علم اور اس کی فضیلت کا بیان
وَعَنْ حُذَےْفَۃَ صقَالَ ےَا مَعْشَرَ الْقُرَّآءِ اسْتَقِےْمُوْا فَقَدْ سَبَقْتُمْ سَبْقًا بَعِےْدًا وَّاِنْ اَخَذْتُمْ ےَمِےْنًا وَّشِمَالًا لَّقَدْ ضَلَلْتُمْ ضَلَالًا بَعِےْدًا۔ (صحیح البخاری)
اور مروی ہے کہ حضرت حذیفہ ؓ نے قاریوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا۔ اے قاریوں کی جماعت سیدھے رہو! اس لئے کہ تم سبقت لے گئے ہو دور کی سبقت اگر تم (سیدھے راستہ سے ہٹ کر) ادھر ادھر ہوگئے تو البتہ بڑی گمراہی میں پڑجاؤ گے۔ ( صحیح البخاری )
تشریح
یہ ان صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے خطاب ہے جو ابتداء ہی میں اسلام کی دولت سے مشرف ہوگئے تھے۔ چونکہ ان لوگوں نے شروع ہی میں کتاب و سنت کو مضبوطی سے پکڑ لیا تھا۔ اس لئے یہ اپنے فضل و کمال کی بناء پر ان لوگوں سے سبقت لے گئے ہیں جو بعد میں مسلمان ہوئے ہوں گے اگرچہ ان کے اعمال بھی ان ہی جیسے ہوں گے لیکن بعد کے لوگ پہلے والوں کے مرتبہ و درجہ کو ان کی سبقت اسلام کی بناء پر نہیں پہنچ سکتے۔ بہر حال انہیں مقدّس حضرات کو حضرت حذیفہ ؓ مخاطب فرما رہے ہیں کہ تم لوگ شریعت، طریقت اور حقیقت کی راہ پر مستقیم رہو اس لئے کہ استقامت کرامت سے بہتر ہے۔ استقامت کے معنیٰ یہ ہیں کہ اچھے عقیدے پر مضبوطی سے قائم رہا جائے، نفع دینے والے علم اور صالح پر مداومت اختیار کی جائے، اخلاص خالص رکھے اور اللہ تعالیٰ کے سوا تمام چیزوں سے دھیان ہٹا کر حق تعالیٰ کے ساتھ لو لگائے رہے۔
علم اور اس کی فضیلت کا بیان
وَعَنْ اَبِی ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہٖ وَسَلَّمَ تَعَوَّذُوْابِاﷲِ مِنْ جُبِّ الْحُزْنِ قَالُوْ یَا رَسُوْلَ اﷲِ وَمَا حُبُّ الْحُزْنِ قَالَ وَادِ فِی جَھَنَّمَ تَتَعَوَّذُ مِنْہ، جَھَنَّمُ کُلَّ یَوْمِ اَرْبَعَ مِائَۃَ مَرَّۃِ قِیْلَ یَا رَسُوْلَ اﷲِ وَمَنْ یَّدْخُلُھَا قَالَ الْقُرَاءُ الْمُرَاءُ وْنَ بِاَعْمَالِھِمْ رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ وَکَذَا بْنُ مَاجَۃَ زَادَفِیْہِ وَاِنَّ مِنْ اَبْغَضِ الْقُرَّآءِ اِلَی اﷲِ تَعَالیٰ اَلَّذِیْنَ یَزُوْرُوْنَ الْاُمَرَآءَ قَالَ الْمُحَارِبِیُّ یَعْنِی الْجَوْرَۃَ۔ (رواہ الجامع ترمذی وابن ماجۃ)
اور حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ (صحابہ کو مخاطب کرتے ہوئے) فرمایا۔ تم اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگو حب الحزن یعنی غم کے کنویں سے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ! غم کا کنواں کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا وہ دوزخ میں ایک نالہ ہے جس سے دوزخ دن میں چار سو مرتبہ پناہ مانگتی ہے۔ صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ! اس میں کون داخل ہوگا۔ آپ ﷺ نے فرمایا وہ قرآن پڑھنے والے جو اپنے اعمال کو دکھانے کے لئے کرتے ہیں۔ (جامع ترمذی و سنن ابن ماجہ) اور سنن ابن ماجہ کی روایت میں یہ الفاظ زیادہ ہیں اللہ کے نزدیک مبغوض ترین وہ قاری ہیں جو سرداروں سے ملاقات کرتے ہیں اس حدیث کے راوی حاربی نے کہا ہے کہ سرداروں سے مراد ظالم سردار ہیں۔ ( جامع ترمذی، سنن ابن ماجہ)
تشریح
جب الحزن دوزخ کی ایک وادی کا نام ہے جو بہت گہری ہے اور کنوئیں کے مشابہ ہے یہ اتنی زیادہ ہیبت ناک اور وحشت ناک ہے کہ دوزخی تو الگ رہے خود دوزخ دن میں چار سو مرتبہ اس سے پناہ مانگتی ہے۔ چناچہ فرمایا جا رہا کہ وہ قاری جو اپنا عمل یعنی قرآن پڑھنا محض دکھلا وے و ریاء کے لئے کرتے ہیں اسی وحشت ناک وادی میں دھکیل دیئے جائیں گے۔ اسی حکم میں ریاکار عالم اور عابد بھی داخل ہیں، کیونکہ علم کی اصل بنیاد تو قرآن ہی ہے اسی طرح عبادت بھی قرآنی احکام ہی کے مطابق ہوتی ہے۔ اس لئے ایسے عالم اور عابد جو ریاء کار ہیں وہ انہیں قاریوں کے ہمراہ اسی کنواں کا لقمہ بنیں۔ سرداروں سے ملاقات کا مطلب یہ ہے کہ جو قاری سرداروں سے محض حب جاہ و مال اور دنیاوی طمع و لالچ کی خاطر ملتا ہے وہ اللہ کے نزدیک مبغوض ترین ہے۔ ہاں اگر سرداروں سے ملنا امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے لئے ہو یا بطریق جبر اور ان کے شرک کے دفعیہ کے لئے ہو تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ نیز یہاں سرداروں سے بھی وہی سردار مراد ہیں جو ظالم اور جابر ہوں، نیک بخت سردار یا عادل امیر و حاکم کا یہ حکم نہیں ہے۔ کیونکہ ایسے امراء و سردار جو اللہ کے نیک بندے ہوں ان سے ملاقات کرنا عبادت میں داخل ہے۔
علم اور اس کی فضیلت کا بیان
وَعَنْ عَلِیِّ رَضِیَ اﷲُعَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہٖ وَسَلَّمَ یُوْشِکُ اَنْ یَّاْتِیَ عَلَی النَّاسِ زَمَانٌ لَا یَبْقَی مِنَ الْاِسْلَامِ اِلَّا اسْمُہۤ وَلَا یَبْقٰی مِنَ الْقُرْاٰنِ اِلَّا رَسْمُہ، مَسَاجِدُ ھُمْ عَامِرَۃٌ وَھِیَ خَرَابٌ مِنَ الْھُدٰی عُلَمَآءُ ھُمْ شَرُّ مَنْ تَحْتَ اٰدِیْمِ السْمَآءِ مِنْ عِنْدِھِمْ تَخْرُجُ الْفِتْنَۃُ وَفِیْھِمْ تَعُوْدُ۔ (رواہ البیہقی فی شعب الایمان)
اور حضرت علی المرتضیٰ ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ عنقریب لوگوں پر ایک ایسا وقت آئے گا کہ اسلام میں صرف اس کا نام باقی رہ جائے گا اور قرآن میں سے صرف اس کے نقوش باقی رہیں گے۔ ان کی مسجدیں (بظاہر تو) آباد ہوں گی مگر حقیقت میں ہدایت سے خالی ہوں گی۔ ان کے علماء آسمان کے نیچے کی مخلوق میں سے سب سے بدتر ہوں گے۔ انہیں سے (ظالموں کی حمایت و مدد کی وجہ سے) دین میں فتنہ پیدا ہوگا اور انہیں میں لوٹ آئے گا (یعنی انہیں پر ظالم) مسلط کردیئے جائیں گے۔ (بیہقی)
تشریح
