عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍص قَالَ جَآءَ رَجُلٌ اِلَی النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم فَقَالَ ےَا رَسُوْلَ اللّٰہِ اِنِّیْ عَالَجْتُ امْرَاَۃً فِیْ اَقْصَی الْمَدِےْنَۃِ وَاِنِّیْ اَصَبْتُ مِنْھَا مَا دُوْنَ اَنْ اَمَسَّھَا فَاَنَا ھٰذَا فَاقْضِ فِیَّ مَا شِئْتَ فَقَالَ لَہُ عُمَرُ لَقَدْ سَتَرَکَ اللّٰہُ لَوْسَتَرْتَ عَلٰی نَفْسِکَ قَالَ وَلَمْ ےَرُدَّ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلمعَلَیْہٖ شَےْئًا وَّقَامَ الرَّجُلُ فَانْطَلَقَ فَاَتْبَعَہُ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم رَجُلًا فَدَعَاہُ وَتلَاَ عَلَےْہِ ھٰذِہِ الْاٰےَۃَ وَاَقِمِ الصَّلٰوۃَ طَرَفَیِ النَّھَارِ وَزُلَفًا مِّنَ الَّےْلِ اِنَّ الْحَسَنَاتِ ےُذْھِبْنَ السَّےِّئَاتِ ذٰلِکَ ذِکْرٰی لِلذَّاکِرِےْنَ (پ ١٢ رکوع ١٠)فَقَالَ رَجُلٌ مِّنَ الْقَوْمِ ےَا نَبِیَّ اللّٰہِ ھٰذَالَہُ خَآصَّۃً فَقَالَ بَلْ لِّلنَّاسِ کَآفَّۃً۔ (صحیح مسلم)
حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نبی کریم ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! مدینہ کے کنارے میں نے ایک عورت کو گلے لگا کر سوائے صحبت کے اور سب کچھ کرلیا ہے، (یعنی صحبت تو نہیں کی لیکن بوس و کنار ہوگیا ہے اس لئے) میں حاضر ہوگیا ہوں جو کچھ آپ ﷺ چاہیں میرے بارے میں حکم فرمائیں۔ (یعنی آپ ﷺ میرے لئے جو سزا بھی تجویز فرمائیں گے مجھے منظور ہوگی) حضرت عمر ؓ نے (جو اس وقت مجلس نبوی میں حاضر تھے یہ سن کر) فرمایا اللہ نے تو تمہارے عیب کی پردہ پوشی فرمائی تھی اگر تم بھی اپنے عیب کو چھپالیتے تو (اچھا تھا) حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے (اللہ کے حکم کے انتظار میں) اس کا کوئی جواب نہیں دیا۔ چناچہ وہ آدمی کھڑا ہوا اور چلا گیا۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے اسے بلانے کے لئے ایک آدمی بھیجا جو اسے بلا لایا آپ ﷺ نے اس کے سامنے یہ آیت پڑھی۔ آیت (وَاَقِمِ الصَّلٰوةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِّنَ الَّيْلِ اِنَّ الْحَسَنٰتِ يُذْهِبْنَ السَّ يِّاٰتِ ) 11۔ ہود 114) دن کے اول و آخر اور رات کی چند ساعتوں میں نماز پڑھا کرو کیونکہ نیکیاں برائیوں کو مٹا دیتی ہیں اور یہ نصیحت، نصیحت ماننے والوں کے لئے ہے۔ لوگوں میں سے ایک آدمی (حضرت عمر فاروق ؓ یا حضرت معاذ ؓ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و سلم)! کیا یہ حکم خاص طور پر اسی کے لئے ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا نہیں سب لوگوں کے لئے یہی حکم ہے۔ (صحیح مسلم)
تشریح
اسی باب کی پہلی فصل کی تیسری حدیث میں بھی اس آیت کے بارے میں بتایا جا چکا ہے کہ دن کے اول سے فجر اور آخر سے ظہر و عصر مراد ہیں اسی طرح، رات کی چند ساعتوں سے مراد مغرب و عشاء ہیں۔ حضرت ابن حجر (رح) نے لکھا ہے کہ پہلی فصل میں اسی طرح کی جو حدیث نمبر تین گزری ہے وہ تو ایک آدمی (ابوالیسر) کا واقعہ ہے اور یہ حدیث جو یہاں ذکر کی گئی ہے یہ کسی دوسرے صاحب کا واقعہ ہے لہٰذا ہوسکتا ہے کہ یہ آیت بھی اس آدمی کے لئے دوسری مرتبہ نازل ہوئی ہو۔ مگر محققین نے لکھا ہے کہ تعدد واقعہ سے یہ لازم نہیں آتا کہ آیت بھی مکرر نازل ہوئی ہو اور نہ یہ حدیث اس پر دلالت کرتی ہے بلکہ رسول اللہ ﷺ نے وہی آیت جو پہلے آدمی کے بارے میں نازل ہوئی تھی بطور سند کے اس آدمی کے سامنے بھی تلاوت فرما دی۔
وَعَنْ اَبِی ذَرٍّاَنَّ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلم خَرَجَ زَمَنَ الشِّتَآءِ وَالْوَرَقُ یَتَھَافَتُ فَاَخَذَ بِغُصْنَیْنِ مِنْ شَجَرَۃٍ قَالَ فَجَعَلَ ذٰلِکَ الْوَرَقُ یَتَھَا فَتُ قَالَ فَقَالَ یَا اَبَاذَرٍّ قُلْتُ لَبَّیْکَ یَا رَسُوْلُ اﷲِ قَالَ اِنَّ الْعَبْدَ الْمُسْلِمْ لَیُصَلِّی الصَّلَاۃَ یُرِیْدُ بِھَا وَجْہَ اﷲِ فَتَھَا فَتُ عَنْہُ ذُنُوْبُہ، کَمَا تَھَافَتُ ھٰذَا الْوَرَقُ عَنْ ھٰذِہِ الشَّجَرَۃِ۔ (رواہ احمد بن حنبل)
اور حضرت ابوذر ؓ راوی ہیں کہ (ایک مرتبہ) رسول اللہ ﷺ جاڑے کے موسم میں جبکہ پت جھڑ کا وقت تھا باہر تشریف لے گئے۔ آپ ﷺ نے ایک درخت کی دو شاخیں پکڑیں۔ راوی فرماتے ہیں کہ جس طرح حسب معمول پت جھڑ کے موسم میں کسی شاخ کو ہلانے سے پتے بہت زیادہ گرنے لگتے ہیں اسی طرح جب آپ ﷺ نے شاخیں پکڑیں تو ان سے پتے جھڑنے لگے۔ آپ ﷺ نے فرمایا ابوذر میں نے عرض کیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و سلم)! میں حاضر ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا جب بندہ مومن خالصًا اللہ کیلئے نماز پڑھتا ہے تو اس کے گناہ بھی ایسے ہی جھڑتے ہیں، جس طرح اس درخت سے یہ پتے جھڑ رہے ہیں۔ (مسند احمد بن حنبل)
تشریح
خالصاً اللہ تعالیٰ کیلئے نماز پڑھنے کا مطلب یہ ہے کہ نماز کسی کو دکھلانے یا کسی دوسری غرض و مقصد کے لئے نہ پڑھی جائے بلکہ محض اپنے پروردگار کی خوشنودی اور فرمانبرداری اور اس کی رضا کی طلب کے لئے پڑھی جائے۔
وَعَنْ زَیْدِ بْنِ خَالِدِنِ الجُھَنِیِّ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ صَلَّی سَجْدَ تَیْنِ لَا یَسْھُوْ فِیْھِمَا غَفَرَ اﷲُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہٖ۔ (رواہ احمد بن حنبل)
اور حضرت زید ابن خالد جہنی ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس آدمی نے دو رکعت نماز ( غافل ہو کر نہیں بلکہ اس درجہ حضوری قلب کے ساتھ) پڑھیں کہ ان میں سہو نہ کیا تو اللہ تعالیٰ اس کے پچھلے گناہوں کو بخش دے گا۔ (مسند احمد بن حنبل)
وَعَنْ عَبْدِاﷲِ بْنِ عَمْرِ و بْنِ الْعَاصِ عَنِ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم اَنَّہُ ذَکَرَ الصَّلَاۃَ یَوْمًا فَقَالَ مَنْ حَافَظَ عَلَیْھَا کَانَتْ لَہ، نُوْرًا وَبُرْھَانًا وَ نَجَاۃَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَمَنْ لَّمْ یُحَافِظْ عَلَیْھَا لَمْ تَکُنْ لَہ، نُوْرًا وَلَا بُرْھَانَا وَلَا نَجَاۃً وَکَانَ یَوْمَ القِیَامَۃِ مَعَ قَارُوْنَ وَ فِرْعَوْنَ وَ اُبَیِّ بْنِ خَلَفٍ۔ (رواہ احمد بن حنبل و الدارمی والبیھقی فی شعب الایمان)
اور حضرت عبداللہ ابن عمر و ابن عاص ؓ راوی ہیں کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ نے نماز کا ذکر کیا ( یعنی نماز کی فضیلت و اہمیت کو بیان کرنے کا ارادہ فرمایا) چناچہ آپ ﷺ نے فرمایا جو آدمی نماز پر محافظت کرتا ہے (یعنی ہمیشہ پابندی سے پڑھتا ہے) تو اس کے لئے یہ نماز ایمان کے نور (کی زیادتی کا سبب) اور ایمان کے کمال کی واضح دلیل ہوگی، نیز قیامت کے روز مغفرت کا ذریعہ بنے گی اور جو آدمی نماز پر محافظت نہیں کرتا تو اس کے لئے نماز نہ (ایمان کے) نور (کی زیادتی کا سبب بنے گی، نہ (کمال ایمان کی) دلیل اور نہ (قیامت کے روز) مغفرت کا ذریعہ بنے گی بلکہ ایسا آدمی قیامت کے روز قارون، فرعون، ہامان اور ابی ابن خلف کے ساتھ (عذاب میں مبتلا) ہوگا۔ (مسند احمد بن حنبل، دارمی، بیہقی)
تشریح
