علم اور اس کی فضیلت کا بیان
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُوْدِ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہٖ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ نَضَّرَ اﷲُ اِمْرَاً سَمِعَ مِنَّا شَیْئًا فَبَلَّغَہ، کَمَا سَمِعَہُ فَرُبَّ مُبَلَّغِ اَوْعٰی لَہُ سَامِعِ رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ وَابْنُ مَاجَۃَ وَرَوَاہُ الدَّرِامِیُّ عَنْ اَبِی الدَّرْدَآئِ۔
اور حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ راوی ہیں کہ میں نے سرکار دو عالم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالیٰ اس آدمی کو تازہ رکھے (یعنی خوش اور باعزت رکھے) جس نے مجھ سے کوئی بات سنی اور جس طرح سنی تھی اسی طرح اس کو پہنچا دیا چناچہ اکثر وہ لوگ جنہیں پہنچا دیا جاتا ہے سننے والے سے زیادہ یاد رکھنے والے ہوتے ہیں۔ (جامع ترمذی سنن ابن ماجہ) اور دارمی نے اس حدیث کو ابوداؤد سے روایت کیا ہے۔
تشریح
رسول اللہ ﷺ کی مقدس احادیث کو سننا، ان کے احکام پر عمل کرنا اور ان احادیث کو دوسرے لوگوں تک پہنچانا سعادت و برکت اور دین و دنیا میں فلاح و کامیابی کا ذریعہ ہے اس پر پوری امت کا عقیدہ و ایمان ہے کہ احادیث نبوی کی تعلیم و تعلّم دونوں جہان کی خوش نصیبی اور رضائے الہٰی کا سبب ہے لیکن اس کے باوجود علماء لکھتے ہیں کہ اگر حدیث کے حاصل کرنے، اس کے یاد رکھنے اور اس کو دوسروں تک پہنچانے میں اگر بفرض محال کوئی فائدہ نہ ہوتا تو احادیث کی عظمت و رفعت کی بنا پر دین و دنیا دونوں جگہ حصول برکت و رحمت کے لئے رسول اللہ ﷺ کی یہ مقدّس دعا ہی کافی ہوتی۔
علم اور اس کی فضیلت کا بیان
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسِ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہٖ وَسَلَّمَ اِتَّقُوا الْحَدِیْثَ عَنِّی اِلَّا مَا عَلِمْتُمْ فَمَنْ کَذَبَ عَلَیَّ مُتَعَمِّدًا فَلْیَتَبَوَّا مَقْعَدَہُ مِنَ النَّارِ۔ رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ وَرَوَاہُ ابْنُ مَاجَۃَ عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدِ وَّ جَابِرِ وَلَمْ یَذْکُرْ اِتَّقُوْا الْحَدَیْثَ عَنِّی اِلَّا مَاعَلِمْتُمْ۔
اور حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ میری جانب سے حدیث بیان کرنے سے بچو مگر! اس حدیث کو بیان کرو جسے تم (سچ) جانو۔ چناچہ جس آدمی نے (جان کر) مجھ پر جھوٹ بولا اسے چاہئے کہ وہ اپنا ٹھکانا دوزخ میں تلاش کرے۔ (جامع ترمذی) اور سنن ابن ماجہ نے اس حدیث کو عبداللہ ابن مسعود ؓ سے روایت کیا ہے اور (حدیث کے پہلے جزء) میری جانب سے حدیث بیان کرنے سے بچو جسے تم جانو کا ذکر نہیں کیا ہے۔
تشریح
مقصد یہ ہے کہ حدیث کے بیان کرنے میں احتیاط سے کام لینا چاہئے اور جس حدیث کے بارے میں یقین کے ساتھ یہ معلوم نہ ہو کہ واقعی یہ حدیث آپ ﷺ ہی کی ہے اسے لوگوں کے سامنے بیان نہیں کرنا چاہئے۔ انہی احادیث کو بیان کرنا چاہئے جن کے بارے میں یقین یا ظن غالب کے ساتھ یہ معلوم ہو کہ وہ آپ ﷺ ہی کی حدیث ہے تاکہ رسول اللہ ﷺ کی ذات اقدس کی طرف غلط حدیث کی نسبت نہ ہو اور نہ آپ ﷺ کی جانب جھوٹ بات کا انتساب ہو جس پر اللہ کی جانب سے سخت عذاب کی قید ہے۔
علم اور اس کی فضیلت کا بیان
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسِ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہٖ وَسَلَّمَ مَنْ قَالَ فِی الْقُرْاٰنِ بِرَاِیْہٖ فَلْیَتَبَوَّا مَقْعَدَہ، مِنَ النَّارِ وَ فِی رِوَایَۃِ مَنْ قَالَ فِی الْقُرْاٰنِ بِغَیْرِ عِلْمِ فَلْیَتَبَوَّا مَقْعَدَہ، مِنَ النَّارِ۔ (رواہ الجامع ترمذی )
اور حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ جس آدمی نے قرآن کے اندر اپنی عقل سے کچھ کہا اسے چاہئے کہ اپنا ٹھکانا آگ میں تلاش کرے اور ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں کہ جس آدمی نے بغیر علم کے قرآن میں کچھ کہا اسے چاہئے کہ وہ اپنا ٹھکانا دوزخ میں تلاش کرے۔ (جامع ترمذی )
تشریح
جس طرح حدیث بیان کرنے میں احتیاط سے کام لینے کی ہدایت کی گئی ہے اسی طرح قرآن کا ترجمہ کرنے اور اس کی تفسیر بیان کرنے کے بارے میں بھی اسی احتیاط سے کام لینے کی ہدایت فرمائی جا رہی ہے کہ آیات کی وہی تفسیر بیان کی جائے جو احادیث سے ثابت اور علماء امت سے منقول ہو اور جس پر نقلاً سند موجود ہو۔ یہ نہ ہونا چاہئے کہ آیتوں کی تفسیر اور ان کے مطالب و مقاصد بیان کرنے میں اپنی عقل اور رائے کو دخل دیا جائے کیونکہ اس طرح قرآن کے معنی و مفہوم میں فرق پیدا ہوجاتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے عذاب کا موجب ہے۔
علم اور اس کی فضیلت کا بیان
وَعَنْ جُنْدُبِ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہٖ وَسَلَّمَ مَنْ قَالَ فِی الْقُرْاٰنِ بِرَاِیْہٖ فَاَصَابَ فَقَدْ اَخْطَأَ۔(رواہ الجامع ترمذی و ابوداؤد)
اور حضرت جندب ؓ (آپ کا اسم گرامی جندب ابن عبداللہ بجلی علقی ہے حضرت عبداللہ ابن زبیر اور یزید کے حامیوں میں جو جنگ چل رہی تھی اس وقت یہ حیات تھے اس فتنہ کے چار دن بعد آپ کا انتقال ہوا ہے)۔ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ جس نے قرآن میں اپنی رائے سے کچھ کہا اور وہ حقیقت و واقع کے مطابق بھی ہو تو اس نے تب بھی غلطی کی۔ (جامع ترمذی و سنن ابوداؤد)
تشریح