یہ حدیث اس زمانہ کی نشان دہی کر رہی ہے جب عالم میں اسلام تو موجود رہے گا مگر مسلمانوں کے دل اسلام کی حقیقی روح سے خالی ہوں گے، کہنے کے لئے تو وہ مسلمان کہلائیں گے مگر اسلام کا جو حقیقی مدعا اور منشاء ہے اس سے کوسوں دور ہوں گے۔ قرآن جو مسلمانوں کے لئے ایک مستقل ضابطۂ حیات اور نظام علم ہے اور اس کا ایک ایک لفظ مسلمانوں کی دینی و دنیاوی زندگی کے لئے راہ نما ہے۔ صرف برکت کے لئے پڑھنے کی ایک کتاب ہو کر رہ جائے گا۔ چناچہ یہاں رسم قرآن سے مراد یہی ہے کہ تجوید و قرأت سے قرآن پڑھا جائے گا، مگر اس کے معنی و مفہوم سے ذہن قطعاً نا آشنا ہوں گے، اس کے اوامرو نواہی پر عمل بھی ہوگا مگر قلوب اخلاص کی دولت سے محروم ہوں گے۔ مسجدیں کثرت سے ہوں گی اور آباد بھی ہوں گی مگر وہ آباد اس شکل سے ہوں گی کہ مسلمان مسجدوں میں آئیں گے اور جمع ہوں گے لیکن عبادت خداوندی، ذکر اللہ اور درس و تدریس جو بناء مسجد کا اصل مقصد ہے وہ پوری طرح حاصل نہیں ہوگا۔ اسی طرح وہ علماء جو اپنے آپ کو روحانی اور دنی پیشوا کہلائیں گے۔ اپنے فرائض منصبی سے ہٹ کر مذہب کے نام پر امت میں تفرقے پیدا کریں گے، ظالموں اور جابروں کی مدد و حمایت کریں گے۔ اس طرح دین میں فتنہ و فساد کا بیج بو کر اپنے ذاتی اغراض کی تکمیل کریں گے۔
علم اور اس کی فضیلت کا بیان
وَعَنْ زِیَادِ بْنِ لَبِیْدِ قَالَ ذَکَرً النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم شَیْئًا فَقَالَ ذٰلِکَ عِنْدَ اَوَنِ ذَھَابِ الْعِلْمِ قُلْتُ یَا رَسُوْلَ اﷲِ وَکَیْفَ یَذْھَبُ الْعِلْمُ وَنَحْنُ نَقْرَأُ الْقُرْاٰنَ وَنُقْرِئُہُ اَبْنَاءَ نَا وَ یُقْرِئُہُ اَبْنَاءُ نَا اَبْنَاءَ ھُمْ اِلَی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ فَقَالَ ثَکِلَتْکَ اُمُّکَ زِیَادُ اِنْ کُنْتُ لَاَرَاکَ مِنْ اَفْقَہٖ رَجُلِ بِالْمَدِیْنَۃِ اَوْلَیْسَ ھٰذِہٖ الْیَھُوْدُ وَ النَّصَارَی یَقْرَاُوْنَ التَّوْرَاۃَ وَالْاِنْجِیْلَ لَا یَعْمَلُوْنَ بِشَئْیِ مِمَّا فِیْھِمَا۔ رَوَاہُ اَحْمَدُ وَ ابْنُ مَاجَۃَ وَرَوَی التِّرْمِذِیُّ عَنْہُ نَحْوَہُ وَ کَذَا الدَّارِمِیُّ عَنْ اَبِیْ اُمَامَۃَ۔ (رواہ مسند احمد بن حنبل، ابن ماجۃ)
اور حضرت زیاد بن لبید ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے کسی چیز (یعنی فتنہ اور ابتلاء) کا ذکر کیا۔ پھر فرمایا یہ اس وقت ہوگا جبکہ علم جاتا رہے گا۔ (یہ سن کر) میں نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ ﷺ علم کس طرح جاتا رہے گا؟ حالانکہ ہم قرآن پڑھتے ہیں اور اپنے بچوں کو بھی پڑھائیں گے، ہمارے بچے اپنے بچوں کو پڑھائیں گے اور یہ سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا۔ آپ ﷺ نے فرمایا۔ زیاد! تمہیں تمہاری ماں گم کردے! میں تو تمہیں مدینے کے لوگوں میں بڑا سمجھ دار سمجھتا تھا کیا یہود و نصاری توریت و انجیل کو نہیں پڑھتے ہیں۔ لیکن ان کی کتابوں کے اندر جو کچھ ہے۔ (یعنی احکام) اس میں وہ کسی چیز پر عمل نہیں کرتے (مسند احمد بن حنبل، ابن ماجہ) اور ترمذی (رح) نے ایسی ہی روایت زیاد سے اور اسی طرح دارمی نے ابی امامہ سے نقل کی ہے۔ ( مسند احمد بن حنبل، سنن ابن ماجہ، جامع ترمذی )
تشریح
رسول اللہ ﷺ نے حضرت زیاد ؓ کو تنبیہ فرمائی کہ تم نے میرے کلام کا منشاء جانے بغیر یہ خیال کرلیا کہ صرف قرآن کا پڑھ لینا اور اس کا علم حاصل کرلینا ہی کافی ہے یعنی جس نے قرآن پڑھ لیا اور اس کا علم حاصل کرلیا گویا اس نے اس پر عمل بھی کرلیا۔ حالانکہ ایسا نہیں ہے کیونکہ محض قرآن کو پڑھ لینا ہی کافی نہیں ہے بلکہ اصل چیز تو اس کا اتباع اور اس کے احکام پر عمل کرنا ہے اور یہی چیز اس وقت مقصود ہوگی، چناچہ قرآن کو مسلمان پڑھیں گے اور اس کا علم حاصل کریں گے مگر ان کا عمل قرآن کے مطابق نہیں ہوگا جس طرح کہ یہود و نصاریٰ کہ وہ بھی اپنی کتابوں یعنی تو ریت و انجیل کو پڑھتے ہیں اور اس کا علم بھی حاصل کرتے ہیں لیکن ان کے احکام پر ذرہ برابر بھی عمل نہیں کرتے۔
علم اور اس کی فضیلت کا بیان
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودِ قَالَ قَالَ لِیْ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم تَعَلَّمُوْا الْعِلْمَ وَعَلِّمُوْہُ النَّاسَ تَعَّلَمُوْالْفَرَائِضَ وَعَلِّمُوْھَا النَّاسَ تَعَلَّمُوْا الْقُرْاٰنَ وَعَلِّمُوْہُ النَّاسَ فَاَنِّی امْرُءٌ مَقْبُوْضٌ وَالْعِلْمُ سَیُقْبَضُ وَتَظْھَرُ الْفِتَنُ حَتّٰی یَخْتَلِفَ اِثْنَانِ فِی فَرِیْضَۃِ لَّا یَجِدَانِ اَحَدً یَّفْصِلُ بَیْنَھُمَا۔ (رواہ الدارمی والدار قطنی)
اور حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے مجھ سے فرمایا۔ علم کو سیکھو اور سکھلاؤ، علم فرائض (یا فرض احکام) کو سیکھو اور لوگوں کو بھی سکھلاؤ (اسی طرح) قرآن کو سیکھو اور لوگوں کو بھی سکھلاؤ۔ اس لئے کہ بیشک میں ایک آدمی ہوں جو اٹھایا جاؤں گا اور علم بھی اٹھا لیا جائے گا اور فتنے ظاہر ہوں گے یہاں تک کہ دو آدمی ایک فرض چیز میں اختلاف کریں گے اور کسی کو ایسا نہ پائیں گے جو ان دونوں کے درمیان فیصلہ کرے (یعنی علم کے کم ہوجانے اور فتنوں کے بڑھ جانے) سے یہ حال ہوجائے گا۔ (دارمی، دار قطنی)
علم اور اس کی فضیلت کا بیان
وَعَنْ اَبِی ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہٖ وَسَلَّمَ مَثَلُ عِلْمِ لاَّ یُنْتَفَعُ بِہٖ کَمَثَلِ کَنْزِ لاَّ یُنْفَقُ مِنْہُ فِی سَبِیْلِ اﷲِ ۔ (رواہ مسند احمد بن حنبل والدارمی)
اور حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ اس علم کی مثال جس سے نفع نہ اٹھایا جائے (یعنی نہ دوسروں کو پڑھایا جائے اور نہ اس پر عمل کیا جائے، اس خزانہ کی مانند ہے جس میں سے اللہ کی راہ میں کچھ خرچ نہ کیا جائے۔ (مسند احمد بن حنبل، دارمی)
لغت میں طہارۃ کے معنی نظافت اور پاکی کے آتے ہیں جو نجاست کی ضد ہے طہور بضم طاء مصدر ہے اور ان چیزوں کو بھی طہور فرماتے ہیں جو پاک کرتی ہیں جیسے پانی اور مٹی طہور، لفتح طاء بھی مصدر کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ اصطلاح شریعت میں طہارت کا مفہوم ہے نجاست حکمی یعنی حدث سے اور نجاست یعنی خبث سے پاکیزگی حاصل کرنا۔
عَنْ اَبِیْ مَالِکِ الْاَشْعَرِیِّ ص قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اَلطُّھُوْرُ شَطْرُ الْاِےْمَانِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ تَمْلَاُ الْمِےْزَانَ وَسُبْحَانَ اللّٰہِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ تَمْلَاٰنِ اَوْ تَمْلَأُ مَا بَےْنَ السَّمٰوٰتِ وَالاْرَضِ وَالصَّلٰوۃُ نُوْرٌ وَّالصَّدَقَۃُ بُرْھَانٌ وَّالصَّبْرُ ضِےَآءٌ وَّالْقُرْآنُ حُجَّۃٌ لَّکَ اَوْ عَلَےْکَ کُلُّ النَّاسِ ےَغْدُوْا فَبَآئِعٌ نَفْسَہُ فَمُعْتِقُھَا اَوْ مُوْبِقُھَا رَوَاہُ مُسْلِمٌ وَفِیْ رِوَایَۃٍ لَا اِلٰہَ اِلَّا اﷲُ وَاﷲُ اَکْبَرُ تَمْلَاٰنِ مَا بَیْنَ السَّمَاءِ وَالْاَرْضِ لَمْ اَجِدْ ھٰذِہِ الرَّوَایَۃَ فِی الصَّحِیْحَیْنِ وَلَا فِیْ کِتَابِ الْحُمَیْدِیِّ وَلَا فِی الْجَامِعِ وَلٰکِنْ ذَکَرَھَا الدَّارِمِیُّ بَدَلَ سُبْحَانَ اﷲِ وَالْحَمْدُلِلّٰہِ۔
