نجاستوں کے پاک کرنے کا بیان
وَعَنْ اَنَسٍ ص قَالَ بَےْنَمَا نَحْنُ فِی الْمَسْجِدِ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اِذْ جَآءَ اَعْرَابِیٌّ فَقَامَ ےَبُوْلُ فِی الْمَسْجِدفَقَالَ اَصْحَابُ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم مَہْ مَہْ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم لَا تُزْرِمُوْہُ دَعُوْہُ فَتَرَکُوْہُ حَتّٰی بَالَ ثُمَّ اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم دَعَآہُ فَقَالَ لَہُ اِنَّ ھٰذِہِ الْمَسَاجِدَ لَا تَصْلُحُ لِشَی ءٍ مِّنْ ھٰذَا الْبَوْلِ وَالْقَذْرِ اِنَّمَا ھِیَ لِذِکْرِ اللّٰہِ وَالصَّلٰوۃِ وَقِرَآۃِ الْقُرْاٰنِ اَوْ کَمَا قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ وَاَمَرَ رَجُلًا مِّنَ الْقَوْمِ فَجَآءَ بِدَلْوٍ مِّنْ مَّآءٍ فَسَنَّہُ عَلَےْہِ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)
اور حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ (ایک روز) ہم سرکار دو عالم ﷺ کے پاس مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے کہ یکایک ایک دیہاتی آیا اور مسجد میں کھڑے ہو کر پیشاب کرنے لگا (یہ دیکھ کر) رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اس سے کہنے لگے کہ ٹھہر جا! ٹھہر جا! رسول اللہ ﷺ نے (یہ سن کر) فرمایا کہ اسے پیشاب کرنے سے نہ رو کو بلکہ اسے چھوڑ دو اور پیشاب کرنے دو کیونکہ اگر تمہارے دھمکانے سے اس کا پیشاب رک گیا تو اس کے لئے تکلیف دہ ہوگا پھر اس طرح اس کا پیشاب جو ایک ہی جگہ ہے کئی جگہ پھیل جائے گا صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اسے چھوڑ دیا اور اس دیہاتی نے (جب پورا) یشاب کرلیا تو رسول اللہ ﷺ نے اسے بلایا اور (نہایت شفقت و مہربانی سے) فرمایا کہ مسجدیں پیشاب و گندگی وغیرہ کے لئے نہیں ہیں بلکہ ذکر الہٰی اور نماز و قرآن پڑھنے کے لئے ہیں یا آپ ﷺ نے اسی کے مثل فرمایا (یعنی راوی کو شک ہو رہا ہے کہ آپ ﷺ نے اعرابی سے یہی الفاظ فرمائے تھے یا اسی قسم کے دوسرے الفاظ) حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ اس بعد رسول اللہ ﷺ نے مجلس میں سے ایک آدمی کو حکم دیا اس نے ایک ڈول پانی لا کر پیشاب پر بہا دیا۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)
نجاستوں کے پاک کرنے کا بیان
عَنْ اَسْمَآءَ بِنْتِ اَبِیْ بَکْرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا قَالَتْ سَاَلَتْ امْرَاَۃٌ رَّسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم فَقَالَتْ ےَا رَسُوْلَ اللّٰہِ اَرَءَ ےْتَ اِحْدٰنَا اِذَا اَصَابَ ثَوْبَھَا الدَّمُ مِنَ الْحَےْضَۃِ کَےْفَ تَصْنَعُ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اِذَا اَصَابَ ثَوْبَ اِحْدٰکُنَّ الدَّمُ مِنَ الْحِےْضَۃِ فَلْتَقْرُصْہُ ثُمَّ لِتَنْضَحْہُ بِمَآءٍ ثُمَّ لِتُصَلِّ فِےْہِ۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)
حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی صاحبزادی اسماء ؓ فرماتی ہیں کہ ایک عورت نے سرکار دو عالم ﷺ سے پوچھا کہ یا رسول اللہ! یہ بتائیے کہ اگر ہم میں سے کوئی حیض کا خون کپڑے پر لگا ہوا پائے تو کیا کرے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر تم میں سے کسی کے کپڑے پر حیض کا خون لگ جائے تو اسے چاہئے کہ (پہلے) چٹکیوں سے اسے ملے پھر پانی سے دھولے اور اسی کپڑے میں (خواہ تر ہی کیوں نہ) ہو نماز پڑھ لے۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)
نجاستوں کے پاک کرنے کا بیان
