وَعَنْ اُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ قَالَ اِنَّمَا کَانَ الْمَآءُ مِنَ الْمَآءِ رُخْصَۃً فِی اَوَّلِ الْاِسْلَامِ ثُمَّ نُھِیَ عَنْھَا۔(رواہ ترمذی و ابوداؤد والدارمی)
حضرت ابی بن کعب ؓ فرماتے ہیں کہ یہ حکم، غسل انزال کے بعد ہی واجب ہوتا ہے ابتدائے اسلام میں آسانی کی وجہ سے تھا، پھر اسے منع فرما دیا گیا (یعنی یہ حکم منسوخ قرار دے دیا گیا۔ ( جامع ترمذی، سنن ابوداؤد، دارمی)
تشریح
اس باب کی حدیث نمبر ٢ کی تشریح میں حضرت ابی بن کعب ؓ کی اس روایت کا ذکر آچکا ہے، وہاں بھی یہ بتایا گیا تھا کہ ابتداء اسلام میں یہ حکم تھا کہ غسل اسی صورت میں واجب ہوگا جب کہ جماع کے وقت انزال بھی ہو یعنی اس وقت بغیر انزال کے محض ادخال ذکر سے ہی غسل واجب نہیں ہوتا تھا، چناچہ حضرت ابی بن کعب ؓ یہی فرما رہے ہیں کہ یہ حکم (جو اس باب کی حدیث ٢ میں گزرا ہے) پہلے تھا، اب منسوخ ہوگیا ہے اور اب یہ حکم ہوگیا ہے کہ محض جماع (ادخال ذکر) سے غسل واجب ہوجائے گا، خواہ انزال ہو یا نہ ہو۔
وَعَنْ عَلِیٍّ قَالَ جَآءَ رَجُلٌ اِلَی النَّبِیٍّ صلی اللہ علیہ وسلم فَقَالَ اِنِّی اغْتَسَلْتُ مِنَ الْجَنَابَۃِ وَصَلَّیْتُ الْفَجْرَ فَرَاَیْتُ قَدْرَ مَوْضِعِ الظَّفْرِ لَمْ یُصِبْہُ الْمَآءُ فَقَالَ رَسُوْلَ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم لَوْ کُنْتَ مَسَحْتَ عَلَیْہِ بِیَدِکَ اَجْزَأَکَ۔ (رواہ ابن ماجۃ)
اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی سرکار دو عالم ﷺ کے خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میں نے غسل جنابت کیا اور صبح کی نماز پڑھ لی، پھر میں نے دیکھا کہ (بدن پر) ناخن کے برابر جگہ خشک رہ گئی کہ وہاں) پانی نہیں پہنچا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر تم (اس جگہ اپنے بھیگے) ہاتھ سے مسح بھی کرلیتے تو کافی ہوجاتا۔ (سنن ابن ماجہ)
تشریح
آپ کے جواب کا مطلب یہ ہے کہ اگر تم غسل کے وقت اس جگہ جو خشک رہ گئی تھی بھیگا ہوا ہاتھ پھیر لیتے یا اسے معمولی طور پر دھو دیتے تو یہ کافی ہوجاتا اور تمہارا غسل پورا ہوجاتا۔ اور اگر تمہیں اس جگہ خشکی کا احساس کچھ عرصہ کے بعد ہوا تھا تو تمہیں چاہئے تھا کہ اس جگہ کو دھو لیتے خواہ معمولی طور پر ہی کیوں نہ ہوتا اور جو نماز پڑھ لی تھی اس کی قضا ادا کرتا۔
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ کَانَتِ الصَّلَاۃُ خَمْسِیْنَ وَالْغُسْلُ مِنَ الْجَنَابَۃِ سَبْعَ مَرَّاتٍ وَغَسْلُ الْبَوْلِ مِنَ الثَّوْبِ سَبْعَ مَرَّاتٍ فَلَمْ یَزَلْ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم یَسْأَلُ حَتّٰی جُعِلَتِ الصَّلَاۃُ خَمْسًا وَغُسْلُ الْجَنَابَۃِ مَرَّۃً وَغُسْلُ الثَّوْبِ مِنَ الْبَوْلِ مَرَّۃً۔ (رواہ ابوداؤد)
اور حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ (پہلے) پچاس نمازیں فرض ہوئیں تھیں، نیز جنابت (ناپاکی) سے نہانا اور کپڑے پر سے پیشاب دھونا سات سات مرتبہ (فرض ہوا تھا) پھر رسول اللہ ﷺ متواتر ( اللہ تعالیٰ سے ان میں تخفیف کی دعا مانگتے رہے، یہاں تک کہ نمازیں تو پانچ فرض رہ گئیں اور جنابت سے نہانا اور کپڑے پر سے پیشاب کا دھونا ایک ایک مرتبہ رہ گیا۔ (ابوداؤد)
تشریح
سرکار دو عالم ﷺ نے جب روحانی اور جسمانی بلندیوں کی تمام منازل کو طے فرما کر شب معراج میں ذات حق جل مجدہ کی قربت حقیقی کا شرف حاصل فرمایا تو اس مقدس اور انسانی زندگی کی سب سے بڑی سعادت و رفعت کی یادگار کے طور پر بارگاہ حق میں جل مجدہ کی طرف سے رسول پاک ﷺ کے توسط سے بندوں کے لئے نماز کا تحفہ عنایت فرمایا گیا ہے جسے معراج رسول اللہ ﷺ کی اس عظیم سعادت کی مناسبت سے معراج مومنین کہا گیا ہے۔ نماز چونکہ تمام عبادات الہٰی میں اپنے اجر وثواب اور اپنی عظمت و اہمیت کے اعتبار سے بندوں کے لئے سعادت و نیک بختی اور رضائے مولیٰ کے حصول کا سب سے بڑا ذریعہ ہے اس لئے کہ اس عظیم اور مقدس فریضہ کے ذریعہ اللہ کے نیک اور اطاعت گزار بندے زیادہ سے زیادہ سعادت نیک بختی کی دولت سے اپنے دامن مالا مال کرسکیں اور دن و رات میں پچاس نمازیں فرض کی گئیں۔ ظاہر ہے کہ پچاس نمازوں کے فریضے کا یہ تحفہ بندوں کی سعادت و نیک بختی کے اعتبار سے خواہ کتنی ہی اہمیت و عظمت کا حامل کیوں نہ ہو مگر سوال یہ تھا کہ انسان کے قویٰ اور ذہن و فکر اس عظیم فریضے کی ادائیگی کا بار برداشت بھی کرسکیں گے؟ صدقے جائیے سرکار دو عالم ﷺ کی ذات اقدس اور آپ ﷺ کی شان رحمت کے! کہ انسانی فطرت و مزاج کا یہ سب سے بڑا راز دان اور انسانیت کا یہ عظیم محسن اور عظیم شفیق راہبر ﷺ سمجھ لیتا ہے کہ انسان کے قوائے فکر و عمل اس عظیم بار کو کبھی برداشت نہیں کرسکتے اور اللہ کے بندے نماز کی اتنی بڑی تعداد کی ادائیگی پر قادر نہیں ہوسکتے۔ لہٰذا آپ ﷺ نے سوچا کہ اگر آج پچاس نمازیں فرض ہو رہی ہیں تو کل پوری مخلوق زبردست اخروی خسران اور روحانی اذیت میں مبتلاء ہوجائے گی کیونکہ پچاس نمازیں ادا ہوں گی نہیں، جس کا نتیجہ حکم الٰہی کی نافرمانی کی بنا پر عذاب کے علاوہ اور کیا ہوسکتا ہے؟ چناچہ اس وقت آپ ﷺ اپنی امت پر انتہائی شفقت و محبت کا معاملہ فرماتے ہیں اور بار گاہ الٰہی میں نماز کی اس تعداد میں تخفیف چاہتے ہیں، پھر ادھر سے بھی اپنے حبیب ﷺ کی درخواست کو شرف قبولیت بخشا جاتا ہے اور اس میں کمی کردی جاتی ہے، مگر آپ ﷺ اس سے بھی مطمن نہیں ہوتے تو مزید تخفیف کی درخواست پیش کرتے ہیں جب کچھ اور تخفیف ہوتی ہے تو آپ اسے بھی زیادہ اور امت کے حق میں مالایطاق سمجھتے ہوئے کمی چاہتے ہیں یہاں تک کہ درخواست اور قبولیت کا یہ سلسلہ پانچ پر آکر ختم ہوجاتا ہے اور پانچ نمازیں فرض قرار دے دی جاتی ہیں۔ چنانچہ اس حدیث میں اسی طرف اشارہ دیا جا رہا ہے کہ شب معراج میں تو نمازیں پچاس ہی فرض ہوئیں تھیں مگر رسول اللہ ﷺ نے امت کے حق میں انتہائی شفقت و رحمت کے پیش نظر یہ جان کر کہ امت سے اتنی نمازیں ادا نہیں ہوں گی اس تعداد میں تخفیف کرائی جب بھی آپ تخفیف کی درخواست پیش کرتے پانچ نمازیں کم کردی جاتیں یہاں تک کہ آخر میں پانچ نمازیں رہ گئیں۔ اسی طرح پہلے ناپاکی دور کرنے کے لئے سات مرتبہ غسل کرنے کا حکم تھا مگر بعد میں اسے بھی منسوخ قرار دیدیا گیا اور صرف ایک مرتبہ غسل واجب کیا گیا یعنی پورے دن پر ایک مرتبہ پانی بہانے سے فرض ادا ہوجاتا ہے مگر مسنون طریقہ یہ ہے کہ تین مرتبہ جسم پر پانی بہایا جائے، صحیح البخاری و صحیح مسلم میں اس سلسلہ میں جو حدیث منقول ہے اس میں صرف نماز کا ذکر ہے، غسل اور کپڑے سے پیشاب دھونے کا ذکر نہیں ہے مگر یہاں یہ ابوداؤد کی جو روایت نقل کی گئی ہے اس میں ان دونوں چیزوں کا بھی ذکر ہے چناچہ اس روایت کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ ضعیف ہے۔ بہر حال اس حدیث سے بظاہر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ اگر کپڑے پر پیشاب اور غلاظت وغیرہ لگ جائے تو اسے صرف ایک بار دھولینا ہی کافی ہے چناچہ امام شافعی (رح) کا مسلک یہی ہے کہ کپڑا ایک مرتبہ دھو لینے سے پاک ہوجاتا ہے، لیکن علمائے حنفیہ فرماتے ہیں کہ اگر کسی کپڑے پر پیشاب اور غلاظت لگ جائے تو اسے اتنا دھویا جائے کہ اس کی پاکی کا ظن غالب حاصل ہوجائے اور اس کی حد یہ مقرر کی ہے کہ تین مرتبہ دھویا جائے اور ہر مرتبہ کپڑے کو نچوڑا جائے کیونکہ تین مرتبہ دھو لینے سے پاکی کا ظن غالب حاصل ہوتا ہے۔ اس موقع پر تفصیل بتا دینی مناسب ہے کہ غسل کن کن مواقع پر واجب اور مستحب ہوجاتا ہے۔ (١) غسل اس شکل میں فرض ہوتا ہے کہ منی کود کر نکلے اور ریڑھ کی ہڈی سے جدا ہونے کے وقت شہوت بھی ہو اگرچہ باہر نکلتے وقت شہوت یاد نہ ہو جس کی وجہ سے منی نکلی ہے۔ (٢) اگر کوئی آدمی سو کر اٹھے اور اپنے بستر وغیرہ پر منی کی تری پائے خواہ وہ مذی ہی کیوں نہ ہو تو غسل واجب ہوتا ہے اگرچہ ایسا کوئی خواب یاد نہ ہو جس کی وجہ سے منی نکلی ہے۔ (٣) اگر زندہ عورت کے آگے یا پیچھے ستر میں ذکر داخل کیا جائے یا لواطت کی جائے تو دونوں یعنی فاعل و مفعول پر غسل فرض ہوگا خواہ انزال نہ ہو۔ (٤) حیض اور نفاس ختم ہونے کے بعد غسل فرض ہوتا ہے۔ (٥) اگر چو پائے یا مردہ کے آگے یا پیچھے کے حصہ میں ذکر داخل کیا تو اگر انزال ہوگا تو غسل واجب ہوگا ورنہ نہیں۔ (٦) مذی اور ودی نکلنے سے غسل واجب نہیں ہوتا، اسی طرح اگر محض جواب یاد ہو اور بستر وغیرہ پر منی کی تری یا اس کی کوئی علامت موجود نہ ہو تو غسل واجب نہیں ہوتا۔ (٧) اگر کوئی غیر مسلم اس حال میں مسلمان ہوا کہ وہ ناپاکی کی حالت میں تھا تو اس پر غسل واجب ہوگا اور اگر ناپاکی کی حالت میں نہیں تھا تو واجب نہیں ہوگا البتہ مستحب ہوگا۔ (٨) زندوں پر میت کو غسل دینا واجب کفایہ ہے، یعنی اگر کچھ لوگ نہلا دیں تو سب بری الذمہ ہوجاتے ہیں، ورنہ سب گناہ گار ہوتے ہیں۔ (٩) جمعہ عید ین، احرام اور عرفہ کے لئے غسل کرنا سنت ہے۔ (١٠) محدث (بےوضو) کو قرآن کریم چھونا ناجائز ہے، ہاں اگر قرآن کریم جزدان یا کسی کپڑے میں لپٹا ہوا ہو تو جائز ہے اور اگر قرآن کی جلد پر محض چولی چڑھی ہوئی ہو تو چھونا درست نہیں ہے۔ (١١) اگر کوئی آدمی بےوضو ہے تو اسے کرتے وغیرہ کے آستین یا کسی ایسے کپڑے کے ساتھ جو اس کے بدن پر ہے (مثلاً چادر وغیرہ اوڑھ رکھی ہو تو) قرآن کریم کو پکڑنا اور چھونا مکروہ ہے، ہاں اگر اس کپڑے کو اپنے بدن سے الگ کر کے پھر اس کی ساتھ قرآن کریم کو پکڑے اور چھوئے تو جائز ہوگا۔ (١٢) بےوضو کو تفسیر اور حدیث کی کتابوں کو چھونا مکروہ ہے لیکن آستین کے ساتھ چھونا متفقہ طور پر جائز ہے۔ (١٣) جس درہم (سکے) پر قرآن کی کوئی سورت لکھی ہو تو بےوضو کے لئے اسے چھونا جائز نہیں ہاں اگر وہ تھیلی وغیرہ میں ہو تو پھر جائز ہے۔ (١٤) جنبی کو مسجد میں داخل ہونا جائز نہیں ہے، اگر کوئی خاص ضرورت ہو تو داخل ہوسکتا ہے اسی طرح اس کے لئے قرآن پڑھنا خواہ ایک آیت سے کم ہی کیوں نہ ہونا جائز ہے البتہ دعا اور ثنا کے طور پر پڑھ سکتا ہے، ایسے ہی جنبی کا ذکر کرنا تسبیح پڑھنی اور دعا کرنی جائز ہے، ان مسائل میں حیض اور نفاس والی عورتوں کا بھی وہی حکم ہے جو جنبی کا ہے۔ باب مخالطۃ الجنب ومایباح لہ جنبی آدمی سے ملنے جلنے اور جنبی کے لئے جو امور جائز ہیں ان کا بیان اس باب میں دو چیزوں سے متعلق احادیث ذکر کی جا رہی ہیں، پہلی چیز تو یہ ہے کہ جنبی آدمی (یعنی غسل جس پر واجب ہو) کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا، کلام کرنا، مصافحہ کرنا اور اس طرح اس کے ساتھ دوسرے معاملات کرنا جائز ہیں دوسری چیز یہ ہے کہ جنبی آدمی کے لئے کیا چیزیں جائز ہیں کہ وہ انہیں حالت ناپاکی میں کرسکتا ہے۔
عَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَص قَالَ لَقِےَنِیْ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم وَاَنَا جُنُبٌ فَاَخَذَ بِےَدِیْ فَمَشَےْتُ مَعَہُ حَتّٰی قَعَدَ فَانْسَلَلْتُ فَاَتَےْتُ الرَّحْلَ فَاغْتَسَلْتُ ثُمَّ جِئْتُ وَھُوَقَاعِدٌ فَقَالَ اَےْنَ کُنْتَ ےَا اَبَاھُرَےْرَۃَ ص فَقُلْتُ لَہُ فَقَالَ سُبْحَانَ اللّٰہِ اِنَّ الْمُؤْمِنَ لَا ےَنْجُسُ ھٰذَا لَفْظُ الْبُخَارِیِّ وَلِمُسْلِمٍ مَعْنَاہُ وَزَادَ بَعْدَ قَوْلِہٖ فَقُلْتُ لَہُ لَقَدْ لَقِےْتَنِیْ وَاَنَا جُنُبٌ فَکَرِھْتُ اَنْ اُجَالِسَکَ حَتّٰی اَغْتَسِلَ وَکَذَا الْبُخَارِیُّ فِیْ رَوَاےَۃٍ اُخْرٰی۔
حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ سے میری ملاقات ہوئی اور میں جنبی تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے میرا ہاتھ پکڑ لیا اور میں آپ کے ہمراہ ہو لیا۔ جب آپ بیٹھ گئے تو میں چپکے سے نکل کر اپنے مکان آیا اور نہا کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا۔ آپ ﷺ بیٹھے ہوئے تھے (مجھے دیکھ کر) آپ ﷺ نے فرمایا تم کہاں تھے؟ میں نے آپ ﷺ سے (اصل واقعہ) ذکر کیا (کہ میں ناپاک تھا اس لئے چلا گیا تھا) آپ ﷺ نے فرمایا سبحان اللہ! مومن ناپاک نہیں ہوتا۔ روایت کے الفاظ صحیح البخاری کے ہیں مسلم نے اس کے ہم معنی روایت نقل کی ہے اور ابوہریرہ ؓ کے یہ الفاظ مزید نقل کئے ہیں کہ (انہوں نے کہا) چونکہ میں حالت ناپاکی میں تھا اس لئے یہ مناسب معلوم نہ ہوا کہ آپ ﷺ کے پاس بیٹھوں جب تک کہ نہانہ لوں۔ اسی طرح صحیح البخاری کی ایک دوسری روایت میں بھی یہ الفاظ منقول ہیں۔
تشریح
حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جنابت نجاست حکمی ہے کہ شریعت نے اس کا حکم کیا ہے اور اس پر غسل کو واجب قرار دیا ہے، لہٰذا حالت جنابت میں آدمی حقیقۃً نجس نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ جنبی کا نہ تو جھوٹا ناپاک ہوتا ہے اور نہ اس کا پسینہ ہی ناپاک ہے، اس لئے جنبی کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا ملنا جلنا، مصافحہ کرنا، کلام کرنا یا اسی طرح اس کے ساتھ دوسرے معاملات کرنا جائز ہیں، اس میں کوئی قباحت نہیں ہے۔
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَرَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا قَالَ ذَکَرَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِص لِرَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اَنَّہُ تُصِےْبُہُ الْجَنَابَۃٌ مِنَ اللَّےْلِ فَقَالَ لَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم تَوَضَّأْ وَاغْسِلْ ذَکَرَکَ ثُمَّ نَمْ۔(صحیح البخاری و صحیح مسلم)
حضرت عمر فاروق ؓ راوی ہیں کہ حضرت عمر فاروق ؓ نے سرکار دو عالم ﷺ سے عرض کیا کہ مجھے رات کو جنابت ہوجاتی ہے (یعنی احتلام یا جماع سے غسل واجب ہوتا ہے) آپ ﷺ نے فرمایا کہ (اسی وقت) وضو کر کے عضو تناسل کو دھو کر سو جایا کرو۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
یہ وضو کرنا جنبی کے سونے کے لئے طہارت ہے، یعنی جنبی وضو کر کے سویا تو گویا وہ پاک سویا، لہٰذا اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جسے رات کو احتلام ہوجائے یا جماع سے فراغت ہو اور اس کے بعد سونے کا ارادہ یا بوجہ کسی ضرورت بےوقت غسل جنابت میں تاخیر کا خیال ہو تو ایسی شکل میں جنبی کا وضو کرلینا سنت ہے۔ اتنی بات اور سمجھ لیجئے کہ حدیث سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ صورت مذکورہ میں وضو کیا جائے اس کے بعد عضو تناسل کو دھویا جائے حالانکہ ایسا نہیں ہے بلکہ صحیح مسئلہ یہ ہے کہ پہلے عضو تناسل کو دھونا چاہئے اس کے بعد وضو کرنا چاہئے، اس شکل میں حدیث کی مذکورہ ترتیب کے بارے میں کہا جائے گا کہ یہاں وضو کرنا اس لئے مقدم کر کے ذکر کیا گیا ہے کہ وضو کا احترام اور اس کی تعظیم کا اظہار پیش نظر تھا۔
وَعَنْ عَائِشَۃَرَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا قَالَتْ کَانَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم اِذَا کَانَ جُنُبًا فَاَرَادَ اَنْ ےَّاُکَل اَوْ ےَنَامَ تَوَضَّأَ وُضُوْئَہُ لِلصَّلٰوۃِ۔(صحیح البخاری و صحیح مسلم)
اور حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ حالت ناپاکی میں ہوتے اور کھانا کھانے یا سونے کا ارادہ فرماتے تو نماز کے وضو کی طرح وضو کرلیتے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
