Mishkaat-al-Masabih

All 6,333 hadiths in order · Page 15 of 317

281Mishkaat-al-Masabih

پاکیزگی کا بیان

وَعَنْ شَبِیْبِ بْنِ اَبِی رُوْحِ عَنْ رَجُلِ مِنْ اَصْحَابِ رَسُوْلِ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم اَنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم صَلَّی صَلاَۃَ الصُّبْحِ فَقَرَا الرُّوْمَ فَالْتَبَسَ عَلَیْہِ فَلَمَّا صَلَّی قَالَ مَا بَالُ اَقْوَامِ یُصَلُّونَ مَعَنَا لاَ یُحْسُنْونَ الطُّھُوْرَوَاِنَّمَا یَلَبِّسُ عَلَیْنَا قُرْآنَ اُوْلٰئِکَ۔ (رواہ السنن نسائی )

اور حضرت شبیب بن ابی روح ؓ رسول اللہ ﷺ کے اصحاب میں سے کسی صحابی سے روایت کرتے ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے (ایک مرتبہ) صبح کی نماز پڑھی اور اس کے اندر سورت روم کو پڑھا (اثناء نماز میں) آپ ﷺ کو متشابہ ہوا چناچہ جب آپ ﷺ نماز پڑھ چکے تو فرمایا لوگوں کو کیا ہوا ہے کہ ہمارے ساتھ پڑھتے ہیں اور اچھی طرح وضو نہیں کرتے اور اس وجہ سے یہ لوگ ہم پر قرآن میں متشابہ ڈالتے ہیں۔ (سنن نسائی ) تشریح اس حدیث میں اس طرف اشارہ ہے کہ کسی عمل اور کسی عبادت کے جو سنن و آداب ہوتے ہیں وہ واجب کو کامل کرتے ہیں اور برکت کا سبب ہوتے ہیں، اسی برکت کا اثر نہ صرف یہ کہ عامل ہی کی ذات تک محدود رہتا ہے، بلکہ وہ برکت دوسروں میں بھی سرائیت کرتی ہے جیسے کہ کوتاہی اور قصور عامل کی ذات کے علاوہ دوسرے کے ضرر کا بھی باعث ہوتے ہیں نیز اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ سنن و آداب پر عمل نہ کرنے سے فتوحات غیبیہ کا دروازہ بند ہوتا ہے۔ یہ حدیث درحقیقت ان بےبصیرت لوگوں کے لئے تازیانہ عبرت ہے جو صحبت کی تاثیر کے منکر اور اس سے غافل ہیں لہٰذا ایسے لوگوں کے لئے غور کرنے کا مقام ہے کہ سرکار دو عالم، سید الرسل ﷺ پر باوجود اس رتبہ کے اور قرآن پڑھنے کی حالت میں جو تقرب الی اللہ کا وقت ہے ایک ادنیٰ امتی کی صحبت نے اثر کیا جس سے وضو کے آداب و سنت میں کوئی کوتاہی یا قصور ہوگیا تھا جس کی وجہ سے آپ ﷺ کو قرأت میں متشابہ لگا تو ایسے لوگوں کا کیا حشر ہوگا جو شب و روز اہل فسق اور اہل بدعت کی صحبت کو اختیار کئے رہتے ہیں۔ لہٰذا معلوم ہوا کہ بھلائی اور بہتری اسی میں کہ اہل فسق اور اہل بدعت کی صحبت و ہم نشینی کو بالکل ترک کر کے علماء حق، صوفیائے کرام اور اللہ کے نیک بندوں کی صحبت اختیار کی جائے تاکہ ان کی ہم نشینی اور صحبت کے اثرات و برکات اپنے اندر پیدا ہوں جو دین و دنیا دونوں جگہ کی بھلائی کے لئے ضامن ہیں۔ ابتداء روایت میں راوی نے اس صحابی کا نام ذکر نہیں کیا ہے جس سے یہ حدیث حاصل کی گئی ہے مگر حضرت میرک شاہ صاحب نے لکھا ہے کہ وہ صحابی حضرت ابوذر غفاری ہیں۔

282Mishkaat-al-Masabih

پاکیزگی کا بیان

وَعَنْ رَجُلِ مِنْ بَنِی سُلَیْمِ قَالَ عَدَّھُنَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم فِی یَدِی اَوْ فِی یَدِہٖ قَالَ التَّسْبِیْحُ نِصْفُ الْمِیْزِانِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ یَمْلَاہُ وَالتَّکْبِیْرُ یَمْلا مَابَیْنَ السَّمَآءِ وَالْاَرْضِ وَالصَّوْمُ نِصْفُ الصَّبْرِ وَالطُّھُوْرُ نِصْفُ الْاِیْمَانِ۔ رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ وَقَالَ ھٰذَا حَدِیْثٌ حَسَنٌ۔

