وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی بْنِ حَبَّانَ قَالَ قُلْتُ لِعُبَیْدِ اﷲِ بْنِ عُمَرَ رَاَیْتُ وُضُوْءَ عَبْدِاﷲِ ابْنِ عُمَرَ لِکُلِّ صَلَاۃٍ طَاھِرًا کَانَ اَوْغَیْرَ طَاھِرٍ عَمَّنْ اَخَذَہُ فَقَالَ حَدَّثْہُ اَسْمَآءُ بِنْتُ زَیْدِ بْنِ الْخَطَّابِ اَنَّ عَبْدَاﷲِ بْنَ حَنْظَلَۃَ بْنِ اَبِی عَامِرِ الْغُسَیْلِ حَدَّثَھَا اَنَّ رَسُّولَ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلمکَانَ اُمِرَ بِالْوُضُوْءِ لِکُلِّ صَلَاۃٍ طَاھِرًا کَانَ اَوْغَیْرَ طَاھِرِ فَلَمَّا شَقَّ ذٰلِکَ عَلَی رَسُوْلِ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم اُمِرَ بِالسِّوَاکِ عِنْدَ کُلِّ صَلَاۃٍ وَوُضِعَ عَنْہُ الْوُضُوْءُ اِلَّا مِنْ حَدَثٍ قَالَ فَکَانَ عَبْدُاﷲِ یَرَی اَنَّ بِہٖ قُوَّۃً عَلَی ذٰلِکَ فَفَعَلَہ، حَتّٰی مَاتَ۔(راوہ مسند احمد بن حنبل)
اور حضرت محمد بن یحییٰ بن حبان (رح) فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عمر فاروق ؓ کے صاحبزادے حضرت عبیداللہ ؓ سے کہا کہ مجھے یہ بتائیے کہ کیا حضرت عبداللہ ابن عمر فاروق ؓ ہر نماز کے لئے وضو کرتے تھے خواہ وہ باوضو ہوں یا بےوضو اور انہوں نے یہ عمل کس سے حاصل کیا تھا؟ حضرت عبیداللہ نے کہا کہ حضرت عبداللہ بن عمر فاروق ؓ سے حضرت اسماء بنت زید بن خطاب ؓ نے یہ حدیث بیان کی کہ حضرت عبداللہ بن حنظلہ ابی عامر الغسیل ؓ نے ان سے یہ حدیث بیان کی کہ سرکار دو عالم ﷺ کو ہر نماز کا وضو کرنے کے لئے حکم دیا گیا تھا خواہ آپ ﷺ باوضو ہوں یا بےوضو جب آپ کے لئے یہ مشکل ہوا تو ہر نماز کے وقت مسواک کا حکم دیا گیا اور وضو کو موقوف کیا گیا (یعنی ہر نماز کے لئے تازہ وضو کرنا واجب نہ رہا، جب تک وضو ٹوٹ نہ جائے حضرت عبداللہ (رح) فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر فاروق ؓ کا یہ خیال تھا کہ مجھ میں ہر نماز کے لئے تازہ وضو کرنے کی قوت ہے۔ چناچہ انہوں نے اسی پر موت کے وقت تک عمل کیا۔ (مسند احمد بن حنبل)
تشریح
لفظ غسیل کے معنی ہیں نہلایا گیا یہ حضرت حنظلہ ؓ کی صفت ہے، حضرت حنظلہ ؓ کو غسیل اس لئے کہا جاتا ہے کہ انتقال کے بعد انہیں فرشتوں نے غسل دیا تھا۔ چناچہ حضرت عروہ ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے حنظلہ ؓ کی اہلیہ محترمہ سے پوچھا کہ ان کا کیا حال تھا؟ (یعنی جب وہ گھر سے نکلے تو کیا کام کر رہے تھے) انہوں نے جواب دیا کہ وہ حالت ناپاکی میں تھے اور (نہانے کے وقت) اپنے سر کا ایک ہی حصہ دھوپائے تھے کہ اتنے میں انہوں نے صدا سنی (کہ جہاد کے لئے بلایا جا رہا ہے، چناچہ وہ اسی حالت میں گھر سے باہر نکل کھڑے ہوئے اور (غزوہ احد میں) جام شہادت نوش فرمایا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میں نے دیکھا کہ فرشتے انہیں نہلا رہے تھے۔ (طیبی) بہر حال طیبی (رح) فرماتے ہیں کہ اس حدیث میں اس طرف اشارہ ہے کہ مسواک بہت زیادہ فضیلت اور بزرگی رکھتی ہے کہ جب ہی تو اسے واجب وضو کا قائم مقام قرار دیا گیا۔ حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ ہر نماز کے لئے تازہ وضو اس لئے کرتے تھے کہ انہوں نے یہ اجتہاد کیا کہ اگرچہ اس کا وجوب منسوخ ہوگیا ہے مگر اس آدمی کے لئے جو اس پر عمل کی طاقت وقوت رکھتا ہے اس کی فضیلت باقی ہے اس لئے انہوں نے جب یہ دیکھا کہ میرے اندر اتنی قوت و ہمت ہے کہ میں اس عمل کو بخوبی پورا کرسکتا ہوں تو کوئی وجہ نہیں ہے کہ اس فضیلت وسعادت سے محروم رہوں۔ چناچہ انہوں نے اسے اپنا معمول بنا لیا کہ ہر نماز کے لئے تازہ وضو فرماتے اور جب تک موت کی آغوش نے انہیں اپنے اندر چھپانہ لیا وہ اس معمول پر قائم و دائم رہے۔
وَعَنْ عَبْدِاﷲِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ اَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِسَعْدٍ وَھُوَ یَتَوَضَّأُ فَقَالَ مَاھٰذَا السَّرَفُ یَا سَعْدُ قَالَ اَفِی الْوُضُوْءِ سَرَفٌ قَالَ نَعَمْ وَ اِنْ کُنْتَ عَلَی نَھْرٍ جَارٍ۔ (رواہ مسند احمد بن حنبل و ابن ماجۃ)
اور حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ راوی ہیں کہ (ایک مرتبہ) سرکار دو عالم ﷺ کا گزر حضرت سعد ؓ پر ہوا جب کہ وہ وضو کر رہے تھے (اور وضو میں اسراف بھی کر رہے تھے) آپ ﷺ نے (یہ دیکھ کر) فرمایا اے سعد! یہ کیا اسراف (زیادتی ہے)؟ حضرت سعد ؓ نے عرض کیا کہ کیا وضو میں بھی اسراف ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا ہاں! اگرچہ تم نہر جاری ہی پر (کیوں نہ وضو کر رہے) ہو۔ (مسند احمد بن حنبل، ابن ماجہ)
تشریح
یہ حدیث اس بات پر تنبیہ کر رہی ہے کہ وضو و غسل میں پانی ضرورت سے زیادہ خرچ نہیں کرنا چاہئے کیونکہ اسراف ہے اور اسراف شریعت کی نگاہ میں کوئی محبوب چیز نہیں ہے چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے جب حضرت سعد ؓ کو دیکھا کہ وضو میں پانی زیادہ خرچ کر رہے ہیں تو آپ ﷺ نے انہیں تنبیہ فرمائی اس پر حضرت سعد ؓ کو بڑا تعجب ہوا کہ پانی کوئی نایاب اور کم یاب چیز تو ہے نہیں پھر اس میں اسراف کے کیا معنی؟ اسی بنا پر انہوں نے سوال بھی کیا کہ کیا وضو میں بھی اسراف ہوسکتا ہے؟ اس کے جواب میں آپ ﷺ نے فرمایا کہ اسراف تو اسے بہی کہیں گے کہ تم نہر جاری پر بیٹھ کر وضو کرو اور پانی زیادہ خرچ کرو جب کہ نہر یا دریا وغیرہ سے کتنا بھی پانی خرچ کردیا جائے اس میں کوئی کمی واقعی نہیں ہوسکتی۔ اس جملہ کی تشریح علماء کرام یہ کرتے ہیں کہ نہر جاری پر اسراف اس لئے ہوتا ہے کہ جب کوئی آدمی حدود شریعت سے تجاوز کر کے ضرورت شرعی سے زیادہ پانی خرچ کرتا ہے تو اس میں عمر اور وقت یوں ہی ضائع ہوتا ہے اور ظاہر ہے کہ یہ اسراف ہے۔ علامہ طیبی نے اس کے معنی یہ بیان کئے ہیں کہ اس سے اس بات میں مبالغہ منظور ہے کہ جس چیز میں اسراف متصور نہیں ہے جب اس میں بھی اسراف ہوسکتا ہے تو پھر ان چیزوں کا کیا حال ہوگا جس میں اسراف واقعۃً ہوتا ہے لہٰذا معلوم ہوا کہ وضو اور غسل وغیرہ میں ضرورت شرعی سے زیادہ پانی خرچ کرنا اسراف میں شامل ہے اور یہ چیز مناسب نہیں ہے۔