حضرت ابی مالک شعری ؓ ( آپ کے نام میں اختلاف ہے بعض لوگوں نے کہا ہے کہ آپ کا نام کعب بن مالک ؓ ہے اور بعض کعب بن عاصم ؓ فرماتے ہیں، عبیدہ، حارث اور عمرو بھی بیان کئے جاتے ہیں، کنیت ابومالک ہے، مشہور صحابی ہیں۔ حضرت عمر فاروق اللہ ؓ کے زمانہ خلافت میں آپ کا انتقال ہوا ہے)۔ راوی ہیں کہ سرور کائنات ﷺ نے ارشاد فرمایا پاک رہنا آدھا ایمان ہے اور الحمد اللہ کہنا (اعمال کی) ترازو کو بھر دیتا ہے اور سبحان اللہ والحمد اللہ بھر دیتے ہیں یا فرمایا ایک کلمہ بھر دیتا ہے اس چیز کو جو آسمانوں اور زمین کے درمیان ہے نماز نور ہے صدقہ دلیل ہے، صبر کرنا روشنی ہے اور قرآن تمہارے لئے یا تمہارے اوپر دلیل ہے ہر آدمی (جب) صبح کرتا ہے (یعنی سو کر اٹھتا ہے) تو اپنی جان کو اپنے کاموں میں بیچتا ہے (یعنی لگاتا) ہے لہٰذا وہ اپنی جان کو آزاد کرتا ہے یا ہلاک کرتا ہے۔ (مسلم اور ایک روایت میں ہے کہ لا الہٰ الا اللہ اکبر بھر دیتے ہیں اس چیز کو جو آسمان اور زمین کے درمیان ہے۔ (صاحب مشکوٰۃ فرماتے ہیں کہ) میں نے اس روایت کو نہ صحیح البخاری میں پایا ہے نہ مسلم میں اور نہ ہی کتاب حمیدی و کتاب جامع الاصول میں مجھے یہ روایت ملی ہے البتہ دارمی نے اس روایت کو بجائے سبحان اللہ والحمد اللہ کے ذکر کیا ہے۔ (لہٰذا صاحب مصابیح کا اس روایت کو فصل اول میں نقل کرنا درست نہیں ہوا)۔
تشریح
اس حدیث میں پاکیزگی و طہارت کی انتہائی عظمت و فضیلت کا اظہار ہوتا ہے کہ اسلام میں طہارت کو کیا مقام حاصل ہے چناچہ فرمایا جا رہا ہے کہ پاک رہنا آدھا ایمان ہے اور وجہ ظاہر ہے کہ ایمان سے چھوٹے اور بڑے سب ہی گناہ بخش دیئے جاتے ہیں اور وضو سے صرف چھوٹے گناہ ہی بخشے جاتے ہیں اس لئے طہارت کو آدھے ایمان کا درجہ حاصل ہے۔ درمیان روایت میں راوی کو شک ہو رہا ہے کہ سرکار دو عالم ﷺ نے لفظ تملاء مفرد فرمایا تملان تثنیہ کے ساتھ فرمایا ہے اس لئے انہوں نے دونوں کو نقل کردیا ہے، اس جملہ کا مطلب ہے کہ سحان اللہ والحمد اللہ پڑھنا اور ان کا ورد رکھنا اتنی فضیلت کی بات ہے اور اس کی اتنی اہمیت ہے کہ اگر ان دونوں کلموں کو ایک جسم فرض کرلیا جائے تو اتنے عظیم ہیں کہ آسمان اور زمین کے درمیانی حصہ کو بھر دیں۔ نماز کو نور فرمایا گیا ہے اس لئے کہ نماز ہی وہ چیز ہے جو قبر کے اندھیرے اور قیامت کی ظلمت میں روشنی کی مانند ہے جو مومن کو گناہوں اور بری باتوں سے بچاتی ہے اور نیکی و بھلائی اور ثواب کے کاموں کی طرف راہنمائی کرتی ہے یا پھر نماز کو نور اس لئے کہا گیا ہے کہ مومن کے قلب کو ذات الٰہی کے عرفان کی روشنی سے منور کرتی ہے اور عبادت الٰہی کی ادائیگی و اطاعت الہٰی کی بنا پر نماز پڑھنے والے کے چہرہ پر سعادت و نیک بختی کی چمک پیدا کرتی ہے۔ صدقہ یعنی اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کو دلیل اس لئے کہا گیا ہے کہ مومن کے دعویٰ ایمان کی صداقت اور پروردگار عالم سے محبت پر دلالت کرتا ہے یا یہ معنی کہ جب قیامت میں مالدار سے اللہ سوال کرے گا کہ ہم نے تمہیں مال و دولت میں اتنی وسعت بخشی تھی تو تم نے اس مال و دولت کو کہاں خرچ کیا؟ اور اس کا مصرف کیا تھا؟ یعنی تم نے ہماری بخشی ہوئی اس نعمت کو اچھی راہ میں خرچ کیا یا برے راستہ میں لٹا دیا؟ تو اس کے جواب میں صدقہ بطور دلیل پیش ہوگا کہ رب قدّوس تیرا دیا ہوا مال برے راستہ میں نہیں لٹایا گیا ہے بلکہ اسے تیری ہی راہ میں اور تیری ہی خوشنودی کے لئے خرچ کیا گیا ہے صبر اس کو فرماتے ہیں کہ گناہوں سے بچا جائے، طاعات پر مستعد رہا جائے اور کسی مصیبت و تکلیف کے موقعہ پر آہ بکا اور جزع و فزع نہ کیا جائے چناچہ اس کے بارے میں فرمایا جا رہا ہے کہ یہ کامل روشنی کا سبب ہے اس لئے کے صابر کا قلب و دماغ ایمانی عزم و یقین کی روشنی سے ہمیشہ منور رہتا ہے اور وہ دین و دنیا کے ہر مرحلہ پر کامیاب ہوتا ہے۔ قرآن کے متعلق ارشاد ہے کہ یہ تمہارے لئے یا تمہارے او پر دلیل ہے یعنی تم قرآن پڑھو گے اور اس پر اگر عمل کرو گے تو قرآن تمہیں نفع بخشے گا اور اگر عمل نہ کرو گے تو تمہارے لئے ضرر کا باعث ہوگا۔ جان کو بیچنے کے معنیٰ یہ ہیں کہ جس کام کی طرف آدمی متوجہ ہو اس میں اپنی ذات کو کھپا دے، اس جملہ کا مطلب یہ ہے کہ جب کوئی آدمی سو کر اٹھتا ہے تو اپنے کام میں لگ جاتا ہے اور دنیا میں مشغول ہوجاتا ہے لہٰذا اب اس نے اگر اس کام کے بدلے آخرت خرید لی بایں طور کہ اس کام پر آخرت کو ترجیح دی تو اس نے اپنے نفس کو عذاب آخرت سے آزاد کرلیا اور اگر خدانخواستہ اس نے دنیا اور دنیا کے اس کام کو آخرت کے بدلے خرید لیا بایں طور کہ اس کام کو آخرت پر ترجیح دی تو اس نے اپنے آپ کو ہلاک کرلیا اور اپنے نفس کو عذاب میں ڈال دیا بد نیا توانی کہ عقبے خری بخر جان من ورنہ حسرت بری
وَعَنْ اَبِی ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہٖ وَسَلَّمَ اَلَا اٰدُلُّکُمْ عَلَی مَایَمْحُوْ اﷲُ بِہِ الْخَطَایَا وَیَرْفَعُ بِہٖ الدَّرَجَاتِ قَالُوْابَلَی یَا رَسُوْلَ اﷲِ قَالَ اِسْبَاعُ الْوُضُوْءِ عَلَی الْمَکَارِہٖ وَکَثْرَۃُ الْخُطَی اِلَی الْمَسَاجِدِ وَ انْتِظَارُ الصَّلٰوۃِ بَعْدَ الصَّلٰوِۃ فَذَالِکُمُ الرِّبَاطُ وَفِیْ حَدِیْثِ مَالِکِ بْنِ اَنَسِ فَذٰلِکُمُ الرِّبَاطُ فَذٰلِکُمُ الرِّبَاطِ رَدَّدَ مَرَّتَیْنِ رَوَاہُ مُسْلِمٌ وَفِی الرِوَایَۃِ التِّرْمِذِیِّ ثَلاثَا۔عَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَص قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اَلَا اَدُلُّکُمْ عَلٰی مَا ےَمْحُوا اللّٰہُ بِہِ الْخَطَاےَا وَےَرْفَعُ بِہِ الدَّرَجَاتِ قَالُوْا بَلٰی ےَا رَسُوْلَ اللّٰہِ قَالَ اِسْبَاغُ الْوُضُوْءِ عَلَی الْمَکَارِہ وَکَثْرَۃُ الْخُطٰی اِلَی الْمَسَاجِدِ وَاِنْتِظَارُ الصَّلٰوۃِ بَعْدَ الصَّلٰوۃِ فَذَالِکُمُ الرِّبَاطُ وَفِیْ حَدِےْثِ مَالِکِ بْنِ اَنَسٍ رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہِ فَذَالِکُمُ الرِّبَاطُ فَذَالِکُمْ الرِّبَاطُ رَدَّدَ مَرَّتَےْنِ رواہ صحیح مسلم و فی الروایۃ الجامع ترمذی ثلاثا