اور قبیلہ بنی سلیم کے ایک آدمی راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے باتوں کو (جو آگے مذکور ہیں) میری ہاتھ پر یا اپنے ہاتھ پر شمار کیا (چنانچہ) آپ ﷺ نے فرمایا سبحان اللہ کہنا (یعنی اس کا ثواب) آدھی ترازو بھر دیتا ہے اور الحمد اللہ (سبحان اللہ کے ساتھ) کہنا (یا فقط الحمدللہ کہنا ہی پوری ترازو کو بھر دیتا ہے اس چیز کو جو آسمان اور زمین کے درمیان ہے اور روزہ آدھا صبر ہے اور پاک رہنا آدھا ایمان ہے۔ جامع ترمذی نے اس حدیث کو روایت کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث حسن ہے) تشریح حدیث کو بیان کرتے وقت راوی کو شک ہوگیا ہے کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ان باتوں کو میرے ہاتھ پر شمار کیا ہے یا اپنے ہاتھ پر شمار کیا ہے بہر حال ان کو شمار اس طرح کیا کہ یا تو آپ نے صحابی کی انگلی پکڑی اور ان کو ہتھیلی پر بند کرے ان پانچ باتوں کو شمار کیا۔ حدیث میں روزے کو آدھا صبر فرمایا گیا ہے، اس لئے کہ پورا صبر تو یہ ہے کہ نفس کو طاعت پر رو کے یعنی احکام کو بجا لائے اور گناہوں سے روکے یعنی ممنوع چیزوں کو نہ کرے اور روزہ نام ہے صرف نفس کو طاعت پر روکنے یعنی حکم الہٰی کو بجا لانے کا لہٰذا اس اعتبار سے روزہ آدھا صبر ہوا۔

283Mishkaat-al-Masabih

پاکیزگی کا بیان

وَعَنْ عَبْدِاﷲِالصُّنَابِحِیِّ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہٖ وَسَلَّمَ اِذَا تَوَضَّأَ الْعَبْدُ الْمُؤْمِنْ فَمَضْمَضَ خَرَجَتِ الْخَطَایَا مِنْ فِیْہٖ وَاِذَا اسْتَنْثَرَ خَرَجَتِ الْخَطَایَا مِنْ اَنْفِہٖ فَاِذَا غَسَلَ وَجْھَہ، خَرَجَتِ الْخَطَایَا مِنْ وَجْھِہٖ حَتّٰی تَخْرُجَ مِنْ تَحْتِ اَشْفَارِ عَیْنَیْہِ فَاِذَا غَسَلَ یَدَیْہٖ خَرَجَتِ الْخَطَایَا مِنْ یَدَیْہِ حَتّٰی تَخْرُجَ مِنْ تَحْتِ اَظْفَارِ یَدَیْہِ فَاِذَا مَسَحَ بِرَأْسِہٖ خَرَجَتِ الْخَطَایَا مِنْ رَأْسِہٖ حَتّٰی تَخْرُجَ مِنْ اُذُنَیْہِ فَاِذَا غَسَلَ رِجْلَیْہِ خَرَجَتِ الْخَطَایَا مِنْ رِجْلَیْہِ حَتّٰی تَخْرُجَ مِنْ تَحْتِ اَظْفَارِ رِجْلَیْہِ ثُمَّ کَانَ مَثْیُہ، اِلَی الْمَسْجِدِ وَصَلَاتُہ، نَافِلَۃً لَّہ،۔ (رواہ موطا امام مالک و السنن نسائی )

اور حضرت عبداللہ صنابحی (ان کے صحابی ہونے اور نام میں اختلاف ہے یحییٰ ابن معین کا قول تو یہی ہے کہ ان کا نام عبداللہ یا ابوعبداللہ بیان کیا جاتا ہے) راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا جب بندہ مومن وضو کا ارادہ کرتا ہے اور کلی کرتا ہے تو گناہ اس کے منہ سے خارج ہوتے ہیں اور جب ناک جھاڑتا ہے تو گناہ اس کی ناک سے خارج ہوجاتے ہیں اور جب اپنا منہ دھوتا ہے تو گناہ اس کے منہ سے خارج ہوتے ہیں یہاں تک کہ اس کی آنکھوں کی پلکوں کے نیچے سے بھی گناہ نکل جاتے ہیں اور جب اپنے دونوں ہاتھ دھوتا ہے تو گناہ اس کے ہاتھوں سے خارج ہوتے ہیں یہاں تک کہ اس کے دونوں ہاتھوں کے ناخنوں کے نیچے سے بھی گناہ نکل جاتے ہیں اور جب اپنے سر کا مسح کرتا ہے تو گناہ اس کے سر سے خارج ہوتے ہیں یہاں تک کہ اس کے دونوں ہاتھوں کے ناخنوں کے نیچے سے بھی گناہ نکل جاتے ہیں اور جب اپنے سر کا مسح کرتا ہے تو گناہ اس کے سر سے خارج ہوتے ہیں یہاں تک کہ اس کے دونوں کانوں سے بھی گناہ نکل جاتے ہیں اور جب اپنے دونوں پاؤں دھوتا ہے تو گناہ اس کے دونوں پاؤں سے خارج ہوتے ہیں یہاں تک کہ اس کے پاؤں کے ناخنوں کے نیچے سے بھی نکل جاتے ہیں، پھر مسجد کی طرف اس کا چلنا ہوتا ہے اور اس کی نماز اس کے واسطے (اعمال میں) زیادتی ہے۔ (مالک و سنن نسائی ) تشریح جیسا کہ اس حدیث میں ذکر کیا گیا ہے کہ وضو کرنے والا اپنے سر کا مسح کرتا ہے تو گناہ اس کے سر سے خارج ہوتے ہیں پھر آگے فرمایا گیا ہے کہ یہاں تک کہ اس کے دونوں کانوں سے بھی گناہ نکل جاتے ہیں اس جملہ سے اس بات کی وضاحت ہوگئی کہ کان سر میں داخل ہیں بائیں طور کہ جو حکم سر کا ہوگا وہی حکم کان کا ہوگا چناچہ حنفی مسلک یہی ہے اس لئے یہ مسئلہ ہے کہ جب مسح کے لئے پانی لیا جائے تو اس پانی سے کانوں کا مسح بھی کرلیا جائے کانوں کے مسح کے لئے الگ سے پانی لینے کی ضرورت نہیں ہے۔ آخر حدیث میں فرمایا گیا ہے کہ اس کی نماز اس کے واسطے (اعمال میں) زیادتی ہے یعنی جب یہ وضو سے فارغ ہوا تو گناہوں سے وضو کی وجہ سے پاک و صاف ہوچکا تھا، اب نماز زائد ہے جو بلندی درجات کا سبب ہوگی۔

