وَعَنْہ، عَنِ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ اِذَا کَانَ دَمًا اَحْمَرَ فَدِیْنَارٌ وَ اِذَا کَانَ دَمًا اَصْفَرَ فَنِصْفُ دِیْنَارٍ۔ (رواہ الجامع ترمذی)
اور حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا (ایام کی حالت میں اگر حیض کا) خون سرخ رنگ کا ہو (اور اس حالت میں کوئی صحبت کرے) تو ایک پورا دینار اور اگر خون کا رنگ زرد ہو تو آدھا دینار (صدقہ کرنا لازم ہے)۔ (جامع ترمذی )
تشریح
مطلب یہ ہے کہ حیض کی حالت میں جماع کرنے سے جو صدقہ دیا جاتا ہے اس کی صورت یہ ہے کہ جماع کے وقت اگر حیض کے خون کا رنگ سرخ ہو تو ایک دینار صدقہ کرنا ضروری ہے اور اگر حیض کے خون کا رنگ زرد ہو تو آدھا دینار صدقہ کرنا چاہئے چناچہ جو علماء کرام فرماتے ہیں کہ ابتدائے حیض میں صحبت کرنے کی وجہ سے ایک دینار اور حالت انقطاع میں نصف دینار مستحب ہے۔ وہ اسی حدیث سے استدلال ہیں کیونکہ ابتداء میں حیض کے خون کا رنگ سرخ ہوتا ہے اور آخر میں زرد ہوجاتا ہے۔
عَنْ زَیِدِْ بْنِ اَسْلَمِ قَالَ اِنَّ رَجُلًا سَئَالَ رَسُوْلَ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم فَقَالَ مَایَحِلُّ لِیْ مِنِ امْرَاتِی وَھِیَ حَائِضٌ فَقَالَ لَہ، رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم تَشُدُّ عَلَیْھَا اِزَارَ ھَا ثُمَّ شَانُکَ بِاَعْلَاھَا۔ (رَوَاہُ مَالِکٌ وَالدَّارِمِیُّ مُرْسَلًا)
حضرت زید ابن اسلم (بھی) فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ میرے لئے میری بیوی سے جب کہ وہ ایام کی حالت میں ہو تو کیا جائز ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا اس کے جسم پر اس کا تہ بند خوب مضبوط باندھ لو پھر تہبند کے اوپر تمام کام ہے۔ (یعنی ناف سے اوپر تم کو اختلاط مباح ہے اور ناف کے نیچے حرام ہے۔ (مالک اور دارمی نے اس حدیث کو بطریق ارسال روایت کیا ہے)
وَعَنْ عَآئِشَۃَ قَالَتْ کُنْتُ اِذَا حِضْتُ نَزَلْتُ عَنِ الْمِثَالِ عَلٰی الْحَسِیْرِ فَلَمْ یَقْرُبْ رَسُوْلَ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم وَلَمْ تَدْنُ مِنْہُ حَتّٰی تَطْھُرَ۔(رواہ ابوداؤد)
اور حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ جب میں ایام سے ہوجاتی تو بستر سے اتر کر بوریہ پر آجاتی تھی، چناچہ جب تک کہ وہ پاک نہ ہوجاتی نہ تو رسول اللہ ﷺ ان کے نزدیک آتے تھے اور نہ وہ رسول اللہ ﷺ کے نزدیک آتی تھیں۔ (سنن ابوداؤد)
تشریح
بظاہر یہ حدیث ان احادیث کے بالکل برعکس ہے جن سے ثابت ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنی ازواج مطہرات کے ایام کی حالت میں ان کے ساتھ ہم نشینی اختیار کرتے تھے چناچہ خود حضرت عائشہ صدیقہ ؓ ہی سے ایسی احادیث مروی ہیں۔ جن میں انہوں نے بتایا ہے کہ آنحضرت ﷺ ان سے ایام حیض میں اختلاط کرتے تھے۔ لہٰذا اس تعارض کو ختم کرنے کے لئے یہ کہا جائے گا کہ یہ حدیث ان احادیث سے مسنوخ ہے۔ یا پھر اس حدیث کی توجیہ یہ کی جائے گی کہ یہاں نزدیک نہ آنے کا مطلب یہ ہے کہ ایام کی حالت میں جماع کے لئے ایک دوسرے کے قریب نہ آتے تھے جیسا کہ قرآن مجید کی آیت (لَا تَقْرَبُوْھُنَّ حَتّٰی یَطْھُرْنَ ) 2۔ البقرۃ 222) میں ان کے نزدیک نہ آؤ جب تک وہ پاک نہ ہوجائیں کا مطلب یہ کیا جاتا ہے کہ ان سے جماع نہ کرو جب تک وہ پاک نہ ہوجائیں۔ یہاں حدیث کے الفاظ فلم یَقْرُبْ میں حرف ی زبر کے ساتھ اور حرف ر پیش کے ساتھ ہے اسی طرح لَمْ تدن حتی تطھر دونوں حرف ت کے ساتھ ہیں۔ چناچہ مشکوٰۃ کے اکثر صحیح نسخوں میں اسی طرح یہ الفاظ مذکور ہیں مگر نسخہ سید جمال الدین (رح) کے حاشیے میں لکھا ہے کہ صحیح فَلَمْ نَقْرِبْ نون اور حرف ر کے زبر کے ساتھ ہے نیز رسول اللہ ﷺ کے لام کو زبر ہے۔ اسی طرح لم ندن پہلے نون کے زبر اور دوسرے نون کے پیش کے ساتھ ہے اور لفظ نطہر میں بھی نون ہے اور میرک شاہ (رح) نے لکھا ہے کہ اصل ابوداؤد میں یہ الفاظ اسی طرح ہیں۔
عَنْ عَآئِشَۃَرَضِیَ اللّٰہُ عَنْھَا قَالَتْ جَآءَ تْ فَاطِمَۃُ بِنْتُ اَبِیْ حُبَےْشٍ اِلَی النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم فَقَالَتْ ےَارَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اِنِّیْ امْرَاَۃٌ اُسْتَحَاضُ فَلَا اَطْھُرُ اَفَاَدَعُ الصَّلٰوۃَ فَقَالَ لَآ اِنَّمَا ذَالِکِ عِرْقٌ وَّلَےْسَ بِحَےْضٍ فَاِذَا اَقْبَلَتْ حَےْضَتُکِ فَدَعِی الصَّلٰوۃَ وَاِذَا اَدْبَرَتْ فَاغْسِلِیْ عَنْکِ الدَّمَ ثُمَّ صَلِّیْ۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ راوی ہیں کہ فاطمہ بنت ابی حبیش رسول اللہ ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ! میں ایک ایسی عورت ہوں جسے برابر (استخاضہ کا) خون آتا رہتا ہے۔ چناچہ میں کسی وقت پاک نہیں رہتی تو کیا میں نماز چھوڑ دوں؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا نہیں! یہ تو ایک رگ کا خون ہے، حیض کا خون نہیں ہے لہٰذا جب تمہیں حیض آنے لگے تو تم نماز چھوڑ دو اور جب حیض ختم ہوجائے تو جسم سے خون کو دھو ڈالو (اور نہا کر) نماز پڑھ لو۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم )
تشریح
اس مسئلے میں کہ اگر کوئی عورت مستحاضہ ہوجائے اور وہ ہر وقت استخاضہ کے خون سے ناپاک رہے تو اس کے لئے کیا حکم ہے؟ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ (رح) فرماتے ہیں کہ اگر وہ ایسی عورت ہو جو معتادہ ہو یعنی اس کے حیض کے ایام مقرر ہوں مثلاً اسے ہر ماہ پانچ روز یا چھ روز خون آتا تھا تو جب وہ مستحاضہ ہوجائے تو اسے چاہئے کہ ان دنوں کو جن میں حیض کا خون آتا تھا ایام حیض قرار دے اور ان دنوں میں نماز وغیرہ چھوڑ دے اور جب وہ دن پورے ہوجائیں تو خون کو دھو کر نہائے اور نماز وغیرہ شروع کر دے۔ اور اگر وہ مبتد یہ ہو یعنی ایسی عورت ہو کہ پہلا ہی حیض آنے کے بعد وہ مستحاضہ ہوگئی جس کے نتیجہ میں استخاضہ کا خون برابر جاری ہوگیا تو اسے چاہئے کہ وہ حیض کی انتہائی مدت یعنی دس دن کو ایام حیض قرار دے کر ان دنوں میں نماز وغیرہ چھوڑ دے اور بعد میں نہا دھو کر نماز وغیرہ شروع کر دے۔ اس صورت میں دوسرے ائمہ کے نزدیک عمل تمیز پر ہوگا یعنی اگر خون سیاہ رنگ کا ہو تو اسے حیض کا خون قرار دیا جائے گا اور اگر سیاہ رنگ کا نہ ہو تو وہ استحاضہ کا خون کہلائے گا جیسے کہ آگے والی حدیث سے بھی یہی بات معلوم ہوتی ہے۔ مگر حضرت امام اعظم ابوحنیفہ (رح) اس حدیث کے بارے میں جو آگے آرہی ہے اور جو حضرت عروہ ؓ سے مروی ہے۔ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث دو طرق سے روایت کی گئی ہے ایک تو ان میں سے مرسل ہے اور دوسری مضطرب اور یہ عجیب بات ہے کہ خون کے رنگ میں امتیاز کی بات صرف عروہ کی روایت ہی میں مذکور ہے جس کا حال معلوم ہوچکا کہ ایک طریق سے تو وہ مرسل ہے اور دوسرے طریقے سے مضطرب لہٰذا اس حدیث پر کسی مسلک کی بنیاد رکھنا گویا اس مسلک کو کمزور کرنا ہے۔ اور یہ حدیث جو اوپر گزری جس میں دنوں کا اعتبار ہے اور جو ہماری دلیل ہے صحیح ہے لہٰذا اس حدیث پر عمل کرنا اولیٰ ہے اور بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ فاطمہ بنت حبیش ؓ جنہوں نے بارگاہ نبوت میں حاضر ہو کر اپنے بارے میں حکم دریافت کیا تھا معتادہ تھیں۔ حضرت امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ مستحاضہ کو چاہئے کہ وہ ہر فرض نماز کے لئے اپنی شرم گاہ دھو لیا کرے۔ اور حضرت امام اعظم ابوحنیفہ (رح) فرماتے ہیں کہ جب نماز کا وقت آئے جب ہی اپنی شرم گاہ دھو لے پھر نہ دھوئے اور لنگوٹا باندھ کر جلدی جلدی وضو کرلے اس کے بعد جو خون جاری رہے گا اس میں وہ معذور ہوگی لہٰذا آخر وقت تک وہ جو چاہے پڑھے۔
عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُبَیْرِ عَنْ فَاطِمَۃَ بِنْتِ اَبِی حُبَیْشٍ اَنَّھَا کَانَتْ تُسْتَحَاضُ فَقَالَ لَھَا النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم اِذَا کَانَ دَمُ الحَیْضِ فَاِنَّہُ دَمٌ اَسْوَدُ یُعْرَفُ فَاِذَا کَانَ ذٰلِکَ فَاَمْسِکِی عَنِ الصَّلٰوۃِ فَاِذَا کَانَ الْاَخَرُ فَتَوَضَّیِ وَصَلِّی فَاِنَّمَا ھُوَ عِرْقٌ۔ (رواہ ابوداؤ و النسائی )
حضرت عروہ بن زبیر (رح) (تابعی) ( حضرت عروہ زبیر بن العوام کے صاحبزادے اور عظیم المرتبت تابعی ہیں ٢٢ ھ میں پیدا ہوئے) حضرت فاطمہ بنت ابی حبیش سے روایت کرتے ہیں کہ انہیں استحاضہ کا خون آتا تھا۔ چناچہ رسول اللہ ﷺ نے ان کے بارے میں فرمایا کہ جب حیض کا خون آئے جس کی پہچان یہ ہے کہ وہ سیاہ رنگ کا ہوتا ہے تو اس وقت تم نماز پڑھنے سے رک جایا کرو اور جب استخاضہ کا خون آنے لگے (یعنی خون سیاہ رنگ کے علاوہ اور کسی رنگ کا ہو) تو وضو کر کے نماز پڑھ لیا کرو کیوں کہ (یہ حیض کا نہیں بلکہ ایک رگ کا خون ہوتا ہے۔ ) ابوداؤد، سنن نسائی)
تشریح
اس حدیث کے بارے میں اس سے پہلے حدیث کی تشریح میں بتایا جا چکا ہے کہ یہ حدیث ان ائمہ کی دلیل ہے جو فرماتے ہیں کہ مستحاضہ ایام حیض کے سلسلہ میں تمیز پر عمل کرے کہ اگر خون کا رنگ گاڑھا سیاہ ہو تو اسے حیض کا خون قرار دے کر ان ایام میں نماز وغیرہ ترک کر دے اور اگر رنگ گاڑھا سیاہ نہ ہو تو پھر اسے استحاضہ کا خون سمجھے اور نماز روزہ کرتی رہے چناچہ اسی جگہ یہ بھی بتایا جا چکا ہے کہ یہ حدیث صحیح درجے کو نہیں پہنچی اس لئے اس کو کسی مسلک کی بنیاد قرار دینا اس مسلک کی کمزروری کو ظاہر کرنے کے مترادف ہے۔ بہر حال۔ یہاں خون کے جو رنگ بتائے گئے ہیں وہ دائمی اور کلی طور پر نہیں ہیں بلکہ رسول اللہ ﷺ نے خون کے رنگ اکثر کے اعتبار سے بیان فرمائے ہیں کیونکہ کبھی حیض کا خون سرخ وغیرہ رنگ کا بھی ہوتا ہے حضرات حنفیہ (رح) اس حدیث کی وضاحت یہ کرتے ہیں کہ اگر اس حدیث کو صحیح مان بھی لیا جائے تو اس کا محمول یہ ہوگا کہ یہ تمیز عادت کے موافق ہو۔ یعنی جس عورت کو استخاضہ لاحق ہو اور حیض میں جب خون کا رنگ سیاہ ہوگا تو اسے حیض کا خون قرار دیا جائے گا۔ لہٰذا جب اس کی عادت کے دن گزر جائیں اور ان ہی دنوں میں خون کا رنگ سیاہ بمائل سرخی وغیرہ ہو تو اس کے بعد حیض کا خون شمار نہیں کیا جائے گا کیونکہ اس کی عادت کے موافق خون کا رنگ اب سیاہ نہیں رہا۔
وَعَنْ اُمِّ سَلَمَۃَ قَالَتْ اِنَّ امْرَاَۃً کَانَتْ تُّھْرْاقُ الدَّمَ عَلٰی عَھْدِ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم فَاسْتَفْتَتْ لَھَا اُمُ سَلَمَۃَ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ لِتَنْظُرْ عَدَدَ اللَّیَالِی وَ الْاَیَّامِ الَّتِی کَانَتْ تَحِیْضُھُنَّ مِنَ الشَّھْرِ قَبْلَ اَنْ یُصِیْبَھَا الَّذِی اَصَابَھَا فَلْتَتْرُکِ الصَّلاَۃَ قَدْرَ ذٰلِکَ مِنَ الشَّھْرِ فَاِذَا خَلَّفَتْ ذٰلِکَ فَلْتَغْتَسِلْ ثُمَّ لْتَسْتَثْفِرْ بِثَوْبٍ ثُمَّ لِتُصَلِّ۔ (رَوَاہُ مَالِکٌ وَاَبُوْدَاؤدَ وَ الدَّارِمِیُّ ا النَّسَائِیُّ مَعْنَاہُ)
اور حضرت ام سلمہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ایک عورت کو استحاضہ کا خون آتا تھا (اور وہ معتادہ تھی) چناچہ حضرت ام سلمہ ؓ نے اس کے بارے میں رسول اللہ ﷺ سے فتوی پوچھا (کہ اس کا کیا حکم ہے؟ ) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اسے چاہئے کہ وہ دیکھے کہ اس بیماری کے آنے سے پہلے اسے مہینے میں حیض کا خون کتنے دن رات آتا تھا (جب یہ معلوم ہوجائے تو) ہر مہنے اتنے ہی دنوں کے لئے نماز پڑھنی چھوڑ دے اور جب وہ دن گزر جائیں تو نہالے اور (پاجامہ کے اندر) کپڑے کی لنگوٹی باندھ کر نماز پڑھ لیا کرے۔ (مالک ابوداؤد، دارمی) اور نسائی نے اس روایت کو بالمعنی نقل کیا ہے)۔
تشریح
مستحاضہ کو چاہئے کہ جہاں تک ہو سکے وہ لنگوٹ اس طرح باندھے کہ خون حتی المقدور رک سکے اگر لنگوٹ باندھنے اور احتیاط کے باوجود بھی خون آئے تو اس سے نماز پر کوئی اثر نہیں پڑے گا نماز صحیح ہوجائے گی قضاء ضروری نہیں ہوگی یہ حکم سلسل البول کے مرض کا بھی ہے۔
وَعَنْ عَدِیٍّ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ اَبِیْہٖ عَنْ جَدِّہِ قَالَ یَحْیَی بْنُ مَعِیْنٍ جَدُّ عَدِیٍّ اسْمُہُ دِیْنَارٌ عَنِ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم اَنَّہُ قَالَ فِی الْمُسْتَحَاضَۃِ تَدَعُ الصَّلَاۃَ اَیَّامَ اَقْرَائِھَا الَّتِی کَانَتْ تَحِیْضُ فِیْھَا ثُمَّ تَغْتَسِلُ وَتَوَضَّأُ عِنْدَ کُلِّ صَلٰوۃٍ وَ تَصَوْمُ وَتُصَلِّی۔ (رواہ الجامع ترمذی و ابوداؤد)
اور حضرت عدی ابن ثابت سے مروی ہے کہ ان کے والد اپنے والد سے یعنی یحییٰ ابن معین سے جو عدی کے دادا ہیں اور جن کا نام دینار ہے وہ رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے ایک مستحاضہ کے بارے میں فرمایا کہ جن دنوں اسے (عادت کے موافق) حیض آتا تھا اسے چاہئے کہ ان میں نماز چھوڑ دے پھر (ان دنوں کے بعد ایک مرتبہ) نہائے اور ہر نماز کے لئے تازہ وضو کرے اور روزہ رکھے اور نماز بھی پڑھے۔ (سنن ابوداؤد، جامع ترمذی )
تشریح
یہ حدیث ضعیف ہے نیز ایک دوسری روایت کے یہ الفاظ ہیں فَتَوَضَّا لِوَقْتِ کُلِّ صَلٰوۃٍ یعنی مستحاضہ ہر نماز کے وقت وضو کرے۔
