ایمان کا مطلب ایمان کے معنی ہیں، یقین کرنا، تصدیق کرنا، مان لینا۔ اصطلاح شریعت میں ایمان کا مطلب ہوتا ہے، اس حقیقت کو تسلیم کرنا اور ماننا کہ اللہ ایک ہے، اس کے علاوہ کوئی معبود اور پروردگار نہیں، اس کے تمام ذاتی و صفاتی کمالات برحق ہیں۔ محمد ﷺ اللہ کے آخری رسول اور نبی ہیں، ان کی ذات صادق و مصدوق ہے اور یہ کہ آپ ﷺ کتاب و سنت کی صورت میں اللہ کا جو آخری دین و شریعت لے کر اس دنیا میں آئے اس کی حقانیت و صداقت شک و شبہ سے بالاتر ہے۔ تکمیل ایمان محدثین کے نزدیک ایمان کے تین اجزاء ہیں تصدیق بالقب یعنی اللہ کی وحدانیت، رسول ﷺ کی رسالت اور دین کی حقانیت پر دل سے یقین رکھنا اور اس یقین و اعتماد پر دل و دماغ کا مطمئن رہنا۔ اقرار باللسان یعنی اس دلی یقین و اعتقاد کا زبان سے اظہار، اعتراف اور اقرار کرنا۔ اعمال بالجوارح یعنی دین و شریعت کے احکام و ہدایات کی جسمانی بجا آوری کے ذریعہ اس دلی یقین و اعتقاد کا عملی مظاہرہ کرنا۔ ان تینوں اجزاء سے مل کر ایمان کی تکمیل ہوتی ہے اور جو آدمی اس ایمان کا حامل ہوتا ہے اس کو مومن و مسلمان کہا جاتا ہے۔ ایمان اور اسلام کیا ایمان اور اسلام میں کوئی فرق ہے یا یہ دونوں لفظ ایک ہی مفہوم کو ادا کرتے ہیں؟ اس سوال کا تفصیلی جواب، تفصیلی بحث کا متقاضی ہے جس کا یہاں موقع نہیں ہے۔ خلاصہ کے طور پر اتنا بتادینا کافی ہے کہ ظاہری مفہوم و مصداق کے اعتبار سے تو یہ دونوں لفظ تقریباً ایک ہی مفہوم کے لئے استعمال ہوتے ہیں لیکن اس اعتبار سے ان دونوں کے درمیان فرق ہے کہ ایمان سے عام طور پر تصدیق قلبی اور احوال باطنی مراد ہوتے ہیں جب کہ اسلام سے اکثر وبیشتر ظاہری اطاعت و فرمانبرداری مراد لی جاتی ہے اس کو یوں بھی کہا جاسکتا ہے کہ وحدانیت، رسالت اور شریعت کو ماننے اور تسلیم کرنے کا جو باطنی تعلق دل و دماغ سے قائم ہوتا ہے اس کو ایمان سے تعبیر کرتے ہیں اور اس باطنی تعلق کا جو اظہار عمل جوارح کے ذریعہ ظاہری احوال سے ہوتا ہے اس کو اسلام سے تعبیر کرتے ہیں، ایک محقق کا قول ہے تصدیق قلبی جب پھوٹ کر جوارح اعضاء پر نمودار ہوجائے تو اس کا نام اسلام ہے اور اسلام جب دل میں اتر جائے تو ایمان کے نام موسوم ہوجاتا ہے۔ حاصل یہ ہے کہ حقیقت ایک ہے مواطن کے اعتبار سے اس کو کبھی ایمان کہا جاتا ہے اور کبھی اسلام اسی لئے ایمان اور اسلام ایک دوسرے کے لئے لازم ملزوم ہیں، نہ تو ایمان کے بغیر اسلام معتبر ہوگا اور نہ اسلام کے بغیر ایمان کی تکمیل ہوگی۔ مثلاً کوئی آدمی پانچوں وقت کی نماز بھی پڑھے، ہر سال زکوٰۃ بھی ادا کرے، استطاعت ہو تو حج بھی کر ڈالے اور اسی طرح دوسرے نیک کام کر کے اپنی ظاہری زندگی کو اسلام کا مظہر بنائے ہوئے ہو مگر اس کا باطن قلبی تصدیق وانقیاد سے بالکل خالی ہو اور کفر و انکار سے بھرا ہوا ہو تو اس کے یہ سارے اعمال بیکار محض قرار پائیں گے اسی طرح اگر کوئی آدمی ایمان یعنی قلبی تصدیق وانقیاد تو رکھتا ہے مگر عملی زندگی میں اسلام کا مظہر ہونے کے بجائے سرکشی و نافرمانی کا پیکر اور کافرانہ و مشرکانہ اعمال کا مجسمہ بنا ہوا ہے تو اس کا ایمان فائدہ مند نہیں ہوگا۔ بعض اہل نظر نے ایمان اور اسلام کی مثال شہادتین سے دی ہے یعنی جیسے کلمہ شہادت میں دیکھا جائے تو شہادت وحدانیت الگ ہے اور شہادت رسالت الگ ہے۔ لیکن ان دونوں کا ارتباط و اتحاد اس درجہ کا ہے کہ شہادت رسالت کے بغیر شہادت وحدانیت کار آمد نہیں اور شہادت وحدانیت کے بغیر شہادت رسالت کا اعتبار نہیں۔ ٹھیک اسی طرح ایمان اور اسلام کے درمیان دیکھا جائے تو بعض اعتبار سے فرق محسوس ہوتا ہے لیکن ان دونوں کا ارتباط و اتحاد اس درجہ کا ہے کہ اعتقاد باطنی (یعنی ایمان) کے بغیر صرف اعمال ظاہرہ (اسلام) کھلا ہوا نفاق ہیں اور اعمال ظاہرہ کے بغیر اعتقاد باطن کفر کی ایک صورت ہے اسی لئے کہا جاتا ہے کہ ایمان اور اسلام دونوں کے مجموعہ کا نام دین ہے۔ ایمان کا مدار جاننے پر نہیں ماننے پر ہے ایمان کے بارے میں اس اہم حقیقت کو ذہن میں رکھنا چاہیے کہ تصدیق یعنی ماننے کا نام ایمان ہے نہ کہ محض علم یا معرفت یعنی جاننے کا۔ مطلب یہ کہ ایک آدمی جانتا ہے کہ اللہ ہے اور اکیلا ہے وہی پروردگار اور معبود ہے، محمد ﷺ اللہ کے سچے بندے اور اس کے رسول ہیں، آپ ﷺ نے جس دین و شریعت اور تعلیمات کو دنیا کے سامنے پیش کیا ہے، وہ مبنی برحقیقت و صداقت ہے۔ مگر وہ آدمی دل سے ان باتوں کو نہیں مانتا، ان پر اعتقاد نہیں رکھتا، اس کا قلب ان باتوں کے اذعان و قبول سے خالی ہے تو اس آدمی میں ایمان کا وجود نہیں مانا جائے گا اس کو مومن نہیں کہا جائے گا۔ مومن تو وہی آدمی ہوسکتا ہے جو ان باتوں کو سچ اور حق بھی جانے اور دل سے مانے اور تسلیم بھی کرے۔ جب داعی حق ﷺ نے اسلام کی دعوت پیش کی تو تمام اہل عرب بالخصوص اہل کتاب (یہود و نصاری) الوہیت کے بھی قائل تھے اور یہ بات بھی خوب جانتے تھے کہ محمد ﷺ اللہ کے سچے اور آخری رسول ہیں اور جو دین و شریعت پیش کر رہے ہیں وہ حق اور سچ ہے۔ مگر ان میں سے جو لوگ حسد وعناد رکھنے کے سبب ان حقائق کو مانتے اور تسلیم نہیں کرتے تھے ان کے دل و دماغ میں ایمان کا نور داخل نہیں ہوسکا اور وہ کافر کے کافر ہی رہے، ان حقائق کا جاننا ان کے کسی کام نہ آیا۔ بعض صورتوں میں اقرار باللسان کی قید ضروری ہے جن حقائق کو ایمان سے تعبیر کیا جاتا ہے ان کا زبان سے اقرار کرنا گو وجود ایمان کے لئے ضروری ہے لیکن بعض حالتوں میں یہ زبانی اقرار (اقرار باللسان) ضروری نہیں رہتا۔ مثلاً اگر کوئی آدمی گونگا ہے اور اس کے قلب میں تصدیق تو موجود ہے لیکن زبان سے کوئی لفظ ادا کرنے پر قادر نہیں ہے تو ایسے آدمی کے بارے میں یہ حکم ہے کہ اس کا ایمان زبانی اقرار کے بغیر بھی معتبر مانا جائے گا، اسی طرح کوئی آدمی جانی خوف یا کسی واقعی مجبوری کی بنا پر زبان سے اپنے ایمان کا اقرار نہیں کرسکتا تو اس کا ایمان بھی زبانی اقرار کے بغیر معتبر ہوگا۔ اعمال کی حیثیت وجود ایمان کی تکمیل کے لئے اعمال بھی لازمی شرط ہیں کیونکہ تصدیق قلب اور زبانی اقرار کی واقعیت و صداقت کا ثبوت اعمال ہی ہیں۔ یہی عملی ثبوت ظاہری زندگی میں اس فیصلہ کی بنیاد بنتا ہے کہ اس کو مومن و مسلمان کہا جائے اسی بنا پر یہ حکم ہے کہ اگر کوئی آدمی دعوائے ایمان و اسلام کے باوجود ایسے اعمال کرتا ہے جو خالصتاً کفر کی علامت اور ایمان و اسلام کے منافی ہیں، یا جن کو اختیار کرنے والے پر کافر ہونے کا یقین ہوتا ہے تو وہ آدمی کافر ہی شمار ہوگا اس کے اور ایمان و اسلام کا دعوی غیر معتبر مانا جائے گا۔
عن عمر بن الخطاب رضي الله عنه قال : بينا نحن عند رسول الله صلى الله عليه و سلم ذات يوم إذ طلع علينا رجل شديد بياض الثياب شديد سواد الشعر لا يرى عليه أثر السفر ولا يعرفه منا أحد حتى جلس إلى النبي صلى الله عليه و سلم فأسند ركبتيه إلى ركبتيه ووضع كفيه على فخذية وقال : يا محمد أخبرني عن الإسلام قال : الإسلام : أن تشهد أن لا إله إلا الله وأن محمدا رسول الله وتقيم الصلاة وتؤتي الزكاة وتصوم رمضان وتحج البيت إن استطعت إليه سبيلا . قال : صدقت . فعجبنا له يسأله ويصدقه . قال : فأخبرني عن الإيمان . قال : أن تؤمن بالله وملائكته وكتبه ورسله واليوم الآخر وتؤمن بالقدر خيره وشره . قال صدقت . قال : فأخبرني عن الإحسان . قال : أن تعبد الله كأنك تراه فإن لم تكن تراه فإنه يراك . قال : فأخبرني عن الساعة . قال : ما المسؤول عنها بأعلم من السائل . قال : فأخبرني عن أماراتها . قال : أن تلد الأمة ربتها وأن ترى الحفاة العراة العالة رعاء الشاء يتطاولون في البنيان . قال : ثم انطلق فلبثت مليا ثم قال لي : يا عمر أتدري من السائل ؟ قلت : الله ورسوله أعلم . قال : فإنه جبريل أتاكم يعلمكم دينكم . رواه مسلم ورواه أبو هريرة مع اختلاف وفيه : وإذا رأيت الحفاة العراة الصم البكم ملوك الأرض في خمس لا يعلمهن إلا الله . ثم قرأ : ( إن الله عنده علم الساعة وينزل الغيث ) الآية
حضرت عمر بن الخطاب بیان کرتے ہیں کہ ایک دن (ہم صحابہ) رسول اللہ ﷺ کی مجلس مبارک میں بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک ایک آدمی ہمارے درمیان آیا جس کا لباس نہایت صاف ستھرے اور سفید کپڑوں پر مشتمل تھا اور جس کے بال نہایت سیاہ (چمکدار) تھے، اس آدمی پر نہ تو سفر کی کوئی علامت تھی (کہ اس کو کہیں سے سفر کر کے آیا ہوا کوئی اجنبی آدمی سمجھا جاتا) اور نہ ہم میں سے کوئی اس کو پہچانتا تھا (جس کا مطلب یہ تھا کہ یہ کوئی مقامی آدمی ہو یا کسی کا مہمان بھی نہیں تھا) بہر حال وہ آدمی رسول اللہ ﷺ کے اتنے قریب آکر بیٹھا کہ آپ ﷺ کے گھٹنوں سے اپنے گھٹنے ملا لئے اور پھر اس نے اپنے دونوں ہاتھ اپنی دونوں رانوں پر رکھ لئے (جیسے ایک سعادت مند شاگرد اپنے جلیل القدر استاد کے سامنے باادب بیٹھتا ہے اور استاد کی باتیں سننے کے لئے ہمہ تن متوجہ ہوجاتا ہے) اس کے بعد اس نے عرض کیا اے محمد ﷺ! مجھ کو اسلام کی حققیت سے آگاہ فرمائیے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اسلام یہ ہے کہ تم اس حقیقت کا اعتراف کرو اور گواہی دو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں اور پھر تم پابندی سے نماز پڑھو (اگر صاحب نصاب ہو تو) زکوٰۃ ادا کرو، رمضان کے روزے رکھو اور زاد راہ میسر ہو تو بیت اللہ کا حج کرو۔ اس آدمی نے یہ سن کر کہا آپ ﷺ نے سچ فرمایا۔ حضرت عمر ؓ فرماتے ہیں کہ اس (تضاد) پر ہمیں تعجب ہوا کہ یہ آدمی (ایک لاعلم آدمی کی طرح پہلے تو) آپ ﷺ سے دریافت کرتا ہے اور پھر آپ ﷺ کے جواب کی تصدیق بھی کرتا ہے (جیسے اس کو ان باتوں کا پہلے سے علم ہو) پھر وہ آدمی بولا اے محمد ﷺ! اب ایمان کی حقیقت بیان فرمائیے، آپ ﷺ نے فرمایا (ایمان یہ ہے کہ) تم اللہ کو اور اس کے فرشتوں کو اور اس کی کتابوں کو، اس کے رسولوں کو اور قیامت کے دن کو دل سے مانو اور اس بات پر یقین رکھو کہ برا بھلا جو کچھ پیش آتا ہے وہ نوشتہ تقدیر کے مطابق ہے۔ اس آدمی نے (یہ سن کر) کہا آپ ﷺ نے سچ فرمایا۔ پھر بولا اچھا اب مجھے یہ بتائیے کہ احسان کیا ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا احسان یہ ہے کہ تم اللہ کی عبادت اس طرح کرو گویا کہ تم اس کو دیکھ رہے ہو اور اگر ایسا ممکن نہ ہو (یعنی اتنا حضور قلب میسر نہ ہو سکے) تو پھر (یہ دھیان میں رکھو کہ) وہ تمہیں دیکھ رہا ہے۔ پھر اس آدمی نے عرض کیا قیامت کے بارے میں مجھے بتائیے (کہ کب آئے گی) آپ ﷺ نے فرمایا اس بارے میں جواب دینے والا، سوال کرنے والے سے زیادہ نہیں جانتا (یعنی قیامت کے متعلق کہ کب آئے گی، میرا علم تم سے زیادہ نہیں جتنا تم جانتے ہو اتنا ہی مجھ کو معلوم ہے) اس کے بعد اس آدمی نے کہا اچھا اس (قیامت) کی کچھ نشانیاں ہی مجھے بتادیجئے۔ آپ ﷺ نے فرمایا لونڈی اپنے آقا کو مالک کو جنے گی اور برہنہ پا، برہنہ جسم مفلس و فقیر اور بکریاں چرانے والوں کو تم عالی شان مکانات و عمارت میں فخر و غرور کی زندگی بسر کرتے دیکھو گے۔ حضرت عمر فرماتے ہیں کہ اس کے بعد وہ آدمی چلا گیا اور میں نے (اس کے بارے میں آپ سے فورًا دریافت نہیں کیا بلکہ) کچھ دیر توقف کیا، پھر آپ ﷺ نے خود ہی مجھ سے پوچھا عمر! جانتے ہو سوالات کرنے والا آدمی کون تھا؟ میں نے عرض کیا اللہ اور رسول ﷺ ہی بہتر جانتے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا یہ جبرائیل تھے جو (اس طریقہ سے) تم لوگوں کو تمہارا دین سکھانے آئے تھے۔ (صحیح مسلم) اس روایت کو حضرت ابوہریرہ ؓ نے چند الفاظ کے اختلاف و فرق کے ساتھ بیان کیا ہے۔ ان کی روایت کے آخری الفاظ یوں ہیں۔ (رسول اللہ ﷺ نے قیامت کی نشانیوں کے بارے میں جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ) جب تم برہنہ پابرہنہ جسم اور بہرے گونگے لوگوں کو زمین پر حکمرانی کرتے دیکھو (تو سمجھ لینا کہ قیامت قریب ہے) اور قیامت تو ان پانچ چیزوں میں سے ایک ہے جن کا علم اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں رکھتا۔ پھر آپ ﷺ نے یہ (اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَه عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ ) 31۔ لقمان 34) آخر تک پڑھی (جس کا ترجمہ یہ ہے اللہ ہی کو قیامت کا علم ہے اور بارش کا کہ کب برسائے گا اور وہی (حاملہ) کے پیٹ کی چیزوں کو جانتا ہے ( کہ لڑکا ہے یا لڑکی) اور کوئی آدمی نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کام کرے گا اور کسی آدمی کو نہیں معلوم کہ کس زمین پر اسے موت آئے گی۔ بیشک اللہ ہی جاننے والا اور خبردار ہے)۔ (صحیح البخاری ومسلم)
تشریح