284Mishkaat-al-Masabih

پاکیزگی کا بیان

وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ اَنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم اَتَی الْمَقْبَرَۃَ فَقَالَ اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ دَارَ قَوْمِ مُؤْمِنِیْنَ وَاِنْشَآءَ اﷲُ بِکُمْ لَا حِقُوْنَ وَدِدْتُّ اَنَّا قَدْرَ اَیْنَّا اِخْوَانَنَا قَالُوْا اَوَلَسْنَا اِخْوَانَکَ یَا رَسُوْلَ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ اَنْتُمْ اَصْحَابِیْ وَإِخْوَانْنَا الَّذِیْنَ لَمْ یَأْتُوْا بَعْدُ فَقَالُوْا کَیْفَ تَعْرِفُ مَنْ لَمْ یَأْتِ بَعْدُ مِنْ اُمَّتِکَ یَا رَسُوْلَ اﷲِ فَقَالَ اَرَ ءَ یْتَ اَنَّ رَجُلًا لَہ، خَیْلٌ غُرٌّ مُّحَجَّلَۃٌ بَیْنَ ظَھْرَیْ خَیْلِ دُھْمِ بُھْمِ اَلَا یَعْرِفُ خَیْلَہ، قَالُوْا بَلٰی یَا رَسُوْلَ اﷲِ قَالَ فَاِنَّھُمْ یَاتُوْنَ غَرًّا مُّحَجَّلَیْنِ مِنَ الْوُضُوْءِ وَاَنَا فَرَطُھُمْ عَلَی الْحَوْضِ۔ (رواہ صحیح مسلم)

اور حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ (ایک مرتبہ) سرکار دو عالم ﷺ مقبرہ (یعنی جنت البقیع) میں (دعاء مغفرت کے لئے) تشریف لائے، چناچہ (وہاں پہنچ) کر آپ ﷺ نے فرمایا۔ اے مومنین کی جماعت! تم پر سلامتی ہو (یعنی آپ ﷺ نے اہل قبور کو سلام کیا اور فرمایا) ہم بھی انشاء اللہ تم سے ملنے والے ہیں اور میں اس بات کی تمنا رکھتا ہوں کہ ہم اپنے بھائیوں کو یکھیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا تم میرے دوست ہو اور میرے بھائی وہ ہیں جو ابھی (دنیا میں) نہیں آئے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم نے عرض کیا یا رسول اللہ آپ ﷺ کی امت میں سے جو لوگ ابھی نہیں آئے انہیں آپ ﷺ (قیامت میں کس طرح پہچانیں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا مجھے یہ بتاؤ کہ اگر کسی آدمی کے پاس سفید پیشانی اور سفید ہاتھ اور پیر والے گھوڑے ہوں اور وہ نہایت سیاہ گھوڑوں میں ملے ہوئے ہوں تو کیا وہ اپنے گھوڑے کو پہچان لے گا؟ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم نے عرض کیا ہاں (یا رسول اللہ! ان امتیازی اوصاف کی بنا پر تو وہ یقینًا پہچان لے گا) آپ نے فرمایا (وہ قیامت میں) وضو کے اثر سے سفید پیشانی اور سفید ہاتھ پاؤں کے ساتھ آئیں گے (لہٰذا اس علامت سے میں انہیں پہچان لوں گا) اور میں حوض کوثر پر ان کا میر سامان ہوں گا۔ (صحیح مسلم) تشریح اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اور ان کے بعد ہونے والے مسلمانوں میں نہ صرف یہ کہ بڑا دلچسپ اور لطیف فرق بیان فرمایا ہے بلکہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کو امتیازی شان بھی بخش دی ہے چناچہ آپ ﷺ نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم سے فرمایا کہ تم میرے دوست ہو اور بعد میں پیدا ہونے والے مومنین میرے بھائی ہیں، یعنی تمہارے ساتھ تعلقات کی دو نوعیتیں ہیں ایک تو یہ کہ تم میرے بھائی ہو اور اس کے ساتھ ساتھ رفیق خاص بھی اور جو بعد میں آنے والے ہیں یعنی تابعین وغیرہ ان کے ساتھ ایک ہی تعلق ہے کہ وہ صرف میرے اسلامی بھائی ہیں۔ میر سامان کا مطلب یہ ہے کہ میں ان لوگوں سے پہلے ہی اللہ کے یہاں جا کر ان کی مغفرت و بخشش اور بلندی اور درجات کے اسباب درست کروں گا۔