وَعَنْ اَبِی ھُرَیْرَۃَ وَابْنِ مَسْعُوْدٍ وَ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ مَنْ تَوَضَّأَ وَذَکَرَ اسْمَ اﷲِ فَاِنَّہُ یُطَھِّرُ جَسَدَہ، کُلَّہُ وَمَنْ تَوَضَأَ وَلَمْ یَذْکُرِ اسْمَ اﷲِ لَمْ یُطَھِّرْاِلَّا مَوْضِعَ الْوُضُوْئِ۔
اور حضرت ابوہریرہ حضرت عبداللہ ابن مسعود اور حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ سرکار دو عالم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا جس آدمی نے وضو کیا اور اللہ تعالیٰ کا نام لیا (یعنی پوری بسم اللہ پڑھ کر وضو شروع کیا) تو اس نے اپنا تمام بدن (گناہوں سے) پاک کیا اور جس نے وضو کیا اور اللہ تعالیٰ کا نام نہیں لیا تو اس نے صرف اعضاء وضو کو پاک کیا۔
تشریح
اس حدیث میں وضو کے شروع میں بسم اللہ کہنے کی فضیلت کا اظہار ہو رہا ہے کہ جو آدمی بسم اللہ کہہ کر وضو شروع کرتا ہے اس کا تمام بدن گناہ صغیرہ کی غلاظتوں سے پاک ہوجاتا ہے اور جس آدمی نے بغیر بسم اللہ کہے ہوئے وضو کیا تو اس کے اسی اعضاء سے گناہ صغیرہ دور ہوتے ہیں جنہیں وضو میں دھویا گیا ہے۔ نیز اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ وضو میں بسم اللہ کہنا سنت یا مستحب ہے واجب نہیں ہے۔
وَعَنْ اَبِی رَافِعٍ قَالَ کَانَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم اِذَا تَوَضَّأَ وُضُوْءَ الصَّلَاۃِ حَرَّکَ خَاتَمَہ، فِی اِصْبَعِہٖ رَوَاھُمَا الدَّارَقُطْنِیُّ وَرَوَی ابْنُ مَاجَۃَ الْخِیْرَ۔
اور حضرت ابورافع ؓ بیان کرتے ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ جب نماز کے لئے وضو فرماتے تو اپنی انگلی کی انگوٹھی کو بھی گھما پھیرا لیتے۔ (ان دونوں حدیثوں کو دار قطنی نے روایت کیا ہے اور سنن ابن ماجہ نے صرف دوسری حدیث نقل کی ہے)۔
تشریح
اس کا مسئلہ یہ ہے کہ انگوٹھی ڈھیلی ہو اور اس بات کا گمان ہو کہ وضو کے وقت پانی انگوٹھی کے نیچے انگلی تک پہنچ جاتا ہے تو اس صورت میں انگوٹھی کو ہلا لینا سنت ہوگا، ہاں اگر انگوٹھی تنگ ہو اور یہ یقین ہو کہ انگوٹھی کو ہلائے بغیر اس کے نیچے پانی نہیں پہنچے گا تو پھر انگوٹھی کو ہلا لینا واجب ہوگا تاکہ پانی اس کے نیچے انگلی تک پہنچ جائے۔
عَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَص قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلماِذَا جَلَسَ اَحَدُکُمْ بَےْنَ شُعَبِھَا الْاَرْبَعِ ثُمَّ جَھَدَھَا فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ وَاِنْ لَّمْ ےُنْزِلْ۔(صحیح البخاری و صحیح مسلم)
حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی آدمی عورت کی چار شاخوں کے درمیان بیٹھے پھر کوشش کرے (یعنی جماع کرے) تو اس پر غسل واجب ہوگیا، اگرچہ منی نہ نکلے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
عورت کی چار شاخوں سے مراد اس کے دونوں ہاتھ اور دونوں پیر ہیں، یا اس سے مراد عورت کے دونوں پیر اور فرج (شرم گاہ) طرفین ہیں۔ یہ جملہ عورت کے پاس جماع کے لئے جانے اور صحبت کرنے کی بلیغ تعبیر ہے، چونکہ رسول اللہ ﷺ شرم و حیاء کے انتہائی بلند مقام پر تھے، اس لئے آپ ﷺ نے صورت مسئلہ کی وضاحت کے لئے الفاظ کے کنایا کا سہارا لیا ہے کھلے طور پر آپ ﷺ نے اس کی تشریح نہیں فرمائی ہے۔ بہر حال حدیث کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی آدمی عورت کے پاس جماع کے لئے گیا اور اس نے جماع کیا تو محض حشفہ داخل کرنے سے اس پر غسل واجب ہوجائے گا، خواہ انزال ہو یا نہ ہو۔ خلفائے راشدین اور اکثر صحابہ نیز چاروں اماموں کا یہی مسلک ہے۔
عَنْ اَبِیْ سَعِےْدٍص قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اِنَّمَا الْمَآءُ مِنَ الْمَآءِ )رَوَاہُ مُسْلِمٌٌ )قال الیشخ الامام محی السنۃ رحمہ اﷲ ھذا منسوخ وقال ابن عباس انما الماء من الماء فی الاحتلام رواہ الجامع ترمذی ولم اجدہ فی الصحیحین۔
اور حضرت ابوسعید ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا پانی پانی سے ہے (یعنی منی نکلنے غسل واجب ہوجاتا ہے) (صحیح مسلم) اور امام محی السنہ (رح) فرماتے ہیں کہ یہ حکم منسوخ ہے اور عبداللہ ابن عباس ؓ نے فرمایا ہے کہ پانی پانی سے ہے کا حکم احتلام کے لئے ہے۔ (جامع ترمذی) اور مجھے یہ روایت صحیح البخاری و صحیح مسلم میں نہیں ملی ہے۔
تشریح
اس ارشاد کے اسلوب پر بھی غور کیجئے تو معلوم ہوگا کہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے ایک طرف تو احکام شریعت کی تعلیم کی ذمہ داری ہے اور دوسری طرف آپ ﷺ شرم و حیاء کے انتہائی بلند وبالا مقام پر فائز ہیں اس لئے آپ ﷺ ایسا اسلوب اختیار فرماتے ہیں کہ مسئلہ کی وضاحت بھی ہوجائے اور شرم و حیاء کا دامن بھی ہاتھ سے نہ چھوٹے، چناچہ آپ ﷺ نے ایسے الفاظ استعمال فرمائے ہیں جو کنا یۃ مسئلہ کی وضاحت کر رہے ہیں۔ بہر حال اس حدیث سے تو معلوم ہوتا ہے کہ جب تک انزال نہ ہو یعنی منی نہ نکلے غسل واجب نہیں ہوتا مگر ابھی اس سے پہلے جو حدیث گزری ہے اس سے یہ بات معلوم ہوئی کہ غسل محض دخول حشفہ سے واجب ہوجائے خواہ انزال ہو یا نہ ہو، اس طرح ان دونوں حدیثوں میں تعارض پیدا ہوگیا ہے۔ چنانچہ اسی تعارض کو دفع کرنے کے لئے حضرت امام محی السنۃ (رح) کا یہ قول مصنف مشکوۃ نقل فرما رہے ہیں کہ یہ حکم منسوخ ہے۔ یعنی یہ حضرت ابی بن کعب ؓ کی اس روایت سے منسوخ قرار دیا گیا ہے جس میں منقول ہے کہ یہ آسانی ابتداء اسلام میں تھی (کہ جب تک انزال نہ ہو غسل واجب نہیں ہوتا تھا) پھر بعد میں اس حکم کو منسوخ قرار دیا گیا۔ حضرت امام ترمذی (رح) نے بھی فرمایا ہے کہ اسی طرح بہت سے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے یہ اقوال منقول ہیں کہ یہ حکم ابتدائے اسلام میں تھا پھر بعد میں اسے منسوخ قرار دے کر یہ حکم نافذ کیا گیا کہ جب مرد کا ذکر عرت کی شرم گاہ میں داخل ہو اور ختنین مل جائیں تو غسل واجب ہوجائے گا خواہ انزال ہو یا نہ ہو۔ لیکن حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ اس حدیث ایک دوسری توجیہہ بیان فرما رہے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ یہ حکم احتلام کے بارے میں ہے۔ یعنی رسول اللہ ﷺ کے اس کا ارشاد کا مقصد یہ ہے کہ محض خواب دیکھنے سے غسل واجب نہیں ہوتا بلکہ سو کر اٹھنے کے بعد اگر کپڑے وغیرہ پر منی کی تری دیکھی جائے تو غسل واجب ہوجائے گا۔ گویا حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ کی اس توجیہ کے پیش نظر اس حدیث کو منسوخ ماننے کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ لیکن تحقیقی بات یہ ہے کہ حدیث مطلق ہے یعنی اس حکم کا تعلق احتلام سے بھی تھا اور غیر احتلام سے بھی، مگر یہ حکم ابتدائے اسلام میں تھا پھر منسوخ ہوگیا۔
وَعَنْ اُمِّ سَلَمَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا قَالَتْ قَالَتْ اُمُّ سُلَےْمٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا ےَا رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اِنَّ اللّٰہَ لاَ ےَسْتَحْیٖ مِنَ الْحَقِّ فَھَلْ عَلَی الْمَرْأَۃِ مِنْ غُسْلٍ اِذَا احْتَلَمَتْ قَالَ نَعَمْ اِذَا رَأَتِ الْمَآءَ فَغَطَّتْ اُمُّ سَلَمَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَاوَجْھَہَا وَقَالَتْ ےَا رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اَوَ تَحْتَلِمُ الْمَرْاَۃُ قَالَ نَعَمْ تَرِبَتْ ےَمِےْنُکِ فَبِمَ ےُشْبِھُھَا وَلَدُھَا (مُتَّفَقٌ عَلَےْہِ) وَزَادَ مُسْلِمٌ بِرِوَاےَۃِ اُمِّ سُلَےْمٍ اَنَّ مَآءَ الرَّجُلِ غَلِےْظٌ اَبْےَضُ وَمَآءَ الْمَرْاَۃِ رَقِےْقٌ اَصْفَرُ اَےُّھُمَا عَلَا اَوْ سَبَقَ ےَکُوْنُ مِنْہُ الشَّبَہُ۔
حضرت ام سلمہ ؓ فرماتی ہیں کہ حضرت ام سلیم ( آپ کے نام میں بہت زیادہ اختلاف ہے کچھ علماء نے سلمہ کچھ نے رملہ اور بعض نے ملیکہ لکھا ہے بہر حال حضرت انس ؓ کی والدہ محترمہ ہیں)۔ نے سرکار دو عالم ﷺ سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ، اللہ تعالیٰ حق کے معاملہ میں حیاء نہیں کرتا (لہٰذا یہ بتائیے کہ) عورت پر غسل واجب ہے جب کہ اس کو احتلام ہو۔ (یعنی خواب میں مجامعت دیکھے) آپ ﷺ نے فرمایا ہاں! جب کہ وہ پانی (منی) کو دیکھے یہ سن کر ام سلمہ نے اپنا منہ (شرم کی وجہ سے) ڈھانک لیا اور کہا کہ یا رسول اللہ! کیا عورت کو بھی احتلام ہوتا ہے؟ (یعنی کیا مرد کی طرح عورت کے بھی منی ہوتی ہے اور نکلتی ہے؟ آپ نے فرمایا ہاں! خاک آلودہ ہو تیرا داہنا ہاتھ (اگر ایسا نہ ہوتا تو) پھر اس کا بچہ اس کے مشابہ کیونکر ہوسکتا تھا۔ اور امام مسلم (رح) نے ام سلیم ؓ کی روایت میں یہ الفاظ زائد نقل کئے ہیں کہ (آپ ﷺ نے یہ بھی فرمایا مرد کی منی گاڑھی سفید ہوتی ہے اور عورت کی منی پتلی زرد ہوتی ہے لہٰذا ان میں جو منی غالب ہو یا سبقت کرے تو (بچہ کی) مشابہت اسی کے ساتھ ہوتی ہے۔
تشریح
چونکہ مسئلہ ذرا نازک اور عرفاً خلاف شرم و حیاء تھا اس لئے ام سلیم ؓ نے پہلے تمہید کے طور پر کہا کہ اللہ تعالیٰ حق کہنے میں حیاء نہیں کرتا یعنی اللہ نے اس سے منع کیا ہے کہ حق بات پوچھنے میں شرم و حیاء کیا جائے، پھر اس کے بعد انہوں نے اصل مسئلہ دریافت کیا۔ آپ ﷺ کے جواب ما مطلب یہ ہے کہ محض مجامعت کا خواب دیکھ لینے سے ہی غسل واجب نہیں ہوجاتا جب تک انزال نہ ہو یا صبح اٹھنے کے بعد اس کی کوئی علامت نہ پائے یعنی سو کر اٹھنے کے بعد کپڑے یا بدن پر منی دیکھی جائے تو غسل واجب ہوجاتا ہے۔ خاک آلود ہو تیرا داہنا ہاتھ یہ شدت فقر سے کنایہ ہے گویا یہ ایک قسم کی بدعا ہے۔ لیکن اس کا استعمال حقیقی معنی میں نہیں بلکہ ایک ایسا جملہ ہے جو اہل عرب کے یہاں تعجب کے وقت بولتے ہیں، اس طرح اس جملہ کے معنی یہ ہوں گے کہ ام سلمہ! بڑے تعجب کی بات ہے کہ تم ایسی بات کہہ رہی ہو؟ کیا تم اتنا بھی نہیں سمجھتیں کہ اگر عورت کے منی نہ ہوتی تو پھر اکثر بچے جو اپنی ماں کے مشابہ ہوتے ہیں وہ کس طرح ہوتے؟ مرد کی منی کی طرح عورت کی بھی منی ہوتی ہے اور پھر دونوں کی منی سے بچہ کی تخلیق ہوتی ہے۔ آپ ﷺ نے منی کے جو رنگ بیان کئے ہیں وہ اکثر کے اعتبار سے ہے، یعنی اکثر و تندرست و صحت مند عورت کی منی کے رنگ ایسے ہوتے ہیں، کیونکہ بعض مردوں کی منی کسی مرض کی بنا پر پتلی یا کثرت مباشرت کی وجہ سے سرخ ہوتی ہے، اس طرح بعض عورتوں کی منی قوت و طاقت کی زیادتی کی وجہ سے سفید بھی ہوتی ہے۔ حدیث کے آخری جملہ کا مطلب یہ ہے کہ مباشرت کے وقت اگر مرد اور عورت دونوں کی منی ساتھ ہی گر کر رحم مادہ پر پہنچے تو دونوں میں سے جس کی منی بھی غالب ہوگی یا ان دونوں سے جس کی منی سبقت کرے گی یعنی ایک دوسرے سے پہلے گر کر رحم مادر میں پہنچے گی بچہ اسی کے مشابہ ہوگا۔
وَعَنْ عَآئِشَۃَرَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا قَالَتْ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اِذَا اغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَۃِ بَدَأَ فَغَسَلَ ےَدَےْہِ ثُمَّ ےَتَوَضَّأُکَمَا یَتَوَضَّأُ لِلصَّلٰوۃِ ثُمَّ ےُدْخِلُ اَصَابِعَہُ فِی الْمَاءۤ فَےُخَلِّلُ بِھَا اُصُوْلَ شَعْرِہٖ ثُمَّ ےَصُبُّ عَلٰی رَاْسِہٖ ثَلٰثَ غُرَفَاتٍ بِےَدَےْہِ ثُمَّ ےُفِےْضُ الْمَآءَ عَلٰی جِلْدِہٖ کُلِّہٖ (مُتَّفَقٌ عَلَےْہِ) وَفِیْ رِوَاےَۃٍ لِّمُسْلِمٍ ےَبْدَأُ فَےَغْسِلُ ےَدَےْہِ قَبْلَ اَنْ ےُّدْخِلَھُمَا الْاِنَآءَ ثُمَّ ےُفْرِغُ بِےَمِےْنِہٖ عَلٰی شِمَالِہٖ فَےَغْسِلُ فَرْجَہ، ثُمَّ ےَتَوَضَّأُ۔
