علم اور اس کی فضیلت کا بیان
عن واثلہ بن اسقع قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من طلب العلم فادرکہ کان لہ کفلان من الاجر جان لم یدرکہ کان لہ کفل من الاجر
حضرت واثلہ بن اسقع ؓ سے مروی ہے کہ سرکار دو عالم ﷺ نے فرمایا۔ جو آدمی علم کا طالب ہو اور اسے علم حاصل بھی ہوگیا تو اس کو دوہرا ثواب ملے گا اور اگر اسے علم حاصل نہ ہو تو اس کو ایک حصہ ثواب ملے گا۔ (درامی)
تشریح
دو ثواب اس طرح ملیں گے کہ ایک ثواب تو طلب علم اور اس کی مشقت و محنت کا ہوگا جو اس نے حصول علم کے سلسلے میں اٹھائی ہیں اور دوسرا ثواب علم کے حاصل ہونے کا اور پھر دوسروں کو علم سکھلانے کا ہوگا یا دوسرا ثواب عمل کا ہوگا جو اس نے علم پر کیا ہے۔ ہاں اس آدمی کو جسے اس کی طلب اور کوشش کے باوجود حاصل نہیں ہوا صرف ایک ثواب اس کی محنت و مشقت ہی کا ملے گا۔ بہر حال اتنی بات تو طے ہے کہ بہتر تقدیر طلب علم میں لگے رہنا چاہئے۔ اگر علم حاصل ہوگیا تو نور علیٰ نور کہ اسے دو ثواب ملیں گے اور اگر علم حاصل نہ ہوا تو یہی کیا کم ہے کہ طلب علم میں مرجانا بھی سعادت ہے گرچہ نہ تواں بد دست رہ برون شرط یاری ست در طلب مردن
علم اور اس کی فضیلت کا بیان
وَعَنْ اَبِی ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہٖ وَسَلَّمَ اِنَّ مِمَّا یَلْحَقُ الْمُؤْمِنُ مِنْ عَمَلِہٖ وَحَسَنَاتِہِ بَعْدَ مَوْتِہٖ عِلْمًا عَلَّمَہ، وَنَشَرَہ، وَوَلَدًا صَالِحًا تَرَکَہ، اَوْمُصْحَفًا وَرَّثَہ، اَوْ مَسْجِدًا بَنَاہُ اَوْبَیْتًا لِاِ بْنِ السَّبِیْلِ بَنَاہُ اَوْنَھْرًا اَجْرَاہُ اَوْصَدَقَۃً اَخْرَجَھَا مِنْ مَالِہٖ فِیْ صِحَّتِہٖ وَحَیَاتِہٖ تَلْحَقُہُ مِنْ بَعْدِ مَوْتِہٖ۔ (رواہ ابن ماجۃ والبیہقی فی شعب الایمان)
اور حضرت ابوہریرۃ ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے فرمایا۔ مومن کو اس کے جس عمل یا جن نیکیوں کا مرنے کے بعد ثواب پہنچتا ہے اس میں ایک تو علم ہے جس کو اس نے سیکھا اور رواج دیا تھا، دوسرے نیک اولاد ہے جس کو اپنے بعد چھوڑا۔ تیسرے قرآن ہے جو وارثوں کے لئے چھوڑا ہو۔ چوتھے مسجد ہے جس کو اپنی زندگی میں بنالیا گیا ہو، پانچویں مسافر خانہ ہے جس کو اس نے تعمیر کیا ہو، چھٹے نہر ہے جس کو اس نے جاری کیا ہے اور ساتویں وہ خیرات ہے جس کو اس نے اپنی تندرستی اور زندگی میں اپنے مال سے نکالا ہو، ان تمام چیزوں کا ثواب اس کے مرنے کے بعد اس کو پہنچتا ہے۔ (سنن ابن ماجہ، بیہقی)
علم اور اس کی فضیلت کا بیان
وَعَنْ عَآئِشَۃَ اَنْھَا قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم یَقُوْلُ اِنَّ اﷲَ عَزَّوَجَلَّ اَوْحٰی اِلَیَّ اَنَّہ، مَنْ سَلَکَ مَسْلَکًا فِی طَلَبِ الْعِلْمِ سَھْلَتُ لَہ، طَرِیْقَ الْجَنَّۃِ وَمَنْ سَلَبْتُ کُرِیْمَتَیْہِ اَثَبْتُہُ عَلَیْھِمَا الْجَنَّۃَ وَفَضْلٌ فِی عِلْمِ خَیْرٌ مِنْ فَضْلِ فِی عِبَادَۃِ وَمِلَاکُ الدِّیْنِ الْوَرَعُ۔ (رواہ البیہقی فی شعب الایمان)
حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ میں نے سرکار دو عالم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے میری طرف یہ وحی (خفی) بھیجی ہے کہ جو طلب علم کے لئے راستہ اختیار کرے تو میں اس پر جنت کے راستے کو آسان کردوں گا اور جس آدمی کی میں نے دونوں آنکھیں چھین لی ہوں (یعنی کوئی آدمی نابینا ہوگیا ہو) تو اس دنیاوی نعمت سے محرومی اور اس پر صبر و شکر کی بناء پر میں اس کا بدلہ اسے جنت دوں گا اور علم کے اندر زیادتی عبادت میں زیادتی سے بہتر ہے اور دین کی جڑ پرہیز گاری ہے۔ (بیہقی)
تشریح
ارشاد کا مقصد یہ ہے کہ جو آدمی علم دین کے حصول کے لئے کسی راستہ کو اختیار کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس پر جنت کی راہ آسان کر دے گا یعنی دنیا میں معرفت و حقیقت کی دولت سے نوازا جائے گا اور عبات الٰہی کی توفیق عنایت فرمائی جائے گی تاکہ وہ اس کے سبب جنت میں داخل ہوسکے، یا اس کے معنی یہ ہیں کہ ایسے آدمی پر آخرت میں جنت کے دروازے کا راستہ اور جنت میں جو محل اہل علم کے لئے مخصوص ہے اس کی راہ آسان کردی جائے گی۔ گو اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ دنیا میں علم کی جو راہ ہے وہی آخرت میں جنت کی بھی راہ ہے اور علم کے دروازوں کے علاوہ جنت کی تمام راہیں بند ہیں یعنی بغیر علم کے جنت میں داخل ہونا مشکل ہے مگر شرط یہی ہے کہ علم خلوص نیت اور للّٰہیت کے جذبہ سے حاصل کیا گیا ہو اور پھر اس عمل کی توفیق بھی ہوتی ہو رونہ علم بغیر خلوص اور بغیر عمل کے کوئی حقیقت نہیں رکھے گا اور اس کا مصداق ہوگا کہ چار پایہ بروکتا بےچند آخر حدیث میں فرمایا گیا ہے کہ دین کی اصل اور جڑ ورع (یعنی پرہیزگاری) ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ حرام، منکرات اور طمع سے بچنا چاہئے تاکہ عبادات میں ریاء اور عدم اخلاص پیدا نہ ہو۔
