Mishkaat-al-Masabih

All 6,333 hadiths in order · Page 26 of 317

501Mishkaat-al-Masabih

تیمم کا بیان

وَعَنْ اَبِی الْجُھَیْمِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الصِّمَّۃِ ص قَالَ اَقْبَلَ النَّبِیُّ مِنْ نَحْوِبِئْرِ جَمَلٍ فَلَقِیَہُ رَجُلٌ فَسَلَّمَ عَلَیْہِ فَلَمْ یَرُدَّ النَّبِیُّ حَتّٰی اَقْبَلَ عَلَی الْجِدَارِ فَمَسَحَ بِوَجْھِہٖ وَیَدَیْہِ ثُمَّ رَدَّ عَلَیْہِ السَّلَامَ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)

حضرت ابوجہیم ابن حارث ابن صمہ ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ (مدینہ میں) جمل کے کنوئیں کی طرف سے تشریف لائے آپ ﷺ سے ایک آدمی (یعنی خود ابی جہیم) ملے اور سلام کیا سرکا دو عالم ﷺ نے ان کے سلام کا جواب نہیں دیا اور ایک دیوار کے پاس تشریف لائے چناچہ (پہلے) آپ ﷺ نے منہ اور ہاتھوں کا مسح کیا (یعنی تیمم کیا) پھر سلام کا جواب دیا۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم )

502Mishkaat-al-Masabih

تیمم کا بیان

وَعَنْ عَمَّارِ بْنِ یَاسِرْ اَنَّہ، کَانَتْ یُحَدِّثُ اَنَّھُمْ تَمَسَّحُوْا وَھُمْ مَعَ رَسُوْلِ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم بِالصَّعِیْدِ لِصَلَاۃِ الْفَجْرِ فَضَرَ بُوْابِا کُفِّھِمُ الصَّعِیْدَ ثُمَّ مَسَحُوْا بِوُجُوْھِھِمْ مَسْحَۃً وَاحِدَۃً ثُمَّ عَادُوْا فَضَرَبُوْا بِاَکُفِّھِمُ الصَّعِیْدَ مَرَّۃً اُخْرٰی فَمَسَحُوْا بِاَ یْدِیْھِمْ کُلِّھَا اِلَی الْمَنَاکِبِ وَالْاٰ بَاطِ مِنْ بُطُوْنِ اَیْدِیْھِمْ۔ (رواہ ابوداؤد)

اور حضرت عمار ابن یاسر ؓ یہ بیان کرتے ہیں کہ ( ایک دفعہ) چند صحابہ کرام رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ تھے اور (پانی نہ ملنے کی وجہ سے) فجر کی نماز کے لئے انہوں نے پاک مٹی سے (اس طرح) تیمم کیا (کہ پہلے) اپنے ہاتھوں کو مٹی پر مار کر اپنے چہروں پر پھیرا اور دوسری مرتبہ اپنے ہاتھوں کو مٹی پر مار کر اپنے پورے ہاتھوں پر یعنی کندھوں تک اور بغلوں کے اندر تک مسح کیا ہاتھوں کے اندر کی طرف سے۔ (سنن ابوداؤد) تشریح حدیث کے آخری جملے من بطون ایدیھم میں لفظ من ابتدا کے لئے ہے یعنی انہوں نے پہلے ہاتھوں کے اندر کے رخ پر ہاتھ پھیرے نہ کہ ہاتھوں کے اوپر کے رخ پر، جیسا کہ فقہاء نے لکھا ہے کہ پہلے ہاتھوں کے اوپر کے رخ پر مسح کرنا مستحب ہے۔ یا پھر اس کے معنی یہ ہوئے کہ انہوں نے ہتھیلیوں سے تیمم کرنا شروع کیا۔ یہی معنی زیادہ مناسب ہیں۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے ہاتھوں پر بغلوں اور مونڈھوں تک مسح کیا اس کی وجہ یہ تھی کہ انہوں نے خیال کیا کہ آیت تیمم میں ید یعنی ہاتھ کا لفط مذکور ہے جو مطلق ہے۔ اس آیت سے اور اس لفظ سے یہ بصراحت معلوم نہیں ہوتا کہ ہاتھوں پر مسح کہاں تک کیا جائے لہٰذا اس اطلاق کا تقاضا یہ ہے کہ ید یعنی ہاتھ جو انگلیوں سے لے کر بغل اور کندھوں تک کے حصے کے لئے بولا جاتا ہے اس پورے حصے پر مسح کیا جائے اس لئے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے ہاتھ کے پورے حصے پر مسح کر ڈالا۔ اب جہاں تک مسئلے کا تعلق ہے تو یہ کہا جائے گا کہ یہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا اپنا اجتہاد تھا کیونکہ جمہور علماء کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے تیمم میں ہاتھوں پر کہینوں تک مسح کرنے کا جو حکم دیا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ تیمم وضو کا قائم مقام ہے اور وضو کے بارے میں قرآن نے صراحت کے ساتھ بتادیا کہ ہاتھوں کو کہینوں تک دھونا فرض ہے لہٰذا جس طرح اصل یعنی وضو میں ہاتھوں کو کہنیوں تک دھویا جاتا ہے۔ وضو کے قائم مقام یعنی تیمم میں بھی ہاتھوں پر مسح وہیں تک کیا جانا چاہئے۔ پھر اس سے پہلے تیمم کے بارے میں کچھ احکام نقل کئے گئے تھے اس حدیث پر چونکہ باب ختم ہو رہا ہے اس لئے مناسب ہے کہ تیمم کے چھ دوسرے احکام و مسائل جو پہلے نقل نہیں کئے گئے ذکر کر دئیے جائیں۔ پہلے بتایا جا چکا ہے کہ تیمم ان چیزوں سے کرنا چاہئے جو زمین کی جنس سے ہوں چناچہ مٹی، ریت، چونا، قلعی، سرمہ، ہڑتال اور پتھر سے تیمم کیا جاسکتا ہے، اسی طرح موتی اور مونگے کے علاوہ تمام جو اہرت سے بھی تیمم کیا جاسکتا ہے۔ یہ بھی سمجھ لیجئے کہ تیمم کرنے کے لئے ان چیزوں پر جو زمین کی جنس سے ہوں غبار ہونا ضروری نہیں ہے۔ یعنی ان مذکور چیزوں پر غبار نہ ہونے کی صورت میں بھی ان سے تیمم کیا جاسکتا ہے۔ ہاں اگر ایسی چیز کے ذریعے تیمم کیا جائے جو زمین کی جنس سے نہ ہو تو اس پر غبار ہونا ضروری ہے، غبار نہ ہونے کی شکل میں اس کے ذریعے کیا گیا تیمم جائز نہ ہوگا، مثلاً کسی لکڑی، کپڑے یا سونے اور چاندی وغیرہ پر غبار ہو تو اس سے تیمم جائز ہے۔ تیمم کے جواز کے لئے چار شرائط ہیں۔ (١) پانی کے استعمال سے حقیقۃً یا حکمًا عاجز ہونا۔ (٢) جس چیز سے تیمم کیا جائے اس کا پاک ہونا۔ (٣) استیعاب یعنی اعضاء تیمم کے ہر ہر حصے پر اس طرح ہاتھ پھیرنا کہ کوئی جگہ مسح سے باقی نہ رہ جائے۔ (٤) نیت اس کے بارے میں پہلے بتایا جا چکا ہے کہ نماز اسی تیمم سے صحیح ہوگی جس میں حدث سے طہارت کی نیت کی جائے۔ اس سلسلے میں (حدث یا جنابت کی تعیین شرط نہیں ہے) یا اس سے عبادت مقصودہ کی نیت کی جائے جو بغر طہارت کے صحیح نہیں ہوتی۔ چناچہ اگر کافر اسلام قبول کرنے کے لئے تیمم کرے یا کوئی آدمی مسجد میں جانے کے لئے تیمم اور پھر یہ چاہئے کہ اسی تیمم سے نماز پڑھ لے تو نماز اس تیمم سے جائز نہ ہوگی۔ جنبی، محدث، حائضہ اور نفاس والی عورت سب کے لئے تیمم کا ایک ہی طریقہ ہے جو پہلے ذکر کیا جا چکا ہے۔

