Mishkaat-al-Masabih

All 6,333 hadiths in order · Page 23 of 317

441Mishkaat-al-Masabih

غسل کا بیان

وَعَنْ شُعْبَۃَ قَالَ اِنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ کَانَ اِذَا اغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَۃِ یُفْرِغُ بِیَدِہٖ الْیُمْنٰی عَلٰی یَدِہِ الْیُسْرٰی سَبْعَ مَرَّاتٍ ثُمَّ یَغْسِلُ فَرْجَہُ فَنَسِیَ مَرَّۃً کَمْ اَفْرَغَ فَسَأَلَنِیَ فَقُلْتُ لَا اَدْرِیْ فَقَالَ لَا اُمَّ لَکَ وَمَا یَمْنَعُکَ اَنْ تَدْرِیَ ثُمَّ یَتَوضَّأُ وُضُوْءَ ہ، لِلصَّلٰوۃِ ثُمَّ یُفِیْضُ عَلٰی جِلْدِہٖ الْمَآءَ ثُمَّ یَقُوْلُ ھٰکَذَا کَانَ رَسُوْلَ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَتَطَھَّرُ۔ (رواہ ابوداؤد)

حضرت شعبہ راوی ہیں کہ حضرت عبداللہ ابن عباس ناپاکی کا غسل فرماتے تو (پہلے) اپنے داہنے ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر سات مرتبہ پانی ڈالتے پھر اپنی شرم گاہ دھوتے۔ ایک مرتبہ بھول گئے کہ پانی کتنی مرتبہ ڈالا ہے؟ چناچہ انہوں نے مجھ سے پوچھا میں نے عرض کیا مجھے یاد نہیں انہوں نے فرمایا تمہاری ماں مرے تمہیں یاد رکھنے سے کس نے روک دیا تھا؟ پھر نماز کے وضو کی طرح وضو کر کے اپنے سارے بدن پر پانی بہا لیا اور کہنے لگے کہ سرکار دو عالم ﷺ بھی اس طرح پاک ہوا کرتے تھے۔ (ابوداؤد) تشریح غسل جنابت کے سلسلے میں رسول اللہ ﷺ سے متعلق ستر دھونے سے پہلے ہاتھوں کو دھونے کے بارے میں اس سے پہلے جو احادیث گزری ہیں یا تو وہ مطلق ہیں یعنی ان میں یہ تعداد ذکر نہیں کی گئی ہے کہ آپ ﷺ کتنی مرتبہ ہاتھ دھوتے تھے یا جن میں تعداد ذکر کی گئی ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ ﷺ نے اپنے دست مبارک دو مرتبہ دھوئے ہیں یا تین مرتبہ، چناچہ باب الغسل کی پہلی فصل میں خود حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ کی ایک روایت (نمبر ٥) گزری ہے جس میں یہ تو منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے دست مبارک دھوئے ان کی تعداد زکر نہیں کی گئی ہے کہ کتنی مرتبہ دھوئے؟ لیکن یہاں حضرت شعبہ حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ کا یہ عمل نقل فرما رہے ہیں کہ وہ غسل جنابت کے وقت سات مرتبہ پانی ڈال کر ہاتھ دھوتے تھے۔ لہٰذا اس کے بارے میں یہ کہا جائے گا کہ حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ کا یہ عمل کسی خاص صورت میں ہوگا یعنی آپ کو کوئی ایسی صورت پیش آئی ہوگئی۔ جس کی بنا پر بہت زیادہ طہارت و پاکیزگی حاصل کرنے کے لئے انہوں نے ساتھ مرتبہ دھونا ضرور سمجھا ہوگا۔ یا پھر اس کی تاویل یہ ہوگی کہ سات مرتبہ دھونے کے حکم کے منسوخ ہونے کی اطلاع حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ کو نہیں ہوئی ہوگی اس لئے انہوں نے اسی پہلے حکم کے مطابق سات مرتبہ دھویا ہوگا۔ یہ حدیث اس طرف اشارہ کر رہی ہے کہ شاگرد کو اپنے شیخ و استاد کے سامنے انتہائی ہوشیاری کے ساتھ رہنا چاہئے تاکہ شیخ کے ہر ہر قول اور ہر ہر عمل کو ذہن نشین کر کسے۔ نیز شیخ و استاد کو یہ حق ہے کہ وہ شاگرد کی غفلت اور لاپرواہی پر تنبیہ کرے۔

442Mishkaat-al-Masabih

غسل کا بیان

وَعَنْ اَبِیْ رَافِعِ قَالَ اِنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ طَافَ ذَاتَ یَوْمٍ عَلٰی نِسَآئِہٖ یَغْتَسِلُ عِنْدَہ ھٰذِہِ قَالَ فَقُلْتُ یَا رَسُوْلَ اﷲِ اَلَّا تَجْعَلُہ، غُسْلًا وَّاحِدًاٰخِرًا قَالَ ھٰذَا اَزْکی وَاَطْیَبُ وَاَظْھَرُ۔ (رواہ مسند احمد بن حنبل ابوداؤد)

اور حضرت ابورافع ؓ فرماتے ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ ایک روز اپنی تمام بیویوں کے پاس آئے (یعنی سب سے جماع کیا) اور ہر ایک بیوی سے (جماع سے فارغ ہو کر علیحدہ علیحدہ) غسل فرمایا۔ ابورافع ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ! آپ ﷺ نے آخر میں ایک ہی مرتبہ کیوں نہ غسل کرلیا؟ آپ ﷺ نے فرمایا یہ (یعنی ہر جماع کے بعد غسل کرنا، خوب پاک کرتا ہے، (نفس کے لئے) بہت خوش آئند ہے اور (جسم کو) خوب صاف کرتا ہے۔ (سنن ابوداؤد) تشریح اس سے پہلے اسی باب کی حدیث نمبر ٥ سے یہ معلوم ہوچکا ہے کہ آپ ﷺ نے ایک شب میں تمام ازواج مطہرات سے ہم بستری فرما کر آخر میں ایک ہی مرتبہ غسل فرمایا اور یہاں یہ بیان کیا جا رہا ہے کہ آپ نے ایک دن تمام ازواج مطہرات سے ہم بستری فرمائی اور غسل کا طریقہ یہ اختیار کیا کہ ہر بیوی کے ساتھ جماع سے فراغت کے بعد علیحدہ علیحدہ غسل فرمایا تو ان دونوں روایتوں میں تطبیق یہ ہوگی کہ آپ ﷺ کا وہ پہلا عمل جو اوپر بیان ہوا وہ امت کی آسانی کے لئے تھا یعنی اس بات کا اظہار مقصود تھا تمام بیویوں کے ساتھ ہم بستری سے فراغت کے بعد آخر میں ایک مرتبہ غسل کرلینا کافی ہے لیکن افضل اور بہتر چونکہ یہی ہے کہ ہر جماع کے بعد غسل کیا جائے اس لئے اس وقت آپ ﷺ نے ہر جماع کے بعد علیحدہ علیحدہ غسل فرمایا۔ آپ ﷺ نے حضرت ابورافع ؓ کے جواب میں ہر مرتبہ غسل کرنے کی جو وجہ بیان فرمائی ہے اس میں تین لفظ استعمال فرمائے ہیں (١) از کی (٢) اطیب (٣) اطہر۔ ان تینوں الفاظ کے فرق کو ظاہر کرتے ہوئے علامہ طیبی فرماتے ہیں کہ تطہیر کا استعمال ظاہری مناسبت سے ہے اور تزکیہ و تطیب کا استعمال باطنی مناسبت سے ہے یعنی تطہیر اخلاق بد کے ازالہ کے لئے ہے اور تزکیہ و تطیب اچھی خصلتوں کے حصول کے لئے ہے گویا اس کا مطلب یہ ہوا کہ اس طرح غسل کرنے سے برے اخلاق مثلاً غصہ وغیرہ دور ہوتے ہیں اور اچھے اخلاق یعنی حلم وتقوی وغیرہ حاصل ہوتے ہیں۔

443Mishkaat-al-Masabih

غسل کا بیان

وَعَنِ الْحَکَمِ بْنِ عَمْرٍ و قَالَ نَھَی رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَنْ یَّتَوَضَّأَ الرَّجُلُ بِفَضْلِ طُھُوْرِ الْمَرْاَۃِ۔ (رَوَاہُ اَبُوْدَاؤدَ وَ ابْنُ مَاجَۃَ وَالتِّرْمِذِیُّ وَ زَادَاَوْقَالَ بِسُوْرِھَا وَقَالَ ھَذَا حَدِیْثٌ حَسَنٌ صَحِیْحٌ)

اور حضرت حکم بن عمرو ؓ (اسم گرامی حکم ابن عمر ہے قبیلہ غفار کی نسبت سے مشہور ہیں آپ صحابی ہیں وفات نبی کے بعد بصرہ چلے گئے ان کے سو تیلے بھائی زیاد نے انہیں خراسان کا حاکم بنایا تھا چناچہ ان کی وفات بھی خراسان کے مضافات مقام مرو میں پچاس ہجری میں ہوئی) فرماتے ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے عورت کے غسل یا وضو کے بچے ہوئے پانی سے مرد کو وضو کرنے سے منع فرمایا ہے۔ (سنن ابوداؤد، سنن ابن ماجہ) اور ترمذی نے یہ الفاظ زائد نقل کئے ہیں کہ آپ ﷺ نے منع فرمایا عورت کے (وضو کے) بقیہ پانی سے نیز ( ترمذی) نے کہا ہے کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے) تشریح لفظ سؤر یہاں غسل یا وضو کے بقیہ پانی کے معنی میں ہے، اس کے لغوی معنی جھوٹھا (کسی کا استعمال کیا ہوا) مراد نہیں ہے اس کا مطلب یہ ہوگا کہ راوی کو فقط لفظ میں شک واقعہ ہوا ہے کہ آپ ﷺ نے یا تو فضل کہا ہے یا سور فرمایا ہے۔ اس فصل کی حدیث نمبر ٧ کے فائدے میں اس حدیث کا تذکرہ آچکا ہے ان دونوں میں جو تعارض واقع ہو رہا ہے اس کی وضاحت وہاں کی جا چکی ہے علامہ سید جمال الدین (رح) فرماتے ہیں کہ اس حدیث اور اس کے بعد آنے والی حدیث نمبر (٢١) سے عورت کے غسل یا وضو کے بچے ہوئے پانی سے مرد کو وضو کرنے کی جو ممانعت ثابت ہو رہی ہے اس کو نہی تنزیہی پر محمول کیا جائے تاکہ اس حدیث اور اس حدیث نمبر (٧) میں جس سے یہ ثابت ہوچکا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی زوجہ مطہرہ کے غسل کے بچے ہوئے پانی سے وضو فرمایا تھا تعارض پیدا نہ ہو سکے اور دونوں حدیثیں اپنی جگہ جگہ قابل عمل رہیں۔

