مسلم)

اور حضرت عثمان بن عفان (حضور ﷺ کے تیسرے خلیفہ اور مشہور و معروف صحابی ہیں، حضور کی دو بیٹاں یکے بعد دیگرے آپ کے عقد میں آئیں اسی وجہ سے آپ کا لقب ذوالنورین ہے۔ واقدی کے بیان کے مطابق ٨ ذی الحجہ ٣٥ ھ میں بروز جمعہ آپ کو باغیوں نے مدینہ منورہ میں شہید کیا)۔ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ جس آدمی نے اس (پختہ) اعتقاد پر وفات پائی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں تو وہ جنتی ہے۔ (صحیح مسلم)

34Mishkaat-al-Masabih

جنت اور دوزخ کو واجب کرنے والی باتیں

وَعَنْ جَابِرٍ صقَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم ثِنْتَانِ مُوْجِبَتَانِ قَالَ رَجُلٌ ےَا رَسُوْلَ اللّٰہِ مَاالْمُوْجِبَتَانِ قَالَ مَنْ مَّاتَ ےُشْرِکُ بِاللّٰہِ شَےْئًا دَخَلَ النَّارَ وَمَنْ مَّاتَ لَا ےُشْرِکُ بِاللّٰہِ شَےْئًا دَخَلَ الْجَنَّۃَ۔(صحیح مسلم)

اور حضرت جابر (معروف انصاری صحابی ہیں آپ کے والد کا نام عبداللہ اور آپ کی کنیت ابوعبداللہ بیان کی گئی ہے۔ ٩٤ سال کی عمر میں ٦٢ ھ میں وفات پائی)۔ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا دو باتیں (جنت اور دوزخ کو) واجب کرنے والی ہیں، ایک صحابی نے عرض کیا یا رسول اللہ (جنت و دوزخ کو) واجب کرنے والی وہ دو باتیں کونسی ہیں؟ آپ نے فرمایا پہلی بات تو یہ کہ جو آدمی اس حال میں مرا کہ اس نے کسی کو اللہ کا شریک ٹھہرا رکھا تھا تو وہ دوزخ میں ڈال دیا جائے گا (اور دوسری بات یہ کہ) جس آدمی کی وفات اس حال میں ہوئی کہ اس نے کسی کو اللہ کا شریک نہ کیا تھا تو وہ جنت میں جائے گا۔ (صحیح مسلم) تشریح ان احادیث کا مطلب یہی ہے کہ اگر کوئی آدمی ایمان لایا اور اللہ کی وحدانیت اور اس کے ساتھ ساتھ رسول کی رسالت کا عہدو اقرار کیا اور پھر اس عہدواقرار کے تمام تقاضوں کو پورا کیا یعنی شریعت و دین کی پوری پوری پیروی کی اور پھر اسی اعتقاد و اطاعت پر اس کی موت آئی تو یہ یقینا جنتی ہے۔ اس کی نجات میں بظاہر کوئی شبہ نہیں ہوگا لیکن اگر ایمان و اسلام کے بعد اس سے عمل کی کو تاہیاں سرزد ہوئیں یا شریعت پر عمل نہیں کیا مگر خاتمہ اس کا بھی ایمان پر ہوا تو اس کی بھی ابدی نجات تو یقینا ہوگی لیکن اس سے دنیا میں جو کچھ بداعمالیاں ہوئیں یا گناہ سرزد ہوئے ان پر اس کو آخرت کی سزا بھگتنی ہوگی، سزا کے بعد پھر ہمیشہ کے لئے جنت میں داخل کردیا جائے گا۔ اس سے معلوم ہوا کہ ابدی نجات کا دار و مدار ایمان پر ہے اگر ایمان صحیح ہے اور اسی حالت میں موت واقع ہوئی ہے تو ابدی نجات میں کوئی شک نہیں۔ اور اگر کسی نے شریعت پر عمل نہیں کیا، احکام ٰخداوندی و احکام رسول کی پیروی نہیں کی تو اس پر سزا کا ہونا بھی یقینی ہے مگر اس سزا کا تعلق بھی ایک محدود مدت سے ہوگا، سزا پوری کرنے کے بعد وہ بھی ابدی نجات کی سعادت سے نوازا جائے گا۔