503Mishkaat-al-Masabih

غسل مسنون کا بیان

عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اِذَا جَآءَ اَحَدُکُمُ الْجُمُعَۃَ فَلْےَغْتَسِلْ ۔(صحیح البخاری و صحیح مسلم)

حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی جمعہ کی نماز پڑھنے آئے تو اسے چاہئے کہ غسل کرلے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح مختار مسلک تو یہ ہے کہ غسل جمعہ کی نماز کے لئے ہے کہ اسی طہارت سے جمعہ اداء کرنا چاہئے لیکن بعض حضرات فرماتے ہیں کہ غسل یوم جمعہ کی تعطیم و تکریم کے لئے ہے۔ بہر حال تمام علماء کے نزدیک نماز جمعہ کے لئے غسل کرنا سنت مؤ کدہ ہے مگر حضرت امام مالک (رح) کی ایک روایت یہ ہے کہ نماز جمعہ کے لئے غسل کرنا واجب ہے۔

504Mishkaat-al-Masabih

غسل مسنون کا بیان

وعَنْ اَبِیْ سَعِےْدِ الْخُدْرِیِّص قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم غُسْلُ ےَوْمِ الْجُمُعَۃِ وَاجِبٌ عَلٰی کُلِّ مُحْتَلِمٍ۔(صحیح البخاری و صحیح مسلم)

اور حضرت ابوسعید خدری ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہر بالغ پر جمعہ کے روز نہانا واجب ہے۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم ) تشریح واجب کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اگر کوئی آدمی جمعہ کے روز غسل نہ کرے تو وہ گنہگار ہوگا بلکہ اس کا مفہوم یہ ہوگا کہ یہ ثابت ہے کہ جمعہ کے روز غسل کو ترک کرنا مناسب نہیں ہے۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسا ہمارے ہاں عام طور کسی مستحق رعایت کے بارے میں کیا جاتا ہے کہ فلاں آدمی کی رعایت ہم پر واجب ہے۔ چنانچہ علماء لکھتے ہیں کہ یہاں اور اسی طرح ایسے دوسرے مواقع پر واجب کا لفظ استعمال فرمانا دراصل استحباب کے حکم کو موکد کرنا ہے اور اس کی وجہ خاص طور پر یہ ہے کہ ابتدائے اسلام میں مسجدیں بہت تنگ اور چھوٹی ہوتی تھیں اور مسلمان صوف (موٹا اونی کپڑا) کا استعمال کرتے تھے نیز محنت و مشقت بہت زیادہ کیا کرتے تھے چناچہ جب ان کو پسینہ آتا تھا تو اس کی بو کی وجہ سے آس پاس کے لوگ تکلیف محسوس کرتے تھے اس لئے آپ ﷺ نے اس حکم میں واجب کا لفظ استعمال فرمایا ہے تاکہ لوگ جمعہ کے روز غسل کے اس حکم کو جلدی قبول کرلیں اور اس پر پابندی سے عمل پیرا ہوں۔

505Mishkaat-al-Masabih

غسل مسنون کا بیان

وَ عَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَص قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم حَقٌّ عَلٰی کُلِّ مُسْلِمٍ اَنْ ےَّغْتَسِلَ فِیْ کُلِّ سَبْعَۃِ اَےَّامٍ ےَّوْمًا ےَغْسِلُ فِےْہِ رَاسَہ، وَجَسَدَہ،۔(صحیح البخاری و صحیح مسلم)

اور حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہر (عاقل بالغ) مسلمان پر حق ہے (یعنی ثابت اور لازم ہے یا لائق ہے) کہ ہر ہفتہ میں ایک دن (یعنی جمعہ کو) نہائے اور اپنا سارا بدن دھوئے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)

506Mishkaat-al-Masabih

غسل مسنون کا بیان

وَعَنْ سَمُرَۃَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم مَنْ تَوَضَّأَ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ فَبِھَا وَنِعْمَتْ وَمَنِ اغْتَسَلَ فَالْغُسْلُ اَفْضَلُ۔ (رواہ احمد بن حنبل و ابوداؤد الترمذی و النسائی والدارمی)

حضرت سمرہ ابن جندب ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے جمعہ کے روز وضو ہی کرلیا تو اس نے فرض ادا کیا اور یہ بہت اچھا فرض ہے اور جس آدمی نے (نماز جمعہ کے لئے) غسل کیا تو یہ بہت اچھا ہے۔ (مسند احمد بن حنبل، ابوداؤدِ، جامع ترمذی، سنن نسائی، دارمی) تشریح فبھا و نعمت کا مطلب یہ ہے کہ فبھا ب فریضہ اخذ ونعمت الفریضہ یعنی (جس آدمی نے نماز کے لئے غسل کیا اس نے فرض ادا کیا اور وہ فرض کیا ہی خوب ہے؟ اس سے پہلے حضرت ابوسعید خدری ؓ کی جو روایت گزری ہے اس سے تو معلوم ہوتا تھا کہ جمعہ کے روز غسل کرنا واجب ہے مگر یہ حدیث بصراحت اس پر دلالت کرتی ہے کہ جمعہ کے روز غسل کرنا واجب نہیں ہے بلکہ سنت ہے۔

507Mishkaat-al-Masabih

غسل مسنون کا بیان

وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ غَسَّلَ مَیِّتًا فَلْیَغْتَسِلْ۔ (رَوَاہُ ابْنُ مَاجَۃَ وَ زَادَ اَحْمَدُ وَ التِّرْمِذِیُّ وَاَبُوْدَاؤدَ مَنْ حَمَلَہ، فَلْیَتَوَضَّأْ)

اور حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ جس آدمی نے مردے کو نہلایا ہو اسے خود بھی نہا لینا چاہئے۔ (ابن ماجۃ) اور مسند احمد بن حنبل، ترمذی اور ابوداؤد نے (اس حدیث میں) مزید نقل کیا ہے کہ آپ ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ) جو آدمی جنازہ کو کندھا دینے کا ارادہ کرے اسے وضو کرلینا چاہئے ) تشریح اس حدیث سے دو چیزیں معلوم ہوئیں۔ اول تو یہ کہ جب کوئی آدمی کسی مردے کو نہلائے تو اسے چاہئے کہ غسل میت سے فراغت کے بعد خود بھی نہائے کیونکہ ہوسکتا ہے کہ میت کو غسل دیتے وقت اس کے اوپر چھینٹیں وغیرہ پڑگئی ہوں لہٰذا پاکی اور صفائی کے لئے نہا لینا مناسب ہے۔ اکثر علماء کرام کے نزدیک غسل میت کے بعد نہانے کا یہ حکم استحباب کے درجے میں ہے کیونکہ ایک حدیث صحیح میں یہ ارشاد منقول ہے کہ اگر تم مردے کو نہلاؤ تو تم پر غسل لازم نہیں ہے۔ اس حدیث سے دوسری چیز یہ معلوم ہوئی کہ جب کوئی آدمی جنازے کو اٹھانے کا ارادہ کرے تو اسے وضو کرلینا چاہئے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب کوئی آدمی باوضو ہو کر جنازے کو اٹھائے گا تو جب نماز پڑھنے کی جگہ جنازہ رکھا جائے گا اور نماز جنازہ شروع ہوگی تو وہ فورًا نماز میں شریک ہوجائے گا یہ نہیں ہوگا کہ وہ تو جنازہ رکھ کر وضو کرنے چلا جائے اور ادھر نماز بھی ہوجائے۔ اس حکم کے بارے میں بھی متفقہ طور پر سب کی رائے یہی ہے کہ یہ حکم استحباب کے درجے میں ہے یعنی جنازہ اٹھانے سے پہلے وضو کرلینا مستحب ہے ضروری اور واجب نہیں ہے۔