یہ حدیث حدیث جبرائیل کہلاتی ہے کیونکہ یہ حدیث اس سوال و جواب (انٹرویو) پر مشتمل ہے جس کے ذریعہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے بڑی خوبی کے ساتھ اسلام و ایمان کی حقیقت اور دین کی اساسی باتوں کا تعارفی خاکہ پیغمبر ﷺ کی زبان مبارک سے دنیا والوں کے سامنے پیش کرایا ہے۔ حدیث میں سب سے پہلے ایمان اور اسلام کی حقیقت بیان ہوئی ہے جس سے ایمان اور اسلام کے درمیان یہ فرق بھی ثابت ہوجاتا ہے کہ ایمان کا تعلق تو باطن یعنی تصدیق و اعتقاد سے ہے اور اسلام کا تعلق ظاہر یعنی اعمال اور جسمانی اطاعت و فرمانبرداری سے ہے۔ اللہ کو ماننے کا مطلب اس بات پر یقین و اعتقاد رکھنا ہے کہ اس کی ذات اور اس کی صفات برحق ہیں، عبادت و پرستش کی سزاوار صرف اسی کی ذات ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں، کوئی اس کا ہمسر و شریک نہیں۔ فرشتوں کو ماننے کا مطلب اس بات میں یقین و اعتقاد رکھنا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ایک مخلوق فرشتوں کے نام سے موجود ہے یہ فرشتے لطیف اور نورانی اجسام ہیں۔ ان کا کام ہر وقت اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس کے احکام کی تعمیل کرنا ہے۔ کتابوں کو ماننے کا مطلب اس بات پر یقین و اعتقاد رکھنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مختلف ادوار میں اور وقتاً فوقتاً اپنے پیغمبروں پر جو کتابیں نازل فرمائی ہیں اور ان میں چار کتابیں نازل فرمائی ہیں اور جن کی تعداد ایک سو چار ہے۔ وہ سب کلام الٰہی اور احکام و فرامین الٰہی کا مجموعہ ہیں اور ان میں چار کتابیں تو رات، انجیل، زبور اور قرآن مجید سب سے اعلیٰ و افضل ہیں اور پھر ان چاروں میں سب سے اعلیٰ و افضل قرآن مجید ہے۔ رسولوں کا ماننے کا مطلب اس بات پر یقین اور اعتقاد رکھنا ہے کہ اول الانبیاء حضرت آدم (علیہ السلام) سے لے کر خاتم النبیین حضرت محمد مصطفے ﷺ تک تمام نبی اور رسول اللہ تعالیٰ کے سب سے سچے، سب سے پیارے اور سب سے افضل بندے ہیں جن کو اس نے اپنے احکام و ہدایات دے کر مختلف زمانوں، مختلف قوموں میں مبعوث کیا اور انہوں نے ان خدائی احکام و ہدایات کے تحت دنیا والوں کو ابدی صداقت و نجات کا راستہ دکھانے اور نیکی و بھلائی پھیلانے کا اپنا فریضہ مکمل طور پر ادا کیا اور یہ کہ ان تمام نبیوں اور رسولوں کے سردار پیغمبر آخرالزمان حضرت محمد مصطفے ﷺ ہیں جو کسی خاص زمانہ، کسی خاص علاقہ اور کسی خاص قوم کی طرف مبعوث نہیں ہوئے، بلکہ اللہ کا ابدی دین اسلام لے کر تمام دنیا اور پوری کائنات کی طرف مبعوث ہوئے اور تا قیامت ان ہی کی نبوت اور انہی کی شریعت جاری و نافذ رہے گی۔ یوم آخرت یعنی قیامت کے دن سے مراد وہ عرصہ ہے جو مرنے کے بعد سے قیامت قائم ہونے اور پھر جنت میں داخل ہونے تک پر مشتمل ہے۔ قیامت کے دن کو ماننے کا مطلب اس بات پر یقین و اعتقاد رکھنا ہے کہ شریعت اور شارع نے مابعد الموت اور آخرت کے بارے میں جو کچھ بتایا ہے یعنی موت کے بعد پیش آنے والے احوال مثلاً قبر اور برزخ کے احوال، نفخ صور، قیامت، حشر و نشر، حساب و کتاب اور پھر جزاء و سزا کا فیصلہ اور جنت و دوزخ یہ سب اٹل حقائق ہیں اور جن کا وقوع پذیر ہونا اور پیش آنا لازمی امر ہے۔ اس میں کوئی شک اور شبہ نہیں۔ تقدیر پر یقین رکھنے کا مطلب اس حقیقت کو دل سے تسلیم کرنا ہے کہ اس کائنات میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ سب نوشتہ تقدیر کے مطابق اپنے اپنے وقت پر وقوع پذیر ہوتا ہے، آج جو بھی علم واضح ہوتا ہے خواہ وہ نیکی کا ہو یا بدی کا، خالق کائنات کے علم اور تقدیر میں وہ ازل سے موجود ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ بندہ مجبور و مضطر ہے۔ کاتب تقدیر نے انسان کو مختار بنایا ہے۔ یعنی اس کے سامنے نیکی و بدی کے دونوں راستے کھول کر اس کو اختیار دے دیا ہے کہ چاہے وہ نیکی کے راستہ پر چلے، چاہے بدی کے راستہ پر اور یہ بھی واضح کردیا ہے کہ نیکی کے راستہ پر چلو گے تو جزاء و انعام سے نوازے جاؤ گے جو اللہ کا فضل و کرم ہوگا اور اگر بدی کے راستہ پر چلو گے تو سزا اور عذاب کے حقدار بنو گے اور دوزخ میں ڈالے جاؤ گے جو عدل الٰہی کے عین مطابق ہوگا۔ احسان سے مراد وہ جو ہر (اخلاص) ہے جس سے ایمان و اسلام کی ظاہری صورت یعنی عبادت الٰہی کا صحیح معیار اور حسن قائم ہوتا ہے اور عبادت کا یہی صحیح معیار اور حسن درحقیقت بندے کو معبود کا کامل تقرب اور عبدیت کا حقیقی مقام عطا کرتا ہے۔ بندہ اپنی عبادتوں کو اس جو ہر سے کس طرح آراستہ و مزین کرسکتا ہے؟ اس کا طریقہ یہ بتایا گیا ہے کہ جب تم اپنے پروردگار کی عبادت کرو تو اس طرح کرو جس طرح کوئی نوکر یا غلام اپنے آقا اور مالک کی خدمت اس کو اپنے سامنے دیکھ کر کرتا ہے۔ یہ ایک نفسیاتی نکتہ ہے کہ اگر شفیق آقا نظر کے سامنے ہو اور غلام اس کو دیکھ رہا ہو تو اس کے فرض کی انجام دہی کی کیفیت ہی دوسری ہوتی ہے اس وقت غلام نہ صرف یہ کہ پوری طرح چاق و چوبند مؤدب اور پابند ہوتا ہے بلکہ کام کرنے کا اس کا انداز بھی پوری طرح والہانہ اور مخلصانہ ہوتا ہے اس کے برخلاف اگر آقا نظر کے سامنے نہ ہو تو غلام اگرچہ موفوضہ خدمت انجام ضرور دیتا ہے مگر اس صورت میں نہ تو وہ اتنا چاق وچوبند، مؤدب اور پابند ہوتا ہے اور نہ اس کے کام کرنے کے انداز میں اس قدر والہانہ اور مخلصانہ کیفیت موجود ہوتی ہے۔ پس اسی نکتہ کے پیش نظر اگر بندہ عبادت کے وقت ایسی کیفیت و حالات حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائے کہ وہ اللہ کو دیکھ رہا ہے۔ تو خشوع و خضوع اور تضرع کی تمام تر کیفیات خودبخود اس کی عبادت میں پیدا ہوجائیں گی اور اس طرح اس کی عبادت حقیقی عبادت کا درجہ پائے گی اور اس عبادت کا بنیادی مقصد بھی حاصل ہوگا۔ عبادت کے اس مرتبہ کو حقیقی احسان کہا گیا ہے جس کو ارباب تصوف مشاہدہ اور استغراق سے تعبیر کرتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ عبادت کا یہ سب سے اونچا مرتبہ و مقام ہے جہاں تک رسائی اتنی آسان نہیں ہے اس لئے نسبتاً آسان طریقہ یہ بتایا گیا ہے کہ جب تم عبادت کرو تو یہ دھیان میں رکھو کہ جس ذات کی عبادت تم کر رہے ہو اس کے سامنے تم کھڑے ہو اور اگرچہ تم اس کو نہیں دیکھ سکتے مگر وہ تمہیں ضرور دیکھ رہا ہے۔ تمہاری ایک ایک بات پر اس کی نظر ہے اور تمہاری حرکات و سکنات میں سے کچھ بھی اس سے پوشیدہ نہیں، اس یقین و اعتقاد سے بھی تمہاری عبادت میں خشوع و خضوع اور تضرع بڑی حد تک پیدا ہوجائے گا اور عبادت کا حق ادا ہوگا۔ حدیث میں عبادت کی اسی کیفیت کو احسان سے تعبیر کیا گیا ہے جو حقیقی احسان یعنی مشاہدہ و استغراق کا ثانوی درجہ ہے۔ حدیث میں ان چاروں فرائض کا بھی ذکر ہے جو ہر مسلمان و مومن پر اس تفصیل کے ساتھ عائد ہوتے ہیں کہ نماز اور روزہ تو وہ دو بدنی فرض عبادتیں ہیں جن کا تعلق ہر عاقل و بالغ مسلمان سے ہے جو بھی آدمی ایمان اور اسلام سے متصف ہے خواہ وہ مرد ہو یا عورت، اس پر فرض ہے کہ وہ پانچوں وقت کی نمازیں پابندی کے ساتھ ادا کرے اور جب رمضان آئے تو اس مہینے کے پورے روزے رکھے۔ باقی دو فرض عبادتیں یعنی زکوٰۃ اور حج وہ مالی عبادتیں ہیں جن کا تعلق صرف اس مومن و مسلمان سے ہے جو ان کے بقدر مالی استطاعت و حیثیت رکھتا ہو۔ مثلاً زکوٰۃ اس مسلمان پر فرض ہوگی جو صاحب نصاب ہو۔ اور حج اس مسلمان پر فرض ہوگا جو صاحب نصاب ہی نہیں بلکہ اپنی تمام ضروریات زندگی سے فراغت کے بعد اتنا سرمایہ رکھتا ہو کہ وہ بغیر کسی تنگی و پریشانی کے آمدورفت اور سفر کے دوسرے تمام اخراجات برداشت کرسکتا ہو۔ علاوہ ازیں سفر حج کی پوری مدت کے لئے اہل و عیال اور لواحقین کے تمام ضروری اخراجات کے بقدر رقم یا سامان و اسباب ان کو دے کر جاسکتا ہو۔ زادراہ اور فرضیت حج کی اس طرح کی دوسری شرائط پوری ہوجائیں تو باقی دشواریاں جیسے سفر کا طویل اور پر صعوبت ہونا، درمیان میں سمندر یا دریا کا حائل ہونا وغیرہ، حج کی فرضیت کو ساقط نہیں کرسکتیں۔ قیامت کی کچھ اہم نشانیاں بتائی گئی ہیں کہ جب یہ آثار ظاہر ہونے لگیں اور یہ علامتیں دیکھ لی جائیں تو سمجھ لینا چاہئے کہ اس عالم کے خاتمہ کا وقت قریب آگیا ہے اور یہ دنیا اپنے وجود کے آخری دور سے گزر رہی ہے۔ پہلی علامت یا نشانی تو یہ بتائی گئی ہے کہ لونڈی اپنے آقا یا مالک کو جنے گی اس کا ایک مطلب تو غلامی کے زمانہ اور رواج کے سیاق میں لیا جاسکتا ہے کہ لوگ کثرت سے باندیاں رکھیں گے اور ان باندیوں سے اولاد بھی بہت جنوائیں گے، پھر انہی اولاد میں سے جو لوگ بڑے ہو کر مال و جائیداد اور حکومت و طاقت کے مالک بنیں گے وہ لا علمی میں اپنی انہی ماؤں کو جنہوں نے ان کو جنم دیا ہوگا، باندیوں کے طور پر خریدیں گے۔ اور اپنی خدمت میں رکھیں گے۔ اس جملے کا دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جب معاشرے میں جنسی بےراہ روی عام ہوجائے، مرد و زن تمام اخلاقی اور انسانی پابندیوں کو توڑ کر بےمحابہ ناجائز تعلقات پیدا کریں اور اس کے نتیجہ میں ایسے ناجائز بچے کثرت سے پیدا ہونے لگیں جن کو نہ اپنے باپ کی خبر ہو اور نہ اپنی ماں کو جانتے ہوں اور پھر وہی بچے بڑے ہو کر لا علمی میں اپنی ماؤں کو ملازمہ اور نو کر انی بنائیں جنہوں نے ان کو جنا تھا تو سمجھو کہ قیامت قریب آگئی ہے۔ دوسری علامت برہنہ پا، برہنہ جسم، مفلس و فقیر اور بکریاں چرانے والوں کا ایوان حکومت اور عالیشان مکانات و محلات کا مالک ہونا بتایا گیا ہے۔ اس کے مطلب یہ ہے کہ جب تم دیکھو کہ شریف النسل، عالی خاندان اور مہذب و معزز لوگ انقلاب عالم کا شکار ہو کر غربت و افلاس اور بےروز گاری و پریشانی حالی کے بھنور میں پھنسے ہوئے ہیں، اپنی حیثیت و وقعت کھو چکے ہیں اور معاشرتی و سماجی سطح پر کسی اثر و رسوخ کے حامل نہیں رہ گئے ہیں اور ان کے مقابلے میں وہ لوگ کہ جو کل تک حسب و نسب، شرافت و نجابت، نسل و خاندان اور تہذیب و شائستگی کے اعتبار سے نہایت بےحیثیت و بےوقعت تھے، تعلیمی و اخلاقی طور پر کم تر و پسماندہ سمجھے جاتے تھے۔ غیر منصفانہ سیاست و انقلاب کی بدولت حکومت و اقتدار کے مالک بن بیٹھیں۔ دغا و فریب کے ذریعہ مال و دولت اور بڑی بڑی جائیدادوں پر قابض اور عالی شان مکانات و محلات کے مکین ہوگئے ہیں، نہ صرف یہ بلکہ طاقت و حکومت، مال و دولت اور پر عیش زندگی نے ان کو گھمنڈی شیخی خور بنادیا ہے، حقیقی شرافت و نجابت رکھنے والے غریب و مفلس لوگوں کا وہ مذاق اڑاتے ہیں۔ ان کو ذلیل کرتے ہیں اور ان کی تباہی و رسوائی کے بد سے بدتر حالات پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ تو سمجھنا کہ اب اس دنیا کے خاتمہ کا وقت قریب آگیا ہے۔ اسی تفصیل کو علامہ طیبی نے چند جملوں میں اس طرح بیان کیا ہے کہ قیامت کی علامتیں بتانے والے حدیث کے یہ دونوں جملے دراصل انقلاب حالات سے کنایہ ہیں یعنی جب اتنا انقلاب رونما ہوجائے کہ اپنی اولاد اپنا آقا اور حاکم بن جائے۔ اور شرفاء کی جگہ کمتر و ذلیل لے لیں تو سمجھ لینا چاہیے کہ اب تمام عالم پر ایک عظیم انقلاب کا وقت قریب آگیا ہے جسے قیامت کہا جاتا ہے۔ خلاصہ کلام یہ کہ اس حدیث میں شریعت محمدی ﷺ کی اساس اور دین کی بنیادی باتوں کو بتایا گیا ہے یعنی ایمان کی تعریف بیان کی گئی ہے کہ یہ ان عقائد و نظریات سے تعبیر ہے جن کو جاننے اور ماننے کے بعد کوئی آدمی دائرہ اسلام میں داخل ہوتا ہے اور مومن بنتا ہے اسلام کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ اس سے وہ عملی ذمہ داریاں (فرائض) مراد ہیں جو مومن پر عائد ہوتی ہیں اور ان عملی ذمہ داریوں یعنی فرائض کی انجام دہی ہی پیرو اسلام یعنی مسلمان بناتی ہے اس کے بعد احسان کی وضاحت کی گئی جس کو اخلاص سے (یا تصوف سے بھی) تعبیر کیا جاسکتا ہے یہ اس کیفیت کا نام ہے۔ جو صحیح عقائد و نظریات سے وابستگی اور شریعت کی اتباع و فرمانبرداری کے بعد توجہ الی اللہ کے ذریعہ پیدا ہوتی ہے۔ اور بندے کو اپنے معبود کا تقرب عطا کرتی ہے۔ درحقیقت یہ تینوں چیزیں ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم ہیں، اللہ تعالیٰ کا قرب اور اس کی خوشنودی اس وقت تک حاصل نہیں ہوسکتی جب تک اللہ اور اللہ کے رسول کے جاری و نافذ کئے ہوئے احکام و ہدایات پر پوری طرح عمل نہ کیا جائے اور عمل اللہ اور اس کے رسول کے نزدیک اس وقت تک حسن قبول کا درجہ نہیں پاسکتے جب تک اللہ کی طرف کامل توجہ نہ ہو اور پورے داخلی و خارجی وجود پر خوف و خشیت الہٰی اور حضور قلب کی کیفیت طاری نہ ہو اور ان دونوں کا اس وقت تک کوئی اعتبار نہیں ہوگا جب تک فکر و عقیدہ صحیح نہ ہو۔ اور دل و دماغ ایمان و یقین سے روشن نہ ہوں۔ پس کامل مومن یا کامل مسلمان وہی آدمی مانا جائے گا جس کا دل و دماغ میں ایمان یعنی صحیح اسلامی عقائد و نظریات کا نور موجود ہو، پھر وہ ان فرائض کو پوری طرح ادا کرے اور ان احکام و ہدایات کی کامل اطاعت کرے جو اللہ نے اپنے رسول کے ذریعہ جاری و نافذ کئے اور پھر ریاضیت و مجاہد یعنی ذکر و شغل اور اوراد وظائف کے ذریعہ اخلاص، توجہ الی اللہ اور رضاء مولیٰ کے حصول کی جدوجہد کرے جس سے ایمان و اسلام میں حسن و کمال اور بلند قدری ملتی ہے۔
اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے
وعن ابن عمر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : بني الإسلام على خمس : شهادة أن لا إله إلا الله وأن محمدا عبده ورسوله وإقام الصلاة وإيتاء الزكاة والحج وصوم رمضان
