Mishkaat-al-Masabih

All 6,333 hadiths in order · Page 25 of 317

481Mishkaat-al-Masabih

نجاستوں کے پاک کرنے کا بیان

وَعَنِ ابْن عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْھَاقَالَ کَانَتْ الْکِلَابُ تُقْبِلُ وَ تُدْبِرُ فِی الْمَسْجِدِ فِی زَمانِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم فَلَمْ یَکُوْنُوْا یَرْشُوْنَ شَیْأاً مِن ذٰلِکَ۔(صحیح البخاری)

اور حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ کے زمانہ میں مسجد میں کتے آتے تھے اور صحابہ کرام ؓ ان کے آنے جانے کی وجہ سے کچھ بھی نہ دھوتے تھے۔ (صحیح البخاری ) تشریح شروع زمانہ اسلام میں دروازے نہیں ہوتے تھے جس کی وجہ سے مسجد کے اندر کتوں کی آمدورفت رہتی تھی اور چونکہ ان کے پاؤں خشک ہوتے تھے اس لئے کسی چیز کو دھونے کی ضرورت نہ ہوتی تھی جب مسجد میں دروازے لگنے لگے تو اس کی احتیاط ہونے لگی۔

482Mishkaat-al-Masabih

نجاستوں کے پاک کرنے کا بیان

وَعَنِ الْبَرَآءِ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لاَ بَاْسَ بِبُوْلِ مَا یَوْکَلُ لَحْمُہ، وَفِیْ رِوَایَۃِ جَابِرٍ قَالَ مَا اُکِلَ لَحْمُہ، فَلَا بَأْسَ بِبَوْلِہٖ۔( رواہ احمد بن حنبل والدارقطنی)

اور حضرت براء ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ فرماتے تھے کہ جس چیز کا گوشت کھایا جائے اس کے پیشاب میں کچھ حرج نہیں۔ اور حضرت جابر ؓ کی روایت اس طرح ہے کہ جس جانور کا گوشت کھا یا جائے اس کے پیشاب میں کچھ حرج نہیں ہے۔ (مسند احمد بن حنبل و دارقطنی) تشریح اس حدیث کے ظاہر الفاظ سے حضرت امام مالک، حضرت امام احمد، حضرت امام محمد رحمہم اللہ تعالیٰ علیہم اور بعض شوافع حضرات نے یہ مسئلہ مستنبط کیا ہے کہ جن جانوروں کے گوشت کھائے جاتے ہیں ان کا پیشاب پاک ہے لیکن حضرت امام اعظم ابوحنیفہ، حضرت امام ابویوسف اور تمام علماء رحمہم اللہ تعالیٰ علیہ کے نزدیک وہ نجس ہے، یہ حضرات فرماتے ہیں کہ اس حدیث کے مقابلے میں ایک حدیث عام وارد ہے کہ الحدیث ( اِسْتَنْزِ ھُوْا مِنَ الْبَوْلِ فَاِنَّ عَامَّۃَ عَذَابِ الْقَبْرِمِنْہُ ) یعنی پیشاب سے پاکی حاصل کرو اس لئے کہ عذاب قبر اکثر اسی سے ہوتا ہے) لہٰذا اس حدیث کی عمومیت کے پیش نظر ناپاک و نجس ثابت ہوا اس لئے اس احتیاط کا تقاضہ یہ ہے کہ جن جانوروں کے گوشت کھائے جاتے ہیں ان کے پیشاب کو بھی ناپاک کہا جائے۔

483Mishkaat-al-Masabih

موزوں پر مسح کرنے کا بیان

موزوں پر مسح کرنے کا جواز سنت اور آثار مشہورہ سے ثابت ہے بلکہ حفاظ حدیث کی ایک جماعت نے اس کی تصریح کی ہے کہ موزوں پر مسح کرنے کے بارے میں منقول حدیث متواتر ہے اور بعض محدثین نے اس حدیث کے راوی صحابہ کرام ؓ کی تعداد بھی نقل کی ہے چناچہ اسی سے زیادہ صحابہ صحابہ کرام ؓ اس حدیث کو روایت کرتے ہیں جن میں عشرہ مبشرہ بھی شامل ہیںَ علامہ ابن عبدالبر (رح) فرماتے ہیں کہ میں نہیں جانتا کہ علمائے سلف میں سے کسی نے اس سے انکار کیا ہو اور حضرت حسن بصری (رح) فرماتے ہیں کہ میں نے ستر ٧٠ صحابہ کرام کو اس مسئلہ پر اعتقاد رکھتے ہوئے پایا ہے حضرت امام کرخی (رح) کا قول ہے کہ جو آدمی موزوں پر مسح کرنے کو قبول نہ کرے یعنی اسے جائز نہ سمجھے مجھے اس کے کافر ہوجانے کا خوف ہے کیونکہ اس کے جواز میں جو احادیث منقول ہیں وہ حد تو اتر کو پہنچی ہوئی ہیں۔ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ (رح) کا ارشاد ہے کہ میں موزوں پر مسح کرنے کا قائل اس وقت تک نہیں ہوا جب تک کہ اس کے جواز پر مشتمل احادیث آفتاب کی روشنی کی طرح مجھے نہ پہنچ گئیں۔ ان اقوال اور ارشادات سے یہ بات واضح ہوگئی کہ موزوں پر مسح کرنا جائز ہے، اس کے جواز میں کوئی شبہ کوئی شک اور کوئی کلام نہیں ہے۔ اب اس کے بعد یہ سمجھ لیجئے کہ موزوں پر مسح کرنا رخصت شریعت اسلامی کے مسائل و جزئیات پر نظر رکھنے والے جانتے ہیں کہ اسلام نے اپنے ماننے والوں کے لئے کتنی آسانیاں اور سہولتیں پیدا کی ہیں یہ حقیقت ہے کہ اسلام اور پیغمبر اسلام ﷺ کی یہ بےپناہ شفقت و محبت ہی ہے جس نے عالمگیر اور سب سے سچے مذہب کو انسان کی عین فطرت و مزاج بنادیا ہے قدم قدم پر ایسے مسائل سے واسطہ پڑتا رہتا ہے جس میں اسلام اور شارع اسلام نے امت کو بہت زیادہ آسانیاں دی ہیں جن کے بغیر یقینا مسلمان مشکلات اور تکالیف میں مبتلا ہوجاتے کیونکہ سخت موقعوں پر مثلاً سردی کے موسم میں وضو کرنے کے وقت سب سے زیادہ تکلیف پاؤں کو دھونے ہی میں ہوتی ہے لیکن شریعت نے اس سختی اور تکلیف کے پیش نظر موزوں پر مسح کو جائز قرار دے کر امت پر ایک عظیم احسان کیا ہے)۔ یعنی آسانی ہے اور پاؤں کو دھونا عزیمت یعنی اولیٰ ہے ہدایہ میں لکھا ہے کہ جو آدمی موزوں پر مسح کرنے پر اعتقاد نہ رکھے وہ بدعتی ہے لیکن جو آدمی اس مسئلہ پر اعتقاد رکھتا ہے مگر عزیمت یعنی اولیٰ ہونے پر عمل کرنے کی وجہ سے موزوں پر مسح نہیں کرتا تو اسے ثواب سے نوازا جاتا ہے۔ مواہب لدنیہ میں منقول ہے کہ علماء کرام کے ہاں اس بارے میں اختلاف ہے کہ آیا موزوں پر مسح کرنا افضل ہے یا اسے اتار کر پاؤں کو دھونا افضل ہے؟ چناچہ بعض حضرات کی رائے تو یہ ہے کہ موزوں پر مسح کرنا ہی افضل ہے کیونکہ اس سے اہل بدعت یعنی روافض و خوارج کا رد ہوتا ہے جو اس مسئلہ میں طعن وتشنیع کرتے ہیں، حضرت امام احمد (رح) کا مختار مسلک یہی ہے اور امام نووی (رح) نے کہا ہے کہ ہمارے علماء کرام یعنی حضرات شوافع کا مسلک یہ ہے کہ پاؤں کو دھونا افضل ہے کیونکہ اصل یہی ہے لیکن اس کے ساتھ شرط یہ ہے کہ موزوں پر مسح کرنے کو بالکل ترک نہ کیا جائے۔ صاحب سفر السعادۃ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو دونوں میں کوئی تکلف نہیں تھا، یعنی اگر آپ ﷺ موزہ پہنے ہوتے تھے تو پاؤں دھونے کے لئے انہیں اتارتے نہیں تھے اور اگر موزہ پہنے ہوئے نہیں ہوتے تھے تو مسح کرنے کے لئے انہیں پہنتے نہ تھے، اس بارے میں علماء کرام کے ہاں اختلاف ہے مگر بہتر اور صحیح طریقہ یہی ہے کہ ہر آدمی کو چاہئے کہ وہ اس مسئلہ میں سنت کے موافق ہی عمل کرے یعنی سرکار دو عالم ﷺ کا جو تعامل ذکر کیا گیا ہے اسی طرح تمام مسلمان بےتکلفی کے ساتھ اس پر عمل کریں۔

484Mishkaat-al-Masabih

موزوں پر مسح کرنے کا بیان

عَنْ شُرَےْحِ بْنِ ھَانِئٍص قَالَ سَاَلْتُ عَلِیَّ بْنَ اَبِیْ طَالِبٍ عَنِ الْمَسْحِ عَلَی الْخُفَّےْنِ فَقَالَ جَعَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم ثَلٰثَۃَ اَےَّامٍ وَّلَےَالِےَھُنَّ لِلْمُسَافِرِ وَےَوْمًا وَلَےْلَۃً لِّلْمُقِےْمِ۔ (صحیح مسلم)

حضرت شریح بن ہانی ؓ راوی ہیں کہ میں نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے موزوں پر مسح کرنے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ سرکار دو عالم ﷺ نے مسافر کے لئے تین دن اور تین راتیں اور مقیم کے لئے اک دن اور ایک رات کی مدت مقرر فرمائی ہے۔ (صحیح مسلم) تشریح مسافر کے لئے موزوں پر مسح کرنے کی مدت تین دن تین راتیں ہے یعنی وہ تین دن اور تین راتوں تک وضو کے وقت اپنے موزوں پر مسح کرسکتا ہے اور مقیم کے لئے مسح کی مدت ایک دن اور ایک رات ہے یعنی وہ ایک دن اور ایک رات تک وضو کے وقت اپنے موزوں پر مسح کرسکتا ہے اور مقیم کے لئے مسح کی مدت کی ابتداء جمہور علماء کے نزدیک اس وقت ہوگی جب کے وضو ٹوٹ جائے مثلاً ایک مقیم آدمی نے دوپہر کو وضو کرنے کے بعد موزہ پہنا اور شام کو اس کا وضو ٹوٹ گیا تو مسح کی مدت کی ابتداء شام ہی سے ہوگی یعنی وہ اگلے دن شام تک اپنے موزوں پر مسح کرسکتا ہے۔