نماز کی محافظت کا مطلب یہ ہے کہ نماز باقاعدگی اور پوری پابندی سے پڑھی جائے۔ کبھی ناغہ نہ ہو، نیز نماز کے تمام فرائض واجبات سنن اور مستحبات اداء کئے جائیں، اس طرح جب کوئی نماز پڑھے گا تو کہا جائے گا کہ اس نے نماز کی محافظت کی اور یہ مذکورہ ثواب کا حقدار ہوگا اور جو آدمی اس کے برعکس عمل اختیار کرے گا کہ نہ تو نماز باقاعدگی اور پابندی کے ساتھ پڑھے اور نہ نماز کے فرائض واجبات اور سنن و مستحبات کی رعایت کرے تو اس کے بارے میں کہا جائے گا کہ وہ ان چیزوں کو ترک کرنے کی وجہ سے مذکورہ عذاب کا مستحق ہوگا۔ لہٰذا غور کرنا چاہئے کہ نماز کی محافظت اور اس پر دوام اختیار کرنے کی کس قدر تاکید ہے اس لئے اس میں کوتاہی کرنا دراصل اللہ تعالیٰ کے عذاب اور اپنی بربادی کو دعوت دینا ہے۔ نیز یہ بھی خیال کرنا چاہئے کہ جب نماز کی محافظت نہ کرنے پر اس قدر و عید ہے کہ ایسے آدمی کا حشر مذکورہ لوگوں جیسے لعین و بدبخت کفار کے ساتھ ہونے کی خبر دی جا رہی ہے تو اس آدمی کا کیا حال ہوگا جو نماز ترک کرتا ہے اور کبھی بھی اللہ تعالیٰ کے سامنے سجدہ ریز نہیں ہوتا۔ قارون و فرعون جیسے مشہور لعین اور بدبختوں کو تو سب ہی جانتے ہیں۔ ہامان فرعون کا وزیر تھا ابی بن خلف وہ مشہور مشرک ہے جو رسول اللہ ﷺ کا جانی دشمن تھا اور جسے رسول اللہ ﷺ نے جنگ احد میں اپنے دست مبارک سے موت کے گھاٹ اتار کر جہنم رسید کیا تھا چناچہ اسی وجہ سے اس لعین کو امت کے بدبختوں میں سے سب سے بڑا بدبخت کہا جاتا ہے۔ آخر میں اتنی بات اور سمجھ لیجئے کہ اس حدیث میں اس طرف اشارہ ہے کہ جو آدمی محافظت کرے گا یعنی پورے خلوص اور تمام فرائض واجبات اور سنن و مستحبات کے ساتھ نماز ہمیشہ پابندی سے پڑھتا رہے گا تو قیامت کو وہ انبیاء کرام، صدیقین، شہداء اور صلحاء کے ہمراہ ہوگا۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو نماز کی پابندی اور پورے ذوق و شوق کے ساتھ ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے تاکہ ہم سب اس سعادت سے بہرہ ور ہو سکیں۔
وَعَنْ عَبْدِاﷲِ بْنِ شَقِیْقٍ قَالَ کَانَ اَصْحَابُ رَسُوْلِ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم لَا یَرَوْنَ شَیْئًا مِنَ الْاَ عْمَالِ تُرْکَہ، کُفْرٌ غَیْرَ الصَّلَاۃِ۔ (رواہ الترمذی)
اور حضرت عبدا اللہ شقیق فرماتے ہیں کہ تمام افعال و اعمال میں صرف نماز ہی ایسا عمل تھا جس کے چھوڑنے کو رسول اللہ ﷺ کے محترم صحابہ کرام کفر سمجھتے تھے۔ (جامع ترمذی )
تشریح
یہاں جو حصر کے ساتھ یہ فرمایا گیا ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سوائے نماز کے کسی دوسرے عمل کے چھوڑنے کو کفر نہ سمجھتے تھے تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے نزدیک نہ صرف یہ کہ نماز چھوڑنا بڑے سخت گناہ کی بات تھی بلکہ وہ اسے کفر کے بہت قریب سمجھتے تھے۔
وَعَنْ اَبِی الدَّرْدَآءِ قَالَ اَوْصَانِی خَلِیْلِیْ اَنْ لَّا تُشْرِکَ بِاﷲِ شَیْئًا وَاَنْ قُطِّعْتَ وَ حُرِّقْتَ وَ لَا تَتْرُکَ صَلَاۃً مَکْتُوْبَۃً مُتَعَمِّدًا فَمَنْ تَرَکَھَا مُتَعَمِّدًا فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْہُ الزِّمَّۃُ وَلاَ تَشْرَبَ الخَمْرَ فَاِنَّھَا مِفْتَاحُ کُلٍّ شَرٍّ۔ (رواہ ابن ماجۃ)
اور حضرت ابودرداء ؓ فرماتے ہیں کہ میرے دوست (رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم) نے مجھے یہ وصیت (فرمائی تھی کہ تم کسی کو اللہ کا شریک نہ بنانا خواہ تمہارے ٹکڑے ٹکڑے کر کے تمہیں جلا کیوں نہ دیا جائے اور جان بوجھ کر فرض نماز نہ چھوڑنا جس نے قصدًا نماز چھوڑ دی تو اس سے ذمہ بری ہوگیا نیز کبھی شراب نہ پینا کیونکہ یہ ہر برائی کی کنجی ہے۔ (سنن ابن ماجہ)
تشریح
رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابودرداء ؓ کو افضل بات کی تعلیم دی کہ اگر تم ٹکڑے ٹکڑے کر کے جلا بھی دیئے جاؤ تو شرک نہ کرنا، ورنہ تو جبر کی حالت میں جب کہ گردن تلوار کی زد میں ہو تو دل میں ایمان و ایقان کی پوری دولت لئے زبان سے کلمہ کفر ادا کرلینا جائز ہے۔ ذمہ کے بری ہونے کا مطلب یہ ہے کہ جس آدمی نے قصدًا نماز ترک کردی تو گویا اس نے اسلام کے ایک بڑے اور بنیادی قانون و حکم سے بغاوت کی جس کی بناء پر اسلام کا عہد اس سے ختم ہوگیا اور وہ دائرہ اسلام سے خارج ہوگیا۔ اس مطلب کی وضاحت کرنے کے بعد کہا جائے گا کہ آپ ﷺ کا یہ ارشاد ازراہ تغلیظ یعنی نماز چھوڑنے والے کے لئے انتہائی تہدید اور تنبیہ ہے۔ یا پھر (اس سے ذمہ بری ہوا) کی مراد یہ ہے کہ ایمان لانے اور اسلام کی اطاعت قبول کرنے کی وجہ سے اسلام نے اس کے جان و مال کی حفاظت کی جو ضمانت لی تھی اور اسلامی اسٹیٹ میں اسے جو امان حاصل تھا اب وہ نماز کے ترک کی وجہ سے اسلام کی امان اور ضمانت سے نکل گیا۔ شراب کو تمام برائیوں کی کنجی اس لے فرمایا گیا ہے کہ شراب بنیادی طور پر انسان کے دل و دماغ اور ذہن و فکر کو بالکل ماؤف کردیتی ہے۔ جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ شراب پینے والا آدمی جب نشہ کی وجہ سے اپنی عقل سے ہاتھ دھو لیتا ہے تو دنیا بھر کی برائیاں اس سے سرزد ہونے لگتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ شراب کو ام الخبائث کہا گیا ہے۔
عَنْ عَبْدِاللّٰہِ ابْنِ عَمْرٍو رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم وَقْتُ الظُّہْرِ اِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ وَکَانَ ظِلُّ الرَّجُلِ کَطُوْلِہٖ مَالَمْ ےَحْضُرِ الْعَصْرُ وَوَقْتُ الْعَصْرِ مَالَمْ تَصْفَرَّ الشَّمْسُ وَوَقْتُ صَلٰوۃِ الْمَغْرِبِ مَالَمْ ےَغِبِ الشَّفَقُ وَوَقْتُ صَلٰوۃِ الْعِشَآءِ اِلٰی نِصْفِ الَّےْلِ الْاَوْسَطِ وَوَقْتُ صَلٰوۃِ الصُّبْحِ مِنْ طُلُوْعِ الْفَجْرِ مَالَمْ تَطْلُعِ الشَّمْسُ فَاِذَا طَلَعَتِ الشَّمْسُ فَاَمْسِکْ عَنِ الصَّلٰوۃِ فَاِنَّھَا تَطْلُعُ بَےْنَ قَرْنَیِ الشَّےْطَانِ۔(صحیح مسلم)
حضرت عبداللہ ابن عمرو ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ ظہر کا وقت زوال آفتاب کے بعد ہے اور اس کا آخری وقت جب تک ہے کہ آدمی کا سایہ اس کے طول کے برابر ہوجائے عصر کے آنے کے وقت تک۔ اور عصر کا وقت اس وقت تک ہے جب تک کہ آفتاب زرد نہ ہوجائے اور مغرب کی نماز کا وقت اس وقت تک ہے جب تک شفق غائب نہ ہوجائے اور نماز عشاء کا وقت ٹھیک آدھی رات تک ہے اور نماز فجر کا وقت طلوع فجر سے اس وقت تک ہے جب تک سورج نہ نکل آئے اور جب سورج نکل آئے تو نماز سے باز رہو کیونکہ سورج شیطان کے دونوں سینگوں کے درمیان نکلتا ہے۔ (صحیح مسلم)
تشریح
اس سے پہلے کہ حدیث کی تشریح کرتے ہوئے نماز کے اوقات کے بارے میں عرض کیا جائے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ان چند اصطلاحی الفاظ کے معنی بیان کر دے جائیں جن کو سمجھنے کے بعد مقصد تک پہنچے میں بڑی آسانی ہوجائے گی۔ زوال۔۔۔ آفتاب کے ڈھلنے کو کہتے جسے ہماری عرف میں دوپہر ڈھلنا کہا جاتا ہے۔ سایہ اصلی۔۔۔ اس سایہ کو کہتے ہیں جو زوال کے وقت باقی رہتا ہے۔ یہ سایہ ہر شہر کے اعتبار سے مختلف ہوتا ہے کسی جگہ بڑا ہوتا ہے، کسی جگہ چھوٹا ہوتا ہے اور کہیں بالکل نہیں ہوتا، جیسے مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ میں۔ زوال اور سایہ اصلی کے پہچاننے کی آسان ترکیب یہ ہے کہ ایک سیدھی لکڑی ہموار زمین پر گاڑی جائے اور جہاں تک اس کا سایہ پہنچے اس مقام پر ایک نشان بنادیا جائے پھر دیکھا جائے کہ وہ سایہ اس نشان کے آگے بڑھتا ہے یا پیچھے ہٹتا ہے۔ اگر آگے بڑھتا ہے تو سمجھ لینا چاہئے کہ ابھی زوال نہیں ہو اور اگر پیچھے ہٹے تو زوال ہوگیا۔ اگر یکساں رہے نہ پیچھے ہٹے نہ آگے بڑھے تو ٹھیک دوپہر کا وقت ہے اس کو استواء کہتے ہیں۔ ایک مثل۔۔۔ سایہ اصلی کے سوا جب ہر چیز کا سایہ اس کے برابر ہوجائے۔ دو مثل۔۔۔ سایہ اصلی کے سوا جب ہر چیز کا سایہ اس سے دو گنا ہوجائے۔ ان اصطلاحی تعریفات کو سمجھنے کے بعد اب حدیث کی طرف آئیے سرکار دو عالم ﷺ نے اوقات نماز کے سلسلے میں سب سے پہلے ظہر کا ذکر کیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے وقت نماز کی تعلیم کے سلسلے میں سب سے پہلے رسول اللہ ﷺ کو یہی نماز پڑھائی تھی، یہی وجہ ہے کہ نماز ظہر کی نماز کو پیشین کہا جاتا ہے۔ نماز ظہر کا اول وقت اسی وقت شروع ہوجاتا ہے جب کہ آسمان کہ درمیان آفتاب مغرب کی طرف تھوڑا سامائل ہوتا ہے جس کو زوال کہتے ہیں اور اس کا آخری وقت وہ ہوتا ہے جب کہ آدمی کا سایہ اس کے طول کے برابر علاوہ سایہ اصلی کے ہوجاتا ہے۔ سایہ اصلی کے بارے میں بتایا جا چکا ہے کہ یہ وہ سایہ ہوتا ہے جو زوال کے وقت ہوتا ہے یعنی اکثر مقامات پر جب کہ آفتاب سمت راس پر نہیں آتا وہاں ٹھیک دوپہر کے وقت ہر چیز کا تھوڑا سا سایہ ہوتا ہے اس سائے کو چھوڑ کر جب تک کسی چیز کے طول کے برابر سایہ رہے گا ظہر کا وقت باقی رہے گا۔ مالم یحضر العصر (عصر کا وقت آنے تک) یہ جملہ دراصل پہلے جملہ کی تاکید ہے کیونکہ جب ایک مثل تک سایہ پہنچ گیا تو وقت ظہر ختم ہوگیا۔ اور عصر کا وقت شروع ہوگیا چونکہ اس جملے کا مطلب پہلے ہی جملے سے ادا ہوگیا تھا اس لئے یہی کہا جائے گا کہ یہ جملہ پہلے جملے کی تاکید کے لئے لایا گیا ہے ہاں اتنی بات اور کہی جاسکتی ہے کہ یہ جملہ اس چیز کی دلیل ہے کہ ظہر اور عصر کے درمیان وقت مشترک نہیں ہے جیسا کہ امام مالک (رح) کا مسلک ہے۔ عصر کے وقت کی ابتداء تو معلوم ہوگئی کہ جب ظہر کا وقت ختم ہوجائے گا عصر کا وقت شروع ہوجائے گا۔ آخری وقت کی بات یہ ہے کہ جب تک آفتاب زرد نہیں ہوجاتا عصر کا وقت بلا کراہیت باقی رہتا ہے چناچہ حدیث میں اسی طرف اشارہ ہے۔ البتہ اس کے بعد سے غروب آفتاب تک وقت جو از باقی رہتا ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آفتاب کی زردی سے کیا مراد ہے تو بعض حضرات کہتے ہیں کہ آفتاب کے زرد ہونے کا مطلب یہ ہے کہ آفتاب اتنا بدل جائے کہ اس کی طرف نظر اٹھانے سے آنکھوں میں خیرگی نہ ہو۔ بعض نے کہا ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ غروب آفتاب کی جو شعاعیں دیوار وغیرہ پڑتی ہیں اس میں تغیر ہوجائے۔ لگے ہاتھوں اتنی بات اور جانتے چلئے کہ حضرت امام شافعی، حضرت امام مالک، حضرت امام احمد اور صاحبین یعنی حضرت امام ابویوسف اور حضرت امام محمد رحمہم اللہ تعالیٰ علیہم نیز حضرت امام زفر (رح) وغیرہ کا مسلک یہ ہے کہ ظہر کا وقت ایک مثل تک باقی رہتا ہے اس کے بعد عصر کا وقت شروع ہوجاتا ہے چناچہ ان حضرات کی دلیل یہی حدیث ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ظہر کا آخری وقت ایک مثل تک رہتا ہے۔ جہاں تک امام ابوحنیفہ (رح) کا تعلق ہے تو ایک روایت کے مطابق ان کا بھی وہی مسلک ہے جو جمہور علماء کا ہے بلکہ بعض نے تو یہاں تک لکھا ہے کہ امام اعظم کا فتویٰ بھی اسی مسلک پر ہے۔ چناچہ درمختار میں بہت سی کتابوں کے حوالوں سے اسی مسلک کو ترجیح دی گئی ہے۔ مگر ان کا مشہور مسلک یہ ہے کہ ظہر کا وقت دو مثل تک رہتا ہے ان کے دلائل ہدایہ وغیر میں مذکور ہیں۔ بہر حال علماء نے اس سلسلہ میں ایک صاف اور سیدھی راہ نکالی ہے وہ فرماتے ہیں کہ مناسب یہ ہے کہ ظہر کی نماز تو ایک مثل کے اندر اندر پڑھ لی جاے اور عصر کی نماز دو مثل کے بعد پڑھی جائے تاکہ دونوں نمازیں بلا اختلاف ادا ہوجائیں۔ مغرب کا وقت آفتاب چھپنے کے بعد شروع ہوتا ہے اور شفق غائب ہوجانے کے وقت ختم ہوجاتا ہے۔ اکثر ائمہ کے نزدیک شفق اس سرخی کو کہتے ہیں جو آفتاب چھپنے کے بعد ظاہر ہوتی ہے چناچہ اہل لغت کا کہنا بھی یہی ہے۔ مگر حضرت امام اعظم اور علماء کی ایک دوسری جماعت کا قول یہ ہے کہ شفق اس سفیدی کا نام ہے جو سرخی ختم ہونے کے بعد نمودار ہوتی ہے۔ اہل لغت و دیگر ائمہ کے قول کے مطابق حضرت امام اعظم کا بھی ایک قول یہ ہے کہ شفق سرخی کا نام ہے چناچہ شرح وقایہ میں فتوی اسی قول پر مذکور ہے۔ لہٰذا احتیاط کا تقاضا یہ ہے کہ مغرب کی نماز تو سرخی غائب ہونے سے پہلے پڑھی جائے اور عشاء کی نماز سفیدی غائب ہونے کے بعد پڑھی جائے تاکہ دونوں نمازیں بلا اختلاف ادا ہوں۔ عشاء کے بارے میں مختار مسلک اور فیصلہ یہ ہے کہ اس کا وقت شفق غائب ہونے کے بعد شروع ہوتا ہے اور ٹھیک آدھی رات تک بلا کراہت باقی رہتا ہے البتہ وقت جو طلوع فجر سے پہلے تک رہتا ہے۔ فجر کا وقت طلوع صبح صادق کے بعد شروع ہوتا ہے اور طلوع آفتاب پر ختم ہوجاتا ہے۔ بظاہر تو حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ طلوع صبح صادق کے بعد سے طلوع آفتاب تک تمام وقت نماز فجر کے لئے مختار ہے مگر بعض حضرات فرماتے ہیں کہ فجر کی نماز کا وقت مختار اسفار تک ہے اس کے بعد وقت جواز رہتا ہے۔ نماز کے اوقات کی تفصیل جان لینے کے بعد اب حدیث کے آخری جملہ کا مطلب بھی سمجھ لیجئے۔ ارشاد فرمایا گیا ہے کہ جب کہ سورج نکل آئے تو نماز سے باز رہو کیونکہ سورج شیطان کے دونوں سینگوں کے درمیان سے نکلتا ہے اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ سورج نکلنے کی جگہ شیطان کے دونوں سینگ ہیں کہ سورج اس کے اندر سے طلوع ہوتا ہے بلکہ اس کا مطلب خود ایک روایت نے بتادیا ہے کہ طلوع آفتاب کے وقت شیطان آفتاب کے سامنے آکر کھڑا ہوجاتا ہے اور اپنا سر آفتاب کے نزدیک کرلیتا ہے اسی طرح غروب آفتاب کے وقت کرتا ہے اس کے اس طرز عمل کا سبب یہ ہے کہ جو لوگ آفتاب کو پوجتے ہیں اور اس کے سامنے سجدہ ریز ہوتے ہیں ان کفار کے اس طرز عمل کے ذریعہ وہ اپنا گمان یہ رکھتا ہے کہ لوگ میری عبادت کر رہے ہیں اسی طرح وہ اپنے تابعداروں کے ذہن میں یہ بات بٹھاتا ہے کہ یہ لوگ آفتاب کے سامنے سجدہ ریز نہیں ہیں بلکہ درحقیقت میری عبادت کر رہے ہیں اور میرے سامنے ماتھے ٹیکتے ہیں۔ اس لئے رسول اللہ ﷺ نے اپنی امت کو اس بات کا حکم دیا ہے کہ وہ ان اوقات میں نماز نہ پڑھا کریں تاکہ مسلمانوں کی عبادت شیطان کو پوجنے والوں کی عبادت کے اوقات میں نہ ہو۔
وَعَنْ بُرَےْدَۃَص قَالَ اِنَّ رَجُلًا سَاَلَ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم عَنْ وَقْتِ الصَّلٰوۃِ فَقَالَ لَہُ صَلِّ مَعَنَا ھٰذَےْنِ ےَعْنِی الْےَوْمَےْنِ فَلَمَّا زَالَتِ الشَّمْسُ اَمَرَ بِلَالًا فَاَذَّنَ ثُمَّ اَمَرَہُ فَاَقَامَ الظُّہْرَ ثُمَّ اَمَرَہُ فَاَقَامَ الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَۃٌ بَےْضَآءُ نَقِےَّۃٌ ثُمَّ اَمَرَہُ فَاَقَامَ الْمَغْرِبَ حِےْنَ غَابَتِ الشَّمْسُ ثُمَّ اَمَرَہُ فَاَقَامَ الْعِشَآءَ حِےْنَ غَابَ الشَّفَقُ ثُمَّ اَمَرَہُ فَاَقَامَ الْفَجْرَ حِےْنَ طَلَعَ الْفَجْرُ فَلَمَّا اَنْ کَانَ الْےَوْمُ الثَّانِیْ اَمَرَہُ فَاَبْرِدْ بِالظُّہْرِ فَاَبْرَدَبِھَا فَاَنْعَمَ اَنْ ےُبْرِدَ بِھَا وَصَلَّی الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَۃٌاَخَّرَھَا فَوْقَ الَّذِیْ کَانَ وَصَلَّی الْمَغْرِبَ قَبْلَ اَنْ ےَّغِےْبَ الشَّفَقُ وَصَلَّی الْعِشَآءَ بَعْدَ مَا ذَھَبَ ثُلُثُ الَّلےْلِ وَصَلَّی الْفَجْرَ فَاَسْفَرَبھِاَ ثُمَّ قَالَ اَےْنَ السَّآئِلُ عَنْ وَقْتِ الصَّلٰوۃِ فَقَالَ الرَّجُلُ اَنَا ےَا رَسُوْلَ اللّٰہِ قَالَ وَقْتُ صَلٰوتِکُمْ بَےْنَ مَا رَأَےْتُمْ۔(صحیح مسلم)
اور حضرت بریدہ ؓ راوی ہیں کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ سے نماز کا وقت دریافت کیا (کہ نماز کا اوّل و آخر وقت کیا ہے) آپ ﷺ نے اس سے فرمایا کہ دنوں میں تم ہمارے ساتھ نماز پڑھو (تاکہ میں تمہیں نماز کے اوقات دکھا دوں) چناچہ جب سورج ڈھل گیا آپ ﷺ نے حضرت بلال ؓ کو (اذان کا) حکم دیا، حضرت بلال ؓ نے اذان دی۔ پھر آپ ﷺ نے انہیں (تکبیر کہنے کا، حکم دیا، انہوں نے ظہر کی تکبیر کہی اور آپ ﷺ نے ظہر کی نماز پڑھائی) پھر آپ ﷺ نے عصر کی اقامت کا حکم دیا جب کہ سورج بلند اور سفید و صاف تھا (اور عصر کی نماز پڑھائی، پھر مغرب کی اقامت کا حکم دیا جب کہ سورج غروب ہی ہوا تھا، (اور مغرب کی نماز پڑھائی) پھر عشاء کی اقامت کا حکم دیا جب کہ شفق غائب ہوئی تھی اور عشاء کی نماز پڑھائی) پھر فجر نمودار ہوتے ہیں آپ ﷺ نے تمام نمازیں اوّل وقت پڑھا کر دکھا دیں کہ نمازوں کا اول وقت یہ ہے) پھر جب دوسرا دن ہوا تو آپ ﷺ نے بلال ؓ کو ظہر کو ٹھنڈا کر کے اذان دینے کا حکم دیا اور خوب ٹھنڈا کر کہ ظہر کی نماز کو پڑھایا اور عصر کی نماز اس وقت پڑھائی جب کہ سورج بلند تھا لیکن کل کے وقت سے دیر کر کے نماز پڑھائی اور مغرب کی نماز شفق غائب ہونے سے پہلے (یعنی شفق غائب ہونے کے قریب) پڑھائی اور عشاء کی نماز تہائی رات گزر جانے پر پڑھائی اور فجر کی نماز خوب روشنی ہوجانے پر پڑھائی اور اس کے بعد فرمایا نماز کے اوقات دریافت کرنے والا آدمی کہاں ہے؟ اس آدمی نے سامنے (آکر عرض کیا یا رسول اللہ! میں حاضر ہوں! آپ ﷺ نے فرمایا تمہاری نماز کے اوقات ان اوقات کے درمیان ہیں جو تم ان دنوں میں) دیکھ چکے ہو۔ (صحیح مسلم)
تشریح