علم اور اس کی فضیلت کا بیان
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسِ قَالَ تَدَارُسُ الْعِلْمِ سَاعْۃً مِّنَ اللَّیْلِ خَیْرٌ مِّنْ اِحْیَائِھَا۔ (رواہ الدارمی)
اور حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ رات میں تھوڑی دیر علم کا درس دنیا کی تمام رات کو زندہ رکھنے سے بہتر ہے۔ (دارمی)
تشریح
یعنی تمام رات نماز پڑھنے اور عبادت الٰہی میں مشغول رہنے سے یہ زیادہ بہتر ہے کہ تھوڑی دیر تک آپس میں تعلیم و تعلّم اور درس و تدریس کا مشغلہ رکھا جائے اسی حکم میں حصول مقصد کے لئے علم کا لکھنا یعنی تصنیف و تالیف اور دینی و علمی کتابوں کا مطالعہ کرنا بھی داخل ہے۔
علم اور اس کی فضیلت کا بیان
وَعَنْ عَبْداﷲِ بْنِ عَمْرِو اَنَّ رَسُْولَ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم مَرَّ بِمَجْلِسَیْنِ فِی مَسْجِدِہٖ فَقَالَ کِلَا ھُمَا عَلَی خَیْرِ وَاَحَدُھُمَا اَفْضَلُ مِنْ صَاحِبِہٖ اَمَّا ھٰؤُلَآءِ فَیَدْعُوْنَ اﷲَ وَیَرْغَبُوْنَ اِلَیْہٖ فَاِنْ شَآءِ اَعْطَاھُمْ وَاِنْ شَآءَ مَنَعَھُمْ وَاَمَّا ھٰؤُلَآءِ فَیَتَعَلَّمُوْنَ الْفِقْہَ اَوِالْعِلْمَ وَیُعَلِّمُوْنَ الْجَاھِلَ فَھُمْ اَفْضَلُ وَاِنَّمَا بُعِثْتُ مُعَلَّمًا ثُمَّ جَلَسَ فِیْھِمْ۔ (رواہ لدارمی)
اور حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ فرماتے ہیں کہ (ایک مرتبہ) سرکار دو عالم ﷺ کا گزر دو مجلسوں پر ہوا، جو مسجد نبوی میں منعقد تھیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا۔ دونوں بھلائی پر ہیں لیکن ان میں سے ایک (نیکی میں) دوسرے سے بہتر ہے۔ ایک جماعت عبادت میں مصروف ہے، اللہ سے دعا کر رہی ہے اور اس سے اپنی رغبت کا اظہار کر رہی ہے (یعنی حصول مقصد کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف امید ہے اور حصول مقصد خواہش الہٰی پر موقوف ہے) لہٰذا اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو انہیں دے اور اگر چاہے نہ دے اور دوسری جماعت فقہ یا علم حاصل کر رہی ہے اور جاہلوں کو علم سکھا رہی ہے، چناچہ یہ لوگ بہتر ہیں اور میں بھی معلّم بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ پھر رسول اللہ ﷺ خود بھی ان میں بیٹھ گئے۔ (دارمی)
تشریح
ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ مسجد نبوی میں تشریف لے گئے تو دیکھا کہ صحابہ کی دو جماعتیں الگ الگ بیٹھی ہوئی ہیں ایک جماعت تو ذکر و دعا میں مشغول تھی اور دوسری جماعت مذاکرہ علم میں مشغول تھی آپ ﷺ نے ان دونوں میں سے اس جماعت کو بہتر قرار دیا جو مذاکرہ علم میں مشغول تھی اور پھر نہ صرف یہ کہ زبان ہی سے ان کی فضیلت کا اظہار فرمایا بلکہ خود بھی اس جماعت میں بیٹھ کر علماء کی مجلس کو مزید عزّت و شرف کی دولت بخشی۔ علم اور عالموں کی اس سے زیادہ اور کیا فضیلت ہوسکتی ہے کہ سردار انبیاء ﷺ نے عابدوں کی مجلس کو چھوڑ کر عالموں ہی کی ہم نشینی اختیار فرمائی ہے اور اپنے آپ کو ان ہی میں سے شمار کیا گدایان را ازیں معنی خبر نیست کہ سلطان جہاں باما ست امروز
علم اور اس کی فضیلت کا بیان
وَعَنْ اَبِی الدَّرْدَآءِ قَالَ سُئِلَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم فَقِیْلَ یَا رَسُوْلَ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم مَاحَدُّ الْعِلْمِ الَّذِی اِذَا بَلَغُہُ الرَّجُلُ کَانَ فَقِیْھًا فَقَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم مَنْ حَفِظَ عَلَی اُمَّتِی اَرْبَعَیْنَ حَدِیْثًا فِی اَمْرِ دِیْنَھَا بَعْثَہُ اﷲُ فَقِیْھًا وَکُنْتُ لَہ، یَوْمَ الْقِیَامَۃِ شَافِعًا وَّشَھِیْدًا۔
اور حضرت ابودردا ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ سے دریافت کیا گیا کہ علم کی مقدار کیا ہے کہ جب انسان اتنا علم حاصل کرے تو فقیہہ (عالم) ہوجائے اور آخرت میں اس کا شمار زمرہ علماء میں ہو۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو آدمی میری امت کو فائدہ پہنچانے کے لئے امر دین کی چالیس حدیثیں یاد کرلے تو اللہ تعالیٰ اس کو قیامت میں فقیہ اٹھائے گا اور قیامت کے دن میں اس کا شفاعت کرنے والا اور (اس کی اطاعت پر) گواہ بنوں گا۔
تشریح
علماء لکھتے ہیں کہ اس سے مراد چالیس حدیثوں کا دوسرے لوگوں تک پہنچاتا ہے اگرچہ وہ یاد نہ ہوں چناچہ اس حدیث کے پیش نظر بہت سے علماء نے چالیس احادیث جمع کر کے لوگوں تک پہنچائی ہیں اور اس طرح وہ قیامت میں رسول اللہ ﷺ کی شفاعت اور گواہی کے امیدوار ہوئے ہیں۔