35Mishkaat-al-Masabih

عقیدہ توحید پر قائم رہنے والوں کے لئے جنت کی خوشخبری

وَعَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَص قَالَ کُنَّا قُعُوْدًا حَوْلَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم وَمَعَنَا اَبُوْبَکْرٍ وَعُمَرُ فِیْ نَفَرٍ فَقَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم مِنْ بَےْنِ اَظْھُرِنَا فَاَبْطَاَ عَلَےْنَا وَخَشِےْنَا اَنْ ےَّقْتَطِعَ دُوْنَنَا وَفَزِعْنَا فَقُمْنَافَکُنْتُ اَوَّلَ مَنْ فَزِعَ فَخَرَجْتُ اَبْتَغِیْ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم حَتّٰی اَتَےْتُ حَآئِطًا لِلْاَنْصَارِ لِبَنِی النَّجَّارِِ فَدُرْتُ بِہٖ ھَلْ اَجِدُ لَہُ بَابًا فَلَمْ اَجِدْ فَاِذَا رَبِےْعٌ ےَدْخُلُ فِی جَوْفِ حَائِطٍ مِّنْ بِئْرٍ خَارِجَۃٍ وَّالرَّبِےْعُ الْجَدُوُلُ قَالَ فَاحْتَفَزْتُ فَدَخَلْتُ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم فَقَالَ اَبُوْ ہُرَےْرَۃَ ص فَقُلْتُ نِعْمَ ےَا رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ مَا شَانُکَ قُلْتُ کُنْتَ بَےْنَ اَظْہُرِِنَا فَقُمْتَ فَاَبْطَاْتَ عَلَےْنَا فَخَشِےْنَا اَنْ تُقْتَطَعَ دُوْنَنَا فَفَزِعْنَا فَکُنْتُ اَوَّلَ مَنْ فَزِعَ فَاَتَےْتُ ھٰذَا الْحَآئِطَ فَاحْتَفَزْتُ کَمَا ےَحْتَفِزُالثَّعْلَبُ وَھٰؤُلَآءِ النَّاسُ وَرَآئِیْ فَقَالَ ےَا اَبَا ھُرَےْرَۃَ وَاَعْطَانِیْ نَعْلَےْہِ فَقَالَ اذْھَبْ بِنَعْلَیَّ ھَاتَےْنِ فَمَنْ لَّقِےْکَ مِنْ وَّرَآءِ ھٰذَ الْحَآئِطِ ےَشْھَدُ اَنْ لاَّ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُسْتَےْقِنًا بِھَا قَلْبُہُ فَبَشِّرْہُ بِالْجَنَّۃِ فَکَانَ اَوَّلُ مَنْ لَّقِےْتُ عُمَرَ فَقَالَ مَا ھَاتَانِ النَّعْلَانِ ےَا اَبَا ھُرَےْرَۃَ فَقُلْتُ ھَاتَانِ نَعْلَا رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم بَعَثَنِیْ بِھِمَا مَنْ لَّقِےْتُ ےَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلَہَ اِلَّا اللّٰہُ مُسْتَےْقِنًا بِھَا قَلْبُہُ بَشَّرْتُہُ بِالْجَنَّۃِ فَضَرَبَ عُمَرُ بَےْنَ ثَدْےَیَّ فَخَرَرْتُ لِاِسْتِیْ فَقَالَ اِرْجِعْ ےَا اَبَا ھُرَےْرَۃَ فَرَجَعْتُ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم فَاَجْھَشْتُ بِالْبُکَآءِ وَرَکِبَنِیْ عُمَرُ وَاِذَا ھُوَ عَلٰی اَثَرِیْ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم مَالَکَ ےَا اَبَا ھُرَےْرَۃَ قُلْتُ لَقِےْتُ عُمَرَ فَاَخْبَرْتُہُ بِالَّذِیْ بَعَثْتَنِیْ بِہٖ فَضَرَبَ بَےْنَ ثَدْےَیَّ ضَرْبَۃً خَرَرْتُ لِاِسْتِیْ فَقَالَ ارْجِعْ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم ےَا عُمَرُ مَا حَمَلَکَ عَلٰی مَا فَعَلْتَ قَالَ ےَارَسُوْلَ اللّٰہِ بِاَبِیْ اَنْتَ وَاُمِّیْ بَعَثْتَ اَبَا ھُرَےْرَۃَ بِنَعْلَےْکَ مَنْ لَّقِیَ ےَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلَہَ اِلَّا اللّٰہُ مُسْتَےْقِنًا بِھَا قَلْبُہُ بَشِّرْہُ بِالْجَنَّۃِ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَلَا تَفْعَلْ فَاِنِّی اَخْشٰی اَنْ ےَّتَکِلَ النَّاسُ عَلَےْھَا فَخَلِّھِمْ ےَعْمَلُوْنَ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم فَخَلِّھِمْ ۔(صحیح مسلم)

حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ (ایک دن) چند صحابہ رسول اللہ ﷺ کے گرد بیٹھے تھے اور ہمارے ساتھ حضرت ابوبکر صدیق ؓ و حضرت عمر فاروق ؓ بھی تھے کہ رسول اللہ ﷺ اچانک ہمارے درمیان سے اٹھے اور کہیں باہر تشریف لے گئے۔ جب آپ ﷺ کو گئے ہوئے بہت دیر ہوگئی (اور واپس تشریف نہیں لائے) تو ہمیں سخت تشویش ہوئی کہ کہیں ہماری غیر موجودگی میں کسی دشمن کی جانب سے آپ ﷺ کو کوئی ایذاء نہ پہنچ جائے (اس خیال سے) ہم گھبرائے اور اٹھ کھڑے ہوئے، چونکہ سب سے پہلا آدمی میں تھا جو گھبرا اٹھا اس لئے (سب سے پہلے) میں رسول اللہ ﷺ کی تلااش میں باہر نکلا اور ڈھونڈتا ہوا قبیلہ بنی بخار کے ایک انصاری کے باغ کے قریب پہنچ گیا ( اس خیال سے کہ شاید آپ ﷺ اس باغ کے اندر ہوں) میں نے (اندر جانے کے لئے) چاروں طرف دروازہ تلاش کیا مگر (اضطراب اور گھبراہٹ میں) دروازہ نظر نہیں آیا۔ اچانک ایک نالی نظر آئی جو باہر کے کنوئیں سے باغ کے اندر جا رہی تھی لہٰذا میں سمٹ سکٹر کر اس نالی میں داخل ہوا اور اس کے ذریعہ رسول اکرم ﷺ کی خدمت اقدس میں پہنچ گیا۔ آپ ﷺ نے (اس اچانک اپنے سامنے مجھے دیکھ کر حیرت سے) فرمایا ابوہریرہ تم؟ میں نے عرض کیا جی ہاں یا رسول اللہ ﷺ! آپ ﷺ نے فرمایا کیا بات ہے؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ آپ ﷺ کو ڈھونڈھتا ہوا اس باغ تک آنکلا (یہاں دروازہ نظر نہیں آیا) تو لومڑی کی طرح سکڑ کر (نالی کے راستہ سے) اندر گھس آیا، بقیہ لوگ بھی میرے پچھے آرہے ہوں گے (یہ سن کر) آپ ﷺ نے اپنی دونوں جوتیاں نکال کر مجھے دیں اور فرمایا اے ابوہریرہ! جاؤ اور ان جوتیوں کو اپنے ساتھ لے جاؤ (تاکہ لوگ جان لیں کہ تم میرے پاس سے آئے ہو) اور باغ کے باہر جو آدمی صدق دل اور پختہ اعتقاد سے یہ گواہی دیتا ہوا تمہیں ملے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں تو اس کو جنت کی خوشخبری دے دو (حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے اس پیغام کو لے کر میں باہر نکلا تو) سب سے پہلے حضرت عمر ؓ سے ملاقات ہوئی، انہوں نے پوچھا ابوہریرہ! یہ جوتیاں کیسی ہیں؟ میں نے کہا یہ جوتیاں رسول اللہ ﷺ کی ہیں آپ نے مجھے یہ جوتیاں (نشانی کے طور پر) دے کر اس لئے بھیجا ہے کہ جو آدمی صدق دل اور پختہ اعتقاد کے ساتھ یہ گواہی دیتا ہوا ملے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں تو میں اس کو جنت کی خوشخبری دے دوں (یہ سنتے ہی) عمر فاروق ؓ نے میرے سینے پر اتنے زور سے ہاتھ مارا کہ میں سرین کے بل نیچے گرپڑا اور پھر انہوں نے کہا ابوہریرہ جاؤ واپس جاؤ۔ چناچہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں واپس لوٹ آیا اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔ ادھر عمر فاروق ؓ کا خوف مجھ پر سوار ہی تھا اب کیا دیکھتا ہوں کہ وہ بھی میرے پیچھے پیچھے آپہنچے۔ سرکار دو عالم ﷺ نے (یہ حالت دیکھ کر) فرمایا۔ ابوہریرہ! کیا ہوا! میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! میں آپ ﷺ کا پیغام لے کر باہر نکلا تو) سب سے پہلے میری ملاقات عمر فاروق ؓ سے ہوئی۔ میں نے آپ ﷺ کا وہ پیغام ان تک پہنچایا (انہوں نے اس کو سنتے ہی) میرے سینے پر اتنے زور سے ہاتھ مارا کہ میں سیرین کے بل زمین پر آپڑا اور پھر انہوں نے کہا کہ واپس چلے جاؤ، اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے (حضرت عمر فاروق ؓ سے بوچھا عمر تم نے ایسا کیوں کیا؟ انہوں نے کہا یا رسول اللہ! آپ ﷺ پر میرے ماں باپ قربان، کیا واقعی آپ ﷺ نے ابوہریرہ ؓ کو اپنی جوتیاں دے کر اس لئے بھیجا تھا کہ جو آدمی صدق دل اور پختہ اعتقاد کے ساتھ لا الہ الا اللہ کہتا ہوا ملے اس کو یہ جنت کی خوشخبری دے دیں؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہاں! عمر فاروق ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ! ایسا نہ کیجئے، مجھے ڈر ہے کہ لوگ کہیں اسی خوشخبری پر بھروسہ نہ کر بیٹھیں (اور عمل کرنا ہی چھوڑ دیں) اس لئے آپ ﷺ انہیں ( زیادہ سے زیادہ) عمل میں لگا رہنے دیجئے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا (اگر تمہارا یہی مشورہ ہے) تو پھر لوگوں کو عمل میں لگا رہنے دو۔ (صحیح مسلم) تشریح رسول اللہ ﷺ نے جنت کی جو خوشخبری حضرت ابوہریرہ ؓ کے ذریعہ لوگوں تک پہنچانا چاہی تھی اس کا تعلق عقیدہ توحید اور ایمان با اللہ میں اخلاص اور پختگی کے ساتھ تھا، مطلب یہ کہ جس آدمی نے اس کیفیت کے ساتھ اللہ کو ایک اور اپنا معبود پروردگار مان لیا اور اسی عقیدہ پر آخر تک قائم رہا کہ نہ تو وہ اپنے دل و دماغ میں کسی قسم کی کوئی گرانی، تنگی اور دباؤ محسوس کرتا ہے اور نہ اس عقیدہ کے تئیں کسی شک و شبہ کا شکار ہوتا ہے بلکہ اس کے قلب و ذہن اور احساس و فکر کی دنیا و اعتماد اور اطیمنان و مسرت سے سر شار رہتی ہے، کسی دنیاوی غرض و مفاد و ریاء، و نمائش اور نفاق کی بجائے خلوص و للّٰہیت اور رضائے الہٰی کا جذبہ اور تقاضا ہی اس کے ایمان اور عقیدہ کی بنیاد ہے تو ایسا آدمی یقینا جنت کی ابدی سعادتوں کا حقدار ہوگا رہا سوال حضرت عمر فاروق ؓ کے رویہ کا کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے قاصد حضرت ابوہریرہ ؓ کو اس خوشخبری کی اشاعت سے کیوں روک دیا اور یہ کہ ان کا رویہ رسول اللہ ﷺ کے حکم کی تعمیل میں رکاوٹ ڈالنے اور ذات رسالت پناہ کی عظمت و حرمت کے منافی طرز عمل اختیار کرنے کے مترادف تھا یا نہیں؟ تو اس سلسلہ میں یہ دیکھنا چاہیے کہ اس خوشخبری کا تعلق دین و شریعت کے کسی حکم و مسئلہ کے نفاذ و اشاعت سے تھا یا کسی خاص جذبہ و احساس کے ظہار سے۔ ظاہر ہے وہ کسی مسئلہ کی مشروعیت کی بات نہیں تھی کسی حلال یا حرام کا حکم بیان کرنا نہیں تھا، کسی فرض یا واجب کو نافذ کرنا نہیں تھا بلکہ وہ تو محض رحمت دو عالم ﷺ کی نہایت شفقت و محبت کا ایک جذبہ تھا جو اہل ایمان کے تئیں بےاختیار امنڈ آیا تھا اور اس (خوشخبری) کی صورت میں ایک ایک صاحب ایمان تک پہنچ جانا چاہتا تھا۔ چناچہ یہ خوشخبری جب حضرت عمر فاروق ؓ تک پہنچی اور انہوں نے فوری طور پر محسوس کیا کہ گو یہ خوشخبری اپنی جگہ ایک اہم حقیقت ہے لیکن مصلحت کا تقاضا یہ ہے کہ اس ابتدائی مرحلہ میں اس کو عام مسلمانوں تک نہ پہنچے دیا جائے اور بارگاہ رسالت میں حاضر ہو کر اس مصلحت و حکمت تقاضا یہ ہے کہ اس ابتدائی مرحلہ میں اس کو عام مسلمانوں تک نہ پہنچے دیا جائے اور بارگاہ رسالت حاضر ہو کر اس مصلحت و حکمت کا اظہار کردیا جائے جس پر رحمت عالم ﷺ کی نہایت محبت و شفقت کا شدید جذبہ غالب آگیا ہے، لہٰذا انہوں نے پہلا کام یہ کیا کہ حضرت ابوہریرہ ؓ کو واپس کردیا اور پھر فوراً رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، صورت حال کی تحقیق کے بعد جب یہ اطیمنان ہوگیا کہ ابوہریرہ رسول اللہ ﷺ کی طرف سے مامور تھے اور آپ ﷺ ہی نے یہ خوشخبری عطا فرمائی تھی تو انہوں نے اپنے محسن اور رسول کے مشن کی کامیابی اور مقاصد کی تکمیل کے لئے ایک مخلص اور بیدار مغز خادم کی حیثیت سے اپنا مشورہ بارگاہ رسالت میں پیش کردیا۔ پھر یہ ہوا کہ جوں ہی حضرت عمر فاروق ؓ نے اپنے مشورے میں اس مصلحت کی طرف توجہ دلائی خود رسول اللہ ﷺ کا ذہن بھی ادھر منتقل ہوگیا اور آپ ﷺ خود بھی فرماہی چکے تھے کہ اگر اس طرح کی خوشخبری عام مسلمانوں تک پہنچ گئی تو وہ اسی پر بھروسہ کر کے بیٹھ جائیں گے اور عمل کرنا چھوڑ دیں گے (دیکھئے اسی باب کی حدیث ٢١) لہٰذا آپ ﷺ نے اپنے ایک صائب الرائے مشیر اور مخلص خادم کے مشورے کی قدر دانی فرمائی اور اس خوشخبری کی اشاعت کا حکم واپس لے لیا اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اگر اس خوشخبری کی جگہ کسی شرعی حکم کی اشاعت کا معاملہ ہوتا یا کسی فرض و واجب چیز کے نفاذ کی بات ہوتی تو خود حضرت عمر فاروق ؓ کو اس میں رکاوٹ ڈالنے کی نہ جرات ہوتی۔ اور نہ وہ حضرت ابوہریرہ ؓ کو واپس کر کے اس اشاعت کو روک دیتے بلکہ ایک سچے و مخلص مومن اور فرمانبردار خادم کی حیثیت سے سب سے پہلے اس کو قبول کرتے اور اس فرمان رسالت کی اشاعت میں خود لگ جاتے اور بفرض محال حضرت عمر ؓ اگر ایسے معاملہ میں بھی وہی رویہ اختیار کرتے تو پھر بارگاہ رسالت میں نہ ان کے اس رویہ سے چشم پوشی ہوتی اور نہ ان کے کسی مشورے اور رائے کو اہمیت اور قبولیت کا درجہ ملتا۔ کیونکہ دینی احکام اور شرعی ہدایات میں نہ کسی مشورے اور رائے کی گنجائش ہوتی ہے اور نہ کسی کی رائے اور مشورہ کو کوئی اہمیت دی جاتی ہے۔ پس یہ بات کہ بارگارہ رسالت میں حضرت عمر ؓ کی رائے کو اہمیت دی گئی اور ان کا مشورہ قبول ہوا، خود اس بات کی دلیل ہے کہ ان کے مذکورہ رویہ سے نہ ان کی شان صحابیت پر کوئی فرق پڑا اور نہ رسول اللہ کی حکم عدولی ہوئی لہٰذا اس حدیث سے اگر کوئی آدمی اس طرح کی بات ثابت کرتا ہے تو اس کی اپنی نادانی ہے بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ اس حدیث سے اگر ایک طرف اللہ کی بےپایاں رحمت اور امت کے تئیں رسول اللہ ﷺ کی انتہائی محبت و شفقت کا اظہار ہوتا ہے تو دوسری طرف حضرت عمر ؓ کی اصابت رائے، فہم و فراست، بصیرت و دانائی اور امر حق میں ان کی صاف گوئی اور اظہار خیال کی جرات پر بھی روشنی پڑتی ہے جو ان کا خصوصی وصف کمال ہے۔