یعنی کسی آدمی نے قرآن کی کسی آیت کی ایسی تفسیر بیان کی جو نہ تو احادیث سے ثابت تھی اور نہ علمائے امت سے منقول بلکہ محض اپنی عقل و رائے پر بھروسہ کر کے آیت کی تفسیر بیان کردی مگر اتفاق سے اس کی بیان کردہ تفسیر صحیح اور حقیقت و واقعہ کے بالکل مطابق ہوئی کہ اس سے آیت کے معنی و مطالب میں کوئی غلطی نہیں ہوئی تو اس کے بارے میں فرمایا جا رہا ہے کہ یہ بھی اس نے غلطی کی کیونکہ تفسیر گو صحیح ہوئی مگر چونکہ اس نے قصدًا اپنی عقل اور رائے کو قرآن کی تفسیر میں دخل دیا اور تفسیر کا جو شرعی قاعدہ و طریقہ ہے اس سے انحراف کیا اس لئے وہ بھی خطا کار کے حکم میں شامل کیا جائے گا۔ مجتہد کا معاملہ اس کے برعکس ہے کہ اگر مجتہد اپنے اجتہاد میں غلطی بھی کر جائے تو اس پر نہ صرف یہ کہ کوئی مواخذہ نہیں بلکہ اسے ثواب بھی ملتا ہے۔ تفیسر اسے فرماتے ہیں کہ آیت کے جو معنی و مطالب بیان کئے جائیں اس کے بارے میں یہ یقین ہو کہ آیت کی مراد اور اس کا حقیقی مطلب یہی ہے اور یہ بات سوائے اہل تفسیر کی نقل کے جس کی سند رسول اللہ ﷺ تک پہنچی ہو درست نہیں ہے یعنی ایسا یقین اور اطمیان اسی تفسیر پر صحیح ہوگا جو اجلہ علماء اور مستند مفسرین سے منقول ہو کیونکہ انہوں نے وہی معنی و مطالب بیان کئے ہیں جو براہ راست سرکار دو عالم ﷺ سے منقول ہیں اور جو واسطہ بالواسطہ ان تک پہنچے ہیں۔ تاویل اسے فرماتے ہیں کہ کسی آیت کے معنی و مطالب بیان کرتے ہوئے بطریق احتمال کے یہ کہا جائے کہ میں جو معنی بیان کر رہا ہوں اور آیت کی جو تفسیر کر رہا ہوں ہوسکتا ہے کہ مراد اصلی یہی ہو۔ یہ چیز درست اور صحیح ہے لیکن یہ بھی جب ہی صحیح ہوگی کہ بیان کردہ تفسیر قواعد عربی اور شرع کے مطابق ہو۔
علم اور اس کی فضیلت کا بیان
وَعَنْ اَبِی ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہٖ وَسَلَّمَ الْمِرَاءُ فِی الْقُراٰنِ کُفْرٌ۔ (رواہ ابوداؤد مسند احمد بن حنبل)
اور حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم نے ارشاد فرمایا۔ قرآن میں جھگڑنا کفر ہے۔ (مسند احمد بن حنبل و سنن ابوداؤد)
تشریح
ان لوگوں کا دائرہ کفر کے قریب کردیا گیا ہے جو قرآن کے معنی و مطالب اور مقاصد و مراد کے تعیین میں جھگڑتے رہتے ہیں اور جس کی عقل میں جو آتا ہے اس کو حق اور صحیح سمجھتے ہوئے ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ نیز ایسے کم فہم لوگوں کو جب ظاہری طور پر قرآن کی آیتوں میں معنی و مقصد کے لحاظ سے فرق نظر آتا ہے تو وہ ان میں سے ایک آیت کو ناقابل اعتناء و ناقابل قبول اور ناقابل استشہاد قرار دے کر دوسری آیت کو راجح قرار دے دیتے ہیں۔ گویا اس طرح وہ قرآن ہی کی ایک آیت سے دوسری آیت کو ساقط کردیتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ایسا کرنا شرعی نقطۂ نظر سے انتہائی جرم ہے بلکہ ایسی شکل میں جبکہ دو آیتوں میں باہم اختلاف و تضاد نظر آئے تو حتی الامکان دونوں میں تطابق اور توافق پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ اگر کسی کے لئے یہ ممکن نہ ہو تو اسے یہ اعتقاد کرلینا چاہئے کہ یہ میری کم علمی اور بد فہمی کی بنا پر ہے اور حقیقی مفہوم و مراد کا علم اللہ اور اللہ کے رسول کی طرف سونپ دے کہ وہی بہتر جاننے والے ہیں۔ مثلاً اہل سنت والجماعت کا عقیدہ ہے کہ خیر اور شر سب اللہ ہی کی جانب سے ہے اور وہ اپنے اس عقیدہ کی بنیاد اس آیت پر رکھتے ہیں کہ ارشاد بانی ہے۔ آیت ( قُلْ كُلٌّ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ ) 4۔ النساء 78) یعنی (اے محمد ﷺ فرما دیجئے کہ سب کچھ اللہ ہی کی جانب سے ہے۔ اہل سنت والجماعت کا یہ عقیدہ اور ان کی دلیل بالکل صحیح اور صاف واضح ہے۔ لیکن اہل قدر اس کی تردید کرتے ہیں اور اس کے برخلاف اپنا عقیدہ یہ قائم کئے ہوئے ہیں کہ خیر کا خالق اللہ ہے اور شر کا خالق اللہ نہیں ہے اور شر کا خالق خود انسان ہے اور اپنے عقیدہ کی بنیاد اس آیت پر رکھتے ہیں جو بظاہر پہلی آیت کے متضاد ہے یعنی ارشاد ربانی ہے۔ آیت (مَا اَصَابَكَ مِنْ حَسَنَةٍ فَمِنَ اللّٰهِ وَمَا اَصَابَكَ مِنْ سَيِّئَةٍ فَمِنْ نَّفْسِكَ ) 4۔ النساء 79) جو کچھ از قسم نیکی تمہیں پہنچتی ہے وہ اللہ کی طرف سے ہے اور جو کچھ از قسم برائی تمہیں پہنچتی ہے وہ تمہارے نفس کی جانب سے ہے۔ بہر حال اس قسم کے اختلافات اور آیتوں میں تضاد پیدا کرنا منع ہے بلکہ یہ چاہئے کہ اس قسم کی آیتوں میں ایسی آیت پر عمل کیا جائے جس پر مسلمانوں کا اتفاق و اجماع ہو اور دوسری آیت میں ایسی تاویل کی جائے جو شرع کے مطابق ہو، جیسا کہ انہیں دونوں مذکورہ بالا آیت میں دیکھا جائے کہ پہلی آیت پر مسلمانوں کا اجماع ہے کہ خیر و شر تمام اللہ ہی کی جانب سے ہے اور ہر چیز تقدیر الہٰی کے مطابق ہی ہوتی ہے اس پر عمل کیا جائے۔ اور دوسری آیت کی یہ تاویل کی جائے کہ دراصل اس آیت کا تعلق ما قبل کی آیت سے ہے کہ اس میں منافقین کی برائی اور ان کا عقیدہ بیان کیا جا رہا ہے کہ ان منافقوں کو کیا ہوا ہے جو کہ اس چیز کو جو صحیح اور واضح ہے نہیں سمجھتے بلکہ یہ کہتے ہیں کہ نیکی و بھلائی تو اللہ کی طرف سے ہے اور برائی خود بندہ کے نفس کی جانب سے ہے۔ گویا اس طرح دونوں آیتوں میں تطبیق ہوجائے گی۔ اس طرح دیگر آیتوں میں بھی مطابقت پیدا کی جائے۔
علم اور اس کی فضیلت کا بیان
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبِ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ جَدِّہٖ قَالَ سَمِعَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم قَوْمًا یَتَدَارَؤُوْنَ فِی الْقُرْاٰنِ فَقَالَ اِنَّمَا ھَلَکَ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ بِھٰذَا۔ ضَرَبُوْا کِتَابَ اﷲِ بَعْضَہُ بِبِعْضِ وَاِنَّمَا نَزَلَ کِتَابُ اﷲِ یُصَدِّقُ بَعْضَہُ بَعْضًا فَلَا تُکَذِّبُوا بَعْضَہ، بِبَعْضِ فَمَا عَلِمْتُمْ مِنْہُ فَقُوْلُوْا وَمَا جَھِلْتُمْ فَکِلُوْہُ اِلَی عَالِمِہٖ۔ (رواہ مسند احمد بن حنبل و ابن ماجۃ)