علم اور اس کی فضیلت کا بیان
وَعَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکِ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہٖ وَسَلَّمَ ھَلْ تَدْرُوْنَ مَنْ اَجْوَدُ جُوْدًا قَالُو اﷲُ وَرَسُوْلُہ، اَعْلَمُ قَالَ اﷲُ اَجْوَدُ جُوْدًا ثُمَّ اَنَا اَجْوَدُ بَنِی اٰدَمَ وَاَجْوَدُ ھُمْ مِنْ بَعْدِ رَجُلٌ عَلِمَ عِلْمًا فَنَشَرَہ، یَأْتِیْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ اَمِیْرًا وَّحْدَہ، اَوْقَالَ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً۔
اور حضرت انس بن مالک ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے (صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو مخاطب کرتے ہوئے) فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ سخاوت کے معاملہ میں سب سے بڑا سخی کون ہے؟ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا سخاوت کرنے میں اللہ تعالیٰ سب سے بڑا سخی ہے اور بنی آدم میں سے سب بڑا سخی میں ہوں، پھر لوگوں میں میرے بعد سب سے بڑا سخی وہ آدمی ہوگا جس نے علم سیکھا اور اسے پھیلایا۔ وہ آدمی قیامت کے دن ایک امیر یا فرمایا کہ ایک گروہ کی طرح آئے گا۔
تشریح
آخر روایت میں راوی کو شک ہوگیا ہے کہ سرکار دو عالم ﷺ نے امیر اوحدہ فرمایا یا امۃ واحدۃ فرمایا یعنی ایسا آدمی جس نے علم سیکھا اور اس کو لوگوں کے درمیان پھیلایا تو اس کے بارے میں آپ ﷺ نے فرمایا کہ وہ آخرت میں ایک امیر کی مانند آئے گا کہ وہ کسی کے تابع نہیں ہوگا بلکہ اس کے ساتھ تابع اور خدام ہوں گے یا آپ ﷺ نے یہ فرمایا کہ وہ تن تنہا آدمی ایک گروہ جماعت کی مانند ہوگا۔ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ اللہ کی مخلوق کے درمیان معزز و مکرم ہوگا اور آخرت میں بصد شوکت و حشمت آئے گا۔
علم اور اس کی فضیلت کا بیان
وَعَنْہُ اَنْ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ مَنْھُوْمَانِ لَا یَشْبَعَانِ مَنْھُوْمٌ فِی الْعِلْمِ لَا یَشْبَعُ مِنْہ، وَ مَنْھُوْمٌ فِی الدُّنْیَا لَا یَشْبَعُ مِنْھَا رَوَی الْبَیْھَقِیُّ اَ لْاَحَادِیْثَ الثَّلَاثَۃَ فِی شُعْبِ الْاِیْمَانِ وَقَالَ قَالَ الْاِمَامُ اَحْمَدُ فِی حَدِیْثِ اَبِی الدَّرْدَآءِ ھٰذَا مَتْنٌ مَشْھُوْدٌ فِیْمَا بَیْنَ النَّاسِ وَلَیْسَ لَہ، اِسْنَادٌ صَحِیْحٌ۔
اور حضرت انس بن مالک ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ حرص کرنے والے دو آدمی ہیں جن کا پیٹ نہیں بھرتا۔ ایک علم میں حرص کرنے والا کہ اس کا پیٹ کبھی علم سے نہیں بھرتا اور دوسرا دنیا کی حرص کرنے والا کہ اس کا پیٹ دنیا سے کبھی نہیں بھرتا۔ مذکورہ بالا تینوں حدیثیں بیہقی نے شعب الایمان میں روایت کی ہیں۔ حضرت امام مسند احمد بن حنبل (رح) نے سنن ابوداؤد کی حدیث کے بارے میں فرمایا ہے کہ اس کا متن لوگوں میں مشہور ہے مگر اس کی اسناد صحیح نہیں ہے۔
تشریح
امام نووی (رح) فرماتے ہیں کہ یہ حدیث ضعیف ہے لیکن اس کے طرق متعدد ہیں جن میں بعض کو دوسرے بعض کی بناء پر تقویت ملی ہے لیکن ویسے بھی یہ بات سمجھ لینی چاہئے کہ علماء کا اس پر اتفاق ہے کہ فضائل اعمال کے سلسلہ میں ضعیف حدیث پر عمل کرنا جائز ہے۔
علم اور اس کی فضیلت کا بیان
وَعَنْ عَوْنِ قَالَ قَالَ عَبْدُاﷲِ ابْنُ مَسْعُوْدِ مَنْھُو مَانِ لَا یَشْبَعَانِ صَاحِبُ الْعِلْمِ وَ صَاحِبُ الدُّنْیَا وَلَا یَسْتَوِیَانِ اَمَّا صَاحِبُ الْعِلْمِ فَیَزْ دَادُ رِضَیً لِلرَّحْمٰنِ وَاَمَّا صَاحِبُ الدُّنْیَا فَیَتَمَارَی فِی الطُّغْیَانِ ثُمَّ قَرَأَ عَبْدُاﷲِ کَلَّا اِنَّ الْاِنْسَانَ لَیُطْغَی اَنْ رَّاَہُ اسْتَغْنٰی قَالَ وَقَالَ الْاٰخِرُاِنَّمَا یَخْشَی اﷲَ مِنْ عِبَادِہِ الْعُلَمََأُ۔ (رواہ الدارمی)
اور حضرت عون ؓ راوی ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نے فرمایا۔ دو حریص ہیں جن کا پیٹ کبھی نہیں بھرتا، ایک عالم اور دوسرا دنیا دار لیکن یہ ( درجہ میں) برابر نہیں ہیں کیونکہ عالم تو اللہ کی خوشنودی و رضا مندی کو زیادہ کرتا ہے اور دنیا دار سرکشی میں زیادتی کرتا ہے۔ پھر حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نے دنیا دار کے حق میں ( دلیل کے طور پر) یہ آیت پڑھی۔ (آیت کا ترجمہ) خبردار! انسان البتہ سرکشی کرتا ہے جب کہ وہ اپنے آپ کو (کثرت مال کی بنا پر لوگوں سے) غنی دیکھتا ہے حضرت عون ؓ فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود ؓ نے دوسرے یعنی عالم کے حق میں یہ آیت پڑھی۔ (آیت کا ترجمہ) اللہ کے بندوں میں عالم اللہ سے ڈرتے ہیں۔ (درامی)