485Mishkaat-al-Masabih

موزوں پر مسح کرنے کا بیان

وَعَنِ الْمُغِےْرَۃِ ص بْنِ شُعْبَۃَ اَنَّہُ غَزَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم غَزْوَۃَ تَبُوْکَ قَالَ الْمُغِےْرَۃُ فَتَبَرَّزَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم قِبَلَ الْغَائِطِ فَحَمَلْتُ مَعَہ، اِدَاوَۃً قَبْلَ الْفَجْرِ فَلَمَّا رَجَعَ اَخَذْتُ اُھْرِےْقُ عَلَی ےَدَےْہِ مِنَ الْاِدَاوَۃِ فَغَسَلَ ےَدَےْہِ وَوَجْھَہُ وَعَلَےْہِ جُبَّۃٌ مِّنْ صُوْفٍ ذَھَبَ ےَحْسُرُ عَنْ ذِرَاعَےْہِ فَضَاقَ کُمُّ الْجُبَّۃِ فَاَخْرَجَ ےَدَےْہِ مِنْ تَحْتِ الْجُبَّۃِ وَاَلْقَی الْجُبَّۃَ عَلٰی مَنْکِبَےْہِ وَغَسَلَ ذِرَاعَےْہِ ثُمَّ مَسَحَ بِنَاصِےَتِہٖ وَعَلَی الْعِمَامَۃِ ثُمَّ اَھْوَےْتُ لِاَنْزِعَ خُفَّےْہِ فَقَالَ دَعْھُمَا فَاِنِّی اَدْخَلْتُھُمَا طَاہِرَتَےْنِ فَمَسَحَ عَلَےْھِمَا ثُمَّ رَکِبَ وَرَکِبْتُ فَانْتَھَےْنَا اِلَی الْقَوْمِ وَقَدْ قَامُوْا اِلَی الصَّلٰوۃِ وَےُصَلِّیْ بِھِمْ عَبْدُالرَّحْمٰنِ بْنُ عَوْفٍ وَّقَدْ رَکَعَ بِھِمْ رَکْعَۃً فَلَمَّا اَحَسَّ بِاالنَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم ذَہَبَ ےَتَاَخَّرُ فَاَوْمٰی اِلَےْہِ فَاَدْرَکَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم اِحْدَی الرَّکْعَتَےْنِ مَعَہُ فَلَمَّا سَلَّمَ قَامَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم وَقُمْتُ مَعَہُ فَرَکَعْنَا الرَّکْعَۃَ الَّتِیْ سَبَقَتْنَا ۔(صحیح مسلم)۔

اور حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ کے بارے میں مروی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ غزوہ تبوک میں شرکت کی چناچہ وہ فرماتے ہیں کہ (اسی دوران ایک روز) فجر سے پہلے سرکار دو عالم ﷺ پاخانے کے لئے باہر تشریف لے گئے ہیں میں پانی کا لوٹا لے کر آپ ﷺ کے ہمراہ ہو لیا جب آپ ﷺ (پاخانے سے) واپس تشریف لائے (اور وضو کرنے کے لئے بیٹھے) تو میں نے آپ ﷺ کے ہاتھوں پر پانی ڈالنا شروع کیا چناچہ آپ ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھ دھوئے اور منہ دھویا آپ ﷺ ایک اونی جبہ پہنے ہوئے تھے اس کی آستینیں چڑھانی چاہیں لیکن آستینیں تنگ تھیں (اس لئے چڑھ نہ سکیں) آپ ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھوں کو جبے کے اندر سے نکال کر جبے کو کندھوں پر رکھا اور کہنیوں تک دھو کر چوتھائی سر کا اور پگڑی کا مسح کیا پھر (جب) میں نے آپ ﷺ کے موزے اتارنے کا ارادہ کیا تاکہ آپ ﷺ پاؤں دھولیں (تو) آپ ﷺ نے فرمایا کہ انہیں چھوڑ دو کیونکہ میں نے (پاؤں کی) پاکی کی حالت میں انہیں پہنا تھا (یعنی وضو کرنے کے بعد پہنا تھا) اور آپ ﷺ نے دونوں موزوں پر مسح کیا، پھر آپ ﷺ اور میں دونوں سوار ہو کر واپس لوگوں کے پاس آئے تو (فجر کی) نماز کے لئے جماعت کھڑی ہوگئی تھی اور حضرت عبدالرحمن بن عوف ؓ نماز پڑھا رہے تھے اور ایک رکعت پڑھا بھی چکے تھے جب انہیں رسول اللہ ﷺ کی تشریف آوری کا احساس ہوا تو وہ پیچھے ہٹنے لگے (تاکہ رسول اللہ ﷺ امامت کریں) مگر رسول اللہ ﷺ نے انہیں اشارہ کیا ( کہ اپنی جگہ کھڑے رہو اور نماز پڑھائے جاؤ چناچہ رسول اللہ ﷺ نے ایک رکعت نماز ان کے ساتھ ہی پڑھی (یعنی آپ ﷺ نے دوسری رکعت حضرت عبدا لرحمن کی اقتداء میں ادا کی) جب انہوں نے سلام پھیرا تو آپ ﷺ کھڑے ہوگئے اور میں بھی آپ ﷺ کے ساتھ کھڑا ہوگیا اور جو پہلی رکعت رہ گئی تھی ہم نے اسے پڑھ لیا۔ (صحیح مسلم) تشریح راوی نے رسول اللہ ﷺ کے وضو کا ذکر کیا ہے مگر کلی کرنے اور ناک میں پانی ڈالنے کا ذکر نہیں کیا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ یا تو راوی کے پیش نظر اختصار تھا اس لئے انہوں نے ان دونوں چیزوں کا ذکر کرنا ضروری نہیں سمجھایا یہ کہ راوی اس کا ذکر کرنے کو بھول گئے ہوں گے، یا پھر اس لئے ذکر نہیں کیا کہ یہ دونوں چیزیں بھی منہ کی حد میں آجاتی ہیں اس لئے صرف منہ دھونے کا ذکر کافی سمجھا۔ پگڑی پر مسح کرنے کے معنی یہ ہیں کہ آپ ﷺ نے چوتھائی سر پر مسح کرنے کے بعد تمام سر پر مسح کرنے کے بجائے پگڑی پر مسح کرلیا تاکہ تمام سر پر مسح کرنے کی سنت ادا ہوجائے اس کی وضاحت باب الوضو میں بھی کی جا چکی ہے (دیکھے باب سنن الوضو کی حدیث نمبر ٨) بہر حال اس حدیث سے پانچ چیزیں ثابت ہوتی ہیں (١) رسول اللہ ﷺ فجر سے پہلے قضائے حاجت کے لئے تشریف لے گئے اس سے یہ ثابت ہوا کہ عبادت مثلاً نماز وغیرہ کا وقت شروع ہونے سے پہلے اس عبادت کے لئے تیاری کرنا مستحب ہے۔ (٢) حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ نے وضو کے وقت آپ ﷺ کے اعضائے وضو پر پانی ڈالا اس سے معلوم ہوا کہ اگر دوسرا آدمی وضو کرائے تو جائز ہے۔ (٣) جب آپ ﷺ قضائے حاجت اور وضو سے فارغ ہو کر تشریف لائے تو حضرت عبدالرحمن بن عوف ؓ لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے جب انہوں نے بتقاضائے ادب پیچھے ہٹنا چاہا تاکہ رسول اللہ امامت فرمائیں تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں روک دیا اور خود بھی آخری رکعت انہیں کی اقتداء میں پڑھی اس سے معلوم ہوا کہ ایک افضل آدمی نماز میں اگر اپنے سے کم درجہ آدمی کی اقتداء کرے تو یہ جائز ہے نیز یہ بھی ثابت ہوا کہ نماز کے لئے امام کا معصوم (بےگناہ) ہونا شرط نہیں ہے۔ اس سے اس فرقہ امامیہ کا رد ہوتا ہے جو یہ کہتے ہیں کہ امام کا معصوم ہونا شرط ہے۔ (٤) حدیث کے آخری الفاظ سے یہ ثابت ہوا کہ جس آدمی کی کوئی رکعت امام کے ساتھ پڑھنے سے چھوٹ جائے تو اس کی ادائیگی کے لئے اسے اس وقت اٹھنا چاہئے جب کہ امام سلام پھیر لے چناچہ حضرت امام شافعی (رح) کے نزدیک تو چھوٹی ہوئی رکعت کو ادا کرنے کے لئے امام کے سلام پھیرنے سے پہلے اٹھنا جائز ہی نہیں اور علمائے حنفیہ کے نزدیک سلام پھیرنے سے پہلے اٹھنا مکر وہ تحریمی ہے۔ مگر اس صورت میں جب کہ یہ خوف ہو کہ اگر امام کے سلام کا انتظار کیا جائے گا تو نماز فاسد ہوجائے گی تو پہلے بھی اٹھنا جائز ہے مثلا فجر کی نماز میں امام ایک رکعت پہلے پڑھا چکا تھا ایک آدمی دوسری رکعت میں آکر شامل ہوا اب اسے ایک رکعت بعد میں ادا کرنی ہے مگر صورت حال یہ ہے کہ اگر وہ امام کے سلام پھیرنے کا انتظار کرتا ہے تو اسے خوف ہے کہ سورج طلوع ہوجائے گا جس کے نتیجہ میں نماز فاسد ہوجائے گی لہٰذا اس کے لئے جائز یہ ہوگا کہ وہ امام کے سلام پھیرنے سے پہلے اٹھ جائے اور نماز پوری کرلے اس مسئلہ کی وضاحت فقہ کی کتابوں میں خوب اچھی طرح کی گئی ہے اس کی تفصیل وہاں دیکھی جاسکتی ہے۔ (٥) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جماعت کے وقت اگر امام موجود نہ ہو اور اس کے آنے میں دیر ہو اور یہ معلوم نہ ہو کہ وہ کب آئے گا تو یہ مستحب ہے کہ امام کا انتظار نہ کیا جائے بلکہ کوئی دوسرا آدمی نماز پڑھانی شروع کر دے اور اگر امام کے آنے کا وقت معلوم ہو تو اس صورت میں اس کا انتظار کرنا مستحب ہے اور اگر امام کا مکان قریب مسجد ہو تو اسے جماعت کا وقت ہوجانے پر مطلع کرنا مستحب ہے۔

486Mishkaat-al-Masabih

موزوں پر مسح کرنے کا بیان

عَنْ اَبِیْ بَکْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم اَنَّہ، رَخَّصَ لِلْمُسَافِرِ ثَلَاثَۃَ اَیَّامٍ وَلَیَا لِیُھُنَّ وَلِلْمُقِیْمِ یَوْمًا وَلَیْلَۃً اِذَا تَطَھَّرَ فَلَبِسَ خُفَّیْہِ اَنْ یَمْسَحَ عَلَیْھِمَا۔ (رَوَاہُ الْاَ ثْرَمُ فِیْ سُننِہٖ وَابْنُ خُزَیْمَۃَ وَالدَّارَ قُطْنِیُّ وَقَالَ الْخُطَّابِیُّ ھُوَ صَحِیْح الْاِ سْنَادِ ھٰکَذَا فِی الْمُنْتَقِیْ)

حضرت ابی بکرہ ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے موزوں پر مسح کرنے کی اجازت مسافر کو تین دن اور تین راتوں تک اور مقیم کو ایک دن اور ایک رات تک دی ہے جب کہ انہوں نے موزوں کو وضو کے بعد پہنا ہو۔ (ابن خزیمہ دارقطنی) اور خطابی (رح) فرماتے ہیں کہ یہ حدیث اسناد کی رو سے صحیح ہے منتقیٰ میں (بھی جو ابن تیمیہ حنبلی کی کتاب ہے) اسی طرح منقول ہے)۔

487Mishkaat-al-Masabih

موزوں پر مسح کرنے کا بیان

وَعَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ قَالَ کَانَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم یَاْ مُرُنَا اِذَا کُنَّا سَفْرً ا اَنْ لَّا نَنْزِعَ خِفَا فَنَا ثَلَاثَۃَ اَیَّامٍ وَلَیَا لِیَھُنَّ اِلَّا مِنْ جَنَابَۃٍ وَّلٰکِنْ مِنْ غَائِطٍ وَبَوْلٍ وَّنَوْمٍ۔ (رواہ الترمذی و النسائی )