اور حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ جب غسل جنابت (یعنی ناپاکی کو دور کرنے کے لئے غسل) کا ارادہ فرماتے تو (غسل) اس طرح شروع فرماتے کہ پہلے اپنے دونوں ہاتھ (پہنچوں تک) دھوتے پھر وضو کرتے جس طرح نماز کے لئے وضو کیا جاتا ہے پھر انگلیاں (تر ہونے کے لئے) پانی میں ڈالتے پھر انہیں نکال کر ان (انگلیوں کی تری) سے اپنے بالوں کی جڑوں میں خلال فرماتے پھر دونوں ہاتھوں سے تین چلو (پانی لے کر) سر پر ڈالتے اور پھرا پنے تمام بدن پر پانی بہاتے۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم اور مسلم کی ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ (جب آپ ﷺ غسل) شروع کرتے تو اپنے داہنے ہاتھ سے اپنے بائیں ہاتھ پر پانی ڈالتے پھر اپنی شرم گاہ کو دھوتے اور اس کے بعد وضو کرتے۔
تشریح
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ آپ کے غسل کے طریقہ کو بتارہی ہیں کہ جب آپ ناپاکی دور کرنے کے لئے غسل فرماتے تو اس کا طریقہ کیا ہوتا تھا؟ چناچہ آپ فرما رہی ہیں کہ جب آپ ﷺ غسل شروع کرتے تو سب سے پہلے پہنچوں تک اپنے دونوں ہاتھوں کو دھوتے تھے۔ اس کے بعد آپ ﷺ اسی طرح وضو فرماتے جیسے کہ نماز کے لئے وضو کیا جاتا ہے، یعنی اگر آپ کسی ایسی جگہ غسل فرماتے کہ جہاں پاؤں رکھنے کی جگہ پانی جمع نہیں ہوتا مثلاً کسی تخت یا پتھر پر کھڑے ہو کر نہاتے تو وہ پورا وضو فرماتے اور اگر کسی ایسی جگہ نہاتے جہاں کوئی گڑھا وغیرہ ہوتا کہ اس کی وجہ سے پاؤں کے پاس پانی جمع رہتا تھا تو اس شکل میں آپ ﷺ وضو کے وقت پاؤں نہیں دھوتے بلکہ غسل سے فراغت کے بعد اس جگہ سے ہٹ کر پیر دھوتے تھے۔ جیسا کہ اس کے بعد آنے والی حدیث سے وضاحت ہو رہی ہے۔ چناچہ ہدایہ میں بھی لکھا ہے کہ اسی طرح کرنا چاہئے یعنی اگر غسل کے وقت پاؤں رکھنے کی جگہ پانی جمع نہ ہوتا ہو تو وضو مکمل کرنا چاہیے اور اگر پاؤں کے پاس پانی جمع ہوتا ہو تو پھر اس وقت پاؤں نہ دھوئے جائیں بلکہ غسل سے فارغ ہو کر وہاں سے ہٹ کر دوسری جگہ پر پیر دھوئے جائیں۔ اس جگہ نکتہ کے طور پر یہ بھی سن لیجئے کہ طبرانی کی روایت ہے کہ سرکار دو عالم ﷺ کو کبھی احتلام نہیں ہوا اور نہ دیگر انبیاء کرام (علیہم السلام) کو احتلام ہوا تھا۔
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَمَا قَالَ قَالَتْ مَےْمُوْنَۃُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَاوَضَعْتُ لِلنَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم غُسْلًا فَسَتَرْتُہ، بِثَوْبٍ وَصَبَّ عَلٰی ےَدَےْہِ فَغَسَلَھُمَا ثُمَّ صَبَّ بِےَمِےْنِہٖ عَلٰی شِمَالِہٖ فَغَسَلَ فَرْجَہ، فَضَرَبَ بِےَدِہِ الْاَرْضَ فَمَسَحَھَا ثُمَّ غَسَلَھَا فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ وَغَسَلَ وَجْھَہ، وَذِرَاعَےْہِ ثُمَّ صَبَّ عَلٰی رَاْسِہٖ وَاَفَاضَ عَلٰی جَسَدِہٖ ثُمَّ تَنَحّٰی فَغَسَلَ قَدَمَےْہِ فَنَاوَلْتُہ، ثَوْبًا فَلَمْ ےَاْخُذْہ، فَانْطَلَقَ وَھُوَ ےَنْفُضُ ےَدَےْہِ (مُتَّفَقٌ عَلَےْہِ) وَلَفْظُہُ لِلْبُخَارِیِّ۔
اور حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ ام المومنین حضرت میمونہ ؓ نے فرمایا کہ میں نے سرکار دو عالم کے غسل کے واسطے پانی رکھا اور کپڑا ڈال کر پردہ کیا، چناچہ آپ ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھوں پر پانی ڈال کر انہیں دھویا۔ پھر آپ ﷺ نے اپنے دائیں ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر پانی ڈالا اور شرم گاہ کو دھویا۔ پھر اپنا بایاں ہاتھ جس سے شرم گاہ کو دھویا تھا، زمین پر رگڑا اور اسے دھویا، پھر کلی کی ناک میں پانی ڈالا اور چہرہ و ہاتھوں کو (کہنیوں تک) دھویا، پھر اپنے سر پر پانی ڈالا اور تمام بدن پر بہایا پھر (جہاں آپ ﷺ نے غسل فرمایا تھا) اس جگہ سے ہٹ کر اپنے پاؤں دھوئے۔ اس کے بعد میں نے (بدن پونچھنے کے لئے) کپڑا دیا، لیکن آپ ﷺ نے کپڑا نہیں لیا اور پھر ہاتھ جھٹکتے ہوئے وہاں سے چلے۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم الفاظ صحیح البخاری کے ہیں)
تشریح
اس حدیث سے اس بات کی وضاحت ہوگئی کہ اگر غسل ایسی جگہ کیا جائے جہاں پاؤں رکھنے کی جگہ پانی جمع ہوتا ہو تو وضو کے وقت پاؤں نہ دھوئے جائیں بلکہ غسل کے بعد وہاں سے ہٹ کر دوسری جگہ پاؤں دھولیے جائیں چناچہ آپ ﷺ نے غسل کے بعد وہاں سے ہٹ کر دوسری جگہ پر اس لئے دھوئے تھے کہ غسل کے وقت وضو میں آپ ﷺ نے پاؤں نہیں دھوئے تھے کیونکہ آپ ﷺ نے غسل کسی پتھر، تخت یا بلند جگہ پر نہیں کیا ہوگا جس کی وجہ سے پیروں میں پانی جمع ہوتا ہوگا۔ غسل کے بعد جب حضرت میمونہ ؓ نے بدن پونچھنے کے لئے کپڑا پیش کیا تو آپ ﷺ نے لینے سے انکار فرما دیا اس کے کئی احتمال علماء نے لکھے ہیں چناچہ ہوسکتا کہ آپ ﷺ نے کپڑا لینے سے اس لئے انکار فرما دیا ہو کہ غسل وغیرہ کے بعد بدن کو نہ پونچھنا ہی افضل تھا یا چونکہ آپ ﷺ کسی جلدی میں جا رہے ہوں گے، اس لئے یہ سوچ کر کہ کپڑے سے بدن پونچھنے میں دیر ہوگئی کپڑا نہیں لیا۔ یا یہ ہوسکتا ہے کہ اس وقت گرمی کا موسم تھا اس لئے نہانے کے بعد پانی کی تری چونکہ اچھی اور بھلی معلوم ہو رہی تھی، اس لئے آپ ﷺ نے پانی کو بدن سے پونچھنا پسند نہ فرمایا ہو، یا پھر یہ وجہ رہی ہوگی کہ اس کپڑے میں گندگی وغیرہ لگنے کا شبہ ہوگا اس لئے آپ ﷺ نے اسے واپس فرما دیا۔ بہر حال جو بھی صورت حال رہی ہو مگر کپڑے کو واپس کرنا کسی عذر اور سبب ہی کی بنا پر تھا۔ لہٰذا اس حدیث سے یہ مسئلہ مستنبط نہیں کیا جاسکتا کہ غسل وغیرہ کے بعد بدن پر لگے ہوئے پانی کو نہ پونچھنا ہی سنت ہے یا یہ کہ پونچھنا مکروہ ہے۔ ہاتھ جھٹکنے کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح عام طور پر طاقتور اور صحت مند و توانا لوگ چلتے ہوئے ہاتھ ہلاتے چلتے ہیں اسی طرح آپ ﷺ بھی اپنے ہاتھوں کو ہلاتے ہوئے تشریف لے گئے۔