علم اور اس کی فضیلت کا بیان
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسِ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہٖ وَسَلَّمَ اِنَّ اُنَاسًا مِنْ اُمَّتِی سَیَتَفَقَّھُوْنَ فِیْ الدِّیْنِ وَیَقْرَ اُوْنَ الْقُرْاٰنَ یَقُوْلُوْنَ نَأْتِی الْاُمَرَاءَ فَنَصِیْبُ مِنْ دُنْیَا ھُمْ وَنَعْتَزِلُھُمْ بِدِیْنِنَا وَلَا یَکُوْنُ ذٰلِکَ کَمَا لَا یُجْتَنٰی مِنَ لْقَتَادِ اِلَّا الشَّوْکُ کَذٰلِکَ لَا یُجْتَنٰی مِنْ قُرْبِھِمْ اِلَّا قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ کَاَنَّہ، یَعْنِی الْخَطَایَا۔ (رواہ ابن ماجۃ)
اور حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ میری امت میں بہت سے لوگ دین میں سمجھ یعنی دین کا علم حاصل کریں گے اور قرآن پڑھیں گے اور کہیں گے کہ ہم امراء کے پاس جا کر ان کی دنیا اور (دولت) میں سے اپنا حصّہ حاصل کریں گے اور اپنے دین کو ان سے یکسو رکھیں گے۔ لیکن ایسا نہیں ہوتا (کہ دین و دنیا ایک جگہ جمع ہوجائیں اور امراء کی صحبت میں بجائے فائدہ کے نقصان ہوتا ہے) جیسا کہ جس طرح خاردار درخت سے صرف کانٹا ہی حاصل ہوسکتا ہے اسی طرح امراء کی صحبت سے نہیں حاصل ہوتا مگر! حضرت محمد ابن صباح (رح) فرماتے ہیں کہ گویا رسول اللہ ﷺ کی مراد (لفظ الا کے بعد) خطایا تھی۔ (سنن ابن ماجہ)
تشریح
حدیث کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے الا کے بعد کسی لفظ کا تکلّم نہیں فرمایا چناچہ حضرت محمد بن صباح (رح) جو ایک جلیل القدر محدّث اور حضرت عبداللہ بن اسماعیل بخاری (رح) و امام مسلم (رح) جیسے ائمہ حدیث کے استاد ہیں۔ اس کی وضاحت فرما رہے کہ رسول اللہ ﷺ کی مراد الفاظ الا کے بعد خطایا ہے۔ مگر آپ ﷺ نے اسے حذف فرمایا اور اس کا تکلّم نہیں کیا۔ اس طرح حدیث کے آخری الفاظ اب اس طرح ہوجائیں گے لَا یُجْتَنِی من قربھم الا الخطایا یعنی امراء کی صحبت سے حاصل نہیں ہوتا مگر گناہ۔ بہر حال حدیث کا مطلب یہ ہے کہ اس امت میں ایسے بھی عالم پیدا ہوں گے جن کا مقصد حصول علم سے محض یہ ہوگا کہ وہ علم حاصل کر کے اور قرآن پڑھ کر امراء کے پاس جائیں اور ان کے سامنے اپنی بزرگی و فضیلت کا اظہار کر کے ان سے مال و دولت حاصل کریں اور علم کی جو حقیقی منشاء و مدعا ہوگی یعنی اللہ کی مخلوق کی ہدایت اور عوام الناس کی بغیر کسی لالچ اور طمع کے دینی راہبری اس سے انہیں قطعاً کوئی مطلب نہ ہوگا۔ اور جب ان سے کہا جائے گا کہ یہ کس طرح ممکن ہے کہ بیک وقت تفقہ فی الدّین اور امراء کی قربت و صحبت جمع ہوجائے؟ تو وہ جواب میں یہ کہیں گے کہ ہم ان سے مال و دولت تو حاصل کریں گے مگر اپنے دین کو ان سے بچائیں گے اور اس کی حفاظت کریں گے حالانکہ یہ امر محال ہے۔
علم اور اس کی فضیلت کا بیان
وَعَنْ عَبْدِاﷲِ بْنِ مَسْعُوْدِقَالَ لَوْ اَنَّ اَھْلَ الْعِلْمِ صَانُوْا الْعِلْمَ وَوَضَعُوْہ، عِنْدَاَھْلِہٖ لَسَادُوْابِہٖ اَھْلَ زَمَانِھِمْ وَلَکِنَّھُمْ بِذَلُوْہ، لِاَ ھْلِ الدُّنْیَا لِیَنَا لُوْابِہٖ مِنْ دُنْیَا ھُمْ فَھَا نُوْا عَلَیْھِمْ سَمِعْتُ نَبِیَّکُمْ صلی اللہ علیہ وسلم یَقُوْلُ مَنْ جَعَلَ الْھُمُوْمَ ھَمًّا وَاحِدًا ھَمَّا اٰخِرَتِہٖ کَفَاہُ اﷲُ ھَمَّ دُنْیَاہُ وَمَنْ تَشَعَّبَتْ بِہٖ الْھُمُوْمُ (فِی) اَحْوَالِ الدُّنْیَا لَمْ یُبَالِ اﷲُ فِی اَیْ اَوْدِیَتِھَا ھَلَکَ رَوَاہُ ابْنُ مَاجَۃَ وَرَوَاہُ الْبَیْھِقِیُّ فِی شُعَبِ الْاِیْمَانِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ مِنْ قَوْلِہٖ مَنْ جَعَلَ الْھُمُوْمَ اِلٰی اٰخِرِہٖ۔
اور حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کے بارے میں مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا اگر اہل علم (یعنی علماء) علم کی حفاظت کریں اور علم کو اس کے اہل ہی (یعنی قدر دانوں) کے سامنے رکھیں تو وہ بیشک اپنے علم کے سبب دنیا والوں کے سردار بن جائیں لیکن (علماء) نے اگر ایسا نہیں کیا بلکہ انہوں نے علم کو دنیا داروں پر خرچ کیا تاکہ اس کے ذریعہ وہ دنیا (یعنی جاہ و جلال) کو حاصل کریں اور علم کا حقیقی مقصد یعنی دنیا والوں کی ہدایت و نصیحت کو موقوف کردیں تو وہ دنیا والوں کی نظر میں ذلیل ہوئے۔ میں نے سرکار دو عالم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس آدمی نے اپنے مقاصد میں سے صرف ایک مقصد یعنی آخرت کے مقصد کو اختیار کیا تو اللہ تعالیٰ اس کے دنیاوی مقصد کو پورا کردیتا ہے جس آدمی کے مقاصد پراگندہ ہوں جیسے کہ دنیا کے حالات ہیں تو پھر اللہ کو پرواہ نہیں ہوتی کہ وہ خواہ کسی جنگل (یعنی دنیا کی کسی حالت) میں ہلاک ہو۔ (ابن ماجہ، بیہقی نے اس حدیث کو شعب الایمان میں عبداللہ ابن عمر ؓ سے قول من جعل الھموم سے آخر تک روایت کیا ہے۔