اور حضرت صفوان بن عسال ؓ فرماتے ہیں کہ جب ہم سفر میں ہوتے تھے تو سرکار دو عالم ﷺ ہمیں حکم دیتے تھے کہ تین دن اور تین راتوں تک (وضو کرنے کے وقت پاؤں کو (دھونے کے لئے) موزے نہ اتارے جائیں، نہ پاخانے کی وجہ سے نہ پیشاب کی وجہ سے نہ سونے کی وجہ سے البتہ جنابت کی وجہ سے (یعنی غسل واجب ہونے کی صورت میں نہانے کے لئے اتارے جائیں۔ (جامع ترمذی، سنن نسائی) تشریح مطلب یہ ہے کہ سو کر اٹھنے یا پیشاب و پاخانے کے بعد وضو کرنے کی صورت میں اس مدت تک جو مسافر یا مقیم کے لئے ہے پاؤں کو دھونے کے لئے موزوں کو اتارنا نہیں چاہئے بلکہ موزوں پر مسح کرلیا جائے اور جنابت کی حالت میں یعنی جب غسل واجب ہوجائے تو نہانے کے لئے موزے اتارنے ضروری ہیں کیونکہ اس حالت میں موزوں پر مسح درست نہیں ہے۔

488Mishkaat-al-Masabih

موزوں پر مسح کرنے کا بیان

وَعَنِ الْمُغَیْرَۃِ بْنِ شُعْبَۃَ قَالَ وَضَّأْتُ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلم فِیْ غَزْوَۃِ تَبُوْکَ فَمَسَحَ اَعْلَی الْخُفِّ وَاَسْفَلَہ،۔ (رَوَاہُ اَبُوْدَاؤدَ وَ التِّرْمِذِیُّ وَ ابْنُ مَاجَۃَ وَقاَلَ التِّرمِذِیُّ ھٰذَا الْحَدِیْثُ مَعْلُوْلٌ وَ سَأَلْتُ اَبَازُرْعَۃَ وَمُحَمَّدً یَعْنِی الْبُخَارِیَّ عَنْ ھٰذَا الْحَدِیْثِ فَقَالَ لَیْسَ بِصَحِیْحٍ وَکَذَا ضَعَّفَّہ، اَبُوْدَاؤدَ)

اور حضرت مغیرہ ابن شعبہ ؓ راوی ہیں کہ میں نے غزوہ تبوک میں سرکار دو عالم ﷺ کو وضو کرایا تھا اور آپ ﷺ نے موزوں کے نیچے اور اوپر مسح کرلیا۔ (سنن ابوداؤد، سنن ابن ماجہ) اور حضرت امام ترمذی (رح) نے فرمایا ہے کہ یہ حدیث معلول ہے، نیز میں نے اس حدیث کے بارے میں ابوزرعہ اور محمد یعنی محمد بن اسماعیل بخاری سے پوچھا تو دونوں نے کہا یہ حدیث صحیح نہیں ہے اسی طرح امام ابوداؤد (رح) نے بھی اس حدیث کو ضعیف کہا ہے) تشریح حضرت امام مالک اور حضرت امام شافعی رحمہما اللہ تعالیٰ علیہما کے نزدیک پشت قدم یعنی موزے کے اوپر مسح کرنا واجب ہے اور موزے کے نیچے یعنی تلوے پر مسح کرنا سنت ہے لیکن حضرت امام ابوحنیفہ اور حضرت امام احمد رحمہما اللہ تعالیٰ علیہما کا مسلک یہ ہے کہ مسح فقط پشت قدم یعنی موزے کے اوپر کیا جائے یہ دونوں حضرات فرماتے ہیں کہ یہ حدیث جس سے موزے کے دونوں طرف مسح کرنے کا اثبات ہو رہا ہے خود معیار صحت کو پہنچی ہوئی نہیں ہے کیونکہ علماء کرام نے اس کی صحت بارے کلام کیا ہے۔ نیز ایسی احادیث بہت زیادہ منقول ہیں جو اس حدیث کے بالکل برعکس ہیں اور جن سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ مسح فقط پشت پر کیا جائے لہٰذا عمل اس ہی حدیث پر کیا جائے گا۔ محدثین کی اصطلاح میں حدیث معلول اس حدیث کو کہتے ہیں جس میں ایسا سبب پوشیدہ ہو جو اس بات کا مقتضی ہو کہ اس حدیث کے مطابق عمل نہ کیا جائے۔ اس حدیث کے ضعیف ہونے کی دو وجوہات ہیں۔ اول تو یہ کہ حضرت مغیرہ ؓ تک اس حدیث کی سند کا پہنچنا ثابت نہیں ہے بلکہ اس کی سند بولاو تک جو مغیرہ کے مولیٰ اور کاتب تھے پہنچتی ہے، دوسری وجہ ہے کہ اس حدیث کو ثور ابن یزید نے رجاء ابن حیوۃ سے روایت کیا ہے اور رجاء ابن حیوۃ نے حضرت مغیرہ ؓ کے کاتب سے روایت کیا ہے حالانکہ رجاء سے ثور کا سماع ثابت نہیں ہے پھر ایک سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ مضمون جو (حدیث نمبر ٢) حضرت مغیرہ ؓ سے مختلف سندوں کے ساتھ منقول ہے اور جو معیار صحت کو پہنچی ہوئی ہے اس میں مطلقاً اس بات کا ذکر کیا گیا ہے کہ آپ ﷺ نے موزوں پر مسح کیا تھا، اوپر نیچے مسح کرنے کی کوئی وضاحت منقول نہیں ہے پھر حضرت مغیرہ ؓ کی ایک اور روایت اس کے بعد آرہی ہے اس میں صراحت کے ساتھ یہ منقول ہے کہ آپ ﷺ نے موزوں کے اوپر مسح کیا۔ لہٰذا معلوم یہ ہوا کہ اس حدیث میں اضطراب ہے اور یہ وہ اسباب ہیں کہ جس کی وجہ سے اس حدیث کو ضعیف کہا جاتا ہے۔

489Mishkaat-al-Masabih

موزوں پر مسح کرنے کا بیان

وَعَنْہُ اَنَّہ، قَالَ رَاَیْتُ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلم یَمْسَحُ عَلَی الْخُفَّیْنِ عَلٰی ظَاھِرِ ھِمَا۔ (رواہ الترمذی و ابوداؤد)

اور حضرت مغیرہ ابن شعبہ ؓ راوی ہیں کہ میں نے سرکار دو عالم ﷺ کو موزوں کے اوپر مسح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ (جامع ترمذی و سنن ابوداؤد) تشریح موزے پر مسح کا طریقہ یہ ہے کہ دائیں ہاتھ کی انگلیاں دائیں پاؤں کے پنجے پر بائیں ہاتھ کی انگلیاں بائیں کے پنجے پر رکھی جائیں پھر ان کو کھینچتے ہوئے ٹخنوں کے اوپر تک لایا جائے اس سلسلے میں اس کا خیال رہے کہ انگلیاں کشادہ رکھی جائیں آپس میں ملی ہوئی نہ ہوں۔ موزوں پر مسح کرنے کا مسنون طریقہ تو یہی ہے اور اگر کسی نے انگلی سے تین مرتبہ اس طرح مسح کیا کہ ہر مر تبہ تازہ پانی لیتا رہا اور ہر مرتبہ نئی جگہ پھیرتا رہا تو مسح جائز ہوگا ورنہ نہیں ان کے علاوہ بہت سے طریقے فقہ کی کتابوں میں لکھے ہوئی ہیں تفصیل وہاں دیکھی جاسکتی ہے۔

490Mishkaat-al-Masabih

موزوں پر مسح کرنے کا بیان

وَعَنْہُ قَالَ تَوَضَّاَ اَلنَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم وَمَسَحَ عَلَی الْجَوْرَبَیْنِ وَالنَّعْلَیْنِ۔( احمد بن حنبل الترمذی و ابوداؤد و ابن ماجۃ)

اور حضرت مغیرہ ابن شعبہ ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے وضو کیا اور نعلین کے ساتھ جو ربین پر مسح کیا۔ (مسند احمد بن حنبل و جامع ترمذی، سنن ابوداؤد، سنن ابن ماجہ) تشریح قاموس میں لکھا ہے کہ جو رب پاؤں کے لفافے کو کہتے ہیں جیسے ہمارے ہاں جراب یا موزہ کہلاتا ہے اس کی کئی قسمیں ہوتی ہیں اس کی تفصیل چلپی میں بڑی وضاحت سے مذکور ہے یہاں اس کے بعض احکام و مسائل لکھے جاتے ہیں۔ حنفی مسلک میں جو ربین یعنی موزوں پر مسح اس وقت درست ہوگا جب کہ وہ مجلد ہوں یعنی ان کے اوپر نیچے چمڑا لگا ہوا ہو، منعل ہوں یعنی فقط نیچے ہی چمڑا ہو اور مثخنین ہوں۔ ثخنین اس موزے کو کہتے ہیں جس کو پہن کر ایک فرسخ چلا جاسکے اور وہ بغیر باندھے ہوئے پنڈلی پر رکا رہے نیز اس کے اندر کا کوئی حصہ نہ دکھلائی دے اور نہ اس کے اندر پانی چھن سکتا ہو چلپی کی عبارت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اگر جو ربین منعلین بغیر ثخنین ہوں گے تو اس پر مسح جائز نہیں ہوگا لہٰذا منعلین پر مسح اسی وقت درست ہوگا جب کہ ثخنین بھی ہوں۔ چونکہ حضرت امام شافعی (رح) کے نزدیک جو رب پر مسح درست نہیں خواہ وہ منحل ہی کیوں نہ ہو اس لئے یہ حدیث حنفیہ کی جانب سے ان پر حجت ہے جس سے یہ ثابت ہو رہا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جو رب پر مسح فرمایا ہے نیز حضرت علی المرتضیٰ، حضرت عبداللہ ابن مسعود، حضرت انس ابن مالک اور حضرت عمر بن خطاب ؓ کے بارے میں بھی منقول ہے کہ ان حضرات نے اس پر مسح کیا ہے۔ آخر حدیث میں جو یہ فرمایا گیا ہے کہ آپ نے نعلین کے ساتھ جو ربین پر مسح کیا تو یہاں نعلین کے مفہوم کے تعین میں دو احتمال ہیں اول تو یہ کہ اس سے جوتے مراد ہیں آپ ﷺ نے جو ربین پر جوتوں کے ساتھ مسح کیا چونکہ عرب میں اس وقت ایسے جوتے استعمال ہوتے تھے جو بالکل چپل کی طرح ہوتے تھے اور ان پر اس طرح تسمہ لگا رہتا تھا کہ انہیں پہننے کے بعد پاؤں کے اوپر کا حصہ کھلا رہتا تھا جس کی وجہ سے موزوں پر مسح کرنے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہوتی تھی۔ یا پھر اس سے یہ مراد ہے کہ آپ ﷺ نے ان جو ربین پر مسح کیا جن کے نیچے چمڑا لگا ہوا تھا