اور حضرت عبداللہ بن عمر فاروق ؓ ( آپ اسلام کے دوسرے خلیفہ راشد حضرت عمر فاروق کے صاحبزادے اور رسول اللہ ﷺ کے جلیل القدر صحابی ہیں آپ کی پیدائش سال نبوت سے ایک سال پہلے مکہ معظمہ میں ہوئی تھی ٧٣ یا ٧٤ میں وصال فرمایا) روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے اول اس بات کا دل سے اقرار کرنا اور گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں، دوم پابندی کے ساتھ نماز پڑھنا، سوم زکوٰۃ دینا، چہارم حج کرنا، پنجم رمضان کے روزے رکھنا۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم )
تشریح
اسلام کی تشبیہ عمارت سے دی جاسکتی ہے کہ جس طرح کوئی بلند بالا اور خوشنما عمارت اس وقت تک قائم نہیں رہ سکتی جب تک کہ اس کے نیچے بنیادی ستون نہ ہوں، اسی طرح اسلام کے بھی پانچ بنیادی ستون ہیں جن کے بغیر کوئی آدمی اپنے اسلام کو وجود و بقا نہیں دے سکتا، ان ہی پانچ ستونوں کو اس حدیث میں ذکر فرمایا گیا ہے۔ اور وہ ہیں عقیدہ توحید و رسالت، نماز، زکوۃ، حج اور روزہ۔ جو آدمی خود کو مومن و مسلمان بنانا اور قائم رکھنا چاہے اس کے لئے لازم ہے کہ وہ اپنی اعتقادی و فکری اور عملی و اخلاقی زندگی کی اساس ان پانچوں ستونوں کو قرار دے۔ پھر جس طرح کسی عمارت کی شان و شوکت اور دیدہ زیبی و خوشنمائی در و دیوار کے نقش و نگار اور طاق و محراب کی آرائش و زیبائش پر منحصر ہوتی ہے اسی طرح اسلام کے حسن و کمال کا انحصار بھی ان اعمال پر ہے جن کو واجبات و مستحبات سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ یہاں حدیث میں چونکہ اسلام کی بنیادی چیزوں کا ذکر مقصود تھا اس لئے اس موقع پر ان واجبات و مستحبات کا ذکر نہیں کیا گیا۔
وعن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم الإيمان بضع وسبعون شعبة فأفضلها : قول لا إله إلا الله وأدناها : إماطة الأذى عن الطريق والحياة شعبة من الإيمان
حضرت ابوہریرہ ( آپ کا اصل نام عبدالرحمن بن صخر ہے کنیت ابوہریرہ ہے۔ ٥٧ یا ٥٨ ھ میں آپ نے مدینہ میں وصال فرمایا)۔ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ ایمان کی شاخیں ستر سے کچھ اوپر ہیں ان میں سب سے اعلیٰ درجہ کی شاخ زبان و دل سے اس بات کا اقرار و اعتراف ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور سب سے کم درجہ کی شاخ کسی تکلیف دینے والی چیز کا راستہ سے ہٹا دینا ہے نیز شرم و حیاء بھی ایمان کی ایک شاخ ہے۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم )
تشریح
اس حدیث میں ایمان کے شعبوں اور شاخوں کی تعداد بتائی گئی ہے یعنی وہ چیزیں مل کر کسی کو ایمان و اسلام کا مکمل پیکر اور خوشنما مظہر بناتی ہیں۔ یہاں تو صرف ان شعبوں اور شاخوں کی تعداد بتلائی گئی ہے لیکن بعض احادیث میں ان کی تفصیل بھی منقول ہے اور وہ اس طرح ہے پہلی چیز تو بنیادی ہے یعنی اس حقیقت کا دل و دماغ میں اعتقاد و یقین اور زبان سے اقرار و اظہار کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اس کی ذات وصفات برحق ہیں۔ وہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا، بقاء اور دوام صرف اسی کی ذات کے لئے ہے جب کہ کائنات کی تمام چیزیں فنا ہوجانے والی ہیں، ایسے ہی اللہ کے رسولوں، اس کی کتابوں اور فرشتوں کے بارے میں اچھا اعتقاد اور حسن یقین رکھنا اور ان کو برحق جاننا، آخرت کا عقیدہ رکھنا کہ مرنے کے بعد قبر میں برے اور گنہگار لوگوں پر اللہ تعالیٰ کا عذاب اور اچھے نیک بندوں پر اس کا انعام و اکرام ہوتا ہے۔ قیامت آئے گی اور اس کے بعد حساب و کتاب کا مرحلہ ضرور آئے گا، اس وقت ہر ایک کے اعمال ترازو میں تولے جائیں گے جن کے زیادہ اعمال اچھے اور نیک ہوں گے ان کو پروانہ جنت دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا، جن کے زیادہ اعمال برے ہوں گے، ان کی فردجرم ان کے بائیں ہاتھ میں تھمادی جائے گی۔ تمام لوگ پل صراط پر سے گزریں گے۔ مومنین صالحین ذات باری تعالیٰ کے دیدار سے مشرف ہوں گے۔ نیک اور اچھے لوگ بہشت میں پہنچائے جائیں گے اور گنہگاروں کو دوزخ میں دھکیل دیا جائے گا۔ جس طرح جنتی (مومن) بندے جنت میں ہمیشہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے انعام و اکرام اور اس کی خوشنودی سے لطف اندوز ہوتے رہیں گے اسی طرح دوزخی لوگ (کفار) ہمیشہ ہمیشہ اللہ کے مسلط کئے ہوئے عذاب میں مبتلا رہیں گے۔ ایمان کے شعبوں اور شاخوں میں سے یہ بھی ہے کہ بندہ اللہ سے ہر وقت لو لگائے رہے اور اس سے محبت رکھے اگر کسی غیر اللہ سے محبت کرے تو اللہ کے لئے کرے یا کسی سے دشمنی رکھے تو اللہ کے لئے رکھے۔ رسول اللہ ﷺ سے کامل محبت اور آپ ﷺ کی عظمت و برتری اور آپ ﷺ کی تعلیمات کو روان دینا اور پھیلانا بھی آپ ﷺ سے محبت رکھنے کی دلیل ہے۔ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت کی علامت اس طرح رچ بس جائے کہ اس محبت کے مقابلہ میں دنیا کی کسی بھی چیز اور کسی بھی رشتہ کی محبت کوئی اہمیت نہ رکھے۔ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت کی علامت اتباع شریعت ہے۔ اگر کوئی آدمی اللہ اور اس کے رسول کے فرمان کی تعمیل کرتا ہے اور شریعت کے احکام پر عمل کرتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ اپنے اللہ اور رسول ﷺ سے محبت کرتا ہے لیکن جو آدمی اللہ اور رسول کے احکام و فرمان کی تابعداری نہ کرتا ہو تو اس کا صاف مطلب یہ ہوگا کہ نعوذ باللہ اس کا دل اللہ و رسول کی پاک محبت سے بالکل خالی ہے۔ یہ بھی ایمان کی ایک شاخ ہے کہ جو عمل کیا جائے خواہ وہ بدنی ہو یا مالی، قولی ہو یا فعلی اور یا اخلاقی وہ محض اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی کے لئے ہو، نام و نمود یا کسی دنیاوی غرض سے نہ ہو پس جہاں تک ہو سکے اعمال میں اخلاص پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے ورنہ نفاق اور ریا کا اثر عمل کے حسن و کمال اور تاثیر کو ختم کر دے گا۔ مومن کا دل ہمہ وقت خوف اللہ اور خشیت الٰہی سے بھرا ہوا اور اس کے فضل و کرم اور رحمت کی امیدوں سے معمور رہنا چاہیے، اگر بتقاضائے بشریت کوئی بری بات یا گناہ سرزد ہوجائے تو اس پر فوراً خلوص دل سے توبہ کے بعد آئندہ کے لئے گناہوں سے اجتناب کا عہد کرے اور اللہ کے عذاب سے ڈرتا رہے اور اپنے اچھے عمل اور نیک کام میں اللہ کی رحمت اور اس کے انعام و اکرام کی آس لگائے رہے۔ درحقیقت یہ ایمان کا ایک بڑا تقاضہ ہے کہ جب کبھی کوئی گناہ جان بوجھ کر یا نادانستہ سرزد ہوجائے تو فوراً احساس ندامت و شرمندگی کے ساتھ اللہ کے حضور اپنے گناہ سے توبہ کرے اور معافی و بخشش کا طلبگار ہو، اس لئے کہ ارتکاب گناہ کے بعد توبہ کرنا شرعاً ضروری اور لازم ہے۔ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی نعمتوں کا شکر ادا کرتا رہے اگر اس نے اولاد عنایت فرمائی ہو تو فوراً عقیقہ کرے، اگر نکاح کیا ہو تو ولیمہ کرے، اگر قرآن مجید حفظ یا ناظرہ ختم کیا ہو تو خوشی و مسرت کا اظہار کرے، اللہ نے اگر مال دیا ہے تو زکوٰۃ ادا کرے۔ عیدالفطر کی تقریب میں صدقۃ الفطر دے اور بقر عید میں قربانی کرے۔ یہ بھی ایمان کا تقاضہ ہے کہ وعدہ کرے تو اسے پورا کرے، مصیبت پر صبر کرے، اطاعت و فرمانبرداری کے لئے ہر مشقت برداشت کرے، گناہوں سے بچتا رہے۔ تقدیر اور اللہ کی مرضی پر راضی رہے، اللہ پر توکل کرے، بڑوں اور بزرگوں کی تعظیم و احترام، چھوٹوں اور بچوں سے شفقت و محبت کا معاملہ کرے اور کبر و غرور، نخوت وتکبر کو چھوڑ کر کسر نفسی و تواضع اور حلم وبردباری اختیار کرے۔ حسن اسلام اور تکمیل ایمان کے مدارج میں سے یہ بھی ہے کہ برابر کلمہ توحید و شہادت کا ورد رکھے۔ قرآن شریف پڑھے اگر جاہل ہو تو عالم سے علم کی دولت حاصل کرے اگر عالم ہو تو جاہلوں کو تعلیم دے اپنے مقاصد میں کامیابی کے لئے اللہ سے مدد کا طلب گار ہو اور دعا مانگے اور اس کا ذکر کرتا رہے اپنے گناہوں سے استغفار کرے اور فحش باتوں سے بچتا رہے، ہر وقت ظاہری و باطنی گندگیوں سے پاک رہے۔ نمازوں کا پڑھنا خواہ فرض ہوں یا نفل اور وقت پر ادا کرنا، روزہ رکھنا، چاہے نفل ہو یا فرض، ستر کا چھپانا، صدقہ دینا خواہ نفلی ہو یا لازمی، غلاموں کو آزاد کرنا، سخاوت و ضیافت کرنا، اعتکاف میں بیٹھنا، شب قدر اور شب برأت میں عبادت کرنا، حج وعمرہ کرنا، طواف کرنا۔ دارالحرب یا ایسے ملک سے جہاں فسق و فجور، فحش و بےحیائی اور منکرات و بدعات کا زور ہو، دار الاسلام کی طرف ہجرت کر جانا، بد عتوں سے بچنا اپنے دین کو بری باتوں سے محفوظ رکھنا، نذروں کا پورا کرنا، کفاروں کا ادا کرنا، حرام کاری سے بچنے کے لئے نکاح کرنا۔ اہل و عیال کے حقوق پورے طور پر ادا کرنا، والدین کی خدمت کرنا اور ہر طرح ان کی مدد کرنا اور خبر گیری رکھنا، اپنی اولاد کی شریعت کے مطابق تربیت کرنا اپنے ماتحتوں سے حسن سلوک کرنا اپنے حاکموں، افسروں اور مسلمان سرداروں کی تابعداری کرنا بشرطیکہ وہ خلاف شرع چیزوں کا حکم نہ دیں۔ غلام اور باندی سے نرمی اور بھلائی سے پیش آنا، اگر صاحب اقتدار اور حاکم و جج ہو تو انصاف کرنا، لوگوں میں باہم صلح صفائی کرانا، اسلام سے بغاوت کرنے والوں اور دین سے پھرنے والوں سے قتل و قتال کرنا، اچھی باتوں کی تبلیغ کرنا، بری باتوں سے لوگوں کو روکنا، اللہ کی جانب سے مقرر کی ہوئی سزاؤں کا جاری کرنا، دین و اسلام میں غلط باتیں پیدا کرنے والوں اور اللہ و رسول کا انکار کرنے والوں سے حسب قوت و استطاعت خواہ ہتھیار سے خواہ قلم و زبان سے جہاد کرنا، اسلامی مملکت کی سرحدوں کی حفاظت کرنا، امانت کا ادا کرنا، مال غنیمت کا پانچواں حصہ بیت المال میں جمع کرنا، وعدے کے مطابق فرض پورا کرنا، پڑوسی کی دیکھ بھال کرنا اور اس کے ساتھ اچھے سلوک سے پیش آنا، لوگوں کے ساتھ بہترین معاملہ کرنا، حلال طریقہ سے مال کمانا اور اس کی حفاظت کرنا، مال و دولت کو بہترین مصرف اور اچھی جگہ خرچ کرنا۔ فضول خرچی نہ کرنا، سلام کرنا اور سلام کا جواب دینا، جب کسی کو چھینک آئے تو یرحمک اللہ کہنا، خلاف تہذیب کھیل کود اور برے تماشوں سے اجتناب کرنا، لوگوں کو تکلیف نہ پہنچانا اور راستوں سے تکلیف دہ چیزوں کا ہٹا دینا تاکہ راہ گیروں کو تکلیف و نقصان نہ پہنچے، یہ سب ایمان کے شعبے اور اس کی شاخیں ہیں۔ راستہ سے تکلیف دہ چیزوں کے ہٹانے کا یہ مطلب ہے کہ اگر راستے میں پتھر یا کانٹے پڑے ہوں جس سے راہ گیر کو تکلیف پہنچ سکتی ہو یا نجاست و غلاظت پڑی ہو یا ایسی کوئی بھی چیز پڑی ہو جس سے راستے پر چلنے والوں کو نقصان پہنچ سکتا ہو تو مومن کا یہ فرض ہے کہ انسانی و اخلاقی ہمدردی کے ناطے اس کو ہٹا دے اور راستہ صاف کر دے۔ اور اسی طرح خود بھی ایسی کوئی چیز راستے میں نہ ڈالے جو راستہ چلنے والوں کے لئے تکلیف کا باعث ہو اور عارفین کی رمز شناس نگاہوں نے تو اس سے یہ مطلب اخذ کیا ہے کہ انسان اپنے نفس کو ایسی تمام چیزوں سے صاف کرلے جو توجہ الی اللہ اور معرفت کے راستہ کی رکاوٹ ثابت ہوتی ہیں اور اپنے قلب سے برائی و معصیت کے خیال تک کو کھرچ کر پھینک دے۔ بہر حال یہ تمام باتیں ایمان کے شعبے ہیں جن پر مومن کا عمل کرنا نہایت ضروری ہے اس لئے کہ ایمان کی تکمیل اور اسلام کا حسن ان ہی چیزوں سے پیدا ہوتا ہے اگر کوئی آدمی ان باتوں سے خالی ہے اور اس کی زندگی ان کی شعاعوں سے منور نہیں ہے تو سمجھنا چاہیے کہ اس کے ایمان کی تکمیل نہیں ہوئی اس کو چاہیے کہ اللہ کی مدد اور اس کی توفیق چاہ کر ان اہم باتوں کو اختیار کرے۔
وعن عبد الله بن عمرو قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم المسلم من سلم المسلمون من لسانه ويده والمهاجر من هجر ما نهى الله عنه هذا لفظ البخاري ولمسلم قال : إن رجلا سأل النبي صلى الله عليه و سلم : أي المسلمين خير ؟ قال : من سلم المسلمون من لسانه ويده
اور حضرت عبداللہ بن عمرو ( حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص جلیل القدر صحابی، رفیع المرتبت عالم، بلند پایہ مجاہد اور بڑے مرتبہ کے متقی و عابد تھے آپ مہاجر ہیں۔ آپ کے سن وفات میں بہت زیادہ اختلاف ہے۔ تذکرۃ الحفاظ کی روایت کے مطابق مصر میں ٧٥ ھ میں آپ کا انتقال ہوا)۔ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کامل مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان (کی ایذا) سے مسلمان محفوظ رہیں اور اصل مہاجر وہ ہے جس نے ان تمام چیزوں کو چھوڑ دیا جن سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے۔ یہ الفاظ صحیح البخاری کے ہیں اور مسلم نے اس روایت کو ان الفاظ میں نقل کیا ہے۔ ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا کہ مسلمانوں میں سب سے بہتر کون ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا جس کی زبان اور ہاتھ ( کے ضرر) سے مسلمان محفوظ رہیں۔
تشریح