36Mishkaat-al-Masabih

جنت کی کنجی

وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ قَالَ لِی رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم مَفَاتِیْحُ الْجَنَّۃِ شَھَادَۃُ اَنْ لَا اِلٰہَ اِلَّا اﷲُ۔(رواہ مسند احمد بن حنبل)

اور حضرت معاذ بن جبل ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا (سچے دل اور پختہ اعتقاد کے ساتھ) اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، جنت کی کنجیاں (حاصل کرنا) ہے۔ (مسند احمد بن حنبل)

37Mishkaat-al-Masabih

کلمہ توحید نجات کا ذریعہ

وَعَنْ عُثْمَانَ رَضِیَ اﷲُ عَنْہُ قَالَ اِنَّ رِجَالًا مِنْ اَصْحَابِ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم حِیْنَ تُوُفِّیَ حَزِنُوْا عَلَیْہٖ حَتَّی کَادَ بَعْضُھُمْ یُوَسْوِسُ قَالَ عُثْمَانْ وَکُنْتُ بَعْضَھُمْ فَبَیْنَا اَنَا جَالِسٌ مَرَّ عَلَیَّ عُمَرَوَسَلَّمَ فَلَمْ اَشْعُرْبِہٖ فَاشْتَکَی عُمَرُاِلَی اَبِی بَکْرٍ ثُمَّ اَقْبَلَا حَتَّی سَلَّمَا عَلَیَّ جَمِیْعًا فَقَالَ اَبُوْبَکْرٍ مَا حَمَلَکَ عَلَی اَنْ لَا تَرُدَّ عَلَی اَخِیْکَ عُمَرَ سَلَامَہُ قُلْتُ مَا فَعَلْتُ فَقَالَ عُمَرُ بَلٰی وَاﷲِ لَقَدْ فَعَلْتَ قَالَ قُلْتُ وَاﷲِ مَاشَعَرْتُ اَنَّکَ مَرَرْتَ وَلَا سَلَمْتَ قَالَ اَبُوْبَکْرٍ صَدَقَ عُثْمَانُ قَدْ شَغَلَکَ عَنْ ذٰلِکَ اَمْرٌ فَقُلْتُ اَجَلْ قَالَ مَا ھُوَ قُلْتُ تَوَفِّیَ اﷲَ تَعَالٰی نَبِیَّہُ صلی اللہ علیہ وسلم قَبْلَ اَن نَّسْاَ لَہُ عَنْ نَّجَاۃِ ھٰذَا الْاَ مْرِ قَالَ اَبُوْبَکْرٍ قَدْ سَاَلْتُہُ عَنْ ذٰلِکَ فَقُمْتُ اِلَیْہِ وَقُلْتُ لَہُ بِاَ بِیْ اَنْتَ وَاُمِّیْ اَنْتَ اَحَقُّ بِھَا قَالَ اَبُوْبَکْرٍ قُلْتُ یاَ رَسُوْلَ اﷲِ مَانَجَاۃُ ھٰذَا الْاَمْرِ فَقَاَل رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلممَنْ قَبِلَ مِنِّی الْکَلِمٰۃَ الَّتِیْ عَرَضْتُ عَلٰی عَمِّیْ فَرَدَّھَافَھِی لَہُ نَجَاۃٌ۔ (رواہ مسند احمد بن حنبل)