وعَنْ اَبِیْ سَعِےْدٍالْخُدْرِیِّ ص قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اِذَا اَتٰی اَحَدُکُمْ اَھْلَہُ ثُمَّ اَرَادَ اَنْ ےَّعُوْدَ فَلْےَتَوَضَّاْ بَےْنَھُمَا وُضُوْئً۔(صحیح مسلم)
حضرت ابوسعید خدری ؓ فرماتے ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی اپنی بیوی کے پاس آئے (یعنی صحبت کرے) اور پھر اس کے پاس آنے کا ( یعنی دوبارہ صحبت کرنے کا) ارادہ کرے تو اسے چاہئے کہ دونوں کے درمیان وضو کرلے۔ (صحیح مسلم)
تشریح
ابن مالک (رح) فرماتے ہیں کہ اگر کوئی آدمی اپنی بیوی سے دو مرتبہ صحبت کرے اور دونوں مرتبہ کے درمیان وضو کرے تو دو فائدے ہیں۔ اول تو یہ کہ اس پاکیزگی اور طہارت حاصل ہوتی ہے، دوسری یہ کہ نشاط اور لذت زیادہ ہوجاتی ہے۔ بہر حال اس حدیث سے اور اس سے پہلی حدیث سے بھی معلوم ہوا کہ جنبی کے لئے یہ مستحب ہے کہ وہ حالت ناپاکی میں اگر سونے اور کھانے پینے کا یا دو بارہ جماع کرنے کا ارادہ کرے تو اپنے عضو تناسل کو دھو کر وضو کرلے۔ بعض علماء کرام یہ فرماتے ہیں کہ جنبی کے کھانے پینے کے سلسلے میں ان احادیث میں جس وضو کا ذکر ہے، اس سے مراد حقیقۃً وضو نہیں ہے بلکہ اس کا مقصدیہ ہے کہ ایسے وقت میں ہاتھ دھو لئے جائیں اور یہی رائے جمہور علماء کرام کی ہے کیونکہ سنن نسائی کی روایت میں اس مراد کی صراحت بھی موجود ہے۔ لیکن مذکورہ بالا دونوں روایتوں سے تو بصراحت یہ معلوم ہوتا ہے کہ حقیقت میں نماز کے وضو کی طرح وضو کیا جائے، لہٰذا اب ان روایتوں میں تطبیق پیدا کرنے کے لئے یہی کہا جائے گا کہ آنحضور ﷺ ایسے مواقع پر کبھی کبھی اختصار کے طور پر محض ہاتھ ہی دھو لینے کو کافی سمجھتے تھے۔ مگر اکثر و بیشتر آپ ﷺ مکمل وضو فرماتے تھے۔
وعَنْ اَنَسٍ ص قَالَ کَانَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم ےَطُوْفُ عَلٰی نِسَآئِہٖ بِغُسْلٍ وَّاحِدٍ۔(صحیح مسلم)
اور حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ ایک غسل کے ساتھ اپنی ازواج مطہرات سے صحبت کرلیا کرتے تھے۔ (صحیح مسلم)
تشریح
حدیث کا مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک شب میں اپنی تمام ازواج مطہرات سے صحبت کیا کرتے تھے اور غسل ایک ہی مرتبہ آخر میں فرماتے تھے یہ نہیں تھا کہ ایک بیوی سے صحبت کے بعد پہلے غسل کرتے ہوں، پھر بعد میں دوسری بیوی کے پاس جاتے ہوں۔ ہاں اس کا احتمال ہوسکتا ہے کہ آپ ﷺ درمیان میں وضو فرما لیتے ہوں گے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ بیان جواز کے لئے آپ ﷺ نے وضو کو ترک کردیا ہو۔ اس موقع پر ایک ہلکا سے اعتراض ہوسکتا ہے وہ یہ کہ قاعدہ شرعی کے مطابق اپنی بیویوں کے درمیان تقسیم کا اقل درجہ ایک رات ہے۔ یعنی اگر کسی آدمی کے پاس چند بیویاں ہوں تو ان کے درمیان باری مقرر کرنے کا قاعدہ یہ ہے کہ ہر ایک بیوی کے یہاں کم از کم ایک پوری شب قیام کیا جائے، لہٰذا رسول اللہ ﷺ ایک ہی رات میں تمام ازواج مطہرات کے پاس کس طرح جایا کرتے تھے؟ اس کا جواب یہ کہ رسول اللہ ﷺ کی ذات کے لئے باری مقرر کرنے کا یہ وجوب مختلف فیہ ہے، چناچہ حضرت ابوسعید ؓ فرماتے ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ پر باری مقرر کرنا واجب نہیں تھا۔ بلکہ آپ ﷺ نے از خود راہ احسان باری مقرر فرما رکھی تھی مگر اکثر علماء کا قول یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ پر بھی باری مقرر کرنا واجب تھا۔ لیکن آپ ﷺ اپنی تمام ازواج مطہرات کے پاس ایک ہی شب میں خود ان کی رضا و خوشی سے جایا کرتے تھے لہٰذا اس پر کوئی اشکال پیدا نہیں ہوسکتا۔
وَعَنْ عَائِشَۃَص قَالَتْ کَانَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلمیَذْکُرُ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ عَلٰی کُلِّ اَحْیَانِہٖ۔رواہ صحیح مسلم
اور حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ ہر وقت یاد الہٰی میں مصروف رہا کرتے تھے۔ (صحیح مسلم اور حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ کی حدیث (جو صاحب مصابیح نے اس موقع پر نقل کی ہے) ہم انشاء اللہ کتاب الا طعمہ میں ذکر کریں گے )
تشریح
حضرت عائشہ ؓ کے اس ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کسی حالت میں ذکر الٰہی اور یاد الہٰی سے غافل نہیں ہوتے تھے آپ ﷺ خواہ حالت ناپاکی میں ہوتے یا بےوضو ہوتے اور یا ان کے علاوہ کسی بھی حالت میں ہوتے اللہ رب العزت کی یاد میں ہمیشہ مشغول رہتے۔ بعض علماء نے لکھا ہے کہ یہاں ذکر سے مراد ذکر قلبی اور قدرت الٰہی کا تفکر ہے۔ یعنی آپ ﷺ کا قلب مبارک ہمہ وقت ذکر الہٰی میں مشغول اور پروردگار کی قدرتوں پر غور و فکر کرنے میں منہمک رہتا تھا۔
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ اغْتَسَلَ بَعْضُ اَزْوَاجِ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم فِی جَفْنَۃٍ فَاَرَا دَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَنْ یَّتَوَضَا مِنْہ، فَقَالَتْ یَا رَسُوْلَ اﷲِ اِنِّی کُنْتُ جُنُبًا فَقَالَ اِنَّ الْمَآءَ لَاَ یَجْنِبُ رَوَاہُ التِّرْمَذِیُّ وَاَبُوْدَاؤدُ وَابْنُ مَاجَۃَ وَرَوَی الدَّارِمِیُّ نَحْوَہ، وَفِی شَرْحِ السُّنَّۃِ عَنْہُ عَنْ مَیْمُوْنَۃَ بِلَفْظِ الْمَصَابِیْحِ۔
حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ (ایک دن) سرکار دو عالم ﷺ کی زوجہ مطہرہ نے لگن سے (یعنی لگن میں بھرے ہوئے پانی سے) چلو لے کر غسل کیا۔ جب رسول اللہ ﷺ نے اسی (لگن میں بچے ہوئے) پانی سے وضو کرنے کا ارادہ فرمایا تو! انہوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و سلم) میں جنبی تھی (اور میں نے اس سے غسل کیا ہے) آپ ﷺ نے فرمایا پانی تو جنبی نہیں ہوتا۔ (یعنی جنبی کے نہانے سے یا اس کے کسی عضو کے پڑنے سے پانی نا پاک نہیں ہوتا) (جامع ترمذی، سنن ابوداؤد) اور دارمی نے بھی ایسی ہی روایت نقل کی ہے نیز شرح السنۃ میں عبداللہ ابن عباس ؓ سے اور انہوں نے حضرت میمونہ ؓ سے مصابیح کے ہم الفاظ روایت نقل کی ہے۔
تشریح
اس حدیث سے تو بصراحت یہ معلوم ہوا کہ عورت کے غسل کے بقیہ پانی سے مرد کا وضو کرنا جائز ہے لیکن اسی باب کی تیسری فصل میں ایک حدیث (نمبر ٢) آرہی ہے جس میں منقول کہ رسول اللہ ﷺ نے عورت کے غسل کے بقیہ پانی سے مرد کو وضو کرنے سے منع فرمایا ہے۔ لہٰذا ان دونوں روایتوں میں مطابقت کے لئے کہ کہا جائے گا کہ یہ حدیث تو جواز پر دلالت کرتی ہے اور وہ دوسری حدیث ترک کی اولیت پر دلالت کرتی ہے، یعنی اگر کوئی مرد عورت کے غسل کے بقیہ پانی سے وضو کرنا چاہئے تو اس حدیث کی رو سے اس کا وضو جائز تو ہوجائے گا لیکن دوسری حدیث کے پیش نظر اس پانی سے وضو نہ کرنا ہی بہتر اور اولیٰ ہوگا۔
وَعَنْ عَآئِشَۃَ قَالَتْ کَانَ رَسُوْلَ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَغْتَسِلُ مِنَ الْجَنَابَۃِ ثُمَّ یَسْتَدْ فِئُ بِیْ قَبْلَ اَنْ اَغْتَسِلَ ۔ ( رَوَاہُ ابْنُ مَاجَۃَ وَرَوَی التِّرِمِذِیُّ نَحْوَہ، وَفِی شَرْحِ السُّنَّۃِ بِلَفْظِ الْمَصَابِیْحِ)
اور حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ (میرے ساتھ) صحبت سے فراغت کے بعد غسل فرماتے، پھر میرے نہانے سے پہلے مجھ سے گرمی حاصل کرتے تھے۔ (سنن ابن ماجہ) اور امام ترمذی (رح) نے بھی ایسی ہی روایت نقل کی ہے نیز شرح السنۃ میں مصابیح کے ہم لفظ روایت منقول ہے)
تشریح
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کے ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ جب آپ ﷺ ہم بستری سے فارغ ہوتے تو مجھ سے پہلے ہی آپ ﷺ نہا لیتے تھے اور چونکہ سرد موسم میں نہانے کی وجہ سے ٹھنڈ محسوس ہوتی تھی اس لئے آپ ﷺ میرے پاس تشریف لاتے اور اپنے اعضاء مبارک میرے بدن سے چمٹا کر لیٹ جایا کرتے تھے تاکہ گرمی حاصل ہو۔ اس سے معلوم ہوا کہ جنبی کا بدن پاک ہوتا ہے لہٰذا اس کے ساتھ مل کر لیٹ جانے میں کچھ حرج نہیں ہے بلکہ جائز ہے۔
وَعَنْ عَلِیٍّ قَالَ کَانَ النَّبِیُّ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَخْرُجُ مِنَ الْخَلَاءِ فَیُقْرِئُنَا الْقُرْاٰنَ وَ یَاْ کُلُ مَعَنَا الَّلْحْمَ وَلَمْ یَکُنْ یَحْجُبُہ، اَوْ یَحْجُرُہ، عَنِ الْقُرْاٰنِ شَیْیءٌ لَیْسَ الْجَنَابَۃَ۔ (رَوَاہُ اَبُوْدَاؤدَ وَ النِّسَائِیُّ وَرَوَی ابْنُ مَاجَۃَ نَحْوَہ،)
اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ بیت الخلاء سے نکل کر وضو سے پہلے ہمیں قرآن کریم پڑھا دیا کرتے تھے اور (اسی وقت) ہمارے ساتھ گوشت کھالیا کرتے تھے۔ آپ ﷺ کو قرآن کریم پڑھنے سے سوائے جنابت کے کوئی چیز نہیں روکتی تھی۔ (سنن ابوداؤد، سنن نسائی) اور ابن ماجہ نے بھی ایسی ہی روایت نقل کی ہے۔
تشریح
اس حدیث سے دو مسئلوں کی وضاحت ہوتی ہے۔ اول تو یہ کہ بغیر وضو کے قرآن کریم پڑھنا جائز ہے مگر اس شرط کے ساتھ کہ آپ ہاتھوں سے قرآن کریم کو نہ چھوئے کیونکہ بغیر و ضو قرآن کریم کو چھونا ناجائز ہے۔
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُوْلَ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَا تَقْرَءُ الْحَائِضُ وَ لَا الْجُنُبُ شَیْئًا مِنَ الْقُرْاٰنِ۔ (رواہ الجامع ترمذی)
اور حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے فرمایا حائضہ (ایام والی عورت) اور جنبی قرآن کریم کا کچھ حصہ بھی نہیں پڑھیں۔ (جامع ترمذی )
تشریح
مطلب یہ ہے کہ جو عورت ایام حیض میں ہو یا جو آدمی حالت ناپاکی میں ہو وہ قرآن شریف بالکل نہ پڑھے یہاں تک کہ ایک آیت سے کم بھی قرآن کے الفاظ کی تلاوت نہ کرے چناچہ حضرت امام اعظم اور حضرت امام شافعی رحمہما اللہ تعالیٰ علیہ کا مسلک یہ ہے کہ حائضہ اور جنبی کو قرآن کریم کی تلاوت بالکل نہ کرنی چاہئے خواہ وہ ایک آیت سے کم ہی کیوں نہ ہو۔ مگر بعض علماء کرام کے ہاں حائضہ اور جنبی کا ایک آیت یا زیادہ حصہ کی تلاوت تو حرام ہے البتہ ایک آیت سے کم کی تلاوت حرام نہیں ہے۔ اگر حائضہ یا جنبی قرآن کریم کا کوئی حصہ تلاوت کے مقصد سے نہیں بلکہ شکر کے ارادے سے پڑھے تو یہ جائز ہے، مثلاً کوئی حائضہ یا جنبی کسی ایسے موقع پر جب کہ اللہ کا شکر ادا کرنا ہو کہے الحمد اللہ رب العالمین تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔
وَعَنْ عَآئِشَۃَ قَالَتْ قَالَ رَسُوْلَ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَجِّھُوْاھٰذِہِ الْبُیُوْتَ عَنِ الْمَسْجِدِ فَاِنِّی لَا اُحِلُّ الْمَسْجِدَ لِحَائِضِ وَلَا جُنُبٍ۔ (رواہ ابوداؤد)
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے فرمایا مکانوں کے یہ دروازے مسجد کی طرف سے پھیر دو کیونکہ حائضہ اور جنبی کا مسجد میں داخل ہونا (خواہ وہاں ٹھہرنے کے لئے ہو یا وہاں سے گزرنے کے لئے) جائز نہیں۔ (ابوداؤد)
تشریح
مسجد اللہ کا گھر ہونے کی وجہ سے ایک مقدس اور محترم جگہ ہے، اس پاک جگہ کی عظمت و احترام اور اس کے تقدس کا تقاضہ ہے کہ کوئی ایسا آدمی اس میں داخل نہ ہو جو حالت ناپاکی میں ہو۔ اس لئے آپ ﷺ نے حکم دیا کہ مسجد کی طرف (گھروں کو ایسے دروازے جن میں گزرنے کے لئے مسجد سے گزرنا پڑتا ہے ان) کے رخ تبدیل کر دئیے جائیں تاکہ جنبی اور حائضہ جو اپنے مکانوں میں جانے کے لئے مسجد سے گزرنے کے لئے مجبور ہیں اس شکل میں مسجد سے نہ گزر سکیں، حضرت امام شافعی اور امام مالک رحمہما اللہ تعالیٰ علیہ کا مسلک یہ ہے کہ اگر جنبی اور حائضہ کسی دوسری جگہ جانے کے لئے مسجد سے گزرنا چاہیں تو وہ گزر سکتے ہیں لیکن انہیں مسجد کے اندر بحالت ناپاکی بیٹھنا جائز نہیں ہے۔ مگر امام اعظم ابوحنیفہ (رح) کا مسلک یہ ہے کہ جس طرح جنبی اور حائضہ کو مسجد کے اندر ٹھہرنا ناجائز ہے اسی طرح انہیں مسجد کے اندر سے گزرنا بھی حرام ہے چناچہ یہ حدیث امام اعظم (رح) کے مسلک کی تائید کر رہی ہے۔ کیونکہ آپ ﷺ نے جنبی اور حائضہ کو مسجد میں داخل ہونے سے مطلقاً منع فرمایا ہے اس میں گزرنے یا ٹھہرنے کی کوئی قید نہیں ہے۔ لہٰذا اس عموم کا تقاضہ یہ ہے کہ جنبی اور حائضہ کو مطلقاً مسجد میں داخل ہونے سے روکا جائے خواہ وہ گزرنے کے لئے مسجد میں داخل ہوں یا وہاں ٹھہرنے کے لئے۔
وَعَنْ عَلِیٍّ قَالَ قَالَ رَسُوْلَ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِکَۃُ بَیْتًا فِیْہِ صُوْرَۃٌ وَلَا کَلْبٌ وَلَا جُنُبٌ۔ (رواہ ابوداؤد ونسائی )
اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے فرمایا جس گھر میں تصویر یا کتا یا جنبی ہو اس میں فرشتے داخل نہیں ہوتے۔ (سنن نسائی، سنن ابوداؤد)
تشریح
یہاں فرشتوں سے مراد رحمت کے فرشتے ہیں یعنی جس مکان میں یہ تینوں چیزیں ہوتی ہیں اس میں وہ فرشتے داخل نہیں ہوتے جو رحمت و برکت لاتے ہیں اور اللہ کا ذکر سننے کو آسمان سے اترتے ہیں۔ تصویر کا مسئلہ یہ ہے کہ تصویر اگر جاندار کی ہو اور بلند جگہ پر ہو مثلاً دیواروں پر آویزاں ہو، یا چھت پر لگی ہوئی ہو یا ایسے ہی پردوں پر تصویر بنی ہوئی ہوں تو اس سے رحمت کے فرشتے گھر میں داخل نہیں ہوتے۔ ہاں اگر تصویر بچھونے پر ہو یا اسی طرح پاؤں رکھنے کی جگہ پر ہو تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ اگر تصویر غیر جاندار کی ہو مثلاً درخت و پہاڑ کی ہو یا کسی عمارت وغیرہ کی ہو تو ان کو رکھنا جائز ہے یا تصویر تو جاندار کی ہو مگر اس کا سر کٹا ہوا ہو تو یہ بھی جائز ہے اسی طرح جو تصویر ایسی جگہ ہو جہاں روندی جاتی ہو مثلاً فرش پر ہو یا تکیہ وغیرہ پر ہو تو وہ بھی مکان میں فرشتوں کے دخول کو مانع نہیں ہے۔ اسی طرح نابالغ لڑکیوں کے لئے گھروں میں گڑیاں رکھنا بھی جائز ہے۔ ایسے سکے جن پر تصویریں بنی ہوئیں ہوں جیسے کہ آج کل سکے یا نوٹ چل رہے ہیں ان کے بارے میں کہا جائے گا کہ اس حدیث کے الفاظ سے تو یہی ثابت ہوتا ہے کہ اگر یہ گھر میں ہوں تو وہاں رحمت کے فرشتے داخل نہیں ہوتے مگر مسئلہ یہ ہے کہ مکان میں ان کا رکھنا جائز ہے، یہاں تک کہ ان کو اپنے پاس رکھنا خواہ پگڑی ہی میں رکھے جائز ہے کیونکہ اگر پچھلے تمام علماء ایسے سکوں کو پاس رکھتے رہے ہیں اور ان کالین دین کرتے رہے ہیں اور کسی عالم نے بھی ان کے رکھنے کو منع نہیں فرمایا ہے۔ کتوں کا مسئلہ یہ ہے کہ اگر کسی مکان میں کتے ازراہ شوق و فیشن ہوں گے تو یا جائز نہیں ہوگا ہاں اگر ضرورت اور حاجت کی وجہ سے مثلاً شکار کے لئے ہوں یا کھیتوں اور مویشیوں کی حفاظت کے لئے ہوں تو جائز ہے اور ان کا پالنا درست ہے۔ جنبی سے مراد ہر جنبی نہیں ہے بلکہ وہ جنبی ہے جسے غسل جنابت میں سستی اور کاہلی کی بنا پر تاخیر کرنے کی عادت ہو یعنی وہ غسل کرنے میں اتنی ہی تاخیر کرتا ہو کہ نماز کا وقت بھی نکل جاتا ہو یا پھر وہ جنبی مراد ہے جو وضو نہ کرلیتا ہو۔ (دیکھئے باب کی حدیث نمبر ٢)
وَعَنْ عَمَّارِ بْنِ یَا سِرٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلَ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَۃٌ لَا تَقْرَ بُھُمُ الْمَلَائِکَۃُ جِیْفَۃُ الْکَافِرِ وَالْمُتَضَمِّخُ بِالْخُلُوْقِ وَالْجُنُبُ اِلَّا اَنْ یَتَوَضَّأَ۔ (رواہ ابواؤد)