تشریح
یہ حدیث علماء کو احساس و شعور کی ایک دولت بخش رہی ہے اور علم کے سب سے اعلیٰ و بلند مقام کی نشاندہی کر رہی ہے چناچہ عبداللہ ابن مسعود ؓ کے ارشاد کا مقصد یہ ہے کہ علماء اپنا مرتبہ و مقام پہچانیں اور وہ جس عرفانی مقام پر فائز ہیں اس کی اہمیت و نزاکت کا احساس کریں۔ اس لئے کہ علم دین جن بلندو اعلیٰ احساسات کا حامل ہے اسی طرح وہ اپنا ظرف بھی بلندو اعلیٰ چاہتا ہے۔ علم کی شان عظمت ہی یہ ہے کہ وہ قدر دانوں اور باشعور اشخاص کے پاس رہے۔ اگر حصول جاہ و جلال کی خاطر علم کو دنیا دار سرداروں اور ظالموں کی چوکھٹ کا سجدہ ریز بنایا جاتا ہے تو یہ علم کی سب سے بڑی توہین اور عالم کی سب سے بڑی ذلت ہے۔ حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ ایک بات اس سے بڑی فرما رہے ہیں۔ وہ کہتے کہ دنیاوی اعتبار سے سرداری، شوکت و حشمت اور عزت و عظمت کوئی بڑی چیز نہیں ہے بلکہ اصل اور حققیی سرداری و امارت تو وہ ہے جو فضل و کمال اور بزرگی کے اعتبار سے ہو یہی وجہ ہے کہ علماء کی یہ شان نہیں ہوا کرتی کہ وہ بادشاہ و امیر بنیں یا حاکم و سردار ہوں، وہ تو علم و فضل اور بزرگی کی طاقت سے دنیا کے روحانی تاجدار ہوتے ہیں اور لوگوں کے دل و دماغ پر حکمران ہوتے ہیں اور ان کے ماسواء ان کے زیر قدم، زیر قلم اور ان کی عقل و احکام کے تابع دار ہوتے ہیں جیسا کہ قرآن شاہد ہے آیت ( يَرْفَعِ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَالَّذِيْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍ )۔ (58۔ المجادلۃ 11) یعنی اللہ تعالیٰ تم میں سے ان کے جو ایمان لائے اور جن کو علم دیا گیا درجات بلند کرتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کے ارشاد کا مقصد یہ ہے کہ بندہ کا احساس اور اس کا شعور اتنا پاکیزہ اور لطیف ہوجانا چاہئے کہ اس کے دل و دماغ کے ایک ایک گوشہ میں صرف ایک ہی مقصد کی روشنی ہو اور وہ مقصد آخرت ہے۔ اس کے علاوہ اس کا کوئی مقصد نہ ہو اور کوئی غرض نہ ہو تو پھر اللہ کی جانب سے اس پر دنیاوی وسعت کے دروازے بھی خود بخود کھول دیئے جاتے ہیں۔ لیکن بندہ کا دل و دماغ اگر اتنا پر اگندہ ہو کہ وہ ہمہ وقت دنیا کی چیزوں میں تو لگا رہے اور دنیا کے تفکرات میں مستغرق رہے تو اللہ کی جانب سے اس کے ساتھ کوئی اچھا معاملہ نہیں ہوتا۔ یہاں تک کہ اللہ اس سے اتنا بےتعلق ہوجاتا ہے کہ اگر وہ بندہ دنیا کی کسی تکلیف اور کسی بھی مصیبت میں ہلاک ہوجائے تو اللہ کو اس کی پرواہ نہیں ہوتی اور نہ دنیاوی اعتبار سے اور نہ دینی اعتبار سے رحمت الٰہی کی نظر کرم اس کی طرف ہوتی ہے۔ اس طرح وہ دنیا و آخرت دونوں جگہ کے خسران و نقصان میں مبتلا ہوجاتا ہے۔
علم اور اس کی فضیلت کا بیان
وَعَنِ الْاَ عْمَشِ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہٖ وَسَلَّمَ اٰفَۃُ الْعُلْمِ النِّسْیَانُ وَاِضَاعَتُہ، اَنْ تُحَدِّیْثَ بِہٖ غَیْرَ اَھْلِہٖ رَوَاہُ الدَّارِمِیُّ مُرْسَلًا۔
اور حضرت اعمش ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا علم کی آفت بھولنا ہے اور علم کا ضائع کرنا یہ ہے کہ اس کو نااہل کے سامنے بیان کیا جائے۔ (دارمی نے بطریق ارسال کیا )
تشریح
علم کے حاصل ہونے سے پہلے تو بہت آفات اور مصیبتیں ہوتی ہیں لکل چیز آفۃ والعلم اٰفات یعنی ہر چیز کی ایک ہی آفت ہوتی ہے مگر علم کے لئے بہت سے آفات ہیں لیکن حصول علم کے بعد ایک ہی آفت ہے اور وہ نسیان یعنی بھولنا ہے اور یقینا کسی چیز کا حاصل ہوجانے کے بعد زائل ہوجانا اور ذہن میں آکر پھر محو ہوجانا زبردست روحانی اذیت ہے۔ دراصل اس حدیث سے اس پر تنبیہ مقصدود ہے کہ طالب علم اور اہل علم کو چاہئے کہ وہ ایسی باتوں سے اجتناب کریں جو نسیان کا سبب ہیں یعنی گناہ و معصیت سے بچیں اور ان چیزوں میں دل نہ لگائیں جو ذہن و فکر کو غافل کردیتی ہیں جیسے دنیا کی سحر آفرینیوں اور خواہشات نفسانی میں دلچسپی لینا چناچہ حضرت امام شافعی (رح) نے اسی مضمون کو اس شعر میں ادا کیا ہے شکوت الی وکیع سوء حفظی فاوصانی الی ترک المعاصی ترجمہ میں نے اپنے استاد وکیع سے اپنے حافظہ کی کمزروی کی شکایت کی تو انہوں نے مجھے ترک معصیت کی نصیحت کی۔ فان العلم فضل من الٰہ وفضل اللہ لا یعطی لعاص ترجمہ کیونکہ علم تو اللہ کا ایک فضل ہے اور اللہ کا فضل گناہ گار کے حصہ میں نہیں آتا۔ آخر حدیث میں یہ فرمایا گیا ہے کہ علم کو اس کے نااہل اور ناقدردان کے سامنے پیش کرنا دراصل علم کو ضائع کرنا ہے اور نااہل وہ آدمی ہے جو نہ تو علم کو سمجھتا ہے اور نہ علم کی قدر جانتا ہے لہٰذا جب اس کے سامنے علم پیش کیا جائے گا تو علم ضائع ہوگا۔ اس لئے علم انھی کو سکھانا چاہئے جو اس کے اہل اور قدردان ہوں، یعنی وہ علم سمجھنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہوں اور اس پر عمل کرنے کا جذبہ بھی ان کے اندر موجود ہو۔