وعَنْ عَآئِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا قَالَتْ اِنَّ امْرَاَۃًمِّنَ الْاَنْصَارِ سَاَلَتِ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلمعَنْ غُسْلِھَا مِنَ الْمَحِےْضِ فَاَمَرَھَا کَےْفَ تَغْتَسِلُ ثُمَّ قَالَ خُذِیْ فُرْصَۃً مِّنْ مِّسْکٍ فَتَطَھَّرِیْ بِھَا قَالَتْ کَےْفَ اَتَطَھَّرُ بِھَا فَقَالَ تَطَھِّرِیْ بِھَا قَالَتْ کَیْفَ اَتَطَھَّرُبِھَا قَالَ سُبْحَانَ اللّٰہِ تَطَہِّرِی بِھَافَاجْتَذَبْتُھَا اِلَیَّ فَقُلْتُ تَتَبَّعِیْ بِھَا اَثَرَ الدَّمِ۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)
اور حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ (ایک دن) ایک انصاری عورت نے سرکار دو عالم ﷺ سے اپنے غسل حیض کے بارے میں پوچھا، چناچہ آپ ﷺ نے اسے غسل کا حکم دیا کہ کس طرح غسل کیا جائے۔ (یعنی پہلی حدیثوں میں غسل کی جو کیفیت گزری ہے آپ ﷺ نے وہ بیان فرمائی اور پھر فرمایا کہ مشک میں (بھگوئے ہوئے کپڑے) کا ایک ٹکڑا لے کر اس سے پاکی حاصل کرو، اس نے کہا کہ اس سے کس طرح پاکی حاصل کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم اس سے پاکی حاصل کرو۔ اس نے پھر پوچھا کہ اس سے کس طرح پاکی حاصل کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا سبحان اللہ (یعنی اللہ پاک ہے)۔ تم اس سے پاکی حاصل کرو، حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ (رسول اللہ ﷺ کے انہیں الفاظ کو بار بار سن کر) میں نے اس عورت کو اپنی جانب کھینچ لیا اور اس سے کہا کہ (تم اس کپڑے کو) خون کی جگہ (یعنی شرم گاہ پر) رکھ لو!۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
اس قسم کے مسائل جہاں آرہے ہیں۔ وہاں آپ حدیث کا اسلوب دیکھ رہے ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ ایسے مسائل کو کس انداز سے بیان فرماتے ہیں، بات وہی ہے کہ ایک طرف تو مسائل شرعیہ کو پوری وضاحت کے ساتھ بیان کرنے کی ذمہ داری آپ ﷺ کے کاندھوں پر ہے جس میں شرم و حیاء کی وجہ سے کسی اخفاء کی گنجائش نہیں ہے دوسری طرف آپ ﷺ کی شرم و حیاء کے وہ فطری تقاضے ہیں جو خلاف ادب و تہذیب جملوں کی ادائیگی میں حائل ہوتے ہیں۔ اس لئے آپ ﷺ ان مسائل کے بیان میں ایسی راہ اختیار کرتے ہیں جو شرم و حیاء کے دائرے سے سرمو متجاوز نہیں ہوتی اور مسائل کی وضاحت بھی حتی الامکان ہوجاتی ہے۔ اب آپ یہیں دیکھئے کہ ایک سائلہ عورتوں کے مسئلے کی وضاحت چاہتی ہے، آپ ﷺ اسے جواب دیتے ہیں اور پھر اس سلسلے میں نظامت و لطافت کے ایک ٰخاص طریقہ کی طرف اس کی راہنمائی فرمانا چاہتے ہیں، چناچہ آپ ﷺ اشاروں اشاروں میں اسے سمجھا رہے ہیں، سائلہ زیادہ سمجھ کا ثبوت نہیں دیتی ہے، آپ ﷺ دوبارہ اپنے جملوں کو دہراتے ہیں تاکہ وہ سمجھ جائے مگر وہ مزید وضاحت چاہتی ہے تو آپ پھر انتہائی تعجب سے فرماتے ہیں کہ سبحان اللہ! تم اس سے پاکی حاصل کرو۔ یعنی تعجب کی بات ہے کہ تم اتنے سیدھے سادھے اور ظاہر مسئلہ کو نہیں سمجھ پا رہی ہو۔ یہ کوئی ایسا باریک مسئلہ نہیں ہے، کوئی خاص نکتہ نہیں ہے جسے سمجھنے میں اعلیٰ غور و فکر کی ضرورت ہو حضرت عائشہ صدیقہ ؓ اس وقت ذکاوت و ذہانت کا بہترین ثبوت دیتی ہیں، انہوں نے تاڑ لیا کہ ادھر تو عورت آنحضور ﷺ کے مقصد اور مطلب تک پہنچ نہیں پا رہی ہے۔ ادھر آپ ﷺ کی شرم و حیاء اس سے آگے بڑھ کر مزید وضاحت کی اجازت نہیں دیئے جا رہی ہے، چناچہ آپ اس عورت کو اپنی طرف کھینچ لیتی ہیں اور پھر اسے رسول اللہ ﷺ کا مقصد و ضاحت کے ساتھ سمجھاتی ہیں۔ حدیث کے الفاظ خذی فرصۃ من مسک فتطھری میں لفظ مسک میم کے زیر کے ساتھ ہے جس کے معنی مشک کے ہیں، اس کا مطلب یہ ہوگا کہ مشک کا ایک بڑا ٹکڑا یا مشک میں بھیگے ہوئے یا رنگے ہوئے کپڑے کا ایک ٹکڑا لے کر اس سے پاکی حاصل کرو۔ ایک روایت میں میم کے زبر کے ساتھ بھی آیا ہے جس کے معنی چمڑے کے ہیں۔ لیکن روایت کے مطابق اور موقع کی مناسبت سے میم کے زیر کے ساتھ یعنی مشک کے معنی زیادہ بہتر اور اولیٰ ہیں۔
وَعَنْ اُمِّ سَلَمَۃَرَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا قَالَتْ قُلْتُ ےَا رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلماِنِّی امْرَاَۃٌ اَشُدُّ ضَفْرَ رَأَسِیْ اَفَاَنْقُضُہ، لِغُسْلِ الْجَنَابَۃِ فَقَالَ لَا اِنَّمَا ےَکْفِےْکِ اَنْ تَحْثِیَ عَلٰی رَاسِکِ ثَلٰثَ حَثَےَاتٍ ثُمَّ تَفِےْضِےْنَ عَلَےْکِ الْمَآءَ فَتَطَھَّرِےْنَ۔(صحیح مسلم)
حضرت ام سلمہ ؓ فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ و سلم)! میں ایک عورت ہوں اپنے سر کے بال بہت مضبوط گوندھتی ہوں، کیا صحبت کے بعد نہانے کے واسطے انہیں کھولا کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا نہیں! بالوں کو کھولنے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ تمہیں یہی کافی ہے کہ تین لپٹیں پانی لے کر اپنے سر پر ڈال لیا کرو اور پھر سارے بدن پر پانی بہا لیا کرو، پاک ہوجاؤ گی۔ (صحیح مسلم)
تشریح
اس حدیث کے سلسلے میں صحیح قول یہ ہے کہ حدیث کا مذکورہ بالا حکم صرف عورتوں کے لئے ہے، چناچہ غسل کے وقت اگر بال گندھے ہوئے ہوں اور سر پر پانی اس طرح ڈالا جائے کہ بالوں کی جڑیں بھیگ جائیں تو یہ کافی ہے، بالوں کو کھولنے کی ضرورت نہیں ہے اور اگر یہ جانے کے بالوں کو کھولے بغیر جڑیں نہیں بھیگیں گی تو پھر اس صورت میں بالوں کو کھولنا ضروری ہوگیا۔ مردوں کو ہر صورت میں بال کھول لینے چاہئیں۔
وَعَنْ اَنَسٍ ص قَالَ کَانَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم ےَتَوَضَّأُ بِالْمُدِّ وَےَغْتَسِلُ بِالصَّاعِ اِلٰی خَمْسَۃِ اَمْدَادٍ۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)
حضرت انس راوی ؓ ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ ایک مد (پانی) وضو فرماتے اور ایک صاع سے پانچ مد تک (پانی سے) غسل فرما لیتے تھے (صحیح البخاری و صحیح مسلم)
تشریح