عَنْ سُلَےْمَانَ بْنِ ےَسَارٍ ص قَالَ سَاَلْتُ عَآئِشَۃَرَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا عَنِ الْمَنِیِّ ےُصِےْبُ الثَّوْبَ فَقَالَتْ کُنْتُ اَغْسِلُہُ مِنْ ثَوْبِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم فَےَخْرُجُ اِلَی الصَّلٰوۃِ وَاَثَرُ الْغَسْلِ فِیْ ثَوْبِہٖ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)
حضرت سلیمان بن یسار ( اسم گرامی سلیمان ابن یسار اور کنیت ابوایوب ہے آپ تابعی ہیں آپ کا ١٧ ھ میں بعمر ٥٣ سال میں انتقال ہوا) فرماتے ہیں میں نے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے کپڑے پر لگی ہوئی منی کے بارے میں پوچھا تو حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے فرمایا کہ میں سرکار دو عالم ﷺ کے کپڑے سے منی کو دھویا کرتی تھی چناچہ آپ ﷺ (جب اسی گیلے کپڑے کے ساتھ) نماز کے لئے تشریف لے جاتے تو اس کپڑے پر (منی) کے دھونے کا نشان رہتا تھا۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ منی ناپاک ہے اگر منی کسی کپڑے وغیرہ پر لگ جائے تو اسے دھو کر پاک کرلینا چاہئے چناچہ امام اعظم ابوحنیفہ اور امام مالک رحمہما اللہ تعالیٰ علیہما کا یہی مسلک ہے مگر حضرت امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ جس طرح سنک (یعنی ناک سے نکلنے والی) رطوبت پاک ہے اسی طرح منی بھی پاک ہے۔
نجاستوں کے پاک کرنے کا بیان
عَنِ الْاَسْوَدِ وَھَمَّامٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَاعَنْ عَائِشَۃَرَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا قَالَتْ کُنْتُ اَفْرُکُ الْمَنِیَّ مِنْ ثَوْبِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم رَوَاہُ مُسْلِمٌ وَبِرَوَاےَۃِ عَلْقَمَۃَ وَالْاَسْوَدِرَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا عَنْ عَآئِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا نَحْوَہُ وَفِےْہِ ثُمَّ ےُصَلِّیْ فِےْہِ۔
اور حضرت اسود ( حضرت اسود بن محاربی (رح) تابعی ہیں ٨٤ ھ میں آپ کا انتقال ہوا ہے)۔ و حضرت ہمام ( حضرت ہمام ابن حارث تحفی تابعی ہیں اور حضرت عائشہ ؓ روایت کرتے ہیں) راوی ہیں کہ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے فرمایا میں سرکار دو عالم ﷺ کے کپڑے سے (خشک) منی کھرچ دیا کرتی تھی (صحیح مسلم) اور مسلم نے اس کے علاوہ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ حضرت علقمہ اور حضرت اسود ؓ کی ہی طرح ایک روایت بھی نقل کی ہے۔ جس میں یہ الفاظ ہیں کہ آپ ﷺ اسی کپڑے سے نماز پڑھ لیا کرتے تھے۔
تشریح
یہ حدیث بھی حضرت امام اعظم ابوحنیفہ (رح) کے مطابق منی کے ناپک ہونے کو وضاحت کے ساتھ ثابت کر رہی ہے جیسا کہ اس حدیث سے معلوم ہوا حضرت امام اعظم ابوحنیفہ (رح) کا مسلک بھی یہی ہے کہ تر منی کو دھونا چاہئے اور گاڑھی منی کو جو کپڑے کے اندر سرایت نہ کرے خشک ہونے کے بعد کھرچ کر اور رگڑ کر صاف کردینا چاہئے۔
نجاستوں کے پاک کرنے کا بیان
وَعَنْ اُمِّ قَےْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ اَنَّھَا اَتَتْ بِاِبْنِ لَّھَا صَغِےْرٍ لَّمْ ےَاکُلِ الطَّعَامَ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم فَاَجْلَسَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم فِیْ حِجْرِہٖ فَبَالَ عَلٰی ثَوْبِہٖ فَدَعَا بِمَاءٍ فَنَضَحَہُ وَلَمْ ےَغْسِلْہُ۔(صحیح البخاری و صحیح مسلم)
اور حضرت ام قیس بنت محصن ( حضرت ام قیس محصن کی لڑکی اور عکاشہ کی بہن ہیں ابتداء ہی میں مکہ میں اسلام کی دولت سے مشرف ہوگئی تھیں) سے مروی ہے کہ وہ اپنے چھوٹے لڑکے کو بھی جو ابھی کھانا نہ کھاتا تھا سرکار دو عالم ﷺ کی خدمت میں لائیں رسول اللہ ﷺ نے اس بچے کو اپنی گود میں بٹھا لیا اس نے آپ ﷺ کے کپڑوں پر پیشاب کردیا رسول اللہ ﷺ نے پانی منگایا اور کپڑوں پر بہا دیا اور خوب مل کر نہیں دھویا۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