444Mishkaat-al-Masabih

غسل کا بیان

وَعَنْ حُمَیْدِ نِ الْحِمْیَرِی قَالَ لَقِیْتُ رَجُلًا صَحِبَ النَّبِیَّ صَلی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَرْبَعَ سَنِیْنَ کَمَا صَحِبَہ، اَبُوْھُرَیْرَۃَ قَالَ نَھٰی رَسُولَ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم اَنْ تَغْسِلَ الْمَرْأَۃُ بِفَضْلِ الرَّجُلِ اَوْیَغْتَسِلَ الرَّجُلُ بِفَضْلِ الْمَرْأَۃِ زَادَ مُسَدَّدٌ وَّلْیَغْتَرِ فَاجَمِیْعًا رَوَاہُ اَبُوْدَاؤدَ وَالنِّسَائِیُّ وَزَادَ اَحْمَدُ فِی اَوْلِہٖ نَھٰی اَنْ یَّمْتَشِطَ اَحَدُنَا کُلَّ یَوْمٍ اَوْ یَبُوْلَ فِی مُغْتَسَلٍ وَّرَوَاہُ ابْنُ مَاجَۃَ عَنْ عَبْدِاﷲِ بْنِ سَرْجِسٍ۔

حضرت حمید حمیری (رح) ( اسم گرامی حمید بن عبدالرحمن ہے، قبیلہ حمیر سے تعلق کی وجہ سے حمیر کی نسبت سے مشہور ہیں جلیل القدر تابعی ہیں اپنے علم وفضل کی بنا پر اہل بصرہ کے امام سمجھے جاتے تھے، حضرت ابوہریرہ اور حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ سے سماعت کا شرف حاصل ہے۔ (فرماتے ہیں کہ میں ایک آدمی سے ملا جو ابوہریرہ ؓ کی طرح چار برس سرکار دو عالم ﷺ کی خدمت اقدس میں رہ چکے تھے انہوں نے کہا کہ سرکار دو عالم ﷺ نے اس سے منع فرمایا ہے کہ عورت مرد ( کے غسل) کے بچے ہوئے پانی سے نہائے یا مرد عورت (کے غسل) کے بچے ہوئے پانی سے نہائے۔ (ایک راوی) مسدد نے یہ الفاظ زائد نقل کئے ہیں کہ دونوں اکٹھے ہو کر (علیحدہ علیحدہ) چلو لے کر نہا لیں تو جائز ہے۔ (سنن ابوداؤد، سنن نسائی) اور امام احمد بن حنبل (رح) نے اس روایت کے شروع میں یہ الفاظ زائد نقل کئے ہیں کہ آپ ﷺ نے اس سے (بھی) منع فرمایا ہے کہ کوئی آدمی ہر روز کنگھی کرے اور نہانے کی جگہ پیشاب کرے اور ابن ماجہ نے یہ روایت عبداللہ بن سر جس ؓ سے نقل کی ہے۔ تشریح روزانہ کنگھی کرنے سے اس لئے منع کیا گیا ہے کہ یہ ان لوگوں کا طریقہ ہے جن کا مقصد صرف بناؤ سنگار اور زیب وزینت ہوتا ہے لہٰذا مسنون طریقہ یہ ہے کہ کنگھی تیسرے روز کی جائے یعنی درمیان میں ایک دن کا ناغہ کرنا چاہئے۔ غسل کرنے کی جگہ پیشاب کرنا اس لئے منع ہے کہ اس سے وسوسے پیدا ہوتے جو عبادت میں حضوری قلب کے لئے سد راہ بنتے ہیں۔

445Mishkaat-al-Masabih

پانی کے احکام کا بیان

عَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَص قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم لَا ےَبُوْلَنَّ اَحَدُکُمْ فِی الْمَۤاءِ الدَّآئِمِ الَّذِیْ لَا ےَجْرِیْ ثُمَّ ےَغْتَسِلُ فِےْہِ (مُتَّفَقٌ عَلَےْہِ وَفِیْ رِوَاےَۃِ لِّمُسْلِمٍ قَالَ لَا ےَغْتَسِلُ اَحَدُکُمْ فِیْ الْمَآءِ الدَّائِمِ وَھُوَ جُنُبٌ قَالُوْا کَےْفَ ےَفْعَلُ ےَا اَبَا ھُرَےْرَۃَ قَالَ ےَتَنَاوَلُہ، تَنَاوُلًا۔

حضرت ابوہریرۃ ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی آدمی اس ٹھہرے ہوئے پانی میں جو بہنے والا نہ ہو پیشاب نہ کرے کہ پھر اسی میں غسل کرنے لگے (یعنی کسی دانشمند سے یہ بعید ہے کہ وہ پانی میں پیشاب کرلے پھر اسی پانی سے غسل کرلے) (صحیح البخاری و صحیح مسلم) صحیح مسلم کی ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی آدمی ناپاکی کی حالت میں ٹھہرے ہوئے پانی میں غسل نہ کرے (تاکہ پانی ناپاک نہ ہوجائے) لوگوں نے کہا ابوہریرہ ؓ پھر کس طرح نہانا چاہئے؟ انہوں نے فرمایا اس میں سے تھوڑا تھوڑا پانی (چلو سے) لے کر پانی سے باہر نہانا چاہئے۔ تشریح یہاں جس پانی میں پیشاب کرنے اور پھر اس میں نہانے سے روکا جا رہا ہے اس سے ماء قلیل یعنی تھوڑا پانی مراد ہے کیونکہ ماء کثیر یعنی زیادہ پانی ماء جاری یعنی بہنے والے پانی کا حکم رکھتا ہے جو پیشاب وغیرہ سے ناپاک نہیں ہوتا اور پھر اس میں نہانا بھی جائز ہے۔ بعض علماء کرام نے کہا کہ ماء کثیر یعنی زیادہ پانی میں بھی پیشاب کرنا ممنوع ہے اگرچہ وہ پانی پیشاب وغیرہ سے نجس نہیں ہوتا۔ کیونکہ اگر اس میں کوئی آدمی پیشاب کرے گا تو اس کے دیکھا دیکھی دوسرے بھی اس میں پیشاب کرنے لگیں گے جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ عمومی طور پر سب ہی لوگ اس میں پیشاب کرنے کی عادت میں مبتلا ہوجائیں گے جس کی وجہ سے پانی رفتہ رفتہ متخیر (تبدیل) ہوجائے گا یعنی جب اس میں زیادتی اور کثرت سے پیشاب کیا جائے گا تو پانی کا رنگ مزہ اور بو تینوں چیزیں بدل جائیں گی اور پانی اصل حیثیت کھو کر ناپاک ہوجائے گا۔ لہٰذا اب اس حدیث میں مذکورہ حکم کے بارے میں یہ کہا جائے گا کہ پہلی شکل یعنی پانی کم ہونے کی صورت میں تو یہ نہی حرمت کے لئے ہے کیونکہ کم پانی میں پیشاب کرنے سے پانی ناپاک ہوجاتا ہے۔ دوسری شکل یعنی پانی زیادہ ہونے کی صورت میں کراہت کے لئے ہے۔ اب رہا یہ سوال کہ اصطلاح شریعت میں کم پانی اور زیادہ پانی کی مقدار اور اس کی تحدید کیا ہے؟ تو اس سلسلے میں انشاء اللہ تعالیٰ اگلے صفحات میں پوری وضاحت کی جائے گی۔ اسے بھی سمجھ لیجئے کہ حدیث میں پانی کے ساتھ جاری یعنی بہنے والے کی قید کیوں لگائی گئی ہے؟ اس قید کی وجہ یہ ہے کہ اگر پانی جاری یعنی بہنے والا ہو تو خواہ کم ہو یا زیادہ ہو اس میں نجاست مثلاً پیشاب وغیرہ پڑنے سے پانی ناپاک نہیں ہوتا۔ نیز علماء کرام نے لکھا ہے کہ یہ تمام تفصیلات دن کے لئے ہیں، رات میں جنابت کے خوف کی وجہ سے مطلقاً اس میں قضائے حاجت مکروہ اور ممنوع ہے کیونکہ جنات رات کو وہیں رہتے ہیں جہاں پانی ہوتا ہے چناچہ اکثر و بیشتر ندی و نالے اور تالاب جوہڑ اور نہر وغیرہ رات کو جنات کا مسکن ہوتی ہیں۔ حدیث کے آخری حصے سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی جنبی پانی میں ہاتھ نکالنے کے لئے ڈالے تو پانی مستعمل یعنی ناقابل استعمال نہیں ہوگا اور اگر وہ پانی میں ہاتھ اس لئے ڈالے تاکہ اپنے ہاتھوں کو ناپاکی دور کرنے کے لئے اس میں دھوئے تو اس شکل میں اپنی مستعمل یعنی ناقابل استعمال ہوجائے گا۔

446Mishkaat-al-Masabih

پانی کے احکام کا بیان

عَنْ جَابِرٍص قَالَ نَھٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اَنْ ےُّبَالَ فِی الْمَآءِ الرَّاکِدِ۔(صحیح مسلم)

اور حضرت جابر ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ٹھہرے ہوئے پانی میں پیشاب کرنے سے منع فرمایا ہے۔ (صحیح مسلم)