285Mishkaat-al-Masabih

پاکیزگی کا بیان

وَعَنْ اَبِی الدَّرْدَاءِ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہٖ وَسَلَّمَ اَنَا اَوَّلُ مَنْ یُؤْذَنُ لَہ، بِالسُّجُوْدِ یَوْمَ الْقِیَامَِۃِ وَاَنَا اَوَّلُ مَنْ یُؤْذَنُ لَہ، اَنْ یَرْفَعَ رَأْسَہ، فَاَ نْظُرُ اِلَی مَابَیْنَ یَدَیَّ فَاعَرِفُ اُمَّتِی مِنْ بَیْنِ الْاُ مَمِ وَمَنِ خَلْفِیْ مِثْلَ ذٰلِکَ وَعَنْ یٰمِیْنِی مِثْلَ ذٰلِکَ وَعَنْ شِمَالِی مِثْلَ ذٰلِکَ فَقَالَ رَجُلٌ یَا رَسُوْلَ اﷲِ کَیْفَ تَعْرِفُ اُمَّتَکَ مِنْ بَیْنِ الْاُمَمِ فِیْمَا بَیْنَ نُوْحِ اِلٰی اُمَّتِکَ قَالَ ھُمْ غُرً مُحَجَّلُوْنَ مِنْ اَثَرِ الْوُضُوءِ لَیْسَ اَحَدٌ کَذٰلِکَ غَیْرٌ ھُمْ وَاَعْرِفُھُمْ اَنَّھُمْ یَؤْتُوْنَ کُتُبَھُمْ بِاِیْمَانِھِمْ وَاَعْرِفُھُمْ تَسْعَی بَیْنَ اَیْدِیِھِمْ ذُرِّیَتُھُمْ۔ (رواہ مسند احمد بن حنبل)

اور حضرت ابودرداء ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن ان لوگوں میں سب سے پہلا آدمی میں ہوں گا جن کو سجدہ کی اجازت دی جائے گی اور (پھر) ان لوگوں میں سب سے پہلا آدمی میں ہوں گا جن کو سجدہ سے سر اٹھانے کی اجازت دی جائے گی چناچہ میں اس چیز کی طرف دیکھوں گا جو میرے آگے ہوگی (یعنی مخلوق کا مجمع) اور میں امتوں کے درمیان اپنی امت کو پہچان لوں گا، پھر میں اپنے پیچھے کی طرف اسی طرح اور اپنے دائیں طرف اور بائیں طرف (بھی) اس طرح دیکھوں گا (یعنی چاروں طرف اژدہام خلق دیکھوں گا اور میں اپنی امت کو پہچان لوں گا) ایک صحابی نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ! اپنی امت سے لے کر حضرت نوح (علیہ السلام) کی امت تک کی تمام امتوں میں آپ ﷺ اپنی امت کو کیونکر پہچان لیں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا میری امت کے لوگ وضو کے اثر سے سفید پیشانی اور سفید ہاتھ پاؤں کے ہوں گے اس امت کے علاوہ کوئی دوسری امت اس طرح (امتیازی وصف کے ساتھ) نہیں ہوگی اور میں اپنی امت کو اس طرح بھی پہچان لوں گا کہ (میری امت کے لوگوں کو ان کے اعمال نامے ان کے دائیں ہاتھ میں دیئے جائیں گے، نیز اس وجہ سے شناخت کرلوں گا کہ ان کی (خورد سال) اولاد ان کے آگے دوڑتی ہوگی۔ (مسند احمد بن حنبل) تشریح محشر میں جب سرکار دو عالم ﷺ بارگاہ صمدیت میں حاضر ہوں گے تو شفاعت کے لئے سجدہ میں جائیں گے اور بمقدار ایک ہفتہ سجدہ میں رہیں گے پھر بعد میں بارگاہ الوہیت سے حکم ہوگا کہ اے محمد ﷺ! اپنا سر مبارک اٹھائیے اور اے میرے محبوب مانگئے کیا مانگتے ہیں؟ ہم آپ ﷺ درخواست کو شرف قبولیت بخشیں گے اس کے بعد شافع محشر، آقائے نامدار، سرور کائنات، فخر موجوادات جناب رسول اللہ ﷺ (فداہ روحی) اللہ کی مخلوق کی شفاعت کے لئے اپنی لسان مبارک سے بارگاہ الٰہی میں درخواست پیش فرمائیں گے، حدیث کے ابتدائی حصہ میں اسی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے۔ اس حدیث میں میدان حشر میں امت محمدیہ کی کثرت و زیادتی اور ان کے مراتب میں تفاوت کی طرف اشارہ فرما دیا گیا ہے چناچہ فانظر الی ما بین یدی (یعنی میں اس چیز کی طرف دیکھوں گا جو میرے آگے ہوگی ایسے ہی عن شمالی مثل ذلک ( یعنی اور بائیں طرف اس طرح دیکھوں گا) تک یہی مراد ہے کہ میرے چاروں طرف میری ہی امت پھیلی ہوگی اور پھر ان میں مختلف مراتب و درجات کے لوگ ہیں گے۔ صحابی ؓ کے سوال کا مطلب یہ ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کے زمانہ سے آج تک ایک بڑی لمبی مدت ہے اور ایک بڑا طویل زمانہ ہے اس دوران میں ایک دو نہیں بہت زیادہ امتیں گزری ہیں، پھر تعداد شمار کے لحاظ سے دیکھا جائے تو بےانتہاء اللہ کی مخلوق اس زمانہ میں پیدا ہوئی اور مری ہے تو اتنے اژدہام اور اتنی امتیں ہیں آپ ﷺ اپنی امت کو کس طرح پہچان لیں گے، اس کے جواب میں رسول اللہ ﷺ نے اس امتیازی صفت کا ذکر فرمایا جس سے امت محمد یہ کے افراد متصف ہوں گے اور تمام امتوں میں ممتاز ہوں گے۔ اس سلسلہ میں حضرت نوح (علیہ السلام) کا نام بطور خاص لینے کی وجہ یہی ہے کہ اوّل تو اس زمانہ کا طول مراد ہے دوسرے چونکہ یہ تمام نبیوں میں بہت زیادہ مشہور ہیں اس لئے ان کا نام لیا۔