حدیث کے پہلے جزء میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ مومن اور مسلمان محض اس چیز کا نام نہیں ہے کہ کوئی آدمی صرف کلمہ پڑھ لے اور کچھ متعین اعمال و ارکان ادا کرلے بلکہ اسلامی شریعت اپنے پیروؤں سے ایک ایسی بھر پور زندگی کا تقاضا کرتی ہے جس کا حامل ایک طرف عقائد و اعمال کے لحاظ سے اللہ کا حقیقی بندہ کہلانے کا مستحق ہو تو دوسری طرف وہ انسانیت کے تعلق سے پوری طرح امن و آشتی کا نمونہ اور محبت و مروت کا مظہر ہو، امن و امانت، اخلاق و رواداری، ہمدردی و خیر سگالی کا اپنی عملی زندگی میں اس طرح اظہار کرے کہ دنیا کا ہر انسان اس سے خوف زدہ رہنے کے بجائے اس کو اپنا ہمدرد، بہی خواہ اور مشفق سمجھے اور کیا مال کیا جان و آبرو، ہر معاملہ میں اس پر پورا اعتماد اور اطمینان رکھے۔ اس حدیث میں ہاتھ اور زبان کی تخصیص اس لئے ہے کہ عام طور پر ایذار سانی کے یہی دو ذریعے ہیں ورنہ یہاں ہر وہ چیز مراد ہے جس سے تکلیف پہنچ سکتی ہے خواہ وہ ہاتھ ہوں یا زبان یا کوئی دوسری چیز۔ حدیث کے دوسرے جزء میں حقیقی مہاجر کی تعریف کی گئی ہے یوں تو مہاجر ہر اس آدمی کو کہیں گے جس نے اللہ کی راہ میں اپنا وطن، اپنا گھر اور اپنا ملک چھوڑ کر دارالاسلام کو اپنا وطن بنا لیا ہو، اس قربانی کو اسلام عزت و قعت کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور اس مہاجر کو بیشمار جزاء و انعام کا حقدار مانتا ہے لیکن اس حدیث سے معلوم ہوا اس ہجرت کے علاوہ ایک ہجرت اور ہے جس کا زندگی کے ساتھ دوامی تعلق رہتا ہے اور وہ یہ ہے کہ اللہ نے جن چیزوں سے منع فرمایا ہے مومن ان سے پرہیز کرتا رہے اور اللہ کی رضا و خوشنودی حاصل کرنے کے لئے نفسانی خواہشات کو بالکل ترک کرکے پاکیزہ نفسی اختیار کرے، پس ایسا آدمی حقیقی مہاجر کہلانے کا مستحق ہے۔
وعن أنس رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا يؤمن أحدكم حتى أكون أحب إليه من والده وولده والناس أجمعين
اور حضرت انس بن مالک ( حضرت انس بن مالک بن نضر انصاری ہیں اور مدینہ کے اصل باشندے تھے۔ آپ کی عمر جب دس سال کی تھی تو آپ کی والدہ ام سلیم بنت ملحان نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پیش کیا۔ ٩٦ ھ میں انتقال فرمایا)۔ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی آدمی اس وقت تک (کامل) مومن نہیں بن سکتا جب تک کہ میں اس کو اس کے باپ، اس کی اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہوجاؤں۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم )
تشریح
محبت ایک تو طبعی ہوتی ہے جیسے اولاد کو باپ کی یا باپ کو اولاد کی محبت۔ اس محبت کی بنیاد طبعی وابستگی و پسند اور فطری تقاضہ ہوتا ہے۔ اس میں عقلی یا خارجی ضرورت اور دباؤ کا دخل نہیں ہوتا۔ اس کے برخلاف ایک محبت عقلی ہوتی ہے جو کسی طبعی و فطری وابستگی اور تقاضے کے تحت نہیں ہوتی۔ بلکہ کسی عقلی ضرورت و مناسبت اور خارجی وابستگی کے تحت کی جاتی ہے۔ اس کی مثال مریض اور دوا ہے یعنی بیمار آدمی دوا کو اس لئے پسند نہیں کرتا کہ دوا لینا اس کا طبعی اور فطری تقاضہ ہے بلکہ یہ دراصل عقل کا تقاضا ہوتا ہے کہ اگر بیماری کو ختم کرنا ہے اور صحت عزیز ہے تو دوا استعمال کرنی ہوگی خواہ اس دوا کی تلخی اور کڑواہٹ کا طبیعت پر کتنا ہی بار کیوں نہ ہو، اسی طرح اگر کسی آدمی کے جسم کا کوئی حصہ پھوڑے پھنسی کے فاسد مادہ سے بھر گیا ہو تو وہ آپریشن کے لئے اپنے آپ کو کسی ماہر جراح اور سرجن کے حوالہ اس لئے نہیں کرتا کہ اس کی نظر میں آلات جراحی کی چمک دمک اچھی لگتی ہے یا اس کی طبیعت اپنے جسم کے اس حصہ پر نشتر زنی کو پسند کرتی ہے، بلکہ یہ عقل و دانائی کا تقاضا ہوتا ہے کہ اگر جسم کو فاسد مادہ سے صاف کرنا ہے تو خود کو اس جراح یا سرجن کے حوالے کردینا ضروری ہے۔ کسی چیز کو عقلی طور پر چاہنے اور پسند کرنے کی وہ کیفیت جس کو عقلی محبت سے تعبیر کرتے ہیں، بعض حالات میں اتنی شدید، اتنی گہری اور اتنی اہم بن جاتی ہے کہ بڑی سے بڑی طبعی محبت اور بڑے سے بڑے فطری تقاضے پر بھی غالب آجاتی ہے۔ پس یہ حدیث ذات رسالت سے جس محبت اور وا بستگی کا مطالبہ کر رہی ہے وہ علماء و محدثین کے نزدیک یہی عقلی محبت ہے لیکن کمال ایمان و یقین کی بنا پر یہ عقلی محبت اتنی پر اثر، اتنی بھر پور اور اس کی قدر جذباتی وابستگی کے ساتھ ہو کہ طبعی محبت پر غالب آجائے۔ اس کو یوں سمجھا جاسکتا ہے کہ اگر رسول اللہ ﷺ کی کسی ہدایت اور کسی شرعی حکم کی تعمیل میں کوئی خونی رشتہ جیسے باپ کی محبت، اولاد کا پیار یا کوئی بھی اور طبعی تعلق رکاوٹ ڈالے تو اس ہدایت رسول اور شرعی حکم کو پورا کرنے کے لئے اس خون کے رشتے اور طبعی تقاضا و محبت کو بالکل نظر انداز کردینا چاہیے، ایمانیات اور شریعت کے نقطہ نظر سے بہت بڑا مقام ہے اور یہ مقام اسی صورت میں حاصل ہوسکتا ہے جب ایمان و اسلام اور حب رسول ﷺ کا دعوی کرنے والا اپنے نفس کو احکام شریعت اور ذات رسالت میں فنا کر دے اور اللہ کے رسول ﷺ کی رضا و خوشنودی کے علاوہ اس کا اور کوئی مقصد حیات نہ ہو۔ مثال کے طور پر رسول اللہ ﷺ کا فرمان جاری ہوتا ہے کہ اہل ایمان جہاد کے لئے نکلیں، اس حکم کی تعمیل میں اہل ایمان، دشمنان دین سے لڑنے کے لئے میدان جنگ میں پہنچتے ہیں۔ جب دونوں طرف سے صف آرائی ہوتی ہے اور حریف فوجیں آمنے سامنے آتی ہیں تو کسی مسلمان کو اپنا لڑکا دشمن کی صف میں نظر آتا ہے اور کسی کو اپنا باپ۔ اب ایک طرف تو وہ طبعی محبت ہے، جو کیسے گوارا کرلے کہ اس کی تلوار اپنے باپ یا اپنی ہی اولاد کے خون سے رنگی جائے، دوسری طرف حکم رسول ہے کہ دشمن کا کوئی بھی فرد تلوار کی زد سے امان نہ پائے چاہے وہ اپنا باپ یا بیٹا کیوں نہ ہو، تاریخ کی ناقابل تردید صداقت گواہی دیتی ہے کہ ایسے نازک موقع پر اہل ایمان پل بھر کے لئے بھی ذہنی کشمکش میں مبتلا نہیں ہوتے، ان کو یہ فیصلہ کرلینے میں ایک لمحہ کی بھی تاخیر نہیں ہوتی کہ حکم رسول ﷺ کے سامنے نہ باپ کی محبت کوئی معنی رکھتی ہے نہ اولاد کی۔ اور پھر میدان جنگ میں باپ کی تلوار بےدریغ اپنی اولاد کا خون بہاتی نظر آتی ہے اور بیٹا اپنے باپ کو موقع نہیں دیتا کہ بچ کر نکل جائے۔ بہر حال حدیث کا حاصل یہ ہے کہ تکمیل ایمان کا مدار حب رسول پر ہے جس آدمی میں ذات رسالت سے اس درجہ کی محبت نہ ہو کہ اس کے مقابلہ پر دنیا کے بڑے سے بڑے رشتے، بڑے سے بڑے تعلق اور بڑی سے بڑی چیز کی محبت و چاہت بھی بےمعنی ہو، وہ کامل مسلمان نہیں ہوسکتا، اگرچہ زبان اور قول سے وہ اپنے ایمان و اسلام کا کتنا ہی بڑا دعوی کرے۔ حضرت عمر فاروق کے بارے میں منقول ہے کہ انہوں نے جب یہ حدیث سنی تو عرض کیا یا رسول اللہ! دنیا میں صرف اپنی جان کے علاوہ آپ ﷺ مجھے سب سے زیادہ محبوب ہیں یعنی دنیا کے اور تمام رشتوں اور چیزوں سے زیادہ میں آپ ﷺ کی محبت رکھتا ہوں مگر اپنی جان سے زیادہ نہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میری جان ہے تم اب بھی کامل مومن نہیں ہوئے اس لئے کہ یہ مرتبہ اسی وقت حاصل ہوسکتا ہے جب کہ میں تمہیں اپنی جان سے بھی زیادہ پیارا ہوجاؤں۔ ان الفاظ نبوت نے جیسے آن واحد میں حضرت عمر فاروق کے دل و دماغ کی دنیا تبدیل کردی ہو، وہ بےاختیار بولے۔ یا رسول اللہ! آپ ﷺ پر میری جان قربان آپ ﷺ مجھے اپنی جان سے بھی زیادہ پیارے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے پھر ان کو خوشخبری سنائی کہ اے عمر! اب تمہارا ایمان کامل ہوا اور تم پکے مومن ہوگئے۔ اور صرف عمر فاروق ہی نہیں، تمام صحابہ اسی کیفیت سے معمور اور حب رسول سے سرشار تھے، ان کی زندگیوں کا مقصد ہی آپ ﷺ کے ایک اشارہ ابرو پر اپنی جانوں کو نچھاور کردینا تھا، بلا شبہ دنیا کا کوئی مذہب اپنے راہنما اور پیروؤں کے باہمی تعلق اور محبت کی ایسی مثال پیش نہیں کرسکتا۔ رسول اللہ ﷺ کی ذات اقدس بلا شک صحابہ کے لئے شمع کی سی تھی جس پر وہ پروانہ وار نچھاور ہونا ہی اپنی سعادت و خوش بختی تصور کیا کرتے تھے۔ اسلام کے اس دور کی شاندار تاریخ اپنے دامن میں بیشمار ایسے واقعات چھپائے ہوئے ہے جو رسول اکرم ﷺ سے صحابہ کرام اجمعین کی جذباتی وابستگی اور والہانہ محبت وتعلق کی شاندار غمازی کرتے ہیں۔ غزوہ احد کا واقعہ ہے۔ میدان جنگ میں جب معرکہ کار زار گرم ہوا اور حق کی مٹھی بھر جماعت پر باطل کے لشکر جرار نے پوری قوت اور طاقت سے حملہ کیا تو دیکھا گیا ہے کہ ایک انصاری عورت کے شوہر، باپ اور بھائی تینوں نے جام شہادت پیا اور رسول اکرم ﷺ کی ذات پر دیوانہ وار فدا ہوگئے، یہ دل دہلا دینے والی خبر اس عورت کو بھی پہنچائی گئی مگر اللہ پر ایمان کی پختگی اور رسول اکرم ﷺ کی محبت کا اثر کہ بجائے اس کے کہ وہ عورت اپنے لواحقین کی شہادت پر نالہ و شیون اور ماتم و فریاد کرتی اس نے سب سے پہلے سوال کیا خدارا مجھے یہ بتاؤ کہ میرے آقا اور سردار رسول اللہ ﷺ (آپ ﷺ پر میری جان قربان) تو بخیر ہیں؟۔ لوگوں نے کہا۔ ہاں آپ ﷺ سلامت ہیں مگر اس سے اس کی تسکین نہ ہوئی اور بےتابانہ کہنے لگی اچھا چلو! میں اپنی آنکھوں سے دیدار کرلوں تو یقین ہوگا اور جب اس نے اپنی آنکھوں سے چہرہ انور کی زیارت کرلی تو بولی کل مصیبۃ بعدک جلل۔ جب آپ زندہ سلامت ہیں تو ہر مصیبت آسان ہے۔ ایک مرتبہ ایک آدمی خدمت اقدس میں حاضر ہوا اور کہنے لگا یا رسول اللہ! آپ ﷺ مجھے اپنے اہل و عیال اور مال سب سے زیادہ محبوب ہیں، مجھے آپ ﷺ کی یاد آتی ہے تو صبر نہیں آتا جب تک کہ یہاں آکر آپ ﷺ کے روئے انور کی زیارت سے اپنی آنکھوں کو ٹھنڈی نہیں کرلیتا۔ مگر اب تو یہی غم کھائے جاتا ہے کہ وفات کے بعد آپ ﷺ تو انبیاء (علیہم السلام) کے ساتھ ہوں گے، وہاں میری آنکھیں آپ ﷺ کا دیدار کیسے کرسکیں گی۔ جب ہی یہ آیت نازل ہوئی ومَنْ یُطِعِ ا وَالرَّسُوْلَ فَأُوْلٰائکِ مَعَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ ا عَلَیْھِمْ مِّنَ النَّبِیِّیْنَ وَالصِّدِّیْقِیْنَ وَالشُّھَدَآءِ وَالصَّالِحِیْنَ وَحَسُنَ اُوْلٰائِکَ رَفِیْقًا۔ (النساء ٦٩) جو لوگ اللہ و رسول کا کہنا مانتے ہیں وہ (آخرت میں) ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ تعالیٰ کے انعام و اکرام ہیں یعنی نبی، صدیق، شہید اور نیک لوگ اور ان لوگوں کی صحبت بڑی غنیمت ہے۔ آپ ﷺ نے اس صحابی کو یہ خوشخبری سنا دی۔ عبداللہ بن زید بن عبدربہ جو صاحب اذان کے لقب سے مشہور تھے اپنے باغ میں کام کر رہے تھے کہ اسی حالت میں ان کے صاحبزادہ نے آکر پریشانی والی خبر سنائی کہ سرور دو عالم ﷺ وصال فرماگئے۔ عشق نبوی سے سر شار اور محبت رسول سے سر مست، یہ صحابی اس جان گداز خبر کی تاب ضبط نہ لاسکے، بےتابانہ ہاتھ فضا میں بلند ہوئے اور زبان سے یہ حسرت ناک الفاظ نکلے خداوندا اب مجھے بینائی کی دولت سے محروم کر دے تاکہ یہ آنکھیں جو سرکار دو عالم ﷺ کے دیدار سے مشرف ومنور ہوا کرتی تھیں اب کسی دوسرے کو نہ دیکھ سکیں (ترجمہ السنۃ)۔ ان واقعات سے معلوم ہوا کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو رسول اللہ ﷺ سے محبت وتعلق کا وہی مقام حاصل تھا جو اس حدیث کا منشاء ہے اس لئے ہر مسلمان کے لئے ضروری ہے کہ اگر وہ ایمان کی سلامتی اور اپنے اسلام میں مضبوطی پیدا کرنا چاہتا ہے تو رسول اللہ ﷺ کی محبت و عقیدت سے اپنے دل کو معمور کرے اور آپ ﷺ کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے ہی کو مدار نجات جانے کہ رسول اللہ ﷺ سے محبت کا معیار اتباع شریعت اور اتباع رسول ہے جو آدمی شریعت پر عمل نہیں کرتا اور آپ ﷺ کی تعلیمات پر نہیں چلتا، وہ اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ نعوذ باللہ اسے حضور ﷺ سے محبت نہیں ہے۔
وعن أنس رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم ثلاث من كن فيه وجد بهن حلاوة الإيمان : من كان الله ورسوله أحب إليه مما سواهما ومن أحب عبدا لا يحبه إلا لله ومن يكره أن يعود في الكفر بعد أن أنقذه الله منه كما يكره أن يلقى في النار
اور حضرت انس راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جس آدمی میں یہ تین چیزیں ہوں گی وہ ان کی وجہ سے ایمان کی حقیقی لذت سے لطف اندوز ہوگا، اول یہ کہ اسے اللہ اور اس کے رسول کی محبت دنیا کی تمام چیزوں سے زیادہ ہو، دوسرا یہ کہ کسی بندہ سے اس کی محبت محض اللہ ( کی خوشنودی) کے لئے ہو۔ تیسرے یہ کہ جب اسے اللہ نے کفر کے اندھیرے سے نکال کر ایمان و اسلام کی روشنی سے نواز دیا ہے تو اب وہ اسلام سے پھرجانے کو اتنا ہی برا جانے جتنا آگ میں ڈالے جانے کو۔ صحیح البخاری و صحیح مسلم )
تشریح
کمال ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ مومن کے دل میں اللہ اور اس کے رسول کی محبت اس درجہ رچ بس جائے کہ ان کے ماسوا تمام دنیا اس کے سامنے کم تر ہو۔ اس طرح یہ شان بھی مومن کامل ہی کی ہوسکتی ہے کہ اگر وہ کسی سے محبت کرتا ہے تو محض اللہ کی خوشنودی اور اس کی رضا حاصل کرنے کے لئے اور اگر کسی سے بغض و عداوت رکھتا ہے تو وہ بھی اللہ کی راہ میں غرض کہ اس کا جو بھی عمل ہو صرف اللہ کے لئے ہو اور اس کے حکم کی تکمیل میں ہو۔ ایسے ہی ایمان کا پختگی کے ساتھ دل میں بیٹھ جانا اور اسلام پر پختگی کے ساتھ قائم رہنا اور کفر و شرک سے اس درجہ بیزاری و نفرت رکھنا کہ اس کے تصور و خیال کی گندگی سے بھی دل پاک و صاف رہے، ایمان کے کامل ہونے کی دلیل ہے۔ اسی لئے اس حدیث میں فرمایا گیا کہ ایمان کی حقیقی دولت کا مالک اور اس پر جزاء و انعام کا مستحق تو وہی آدمی ہے جو ان تینوں اوصاف سے پوری طرح متصف ہو اور ایمان کی حقیقی لذت کا ذائقہ وہی چکھ سکتا ہے جس کا دل ان چیزوں کی روشنی سے منور ہو۔