اور حضرت عثمان غنی ؓ بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ کی وفات ہوئی تو صحابہ کی ایک جماعت پر رنج و حزن کا اتنا غلبہ تھا کہ ان میں بعض لوگوں کے بارے میں تو یہ خطرہ پیدا ہوگیا تھا کہ کہیں شک و شبہ میں گرفتار نہ ہوجائیں (یعنی اس واہمہ کا شکار ہوجائیں کہ جب رسول اللہ ﷺ اس دنیا سے رخصت ہوگئے تو دین و شریعت کا قصہ بھی تمام ہوگیا) حضرت عثمان غنی ؓ فرماتے ہیں کہ ان لوگوں میں سے ایک میں بھی تھا۔ چناچہ (اس عظیم حادثہ سے سخت پریشان خیال اور غم واندوہ کا بت بنا) میں بیٹھا تھا کہ (اسی حالت میں) حضرت عمر ؓ میرے پاس سے گزرے اور مجھ کو سلام کیا، (حو اس باختہ ہونے کی وجہ سے) مجھے پتہ نہیں چلا (کہ وہ کب میرے پاس سے گزرے اور کب سلام کیا) حضرت عمر فاروق ؓ نے اس بات کی شکایت حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے کی، حضرت ابوبکر صدیق ؓ حضرت عمر فاروق ؓ کے ساتھ میرے پاس آئے اور دونوں نے مجھے سلام کیا، حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے مجھ سے پوچھا، تم نے اپنے بھائی عمر فاروق ؓ کے سلام کا جواب کیوں نہیں دیا؟ میں نے کہا! ایسا نہیں ہوا۔ (یعنی مجھے اس کا علم نہیں کہ عمر ؓ نے آکر مجھے سلام کیا ہو اور میں نے جواب نہ دیا ہو) حضرت عثمان غنی ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے کہا! واللہ مجھے قطعًا اس کا احساس نہیں کہ آپ میرے پاس آئے تھے اور نہ ہی آپ نے سلام کیا ہے۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے فرمایا عثمان غنی ؓ سچ فرماتے ہیں، (لیکن معلوم ہوتا ہے کہ) کسی خاص وجہ نے تمہیں اس سے باز رکھا ( کہ نہ تو عمر فاروق ؓ کے آنے کی تمہیں خبر ہوئی اور نہ تم ان کے سلام کا جواب دے سکے) میں نے کہا! ہاں ہوسکتا ہے، انہوں نے پوچھا وہ کیا ہے؟ میں نے کہا (سرکار دو عالم ﷺ کی وفات ہی کیا کم صبر آزما تھی کہ اب یہ غم بھی کھائے لیتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ اس دنیا سے تشریف لے گئے لیکن ہم آپ ﷺ سے یہ دریافت نہ کرسکے کہ اس معاملہ یعنی عبادت میں وسوسوں کا پیدا ہونا، شیطان کا بہکانا، یا دوزخ کی آگ) سے نجات کا ذریعہ کیا ہے؟ ابوبکر صدیق ؓ نے فرمایا! (تم غم نہ کھاؤ) میں اس بارے میں آنحضور ﷺ سے پہلے پوچھ چکا ہوں، حضرت عثمان غنی ؓ فرماتے ہیں کہ) میں ( بےاختیار) کھڑا ہوگیا اور بولا آپ پر میرے ماں باپ قربان، واقعی آپ ہی (آنحضور سے کمال رکھنے اور حصول علم کے غلبہ شوق کی وجہ سے) اس بارے میں سوال کرنے کے لئے لائق تر تھے۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے فرمایا! میں نے عرض کیا تھا کہ یا رسول اللہ ﷺ! اس معاملہ میں نجات کی کیا صورت ہے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا کہ جس آدمی نے (خلوص دل کے ساتھ) ہم سے وہ کلمہ توحید قبول کرلیا جسے میں نے چچا ابوطالب کے سامنے پیش کیا تھا اور انہوں نے اس کو قبول نہیں کیا تھا تو وہ کلمہ اس آدمی کی نجات کا ضامن ہوگا۔ (مسند احمد بن حنبل) تشریح گویا کلمہ توحید کے یہ فضائل و برکات ہیں کہ جس آدمی نے اس کلمہ کو صدق دل سے اور پختہ اعتقاد کے ساتھ قبول کرلیا اور اس کے تقاضوں کو پورا کر کے دین کے فرائض پر عمل کیا تو وہ کلمہ آخرت میں اس کی نجات کا ضامن ہوگا اور کلمہ گو اس کی برکتوں سے وہاں کی سعادتوں سے نوازا جائے گا اور اگر اس کلمہ کا ورد رکھا جائے اور اس کو اکثر پڑھا جاتا رہے اور اس کا ذکر پابندی سے رہے تو دنیا میں بھی اس کی برکت اس طرح ظاہر ہوگی کہ اس کلمہ کی بدولت فکر و خیال اور عمل پر شیطان کو تسلط حاصل نہیں ہو پائے گا کہ نہ واہمے اور وسوسے پیدا ہوں گے، نہ نماز و عبادت کے دوران خیالات بھٹکتے پھریں گے اور نہ دل و دماغ شکوک و شبہات کی آماجگاہ بنیں گے بلکہ اس مبارک ورد و ذکر سے ذات الہٰی کی معرفت حاصل ہوگی، آخرت سے لگاؤ ہوگا اور رسول برحق ﷺ سے محبت وتعلق کی خاص کیفیت پیدا ہوگی۔

38Mishkaat-al-Masabih

پوری دنیا میں کلمہ توحید پہنچے کی پیشگوئی

وَعَنِ الْمِقْدَادِ اَنَّہُ سَمِعَ رَسُوْلَ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلمیَقُوْلُ لَا یَبْقٰی عَلٰی ظَھْرِ الْاَرْضِ بَیْتُ مَدَرٍوَ لَا وَبَرٍ اِلَّا اَدْخَلَہُ اﷲُ کَلِمٰۃَ الْاِ سْلَامِ بِعِزْ عَزِیْزٍ وَ ذُلِّ ذَلِیْلٍ اِمَّا یُعِزُّ ھُمُ اﷲُ فَجَعَلَھُمْ مِنْ اَھْلِھَا فَیَدِ یْنُوْنَ لَھَا قُلْتُ فَیَکُوْنُ الدِّیْنُ کُلُّہُ لِلّٰہِ۔(رداہ مسند احمد بن حنبل)