447Mishkaat-al-Masabih

پانی کے احکام کا بیان

عَنِ السَّآئِبِ بْنِ ےَزِےْدَص قَالَ ذَھَبَتْ بِیْ خَالَتِیْ اِلَی النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم فَقَالَتْ ےَارَسُوْلَ اللّٰہِ اِنَّ ابْنَ اُخْتِیْ وَجِعٌ فَمَسَحَ رَاْسِیْ وَدَعَالِیْ بِالْبَرَکَۃِ ثُمَّ تَوَضَّاَ فَشَرِبْتُ مِنْ وَّضُوْۤئِہٖ ثُمَّ قُمْتُ خَلْفَ ظَھْرِہٖ فَنَظَرْتُ اِلٰی خَاتِمِ النُّبُوَّۃِ بَےْنَ کَتِفَےْہِ مِثْلَ زِرِّ الْحَجَلَۃِ۔(صحیح البخاری و صحیح مسلم)

اور حضرت سائب بن یزید (رح) فرماتے ہیں کہ میری خالہ مجھے سرکار دو عالم ﷺ کی خدمت میں لے گئیں، انہوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! (یہ) میرا بھانجا بیمار ہے۔ چناچہ آپ ﷺ نے میرے سر پر اپنا دست مبارک پھیرا اور میرے لئے برکت کی دعا کی، پھر آپ ﷺ نے وضو کیا اور میں نے آپ ﷺ کے وضو کا پانی پی لیا۔ اس کے بعد میں آپ ﷺ کی پشت مبارک کے پیچھے کھڑا ہو کر مہر نبوت کو دیکھنے لگا جو آپ ﷺ کے کندھوں کے درمیان تھی اور دلہن کے پلنگ کی گھنڈی کی طرح (چمک رہی تھی۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم) تشریح وضو کے پانی سے یا تو یہ مراد ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے وضو فرمانے کے بعد جو پانی برتن میں باقی رہ گیا تھا حضرت سائب ؓ نے اسے پی لیا یا اس سے مراد یہ ہے کہ جب آپ ﷺ وضو فرما رہے تھے تو جو پانی آپ ﷺ کے اعضاء وضو سے گرتا جاتا تھا حضرت سائب ؓ حصول برکت و سعات کے خاطر اسے پیتے جاتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے سرکار دو عالم ﷺ کو نبوت و رسالت کے منصب سے سرفراز فرما کر جب دنیا میں مبعوث کیا تو آپ ﷺ کی نبوت و رسالت کی حقانیت و صداقت کی دلیل کے طور پر جہاں اور بہت سی نشانیاں اور معجزے دئیے وہیں ایک بڑی نشانی آپ ﷺ کے کندھوں کے درمیان مہر نبوت بھی ثبت فرمائی چناچہ حضرت سائب اسی مہر نبوت کی مقدار اور اس کی ہیت بیان فرما رہے ہیں کہ وہ چھپر کھٹ کی گھنڈی کی طرح تھی۔ اس نشانی کو مہر نبوت اس لئے کہا جاتا ہے کہ سرکار دو عالم ﷺ کی بعثت سے پہلے کے انبیاء پر اللہ تعالیٰ کی جانب سے جو کتابیں نازل کی گئی تھیں ان میں رسول اللہ ﷺ کی آمد اور بعثت کی خبر دیتے ہوئے آپ ﷺ کی یہ علامت بتائی گئی تھی کہ آپ ﷺ کے مونڈھوں کے درمیان مہر نبوت ہوگی۔ چناچہ جب رسول اللہ ﷺ مبعوث ہوئے تو اس مہر نبوت کو دیکھ کر آپ ﷺ پہچانے گئے کہ آپ ہی وہی نبی آخر الزماں ہیں جن کی بعثت کی خبر پہلے کتابوں میں دی گئی ہے چناچہ یہ مہر نبوت آپ ﷺ کی نبوت و رسالت کی علامت قرار دی گئی اس کے علاوہ علماء کرام نے اس کی وجہ تسمیہ اور بھی لکھی ہیں مگر یہاں طوالت کی وجہ سے سب کو ذکر نہیں کیا جا رہا۔ مہر نبوت کے بارے میں علماء کرام لکھتے ہیں کہا اس کے اندرونی حصہ پروَحْدَہ لَا شَرِیْکَ کے الفاظ مرقوم تھے اور اندرونی حصے پر یہ عبارت لکھی ہوئی تھی تَوَجَّہُ حَیْثَ مَا کُنْتَ فَاِنَّکَ مَنّصُورٌ یعنی جدھر بھی آپ ﷺ متوجہ ہوں گے ہماری مدد آپ ( صلی اللہ علیہ و سلم) کے ساتھ ہوگی مہر نبوت کے ظاہر ہونے کے وقت میں علماء کا اختلاف ہے چناچہ بعض حضرات نے تو یہ کہا ہے کہ جب آپ ﷺ کا سینہ مبارک شق کر کے سیا گیا تو اس کے بعد یہ نمودار ہوئی بعض علماء کی تحقیق یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی پیدائش کے فوراً بعد یہ مہر ظاہر ہوئی اور بعض حضرات فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ اس مہر سمیت ہی پیدا ہوئے تھے۔ وا اللہ اعلم

448Mishkaat-al-Masabih

پانی کے احکام کا بیان

عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ سُئِلَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمَآءِ یَکُوْنُ فِی الْفَلاۃِ مِنَ الْاَرْضِ وَمَا یَنُوْبُہ، مِنَ الدَّوَابِ وَ السِّبَاعِ فَقَالَ اِذَا کَانَ الْمَآءُ قُلَّتَیْنِ لَمْ یَحْمِلِ الخَبَثَ۔ (رَوَاہُ اَحْمَدُ وَ اَبُوْدَاؤدَ وَ التِّرْمِذِیُّ وَالنِّسَائِیُّ وَالدَّارِمِیُّ وَ ابْنُ مَاجَۃَ وَفِی اُخْرٰے لِاَبِی دَاؤدَ فَاِنَّہُ لَا یَنْجَسُ)

حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ سے اس پانی کا حکم پوچھا گیا جو جنگل میں زمین پر جمع ہوتا ہے اور اکثر و بیشتر چو پائے درندے اس پر آتے جاتے رہتے ہیں (یعنی جانور وغیرہ اس پانی پر آکر اسے پیتے ہیں اور اس میں پیشاب وغیرہ بھی کرتے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا کہ اگر پانی دو قلوں کے برابر ہو تو وہ ناپاکی کو قبول نہیں کرتا (یعنی نجاست وغیرہ پڑنے سے ناپاک نہیں ہوتا)۔ (مسند احمد بن حنبل، سنن ابوداؤد، جامع ترمذی، سنن نسائی، داری، سنن ابن ماجہ اور سنن ابوداؤد کی ایک دوسری روایت کے الفاظ ہیں کہ وہ پانی ناپاک نہیں ہوتا۔ ) تشریح قلہ بڑے مٹکے کو کہتے ہیں جس میں اڑھائی مشک پانی آتا ہے قلتین یعنی دو مٹکوں میں پانچ مشک پانی سماتا ہے دو مشکوں کے پانی کا وزن علماء کرام نے سوا چھ من لکھا ہے اس حدیث کے پیش نظر حضرت امام شافعی (رح) کا مسلک یہ ہے کہ اگر پانی دو مٹکوں کے برابر ہو اور اس میں نجاست و غلاظت گرجائے تو جب تک پانی کا رنگ، مزہ اور بو متغیر نہ ہو پانی ناپاک نہیں ہوتا۔ لیکن جہاں تک اس حدیث کا تعلق ہے اس کے بارے میں علماء کرام کا بہت زیادہ اختلاف ہے کہ آیا یہ حدیث صحیح بھی ہے یا نہیں؟ چناچہ سفر السعادہ کے مصنف جو ایک جلیل القدر محدث ہیں لکھتے ہیں کہ علماء کرام کی ایک جماعت کا قول تو یہ ہے کہ حدیث صحیح ہے مگر ایک دوسری جماعت کا کہنا ہے کہ یہ حدیث صحیح نہیں ہے۔ علی بن مدینی (رح) نے جو جلیل القدر علماء اور ائمہ حدیث کے امام اور حضرت عبداللہ بن اسماعیل بخاری (رح) کے استاد ہیں لکھتا ہے کہ یہ حدیث رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہی نہیں ہے۔ نیز علماء کرام لکھتے ہیں کہ یہ حدیث اجماع صحابہ کے برخلاف ہے کیونکہ ایک مرتبہ چاہ زمزم میں ایک حبشی گرپڑا تو حضرت بن عباس اور حضرت ابن زبیر ؓ نے یہ حکم دیا کہ کنویں کا تمام پانی نکال دیا جائے اور یہ واقعہ اکثر صحابہ کرام ؓ کے سامنے ہوا اور کسی نے بھی اس حکم کی مخالفت نہیں کی۔ پھر اس کے علاوہ علماء کرام نے یہ بھی لکھا ہے کہ اس مسئلہ میں پانی کی حد اور مقدار متعین کرنے کے سلسلے میں نہ تو حنفیہ کو اور نہ ہی شوافع کو ایسی کوئی صحیح حدیث ہاتھ لگی ہے جس سے معلوم ہو کہ نجاست پڑنے سے کتنی مقدار کا پانی ناپاک ہوجاتا ہے اور کتنی مقدار کا ناپاک نہیں ہوتا۔ امام طحاوی (رح) جو فن حدیث کے ایک جلیل القدر امام اور حنفی مسلک کے تھے فرماتے ہیں کہ حدیث قلتین (یعنی یہ حدیث) اگرچہ صحیح ہے لیکن اس پر ہمارے عمل نہ کرنے کی وجہ یہ ہے کہ حدیث میں پانی کی مقدار دو قلے بتائی گئی ہے اور قلے کے کئی معنی آتے ہیں، چناچہ قلہ مٹکے کو بھی کہتے ہیں اور مشک کو بھی، نیز پہاڑ کی چوٹی بھی قلہ کہلاتی ہے، لہٰذا جب یقین کے ساتھ یہ نہیں کہا جاسکتا کہ یہاں حدیث میں قلہ سے کیا مراد ہے تو اس پر عمل کیسے ہوسکتا ہے؟ بہر حال اس مسئلے کی تفصیل یہ ہے کہ جو علماء صرف حدیث کے ظاہری الفاظ پر عمل کرتے ہیں ان کا مسلک تو یہ ہے کہ نجاست وغیرہ پڑنے سے پانی ناپاک نہیں ہوتا خواہ پانی کم ہو یا زیادہ ہو، جاری ہو یا ٹھہرا ہوا ہو اور خواہ نجاست پڑنے سے پانی کا رنگ مزہ اور بو متغیرہ ہو یا نہ ہو یہ حضرات دلیل میں اس کے بعد آنے والی حدیث (نمبر ٥) کے یہ الفاظ پیش کرتے ہیں کہ الحدیث ( اِنَّ لْمَآءَ طُھُورٌّ لَا یُنَجِّسُہٌ شَیْی ءٌ (یعنی پانی پاک ہے اسے کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی) حالانکہ مطلقًا پانی نہیں ہے بلکہ زیادہ پانی ہے۔ ان کے علاوہ تمام علماء اور محدثین کا مسلک یہ ہے کہ اگر پانی زیادہ ہوگا تو نجاست پڑنے سے ناپاک نہیں ہوگا اور اگر پانی کم ہے تو نجاست پڑنے سے ناپاک ہوجائے گا۔ اب اس کے بعد چاروں اماموں کے ہاں زیادہ اور کم کی مقدار میں اختلاف ہے چناچہ حضرت امام مالک (رح) فرماتے ہیں کہ نجاست پڑنے سے جس پانی کا رنگ، مزہ اور بو متغیر نہ ہو وہ ماء کثیر (زیادہ پانی) کہلائے گا اور جو پانی متغیر ہوجائے وہ ماء قلیل (کم پانی) کے حکم میں ہوگا۔ حضرت امام شافعی (رح) اور حضرت امام احمد (رح) کا مسلک اس حدیث کے پیش نظر یہ ہے جو پانی دو قلوں کے برابر ہوگا اسے ماء کیثر کہیں گے اور جو پانی دو قلوں کے برابر نہ ہوگا وہ ماء قلیل کہلائے گا۔ حضرت امام اعظم (رح) اور ان کے ماننے والے یہ فرماتے ہیں کہ۔ اگر پانی اتنی مقدار میں ہو کہ اس کے ایک کنارے کو ہلانے سے دوسرا کنارہ نہ ہلے تو وہ ماء کثیر ہے اور اگر دوسرا کنارہ ہلنے لگے تو وہ ماء قلیل ہے۔ بعد کے بعض حنفی علماء نے دہ در دہ کو ماء کیثر کہا ہے یعنی اتنا بڑا حوص جو دس ہاتھ لمبا اور دس ہاتھ چوڑا ہو اور اتنا گہرا ہو کہ اگر چلو سے پانی اٹھائیں تو زمین نہ کھلے ایسے حوض کو دہ در دہ کہتے ہیں۔ چناچہ ایسے حوض کے پانی میں جو دہ در دہ ہو ایسی نجاست پڑجائے جو پڑجانے کے بعد دکھلائی نہ دیتی ہو جیسے پیشاب، خون، شراب وغیرہ تو چاروں طرف وضو کرنا درست ہے جدھر سے چاہے وضو کرسکتا ہے، البتہ اگر اتنے بڑے حوض میں اتنی جناست پڑجائے کہ پانی کا رنگ یا مزہ بدل جائے یا بدبو آنے لگے تو پانی ناپاک ہوجائے گا اور اگر حوض کی شکل یہ ہو کہ لمبا تو وہ بیس ہاتھ اور چوڑا پانچ ہاتھ ہو یا ایسے ہی لمبا پچیس ہاتھ ہو اور چوڑا چار ہاتھ ہو تو یہ دہ دردہ کی مثل ہی کہلائے گا۔