وَعَنْ حَمْنَۃَ بِنْتِ جَحْشٍ قَالَتْ کُنْتُ اُسْتَحَاضُ حَیْضَۃً کَثِیْرَۃً شَدِیْدَۃً فَاَتَیْتُ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلم اَسْتَفْتِیْہٖ وَاُخْبِرُہُ فَوَجَدَتْہ، فِیْ اُخْتِی زَیْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ فَقُلْتُ یَا رَسُوْلَ اﷲِ اِنِّی اُسْتَحَاضُ حَیْضَۃً کَثِیْرَۃً شَدِیْدَۃً فَمَاتَاْ مُرُنِیْ فِیْھَا قَدْ مَنَعَتْنِی الصَّلَاۃَ وَ الصِّیَامَ قَالَ اَنْعَتُ لَکَ الْکُرُسُفَ فَاِنَّہُ یُذْھِبُ الدَّمَ قَالَتْ ھُوَاکْثَرُ مِنْ ذٰلِکَ قَالَ فَتَلَجِّمِی قَالَتْ ھُوَ اَکْثَرُ مِنْ ذٰلِکَ قَالَ فَاتَّخِذِی ثَوْبًا قَالَتْ ھُوَاَکْثَرُ مِنْ ذٰلِکَ اِنَّمَا اَثُجُّ ثَجًا فَقَالَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم سَاَمُرُکِ بِاَمْرَیْنِ اَیَّھُمَا صَنَعْتِ اَجْزَأَ عَنْکِ مِنَ الْاَخَرِ وَاِنْ قَوَیْتِ عَلَیْھِمَا فَاَنْتِ اَعْلَمُ قَالَ لَھَا اِنَّمَا ھٰذِہٖ رَکْضَۃُ مِنْ رَکْضَاتِ الشَّیْطَانِ فَتَحَیَّضِیْ سِتَّۃَ اَیَّامٍ اَوْسِبْعَۃَ اَیَّامٍ فِی عِلْمِ اﷲِ ثُمَّ اغْتَسِلِی حَتّٰی اِذَا رَأَیْتِ اَنَّکِ قَدْ طَھُرْتِ وَاسْتَنْقَاتِ فَسَلِّی ثَلَاثًا وَعِشْرَیْنِ لَیْلَۃً اَوْ اَرْبَعًا وَ عِشْرِیْنَ لَیْلَۃً وَاَیَّا مَھَا وَصُوْمِی فَاِنَّ ذٰلِکِ یُجْزِئُکِ وَکَذٰلِکِ فَافْعَلِی کُلَّ شَھْرٍ کَمَا تَحِیْضُ النِّسَاءُ وَکَمَا یَطْھُرْنَ مِیْقَاتَ حَیْضِھِنَّ وَطُھْرِ ھِنَّ وَاِنْ قَوَیْتِ عَلَی اَنْ تُؤَخِرِیْنَ الظُّھْرَ وَ تُعَجِّلِیْنَ الْعَصْرَ فَتَغْتَسِلِیْنَ وَ تَجْمَعِیْنَ بَیْنَ الصَّلاتَیْنِ الظُّھُرِ وَ الْعَصْرِ وَ تُؤَخِّرِیْنَ الْمَغْرِبَ وَ تُعَجِّلِیْنَ الْعِشَاءَ ثُمَّ تُغْتَسِلِیْنَ وَ تَجْمَعِیْنَ بَیْنَ الصَّلَاتَیْنِ فَافْعَلِی وَ تَغْتَسِلِیْنَ مَعَ الْفَجْرِ فَافْعَلِی وَصُوْمِی اِنْ قَدَرْتِ عَلَی ذٰلِکِ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم وَ ھٰذَا اَعْجَبُ الامْرَیْنِ اِلَّی۔ (رواہ احمد بن حنبل و ابوداؤ د و الترمذی)
اور حضرت حمنہ بنت جحش ؓ فرماتی ہیں کہ مجھے بہت ہی کثرت سے استحاضہ کا خون آتا تھا اس لئے رسول اللہ ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئی تاکہ آپ ﷺ کو اس کی خبر دوں اور اس کا حکم پوچھوں چناچہ میں اپنی بہن زینب بنت جحش ؓ کے مکان میں سرکار دو عالم ﷺ سے ملی اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! مجھے استحاضہ کا خون بہت ہی کثرت سے آتا ہے جس نے مجھے نماز روزے سے بھی روک رکھا ہے اس کے بارے میں آپ ﷺ کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ تمہارے لئے روئی کو بیان کرتا ہوں کیونکہ وہ خون کو لے جاتی ہے (یعنی خون نکلنے کی جگہ روئی رکھ لو تاکہ وہ باہر نہ نکلے) حمنہ نے کہا کہ وہ تو (اس سے نہیں رکے گا کیونکہ) بہت زیاد ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا (روئی رکھ کر) اس پر لگام کی طرح کپڑا (یعنی لنگوٹ) باندھ لو۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس سے (بھی نہیں رکے گا کیونکہ) زیادہ ہے آپ ﷺ نے فرمایا پھر لنگوٹ کے نیچے) ایک کپڑا رکھ لو۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس سے (بھی نہیں رکے گا کیونکہ بہت ہی زیادہ ہے یہاں تک کہ خون بارش کی (دھار) کی طرح آتا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا پھر تو میں تمہیں دو باتوں کا حکم کرتا ہوں ان میں سے تم جس ایک کو بھی اختیار کرلو گی دوسری کی ضرورت نہیں رہے گی اور اگر تمہارے اندر دونوں (پر عمل کرنے) کی طاقت ہوگی تو تم خود ہی دانا ہو (یعنی تم اپنی حالت کو دیکھتے ہوئے جو چاہو کرو) چناچہ آپ ﷺ نے حمنہ سے کہا کہ یہ استحاضہ شیطان کی لاتوں میں سے ایک لات مارنا ہے لہٰذا تم (ہر مہینہ) چھ یا سات روز (کیونکہ غیب کا علم اللہ کو ہے) حیض کے ایام قرار دو اور پھر (مدت مذکورہ گزر جانے کے بعد) غسل کرلو اور جب تم جان لو کہ میں پاک و صاف ہوگئی ہوں تو تیس دن رات (ایام حیض سات دن قرار دینے کی شکل میں) یا چوبیس دن رات (ایام حیض چھ دن قرار دینے کی شکل میں) نماز پڑھتی رہا کرو اور اسی طرح مہینے رمضان وغیرہ کے) روزے بھی رکھتی رہا کرو چناچہ جس طرح عورتیں اپنی اپنی مدت پر ایام سے ہوتی ہیں اور پھر وقت پر پاک ہوتی ہیں تم بھی ہر مہینہ اسی طرح کرتی رہا کرو کہ چھ دن یا سات دن تو حیض کے ایام قرار دو اور بقیہ دن طہر یعنی پاکی کے ایام قرار دو ) تمہارے لئے یہ کافی ہوگا۔ اور اگر تمہارے اندر اتنی طاقت ہو کہ ظہر کے وقت میں تاخیر کر کے اس میں نہا لو اور عصر میں جلدی کر کے ان دونوں نمازوں کو اکٹھی پڑھ لو اور پھر مغرب کا وقت آخیر کر کے نہا لو اور عشاء میں جلدی کر کے ان دونوں نمازوں کو اکھٹی پڑھ لو اور نماز فجر کے لئے (علیحدہ) نہا لو تو اسی طرح کرلیا کرو ( جن دنوں میں نماز پڑھو ان دنوں میں نفل اور فرض جیسے بھی چاہو) روزے رکھ لیا کرو اور اگر تم میں اس کی طاقت ہو تو (اس طرح کرتی رہا کرو) پھر سرکار دو عالم ﷺ نے فرمایا ان دونوں باتوں میں سے آخری بات مجھے بہت پسند ہے۔ (مسند احمد بن حنبل، جامع ترمذی، سنن ابوداؤد)
تشریح
یوں تو استحاضہ کا خون آنا مرض کی بناء پر ہوتا ہے تاہم رسول اللہ ﷺ نے اس کی نسبت شیطان کی طرف فرمائی ہے کہ یہ شیطان کی لاتوں میں سے ایک لات مارنا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس صورت میں بہکانے اور عبادت کے اندر خلل ڈالنے کے لئے شیطان کو موقع ملتا ہے چناچہ وہ اس موقع سے فائدہ اٹھا کر پاکی و صفائی اور نماز وغیرہ میں فساد کا بیج بوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ ﷺ نے استخاضہ کی حقیقت بیان فرما کر سائلہ کو دو ایسے حکم دئیے جن پر عمل کرنے سے شیطان اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوسکتا۔ ان میں سے آپ ﷺ نے ایک حکم تو یہ دیا کہ فَتَحَیْضِی سِتَّتِ اَیَّامٍ اَوْسَبْعَۃَ َایَّامٍ یعنی چھ روز یا سات روز حیض کے ایام قرار دو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایسی صورت میں ہر مہینے اپنی اوپر یہی عادت کے مطابق چھ دن یا سات دن تک حیض کے احکام جاری رکھ۔ اس سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ سائلہ معتادہ تھی اور وہ حیض کے ایام بھول گئی تھی یعنی اسے یہ یاد نہیں رہا تھا کہ حیض کا خون ہر مہینے چھ دن آتا تھا یا ساتھ دن آتا تھا، اس لئے آپ ﷺ نے اسے فرمایا کہ تم اپنے یقین و گمان پر عمل کرو اگر تمہارا یقین یہ کہتا ہو کہ عادت چھ دن کی تھی تو اس صورت میں چھ دن حیض کے ایام قرار دو اگر اس بات کا گمان غالب ہو کہ عادت سات دن کی تھی تو پھر سات دن حیض کے ایام قرار دو پھر اس کے بعد آپ ﷺ نے فی علم اللہ فرما کر اس بات کا اشارہ کردیا کہ تم بہر حال اپنے یقین و گمان پر عمل کرو اس بات کا علم بہر صورت اللہ تعالیٰ کو ہے، کہ تمہاری عادت کیا تھی کیونکہ غیب کی باتوں کا جاننے والا تو وہی ہے۔ یا پھر ستۃ ایام اوسبعۃ ایام او اگر شک کے لئے ہو تو فی علم اللہ راوی کا قول ہوگا جو وا اللہ اعلم کے معنی میں ہوگا۔ اس صورت میں اس کے معنی یہ ہوں گے کہ رسول اللہ ﷺ نے تو ستۃ ایام فرمایا ہے یا سبعہ ایام اور اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ آپ نے سائلہ سے جو یہ فرمایا کہ جس طرح عورتیں اپنی اپنی مدت میں ایام سے ہوتی ہیں اور پھر وقت پر پاک ہوتی ہیں۔ تم بھی اسی طرح ہر مہینہ کرتی رہا کرو۔ تو اس کا مطلب تو یہ ہے کہ جیسے تمہاری طرح وہ عورتیں جو اپنی عادت کے دن بھول جاتی ہیں اور پھر وہ اپنے ایام ٹھہراتی ہیں تم اسی طرح اپنے ایام قرار دو یعنی اگر ان کے حیض کا وقت اول مہینہ ہے تو ایام حیض اول مہینے کو قرار دو اور اگر ان کے حیض کا وقت مہینے کے درمیان میں ہو تو تم بھی ایام حیض درمیان مہینے کو قرار دو اسی طرح اگر ان کے حیض کا وقت آخر مہینہ میں ہو تو تم آخر مہینے کو ایام حیض قرار دو۔ بہرحال۔ پہلے حکم کا خلاصہ یہ ہے کہ تم اپنے حیض کی مدت خواہ وہ سات دن ہو یا چھ دن پوری کر کے اس کے بعد نہا ڈالو اور پھر ہر نماز کے لئے غسل کیا کرو۔ دوسرا حکم آپ ﷺ نے یہ دیا کہ دو نمازوں کے درمیان ایسے وقت غسل کرلیا کرو کہ ایک نماز کا انتہائی وقت ہوا اور دوسری نماز کا ابتدائی وقت پھر اس کے بعد دونوں کو اکٹھی پڑھ لیا کرو اس طرح ظہر اور مغرب کو تاخیر کے ساتھ پڑھنے کے لئے جو کہا گیا ہے اس میں دو احتمال ہیں۔ اول تو اس تاخیر کا مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ وقت ختم ہونے کے بعد نماز پڑھی جائے مثلاً ظہر اور عصر دونوں وقت کی نماز عصر ہی کے وقت میں پڑھی جائے۔ اسی طرح مغرب کی اور عشاء کی نماز عشاء کے وقت میں پڑھی جائی جیسا کہ حضرت امام شافعی (رح) کے مسلک کہ مطابق مسافر دو نمازوں کو اس طرح جمع کر کے پڑھ سکتا ہے۔ دوسرا احتمال یہ ہے کہ ظہر کی نماز بالکل آخر وقت میں پڑھی جائے اور عصر کی نماز بالکل ابتداء میں پڑھی جائے، اسی طرح مغرب کی نماز بالکل آخر وقت میں پڑھی جائے اور عشاء کی نماز بالکل ابتداء میں پڑھی جائے جیسا کہ حنفی مسلک میں مسافر کے لئے جمع بین الصلوتین کی یہی تاویل کی جاتی ہے اور اسے جمع صوری کہتے ہیں۔ چناچہ اس کے بعد آنے والی حدیث بھی اسی مقصد و مراد کی وضاحت کر رہی ہے۔ پس اس دوسرے حکم کا حاصل یہ ہے کہ روزانہ ایک غسل تو ظہر و عصر کے لئے کیا جائے اور ایک غسل مغرب و عشاء کے لئے اسی طرح ایک غسل فجر کے لئے کیا جائے۔ یہ بات سمجھ لیجئے کہ پہلے حکم کا خلاصہ کرتے ہوئے جو یہ بتایا گیا ہے کہ ہر نماز کے لئے غسل کیا جائے۔ اس کی صراحت حدیث میں تو نہیں ہے لیکن ارشاد گرامی ان قویت علی ان تو خرین الخ میں اس طرف اشارہ کیا گیا ہے کیونکہ اس عبارت سے سائلہ کا ہر نماز کے لئے غسل سے عاجز ہونا ہی معلوم ہوتا ہے اور یہی مسلک حضرت امیر المومنین حضرت علی المرتضیٰ، حضرت عبداللہ ابن مسعود اور حضرت ابن زبیر ؓ وغیرہ کا ہے۔ اور حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ کا مسلک یہ ہے کہ دو نمازیں ایک غسل کے ساتھ اکٹھی پڑھی جائیں اور یہی مسلک اس حدیث سے زیادہ قریب اور مطابق ہے کیونکہ اس میں زیادہ آسانی ہے بہ نسبت اس کے کہ ہر نماز کے لئے غسل کیا جائے چناچہ رسول اللہ ﷺ نے بھی اسی طرف یہ کہہ کر اشارہ فرمایا ہے کہ ھذا اعجب الامرین الی یعنی دونوں نمازوں کے لئے غسل کرنا مجھے دوسرے امر یعنی ہر نماز کے لئے غسل سے زیادہ پسند ہے۔ اور اس دوسرے حکم کو پسند کرنے کی وجہ یہ تھی کہ رسول اللہ ﷺ کی یہ عادت شریفہ تھی کہ آپ ﷺ امت کے لئے وہی چیز پسند فرماتے تھے جو آسان اور سہل العمل ہو۔ جہاں تک حنفیہ کا تعلق ہے تو ان کے نزدیک یہ حکم منسوخ ہے یا یہ کہ دونوں صورتوں میں غسل کا حکم معالجہ پر معمول ہے یعنی آپ ﷺ نے غسل کا حکم اس لئے دیا ہے تاکہ خون کی کثرت اور اس کی شدت ختم ہوجائے۔
عَنْ اَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَیْسٍ قَالَ قُلْتُ یَا رَسُوْلَ اﷲِ اِنَّ فَاطِمَۃَ بِنْتَ اَبِی حُبَیْشٍ اُسْتُحِیْضَتْ مُنْذُکَذَا وَکَذَا فَلَمْ تُصَلِّ فَقَال رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم سُبْحَانَ اﷲِ اِنَّ ھٰذَا مِنَ الشَّیْطَانِ لِتَجْلِسْ فِی مِرْکَنٍ فَاِذَا رَأَتْ صَفَارَۃً فَوْقَ الْمَآءِ فَلْتَغْتَسِلْ لِلظُّھْرِوَ الْعَصْرِ غُسْلًا وَّاحِدًا وَّتَغْتَسِلْ الِلْمَغْرِبِ وَ العِشَآءِ غُسْلًا وَّاحِدًا وَّ تَغْتَسِلْ لِلْفَجْرِ غُسْلًا وَّاحِدًا وَّتَوَضَّأُ فِیْمَا بَیْنَ ذٰلِکَ۔ (رَوَاہُ اَبُوْدَاؤدَ وَ قَالَ رَوَی مُجَاھِدٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ لَمَّا اَشْتَدَّ عَلَیْھَا الْغُسْلُ اَمَرَھَا اَنْ تَجْمَعَ بَیْنَ الصَّلاَتَیْنِ)
حضرت اسماء بنت عمیس ؓ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! فاطمہ ؓ بنت ابی حبیش کو (پہلی مرتبہ) اتنی مدت سے استحاضہ آرہا ہے اس لئے وہ (یہ خیال کر کے کہ شاید یہ بھی حیض کے حکم میں ہو) نماز نہیں پڑھ رہی۔ سرکار دو عالم ﷺ نے فرمایا سبحان اللہ! یہ نماز کا چھوڑنا تو شیطانی اثر ہے؟ اسے چاہئے کہ ایک ٹب میں پانی ڈال کر بیٹھ جائے جس وقت پانی پر زردی معلوم ہونے لگے تو ظہر اور عصر کے لئے ایک غسل کرے اور مغرب و عشاء کے لئے ایک غسل کرلے اور فجر کے لئے علیحدہ ایک غسل کرے (اور جب ضرورت ہو تو عصر اور عشاء کے لئے) ان کے درمیان وضو کرے۔ (یہ روایت ابوداؤد نے نقل کی ہے اور کہا ہے کہ مجاہد نے حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ جب فاطمہ بنت ابی حییش کو (ہر نماز کے لئے) غسل کرنا دشوار معلوم ہوا تو رسول اللہ ﷺ نے ان کو (ایک غسل سے) دو نمازیں اکٹھی پڑھنے کا حکم دیا)۔
تشریح
جب ظہر کا وقت بالکل آخر ہوجاتا ہے تو آفتاب پر قدرے زردی آجاتی ہے بلکہ زوال کے بعد تغیر ہونا شروع ہوجاتا ہے چناچہ آپ ﷺ نے ٹب میں دیکھنے کے لئے اس وجہ سے فرمایا کہ وہ زردی پانی سے آسانی سے معلوم ہوجاتی ہے وہ زردی بڑھتے بڑھتے مغرب کے قریب پوری ہوجاتی ہے اس وقت نماز پڑھنی مکروہ ہے لیکن آپ ﷺ نے جس زردی کے بارے میں فرمایا ہے یہ اس زردی کے علاوہ ہے جو عصر کے بعد ہوتی ہے اور وہ نماز کے لئے کراہت کا وقت ہوتا ہے۔
لغت میں صلوٰۃ دعا کو کہتے ہیں۔ اصطلاح شریعت میں صلوٰۃ چند مخصوص اقوال و افعال کو کہتے ہیں جن کی ابتداء تکبیر سے اور انتہاء سلام پر ہوتی ہے۔ صلوٰۃ کے مادہ اشتقاق کے بارے میں کئی اقوال نقل کئے جاتے ہیں۔ نووی نے مسلم کی شرح میں کہا ہے کہ صلوٰۃ کا مادہ اشتقاق صلوین ہے جو سرین کی دونوں ہڈیوں کو کہتے ہیں چونکہ نماز میں ان دونوں ہڈیوں کی رکوع و سجود کے وقت زیادہ حرکت ہوتی ہے اس لئے اس مناسبت سے نماز کو صلوٰۃ کہا گیا ہے۔ بعض حضرات فرماتے ہیں صلوٰۃ مصلی سے مشتق ہے جس کے معنی ہیں ٹیڑھی لکڑی کو آگ سے سینک کر سیدھا کرنا چناچہ نماز کو صلوٰۃ اس لئے کہا جاتا ہے کہ انسان کے مزاج میں نفس امارہ کی وجہ سے ٹیڑھا پن ہے لہٰذا جب کوئی آدمی نماز پڑھتا ہے۔ تو رب قدوس کی عظمت وہیبت کی گرمی جو اس عبادت میں انتہائی قرب الٰہی کی بناء پر حاصل ہوتی ہے اس کے ٹیٹرھے پن کو ختم کردیتی ہے گویا مصلی یعنی نمازی اس مادہ اشتقاق کی رو سے اپنے نفس امارہ کو عظمت الٰہی اور ہیبت زبانی کی تپش سے سینکنے والا ہوا۔ لہٰذا جو آدمی نماز کی حرارت سے سینکا گیا اور اس کا ٹیڑھا پن نماز کی وجہ سے دور کیا گیا تو اس کو آخرت کی آگ یعنی دوزخ سے سینکنے کی ضرورت نہیں رہے گی کیونکہ اللہ کی ذات سے امید ہے کہ وہ اپنے اس بندے کو جس نے دنیا میں نماز کی پابندی کی اور کوئی ایسا فعل نہ کیا جو اللہ تعالیٰ کے عذاب کا موجب ہو تو اسے جہنم کی آگ میں نہ ڈالے گا۔ اس اصطلاحی تعریف کے بعد یہ سمجھ لیجئے کہ نماز اسلام کا وہ عظیم رکن اور ستون ہے جس کی اہمیت و عظمت کے بارے میں امیر المومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا یہ اثر منقول ہے کہ جب نماز کا وقت آتا تو ان کے چہرہ مبارک کا رنگ متغیر ہوجاتا۔ لوگوں نے پوچھا کہ امیر المومنین! آپ کی یہ کیا حالت ہے؟ فرماتے ہیں کہ اب اس امانت ( یہ اشارہ ہے اس آیت قرآنی کی طرف آیت (اِنَّا عَرَضْنَا الْاَمَانَةَ عَلَي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَالْجِبَالِ فَاَبَيْنَ اَنْ يَّحْمِلْنَهَا وَاَشْفَقْنَ مِنْهَا وَحَمَلَهَا الْاِنْسَانُ اِنَّه كَانَ ظَلُوْمًا جَهُوْلًا) 33۔ الاحزاب 72) کا وقت آگیا ہے جسے اللہ تعالیٰ نے آسمانوں، پہاڑوں اور زمین پر پیش فرمایا تھا اور وہ سب اس امانت کے لینے سے ڈر گئے اور انکار کردیا۔ (احیاء العلوم) نماز کی تاکید اور اس کے فضائل سے قرآن مجید کے مبارک صفحات مالا مال ہیں، نماز کو اداء کرنے اور اس کی پابندی کرنے کے لئے جس سختی سے حکم دیا گیا ہے وہ خود اس عبادت کی اہمیت و فضیلت کی دلیل ہے۔ ایمان کے بعد شریعت نے سب سے زیادہ نماز ہی پر زور دیا ہے چناچہ قرآن کریم کی یہ چند آیتیں ملاحظہ فرمائے۔ آیت ( اِنَّ الصَّلٰوةَ كَانَتْ عَلَي الْمُؤْمِنِيْنَ كِتٰبًا مَّوْقُوْتًا) 4۔ النساء 103) بیشک ایمان والوں پر نماز فرض ہے وقت مقرر پر۔ آیت (حٰفِظُوْا عَلَي الصَّلَوٰتِ وَالصَّلٰوةِ الْوُسْطٰى) 2۔ البقرۃ 238) نمازوں کی خصوصاً درمیانی نماز (عصر) کی پابندی کرو۔ آیت ( اِنَّ الْحَسَنٰتِ يُذْهِبْنَ السَّ يِّاٰتِ ذٰلِكَ ذِكْرٰي لِلذّٰكِرِيْنَ ) 11۔ ہود 114) بیشک نیکیاں (یعنی نمازیں) برائیوں کو معاف کرا دیتی ہیں۔ آیت ( اِنَّ الصَّلٰوةَ تَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَا ءِ وَالْمُنْكَرِ ) 29۔ العنکبوت 45) بیشک نماز برے اور خراب کاموں سے انسان کو بچاتی ہے۔ اور بیشک اللہ تعالیٰ کے ذکر کا بڑا مرتبہ بڑا ثر ہے۔ بہر حال! نماز ایک ایسی پسند اور محبوب عبادت ہے جس کی برکتوں اور سعادتوں سے خداوند کریم نے کسی بھی نبی کی شریعت کو محروم نہیں رکھا ہے۔ حضرت آدم (علیہ السلام) سے لے کر نبی آخر الزمان سرکار دو عالم ﷺ تک تمام رسولوں کی امت پر نماز فرض تھی۔ ہاں نماز کی کیفیت اور تعینات میں ہر امت کے لئے تغیر ہوتا رہا۔ سرکار عالم ﷺ کی امت پر ابتدائے رسالت میں دو وقت کی نماز فرض تھی ایک آفتاب کے نکلنے سے قبل اور ایک آفتاب ڈوبنے سے بعد۔ ہجرت سے ڈیڑھ برس پہلے جب سرکار دو عالم ﷺ نے معراج میں ذات حق جل مجدہ کی قربت حقیقی کا عظیم و افضل ترین شرف پایا تو اس مقدس اور با سعادت موقعہ پر پانچ وقت کی نماز کا عظیم و اشرف ترین تحفہ بھی عنایت فرمایا گیا۔ چناچہ فجر، ظہر، مغرب، عشاء ان پانچ وقتوں کی نماز کا فریضہ صرف اسی امت کی امتیازی خصوصیت ہے اگلی امتوں پر صرف فجر کی نماز فرض تھی نیز کسی پر ظہر کی اور کسی پر عصر کی۔ اسلام کی تمام عبادات میں صرف نماز ہی وہ عبادت ہے جس کو سب سے افضل اور اعلیٰ مقام حاصل ہے۔ چناچہ اس پر اتفاق ہے کہ نماز اسلام کا رکن اعظم ہے بلکہ اگر یوں کہا جائے کہ اسلام کا دارومدار اسی عبادت پر ہے تو مبالغہ نہ ہوگا۔ ہر مسلمان عاقل بالغ پر ہر روز پانچ وقت نماز پڑھنا فرض عین ہے امیر ہو یا فقیر، تندرست ہو یا مریض اور مقیم ہو یا مسافر ہر ایک کو پانچوں وقت ان آداب و شرائط اور طریقوں کے ساتھ جو اللہ اور اللہ کے رسول نے نماز کے سلسلہ میں بتائے ہیں اللہ کے دربار میں حاضری دینا اور رب قدوس کی عظمت و بڑائی اور اپنی بےکسی و لاچاری اور عجز و انکساری کا مظاہرہ کرنا ضروری ہے یہاں تک کہ جب میدان کار زار میں جنگ کے شعلے بھرک رہے ہوں اور عورت سب سے زیادہ اور شدید تکلیف درد زہ میں مبتلا ہو تب بھی نماز کو چھوڑنا جائز نہیں ہے بلکہ اس کی ادائیگی میں دیر کرنے کی بھی اجازت نہیں ہے یہاں تک کہ اگر کسی عورت کے بچے کی پیدائش کے وقت بچے کا کوئی جزو نصف سے کم اس کے خاص حصے سے باہر آگیا ہو خواہ خون نکلا ہو یا نہ نکلا ہو اس وقت بھی اس کو نماز پڑھنے کا حکم ہے اور نماز میں توقف کرنا جائز نہیں ہے جو آدمی نماز کی فرضیت سے انکار کرے وہ کافر ہے اور اس کو ترک کرنے والا گناہ کبیرہ کا مرتکب اور فاسق و فاجر ہے بلکہ بعض جلیل القدر صحابہ کرام مثلاً حضرت عمر فاروق ؓ وغیرہ نماز چھوڑنے والے کو کافر کہتے ہیں امام احمد (رح) کا بھی یہی مسلک ہے امام شافعی و امام مالک رحمہما اللہ تعالیٰ علیہما نماز چھوڑنے کو گردن زنی قرار دیتے ہیں۔ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ (رح) اگرچہ اس کے کفر کے قائل نہیں تاہم ان کے نزدیک بھی نماز چھوڑنے والے کے لئے سخت تعزیر ہے۔ مصنف نے یہاں کتاب الصلوٰۃ کے نام سے جو عنوان قائم فرمایا ہے اس کے تحت نماز سے متعلق وہ تمام احادیث ذکر کی جا رہی ہیں جن سے نماز کی اہمیت و عظمت اور اس کی فضیلت کا پتہ چلتا ہے اور نماز کے جو احکام و فضائل ہیں ان کا استنباط ہوتا ہے۔
عَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَ ص قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اَلصَّلَوٰتُ الْخَمْسُ وَالْجُمُعَۃُ اِلَی الْجُمُعَۃِوَرَمَضَانُ اِلٰی رَمَضَانَ مُکَفِّرَاتٌ لِّمَا بَےْنَھُنَّ اِذَا اجْتُنِبَتِ الْکَبَائِرُ۔ (صحیح مسلم)
حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر کوئی آدمی کبیرہ گناہوں سے بچتا رہے تو پانچوں نمازیں اور جمعہ سے جمعہ تک اور رمضان سے رمضان تک اس کے گناہوں کو مٹا دیتے ہیں جو ان کے درمیان ہوئے ہیں۔ (صحیح مسلم)
تشریح
حدیث کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی آدمی پابندی کے ساتھ پانچوں وقت کی نماز پڑھے، جمعہ کی نماز پورے آداب کے ساتھ ادا کرے اور اسی طرح رمضان کے روزے رکھے تو ان کے درمیان جو صغیرہ گناہ صادر ہوئے ہیں سب ختم ہوجاتے ہیں البتہ کبیرہ گناہ نہیں بخشے جاتے ہاں اگر اللہ چاہے تو وہ کبرہ گناہ بھی معاف فرما سکتا ہے۔ یہاں ایک ہلکا سا خلجان واقع ہوتا ہے کہ جب ہر روز کی پانچوں وقت کی نمازیں ہی تمام گناہ مٹا دیتی ہیں تو پھر یہ جمعہ وغیرہ کون سے گناہ ختم کرتے ہیں؟ چناچہ اس خلجان کو رفع کرنے کے لئے ملا علی قاری (رح) فرماتے ہیں کہ ان سب میں گناہوں کو مٹانے اور ختم کرنے کی صلاحیت ہے چناچہ اگر گناہ صغیرہ ہوتے ہیں تو یہ تینوں ان کو مٹا دیتے ہیں ورنہ ان میں سے ہر ایک کے بدلے بیشمار نیکیاں لکھی جاتی ہیں جس کی وجہ سے درجات میں بلندی حاصل ہوتی ہے۔ حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی (رح) نے فرمایا کہ یہ تینوں صغیرہ گناہوں کے لئے کفارہ ہیں اور ان کو ختم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور اگر ان میں سے کوئی ایک کسی گناہ کے لئے کفارہ بن سکے تو دوسرا کفارہ ہوجاتا ہے مثلاً نماز میں کسی تقصیر اور نقصان کی وجہ سے اگر وہ نماز گناہوں کے لئے کفارہ نہ ہو سکے تو ان کو جمعہ ختم کردیتا ہے اور جمعہ میں بھی کسی تقصیر کی وجہ سے کفارہ ہونے کی صلاحیت نہ رہے تو پھر رمضان ان کے لئے کفارہ ہوجاتا ہے اور اگر سب کے سب کفارہ بننے کی صلاحیت رکھیں تو یہ سب مل کر گناہوں کو اچھی طرح مٹا دیتے ہیں اور کفارے کی زیادتی کا باعث ہوتے ہیں چناچہ اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کئی چراغوں کی۔ اگر کسی مکان میں ایک چراغ ہوگا تو اندھیرا تو ختم ہوجائے گا مگر روشنی کم ہوگی اور اگر چراغ زیادہ ہوں گے تو نور اور روشنی حیثیت سے زیادتی ہوگی۔
وَعَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اَرَأَےْتُمْ لَوْ اَنَّ نَھْرًا بِبَابِ اَحَدِکُمْ ےَغْتَسِلُ فِےْہِ کُلَّ ےَوْمٍ خَمْسًا ھَلْ ےَبْقٰی مِنْ دَرَنِہٖ شَےْی ءٌ قَالُوْا لَا ےَبْقٰی مِنْ دَرَنِہٖ شَےْی ئٌقَالَ فَذَالِکَ مَثَلُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ ےَمْحُوا اللّٰہُ بِھِنَّ الْخَطَاےَا۔(صحیح البخاری و صحیح مسلم)
اور حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے (صحابہ کرام کو مخاطب کرتے ہوئے) فرمایا تم بتاؤ کہ جس کے دروازے کے آگے پانی کی نہر چلتی ہو اور وہ روز اس میں پانچ مرتبہ نہاتا ہو تو کیا اس کے بدن پر میل کا کوئی شائبہ بھی رہے گا؟ صحابہ کرام نے عرض کیا کہ نہیں! میل بالکل باقی نہیں رہے گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا (تم سمجھ لو کہ) پانچوں نمازوں کی مثال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تمام (صغیرہ) گناہوں کو ان نمازوں کے سبب سے اسی طرح مٹا دیتا ہے (جس طرح پانی میل کو اتار دیتا ہے)۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ ص قَالَ اِنَّ رَجُلًا اَصَابَ مِنِ امْرَاَۃٍ قُبْلَۃً فَاَتَی النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلم فَاَخْبَرَہُ فَاَنْزَلَ اللّٰہُ تَعَالٰی &&وَاَقِمِ الصَّلٰوۃَ طَرَفَیِ النَّھَارِ وَزُلَفًا مِّنَ الَّےْلِ اِنَّ الْحَسَنَاتِ ےُذْھِبْنَ السَّےِّئَاتِ && (پ ١٢ رکوع ١٠) فَقَال الرَّجُلُ ےَا رَسُوْلَ اللّٰہِ اَلِیْ ھٰذَا ؟قَالَ لِجَمِےْعِ اُمَّتِیْ کُلِّھِمْ وَفِیْ رِوَاےَۃٍ لِّمَنْ عَمِلَ بِھَا مِنْ اُمَّتِیْ۔(صحیح البخاری و صحیح مسلم)
اور حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے کسی (غیر) عورت کا بوسہ لے لیا پھر (احساس ندامت و شرمندگی کے ساتھ) رسول اللہ ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہو کر صورت واقعہ کی خبر دی (اور آپ ﷺ سے اس کا حکم پوچھا، رسول اللہ ﷺ نے کوئی جواب نہ دیا بلکہ وحی کے ذریعہ حکم الٰہی کے منتظر رہے اس اثناء میں اس آدمی نے نماز پڑھی جب ہی اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ آیت (وَاَقِمِ الصَّلٰوةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِّنَ الَّيْلِ اِنَّ الْحَسَنٰتِ يُذْهِبْنَ السَّ يِّاٰتِ ) 11۔ ہود 114) اور نماز کو دن کے وقت اول و آخر اور رات کی چند ساعات میں پڑھا کرو کیونکہ نیکیاں (یعنی نمازیں) برائیوں کو مٹا دیتی ہیں۔ آیت کے نازل ہونے کے بعد اس آدمی نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! یہ حکم میرے لئے ہے ( یا پوری امت کے لئے؟ ) آپ ﷺ نے فرمایا (نہیں! یہ حکم) میری امت کے لئے ہے۔ ایک دوسری روایت میں آپ ﷺ کا جواب اس طرح مذکور ہے کہ (آپ ﷺ نے فرمایا) میری امت میں سے جو آدمی اس آیت پر عمل کرے اس کے لئے (یہی حکم ہے، یعنی جو آدمی بھی برائی کے بعد بھلائی کرے گا اسے یہی سعادت حاصل ہوگی کہ اس بھلائی کے نتیجے میں اس کی برائی ختم ہوجائے گی)۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
جس صاحب کا یہ واقعہ ہے کہ انہوں نے ایک غیر عورت کا بوسہ لے لیا تھا ان کا نام ابوالیسر تھا۔ جامع ترمذی نے ان کی ایک روایت نقل کی ہے جس میں وہ خود راوی ہیں کہ میرے پاس ایک عورت کھجوریں خریدنے کے لئے آئی میں نے اس سے کہا کہ میرے گھر میں اس سے زیادہ اچھی کھجوریں رکھی ہوئی ہیں ( اس لئے تم وہاں چل کر دیکھ لو) چناچہ وہ میرے ہمراہ مکان میں آگئی (وہاں میں شیطان کے بہکانے میں آگیا اور جذبات سے مغلوب ہو کر) اس اجنبی عورت سے بوس و کنار کیا۔ اس نے (میرے اس غلط اور نازیبا رویے پر مجھے تنبیہ کرتے ہوئے) کہا کہ بندہ خدا! اللہ (کے قہر و غضب) سے ڈرو چناچہ (خوف اللہ سے میرا دل تھرا گیا اور) میں نہایت ہی شرمندہ و شرمسار ہو کر بارگاہ رسالت میں حاضر ہوا۔ چناچہ بارگاہ رسالت میں ان کے ساتھ جو معاملہ ہوا وہی حدیث میں ذکر کیا گیا ہے۔ آیت کریمہ میں طرفی النھار یعنی دن کے اول و آخر سے دن کا ابتدائی حصہ اور انتہائی حصہ مراد ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ دن کے اول یعنی ابتدائی حصہ سے فجر کی نماز اور آخری حصہ سے ظہر و عصر کی نمازیں مراد ہیں اسی طرح زلفا من الیل یعنی رات کی چند ساعتوں سے مغرب و عشاء کا وقت مراد ہے۔ اس طرح اب آیت کریمہ کا مطلب یہ ہوگا فجر، ظہر، عصر، مغرب اور عشاء کی نماز پڑھا کرو، کیونکہ نیکیاں (نمازیں) برائیوں کو مٹا دیتی ہیں۔
وَعَنْ اَنَسٍ ص قَالَ جَآءَ رَجُلٌ فَقَالَ ےَا رَسُوْلَ اللّٰہِ اِنِّیْ اَصَبْتُ حَدًّا فَاَقِمْہُ عَلَیَّ قَالَ وَلَمْ ےَسْئَلْہُ عَنْہُ وَحَضَرَتِ الصَّلٰوۃُ فَصَلّٰی مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم فَلَمَّا قَضَی النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم الصَّلٰوۃَ قَامَ الرَّجُلُ فَقَالَ ےَارَسُوْلَ اللّٰہِ اِنِّیْ اَصَبْتُ حَدًّا فَاَقِمْ فِیَّ کِتَابَ اللّٰہِ قَالَ اَلَےْسَ قَدْ صَلَّےْتَ مَعَنَا قَالَ نَعَمْ قَالَ فَاِنَّ اللّٰہَ قَدْ غَفَرَ لَکَ ذَنْبَکَ اَوْحَدَّکَ۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)
اور حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! مجھ سے ایسا فعل سرزد ہوگیا ہے جس کی وجہ سے مجھ پر حد واجب ہے اس لئے آپ ﷺ مجھ پر حد جاری فرمائیے راوی کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس حد کے متعلق کچھ دریافت نہیں فرمایا اور نماز کا وقت آگیا۔ اس آدمی نے رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ نماز پڑھی۔ جب آپ ﷺ نماز سے فارغ ہوچکے تو وہ آدمی کھڑا ہوا اور پھر عرض کیا کہ یا رسول اللہ! مجھ سے ایک ایسا فعل سرزد ہوگیا ہے جو مستوجب حد ہے اس لئے آپ ﷺ میرے بارے میں اللہ کا حکم نافذ فرمائیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ کیا تم نے ہمارے ساتھ نماز نہیں پڑھی؟ اس نے کہا کہ جی ہاں! پڑھی ہے! آپ ﷺ نے فرمایا اللہ نے تمہاری خطاء یا فرمایا کہ تمہاری حد بخش دی ہے۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)
تشریح