اور حضرت عمار بن یاسر ؓ (اسم گرامی عمار بن یا سر اور کنیت ابوالیقطان ہے یہ ان لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے سب سے پہلے اسلام کی طرف سبقت کی تھی، ان کی والدہ سمیہ تھیں اور وہ پہلی خاتون تھیں جو اللہ عزو جل کی راہ میں شہید کی گئیں، یہ اور ان کی والدہ اور ان کے والد سب کے سب پہلے ایمان لانے والوں میں ہیں حضرت عمار کا شمار صحابہ کرام ؓ کی جماعت میں ہوتا ہے جو اسلام لانے کی وجہ سے ظلم و ستم کی ہر بھٹی میں ڈالے گئے مگر جب وہاں سے نکلے تو کندن ہو کر نکلے۔ حضرت عمار اس وقت اسلام لائے تھے جب کہ رسول اللہ ﷺ ارقم کے گھر میں پوشیدہ تھے۔ یہ اور حضرت صہیب بن سنان دونوں ساتھ ہی اسلام لائے تھے۔ حضرت عمار بن یا سر اللہ کی راہ میں بہت زیادہ ستائے گئے، یہاں تک کہ جب مشرکین مکہ انہیں مارتے مارتے تھک گئے اور یہ اپنے ایمان سے ایک قدم بھی پیچھے نہ ہٹتے تو انہیں آگ میں جلایا کرتے تھے اسی ثناء میں رسول اللہ ﷺ کا گزر ان کی طرف ہوا کرتا تو آپ انہیں آگ میں جلتا ہوا دیکھ کر اپنا دست مبارک ان کے اوپر پھیر کر فرمایا کرتے تھے کہ اے آگ! تو عمار پر ایسی ہی ٹھنڈی اور سلامتی والی ہوجا جسیے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر ہوئی تھی۔ جب آپ زخمی ہوئے تو انہوں نے یہ وصیت کی کہ مجھے انہی کپڑوں کے ساتھ دفن کرنا کیونکہ میں انہی کپڑوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے سامنے جاؤں گا، چناچہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے ان کو ان ہی کپڑوں میں دفن کیا۔ ربیع الاول ٣٧ ھ میں ٩٤ برس کی عمر میں جنگ صفین کے دوران آپ نے شہادت پائی۔ اسد الغابہ) راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے فرمایا۔ تین قسم کے لوگ ایسے ہیں کہ رحمت کے فرشتے ان کے قریب نہیں آتے۔ (١) کافر کا بدن (٢) خلوق کا ملنے والا (٣) جنبی جب تک کہ وضو نہ کرے۔ (سنن ابوداؤد)
تشریح
جیفہ سے مراد کافر کا بدن ہے خواہ وہ زندہ ہو یا مردہ، ویسے تو اصل میں جیفہ مردار کو کہتے ہیں ظاہر ہے کہ کافر بھی بمنزلہ مردار کے ہی ہوتا ہے کیونکہ وہ نجاست مثلا ًشراب اور سود وغیرہ سے پرہیز نہ کرنے کی وجہ سے نجس و ناپاک ہوتا ہے۔ خلوق ایک مرکب خوشبو کا نام ہے جو زعفران وغیرہ سے بنتی ہے اور چونکہ رنگ دار ہوتی ہے اس لئے عورتوں کی مشابہت کی وجہ سے مردوں کو اس کا لگانا ممنوع ہے صرف عورتیں اسے استعمال کرسکتی ہیں، اس لئے اگر کوئی مرد اسے لگا لیتا ہے تو رحمت کے فرشتے اس کے قریب بھی نہیں جاتے کیونکہ اس میں رعونیت پائی جاتی ہے۔ اور عورتوں سے مشابہت ہوتی ہے۔ دراصل اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ جو آدمی سنت کے خلاف کام کرتا ہے تو اگرچہ وہ بظاہر بازیب وزینت او خوشبو سے معطر ہوتا ہے نیز لوگوں میں صاحب عزت و احترام بھی ہوتا ہے مگر سنت کے خلاف عمل کی وجہ سے حقیقت میں وہ نجس اور کتے سے بھی زیادہ خسیس ہوتا ہے۔ جنبی کے حق میں آپ ﷺ کے ارشاد و تہدید اور زجر و توبیخ کے لئے ہے تاکہ جنبی غسل جنابت میں تاخیر نہ کریں کیونکہ اس سے جنبی رہنے کی عادت پڑجاتی ہے۔
وَعَنْ عَبْدِاﷲِ بْنِ اَبِی بَکْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِ و بْنِ حَزْمِ اَنَّ فِی الْکِتَابِ الَّذِی کَتَبَہُ رَسُوْلُ اﷲُ صلی اللہ علیہ وسلم لِعَمْرِ وْ بْنِ حَزْمٍ اَنْ لَّا یَمُسَّ الْقُرْاٰنَ اِلَّا طَاھِرٌ۔ (رواہ موطا امام مالک والدار قطنی)
اور حضرت عبدا اللہ بن ابی بکر بن محمد بن عمر و بن حزم (اسم گرامی عمرو بن حزم اور کنیت ابوضحاک، آپ انصاری ہیں سب سے پہلے غزوہ خندق میں شریک ہوئے ہیں رسول اللہ ﷺ نے انہیں (نواح یمن) میں اہل نجران پر عامل بنا کر بھیجا تھا اس وقت ان کی عمر صرف سترہ سال تھی بمقام مدینہ منورہ ٥١ ھ یا ٥٤ ھ میں آپ کا انتقال ہوا ہے)۔ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے جو ہدایت نامہ عمر و بن حزم کے لئے لکھا تھا اس میں یہ (حکم بھی) مرقوم تھا کہ قرآن کریم کو پاک لوگ ہی ہاتھ لگایا کریں۔ (مالک، دارقطنی)
تشریح
سرکار دو عالم ﷺ نے حضرت عمر و بن حزم کو نواح یمن کے کسی شہر کا عامل بنا کر بھیجا تھا اور ایک ہدایت نامہ لکھ کر انہیں دیا تھا جس میں فرائض اور صدقات و دیات وغیرہ کے احکام و مسائل کی تفصیل تحریر کی تھی۔ اسی مکتوب گرامی میں یہ حکم بھی تھا جسے راوی یہاں بیان کر رہے ہیں۔
وَعَنْ نَافِعٍ قَالَ انْطَلَقْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ فِیْ حَاجَۃٍ کَانَ مِنْ حَدِیْثِہٖ یَوْمَئِذٍ اَنْ قَالَ مَرَّ رَجُلٌ فِیْ سِکَّۃٍ مِنَ السِّکَکِ فَلَقِیَ رَسُوْلَ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَقَدْ خَرَجَ مِنْ غَآئِطٍ أَوْ بَوْلٍ فَلَمْ یَرُدَّ عَلَیْہِ حَتّٰی اِذَا کَادَ الرَّجُلُ اَنْ یَّتَوارَی فِی السِّکَّۃِ ضَرَبَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِیَدِہٖ عَلَی الْحَآئِطِ وَ مَسَحَ بِھِمَا وَجْھَہ، ثُمَّ ضَرَبَ ضَرْبَۃً اُخْرٰی فَمَسَحَ ذِرَاعَیْہِ ثُمَّ رَدَّ عَلَی الرَّجُلِ السَّلَام وَقَالَ اِنَّہ، لَمْ یَمْنَعْنِیْ اَنْ اَرُدَّ عَلَیْکَ السَّلَامَ اِلَّا اَنِّی لَمْ اَکُنْ عَلٰی طُھْرٍ۔ (رواہ ابوداؤد)