مد ایک پیمانے کا نام ہے جس میں تقریباً ایک سیر اناج آتا ہے اور صاع پیمانہ کا نام ہے جس میں تقریبا چار مد یعنی چار سیر کے قریب اناج آتا ہے۔ یہاں مد اور صاع سے پیمانہ مراد نہیں ہے بلکہ وزن مراد ہے، یعنی رسول اللہ ﷺ تقریباً ایک سیر پانی سے وضو فرماتے تھے اور چار سیر اور زیادہ سے زیادہ پانچ سیر غسل پر صرف فرماتے تھے، لہٰذا مناسب یہ ہے کہ تقریباً ایک سیر پانی سے وضو اور تقریباً چار سیر پانی سے غسل کیا جائے لیکن اتنی بات سمجھ لینی چاہئے کہ وضو اور غسل کے لئے پانی کی یہ مقدار اور وزن واجب کے درجہ میں نہیں ہے لیکن یہ سنت ہے کہ وضو اور غسل کے لئے پانی اس مقدار سے کم نہ ہو۔ آپ ﷺ کے وضو کے پانی کی مقدار بعض روایتوں میں دو تہائی مد اور بعض روایتوں میں آدھا مد منقول ہے لہٰذا اس حدیث صحیح البخاری و صحیح مسلم کا محل یہ قرار دیا جائے گا کہ آپ اکثر و بیشتر ایک ہی مد سے وضو فرماتے تھے مگر کبھی کبھی اس سے کم مقدار پانی میں بھی وضو فرما لیتے تھے، جیسا کہ ان بعض روایتوں میں منقول ہے۔۔
وَعَنْ مُّعَاذَۃَرَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا قَالَتْ قَالَتْ عَآئِشَۃُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا کُنْتُ اَغْتَسِلُ اَنَا وَرَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم مِنْ اِنَآءٍ وَّاحِدٍبَےْنِیْ وَبَےْنَہۤ فَےُبَادِرُ نِیْ حَتّٰی اَقُوْلَ دَعْ لِیْ دَعْ لِیْ قَالَتْ وَھُمَا جُنُبَانِ۔(صحیح البخاری و صحیح مسلم)
اور حضرت معاذہ ؓ کہتی ہیں کہ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی تھیں کہ میں اور سرکار دو عالم ﷺ ایک ہی برتن جو دونوں کے درمیان رکھا رہتا تھا، نہاتے تھے اور آپ ﷺ (پانی لینے میں) مجھ سے جلدی کرتے تھے تو میں کہا کرتی تھی میرے لئے تو پانی چھوڑیئے، میرے لئے بھی تو پانی رہنے دیجئے۔ حضرت معاذہ ؓ فرماتی ہیں کہ وہ دونوں (یعنی رسول اللہ ﷺ اور حضرت عائشہ صدیقہ ؓ جنبی (یعنی ناپاکی) کی حالت میں ہوتے تھے۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)
تشریح
جس برتن سے آپ ﷺ اور حضرت عائشہ صدیقہ ؓ مشترکہ طور پر غسل فرماتے تھے وہ ایک طشت کی قسم سے تھا جس میں تین صاع تقریباً بارہ سیر پانی سماتا تھا، غسل کے وقت یہ دونوں اس میں ہاتھ ڈال ڈال کر پانی نکالتے اور اس سے نہاتے، حدیث کے الفاظ آپ ﷺ (پانی لینے میں) جلدی کرتے تھے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ رسول اللہ ﷺ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کے نہانے سے پہلے تھوڑے سے پانی سے نہا لیتے تھے اور بقیہ پانی چھوڑ دیتے تھے، جس سے حضرت عائشہ ؓ نہاتی تھیں۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ پانی کا برتن دونوں کے درمیان رکھا رہتا تھا اور دونوں اکٹھے اس سے نہاتے تھے۔ حدیث کے آخری جملے وہ دونوں حالت ناپاکی میں ہوتے تھے کہ تحت ابن مالک (رح) نے کہا ہے کہ یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جس پانی میں جنبی ہاتھ ڈالے وہ پانی طاہر و مطہر ہے جنبی خواہ مرد ہو یا عورت۔ امام ابن ہمام (رح) فرماتے ہیں کہ ہمارے علماء کرام کا یہ قول ہے کہ اگر محدث (بےوضو) جنبی (جس پر غسل واجب ہو) اور حائض (حیض والی عورت) کے ہاتھ پاک ہوں اور وہ برتن میں چلو بھرنے کے لئے ہاتھ ڈالیں تو پانی مستعمل (یعنی ناقابل استعمال) نہیں ہوتا۔ کیوں کہ برتن سے پانی نکالنے کے لئے وہ اس طریقے کے محتاج ہیں۔ چناچہ امام موصوف اپنے اس قول کی دلیل میں یہی حدیث پیش کرتے ہیں۔ اس کے بعد وہ فرماتے ہیں کہ اس کے برخلاف اگر جنبی پانی کے برتن میں اپنا پاؤں یا سر ڈالے تو پھر پانی ناقابل استعمال ہوجاتا ہے کیونکہ اس صورت میں اسے کوئی مجبوری نہیں ہے اور نہ اسی طریقہ کی ضرورت ہے۔
عَنْ عَآئِشَۃَ قَالَتْ سُئِلَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم عَنِ الرَّجُلِ یَجِدُ الْبَلَلَ وَلَا یَذْکُرُ اِحْتِلَامًا قَالَ یَغْتَسِلُ وَعَنِ الرَّجُلِ یَرَی اَنَّہُ قَدِ احْتَلَمَ وَلَا یَجِدُ بَلَلاً قَالَ لَا غُسْلَ عَلَیْہِ قَالَتْ اُمُّ سُلَیْمٍ ھَلْ عَلَی الْمَرْاَۃِ تَرَی ذٰلِکَ غُسْلٌ قَالَ نَعَمْ اِنَّ النِّسَآءَ شَقَائِقُ الرِّجَالِ۔ (رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ وَ اَبُوْدَاؤدَ وَرَوَی الدَّارِمِیُّ وَابْنُ مَاجَۃَ قَوْلِہٖ لَا غُسْلَ عَلَیْہِ)
حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ سے اس آدمی کے بارے میں سوال کیا گیا جو (سو کر اٹھنے کے بعد کپڑے پر منی کی) تری محسوس کرے اور خواب (احتلام) اسے یاد نہ ہو؟ آپ نے فرمایا کہ نہانا چاہئے! اور ایسے آدمی کے بارے میں بھی پوچھا گیا جسے (سو کر اٹھنے کے بعد) احتلام تو یاد ہو مگر تری معلوم نہیں ہوتی؟ آپ ﷺ نے فرمایا اس پر غسل واجب نہیں ام سلیم ؓ نے پوچھا اگر عورت بھی یہی (تری) دیکھے تو اس پر غسل واجب ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا ہاں عورتیں بھی مردوں ہی کی مثل ہیں۔ ( ترمذی، ابوداؤد اور دارمی و ابن ماجہ نے اس حدیث کو لا غسل علیہ (اس پر غسل واجب نہیں تک نقل کیا ہے)۔
تشریح
سوال یہ تھا کہ مثلاً ایک آدمی ہے وہ سو کر اٹھا اس نے کپڑے پر یا بدن پر منی یا مذی لگی ہوئی ہے مگر اسے کوئی ایسا خواب یاد نہیں ہے کہ اس نے نیند میں کسی سے مباشرت کی ہو جس کی وجہ سے یہ احتلام ہوا ہے تو کیا ایسے آدمی پر غسل واجب ہوگا یا نہیں؟ آپ ﷺ نے جواب دیا کہ اسے نہانا چاہئے! گویا اس کا مطلب یہ ہوا کہ غسل کے وجوب کا دارومدار منی یا مذی کی تری پر ہے خواب کے یاد رہنے نہ رہنے پر نہیں ہے۔ حدیث کے آخری جزو کا مطلب یہ ہے کہ پیدائش اور طبائع کے اعتبار سے عورتیں چونکہ مردوں ہی کی مانند ہیں اس لئے مرد کی طرح اگر عورت بھی جاگنے کے بعد اپنے کپڑے اور بدن پر تری محسوس کرے تو اس پر بھی غسل واجب ہوگا۔ اس حدیث سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ محض تری دیکھ لینے سے غسل واجب ہوتا ہے اگرچہ اس بات کا یقین نہ ہو کہ منی کود کر نکلی ہے چناچہ تابعین کی ایک جماعت اور امام اعظم ابوحنیفہ (رح) سے یہی منقول ہے۔ اکثر علماء کرام یہ فرماتے ہیں کہ غسل اس وقت تک واجب نہیں ہوگا جب تک یہ جانے کہ کہ منی کود کر نکلی ہے، اگر یہ جانے کہ منی کود کر نکلی ہے، تو غسل واجب ہوجائے گا ورنہ بصورت دیگر غسل واجب تو نہ ہوگا مگر احتیاطا غسل کرلینا مستحب ہوگا۔ اس موقع پر ایک سوال یہ پیدا ہوسکتا ہے کہ مرد و عورت ایک ہی بستر پر اکٹھے سوئے، جب وہ سو کر اٹھے تو انہوں نے بستر پر منی کی تری محسوس کی۔ لیکن ان دونوں میں سے کسی کو بھی یہ معلوم نہیں کہ یہ کس کی منی کی تری ہے تو اس صورت میں دونوں میں سے کس پر غسل واجب ہوگا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس شکل میں یہ دیکھا جائے گا کہ منی کا رنگ کیسا ہے؟ اگر وہ سفید ہے تو یہ اس بات کی علامت ہوگی کہ مرد کی ہے لہٰذا مرد پر غسل واجب ہوگا۔ اور اگر رنگ زرد ہے تو پھر غسل عورت پر واجب ہوگا۔ مگر احتیاط کا تقاضا یہ ہے کہ مرد و عورت دونوں ہی غسل کرلیں۔
وَعَنْھَا قَالَتْ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم اِذَا جَاوَزَ الْخِتَانُ الْخِتَانَ وَجَبَ الْغُسْلُ فَعَلْتُہُ اَنَاوَرَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم فَاغْتَسَلْنَا۔ (رواہ الترمذی و ابن ماجۃ)
اور حضرت عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا جب مرد کے ختنے کی جگہ عورت کے ختنے کی جگہ تجاوز کر جائے (یعنی حشفہ غائب ہوجائے تو (دونوں پر) غسل واجب ہوجائے گا۔ (جامع ترمذی، سنن ابن ماجہ)
تشریح
ختان اس جگہ کو کہتے ہیں جسے ختنہ کرتے وقت کاٹتے ہیں جو مرد کے عضو تناسل کے آگے ایک کھال ہوتی ہے اور عورت کی شرم گاہ پر مرغ کی کلغی کی طرح ابھرا ہوا ایک حصہ ہوتا ہے لہٰذا فرمایا جا رہا ہے کہ جب ختنین مل جائیں اور حشفہ عورت کی شرم گاہ میں داخل ہوجائے تو غسل واجب ہوتا ہے، خواہ انزال ہو یا نہ ہو۔
وَعَنْ اَبِی ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلَ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ تَحْتَ کُلِّ شَعْرَۃٍ جَنَابَۃٌ فَاغْسِلُوْا الشَّعْرَ وَ انْقُوْاالبَشَرَۃَ۔(رَوَاہَُ اَبُوْدَاؤدَ وَالتِّرْمِذِیُّ وَ ابْنُ مَاجَۃَ قَالَ التِّرْمِذِیُّ ھٰذَا حَدِیْثٌ غَرِیْبٌ وَ الْحَارِثُ بْنُ وَحِیْہ الرَّاوَی وَھُوَ شَیْخٌ لَیْسَ بِذٰلِکَ)
اور حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہر بال کے نیچے (جڑ میں) جنابت ہوتی ہے لہٰذا بالوں کو (خوب) دھویا کرو اور بدن کو پاک کیا کرو۔ (سنن ابوداؤد، جامع ترمذی، ابن ماجۃ) اور امام ترمذی (رح) فرماتے ہیں کہ یہ حدیث غریب ہے کیونکہ اس حدیث کا ایک راوی حارث ابن وجیہ ایک بوڑھا آدمی ہے وہ معتبر نہیں (یعنی کبر سنی اور غلبہ نسیان کی وجہ سے) اس کی روایت قابل اعتماد یعنی قوی نہیں ہے بلکہ ضعیف ہے)
تشریح
اس حدیث کا مقصد یہ ہے کہ غسل جنابت میں سر کے بالوں کو اچھی طرح دھویا جائے تاکہ پانی بالوں کی جڑ میں پہنچ جائے اس لئے اگر پانی بالوں کی جڑ تک نہیں پہنچے گا تو پاکی حاصل نہیں ہوگی، چناچہ کتابوں میں لکھا ہوا ہے کہ اگر ایک بال کے نیچے کی بھی جگہ خشک رہ جائے گی تو غسل ادا نہ ہوگا۔ بالوں کے ساتھ ساتھ بدن کو بھی اچھی طرح دھونے کا حکم دیا جا رہا ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ نہانے کے وقت بدن کو خوب اچھی طرح مل کر میل وغیرہ کو صاف کرنا چاہئے اور پورے بدن پر پانی اس طرح بہانا چاہئے کہ بدن کا کوئی حصہ بھی خشک نہ رہ جائے کیونکہ اگر بدن پر خشک مٹی، آٹا یا موم وغیرہ لگا رہا اس کے نیچے پانی نہ پہنچا تو ناپاکی دور نہ ہوگی۔
وَعَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُوْلَ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ تَرَکَ مَوْضِعَ شَعْرَۃٍ مِنْ جَنَابَۃٍ لَّمْ یَغْسِلْھَا فُعِلَ بِھَا کَذَا وَکَذَا مِنَ النَّارِ قَالَ عَلِیٌّ فَمِنْ ثَمَّ عَادَیْتُ رَأسِیْ فَمِنْ ثَمَّ عَادَیْتُ رَأْسِی فَمِنْ ثَمَّ عَادَیْتُ رَأْسِی ثَلَاثًا رَوَاہُ اَبُوْدَاؤدَ وَاَحْمَدُ وَالدَّارِمِیُّ اِلَّا اَنَّھُمَا لَمْ یُکَرِّرَ ا فَمِنْ ثَمَّ عَادَیْتُ رَأْسِی۔
اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا جس نے غسل جنابت میں ایک بال کے برابر بھی جگہ (خشک) چھوڑ دی کہ اسے نہ دھویا تو اسے اس طرح آگ کا عذاب دیا جائے گا حضرت علی المرتضیٰ فرماتے ہیں کہ اسی وجہ سے میں نے اپنے سر سے دشمنی کی (کہ منڈا ڈالا) تین مرتبہ یہی کہا۔ (سنن ابوداؤد، مسند احمد بن حنبل، دارمی) مگر احمد بن حنبل نے یہ الفاظ اسی وجہ سے میں نے اپنے سر سے دشمنی کی مکرر ذکر نہیں کئے ہیں)۔
تشریح
یہ حدیث مزید وضاحت کے ساتھ اوپر کی حدیث کی تائید کر رہی ہے اور غسل جنابت میں بالوں کے سلسلے میں غفلت برتنے والوں کو متنبہ کر رہی ہے چناچہ اس طرح یہ تعدد سے کنایہ ہے یعنی ایسے آدمی کو جس نے غسل احتیاط سے نہیں کیا اور بالوں کی جڑوں میں پانی اچھی طرح نہیں پہنچایا کئی قسم کے اور بہت زیادہ عذاب دئیے جائیں گے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ جب میں نے رسول اللہ ﷺ کی لسان مبارک سے یہ تہدید اور وعید سنی تو اس خوف سے کہ اگر بال رہے تو غسل جنابت کے وقت شاید ان کی جڑیں خشک رہ جائیں اپنے بالوں سے بالکل دشمنوں جیسا معاملہ کیا جس طرح ایک آدمی اپنے دشمن کو اپنے لئے خطرے کا سبب اور باعث سمجھ کر موقع ملتے ہی موت کے گھاٹ اتار دیتا ہے، ایسے ہی میں نے رسول اللہ ﷺ کی تہدید اور وعید کی بنا پر ان بالوں کو اپنی عاقبت کی خرابی کا باعث سمجھتے ہوئے ان کا صفایا کردیا۔ اس حدیث اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے اس عمل سے یہ معلوم ہوا کہ سر کے بال ہمیشہ مڈاتے رہنا جائز ہے مگر اولیٰ اور سنت بالوں کا رکھنا ہی ہے کیونکہ رسول اللہ ﷺ اور خلفائے راشدین اپنے سروں پر بال رکھتے تھے اور صرف حج کے موقع پر منڈواتے تھے۔ جہاں تک حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے اس ارشاد کا تعلق ہے، اس بارے میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس سے حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ کی مراد یہ ہے کہ میں نے اپنے سر کے جو بال منڈاوئے ہیں، ان کی کوئی دوسری غرض نہیں ہے یعنی اس سے زیبائش اور آرائش یا کسی راحت و آرام کا طلب مقصود نہیں ہے بلکہ اصل مقصد وہی ہے جو بیان کیا گیا، اس طرح گویا حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے ایک ایسے فعل کے ترک پر عذر بیان کیا جو رسول اللہ ﷺ سے مداومت کے ساتھ ثابت ہے۔
