Mishkaat-al-Masabih 481

پاکی کا بیان

481Mishkaat-al-Masabih

نجاستوں کے پاک کرنے کا بیان

وَعَنِ ابْن عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْھَاقَالَ کَانَتْ الْکِلَابُ تُقْبِلُ وَ تُدْبِرُ فِی الْمَسْجِدِ فِی زَمانِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم فَلَمْ یَکُوْنُوْا یَرْشُوْنَ شَیْأاً مِن ذٰلِکَ۔(صحیح البخاری)

اور حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ کے زمانہ میں مسجد میں کتے آتے تھے اور صحابہ کرام ؓ ان کے آنے جانے کی وجہ سے کچھ بھی نہ دھوتے تھے۔ (صحیح البخاری ) تشریح شروع زمانہ اسلام میں دروازے نہیں ہوتے تھے جس کی وجہ سے مسجد کے اندر کتوں کی آمدورفت رہتی تھی اور چونکہ ان کے پاؤں خشک ہوتے تھے اس لئے کسی چیز کو دھونے کی ضرورت نہ ہوتی تھی جب مسجد میں دروازے لگنے لگے تو اس کی احتیاط ہونے لگی۔