حضرت امام شافعی (رح) کا مسلک یہ ہے کہ اگر شیر خوار بچہ جو اناج نہ کھاتا ہو کسی کپڑے وغیرہ پر پیشاب کر دے تو اسے دھونے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ اس پر پانی چھڑک دینا کافی ہوجائے گا چناچہ یہ حدیث بھی بظاہر حضرت امام شافعی (رح) ہی کے مسلک کی تائید کر رہی ہے مگر حضرت امام ابوحنیفہ اور امام مالک رحمہما اللہ تعالیٰ علیہما کا مسلک یہ ہے کہ بچے کے پیشاب کو بھی ہر حال میں دھونا ضروری ہے۔ اس حدیث میں نضح جو لفظ آیا ہے اور جس کے معنی چھڑکنا ہیں اس کے معنی یہ دونوں حضرات دھونا ہی فرماتے ہیں۔ پھر حدیث کے آخری الفاظ لا یغسلہ (یعنی آپ ﷺ نے پیشاب کو دھویا نہیں) کی تاویل یہ کرتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ نے خوب مل مل کر نہیں دھویا بلکہ بچے کے پیشاب کے پیش نظر معمولی طور پر اس پر پانی بہا کر دھو ڈالنا ہی کافی سمجھا یہ دونوں حضرات اس حدیث کی یہ مذکورہ تاویل اس لئے کرتے ہیں کہ دوسری احادیث مثلاً استنز ھو من البول (یعنی پیشاب سے پاکی حاصل کرو) سے یہ بات بصراحت ثابت ہوتی ہے کہ ہر ایک پیشاب کو دھونا چاہئے حضرت امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں کہ اس حدیث میں نضح سے مراد بغیر ملے اور نچوڑے پانی کا بہانا ہے۔ اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ بچوں کو دعا و برکت حاصل کرنے کے لئے بزرگوں اور اولیاء اللہ کے پاس لے جانا مستحب ہے، نیز بچوں کے ساتھ تواضع و نرمی اور محبت و شفقت کا معاملہ کرنا بھی مستحب ہے۔
نجاستوں کے پاک کرنے کا بیان
وَعَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَاقَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم ےَقُوْلُ اِذَا دُبِغَ الْاِھَابُ فَقَدْ طَھُرَ۔ (صحیح مسلم)
حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے سرکار دو عالم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب چمڑا دباغت دے دیا جائے تو وہ پاک ہوجاتا ہے۔ (صحیح مسلم)
تشریح
چمڑے کو ناپاکی وغیرہ سے پاک کرنے کو دباغت کہتے ہیں۔ چمڑے کو دباغت کئی طرح دی جاتی ہے یا تو چمڑے کو چھالوں وغیرہ میں ڈال کر پکایا جاتا ہے یا دھوپ میں رکھ کر اسے خشک کرلیا جاتا ہے اور اگر چمڑا بغیر دھوپ کے خشک کیا جائے تو اس کو دباغت نہیں کہیں گے بہر حال دباغت کے ذریعے چمڑا چاروں ائمہ کرام کے نزدیک پاک کیا جاسکتا ہے فرق صرف اتنا ہے کہ امام اعظم ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک تو سور اور آدمی کے چمڑے کے علاوہ ہر طرح کا چمڑہ دباغت سے پاک ہوجاتا ہے۔ مگر امام شافعی (رح) کے نزدیک کتے کا چمڑہ بھی پاک نہیں ہوتا حالانکہ حدیث سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ ہر طرح کا چمڑہ دباغت سے پاک ہوجاتا ہے۔ البتہ آدمی اور سور کا چمڑا مستثنیٰ ہے کیونکہ آدمی کا چمڑا تو انسان کی عظمت و بزرگی کے پیش نظر پاک نہیں ہوتا اور سور کا چمڑا اس لئے پاک نہیں ہوتا کہ وہ نجس عین ہے۔
نجاستوں کے پاک کرنے کا بیان
وَعَنْہُ قَالَ تُصُدِّقَ عَلٰی مَوْلَاۃٍ لِّمَےْمُوْنَۃَ بِشَاۃٍ فَمَاتَتْ فَمَرَّ بِھَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم فَقَالَ ھَلَّا اَخَذْتُمْ اِھَابَھَا فَدَبَغْتُمُوْہُ فَانْتَفَعْتُمْ بِہٖ فَقَالُوْا اِنَّھَا مَےْتَۃٌ فَقَالَ اِنَّمَا حُرِّمَ اَکْلُہَا۔(صحیح البخاری و صحیح مسلم)