508Mishkaat-al-Masabih

غسل مسنون کا بیان

وَعَنْ عَائِشَۃَ اَنَّ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلم کَانَ یَغْتَسِلُ مِنْ اَرْبَعٍ مِنَ الْجَنَابَۃِ وَ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ وَمِنَ الْحِجَامَۃِ وَمِنْ غُسْلِ الْمَیِّتِ۔ (رواہ ابوداؤد)

اور حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ چار چیزوں کی وجہ سے نہانے کا حکم دیا کرتے تھے۔ (١) جنابت یعنی ناپاکی سے (٢) جمعہ کے واسطے (٣) سینگی کھنچوانے سے (٤) مردے کو نہلانے سے۔ (ابوداؤد) تشریح یغتسل کا اگر لفظی ترجمہ کیا جائے تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ سرکار دو عالم ﷺ ان چار چیزوں کی وجہ سے غسل فرمایا کرتے تھے۔ مگر رسول اللہ ﷺ کے بارے میں چونکہ یہ ثابت نہیں ہے کہ آپ ﷺ نے کبھی بھی کسی مردے کو نہلایا ہو اس لئے یغتسل کا ترجمہ یہ کیا جاتا ہے کہ آپ ﷺ ان چار چیزوں کی وجہ سے نہانے کا حکم فرمایا کرتے تھے۔ بہر حال ان چار چیزوں میں سے جنابت یعنی ناپاکی کا غسل تو فرض ہے باقی سب مستحب ہیں۔ سینگی کھنچوانے یعنی پچھنے لگوانے کے بعد غسل کرنے کا حکم صفائی و ستھرائی کے لئے ہے گویا پچھنے لگوانے کے بعد اس لئے نہا لینا چاہئے کہ اس کی وجہ سے جو خون وغیرہ لگ گیا ہوا اس سے پاکی و صفائی حاصل ہوجائے۔

509Mishkaat-al-Masabih

غسل مسنون کا بیان

وَعَنْ قَیْسِ بْنِ عَاصِمٍ اَنَّہُ اَسْلَمَ فَاَمَرَہُ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم اَنْ یَّغْتَسِلُ بِمَآءٍ وَسِدْرٍ۔ (رواہ الترمذی و ابوداؤد والنسائی )

اور حضرت قیس ابن عاصم ؓ کے بارے میں مروی ہے کہ وہ جب اسلام کی دولت سے بہرورہ ہوئے تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں یہ حکم دیا کہ وہ پانی اور بیری کے پتوں سے نہائیں۔ (جامع ترمذی، سنن ابوداؤد اور سنن نسائی) تشریح اگر کوئی کافر ایسی حالت میں مسلمان ہو کہ وہ حالت جنابت میں تھا تو اس شکل میں اس پر غسل کرنا واجب ہے۔ ورنہ توا سلام لانے کے بعد نہانا مستحب ہے اور اس سلسلے میں صحیح اور اولیٰ یہ ہے کہ اگر کوئی مسلمان ہونا چاہے تو اسے چاہئے کہ وہ پہلے کلمہ شہادت پڑے لے اس کے بعد نہائے۔ اس طرح اس کے لئے یہ بھی سنت ہے کہ نہانے سے پہلے سر منڈالے۔ آپ ﷺ نے حضرت قیس ؓ کو پانی کے ساتھ بیری کے پتوں سے بھی نہانے کا حکم اس لئے دیا تاکہ پاکی اور صفائی پوری طرح حاصل ہوجائے۔

510Mishkaat-al-Masabih

غسل مسنون کا بیان

عَنْ عِکْرِمَۃَ قَالَ اِنَّ اُنَا سًا مِنْ اَھْلٍ العِرَاقٍ جَاءُ وْ ا فَقَالُوْا یَا ابْنَ عَبَّاسٍ اَتَرَی الْغُسْلَ یَوْمَ الْجُمْعَۃِ وَاجِبًا قَالَ لَا وَلَکِنَّہُ اَطْھَرُ وَ خَیْرُ لِّمَنِ اغْتَسَلَ وَمَنْ لَمْ یَغْتَسِلْ فَلَیْسَ عَلَیْہِ بِوَاجِبٍ وَ سَأُخْبِرُ کُمْ کَیْفَ بَدَءَ الْغُسْلُ کَانَ النَّاسُ مَجْھُوْ دِیْنَ یَلْبَسُوْنَ الصُّوْفَ وَیَعْمَلُوْنَ عَلَے ظُھُوْرِھِمْ وَ کَانَ مَسْجِدُ ھُمْ ضَیِّقًا مُقَارِبَ اِلسَّقْفِ اَنَّمَا ھُوَ عَرِیْشٌ فَخَرَجَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم فِی یَوْمٍ حَارٍوَ عَرِقَ النَّاسُ فِی ذٰلِکَ الصُّوْفِ حَتّٰی صَارَتْ مِنْھُمْ رِیَاحٌ آَذٰی بِذٰلِکَ بَعْضُھُمْ بَعْضًا فَلَمَّا وَجَدَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم تِلْکَ الرِّیَاحَ قَالَ یَا اَیُّھَا النَّاسُ اِذَاکَانَ ھٰذَا الْیَوْمُ فَاغْتَسِلُوْا وَلْیَمَسَّ اَحَدُکُمْ اَفْضَلَ مَا یَجِدُ مِنْ دُھْنِہٖ وَطِیْبِہٖ قَالَ ابْنُ عَبَّاٍس ثُمَّ جَآءَ اﷲُ بِالخَیْرِ وَ لَبِسُوْا غَیْرَ الصُّوْفِ وَکُفُوا الْعَمَلَ وَوُسِعَ مَسْجِدُ ھُمْ وَ ذَھَبَ بَعْضُ الَّذِی کَانَ یُؤْذِی بَعْضُھُمْ بَعْضًا مِنَ الْعِرَقِ۔ (رواہ ابوداؤد)