449Mishkaat-al-Masabih

پانی کے احکام کا بیان

وَعَنْ اَبِی سَعِیْدِنِ الْنُورْرِیۤ قَالَ قِیْلَ یَا رَسُوْلَ اﷲِ اَنَتَوَضَّأُ مِنْ بِئْرِ بُضَا عَۃَ وَھِیَ بِئْرٌ یُلْقَی فِیْھَا الْحِیَضُ وَلُحُوْمُ الْکِلَابِ وَالنَّتْنُ فَقَالَ رَسُوْلَ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِنَّ الْمَاءَ طُّھُوْرٌ لاَ یُنَجِّسُہ، شَیْی ئٌ۔(رَاوَہُ احمد بن حنبل و الترمذی و ابوداؤد والنسائی )

اور حضرت ابوسعید خدری ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ سے کسی نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ! کیا ہم بضاعہ کے کنویں (کے پانی) سے وضو کرسکتے ہیں؟ (جب کہ) اس کنویں میں حیض کے (خون میں بھرے ہوئے) کپڑے کتوں کے گوشت اور گندگی ڈالی جاتی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا۔ (اس کنویں کا) پانی پاک ہے (جب تک کہ اس کے رنگ، مزہ اور بو میں فرق نہ آئے) اس کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی۔ (مسند احمد بن حنبل، جامع ترمذی، ابوداؤد، سنن نسائی) تشریح بیر بضا عہ مدینہ کے ایک کنویں کا نام ہے وہ ایک ایسی جگہ واقع تھا جہاں نالے کی رو آتی تھی اس نالے میں جو گندگی اور غلاظت ہوتی تھی وہ اس کنویں میں پڑتی تھی مگر کہنے والے نے کچھ اس انداز سے بیان کیا جس سے یہ وہم ہوتا ہے کہ لوگ خود اس میں نجاست ڈالتے تھے، حالانکہ یہ غلط ہے کیونکہ اس قسم کی گندگی اور غلط چیزوں کا رتکاب تو عام مسلمان بھی نہیں کرسکتا چہ جائے کہ وہ ایسی غیر شرعی غیر اخلاقی چیز کا ارتکاب کرتے جو افضل المو منین تھے۔ بہر حال! اس کنویں میں بہت زیادہ پانی تھا ور چشمہ دار تھا اس لئے جو گندگی اس میں گرتی تھی بہہ کر نکل جاتی تھی بلکہ علماء کی تحقیق تو یہ ہے کہ اس وقت کنواں جاری تھا اور نہر جاری کی طرح ایک باغ میں بہتا بھی تھا چناچہ جب آپ ﷺ سے اس کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ ﷺ نے کنویں کی اس صفت کی وجہ سے اس کے پانی کے بارے میں وہی حکم فرمایا جو ماء کثیر یا جاری پانی کا ہوتا ہے۔ حدیث کے ظاہری الفاظ سے یہ نہیں سمجھ لینا چاہئے کہ نجاست پڑنے سے کوئی پانی ناپاک نہیں ہوتا خواہ وہ تھوڑا پانی ہو یا زیادہ پانی بلکہ یہ حکم ماء کثیر یعنی زیادہ پانی کا ہے ماء قلیل یعنی کم پانی کا یہ حکم نہیں ہے۔ حنفیہ کے بعض علماء کا خیال یہ ہے کہ چشمہ دار کنواں بھی جاری پانی کا حکم رکھتا ہے یعنی جو حکم بہنے والے پانی کا ہوتا ہے وہی چشمہ دار کنویں کا ہوتا ہے۔

450Mishkaat-al-Masabih

پانی کے احکام کا بیان

وَعَنْ اَبِی ھُرَیْرَۃَ قَالَ سَأَلَ رَجُلٌ رَسُوْلَ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ اِنَّا نَرْ کَبُ الْبَحْرَ وَنَحْمِلُ مَعَنَا الْقَلِیْلَ مِنَ الْمَآءِ فَاِنْ تَوضَّاْنَا بِہٖ عَطِشْنَا اَفَنَتَوَضَّأُ بِمَآءِ الْبَحْرِ فَقَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ھُوَ الطَّھُوْرُ مَاوُہ، وَالْحِلُّ مَیْتَتُہ،۔( رواہ مالک و الجامع ترمذی و ابوداؤد و نسائی و ابن ماجۃ و الدارمی)

حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے سرکار دو عالم ﷺ سے پوچھا کہ یا رسول اللہ! ہم (کھارے) دریا میں کشتی کے ذریعہ) سفر کرتے ہیں اور (میٹھا) پانی اپنے ہمراہ تھوڑا سا لے جاتے ہیں اس لئے اگر ہم اس پانی سے وضو کرلیں تو پیاسے رہ جائیں! تو کیا ہم دریا کے پانی سے وضو کرسکتے ہیں (یا تیمم کرلیا کریں) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا دریا کا وہ پانی پاک کرنے والا ہے اس کا مردار حلال ہے۔ (مالک، سنن ابوداؤد، سنن نسائی، ابن ماجہ، دارمی) تشریح میتہ اس مردار جانور کو کہتے ہیں جو بغیر ذبح کئے ہوئے اپنے آپ مرجائے چناچہ اس حدیث میں میتۃ (سے مراد مچھلی ہے کیونکہ اسے ذبح نہیں کرتے اس کا شکار کرنا اور اسے پانی سے نکالنا ہی اس کو ذبح کرنے کے مترادف ہے۔ البتہ جو مچھلی پانی میں مرجائے وہ حنفیہ کے ہاں حلال نہیں ہے۔ دریائی جانوروں میں مچھلی تمام علماء کرام کے ہاں متفقہ طور پر حلال ہے، دوسرے جانوروں کے بارے میں اختلاف ہے جس کی تفصیل فقہ کی کتابوں میں موجود ہے۔

451Mishkaat-al-Masabih

پانی کے احکام کا بیان

وَعَنْ اَبِیْ زَیْدٍ عَنْ عَبْدِ اﷲِ بْنِ مَسْعُوْدٍ اَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ لَہ، لَیْلَۃَ الْجِنِّ مَا فِیْ اِدَاوَتِکَ قَالَ قُلْتُ نَبِیْذٌ قَالَ تَمْرَۃٌ طَیِّبَۃٌ وَّمَآءٌ طُھُوْرٌہ رَوَاہُ اَبُوْدٰؤدَ وَزَادَ اَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِیُّ فَتَوَضَّأَ مِنْہُ وَقَالَ التِّرْمِذِیُّ اَبُوْزَیْدٍ مَجْھُوْلٌ وَصَحَّ عَنْ عَلْقَمَۃَ عَنْ عَبْدِا ﷲِ بْنِ مَسْعُوْدٍ قَالَ لَمْ اَکُنْ لَیْلَۃً الْجِنِّ مَعَ رَسُوْلِ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم۔ (رواہ مسلم)