اور حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت میمونہ ؓ کی ایک آزاد کردہ باندی کو ایک بکری صدقہ میں دی گئی (اتفاق سے) وہ بکری مرگئی، رسول اللہ ﷺ کا اس پر گزر ہوا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم نے اس کا چمڑا اتار کیوں نہ لیا؟ اس چمڑے کو دباغت دے کر اس سے نفع اٹھا لیتے! لوگوں نے عرض کیا کہ یہ تو مردار ہے آپ ﷺ نے فرمایا؟ صرف اس کا کھانا حرام ہے۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)
تشریح
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مردار (یعنی جانور بغیر ذبح کئے ہوئے مرجائے اور اس کا کھانا حرام ہو تو جو اجزاء ذبح کرنے کی صورت میں کھائے جاتے ہیں مثلاً گوشت وغیرہ وہ تو مرنے کے بعد حرام ہوجاتے ہیں لیکن ان کے علاوہ دوسری چیزوں مثلاً دباغت دئیے ہوئے چمڑے، دانت، بال اور سینگ وغیرہ سے فائدہ اٹھانا یعنی ان کی خریدو فروخت کرنا اور ان کو دوسری ضرورتوں میں استعمال کرنا جائز ہے۔
نجاستوں کے پاک کرنے کا بیان
وَعَنْ سَوْدَۃَ زَوْجِ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَتْ مَاتَتْ لَنَا شَاۃٌ فَدَ بَغْنَا مُسْکَھَا ثُمَّ مَا زِلْنَا نُبِیْذُ فِیْہِ حَتّٰی صَارَ شَنًّا۔ (رواہ البخاری)
اور سرکار دو عالم ﷺ کی زوجہ مطہرہ حضرت سودہ ؓ (ام المومنین حضرت سودا زمعہ کی بیٹی ہیں ابتداء اسلام سے مشرف تھی انتقال ٥٤ ھ مدینہ میں ہوا) فرماتی ہیں کہ ہماری ایک بکری مرگئی تھی ہم نے اس کی کھال اتار کر دباغت دے لی اور ہمیشہ اسی میں نبیذ (یعنی پانی اور کھجوروں کا شربت) بناتے رہے یہاں تک کہ وہ پرانی مشک ہوگئی۔ (صحیح البخاری )
نجاستوں کے پاک کرنے کا بیان
عَنْ لُبَابَۃَ بِنْتِ الْحَارِثِ قَالَتْ کَانَ الْحُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ فِیْ حِجْرِ رَسُوْلِ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم فَبَالَ عَلٰی ثَوْبِہٖ فَقُلْتُ اِلْبَسْ ثَوْبًا وَاَعْطِنِیْ اِزَارَکَ حَتّٰی اَغْسِلَہ، فَقَالَ اِنَّمَا یُغْسَلُ مِنْ بَوْلِ الْاُنْثٰی وَیُنْضَحُ مِنْ بَوْلِ الذَّکَرِ رَ وَاہُ اَحْمَدُ وَ اَبُوْدَاؤدَ وَابْنُ مَاجَۃَ وَفِیْ رِوَایَۃٍ لِاَ بِیْ دَاؤدَ وَالنِّسَائِیْ عَنْ اَبِی السَّمْحِ قَالَ یُغْسَلُ مِنْ بَوْلِ الْجَارِیَۃِ وَیُرَ شُّ مِنْ بَوْلِ الْغُلَامِ۔
حضرت لبابہ بنت حارث ؓ ( آپ کا نام لبابہ ہے اور حارث کی بیٹی ہیں کنیت ام فضل ہے حضرت عباس بن عبدالمطلب ؓ کی بیوی اور ام المومنین حضرت میمونہ ؓ کی بہن ہیں) فرماتی ہیں کہ حضرت حسین ابن علی المرتضیٰ ؓ نے سرکار دو عالم ﷺ کی گود میں بیٹھ کر آپ ﷺ کے کپڑوں پر پیشاب کردیا میں نے عرض کیا کہ آپ ﷺ (دوسرا) کپڑا پہن کر یہ تہ بند مجھے دے دیجئے تاکہ میں اسے دھو ڈالوں آپ نے فرمایا لڑکی کا پیشاب دھویا جاتا ہے اور لڑکے کے پیشاب پر پانی کا چھینٹا دیا جاتا ہے (مسند احمد بن حنبل، سنن ابوداؤد، سنن ابن ماجہ) اور ابوداؤد و سنن نسائی کی ایک روایت میں ابوسمح سے یہ الفاظ منقول ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے فرمایا کہ لڑکی کا پیشاب دھویا جاتا ہے اور لڑکے کے پیشاب پر پانی کا چھینٹا دیا جاتا ہے۔
تشریح
حضرت امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں کہ یہاں چھینٹا دینے سے مراد تڑ یڑا دینا یعنی پیشاب کی جگہ پر بغیر ملے اور نچوڑے ہوئے پانی کا بہا دینا ہے اور دھونے سے مراد مبالغے کے ساتھ دھونا ہے چناچہ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کی روایت ہے کہ ایک لڑکا رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں لایا گیا اس نے آپ ﷺ کے کپڑوں پر پیشاب کردیا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اس پر پانی کا تڑیڑا دو لہٰذا اس سے معلوم ہوا کہ لڑکے کے پیشاب کو بھی دھونے کا حکم ہے فرق صرف اتنا ہے کہ لڑکے کے پیشاب پر صرف پانی کا تڑیڑا دینا ہی کافی ہے یعنی اس کو ملنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ لڑکوں کا پیشاب سوراخ کی تنگی کی بناء پر زیادہ نہیں پھیلتا اور لڑکیوں کا پیشاب سوراخ کی فراخی کی وجہ سے زیادہ پھیلتا ہے اس لئے لڑکیوں کے پیشاب کو خوب اچھی طرح دھونا چاہئے۔