491Mishkaat-al-Masabih

موزوں پر مسح کرنے کا بیان

عَنِ الْمُغَیْرَۃِ قَالَ مَسَحَ رَسُوْلُ اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم عَلَی الْخُفَّیْنِ فَقُلْتُ یَا رَسُوْلَ اﷲِ نَسِیْتَ قَالَ بَلْ اَنْتَ نَسِیْتَ بِھٰذَا اَمَرْ نِیْ رَبِّیْ عَزَّوَجَلَّ۔ (رواہ احمد بن حنبل و ابوداؤد)

حضرت مغیرہ ابن شعبہ ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے موزوں پر مسح کیا (یہ دیکھ کر) میں نے عرض کیا آپ ﷺ بھول گئے ہیں (یعنی موزے اتار کر پاؤں نہیں دھوئے) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا نہیں! بلکہ تم بھول گئے) کہ میری طرف نسیان کی نسبت کر رہے ہو کیونکہ اللہ بزرگ و برتر نے مجھے اسی طرح حکم دیا ہے۔ (مسند احمد بن حنبل، سنن ابوداؤد)

492Mishkaat-al-Masabih

موزوں پر مسح کرنے کا بیان

وَعَنْ عَلِیٍّ اَنَّہ، قَالَ لَوْ کَانَ الدِّیْنُ بِالرَّاْیِ لَکَانَ اَسْفَلُ الْخُفِّ اَوْلٰی بِالْمَسْحِ مِنْ اَعْلَاہُ وَقَدْ رَاَیْتُ رَسُوْلَ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم یَمْسَحُ عَلٰی ظَاھِرِ خُفَّیْہِ۔ (رواہ ابوداود وللدارمی معناہ)

اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں کہ اگر دین (صرف) رائے اور عقل ہی پر موقوف ہوتا تو واقعی موزوں کے اوپر مسح کرنے سے نیچے مسح کرنا بہتر ہوتا اور میں نے خود سرکار دو عالم ﷺ کو موزوں کے اوپر مسح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ (ابوداؤد و دارمی) تشریح حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ ناپاکی اور گندگی چونکہ موزوں کے نیچے کی جانب لگ سکتی ہے اس لئے عقل یہی تقاضا کرتی ہے کہ جس طرف ناپاکی اور گندگی لگنے کا شبہ ہو اسی طرف پاکی اور ستھرائی کے لئے مسح بھی کرنا چاہئے مگر چونکہ شرع میں صراحتہ یہ آگیا ہے کہ مسح اوپر کی جانب کرنا چاہئے اس لئے اب عقل کو دخل دینے کی کوئی گنجائش نہیں رہی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ شریعت کے مسائل و احکام میں عقل کو دخل نہیں دینا چاہئے کیونکہ عقل کامل شریعت کے تابع ہوتی ہے اس لئے کہ اللہ کی حکمتوں اور اس کے مراد و مفہوم معلوم کرنے میں عقل مطلقاً عاجز ہوتی ہے لہٰذا عاقل کو چاہئے کہ وہ پہر نوع شریعت کا تابع و پابند بن کر رہے عقل کا تابع نہ بنے اس لئے کہ کفار اور اکثر فلاسفہ و حکماء اور اہل ہوا و ہوس اپنی عقلوں پر بھروسہ و پندار کرنے کے سبب اور عقلوں کے تابع ہونے ہی کی وجہ سے گمراہی و ضلالت کے غار میں گرے ہیں۔ چونکہ اس باب کی یہ آخری حدیث ہے اس لئے مناسب ہے کہ اس کے ضمن میں مسح سے متعلق چند مسائل ذکر کئے جائیں۔ (١) اگر موزہ کسی جگہ سے پاؤں کی تین چھوٹی انگلیوں کے برابر پھٹ جائے تو اس پر مسح درست نہیں ہوتا، اس طرح اگر ایک موزہ تھوڑا تھوڑا کر کے کئی جگہ سے اتنی مقدار میں پھٹ جائے کہ اگر ان سب کو جمع کیا جائے تو وہ تین اگلیوں کے برابر ہو تو اس پر بھی مسح درست نہیں ہوتا اور اگر دونوں موزے تھوڑے تھوڑے اتنی مقدار میں پھٹے ہوں کہ اگر انہیں جمع کیا جائے تو وہ تین انگلیوں کے برابر ہو تو اس کا اعتبار نہیں ہوگا بلکہ ان پر مسح درست ہوگا۔ (٢) جن چیزوں سے وضو ٹوٹتا ہے ان سے مسح بھی ٹوٹ جاتا ہے۔ (٣) حدث کے بعد موزہ اتارنے سے مسح ٹوٹ جاتا ہے۔ (٤) مسح کی مدت ختم ہوجانے کے بعد مسح ٹوٹ جاتا ہے بشرطیکہ سردی کی وجہ سے پاؤں کے ضائع ہونے کا خوف نہ ہو، یعنی اگر سردی کی شدت اور کسی بیماری کی وجہ سے یہ خوف ہو کہ موزہ اتارنے سے پاؤں ضائع ہوجائے گا تو مسح کی مدت ختم ہونے کے بعد مسح نہیں ٹوٹے گا جب تک خوف باقی رہے گا مسح بھی باقی رہے گا۔ (٥) اگر موزہ اتارنے یا مدت ختم ہونے کی وجہ سے مسح ٹوٹ جائے اور وضو باقی ہو تو ایسی شکل میں از سر نو وضو کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ صرف پاؤں دھو کر موزہ پہن لینا کافی ہوگا۔ (٦) اگر آدھے سے زیادہ پاؤں موزے سے باہر نکل آئے تو بھی مسح ٹوٹ جاتا ہے۔ (٧) اگر مقیم نے مسح کیا اور ایک رات اور ایک دن گزرنے سے پہلے مسافر ہوگیا وہ مسح کے لئے سفر کی مدت پوری کرے یعنی تین دن اور تین رات تک مسح کرتا رہے، اسی طرح اگر مسافر نے مسح کیا اور پھر وہ مقیم ہوگیا تو اسے چاہئے کہ ایک دن ایک رات کے بعد موزہ اتار دے کیونکہ اس کی مدت پوری ہوگئی ہے۔ (٨) اگر کوئی معذور مثلاً ظہر کے وقت وضو کر کے موزہ پہنے تو جس عذر کی وجہ سے وہ معذور ہے اس کے علاوہ کسی دوسری چیز سے اس کا وضو ٹوٹ جائے تو اس کے لئے مسح کی مدت میں موزوں پر مسح کرنا جائز ہوگا اور پھر مسح کی مدت ختم ہوجانے کے بعد مسح ٹوٹ جائے گا۔