حضرت عمرو ابن شعیب ؓ ( عمرو ابن شعیب تابعی ہیں، عمرو بن العاص ؓ کے خاندان سے ہیں)۔ اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ایک جماعت کے بارے میں سنا کہ وہ آپس میں قرآن کے بارے میں بحث کر رہے ہیں اور جھگڑ رہے ہیں۔ چناچہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ بیشک تم سے پہلے کے لوگ اسی سبب سے ہلاک ہوئے انہوں نے کتاب اللہ کے بعض حصہ کو بعض پر مارا (یعنی آیات میں تضاد اور اختلاف ثابت کیا کہ فلاں آیت فلاں آیت کے مخالف ہے اور یہ آیت فلاں آیت کے مخالف ہے) اور بیشک کتاب اللہ کا بعض حصہ بعض کی تصدیق کرتا ہے لہٰذا تم قرآن کے بعض حصہ کو بعض سے نہ جھٹلاؤ اور اس کے بارے میں جتنا تم جانتے ہو اس کو بیان کرو اور جو نہیں جانتے ہو اسے جاننے والوں کی طرف سونپ دو۔ (مسند احمد بن حنبل و ابن ماجہ)
تشریح
جیسا کہ اس سے پہلے حدیث میں گزر چکا ہے کہ جن لوگوں کا علم ناقص ہوتا ہے اور جن کے ایمان و عقیدہ میں کمزوری اور ذہن و فکر میں کمی ہوتی ہے وہ آیات میں باہم اختلاف پیدا کرتے رہتے ہیں اور آیت کے حقیقی مفہوم و مراد سے ہٹ کر ان کے ناقص ذہن و فکر میں جو مفہوم آتا ہے اسے بیان کرتے ہیں اور پھر اسی طرز پر اپنے نظریات و اعتقادات کی بنیاد بھی رکھ دیتے ہیں جس کی مثال ماقبل کی حدیث میں بیان کی جا چکی ہے۔ اس کے بارے میں یہاں بھی فرمایا جا رہا ہے کہ اگر تمہیں کچھ آیتوں میں اختلاف نظر آئے تو اس میں سے ایک کو دوسرے کے ذریعہ ساقط نہ کرو اور نہ اس کی تکذیب کرو بلکہ جہاں تک تمہارا علم مدد کرسکے ان میں تطبیق پیدا کرو، اگر ایسا نہ کرسکو تو پھر تم بجائے اس کے کہ اس میں اپنی عقل و سمجھ کے تیر چلاؤ اس کے حقیقی معنی و مفہوم کا علم اللہ اور اللہ کے رسول کی جانب سونپ دو، یا پھر ایسے علماء و صلحاء جو علم کے اعتبار سے تم سے اعلیٰ و افضل ہوں اور تم پر فوقیت رکھتے ہیں ان سے رجوع کرو۔
علم اور اس کی فضیلت کا بیان
وَعِنْ ابْنِ مَسْعُوْدِ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہٖ وَسَلَّمَ اُنْزِلَ الْقُرْاٰنُ عَلَی سَبْعَۃِ اُحْرُفِ لِکُلِّ اٰیَۃِ مِّنْھَا ظَھْرٌوَّ بَطْنٌ وَلِکُلِّ حَدِ مُطَّلَعٌ۔ (رواہ فی شرح النسۃ)
اور حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ قرآن کریم سات طرح پر نازل کیا گیا ہے ان میں سے ہر آیت ظاہر ہے اور باطن ہے اور ہر حد کے واسطے ایک جگہ خبردار ہونے کی ہے۔ (شرح السنۃ)
تشریح
دنیا کی ہر زبان میں فصاحت و بلاغت اور لب و لہجہ کے اعتبار سے مختلف اسلوب اور مختلف لغات ہوتی ہیں۔ اسی طرح عربی زبان میں بھی سات لغات عرب میں مشہور تھیں، اس کے بارے میں فرمایا جا رہا ہے کہ قرآن کریم سات طرح یعنی سات لغات پر نازل ہوا ہے۔ اس سات لغات کی تفصیل اس طرح ہے۔ لغت قریش، لغت طی، لغت ہوازن، لغت اہل یمن، لغت ثقیف، لغت ہذیل اور لغت بنی تمیم۔ قرآن کریم سب سے پہلے قریش کی لغت کے مطابق نازل ہوا تھا جو سرکار دو عالم ﷺ کی لغت تھی لیکن جب تمام عرب میں اس لغت کے مطابق قرآن کا پڑھنا جانا اس لئے دشوار و مشکل ہوا کہ ہر قبیلہ اور ہر قوم کی اپنی ایک مستقل لغت اور زبان کے لب و لہجہ کا الگ الگ انداز تھا تو سرکا دو عالم ﷺ نے بارگاہ الوہیت میں درخواست پیش کی کہ اس سلسلہ میں وسعت بخشی جائے تو حکم دے دیا گیا کہ ہر آدمی قرآن کو اپنی لغت کے مطابق پڑھ سکتا ہے چناچہ حضرت عثمان غنی کے ؓ کے زمانہ تک اسی طرح چلتا رہا اور لوگ اپنی اپنی لغت کے اعتبار سے قرآن پڑھتے رہے۔ لیکن جب حضرت عثمان غنی ؓ نے کلام اللہ کو جمع کیا اور اس کی کتابت کرا کر اسلامی سلطنت کے ہر ہر خطہ میں اسے بھیجا تو انہوں نے اسی لغت کو مستقل قرار دیا جس پر حضرت زید بن ثابت ؓ نے حضرت ابوبکر صدیق صدیق ؓ کے حکم اور حضرت عمر فاروق ؓ کے مشورہ سے قرآن کو جمع کیا تھا اور وہ لغت قریش تھی، حضرت عثمان غنی ؓ نے یہ حکم بھی فرمایا کہ تمام لغات منسوخ کردی جائیں صرف اس ایک لغت کو باقی رکھا جائے۔ چناچہ حضرت عثمان غنی ؓ کے حکم کی وجہ سے نہ صرف یہ کہ قرآن صرف ایک لغت میں جمع ہوگیا جس سے دنیا کے ہر خطہ کے لوگوں کے لئے آسانیاں ہوگئیں بلکہ اس کی وجہ سے ایک بڑے فتنہ کی جڑ بھی ختم کردی گئی اور فتنہ یہ تھا کہ لغات کے اختلافات کی وجہ سے مسلمان آپ میں لڑنے جھگڑنے لگے تھے اور نوبت بأیں جا رسد کہ اگر کوئی آدمی کسی دوسرے کو اپنی لغت کے خلاف قرآن پڑھتا دیکھتا تو یہ سمجھ کر کہ صرف میرے قبیلہ ہی کی لغت صحیح ہے اسے کافر کہہ دیا کرتا تھا، چناچہ لغت قریش کے علاوہ جس پر قرآن نازل ہوا تھا بقیہ تمام لغات ختم کردی گئیں اور اگر کوئی لغت باقی بھی رہی تو وہی رہی جس پر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا اتفاق رہا اور جو سند متصل اور تواتر کے ساتھ آخر میں قراء سبعہ تک پہچنی اس کے علاوہ لغت میں مکرر یعنی امالہ و ادغام وغیرہ کا اختلاف بھی باقی رہا جو آج تک قراء سبعہ میں موجود ہے۔ بعض علماء یہ فرماتے ہیں کہ یہ جو فرمایا گیا ہے کہ قرآن سات طرح پر نازل ہوا ہے تو ساتھ طرح سے مراد وہ سات قرأتیں ہیں جو قراء سبعہ پڑھتے ہیں، پھر علماء نے یہ بھی کہا ہے کہ اگرچہ قرأتیں ساتھ سے زیادہ ہیں لیکن یہاں سات کی تحدید اس لئے کی گئی ہے کہ اختلاف کی بھی سات ہی قسمیں ہیں جن کی طرف یہ سات قرأتیں راجع ہیں۔ جیسے (١) کلمہ کی ذات میں اختلاف یعنی کلمہ میں کمی و زیادتی ہیں۔ (٢) جمع اور مفرد کا اختلاف (٣) مذکر اور مونث کا اختلاف (٤) صرفی اختلاف یعنی تخفیف و تشدید اور فتح و کسرہ وغیرہ کا اختلاف جیسے مَیَّتٌ اور مِیَتٌ یَقنط اور یقنط (٥) اعراب کا اختلاف (٦) حروف کا اختلاف جیسے لکن الشیطین میں نون کی تشدید اور تخفیف (٧) ادائیگی لغات کا اختلاف جیسے تفخیم اور امالہ وغیرہ حدیث کے آخر میں فرمایا گیا ہے کہ ہر آیت کا ظاہر ہے اور باطن ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر آیت کے ایک ظاہر معنی ہیں جو تمام اہل زبان سمجھتے ہیں اور ایک باطنی معنی ہیں جو صرف اللہ تعالیٰ کے وہی بندگانِ خاص سمجھتے ہیں جن کے قلب و دماغ معرفت کی روشنی سے بھرپور ہوتے ہیں۔ پھر فرمایا گیا ہے کہ ہر حد کے واسطے ایک جگہ خبردار ہونے کی ہے حد کے معنی طرف اور نہایت کے ہیں، مطلب یہ ہے کہ ہر ایک ظاہر اور باطن کی ایک حد اور نہایت ہے اور حد و نہایت کے لئے ایک مطلع یعنی ایسا مقام ہے جس پر پہنچنے اور اس کے حاصل کرنے کے بعد آدمی اس حد اور نہایت پر مطلع ہوتا ہے۔ چنانچہ ظاہر کا مطلع یعنی وہ مقام جس پر پہنچ کر حد اور نہایت معلوم ہوتی ہے، یہ ہے کہ عربی زبان اور اس کے اصول و قواعد سیکھے جائیں، علم صرف و نحو حاصل کیا جائے کہ قرآن کے ظاہری معنی انہیں سے متعلق ہیں، نیز ہر آیت کا شان نزول اور ناسخ و منسوخ کا علم حاصل کرے، یا اسی طرح وہ دوسری چیزیں ہیں جن پر قرآن کے ظاہری معنی کے سمجھنے کا انحصار ہے۔ باطن کا مطلع یہ ہے کہ ریاضت و مجاہدہ کیا جائے، قرآن کے ظاہری معنی اور ان کے احکام کا اتباع اور ان پر عمل کیا جائے نفس کو تمام برائی اور گناہ و معصیت سے پاک و صاف کیا جائے دل کو عبادت الٰہی اور رضائے الہٰی کے نور سے جلا بخشی جائے وغیرہ وغیرہ۔ یہ وہ چیزیں ہیں جن کے حصول کے بعد قرآن کے باطنی علوم اور اس کے اصرار و معارف کا قلب انسان پر انکشاف ہوتا ہے۔ امام محیّ السنۃ نے اپنی تفسیر معالم التنزیل میں لکھا ہے کہ حدیث کے الفاظ ظہر سے مراد قرآن کے الفاظ ہیں اور باطن سے مراد الفاظ کی تاویل ہے۔ مطلع سے مراد فہم یعنی وہ سمجھ ہے جس کی وجہ سے قرآن کے اندر غور و فکر کرنے والے پر قرآن کے جن علوم و معنی اور تاویل کا انکشاف ہوتا ہے وہ دوسروں پر نہیں ہوتا۔
علم اور اس کی فضیلت کا بیان
وَعَنْ عَبْدِاﷲِ بْنِ عَمْرِو قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہٖ وَسَلَّمَ اَلْعِلْمُ ثَلَاثَۃٌ اٰیَۃٌ مُحْکَمَۃٌ اَوْسُنَّۃٌ قَائِمَۃٌ اَوْ فَرِیْضَۃٌ عَادِلَۃٌ وَمَا کَانَ سِویَ ذٰلِکَ فَھُوَ فَضْلٌ۔ (رواہ ابوداؤد وابن ماجۃ)
حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ علم تین ہیں (١) آیت محکم (یعنی مضبوط)۔ (٢) سنت قائمہ (٣) فریضہ عادلہ۔ اور اس کے علاوہ جو کچھ ہے وہ زائد ہے۔ (سنن ابوداؤد، سنن ابن ماجہ)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ دین کے علم تین ہیں، یا یہ کہ علم دین کی بنیاد تین چیزوں پر ہے۔ آیت محکم وہ آیتیں ہیں جو مضبوط اور غیر منسوخ ہیں، اس سے کتاب اللہ کی طرف اشارہ ہے جو کہ اصل قرآن آیات محکمات ہی ہیں اس لئے یہاں صرف انہیں کو ذکر کیا گیا ہے اور وہ دوسرے علوم جو اس کے لئے وسیلہ ہیں وہ بھی اس کے ساتھ متعلق ہیں۔ سنت قائمہ یعنی وہ حدیث جو متن اور اسناد کی مخالفت کے ساتھ ثابت ہیں۔ فریضۃ عادلہ سے اشارہ ہے قیاس اور اجماع کی طرف جو کتاب و سنت سے مستنبط ہوتا ہے۔ اس کو فریضہ اس لئے کہا گیا ہے قیاس و اجماع پر بھی عمل کرنا اسی طرح واجب ہے جس طرح کتاب اللہ و سنت رسول اللہ ﷺ پر چناچہ عادلہ کے معنی ہی یہ ہیں کہ ایسا فریضہ جو کتاب و سنت کے مثل اور عدیل ہے۔ بہر حال حدیث کی توضیح یہ ہوئی کہ دین کے اصول چار ہیں جس پر دین و شریعت کی پوری بنیاد ہے۔ (١) کتاب یعنی قرآن مجید (٢) سنت یعنی احادیث (٣) اجماع (٤) قیاس اور اس کے علاوہ جو بھی علم ہوگا وہ زائد اور دینی حیثیت سے بےمعنی ہوگا۔
علم اور اس کی فضیلت کا بیان
وَعَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِکِ الْاَ شْجَعِیِّ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہٖ وَسَلَّمَ لَا یَقُسُّ اِلَّا اَمِیْرٌ اَوْ مَامُوْرٌ اَوْ مُخْتَالٌ۔ رَوَاہُ اَبُوْدَاؤدَ وَرَوَاہُ الدَّارِمِیُّ عَنْ عَمْرِوبْنِ شُعَیْبِ عَنْ اَبِیْہٖ عَنْ جَدِّہٖ وَفِیْ رِوَایِۃِ اَوْمُرَاءِ بَدَلَ اَوْ مُخْتَالِ۔
اور حضرت عوف بن مالک اشجعی ؓ ( اسم گرامی عوف بن مالک اشجعی ہے کنیت ابوعبدالرحمن ہے۔ بعض حضرات نے ابوحماد اور بعض نے عمرو بھی لکھا ہے۔ دمشق میں ٧٣ ھ میں آپ کی وفات ہوئی ہے۔ (اسد الغابہ) راوی ہیں سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ تین آدمی قصہ بیان کریں گے، حاکم یا محکوم یا تکبر کرنے والا۔ اور دارمی نے اس حدیث کو عمرو بن شعیب ؓ سے روایت کیا ہے انہوں نے اپنے باپ سے اور انہوں نے اپنے دادا سے روایت کیا ہے اور دارمی کی روایت میں لفظ مختال یعنی تکبر کرنے والا کی بجائے اومراء (یا ریاکار) ہے۔
تشریح