286Mishkaat-al-Masabih

وضو کو واجب کرنے والی چیزوں کا بیان

اس باب میں ان چیزوں کا ذکر کیا جا رہا ہے جو وضو کو توڑتی ہیں چناچہ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ (رح) کے مسلک کے مطابق ان چیزوں سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ (١) پاخانہ اور پیشاب کے راستہ سے نکلنے والی ہر چیز سے وضو ٹوٹ جاتا ہے جیسے پاخانہ، پیشاب اور ریاح وغیر مگر جو ہوا مرد یا عورت کے آگے کے سرے سے نکلتی ہے اس سے وضو نہیں ٹوٹتا۔ (٢) اس چیز سے وضو ٹوٹ جاتا ہے جو نجس ہو (جیسے خون اور پیپ وغیرہ) اور بدن میں خود بخود نکل کر اس حصہ تک پہنچ جائے جس کو غسل یا وضو میں دھونا لازم ہو، یعنی اگر ناک کے بانسے اور آنکھ کے اندر رہے تو اس سے وضو نہیں ٹوٹے گا کیونکہ ان کا دھونا لازم نہیں ہے۔ (٣) قے کرنے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے منہ بھر قے کرنے میں خواہ اناج نکلے، پانی نکلے، جما ہوا خون یعنی سودا نکلے ان سے وضو ٹوٹ جاتا ہے، اگر بلغم نکلے تو وضو نہیں ٹوٹتا، اگر پتلے خون یا پیپ کی قے ہو تو اس میں منہ بھرنے کی شرط نہیں بلکہ تھوک کے برابر ہو یا تھوک پر غالب ہوجائے تب بھی وضو ٹوٹ جائے گا اور اگر کم ہوگا تو نہیں ٹوٹے گا اگر ایک ہی متلی میں تھوڑی قے اتنی مقدار میں ہوئی کہ اگر اسے جمع کیا جائے تو منہ بھر جائے تو اس سے وضو جاتا ہے جس چیز سے وضو نہیں ٹوٹتا ہے وہ نجس نہیں ہوتی مثلاً تھوڑی سے قے کی یا بدن سے خون اس طرح نکلا کہ وہ جسم پر بہا نہیں تو یہ ناپاک نہیں ہے۔ (٤) وضوٹوٹ جاتا ہے دیوانہ ہونے سے۔ (٥) نشے سے۔ (٦) بےہوش ہوجانے سے۔ (٧) اور بالغ کے قہق ہے سے اس نماز میں جو رکوع و سجود والی ہو۔ (٨) مباشرت فاحشہ سے وضو ٹوٹ جاتا ہے، مباشرت فاحشہ اسے فرماتے ہیں کہ انتشار اور جنسی ہیجان کے ساتھ مرد کا ستر عورت کے ستر سے اور عورت کا ستر مرد کے ستر سے مل جائے یا دو عورتوں یا مردوں کے ستر مل جائیں۔ (٩) لیٹ کر اپنے بدن پر یا دیوار وغیرہ پر تکیہ لگا کر سونے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے لیکن یہ سونا اس طرح ہو کہ اگر تکیہ کی وہ چیز جس پر ٹیک لگا کر سویا ہوا ہے ہٹالی جائے تو گرپڑے۔ (١٠) اگر اس طرح سو جائے کہ مقعد زمین سے اٹھ جائے یعنی پہلو پر یا کو لھوں پر یا چت یا منہ کے بل، یا کو لھے کو دیوار سے لگا کر یا پیٹ پاؤں پر لگا کر جھکا ہوا سو جائے تو وضو ٹوٹ جاتا ہے اور اگر کھڑا کھڑا سو جائے یا رکوع اور سجدہ کی حالت میں سو جائے تو وضو نہیں ٹوٹتا مگر شرط یہ ہے کہ رکوع و سجود ہیت مسنونہ پر ہوں، اگر زخم میں کیڑے نکلیں یا گوشت کٹ کر گرجائے تو وضو نہیں ٹوٹتا۔ (١١) اگر جونک لگائی جائے اور وہ خون پی کی کر بھر گئی یا بڑی چیچری نے پیٹ بھر خون پیا تو وضو ٹوٹ جاتا ہے اور اگر ایسا نہیں ہے تو وضو نہیں ٹوٹتا۔ (١٢) اگر کسی کی آنکھ دکھنے آتی ہے اور آنسو نکلتے ہیں تو وضو ٹوٹ جاتا ہے، اس سلسلہ میں اکثر لوگ غافل ہیں اس کا خیال نہیں کرتے اس لئے اس کا خیال رکھنا چاہئے ہاں اگر کوئی آدمی ایسا ہے جس کی آنکھیں ہمیشہ جاری رہتی ہیں تو وہ صاحب عذر ہوجاتا ہے۔ (١٣) اگر کان دکھتا ہے اور اس سے پیپ یا کچھ لہو نکلے تو وضو ٹوٹ جاتا ہے ان میں سے دو چیزیں یعنی پیشاب اور پاخانہ کے راستہ سے نکلنے والی چیزوں اور نیند پر تمام علماء کا اتفاق ہے کہ یہ چیزیں ناقض وضو ہیں باقی چیزیں مختلف فیہ ہیں۔