493Mishkaat-al-Masabih

تیمم کا بیان

تیمم ( تیمم ٥ ھ میں مشروع ہوا۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے آیت (فَلَمْ تَجِدُوْا مَا ءً فَتَيَمَّمُوْا صَعِيْدًا طَيِّبًا فَامْسَحُوْا بِوُجُوْهِكُمْ وَاَيْدِيْكُمْ مِّنْهُ ) 5۔ المائدہ 6) (تم کو پانی نہ ملے تو تم پاک زمین سے تیمم کرلیا کرو یعنی اپنے چہروں اور ہاتھوں پر ہاتھ اس زمین (کی جنس) پر سے (مار کر) پھیرلیا کرو ) وضو اور غسل کا قائم مقام ہے۔ لغت میں تیمیم کے معنی قصد کے آتے ہیں اور اصطلاح شریعت میں تیمم سے مراد ہے پاک مٹی کا قصد کرنا یا اس چیز کا قصد کرنا جو مٹی کے قائم مقام ہو جیسے پتھر اور چونا وغیرہ اور طہارت کی نیت کے ساتھ اسے ہاتھ اور منہ پر ملنا۔ اس مسئلہ میں علماء کا اختلاف ہے کہ تیمیم کے لئے دو ضربیں یا ایک ضرب ہے؟ چناچہ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ، حضرت امام ابویوسف، حضرت امام مالک اور حضرت امام احمد بن حنبل رحمہم اللہ تعالیٰ علیہم کا مسلک یہ ہے کہ تیمم کے لئے دو ضربیں ہیں یعنی پاک مٹی یا اس کے قائم مقام مثلاً پاک چونے اور پتھر وغیرہ پر دو دفعہ ہاتھ مارنا چاہئے ایک ضرب تو منہ کے لئے ہے اور دوسری ضرب کہنیوں تک دونوں ہاتھوں کے لئے۔ حضرت امام شافعی (رح) کا بھی مختار مسلک یہی ہے اور بعض حنابلہ کا بھی یہی مسلک ہے۔ لیکن حضرت امام احمد بن حنبل (رح) کا مشہور مسلک اور حضرت امام شافعی (رح) کا قدیم قول یہ ہے کہ تیمیم ایک ہی ضرب ہے یعنی تیمم کرنے والے کو چاہئے کہ ایک ہی مرتبہ پاک مٹی وغیرہ پر ہاتھ مار کر اسے منہ اور کہنیوں تک دونوں ہاتھوں پر پھیر لے، حضرت امام اوزاعی، عطاء اور مکحول رحمہم اللہ تعالیٰ عیہم سے بھی یہی منقول ہے۔ دونوں فریقین کے مذہب و مسلک کی تائید میں احادیث منقول ہیں جو آگے انشاء اللہ آئیں گی اور جن کی حسب موقع فائدہ و توضیح بھی کی جائے گی۔ اس موقعہ پر مناسب ہے کہ تیمیم کے کچھ احکام اور وہ صورتیں ذکر کردی جائیں جن میں تیمیم جائز ہے تیمم حسب ذیل صورتوں میں جائز ہوتا ہے۔ (١) اتنا پانی جو وضو اور غسل کے لئے کافی ہو اپنے پاس موجود نہ ہو بلکہ ایک میل یا ایک میل سے زائد فاصلے پر ہو۔ (٢) پانی جو موجود تو ہو مگر کسی کی امانت ہو یا کسی سے غصب کیا ہوا ہو۔ (٣) پانی کے نرخ کا معمول سے زیادہ گراں ہوجانا۔ (٤) پانی کی قیمت کا موجود نہ ہونا خواہ پانی قرض مل سکتا ہو یا نہیں، قرض لینے کے صورت میں اس پر قادر ہو یا نہ ہو، ہاں اگر اپنی ملکیت میں مال ہو اور ایک مدت معینہ کے وعدے پر قرض مل سکتا ہو تو قرض لے لینا چاہئے۔ (٥) پانی کے استعمال سے کسی مرض کے پیدا ہوجانے یا بڑھ جانے کا خوف ہو یا یہ خوف ہو کہ اگر پانی استعمال کیا جائے گا تو صحت یابی میں دیر ہوگی۔ (٦) سردی اس قدر شدید ہو کہ پانی کے استعمال سے کسی عضو کے ضائع ہوجانے یا کسی مرض کے پیدا ہوجانے کا خوف ہو اور گرم پانی ملنا ممکن نہ ہو۔ (٧) کسی دشمن یا درندے کا خوف ہو مثلاً پانی ایسی جگہ ہو جہاں درندے وغیرہ آتے ہوں یا موجود ہوں یا راستے میں چوروں کا خوف ہو، یا اپنے اوپر کسی کا قرض ہو، یا کسی سے عداوت اور یہ خیال ہو کہ اگر پانی لینے جاؤں گا تو قرض خواہ مجھ کو پکڑ لے گا، یا کسی قسم کی تکلیف دے گا، یا پانی کسی غنڈے اور فاسق کے پاس ہو اور عورت کو اس کے حاصل کرنے میں اپنی بےحرمتی کا خوف ہو۔ (٨) پانی کھانے پینے کی ضرورت کے لئے رکھا ہو کہ اسے وضو یا غسل میں خرچ کردیا جائے تو اس ضرورت میں حرج ہو مثلاً آٹا گوندھنے یا گوشت وغیرہ پکانے کے لئے رکھا ہو، یا پانی اس قدر ہو کہ اگر وضو غسل میں صرف کردیا جائے تو پیاس کا خوف ہو خواہ اپنی پیاس کا یا کسی دوسرے کی پیاس کا، یا اپنے جانوروں کی پیاس کا، بشرطیکہ کوئی ایسی تدبیر نہ ہو سکے کہ مستعمل پانی جانوروں کے کام آسکے۔ (٩) کنوئیں سے پانی نکالنے کی کوئی چیز نہ ہو اور نہ کوئی کپڑا ہو کہ اسے کنوئیں میں ڈال کر تر کرے اور پھر اس سے نچوڑ کر طہارت حاصل کرے، یا پانی مٹکے وغیرہ میں ہو اور کوئی چیز پانی نکالنے کے لئے نہ ہو اور نہ مٹکا جھکا کر پانی لے سکتا ہو، نیز ہاتھ نجس ہوں اور کوئی دوسرا ایسا آدمی نہ ہو جو پانی نکال کر دے یا اس کے ہاتھ دھلا دے۔ (١٠) وضو یا غسل کرنے میں ایسی نماز کے چلے جانے کا خوف ہو جس کی قضا نہیں ہے جیسے عیدین یا جنازے کی نماز۔ (١١) پانی کا بھول جانا مثلاً کسی آدمی کے پاس پانی تو ہے مگر وہ اسے بھول گیا ہو اور اس کا خیال ہو کہ میرے پاس پانی نہیں ہے۔ تیمم کرنے کا مسنون و مستحب طریقہ درج ذیل ہے پہلے بسم اللہ پڑھ کر تیمم کی نیت کی جائے پھر اپنے دونوں ہاتھوں کو کسی ایسی مٹی پر جس کو نجاست نہ پہنچی ہو یا اس کی نجاست دھو کر زائل کردی گئی ہو، ہتھیلیوں کی جانب سے کشادہ کر کے مار کر ملے اس کے بعد ہاتھوں کو اٹھا کر ان کی مٹی جھاڑ ڈالے اور پھر پورے دونوں ہاتھوں کو اپنے پورے منہ پر ملے اس طرح کہ کوئی جگہ ایسی باقی نہ رہ جائے جہاں ہاتھ نہ پہنچے۔ پھر اسی طرح دونوں ہاتھوں کو مٹی پر مار کر ملے پھر ان کی مٹی جھاڑ ڈالے اور بائیں ہاتھ کی تین انگلیاں سوائے کلمہ کی انگلی اور انگوٹھے کے، داہنے ہاتھ کے انگلیوں کے سرے پر پشت کی جانب رکھ کر کہنیوں تک کھینچ لائے اس طرح کہ بائیں ہاتھ کی ہتھیلی بھی لگ جائے اور کہنیوں کا مسح بھی ہوجائے پھر باقی انگلیوں کو اور ہاتھ کی ہتھیلی کو دوسری جانب رکھ کر انگلیوں تک کھینچا جائے، اسی طرح بائیں ہاتھ کا بھی مسح کرے۔ وضو اور غسل دونوں کے تیمم کا یہی طریقہ ہے اور ایک ہی تیمم دونوں کے لئے کافی ہے۔ اگر دونوں کی نیت کرلی جائے۔ تیمم کے کچھ احکام و مسائل یہ ہیں۔ یہ تمام مسائل عبدالشکور لکھنوی کی کتاب سے ماخوذ ہیں۔ (١) تیمّم کے وقت نیت کرنا فرض ہے اور نیت کی شکل یہ ہے کہ جس حدیث کے سبب سے تیمم کیا جائے اس سے طہارت کی نیت کی جائے یا جس چیز کے لئے تیمم کیا جائے اس کی نیت کی جائے مثلاً اگر نماز جنازہ کے لئے تیمم کیا جائے یا قرآن مجید کی تلاوت کے لئے تیمم کیا جائے تو اس کی نیت کی جائے مگر نماز اسی تیمم سے صحیح ہوگی جس میں حدث سے طہارت کی نیت کی جائے یا کسی ایسی عبادت مقصودہ کی نیت کی جائے جو بغیر طہارت کے نہیں ہوسکتی۔ (٢) تیمم کرتے وقت اعضاء تیمم سے ایسی چیزوں کو دور کردینا فرض ہے جس کی وجہ سے مٹی جسم تک نہ پہنچ سکے جیسے روغن یا چربی وغیرہ۔ (٣) تنگ انگوٹھی تنگ چھلوں اور چوڑیوں کو اتار ڈالنا واجب ہے۔ (٤) اگر کسی قرینے سے پانی کا قریب ہونا معلوم ہو تو اس کی تلاش میں سو قدم تک خود جانا یا کسی کو بھیجنا واجب ہے۔ (٥) اگر کسی دوسرے آدمی کے پاس پانی موجود ہو اور اس سے ملنے کی امید ہو تو اس سے طلب کرنا واجب ہے۔ (٦) اس ترتیب سے تیمم کرنا سنت ہے جس ترتیب سے رسول اللہ ﷺ نے تیمم کیا ہے یعنی پہلے منہ کا مسح پھر دونوں ہاتھوں کا مسح۔ (٧) منہ کے مسح کے بعد داڑھی کا خلال کرنا سنت ہے۔ (٨) جس آدمی کو آخر وقت تک پانی ملنے کا یقین یا گمان غالب ہو تو اس کو نماز کے اخیر وقت تک پانی کا انتظام کرنا مستحب ہے مثلاً کنوئیں سے پانی نکالنے کی کوئی چیز نہ ہو اور یہ یقن یا گمان غالب ہو کہ آخر وقت رسی اور ڈول مل جائیں گے۔ یا کوئی آدمی ریل پر سوار ہو اور یہ بات یقین کے ساتھ معلوم ہو کہ نماز کے آخر وقت ریل ایسے اسٹیشن پر پہنچ جائے گی جہاں پانی مل سکتا ہے۔ (٩) تیمم نماز کے وقت کے تنگ ہوجانے کی صورت میں واجب ہوتا ہے۔ شروع وقت میں واجب نہیں ہوتا۔ (١٠) نماز کا اس قدر وقت ملے کہ جس میں تیمم کر کے نماز پڑھنے کی گنجائش ہو تو تیمم واجب ہوتا ہے اور اگر وقت نہ ملے تو تیمم واجب نہیں۔ (١١) جن چیزوں کے لئے وضو فرض ہے ان کے لئے وضو کا تیمم بھی فرض ہے۔ اور جن چیزوں کے لئے وضو واجب ہے ان کے لئے وضو کا تیمم بھی واجب ہے اور جن چیزوں کے لئے وضو سنت یا مستحب ہے ان کے لئے وضو کا تیمم بھی سنت اور مستحب ہے، یہی حال غسل کا بھی ہے۔ (١٢) اگر کوئی آدمی حالت جنابت میں ہو اور مسجد میں جانے کی اسے سخت ضرورت ہو تو اس پر تیمم کرنا واجب ہے۔ (١٣) جن عبادتوں کے لئے حدث اکبر (یعنی جنابت) اور حدث اصغر (یعنی جس سے وضو ٹوٹ جاتا ہے) سے طہارت شرط نہیں ہے۔ جیسے سلام وسلام کا جواب وغیرہ ان کے لئے وضو و غسل دونوں کا تیمم بغیر عذر کے ہوسکتا ہے اور جن عبادتوں میں صرف حدث اصغر سے طہارت شرط نہ ہو جیسے تلاوت قرآن مجید اور اذان وغیرہ ان کے لئے صرف وضو کا تیمم بغیر عذر ہوسکتا ہے۔ (١٤) اگر کسی کے پاس مشکوک پانی ہو جیسے گدھے کا استعمال کردہ پانی تو ایسی حالت میں پہلے اگر وضو کی ضرورت ہو تو وضو، غسل کی ضرورت ہو تو غسل کیا جائے اس کے بعد تیمم کیا جائے۔ (١٥) اگر وہ عذر جس کی وجہ سے تیمم کیا گیا ہے آدمیوں کی طرف سے ہو تو جب وہ عذر جاتا رہے تو جس قدر نمازیں اس تیمم سے پڑھی ہیں سب کو دوبارہ پڑھنا چاہئے۔ مثلاً کوئی آدمی جیل میں ہو اور جیل کے ملازم اس کو پانی نہ دیں یا کوئی آدمی اس سے کہے کہ اگر تو وضو کرے گا تو تجھ کو مار ڈالوں گا۔ (١٦) ایک جگہ سے اور ایک ڈھیلے سے چند آدمی یکے بعد دیگرے تیمم کریں تو درست ہے۔ (١٧) جو آدمی پانی اور مٹی دونوں پر قادر نہ ہو خواہ پانی و مٹی نہ ہونے کی وجہ سے یا بیماری کی وجہ سے تو اس کو چاہئے کہ نماز بلا طہارت پڑھ لے پھر اس نماز کو طہارت سے لوٹا لے مثلاً کوئی آدمی ریل میں سوار ہے اور نماز کا وقت ہوگیا ہے مگر نہ تو پانی موجود ہے کہ وہ وضو کرے اور نہ مٹی یا اس قسم کی کوئی دوسری چیز ہے جس سے وہ تیمم کرسکے، ادھر نماز کا وقت بھی ختم ہوا جا رہا ہے تو اسے چاہئے کہ ایسی حالت میں بلا طہارت نماز پڑھ لے۔ اسی طرح کوئی آدمی جیل میں ہو اور وہ پاک پانی اور مٹی پر قادر نہ ہو تو وہ بےوضو اور بےتیمم نماز پڑھ لے گا مگر ان دونوں صورتوں میں نماز کا اعادہ ضروری ہوگا۔

494Mishkaat-al-Masabih

تیمم کا بیان

عَنْ حُذَےْفَۃَص قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم فُضِّلْنَا عَلَی النَّاسِ بِثَلٰثٍ جُعِلَتْ صُفُوفُنَا کَصُفُوْفِ الْمَلٰئِکَۃِ وَجُعِلَتْ لَنَا الْاَرْضُ کُلُّھَا مَسْجِدًا وَّجُعِلَتْ تُرْبَتُھَا لَنَا طُہُوْرًا اِذَا لَمْ نَجِدِ الْمَآئَ۔(صحیح مسلم)