اور حضرت ابوزید ؓ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کے بارے میں نقل کرتے ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے لیلۃ الجن (یعنی جن کی رات) میں ان سے پوچھا کہ تمہارے لوٹے میں کیا ہے! عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے کہا کہ نبیذ (یعنی کھجوروں کا شربت) ہے آپ ﷺ نے فرمایا کھجوریں پاک ہیں اور پانی پاک کرنے والا ہے (ابوداؤد) امام احمد و امام ترمذی رحمہما اللہ تعالیٰ علیہ نے یہ الفاظ زیادہ نقل کئے ہیں کہ پس آپ ﷺ نے اس سے وضو کیا نیز امام ترمذی (رح) نے یہ بھی فرمایا ہے کہ ابوزید کا پتہ نہیں کہ یہ کون ہیں ہاں حضرت علقمہ (رح) البتہ عبداللہ بن مسعود ؓ سے صحیح طور پر یہ روایت نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ لیلۃ الجن کو میں رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ نہیں تھا۔ (صحیح مسلم) تشریح لیلۃ الجن اس رات کو فرماتے ہیں جس میں جنات کی ایک جماعت رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئی تھی آپ ﷺ نے ان کو اسلام کی دعوت دیتے ہوئے ان کے سامنے قرآن کریم پڑھا تھا جس کے بعد وہ جماعت اپنی قوم میں گئی اور اسلام کی دعوت اور قرآن کی تعلیمات سے انہیں آگاہ کیا اس واقعہ کا ذکر قرآن مجید کی سورت جن میں بھی کیا گیا ہے۔ نبیذ تمر کی شکل یہ ہوتی ہے کہ چھوارے پانی میں ڈال دئیے جاتے ہیں اور انہوں چند روز تک اسی طرح پانی میں رہنے دیا جاتا ہے جس کے بعد دونوں کا شربت سا بن جاتا ہے اور اس میں ایک قسم کی تیزی بھی آجاتی ہے، یہ شربت جب تک تیز و تند نہیں ہوتا حلال رہتا ہے چناچہ منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے لئے یہ نیند تمر بنایا جاتا تھا۔ نبیذ تمر سے وضو کرنا مختلف فیہ ہے، چناچہ امام اعظم ابوحنیفہ (رح) کا مسلک یہ ہے کہ اگر وضو کے لئے خاص پانی نہ ملے تو نبیذ تمر سے وضو کیا جاسکتا ہے اس کی موجودگی میں تیمم کرنا جائز نہیں ہے۔ حضرت امام شافعی (رح) اس مسلک سے اختلاف کرتے ہیں، حضرت امام اعظم ابوحنیفہ (رح) کی دلیل یہی مذکورہ حدیث ہے یہ حدیث چونکہ حضرت امام شافعی (رح) کے مسلک کے خلاف ہے اس لئے شوافع اس حدیث کو ضعیف ثابت کرتے ہیں چناچہ حضرت امام ترمذی (رح) بھی یہی بات کہہ رہے ہیں کہ حدیث کے راوی ابوزید غیر معروف ہیں اس لئے ان کی روایت کردہ حدیث پر کسی مسلک کی بنیاد نہیں رکھی جاسکتی، امام ترمذی (رح) دوسری چیز یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ لیلۃ الجن میں آنحضرت ﷺ کے ہمراہ نہیں تھے۔ اس کی شہادت میں وہ حضرت علقمہ (رح) کی ایک روایت پیش کر رہے ہیں جو حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ ہی سے مروی ہے اس کا مقصد بھی یہی ہے کہ جب عبداللہ بن مسعود ؓ کا رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ اس رات میں ہونا ہی ثابت نہیں ہے تو ابوزید کی یہ روایت یقینا صحیح نہیں ہوسکتی۔ لیکن جہاں تک حقیقت کا تعلق ہے اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ حضرت امام اعظم (رح) کا مسلک برحق ہے کیونکہ حضرت امام ترمذی (رح) کا یہ کہنا ابوزید مجہول راوی ہیں حدیث کی حیثیت پر کچھ اثر انداز نہیں ہوتا اس لئے کہ حدیث کے راویوں کے غیر معروف ہونے کا دعویٰ دوسرے طریقوں سے غلط ثابت ہوجاتا ہے۔ دوسرا اعتراض یہ کہ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ اس روایت میں رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ نہیں تھے، بالکل غلط ہے، کیونکہ حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ کی موجودگی دیگر روایتوں سے بھی تحقیق کے ساتھ ثابت ہے چناچہ ایک روایت یہ بھی ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ اس شب میں جنات کو سلام کی دعوت اور قرآن کی تعلیمات بتانے میں مشغول ہوئے تو اپ ﷺ نے حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کو ایک جگہ بٹھا دیا اور ان کے اردگرد لکیر کھینچ کر ایک دائرہ بنایا اور انہیں ہدایت کی کہ وہ اس دائرے سے باہر نہ نکلیں۔ حضرت علقمہ (رح) کی روایت کی صحت میں کوئی کلام نہیں ہے مگر اس کا مطلب حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ کی موجودگی کا سرے سے انکار نہیں ہے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جس وقت رسول اللہ ﷺ جنات سے ہم کلام تھے اس وقت حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ آپ ﷺ کے پاس حاضر نہ تھے، یا یہ کہ رسول اللہ ﷺ جس وقت جنات کے پاس تشریف لے جا رہے تھے عبداللہ ابن مسعود ؓ اس وقت آپ ﷺ کے پاس نہیں تھے بلکہ آخر شب میں جا کر آپ ﷺ سے ملاقات کی۔ وا اللہ اعلم

452Mishkaat-al-Masabih

پانی کے احکام کا بیان

وَعَنْ کَبَشْۃَ بِنْتِ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ وَ کَانَتْ تَحْتَ ابْنِ اَبِیْ قَتَادَۃَ اَنَّ اَبَا قَتَادَۃَ دَخَلَ عَلَیْھَا فَسَکَبَتْ لَہ، وَضُوْئًا فَجَائَتْ ھِرَّۃٌ تَشْرَبُ مِنْہُ فَاَصْغٰی لَھَا الْاِ نَآءَ حَتّٰی شَرِبَتْ قَالَتْ کَبْشَۃُ فَرَاٰنِیْ اَنْظُرُ اِلَیْہِ فَقَالَ اَتَعْجَبِیْنَ یَا ابْنَۃَ اَخِیْ قَالَتْ فَقُلْتُ نَعَمْ فَقَالَ اِنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلمقَالَ اِنَّھَا لَیْسَتْ بِنَجْسٍ اِنَّھَا مِنَّ الطَّوَّافِیْنِ عَلَیْکُمْ اَوِ الطَّوَّافَاتِ۔ (رواہ مالک و مسند احمد بن حنبل والترمذی و ابوداؤد و النسائی و ابن ماجۃ و الدارمی)

حضرت کبشہ بنت کعب بن مالک سے جو حضرت ابوقتادہ ؓ کے بیٹے کی بیوی تھیں مروی ہے کہ (ایک روز ان کے سسر حضرت ابوقتادہ ؓ ان کے پاس آئے (کبشہ کہتی ہیں کہ) میں نے ان کے وضو کے لئے (ایک برتن میں) پانی رکھ دیا، ایک بلی آکر اس میں سے پانی پینے لگی، حضرت ابوقتادہ ؓ نے برتن کو اس کی طرف جھکا دیا (تاکہ وہ آسانی سے پانی پی لے) چناچہ بلی نے پانی پی لیا کبشہ کہتی ہیں کہ جب حضرت ابوقتادہ ؓ نے مجھے دیکھا کہ میں تعجب سے ان کی طرف دیکھ رہی ہوں تو انہوں نے کہا میری بھتیجی کیا تمہیں اس پر تعجب ہو رہا ہے؟ میں نے کہا جی ہاں۔ حضرت ابوقتادہ ؓ نے کہا کہ سرکار دو عالم ﷺ نے فرمایا بلیاں ناپاک نہیں ہیں، کیونکہ یہ تمہارے پاس آنے جانے والوں میں سے ہیں یا یہ فرمایا آنے جانے والیوں میں سے ہیں۔ (موطا امام مالک، مسند احمد بن حنبل جامع ترمذی، سنن ابوداؤد، سنن نسائی، سنن ابن ماجہ، دارمی) تشریح حضرت ابوقتادہ ؓ نے کبشہ کو بھیتجی کہا ہے حالانکہ وہ ان کی بھیتجی نہیں تھیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عرب میں عام طور پر مرد مخاطب کو اگر وہ چھوٹا ہوتا ہے بھتیجا یا چچا کا بیٹا اور عورت مخاطب کو بھتیجی کہہ کر پکارتے ہیں چاہے حقیقت میں ان کا یہ رشتہ نہ ہو کیونکہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہوتا ہے، اس لئے وہ اسلامی اخوت کے رشتے کے پیش نظر اس کی اولاد کو بھیتجا یا بھیتجی کہتے ہیں۔ روایت میں طوافین اور طوافات دونوں لفظ استعمال فرمائے گئے ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ بلی اگر نر ہے تو اس کی مناسبت سے طوافین کا لفظ ہوگا اور اگر بلی مادہ ہے تو اس کی مناسبت سے طوافات کا لفظ ہوگا۔ یہ دونوں لفظ یہاں خادم کے معنی میں استعمال فرمائے ہیں اس کا مطب یہ ہے کہ بلیاں تمہاری خادم ہیں ان کو خادم کہنے کی وجہ یہ ہے کہ یہ بھی انسانوں کی مختلف طریقوں سے خدمت کرتی ہیں اور ان کے آرام و راحت کی بعض چیزوں میں بڑی معاون ہوتی ہیں مثلاً نقصان دہ جانوروں جیسے چوہے وغیرہ کو یہ مارتی ہیں۔ یا ان کو خادم اس مناسبت سے کہا گیا ہے کہ جیسے خادموں کی خبر گیری میں ثواب ملتا ہے اسی طرح بلیوں کی خبر گیری میں بھی ثواب ہوتا ہے اور جس طرح گھروں میں خادم پھرتے رہتے ہیں اس طرح بلیاں بھی گھروں میں پھرتی رہتی ہیں۔ بہر حال حدیث کا مطلب یہ ہے کہ بلیاں تمہارے پاس ہر وقت خادموں کی طرح رہتی ہیں اور گھر کے ہر حصے میں پھرا کرتی ہیں اگر ان کے استعمال کئے کو ناپاک قرار دے دیا جائے تو تم سب بڑی دشواریوں اور پریشانیوں میں مبتلا ہوجاؤ گے۔ اس لئے یہ حکم کیا جاتا ہے کہ بلیوں کا استعمال کردہ پاک ہے۔ گویا یہ حدیث اس پر دلالت کرتی ہے کہ بلی کا استعمال کردہ پاک ہے چناچہ امام شافعی (رح) کا مسلک یہ ہے کہ بلیوں کا استعمال کردہ ناپاک نہیں ہے بلکہ پاک ہے۔ امام اعظم ابوحنیفہ (رح) کا مسلک یہ ہے کہ بلی کا استعمال کردہ مکروہ تنزیہی ہے یعنی اگر بلی کے استعمال کردہ پانی کے علاوہ دوسرا پانی نہ مل سکے تو اس سے وضو کرنا جائز ہے۔ اس کی موجودگی میں تیمم کرنے کی ضرورت نہیں ہے اور اگر بلی کے استعمال کردہ پانی کے علاوہ دوسرا پانی موجود ہو اور اس کے باوجود اسی جھوٹے پانی سے وضو کیا جائے گا تو وضو ہوجائے گا لیکن مکروہ ہوگا۔ امام صاحب (رح) اس شکل میں اسے مکروہ بھی اس لئے فرماتے ہیں کہ ایک دوسری حدیث میں بلی کو درندہ کہا گیا ہے اور درندہ کے بارے میں بتایا گیا کہ ناپاک ہوتا ہے لیکن یہ حدیث چونکہ اس کے بالکل برعکس ہے اس لئے ان دونوں حدیثوں پر نظر رکھتے ہوئے کوئی ایسا حکم نافذ کیا جانا چاہئے جو دونوں حدیثوں کے مفہوم کے مطابق ہو لہٰذا اب یہی کیا جائے گا کہ جس حدیث میں بلی کو درندہ کہہ کر اس کی نجاست کی طرف اشارہ کیا گیا ہے وہ اپنی جگہ صحیح ہے مگر اس حدیث نے بلی کی نجاست کے حکم کو کراہت میں بدل دیا ہے لہٰذا اس کے استعمال کئے ہوئے کو ناپاک تو نہیں کہیں گے البتہ مکروہ کہنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