نجاستوں کے پاک کرنے کا بیان
وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِذَا وَطِئَ اَحَدُ کُمْ بِنَعْلِہِ الْاَ ذٰی فَاِنَّ التُّرَابَ لَہ، طَھُوْرٌ (رَوَاہُ اَبُوْدَاؤوَ لِا بْنِ مَاجَۃَ مَعْنَاہُ)
اور حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی اپنے جوتوں کے ساتھ گندگی پر چلے تو مٹی اس کو پاک کرنے والی ہے (ابوداؤد اور ابن ماجہ نے بھی اسی کے ہم معنی روایت نقل کی ہے
تشریح
صورت مسئلہ یہ ہے کہ مثلا ایک آدمی جوتے پہنے ہوئے چل رہا ہے اتفاق سے کسی جگہ گندگی پڑی ہوئی تھی وہ اس کے جوتوں پر لگ گئی اب پھر وہ جب پاک اور صاف زمین پر چلے گا تو مٹی سے رگڑ کھانے کی وجہ سے اس کا جوتا پاک ہوجائے گا اس مسئلے میں علماء کا اختلاف ہے چناچہ حضرت امام ابوحنیفہ (رح) اور ان کے ایک شاگرد حضرت امام محمد (رح) کا قول یہ ہے کہ اس حدیث میں گندگی سے مراد جو جسم والی اور خشک ہو یعنی اگر کسی راہ چلتے کے جوتے یا موزے میں ایسی گندگی لگ جائے جو جسم والی ہو اور خشک ہو تو پاک زمین پر رگڑ دینے سے وہ جوتا یا موزہ پاک ہوجائے گا اور اگر گندگی خشک نہ ہو تو پھر رگڑ نے سے گندگی زائل نہیں ہوگی۔ حضرت امام ابوحنیفہ (رح) کے ایک دوسرے شاگرد رشید حضرت امام ابویوسف اور حضرت امام شافعی رحمہما اللہ تعالیٰ علیہما فرماتے ہیں کہ یہاں حدیث کی مراد عام ہے یعنی گندگی خواہ خشک ہو یا تر زمین پر رگڑنے سے پاک ہوجائے گی مگر حضرت امام شافعی (رح) کا یہ پہلا قول ہے ان کا جدید مسلک یہ ہے کہ اس گندگی کو ہر حال میں پانی سے دھونا چاہئے زمین پر رگڑنے سے پاک نہیں ہوگی۔ فقہ حنفی میں فتویٰ حضرت امام ابویوسف (رح) ہی کے قول پر ہے جو کہ جوتے یا موزے پر اگر تن دار نجاست لگ جائے خواہ وہ خشک ہو یا تر ہو تو زمین پر خوب اچھی طرح رگڑ دینے سے موزہ یا جوتا پاک ہوجائے گا۔ یہ سمجھ لیجئے کہ اس مسئلے میں علماء کرام کا یہ اختلاف تن دار نجاست جیسے گوبر وغیرہ ہی کے بارے میں ہے کیونکہ غیر تن دار نجاست مثلاً پیشاب و شراب کے بارے میں سب کا متفقہ طور پر یہ مسلک ہے کہ اسے دھونا ہی واجب ہے۔
نجاستوں کے پاک کرنے کا بیان
وَعَنْ اُمِّ سَلَمَۃَ قَالَتْ لَھَا اِمْرَ أَۃٌ اِنِّیْ اُطِیْلُ ذَیْلِیْ وَاَمْشِیْ فِی الْمَکَانِ الْقَدِرِ قَالَتْ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم یُطَھِّرُہ، مَا بَعْدَہ،۔ (رَوَاہٌ مَالِکٌ وَ اَحْمَدُ وَ التِّرِمِذِیُّ وَ اَبُوْدَاؤدَ وَ الدَّارِمِیُّ وَقَالَا الْمَرْاَۃُ اُمُّ وَلَدٍلِا بْرَاھِیْمَ بْنِ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ عَوْفٍ)
اور حضرت ام سلمہ ؓ راوی ہیں کہ ان سے ایک عورت نے کہا کہ میرا دامن لمبا ہے اور میں ناپاک جگہ پر چلتی ہوں (یہ خیال ہے کہ دامن کو ناپاکی لگ جاتی ہے) حضرت ام سلمہ ؓ نے کہا کہ سرکار دو عالم ﷺ نے (اسی قسم کے ایک سوال کے جواب میں) فرمایا تھا کہ اس کو وہ چیز پاک کرتی ہے جو اس کے بعد ہے (یعنی پاک زمین یا مٹی)۔ (مسند احمد بن حنبل، مالک، جامع ترمذی، ابوداؤد اور درامی نے کہا ہے کہ (سوال کرنے والی) عورت ابراہیم بن عبدالرحمن بن عوف کی ام ولد تھی (جس کا نام حمیدہ تھا)
تشریح