اور حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے (صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو مخاطب کرتے ہوئے) فرمایا کیا میں تمہیں وہ چیز نہ بتادوں جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ تمہارے گناہوں کو دور کر دے اور جس کے سبب (جنت میں) تمہارے درجات کو بلند کرے؟ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کیا ہاں یا رسول اللہ! آپ ﷺ نے فرمایا مشقّت کے وقت (یعنی بیماری یا سخت جاڑے میں) وضو کو پورا کرنا، مسجد کی طرف (گھر سے دور ہونے کی وجہ سے) کثرت سے قدموں کا رکھنا اور (ایک) نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا پس یہ رباط ہے اور مالک بن انس کی حدیث میں پس یہ رباط ہے پس یہ رباط ہے دو مرتبہ ہے اور جامع ترمذی کی روایت میں تین مرتبہ ہے۔
تشریح
اس حدیث میں ان چیزوں کا ذکر کیا گیا ہے جس کی وجہ سے رب قدوس اپنے بندوں پر اس طرح فضل و کرم فرماتا ہے کہ ان کے نامہ اعمال سے گناہوں کو مٹا دیتا ہے اور جنت میں ان کے مراتب و درجات میں ترقی عطا فرماتا ہے چناچہ سب سے پہلی چیز وضو ہے۔ یوں تو وضو نماز کے لئے شرط اور ضروری ہے لہٰذا جو نماز پڑھے گا وہ وضو بھی کرے گا خواہ کیسا ہی موسم ہو مگر اس جگہ ایک خاص بات کی طرف اشارہ ہے وہ یہ کہ بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ کسی سخت وقت میں مثلاً کسی بیماری کی حالت میں یا شدید سردی کے موسم میں عموماً وضو کے معاملہ میں بڑی تساہلی برتی جاتی ہے اور اول تو زبردستی اور صحت کے منافی طریقوں کو اختیار کر کے دو اور تین وقت وضو کو باقی رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے یا پھر اگر وضو کیا جاتا ہے تو ایسے طریقے سے کہ نہ تو اس میں وضو کے آداب اور اس کے سنن و مستحبات کا خیال رکھا جاتا ہے اور نہ وضو پورے طریقہ سے مکمل کیا جاتا ہے۔ ایسے ہی مواقع کے لئے فرمایا جا رہا ہے کہ ایسے سخت اور شدید وقت میں اگر وضو پورے آداب و طریقے ملحوظ رکھ کے اور تمام سنن و مستحبات کا خیال کر کے کیا جائے اور تمام اعضاء وضو پر پانی اچھی طرح پہنچایا جائے اور ان کو تین تین مرتبہ دھویا جائے تو یہ فضل الٰہی کا سبب ہوگا۔ دوسری چیز مسجد کی طرف کثرت سے قدموں کا رکھنا ہے، یعنی ایسی مسجد میں نماز پڑھنے کے لئے جانا جو گھر سے دور ہو اس لئے کہ جتنے زیادہ قدم مسجد کی طرف اٹھیں گے اتنا ہی زیادہ ثواب ملے گا۔ نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار یہ ہے کہ مسجد میں ایک نماز پڑھ کر دوسری نماز کے انتظار میں بیٹھا رہے یا اگر مسجد سے نکلے بھی تو دل وہیں دوسری نماز میں لگا رہے اس کی بہت زیادہ فضیلت و عظمت بیان فرمائی جا رہی ہے چناچہ اس کو رباط کہا گیا ہے۔ رباط اسے فرماتے ہیں کہ کوئی مسلمان اسلامی مملکت کی سرحد پر دشمنان اسلام کا مقابلہ پر نگہبانی کی خاطر بیٹھے تاکہ دشمن سرحد پار کر کے اسلامی ملک میں داخل نہ ہوجائیں اس کا ثواب ہے اور بڑی فضیلت ہے جو خود قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے اس کا حکم بھی فرمایا ہے آیت (يٰ اَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اصْبِرُوْا وَصَابِرُوْا وَرَابِطُوْا) 3۔ آل عمران 200) اے ایمان والو! (تکلیف پر) خود صبر کرو اور مقابلہ میں صبر کرو اور مقابلہ کے لئے مستعدر ہو۔ چنانچہ یہاں یہ بتایا جا رہا ہے کہ نماز کے انتظار میں بیٹھنا اصل رباط ہے کہ جیسے وہاں تو کفار مقابلہ میں بیٹھے ہیں یہاں شیطان کے مقابلہ میں بیٹھے ہیں جو دین کا سب سے بڑا دشمن ہے اس لئے جیسی فضیلت وسعادت رباط میں ہے ویسی ہی فضیلت وسعادت نماز کے انتظار میں بیٹھنے کی ہے اس حدیث میں چونکہ وضو کا ذکر آگیا ہے اس لئے اس کے متعلقات کا یہاں بیان کردینا مناسب ہے۔ وضو میں چار چیزیں فرض ہیں (١) تمام منہ کا دھونا (٢) ہاتھوں کا کہنیوں تک دھونا (٣) چوتھائی سرکا مسح کرنا (٤) پاؤں کا ٹخنوں تک دھونا وضو میں پورے چہرے کا دھونا فرض ہے اور اسی میں ڈاڑھی بھی شامل ہے، البتہ ڈاڑھی کی تعین میں تھوڑا بہت اختلاف ہے چناچہ متون میں لکھا ہے کہ ڈاڑھی کے ان بالوں کا مسح کرنا جو منہ کی جلد سے ملے ہوئے ہیں فرض ہے فتاویٰ عالمگیری اور در مختار میں صحیح اور مفتی بہ قول یہ لکھا ہے کہ ڈاڑھی کے ان بالوں کا مسح کرنا جو منہ کی جلد سے ملے ہوئے ہیں فرض ہے اور لٹکی ہوئی کا دھونا فرض نہیں ہے بلکہ سنت ہے واللہ تعالیٰ اعلم وضو میں سنت یہ چیزیں ہیں (١) ہاتھوں کا پہنچوں تک دھونا (٢) ابتدائے وضو میں بسم اللہ کہنا (٣) مسواک کرنا (٤) کلی کرنا (٥) ناک میں پانی دینا (٦) ڈاڑھی اور انگلیوں کا خلال کرنا (٧) ہر عضو کو تین بار دھونا (٩) اسی ترتیب سے وضو کرنا جس ترتیب سے قرآن میں مذکور ہے (١٠) تمام سرکا مسح کرنا (١١) اعضاء وضو کو پے در پے دوھونا (١٢) سر کے پانی کے ساتھ ہی کانوں کا مسح کرنا (یعنی ہاتھ پر پانی ڈال کر جب سر پر مسح کیا جائے تو اسی ہاتھ سے کانوں کا مسح کیا جائے، کانوں کے مسح کے لئے الگ سے پانی کی ضرورت نہیں۔ وضو کے مستحبات یہ ہیں (١) اعضاء وضو کو دھونے کے لئے دائیں طرف سے شروع کرنا (مثلاً پہلے دایاں ہاتھ دھویا جائے پھر بایاں) (٢) گردن کا مسح کرنا (٣) وضو کے لئے قبلہ رخ بیٹھنا (٤) اعضاء کا (دھوتے وقت) پہلی بار ملنا (٥) غیر معذور کا وقت سے پہلے وضو کرلینا (٦) ڈھیلی انگوٹھی کو گھمانا پھر انا اسی طرح غسل میں قرظ یعنی بالی کو گھمانا پھر انا، لیکن اس کے بارے میں اتنی بات یاد رکھ لینی چاہئے کہ اگر غسل اور وضو کے وقت ان چیزوں کے متعلق یہ خیال ہو کہ ان کے نیچے بدن پر پانی پہنچ رہا ہے تو پھر یہ عمل مستحب ہوگا اور یہ جانے کے پانی ان کے نیچے نہیں پہنچتا تو پھر ان کو ہلا لینا فرض ہوگا (٧) خود وضو کرنا مستحب ہے کسی دوسرے سے وضو نہ کرایا جائے (٨) وضو کے وقت کوئی دیناوی گفتگو نہ کرنا چاہئے ہاں اگر کوئی مجبوری ہو کہ بغیر کلام و گفتگو کے مقصد اور حاجت فوت ہونے کا اندیشہ ہو تو کرسکتا ہے (٩) ہر عضو کو دھونے کے وقت اور مسح کرتے وقت بسم اللہ پڑھیے (١٠) ان دعاؤں کا پڑھنا جو عضو کے دھونے کے وقت پڑھنے کے لئے مننقول ہیں (١١) وضو مکمل کرنے کے بعد رسول اللہ ﷺ پر درود وسلام بھیجنا، مگر کتاب زیلعی میں لکھا ہے کہ ہر عضو کو دھونے کے بعد درود وسلام بھیجنا مستحب ہے (١٢) وضو کے بعد شہادتین اور وہ دعائیں جو حدیث میں وارد ہیں پڑھنا (آگے حدیث میں یہ دعائیں آرہی ہیں) (١٣) وضو کا بقیہ پانی قبلہ رخ کھڑے ہو کر یا بیٹھ کر پینا (١٤) بھوؤں اور مونچھوں کے نیچے، گوشۂ چشم پر اور پاؤں کے کونچوں پر پانی پہنچانے کے لئے تعاہد یعنی خبر گیری کرنا کہ یہ حصے خشک نہ رہ جائیں۔ مکروہات وضو یہ ہیں (١) منہ پر زور سے پانی مارنا (٢) اسراف کرنا ضرورت اور حاجت سے زیادہ پانی بہانا (٣) اعضاء کو تین تین مرتبہ سے زیادہ دھونا (٤) نئے پانی سے تین مرتبہ مسح کرنا۔ اور منہیات وضو یہ ہیں (١) عورت کے وضو کے بچے ہوئے پانی سے وضو نہ کرنا چاہئے (٢) نجس جگہ وضو نہ کرنا چاہئے تاکہ وضو کے پانی کی بےحرمتی نہ ہو (٣) مسجد میں وضو نہ کرنا چاہئے البتہ کسی برتن میں یا اس جگہ جو وضو کے لئے خاص طور پر مقرر ہے وضو کرنا درست ہے (٤) تھوک اور رینٹھ وغیرہ وضو کے پانی میں نہ ڈالنا چاہئے۔
وَعَنْ عُثْمَانَ ص قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم مَنْ تَوَضَّأَ فَاَحْسَنَ الْوُضُوْءَ خَرَجَتْ خَطَاےَاہُ مِنْ جَسَدِہٖ حَتّٰی تَخْرُجَ مِنْ تَحْتِ اَظْفَارِہٖ ۔( صحیح البخاری و صحیح مسلم )
اور حضرت عثمان ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا جو آدمی وضو کرے اور اچھی طرح کرے (یعنی اس کے سنن و مستحبات کی رعایت کے ساتھ) تو اس کے (صغیرہ) گناہ اس کے بدن سے نکل جاتے ہیں یہاں تک کہ اس کے ناخنوں کے نیچے سے بھی گناہ نکل جاتے ہیں۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم )
تشریح
اس حدیث میں بھی وضو کی فضیلت اور طہارت کی بڑائی بیان کی گئی ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ وضو کرنا درحقیقت اپنے گناہوں کو اپنے جسم سے دھونا ہے جو جتنا زیادہ جتنی اچھی طرح وضو کرے گا اس کے اتنے ہی گناہ ختم کر دئیے جائیں گے اور پھر بطور مبالغہ کے فرمایا گیا ہے کہ وضو کرنے والے کے ناخنوں کے نیچے کے گناہ بھی وضو کرنے سے نکل جاتے ہیں یعنی وضو کرنے کے بعد اس کو نہ صرف یہ کہ ظاہری پاکی اور طہارت حاصل ہوتی ہے بلکہ وہ گناہوں سے بھی خوب پاک ہوجاتا ہے، یہ جملہ بالکل ایسا ہی ہے جیسا کہ ہمارے یہاں یہ محاورہ بولا جاتا ہے کہ تمہاری شیخی ناک کی راہ نکال دیں گے۔
وَعَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَ ص قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اِذَا تَوَضَّاَ الْعَبْدُ الْمُسْلِمُ اَوِ الْمُؤمِنُ فَغَسَلَ وَجْھَہُ خَرَجَ مِنْ وَّجْھِہٖ کُلُّ خَطِےْۤئَۃٍ نَّظَرَ اِلَےْھَا بِعَےْنَےْہِ مَعَ الْمَآءِ اَوْ مَعَ اٰخِرِ قَطْرِ الْمَآءِ فَاِذَا غَسَلَ ےَدَےْہِ خَرَجَ مِنْ ےَدَےْہِ کُلُّ خَطِےْئۤۃٍ کَانَ بَطَشَتْھَا ےَدَاہُ مَعَ الْمَآءِ اَوْ مَعَ اٰخِرِ قَطْرِ الْمَاءِ فَاِذَا غَسَلَ رِجْلَےْہِ خَرَجَ کُلُّ خَطِےْئَۃٍ مَّشَتْھَا رِجْلَاہُ مَعَ الْمَآءِ اَوْ مَعَ اٰخِرِ قَطْرِ الْمَآءِ حَتّٰی ےَخْرُجَ نَقِےًّا مِّنْ الذُّنُوْبِ۔(صحیح مسلم)
اور حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کے سرکار دو عالم ﷺ نے فرمایا جب کوئی بندہ مسلمان یا فرمایا مومن وضو کا ارادہ کرتا ہے اور اپنے منہ کو دھوتا ہے تو پانی کے ساتھ یا فرمایا پانی کے آخری قطرہ کے ساتھ اس کے وہ تمام گناہ جن کی طرف اس نے اپنی آنکھوں سے دیکھا اس کے منہ سے نکل جاتے ہیں (یعنی جو گناہ آنکھوں سے ہوئے ہیں جھڑ جاتے ہیں) پھر جب دونوں ہاتھوں کو دھوتا ہے تو ہاتھوں کے تمام گناہ جن کو اس کے ہاتھ نے پکڑا تھا پانی کے آخری قطرہ کے ساتھ اس کے ہاتھوں سے خارج ہوجاتے ہیں (یعنی جو گناہ ہاتھ سے ہوئے جھڑ جاتے ہیں) پھر جب وہ دونوں پاؤں کو دھوتا ہے تو اس کے وہ تمام گناہ جن کی طرف وہ پاؤں سے چلا تھا پانی کے ساتھ یا فرمایا پانی کے آخری قطرہ کے ساتھ نکل جاتے ہیں یہاں تک کہ وہ گناہوں سے پاک ہوجاتا ہے۔ (صحیح مسلم)
وعَنْ عُثْمَانَ ص قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم مَا مِنَ امْرِءٍ مُّسْلِمٍ تَحْضُرُہُ صَلٰوۃٌ مَّکْتُوْبَۃٌ فَےُحْسِنُ وُضُوْءَ ھَا وَخُشُوْعَھَا وَرَکُوْعَھَااِلَّا کَانَتْ کَفَّارَۃً لِّمَا قَبْلَھَا مِنَ الذُّنُوْبِ مَا لَمْ ےُؤْتِ کَبِےْرَۃً وَّ ذٰلِکَ الدَّھْرَ کُلَّہُ ۔ (مسلم)
اور حضرت عثمان ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا جو مسلمان فرض نماز کا وقت آنے پر اچھی طرح وضو کرے اور نماز میں خشوع و خضوع کرے تو (اس کی یہ نماز) ان گناہوں کا کفارہ ہوجاتی ہے جو اس نے نماز سے پہلے کئے تھے، بشرطیکہ وہ گناہ کبیرہ نہ ہوں اور ایسا ہمیشہ ہوتا رہتا ہے (یعنی وہ نماز جو گناہوں کا کفارہ ہے کسی زمانہ میں مخصوص نہیں ہے یہ فضیلت ہر زمانہ میں قائم رہتی ہے۔ (صحیح مسلم)
تشریح
نماز کی اصل روح خشوع اور خضوع ہے اس لئے کہ نماز ہی وہ عبادت ہے جو بندہ کی انتہائی بےچارگی اور اس کے عجز کو ظاہر کرتی ہے لہٰذا نماز کے اندر جتنا زیادہ خشوع و خضوع ہوگا اتنی ہی اعلیٰ درجہ تک رسائی ہوگی نماز میں خشوع کا مطلب یہ ہے کہ جب کوئی آدمی نماز پڑھے تو نماز کے جتنے ظاہری و باطنی آداب ہیں سب کو بجا لائے اور سب کی رعایت کرے تاکہ دل ترساں رہے جب نماز کے لئے کھڑا ہو تو نہایت سکون کے ساتھ رہے نظر سجدہ کی جگہ پر ہو، سوائے نماز کے کسی دوسری چیز میں مشغول نہ ہو اپنا دھیان نماز ہی میں رکھے کسی دوسری طرف دھیان نہ بٹے، بدن کپڑے اور ڈاڑھی وغیرہ سے کھیلے نہیں، دائیں بائیں طرف دیکھے نہیں اور آنکھ نہ بند کرے، یہ تمام چیزیں اگر نماز میں حاصل ہوجائیں تو پھر انشاء اللہ حضور قلب کی دولت بھی میسر آجائے گی جو عند اللہ نماز کی مقبولیت کا سبب ہے۔ حدیث میں صرف رکوع کا ذکر کیا گیا ہے سجدہ کا ذکر نہیں کیا گیا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ رکوع صرف مسلمانوں ہی کے ساتھ مخصوص ہے اور ان کی نماز میں مشروع ہے یہود و نصاری کی نماز و عبادت میں علی العموم رکوع نہیں ہوتا اس لئے اس کو بیان کر کے اس کی امتیازی حیثیت کو اجاگر کیا گیا ہے، آخر میں اس کی وضاحت کردی گئی ہے کہ ایسی نماز صرف صغیرہ گناہوں کے لئے کفارہ ہوتی ہے اور صغیرہ گناہوں کو ختم کردیتی ہے، کبیرہ گناہوں کا کفارہ نہیں ہوتی۔