287Mishkaat-al-Masabih

وضو کو واجب کرنے والی چیزوں کا بیان

عَنْ اَبِیْ ھُرَیرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم لاَ تُقْبَلُ صَلٰوۃُ مَنْ اَحْدَثَ حَتّٰی ےَتَوَضَّأَ۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)

حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا بےوضو کی نماز قبول نہیں کی جاتی جب تک کہ وضو نہ کرے۔ (بخاری و مسلم) تشریح اس کا تعلق اس آدمی سے ہے جو پانی رکھتا ہو اور اس کے استعمال کی قدرت بھی اس کے اندر ہو یعنی جس آدمی کے پاس پانی اور اس پانی کے استعمال کرنے میں اس کو کوئی عذر شرعی نہ ہو تو اس کو نماز کے لئے وضو کرنا ضروری ہے اگر اس نے وضو نہیں کیا تو اس کی نماز ادا نہیں ہوگی۔ اگر کوئی آدمی پانی نہ پائے یا اس کے استعمال کی قدرت نہ رکھتا ہو تو وہ بجائے وضو کے پاک و صاف مٹی سے تیمم کرے ایسا آدمی جو نہ تو پانی پائے اور نہ پاک و صاف مٹی ہی اسے ملے اور نہ وہ ان کے استعمال کی قدرت رکھتا ہو تو ایسے آدمی کو اصطلاح شریعت میں فاقد الطھورین فرماتے ہیں اس آدمی کے بارے میں یہ حکم ہے کہ وہ نماز نہ پڑھے، ہاں جب پانی وغیرہ پائے تو وضو کر کے نماز پڑھے۔ اس مسئلہ میں امام شافعی (رح) کا مسلک دوسرا ہے، وہ فرماتے ہیں کہ ایسے آدمی یعنی فاقدا الطہورین کو چاہئے کہ اس شکل میں بھی وقت نماز کے احترام میں بغیر وضو اور تیمم ہی کے نماز پڑھ لے جب اسے پانی یا مٹی دستیاب ہوجائے تو وضو یا تییم کر کے قضا کرلے۔ ہمارے علماء رحمہم اللہ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی آدمی قصدا بغیر طہارت کے نماز پڑھ لے اور پھر یہ کہ اس سے اس کا مقصد احترام وقت بھی نہ ہو تو یہ آدمی کافر ہوجاتا ہے، یا اگر لوگوں کی شرم کی وجہ سے محض دکھلانے کے لئے بھی بغیر طہارت کے نماز پڑھے تو بھی کافر ہوجاتا ہے کیونکہ ان دونوں شکلوں میں اس نے شرع کی تحقیر کی ہے اس لئے ایسا آدمی جو اپنے قول سے یا فعل سے شریعت کی تحقیر کا سبب بنتا ہے وہ اس قابل نہیں ہے کہ دائرہ اسلام اور ایمان میں رہ سکے۔

288Mishkaat-al-Masabih

وضو کو واجب کرنے والی چیزوں کا بیان

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْھُمَا قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم لَا تُقْبَلُ صَلٰوۃٌ بِغَےْرِ طُھُوْرٍ وَّلَاصَدَقَۃٌ مِّنْ غُلُوْلٍ۔(صحیح مسلم)