سوال کرنے والی کا مطلب یہ تھا کہ میرا دامن بہت لمبا ہے جب میں چلتی ہوں تو وہ زمین پر لگتا ہوا چلتا ہے اور جب میں نا پاک جگہ سے گزرتی ہوں تو خیال ہوتا ہے کہ شاید دامن پر نجاست و گندگی لگ گئی ہوگی اس لئے اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟ اس کے جواب میں حضرت ام سلمہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ کا ارشاد نقل فرمایا جس کا مطلب یہ ہے کہ کسی ناپاک جگہ سے گزرتے ہوئے جب دامن میں نجاست لگ جاتی ہے تو بعد میں پاک صاف جگہ چلنے سے وہ نجاست زمین پر لگ کر جھڑ جاتی ہے اور کپڑا پاک ہوجاتا ہے لیکن یہ بات ذہن میں رہنی چاہئے کہ یہ حکم خشک نجاست کے بارے میں ہے کہ اگر خشک نجاست کپڑے کو لگ جائے تو پھر پاک و صاف زمین پر چلنے سے وہ زمین پر لگ کر جھڑ جاتی ہے جس سے کپڑا پاک ہوجاتا ہے۔ اس حکم کو خشک نجاست کے بارے میں خاص کرنے کی وجہ یہ ہے کہ علماء کرام کا اس بات پر اجماع اور اتفاق ہے کہ اگر کپڑا ناپاک ہوجائے تو وہ بغیر دھوئے پاک نہیں ہوتا، بخلاف جوتے کے (تابعین کی ایک جماعت کا قول ہے کہ جوتا اگر نجاست کے لگ جانے سے ناپاک ہوجائے تو اس کو پاک و صاف زمین پر رگڑ کر پاک کیا جاسکتا ہے خواہ وہ نجاست تر ہی کیوں نہ ہو جیسا کہ ابھی اس سے پہلے حدیث کی تشریح میں حضرت امام شافعی اور حضرت امام ابویوسف رحمہما اللہ تعالیٰ علیہما کا مسلک بیان کیا جا چکا ہے (وا اللہ اعلم)
نجاستوں کے پاک کرنے کا بیان
وَعَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِ یْکَرَبَ قَالَ نَھٰی رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم عَنْ لُبْسِ جُلُوْدِ السَّبَاعِ وَالرُّ کُوْبِ عَلَیْھَا۔ (رواہ ابوداؤد و نسائی )
حضرت مقدام بن معد یکرب ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے درندوں کی کھالوں کے پہننے اور ان پر سوار ہونے سے منع فرمایا ہے۔ (ابوداؤد، سنن نسائی)
تشریح
اس ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ درندوں مثلا شیر اور چیتے وغیرہ کی کھال کا لباس بنا کر انہیں پہنا نہ جائے، اسی طرح ان پر سوار ہونے کا مطلب یہ ہے کہ درندوں کی کھال کو بچھا کر اس پر بیٹھنا یا گھوڑے کی زین پر ڈال کر اس پر سوار ہونا مناسب نہیں ہے اس طرح ان کے استعمال سے منع اس لئے فرمایا گیا ہے کہ متکبر لوگوں اور خالص دنیا داروں کی عادت ہے لہٰذا نیک لوگوں کو ان سے اجتناب کرنا چاہئے اس شکل میں کہا جائے گا کہ یہ نہی تنزیہی ہے لیکن جن حضرات کے ہاں مردار کے بال نجس ہوتے ہیں اور وہ دباغت سے بھی پاک نہیں ہوتے ان کے نزدیک یہ نہی تحریمی ہے۔
نجاستوں کے پاک کرنے کا بیان
وَعَنْ اَبِی الْمَلِیْحِ بْنِ اُسَامَۃَ عَنْ اَبِیْہِ عَنِ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم نَھٰی عَنْ جُلُوْدِ السِّبَاعِ۔ (رَوَاہُ اَحْمَدُ وَ اَبُوْدَاؤدَ وَ النِّسَائِیُّ وَزَادَ التِّرْمِذِیُّ وَ الدَّارِمِیُّ اَنْ تُفْتَرَشَ)
اور حضرت ابوالملیح بن اسامہ (رح) اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ سرکار دو عام ﷺ نے درندوں کی کھال کو استعمال کرنے سے منع فرمایا (احمد، ابوداؤد و نسائی) اور امام ترمذی (رح) اور دارمی (رح) نے اس روایت میں یہ الفاظ زیادہ نقل کئے ہیں کہ آپ ﷺ اس سے بھی منع فرمایا ہے کہ درندوں کی کھالوں کا فرش بنایا جائے)
نجاستوں کے پاک کرنے کا بیان
وَ عَنْ اَبِی الْمَلِیْحِ اَنَّہُ کَرِہَ لَمَنَ جُلُودِ السِّبَاعِ (ترمذی)
اور حضرت ابوالملیح کے بارے میں منقول ہے کہ وہ درندوں کی کھالوں کی قیمت کو (بھی) مکروہ سمجھتے تھے۔ (جامع ترمذی )
تشریح
اس کا مطلب یہ ہے کہ درندوں کی کھال کو خریدنا اور بیچنا بھی مناسب نہیں ہے چناچہ ابن مالک (رح) کا یہی قول ہے اور یہ مسلک ابوالملیح (رح) کا بھی ہے فتاویٰ قاضی خان میں لکھا ہوا ہے کہ درندوں کے چمڑے کو دباغت دیئے جانے سے پہلے بیچنا باطل ہے مشکوٰۃ کے اصل نسخے میں لفظ راوہ کے بعد جگہ خالی تھی عبارت مذکورہ بعد میں بڑھائی گئی ہے۔
نجاستوں کے پاک کرنے کا بیان