وَعَنْ عَآئِشَۃَ قَالَتْ کَانَ النَّبِیُّ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَا یَتَوَضَّأَ بَعْدَ الْغُسْلِ۔ ( ترمذی و ابوداؤد، سنن نسائی ، سنن ابن ماجہ)
اور حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ غسل کرنے کے بعد وضو نہیں فرماتے تھے۔ (جامع ترمذی، سنن ابوداؤد، سنن نسائی، سنن ابن ماجہ)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ غسل سے پہلے جو وضو غسل کے لئے فرماتے تھے غسل کے بعد پھر دوبارہ وضو نہیں فرماتے تھے، چناچہ مسئلہ بھی یہی ہے کہ غسل کے لئے جو وضو کیا جاتا ہے وہ کافی ہوتا ہے غسل کے بعد اگر نماز وغیرہ پڑھی جائے تو دوبارہ وضو کرنے کی ضرورت نہیں ہے غسل کے وضو سے نماز پڑھی جاسکتی ہے۔
وَعَنْھَا قَالَتْ کَانَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم یَغْسِلُ رَأْسَہُ بِالْخِطْمِیِّ وَھُوَ جُنُبٌ یَجْتَزِیُ بِذٰلِکَ وَلَا یَصُبُّ عَلَیْہِ الْمَآئ۔ (رواہ ابوداؤد)
اور حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ ناپاکی کی حالت میں (غسل کے وقت) خطمی سے سر کو دھو لیتے تھے اور اسی پر کفایت کرتے اور دوبارہ سر پر خالص پانی نہ ڈالتے تھے۔ (سنن ابوداؤد)
تشریح
جس طرح یہاں آنولہ وغیرہ سے دھونے کا رواج تھا ایسے ہی عرب میں خطمی سے سر دھوئے جاتے تھے، چناچہ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ اس کے بارے میں فرما رہی ہیں کہ آپ ﷺ جب غسل جنابت فرماتے تو اپنے سر کے بال خطمی کے پانی سے دھویا کرتے تھے اور اس کا طریقہ یہ ہوتا تھا کہ آپ ﷺ جب سر پر خطمی لگا کر اسے دھونے کے لئے سر پر خطمی ملا ہوا پانی ڈالتے تھے تو پھر دوبارہ پانی بہانے کے وقت سر پر پانی نہیں ڈالتے تھے بلکہ اسی پہلے دھوئے ہوئے کو کافی سمجھتے تھے جیسا کہ عام طور پر نہانے والے یہ کرتے ہیں کہ پہلے سر کو دھوتے ہیں، اس کے بعد غسل کرتے ہیں اور پھر دوبارہ سر پر بھی پانی ڈالتے ہیں آپ ﷺ ایسا نہیں کرتے تھے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آپ جس پانی سے سر کو دھویا کرتے تھے اس میں خطمی کے اجزاء کم ہوتے ہوں گے کہ جس سے پانی کی حقیقت میں کوئی تغیر نہیں ہوتا ہوگا یعنی سیلان باقی رہتا ہوگا۔
وَعَنْ یَعْلٰی قَالَ اِنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَاَی رَجُلًا یَغْتَسِلُ بِالْبَرَازِ فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ فَحَمِدَ اﷲَ وَاَثْنٰی عَلَیْہِ ثُمَّ قَالَ اِنَّ اﷲَ حَیِّیٌّ سِتِّیْرٌ یُحِبُ الْحَیَاءَ وَالتَّسَتُّرَ فَاِذَا اغْتَسَلَ اَحَدُکُمْ فَلْیَسْتَتِرْ۔ (رَوَاہُ اَبُوْدَاؤدَوَالنِّسَائِیُّ وَفِی رِوَایَتِہٖ قَالَ اِنَّ اﷲَ سِتِّیْرٌ فَاِذَا اَرَادَاَحَدُکُمْ اَنْ یَغْتَسِلَ فَلْیَتَوَا رَ بِشَیْیئٍ)
اور حضرت یعلیٰ ( یہاں تحقیق سے یہ بات واضح نہیں ہوئی ہے کہ یہ یعلیٰ بن امیہ تمیمی ہیں یا یعلی ابن مرہ ثقفی ہیں بہر حال یہ دونوں جلیل القدر صحابی ہیں۔ ( فرماتے ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ایک آدمی کو میدان میں ننگا نہاتے ہوئے دیکھا چناچہ آپ ﷺ (وعظ کے لئے) منبر پر چڑھے اور پہلے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی پھر فرمایا اللہ تعالیٰ بہت حیاء دار ہے (یعنی اپنے بندوں سے حیاداروں کا سا معاملہ کرتا ہے، بایں طور کہ انہیں معاف کردیتا ہے اور بہت پردہ پوش ہے (یعنی اپنے بندوں کے گناہ اور عیوب کو پوشیدہ رکھتا ہے) وہ حیاء اور پردہ پوشی کو پسند کرتا ہے لہذا جب تم میں سے کوئی (میدان میں) نہائے تو اسے چاہیے کہ وہ پردہ کرلیا کرے۔ ( ابوداؤد اور نسائی) اور نسائی کی ایک اور روایت میں اس طرح ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ پردہ پوش ہے لہٰذا جب تم میں سے کوئی نہانے کا ارادہ کرے تو اسے چاہئے کہ وہ کسی چیز سے پردہ کرلیا کرے)
تشریح
سرکار دو عالم ﷺ کی عادت مبارکہ یہ تھی کہ جب آپ ﷺ کسی اہم اور عظیم مسئلے کو بیان کرنا چاہتے یا کسی خاص چیز سے آگاہ کرنا چاہتے تو منبر پر تشریف لے جاتے اور پہلے اللہ جل شانہ کی حمد و ثنا کرتے اس کے بعد اصل مسئلے کو بیان فرماتے چناچہ آپ ﷺ نے ایک مرتبہ ایک آدمی کو دیکھا وہ شرم کو بالائے طاق رکھ کر ایک کھلی جگہ (میدان میں ننگا نہا رہا ہے تو آپ ﷺ کی جبین شرم و حیاء پر بل پڑگئے، فورًا مسجد نبوی میں پہنچے منبر پر تشریف لے گئے اور لوگوں کے سامنے آپ ﷺ نے شرم و حیاء کی اہمیت کو بڑے بلیغ اور ناصحانہ انداز میں بیان فرمایا۔ آپ ﷺ کے ارشاد کا حاصل یہ ہے کہ رب قدوس کی ذات پاک تمام محاسن و اوصاف کی جامع ہے چناچہ شرم و حیاء اور پردہ پوشی جو بہت بڑے وصف ہیں یہ بھی اللہ تعالےٰ کے اوصاف میں سے ہیں، چناچہ اللہ تعالیٰ یہ چاہتا ہے کہ اس کے بندے اس کے اوصاف کی نورانی کرنوں سے اپنے دل و دماغ کو روشن کریں، اس کی جو صفات ہیں ان کو حتی الامکان اپنے اندر پیدا کریں اس لئے وہ پسند کرتا ہے۔ بندے شرم و حیاء کے اصولوں پر کار بند رہیں، ان عظیم اوصاف سے اپنے دامن کو مالا مال کریں اور پردہ پوشی کو کسی حال میں ترک نہ کریں، لہٰذا تمام مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ شرم اور پردے کے معاملے میں غفلت اور لاپرواہی نہ برتیں۔