اور حضرت مقداد ( آپ مقداد بن سود کندی کے نام مشہور ہیں اور قدیم الاسلام ہیں، مدینہ سے تین میل کے فاصلے پر مقام جرف میں بعمر ٧٠ سال انتقال ہوا نعش مبارک وہاں سے مدینہ منورہ لائی گئی اور جنت البقیع میں دفن کئے گئے) سے مروی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا! زمین کے اوپر کوئی گھر، خواہ وہ مٹی کا ہو یا خیمہ کا، ایسا باقی نہ رہے گا جس میں اللہ تعالیٰ اسلام کے کلمہ کو معزز کی عزت کے ساتھ اور ذلیل کی رسوائی کے ساتھ داخل نہ کرے (چنانچہ جو لوگ اس کلمہ کو بخوشی اور صدق دل سے قبول کرلیں گے) ان کو اللہ تعالیٰ معزز مفتخر بنائے گا اور اس کلمہ کا اہل قرار دے گا اور (جو لوگ بخوشی قبول نہیں کریں گے) ان کو اللہ تعالیٰ ذلیل کرے گا اور وہ لوگ اس کلمہ کے مطیع و فرمانبردار ہونے پر مجبور ہوں گے (بایں طور کہ وہ جزیہ ادا کر کے ہی اسلامی ریاست میں رہ سکیں گے) میں نے ( یہ سن کر) کہا پھر تو چاروں طرف اللہ ہی کا دین ہوگا۔ (مسند احمد بن حنبل) تشریح زمین سے مراد جزیرۃ العرب ہے، اسی طرح مٹی اور خیمہ کے گھر سے مراد جزیرۃ العرب کے شہر اور گاؤں ہیں یعنی پورے عرب میں صرف ایک دین اسلام کا بول بالا ہوگا اور صرف اسی کے پیرو متبعین سر زمین عرب پر ہوں گے کوئی مکان خواہ اس شہر کا ہو یا دیہات کا ایسا باقی نہ رہے گا جس میں اللہ تعالیٰ اسلام کا کلمہ نہ پہنچا دے گا اگر کوئی بخوشی اور برغبت ایمان لے آئے گا اور اسلام قبول کرلے گا تو اللہ تعالیٰ کی نظر میں اس کا مرتبہ بلند ہوجائے گا اور اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت دونوں جگہ اس کو عزت و سرفرازی سے نوازیں گے، لیکن جو لوگ غرور و سرکشی اختیار کریں گے یعنی اس کلمہ کو قبول کر کے دائرہ اسلام میں داخل نہیں ہوں گے اور رضا ورغبت کے ساتھ دین کے تابعدار نہیں ہوں گے وہ ذلت کا طوق خود اپنے گلے میں ڈالیں گے بایں طور پر کہ جب تمام جزیرۃ العرب پر دین اسلام کی عملداری ہوجائے گی تو وہ کافر و سرکش لوگ جزیہ کی ادائیگی کی صورت میں اسلامی نظام حکوت کا تابعدار بننے پر مجبور ہوں گے اور اس طرح نہ صرف اس دنیا میں اللہ تعالیٰ ان کو بےوقعت اور کم تر بنا دے گا بلکہ آخرت میں بھی ان کو اپنی رحمت سے دور رکھے گا اور سخت عذاب میں مبتلا کر کے ذلیل و رسوا کرے گا۔

39Mishkaat-al-Masabih

جنت کی کنجی

وَعَنْ وَھْبِ بْنِ مُنَبِۃٍص قِےْلَ لَہُ اَلَےْسَ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مِفْتَاحُ الْجَنَّۃِ قَالَ بَلٰی وَلٰکِنْ لَّےْسَ مِفْتَاحٌ اِلَّا وَلَہُ اَسْنَانٌ فَاِنْ جِئْتَ بِمِفْتَاحٍ لَّہُ اَسْنَانٌ فُتِحَ لَکَ۔(بخاری فی ترجمۃ باب)