وَعَنْہُ اَنَّہُ تَوَضَّاَ فَاَفْرَغَ عَلٰی ےَدَےْہِ ثَلٰثًا ثُمَّ تَمَضْمَضَ وَاسْتَنْثَرَ ثُمَّ غَسَلَ وَجْہَہُ ثَلَاثًا ثُمَّ غَسَلَ ےَدَہُ الْےُمْنٰی اِلَی الْمِرْفَقِ ثَلٰثًا ثُمَّ غَسَلَ ےَدَہُ الْےُسْرٰی اِلَی الْمِرْفَقِ ثَلٰثًا ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِہٖ ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَہُ الْےُمْنٰی ثَلٰثًا ثُمَّ الْےُسْرٰی ثَلٰثًا ثُمَّ قَالَ رَأَےْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم تَوَضَّأَ نَحْوَ وُضُوْئِیْۤ ھٰذَا ثُمَّ قَالَ مَنْ تَوَضَّأَ وُضُوْئِیْۤ ھَذٰا ثُمَّ ےُصَلِّیْ رَکْعَتَےْنِ لَا ےُحَدِّثُ نَفْسَہُ فِےْھِمَا بِشَیْءٍ غُفِرَ لَہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہٖ ۔(صحیح البخاری و صحیح مسلم ولفظہ للبخاری )
حضرت عثمان غنی ؓ کے بارے میں منقول ہے کہ انہوں نے ایک مرتبہ وضو کیا چناچہ انہوں نے پہلے اپنے ہاتھوں میں تین مرتبہ پانی ڈالا پھر تین مرتبہ کلی کی اور ناک جھاڑی (یعنی ناک میں پانی دینے کے بعد ناک سن کی پھر تین مرتبہ منہ دھویا، پھر تین مرتبہ اپنا داہنا ہاتھ کہنی تک دھویا (یعنی کہنی سمیت دھویا) پھر تین مرتبہ اپنا بایاں ہاتھ کہنی تک دھویا، پھر اپنے سر کا مسح کیا، پھر اپنا دایاں پیر تین مرتبہ دھویا، پھر بایاں پیر تین مرتبہ دھویا اور پھر حضرت عثمان غنی ؓ نے فرمایا میں نے سرکار دو عالم ﷺ کو اسی طرح وضو کرتے دیکھا ہے جس طرح اب میں نے وضو کیا ہے پھر فرمایا جو آدمی میرے اس وضو کی مانند وضو کرے (یعنی فرائض و سنن اور مستحبات و آداب کی رعایت کے ساتھ) پھر دو رکعت نماز پڑھے اور نماز کے اندر اپنے دل سے کچھ باتیں نہ کرے (یعنی پورے دھیان سے نماز پڑے تو اس کے تمام پچھلے گناہ بخشے جاتے ہیں۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم) اس روایت کے الفاظ صحیح البخاری کے ہیں۔
تشریح
اعضاء وضو کا تین مرتبہ سے زائد دوھونا تمام علماء کے نزدیک مکروہ ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر پورے عضو تین مرتبہ دھو چکا ہے تو اب اس پر زیادتی نہ کرے یعنی تین بار سے زائد نہ دھوے اگر ایسی شکل ہے کہ ایک چلو سے آدھا عضو دھویا اور پھر دوسرے چلو سے آدھا دھویا تو یہ ایک مرتبہ ہی کہلائے گا مثلاً اسی طرح کسی عضو کو چھ چلوں سے دھو کر تین بار کو پورا کیا تو یہ زیادتی نہ ہوگی بلکہ تین مرتبہ ہی ہوگا وضو کے بعد دو رکعت نماز پڑھنا انتہائی درجہ نہیں ہے بلکہ ادنیٰ درجہ ہے اگر زیادہ بھی پڑھے تو افضل ہے بہر حال یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ وضو کے بعد نماز یعنی تحیۃ الوضو پڑھنی مستحب ہے اگر فرض یا سنت مؤ کدہ ہی پڑھے تو یہ بھی کافی ہے۔ آخر حدیث میں اس طرف اشارہ کردیا گیا ہے کہ نماز میں حضور قلب اور خشوع و خضوع بہت زیادہ مطلوب ہے چناچہ آخری جملہ کا یہ مطلب یہ ہے کہ جب نماز شروع کرے تو پھر اپنے دل کو نماز میں لگائے خیالات نماز سے باہر کہیں دوسری جگہ بھٹکنے نہ پائیں اور قلب میں دنیا کے خیالات او ایسے تفکرات کو جو نماز کے منافی ہیں جگہ نہ دے خیال اللہ ہی کی طرف لگائے رکھے اگر خطرات و وساوس دل میں آئیں تو ان کو دفع کرلے ہاں اگر دل میں ایسے خطرات پیدا ہوتے ہیں جو نماز میں حضور قلب کے منافی نہیں پھر کچھ مضر نہیں۔
وَعَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍص قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم مَا مِنْ مُّسْلِمٍ ےَّتَوَضَّأُ فَےُحْسِنُ وُضُوْءَ ہُ ثُمَّ ےَقُوْمُ فَےُصَلِّیْ رَکْعَتَےْنِ مُقْبِلًا عَلَےْھِمَا بِقَلْبِہٖ وَ وَجْھِہٖ اِلَّا وَجَبَتْ لَہُ الْجَنَّۃُ۔ (مسلم)
اور حضرت عقبہ بن عامر ؓ (اسم گرامی عقبہ ابن عامر جنبی ہے کنیت میں بہت زیادہ اختلاف ہے کچھ لوگ فرماتے ہیں کہ ابوحماد تھی بعض نے ابولبید، ابوعمر وغیرہ بھی کہا ہے مصر میں انتقال ہوا ہے)۔ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا جو مسلمان وضو کرے اور اچھا وضو کرے پھر کھڑا ہو اور دو رکعت نماز پڑھے دل اور منہ سے متوجہ ہو کر (یعنی ظاہر و باطن کے ساتھ متوجہ ہو کر) تو اس کے لئے جنت واجب ہوجاتی ہے۔ (صحیح مسلم)
تشریح
فرمایا گیا ہے کہ جب اچھی طرح وضو کرے تو کھڑا ہو اور دو رکعت نماز پڑھے تو یہ کھڑا ہونا یا حقیقۃً ہو یعنی واقعی کھڑا ہو کر نماز پڑھے یا کھڑا ہونا حکمًا ہو مثلاً بیٹھ کر پڑھے خصوصاً جب اس کو کوئی عذر اور مجبوری ہو کہ کھڑے ہو کر نماز نہیں پڑھ سکتا یہ دونوں شکلیں مراد ہیں۔
وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلممَامِنْکُمْ مِنْ اَحَدٍ یَتَوَضَّأُ فَیُبْلِغُ اَوْ فَیُسْبِغُ الْوُضْوْءَ ثُمَّ یَقُوْلُ اَشْھَدُ اَنْ لَّااِلٰہَ اِلَّااللّٰہُ وَاَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُہُ وَرَسُوْلُہُ وَفِیْ رَوَایَۃٍ اَشْھَدُ اَنْ لَّااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہُ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُوْلُہُ اِلَّافُتِحَتْ لَہُ اَبْوَابُ الْجَنَّۃِ الثَّمَانِیَۃُ یَدْخُلُ مِنْ اَیِّھَا شَائَ۔ (ھٰکَذَا رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِیْ صَحِیْحِہِ)وَالْحَمَیْدِیُّ فِی اَفْرَادِ مُسْلِمِ وَکَذَا اِبْنُ الاثِیْرِ فِی جَامِعِ الْاَصُوْلِ وَذَکَر الشَّیْخُ مُحِیُّ الدِّیْنِ النُّووِیُّ فِی آخِرِ حَدِیْثِ مُسْلِمِ عَلَی مَارَوَیْنَاہُ وَزَادَ التِّرْمِذِیُّ اَللَّھُمَّ اجْعَلْنِی مِنَ التَّوَّابَیْنِ وَاجْعَلْنِی مِنَ الْمُتَطَھِّرِیْنَ وَالْحَدِیْثُ الَّذِی رَوَاہُ لْمُحِّی الْسُنَّۃِ فِی الصِّحَاحِ مَنْ تَوَضَأَ فَاَحْسَنَ الْوُضُوْءَ اِلَی اٰخِرِہٖ رَوَاہُ الْتِرْمِذِیُّ فِی جَامِعِہٖ بِعَیْنِہٖ اِلَّا کَلِمَۃَ اَشْھَدُ قَبْلَ اَنَّ مُحَمَّدًا۔