حضرت حذیفہ ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہم لوگ (پہلی امتوں کے) لوگوں پر تین چیزوں سے فضیلت دئیے گئے ہیں (١) ہماری صفیں (نماز میں یا جہاد میں) فرشتوں کی صفوں جیسی (شمار) کی گئی ہیں۔ (٢) ہمارے واسطے تمام زمین مسجد بنادی گئی ہے (کہ جہاں چاہیں نماز پڑھ لیں)۔ (٣) جس وقت ہمیں پانی نہ ملے تو زمین کی مٹی ہمارے لئے پاک کردینے والی ہے۔ (صحیح مسلم) تشریح رسول اللہ ﷺ کی اس امت سے پہلے دنیا میں جتنی بھی امتیں پیدا ہوئی ہیں، یوں تو ان سب کے مقابلہ میں یہ امت گوناگوں خصوصیات اور امیتازات کی بناء پر سب سے زیادہ افضل اور بزرگ ہے۔ عظمت و فضیلت میں کوئی امت اس امت سے مماثل نہیں ہے۔ مگر یہاں رسول اللہ ﷺ اس امت کی بعض امتیازی خصوصیات کی طرف جو اللہ تعالیٰ کی جانب سے اس امت پر بےپایاں انعامات و احسانات کا نتیجہ ہیں اشارہ فرما رہے ہیں کہ ان چیزوں کے بناء پر میری امت کو دوسری امتوں پر خاص فضیلت و فوقیت دی گئی ہے۔ چناچہ پہلی چیز تو آپ ﷺ یہ فرما رہے ہیں کہ (نماز یا جہاد میں) اس امت کی صفیں فرشتوں کی صفیں جیسی (شمار) کی گئی ہیں یعنی جس طرح فرشتے صف بندی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں کہ جس کی بناء پر انہیں مقام قرب میسر ہے اور بےانتہا بزرگی وسعادت حاصل ہوتی ہے اسی طرح اس امت کو بھی جہاد یا نماز میں صف بندی اور جماعت کی بناء پر اللہ تعالیٰ کا مقام قرب حاصل ہوتا ہے اور اس وجہ سے یہ امت سابقہ امتوں کے مقابلے میں افضل ہے کیونکہ سابقہ امتوں میں صف بندی اور جماعت نہیں تھی وہ لوگ جس طرح چاہتے نماز پڑھ لیتے مگر اللہ تعالیٰ نے اس امت کو جماعت کا حکم دے کر گویا سعادت و نیک بختی کے اس عظیم راستہ پر لگا دیا کہ جماعت اور صف بندی کی جتنی زیادہ پابندی کی جائے گی سعادت و نیک بختی اور مقام قرب کے دروازے کھلتے چلے جائیں گے۔ دوسری چیز آپ ﷺ نے یہ فرمائی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دوسری امتوں کے مقابلہ میں اس امت پر یہ بھی بڑا احسان فرمایا اور اس کو فضیلت بخشی کہ اس امت کے لوگوں کے لئے تمام زمین کو سجدہ گاہ قرار دے دیا کہ بندہ زمین کے جس پاک حصے پر اللہ کے سامنے جھک جائے اور نماز ادا کرے اس کی نماز قبول کرلی جائے گی برخلاف اس کے کہ پچھلی امتوں کے لئے یہ سہولت اور فضیلت نہیں تھی ان لوگوں کی نماز کنائس اور بیع (جو پچھلی امتوں کے عبادت خانوں کے نام ہیں) اس کے علاوہ اور کہیں جائز نہ ہوتی تھی۔ تیسری چیز آپ ﷺ نے یہ فرمائی ہے کہ اس امت کے لئے تیمم کو جائز کر کے اللہ تعالیٰ نے اس امت کو دوسری امتوں پر عظیم فضیلت عنایت فرمائی ہے یعنی اگر پانی موجود نہ ہو یا پانی کے استعمال پر قدرت نہ ہو یا پانی کے استعمال سے معذور ہو تو پاک مٹی سے تیمم کر کے نماز پڑھ لی جائے۔ نماز جائز ہوجائے گی۔ بہر حال۔ اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ ان تین چیزوں میں ہمیں دوسری امتوں کے مقابلہ میں فضیلت و بزرگی ہے کہ ہمیں جماعت سے نماز پڑھنے کا حکم ہوا اور اس پر بیشمار اجر و انعام اور ثواب کا وعدہ کیا گیا ساری زمین ہمارے لئے مسجد قرار دی گئی کہ جہاں چاہیں نماز پڑھ لیں، نماز جائز ہوجائے گی اور جہاں پانی نہ ملے یا پانی کے استعمال پر قدرت نہ ہو تو پاک مٹی سے تیمم کر کے نماز پڑھ لیں۔ اس حدیث سے بظاہر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ تیمم صرف مٹی ہی سے کرنا چاہئے اور کسی چیز سے تیمم کرنا درست نہ ہوگا۔ جیسے کہ حضرت امام شافعی (رح) وغیرہ کا مسلک ہے۔ مگر حضرت امام اعظم ابوحنیفہ (رح) علیہ، حضرت امام محمد (رح) کے نزدیک تیمم ہر اس چیز سے درست ہے جو زمین کی جنس سے ہو، زمین کی جنس کا اطلاق ان چیزوں پر ہوتا ہے جو نہ تو آگ میں جلنے سے پگھلیں نہ نرم ہوں اور نہ جل کر راکھ ہوں جیسے مٹی پتھر اور چونا وغیرہ ان حضرات کی دلیل سرکار دو عالم ﷺ کا یہ ارشاد گرامی ہے جو حضرت جابر ؓ سے صحیح البخاری میں منقول ہے کہ الحدیث (جُعِلَتْ لِیَ الْاَرْضِ مَسْجِدً اوَّطَھُوْرًا)۔ یعنی زمین میرے لئے مسجد اور پاک کرنے والی کردی گئی ہے۔ اس ارشاد میں لفظ ارض کا استعمال کیا گیا ہے جو ہر اس چیز کے مفہوم کو ادا کرتا ہے جو زمین کی جنس سے ہو۔

495Mishkaat-al-Masabih

تیمم کا بیان

(١)وَعَنْ عِمْرَانَص قَالَ کُنَّا فِیْ سَفَرٍ مَعَ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم فَصَلّٰی بِالنَّاسِ فَلَمَّا انفَتَلَ مِنْ صَلٰوتِہٖ اِذَا ھُوَ بِرَجُلٍ مُّعْتَزِلٍ لَّمْ ےُصَلِّ مَعَ الْقَوْمِ فَقَالَ مَا مَنَعَکَ ےَا فُلَانُ اَنْ تُصَلِّیَ مَعَ الْقَوْمِ قَالَ اَصَابَتْنِیْ جَنَابَۃٌ وَّلَا مَآءَ قَالَ عَلَےْکَ بِالصَّعِےْدِ فَاِنَّہ، ےَکْفِےْکَ۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)

اور حضرت عمران ؓ راوی ہیں کہ (ایک مرتبہ) ہم رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ سفر میں تھے۔ آپ ﷺ نے (ہم) لوگوں کو نماز پڑھائی جب آنحضرت ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ ایک آدمی علیحدہ بیٹھا ہوا ہے اس نے لوگوں کے ساتھ نماز نہیں پڑھی تھی چناچہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اے فلاں! تمہیں لوگوں کے ساتھ نماز پڑھنے سے کس نے روک دیا تھا؟ اس نے عرض کیا کہ مجھے نہانے کی ضرورت ہوگئی ہے اور پانی نہیں ملا آپ ﷺ نے فرمایا ( ایسی صورت میں) تمہیں مٹی سے تیمم کرلینا لازم تھا اور تمہیں وہی کافی تھا۔ ( صحیح البخاری و صحیح مسلم )

496Mishkaat-al-Masabih

تیمم کا بیان

وَعَنْ عَمَّارٍص قَالَ جَآءَ رَجُلٌ اِلٰی عُمَرَ ص بْنِ الْخَطَّابِ فَقَالَ اِنِّیْ اَجْنَبْتُ فَلَمْ اُصِبِ الْمَآءَ فَقَالَ عَمَّارٌ لِّعُمَرَص اَمَا تَذْکُراَنَّا کُنَّا فِیْ سَفَرٍ اَنَا وَاَنْتَ فَاَمَّا اَنْتَ فَلَمْ تُصَلِّ وَاَمَّا اَنَا فَتَمَعَّکْتُ فَصَلَّےْتُ فَذَکَرْتُ ذَالِکَ لِلنَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم فَقَالَ اِنَّمَا کَانَ ےَکْفِےْکَ ھٰکَذَا فَضَرَبَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم بِکَفَّےْہِ الْاَرْضَ وَنَفَخَ فِےْھِمَا ثُمَّ مَسَحَ بِھِمَا وَجْھَہُ وَکَفَّےْہِ رَوَاہُ الْبُخَارِیِّ وَلِمُسْلِمٍ نَّحْوَہُ وَفِےْہِ قَالَ اِنَّمَا ےَکْفِےْکَ اَنْ تَضْرِبَ بِےَدَےْکَ الْاَرْضَ ثُمَّ تَنْفُخُ ثُمَّ تَمْسَحُ بِھِمَا وَجْہَکَ وَکَفَّےْکَ۔