علم اور اس کی فضیلت کا بیان
وَعَنْ سُفْیَانَ اَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اﷲُ عَنْہ، قَالَ لِکَعْبِ مَنْ اَرْبَابُ الْعِلْمِ؟ قَالَ الَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ بِمَا یَعْلَمُوْنَ قَالَ فَمَا اَخْرَجَ الْعِلْمَ مِنْ قُلُوْبِ الْعُلَمَآءِ قَالَ اَلطَّمْعُ۔ (رواہ الدرامی)
اور حضرت سفیان (رح) راوی ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب ؓ نے حضرت کعب ؓ سے فرمایا (تمہارے نزدیک) صاحب علم کون ہے حضرت کعب ؓ نے جواب دیا وہ لوگ جو اپنے علم کے موافق عمل کریں، پھر حضرت عمر فاروق ؓ نے پوچھا کہ کون سی چیز عالموں کے دلوں سے علم کو نکال لیتی ہے؟ حضرت کعب نے ؓ جواب دیا۔ لالچ (دارمی)
تشریح
حضرت عمر فاروق ؓ کے سوال کا مطلب یہ تھا کہ علماء کے دلوں سے نور علم اور علم کی عظمت و برکت کو نکالنے والی کونسی چیز ہے اور وہ کیا چیز ہے جس کی موجودگی علم کے منافی ہے؟ حضرت کعب ؓ نے فرمایا کہ لالچ۔ وہ بری خصلت ہے جو علم کے نور کو عالم کے دل سے ضائع کردیتی ہے۔ کیونکہ جب کسی عالم کے اندر جاہ و جلال کی محبت اور لالچ اور دنیاوی اسباب عیش و عشرت کی طمع پیدا ہوجائے گی تو پھر علم کا نور اور علم کی برکت اپنی جگہ چھوڑ دیں گے اور عالم کے دل و دماغ علم کی حقیقی روشنی سے منوّر نہ رہ سکیں گے۔
علم اور اس کی فضیلت کا بیان
وَعَنِ الْاَحْوَصِ بْنِ حَکِیْمِ عَنْ اَبِیْہٖ قَالَ سَأَلُ رَجُلٌ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلم عَنِ الشَّرِّ فَقَالَ لَا تَسْئَلَوْنِی عَنِ الشَّرِّوَسَلُوْنِی عَنِ الْخَیْرَ یَقُوْلُھَا ثَلَاثُا ثُمَّ قَالَ اَلَا اِنَّ شَرَّ الشَّرِّ شِّرَارُ الْعُلَمَآءِ وَاِنَّ خَیْرَ الْخَیْرِ خِیَارُالْعُلَمَآئِ۔ (رواہ الدارمی)
اور حضرت احوض بن حکیم ؓ اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے سرکار دو عالم ﷺ سے برائی کے بارے میں سوال کیا، آپ ﷺ نے فرمایا کہ مجھ سے برائی کے بارے میں مت پوچھو بلکہ بھلائی کے بارے میں سوال کرو۔ اور ان جملوں کو آپ ﷺ نے تین بار ادا فرمایا۔ خبردار! بد لوگوں میں بد ترین برے عالم ہیں اور بھلے لوگوں میں سب سے بہتر بھلے علماء ہیں۔ (دارمی)
تشریح
صحابی کے سوال کا مقصد یا تو نفسِ برائی کے بارے میں دریافت کرنا تھا جیسا کہ ترجمہ سے معلوم ہوا یا وہ یہ معلوم کرنا چاہتے تھے کہ بد ترین آدمی کون ہے َ اور جواب کو دیکھتے ہوئے یہی مقصد زیادہ واضح ہے۔ آپ ﷺ نے اس طرح کے سوال سے منع فرمایا اور وجہ اس کی ظاہر ہے کہ چونکہ سرکار دو عالم ﷺ کی ذات اقدس سراپاءِ رحمت اور سراپاءِ خیر ہے اس لئے یہ بات مناسب نہیں ہے کہ آپ ﷺ سے محض بدی اور برائی کا سوال کیا جاتا۔ چناچہ آپ ﷺ نے برائی اور بھلائی دونوں کے بارے میں جواب دے کر اسی طرف اشارہ فرمایا۔ حدیث کا مطلب یہ ہے کہ علماء کی ذات چونکہ عوام کے اندر ایک معیار اور نمونہ ہوتی ہے اور لوگ ان کے تابع و معتقد ہوتے ہیں لہٰذا عالم کی ہر صفت اس کی اپنی ذات تک محدود نہیں رہتی بلکہ اس کے اثرات تک بھی پہنچتے ہیں، عالم اگر نیک اخلاق و عادات اور اچھے خصائل کا ہوتا ہے تو اس کے ماننے والے اور اس کی اتباع کرنے والے بھی نیک اخلاق و عادات کے مالک ہوتے ہیں اور خدانخواستہ بد اخلاق، بد کردار ہوجائے تو پھر اس کے جراثیم دوسرے تک پہنچتے ہیں اور اس کے ماننے والے بھی اسی کے رنگ میں رنگ جاتے ہیں۔
علم اور اس کی فضیلت کا بیان
وَعَنْ اَبِی الدَّرْدَاءِ قَالَ اِنَّ مِنْ اَشَرِالنَّاسِ عِنْدَاﷲِ مَنْزِلَۃً یَوْمَ الْقِیَامَۃِ عَالِمٌ لَا یَنْتَفِعُ بِعِلْمِہٖ۔ (رواہ الدارمی)
اور حضرت ابودرداء ؓ فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن اللہ کے نزدیک مرتبہ میں سب سے بدتر وہ عالم ہے جس نے اپنے علم سے فائدہ نہ اٹھایا۔ (دارمی)
تشریح
یا تو اس سے مراد وہ عالم ہے جس نے ایسا علم سیکھا جو فائدہ پہنچانے والا نہیں ہے۔ یعنی غیر شرعی علوم اس نے حاصل کئے جو نفع بخش نہیں ہیں یا پھر وہ عالم مراد ہے جس نے علم تو شرعی اور دینی حاصل کیا مگر اس پر عمل نہیں کیا۔ لہٰذا ایسے عالم کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ قیامت کے روز مرتبہ کے اعتبار سے وہ اللہ کے نزدیک سب سے بدتر ہوگا یعنی یہ جاہل سے بھی زیادہ برا ہوگا یہی وجہ ہے کہ اس پر جو عذاب ہوگا وہ جاہل کے عذاب سے سخت ہوگا، جیسا کہ منقول ہے۔ ویل للجاھل مرۃ و ویل اللعالم سبع مرات۔ یعنی جاہل کے لئے ایک مرتبہ بربادی ہے اور عالم کے لئے سات مرتبہ بربادی ہے، نیز یہ وارد ہے کہ قیامت کے دن سب سے زیادہ اور سب سے شدید عذاب جس پر ہوگا وہ ایسا عالم ہے کہ جسے اللہ نے علم دیا اور اس نے اس سے کوئی فائدہ نہ اٹھایا۔