یہاں یہ نہ سمجھ بیٹھئے کہ اس آدمی کے الفاظ اَصَبْتُ حَدًّا (یعنی مجھ سے ایسا فعل سرزد ہوگیا ہے جس کی وجہ سے مجھ پر حد واجب ہے) سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس نے کسی ایسے کبیرہ گناہ مثلا ًچوری وغیرہ کا ارتکاب کیا تھا جس پر حد واجب ہوتی ہے اور رسول اللہ ﷺ نے نماز کی وجہ سے اس کی بخشش کی خوشخبری سنا دی لہٰذا اس سے ثابت ہوا کہ نماز کی وجہ سے کبیرہ گناہ بھی بخش دئیے جاتے ہیں۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس سے کوئی ایسا گناہ صغیرہ سرزد ہوگیا تھا جو حقیقت میں تو ایسا نہیں تھا جس پر حد جاری ہوتی لیکن چونکہ وہ آدمی صحابیت جیسے مرتبہ پر فائز تھے جہاں معمولی سا گناہ بھی خوف الٰہی سے دل کو لرزاں کردیتا ہے اور ایک ہلکی سی معصیت بھی قلب و دماغ کے ہر گوشہ کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتی ہے اس لئے انہوں نے یہ گمان کرلیا کہ مجھ سے ایک فعل سرزد ہوگیا ہے۔ جس پر از روئے شریعت حد جاری ہوجائے گی لہٰذا انہوں نے بارگاہ رسالت میں آکر اس طرح ذکر کیا جس سے بظاہر معلوم ہوتا تھا کہ ان سے واقعی کوئی ایسا بڑا گناہ سرزد ہوگیا ہے جو سخت ترین سزا یعنی حد کا مستوجب ہے۔ یا پھر یہ کہا جائے گا کہ حد سے ان کی مراد تعزیر تھی۔ آپ ﷺ نے اس آدمی سے اس کے گناہ کی حقیقت اس لئے دریافت نہیں فرمائی کہ آپ ﷺ کو بذریعہ وحی معلوم ہوگیا تھا کہ اس آدمی نے کس قسم کا گناہ کیا ہے اسی لئے آپ ﷺ نے اسے اس گناہ کی بخشش کی جو خوشخبری دی تھی اپنی طرف سے نہیں دی تھی بلکہ جب آپ ﷺ کو وحی کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے بتادیا کہ اس کا گناہ کوئی ایسا گناہ نہیں ہے جس پر حد جاری کی جائے بلکہ ایسا گناہ ہے جو نماز کے ذریعے معاف ہوگیا ہے تو آپ ﷺ نے اسے یہ خوشخبری سنا دی۔
عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ ص قَالَ سَاَلْتُ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلم اَیُّ الْاَعْمَالِ اَحَبُّ اِلَی اللّٰہِ تَعَالٰی قَالَ اَلصَّلٰوۃُ لِوَقْتِھَا قُلْتُ ثُمَّ اَیٌّ ؟قَالَ بِرُّ الْوَالِدَےْنِ قُلْتُ ثُمَّ اَیٌّ قَالَ اَلْجِھَادُ فِیْ سَبِےْلِ اللّٰہِ قَالَ حَدَّثَنِیْ بِھِنَّ وَلَوِاسْتَزَدْتُّہُ لَزَادَنِیْ۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم
اور حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ اللہ تعالیٰ کو کون سا عمل سب سے زیادہ پسند ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ وقت پر نماز پڑھنے (یعنی وقت مکروہ میں نماز نہ پڑھی جائے) میں نے کہا کہ پھر کون سا عمل بہتر ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ ماں باپ کے ساتھ بھلائی سے پیش آنا میں نے عرض کیا کہ پھر کون سا عمل بہتر ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنا عبداللہ ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے یہی باتیں بیان فرمائی تھیں اگر میں کچھ زیادہ پوچھتا تو آپ ﷺ اس سے بھی زیادہ بیان فرماتے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
اتنی بات معلوم ہونی چاہئے کہ بہترین و افضل اعمال کے بارے میں مختلف احادیث منقول ہیں، چناچہ اس حدیث سے تو یہ پتہ چلتا ہے کہ اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ اور محبوب اعمال یہ تین ہیں مگر دوسری حدیثوں میں مذکور ہے کہ اسلام کے بہترین و افضل اعمال یہ ہیں کہ (غریبوں مسکینوں کو) کھانا کھلایا جائے۔ اسلام کی تبلیغ کی جائے اور رات کو اس وقت جب کہ لوگ آرام سے بستروں میں پڑے خواب شیریں سے ہمکنار ہوں اللہ کی عبادت کی جائے اور نماز پڑھی جائے۔ اسی طرح بعض احادیث میں منقول ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا سب سے بہترین و افضل عمل یہ ہے کہ لوگ تمہاری زبان اور تمہارے ہاتھ (کی ایذا) سے محفوظ رہیں۔ نیز بعض حدیثوں سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ افضل ترین عمل اللہ کا ذکر کرنا ہے۔ بہر حال اسی طرح دوسری احادیث میں دیگر اعمال کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ یہ اعمال بہترین و افضل ہیں۔ تو۔ اب ان تمام احادیث میں تطبیق اسی طرح ہوگی کہ یہ کہا جائے گا کہ رسول اللہ ﷺ نے ہر ایک کی رضا ورغبت اور اس کے مزاج کے مطابق جواب دیا ہے یعنی جس نے بہترین عمل کے بارے میں سوال کیا اس کو وہی عمل بتایا جسے اس کے لائق سمجھا اور جو اس کی فطرت و مزاج اور اس کے حال کے مناسب معلوم ہوا۔ چناچہ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسا کہ ہم اکثر کسی خاص چیز کے بارے میں کسی وقت کہہ دیا کرتے ہیں کہ یہ فلاں چیز تو سب سے اچھی ہے حالانکہ دل کے اندر اس کی اچھائی و فضیلت کے بارے میں یہ خیال نہیں ہوتا کہ یہ چیز ہمہ وقت اور ہر حال میں نیز ہر ایک کے لئے سب سے اچھی اور افضل ہوگی بلکہ دل میں یہی خیال ہوتا ہے کہ یہ چیز اس خاص وقت میں اچھی اور بہتر ہے نہ کہ ہمہ وقت مثلاً خاموشی اور سکوت کا معاملہ ہے کہ جہان مناسب ہوتا ہے کہا جاتا ہے کہ سکوت کے برابر کوئی چیز نہیں ہے یا خاموشی سے افضل کوئی چیز نہیں ہے غرض رسول اللہ ﷺ نے ہر ایک عمل کو حال اور مقام کے مناسب افضل فرمایا ہے۔ مثلاً ابتدائے اسلام میں جہاد ہی لوگوں کے حال مناسب تھا اس لئے جہاد کو فرمایا کہ یہ سب سے بہتر عمل ہے یا اسی طرح کسی آدمی کو یا کسی جماعت کو بھوکا ننگا دیکھا تو ان کی امداد و اعانت کی خاطر صدقہ خیرات کی طرف لوگوں کو رغبت دلائی اور فرمایا کہ صدقہ افضل ترین عمل ہے یا نماز کو باری تعالیٰ کے قرب حقیقی کا ذریعہ ہونے کی وجہ سے سب سے اچھا اور بہتر عمل قرار دیا۔ بہر حال۔ ان میں سے ہر ایک عمل کو افضل ترین عمل کہنے کی وجوہ اور حیثیات مختلف ہیں۔ ہر ایک کی وجہ اور حیثیت اپنی اپنی جگہ دوسرے سے افضل و اعلیٰ ہے۔
وَعَنْ جَابِرٍ ص قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم بَےْنَ الْعَبْدِ وَبَےْنَ الْکُفْرِ تَرْکُ الصَّلٰوۃِ۔(صحیح مسلم)
اور حضرت جابر ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا نماز کا چھوڑنا بندہ مومن اور کفر کے درمیان (کی دیوار کو گرا دیتا) ہے۔ (صحیح مسلم)
تشریح
یہاں لفظ بین کا متعلق محذوف ہے یعنی اس حدیث میں یہ عبارت مقدر ہے کہ تَرْکُ الصَّلٰوۃِ وُصْلَۃٌ بِیْنَ الْعَبْدِ الَمُسْلِمِ وَبَیْنَ الْکُفْرِ جس کا مطلب یہ ہوا کہ بندہ مومن اور کفر کے درمیان نماز بمنزلہ دیوار کے ہے کہ بندہ اس کی وجہ سے کفر تک نہیں پہنچ سکتا مگر جب نماز ترک کردی گئی تو گویا درمیان کی دیوار اٹھ گئی لہٰذا نماز چھوڑنا اس بات کا سبب ہوگا کہ نماز چھوڑنے والا مسلمان کفر تک پہنچ جائے گا۔ بہر حال۔ اس حدیث میں نماز چھوڑنے والوں کے لئے سخت تہدید ہے اور اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ نماز کا چھوڑنے والا ممکن ہے کہ کافر ہوجائے کیونکہ جب اس نے اسلام و کفر کے درمیان کی دیوار کو ختم کردیا گویا وہ کفر کی حدتک پہنچ گیا ہے اور جب وہ کفر کی حد تک پہنچ گیا تو ہوسکتا ہے کہ یہی ترک نماز اس کو فسق و فجور اور اللہ سے بغاوت و سرکشی میں اس حد تک دلیر کر دے کہ وہ دائرہ کفر میں داخل ہوجائے۔ یہ شروع میں بتایا جا چکا ہے کہ تارک نماز کے بارے میں علماء کے مختلف اقوال ہیں چناچہ اصحاب ظواہر تو یہ کہتے ہیں کہ تارک صلوۃ کافر ہوجاتا ہے۔ حضرت امام مالک اور حضرت امام شافعی رحمہما اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ نماز چھوڑنے والا اگرچہ کافر نہیں ہوتا مگر وہ اس سرکشی و طغیانی کے پیش نظر اس قابل ہے کہ اس کی گردن اڑا دی جائے۔ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ (رح) کا مسلک یہ ہے کہ جو آدمی نماز چھوڑ دے اس کو اس وقت تک جب تک کہ نماز نہ پڑھے مارنا اور قید خانہ میں ڈال دینا واجب ہے۔
عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلمخَمْسُ صَلَوَاتٍ اِفْتَرَضَھُنَّ اﷲُ تَعَالٰی مَنْ اَحْسَنَ وُضُوْ ئَھُنَّ وَصَلَّاھُنَّ لِوَقْتِھِنَّ وَاَتَمَّ رُکُوْعَھُنَّ وَخُشُوْعَھُنَّ کَانَ لَہ، عَلَی اﷲِ عَھْدٌ اَنْ یَّغْفِرْ لَہُ وَمَنْ لَمْ یَفْعَلْ فَلَیْسَ لَہ، عَلَی اﷲِ عَھْدٌ اِنْ شَآءَ غَفَرَلَہ، وَاَنْ شَآءَ عَذَّبَہ،۔ (رواہ احمد بن حنبل و ابوادؤد و روی مالک والنسائی )
حضرت عبادہ ابن صامت ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس آدمی نے ان پانچوں نمازوں کے لئے جنہیں اللہ تعالیٰ نے فرض کیا ہے (فرائض و مستحبات کی ادائیگی کے ساتھ) اچھی طرح وضو کیا اور ان کو وقت پر پڑھا نیز ان میں رکوع و خشوع کیا (یعنی نمازیں حضوری قلب کے ساتھ پڑھیں) تو اس کے لئے اللہ تعالیٰ پر ذمہ (یعنی اللہ تعالیٰ کا وعدہ) یہ ہے کہ وہ اس کے (صغیرہ) گناہ بخشش دے گا اور جس آدمی نے ایسا نہ کیا (یعنی اس نے مذکورہ بالا طریقے سے یا مطلق نماز نہ پڑھی) تو اللہ تعالیٰ اس کا ذمہ دار نہیں ہے چاہے تو بخش دے چاہے اسے عذاب میں مبتلا کرے۔ (مسند احمد بن حنبل، سنن ابوداؤد، مالک، سنن نسائی )
تشریح
یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ نماز چھوڑنے والا کافر نہیں ہوتا بلکہ گناہ کبیرہ کا مرتکب ہوتا ہے۔ گناہ کبیرہ کے مرتکب کے بارے میں بھی یہ سمجھ لیجئے کہ اللہ تعالیٰ پر واجب نہیں ہے کہ وہ مرتکب کبیرہ کو عذاب دے بلکہ اس کا دارومدار سراسر اس کی مرضی پر ہے کہ اگر وہ چاہے تو عذاب میں مبتلا کرے اور اگر چاہے تو اپنے فضل و کرم سے اسے بخشش دے۔ اسی طرح یہ بھی جان لیجئے کہ گناہ کبیرہ کا مرتکب دوزخ میں ہمیشہ ہمیشہ نہیں رہے گا بلکہ اللہ کے حکم سے اسے جس مدت کے لئے دوزخ میں ڈالا جائے گا اس کے بعد وہ اپنی سزا پوری کر کے جنت میں داخل ہونے کا مستحق ہوجائے گا۔ چناچہ اہل سنت والجماعت کا یہی مسلک ہے۔
وَعَنْ اَبِی اَمَامَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ صَلُّوْا خَمْسَکُمْ وَصُوْمُوْا شَھْرَکُمْ وَادُّوْازَ کَاۃَ اَمْوَالِکُمْ وَاطِیْعُوْاذَا اَمْرِکُمْ تَدْ خُلُوْا جَنَّۃَ رَبِّکُمْ۔ (رواہ احمد بن حنبل والترمذی)
اور حضرت ابی امامہ ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ (مسلمانو) پانچوں وقت اپنی نمازیں پڑھو اپنے (رمضان کے مہینے) کے روزے رکھو! اپنے مال کی زکوٰۃ دو! اور اپنے سردار کی (جب تک کہ وہ خلاف شرع چیزوں کا حکم نہ کرے) اطاعت کرو! (اگر ایسا کرو گے تو) اپنے رب کی جنت میں داخل ہوجاؤ گے (یعنی بہشت میں بلند درجات کے حقدار بنو گے)۔ (مسند احمد بن حنبل، جامع ترمذی )
تشریح
سردار سے مراد بادشاہ، امیر اور حاکم ہیں، اس کا مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ اپنے بادشاہ اور امراء کے احکام کی تابعداری اور ان کے فرمان کی اطاعت کریں لیکن اس میں ایک شرط ہے کہ اطاعت و فرمانبرداری کا یہ حکم اسی وقت تک رہے گا۔ جب تک کہ ان کا کوئی حکم حدود و شریعت سے باہر اور خداوند کے رسول ﷺ کے فرمان کے خلاف نہ ہو، اگر ایسا ہو کہ امراء اور سلاطین حدود شریعت سے تجاوز کر کے غلط احکام دیں یا ایسے فرمان نافذ کریں جو قرآن و سنت کے خلاف ہوں تو پھر نہ صرف یہ کہ ان کی اطاعت و فرمانبرداری ضروری نہیں ہے بلکہ ایسے سلاطین و امراء کو راہ راست پر لانے اور ان کو قرآن و سنت کو بتائے ہوئے راستوں پر چلنے اور ملک و قوم کو چلانے کے لئے مجبور کیا جائے۔ یا پھر سردار سے مراد علماء ہیں کہ قرآن و سنت اور اسلامی شریعت کے علم کے حامل جب مسلمانوں کو کوئی شرعی حکم دیں اور انہیں دین و شریعت کی طرف بلائیں تو ان کی پیروی ہر ایک مسلمان پر ضروری اور لازم ہے اسی طرح سردار سے ہر وہ آدمی مراد ہوسکتا ہے جو کسی کام کے لئے حاکم اور کار ساز مقرر کیا گیا ہو یعنی اگر کوئی مسلمان کسی آدمی کو اپنے کسی معاملہ میں حاکم اور راہبر مقرر کرے تو اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ اس حاکم یا راہبر کے مشوروں کو مانے اور وہ جو صحیح حکم دے اس کی پابندی کرے۔
وَعَنْ عَمْرِوْ بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ اَبِیْہٖ عَنْ جَدِّہٖ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مُرُوْا اَوْلَادَ کُمْ بِالصَّلٰوۃِ وَھُمْ اَبْنَآءُ سَبْعِ سِنِیْنَ وَاضْرِبُوْ ھُمْ عَلَیْھَا وَ ھُمْ اَبْنَاءُ عَشْرِ سِنِیْنَ وَ فَرِّ قَوْ ا بَیْنَھُمْ فِی الْمَضَاجِعِ رَوَاہُ اَبُوْدَاؤدَ وَ کَذَا رَوَاہُ فِی شَرْحِ السُّنَّۃِ عَنْہُ وَفِی الْمَصَابِیْحِ عَنْ سَبْرَۃَ بْنِ مَعْبَدٍ۔
اور حضرت عمرو ابن شعیب (رح) اپنے والد مکرم سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب تمہارے بچے سات برس کے ہوجائیں تو انہیں نماز پڑھنے کا حکم دو اور جب وہ دس برس کے ہوجائیں (تو نماز چھوڑ نے پر) انہیں مارو۔ نیز ان کے بسترے علیحدہ کردو (ابوداؤد) اسی طرح السنہ میں عمرو سے اور مصابیح میں سبرہ ابن معبد سے یہ روایت نقل کی گئی ہے۔
تشریح
اس حدیث کے ذریعے مسلمانوں کو حکم دیا جا رہا ہے کہ جب ان کے بچے سات برس کے ہوجائیں تو اسی وقت سے ان کو نماز کی تاکید شروع کردی جاے تاکہ انہیں نماز کی عادت کم سنی سے ہی ہو جاے اور جب وہ بالغ ہونے کے قریب (یعنی دس سال کی عمر میں) پہنچ جائیں تو اگر وہ کہنے سننے کے باوجود نماز نہ پڑھیں تو انہیں تاکیدا مار مار کر نماز پڑھانی چاہئے۔ نیز جس طرح ان عمروں میں نماز کی تاکید کرنا ضروری ہے۔ اسی طرح انہیں نماز کی شرائط وغیرہ بھی سکھانی چاہئے تاکہ انہیں ساتھ ساتھ نماز پڑھنے کا صحیح طریقہ معلوم ہوجائے۔ حدیث کے آخری جملے کا مطلب یہ ہے کہ جب بچے اس عمر میں پہنچ جائیں تو انہیں علیحدہ علیحدہ سلانا چاہئے یعنی اگر دو بھائی بہن یا دو اجنبی لڑکا لڑکی ایک ہی بستر میں سوتے ہوں تو اس عمر میں ان کے بستر الگ کردینے چاہیں تاکہ وہ اکٹھے نہ سو سکیں۔
وَعَنْ بُرَیْدَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَلْعَھْدُا الَّذِی بَیْنَنَا وَبَیْنَھُمْ اَلصَّلَاۃُ فَمَنْ تَرَکَھَا فَقَدْ کَفَرَ۔ (رواہ احمد بن حنبل والترمذی والنسائی و ابن ماجۃ)
اور حضرت بریدہ راوی ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہمارے اور منافقوں کے درمیان جو عہد ہے وہ نماز ہے لہذا جس نے نماز چھوڑی وہ کافر ہوگیا۔ (احمد۔ ترمذی نسائی و ابن ماجہ)
تشریح
اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے اور منافقین کے درمیان امن وامان کا جو معاہدہ ہوچکا ہے کہ ہم انہیں قتل نہیں کرتے اور اسلام کے احکام ان پر نافذ نہیں کرتے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ نماز پڑھنے، جماعت میں حاضر ہونے اور اسلام کے دوسرے ظاہری احکام کی تابعداری کرنے کے سبب سے مسلمانوں کے ساتھ مشابہت رکھتے ہیں لہٰذا جس نے نماز کو جو تمام عبادتوں میں سے افضل ترین ہے ترک کردیا گویا کہ وہ کافر کے برابر ہوگیا۔ لہٰذا مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ نماز ترک کر کے کفر کو ظاہر نہ کریں۔ اس طرح اس جملے فَقَدْ کَفَرَ کے معنی یہ ہوئے کہ (جس نے نماز چھوڑ دی) اس نے کفر کو ظاہر کردیا۔