وَعَنْ عَبْدِاﷲِ بْنِ عُکَیْمٍ قَالَ اَتَانَا کِتَابُ رَسُوْلِ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم اَنْ لَّا تَنْتَفِعُوْا مِنَ الْمَیْتَۃِ بِاِ ھَابٍ وَلَا عَصَبٍ۔ (رواہ الترمذی وابوداؤد و النسائی و ابن ماجۃ)
اور حضرت عبداللہ بن عکیم ( حضرت عبداللہ بن عکیم جہنی نے رسول اللہ ﷺ کا زمانہ تو پایا ہے لیکن یہ تحقیق سے ثابت نہیں ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے شرف ملاقات حاصل کیا یا نہیں۔ ( راوی ہیں کہ ہمارے (قبیلے جہینہ کے پاس سرکار دو عالم ﷺ کا (جو) مکتوب گرامی آیا (اس میں یہ لکھا تھا) کہ تم مردار کے چمڑے اور اس کے پٹھے سے نفع نہ اٹھاؤ۔ ( جامع ترمذی، سنن ابوداؤد سنن نسائی، سنن ابن ماجہ)
تشریح
اس حکم کا تعلق اس چمڑے اور پٹھے سے ہے جو دباغت نہ دیا گیا ہے یعنی دباغت سے پہلے چمڑے اور پٹھے کو استعمال میں لانا جائز نہیں ہے بلکہ چمڑے اور پٹھے کو دباغت دینے کے بعد استعمال کرنا اور ان سے منفعت حاصل کرنا جائز ہے۔ اکثر احادیث سے یہی ثابت ہے اور اکثر علماء کا مسلک بھی یہی ہے۔
نجاستوں کے پاک کرنے کا بیان
وَعَنْ عَآئِشَۃَ اَنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم اَمَرَ اَنْ یُسْتَمْتَعَ بِجُلُوْدِ الْمَیْتَۃِ اِذَا بُغَتْ۔ (رواہ مالک و ابوداؤد)
اور حضرت عائشہ صدیقہ ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے فرمایا کہ مردار کے چمڑے سے دباغت کے بعد فائدہ اٹھایا جائے۔ ( مالک، سنن ابوداؤد)
تشریح
اس سے پہلے اسی باب کی حدیث نمبر ٩ کے فائدے میں بتایا جا چکا ہے کہ دباغت کے بعد مردار کے چمڑے سے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے یعنی اس کو استعمال میں لایا جاسکتا ہے اور اس کی خریدو فروخت بھی کی جاسکتی ہے البتہ اس مسئلے میں امام مالک (رح) کی دو روایتیں ہیں مگر ان کا ظاہری قول یہ ہے کہ مردار کا چمڑا دباغت کے بعد پاک ہو تو جاتا ہے لیکن اسے خشک چیز میں اور پانی میں رکھنے کے لئے استعمال کا جاسکتا ہے پانی کے علاوہ دوسری پتلی اور سیال چیزوں کے لئے اسے استعمال نہ کیا جائے۔
نجاستوں کے پاک کرنے کا بیان
وَعَنْ مَیْمُوْنَہَ قَالَتْ مَرَّ عَلَی النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم رِجَالٌ مِنْ قُرَیْشٍ یَجُرُّوْنَ شَاۃً لَّھُمْ مِثْلَ الْحِمَارِ فَقَالَ لَھُمْ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم لَوْ اَخَذْ تُمْ اِھَا بَھَا قَالُوْا اِنَّھَا مَیْتَۃٌ فَقَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم یُطِھِّرُھَا لْمَآءُ وَالْقُرَظُ۔ (رواہ احمد و ابوداؤد)
اور حضرت میمونہ ؓ راوی ہیں کہ قریش کے چند آدمی اپنی ایک مری ہوئی بکری کو گدھے کی طرح کھینچتے ہوئے سرکار دو عالم ﷺ کے پاس سے گزرے، آپ ﷺ نے (یہ دیکھ کر) ان سے فرمایا کہ اے کاش! تم اس کے چمڑے کو اتار لیتے! (تو یہ کام آجاتا) انہوں نے عرض کیا کہ یہ تو مردار ہے (یعنی ذبح کی ہوئی نہیں ہے) آپ ﷺ نے فرمایا اسے کیکر کے پتے اور پانی پاک کردیتے ہیں (یعنی ان دونوں چیزوں کے ذریعے دباغت سے چمڑا پاک ہوجاتا ہے۔ (مسند احمد بن حنبل، سنن ابوداؤد)
تشریح
دباغت دینے کے کئی طریقے ہیں لیکن کیکر کے پتوں اور پانی سے دباغت کے بعد چمڑا خوب اچھی طرح پاک ہوجاتا ہے اس لئے آپ ﷺ نے بطور خاص ان دو چیزوں کا ذکر فرمایا۔ لہٰذا معلوم ہوا کہ چمڑے کی دباغت و طہارت ان ہی پر موقوف نہیں ہے بلکہ دوسرے طریقوں مثلاً دھوپ وغیرہ سے دباغت و طہارت ہوجاتی ہے۔ البتہ یہ کہا جائے گا کہ اس حدیث کے پیش نظر کیکر کے پتوں اور پانی سے چمڑے کو دباغت دینا مستحب ہے۔
نجاستوں کے پاک کرنے کا بیان