حضرت عکرمہ ؓ راوی ہیں کہ عراق کے چند آدمی آئے اور حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ سے پوچھا کہ کیا آپ کی رائے میں جمعہ کہ دن نہانا واجب ہے؟ انہوں نے کہا کہ نہیں! مگر (جمعہ کے دن نہانا) بہت زیادہ صفائی اور ستھرائی ہے اور جو آدمی غسل کرلے اس کے لئے بہتر ہے اور جو آدمی نہ نہائے اس پر واجب بھی نہیں ہے اور میں تم کو بتاتا ہوں کہ جمعہ کے دن غسل کی ابتداء کیوں کر ہوئی؟ (یعنی جمعہ کے روز غسل کس وجہ سے شروع ہوا تو اصل بات یہ تھی کہ اسلام کے شروع زمانہ میں) بعض نادار صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اونی لباس پہنے تھے اور پیٹھ پر (بوجھ اٹھانے کا) کام کرتے تھے، ان کی مسجد تنگ تھی جس کی چھت نیچی اور کھجور کی ٹہنیوں کی تھی۔ ایک مر تبہ جمعہ کے دن جب سخت گرمی کی وجہ سے) اونی لباس کے اندر لوگ پسینہ سے تر ہوگئے، یہاں تک کہ (پسینہ کی) بدبو پھیلی جس سے لوگ آپس میں تکلیف محسوس کرنے لگے۔ جب سرکار دو عالم ﷺ کو بدبو کا احساس ہوا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ لوگو! جب جمعہ کا دن ہو تو غسل کرلیا کرو بلکہ تم میں سے جسے تیل یا خوشبو مثلاً عطر وغیرہ میسر ہو وہ استعمال کرے۔ حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے مال و دولت کی فراوانی کی تو لوگوں نے اونی لباس چھوڑ کر (عمدہ) کپڑے استعمال کرنے شروع کردیئے محنت و مشقت کے کام بھی چھوٹ گئے، مسجد بھی وسیع ہوگی اور پسینے کی وجہ سے جو لوگوں کو آپس میں تکلیف ہوتی تھی وہ بھی جاتی رہی۔ ( ابوداؤد) تشریح شروع میں جب کہ اسلام کا ابتدائی دور تھا مسلمانوں کی زندگی محنت و مشقت اور تنگی و ناداری سے بھر پور تھی، ایسے بہت کم صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین تھے جو مال دار اور خوش حال تھے۔ زیادتی اور کثرت ایسے ہی لوگوں کی تھی جو دن بھر محنت و مشقت کرتے اور جنگلوں اور شہروں میں مزدوری کرتے۔ اس طرح وہ حضرات مشکلات و پریشانی کی جکڑ بندیوں میں رہ کر اپنے دین و ایمان کی آبیاری کیا کرتے تھے۔ لیکن تنگی و پریشان حالی کا یہ دور زیادہ عرصہ نہیں رہا جب اسلام کی حقیقت آفریں آواز مکہ اور مدینہ کی گھاٹیوں سے نکل کر عالم کے دوسرے حصوں میں پہنچی اور مسلمانوں کے لشکر اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ کا نام بلند کرنے کے لئے ان تمام سختیوں اور پریشانیوں کو زاد راہ بناتے ہوئے قیصر و کسریٰ جیسے والیان ملک کی حشمت و سلطنت اور شان و شوکت سے جا ٹکراے اور جس کے نتیجے میں انہوں نے دنیا کے اکثر حصوں پر اپنی فتح و نصرت کے علم گاڑ دئیے تو تنگی و پریشان حالی کا وہ دور خدا نے فراخی و وسعت میں تبدیل کردیا۔ اب مسلمان نادار اور پریشان حال نہ رہے بلکہ مالدار اور خوش حال ہوگئے اور محنت و مشقت کی جگہ دنیا کی جہانبائی و مسند آرائی نے لے لی۔ اس حدیث میں حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ نے جمعہ کے روز غسل کے حکم کی وجہ بیان کرتے ہوئے مسلمانوں کے ان دونوں ادوار کا ایک ہلکا اور لطیف خاکہ پیش فرمایا ہے کہ پہلے تو مسلمان اتنے نادار اور تنگ دست تھے کہ نہ تو ان کے پاس ڈھنگ سے پہننے کے کپڑے تھے اور نہ معیشت کی دوسری آسانیاں میسر تھیں بلکہ وہ لوگ دن بھر محنت و مزدوری کر کے سوکھا روکھا کھاتے اور اونی لباس پہنا کرتے تھے جس کہ وجہ سے جب سخت گرمی میں ان کو پسینہ آتا تو مسجد میں بیٹھے ہوئے آس پاس کے لوگوں کو پسینے کی بو سے تکلیف ہوا کرتی تھی۔ مگر جب بعد میں اللہ تعالیٰ نے ان پر مال و زر کے دروازے کھول دئیے تو وہ بغیر کسی کوشش اور محنت کے مال دار اور خوش حال ہوگئے اور اللہ نے ان پر اسباب معیشت کی بےانتہا فراوانی کردی۔ حدیث کے آخری لفط بَعْضًا مِنَ الْعِرَقِ میں لفظ من بیان کیلئے ہے لفظ بعض کا اور یہاں بعض سے مراد اکثر ہے اس طرح اس جملے کے معنی یہ ہوں گے کہ اکثر لوگوں کے پسینے جو آپس میں لوگوں کو تکلیف پہنچاتے تھے خوشحالی اور اسباب معیشت کی فراوانی کی وجہ سے ختم ہوگئے۔ بہر حال حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ کے اس ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ پسینے کی بدبو کی کثرت کی وجہ سے ابتدائے اسلام میں جمعہ کے روز غسل کرنا واجب تھا مگر جب اسباب معیشت کی فراوانی اور مسلمانوں کی خوشحالی کی وجہ سے یہ چیز کم ہوگئی تو غسل کے وجوب کا حکم منسوخ ہوگیا اور اس کی جگہ سنت کے حکم نے لے لی۔ اس طرح اب جمعہ کے روز غسل کرنا واجب نہیں ہے بلکہ سنت ہے۔