اور حضرت عمار ؓ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی عمر بن خطاب ؓ کے پاس آیا اور کہنے لگا کے مجھے نہانے کی ضرورت ہے اور پانی نہیں ملا (تو اب تیمم کروں یا کیا کروں؟ ) حضرت عمار ؓ (یہ سن کر) حضرت عمر ؓ سے بولے کیا تمہیں یاد نہیں رہا کہ میں اور تم سفر میں تھے اور ہم دونوں کو نہانے کی ضرورت ہوگئی تھی) تو تم نے نماز پڑھی تھی لیکن میں نے زمین پر لوٹ کر نماز پڑھ لی تھی پھر میں نے رسول اللہ ﷺ سے صورت حال ذکر کی تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ تمہیں اس طرح کرلینا کافی تھا، چناچہ آپ ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھ زمین پر مارے پھر ان پر پھونک مار کر (یعنی جھاڑ کر) ان سے اپنے منہ اور ہاتھوں پر مسح کرلیا۔ (صحیح البخاری) اسی طرح مسلم نے روایت کی ہے (جس کے آخری الفاظ یہ ہیں ( آپ ﷺ نے فرمایا کہ) تمہارے لئے یہ کافی ہے کہ اپنے ہاتھوں کو زمین پر مارو پھر ان میں پھونک مار کر اپنے منہ اور ہاتھوں پر مسح کرو۔ تشریح اس حدیث میں حضرت عمر ؓ کا جواب ذکر نہیں کیا گیا ہے لیکن حدیث کے بعض دوسرے طرق سے مذکور ہے کہ حضرت عمر ؓ نے اس آدمی کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ لا تصل یعنی جب تک پانی نہ ملے نماز نہ پڑھو! چناچہ حضرت عمر کا ؓ کا مسلک یہی تھا کہ جنبی کے لئے تیمم جائز نہیں ہے۔ یا یہ ممکن ہے کہ حضرت عمر ؓ نے مسئلہ پوچھنے والے کے سوال پر جو سکوت اختیار فرمایا اس کی وجہ یہ تھی کہ جنبی کے لئے تیمم کا حکم ان کے ذہن میں نہیں رہا تھا۔ چناچہ حضرت عمار ؓ نے تمام واقعہ بیان کیا تاکہ حضرت عمر ؓ کے ذہن میں اس سے یہ بات پیدا ہوجائے کہ جنبی کے لئے تیمم جائز ہے حضرت عمار ؓ نے جو واقعہ بیان کیا اس میں حضرت عمر ؓ کے بارے میں جو یہ بتایا کہ انہوں نے غسل کے لئے پانی نہ ہونے کی وجہ سے حالت جنابت میں نماز نہیں پڑھی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ حضرت عمر فاروق ؓ نے یہ سوچا ہوگا کہ ہوسکتا ہے کہ نماز کے آخر وقت تک پانی مل جائے اس لئے انہوں نے یہ مناسب سمجھا کہ پانی مل جانے کے بعد غسل کر کے ہی نماز پڑھی جائے یا پھر اس کی وجہ وہی ہوسکتی ہے کہ ان کے ذہن میں بات بیٹھی ہوئی تھی کہ تیمم تو صرف وضو کے قائم مقام ہے غسل کا قائم مقام نہیں ہے۔ ظاہری طور پر یہ وجہ قرین قیاس ہے ان کے اس اعتقاد کا سبب یہ تھا کہ چونکہ انہیں اس مسئلہ کی پوری حقیقت معلوم نہیں تھی پھر یہ کہ انہیں اس مسئلہ پر آنحضرت ﷺ سے کبھی سوال کا اتفاق بھی نہ ہوا تھا اس لئے وہ تو یہی سمجھ رہے تھے کہ کہ تیمم صرف وضو کا قائم مقام ہے غسل کا نہیں ہے حالانکہ متفقہ طور پر سب ہی کے نزدیک تیمم جس طرح وضو کا قائم مقام ہے اسی طرح غسل کا قائم مقام بھی ہے۔ حضرت عمار ؓ اپنے بارے میں بتا رہے ہیں اس موقع پر میں نے دوسرا طریقہ اختیار کیا وہ یہ کہ میں مٹی میں لوٹ پوٹ ہوگیا اور اس کے بعد نماز پڑھ لی اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کے ذہن میں بھی یہ مسئلہ پوری وضاحت سے نہیں تھا اس لئے انہوں نے یہ قیاس کر کے جس طرح غسل میں پانی تمام اعضاء پر بہایا جاتا ہے اسی طرح مٹی بھی تمام اعضاء پر پہچانی چاہئے، مٹی میں لوٹ گئے۔ رسول اللہ ﷺ نے حضرت عمار ؓ کو تیمم کا طریقہ بتاتے ہوئے اپنے دونوں ہاتھ زمین پر مارے پھر ہاتھوں پر پھونک مار کر اس پر لگی ہوئی مٹی کو اس لئے جھاڑا تاکہ مٹی منہ پر نہ لگے جس سے منہ کی ہیت بگڑ جائے کہ وہ مثلہ کہ حکم میں ہے جو ممنوع ہے۔ مثلہ اسے کہتے ہیں کہ بدن کے کسی عضو کو کاٹ کر یا ایسا کوئی طریقہ اختیار کر کے جس سے خلقی طور پر اعضاء میں فرق آجائے، اللہ تعالیٰ کی تخلیق کو بگاڑا جائے، لہٰذا اس سے معلوم ہوا کہ جو لوگ اپنے چہروں پر بھبھوت وغیرہ ملتے ہیں وہ سخت گمراہی میں مبتلا ہیں۔ یہ حدیث اس پر دلالت کرتی ہے کہ تیمم کے لئے مٹی پر ایک مرتبہ ہاتھ مارنا کافی ہے جیسا کہ دوسرے حضرات کا یہی مسلک ہے مگر امام اعظم، حضرت امام شافعی اور حضرت امام مالک رحمہم اللہ تعالیٰ علیہم کا مسلک چونکہ یہ ہے کہ تیمم کے لئے مٹی پر دو مرتبہ ہا تھے مارنا چاہئے ایک مرتبہ تو منہ پر پھیرنے کے لئے اور دوسری مرتبہ کہنیوں تک ہاتھوں پر پھیرنے کے لئے اس لئے حضرت شیخ محی الدین نووی (رح) اس حدیث کی توجیہ یہ فرماتے ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ کا مقصد صرف یہ تھا کہ حضرت عمار ؓ کو مٹی پر ہاتھ مارنے کی کیفیت و صورت دکھا دیں کہ جنابت کے لئے تیمم اس طرح کرلیا کرو مٹی میں لوٹ پوٹ ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ لہٰذا چونکہ آپ ﷺ کا مقصد پورے تیمم کی کیفیت بیان کرنا نہیں تھا اس لئے حضرت عمار ؓ نے بھی روایت حدیث کے وقت ایک مرتبہ ہاتھ مارنے ہی کو بطور تعلیم ذکر کیا۔ یہی وجہ ہے کہ اس حدیث کے علاوہ حضرت عمار ؓ سے جو روایتیں تیمم کے بارے میں منقول ہیں ان میں صراحت کے ساتھ دو مرتبہ ہی ہاتھ مارنے کا ذکر کیا گیا ہے۔ اتنی بات اور سمجھ لیجئے کہ حدیث میں کفین سے ذراعین یعنی کہنیوں تک ہاتھ مراد ہیں جس کا مطلب یہ ہوا کہ آپ ﷺ نے اپنے ہاتھوں پر کہنیوں تک مسح کیا۔

497Mishkaat-al-Masabih

تیمم کا بیان

وَعَنْ اَبِی الْجُھَیْمِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الصِّمَّۃِ قَالَ مَرَرْتُ عَلَی النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم وَھُوَ یَبُوْلُ فَسَلَّمْتُ عَلَیْہِ فَلَمْ یَرُدَّ عَلَیَّ حَتٰی قَامَ اِلٰی جِدَارٍ فَحَثَّہ، بِعَصَا کَانَتْ مَعَہُ ثُمَّ وَضَعَ یَدَیْہِ عَلَے الْجِدَارِ فَمَسَحَ وَجْھَہ، وَذِرَاعَیْہِ ثُمَّ رَدَّ عَلَیَّ (وَلَمْ اَجِدْ ھٰذِہِ الرِّوَایَۃَ فِی الصَّحِیْحَیْنِ وَلَا فِی کِتَابِ الْحُمَیْدِیِّ وَلٰکِنْ ذَکَرَہ، فِیْ شَرْحِ السُّنَّۃِ وَقَالَ ھٰذَا حَدِیْثٌ حَسَنٌ)۔

اور حضرت ابوجہیم ابن حارث ابن صمہ ؓ راوی ہیں کہ (میں ایک مرتبہ) رسول اللہ ﷺ کے قریب سے گزرا۔ آپ ﷺ اس وقت پیشاب کر رہے تھے میں نے آپ ﷺ کو سلام کیا، آپ ﷺ نے جواب نہیں دیا۔ اور پیشاب سے فارغ ہو کر) ایک دیوار کے پاس کھڑے ہوئے اور ایک لاٹھی سے جو آپ ﷺ کے پاس تھی کھرچ کر اپنے دونوں ہاتھوں پر مسح کر کے میرے سلام کا جواب دیا۔ (مشکوٰۃ کے مصنف فرماتے ہیں کہ مجھے یہ روایت نہ صحیحین میں ملی ہے اور نہ حمیدی کی کتاب میں ہاں محی السنۃ نے اس کو شرح السنۃ میں ذکر کیا ہے اور یہ کہا ہے کہ حدیث حسن ہے (لہٰذا صاحب مصابیح کو چاہئے تھا کہ اس روایت کو پہلی فصل میں ذکر نہ کرتے )۔ تشریح آپ ﷺ نے اپنے عصا سے دیوار کی مٹی اس لئے کھرچی کہ اس میں سے غبار اٹھنے لگے کہ اس پر تیمم کرنا افضل ہے اور ثواب کی زیادتی کا باعث ہے۔ یہ حدیث اس پر دلالت کرتی ہے ذکر اللہ کے لئے باطہارت ہونا مستحب ہے نیز ہر وقت پاک و صاف اور طاہر رہنا بھی مستحب ہے۔

498Mishkaat-al-Masabih

تیمم کا بیان

عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم اِنَّ الصَّعِیْدَ الطَّیِّبَ وَضُوْءُ الْمُسْلِمِ وَاِنْ لَّمْ یَجِدِالْمَآءَ عَشَرَ سِنِیْنَ فَاِذَا وَجَدَ المَآءَ فَلْیَمَسَّہُ بَشَرَہ، فَاِنَّ ذٰلِکَ خَیْرٌ۔ (رَوَاہُ اَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِیُّ وَ اَبُوْدَاؤدَ وَرَوَی النِّسَائِیُّ نَحْوَہ، اِلٰی قَوْلِہٖ عَشْرَ سِنِیْنَ)

حضرت ابوذر ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے فرمایا پاک مٹی مسلمان کو پاک کرنے والی ہے۔ اگرچہ وہ دس برس تک پانی نہ پائے اور جس وقت مل جائے تو بدن دھو لینا چاہئے کیونکہ یہ بہتر ہے۔ (مسند احمد بن حنبل جامع ترمذی، سنن ابوداؤد) اور نسائی نے بھی اسی طرح کی روایت عشر سنین تک نقل کی ہے۔ تشریح دس برس کی مدت تحدید کے لئے نہیں ہے بلکہ کثرت کے لئے ہے یعنی اگر اتنے طویل عرصے تک بھی پانی نہ ملے تو غسل یا وضو کے لئے تیمم کیا جاسکتا ہے اور پھر بعد میں جب بھی اتنا پانی مل جائے جو غسل یا وضو کے لئے کافی ہو اور پینے کی ضرورت سے زیادہ ہو نیز اس کے استعمال پر قادر بھی ہو تو غسل کرنا یا وضو کرنا چاہئے کیونکہ اس صورت میں غسل یا وضو واجب ہوگا تیمم جائز نہیں ہوگا۔ یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ نماز کا وقت ختم ہوجانے پر تیمم نہیں ٹوٹتا بلکہ اس کا حکم وضو ( جن چیزوں سے وضو ٹوٹ جاتا ہے ان سے وضو کا تیمم بھی ٹوٹ جاتا ہے اور جن چیزوں سے غسل واجب ہوتا ہے ان سے غسل کا تیمم بھی ٹوٹ جاتا ہے۔ مزید وضاحت کے لئے علم الفقہ کا مطالعہ کریں)۔ کی طرح ہے کہ جس طرح جب تک وضو نہ ٹوٹے ایک وضو سے جتنے فرض یا نقل چاہے پڑھ سکتا ہے اسی طرح ایک تیمم سے بھی کئی وقت کی نماز پڑھی جاسکتی ہیں چناچہ حضرت امام ابوحنیفہ (رح) کا یہی مسلک ہے مگر حضرت امام شافعی (رح) کے نزدیک تیمم معذور کے وضو کی طرح ہے کہ جس طرح نماز کا وقت گزر جانے سے معذور کا وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ اسی طرح نماز کا وقت ختم ہوجانے پر تیمم بھی ٹوٹ جاتا ہے۔

499Mishkaat-al-Masabih

تیمم کا بیان

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ خَرَ جْنَا فِیْ سَفَرِ فَاَ صَابَ رَجُلًا مِنَّا حَجَرٌ فَشَجَّہ، فِیْ رَأْسِہٖ فَا حْتَلَمَ فَسَأْلَ اَصَحَابَہ، ھَلْ تَجِدُوْنَ لِی رُخْصَۃً فِی التَّیَمُّمِ قَالُوْ امَا نَجِدُلَکَ رُخْصَۃً وَاَنْتَ تَقْدِرُ عَلَی الْمَآءِ فَاغْتَسَلَ فَمَاتَ فَلَمَّا قَدِ مْنَا عَلَی النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم أُخْبِرُ بِذٰلِکَ قَالَ قَتَلُوْہُ قَتَلَھُمُ اﷲُ اَلَّا سَالُوْا اِذَالَمْ یَعْلَمُوْا فَاِ نَّمَا شِفَاءُ الْعَیِّ السُّؤَالُ اِنَّمَا کَانَ یَکْفِیْہِ اَنْ یَّتَیَمََّمَ وَیُعَصِّبُ عَلٰی جُرْحِہٖ خِرْقَۃً ثُمَّ یَمْسَحَ عَلَیْھَا وَیَغْسِلَ سَائِرَ جَسَدِہٖ۔ (رَوَاہُ اَبُوْدَاؤدَ وَرَوَاہُ ابْنُ مَاجَۃَ عَنْ عَطَآءِ بْنِ اَبِیْ رَبَاحٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ)