وَعَنْ سَلَمَۃَ بْنِ الْمُحَبِّقِ قَالَ اِنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم جَآءَ فِیْ غَزْوَۃِ تَبُوْکَ عَلٰی اَھْلِ بَیْتٍ فَاِذَا قِرْبَۃٌ مُعَلَّقَۃٌ فَسَأَلَ الْمَآءَ فَقَالُوْ ا لَہ، یَا رَسُوْلَ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم اِنَّھَا مَیْتَۃٌ فَقَالَ دِبَاغُھَا طُھُوْرُھَا۔ (رواہ احمد بن حنبل و ابوداؤد)
حضرت سلمہ بن محبق ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ تبوک کی جنگ کے موقعہ پر ایک آدمی کے گھر تشریف لائے تو اچانک آپ ﷺ کی نظر ایک لٹکی ہوئی مشک پر پڑی آپ ﷺ نے پانی مانگا تو لوگوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! یہ تو ( دباغت دی ہوئی) مردار کی کھال) ہے آپ ﷺ نے فرمایا دباغت نے اسے پاک کردیا ہے۔ (مسند احمد بن حنبل، سنن ابوداؤد)
نجاستوں کے پاک کرنے کا بیان
عَنِ امْرَأَۃٍ مِنْ بَنِیْ عَبْدِالْاَشْھَلِ قَالَتْ قُلْتُ یَا رَسُوْلَ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم اِنَّ لَنَا طَرِیْقًا اِلَی الْمَسْجِدِ مُنْتِنَۃً فَکَیْفَ نَفْعَلُ اِذَا مُطِرْنَا قَالَتْ فَقَالَ اَلَیْسَ بَعْدَھَا طَرِیْقٌ ؟ ھِیَ اَطْیَبُ مِنْھَا قُلْتُ بَلٰی قَالَ فَھٰذِہٖ بِھٰذِہٖ۔ (رواہ ابوداؤد)
بنو عبدالاشہل کی ایک عورت کا بیان ہے کہ میں نے سرکار دو عالم ﷺ سے عرض کیا کہ رسول اللہ! مسجد میں آنے کا ہمار جو راستہ ہے وہ گندہ ہے جب بارش ہوجائے تو ہم کیا کریں؟ وہ کہتی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے فرمایا کیا اس راستے کے بعد کوئی پاک صاف راستہ نہیں آتا؟ میں نے عرض کیا جی ہاں آپ ﷺ نے فرمایا یہ پاک راستہ اس ناپاک راستہ کے بدلے میں ہے۔ (ابوداؤد)
تشریح
اسی باب کی حدیث نمبر ١٣ میں اس مسئلہ کی وضاحت کی جا چکی ہے، یہاں بھی اس ارشاد کا یہ مطلب ہے کہ گندے اور ناپاک راستہ سے جو گندگی لگتی ہے وہ پاک و صاف راستہ پر چلنے کے بعد زمین کی رگڑ سے صاف و پاک ہوجاتی ہے، نیز یہاں بھی یہ ملحوظ رہے کہ آپ ﷺ کے اس ارشاد کا تعلق تن دار نجاست سے ہے کہ اگر گوبر وغیرہ قسم کی کوئی نجاست جوتے اور موزوں پر لگ جائے تو وہ اس طریقے سے صاف ہوجاتی ہے کیونکہ اگر پیشاب وغیرہ قسم کی نجاست جوتے موزے کپڑے یا بدن کے کسی حصے پر لگے تو اس کو ہر حال میں دھو کر ہی پاک کیا جائے گا اسی طرح موزے اور جوتے کے علاوہ اگر کپڑے پر تن دار نجاست لگے گی تو بغیر دھوئے کپڑا پاک نہیں ہوگا۔
نجاستوں کے پاک کرنے کا بیان
وَعَنْ عَبْدِاﷲِ بْنِ مَسْعُوْدٍ قَالَ کُنَّا نُصَلِّی مَعَ رَسُوْلِ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم وَلَا نَتَوَضَّأُ مِنَ الْمَوْطِئِ۔ (رواہ الترمذی)
اور حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ ہم سرکار دو عالم ﷺ کے ساتھ نماز پڑھتے تھے اور زمین پر چلنے (کی وجہ سے وضو نہ کرتے تھے۔ ( جامع ترمذی )
تشریح
مطلب یہ ہے کہ ہم نماز پڑھنے کے لئے اپنے اپنے مکان سے وضو کر کے چلتے تھے اور مسجد آتے ہوئے ننگے پاؤں چلنے کی وجہ سے پاؤں پر یا جوتے اور موزوں پر جو نجاست و گندگی لگ جایا کرتی تھی اسے دھویا کرتے تھے۔ اس ارشاد کے بارے میں بھی یہی کہا جائے گا کہ اس کا تعلق خشک نجاست سے ہے، کہ اگر خشک گندگی مثلاً سوکھا گوبر وغیرہ پیروں پر جوتے و موزے پر لگ جاتا تو اس کو دھونے کی ضرورت نہیں ہوتی تھی کیونکہ صاف زمین پر چلنے کی وجہ سے وہ پاک ہوجایا کرتا تھا اس سے عبداللہ بن مسعود ؓ کی یہ مراد ہے کہ راستہ چلتے وقت جو گرد و غبار پاؤں کو لگ جایا کرتی تھی اسے دھوتے تھے۔ تر نجاست مثلاً ًپیشاب وغیرہ کے بارے میں یہ پہلے ہی بتایا جا چکا ہے کہ اگر اس قسم کی کوئی نجاست و گندگی پاؤں وغیرہ پر لگ جائے تو تمام علماء کے نزدیک یہ متفق علیہ مسلم مسئلہ ہے کہ اسے دھویا جائے۔