قصہ بیان کرنے سے مراد و عظ و نصیحت کرنا اور حکایات وقصص بیان کرنا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ وعظ و تقریر عمومًا تین آدمی کرتے ہیں ان میں سے دو حق پر ہیں یعنی حاکم و محکوم۔ ان ہی لوگوں کو وعظ بیان کرنا چاہئے۔ تیسرا آدمی متکبر ہے اس کو وعظ نہیں کہنا چاہئے کیونکہ وہ وعظ کہنے کا اہل نہیں ہے۔ گویا حدیث کا مفہوم یہ ہوا کہ وعظ کہنا اوّل تو امیر یعنی حاکم کا حق ہے کیونکہ وہ رعیت پر سب سے زیادہ مہربان ہوتا ہے۔ اور رعایا کی اصلاح کے امور کو بخوبی جانتا ہے۔ اگر حاکم خود وعظ نہ کہے تو علماء میں سے جو عالم تقویٰ و تقدس میں سب سے افضل و اعلیٰ ہو اور دنیاوی طمع نہ رکھتا ہو، وہ اسے مقرر کرے گا تاکہ وہ لوگوں کو وعظ و نصیحت کرتا رہے، لہٰذا مامور سے مراد ایک تو وہ عالم ہوگا جس کو حاکم وقت نے رعایا کی اصلاح کے لئے مقرر کیا ہو یا مامور سے مراد دوسرا وہ آدمی ہے جو منجانب اللہ مخلوق کی ہدایت اور اصلاح کے لئے مامور کیا گیا ہو، جیسے علماء کرام اور اولیاء اللہ عظام جو لوگوں کے سامنے وعظ بیان کیا کرتے ہیں اور اللہ کی مخلوق کی اصلاح و ہدایت میں لگے رہتے ہیں، لہٰذا اس حدیث سے ایسے لوگوں پر زجر و توبیخ مقصود ہے جو طلب جاہ اور دولت کی خاطر وعظ بیان کیا کرتے ہیں حالانکہ نہ وہ علمی حیثیت سے اس عظیم منصب کے اہل ہوتے ہیں اور نہ عملی طور پر وہ اس قابل ہوتے ہیں کہ لوگوں کی اصلاح کرسکیں۔ وعظ بیان کرنا صرف انہی دو آدمیوں کا حصہ ہے اور یہی اس کے مستحق اور اہل ہیں۔ ان کے علاوہ جو وعظ بیان کرے گا تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ ازراہِ فخر وتکبر اور حصول جاہ و منفعت کی خاطر یہ کام کر رہا ہے جو اللہ تعالیٰ کے عذاب کا باعث ہے۔
علم اور اس کی فضیلت کا بیان
وَعَنْ اَبِی ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہٖ وَسَلَّمَ مَنْ اُفْتِیَ بِغَیْرِ عِلْمِ کَانَ اِثْمُہ، عَلَی مَنْ اَفْتَاہُ وَمَنْ اَشَارَ عَلَی اَخِیْہٖ بِاَمْرِ یَّعْلَمُ اَنَّ الرُّشْدَ فِی غَیْرِ ہٖ فَقَدْ خَانَہ،۔ (رواہ ابوداؤد)
اور حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ جس آدمی کو بغیر علم کے فتویٰ دیا گیا ہوگا تو اس کا گناہ اس آدمی پر ہوگا جس نے اس کو (غلط) فتویٰ دیا ہے اور جس آدمی نے اپنے بھائی کو کسی ایسے کام کے بارے میں مشورہ دیا جس کے متعلق وہ جانتا ہے کہ اس کی بھلائی اس میں نہیں ہے تو اس نے خیانت کی۔ (سنن ابوداؤد)
تشریح
مثلاً ایک جاہل آدمی کسی عالم کے پاس کوئی مسئلہ پوچھنے آیا عالم نے سائل کو اس کے سوال کا صحیح جواب نہیں دیا بلکہ کم علمی یا کسی دوسری وجہ سے غلظ مسئلہ بتادیا۔ اس جاہل نے یہ جانتے ہوئے کہ یہ مسئلہ غلط ہے۔ اس پر عمل کرلیا تو اس کا گناہ اس جاہل آدمی پر نہیں ہوگا بلکہ اس عالم پر ہوگا جس نے اسے غلط مسئلہ بتا کر غلط عمل کرنے پر مجبور کیا لیکن شرط یہ ہے کہ عالم نے اپنے اجتہاد میں غلطی کی ہو۔ حدیث کے دوسرے جزء کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی آدمی نے اپنے کسی بھائی کی بد خواہی اس طرح چاہی کہ اسے اس چیز کا مشورہ دیا جس کے بارے میں اسے معلوم ہے کہ اس کی بھلائی اس میں نہیں ہے بلکہ دوسرے امر میں ہے تو یہ اس کی خیانت ہے وہ اپنے غیر اخلاقی وغیر شرعی عمل کی بنا پر خائن کہلاے گا۔
علم اور اس کی فضیلت کا بیان
وَعَنْ مُعَاوِیَۃَ قَالَ اِنَّ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلم نَھٰی عَنِ الْاُغْلُوْطَاتِ۔ (راوہ ابوداؤد)
اور حضرت امیر معاویہ ؓ فرماتے ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے مغالطہ دینے سے منع فرمایا ہے۔ (سنن ابوداؤد)
تشریح
اس ارشاد کا مقصد اس چیز پر تنبیہ ہے کہ علماء سے ایسے مسائل نہ پوچھے جائیں جو مشکل اور پیچیدہ ہونے کی وجہ سے انہیں مغالطہ میں ڈال دیں یا جن سے سائل کا مقصد ہی علماء کو پریشان کرنا اور ان کو مغالطہ میں ڈالنا ہو اس لئے کہ اکثر ایسا ہوتا ہے بعض حضرات جن کے قلب و دماغ علماء کی عزت و عظمت سے خالی ہوتے ہیں وہ انہیں آزمائش میں ڈالنے یا لوگوں کے سامنے ان کی ہتک کرانے کے لئے ان کے سامنے ایسے مسائل بنا بنا کر پیش کرتے ہیں جن میں وہ چکرا جاتے ہیں اور مغالطہ میں پڑجاتے ہیں۔ اس سلسلہ میں جہاں تک مسئلہ کا تعلق ہے وہ یہ ہے کہ اگر کسی نے ابتداء ہی میں ایسا سوال کیا تو یہ حرام ہے کیونکہ اس سے ایک مومن کی ایذاء رسانی اور ذہنی تکلیف کا سامان فراہم ہوتا ہے، نیز یہ فتنہ و فساد اور عداوت و نفرت کا سبب ہے، دوسرے یہ کہ ایسے مواقع پر ازراہِ فخر وتکبر اپنی فضیلت و قابلیت کا اظہار مقصود ہوتا ہے۔ اور ظاہر ہے کہ یہ تمام چیزیں حرام ہیں۔ لیکن اگر ایسی شکل ہے کہ دوسرے نے اس سے ایسا سوال کیا اور اس نے اس کے جواب میں الزاماً ایسا ہی سوال کیا تو یہ حرام نہیں ہے۔
علم اور اس کی فضیلت کا بیان
وَعَنْ اَبِی ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہٖ وَسَلَّمَ تَعَلَّمُوْا الْفَرَائِضَ وَالْقُرْاٰنَ وَعَلِّمُوْا النَّاسَ فَاِنِّی مَقْبُوْضٌ۔ (رواہ الجامع ترمذی)
اور حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ تم فرائض (یعنی فرض چیزیں یا علم فرائض) اور قرآن کریم سیکھ لو اور دوسروں کو بھی سکھلاؤ اس لئے کہ میں قبض کیا جاؤں گا (یعنی اس عالم سے اٹھالیا جاؤں گا۔ (جامع ترمذی )
علم اور اس کی فضیلت کا بیان
وَعَنْ اَبِی الدَّرْدَاءِ قَالَ کُنَّا مَعَ رَسُوْلِ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم فَشَخَصَ بِبَصَرِہٖ اِلَی السَّمَآءِ ثُمَّ قَالَ ھٰذَا أَوَانٌ یُخْتَلَسُ فِیْہِ الْعِلْمُ مِنَ النَّاسِ حَتّٰی لَا یَقْدِرُوْا مِنْہ، عَلَی شَیْئِ۔ (رواہ الجامع ترمذی)
اور حضرت ابودردا ؓ فرماتے ہیں کہ (ایک دن) ہم سرکار دو عالم ﷺ کے ہمراہ تھے کہ آپ ﷺ نے اپنی نظر آسمان کی طرف اٹھائی اور فرمایا۔ یہ وقت ہے کہ علم آدمیوں میں سے جاتا رہے گا، یہاں تک کہ وہ علم کے ذریعہ کسی چیز پر قدرت نہ رکھیں گے۔ ( جامع ترمذی )
تشریح
یہاں علم سے مراد وحی ہے اور اشارہ ہے اپنی وفات کی طرف یعنی آپ ﷺ نے آسمان کی طرف نظر اٹھائی گویا آپ ﷺ وحی کے منتظر تھے۔ چناچہ بارگاہ الوہیت سے وحی نازل ہوئی اور خبر دے دی گئی کہ اب آپ ﷺ کی اجل آگئی ہے اور آپ ﷺ اس دنیا سے رخصت ہو کر واصل بحق ہونے والے ہیں اس لئے آپ ﷺ نے فرمایا کہ وقت آگیا ہے کہ اس دنیا سے وحی منقطع ہوجائے گی۔