511Mishkaat-al-Masabih

حیض کا بیان

لغت میں حیض کے معنی جاری ہونا ہیں اور اصطلاح شریعت میں حیض اس خون کو کہا جاتا ہے جو عورت کے رحم سے بغیر کسی بیماری اور ولادت کے جاری ہوتا ہے اور جسے عرف عام میں ماہواری یا ایام بھی کہتے ہیں۔ اسی طرح رحم عورت سے جو خون کسی مرض کی وجہ سے آتا ہے اسے استخاضہ اور جو خون ولادت کے بعد جاری ہوتا ہے اسے نفاس کہتے ہیں۔ حیض کی مدت کم سے کم تین دن اور زیادہ سے زیادہ دس دن ہے لہٰذا اس مدت میں خون خالص سفیدی کے علاوہ جس رنگ میں بھی آئے وہ حیض کا خون شمار ہوگا یعنی حیض کے خون کا رنگ سرخ بھی ہوتا ہے اور سیاہ و سبز بھی، نیز زرد اور مٹی کے رنگ جیسا بھی حیض کے خون کا رنگ ہوتا ہے۔ ایام حیض میں نماز، روزہ نہ کرنا چاہئے البتہ ایام گزر جانے کے بعد روزے تو قضاء ادا کئے جائیں گے مگر نماز کی قضا نہیں ہوگی۔ مناسب ہے کہ اس موقعہ پر حیض کے کچھ مسائل و احکام (ماخوذ از علم الفقہ) ذکر کر دئیے جائیں۔ (١) اگر کوئی عورت سو کر اٹھنے کے بعد خون دیکھے تو اس کا حیض اسی وقت سے شمار ہوگا جب سے وہ بیدار ہوئی ہے اس سے پہلے نہیں اور اگر کوئی حائضہ عورت سو کر اٹھنے کے بعد اپنے کو طاہر پائے تو جب سے سوئی ہے اسی وقت سے طاہر سمجھی جائے گی۔ (٢) حیض و نفاس کی حالت میں عورت کے ناف اور زانوں کے درمیان کے جسم کو دیکھنا یا اس سے اپنے جسم کو ملانا بشرطیکہ کوئی کپڑا درمیان میں نہ ہو مکروہ تحریمی ہے اور جماع کرنا حرام ہے۔ (٣) حیض والی عورت اگر کسی کو قرآن مجید پڑھاتی ہو تو اس کو ایک ایک لفظ رک رک کر پڑھانے کی غرض سے کہنا جائز ہے۔ ہاں پوری آیت ایک دم پڑھ لینا اس وقت بھی ناجائز ہے۔ (٤) حیض و نفاس کی حالت میں عورت کے بوسے لینا، اس کا استعمال کیا پانی وغیرہ پینا اور اس سے لپٹ کر سونا اور اس کے ناف اور ناف کے اوپر اور زانوں کے نیچے کے جسم سے اپنے جسم کو ملانا اگرچہ کپڑا درمیان میں نہ ہو اور ناف وزانوں کے درمیان کپڑے کے ساتھ ملا ناجائز ہے بلکہ حیض والی عورت سے علیحدہ ہو کر سونا یا اس کے اختلاط سے بچنا مکروہ ہے۔ (٥) جس عورت کا حیض دس دن اور دس راتیں آکر بند ہوا ہو تو اس سے بغیر غسل کے خون بند ہوتے ہی جماع جائز ہے اور جس عورت کا خون دس دن سے کم آکر بند ہوا ہو تو اگر اس کی عادت سے بھی کم آکر بند ہوا ہے تو اس سے جماع جائز نہیں۔ جب تک کہ اس کی عادت نہ گزر جائے اور عادت کے موافق اگر بند ہوا ہے تو جب تک غسل نہ کرے یا ایک نماز کا وقت نہ گزر جائے جماع جائز نہیں۔ نماز کا وقت گزر جانے کے بعد بغیر غسل کے بھی جائز ہوگا۔ نماز کے وقت گزر جانے سے یہ مقصود ہے کہ اگر شروع وقت میں خون بند ہوا تو باقی وقت سب گزر جائے اور اگر آخر وقت میں خون بند ہوا تو اس قدر وقت ہونا ضروری ہے کہ جس میں غسل کر کے نماز کی نیت کرنے کی گنجائش ہو اور اگر اس سے بھی کم وقت باقی ہو تو پھر اس کا اعتبار نہیں دوسری نماز کا پورا وقت گزرنا ضروری ہے۔ یہی حکم نفاس کا ہے کہ اگر چالیس دن آکر بند ہوا ہو تو خون بند ہوتے ہی بغیر غسل کے اور اگر چالیس دن سے کم آکر بند ہوا ہو اور عادت سے بھی کم ہو تو بعد عادت گزر جانے کے اور اگر عادت کے موافق بند ہوا ہو تو غسل کے بعد یا نماز کا وقت گزر جانے کے بعد جماع وغیرہ جائز ہے۔ ہاں ان کے سب صورتوں میں مستحب ہے کہ بغیر غسل کے جماع نہ کیا جائے۔ (٦) جس عورت کا خون دس دن اور راتوں سے کم آکر بند ہوا اور عادت مقرر ہوجانے کی شکل میں عادت سے بھی کم ہو تو اس کو نماز کے آخر وقت مستحب تک غسل میں تاخیر کرنا واجب ہے اس خیال سے کہ شاید پھر خون آجائے مثلاً عشاء کے شروع وقت خون بند ہوا ہو تو عشاء کے آخر وقت مستحب یعنی نصف شب کے قریب تک اس کو غسل میں تاخیر کرنا چاہئے اور جس عورت کا حیض دس دن یا عادت مقرر ہونے کی شکل میں عادت کے موافق آکر بند ہوا ہو تو اس کو نماز کے آخر وقت مستحب تک غسل میں تاخیر کرنا مستحب ہے۔ (٧) اگر کوئی عورت غیر زمانہ حیض میں کوئی ایسی دوا استعمال کرے جس سے خون آجائے تو وہ حیض نہیں مثلاً کسی عورت کو مہینے میں ایک دفعہ پانچ دن حیض آتا ہو تو اس کے حیض کے پانچ دن کے بعد کسی دوا کے استعمال سے خون آجائے تو وہ حیض نہیں۔ (٨) اگر کسی عادت والی عورت کو خون جاری ہوجائے اور برابر جاری رہے اور اس کو یہ یاد نہ رہے کہ مجھے کتنے دن حیض آتا تھا یا پھر یہ یاد نہ رہے کہ مہینہ کی کس کس تاریخ سے شروع ہوتا تھا اور کب ختم ہوتا تھا۔ یا دونوں باتیں یاد نہ رہیں تو اس کو چاہئے کہ اپنے غالب گمان پر عمل کرے یعنی جس زمانے کو وہ حیض کا زمانہ خیال کرے اس زمانے میں حیض کے احکام پر عمل کرے اور جس زمانے کو طہارت کا زمانہ خیال کرے اس زمانے میں طہارت کے احکام پر عمل کرے اور اگر اس کا گمان کسی طرف نہ ہو تو اس کو ہر نماز کے وقت نیا وضو کر کے نماز پڑھنی چاہئے اور روزہ بھی رکھے مگر جب اس کا یہ مرض رفع ہوجائے روزہ کی قضاء ادا کرنی ہوگی اور اگر اس کو شک کی کیفیت ہو تو اس میں دو صورتیں ہیں۔ پہلی صورت یہ ہے کہ اس کو کسی زمانے کی نسبت یہ شک ہو کہ یہ زمانہ حیض کا ہے یا طہر کا تو اس صورت میں ہر نماز کے وقت نیا وضو کر کے نماز پڑھے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ اس کو کسی زمانہ کی نسبت پر شک ہو کہ یہ زمانہ حیض کا ہے یا طہر کا یا حیض سے خارج ہونے کا تو اس صورت میں وہ ہر نماز کے وقت غسل کر کے نماز پڑھ لے۔

512Mishkaat-al-Masabih

حیض کا بیان

عَنْ اَنَسٍ قَالَ اِنَّ الْےَھُوْدَ کَانُوْا اِذَا حَاضَتِ الْمَرْأَۃُ فِےْھِمْ لَمْ ےُؤَاکِلُوْھَا وَلَمْ ےُجَامِعُوْھُنَّ فِی الْبُےُوْتِ فَسَأَلَ اَصْحَابُ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم النَّبِیَّ فَاَنْزَلَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَےَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الْمَحِےْضِ اَلْاٰےَۃَ(البقرہ٢: ٢٢٢) فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اِصْنَعُوْا کُلَّ شَےْئٍ اِلَّا النِّکَاحَ فَبَلَغَ ذَالِکَ الْےَھُوْدَ فَقَالُوْا مَا ےُرِےْدُ ھٰذَا الرَّجُلُ اَنْ ےَّدَعَ مِنْ اَمْرِنَا شَےْئًا اِلَّا خَالَفَنَا فِےْہِ فَجَآءَ اُسَےْدُ بْنُ حُضَےْرٍوَّعَبَّادُ ابْنُ بِشْرٍ فَقَالَا ےَا رَسُوْلَ اللّٰہِ اِنَّ الْےَھُوْدَ یَقُوْلُ کَذَا وَکَذَااَفَلَا نُجَامِعُھُنَّ فَتَغَےَّرَ وَجْہُ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم حَتّٰی ظَنَنَّا اَنْ قَدْ وَجَدَ عَلَےْھِمَا فَخَرَجَا فَاسْتَقْبَلَتْھُمَا ھَدِےَّۃٌ مِّنْ لَّبَنٍ اِلَی النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم فَاَرْسَلَ فِیْ اٰثَارِھِمَا فَسَقَاھُمَا فَعَرَفَا اَنَّہ، لَمْ ےَجِدْ عَلَےْھِمَا۔ (صحیح مسلم)