اور حضرت وہب بن منبہ ( وہب بن منبہ تابعی ہیں کنیت ابوعبداللہ ہے۔ ١١٤ ھ میں آپ کی وفات ہوئی) سے مروی ہے کہ کسی نے ان سے سوال کیا، کیا لا الہ الا اللہ جنت کی کنجی نہیں ہے؟ وہب نے کہا بےشک، لیکن کنجی میں دندانے بھی ضروری ہیں پس اگر تم ایسی کنجی لے کر آئے جس میں دندانے موجود ہیں تو (یقینا) اس سے جنت کے دروازے کھل جائیں گے ورنہ تمہارے جنت کے دروازے نہیں کھلیں گے۔ (بخاری ترجمۃ الباب) تشریح حضرت وہب بن منبہ اپنی مجلس و عظ و نصیحت میں لوگوں کو عمل کی اہمیت بتا رہے تھے اور اس کے ترک پر تنبیہ کر رہے تھے کسی نے رسول اللہ ﷺ کے ارشاد مبارک (حدیث ٣٥) کا سہارا لے کر کہا کہ آپ تو عمل کے بارے میں اس شد و مد کے ساتھ متنبہ فرما رہے ہیں حالانکہ لا الہ الا اللہ جنت کی کنجی ہے یعنی جس نے صدق دل سے اللہ کی وحانیت کا اقرار کرلیا وہ جنت کا حقدار ہوگیا خواہ اس کی علمی زندگی دوسری نیکیوں اور صالح اعمال سے بھر پور ہو یا نہ ہو۔ اس پر وہب بن منبہ نے ارشاد فرمایا کہ بلا شبہ لا الہ الا اللہ جنت کی کنجی ہے، لیکن یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ کنجی اس وقت کام کرتی ہے جب کہ اس میں دندانے بھی ہوں۔ اگر کسی کنجی میں دندانے نہیں ہیں تو ظاہر ہے اس سے قفل نہیں کھل سکتا، اسی طرح لاالہ الا اللہ اگر جنت کی کنجی ہے تو اس کنجی کے دندانے شریعت کے احکام و فرائض ہیں۔ پس جو آدمی شریعت کے احکام و قوانین پر عمل نہیں کرے گا تو گویا وہ آخرت میں ایسی کنجی لے کر آئے گا جس میں دندانے نہیں ہوں گے اور جب اس کی کنجی میں دندانے نہیں ہوں گے تو وہ جنت کا دروازہ کھول نہیں پائے گا۔ جنت کا دروازہ اسی صورت میں کھلے گا جب کلمہ توحید کی صداقت کا ایمان موجود ہو، زبان سے اس ایمان کا اقرار ہو اور عملی زندگی اس ایمان کی مظہر ہو بایں طور کہ دین و شریعت کی اتباع اور فرمانبرداری ایک ایک عمل سے ظاہر ہو۔ یا پھر دندانوں سے مراد نیک اعمال ہیں۔ اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ جب تک اعمال نیک نہ ہوں گے، جنت کے دروزے ابتدا میں نہیں کھل سکتے، ہاں بعد میں جب بد اعمالیوں کی سزا مل جائے گی اور گناہ و معصیت کے دھبے دھل جائیں گے تو جنت کے دروازے کھول دیئے جائیں گے۔

40Mishkaat-al-Masabih

نیکی کا اجر

وَعَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اِذَا اَحْسَنَ اَحَدُکُمْ اِسْلَامَہُ فَکُلُّ حَسَنَۃٍ ےَّعْمَلُھَا تُکْتَبُ لَہُ بِعَشْرِ اَمْثَالِھَا اِلٰی سَبْعِ مِائَۃِ ضِعْفٍ وَّکُلُّ سَےِّئَۃٍ ےَّعْمَلُھَا تُکْتَبُ بِمِثْلِھَا حَتّٰی لَقِیَ اللّٰہُ ۔(صحیح البخاری و صحیح مسلم)

اور حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخض (صدق دل اور اخلاص نیت کی بنا پر) اپنے ایمان کو اچھا بنا لیتا ہے تو وہ بھی جو نیک عمل کرتا ہے اس پر اس کے اعمالنامہ میں اس جیسی دس سے لے کر سات سو تک نیکیوں کا زائد اجر لکھا جاتا ہے اور وہ جو برا عمل کرتا ہے اس پر اس کے نامہ اعمال میں اس ایک ہی عمل کا گناہ لکھا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ اللہ سے ملاقات کرے۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم ) تشریح اس امت کو اللہ نے اس فضل و کرم اور خصوصی احسان کے تحت جن خاص انعامات سے نوازا ہے ان میں سے ایک بہت بڑا انعام یہ بھی دیا ہے کہ جب کوئی آدمی مخلص اور صادق مومن نیک عمل کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی رحمت بےحساب اس کا اجر صرف اسی ایک عمل کے برابر دینے پر اکتفا نہیں کرتی بلکہ اس جیسے دس عمل کا ثواب اس کو دیا جاتا ہے اور اس پر بھی بس نہیں ہوتا بلکہ جوں جوں ایمان میں صدق و استقامت اور عمل میں خلوص و نیک نیتی بڑھتی جاتی ہے اسی قدر اجر و انعامات بھی بڑھتے جاتے ہیں۔ چناچہ ایک ہی نیک عمل پر سات سو تک بلکہ اس سے بھی زیادہ اجر عنایت فرمائے جاتے ہیں، بلکہ بعض حالات میں تو یہ اضافہ سینکڑوں اور ہزاروں کی حد سے بھی تجاوز ہوجاتا ہے۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ اگر حرم پاک میں کوئی نیک عمل کیا جائے تو اس مقدس جگہ کی عظمت و فضیلت کے طفیل میں اس پر ایک لاکھ اجر لکھے جاتے ہیں۔ اس کے برخلاف اگر مومن سے بتقضائے بشریت کوئی برائی سرزد ہوجاتی ہے تو اس کا گناہ اضافہ کے ساتھ نہیں لکھا جاتا بلکہ جیسی برائی سرزد ہوتی ہے ویسا ہی یا اتنا ہی گناہ لکھا جاتا ہے، اللہ تعالیٰ کے اس احسان کرم کا جتنا بھی شکر ادا کیا جائے کم ہے۔