وعن العباس بن عبد المطلب قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ذاق طعم الإيمان من رضي بالله ربا وبالإسلام دينا وبمحمد رسولا . رواه مسلم
اور حضرت عباس بن عبدالمطلب ( آپ حضرت عبدالمطلب کے صاحبزادے اور رسول اللہ ﷺ کے حقیقی چچا تھے۔ بارہ رجب ٣٢ ھ جمعہ کے دن آپ کا انتقال ہوا)۔ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس آدمی نے اللہ تعالیٰ کو اپنا پروردگار، اسلام کو اپنا دین اور محمد ﷺ کو اپنا رسول خوشی سے مان لیا تو (سمجھو کہ) اس نے ایمان کا ذائقہ چکھ لیا۔ (صحیح مسلم)
تشریح
اللہ تعالیٰ کی ربوبیت اور اس کی ذات وصفات پر ایمان محمد عربی ﷺ کی رسالت و نبوت پر یقین و اعتقاد، دین و شریعت کی حقانیت و صداقت پر کامل اعتماد اور اسلامی تعلیمات و احکام کی پیروی، اس کیفیت کے ساتھ ہونے چاہیے کہ دل و دماغ کے کسی گوشہ میں کوئی دباؤ، کوئی گھٹن، کوئی تکدر اور کوئی ناگواری ذرہ برابر محسوس نہ ہوتی ہو۔ رضا ورغبت، اطمینان خاطر اور دماغی و ذہنی سکون کی وہ لہر پورے داخلی و خارجی وجود میں سرایت کئے ہوئے ہو، جو کسی انمول چیز کے حاصل ہوجانے پر دل و دماغ اور جسم کے پورے و جود کو مسرت و شادمانی اور احساس سرفرازی سے سر شار کردیتی ہے۔ یہ بہت اہم بات ہے اس کو ہر حالت میں مد نظر رکھنا چاہیے۔ اس ایمان و یقین اور عمل آوری میں اگر کسی طرح کا کوئی انقباض اور تکدر پیدا ہوا تو سمجھو کہ ایمان کی روح رخصت ہوئی۔ ایسے آدمی پر اگرچہ ظاہری طور سے ایمان و اسلام کے احکام نافذ ہوں گے مگر اخلاص سے خالی ہونے کے سبب نہ اس کا ایمان کامل سمجھا جائے گا اور نہ اس کو حسن اسلام نصیب ہوگا اور نہ ایمان و یقین کی حقیقی لذت سے وہ لطف اندوز ہوسکے گا۔
وعن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : والذي نفس محمد بيده لا يسمع بي أحدق من هذه الأمة يهودي ولا نصراني ثم يموت ولم يؤمن بالذي أرسلت به إلا كان من أصحاب النار . رواه مسلم
اور حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ اس ذات کی قسم جس کی قبضہ میں محمد ﷺ کی جان ہے! اس امت میں سے جو آدمی بھی خواہ وہ یہودی ہو یا نصرانی، میری نبوت کی خبر پائے اور میری لائی ہوئی شریعت پر ایمان لائے بغیر مرجائے، وہ دوزخی ہے۔ (صحیح مسلم)
تشریح
اسلام ایک آفاقی مذہب ہے جس کے دائرہ اطاعت میں آنا تمام کائنات کے لئے ضروری ہے اور اللہ تعالیٰ کی جانب سے بھیجا ہوا ایک ایسا بین الاقوامی قانون ہے جس کی پیروی دنیا کے ہر آدمی پر لازم ہے، اسی طرح پیغمبر اسلام ﷺ کی رسالت اور آپ ﷺ کی نبوت بھی چونکہ عالمگیر اور بین الاقوامی ہے۔ ہر دور کے لئے، ہر قوم کے لئے اور ہر طبقہ کے لئے، اس میں کسی کا استثناء نہیں ہے اس لئے آپ ﷺ کی رسالت پر ایمان لانا اور آپ ﷺ کی لائی ہوئی شریعت پر عمل کرنا سب پر ایک ہی طرح فرض ہے، خواہ کوئی کسی قوم کسی ملک اور کسی طبقہ سے تعلق رکھتا ہو۔ اس حدیث میں یہودی اور نصرانی یعنی عیسائی کا ذکر اس بنا پر کیا گیا ہے کہ یہ دونوں قومیں خود اپنا ایک دین اور ایک شریعت رکھتی تھیں ان کی اپنی اپنی آسمانی کتابیں تھیں جن کو مدار عمل و نجات ماننے کا ان کو خدائی حکم تھا، اس لئے ان کا ذکر کر کے اس طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ وہ قومیں جو خود اپنے پیغمبروں کی لائی ہوئی شریعت اور اللہ کی جانب سے بھیجی ہوئی کتابوں کی تابع ہیں اور جن کا دین بھی آسمانی دین ہے، جو اللہ تعالیٰ ہی کا اتارا ہوا ہے تو اللہ تعالیٰ کے آخری دین اسلام کے نفاذ اور خاتم النبیین ﷺ کی ہمہ گیر بعثت کے بعد جب ان قوموں کے لئے پیغمبر اسلام ﷺ کی رسالت تسلیم کئے بغیر چارہ نہیں اور شریعت اسلام کے دائرہ میں آئے بغیر ان کی نجات ممکن نہیں تو پھر وہی قومیں پیغمبر اسلام اور شریعت اسلام پر ایمان و عمل کے بغیر ابدی نجات کیسے پاسکتی ہیں جو کسی آسمانی دین کی پابند بھی نہیں ہیں جن کے پاس کسی پیغمبر کی لائی ہوئی کوئی کتاب بھی نہیں ہے اور جو اللہ کے بھیجے ہوئے کسی نبی و رسول کی پیرو بھی نہیں ہیں۔ ایک بات اور بھی ہے۔ یہودی اور عیسائی کہا کرتے تھے کہ اللہ کے برگزیدہ پیغمبر موسیٰ اور عیسیٰ کے پیروکار اور اللہ کی اتاری ہوئی کتاب شریعت تو رات و انجیل کے متبع ہونے کی وجہ سے ہم تو خود نجات یافتہ ہیں۔ جنت تو ہمارا پیدائشی حق ہے، ہمیں کیا ضرورت ہے کہ محمد ﷺ کو اپنا رسول مانیں اور اسلام کو اپنا دین، اس حدیث کے ذریعہ ان کے اس غلط عقیدہ و خیال کی بھی تردید کی گئی ہے اور ان پر واضح کردیا گیا کہ پیغمبر اسلام کی بعثت کے بعد تو نجات ان ہی لوگوں کی ہوگی جو دین اسلام کو مانیں گے اور اس پر عمل کریں گے کیونکہ محمد عربی ﷺ کی بعثت کا ایک بنیادی مقصد یہ بھی ہے کہ سابقہ شریعتیں منسوخ ہوجائیں، تمام مذاہب کا لعدم ہوجائیں اور تمام کائنات کو صرف ایک مذہب دین اسلام کے دائرہ میں لایا جائے جو اللہ کا سب سے آخری اور سب سے جامع و مکمل دین ہے۔
وعن أبي موسى الأشعري قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ثلاثة لهم أجران : رجل من أهل الكتاب آمن بنبيه وآمن بمحمد والعبد المملوك إذا أدى حق الله وحق مواليه ورجل كانت عنده أمة يطؤها فأدبها فأحسن تأديبها وعلمها فأحسن تعليمها ثم أعتقها فتزوجها فله أجران
اور حضرت ابوموسیٰ اشعری (آپ جلیل القدر صحابی ہیں، پہلی ہجرت حبشہ میں شریک تھے۔ ذی الحجہ ٤٤ ھ میں مکہ میں انتقال ہوا)۔ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تین آدمی ایسے ہیں جن کو دو دو اجر ملیں گے۔ اس اہل کتاب (یہودی اور عیسائی) کو جو (پہلے) اپنے نبی پر ایمان رکھتا اور پھر حضرت محمد ﷺ پر بھی ایمان لایا۔ اس غلام کو جو اللہ کے حقوق بھی ادا کرے اور اپنے آقاؤں کے حق کو بھی ادا کرتا رہے۔ اس آدمی کو جسکی کوئی لونڈی تھی اور وہ اس سے صحبت کرتا تھا۔ پہلے اس کو اچھا ہنر مند بنایا پھر اس کو خوب اچھی طرح تعلیم دی اور پھر اس کو آزاد کر کے اس سے نکاح کرلیا تو یہ بھی دوہرے اجر کا حقدار ہوگا۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم )
تشریح
اس ارشاد گرامی کا مقصد ان تین طرح کے لوگوں کو خوشخبری دینا ہے جن کو اوروں کے مقابلہ میں نیک عمل کا دوہرا اجر ملتا ہے۔ ان میں پہلی قسم کے لوگ وہ اہل کتاب (یہودی اور عیسائی) ہیں جو پہلے تو اپنے دین پر تھے اور پھر دعوت اسلام پا کر حلقہ بگوش اسلام ہوگئے ان کو دو ہرے اجر کی خوشخبری اس بنا پر دی گئی ہے کہ ان کا پہلے اپنے نبی کو پختہ دل سے ماننا، اس نبی کی لائی ہوئی کتاب و شریعت پر عمل کرنا اور اس نبی سے اعتقادی وابستگی وتعلق رکھنا اور پھر خاتم النبیین ﷺ کی رسالت و نبوت اور اللہ کے آخری دین اسلام کی دعوت پا کر صدق دل سے اس کے حلقہ بگوش ہوجانا، نہ صرف یہ کہ ان کے کمال انقیاد و اطاعت اور ان کی فکری و ذہنی سلامت روی کی علامت ہے بلکہ اس معنی میں ان کے قلبی و عملی ایثار کا غماز بھی ہے کہ اپنے سابقہ نبی اور سابقہ دین سے عقیدت وتعلق اور زبردست جذباتی لگاؤ کے باوجود انہوں نے دعوت اسلام پا کر اللہ کے حکم کی تعمیل میں اپنی زندگی کا رخ اس طرف موڑ دیا اور اب اپنے اعتقاد کی باگ ڈور دین اسلام کے سپرد کردی، جب تک ان کے سامنے اسلام کی دعوت نہیں آئی تھی وہ اپنے دین ہی کو اللہ کا دین سمجھ کر اس کے حلقہ بگوش رہے اور جب اسلام کی دعوت ان کے سامنے آئی تو انہوں نے اس کو اللہ کا آخری دین جان کر اپنے پچھلے دین کو چھوڑنے میں کسی ضد، ہٹ دھرمی اور تعصب سے کام نہیں لیا بلکہ فطرت سلیم کی آوز پر لبیک کہہ کر محمد عربی ﷺ کے غلاموں میں شامل ہوگئے، لہٰذا اللہ تعالیٰ نے خصوصی انعام کے طور پر ان کو ہر نیک عمل پر دوہرے اجر کا مستحق قرار دیا، ایک اجر تو اپنے پہلے نبی پر ایمان رکھنے کے سبب اور دوسرا اجر پیغمبر آخر الزمان ﷺ پر ایمان لانے کا۔ یہاں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ دنیا کے تمام مذاہب میں یہ خصوصیت اور امتیاز صرف اسلام ہی کو حاصل ہے کہ وہ اپنے تصورات و اعتقادات اور اپنی تعلیمات کی بنیاد انکار پر نہیں اقرار پر رکھتا ہے یعنی وہ آسمانی دینوں میں کسی رقابت یا رسولوں میں کسی تفریق کی خلیج حائل نہیں کرتا وہ تمام آسمانی کتابوں کی تصدیق پر زور دیتا ہے اور اللہ کی جانب سے بھیجے گئے تمام رسولوں کی رسالت پر ایمان لانے کی تاکید کرتا ہے، اسلام کے برخلاف دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کے اعتقادات و نظریات کو دیکھا جائے تو یہ بات جاننے میں دیر نہیں لگتی کہ ان کے یہاں کوئی آدمی اس وقت تک مذہب کا سچا پیرو اور حقیقی تابعدار نہیں ہوسکتا جب تک کہ وہ اس کے ماسوا دوسرے مذاہب کے اعتقاد و تصورات کی بنیادوں کو بالکل ہی مسمار نہ کر دے اور دوسرے رسولوں و پیغمبروں کی رسالت کا بالکل ہی انکار نہ کر دے، اسلام تو ایمان و اعتقاد کے پہلے ہی مرحلہ میں اپنے پیروؤں سے اس بات کا اقرار کراتا ہے کہ دنیا میں جتنے بھی رسول ﷺ، اللہ کی جانب سے مخلوق کی ہدایت کے لئے آئے ان میں کسی قسم کی تفریق نہ کی جائے، ان کی لائی ہوئی شریعتوں کو اپنے اپنے زمانہ کے لئے حق اور واجب تسلیم مانا جائے، وہ اپنے متبعین کو احساس صداقت کا یہ شعور بخشتا ہے کہ آسمانی مذاہب میں کوئی پارٹی بندی نہیں ہے سب ایک ہی صداقت کی کڑیاں ہیں نیز وہ اپنے ماننے والوں کو واضح طور پر آگاہ کردیتا ہے کہ ایمان کی تکمیل جب ہی ہوگی کہ دوسرے آسمانی مذاہب کی تصدیق بھی کی جائے اور سابقہ تمام انبیاء کی صداقت کو مانا جائے۔ اس حدیث سے یہ بات بھی واضح ہوگئی کہ اگر کوئی یہودی یا عیسائی ایمان لائے اور رسول اکرم ﷺ کی رسالت کا صدق دل سے اقرار کرے۔ تو اپنے نبی پر لایا ہوا اس کا پہلا ایمان ضائع نہیں جائے گا بلکہ وہ اس پر اجر وثواب کا مستحق قرار دیا جائے گا لیکن وہ پیغمبر اسلام ﷺ کی رسالت کی اگر تصدیق نہیں کرتا اور آپ کی لائی ہوئی شریعت پر ایمان نہیں لاتا تو نہ صرف یہ کہ وہ کفر و انکار کی بنا پر ہمیشگی والے عذاب کا مستحق سمجھا جائے گا بلکہ اس کا اپنے نبی پر لایا ہوا ایمان بھی رائیگاں اور بیکار سمجھا جائے گا اور اس پر کسی قسم کے اجر وثواب کا استحقاق پیدا نہیں ہوگا کیونکہ جس طرح تمام انبیاء پر ایمان لانا اور ان کی رسالت کی تصدیق کرنا لازم ہے اسی طرح عمل اور پیروی پیغمبر اسلام ﷺ کی شریعت پر ضروری ہے اور مدار نجات صرف اسلام کی اطاعت و فرمانبرداری ہی ہے۔ دوسرے آدمی کے لئے دوہرے اجر کی خوشخبری کا سبب بھی واضح ہے یعنی یہ کہ ایک غلام کے لئے نہ صرف سماجی روایتی اور دنیاوی حیثیت سے یہ ضروری ہے کہ وہ اپنے مالک و آقا کی اطاعت و فرمانبرداری کرے اور اس کے احکام کی پوری پوری تعمیل کرے بلکہ اسلامی تعلیم کا تقاضا بھی یہ ہے کہ وہ مالک و آقا کے عائد شدہ حقوق کی ادائیگی میں کسی قسم کی کوتاہی یا سستی نہ کرے، لہٰذا ایک غلام جب اپنے آقا کے حقوق کی پوری نگہداشت کرتا ہے اور حقوق کی ادائیگی کے تمام تقاضے پورے کرتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ وہ اپنے حقیقی مالک اور پروردگار اللہ رب العالمین کے احکام کی بجا آوری بھی پورے حقوق کے ساتھ کرتا ہے اور اس کے عائد کئے ہوئے تمام فرائض کی تکمیل میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں کرتا تو وہ دوہرے اجر کا استحقاق پیدا کرلیتا ہے۔ اب رہ گیا تیسرا آدمی تو اس کو بھی دوہرے اجر کا مستحق اس بنا پر قرار دیا گیا ہے کہ اول تو اس نے ایک لونڈی کو آزاد کیا جو نہ صرف یہ کہ انسانیت اور فطرت کے اعتبار کے تقاضا کو پورا کرنا ہے بلکہ اسلامی اخلاق کے اعلیٰ اصول و قواعد پر عمل کرنا بھی ہے، دوسرے یہ کہ اس لونڈی کو آزاد کرکے اور پھر اس سے شادی کر کے اس نے انسانی ہمدردی، اسلامی مساوات اور بلند اخلاقی کا اس طرح اعلیٰ ثبوت دیا کہ ایسی عورت کو جو سماجی حیثیت سے ایک کمتر، بےوقعت اور ذلیل بن کر رہ گئی تھی، اچھی تربیت، اعلیٰ تعلیم اور پھر آزادی و شادی کی گراں قدر دولت سے نواز کر دنیا کی باعزت اور سوسائٹی و معاشرہ کی شریف و معزز عورتوں کے برابر بھی لا کھڑا کیا، اس طرح اس نے اگر ایک طرف انسانیت اور اخلاق کے تقاضے کو پورا کیا، تو دوسری طرف اسلامی تعلیم کی روح کو بھی اجاگر کیا پس اس کے اس ایثار کی بناء پر شریعت نے اس کو بھی دوہرے اجر کا استحقاق عطا کیا۔ حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی نے اس حدیث کی وضاحت کرتے ہوئے دوہرے اجر کے بارے میں لکھا ہے کہ ان لوگوں کے نامہ اعمال میں جزاء اور ثواب کی یہ دوگنی اضافت اس طرح ہوگی کہ ان کو ہر عمل پر دوسروں کے مقابلہ میں دوہرا ثواب ملے گا، مثلاً اگر کوئی دوسرا آدمی نماز پڑھتا ہے، روزہ رکھتا ہے یا کوئی اور نیک کام کرتا ہے تو اس کو عمومی خوشخبری کے تحت دس ثواب ملیں گے لیکن یہی عمل اگر یہ تینوں کریں گے تو ان کو ہر ایک عمل پر بیس بیس ثواب ملیں گے۔
وعن ابن عمر رضي الله عنهما قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أمرت أن أقاتل الناس حتى يشهدوا أن لا إله إلا الله وأن محمدا رسول الله ويقيموا الصلاة ويؤتوا الزكاة فإذا فعلوا ذلك عصموا مني دماءهم وأموالهم إلا بحق الإسلام وحسابهم على الله . إلا أن مسلما لم يذكر إلا بحق الإسلام ( صحیح البخاری و صحیح مسلم)