سائل کا مطلب یہ تھا کہ نمازوں کے اوقات کے سلسلہ میں یہ بتادیا جائے کہ نماز کا اوّل وقت کیا ہوتا ہے اور آخر وقت کون سا ہوتا ہے؟ چناچہ رسول اللہ ﷺ نے اسے نمازوں کے اوقات کو زبانی سمجھانے سے زیادہ بہتر یہ سمجھا کہ اسے عملی طور پر دیکھا جائے تاکہ اوقات اس کے ذہن نشین ہو سکیں اس لئے آپ ﷺ نے اسے نماز کا اوّل و آخر دونوں وقت بتانے کے لئے پہلے دن تو نمازیں اوّل وقت پڑھیں اور دوسرے دن آخر وقت میں پڑھیں۔ حدیث میں پہلے ظہر کا ذکر کیا گیا ہے کہ جب آفتاب ڈھل گیا تو آپ ﷺ نے بلال ؓ کو اذان دینے کا حکم دیا چناچہ انہوں نے اذان دی پھر آپ ﷺ نے اقامت کا حکم دیا تو انہوں نے اقامت کہی۔ اس کے بعد عصر کا ذکر کیا گیا ہے لیکن نہ تو عصر کی نماز کا وقت ذکر کیا گیا ہے اور نہ عصر ہی اور نہ اس کے بعد کی اذانوں کا ذکر کیا گیا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ معروف ہے۔ دوسرے دن آپ ﷺ نے ظہر کو ٹھنڈا کر کے پڑھا یعنی پہلے روز کے مقابلے میں دوسرے دن ظہر کی نماز اتنی تاخیر سے پڑھی کہ گرمی کی شدت اور تپش کی سختی جاتی رہی تھی۔ عصر کی نماز آپ ﷺ نے پہلے روز کی تاخیر کے مقابلے میں زیادہ تاخیر سے یعنی دو مثلین کے بعد پڑھائی لیکن پہلے روز کی تاخیر کا یہ مطلب نہیں ہے کہ عصر کی نماز میں پہلے روز تاخیر کی گئی بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ نماز ظہر سے تاخیر کی گئی تھی۔ دوسرے روز آپ ﷺ نے تمام نمازوں کو تاخیر سے یعنی ان کے آخری اوقات میں ادا کیا جیسا کہ ابھی ذکر کیا گیا۔ مگر آپ ﷺ نے عشاء کو آخر وقت تک موخر نہ کیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اگر آپ ﷺ عشاء کو اس کے آخر وقت مختار یعنی آدھی رات تک موخر کرتے تو اس سے لوگوں کو دیر تک جاگنے کی وجہ سے تکلیف اور پریشانی ہوتی اور اگر آپ ﷺ عشاء سے پہلے سو رہتے تو مناسب نہ ہوتا کیونکہ عشاء کی نماز سے پہلے سونا مکروہ ہے۔ حدیث کے آخری جملے کا مطلب یہ ہے کہ تم نے ان دو دنوں میں ہمارے ساتھ نماز پڑھ کر یہ دیکھ لیا ہے کہ نمازوں کا اوّل وقت کیا ہے اور آخری وقت کیا ہے لہٰذا شروع سے لے کر آخر تک اوّل وقت بھی ہے اور اوسط بھی اور آخر وقت بھی ہے لہٰذا اس کے درمیان تم جب چاہو نماز پڑھ سکتے ہو۔ آخر وقت سے مراد وقت مختار ہے نہ کہ وقت جواز۔ اس لئے کہ نمازوں کے جو آخری وقت آپ ﷺ نے بیان فرمائے ہیں۔ ان کے بعد بھی نماز کا وقت باقی رہتا ہے تاہم وہ وقت جواز ہوتا ہے وقت مختار نہیں ہوتا۔
عَنِ ابْنِ عَبَّاسِ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَمَّنِیْ جِبْرِیْلُ عِنْدَالْبَیْتِ مَرَّتَیْنِ فَصَلّٰی بِیَ الظُّھْرَ حِیْنَ زَالَتِ الشَّمْسُ وَ کَانَتْ قَدْرَ الشِّرَاکِ وَصَلّٰی بِیَ الْعَصْرَحِیْنَ صَارَ ظِلُّ کُلِّ شَیْئٍ مِثْلُہُ وَصَلَّی بِیَ الْمَغْرِبَ حِیْنَ اَفْطَرَ الصَّائِمُ وَصَلّٰی بِیَ الْعِشَآءَ حِیْنَ غَابَ الشَّفَقُ وَصَلَّی بِیَ الْفَجْرَ حِیْنَ حَرُمَ الطَّعَامُ وَالشَّرَابُ عَلَی الصَّائِمِ فَلَمَّا کَانَ الْغَدُ صَلَّی بِیَ الظُّھْرَ حِیْنَ کَانَ ظِلُہ، مِثْلُہ، وَصَلَّی بِیَ الْعَصْرَ حِیْنَ کَانَ ظِلُّہ، مِثْلَیْہِ وَصَلَّی بِیَ الْمَغْرِبَ حِیْنَ اَفْطَرَ الصَّائِمُ وَصَلَّی بِیَ الْعِشَاءِ اِلٰی ثُلُثِ الَّیْلِ وَصَلَّی بِیَ الْفَجْرَ فَاَسْفَرَ ثُمَّ الْتَفَتَ اِلَیَّ فَقَالَ یَا مُحَمَّد ھٰذَا وَقْتُ الْاَنْبِیَاءِ مِنْ قَبْلِکَ وَالْوَقْتُ مَا بَیْنَ ھٰذَیْنِ الْوَقْتَیْنِ۔ (رواہ ابوداؤد والترمذی)
حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ فرماتے تھے، حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے (نماز کی کیفیت اور اوقات بتانے کے لئے) امام بن کر خانہ کعبہ کے نزدیک مجھے دو مرتبہ (دو روز) نماز پڑھائی چناچہ (پہلے روز جس وقت سورج ڈھل گیا اور سایہ تسمے کے مانند تھا تو مجھے ظہر کی نماز پڑھائی اور جب ہر چیز کا سایہ (علاوہ سایہ اصلی کے) اس کے برابر ہوگیا تو مجھے عصر کی نماز پڑھائی اور جس وقت روزہ دار روز افطار کرتا ہے (یعنی سورج چھپنے کے بعد) تو مجھے مغرب کی نماز پڑھائی اور شفق غائب ہونے کے وقت مجھے عشاء کی نماز پڑھائی اور جس وقت روزہ دار کے لئے کھانا پینا حرام ہوجاتا ہے (یعنی صبح صادق کے بعد) تو مجھے فجر کی نماز پڑھائی۔ اور جب اگلا روز ہوا تو انہوں نے مجھے ظہر کی نماز اس وقت پڑھائی جب کہ سایہ ایک مثل ( کے قریب ہوگیا اور مجھے عصر کی نماز اس وقت پڑھائی جب کہ ہر چیز کا سایہ اس کے دو مثل ہوجاتا ہے اور مجھے مغرب کی نماز اس وقت پڑھائی جب کہ روزہ دار افطار کرتا ہے اور مجھے عشاء کی نماز اس وقت پڑھائی جب کہ تہائی رات ہوگئی تھی اور مجھے فجر کی نماز اس وقت پڑھائی جب کہ خوب روشنی ہوگئی اور پھر (جبریل (علیہ السلام) نے) میری طرف متوجہ ہو کر کہا۔ اے محمد ﷺ! یہ وقت آپ ﷺ سے پہلے کے نبیوں (کی نماز) کا ہے اور نماز انہیں دو وقتوں کے درمیان ہے۔ (ابوداؤد، جامع ترمذی )
تشریح
جگہ اور وقت کے اعتبار سے سایہ اصلی مختلف ہوتا ہے چناچہ بعض جگہ تو سایہ زیادہ ہوتا ہے اور بعض جگہ کم ہوتا ہے اور بعض وقت سایہ اصلی ہوتا ہی نہیں جیسا کہ مکہ معظمہ میں انیسویں سرطان کو سایہ اصلی نہیں ہوتا۔ اس لئے سرکار دو عالم ﷺ نے پہلے روز کی نماز طہر کی وقت کے بارے میں فرمایا ہے کہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے پہلے دن مجھے ظہر کی نماز اس وقت پڑھائی جب ان دنوں میں مکہ معظمہ میں سایۂ اصلی جوتوں کے تسموں کی چوڑائی کے برابر تھا گویا وہ ظہر کا اوّل وقت تھا۔
عَنِ ابْنِ شِھَابٍ اَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِالْعَزِےْزِ اَخَّرَ الْعَصْرَ شَےْئًا فَقَالَ لَہُ عُرْوَۃُ اَمَا اِنَّ جِبْرَئِےْلَ قَدْ نَزَلَ فَصَلّٰی اَمَامَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم فَقَالَ عُمَرُ اِعْلَمْ مَا تَقُوْلُ ےَا عُرْوَۃُ فَقَالَ سَمِعْتُ بَشِےْرَ بْنَ اَبِیْ مَسْعُوْدٍ ےَّقُوْلُ سَمِعْتُ اَبَا مَسْعُوْدٍ ےَّقُوْلُ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم ےَقُوْلُ نَزَلَ جِبْرَئِےْلُ فَاَمَّنِیْ فَصَلَّےْتُ مَعَہُ ثُمَّ صَلَّےْتُ مَعَہُ ثُمَّ صَلَّےْتُ مَعَہُ ثُمَّ صَلَّےْتُ مَعَہُ ثُمَّ صَلَّےْتُ مَعَہُ ےَحْسِبُ بِاَصَابِعِہٖ خَمْسَ صَلَوٰتٍ۔(صحیح البخاری و صحیح مسلم)
حضرت ابن شہاب ( اسم گرامی محمد بن عبداللہ بن شہاب ہے زہری کی نسبت سے مشہور ہیں۔ آپ کی وفات ماہ رمضان ١٢٤ ھ میں ہوئی آپ جلیل القدر تابعی تھے) راوی ہیں کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز (رح) نے (ایک روز) عصر کی نماز (وقت مختار سے کچھ) تاخیر کر کے پڑھی حضرت عروہ نے (جب یہ دیکھا تو) کہا کہ سمجھ لیجئے! حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے آکر رسول اللہ ﷺ کے سامنے کھڑے ہو کر (اوّل وقت) نماز پڑھائی تھی۔ حضرت عمر ؓ نے فرمایا عروہ! ذرا سوچ سمجھ کر کہو کیا کہتے ہو؟ عروہ نے کہا، میں نے حضرت ابومسعود ؓ کے صاحبزادے حضرت بشیر (رح) سے سنا وہ کہتے تھے کہ میں نے حضرت ابومسعود ؓ سے سنا وہ فرماتے تھے کہ میں نے سرکار دو عالم ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے تھے کہ جبرائیل (علیہ السلام) آکر میرے امام بنے اور میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی، پھر میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی، پھر میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی، پھر میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی، پھر میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی، (راوی فرماتے ہیں کہ) رسول اللہ ﷺ نے پانچ نمازیں انگلیوں پر گن کر بتائیں۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