اور حضرت جابر ؓ فرماتے ہیں کہ ہم سفر میں جارہے تھے کہ ہم میں سے ایک آدمی کے پتھر لگا جس نے اس کے سر کو زخمی کر ڈالا (اتفاق سے) اسے نہانے کی حاجت بھی ہوگئی چناچہ اس نے اپنے ساتھیوں سے دریافت کیا کہ کیا تمہارے نزدیک (اس صورت میں) میرے لئے تیمم کرنا جائز ہے َ انہوں نے کہا ایسی صورت میں جب کہ تم پانی استعمال کرسکتے ہو، ہم تمہارے لئے تیمم کی کوئی وجہ نہیں پاتے۔ چناچہ اس آدمی نے غسل کیا (جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ) اس کا انتقال ہوگیا۔ جب ہم (سفر سے واپس ہو کر) رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ ﷺ سے یہ واقعہ بیان کیا، آپ ﷺ نے (انتہائی رنج اور تکلیف کے ساتھ) فرمایا لوگوں نے اسے مار دیا، اللہ بھی انہیں مارے پھر فرمایا کہ ان کو جو بات معلوم نہ تھی، اسے انہوں نے دریافت کیوں نہ کرلیا؟ (کیونکہ) نادانی کی بیماری کا علاج سوال ہے اور اسے تو یہی کافی تھا کہ تیمم کرلیتا اور اپنے زخم پر ایک پٹی باندھ کر اس پر مسح کرلیتا اور پھر اپنا تمام بدن دھو لیتا۔ (ابوداؤد اور ابن ماجہ نے اس روایت کو عطاء ابن رباح سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے)۔ تشریح بسا اوقات کم علمی اور کسی مسئلے سے عدم واقفیت پر اندو ہناک واقعہ کا سبب بن جایا کرتی ہے چناچہ اس موقعہ پر یہی ہوا کہ جب اس زخمی آدمی نے اپنے عذر کے بارے میں اپنے ساتھیوں سے مشورہ کیا کہ آیا ایسے حال میں کہ جب میرے سر پر زخم ہے اور پانی اس زخم کے لئے نقصان دہ ہوسکتا ہے تو ناپاکی دور کرنے کے لئے بجائے غسل کے میں تیمم کرسکتا ہوں؟ تو ساتھیوں نے مسئلے سے ناواقفیت اور اپنی کم علمی کی بنا پر یہ سمجھ کر آیت تیمم (فَلَمْ تَجِدُوْا مَا ءً فَتَيَمَّمُوْا صَعِيْدًا طَيِّبًا فَامْسَحُوْا بِوُجُوْهِكُمْ وَاَيْدِيْكُمْ مِّنْهُ ) 5۔ المائدہ 6) کا مطلب یہ ہے کہ تیمم صرف اس شکل میں جائز ہوگا جب کہ پانی موجود نہ ہو اگر پانی موجود ہو تو تیمم جائز نہیں ہوگا۔ اس آدمی سے کہہ دیا کہ تمہارے لئے تیمم جائز ہونے کا کوئی سوال ہی نہیں ہے؟ حالانکہ انہوں نے یہ نہ سمجھا کہ تیمم جائز نہ ہونے کی شکل یہ ہے کہ پانی موجود ہو اور ساتھ ساتھ اس کے استعمال پر قدرت نیز پانی کے استعمال سے کسی نقصان اور ضرر کا خدشہ بھی نہ ہو۔ اس بیچارے نے ان لوگوں کے علم و فہم پر اعتماد کیا اور اس حالت میں غسل کرلیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ پانی نے زخم میں شدت پیدا کردی اور شدت بھی ایسی کہ وہ اللہ کا بندہ اسی وجہ سے اللہ کو پیار ہوگیا۔ بہر حال یہ حدیث اس پر دلالت کرتی ہے کہ ایسے مواقع پر تیمم بھی کرنا چاہئے اور اس کے ساتھ ساتھ تمام بدن کو دھونا بھی چاہئے جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ چناچہ حضرت امام شافعی (رح) کا مسلک یہ ہے مگر امام اعظم ابوحنیفہ کے (رح) کے نزدیک دونوں میں سے ایک ہی چیز کافی ہے۔ حنفیہ کی جانب سے شوافع کو جواب دیتے ہوئے یہ کہا جاتا ہے کہ یہ حدیث ضعیف ہے اور پھر قیاس کے خلاف بھی ہے کہ اس سے بدل اور مبدل منہ کا جمع لازم آیا ہے۔ الحاصل اس مسئلے کا خلاصہ یہ ہے کہ ایسے مواقع پر اگر کسی آدمی کو پانی کے استعمال کرنے کی وجہ سے تلف جان کا خوف ہو تو اس کے لئے تیمم کرنا جائز ہے یہ مسئلہ سب کے نزدیک متفق علیہ ہے۔ اور اگر کسی آدمی کو یہ ڈر ہو کہ پانی کے استعمال سے مرض بڑھ جائے گا یا صحت یابی میں تاخیر ہوجائے گی تو ایسی شکل میں بھی حضرت امام اعظم اور حضرت امام مالک رحمہما اللہ تعالیٰ علیہ کے نزدیک اسے تیمم کر کے نماز پڑھ لینی جائز ہے اور بعد میں نماز کی قضا ضروری نہیں ہے حضرات شوافع کے ہاں بھی تقریباً یہ مسلک ہے۔ اگر کسی آدمی کے کسی عضو میں زخم ہو یا پھوڑا ہو اور اس کی پٹی بندھی ہوئی ہو تو اس صورت میں حضرت امام شافعی (رح) کا مسلک یہ ہے کہ اگر پٹی اتارنے سے تلف جان کا خطرہ ہو تو اسے چاہئے کہ پٹی پر مسح کرے اور تیمم کرے مگر حضرت امام اعظم اور حضرت امام مالک رحمہما اللہ تعالیٰ علیہما فرماتے ہیں کہ جب کسی آدمی کے بدن کا کچھ حصہ زخمی اور کچھ حصہ اچھا ہو تو یہ دیکھا جائے گا کہ زخمی حصہ کتنا ہے اور اچھا حصہ کتنا ہے اگر زیادہ حصہ اچھا ہے تو اسے دھوئیں گے اور زخم پر مسح کریں اور اگر اکثر حصہ زخمی ہوگا تو تیمم کریں گے اور دھونا ساقط ہوجائے گا۔ امام احمد بن حنبل (رح) کا مسلک یہ ہے کہ جو حصہ اچھا ہو اسے دھویا جائے اور زخم کے لئے تیمم کیا جائے۔

500Mishkaat-al-Masabih

تیمم کا بیان

وَعَنْ اَبِیْ سَعِیْدِ الْخُدْرِیِّ قَالَ خَرَجَ رَجُلَانِ فِیْ سَفَرٍ فَحَضَرَتِ الصَّلَاۃُ وَلَیْسَ مَعَھُمَا مَآءٌ فَتَیَمَّمَا صَعِیْدًا طَیِّبًا فَصَلَّیَا ثُمَّ وَجَدَا الْمَا ۤءَ فِیْ الْوَقْتِ فَاَ عَادَاَ حَدُ ھُمَا الصَّلٰوۃَ بِوُضُوْءٍ وَلَمْ یُعِدِ الْاٰ خَرُثُمَّ اَتَیَا رَسُوْلَ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلمفَزَکَرَا ذٰلِکَ فَقَالَ لِلَّذِیْ لَمْ یُعِدْ اَصَبْتَ السُّنَّۃَ وَاَجْزَأَتْکَ صَلاَ تُکَ وَقَالَ لِلَّذِیْ تَوَضَّأَ وَ اَعَادَلَکَ الْاَجْرُ مَرَّتَیْنِ۔ (رَوَاہُ اَبُوْدَاؤدَ وَالدَّارِمِیُّ والنَّسَائِیُّ نَحْوَہ، وَ قَدْرَوٰی ھُوَ وَاَبُوْدَاؤَدَ اَیْضًا عَنْ عَطَاءِ بْنِ یَسَارٍ مُرْسَلًا)

اور حضرت ابوسعید خدری ؓ راوی ہیں کہ دو آدمی سفر کو روانہ ہوئے (اثنأ راہ میں) نماز کا وقت ہوا مگر ان کے پاس پانی نہیں تھا چناچہ دونوں نے پاک مٹی سے تیمم کیا اور نماز پڑھ لی (آگے چل کر انہیں پانی مل گیا اور نماز کا وقت بھی باقی تھا لہٰذا ان میں سے ایک نے وضو کر کے نماز لوٹا لی مگر دوسرے نے نہیں لوٹائی۔ جب دونوں رسول اللہ ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے تو یہ واقعہ ذکر کیا، رسول اللہ ﷺ نے (پورا وقعہ سن کر) اس آدمی سے جس نے نماز نہیں لوٹائی تھی فرمایا کہ تم نے سنت پر عمل کیا تمہارے لئے وہ نماز کافی ہے اور جس آدمی نے وضو کر کے نماز لوٹائی تھی آپ ﷺ نے اس سے فرمایا تمہارے لئے دو گنا اجر ہے۔ (ابوداؤد، دارمی) اور نسائی نے بھی اسی طرح روایت نقل کی ہے اور نسائی و ابوداؤد نے عطا ابن یسار سے مرسلاً بھی نقل کی ہے۔ تشریح پانی نہ ملنے کی صورت میں اگر نماز پڑھ لی جائے اور پھر پانی مل جائے اور نماز کا وقت بھی باقی ہو تو اس نماز کو لوٹانا ضروری نہیں ہے اس لئے رسول اللہ ﷺ نے اس آدمی سے جس نے نماز نہیں لوٹائی تھی فرمایا کہ تم نے سنت پر عمل کیا یعنی شریعت کا حکم چونکہ یہی ہے اس لئے تم نے شریعت کے حکم کی پابندی کی ہے کہ تیمم سے نماز پڑھ لینے کے بعد پانی ملنے کے باوجود تم نے نماز نہیں لوٹائی۔ دوسرے آدمی کو آپ ﷺ نے دوہرے ثواب کا مستحق قرار دیا کہ ایک ثواب تو ادائے فرض کا اور دوسرا ثواب ادائے نفل کا۔ اس مسئلے میں علماء کرام کا اتفاق ہے کہ تیمم کرنے والا نماز سے فارغ ہو کر اگر پانی دیکھے اور اسے پانی مل جائے تو اس پر نماز لوٹانا ضروری نہیں ہے خواہ نماز کا وقت باقی کیوں نہ ہو۔ لیکن صورت اگر یہ ہو کہ ایک آدمی تیمم کرنے کے بعد نماز پڑھنی شروع کر دے اور درمیان نماز سے پانی مل جائے تو اب وہ کیا کرے؟ آیا نماز ختم کر کے وضو کرلے اور پھر نماز پڑھے یا اپنی نماز تیمم ہی سے پوری کرلے؟ اس مسئلے پر علماء کرام کا اختلاف ہے؟ چناچہ جمہور یعنی اکثر علماء کا مسلک تو یہ ہے کہ اس آدمی کو اپنی نماز ختم نہیں کرنی چاہئے بلکہ وہ نماز پوری کرلے، اس کی نماز صحیح ہوگی۔ مگر حضرت امام اعظم ابوحنیفہ اور حضرت امام احمد بن حنبل (رح) کا ایک قول یہ ہے کہ اس صورت میں اس آدمی کا تیمم باطل ہوجائے گا، گویا اسے نماز توڑ کر اور پانی سے وضو کر کے دوبارہ نماز شروع کرنی چاہئے۔