اور حضرت عبداللہ ابن عمر راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا مجھے اللہ تعالیٰ کی جانب سے حکم دیا گیا ہے کہ میں (دین دشمن) لوگوں سے اس وقت تک جنگ کروں جب تک کہ وہ اس بات کی گواہی نہ دے دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے (بھیجے ہوئے) رسول ہیں نیز نماز پڑھیں اور زکوٰۃ دیں اور پھر جب وہ ایسا کرنے لگیں تو انہوں نے اپنی جان و مال کو مجھ سے بچا لیا۔ ہاں جو باز پرس اسلامی ضابطہ کے تحت ہوگی وہ اب بھی باقی رہے گی اس کے بعد ان کے باطن کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے (وہ جانے کہ ان کا اسلام صدق دل سے تھا یا محض اپنی جان و مال کی حفاظت کے لئے دکھلاوے کا تھا) (صحیح البخاری و صحیح مسلم) مسلم کی روایت میں الا بحق الا سلام کے الفاظ نہیں ہیں۔
تشریح
یہ دنیا اللہ کی حقیقی ملکیت ہے وہی اس زمین کا شہنشاہ اور تمام کائنات کا حاکم مطلق ہے اس کی زمین پر رہنے کا حق اسی کو حاصل ہے جو اس کی حاکمیت کو تسلیم کر کے اس کے قوانین کی پیروی کرتا ہے اس کے احکام کی تابعداری کرتا ہے، اس کے اتارے ہوئے نظام و شریعت کے تحت زندگی گزارتا ہے اور اس کے بھیجے ہوئے رسول اور پیغمبر کی اطاعت و فرمانبرداری کرتا ہے۔ اس دنیا میں پیغمبروں کی بعثت کا اصل مقصد روئے زمین پر حقیقی شہنشاہ اور حاکم مطلق ( اللہ تعالیٰ ) کی حاکمیت کا نفاذ کرنا ہوتا ہے، پیغمبر کا فریضہ یہ ہوتا ہے کہ وہ دین و شریعت کی صورت میں حاکمیت الہ کا جو مشن لے کر آیا ہے اس کو ہر ممکن جدوجہد کے ذریعہ پھیلائے لوگوں کو اپنے دین کے دائرہ میں لانے کی پوری پوری کوشش کرے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ اس کی جدوجہد اور سعی کے نیتجہ میں جو معاشرہ بن گیا ہے اس پر دنیا کے کسی غیر دینی روایت و قانوں اور کسی آدمی و گروہی بالادستی کی حکمرانی قائم نہ ہونے پائے بلکہ صرف خدائی حکمرانی یعنی دین و شریعت کی حکومت قائم ہو اور پھر کسی کو اس بات کی اجازت نہ ہو کہ وہ دین و شریعت کا دشمن و مخالف اور باغی بن کر اس معاشرہ (اسلامی ریاست) میں رہ سکے جو لوگ بغاوت و سرکشی اختیار کریں اور خدائی حکمرانوں کے تحت آنے سے منکر ہوں ان کے خلاف وہی کاروائی کی جائے جو کسی بھی معاشرہ میں آئین و حکومت کے باغیوں کے خلاف ہوتی ہے، اسی حقیقت کو رسول اللہ ﷺ نے اس حدیث میں بیان فرمایا ہے کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ میں خدائی حکمرانی باغیوں اور دین و شریعت کے دشمنوں کے خلاف اس وقت تک جنگ جاری رکھوں جب تک وہ اپنی سرکشی اور دشمنی کو ترک کے کے ہماری معاشرہ یعنی (اسلامی ریاست) میں رہنے کے حقوق حاصل نہ کرلیں اور انہیں یہ حقوق ملنے کی ایک تو یہی صورت ہے کہ وہ کفر و سرکشی کے بجائے ایمان و اسلام اختیار کرلیں یعنی صدق دل سے اس بات کا اقرار اور زبان سے اظہار کریں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، پھر اپنے عمل سے ثابت کریں کہ ان کا یہ اقرار اور زبان سے اظہار مخلصانہ ہے (یعنی اللہ اور اس کے رسول کے تمام احکام کی پیروی کریں) خصوصاً پابندی سے نماز پڑھیں، زکوٰۃ ادا کریں اور دوسرے فرائض پر عمل کریں۔ دوسری صورت (جس کا اس حدیث میں تو ذکر نہیں ہے۔ لیکن دوسری جگہوں پر ثابت ہے) یہ ہے کہ اگر وہ لوگ ایمان وا سلام کے دائرے میں نہیں آتا چاہتے مگر اسلامی ریاست میں اپنی وطنیت اور بودوباش کو باقی رکھنا چاہتے ہیں تو ان کے لئے ضروری ہے کہ وہ دینی و مذہبی طور پر نہ سہی مگر سماجی و معاشرتی طور پر اسلامی ریاست کے تابع اور من پسند باشندے بن کر رہنے کا اقرار کریں جس کی علامت اس ٹیکس کی پابندی سے ادائیگی ہے جس کو اصطلاح میں جزیہ کہا جاتا ہے اس ٹیکس کی ادائیگی اسلامی ریاست میں کسی غیر مسلم کے تمام انسانی، سماجی اور شہری حقوق کے تحفظ کی ضمانت ہے۔ اگر کوئی آدمی جزیہ نہ دینا چاہے تو اس کا متبادل یہ ہے کہ وہ اپنی محکومیت و مغلوبیت کا اقرار کر کے کسی خاص معاہدہ کے تحت سربراہ ریاست (رسول) سے صلح کرلے اور پناہ لے کر اسلامی ریاست میں رہے، اسلامی قانون اپنے مخصوص رحم و کرم کی بناء پر اس کے جان و مال اور عزت کے تحفظ کی ذمہ داری لے لے گا۔ بہر حال حدیث سے معلوم ہوا کہ جو آدمی ایمان و اسلام کے دائرہ میں داخل ہوجائے یا جزیہ ادا کر کے اور پناہ لے کر اسلامی ریاست کا باشندہ ہو اس کے جان و مال اور عزت کے تحفظ کی ذمہ داری ریاست کے اوپر ہوگی۔ اور ریاست اپنے اسلامی قانون کے تحت اس کے تمام انسانی، سماجی اور شہری حقوق کی نگہداشت کرے گی لیکن جہاں تک قانونی جرائم، سماجی بےاعتدالیوں اور بشری خطاؤں کا تعلق ہے ان کے بارے ہر حال میں مواخذہ ہوگا خواہ ان کا مرتکب کوئی مسلمان ہو یا ذمی کافر، اس معاملہ میں کسی کے ساتھ رعایت و چشم پوشی نہیں ہوگی، مثلاً اگر کوئی مسلمان یا ذمی کسی کو ناحق قتل کردیتا ہے تو اس کو قصاص (سزا) میں قتل کردیا جائے گا یا ایسے ہی کوئی زنا کرے گا تو اس پر حد جاری کی جائے گی اور اس کو پوری سزا دی جائے گی یا کسی نے کسی کا مال زبردستی ہڑپ کرلیا تو اس سے اس کا مال مالک کو واپس دلایا جائے گا، گویا قانون کی عملداری ہر حال میں قائم کی جائے گی جو آدمی بھی خلاف ورزی کرے گا اس کو ضرور سزادی جائے گی اسلامی حقوق اور قوانین کے نفاذ کے معاملہ میں کسی تخصیص اور رعایت کا سوال پیدا نہیں ہوگا۔ حدیث کے آخر میں اس بات کی طرف بھی اشارہ کردیا گیا ہے کہ شریعت اپنے قانون کے نفاذ میں ظاہری حیثیت پر حکم لگاتی ہے اور باطنی حالت کو اللہ کے سپرد کردیتی ہے یعنی اگر کوئی آدمی جان و مال کی حفاظت یا کسی غرض کے تحت بظاہر مسلمان بن جاتا ہے اور دل میں کفر و نفاق ہے تو اسلامی قانون اس کو مسلمان ہی تسلیم کرے گا، دل کا معاملہ اللہ کے سپرد رہے گا، اگر واقعی اس کے دل میں کھوٹ ہوگا تو آخرت میں اس کو نفاق کی سزا یقینا ملے گی، وہاں مواخذہ خداوندی سے نہ بچ سکے گا۔ یہ حدیث اس مسئلہ کی بھی دلیل ہے کہ ملحدوں اور زندیقوں کی توبہ قبول کی جاسکتی ہے یعنی اگر کوئی ملحد و زندیق آکر یہ کہے کہ میں الحادو زندقہ سے توبہ کرتا ہوں تو اس کی توبہ قبول کر کے اس کی جان لینے سے اجتناب کیا جائے گا۔ ویسے اس مسئلہ میں متعدد اقوال ہیں، ان میں سے ظاہر تر قول یہ ہے کہ اگر کسی آدمی نے بےدینی کا اظہار کیا اور اپنی زبان سے ایسے الفاظ نکالے جن سے اس کا منکر اللہ اور منکر دین ہونا معلوم ہوتا ہو پھر جلد ہی اس نے الحادو زندیقی سے برأت کی اور برضا ورغبت توبہ کرلی تو اس کی توبہ قبول ہوگی اور اگر اس کی توبہ محض جان پچانے کے لئے اور اسلامی قانون کی سزا سے بچنے کے لئے ہو تو پھر اس کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی۔
وعن أنس أنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من صلى صلاتنا واستقبل قبلتنا وأكل ذبيحتنا فذلك المسلم الذي له ذمة الله وذمة رسوله فلا تخفروا الله في ذمته . رواه البخاري
اور حضرت انس فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو آدمی ہماری طرح نماز پڑھے ہمارے قبلہ کی طرف رخ کرے اور ہمارے ذبیحوں کو کھائے وہ مسلمان ہے اور اللہ اور اللہ کے رسول کے عہد وامان میں ہے۔ پس جو آدمی اللہ کے عہد وامان میں ہے تم اس کے ساتھ عہد شکنی مت کرو۔ (صحیح البخاری )
تشریح
اصل ایمان اگرچہ تصدیق قلبی کا نام ہے لیکن یہ ایک اندرونی کیفیت اور قلبی صفت ہے جس کا تعلق باطن سے ہے، اسی طرح اقرار اگرچہ زبان سے متعلق ہے مگر وہ بھی ایک قیمتی چیز ہے لہٰذا دو دینوں میں کھلا ہوا امتیاز ان کے علیحدہ علیحدہ شعار ہی کے ذریعہ ہوسکتا ہے، اسلامی معاشرہ میں نماز پڑھنا اور بیت اللہ کی طرف منہ کر کے عبادت کرنا اہل کتاب کے مقابلہ میں سب سے زیادہ امتیازی عمل ہے، اسی طرح معاشرتی لحاظ سے جس عمل اور طریقہ میں اہل کتاب مسلمانوں سے کھلا ہوا احتراز کرتے تھے وہ ان کا ذبیحہ تھا کہ مسلمانوں کا ذبح کیا ہوا گوشت اہل کتاب نہیں کھاتے تھے لہٰذا اس حدیث میں بتایا گیا ہے کہ اگر عبادات میں وہ ہماری طرح قبلہ کی طرف رخ کرنے لگیں اور معاشرتی لحاظ سے وہ ہم سے اتنا قریب آجائیں کہ ہمارے ہاتھ کا ذبیحہ کھانے لگیں تو یہ اس بات کی کھلی ہوئی شہادت ہوگی کہ وہ ہمارا دین پوری یقین کے ساتھ قبول کرچکے ہیں اور ایمان ان کے دل کی گہرائیوں تک پہنچ گیا ہے جس کا اظہار نہ صرف یہ کہ زبان سے بلکہ ان کے عمل سے بھی ہو رہا ہے کہ وہ دائرہ اسلام میں پوری طرح داخل ہوگئے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ اور اللہ کے رسول کے ساتھ ان کا عہد و اقرار ہوگیا ہے ان کی جان و مال اور عزت و آبرو کی حفاظت کا ذمہ اللہ اور اللہ کے رسول نے لے لیا ہے اس لئے مسلمانوں کو چاہیے کہ ان کے ساتھ کسی قسم کی بد معاملگی یا برا سلوک نہ کریں، نہ ان کو ستائیں نہ تکلیف دیں اور نہ ان کے ساتھ ایسا طور پر طریقہ رکھیں جس سے ان میں کسی قسم کا خوف و ہر اس یا دل شکستگی پیدا ہو، ان کے ساتھ کسی بھی طرح کی بدمعاملگی اور بدسلوکی درحقیقت اللہ کے عہد کو توڑ نے اور اس عہد شکنی کا الزام اللہ پر عائد کرنے کے مترادف ہوگی۔
جنت میں لے جانے والے اعمال
وعن أبي هريرة قال : أتى أعرابي النبي صلى الله عليه و سلم فقال : دلني على عمل إذا عملته دخلت الجنة . قال : تعبد الله ولا تشرك به شيئا وتقيم الصلاة المكتوبة وتؤدي الزكاة المفروضة وتصوم رمضان . قال : والذي نفسي بيده لا أزيد على هذا شيئا ولا أنقص منه . فلما ولى قال النبي صلى الله عليه و سلم : من سره أن ينظر إلى رجل من أهل الجنة فلينظر إلى هذا (صحیح البخاری و صحیح مسلم)
اور حضرت ابوہریرہ راوی ہیں کہ ایک دیہاتی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ! مجھے کوئی ایسا عمل بتا دیجئے کہ جس کے کرنے سے میں جنت میں داخل ہوجاؤں۔ آپ ﷺ نے فرمایا اللہ کی عبادت کرو، کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہراؤ، فرض نماز پڑھو فرض زکوٰۃ ادا کرو اور رمضان کر روزے رکھو یہ سن کر دیہاتی نے کہا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے میں نہ تو اس پر کچھ زیادہ کروں گا اور نہ اس میں سے کچھ کم کروں گا، جب وہ دیہاتی چلا گیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو آدمی کسی جنتی آدمی کو دیکھنے کی سعادت اور مسرت حاصل کرنا چاہے وہ اس آدمی کو دیکھ لے۔ (صحیح البخاری )
تشریح
یہاں یہ اشکال پیدا ہوسکتا ہے کہ آپ ﷺ نے اس دیہاتی کو اسلامی تعلیمات سے آگاہ فرمایا مگر شہادتین کا ذکر نہیں کیا، حالانکہ بغیر شہادتین کے جنت میں داخل ہونا ناممکن ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اول تو وہ دیہاتی یقینا مسلمان ہوگا جو ایمان لانے کے بعد جنت میں داخل کرنے والے عمل کے بارے میں سوال کر رہا تھا دوسرے یہ کہ سب ہی جانتے ہیں کہ بغیر شہادتین کے تمام اعمال بیکار ہیں اور اس کے بغیر جنت میں دخول ہی ممکن نہیں اس لئے شہادتین کے ذکر کی ضرورت نہیں سمجھی گئی۔ یہاں صرف تین فرائض ذکر کئے گئے ہیں، بقیہ فرائض کا ذکر نہیں کیا گیا؟ تو ہوسکتا ہے کہ جس وقت اس دیہاتی نے سوال کیا تھا اس وقت تک یہی تین چیزیں فرض ہوئی ہوں گی اور بقیہ فرائض بعد میں مشروع ہوئے ہوں گے، زیادتی اور کمی نہ کرنے کا عہد درحقیقت اس دیہاتی کے اعتقاد کی پختگی اور قلبی تصدیق کے مضبوط ہونے کی دلیل تھا گویا اس کا مطلب یہ تھا کہ میرے دل میں ایمان و اسلام کی لذت اور اس کی حقانیت و صداقت کی کیفیت اور آپ ﷺ کے احکام و فرمان کی بجا آوری کا داعیہ اس مضبوطی اور پختگی کے ساتھ ہے کہ نہ تو اس سوال پر کسی قسم کی زیادتی کی حاجت ہے اور نہ جواب کی مانعیت و جامعیت اور اس کی اہمیت کسی قسم کی کمی کی روا دار ہے! چناچہ اس دیہاتی کے یقین کی اسی کیفت اور اس کی اسی شیفتگی و محبت اور احکام و شریعت کے مطابق اس کے اسی جذبہ اطاعت کو دیکھ کر لسان نبوت نے اس مخلص انسان کے جنتی ہونے کی خوشخبری سنائی اور اعلان فرمایا کہ اگر کسی آدمی کو تمنا ہو کہ جنتی آدمی کو دیکھے اور کسی جنتی کو دیکھنے کی مسرت اور سعادت حاصل کرنا چاہے تو اس آدمی کو دیکھ لے۔
وعن سفيان بن عبد الله الثقفي قال : قلت : يا رسول الله قل لي في الإسلام قولا لا أسأل عنه أحدا بعدك وفي رواية : غيرك قال : قل : آمنت بالله ثم استقم . رواه مسلم
حضرت سفیان بن عبداللہ الثقفی فرماتے ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ کی خد مت اقدس میں عرض کیا یا رسول اللہ! مجھ کو اسلام کی کوئی ایسی بات بتا دیجئے کہ آپ کے بعد پھر مجھ کو کسی دوسرے سے پوچھنے کی ضرورت باقی نہ رہے اور ایک روایت کے الفاظ اس طرح ہیں کہ آپ ﷺ کے علاوہ کسی دوسرے سے پوچھنے کی حاجت نہ رہے آپ ﷺ نے فرمایا زبان و دل سے اس بات کا اقرار کرو کہ میں اللہ پر ایمان لایا اور پھر اس اعتراف و اقرار پر قائم رہو۔ (صحیح مسلم)
تشریح