453Mishkaat-al-Masabih

پانی کے احکام کا بیان

وَعَنْ دَاؤدَ بْنَ صَالِحِ بْنِ دِیْنَارٍعَنْ اُمِّہٖ اَنَّ مَوْلَا تَھَا اَرْسَلَتْھَا بِھَرِ یْسَۃٍ اِلٰی عَائِشَۃَ قَالَتْ فَوَجَدْ تُّھَا تُصَلِّیْ فَاَشَارَتْ اِلَیَّ اَنْ ضَعِیْھَا فَجَآئَتْ ھِرَّۃٌ فَاَکَلَتْ مِنْھَا فَلَمَّا انْصَرَفَتْ عَائِشَۃُ مِنْ صَلَاتِھَا اَکَلَتْ مِنْ حَیْثُ اَکَلَتِ الْھِرَّۃُ فَقَالَتْ اِنَّ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ اِنَّھَا لَیْسَتْ بِنَجَسٍ اِنَّھَا مِنَ الطَّوَّافِیْنَ عَلَیْکُمْ وَاِنِّیْ رَاَیْتُ رَسُوْلَ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلمیَتَوَضَّأُ بِفَضْلِھَا۔ (رواہ ابوداؤد)

حضرت داؤد بن صالح بن دینار اپنی والدہ محترمہ سے نقل کرتے ہیں کہ (ایک روز) انہیں ان کی آزاد کرنے والی مالکہ نے ہریسہ (یعنی حریرہ) دیکر حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کی خدمت اقدس میں بھیجا ان کی والدہ فرماتی ہیں کہ میں نے (وہاں پہنچ کر) حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کو نماز پڑھتے ہوئے پایا حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے اشارے سے اسے رکھ دینے کے لئے مجھے کہا (چنانچہ میں نے ہریسہ کا برتن رکھ دیا اتنے میں) ایک بلی آکر اس میں سے کھانے لگی۔ حضرت عائشہ ؓ جب نماز سے فارغ ہوئیں تو حریرہ کو بلی نے جس طرف سے کھایا تھا اسی طرف سے انہوں نے بھی کھالیا پھر فرمایا کہ سرکار دو عالم ﷺ کا ارشاد ہے کہ بلی ناپاک نہیں ہے اور وہ تمہارے پاس آنے جانے والوں میں سے ہے اور میں نے خود سرکار دو عالم ﷺ کو بلی کے استعمال کردہ (پانی) سے وضو کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ (سنن ابوداؤد) تشریح داؤد کی والدہ جب حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کے پاس حریرہ لے کر پہنچیں تو وہ نماز میں مشغول تھیں اس لئے انہوں نے اپنے ہاتھ یا سر وغیرہ سے انہیں اشارہ کیا جس کا مطلب تھا کہ یہ برتن رکھ دو اس سے معلوم ہوا کہ نماز میں اس طرح کے معمولی اشارے جائز ہیں کیونکہ یہ عمل کیثر نہیں ہے چناچہ نماز کو فاسد اور ختم کردینے والی چیز یا تو گفتگو ہے یا عمل کثیر ہے۔ اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ خود بلی کے استعمال کردہ پانی سے وضو فرما لیا کرتے تھے۔ لہٰذا جن علماء کا مسلک یہ ہے کہ بلی کے استعمال کردہ پانی سے وضو کرنا مکروہ تنزیہی ہے مثلا امام ابوحنیفہ (رح) تو وہ اس کی تاویل یہ کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کا یہ فعل آسانی و رخصت پر عمل کرنے کے مترادف ہے اور بیان جواز کے لئے ہے۔ البتہ جن علماء کے نزدیک بلی کا استعمال کردہ پاک ہے ان کو اس حدیث کی کوئی تاویل کرنے کی ضرورت ہی نہیں ہے کیونکہ اس سے تو ان ہی کے مسلک کی تائید ہوتی ہے علماء نے لکھا ہے کہ احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ بلیوں کو پالنے میں کوئی قباحت نہیں ہے بلکہ مستحب ہے۔

454Mishkaat-al-Masabih

پانی کے احکام کا بیان

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ سُئِلَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم اَنَتَوَ ضَّاُ بِمَا اَفْضَلَتِ الْحُمُرُ قَالَ نَعَمْ وَبِمَا اَفْضَلَتِ السِّبَاعُ کُلُّھَا۔ (رواہ فی شرح السنۃ)

اور حضرت جابر ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ سے سوال کیا گیا کہ کیا ہم اس پانی سے وضو کرسکتے ہیں جس کو گدھوں نے استعمال کیا ہو۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ ہاں! (اس پانی سے وضو کرنا جائز ہے) اور اس پانی سے بھی (وضو کرنا جائز ہے) جس کو درندوں نے استعمال کیا ہو۔ (شرح السنۃ) تشریح اس مسئلے میں کہ گدھوں یا خچروں کا استعمال کردہ پانی پاک ہے یا نہیں؟ کوئی یقینی بات نہیں کہی جاسکتی کیونکہ اس مسئلے میں جو احادیث منقول ہیں ان میں تعارض ہے چناچہ بعض احادیث سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کا استعمال کردہ حرام ہے اور بعض احادیث سے ان کی اباحت کا پتہ چلتا ہے، جیسا کہ مرقات میں دونوں قسم کی احادیث جمع کی گئی ہیں لہٰذا ان کے ظاہری تعارض کو دیکھتے ہوئے اس کے بارے میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا جاسکتا اور پھر احادیث کے علاوہ صحابہ کرام ؓ میں بھی اس مسئلے کے بارے میں اختلاف منقول ہے چناچہ حضرت ابن عمر فاروق ؓ گدھوں اور خچروں کے مستعمل کو ناپاک کہتے تھے مگر حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ اس کے پاک ہونے کے قائل تھے۔ اس حدیث سے بظاہر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ درندوں کا مستعمل پاک ہے جیسا کہ حضرت امام شافعی (رح) کا یہی مسلک ہے مگر حضرت امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک درندوں کا استعمال کیا ہوا ناپاک ہے اور اس کی وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ جب کوئی درندہ پانی وغیرہ کو استعمال کرے گا تو اس میں اس کا لعاب یقینًا پڑے گا اور لعاب گوشت سے پیدا ہوتا ہے اور ظاہر کہ درندوں کا گوشت ناپاک ہوتا ہے اس لئے اس کے استعمال کئے ہوئے کو بھی ناپاک کہا جائے گا۔ اب جہاں تک ان حدیثوں کا تعلق ہے جن سے درندوں کے مستعمل کا پاک ہونا معلوم ہوتا ہے، اس کے بارے میں علماء کرام فرماتے ہیں کہ ان احادیث کے بارے میں کوئی یقینی بات نہیں کہی جاسکتی کیونکہ ان احادیث کے بارے میں کوئی یقینی بات نہیں کہی جاسکتی کیونکہ ان احادیث کی صحت ہی میں کلام کیا جاتا ہے کہ آیا یہ احادیث صحیح بھی ہیں یا نہیں؟ اگر ان احادیث کو صحیح مان بھی لیا جائے تو یہ کہا جائے گا کہ ان احادیث سے درندوں کے مستعمل پانی کے پاک ہونے کا ثبوت ملتا ہے اس سے وہ پانی مراد ہے جو جنگل میں بڑے بڑے تالابوں میں جمع ہوتا ہے، چناچہ اس کی تصریح آگے آنے والی احادیث سے بھی جو حضرت یحییٰ اور حضرت ابوسعید رحمہما اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہیں، ہوتی ہے جن میں وضاحت کے ساتھ ثابت ہو رہا ہے کہ اگر درندے نے ایسے پانی کو استعمال کیا جو بہت زیادہ مثلاً کسی بڑے تالاب وغیرہ میں پانی ہے تو پاک ہوگا اگر پانی تھوڑا ہوگا تو وہ درندوں کے استعمال کردینے سے ناپاک ہوجائے گا۔ پھر اس بات کو ذہن نشین کرلیجئے کہ اگر یہ مان لیا جائے کہ ان احادیث میں درندے اور پانی علی العموم مراد ہیں کہ پانی خواہ تھوڑا ہو یا زیادہ وہ درندوں کے استعمال کرنے سے ناپاک نہیں ہوتا تو کیا اس شکل میں یہ لازم نہیں آتا کہ کتوں کے جھوٹے کو بھی پاک کہا جائے حالانکہ کوئی بھی کتے کہ جھوٹے کو پاک نہیں کہتا لہٰذا اس سے معلوم ہوا کہ جن احادیث سے درندوں کے جھوٹے پانی کا پاک ہونا معلوم ہوتا ہے اس سے وہی پانی مراد ہے جو جنگل میں بڑے بڑے تالابوں میں جمع رہتا ہے اور جو بہت زیادہ ہوتا ہے۔ اس موقع پر برسبیل تذکرہ ایک مسئلہ بھی سن لیجئے۔ یہ تو آپ سب ہی جانتے ہیں کہ کتے کا لعاب وغیرہ بھی ناپاک ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اگر کتوں کا لعاب وغیرہ کپڑے یا بدن کے کسی حصے پر لگ جائے تو اس کو دھو کر پاک کرنا ضروری ہوتا ہے مگر اس سلسلے میں اتنی بات یاد رکھئے کہ اگر کسی کتے نے کسی آدمی کے بدن کے کسی حصے کو منہ سے پکڑ لیا یا کسی کپڑے کو منہ میں دبا لیا تو اس کا مسئلہ یہ ہے کہ کتے نے اگر غصے کی حالت میں پکڑا یا دبا ہے تو وہ ناپاک نہیں ہوگا۔ اور اگر غصے کی حالت میں نہیں بلکہ بطور کھیل کود کے اس نے پکڑا اور دبایا ہے تو وہ ناپاک ہوجائے گا اس لئے بدن کے اس حصے کو اور کپڑے کو دھو کر پاک کرنا ضروری ہوگا۔ اس فرق کی وجہ علماء یہ لکھتے ہیں کہ جب کتا کسی چیز کو غصے کی حالت میں پکڑتا ہے تو اسے دانتوں سے پکڑتا ہے اور اس کے دانت میں کوئی رطوبت نہیں ہوتی اس لئے اس چیز پر ناپاکی کا کوئی اثر نہیں ہوتا اور جب کسی چیز کو کھیل کے طریقہ پر پکڑتا ہے تو اسے دانتوں سے نہیں پکڑتا بلکہ ہونٹوں سے پکڑتا ہے اور ہونٹ چونکہ لعاب وغیرہ سے تر ہوتے ہیں اس لئے اس کی ناپاکی اس چیز کو بھی ناپاک کردیتی ہے۔