اور حضرت ابن عمر ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا بغیر طہارت نماز قبول نہیں کی جاتی اور مال حرام کی خیرات قبول نہیں کی جاتی۔ (صحیح مسلم) تشریح حرام مال میں صدقہ خیرات کرنا چونکہ صدقہ و خیرات کی توہین و تحقیر ہے اس لئے اس کو بہت زیادہ قابل نفرت شمار کیا گیا ہے چناچہ ہمارے علماء نے تو یہاں تک کہہ دیا ہے کہ جو آدمی مال حرام میں سے صدقہ و خیرات کرتا ہے اور پھر اس کی امید بھی رکھتا کہ اس سے ثواب ملے گا تو کافر ہوجاتا ہے۔ (٣) وَعَنْ عَلِیٍّ صقَالَ کُنْتُ رَجُلًا مَذَّآئً فَکُنْتُ اَسْتَحْیِیْ اَنْ اَسْأَلَ النَّبِیَّ ﷺ لِمَکَانِ ابْنَتِہ فَاَمَرْتُ الْمِقْدَادَ فَسَأَلَہُ فَقَالَ ےَغْسِلُ ذَکَرَہُ وَےَتَوَضَّاُ۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم) اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں کہ مجھے مذی بہت زیادہ آتی تھی چونکہ رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی (حضرت فاطمہ ؓ میرے نکاح میں تھی اس لئے میں آپ ﷺ سے اس کا حکم دریافت کرتے ہوئے شرماتا تھا (کہ آیا اس سے غسل واجب ہوتا ہے یا وضو) اس لئے میں نے (اس مسئلہ کو رسول اللہ ﷺ سے دریافت کرنے کے لئے حضرت مقداد ؓ کو مامور کیا، چناچہ انہوں نے آپ ﷺ سے پوچھا (اس طرح سے کہ ایک آدمی ایسا ہے اس کے بارے میں کیا حکم ہے) تو آپ نے فرمایا کہ (مذی نکلنے پر) پیشاب گاہ کو دھو ڈالے اور وضو کرے۔ (بخاری و مسلم) تشریح یہ حدیث ایک اخلاقی معاملہ میں بڑی لطیف تنبیہ کر رہی ہے کہ داماد کو اپنے سسر سے شہوت کی باتوں کا ذکر کرنا، ایسی چیزوں کا تذکرہ کرنا جن کا تعلق مباشرت عورت سے ہو یا جن کا بیان اخلاق و تہذیب اور شرم و حیاء کے منافی ہو مناسب نہیں۔

289Mishkaat-al-Masabih

وضو کو واجب کرنے والی چیزوں کا بیان

وَعَنْ اَبِیْ ہُرَےْرَۃَص قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلمےَقُوْلُ تَوَضَّؤُا مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ رَوَاہُ مُسْلِمٌ

اور حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ میں نے سرکار دو عالم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس چیز کو آگ نے پکایا ہو اس کے کھانے کے بعد وضو کرو۔ (صحیح مسلم) تشریح امام محی السنتہ (رح) فرماتے ہیں کہ یہ حکم حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ کی اس حدیث سے منسوخ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بکری کا شانہ کھایا پھر نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم ) پہلے حکم کی منسوخی تو حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ کی مذکورہ حدیث سے ہوگئی لیکن اس سلسلہ میں اس حدیث کی ایک دوسری تاویل اور کی جاتی ہے وہ یہ کہ رسول اللہ ﷺ کے اس حکم کی کہ آگ کی پکی ہوئی چیز کو کھانے کے بعد وضو کرو سے مراد یہ ہے کہ جب تم کوئی پکی ہوئی چیز کھاؤ تو چکنائی وغیرہ دور کرنے کے لئے ہاتھ منہ دھولیا کرو، کیونکہ نہ صرف یہ کہ نظافت و صفائی کا یہی تقاضا ہے بلکہ یہ سنت بھی ہے چناچہ اسی کو وضو طعام بھی کہا جاتا ہے، اس صورت میں حدیث کو منسوخ کہنے کی بھی ضرورت نہیں رہے گی۔

290Mishkaat-al-Masabih

وضو کو واجب کرنے والی چیزوں کا بیان

عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَص اَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اَنَتَوَضَّأُ مِنْ لُحُوْمِ الْغَنَمِ قَالَ اِنْ شِئْتَ فَتَوَضَّاْ وَاِنْ شئْتَ فَلَا تَتَوَضَّاْ قَالَ اَنَتَوَضَّأُ مِنْ لُّحُوْمِ الْاِبِلِ قَالَ نَعَمْ فَتَوَضَّأْ مِنْ لُّحُوْمِ الْاِبِلِ قَالَ اُصَلِّیْ فِیْ مَرَابِضِ الْغَنَمِ قَالَ نَعَمْ قَالَ اُصَلِّیْ فِیْ مَبَارِکِ الْاِبِلِ قَالَ لَا۔(صحیح مسلم)