اور حضرت نافع (رح) فرماتے ہیں کہ (ایک دن) حضرت عبداللہ ابن عمر استنجے کے لئے جا رہے تھے میں بھی ان کے ہمراہ ہو لیا (پہلے تو) انہوں نے استنجاء کیا اور اس کے بعد انہوں نے اس روز یہ حدیث بیان کی کہ ایک آدمی کسی گلی محلہ میں جا رہا تھا اور سرکار دو عالم ﷺ پیشاب یا پاخانے سے فارغ ہو کر تشریف لا رہے تھے اس آدمی نے آپ ﷺ سے ملاقات کی اور سلام عرض کیا، رسول اللہ ﷺ نے سلام کا جواب نہیں دیا جب یہ آدمی (دوسرے) گلی محلے میں مڑنے لگا تب سرکار دو عالم ﷺ نے (تیمم کے لئے) اپنے دونوں ہاتھ دیوار پر مار کر منہ پر پھیرے پھر (دوسری مرتبہ) مار کر اپنے ہاتھوں پر کہنیوں تک پھیرے، اس کے بعد اس آدمی کے سلام کا جواب دیا اور فرمایا مجھے تمہارے سلام کا جواب دینے سے کسی چیز نے نہیں روکا تھا فقط یہ بات تھی کہ میں بےوضو تھا۔ (ابوداؤد)
تشریح
آپ ﷺ نے اس آدمی کے سلام کا جواب اس لئے نہیں دیا کہ دراصل سلام اللہ تبارک و تعالیٰ کا نام ہے گو کہ عام طور پر ایسے موقع پر سلام کے حقیقی معنی مراد نہیں لئے جاتے بلکہ اس سے سلامت کے معنی مراد ہوتے ہیں، مگر پھر آپ ﷺ نے اس کے اصل معنی کا احترام کرتے ہوئے بغیر وضو کے اللہ عزوجل کا نام لینا مناسب نہ سمجھا۔ اسی باب میں پہلے کچھ حدیثیں گزری ہیں جن سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ بیت الخلاء سے آکر بغیر وضو کے قرآن پڑھتے اور پڑھاتے تھے اور یہ کہ آپ ﷺ بغیر وضو کے ذکر اللہ کیا کرتے تھے۔ بظاہر وہ احادیث اور یہ حدیث آپس میں متعارض نظر آتی ہیں؟ اس تعارض کا دفعیہ یہ کہہ کر کیا جائے گا کہ آپ ﷺ کا بےوضو قرآن پڑھنا یا ذکر اللہ کرنا جیسے کہ پہلی حدیثوں میں گزرا رخصت (آسانی) پر عمل تھا۔ اور یہاں آپ ﷺ نے امت کی تعلیم کے لئے عزیمت (اولیٰ ) پر عمل فرمایا ہے۔ یعنی یہاں آپ ﷺ کا امت کو یہ بتانا مقصود ہے کہ بےوضو اللہ کا نام لینا جائز تو ہے مگر افضل اور اولیٰ یہی ہے کہ با وضو ذکر اللہ کیا جائے۔ اس حدیث سے دو چیزیں معلوم ہوئیں اوّل تو یہ کہ سلام کا جواب دینا واجب ہے۔ دوسری یہ کہ اگر کوئی آدمی کسی عذر کی بناء پر سلام کا جواب نہ دے سکے تو اس کے لئے مستحب ہے کہ وہ اس کے بعد اپنا وہ عذر جس کی وجہ سے وہ سلام کا جواب نہیں دے سکا، سلام کرنے والے کے سامنے بیان کر دے تاکہ اس کی طرف غرور وتکبر کی نسبت نہ کی جاسکے یعنی سلام کرنے والا یہ سوچے کہ اس نے غرور وتکبر کی بنا پر میرے سلام کا جواب نہیں دیا۔
وَعَنِ الْمُھَا جِرِ بْنِ قٌنْفُذٍ أَنَّہ، اَتَی النَّبِیَّ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَھُوَ یَبُوْلُ فَسَلَّمَ عَلَیْہِ فَلَمْ یَرُدَّ عَلَیْہِ حَتّٰی تَوَضَّأْ ثُمَّ اعْتَذَرَ اِلَیْہِ وَقَالَ اِنِّیْ کَرِھْتُ اَنْ اَذْکُرَ اﷲِ اِلَّا عَلٰی طُھْرٍرَوَاہُ اَبُوْدَاؤدَ وَرَوَی النَّسَائِیُّ اِلٰی قَوْلِہٖ حَتّٰی تَوَضَّأْ وَقَالَ فَلَمَّا تَوَضَّأَ رَدَّ عَلَیْہِ۔
اور حضرت مہاجر بن قنفذ ؓ ( حضرت مہاجر بن قنفذ قریشی تیمی ہیں کہا جاتا ہے کہ مہاجر اور قنفذ دونوں لقب ہیں اصل میں ان کا نام عمرو بن خلف ہے۔ آپ فتح مکہ کے دن اسلام لائے ہیں اور ہجرت کے بعد بصرہ میں سکونت اختیار کی اور وہیں انتقال ہوا۔ ( کے بارے میں مردی ہے کہ یہ (ایک مرتبہ) سرکار دو عالم ﷺ کی خدمت میں اس وقت حاضر ہوئے جب کہ آپ ﷺ پیشاب کر رہے تھے، انہوں نے سلام عرض کیا، رسول اللہ ﷺ نے جواب نہ دیا، یہاں تک کہ آپ ﷺ نے وضو فرمایا اور پھر یہ عذر بیان فرمایا کہ میں اسے مکروہ سمجھتا ہوں کہ بےوضو اللہ تعالیٰ کا نام ذکر کروں۔ (ابوداؤد) اور نسائی نے یہ روایت لفظ حتی توضاء (یہاں تک کہ آپ ﷺ نے وضو فرمایا) تک نقل کی ہے اور کہا کہ جب آپ ﷺ نے وضو فرمالیا تو سلام کا جواب دیا۔
تشریح
مکروہ کا مطلب یہ نہیں ہے کہ بےوضو اللہ کا نام لینا حرام ہے بلکہ اس ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ افضل اور بہتر یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا مقدس و مبارک نام با وضو لیا جائے، اگر کسی نے بغیر وضو اللہ کا نام لیا تو اس پر گناہ نہیں ہوگا۔
عَنْ اُمِّ سَلَمَۃ قَالَتْ کَانَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُجْنِبُ ثُمَّ یَنَا مُ ثُمَّ یَتَنَبَّہُ ثُمَّ یَنَامُ۔ (رواہ احمد بن حنبل)
حضرت ام سلمہ ؓ فرماتی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ حالت ناپاکی میں سوجایا کرتے اور پھر جاگتے اور سو جاتے۔ (مسند احمد بن حنبل)
تشریح
اسی باب کی حدیث نمبر ٣ میں گزر چکا ہے کہ جب آپ حالت جنابت میں سونے کا ارادہ فرماتے تو پہلے وضو فرما لیا کرتے تھے اس کے بعد سویا کرتے تھے، اس حدیث میں گو اس کی صراحت نہیں ہے کہ آپ ﷺ حالت جنابت میں سونے سے پہلے وضو فرماتے تھے مگر یہاں بھی مراد یہی ہے کہ آپ ﷺ وضو کرنے کے بعد ہی آرام فرماتے تھے۔ یا پھر یہ کہا جاسکتا ہے کہ آپ ﷺ کبھی کبھی بغیر وضو کے بھی بیان جواز کے لئے سوجایا کرتے تھے تاکہ اس سے یہ معلوم ہو کہ بغیر وضو بھی سو جانا جائز ہے مگر افضل اور بہتر یہی ہے کہ وضو کرنے کے بعد سویا جائے۔