علم اور اس کی فضیلت کا بیان
وَعَنْ اَبِی ھُرَیْرَۃَ رِوَایَۃً یُوْشِکُ اَنْ یَّضْرِبَ النَّاسُ اَکْبَادَ الْاِبِلِ یَطْلُبُونَ الْعِلْمَ فَلَا یَجِدُوْنَ اَحَدًا اَعْلَمَ مِنْ عَالِمِ الْمَدِیْنَۃِ رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ وَفِی جَامِعِہٖ قَالَ ابْنُ عُیَیْنَۃَ اَنَّہ، مَالِکُ بْنُ اَنَسِ و شْلُہ، عَنْ عَبْدِالرَّزَّاقِ وَقَالَ اِسْحٰقُ ابْنُ مُوْسٰی وَسَمِعْتُ ابْنَ عُیَیْنَۃَ اِنَّہُ قَالَ ھُوَ الْعُمَرِیُّ الزَّاھِدُوَاِسْمُہ، عَبْدِالْعَزِیْزِ ابْنُ عَبْدِاﷲِ۔(رواہ الجامع ترمذی)
اور حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایۃً منقول ہے کہ وہ زمانہ قریب ہے جبکہ لوگ علم حاصل کرنے کے لئے اونٹوں کے جگر کو پھاڑ ڈالیں گے لیکن مدینہ کے عالم سے زیادہ بڑا عالم کسی کو نہیں پائیں گے۔ (جامع ترمذی) اور جامع ترمذی میں ابن عیینہ سے منقول ہے کہ مدینہ کے وہ عالم مالک ابن انس (رح) ہیں اور عبدالرزاق نے بھی یہی لکھا ہے اور اسحٰق ابن موسیٰ کا بیان ہے کہ میں نے ابن عیینہ کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ مدینہ کا وہ عالم عمری زاہد ہے (یعنی وہ حضرت عمر فاروق ؓ کے خاندان سے ہے جن کا نام عبدالعزیز بن عبداللہ ہے۔ (جامع ترمذی )
تشریح
روایۃً منقول کا مطلب یہ ہے کہ حضرت ابوہریرہ ؓ نے تو یہ حدیث رسول اللہ ﷺ سے مرفوعاً ہی روایت کی ہے۔ لیکن حضرت ابوہریرہ ؓ کے شاگرد کو حضرت ابوہریرہ ؓ کے الفاظ چونکہ یاد نہیں رہے اس لئے انہوں نے اس حدیث کو اس طرح نقل کیا۔ اونٹوں کے جگر کو پھاڑنے کا مطلب یہ ہے کہ جب لوگوں کے درمیان علم کا چرچہ پڑھے گا اور حصول علم کا شوق افزوں ہوگا تو لوگ دور دراز کا سفر کریں گے اور علم کی خاطر دنیا بھر کی خاک چھانٹتے پھریں گے، یا یہ کہ درِ علم تک جلد پہنچ جانے کے لئے اونٹوں کو تیزی سے چلائیں گے اور تیزگامی کے ساتھ علم کی منزل مقصود تک پہنچیں گے۔ حدیث کے الفاظ کے مصداق میں کلام ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جو یہ فرمایا ہے کہ مدینہ کے عالم سے زیادہ کوئی بڑا عالم نہیں ملے گا تو مدینہ کے عالم سے کون مراد ہے؟ حضرت سفیان بن عیینہ (رح) جو حضرت امام مالک (رح) کے اصحاب اور حضرت امام شافعی (رح) کے شیوخ میں سے ہیں فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے ارشاد سے مراد حضرت امام مالک (رح) کی ذات محترم ہے۔ اسی طرح حضرت عبدالرزاق (رح) جو حدیث کے جلیل القدر اور مشہور امام ہیں یہی فرماتے ہیں کہ حدیث میں جس عالم مدینہ کا ذکر کیا گیا ہے اس سے مراد حضرت امام مالک (رح) ہی ہیں۔ لیکن حضرت ابن عیینہ کے ایک شاگرد حضرت اسحٰق بن موسیٰ فرماتے ہیں میں نے حضرت ابن عیینہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ عالم مدینہ سے مراد حضرت عمری زاہد ہیں۔ جن کا اسم گرامی عبدالعزیز بن عبداللہ ہے۔ چونکہ یہ حضرت عمر فاروق ؓ کی اولاد میں سے ہیں اس لئے عمریٰ کہا جاتا ہے اور زاہد ان کی صفت ہے اس لئے کہ یہ اپنے زمانہ میں مدینہ کے ایک جلیل القدر عالم ہونے کے ساتھ ساتھ بڑے پائے کے زاہد و متفی آدمی تھے ان کا نسب اس طرح ہے۔ عبدالعزیز بن عبداللہ بن عمرو بن حفص بن عاصم بن عمر فاروق۔ بہر حال امام ترمذی (رح) نے یحییٰ کے واسطہ سے ابن عیینہ (رح) کا جو قول نقل کیا ہے وہ اس قول کے مخالف ہے جو ابن عیینہ سے اسحٰق بن موسیٰ نقل کرتے ہیں اس طرح حضرت ابن عیینہ (رح) کے اقوال میں اختلاف ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ان دونوں حضرات نے عیینہ سے جو قول نقل کیا ہے، وہ بااعتبار ظن کے ہے یقینی اور حتمی طور پر ان لوگوں نے نقل نہیں کیا ہے۔ یہ بات بھی سمجھ لینی چاہئے کہ سرکار دو عالم ﷺ کا یہ ارشاد صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور تابعین (رح) کے دور کے اعتبار سے ہے کہ ان کے زمانوں میں مدینہ کے عالم سے زیادہ بڑا عالم کسی دوسری جگہ نہیں ہوگا۔ کیونکہ صحابہ اکرام رضوان اللہ علیہم اجمعین تابعین کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کے بعد جب علم کی مقدّس روشنی مدینہ سے نکل کر اطراف عالم میں پھیلی تو اس کے نتیجہ میں دیگر ممالک اور دوسرے شہروں میں ایسے ایسے عالم و فاضل پیدا ہوئے جو اپنے علم و فضل اور دینی فہم و فراست کے اعتبار سے مدینہ کے عالموں سے بڑھے ہوئے تھے۔ اس حدیث کے ظاہری معنی جو ارشاد نبوی ﷺ سے زیادہ قریب اور انسب ہیں یہ ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کا مقصد اس ارشاد سے اس بات کی خبر دینا ہے کہ آخر زمانہ میں علم اپنی وسعت و فراخی کے باوجود صرف مدینہ منورہ میں منحصر ہوجائے گا جیسا کہ دیگر احادیث سے یہ بات بصراحت معلوم ہوتی ہے۔ وا اللہ اعلم۔
علم اور اس کی فضیلت کا بیان
وَعَنْہُ فِیْمَا اَعْلَمُ عَنْ رَسُوْلِ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ اِنَّ اﷲَ عَزَّوَ جَلَّ یَبْعَثُ لِھٰذِہِ الْاُمَّۃِ عَلَی رَأْسِ کُلِّ مِائَۃِ سَنَۃِ مَنْ یُّجَدِّدُلَھَا دِیْنَھَا۔ (رواہ ابوداؤد)
اور حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے مجھے جو کچھ معلوم ہے وہ یہ ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس امت کے نفع کے واسطے ہر سو برس پر ایک آدمی کو بھیجتا ہے جو اس کے دین کو تازہ کرتا ہے۔ (سنن ابوداؤد)
تشریح