455Mishkaat-al-Masabih

پانی کے احکام کا بیان

وَعَنْ اُمِّ ھَانِئٍ قَالَتْ اِغْتَسَلَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم ھُوَ وَ مَیْمُوْنَۃُ فِیْ قَصْعَۃٍ فِیْھَا اَثَرُ الْعَجِیْنِ۔(رواہ النسائی و ابن ماجۃ)

حضرت ام ہانی ؓ ( آپ کا نام فاختہ ہے مگر ام ہانی کنیت سے مشہور ہیں ابوطالب کی صاحبزادی اور حضرت علی کرم اللہ وجہ کی حقیقی بہن ہیں) راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے اور حضرت میمونہ ؓ نے ایک طشت میں کہ جس میں گندھے ہوئے آٹے کا کچھ حصہ لگا ہوا تھا غسل فرمایا۔ (سنن نسائی، سنن ابن ماجہ) تشریح چونکہ حضرات شوافع کے نزدیک پانی میں تغیر آجانے سے خواہ تغیر کسی پاک و جائز چیز سے آئے یا ناپاک و ناجائز چیز سے وہ پانی وضو و غسل کے استعمال کے قابل نہیں رہتا اس لئے وہ حضرات اس حدیث کی تاویل یہ کرتے ہیں کہ طشت میں اتنا آٹا نہیں لگا تھا جس سے پانی متغیر ہوجاتا اس لئے رسول اللہ ﷺ اور حضرت میمونہ ؓ نے اس میں غسل کیا۔ مگر حنفیہ کے ہاں چونکہ مسئلہ یہ ہے کہ اگر پانی کسی پاک و جائز چیز سے متغیر ہو بشرطیکہ پانی گاڑھا ہوجائے تو اس سے وضو اور غسل درست ہے اس لئے انہیں اس حدیث کی کوئی تاویل کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

456Mishkaat-al-Masabih

پانی کے احکام کا بیان

وَعَنْ یَحْیَ بْنِ عَبْدِالرَّحْمٰنِ قَالَ اِنَّ عُمَرَ خَرَجَ فِیْ رَکْبٍ فِیْھِمْ عَمْرُو ابْنُ الْعَاصِ حَتّٰی وَرَدُوْا حَوْضًا فَقَالَ عَمْرُوْ یَا صَاحِبَ الْحَوْضِ ھَلْ تَرِدْ حَوْضَک السِّبَاعُ فَقَالَ عُمَرُ ابْنُ الْخَطَّابِ یَا صَاحِبَ الْحَوْضِ لَا تُخْبِرْنَا فَاِنَّا نَرِدُ عَلَی السِّبَاعِ وَ تَرِدُ عَلَیْنَا رَوَاہُ مَالِکٌ وَّ زَادَ رَزِیْنٌ قَالَ زَادَ بَعْضُ الرُّوَاۃِ فِی قَوْلِ عُمَرَوَاِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم یَقُوْلُ لَھَا مَا اَخَذَتْ فِیْ بُطُوْنِھَا وَمَا بَقِیَ فَھُوَلَنَا طُھُوْرٌ وَ شَرَابٌ۔

حضرت یحییٰ بن عبدالرحمن (رح) فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب ؓ ایک قافلہ کے ہمراہ کہ جس میں حضرت عمرو بن عاص ؓ بھی تھے چلے جب (اہل قافلہ جنگل میں) ایک تالاب پر پہنچے تو حضرت عمرو بن عاص (رح) نے پوچھا کہ اے تالاب کے مالک کیا تمہارے اس تالاب پر (پانی پینے کے لئے) درندے بھی آتے ہیں؟ (یہ سن کر حضرت عمر بن خطاب ؓ نے فرمایا کہ اے تالاب کے مالک یہ بتانے کی کوئی ضرورت نہیں اس لئے کہ ہم درندوں پر آتے ہیں اور درندے ہم پر آتے ہیں یعنی کبھی تو ہم پانی پر آتے ہیں اور کبھی درندے پانی پر آتے ہیں اور چونکہ تالاب میں پانی زیادہ ہے اس لئے درندوں کے پینے سے ناپاک نہیں ہوتا (مالک) اور رزین نے کہا ہے کہ بعض راویوں نے حضرت عمر ؓ کے اس قول میں یہ الفاظ زائد نقل کئے ہیں کہ (حضرت عمر فاروق ؓ فرماتے ہیں) میں نے خود سرکار دو عالم ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے تھے کہ درندے جو اپنے پیٹ میں لے جائیں وہ ان کا ہے اور جو باقی رہ جائے وہ ہمارے پینے کے قابل اور پاک کرنے والا ہے۔

457Mishkaat-al-Masabih

پانی کے احکام کا بیان

وَعَنْ اَبِیْ سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ اَنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم سُئِلَ عَنِ الْحِیَاضِ الَّتِیْ بَیْنَ مَکَّۃَ وَالْمَدِیْنَۃِ تَرِ دُھَا السِّبَاعُ وَالْکِلَابُ وَالْحُمُرُ عَنِ الطُّھْرِ مِنْھَا فَقَالَ لَھَا مَا حَمَلَتْ فِیْ بُطُوْنِھَا وَلَنَا مَا غَبَرَ طَھُوْرٌ۔ (رواہ ابن ماجۃ)

اور حضرت ابوسعید خدری ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ سے ان تالابوں کے بارے میں پوچھا گیا جو مکہ اور مدینہ کے درمیان واقع ہیں اور ان پر (پانی پینے کے لئے) درندے، کتے اور گدھے آتے رہتے ہیں کہ آیا اس سے کوئی چیز پاک کی جاسکتی ہے یا نہیں؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو ان کے پیٹوں میں آجائے وہ ان کا ہے اور جو باقی رہ جائے وہ ہمارے لئے پاک کرنے والا ہے۔ (سنن ابن ماجہ) تشریح ان دونوں حدیثوں میں درندوں کے استعمال کردہ پانی کے پاک ہونے کا جو حکم بیان کیا جا رہا ہے وہ مطلقا پانی کے بارے میں نہیں ہے بلکہ یہ حکم اس پانی کے بارے میں ہے جو برے بڑے تالابوں اور حوضوں میں جمع رہتا ہے۔

458Mishkaat-al-Masabih

پانی کے احکام کا بیان

وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ لَا تَغْتَسِلُوْا بِالْمَآءِ الْمُشَمَّسِ فَاِنَّہُ یُوْرِثُ الْبَرَصَ۔ (رواہ الدارقطنی)