حضرت عروہ کا یہ مقصد تھا کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز (رح) کو یہ یاد دلائیں کہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کی امامت کے بارے میں جو حدیث وارد ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو پہلے دن اول وقت نمازیں پڑھائی تھیں تو اس سے معلوم ہوا کہ نمازوں کو اوّل وقت پڑھنا افضل ہے اس لئے آپ علیہ الرحمۃ نے اس وقت نماز میں تاخیر کر کے (اگرچہ یہ تاخیر زیادہ نہیں تھی) فضیلت کی سعادت کو کیوں ترک کیا؟۔ حضرت عمر ؓ نے جواب میں جو یہ کہا کہ عروہ! ذرا سوچ سمجھ کر کہو کیا کہتے ہو؟ اس سے ان کا مطلب یہ تھا کہ رسول اللہ ﷺ کی احادیث کو بیان کرنا کوئی معمولی بات نہیں ہے بلکہ یہ اہم اور عظیم چیز ہے حدیث کو بیان کرنے میں احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔ نیز حدیث کو بغیر سند کے بیان نہ کرنا چاہئے اس لئے سوچ سمجھ کر حدیث بیان کرو اور اس کی سند کے ساتھ بیان کرو۔ حضرت عروہ کی جلالت شان اور رفعت علم و فضل کا گو تقاضا تو یہ تھا کہ ان سے اس قسم کی بات نہ کہی جاتی مگر چونکہ روایت حدیث کی عظمت شان پیش نظر تھی اس لئے انہیں اس طرف توجہ دلائی گئی اور پھر عروہ نے بھی روایت حدیث کی اسی عظمت کے پیش نظر حضرت عمر ؓ کے توجہ دلانے کو نہ صرف یہ کہ اپنے علم و فضل کے منافی نہ سمجھا بلکہ اسے خیر و برکت کا باعث جان کر اس پر متنبہ ہوئے اور حدیث کی پوری سند یوں بیان کر کے اپنی قوت حفظ و ذہانت کا اظہار کرتے ہوئے یہ بات واضح کردی کہ میں جو بات کہہ رہا ہوں وہ کوئی معمولی درجہ کی نہیں ہے بلکہ اس کی صداقت کا میں یقینی علم رکھتا ہوں کیونکہ یہ وہ روایت ہے جس کو میں نے بشیر سے سنا ہے اور انہوں نے ایک جلیل القدر صحابی حضرت ابومسعود ؓ سے سنا اور انہوں نے خود رسول اللہ ﷺ کی لسان مقدس سے سنا ہے۔ اس حدیث میں راوی نے نماز کے اوقات تفصیل کے ساتھ بیان نہیں کئے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ مخاطب کو چونکہ اوقات کی پوری تفصیل معلوم تھی اس لئے یہاں تو صرف صورت واقعہ بیان کئے گئے ہیں ہاں دوسری روایات میں اوقات کی تفصیل بھی بیان کی گئی ہے۔
وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ اَنَّہ، کَتَبَ اِلٰی عُمَالِہٖ اَنَّ اَھَمَّ اُمُوْرِکُمْ عِنْدِی الصَّلَاۃُ مَنْ حَفِظَھَا وَ حَافَظَ عَلَیْھَا حَفِظَ دِیْنَہ، وَمَنْ ضَیَّعَھَا فَھُوَ لِمَا سِوَاھَا اَضْیَعُ ثُمَّ کَتَبَ اَنْ صَلُّو ا الظُّھْرَ اِذَا کَانَ الْفَیْئُ ذِرَاعًا اِلٰی اَنْ یَکُوْنَ ظِلُّ اَحَدِ کُمْ مِثْلَہُ وَالْعَصْرُ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَۃٌ بَیْضَاءُ نَقِیَّۃٌ قَدْرَ مَا یَسِیْرُ الرَّاکِبُ فَرْسَخَیْنِ اَوْثَلَاثَۃً قَبْلَ مَغِیْبِ الشَّمْسِ وَالْمَغْرِبَ اِذَا غَابَتِ الشَّمْسُ وَالعِشَاءَ اِذَا غَابَ الشَّفَقُ اِلٰی ثُلُثِ اللَّیْلِ فَمَنْ نَامَ فَلَا نَامَتْ عَیْنُہ، وَالصُّبْحَ وَالنُّجُوْمُ بَادِیَۃٌ مُشْتَبِکَۃٌ۔ (رواہ موطا امام مالک)
اور امیر المومنین حضرت عمر فاروق ؓ کے بارے میں مروی ہے کہ انہوں نے اپنے عاملوں (یعنی اسلامی سلطنت کے حکام) کے پاس یہ لکھ کر بھیجا تھا کہ تمہارے سب کاموں میں مہتم بالشان کام میرے نزدیک نماز کا پڑھنا ہے لہٰذا جس نے اس کی محافظت کی (یعنی ارکان و شرائط کے ساتھ نماز پڑھی اور اس پر نگہبانی رکھی (یعنی اسے ہمیشہ اداء کرتا رہا اور ریاء و نمائش کے سبب اسے باطل نہ کیا) تو گویا اس نے اپنے دین (کے بقیہ امور کی نگہبانی و محافظت کی اور جس نے اسے ضائع کردیا تو وہ اس چیز کو جو نماز کے علاوہ ہے بہت زیادہ ضائع کرنے والا ہے۔ پھر یہ لکھا کہ ظہر کی نماز ایک گز سایہ زوال ہونے سے لے کر ایک مثل سایہ تک (علاوہ سایہ اصلی کے) پڑھا کرو اور عصر کی نماز ایسے وقت پڑھا کرو کہ سورج اونچا اور سفید رہے اور سورج ڈوبنے میں) اتنا وقت رہے کہ کوئی سوار سورج ڈوبنے سے پہلے دو یا تین میل کا سفر طے کرسکے اور مغرب کی نماز سورج ڈوبنے کے بعد پڑھا کرو اور عشاء کی نماز شفق غائب ہونے کے وقت سے تہائی رات تک پڑھا کرو اور جو آدمی (عشاء سے پہلے) سو جائے (تو اللہ کرے) ان کی آنکھوں کو سونا نصیب نہ ہو (تین مرتبہ یہ دعا کی اور لکھا ہے کہ) صبح کی نماز ایسے وقت پڑھو جب کہ ستارے گنجان چمکتے ہوئے ہوں (یعنی تاریکی میں پڑھو۔ (مالک)
تشریح
چونکہ نماز دین کا ستون اور بنیاد ہے نیز یہی وہ عبادت ہے جو برائیوں سے روکتی اور بھلائی وسعادت کے راستہ پر لگاتی ہے اس لئے حضرت عمر ؓ نے فرمایا کہ جس نے نماز کی محافظت کی گویا اس نے دین کے تمام امور کی محافظت کی۔ اسی طرح فرمایا کہ جس نے نماز کو ضائع کیا یعنی نماز یا تو بالکل پڑھی ہی نہیں اور اگر پڑھی تو شرائط و واجبات کا قطعًا لحاظ نہ کیا تو وہ نماز کے علاوہ دیگر واجبات و مستحبات اور دینی امور کو بہت زیادہ ضائع کرنے والا ہے کیونکہ نماز ہی عبادات کی اصل ہے جب اس نے اسی کا خیال نہ رکھا تو اس سے دوسرے امور دین کے خیال رکھنے اور ان پر عمل کرنے کی کیا امید کی جاسکتی ہے۔ حضرت عمر ؓ کا یہ حکم کہ ظہر کی نماز ایک گز سایہ زوال ہونے کے وقت یعنی اس کے فورا بعد (کہ وہ ظہر کا اول وقت ہوگا) پڑھو۔ ان مقامات کے لئے ہے جہاں سایہ اصلی اسی قدر ہوتا ہے جیسا کہ پہلے بتایا جا چکا ہے کہ سایہ اصلی مقامات اور وقت کے اعتبار سے ہوتا ہے کہ کہیں تو زیادہ ہوتا ہے اور کہیں کم ہوتا ہے۔ حضرت عمر ؓ نے عشاء سے پہلے سونے والے کے بارے میں تین مرتبہ بد دعا تاکید و تہدید کے لئے فرمائی ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ عشاء سے پہلے نماز پڑھے بغیر جو آدمی سو جائے اللہ اس کی آنکھوں کو سونا نصیب نہ کرے وہ بےآرامی و بےقراری میں مبتلا رہے۔ چنانچہ حضرت ابن حجر شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عشاء کی نماز سے پہلے سونا حرام ہے مگر حنفیہ کے نزدیک یہ حکم تفصیل پر محمول ہے یعنی اگر کوئی نماز کا وقت شروع ہوجانے کے بعد نماز پڑھنے سے پہلے سوئے اور اسے اس بات کا گمان بھی ہو کہ میں نماز کے آخر وقت تک سوتا ہی رہوں گا تو اس کے لئے یہ سونا جائز نہ ہوگا۔ اور اگر اسے اپنے اوپر کامل اعتماد ہو کہ میں بغیر جگائے ایسے وقت اٹھ جاؤں گا کہ وقت کے اندر اندر پوری نماز پڑھ لوں گا تو اس کے لئے سونا جائز ہوگا۔ مذکورہ بالا حکم وقت شروع ہوجانے کے بعد سونے کے سلسلہ میں ہے لیکن وقت شروع ہونے سے پہلے سونے کے بارے میں بھی علماء کا اختلاف ہے، چناچہ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ اس بارے میں بھی وہی پہلی تفصیل کی جائے گی۔ اور بعض حضرات فرماتے ہیں کہ وقت شروع ہونے سے پہلے سو جانا مطلق حرام نہیں ہے کیونکہ کوئی بھی آدمی وقت شروع ہونے سے پہلے نماز کے لئے مکلف نہیں ہوتا۔
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ قَالَ کَانَ قَدْ رُصَلَاۃِ رَسُوْلِ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الظُّھْرَ فِی الصَّیْفِ ثَلَاثَۃَ اَقْدَامٍ اِلٰی خَمْسَۃِ اَقْدَامٍ وَفِی الشِّتَاءِ خَمْسَۃ اَقْدَامٍ اِلٰی سَبْعَۃٍ اَقْدَامٍ۔ (رواہ ابوداؤدوالنسائی )
اور حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی نماز ظہر کا اندازہ گرمیوں میں تین قدم سے پانچ قدم تک اور جاڑوں میں پانچ قدم سے سات قدم تک تھا۔ (ابوداؤد، سنن نسائی)
تشریح
دونوں موسم میں اس فرق کی وجہ یہ ہے کہ سردی کے موسم میں سایہ اصلی زیادہ ہوتا ہے اور گرمی کے موسم میں سایہ اصلی کم ہوتا ہے خصوصاً حرمین میں ورنہ یہ دونوں وقت برابر ہیں یہ حدیث بہر صورت زوال کے بعد ظہر کی نماز کو تاخیر کرنے پر دلالت کرتی ہے قدم سے مراد ہر آدمی کے قد کا سا تو اں حصہ ہے چناچہ اس اعتبار سے کہ ہر آدمی کے قد کا طول اس کے سات قدم (یعنی سات پاؤں) کے برابر ہوتا ہے ہر چیز کا طول سات قدم مقرر ہے۔
ارشاد ربانی ہے آیت (فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرٰت) 2۔ البقرۃ 148) یعنی بھلائیوں میں جلدی کرو۔ آیت سے معلوم ہوا کہ نماز کے بارے میں اصل یہی ہے کہ اسے جلدی یعنی اوّل وقت ادا کرلیا جائے لیکن اتنی بات سمجھ لیجئے کہ آیت کا مفہوم تو یہی ہے کہ بھلائی کے تمام کاموں کو جن میں نماز بھی شامل ہے جلدی کر ڈالنا بہتر اور مناسب ہے مگر جن مواقع کے لئے شارع (علیہ السلام) نے تاخیر کا حکم فرمایا ہے وہاں تاخیر کرنا اولیٰ و افضل ہے۔ حضرت امام شافعی (رح) کے نزدیک تمام نمازوں کو ان کے اوّل وقت میں ادا کرنا مطلقا مستحب ہے مگر حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کے ہاں کچھ تفصیل ہے چناچہ وہ فرماتے ہیں کہ سردی کے موسم میں تو ظہر کی نماز اوّل وقت پڑھ لینی چاہئے مگر گرمی کے موسم میں ظہر کو ٹھنڈا کر کے پڑھنا چاہئے۔ اسی طرح فجر کی نماز ہر موسم میں اجالے میں پڑھنی چاہئے اور عشاء کی نماز تاخیر کے ساتھ پڑھنی چاہئے نیز عصر کی نماز بھی تاخیر کر کے پڑھنی چاہئے مگر اس میں اتنی تاخیر نہ ہو کہ آفتاب متغیر ہوجائے نمازوں کو جلدی پڑھنے کی حدیہ ہے کہ ان کے اوّل وقت کے پہلے نصف حصہ میں ادا کی جائیں۔