علم اور اس کی فضیلت کا بیان
وَعَنْ زِیَادِ بْنِ حُدَیْرِ رَضِیَ اﷲُ عَنْہُ قَالَ قَالَ لِیْ عُمَرُ ھَلْ تَعْرِفُ مَا یَھْدِمُ الْاِسْلَامَ قُلْتُ لَا قَالَ یَھْدِمُہ، زَلَّۃُ الْعَالِمِ وَجِدَالُ الْمُنَافِقِ بِالْکِتَابِ وَحُکْمُ الْاَئِمَّۃِ الْمُضَلِّیْنَ۔ (رواہ الدارمی)
اور حضرت زیاد بن حدیر ؓ راوی ہیں کہ حضرت عمر فاروق ؓ نے مجھ سے فرمایا کہ کیا تم جانتے ہو کہ اسلام کی عمارت کو ڈھانے والی کیا چیز ہے؟ میں نے کہا مجھے نہیں معلوم! حضرت عمر فاروق ؓ نے فرمایا۔ عالم کا پھسلنا (یعنی کسی مسئلہ میں عالم کا غلطی کرنا اور اس کا گناہ کرنا، منافق کا کتاب اللہ میں جھگڑنا اور گمراہ سرداروں کا حکم جاری کرنا اسلام (کی عمارت) کو تباہ و برباد کردیتا ہے۔ (دارمی)
تشریح
اسلام کی عمارت کو ڈھا دینے کا مطلب یہ ہے کہ اسلام کے جو پانچ بنیادی اصول ہیں، یعنی کلمہ، تو حید، نماز، روزہ، زکوٰۃ اور حج۔ وہ بیکارِ محض ہو کر رہ جائیں، چناچہ جب عالم اپنے حقیقی فرائض یعنی امر بالمعروف و نہی عن المنکر کی ادائیگی کو اپنی خواہشات نفسانی کی بھینٹ چڑھا دیتا ہے تو ان چیزوں میں سستی اور فساد واقع ہوجاتا ہے۔ اسی طرح منافق یعنی وہ آدمی جو بظاہر تو اسلام کا دم بھرتا ہے مگر اندرونی طور پر وہ کفر و بدعت کا پوری طرح ہمنوا ہوتا ہے۔ جب قرآن میں جھگڑتا ہے بایں طور پر وہ قرآن کے معنی و مفہوم کی غلط تاویلات کر کے احکام شرعیہ کو رد کرتا ہے تو اس سے ارکان اسلام میں سستی اور دین میں فساد پیدا ہوتا ہے۔ اسی زمرہ میں وہ روافض اور خوراج نیز دیگر باطل عقائد کے لوگ بھی داخل ہیں جو اپنی خواہشات نفسانی اور ذاتی اغراض کی خاطر غلط سلط تاویلیں کر کے دین و شریعت میں شک و شبہہ کا بیج بوتے ہیں۔
علم اور اس کی فضیلت کا بیان
وَعَنِ الْحَسَنِ قَالَ الْعِلْمُ عِلْمَانِ فَعِلْمٌ فِی الْقَلْبِ فَذَاکَ الْعِلْمُ النَّافِعُ وَعِلْمٌ عَلَی اللِّسَانِ فَذٰلِکَ حُجَّۃُ اﷲِ عَزَّوَجَلَّ عَلَی ابْنِ اٰدَمَ۔ (رواہ الدرامی)
اور حضرت حسن بصری (رح) فرماتے ہیں کہ علم کی دو قسمیں ہیں، ایک وہ علم جو دل کے اندر ہوتا ہے یہ علم تو نفع دیتا ہے اور دوسرا وہ علم ہے جو زبان کے اوپر ہوتا ہے یہ علم آدمی پر اللہ عزوجل کی دلیل و حجت ہے۔ (دارمی)
تشریح
حضرت حسن بصری (رح) نے علم کی جو دو قسمیں کی ہیں ان میں سے پہلے کو علم باطن کہا جاتا ہے اور دوسرے کو علم ظاہر چناچہ جب تک ظاہر کی اصلاح نہیں ہوتی علم باطن سے کچھ میسر نہیں آتا، اسی طرح جب تک باطن کی اصلاح نہیں ہوجاتی علم ظاہر کی تکمیل نہیں ہوتی۔ ابوطالب مکی (رح) فرماتے ہیں کہ یہ دونوں علم اصل اور بنیادی ہیں اور ان دونوں میں اس درجہ کا ارتباط و تعلّق ہے کہ ان میں سے ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوسکتا۔ جس طرح ایمان و اسلام کہ ایک دوسرے کے بغیر صحیح نہیں ہوتے یا جیسے دل و جسم کہ ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوسکتے ٹھیک اسی طرح ان دونوں علوم کا آپس میں ارتباط وتعلق ّہے۔ (ملاقاری) حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی (رح) نے لکھا ہے کہ نفع دینے والا علم وہ ہوتا ہے کہ جب اس کی روشنی سے دل منوّر ہوجاتا ہے تو دل کے وہ پردے اٹھ جاتے ہیں جو حقائق اشیاء کی معرفت و فہم کے لئے مانع ہیں۔ علم نافع کی دو قسمیں ہیں۔ ایک تو علم معاملہ جو عمل کا باعث ہوتا ہے اور دوسرا علم مکاشفہ جو عمل کا اثر ہوتا ہے چناچہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے اس کے دل میں یہ نورانی علم ڈال دیتا ہے اور حضرت حسن بصری (رح) نے جس علم کو نافع قرار دیا ہے وہ یہی علم ہے اور جو علم زبان کے اوپر ہوتا ہے۔ یہ وہ علم ہے جو نہ تو تاثیر رکھتا ہے اور نہ دل میں نورانیت پیدا کرتا ہے علم چوں بردل زند یاری شود علم چوں برتن زند ماری شود چنانچہ اسی علم کو کہا جا رہا ہے کہ یہ بندوں پر اللہ کی جانب سے حجت اور دلیل ہے کہ اللہ بندوں کو الزام دیتے ہوئے فرمائے گا کہ میں نے تو تمہیں علم دیا تھا تم نے اس پر علم کیوں نہیں کیا؟ اور اسی لئے کہا گیا ہے کہ جاہل کے لئے ایک بار بربادی ہے اور عالم کے لئے سات بار کیونکہ یہ دیدہ و دانستہ گمراہ ہوا۔
علم اور اس کی فضیلت کا بیان
وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ حَفِظْتُ مِنْ رَسُوْلِ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم وِعَائَیْنِ فَاَمَّا اَحَدُھُمَا فَبَثَثْتُہ، فِیْکُمْ وَاَمَّا الْاٰخَرُ فَلَوْ بَثَثْتُہ، قُطِعَ ھٰذَا الْبُلْعُوْمُ یَعْنِی مِجْرَی الطَّاعَامِ۔ (رواہ البخاری)
اور حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے سرکار دو عالم ﷺ سے دو باسن (یعنی دو طرح کے علم) یاد رکھے ہیں، ان میں سے ایک کو تمہارے درمیان میں نے پھیلا دیا ہے اور دوسرا علم وہ ہے کہ اگر میں اسے بیان کروں تو میرا یہ گلا کاٹ ڈالا جائے۔ (صحیح البخاری )
تشریح
پہلے علم سے مراد تو علم ظاہر ہے جس کا تعلق احکام و اخلاق وغیرہ سے ہے۔ دوسرے علم کے دو مفہوم لئے جاسکتے ہیں اول تو یہی کہ اس سے مراد وہ علم باطن ہے جس کے اسرار و معانی عوام سے ان کے ناقص فہم کی بنا پر پوشیدہ ہیں اور وہ علم خواص علماء عارفین کے ساتھ محضوص ہے یا دوسرے معنیٰ یہ ہوسکتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ ؓ کو رسول اللہ ﷺ نے بتایا تھا کہ میرے بعد ایک جماعت کی طرف سے ایک زبردست فتنہ اٹھے گا جس سے بدعات کی بنیاد پڑجائے گی۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کو اس قوم اور قوم کے افراد کے ناموں کا بھی علم تھا چناچہ ہوسکتا ہے کہ اس سے حضرت ابوہریرہ ؓ کی مراد یہی علم ہو جس کے بارے میں ان کا خیال تھا کہ اگر میں اسے لوگوں کے سامنے بیان کر دوں گا تو میری جان کے لالے پڑجائیں گے۔
علم اور اس کی فضیلت کا بیان
وَعَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ مَسْعُودٍص قَالَ ےَا اَےُّھَا النَّاسُ مَنْ عَلِمَ شَےْئًا فَلْےَقُلْ بِہٖ وَمَنْ لَّمْ ےَعْلَمْ فَلْےَقُلِ اللّٰہُ اَعْلَمُ فَاِنَّ مِنَ الْعِلْمِ اَنْ تَقُوْلَ لِمَا لَا تَعْلَمُ اَللّٰہُ اَعْلَمُ قَالَ اللّٰہُ تَعَالٰی لِنَبِےِّہٖ قُلْ مَا اَسْئَلُکُمْ عَلَےْہِ مِنْ اَجْرٍ وَمَا اَنَا مِنَ الْمُتَکَلِّفِےْنَ۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)
اور مروی ہے کہ حضرت عبداللہ ؓ نے (لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا) اے لوگو! جو آدمی کسی بات کو جانتا ہو تو چاہئے کہ وہ اسے بیان کر دے اور جو نہ جانتا ہو تو چاہئے کہ وہ کہے کہ اللہ تعالیٰ زیادہ جانتا ہے اس لئے کہ جس چیز کا اسے علم نہیں ہے، اس کے بارے میں اللہ زیادہ جانتا ہے۔ کہنا بھی علم کی ایک قسم ہے (یعنی معلوم کا غیر معلوم سے تمیز کرنا بھی علم کی ایک قسم ہے) چناچہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کے واسطے فرمایا ہے کہ آیت (قُلْ مَا اَسْ َ لُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ اَجْرٍ وَّمَا اَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِيْنَ ) 38۔ ص 86) ترجمہ یعنی اے محمد ﷺ کہہ دیجئے کہ میں اس قرآن پر تم سے کوئی بدلہ نہیں مانگتا اور میں تکلف کرنے والے لوگوں میں سے نہیں ہو۔ (صحیح البخاری )
تشریح
اس آیت کے ذریعے رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا جارہا ہے کہ آپ لوگوں سے کہہ دیں کہ اللہ نے جو کچھ علم مجھے دیا اور جتنا مجھے سکھا دیا اور پھر اس کو پھیلانے اور لوگوں کو سکھانے کا حکم دیا اسی کو لوگوں تک پہنچاتا اور انہیں سکھاتا ہوں۔ اس کے علاوہ میں کسی دوسری چیز کا دعویٰ اپنی طرف سے نہیں کرتا اور نہ ان چیزوں سے بحث کرتا ہوں جو مشکل اور سخت ہونے کی وجہ سے عوام کے فہم سے بلند وبالا ہیں کیونکہ ایسا کرنا خواہ مخواہ کا تکلف کرنا ہے۔
علم اور اس کی فضیلت کا بیان
وَعَنِ بْنِ سِےْرِےْنَ رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہ قَالَ اِنَّ ھٰذَا الْعِلْمَ دِےْنٌ فَانْظُرُوْا عَمَّنْ تَاْخُذُوْنَ دِےْنَکُمْ۔ (صحیح مسلم)
اور حضرت ابن سیرین (رح) فرماتے ہیں کہ یہ علم (یعنی کتاب و سنت کا علم) دین ہے۔ لہٰذا جب تم اس کو حاصل کرو تو یہ دیکھ لو کہ اپنا دین کس سے حاصل کر رہے ہو۔ (صحیح مسلم)
تشریح
اس ارشاد سے دراصل اس بات پر تنبیہ مقصود ہے کہ جب علم حاصل کرنے کا ارادہ کرو یا حدیث حاصل کرو تو اس بات کو خوب اچھی طرح جانچ پرکھ لو کہ تم جس سے علم حاصل کرو ہے ہو وہ کس قسم کا آدمی ہے۔ آیا وہ قابل اعتماد ہے یا نہیں؟ جب تمہیں اس عالم یا راوی کے حالات کا پوری طرح علم ہوجائے اور سمجھ لو کہ واقعی وہ دیندار، پرہیزگار اور قوی الحافظہ ہے تو اس سے علم حاصل کرو۔ اس طرح ہر کس و ناکس کو اپنا استاد نہ بناؤ اور ہر آدمی سے حدیث کی روایت نہ کرو خصوصاً اہل بدعت، نفسانی خواہشات کے غلام اور غیر دیندار لوگوں سے اس معاملہ میں اجتناب برتو۔