یعنی سب سے پہلا کام تو یہ ہے کہ اللہ کی وحدانیت اور اس کی الوہیت کی گواہی دو اور اس کی ذات اور تمام صفات پر صدق دل سے اعتراف و اعتقاد کے ساتھ ایمان لاؤ، یہ ایمان باللہ کی اعتقادی صورت ہے اور اس کی عملی صورت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کے ذریعہ جو شریعت اتاری ہے اس کی صداقت و حقانیت پر کامل یقین رکھو اور اس کو قبول کرکے احکام رسول کی اطاعت و فرمانبرداری کرو، اللہ اور اللہ کا رسول جس چیز کے کرنے کا حکم دیں اس پر عمل کرو اور جس چیز سے منع کریں اس سے رک جاؤ پھر یہ کہ اعتقاد و اطاعت کوئی وقتی و عارضی چیز نہ ہو بلکہ ان پر پختگی کے ساتھ قائم و دائم رہو اور زندگی کے کسی بھی لمحہ میں ان سے انحراف نہ کرو۔
وعن طلحة بن عبيد الله قال : جاء رجل إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم من أهل نجد ثائر الرأس نسمع دوي صوته ولا نفقه ما يقول حتى دنا من رسول الله صلى الله عليه و سلم فإذا هو يسأل عن الإسلام فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : خمس صلوات في اليوم والليلة . فقال : هل علي غيرهن ؟ فقال : لا إلا أن تطوع . قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : وصيام شهر رمضان . قال : هل علي غيره ؟ قال : لا إلا أن تطوع . قال : وذكر له رسول الله صلى الله عليه و سلم الزكاة فقال : هل علي غيرها ؟ فقال : لا إلا أن تطوع . قال : فأدبر الرجل وهو يقول : والله لا أزيد على هذا ولا أنقص منه . فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أفلح الرجل إن صدق (صحیح البخاری و صحیح مسلم)
اور حضرت طلحہ بن عبیداللہ فرماتے ہیں اہل نجد میں سے ایک آدمی رسول کریم ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا جس کے سر کے بال بکھرے ہوئے تھے، ہم اس کی آواز گنگناہٹ تو سن رہے تھے لیکن (فاصلہ پر ہونے کی وجہ سے) یہ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ آپ ﷺ سے کیا کہہ رہا ہے۔ یہاں تک کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے بالکل قریب پہنچ گیا تو ہم نے سنا کہ وہ اسلام کے (فرائض کے) بارے میں سوالات کر رہا ہے، رسول اللہ ﷺ نے (اس کے جواب میں) فرمایا رات دن میں پانچ نمازیں (فرض) ہیں۔ (یہ سن کر) اس آدمی نے کہا کیا ان نمازوں کے سوا مجھ پر کچھ اور نمازیں بھی فرض ہیں آپ نے فرمایا نہیں! مگر نفل نمازیں تمہیں پڑھنے کا اختیار ہے پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اور ماہ رمضان کے روزے (فرض) ہیں۔ اس آدمی نے کہا کیا ان روزوں کے سوا کچھ اور روزے بھی مجھ پر فرض ہیں آپ نے فرمایا نہیں! مگر نفل روزے رکھنے کا تمہیں اختیار ہے راوی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اس کے بعد زکوٰۃ کا ذکر فرمایا اس نے عرض کیا، اس کے علاوہ بھی مجھ پر کوئی صدقہ فرض ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا نہیں! مگر نفل صدقے کا تمہیں اختیار ہے اس کے بعد وہ آدمی یہ کہتا ہوا چلا گیا کہ اللہ کی قسم! میں نہ تو اس پر کچھ زیادتی کروں گا اور نہ اس سے کچھ کمی کروں گا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ اگر اس آدمی نے سچ کہا ہے تو نجات پا گیا ہے اور کامیاب ہوگیا۔ (صحیح البخاری، مسلم)
تشریح
جیسا کہ پہلے ایک حدیث کے فائدہ میں گزرا، یہاں بھی یہی کہا جائے گا کہ جس وقت اس آدمی نے سوال کیا تھا اس وقت تک اتنے ہی فرائض مشروع ہوئے ہوں گے اسی طرح نماز وتر عیدین وغیرہ بھی واجب نہ ہوئی ہوں گی اسی واسطے اس آدمی نے اس میں زیادتی اور کمی نہ کرنے کا وعدہ کیا یا پھر یہ کہا جاسکتا ہے کہ وہ آدمی کسی قوم کا نمائندہ اور ایلچی بن کر اسلام کی حقیقت اور فرائض جاننے آیا تھا تاکہ واپس جا کر اپنی قوم کو بھی اسلامی تعلیمات اور فرائض سے آگاہ کرے اسی لئے اس نے واپسی کے وقت کہا کہ نہ تو میں اس میں زیادتی کروں گا اور نہ کمی کروں گا، یعنی آپ ﷺ نے جو کچھ فرمایا ہے یا جو احکام و فرمان بتلائے ہیں وہ اسی طرح اپنی قوم تک پہنچادوں گا، ان میں نہ تو اپنی طرف سے کوئی زیادتی کروں گا اور نہ کوئی کمی۔
وعن ابن عباس رضي الله عنهما قال : إن وفد عبد القيس لما أتوا النبي صلى الله عليه و سلم : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من القوم ؟ أو : من الوفد ؟ قالوا : ربيعة . قال : مرحبا بالقوم أو : بالوفد غير خزايا ولا ندامى . قالوا : يا رسول الله إنا لا نستطيع أن نأتيك إلا في الشهر الحرام وبيننا وبينك هذا الحي من كفار مضر فمرنا بأمر فصل نخبر به من وراءنا وندخل به الجنة وسألوه عن الأشربة . فأمرهم بأربع ونهاهم عن أربع : أمرهم بالإيمان بالله وحده قال : أتدرون ما الإيمان بالله وحده ؟ قالوا : الله ورسوله أعلم . قال : شهادة أن لا إله إلا الله وأن محمدا رسول الله وإقام الصلاة وإيتاء الزكاة وصيام رمضان وأن تعطوا من المغنم الخمس ونهاهم عن أربع : عن الحنتم والدباء والنقير والمزفت وقال : احفظوهن وأخبروا بهن من وراءكم ولفظه للبخاري
اور حضرت عبداللہ ابن عباس ( حضور ﷺ کے حقیقی چچا حضرت عباس کے صاحبزادے ہیں جو خیر الامت کے لقب سے مشہور ہیں، ستر برس کی عمر میں بمقام طائف وفات پائی)۔ بیان کرتے ہیں کہ جب وفد عبدالقیس رسول اللہ ﷺ کی خدمت اقدس میں مدینہ پہنچا تو رسول اللہ ﷺ نے پوچھا یہ کون لوگ ہیں یا یوں پوچھا کہ یہ کس قبیلے کا وفد ہے؟ (راوی کو شک ہوا کہ آپ ﷺ نے یہاں، قوم کا لفظ فرمایا یا وفد کا) لوگوں نے جواب دیا کہ قبیلہ ربیعہ کے افراد ہیں آپ ﷺ نے فرمایا خوش آمدید (چونکہ تم لوگ خوشی سے مسلمان ہو کر آئے ہو اس لئے) نہ دنیا میں تمہارے لئے رسوائی ہے اور نہ آخرت کی شرمندگی، اہل وفد نے عرض کیا یا رسول اللہ! چونکہ ہمارے اور آپ ﷺ کے درمیان کفار مضر کا (مشہور جنگ جو) قبیلہ رہتا ہے اس لئے ہم آپ کی خدمت میں جلد جلد حاضر نہیں ہوسکتے صرف ان مہینوں میں آسکتے ہیں جن میں لڑنا حرام ہے لہٰذا آپ ﷺ حق و باطل کے درمیان فرق کرنے والے ایسے احکام ہمیں عطا فرما دیجئے جن پر ہم خود بھی عمل کریں اور ان لوگوں کو (بھی) ہم اس سے آگاہ کردیں جن کو اپنے پیچھے (وطن و قوم میں) چھوڑ آئے ہیں اور اس پر عمل کرنے سے ہم جنت میں داخل ہوجائیں (اور اسی کے ساتھ) انہوں نے (ان) برتنوں کی بابت بھی پوچھا (جن میں نبیذ بنائی جاتی تھی کہ کون سے استعمال میں لائے جاسکتے ہیں اور کون سے نہیں) آپ ﷺ نے ان کو چار باتوں کا حکم دیا اور چار باتوں سے منع کیا اور اول اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر ایمان لانے کا حکم دیا اور فرمایا جانتے ہو اللہ کی وحدانیت پر ایمان لانے کا مطلب کیا ہے؟ انہوں نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول ہی خوب جانتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا جانتے ہو اللہ کی وحدانیت پر ایمان لانا) اس حقیقت کی شہادت دینا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، پابندی سے نماز پڑھنا، زکوٰۃ دینا اور ماہ رمضان کے روزے رکھنا (ان چار باتوں کے علاوہ بعد میں آپ ﷺ نے) مال غنیمت میں سے پانچویں حصے کے دینے کا حکم بھی فرمایا۔ اور ان چار برتنوں کے استعمال سے منع فرمایا لاکھ کئے ہوئے برتنوں سے، کدو کے تونبوں سے درخت کی کھوکھلی جڑوں سے بنائے ہوئے برتنوں سے، رال کئے ہوئے برتنوں سے اور فرمایا ان باتوں کو اچھی طرح یاد کرلو اور جن مسلمانوں کو اپنے پیچھے (وطن میں) چھوڑ آئے ہو ان کو بھی باتوں سے آگاہ کردو۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم، الفاظ صحیح البخاری کے ہیں)
تشریح
اسلام کی آواز جب مکہ اور مدینہ کے اطراف سے نکل کر دوسرے علاقوں میں پہنچی تو مختلف مقامات کے قبیلوں اور قوموں کے افراد وفد کی شکل میں اسلامی تعلیمات کی حقیقت اور پیغمبر اسلام ﷺ کی دعوت کی صداقت کو جاننے اور سمجھنے کے لئے دربار سالت میں حاضر ہونے لگے۔ یہ وفود دینی تعلیمات اور اسلامی فرائض کو رسول اللہ ﷺ سے حاصل کرتے۔ احادیث میں ایسے بہت سے وفود کا ذکر آتا ہے جو اس سلسلہ میں دربار رسالت میں حاضر ہوئے اور اسلام کی آواز کو دور دراز کے علاقوں اور قبیلوں تک پہنچانے کا ذریعہ بنے، ایسا ہی ایک وفد عبدالقیس ہے جس کا تذکرہ اس حدیث میں کیا جا رہا ہے۔ عبدالقیس دراصل سربراہ وفد کا نام تھا انہی کی نسبت سے یہ وفد مشہور ہوا۔ یہ لوگ بحرین کے باشندے تھے۔ اور آپ ﷺ کی خدمت میں دو مرتبہ حاضر ہوئے پہلی مرتبہ فتح مکہ سے پہلے ٥ ھ میں، اس وقت ان کی تعداد ١٣ یا ١٤، تھی، دوسری مرتبہ ٨ یا ٩ ھ میں جب ان کی تعداد چالیس تھی یہی وہ وفد ہے جس کے قبیلہ کی مسجد میں اسلام میں مسجد نبوی کے بعد سب سے پہلے جمعہ قائم ہوا ہے چناچہ صحیح البخاری کی روایت ہے (حدیث اول جمعۃ بعد جمعۃ مسجد رسول اللہ ﷺ فی مسجد عبدالقیس بجواثی من البجرین)۔ مسجد نبوی کے بعد سب سے پہلا جمعہ بحرین کے مقام جواثی میں عبدالقیس کی مسجد میں ادا کیا گیا۔ اس وفد کی آمد کے سلسلہ میں یہ منقول ہے کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ نے اپنے صحابہ سے فرمایا تھا کہ تمہارے پاس ابھی ایک ایسا قافلہ آنے والا ہے جو اہل مشرق میں سب سے بہتر ہے۔ سیدنا عمر ان کو دیکھنے کے لئے کھڑے ہوئے تو انہیں تیرہ آدمیوں کا قافلہ آتا ہوا نظر آیا جب قافلہ قریب آیا حضرت عمر فاروق نے ان کو رسول اللہ ﷺ کی خوشخبری سنائی اور قافلہ کے ساتھ ساتھ دربار رسالت میں حاضر ہوئے، اہل قافلہ کی نظر جوں ہی روئے انور ﷺ پر پڑی سب کے سب بےتابانہ آپ ﷺ کی طرف دوڑ پڑے اور فرط اشتیاق سے اپنا سامان اسی طرح چھوڑ کر دیوانہ وار آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ ﷺ کے دست مبارک چومنے لگے، حضرت عبدالقیس جو امیر قافلہ تھے اگرچہ نوعمر تھے لیکن سب سے پیچھے رہ گئے تھے، انہوں نے پہلے سب کے اونٹ باندھے پھر اپنا بکس کھولا، سفر کے کپڑے اتارے اور دوسرا لباس تبدیل کیا پھر سکون و وقار کے ساتھ آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ ﷺ کے دست مبارک کو بوسہ دیا آدمی بد شکل تھے۔ جب رسول اللہ ﷺ نے ان کی طرف نظر اٹھائی تو انہوں نے عرض کیا، یا رسول اللہ! آدمی کی محبت صرف اس ڈھانچہ سے نہیں ہوتی بلکہ اس کی قدر و قیمت اس کے دو چھوٹے اعضاء بتاتے ہیں اور وہ زبان و دل ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا تم میں دو خصلتیں ہیں جن کو اللہ و رسول پسند کرتے ہیں یعنی دانائی اور بردباری۔ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! یہ خصلتیں مجھ میں پیدائشی ہیں یا کسبی؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا پیدائشی۔ اس قبیلہ کے افراد کو اپنے وطن سے مدینہ آنے کے لئے کفار مضر قبیلے کے پاس سے گزرنا پڑتا تھا اس قبیلہ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ بہت زیادہ جنگ جو تھا۔ ان کی آبادی کے قریب سے جو بھی گزرتا تھا ان سے جنگ ہونی ضرور تھی اس لئے اس وفد نے کہا چونکہ ہمارے لئے عام دنوں میں آنا بہت مشکل ہے، اس لئے بار بار نہیں آسکتے، صرف ان ہی مہینوں میں آسکتے ہیں جو عرب میں اشہر حرام سمجھے جاتے ہیں، اہل وفد کو جن چیزوں کو تعلیم دی گئی وہ چار ہیں (١) اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانا۔ (٢) نماز۔ (٣) روزہ۔ (٤) حج کا ذکر نہیں کیا گیا لیکن بعض محدثین نے اس حدیث میں حج البیت کے الفاظ ذکر کئے ہیں جس کو حافظ ابن حجر نے شاذ قرار دیا ہے۔ ان لوگوں کو ایک حکم بعد میں جو بطور خاص دیا گیا وہ مال غنیمت کا پانچواں حصہ ادا کرنے کا تھا اور ان کو یہ حکم اس لئے دیا گیا تھا کہ یہ لوگ اکثر جہاد کیا کرتے تھے اور کفار سے مقابلہ آرائی کے نتیجہ میں مال غنیمت حاصل کرتے تھے۔ جن چار چیزوں سے ان لوگوں کو منع کیا گیا وہ چار برتن تھے جن کے استعمال کی ان دنوں ممانعت تھی اصل میں یہ مخصوص قسم کے برتن ہوتے تھے جو اہل عرب کے ہاں شراب بنانے اور شراب رکھنے کے کام میں آتے تھے۔ چونکہ شراب حرام ہوچکی تھی اس لئے ان برتنوں کے استعمال سے بھی منع فرما دیا گیا تاکہ اس سے شراب کی موجودگی یا شراب کے استعمال کا شبہ نہ ہو سکے مگر جب بعد میں شراب کی حرمت مسلمانوں کے دلوں میں پختگی کے ساتھ بیٹھ گئی اور برتنوں کے بارے میں یہ احتمال نہ رہا کہ یہ برتن خاص طور پر شراب ہی کے لئے بنائے جاتے ہیں تو ان کا استعمال مباح قرار دیا گیا، لہٰذا اب یہ حکم منسوخ مانا جائے گا ؛
وعن عبادة بن الصامت قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم وحوله عصابة من أصحابه : بايعوني على أن لا تشركوا بالله شيئا ولا تسرقوا ولا تزنوا ولا تقتلوا أولادكم ولا تأتوا ببهتان تفترونه بين أيديكم وأرجلكم ولا تعصوا في معروف فمن وفى منكم فأجره على الله ومن أصاب من ذلك شيئا فعوقب به في الدنيا فهو كفارة له ومن أصاب من ذلك شيئا ثم ستره الله عليه في الدنيا فهو إلى الله : إن شاء عفا عنه وإن شاء عاقبه فبايعناه على ذلك