اور حضرت عمر بن خطاب ؓ کے بارے میں مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا دھوپ میں گرم کئے ہوئے پانی سے غسل نہ کرو کیونکہ یہ برص ( یعنی سفیدی کی بیماری) کا سبب ہوتا ہے۔ (دارقطنی) تشریح دھوپ میں گرم کئے ہوئے پانی کا مطلب بعض علماء نے یہ اخذ کیا ہے کہ اس پانی سے غسل نہ کرنا چاہئے جو قصدا دھوپ میں رکھ کر گرم کیا گیا ہوا لیکن بظاہر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس میں کوئی تخصیص نہیں ہے یعنی خواہ پانی کو دھوپ میں قصدا رکھ کر گرم کیا گیا ہو یا پانی کسی جگہ پہلے سے رکھا ہوا ہو اور دھوپ کے آجانے سے گرم ہوگیا ہو۔ حضرت میرک شاہ (رح) فرماتے ہیں کہ یہ حدیث (یعنی حضرت عمر ؓ کا یہ قول) ضعیف ہے اور سرکار دو عالم ﷺ کی کوئی حدیث اس سلسلے میں منقول نہیں ہے۔ مگر حضرت امام شافعی (رح) نے حضرت عمر بن خطاب ؓ کے اس قول کو دوسری سند سے بھی روایت کیا ہے جس کے راوی ثقہ اور معتمد ہیں لہٰذا اس کی صحت پر کوئی کلام صحیح نہیں ہوگا۔ جہاں تک حضرت عمر فاروق ؓ کے اس ارشاد کی مراد کا تعلق ہے اس سلسلے میں یہ کہا جائے گا کہ حضرت عمر کے کہنے کا مقصد یہ ہے کہ ایسے پانی میں غسل مستقلاً نہ کیا جائے اور نہ اس پانی سے غسل کرنے کی عادت ڈالی جائے تاکہ برص جیسے موذی مرض میں مبتلا ہونے کا خدشہ نہ رہے۔ ویسے مسئلہ کی بات یہ ہے کہ دھوپ میں گرم کئے ہوئے پانی سے غسل کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے چناچہ حضرت امام اعظم، امام مالک، حضرت امام احمد بن حنبل رحمہم اللہ تعالیٰ علیہ تینوں حضرات کے نزدیک اس میں کوئی کراہت نہیں ہے البتہ حضرت امام شافعی (رح) کے مسلک میں کچھ اختلاف ہے لیکن ان کا صحیح قول یہ ہے کہ اس پانی سے غسل کرنا مکروہ ہے البتہ ان کے علماء متاخرین نے بھی تینوں ائمہ کی ہمنوائی کرتے ہوئے یہی مسلک اختیار کیا ہے کہ اس میں کراہت نہیں ہے۔

459Mishkaat-al-Masabih

نجاستوں کے پاک کرنے کا بیان

وَعَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَ ص قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اِذَا شَرِبَ الْکَلْبُ فِیْ اِنَآءِ اَحَدِکُمْ فَلْےَغْسِلْہُ سَبْعَ مَرَّاتٍ مُتَّفَقٌ عَلَےْہِ وَفِیْ رِوَاےَۃٍ لِمُسْلِمٍ قَالَ طُھُوْرُ اِنَآءِ اَحَدِکُمْ اِذَا وَلَغَ فِےْہِ الْکَلْبُ اَنْ ےَغْسِلَہُ سَبْعَ مَرَّاتٍ اُوْلٰھُنَّ بِالتُّرَابِ۔

حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کسی کے برتن میں سے کتا پانی پی لے تو اس برتن کو سات مرتبہ دھونا چاہئے ( بخاری و مسلم) اور مسلم کی ایک روایت کے یہ الفاظ ہیں کہ تم میں سے جس کے برتن سے کتا پانی پی لے اس (برتن) کو پاک کرنے کی صورت یہ ہے اسے سات مرتبہ دھو ڈالے اور پہلی مرتبہ مٹی سے دھوئے مگر حضرت امام اعظم ابوحنیفہ (رح) اس کو بھی دوسری نجاستوں کے حکم میں شمار کرتے ہوئے یہ فرماتے ہیں کہ اس برتن کو صرف تین مرتبہ بغیر مٹی کے دھو ڈالنا کافی ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ حدیث میں سات مرتبہ دھونے کا جو حکم دیا جا رہا ہے وہ وجوب کے طریقے پر نہیں ہے بلکہ اختیار کے طور پر ہے، یا پھر یہ کہ سات مرتبہ دھونے کا یہ حکم ابتدائے اسلام میں تھا جو بعد میں منسوخ ہوگیا! وا اللہ اعلم۔ تشریح اکثر محدثین اور تینوں آئمہ کے مسلک یہ ہیں کہ اگر برتن میں کتا منہ ڈال دے یا کسی برتن سے پانی پی لے اور کھائے تو اس برتن کو سات مرتبہ دھونا چاہیے۔

460Mishkaat-al-Masabih

نجاستوں کے پاک کرنے کا بیان

وَعَنْہُ قَالَ قَامَ اَعْرَابِیٌّ فَبَالَ فِی الْمَسْجِدِفَتَنَاوَلَہُ النَّاسُ فَقَالَ لَھُمُ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم دَعُوْہُ وَھَرِےْقُوْا عَلٰی بَوْلِہٖ سَجْلًا مِّنْ مَّآءٍ اَوْ ذَنُوْبًا مِّنْ مَّآءٍ فَاِنَّمَا بُعِثْتُمْ مُےَسِّرِےْنَ وَلَمْ تُبْعَثُوْا مُعَسِّرِےْنَ ۔ (صحیح البخاری)

اور حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ (ایک دن) ایک دیہاتی نے مسجد میں کھڑے ہو کر پیشاب کردیا (یہ دیکھ کر) لوگ اس کے پیچھے پڑنے لگے تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا اسے چھوڑ دو اور ایک ڈول میں پانی اس کے پیشاب پر بہادو اور آپ ﷺ نے فرمایا تم لوگ آسانی کرنے والے بنا کر بھیجے گئے ہو تنگی کرنے والے نہیں)۔ (الصحیح البخاری ) تشریح راوی کو شک ہو رہا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سجلا من ماء فرمایا ہے یا ذنوبا من ماء کے الفاظ فرمائے ہیں اسی لئے انہوں نے دونوں نقل کر دئیے ہیں سجل اور ذنوب دونوں کے معنی ڈول ہی کے ہیں لیکن ان کے استعمال میں تھوڑا سا فرق ہے وہ یہ کہ سجل تو اس ڈول کو کہتے ہیں جس میں پانی ہو خواہ پانی تھوڑا ہو یا زیادہ اور ذنوب پانی سے بھرے ہوئے ڈول کو کہتے ہیں۔ اس حدیث سے سرکار دو عالم ﷺ کی انتہائی شفقت و رحمت اور آپ ﷺ کے حلم و عفو کا اندازہ ہوتا ہے کہ آپ ﷺ اپنی امت پر کتنے مہربان اور شفیق تھے چناچہ نہ یہ کہ آپ ﷺ نے خود اس دیہاتی کی غلطی سے در گزر فرماتے ہوئے اس کو کچھ نہ کہا بلکہ جب صحابہ کرام ؓ نے اسے برا بھلا کہا آپ ﷺ نے انہیں اس بات کا احساس دلایا کہ تم جس پیغمبر کے رفیق و ساتھی اور جس امت کے فرد ہو اس کی مابہ الامتیاز خصوصیت ہی یہ ہے کہ دوسرے لوگوں کو سختی و پریشانی میں مبتلا نہ کیا جائے اور نہ کسی کی غلطی پر جو عدم واقفیت کی بناء پر سرزد ہوجائے برا بھلا کہا جائے چناچہ آپ ﷺ کے اس ارشاد سے امت کے لئے یہ تعلیم مقصود ہے کہ لوگوں کو کسی دشواری اور سختی میں نہ ڈالا جائے اور نہ ایسا کوئی معاملہ کیا جائے جس سے دوسرا آدمی بددل ہوجائے اور اپنے آپ کو کسی گھٹن اور تنگی میں محسوس کرے۔ یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اگر زمین پر کوئی نجاست و گندگی پڑی ہوئی ہو تو اس نجاست پر زیادہ مقدار میں پانی ڈالنے یا نجاست کو بہا دینے سے زمین پاک ہوجاتی ہے۔ یہ حدیث اس پر بھی دلالت کرتی ہے کہ نجاست کا دھو وں اگر متغیر نہ ہو تو پاک ہے۔ اگر وہ کسی دوسرے کپڑے، بدن اور زمین پر یا کسی بوریے وغیرہ سے چھن کر زمین پر گرے تو یہ چیزیں ناپاک نہیں ہوں گی اس مسئلے میں علماء کا اختلاف ہے مگر مختار اور معتمد قول یہ ہے کہ دھو ون اگر نجاست کی جگہ اس وقت گرے جب وہ نجاست کے زائل ہونے کی وجہ سے پاک ہوچکی ہو تو اس شکل میں وہ پاک ہوگا اور وہ دھو ون جو نجاست کی جگہ سے پاک ہونے سے پہلے جدا ہوا وہ ناپاک ہوگا اور اگر دھو ون متغیر ہوجائے بایں طور کہ پانی کے رنگ، مزے اور بو میں تبدیلی آجائے تو وہ بالاتفاق ناپاک ہے۔ علامہ طیبی شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ یہ حدیث اس بات کی وضاحت کر رہی ہے کہ اگر زمین کسی نجاست کی وجہ سے ناپاک ہوجائے تو وہ خشک ہونے سے پاک نہیں ہوتی یعنی وہ جگہ پانی بہا کر نجاست کو زائل کردینے ہی سے پاک ہوگی اور اس جگہ کو کھرچ ڈالنا یا وہاں سے مٹی کھود کر اٹھا لینا ضروری نہیں ہے۔ مگر امام اعظم ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک خشک ہونے سے زمین پاک ہوجاتی ہے اور اگر کوئی چاہے کہ خشک ہونے سے پہلے ہی زمین پاک ہوجائے تو وہاں سے مٹی کھرچ کر اٹھا دی جائے تاکہ وہ حصہ پاک ہوجائے۔ علماء حنفیہ (رح) اس حدیث کی یہ تاویل کرتے ہیں کہ اس حدیث سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ لوگوں نے مسجد کی زمین کے اس حصہ کے جہاں خشک ہوجانے سے پہلی جگہ جہاں دیہاتی نے پیشاب کردیا تھا نماز پڑھ لی گی جس کی بناء پر حکم لگا دیا گیا کہ ناپاک زمین بغیر پانی بہائے ہوئے پاک نہیں ہوتی، جہاں تک سوال پانی ڈالنے کا ہے اس کی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس وقت نجاست کی جگہ پانی بہانے کا حکم اس لئے دیا ہوگا کہ پیشاب کی نجاست میں کچھ کمی ہوجائے اور پیشاب کا رنگ اور اس کی بدبو پانی بہانے کی وجہ سے ختم ہوجائے، مگر زمین کا وہ حصہ خشک ہونے کے بعد ہی پاک ہوا ہوگا۔ اس سلسلے میں ملا علی قاری (رح) نے مشکوۃ کی شرح مرقات میں اور بہت سی دلیلیں لکھی ہیں جو وہاں دیکھی جاسکتی ہیں۔