عَنْ سَےَّارِ بْنِ سَلَامَۃَ قَالَ دَخَلْتُ اَنَا وَاَبِیْ عَلٰی اَبِیْ بَرْزَۃَ الْاَسْلَمِیِّ ص فَقَالَ لَہُ اَبِیْ کَےْفَ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم ےُصَلِّی الْمَکْتُوْبَۃَ فَقَالَ کَانَ ےُصَلِّی الْھَجِےْرَ الَّتِیْ تَدْعُوْنَھَا الْاُوْلٰی حِےْنَ تَدْحَضُ الشَّمْسُ وَےُصَلِّی الْعَصْرَ ثُمَّ ےَرْجِعُ اَحَدُنَا اِلٰی رَحْلِہٖ فِیْ اَقْصَی الْمَدِےْنَۃِ وَالشَّمْسُ حَےَّۃٌ وَّنَسِےْتُ مَاقَالَ فِی الْمَغْرِبِ وَکَانَ ےَسْتَحِبُّ اَنْ ےُّؤَخِّرَ الْعِشَآءَ الَّتِیْ تَدْعُوْنَھَا الْعَتَمَۃَ وَکَانَ ےَکْرَہُ النَّوْمَ قَبْلَھَا وَالْحَدِےْثَ بَعْدَھَا وَکَانَ ےَنْفَتِلُ مِنْ صَلٰوۃِ الْغَدَاۃِ حِےْنَ ےَعْرِفُ الرَّجُلُ جَلِےْسَہُ وَےَقْرَأُ بِالسِّتِّےْنَ اِلَی الْمِائَۃِ وَفِیْ رِوَاےَۃٍ وَّلَا ےُبَالِیْ بِتَأْخِےْرِ الْعِشَآءِ اِلٰی ثُلُثِ الَّلےْلِ وَلَا ےُحِبُّ النَّوْمَ قَبْلَھَا وَالْحَدِےْثَ بَعْدَھَا۔(صحیح البخاری و صحیح مسلم)
حضرت سیار ابن سلامہ (رح) فرماتے ہیں کہ میں اور میرے والد (ہم دونوں) حضرت ابوبرزہ اسلمی ؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے، میرے والد نے ان سے پوچھا کہ رسول اللہ ﷺ فرض نمازیں کس طرح (یعنی کس کس وقت) پڑھتے تھے، انہوں نے فرمایا کہ آپ ﷺ ظہر کی نماز جسے پہلی نماز کہا جاتا ہے سورج ڈھلنے کے وقت پڑھتے تھے اور عصر کی نماز (ایسے وقت) پڑھتے تھے کہ ہم میں سے کوئی نماز پڑھ کر مدینہ کے کنارے اپنے مکان پر جا کر سورج روشن ہوتے ہوئے ( یعنی اس کے متغیر ہونے سے پہلے) واپس آجاتا تھا۔ سیار فرماتے ہیں کہ مغرب کے بارے میں ابوبرزہ ؓ نے جو کچھ بتایا تھا وہ میں بھول گیا اور (ابوبرزہ ؓ کہتے تھے کہ عشاء کی نماز جسے تم عتمہ کہتے ہو رسول اللہ ﷺ تاخیر سے پڑھنے کو بہتر سمجھتے تھے اور عشاء کی نماز سے پہلے سونے اور عشاء کی نماز کے بعد (دنیاوی) باتیں کرنے کو آپ ﷺ مکروہ سمجھتے تھے اور صبح کو نماز ایسے وقت پڑھ ( کر فارغ ہو) لیتے تھے کہ ہر آدمی اپنے پاس بیٹھنے والے کو پہچان لیتا تھا اور (نماز میں) ساٹھ آیتوں سے لے کر سو آیتوں تک پڑھ لیا کرتے تھے، ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں کہ رسول اللہ ﷺ تہائی رات تک عشاء میں دیر کرنے میں تامل نہ فرماتے تھے اور عشاء کی نماز سے پہلے سونے اور عشاء کی نماز کے بعد باتیں کرنے کو پسند نہیں فرماتے تھے۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)
تشریح
یہاں ظہر کے بارے میں جو وقت ذکر گیا ہے اس سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ سردی کے موسم میں ظہر کی نماز اوّل وقت پڑھتے ہوں گے کیونکہ یہ قولا اور فعلا ثابت ہوچکا ہے کہ آپ ﷺ گرمی کے موسم میں ظہر کو ٹھنڈا کر کے پڑھتے تھے۔ عتمہ اس تاریکی کو کہتے ہیں جو شفق غائب ہونے کے بعد ہوتی ہے چناچہ پہلے عرب میں عتمہ عشاء کو کہتے تھے مگر بعد میں رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کو منع کردیا کہ عشاء کو عتمہ نہ کہا جائے۔ یہاں تاخیر سے مراد یہ ہے کہ آپ ﷺ عشاء کی نماز تہائی رات تک تاخیر کر کے پڑھتے تھے۔ آپ ﷺ عشاء کی نماز کے بعد دنیا کی باتیں کرنے کو پسند نہیں فرماتے تھے اور اس کا مقصد یہ تھا کہ اعمال کا خاتمہ عبادت اور ذکر اللہ پر ہونا چاہئے کیونکہ نیند بمنزلہ موت ہے۔ شرح السنۃ میں منقول ہے کہ عشاء سے پہلے سونے کو اکثر علماء نے مکروہ کہا ہے اور بعض حضرات نے سونے کی اجازت دی ہے چناچہ حضرت عمر فاروق ؓ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ عشاء سے پہلے سوتے اور بعض علماء کے نزدیک صرف رمضان میں عشاء سے پہلے سونا جائز ہے۔ حضرت امام نووی (رح) فرماتے ہیں کہ اگر نیند کا غلبہ ہو اور یہ خوف نہ ہو کہ عشاء کی نماز کا وقت سونے کی نذر ہوجائے گا تو سونا مکروہ نہیں ہے۔ عشاء کے بعد باتوں میں مشغول ہونے کو علماء کی ایک جماعت نے مکروہ کہا ہے چناچہ حضرت سعید ابن مسیب کے بارے میں بھی منقول ہے کہ وہ کہتے تھے کہ میرے نزدیک بغیر عشاء کی نماز پڑھے سو رہنا اس سے بہتر ہے کہ عشاء کی نماز کے بعد کوئی آدمی لغو کلام اور دنیاوی باتوں میں مشغول ہو۔ بعض علماء نے عشاء کے بعد علم کی باتیں کرنے کی اجازت دی ہے اسی طرح ضرورت اور حاجت کے سلسلے میں یا گھر والوں اور مہمان کے ساتھ باتیں کرنے کی بھی اجازت دی ہے۔ (ملا علی قاری) حضرت شٰخ عبدالحق محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ یہ دونوں چیزیں جائز ہیں، یعنی اگر کوئی آدمی عشاء کی نماز سے پہلے سستی اور کاہلی کو دور کرنے اور نشاط و تازگی حاصل کرنے کے لئے سونا چاہے تو اس کے لئے سونا جائز ہے، اسی طرح عشاء کی نماز کے بعد ایسی باتیں کرنا جو ضروری ہوں اور بےمعنی نہ ہوں جائز ہے۔
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِوبْنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِیٍّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا قَالَ سَأَلْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِاللّٰہِ عَنْ صَلٰوۃِ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم فَقَالَ کَانَ ےُصَلِّی الظُّہْرَ بِالْھَاجِرَۃِ وَالْعَصْرَ وَالشَّمْسُ حَےَّۃٌ وَالْمَغْرِبَ اِذَا وَجَبَتْ وَالْعِشَآءَ اِذَا کَثُرَالنَّاسُ عَجَّلَ وَاِذَا قَلُّوْا اَخَّرَ وَالصُّبْحَ بِغَلَسٍ۔(صحیح البخاری و صحیح مسلم)
اور حضرت محمد بن ابن عمرو ابن حسن ابن علی (رح) فرماتے ہیں کہ ہم نے حضرت جابر ابن عبداللہ ؓ سے رسول اللہ ﷺ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ ظہر کی نماز دوپہر ڈھلے پڑھتے تھے اور عصر کی نماز ایسے وقت پڑھتے تھے کہ سورج زنار (یعنی روشن) ہوتا تھا اور مغرب کی نماز آفتاب غروب ہونے کے بعد پڑھتے تھے اور عشاء کی نماز میں جب لوگ زیادہ آجاتے تو جلدی ہی پڑھ لیتے تھے اور جب لوگ کم ہوتے تو تاخیر کر کے پڑھتے تھے اور صبح کی نماز اندھیرے میں پڑھ لیتے تھے۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)
تشریح
عشاء کی نماز کے بارے میں یہاں وضاحت کردی گئی ہے کہ اگر لوگ زیادہ آجاتے تو آپ ﷺ نماز جلدی پڑھ لیتے اور اگر کم آتے تو تاخیر کر کے پڑھتے تھے۔ اس سے معلوم ہوا کہ جماعت کی کثرت کی پیش نظر نماز کو اوّل وقت سے تاخیر کر کے پڑھنا جائز ہے بلکہ مستحب ہے۔ چناچہ علماء لکھتے ہیں کہ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ اور ان کے متبعین نے اوّل وقت نماز پڑھنے کا التزام اسی لئے نہیں کیا ہے کہ تاخیر سے نماز پڑھنے میں جماعت میں کثرت ہوجاتی ہے نہ یہ کہ ان حضرات کے نزدیک اوّل وقت افضل نہیں ہے۔ اوّل وقت تو بہر صورت افضل ہے لیکن بعض خارجی عوارض جیسے جماعت کی کثرت وغیرہ کی بناء پر تاخیر ہی اولیٰ ہوتی ہے۔ صبح کی نماز تاریکی میں پڑھنے کا سبب بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ چونکہ صحابہ کرام رات بھر سونے کے بجائے ذکر و عبادت میں مشغول رہنے کی وجہ سے صبح سویرے ہی مسجد میں موجود رہتے تھے اس لئے آپ ﷺ جماعت کی کثرت کے پیش نظر جلدی پڑھ لیتے تھے۔ آخر میں اتنی بات سمجھ لیجئے کہ اس حدیث سے یہ بالکل ثابت نہیں ہوتا کہ آپ ﷺ مستقلاً تاریکی ہی میں فجر کی نماز پڑھتے تھے اور اگر بفرض محال اسے مان بھی لیا جاے تو یہ ثابت ہے کہ خود رسول اللہ ﷺ نے فجر کی نماز روشنی میں پڑھنے کا حکم دیا ہے اور حنفیہ کے نزدیک فعل کے مقابلے میں امر (یعنی حکم) کو ترجیح دی جاتی ہے۔