اور حضرت عبادہ بن صامت ( مشہور انصاری صحابہ میں سے ہیں جو بیعت عقبہ اولی و ثانیہ میں شریک تھے اہل صفہ کے معلم تھے، آپ نے ٧٢ سال کی عمر پا کر ٤٣ ھ میں وفات پائی ) فرماتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کی اس جماعت کو جو آپ ﷺ کر گرد بیٹھی ہوئی تھی (مخاطب کر کے) فرمایا۔ مجھ سے ان باتوں پر بیعت (عہد و اقرار) کرو کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو گے، چوری نہ کرو گے، زنا نہ کرو گے (افلاس، بھوک یا غربت کے ڈر سے) اپنے بچوں کو قتل نہ کرو گے، جان بوجھ کر کسی پر بہتان تراشی نہ کرو گے اور شریعت کے مطابق تمہیں جو احکام دوں گا اس کی نافرمانی نہیں کرو گے پس تم میں سے جو آدمی اس عہد و اقرار کو پورا کرے گا اس کا اجر اللہ کے ذمہ ہے (کہ آخرت میں اپنے انعامات سے نوازے گا) اور جو آدمی (سوائے شرک کے) ان میں سے کسی گناہ میں مبتلا ہوجائے اور پھر دنیا میں اس کو اس گناہ کی سزا بھی مل جائے (جیسے حد وغیرہ جاری ہو) تو یہ سزا اس کے (گناہ) کے لئے کفارہ ہوجائے گی۔ اور اگر اللہ تعالیٰ نے ان میں سے کسی چیز کا ارتکاب کرنے والے کے گناہ کی ستر پوشی فرمائی (اور دنیا میں اسے سزا نہ ملی) تو اب یہ اللہ کی مرضی پر منحصر ہوگا کہ چاہے تو وہ (ازراہ کرم) آخرت میں بھی درگزر فرمائے اور چاہے اسے عذاب دے (راوی فرماتے ہیں کہ ہم نے ان سب شرطوں پر) آپ ﷺ سے بیعت کی۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم )
عورتوں کے لئے آپ ﷺ کا فرمان
وعن أبي سعيد الخدري قال خرج رسول الله صلى الله عليه و سلم في أضحى أو فطر إلى المصلى فمر على النساء فقال يا معشر النساء تصدقن فإني أريتكن أكثر أهل النار فقلن وبم يا رسول الله قال تكثرن اللعن وتكفرن العشير ما رأيت من ناقصات عقل ودين أذهب للب الرجل الحازم من إحداكن قلن وما نقصان ديننا وعقلنا يا رسول الله قال أليس شهادة المرأة مثل نصف شهادة الرجل قلن بلى قال فذلك من نقصان عقلها أليس إذا حاضت لم تصل ولم تصم قلن بلى قال فذلك من نقصان دينها ۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم )
اور ابوسعید خدری ( آپ کا اصل نام سعد بن مالک بن شیبان ہے، ابوسعید آپ کی کنیت ہے اور خدری کی نسبت سے مشہور ہیں۔ ٧٤ میں جمعہ کے روز ٨٤ سال کی عمر میں آپ کا انتقال ہوا)۔ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ (ایک مرتبہ) عید الفطر یا بقر عید کی نماز کے لئے عیدگاہ تشریف لائے تو عورتوں کی ایک جماعت کے پاس بھی تشریف لے گئے۔ ( جو نماز کے لئے ایک الگ گوشہ میں جمع تھیں) اور ان کو مخاطب کر کے فرمایا اے عورتوں کی جماعت! تم صدقہ و خیرات کرو کیونکہ میں نے تم سے اکثر کو دوزخ میں دیکھا ہے (یہ سن کر) ان عورتوں نے کہا، یا رسول اللہ! اس کا سبب؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم لعن و طعن بہت کرتی ہو اور اپنے شوہروں کی نافرمانی و ناشکری کرتی رہتی ہو اور میں نے عقل و دین میں کمزور ہونے کے باوجود ہوشیار مرد کو بیوقوف بنا دینے میں تم سے بڑھ کر کسی کو نہیں دیکھا (یہ سن کر) ان عورتوں نے عرض کیا، یا رسول اللہ! ہماری عقل اور ہمارے دین میں کیا کمی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا کیا ایک عورت کی گواہی آدھے مرد کی گواہی کے برابر نہیں ہے (یعنی کیا ایسا نہیں ہے۔ کہ شریعت میں دو عورتوں کی گواہی ایک مرد کی گواہی کے برابر سمجھی جاتی ہے) انہوں نے کہا، جی ہاں ایسا ہی ہے، آپ ﷺ نے فرمایا۔ اس کی وجہ عورت کی عقل کی کمزوری ہے اور کیا ایسا نہیں ہے کہ جس وقت عورت حیض کی حالت میں ہوتی ہے تو نہ نماز پڑھتی ہے اور نہ روزہ رکھتی ہے، انہوں نے کہا جی ہاں ایسا ہی ہے آپ ﷺ نے فرمایا۔ یہ اس کے دین میں نقصان کی وجہ ہے۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم )
تشریح
اسلام کے ابتدائی زمانہ میں عورتیں بھی مردوں کے ساتھ ہی مسجد میں نماز ادا کرتی تھیں اس لئے عیدالفطر یا بقر عبد کی نماز کے لئے بھی عورتیں عیدگاہ آئیں تھیں اور چونکہ وہ الگ ایک کونہ میں بیٹھی ہوئی تھیں اور خطبہ کی آواز ان تک نہیں پہنچی تھی، اس لئے ضروری ہوا کہ احکام اور دینی ضروریات کی باتیں ان تک پہنچائی جائیں، چناچہ رسول اللہ ﷺ ان کے پاس تشریف لے گئے اور ان کو وعظ و نصیحت سے مشرف فرمایا۔ اکثر عورتوں کی عادت ہوتی ہے کہ جہاں ایک دو مل کر بیٹھیں، کسی تقریب یا عورتوں کے مجمع میں پہنچیں بس ایک دوسرے کی غیبت کرنا، دنیا بھر کی برائی و بھلائی بیان کرنا اور لعن و طعن کی بوچھاڑ کرنا شروع کردیتی ہیں اور پھر ان کا زیادہ تر وقت ان خرافاتی باتوں میں گزرتا ہے۔ اسی طرح یہ بڑا روگ بھی ان عورتوں میں پایا جاتا ہے کہ ان کا شوہر ان کی آسائش اور ان کے راحت و آرام کے لئے کتنے ہی پاپڑ بیلے، کتنی ہی مشقت و محنت کر کے ان کی ضروریات کی تکمیل کرے۔ اور ان کو خوش رکھنے کے لئے کتنی ہی مصیبتیں اٹھائے مگر ان کی زبان سے کبھی بھی شوہروں کا شکر ادا نہیں ہوتا، ہمیشہ ناشکری ہی کے الفاظ ان کی زبان سے نکلتے ہیں، رہی شوہروں کی نافرمانی کی بات تو یہ برائی بھی عورتوں میں کچھ کم نہیں ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ تمام باتیں عورتوں کے ایک بہت بڑے عیب کی غمازی کرتی ہیں۔ جس سے ان کے آخرت تباہ ہوتی ہے اور جو ان کو اللہ کے عذاب کا مستوجب بناتا ہے، اسی لئے رسول اللہ ﷺ نے ان کے اس خاص عیب کی نشان دہی فرمائی اور ان سے فرمایا کہ تمہارے اندر اس قسم کی جو باتیں ہیں ان کو ہلکا مت جانو، بلکہ یہ وہ گناہ ہیں جن کی وجہ سے اللہ کا عذاب تم پر ہوگا اور تم قہر خدواندی میں گرفتار ہو کر دوزخ میں دھکیل دی جاؤ گی اور تمہاری ان ہی باتوں کے سبب دوزخ میں تم عورتوں کی تعداد مردوں کی بنسبت زیادہ ہوگی، لہٰذا تم صدقہ و خیرات کرتی رہا کرو تاکہ ایک طرف تو اس کی برکت سے تمہارے اندر ان باتوں کی کمی آئے اور یہ عیب جاتا رہے دوسری طرف اللہ کی رحمت تمہاری طرف متوجہ ہو اور تمہارے گناہوں کی بخشش ہو۔ لعن (طعن) کے معنی ہیں، اللہ کی رحمت سے دور کرنا، حدیث سے یہ بات ثابت ہوئی کہ کسی کو لعن طعن کرنا انتہائی بری حرکت ہے چناچہ شریعت کا حکم ہے کہ کسی آدمی کو متعین کر کے اس پر لعنت نہ بھیجی جائے چاہے وہ کافر ہی کیوں نہ ہو۔ کسی متعین کافر پر لعنت بھیجنے کی ممانعت اس بنا پر ہے کہ نہیں کہا جاسکتا کہ کب اس کو ایمان و اسلام کی توفیق ہوجائے اور وہ کفر و شرک کی لعنت سے نکل کر اللہ کی رحمت کے سایہ میں آجائے۔ ہاں جو آدمی کفر کی حالت میں مرگیا ہو اور اس کا کفر پر مرنا یقینی طور پر معلوم ہو تو اس پر لعنت بھیجی جاسکتی ہے اسی طرح نفس برائی پر لعنت بھیجی جاسکتی ہے یا یوں کہا جاسکتا ہے کہ کفر پر اللہ کی لعنت یا یہ کہ کافروں پر اللہ کی لعنت۔ عورتوں میں عقل کی کمی یا ان کے دینی نقصان کا اظہار عورتوں کی تحقیر کے لئے ہرگز نہیں ہے بلکہ قدرت کے اس تخلیقی توازن کی طرف اشارہ کرنے کے لئے ہے جو مردوں اور عورتوں کے درمیان جسمانی و طبعی فرق صنفیت کی بنیاد ہے اور یہ فرق صنفیت دراصل فطرت کا تقاضا ہے جس کے بغیر نوع انسانی کا ذاتی و معاشرتی نظام زندگی برسر اعتدال نہیں رہ سکتا، خالق کائنات نے جسمانی، طبعی، عقلی اور دینی طور پر مرد کو عورت کی بہ نسبت جو برتر درجہ دیا ہے اور جس کا ثبوت اس حدیث سے واضح ہے وہ انسانی معاشرہ کے اعتدال و توازن کی برقراری کے لئے ہے نہ کہ شرف انسانیت میں کسی فرق کے اظہار کے لئے، اس شرف میں مرد و عورت دونوں کی یکساں حیثیت ہے اور دونوں مساوی درجہ رکھتے ہیں۔
انسان کو سر کشی زیب نہیں رہتی
وَعَنْ اَبِیْ ہُرَےْرَۃص قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلمقَالَ اللّٰہُ تَعَالٰیکَذَّبَنِیْ ابْنُ اٰدَمَ وَلَمْ ےَکُنْ لَّہُ ذٰلِکَ وَشَتَمَنِیْ وَلَمْ ےَکُنْ لَّہُ ذٰلِکَ فَاَمَّا تَکْذِےْبُہُ اِےَّایَ فَقَوْلُہُ لَنْ ےُّعِےْدَنِیْ کَمَا بَدَاَنِیْ وَلَےْسَ اَوّلُ الْخَلْقِ بِاَھْوَنَ عَلَیَّ مِنْ اِعَادَتِہٖ وَاَمَّا شَتْمُہُ اِےَّایَ فَقََوْلُہُ اتَّخَذَ اللّٰہُ وَلَدًا وَّاَنَا الْاَحَدُ الصَّمَدُ الَّذِیْ لَمْ اَلِدْ وَلَمْ اُوْلَدْ وَلَمْ ےَکُنْ لِّیْ کُفُوًا اَحَدٌ وَفِیْ رَوَاےَۃٍ: ابْنِ عَبَّاسٍ وَّاَمَّا شَتْمُہُ اِےَّایَ فَقَوْلُہُ لِیْ وَلَدٌ وَسُبْحَانِیْ اَنْ اَتَّخِذَصَاحِبَۃً اَوْ وَلَدًا۔(صحیح البخاری)
اور حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ابن آدم (انسان مجھ کو جھٹلاتا ہے اور یہ بات اس کے شایان نہیں اور میرے بارے میں بد گوئی کرتا ہے حالانکہ یہ اس کے مناسب نہیں ہے، اس کا مجھ کو جھٹلانا تو یہ ہے کہ وہ کہتا ہے جس طرح اللہ نے مجھ کو (اس دنیا میں) پہلی مرتبہ پیدا کیا ہے اسی طرح وہ (آخرت میں) مجھ کو دوبارہ ہرگز پیدا نہیں کرسکتا حالانکہ دوبارہ پیدا کرنا پہلی مرتبہ پیدا کرنے کے مقابلہ میں مشکل نہیں ہے۔ اور اس کا میرے بارے میں بد گوئی کرنا یہ ہے کہ وہ کہتا ہے، اللہ نے اپنا بیٹا بنایا ہے حالانکہ میں تنہا اور بےنیاز ہوں، نہ میں نے کسی کو جنا ہے اور نہ مجھ کو کسی نے جنا اور نہ کوئی میرا برابری کرنے والا ہے اور عبداللہ ابن عباس کی روایت میں اس طرح ہے اور اس (انسان) کا مجھے برا بھلا کہنا یہ ہے کہ وہ کہتا ہے کہ اللہ کا بیٹا ہے حالانکہ میں اس سے پاک ہوں کہ کسی کو بیوی یا بیٹا بناؤں۔ (صحیح البخاری)
تشریح
جو لوگ یہ فرماتے ہیں کہ قیامت نہیں آئے گی اور یہ ممکن نہیں ہے کہ ایک مرتبہ پیدا ہو کر مرجانے والوں اور اس دنیا سے اپنا وجود ختم کردینے والوں کو دوبارہ حیات ملے اور نئی دنیا (آخرت) کے لئے ان کا وجود پھر عمل میں آئے یا اسی طرح جو لوگ اللہ تعالیٰ کے لئے بیٹا ثابت کرتے ہیں اور اس کا عقیدہ رکھتے ہیں جیسے عیسائیوں کا کہنا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ کے بیٹے ہیں، یا یہودیوں کا کہنا کہ عزیر (علیہ السلام) اللہ کی اولاد ہیں، درحقیقت فکر و عقیدہ کی بےراہ روی ہی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف جھوٹ کی نسبت کرنا اور اس کی ذات پر بہتان باندھنا ہے۔ جھوٹ کی نسبت تو اس اعتبار سے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی سچی کتابوں اور اپنے سچے پیغمبروں کے ذریعہ قیامت کی واضح خبر دی ہے اور بتایا ہے کہ ہر ذی روح کو مرنا ہے اور پھر آخرت میں دوبارہ زندہ ہو کر ایک نئی حیات پانا ہے جو ابدی ہوگی، اب اگر کوئی آدمی قیامت کا انکار کرتا ہے یا حیات بعد الموت کو ناممکن سمجھتا ہے تو دراصل وہ ظاہر کرتا ہے کہ (نعوذ با اللہ) اللہ جھوٹا ہے جس نے ان غلط باتوں کی ہمیں خبر دی ہے اسی طرح یہ تصور قائم کرنا اور کہنا کہ جو شحص ایک مرتبہ پیدا ہو کر ختم ہوچکا ہے وہ دوبارہ وجود نہیں پاسکتا، درحقیقت یہ اللہ تعالیٰ کی صفت قادریت و خالقیت کا انکار کرنا ہے۔ ان نادانوں کی عقل میں یہ موٹی بات نہیں آتی کہ جو خالق کسی چیز کو عدم سے نکال کر وجود کا لباس پہنا سکتا ہے وہ اسی چیز کو جبکہ وہ ٹوٹ پھوٹ کر اپنا قلب کھو چکی ہو، دوبارہ قالب اور وجود عطا کیوں نہیں کرسکتا، محدود قدرت رکھنے والا انسان بھی کسی چیز کی تخلیق میں اگر کوئی دقت اور مشکل محسوس کرتا ہے تو پہلی مرتبہ کی تخلیق میں محسوس کرتا ہے جب کہ اسی چیز کو دوبارہ بنانا اس کے لئے زیادہ مشکل نہیں ہوتا، پھر لا محدود طاقت قدرت رکھنے والے خلاق عالم کو اپنی کسی تخلیق کو دوبارہ وجود دینے میں بھلا کیا دقت ہوسکتی ہے۔ واضح ہو کہ پہلی مرتبہ اور دوسری مرتبہ کی یہ تفصیل انسان کے اعتبار سے اور محض سمجھانے کے لئے ہے اس کا تعلق حق تعالیٰ کی ذات سے ہرگز نہیں ہے وہ تو قادر مطلق ہے، کسی چیز کو پیدا کرنا نہ اس کے لئے پہلی مرتبہ مشکل ہے اور نہ دوسری مرتبہ۔ اللہ کے بارے میں بد گوئی کے ذریعہ اس کی ذات پر بہتان باندھنا اس اعتبار سے ہے کہ جب اس نے واضح طور پر بتایا ہے کہ وہ تنہا، بےنیاز اور بےکفو ہے اور یہ کہ نہ اس کو کسی نے جنا اور نہ اس نے کسی کو جنا ہے تو پھر کسی کو اس کا بیٹا بنانا اس کو کسی کا باپ بتانا اس کی ذات پر بہتان تراشی نہیں تو اور کیا ہے؟، یہ انسان کی ذہنی پستی اور فکر و خیال کی گراوٹ کی بات ہے کہ وہ اپنے خالق اور اپنے پروردگار کی طرف ایسی چیزوں کی نسبت کرے جس سے اس کی ذات پاک ہے، بےنیاز ہے۔
وَعَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَ ص قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ اللّٰہُ تَعَالٰی ےُؤْذِےْنِیْ ابْنُ اٰدَمَ ےَسُبُّ الدَّھْرَ وَاَنَا الدَّھْرُ بِےَدِی الْاَمْرُ اُقَلِّبُ اللَّےْلَ وَالنَّھَارَ۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم )
اور حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ابن آدم (انسان) مجھے تکلیف دیتا ہے (اس طرح کہ) کہ وہ زمانے کو برا کہتا ہے حالانکہ زمانہ (کچھ نہیں وہ) تو میں ہی ہوں، سب تصرفات میرے قبضہ میں ہیں اور شب و روز کی گردش میرے ہی حکم سے ہوتی ہے۔ (بخاری، مسلم)
تشریح
جاہلوں کی عادت ہے کہ وہ انسانوں کو اپنی پیدا کی ہوئی پریشانیوں اور مصیبتوں کو برائی کی صورت میں زمانہ اور وقت کے سر پر ڈال دیتے ہیں اور اپنی زبان سے اس طرح کے الفاظ نکالتے ہیں زمانہ خراب ہے، بہت برا وقت ہے اس طرح وقت اور زمانہ کو برا کہنا نہایت غلط ہے کیونکہ زمانہ اور وقت تو کچھ بھی نہیں ہے، اصل متصرف حق تعالیٰ کی ذات ہے جس کے قبضہ میں لیل و نہار کی تبدیلی ہے اور اسی گردش لیل و نہار کا نام زمانہ اور وقت ہے، اگر زمانہ اور وقت کو متصرف سمجھ کر برا کہا جاتا ہے تو متصرف چونکہ اللہ تعالیٰ ہے اس لئے وہ برائی حق تعالیٰ کی طرف جاتی ہے۔