حضرت انس ؓ راوی ہیں کہ یہود میں سے جو کوئی عورت ایام سے ہوجاتی تو وہ لوگ نہ صرف یہ کہ اس کے ساتھ کھاتے پیتے نہ تھے بلکہ گھروں میں سونا بیٹھنا تک چھوڑ دیتے تھے چناچہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے آپ ﷺ سے اس کے بارے میں حکم پوچھا (کہ حائضہ عورتوں کے بارے میں یہودیوں کا تو یہ عمل ہے لیکن ہم کیا کریں؟ ) جبھی اللہ تعالیٰ نے یہ آیت ( وَيَسْ َ لُوْنَكَ عَنِ الْمَحِيْض) 2۔ البقرۃ 222) (یعنی یہ لوگ آپ ﷺ سے حیض کے بارے میں پوچھتے ہیں الخ نازل فرمائی (آیت کے نازل ہونے کے بعد) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ) تم اپنی عورتوں کے ساتھ جب کہ وہ حائضہ ہوں) سوائے صحبت کے جو چاہے کیا کرو جب یہ خبر یہودیوں کو پہنچی تو انہوں نے کہا یہ آدمی یعنی محمد ﷺ ہمارے جس دینی امر کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اس میں ہماری مخالفت ضرور کرتے ہیں۔ (یہود کی زبانی یہ سن کردو صحابہ کرام) حضرت اسید ابن حضیر اور حضرت عباد ابن بشر ؓ (دربار رسالت میں) حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! یہودی ایسا ایسا کہہ رہے ہیں (یعنی انہوں نے یہودیوں کا کلام نقل کیا اور پھر یہ کہا کہ) اگر اجازت ہو (یہودیوں کی موافقت کے لئے) ہم اپنی عورتوں کے پاس (ایام حیض) میں رہنا سہنا چھوڑ دیں۔ (یہ سن کر) رسول اللہ ﷺ کے چہرہ مبارک کا رنگ متغیر ہوگیا اور ہمیں یہ گمان ہوگیا کہ آپ ﷺ ان دونوں پر خفا ہوگئے ہیں۔ چناچہ وہ دونوں بھی نکل کر چل دئیے۔ ان کے جاتے ہی رسول اللہ ﷺ کے پاس کہیں سے تحفہ میں دودھ آگیا، آپ ﷺ نے ان دونوں کے پیچھے (کسی آدمی کو بلانے کے لئے) بھیجا (جب وہ آگئے تو) آپ ﷺ نے انہیں وہ دودھ پلا دیا (تاکہ انہیں رسول اللہ ﷺ کے لطف و کرم کا احساس ہوجائے چناچہ دودھ پینے کے بعد انہوں نے جانا کہ رسول اللہ ﷺ ہم سے ناراض نہیں ہیں۔ (صحیح مسلم) تشریح پوری آیت یہ ہے ( وَيَسْ َ لُوْنَكَ عَنِ الْمَحِيْضِ قُلْ ھُوَ اَذًى فَاعْتَزِلُوا النِّسَا ءَ فِي الْمَحِيْضِ وَلَا تَقْرَبُوْھُنَّ حَتّٰى يَ طْهُرْنَ ) 2۔ البقرۃ 222) اور (اے محمد ﷺ صحابہ کرام حیض کے بارے میں دریافت کرتے ہیں سو آپ ( صلی اللہ علیہ و سلم) ان سے کہہ دیجئے کہ وہ تو نجاست ہے لہٰذا ایام حیض میں عورتوں سے کنارہ کش رہو اور جب تم وہ پاک نہ ہوجائیں ان سے مقاربت نہ کرو۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ایام حیض میں عورتوں سے کنارہ کشی اختیار کرنے اور ان سے مقاربت نہ کرنے کا حکم دیا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ اپنی بیویوں سے حیض کی حالت میں جماع نہ کرو، اس کے علاہ تمام چیزیں جائز ہیں۔ یعنی ان کے ساتھ کھانا، پینا، گھروں میں رہنا سہنا، لیٹنا، بیٹھنا یہاں تک کہ عورت کے ناف کے اوپر کے حصے سے اپنا بدن ملانا یا ہاتھ لگانا یہ سب چیزیں جائز ہیں۔ لہٰذا اس آیت سے معلوم ہوا کہ ایام حیض میں اگر کوئی آدمی جماع کرے گا تو وہ آدمی گنہ گار ہوگا کیونکہ یہ حرام ہے۔ یہاں تک کہ اگر کوئی آدمی اپنی عورت سے ایام حیض میں یہ سمجھ کر جماع کرے کے یہ حلال اور جائز ہے تو وہ کافر ہوجائے گا کیونکہ اس کا حرام ہونا قرآن سے ثابت ہوتا ہے، (دونوں صحابہ کرام نے یہود کی باتیں سن کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں جو معروضہ پیش کیا تھا اس سے یہ نتیجہ اخذ نہ کرلیجئے کہ اللہ نخواستہ ان کے ذہن میں اس حکم کی کوئی اہمیت نہ تھی یا یہ کہ ایک اسلامی حکم کے مقابلے میں یہودیوں کی بات کا انہیں زیادہ خیال تھا بلکہ ان کا مطلب تو صرف یہ تھا کہ آپ ﷺ اجازت دیں تو ہم عورتوں کے ساتھ ایام حیض میں اٹھنا بیٹھنا ترک کردیں اور ان کے ساتھ کھانا پینا چھوڑ دیں، تاکہ یہود جو طعن کرتے ہیں وہ نہ کریں اور ہم آپس میں الفت و یک جہتی کے ساتھ رہا کریں۔

513Mishkaat-al-Masabih

حیض کا بیان

وَعَنْ عَآئِشَۃَص قَالَتْ کُنْتُ اَغْتَسِلُ اَنَا وَالنَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم مِنْ اِنَآءٍ وَّاحِدٍ وَّکِلَانَا جُنُبٌ وَکَانَ ےَاْمُرُنِیْ فَاَتَّزِرُ فَےُبَاشِرُنِیْ وَاَنَا حَآئِضٌ وَّکَانَ ےُخْرِجُ رَأسَہُ اِلَی وَ ھُوَ مُعْتَکِفٌ فَاَغْسِلُہُ وَاَنَا حَائِضٌ۔(صحیح البخاری و صحیح مسلم)

اور حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ میں اور رسول اللہ ﷺ دونوں جنابت کی حالت میں ایک برتن سے نہا لیا کرتے تھے۔ (اور بعض اوقات) میں ایام سے ہوتی تو آپ ﷺ مجھے (تہ بند باندھنے کے واسطے) ارشاد فرماتے جب میں تہبند باندھ لیتی تو آپ ﷺ مجھ سے (ناف کے اوپر اوپر) اپنے بدن کو لگا کر لیٹ جایا کرتے تھے اور (بعض مرتبہ) آپ اعتکاف میں ہوتے اور اپنا سر مبارک (مسجد سے) باہر نکال دیتے تو میں اپنے ایام کی حالت میں آپ ﷺ کا سر مبارک دھویا کرتی تھی۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح عرب کے قاعدے اور معمول کے مطابق ایک بڑا برتن جو طشت کی قسم کا ہوتا تھا پانی سے بھرا ہوا رسول اللہ ﷺ اور حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کے درمیان رکھا ہوتا اور یہ دونوں اس میں سے چلو بھر بھر کر نہاتے تھے۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حائضہ عورت کے جسم کے اس حصے سے فائدہ اٹھانا جو ناف کے نیچے اور زانو کے اوپر ہوتا ہے حرام ہے۔ یعنی وہاں ہاتھ لگانا اور جماع کرنا ممنوع ہے چناچہ اس کی وضاحت دوسری احادیث سے بھی ہوتی ہے اور یہی مسلک امام ابوحنیفہ، امام ابویوسف، امام شافعی رحمہم اللہ تعالیٰ علیہم اور امام مالک (رح) کا ہے۔ امام محمد، امام احمد بن حنبل رحمہما اللہ تعالیٰ علیہما اور بعض شوافع حضرات کا مسلک یہ ہے کہ حائضہ عورت سے صرف وطی یعنی شرمگاہ میں دخول کرنا حرام ہے۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کا حجرہ مسجد سے بالکل ملا ہوا تھا یہاں تک کہ اس کا دروازہ بھی مسجد ہی کی طرف کھلا ہوا تھا۔ چناچہ رسول اللہ ﷺ جب اعتکاف میں ہوتے تھے تو اپنے سر مبارک اسی دروازے سے حجرے کی طرف نکال دیتے تھے وہاں حضرت عائشہ صدیقہ ؓ بیٹھ کر آپ ﷺ کا سر مبارک دھو دیتی تھی۔ اس سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی آدمی اعتکاف میں بیٹھا ہو اور اپنے جسم کے کسی حصے کو مسجد سے باہر نکالے تو اس سے اعتکاف باطل نہیں ہوتا۔