وَعَنْ اَنَسٍ ص قَالَ کُنَّا اِذَا صَلَّےْنَا خَلْفَ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم بِالظَّھَآئِرِسَجَدْنَا عَلٰی ثِےَابِنَا اتِّقَآءَ الْحَرِّ (مُتَّفَقٌ عَلَےْہِ وَلَفْظُہُ لِلْبُخَارِیِّ۔)
اور حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پیچھے ظہر کی نماز پڑھتے ہوئے گرمی سے بچنے کے لئے اپنے کپڑوں پر سجدہ کرلیا کرتے تھے۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)
تشریح
حنفیہ کے نزدیک چونکہ نمازی اپنے پہنے ہوئے کپڑے پر سجدہ کرسکتا ہے اس لئے یہ حضرات اس حدیث کو اپنے مسلک کی دلیل میں پیش کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اس سے معلوم ہوا کہ نمازی کے لئے پہنے ہوئے کپڑے پر سجدہ کرنا درست ہے۔ حضرات شوافع کے نزدیک چونکہ ایسے کپڑے پر جو نمازی کے ہلنے سے حرکت کرتے ہوں سجدہ کرنا جائز نہیں ہے۔ اس لئے وہ حضرات اس حدیث کی تاویل یہ کرتے ہیں کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین جن کپڑوں پر سجدہ کرتے تھے وہ ان کے بدن پر نہیں ہوتے تھے بلکہ گرمی سے بچاؤ کی خاطر انہیں علیحدہ فرش پر بچھائے رکھتے تھے۔ اس حدیث کو مصنف مشکوٰۃ نے باب تعجیل الصلوٰۃ میں نقل کیا ہے تاکہ یہ بات واضح ہوجائے کہ زمین پر گرمی کی تپش اوّل وقت ہی رہتی ہے لہٰذا اس سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ گرمی کے موسم میں بھی ظہر کی نماز اوّل وقت ہی میں پڑھا کرتے تھے۔ حالانکہ یہ بات اس حدیث سے معلوم نہیں ہوتی کیونکہ بسا اوقات (بلکہ زیادہ گرمی کے موسم میں) اوّل وقت کی بہ نسبت بعد میں زیادہ گرمی ہوجاتی ہے۔
وَعَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَ ص قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ فَاَبْرِدُوْا بِالصَّلٰوۃِ وَفِیْ رِوَاےَۃٍ لِّلْبُخَارِیِّ عَنْ اَبِیْ سَعِےْدٍ بِالظُّھْرِ فَاِنَّ شِدَّۃَ الْحَرِّ مِنْ فَےْحِ جَھَنَّمَ وَاشْتَکَتِ النَّارُ اِلٰی رَبِّھَا فَقَالَتْ رَبِّ اَکَلَ بَعْضِیْ بَعْضًا فَاَذِنَ لَھَا بِنَفَسَےْنِ نَفَسٍ فِی الشِّتَآءِ وَنَفْسٍ فِی الصَّےْفِ اَشَدُّ مَا تَجِدُوْنَ مِنَ الْحَرِّ وَاَشَدُّ مَا تَجِدُوْنَ مِنَ الزَّمْھَرِےْرِ (مُتَّفَقٌ عَلَےْہِ) وَفِی رِوَاےَۃٍ لِّلْبُخَارِیِّ فَاَشَدُّ مَا تَجِدُوْنَ مِنَ الْحَرِّ فَمِنْ سَمُوْمِھَا وَاَشَدُّ مَا تَجِدُوْنَ مِنَ الْبَرْدِ فَمِنْ زَمْھَرِےْرِھَا۔
اور حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب گرمی کی شدت ہو تو نماز کو ٹھنڈے وقت میں پڑھا کرو۔ اور صحیح البخاری کی ایک روایت میں ابوسعید ؓ سے منقول ہے کہ ظہر کی نماز ٹھنڈے وقت پڑھا کرو ( یعنی ابوہریرہ ؓ کی روایت میں تو بالصلوٰۃ کا لفظ آیا ہے اور ابوسعید کی روایت میں بالظہر کا لفظ آیا ہے نیز اس روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ) کیونکہ گرمی کی شدت دوزخ کی بھاپ سے ہوتی ہے اور (دوزخ کی) آگ نے اپنے رب سے شکایۃ عرض کیا کہ میرے پروردگا! میرے بعض (شعلے) بعض کو کھائے لیتے ہیں۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے اسے دو سانس لینے کی اجازت دے دی ہے۔ اب وہ ایک سانس جاڑے میں لیتی ہے اور ایک سانس گرمی میں۔ گرمی میں جس وقت تمہیں زیادہ گرمی معلوم ہوتی ہے اور جاڑے میں جس وقت تمہیں زیادہ سردی معلوم ہوتی ہے (تو اس کا سبب یہی ہوتا ہے کہ وہ ایک سانس گرمی میں اور ایک سانس سردی میں لیتی ہے)۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) اور صحیح البخاری کی ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں کہ جس وقت تم گرمی کی شدت محسوس کرتے ہو تو اس کا سبب دوزخ کا گرم سانس ہوتا ہے اور جس وقت تم سردی کی شدت محسوس کرتے ہو تو اس کا سبب دوزخ کا ٹھنڈا سانس ہوتا ہے۔
تشریح
پروردگار سے دوزخ کی آگ کی نے یہ شکایت کی کہ میرے بعض (شعلے) بعض کو کھائے لیتے ہیں۔ کنایہ ہے اجزاء آگ کی کثرت سے اور آپس کے اختلاط سے یعنی آگے کے شعلے اتنے زیادہ ہوتے ہیں اور اس شدت سے بھڑکتے ہیں کہ ان میں سے ہر ایک یہ چاہتا ہے کہ دوسرے شعلے کو فنا کر گھاٹ اتار کر اس کی جگہ بھی خود لے لے۔ چناچہ پروردگار نے اسے سانس لینے کی اجازت دے دی یعنی سانس سے مراد شعلے کو دبانا اور اس کا دوزخ سے باہر نکلنا ہے۔ جس طرح کہ جاندار سانس لیتا ہے تو ہوا باہر نکلتی ہے۔ بہر حال ایسے وقت باوجود یہ کہ مشقت بہت ہوتی ہے نماز پڑھنے سے منع کیا گیا ہے کیونکہ ایسے سخت وقت میں جب کہ گرمی اپنی شدت پر ہوتی ہے دل و دماغ تپش کی وجہ سے بےچین ہوتے ہیں نیز خشوع اور سکون وا طمینان حاصل نہیں ہوتا جو نماز کی روح ہیں۔ اس موقع پر عقلی طور پر چند اشکال پیدا ہوتے ہیں ان کی وضاحت کر دینی ضروری ہے۔ پہلا اشکال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ گرمی اور سردی کی شدت زمین کی حرکت، عرض البلد اور آفتاب کی وجہ سے ہوتی ہے اس لئے یہاں یہ کیسے کہا گیا کہ گرمی کی شدت دوزخ کی بھاپ سے ہوتی ہے؟ اس کا پہلا جواب تو یہ ہے کہ یہاں دوزخ کی بھاپ کو گرمی کی شدت کا سبب بتایا گیا ہے نہ کہ اصل گرمی کا۔ اس پر یہ اعتراض نہیں کیا جاسکتا کہ گرمی اور سردی کی شدت بھی آفتاب کے قرب و بعد کی بناء پر ہوتی ہے کیونکہ اس کے باوجود ہوسکتا ہے کہ دوزخ کا سانس اس میں مزید شدت پیدا کرتا ہو لہٰذا اس کا انکار مخبر صادق کی خبر کے ہوتے ہوئے طریقہ اسلام کے منافی ہے۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ اتنی بات تو طے ہے کہ زمین میں حرارت کی علت سورج کا مقابلہ اور اس کی شعاعیں پڑنا ہے اور یہ کہیں ثابت نہیں ہوا ہے کہ سورج دوزخ نہیں ہے لہٰذا ہوسکتا ہے کہ ہمارے نظام کی دوزخ یہی ہو جسے ہم سورج کہتے ہیں کیونکہ سورج میں ناریت کا تموج اور اشتعال اس قدر ہے کہ دوزخ کی تمام صفات اس پر منطبق ہوتی ہیں اور اگر یہ ثابت بھی ہوجائے کہ سورج دوزخ نہیں ہے تو یہ بالکل بعید اور ناممکن نہیں ہے کہ دوزخ علیحدہ ہو اور اس کی گرمی کا اثر زمین پر پڑتا ہو۔ دوسرا اشکال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دوزخ نے شکایت کیسے کی کیونکہ دوزخ بےزبان ہے اور بےزبان اظہار مدعا کیسے کرسکتا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ جس طرح زبان کے لئے تلفظ ضروری نہیں ہے اسی طرح تلفظ کے لئے زبان بھی ضروری نہیں ہے۔ کیونکہ اکثر جانوروں کی زبان ہوتی ہے مگر وہ تلفظ نہیں کرتے ایسے ہی بہت سی چیزیں ایسی ہیں جن کے زبان نہیں ہوتی مگر وہ بات کرتی ہیں۔ لہٰذا یہ اشکال پیدا کرنا کہ بغیر زبان کے بات کرنا ناممکن ہے کم فہمی کی بات ہے۔ کیونکہ اگر کوئی یہ پوچھنے بیٹھ جائے کہ زبان سے بات کیوں کی جاتی ہے اس سے سننے کا کام کیوں نہیں لیا جاتا؟ آنکھ سے دیکھتے اور کان سے سنتے کیوں ہو ان سے بات کیوں نہیں کرتے جب کہ یہ سب اعضاء بظاہر ایک ہی مادہ سے بنتے ہیں جو نطفہ ہے تو ہر ایک قوت کی تخصیص کی وجہ ایک خاص چیز سے کیا ہے؟ تو اس کا جواب یہی دیا جائے گا کہ یہ صانع مطلق کی قدرت ہے کہ بولنا زبان سے مختص کیا، دیکھنا آنکھ سے اور سننا کان سے ورنہ یہ سب اعضاء گوشت کا ایک حصہ ہونے میں برابر ہیں۔ ٹھیک اسی طرح یہاں بھی یہی کہا جائے گا کہ کیا صانع مطلق کی یہ قدرت نہیں ہوسکتی کہ وہ اپنی ایک مخلوق کو گویائی کی قوت دے دے اور جب کہ حکماء کی ایک جماعت تو یہ بھی کہتی ہے کہ اجرام فلکیہ میں نفوس ہیں اور ان میں احساس و ادراک کی قوت ہے تو اس صورت میں بولنا بعید ہے؟۔ تیسرا اشکال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دوزخ جاندار نہیں ہے وہ سانس کیسے لیتی ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ دوزخ میں نفس ہونے سے کوئی چیز مانع نہیں ہے اور جب مذکورہ بالا بحث کی رو سے اس سے تکلم ثابت ہوسکتا ہے تو سانس لینے میں کیا اشکال باقی رہ جائے گا!۔ چوتھا اشکال یہ ہے کہ آگ کے ٹھنڈا سانس لینے کے کیا معنی؟۔ اس کا مختصر سا جواب یہ ہے کہ آگ سے مراد اس کی جگہ یعنی دوزخ ہے اور اس میں ایک طبقہ زمہریر بھی ہے۔ پانجواں اشکال یہ پیدا ہوسکتا ہے کہ اس حدیث کے مفہوم کے مطابق تو یہ چاہئے تھا کہ سخت سردی کے موسم میں فجر کو بھی تاخیر سے پڑھنے کا حکم دیا جاتا ہے حالانکہ ایسا نہیں ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ سردی میں صبح کو سورج نکلتے تک اسی شدت کے ساتھ رہتی ہے اگر طلوع آفتاب تک نماز میں تاخیر کی جاتی ہے تو وہاں سرے سے وقت ہی جاتا رہتا۔ بہر حال۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ گرمی کے موسم میں ظہر کی نماز تاخیر سے پڑھنا مستحب ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خود صحابہ بھی گرمی کے موسم میں ظہر کو ٹھنڈا کر کے پڑھتے تھے۔ چناچہ صحیح البخاری کی ایک روایت میں منقول ہے کہ صحابہ ظہر کی نماز (تاخیر سے) ٹھنڈا کر کے پڑھتے تھے یہاں تک کہ ٹیلوں کے سائے زمین پر پڑنے لگتے تھے۔ اور یہ سب ہی جانتے ہیں کہ ٹیلے چونکہ پھیلے ہوئے ہوتے ہیں اس لئے ان کے سائے زمین پر بہت دیر کے بعد پڑتے ہیں بخلاف دراز چیزوں مثلاً مینار وغیرہ کے ان کے سائے جلدی ہی پڑنے لگتے ہیں۔ بعض روایتوں میں منقول ہے کہ صحابہ ظہر کی نماز کے لئے دیواروں کے سائے میں ہو کر جاتے تھے۔ اور دیواروں کے بارے میں تحقیق ہوچکی ہے کہ اس وقت دیواریں عام طور پر سات سات گز کی ہوتی تھی۔ لہٰذا ان کے سائے میں چلنا اس وقت کار آمد ہوتا ہوگا جب کہ سورج کافی نیچے ہوتا ہو۔ بعض حضرات نے تاخیر کی حد آدھا وقت مقرر کی ہے یعنی کچھ علماء یہ فرماتے ہیں کہ گرمی کے موسم میں ظہر کی نماز آدھے وقت تک مؤخر کر کے پڑھنی چاہئے۔ بعض شوافع حضرات حدیث سے ثابت شدہ ابراد (یعنی نماز کو ٹھنڈا کر کے) کا محمول وقت زوال کو بتاتے ہیں یعنی ان کا کہنا یہ ہے کہ اس ابراد کا مقصد نماز ظہر میں اتنی تاخیر نہیں ہے جو حنفیہ بتاتے ہیں بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وقت استواء کی شدید گرمی سے بچنے کے لئے زوال کی وقت ظہر کی نماز پڑھنی چاہئے۔ ان حضرت کی یہ تاویل نہ صرف یہ کہ بعیداز مفہوم ہے بلکہ خلاف مشاہدہ بھی ہے کیونکہ وقت استواء کے مقابلہ میں زوال کے وقت گرمی کی شدت میں کمی آجانے کا خیال تجربہ و مشاہدہ ہے۔ ہدایہ میں مذکور ہے کہ جن شہروں میں گرمی کی شدت آفتاب کے ایک مثل سایہ پہنچنے کے وقت ہوتی ہے وہاں تو ابراد کا مقصد اسی وقت حاصل ہوسکتا ہے جب کہ نماز ایک مثل سایہ ہونے کے بعد پڑھی جائے۔ الحاصل۔ ظہر کی نماز کو ابراد میں یعنی ٹھنڈا کر کے پڑھنے کے بارے میں بہت زیادہ حد یثیں وارد ہیں جن سے متفقہ طور پر یہ ثابت ہوتا ہے کہ گرمی میں ظہر کی نماز ٹھنڈا کر کے پڑھنا ہی افضل و اولیٰ ہے۔ جہاں تک حدیث حباب ؓ کا تعلق ہے جس میں مروی ہے کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ سے گرمی کے موسم میں دوپہر کی شدت کے بارے میں شکایت کی تو آپ ﷺ نے ہماری درخواست قبول نہیں کی۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے گرمی کے موسم میں ظہر کی نماز کو پورے وقت تک موخر کرنے کی درخواست کی تھی اس لئے آپ ﷺ نے اسے قبول نہیں فرمائی کہ اگر اتنی تاخیر کی جائے گی تو نماز کا وقت بھی نکل جائے گا۔ حضرت امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ ابراد رخصت ہے اور وہ بھی سب کے لئے نہیں بلکہ ان لوگوں کے لئے ہے جو جماعت کے لئے مسجدوں میں جانے کے لئے مشقت و محنت کا سامنا کرتے ہیں۔ جو لوگ تنہا نماز پڑھتے ہوں یا اپنے پڑوس و محلہ کی مسجد میں نماز کے لئے آتے ہوں ان کے لئے میرے نزدیک یہ پسندیدہ ہے کہ وہ اول وقت سے تاخیر نہ کریں، یہ قول ظاہر حدیث کے خلاف ہے اس لئے اس کی اتباع نہیں کی جاسکتی۔ حضرت امام ترمذی (رح) نے ایک حدیث نقل کی جس سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ سفر میں بھی باوجود یہ کہ سب یکجا رہتے تھے ابراء کا حکم فرمایا کرتے تھے، نیز امام ترمذی (رح) فرماتے ہیں کہ جو آدمی گرمی کی شدت سے بچنے کے لئے ظہر کی نماز کو تاخیر سے پڑھنے کے لئے کہتا ہے اس مسلک کی اتباع سنت کی وجہ سے اولیٰ و افضل ہے۔
وَعَنْ اَنَسٍ ص قَالَ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم ےُصَلِّی الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَۃٌ حَےَّۃٌ فَےَذْھَبُ الذَّاھِبُ اِلَی الْعَوَالِیْ فَےَاْتِےْھِمْ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَۃٌ وَّبَعْضُ الْعَوَالِیْ مِنَ الْمَدِےْنَۃِ عَلٰی اَرْبَعَۃِ اَمْےَالٍ اَوْ نَحْوِہٖ ۔(صحیح البخاری و صحیح مسلم)
اور حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ عصر کی نماز ایسے وقت پڑھتے تھے کہ سورج اونچا اور زندہ (یعنی روشن) ہوتا تھا اور کوئی جانے والا عوالی جا کر واپس آجایا کرتا تھا اور سورج اونچا ہی رہتا تھا اور بعض عوالی مدینہ سے چار میل تقریباً چار میل کے فاصلے پر ہیں۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
عوالی عالیہ کی جمع ہے، مدینہ شہر کے باہر بلندی پر جو بستیاں ہیں انہیں عوالی کہا جاتا ہے۔ مسجد بنی قریظہ بھی اسی طرف ہے۔
وَعَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم تِلْکَ صَلٰوۃُ الْمُنَافِقِ ےَجْلِسُ ےَرْقُبُ الشَّمْسَ حَتّٰی اِذَا اصْفَرَّتْ وَکَانَتْ بَےْنَ قَرْنَیِ الشَّےْطَانِ قَامَ فَنَقَرَ اَرْبَعًا لَّا ےَذْکُرُ اللّٰہَ فِےْھَا اِلَّا قَلِےْلًا۔ (صحیح مسلم)
اور حضرت انس ؓ راوی ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا یہ (عصر کی نماز جو آخر وقت میں پڑھی جاتی ہے) منافق کی نماز ہے وہ بیٹھا ہوا سورج کو دیکھتا رہتا ہے جب سورج زرد ہو کر شیطان کے دونوں سینگوں کے درمیان (چھپنے کے قریب) ہوجاتا ہے تو جلدی سے اٹھ کر چار ٹھونگیں مار لیتا ہے اور اللہ کا ذکر بھی اس نماز میں قدرے کم ہی کرتا ہے۔ (صحیح مسلم)
تشریح
ٹھونگیں مارنے کا مطلب یہ ہے وہ بغیر طمانیت و سکون کے اس طرح جلدی جلدی سجدے کرتا ہے جیسے جانور دانہ چگتا ہے عصر کی نماز میں سجدے آٹھ ہوتے ہیں مگر یہاں چار اس لئے فرمائے ہیں کہ جب اس نے پہلا سجدہ کر کے اچھی طرح سر نہیں اٹھایا تو گویا دونوں سجدے ایک سجدہ کے حکم میں آگئے یا دونوں سجدوں کو ایک ہی رکن مانتے (سمجھتے) ہوئے بجائے آٹھ کے چار کا ذکر فرمایا ہے۔ یہاں صرف عصر کی نماز کا ذکر کیا گیا ہے دوسری نمازوں کا ذکر نہیں کیا گیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ نماز وسطی ہے اور یوں تو سب ہی نمازوں میں ارکان و آداب کا لحاظ نہ کرنا بری بات ہے مگر دوسری نمازوں کی بہ نسبت اس نماز کو دل جمعی اور سکون خاطر کے ساتھ نہ پڑھنا اور اس کے ارکان و آداب کا لحاظ نہ کرنا بہت ہی بری بات ہے۔ مولانا مظہر فرماتے ہیں کہ جس آدمی نے عصر کی نماز کو سورج کے زرد ہونے تک موخر کیا تو اس نے اپنے آپ کو منافقین کے مشابہ ظاہر کیا کیونکہ منافق نماز کی صحت و تکمیل کا کوئی خیال نہیں کرتا وہ تو صرف ظاہری طور پر مسلمان بن کر تلوار سے بچنے کے لئے نماز پڑھتا ہے اور اسے نماز میں اتنی زیادہ تاخیر کی قطعاً پرواہ نہیں ہوتی کیونکہ اسے اجر وثواب کی ضرورت ہی نہیں ہوتی۔ لہٰذا مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ منافقین کی عملاً و فعلاً مخالفت کرتے ہوئے عصر کی نماز کو وقت مختار میں پڑھ لیا کریں۔
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم الَّذِیْ یَفُوْتُہُ صَلٰوۃُ الْعَصْرِ فَکَاَنَّمَا وُتِرَ اَھْلہُ وَمَالہُ ۔(صحیح البخاری و صحیح مسلم)
اور حضرت ابن عمر ؓ راوی ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جس شخص کی نماز عصر قضا ہوگئی تو گویا کہ مال اس کے اہل و عیال سب لٹ گئے۔
تشریح
مطلب یہ ہے کہ جس آدمی کی عصر کی نماز قضا ہوجائے تو وہ ایسا ہے جیسے کہ اس کا گھر بار اور مال و اولاد سب فنا کے گھاٹ اتر جائیں۔ یا ان میں کمی واقع ہوجائے لہذا جس طرح کوئی آدمی اپنے اہل و عیال کی تباہی و بربادی سے ڈرتا رہتا ہے جیسا کہ پہلے بھی بتایا جا چکا ہے۔ یہاں بھی صرف نماز عصر کے ذکر کی وجہ سے یہ ہے کہ یہ نماز وسطی ہے اس کو چھوڑنا دوسری نمازوں کو چھوڑنے کے مقابلے میں زیادہ سخت گناہ ہے۔