اکثر علماء کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اس حدیث سے یہ مفہوم مراد لیا ہے کہ ہر زمانہ میں امت کے اندر اپنے علم و فضل کے اعتبار سے سب میں ممتاز ایک ایسا آدمی موجود ہوتا ہے جو دین کو نکھارتا اور تجدید کرتا ہے جسے مجدّد کہا جاتا ہے۔ مجدّد اپنے زمانہ میں دین کے اندر ہر پیدا ہونے والی برائی اور خرابی کو دور کرتا ہے۔ بدعت اور رسم و رواج کے جو گہرے پردے دین کی حقیقت پر پڑجاتے ہیں وہ اپنے علم و معرفت کی قوّت سے انہیں چاک کرتا ہے اور امت کے سامنے پورے دین کو نکھار کر اور صاف و ستھرا کر کے اس کی اپنی شکل میں پیش کردیتا ہے۔ چنانچہ بعض حضرات نے تعین بھی کیا ہے کہ فلاں مجدّد پیدا ہوا تھا اور فلاں صدی میں فلاں مجدّد موجود تھا۔ بعض علماء نے حدیث کے معنی کو عمومیت پر محمول کیا ہے، یعنی خواہ دین کی تجدید کرنے والا کوئی ایک آدمی واحد ہو خواہ کوئی جماعت ہو جو دین میں پیدا کی گئی برائیوں اور خرابیوں کو ختم کرے۔
علم اور اس کی فضیلت کا بیان
وَعَنْ اِبْرَاھِیْمَ بْنِ عَبْدِالرَّحْمٰنِ الْعُذْرِیِّ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہٖ وَسَلَّمَ یَحْمِلُ ھٰذَا الْعِلْمَ مِنْ کُلِّ خَلَفِ عُدُوْلُّہ، یَنْفُوْنَ عَنْہُ تَحْرِیْفَ الْغَالِیْنَ وَانْتِحَالَ الْمُبْطَلِیْنَ وَ تَأْوِیْلَ الْجَاھِلِیْنَ رَوَاہُ الْبَیْھَقِیُّ وَسَنَدْکُرُ حَدِیْثُ جَابِرِ فَاِنَّمَا شِفَاءُ الْعَیِّ السُّؤَالُ فِی بَابِ التَّیَمُّمِ اِنْ شَاءَ اﷲُ تَّعَالیٰ۔ (رواہ)
اور حضرت ابراہیم بن عبدالرحمن عذری ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ ہر آئندہ آنے والی جماعت میں سے اس کے نیک (یعنی ثقہ اور معتمد) لوگ اس علم (کتاب و سنت) کو حاصل کریں گے اور وہی لوگ اس (علم) کے ذریعہ (آیات و احادیث میں) حد سے گزرنے والوں کی تحریف کو باطلوں کی افتراء پردازی کو اور جاہلوں کی تاویلات کو دور کریں گے، (اس حدیث کو بیہقی نے اپنی کتاب مدخل میں حدیث بقیۃ ابن ولید سے نقل کیا ہے اور انہوں نے معان بن مرفاعہ سے اور انہوں نے ابراہیم بن عبدالرحم عذری ؓ سے نقل کیا ہے) اور حضرت جابر ؓ کی روایت (جس کی ابتداء یہ ہے) فانما شفاء العی السوال ہم باب تیمّم میں بیان کریں گے انشاء اللہ تعالیٰ۔
علم اور اس کی فضیلت کا بیان
عَنِ الْحَسَنِ مُرْسَلًا قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہٖ وَسَلَّمَ مَنْ جَاءَ ہُ الْمَوْتُ وَھُوَ یَطْلُبُ الْعِلْمَ لِیُحْیَی بِہٖ الْاِسْلَامَ فَبَیْنَہُ وَبِیْنَ النَّبِیِّیْنَ دَرَجَۃٌ وَاحِدَۃٌ فِی الْجَنَّۃِ۔ (رواہ الدرامی)
حضرت حسن بصری (رح) سے بطریق مرسل روایت ہے کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ جس آدمی کی موت اس حال میں آئے کہ وہ علم حاصل کر رہا ہو اور (وہ علم) اس غرض سے (حاصل کر رہا ہو) کہ وہ اس کے ذریعہ اسلام کو رائج کرے گا تو جنت میں اس کے اور انبیاء کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے درمیان صرف ایک درجہ کا فرق ہوگا اور وہ مرتبہ نبوت ہے۔ (درامی)
علم اور اس کی فضیلت کا بیان
وَعَنْہُ مُرْسَلًا قَالَ سُئِلَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم عَنْ رَجُلَیْنِ کَانَا فِی بَنِیۤ اِسْرَآئِیْلَ اَحَدُھُمَا کَانَ عَالِمًا یُصَلِّی الْمَکْتُوْبَۃَ ثُمَّ یَجْلِسُ فَیُعَلِّمُ النَّاسَ الْخَیْرَ، وَالْاٰخِرُ یَصُوْمُ النَّھَارَ وَیَقُوْمُ اللَّیْلَ اَیُّھُمَا اَفْضَلُ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہٖ وَسَلَّمَ فَضْلُ ھٰذَا الْعَالِمِ الَّذِی یُصَلِّی الْمَکْتُوْبَۃَ ثُمَّ یَجْلِسُ فَیُعَلِّمُ النَّاسَ الْخَیْرَ عَلَی الْعَابِدِ الَّذِیْ یَصُوْمُ النَّھَارَ وَ یَقُوْمُ اللَّیْلَ کَفَضْلِی عَلَی اَدْنَا کُمْ۔ (رواہ الدارمی)
اور حضرت حسن بصری (رح) ( حضرت حسن بصری (رح) تابعی ہیں آپ کی پیدائش مدینہ میں ہوئی تھی۔ ١١٠ ھ میں آپ کا انتقال ہوا ہے)۔ سے بطریق مرسل روایت ہے کہ سرکار دو عالم ﷺ سے بنی اسرائیل کے دو آدمیوں کے بارے میں سوال کیا گیا، ان میں سے ایک تو عالم تھا جو فرض نماز پڑھتا تھا پھر بیٹھ کر لوگوں کو علم سکھاتا تھا۔ اور دوسرا آدمی وہ تھا جو دن کو تو روزے رکھتا تھا اور تمام رات عبادت کیا کرتا تھا (چنانچہ آپ ﷺ سے پوچھا گیا) کہ ان دونوں میں بہتر کون ہے؟ آنحصرت ﷺ نے فرمایا۔ اس عالم کو جو فرض نماز پڑھتا ہے اور بیٹھ کر لوگوں کو علم سکھلاتا ہے اس عابد پر جو دن کو روزہ رکھتا ہے اور رات میں عبادت کرتا ہے ایسی ہی فضیلت حاصل ہے جیسی کہ مجھے تم میں سے ایک ادنیٰ آدمی پر فضیلت حاصل ہے۔ (درامی)
تشریح
بنی اسرائیل کے مذکورہ دونوں عالم یوں تو اپنے علم و فضل کے اعتبار سے ہم رتبہ تھے مگر فرق یہ تھا کہ ایک عالم نے تو اپنی زندگی کا مقصد صرف عبادت الٰہی بنا لیا تھا چناچہ وہ دن رات ہمہ وقت عبادت میں مصروف رہا کرتا تھا بندگان اللہ کی اصلاح وتعلیم سے اسے غرض نہیں تھی، مگر دوسرا عالم فرض عبادت بھی پوری طرح ادا کرتا تھا اور اپنے اوقات کا بقیہ حصہ لوگوں کی اصلاح وتعلیم میں بھی صرف کیا کرتا تھا۔ لہٰذا دونوں میں افضل اسی آدمی کو قرار دیا گیا ہے جو خود بھی اپنے علم پر عمل کرتا تھا اور دوسروں کو بھی علم سکھلا کر انہیں راہ ہدایت پر لگاتا تھا۔
علم اور اس کی فضیلت کا بیان
وَعَنْ عَلِیِّ رَضِیَ اﷲُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہٖ وَسَلَّمَ نِعْمَ الرَّجُلُ الْفَقِیْہُ فِی الدِّیْنِ اَنِ احْتِیْجَ اِلَیْہٖ نَفَعَ وَاِنِ اسْتُغْنِیَ عَنْہُ اَغْنَی نَفْسَہ،۔ (رواہ رزین)
اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ بہتر آدمی وہ ہے جو دین کی سمجھ رکھتا ہو۔ اگر اس کے پاس کوئی حاجت لائی گئی تو اس نے نفع پہنچایا اور اگر اس سے بےپروائی برتی گئی تو اس نے بھی اپنے نفس کو بےپرواہ رکھا۔ (رزین)
تشریح
اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ ایک عالم کی یہ شان ہونی چاہئے کہ وہ اپنے آپ کو لوگوں کا محتاج کر کے اپنی حیثیت کو کمتر نہ کرے، نیز غلط اغراض و مقاصد کی خاطر عوام کی مصاحبت کی طرف میلان نہ رکھے اور نہ ان سے کسی دنیاوی غرض و منافع کی طمع کرے۔ لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں ہے کہ اپنے آپ کو عوام سے بالکل بےتعلق کرلیا جائے اور اپنے علم سے اللہ کی مخلوق کو محروم رکھا جائے۔ بلکہ اگر عوام دینی ضروریات کے سلسلے میں صرف اسی کے محتاج ہوں اور اس کے علاوہ کسی دوسرے عالم کے نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں کی رجوع اس کی طرف ہو تو اس کو چاہئے کہ وہ لوگوں کے درمیان جائے اور ان کی دینی و اسلامی ضروریات کو پورا کر کے انہیں نفع پہنچائے۔ ہاں اگر عوام خود اس سے لاپرواہی برتیں کہ انہیں اس سے فائدہ اٹھانے کی خواہش ہو اور نہ وہ اس کے محتاج ہوں تو چاہئے کہ وہ بھی ان سے بےپروائی برتے اور ان سے ترک تعلق کر کے اپنے اوقات کو عبادت الٰہی میں مشغول رکھے یا پھر خدمت علم دین کی خاطر دینی کتابوں کے مطالعہ اور تصنیف و تالیف میں منہمک ہو کر اس ذریعہ سے علم کی روشنی پھیلائے۔
علم اور اس کی فضیلت کا بیان
وَعَنْ عِکْرِمَۃَرَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالیٰ اَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍص قَالَ حَدِّثِ النَّاسَ کُلَّ جُمُعَۃٍ مَّرَّۃً فَاِنْ اَبَےْتَ فَمَرَّتَےْنِ فَاِنْ اَکْثَرْتَ فَثَلٰثَ مَرَّاتٍ وَلَا تُمِلَّ النَّاسَ ھٰذَا الْقُرْاٰنَ وَلَا اُلْفِےَنَّکَ تَاْتِیْ الْقَوْمَ وَھُمْ فِیْ حَدِےْثٍ مِّنْ حَدِےْثِھِمْ فَتَقُصَّ عَلَےْھِمْ فَتَقْطَعُ عَلَےْھِمْ حَدِےْثَھُمْ فَاتُمِلَّھُمْ وَلٰکِنْ اَنْصِتْ فَاِذَا اَمَرُوْکَ فَحَدِّثْھُمْ وَھُمْ ےَشْتَھُوْنَہُ وَانْظُرِ السَّجْعَ مِنَ الدُّعَآءِ فَاجْتَنِبْہُ فَاِنِّیْ عَھِدْتُّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم وَاَصْحَابَہُ لَا ےَفْعَلُوْنَ ذٰلِکَ۔ (صحیح البخاری)
اور حضرت عکرمہ ؓ سے مروی ہے کہ عبداللہ ابن عباس ؓ نے عکرمہ ؓ سے فرمایا۔ تم ہر جمعہ کو ایک بار لوگوں کے سامنے حدیث بیان کرو۔ اگر اسے قبول نہ کرو ( یعنی ہفتہ میں ایک بار وعظ نصیحت کو کافی نہ جانو تو ہفتہ میں) دو بار اور زیادہ چاہو تو (ہفتہ میں تین بار و عظ و نصیحت کرسکتے ہو) اور تم لوگوں کو اس قرآن سے تنگ نہ کرو ( یعنی ہفتہ میں تین بار سے زیادہ وعظ و نصیحت بیان کر کے لوگوں کو ملول نہ کرو) اور میں تمہیں اس حالت میں نہ پاؤں کہ تم کسی قوم کے پاس جاؤ اور وہ اپنی باتوں میں مشغول ہوں اور تم ان کی باتوں کو منقطع کر کے ان کے سامنے وعظ و نصیحت شروع کردو اور (اس طرح) تم ان کو کبیدہ خاطر کرو۔ ایسے موقع پر تمہیں چاہئے کہ تم خاموش رہو البتہ وہ اگر تم سے وعظ و نصیحت کی فرمائش کریں تو جب تک اس کے خواہش مند ہوں تم ان کے سامنے حدیث بیان کرو اور تم دعا میں مقفیٰ عبارت سے صرف نظر کرو اور اس سے بچو، چناچہ میں نے معلوم کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ اور ان کے اصحاب ایسا نہیں کرتے تھے (یعنی دعا میں مقفیٰ عبارت استعمال نہیں کرتے تھے۔ (صحیح البخاری )
تشریح
جیسا کہ پچھلے صفات میں گزر چکا ہے اس حدیث میں بھی اس پر زور دیا جا رہا ہے کہ وعظ و نصیحت کے معاملہ میں اعتدال اور موقع و ماحول کی رعایت ضروری ہے اور اثر اندازی کے اعتبار سے دعوت و تبلیغ کا یہ بنیادی پتھر ہے جس پر تبلیغ کی کامیابی کا پورا دار و مدار ہے۔ اس سلسلہ میں خاص طور پر یہ بتایا جا رہا ہے کہ اگر کچھ لوگ کسی بات چیت اور آپس کی گفتگو میں مشغول ہوں تو ایسے موقع پر پہنچ کر وعظ و نصیحت شروع نہیں کر دینی چاہئے، چاہے ان کی بات چیت دنیاوی امور سے متعلق ہو یا دینی باتوں پر مشتمل ہو۔ اگر وہ دین کی بات میں مشغول ہیں تو ظاہر ہے کہ بدرجہ اولیٰ ان کی بات کو منقطع کرنا اور اس میں خلل انداز ہونا خواہ وہ تبلیغ ہی کی خاطر کیوں نہ ہو مناسب نہیں ہوگا۔ اگر بات چیت کا موضوع خالص دنیا بھی ہو تو ایسا کرنا مناسب نہیں ہے کیونکہ جب ایک آدمی اپنی کسی ضروری گفتگو میں مشغول ہو اور وہاں پہنچ کر وعظ و نصیحت شروع کردی جائے تو گفتگو میں خلل پڑنے کی وجہ سے ہوسکتا ہے کہ وہ بتقاضائے بشریت اسے گوارہ نہ کرے اور وہ ایسے موقع پر قرآن و حدیث کی باتیں سننا پسند نہ کرے جس کی وجہ سے نہ صرف یہ کہ وہ خواہ مخواہ گناہ میں مبتلا ہوگا بلکہ اس کے قلب پر دین کی عظمت و اہمیت کا نقش بھی قائم نہ ہوگا۔ ہاں اگر مصلحت کا تقاضا ہی یہ ہو کہ انہیں اس گفتگو سے باز رکھا جائے تو پھر ایسا انداز اور طریقہ اختیار کرنا چاہئے جس سے انہیں ناگواری بھی نہ ہو اور وہ اس کلام و گفتگو سے رک بھی جائیں، غرض کہ نظر مصلحت ضرورت وقت پر رکھنی چاہئے۔ ویسے جہان تک عبداللہ ابن عباس ؓ کے قول کا تعلق ہے اس کے بارے میں یہ کہا جائے گا کہ ان کا عکرمہ ؓ کو حکم دینا اکثر کے اعتبار سے تھا یعنی یہ اس وقت کی بات ہے جب کہ اکثر و بیشتر لوگ محض دنیاوی باتوں ہی میں مشغول رہا کرتے تھے۔ دعا میں مقفیٰ عبارت کا مطلب یہ ہے کہ دعا تایثر کے اعتبار سے وہی بہتر ہوتی ہے جو بغیر تصنع و بناوٹ کے سیدھی سادھی ہو اور دل کی گہرائیوں سے نکلی ہو۔ اس لئے دعا کی عبارت کو شعر و شاعری کا رنگ دینا، الفاظ میں قافیہ اور تکلف نہیں کرنا چاہئے۔ اس سے رسول اللہ ﷺ کی ان دعاؤں پر اعتراض نہیں کیا جاسکتا۔ جو مقفی و مسجع ثابت ہیں اور جن میں قفیہ بندی بھی ہے۔ اس لئے یہ چیزیں تو رسول اللہ ﷺ سے بےتکلف اور از خود صادر ہوتی تھیں ان میں آپ ﷺ کے تکلف اور کوشش کو دخل نہیں ہوتا تھا۔