514Mishkaat-al-Masabih

حیض کا بیان

وَعَنْھَا قَالَتْ کُنْتُ اَشْرَبُ وَاَنَا حَآئِضٌ ثُمَّ اُنَاوِلُہُ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلم فَےَضَعُ فَاہُ عَلٰی مَوْضِعِ فِیَّ فَےَشْرَبُ وَاَتَعَرَّقُ الْعَرْقَ وَاَنَا حَآئِضٌ ثُمَّ اُنَاوِلُہُ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلم فَےَضَعُ فَاہُ عَلٰی مَوْضِعِ فِیَّ (صحیح مسلم)

اور حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ میں حالت ایام میں پانی پی کر (وہ برتن) رسول اللہ کو دے دیا کرتی تھی آپ ﷺ اسی جگہ سے جہاں میرا منہ لگا ہوتا تھا منہ لگا کر پی لیتے اور کبھی میں ایام کی حالت میں ہڈی سے گوشت نوچ کر کھاتی پھر وہ ہڈی رسول اللہ ﷺ کو دے دیتی آپ ﷺ اسی جگہ پر منہ رکھ کر گوشت کو نوچتے جہاں سے میں نے منہ رکھ کر نوچا ہوتا تھا۔ (صحیح مسلم) تشریح آپ ﷺ کا یہ عمل دو وجہ سے ہوا کرتا تھا اول تو یہ کہ آپ ﷺ کو حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے بےانتہا محبت تھی دوسری یہ کہ آپ ﷺ کو یہودیوں کی مخالفت منظور ہوتی تھی چناچہ یہودی تو کہاں حائضہ عورت کے ساتھ گھر میں رہنا اور ان کو ہاتھ لگانا بھی پسند نہ کرتے تھے اور ادھر یہ معمول تھا کہ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ ایام حیض میں برتن میں جس جگہ سے منہ لگا کر پانی پیا کرتی تھیں آپ ﷺ بھی اسی جگہ منہ (لگا کر پانی پیتے اور حضرت عائشہ صدیقہ ؓ جس جگہ سے منہ لگا کر ہڈی سے گوشت کو نوچا کرتی تھیں آپ ﷺ بھی اسی جگہ منہ لگا کر ہڈی سے گوشت نوچا کرتے تھے۔ یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ حائضہ عورت کے ساتھ کھانا پینا اور اس کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا جائز ہے نیز اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ حائضہ عورت کے اعضائے بدن نجس و ناپاک نہیں ہوتے۔

515Mishkaat-al-Masabih

حیض کا بیان

وَعَنْھَا قَالَتْ کَانَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم ےَتَّکِئُ فِیْ حِجْرِیْ وَاَنَا حَائِضٌ ثُمَّ ےَقْرَأُ الْقُرْآنَ۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)

اور حضرت عائشہ صدیقہ ؓ راوی ہیں کہ میں ایام کی حالت میں ہوتی اور رسول اللہ ﷺ میری گود میں سہارا دے کر بیٹھ جاتے اور قرآن کریم پڑھتے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح اس حدیث نے بھی اس بات کی وضاحت کردی کہ حائضہ عورت ظاہری طور پر پاک ہوتی ہے اس کی ناپاکی کا حکم صرف حکمًا ہے اس لئے اگر حائضہ عورت ظاہراً پاک نہ ہوتی اور اس کے بدن کے اعضاء نجس ہوتے تو سرکار دو عالم ﷺ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کی گود میں سہارا دے کر جب کہ وہ حالت ایام میں ہوا کرتی تھیں نہ بیٹھتے اور نہ اس طرح بیٹھ کر قرآن کریم پڑھتے۔

516Mishkaat-al-Masabih

حیض کا بیان

وَعَنْھَا قَالَتْ قَالَ لِیَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم نَاوِلِےْنِی الْخُمْرَۃَ مِنَ الْمَسْجِدِ فَقُلْتُ اِنِّیْ حَآئِضٌ فَقَالَ اِنَّ حَےْضَتَکِ لَےْسَتْ فِیْ ےَدِکِ۔ (صحیح مسلم)

اور حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا کہ مسجد میں سے چھوٹا بوریہ (جائے نماز) اٹھا کر مجھے دے دو (یعنی باہر کھڑی ہو کر اندر ہاتھ ڈال کر بوریا اٹھالاؤ) میں نے عرض کیا کہ میں تو ایام سے ہوں۔ (اس لئے مسجد میں ہاتھ کیسے داخل کرسکتی ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا۔ تمہارے ہاتھ میں تو حیض نہیں ہے۔ (صحیح مسلم) تشریح اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حائضہ مسجد سے باہر کھڑی ہو کر مسجد کے اندر سے کوئی چیز اٹھالے تو جائز ہے۔ کیونکہ ایام والی عورت کو صرف مسجد کے اندر جانا منع ہے نہ کہ مسجد کے اندر ہاتھ داخل کرنا بھی۔

517Mishkaat-al-Masabih

حیض کا بیان

وَعَنْ مَّےْمُوْنَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْھَا قَالَتْ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم ےُصَلِّیْ فِیْ مِرْطٍ بَعْضُہُ عَلَیَّ وَبَعْضُہُ عَلَےْہِ وَاَنَا حَآئِضٌ۔(صحیح البخاری و صحیح مسلم)

اور ام المومنین حضرت میمونہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک ایسی چادر میں نماز پڑھ لیا کرتے تھے کہ جس کا کچھ حصہ تو آپ ﷺ کے اوپر ہوتا تھا اور کچھ حصہ مجھ پر ہوتا تھا اور میں ایام سے ہوتی تھی۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم) تشریح اس حدیث نے اس بات کی وضاحت کردی ہے کہ حائضہ کا پورا جسم ناپاک نہیں ہوتا بلکہ اس کی شرم گاہ کے علاوہ تمام بدن پاک ہوتا ہے کیونکہ حائضہ کا پورا بدن اگر ناپاک ہوتا ہو تو ایسی چادر میں نماز جائز نہ ہوتی جس کا بعض حصہ تو نمازی پر پڑا ہو اور بعض حصہ نجاست و ناپاکی پر۔ حضرت سید جمال الدین (رح) فرماتے ہیں کہ صاحب تخریج نے لکھا ہے کہ میں نے یہ حدیث یعنی صحیح البخاری و صحیح مسلم میں ان کے الفاظ کے ساتھ نہیں پائی ہے البتہ ان میں نیز ابوداؤد میں اس مضمون کی احادیث مذکور ہیں۔

518Mishkaat-al-Masabih

حیض کا بیان

عَنْ اَبِی ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ اَتٰی حَائِضًا اَوِ امْرَأَۃً فِی دُبُرِھَا اَوْ کَاھِنًا فَقَدْ کَفَرَ بِمَا اُنْزِلَ عَلَی مُحَمَّدٍ۔ (رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ وَ ابْنُ مَاجَۃَ وَالدَّارِمِیُّ وَفِی رِوَایَتِھِمَا فَصَدَّقَہ، بِمَا یَقُوْلُ فَقَدْ کَفَرَ وَقَالَ التَّرِمْذِیُّ لاَ نَعْرِفُ ھٰذَا الحَدِیْثَ اِلَّامِنْ حَکِیْمٍ الا ثْرَمِ عَنْ اَبِی تَمِیْمَۃَ عَنْ اَبِی ھُرَیْرَۃَ)

حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس آدمی نے ایام والی عورت سے صحبت کی یا عورت کے پیچھے کی طرف بدفعلی کی۔ یا کسی کاہن کے پاس (غیب کی باتیں پوچھنے) گیا تو اس آدمی نے (گویا) محمد ( صلی اللہ علیہ و سلم) پر نازل کئے گئے دین کا کفر کیا۔ (جامع ترمذی، سنن ابن ماجہ، دارمی) ابن ماجہ اور دارمی کی روایتوں میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ کاہن کے کہے ہوئے کی اس نے تصدیق بھی کردی تو وہ کافر ہے۔ اور امام ترمذی (رح) نے فرمایا ہے کہ ہمیں یہ حدیث معلوم نہیں سوائے اس سند کے کہ اسے حکیم اثرم، ابوتمیمہ سے نقل کرتے ہیں اور وہ ابوہریرہ ؓ سے۔ تشریح اس ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی آدمی حلال اور جائز سمجھ کر کسی حائضہ سے جماع کرے یا کسی عورت کے پیچھے کی طرف بدفعلی کرے یا کاہن کے پاس جائے اور کاہن اسے غیب کے متعلق جو چیزیں بتائے انہیں وہ سچ جانے تو وہ کافر ہوجائے گا۔ اور اگر یہ شکل ہو کہ کوئی آدمی حائضہ عورت سے جماع یا عورت سے لواطت کرے مگر یہ سمجھتا ہو کہ یہ حلال اور جائز نہیں ہے وہ کافر نہیں بلکہ فاسق ہوگا۔ اسی طرح اگر کوئی آدمی کاہن کے پاس جائے مگر اس نے جو چزیں بتائی ہیں اس کو سچ نہ جانے تو بھی فاسق ہوگا۔ اس صورت میں اس حدیث کے معنی یہ ہوں گے کہ جس آدمی نے ایسا کیا گویا اس نے کفران نعمت کیا۔ کاہن اس آدمی کو کہتے ہیں جو آئندہ واقعات کی خبر دیتا ہے اور نجومی اسے کہتے ہیں جو ستاروں کی مدد سے خبر دیتا ہے۔ کاہن اور نجومی دونوں کا ایک ہی حکم ہے کہ جس طرح کاہن کے پاس غیب کی خبریں جاننے کے لئے جانا ممنوع ہے اور اس کی دی ہوئی خبر پر یقین کرنا کفر ہے اسی طرح نجومی کے پاس بھی جانا فسق اور اس کی بتائی باتوں کو سچ جاننا کفر ہے۔ اس حدیث میں پیچھے کی طرف بدفعلی کرنے کے سلسلے میں صرف عورت کی جو قید لگائی ہے اور وہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ مرد سے اغلام کرنا اس سے بھی زیادہ برا ہے۔

519Mishkaat-al-Masabih

حیض کا بیان

وَعَنْ مُعَاذِبْنِ جَبَلٍ قَالَ قُلْتُ یَا رَسُوْلَ اﷲِ ( صلی اللہ علیہ وسلم) مَا یَحِلُّ لِیْ مِنْ اِمْرَاَتِی وَھِیَ حَائِضٌ قَالَ مَافَوْقَ الْاِزَارِوَ التَّعْفُفُ عَنْ ذٰلِکَ اَفْضَلُ۔ )رَوَاہُ رَزِیْنٌ وَقَالَ مُحْیِ السُّنَّۃِ اِسْنُادُہ، لَیْسَ بِقَوِیٍّ)

اور حضرت معاذ ابن جبل ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ! میری بیوی کے ایام کی حالت میں میرے واسطے کیا کیا جائز ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا وہ چیز جو تہ بند کے اوپر ہو۔ اور اس سے بھی بچنا بہت ہی بہتر ہے۔ (رزین اور محی السنۃ فرماتے ہیں اس حدیث کی سند قوی نہیں ہے)۔ تشریح حدیث کا مطلب یہ ہے کہ عورت کے ایام کی حالت میں اس کی تہ بند کے اوپر ہاتھ وغیرہ لگانا یا تہ بند کے اوپر اختلاط کرنا اور بوس و کنار کرنا جائز ہے۔ مگر ان چیزوں سے بھی پرہیز کرنے کو زیادہ بہتر اور افضل اس لئے کہا گیا ہے کہ ہوسکتا ہے کہ ان امور کی وجہ سے خواہش نفسانی بھڑک اٹھے اور کوئی آدمی جذبات سے مغلوب ہو کر جماع کر بیٹھے اس لئے اس حرام فعل سے بچنے کے لئے مناسب ہے کہ ان امور سے بھی اجتناب کیا جائے جو اس کے لئے ممد اور سبب بنتے ہیں۔ اور جہاں تک رسول اللہ ﷺ کی ذات اقدس کا سوال ہے کہ آپ ﷺ کے بارے میں منقول ہے کہ آپ ﷺ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کے تہ بند کے اوپر اوپر ہاتھ لگاتے تھے اور اختلاط کرتے تھے اس کی وجہ یہ تھی کہ سرکار دو عالم ﷺ اپنے نفس اور جذبات پر قادر تھے۔ اس کے برخلاف دوسرے لوگوں سے اس کی توقع نہیں کی جاسکتی وہ رسول اللہ ﷺ کی طرح اپنے جذبات اور نفس پر قابو رکھ سکیں گے۔

520Mishkaat-al-Masabih

حیض کا بیان

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِذَا وَقَعَ الرَّجُلُ بِاَھْلِہٖ وَھِیَ حَائِضٌ فَلْیَتَصَدَّقْ بِنِصْفِ دِیْنَارٌ۔ (رواہ الترمذی و ابوداؤد و النسائی و الدارمی و ابن ماجۃ)

اور حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ اگر کوئی آدمی اپنی حائضہ بیوی سے جماع کرے تو اسے نصف دینار صدقہ کردینا چاہئے۔ (جامع ترمذی، ابوداؤد، دارمی، سنن ابن ماجہ، سنن نسائی) تشریح ایک دینار ساڑھے چار ماشے سونے کا ہوتا ہے۔ اگر سونا روپے تولہ ہو تو ایک دینار چھ روپے کا ہوا اور آدھا دینار تین روپے کا۔ خطابی نے کہا ہے کہ اکثر علماء کا اتفاق ہے کہ اگر کوئی آدمی اپنی حائضہ بیوی سے جماع کرلے تو اس کا کفارہ صرف استغفار ہے چناچہ حضرت امام اعظم ابوحنفیہ اور حضرت امام شافعی رحمہما اللہ تعالیٰ علیہ کا یہی مسلک ہے مگر امام شافعی (رح) یہ بھی فرماتے ہیں کہ اگر کسی آدمی نے اپنی حائضہ عورت سے اس وقت جماع کیا جب کہ خون جاری تھا تو اسے ایک دینار صدقہ کرنا مستحب ہے اسی طرح اگر کسی نے انقطاع خون کے بعد صحبت کی تو اسے بھی نصف دینار صدقہ کرنا مستحب ہے۔ حضرت ابن ہمام حنفی حرمہ اللہ تعالیٰ علیہ بھی یہی فرماتے ہیں کہ اگر کوئی آدمی اپنی حائضہ بیوی سے یہ سمجھ کر صحبت کرے کہ یہ حلال ہے تو وہ کافر ہوجاتا ہے اور جس آدمی نے اسے حرام سمجھتے ہوئے کیا تو اس نے گناہ کبیرہ کا ارتکاب کیا لہٰذا اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ خداوند کریم کی بارگاہ میں اس حرام فعل کے صدور پر شر مسار ہو کر اس سے توبہ و بخشش کا خواست گار ہو اور ایک دینار یا نصف دینار از روئے استحباب صدقہ کرلے۔ محدثین فرماتے ہیں کہ یہ حدیث عبداللہ ابن عباس ؓ پر مرسل ہے یا موقوف ہے کیونکہ اس حدیث کا رسول اللہ ﷺ تک مرفوع متصل ہونا ثابت نہیں ہے۔