اور حضرت عمر بن الخطاب ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا تم میں جو آدمی وضو کرے اور (اس کی خوبیوں) کو انتہاء پر پہنچا دے یا آپ ﷺ نے یہ الفاظ فرمائے کہ اور پورا وضو کرے پھر کہے اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللہ ُ وَاَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہ، وَرَسُوْلُہ، (یعنی میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ واحد کے سوا کوئی عبادت کے قابل نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے بندے اور اللہ کے رسول ہیں اور ایک روایت میں ہے (کہ اس طرح کہے اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ وَحْدَہ، لَا شَرِیْکَ لَہ، وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًاعَبْدُہ، وَرَسُوْلُہ، یعنی میں گواہی دیتا ہوں اس بات کی اللہ واحد کے سوا کوئی عبادت کے قابل نہیں وہ اکیلا ہے کوئی اس کا شریک نہیں اور شہادت دیتا ہوں اس بات کی کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے اور اللہ کے رسول ہیں، تو اس کے لئے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیئے جاتے ہیں جس دروازے میں سے اس کا جی چاہے جنت میں داخل ہو (مسلم، حمیدی، جامع الاصول) اور امام نووی (رح) نے مسلم کی حدیث کے آخر میں جس کو ہم نے روایت کیا ہے کہ ذکر کیا ہے کہ جامع ترمذی نے (شہادتین پر اس دعا کے) یہ الفاظ زیادہ لکھے ہیں اے اللہ! مجھ کو توبہ کرنے والوں میں سے بنا اور پاکیزگی کرنے والوں میں شامل کر (یعنی مسلم کی روایت جس طرح ہم نے ذکر کی ہے وہی روایت امام نووی (رح) نے مسلم کی شرح میں نقل کی ہے اور اس کے آخر میں رواہ الجامع ترمذی الخ کی عبارت بڑھا دی ہے) اور وہ حدیث جس کو امام محی السنتہ (رح) نے صحاح میں روایت کی ہے یعنی مَنْ تَوَضَّأَ فَاَحْسَنَ الْوُضُوْءَ الخ (جس نے وضو کیا آخر تک) اس کو امام ترمذی نے (رح) اپنی جامع میں بعینہ اسی طرح نقل کیا ہے اَنَّ مُحَمَّدًا سے پہلے اَشْھَدُ کا ذکر نہیں کیا ہے۔
تشریح
مراتب اور درجات کے اعتبار سے جنت کے آٹھ حصے ہیں چناچہ اس حدیث میں آٹھوں دروازوں کا جو ذکر کیا گیا ہے ان سے حقیقۃً دروازے مراد نہیں بلکہ ان آٹھ حصوں کو ایک ہی اعتبار کیا ہے اور ہر ایک کو دروازے سے تعبیر کیا ہے کبھی ایک کو بھی بہشت فرماتے ہیں، اس حساب سے ہشت بہشت بولتے ہیں۔ اَللّٰھُمَّ اجْعَلْنِی الخ یعنی اے اللہ! مجھے توبہ کرنے والوں میں سے بنا کا مطلب یہ ہے کہ اے اللہ ہمیں تو اس کی توفیق عنایت فرما کہ جب ہم سے کبھی بتقاضائے بشریت کوئی گناہ سرزد ہوجائے اور ہم سے کوئی لغزش ہوجائے تو ہم اس سے فورًا توبہ کرلیں اور اپنے عیوب سے رجوع کرلیں۔ اس دعا کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہم سے گناہ زیادہ واقع ہوں بلکہ یہاں یہ مراد ہے کہ جب گناہ سرزد ہوجائے تو ہمارے دلوں میں توبہ کرنے کا داعیہ پیدا کر دے خواہ گناہ کتنے ہی کیوں نہ ہوں تاکہ اس آیت کے مطابق تیرے پسندیدہ اور محبوب بندوں کی جماعت میں شامل ہو سکیں۔ (اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ التَّ وَّابِيْنَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِيْنَ ) 2۔ البقرۃ 222) یعنی اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔ یعنی اللہ اپنے ان بندوں کو پسند کرتا ہے جو بارگاہ الوہیت سے منہ نہیں پھیرتے اور کسی موقعہ پر اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں ہوتے دعا کے آخری جملہ اور پاکیزگی کرنے والوں میں شامل کر کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں باطنی پاکیزگی کی دولت سے نواز دے اور ہمارے اندر جتنے برے اخلاق اور بد خصائل ہیں سب سے ہمیں پاک و صاف کر دے چناچہ اس طرف اشارہ ہے کہ جسم اور اعضاء ظاہری کی طہارت و صفائی ہمارے اختیار میں تھی اس کو ہم نے پورا کرلیا، اب باطنی احوال کی طہارت اور اندرونی صفائی تیرے ہاتھوں میں ہے لہٰذا اپنے فضل و کرم سے باطنی پاکیزگی بھی عنایت فرما دے۔ (رباعی) اے درخم چوگان تو دل ہم چو گوے بیروں نہ فرمان تو جاں یک سرموئے اے! کہ تیرے خم چوگان میں ہمارا دل ایک گیند کی طرح ہے، ہم تیرے فرمان سے ایک موئے بدن بھی باہر نہیں ہیں۔ ظاہر کے بدست ماست شستیم تمام باطن کہ بدست تست آن راہ تو بشوئے ظاہر جو ہمارے قبضہ میں تھا ہم اسے دھو چکے ہیں۔ باطن جو تیرے قبضہ میں ہے اسے تو ہی دھو سکتا ہے۔ آخر میں مشکوٰۃ کے مولف صاحب مصابیح پر ایک اعتراض فرما رہے ہیں، اعتراض یہ ہے کہ صاحب مصابیح نے جو حدیث فاحسن الوضو ثم قال اشھد ان لا الہ الا اللہ وحد لا شریک لہ واشھد ان محمد عبدہ و رسولہ اللھم اجعلنی من التوابین واجعلنی من المتطھرین فتحت لہ ثمانیۃ ابواب الجنۃ یدخل من ایھا شاء کو صحاح میں نقل کیا ہے حالانکہ اس حدیث کو صحاح میں نقل کرنا مناسب نہیں ہے کیونکہ یہ روایت صحیح البخاری و صحیح مسلم میں نہیں ہے بلکہ یہ روایت جامع ترمذی کی ہے، لہٰذا یہ روایت صحاح کے بجائے حسان میں نقل کرنی چاہئے تھی، پھر دوسری بات یہ ہے کہ جامع ترمذی نے بھی اپنی روایت میں ان محمدًا سے پہلے اشھد کا لفظ ذکر نہیں کیا ہے۔ اتنی بات اور جان لینی چاہئے کہ جزری (رح) نے حصن حصین میں ابن ماجہ، ابن ابی شیبہ اور ابن سنّی کے حوالہ سے شہادتین کے بعد لفظ ثلاث مرات کا ذکر کیا ہے، یعنی شہادتیں تین مرتبہ پڑھنی چاہئے اور سنن نسائی و حاکم کی روایت میں اللھم اجعلنی الخ کے بعد یہ بھی منقول ہے سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ وَ بِحَمْدِکَ اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ اَسْتَغْفِرُکَ وَاَتُوْبُ اِلَیْکَ لِہٰذَا اولیٰ اور بہتر ہے کہ جتنی دعائیں منقول ہیں وضو کے بعد سب ملا کر پڑھی جائیں نیز نہانے والے کے لئے بھی یہ دعائیں پڑھنا مستحب ہے۔
وَعَنْ اَبِیْ ہُرَےْرَۃَص قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اِنَّ اُمَّتِیْ ےُدْعَوْنَ ےَوْمَ الْقِےٰمَۃِ غُرًّا مُحَجَّلِےْنَ مِنْ اٰثَارِ الْوُضُوْءِ فَمَنِ اسْتَطَاعَ مِنْکُمْ اَنْ ےُّطِےْلَ غُرَّتَہُ فَلْےَفْعَلْ ۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم )
اور حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا قیامت کے روز میری امت اس حال میں پکاری جائے گی کہ وضو کے سبب سے ان کی پیشانیاں روشن ہوں گی اور اعضا چمکتے ہوں گے لہٰذا تم میں سے جو آدمی چاہے کہ وہ اپنی پیشانی کی روشنی کو بڑھائے تو اسے چاہئے کہ وہ ایسا ہی کرے۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم )
تشریح
غُرَّ جمع ہے اغر کی جس کے معنی ہیں سفید چہرہ اور محجل اس آدمی کو فرماتے ہیں کہ جس کے ہاتھ پاؤں سفید ہوں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قیامت کے روز وضو کے اثر یہ تمام اعضاء روشن ہوں گے اور جب محشر میں نمازیوں کو جنت میں جانے کے لئے پکارا جائے گا تو وہ لوگوں کے درمیان سے اس طرح آئیں گے کہ ان کے اعضاء وضو روشن و چمک دار ہوں گے۔ آخر میں فرمایا گیا ہے کہ جس آدمی کی خواہش ہو کہ قیامت کے روز اس کی پیشانی چمکدار اور اس کے اعضاء کی سفید دراز ہو تو اسے چاہئے کہ وہ اس عمل اور فعل کے کرنے میں پوری احتیاط سے کام لے جو اس سعادت کا سبب ہوگا یعنی وضو پوری رعایت سے کرے، چہرہ کو پیشانی کے اوپر سے ٹھوڑی کے نیچے تک اور ایک کان سے دوسرے کان تک خوب اچھی طرح دھوئے۔ تحجیل کی درازگی یہ ہے کہ پاؤں کو خوب اچھی طرح اور ٹخنوں کے اوپر تک دھوئے یہاں تحجیل کی درازگی کا ذکر نہیں فرمایا گیا ہے اس لئے کہ یہ دونوں یعنی غر اور محجل آپس میں لازم اور ملزوم ہیں جب ایک کی درازگی کا ذکر فرمادیا تو دوسرا خود بخود مفہوم ہوجائے گا۔
وَعَنْہ، قَالَ قَالَ رَسُوْل ُاللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم تَبْلُغُ الْحِلْےَۃ ُمِنَ الْمُؤْمِنِ حَےْثُ ےَبْلُغُ الْوَضُوْئُ۔ (مسلم)
اور حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا (جنت میں) مومن کو زیور (وہاں تک) پہنچے گا جہاں تک وضو کا پانی پہنچے گا۔ (صحیح مسلم)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ وضو کا پانی جن اعضاء پر پہنچتا ہے یعنی جو اعضاء وضو میں دھوئے جاتے ہیں جنت میں ان سب اعضاء کی زیورات سے زیب وزینت کی جائے گی، اسی طرح جس کا وضو جتنا زیادہ بہتر اور مکمل یعنی سنت کے مطابق ہوگا جنت میں اس کے اعضاء وضو کی آرائش اتنے ہی اعلیٰ پیمانہ پر ہوگی۔
عَنْ ثَوْبَانَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہٖ وَسَلَّمَ اسْتَقِیْمُوْا وَلَنْ تُحْصُوْا وَاعْلَمُوْا اَنَّ خَیْرَ اَعْمَا لِکُمُ الصَّلٰوۃُ وَلَا یُحَافِظُ عَلَی الْوُضُوْءِ اِلَّا مُؤْمِنٌ۔ (رواہ موطا امام مالک و مسند احمد بن حنبل و ابن ماجۃ والدارمی)
حضرت ثوبان ؓ (اسم گرامی ثوبان ابن بجد ہے کنیت ابوعبداللہ ہے بعض حضرات نے ابوعبدالرحمن بھی لکھی ہے آپ نے حمص میں ٥٤ ھ میں وفات پائی)۔ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا سیدھے رہو اور سیدھے رہنے کی ہرگز طاقت نہ رکھ سکو گے اور جان لو کہ تمہارے اعمال میں بہترین چیز نماز ہے اور وضو کی حفاظت مومن ہی کرتا ہے۔ (مالک، مسند احمد بن حنبل ابن ماجہ، دارمی)
تشریح
سیدھے رہنے کا مطلب یہ ہے کہ اعمال پر مستقیم رہو اور ہمیشہ سیدھی راہ پر چلتے رہو، ادھر ادھر برے راستوں کی طرف میلان نہ کرو اور چونکہ یہ امر مشکل تھا اس لئے آگے فرمایا کہ لن تحصوا یعنی پورے کمال اور رسوخ کے ساتھ تم استقامت اختیار نہیں کرسکتے اور جب یہ فرما دیا گیا کہ استقامت کی طاقت نہیں رکھ سکتے اور اعمال و افعال میں استقامت کے جو حقوق ہیں وہ پوری طرح ادا نہیں ہوسکتے تو آگے ایک نہایت آسان اور سہل راہ کی طرف راہنمائی کردی گئی یعنی عبادت کی جڑ اور خلاصہ نماز پر آگاہ کردیا کہ اگر صرف اسی ایک عمل اور ایک عبادت یعنی نماز میں استقامت اختیار کرلو گے تو تمام تقصیرات کا تدارک ہوجائے گا لہٰذا چاہئے کہ نماز پر مداومت اختیار کرو۔ اس کے جو شرائط و آداب ہوں ان کا خیال رکھو اور اس کے جو حقوق ہیں ان کو پوری طرح سے ادا کرو۔ بعد میں نماز کے مقدمہ اور شرط یعنی وضو اور طہارت کی طرف اشارہ فرما دیا ہے جس کو نصف ایمان کہا گیا ہے چناچہ فرمایا گیا کہ وضو کی محافظت تو مومن کا خاصہ ہے اس لئے کہ وہ مومن کامل کا قلب و دماغ توجہ الیٰ اللہ کی شعاؤں سے ہر وقت منور رہتا ہے وہ اپنے قلب و بدن دونوں کے ساتھ یعنی ظاہری طور پر بھی اور باطنی طور پر بھی ہر وقت اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر رہتا ہے اور ظاہر ہے کہ بارگاہ الوہیت میں حاضری بغیر ظاہر و باطن کی صفائی و پاکیزگی اور بدون طہارت کے اداب کے منافی چیز ہے اور شان عبودیت کے خلاف بھی ہے اس لئے مومن وضو کی محافظت کرتا ہے اور وضو کے جو آداب و شرائط اور سنن و مستحبات ہیں ان سب کی رعایت کرتا ہے۔
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہٖ وَسَلَّمَ مَنْ تَوَضَّأَ عَلٰی طُھْرِ کُتِبَ لَہ، عَشْرُ حَسَنَاتِ۔ (رواہ الجامع ترمذی)
اور حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا جو آدمی وضو کے اوپر وضو کرے تو اس کے واسطے دس نیکیاں لکھی جاتی ہیں۔ (جامع ترمذی)
تشریح
ایک تو مطلقاً وضو کرنے کا ثواب و اجر مقرر ہے وہ تو ملنا ہی ہے لیکن جو آدمی وضو پر وضو کرے تو اس کے واسطے اس مقررہ اجر وثواب کے علاوہ مزید دس نیکیاں لکھی جاتی ہیں اس سلسلہ میں علماء لکھتے ہیں کہ یہ اجر وثواب اس وقت ملتا ہے جب کے پہلے وضو کے بعد فرض یا نقل نماز پڑھ چکا ہو اور اس کے بعد پھر دوسرا وضو کرے۔ شرح النستۃ میں منقول ہے کہ تجدید و ضو اس وقت مستحب ہے جب کہ پہلے وضو سے کوئی نماز پڑھ چکا ہو اور بعض علماء کے نزدیک اگر پہلے وضو کے بعد نماز نہ پڑھی ہو تو وضو کرنا مکر وہ ہے۔
عَنْ جَابِرِ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہٖ وَسَلَّمَ مِفْتَاحُ الْجَنَّۃِ الصَّلٰوۃُ وَمِفْتَاحُ الصَّلٰوۃِ الطَّھُوْرُ۔ (رواہ مسند احمد بن حنبل)
حضرت جابر ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا جنت کی کنجی نماز ہے اور نماز کی کنجی وضو ہے۔ (مسند احمد بن حنبل)
تشریح
جیسے کہ مقفّل دروازہ بغیر کنجی کے نہیں کھل سکتا اسی طرح بغیر وضو کے نماز نہیں ہوسکتی اور بغیر نماز کے جنت میں داخلہ نہیں ہوسکتا، اس حدیث میں محافظت نماز کی اہمیت کو بطور نمونہ بیان کیا گیا ہے، کہ گویا نماز کا حکم ایمان میں ہے کہ بغیر اس کے جنت میں جانا میسر نہیں ہوگا لہٰذا چاہئے کہ نماز خوب اچھی طرح ادا کی جائے اور کبھی نماز ترک و قضا نہ کی جائے کیونکہ دخول جنت کا سبب یہی ہے۔