اور حضرت جابر بن سمرہ ؓ (اسم گرامی جابر بن سمرۃ اور کنیت ابوعبدا اللہ عامری ہے سن وفات میں اختلاف ہے بعض لوگ فرماتے ہیں کہ ٦٦ ھ میں انہوں نے وفات پائی کچھ حضرات کی تحقیق ہے کہ ان کا سن وفات ٧٤ ھ ہے)۔ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے سرکار دو عالم ﷺ سے پوچھا کہ کیا ہم بکری کا گوشت کھانے کے بعد وضو کریں آپ ﷺ نے فرمایا اگر تمہارا جی چاہے تو وضو کرو اور نہ چاہے تو نہ کرو پھر اس آدمی نے پوچھا کیا اونٹ کا گوشت کھانے کے بعد وضو کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا ہاں اونٹ کا گوشت کھانے کے بعد وضو کرو پھر اس آدمی نے سوال کیا کیا بکریوں کے رہنے کی جگہ میں نماز پڑھ لوں آپ ﷺ نے فرمایا ہاں! پھر اس آدمی نے دریافت کیا کیا اونٹوں کے بندھے کی جگہ نماز پڑھوں آپ نے فرمایا نہیں۔ (صحیح مسلم) تشریح حضرت امام احمد بن حنبل (رح) چونکہ ظاہر حدیث پر عمل کرتے ہیں اس لئے انہوں نے تو یہ حدیث دیکھ کر حکم لگا دیا کہ اونٹ کا گوشت کھانے کے بعد وضو کرنا چاہئے کیونکہ اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے اونٹ کا گوشت کھانے کے بعد وضو کرنے کا حکم فرمایا ہے۔ لیکن حضرت امام اعظم ابوحنیفہ (رح)، حضرت امام شافعی اور حضرت امام مالک رحمہم اللہ کے نزدیک اونٹ کا گوشت کھانے سے وضو نہیں ٹوٹتا اس لئے کہ یہ حضرات اس حدیث کا محل وضو کے لغوی معنے ہاتھ منہ دھونے کو قرار دیتے ہیں یعنی یہ حضرات فرماتے ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ کے ارشاد کا مقصد یہ ہے کہ چونکہ اونٹ کے گوشت میں بساندہ اور چکنائی زیادہ ہوتی ہے اس لئے اس کو کھانے کے بعد ہاتھ منہ دھو لینا چاہئے چونکہ بکری کے گوشت میں بساندھی اور چکنائی کم ہوتی ہے اس لئے اس کے بارے میں فرما دیا کہ اگر طبیعت چاہے اور نظافت کا تقاضا ہو تو ہاتھ منہ دھولیا کرو اور اگر طبیعت نہ چاہے تو کوئی ضروری نہیں ہے۔ اونٹوں کے بندھنے کی جگہ نماز پڑھنے سے منع فرمانا نہی تنزیہی کے طور پر ہے اور منع اس لئے فرمایا کہ وہاں نماز پڑھنے میں سکون و اطمینان اور خاطرجمعی نہیں رہتی، اونٹوں کے بھاگ جانے یا لات مار دینے اور تکلیف پہنچانے کا خدشہ رہتا ہے بخلاف بکریوں کے چونکہ وہ بیچاری سیدھی سادی اور بےضرر ہوتی ہیں اس لئے ان کے رہنے کی جگہ نماز پڑھ لینے کی اجازت دے دی۔ اتنی بات اور سمجھ لینی چاہئے کہ نماز پڑھنے کے سلسلہ میں یہ جواز او عدم جواز اس صورت میں ہے جب کہ مرابض (بکریوں کے رہنے کی جگہ) اور مبارک (اونٹوں کے بندھنے کی جگہ) نجاست و گندگی سے خالی ہوں اگر وہاں نجاست ہوگی تو پھر مرابض میں بھی نماز پڑھنی مکروہ ہوگی۔

291Mishkaat-al-Masabih

وضو کو واجب کرنے والی چیزوں کا بیان

وَعَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَ ص قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اِذَا وَجَدَ اَحَدُکُمْ فِیْ بَطْنِہٖ شَےْئًا فَاَشْکَلَ عَلَےْہِ أَخَرَجَ مِنْہُ شَْیْءٌ اَمْ لَا فَلَا ےَخْرُجَنَّ مِنَ الْمَسْجِدِ حَتّٰی ےَسْمَعَ صَوْتًا اَوْ ےَجِدَ رِےْحًا ۔ (صحیح مسلم)

اور حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی اپنے پیٹ کے اندر کچھ پائے (یعنی قراقر) اور اس پر یہ بات مشتبہ ہو کہ کوئی چیز خارج ہوئی یا نہیں تو اس وقت تک وضو کے لئے مسجد سے باہر نہ نکلے جب تک آواز کو نہ سنے یا بو نہ پائے۔ (صحیح مسلم) تشریح جب تک کوئی آواز نہ سنے یا بو نہ پائے یہ غالب کے اعتبار سے ہے ورنہ اس حدیث کا مقصد یہ ہے کہ جب ریاح کا خارج ہونا یقینی طور پر معلوم ہوجائے خواہ آواز سنے یا نہ سنے بو معلوم ہو یا نہ معلوم ہو تو سمجھ لے کہ وضو ٹوٹ گیا ہے۔

292Mishkaat-al-Masabih

وضو کو واجب کرنے والی چیزوں کا بیان

وَعَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَبَّاسٍ ص قَالَ اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم شَرِبَ لَبَنًا فَمَضْمَضَ وَقَالَ اِنَّ لَہُ دَسَمًا۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)

اور حضرت عبداللہ بن عباس ؓ راوی ہیں کہ (ایک مرتبہ) سرکار دو عالم ﷺ نے دودھ پیا (اس کے بعد) کلی کی اور فرمایا دودھ میں چکناہٹ ہوتی ہے۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم) تشریح اس حدیث سے معلوم ہوا کہ چکنی چیز کھانے کی بعد کلی کرنا مستحب ہے، اس لئے کہ اگر کلی نہ کی جائے تو ہوسکتا ہے کہ جو چیز کھائی گئی چکناہٹ کی وجہ سے اس کا کچھ حصہ منہ میں لگا رہ جائے، جب نماز پڑھی جائے تو حالت نماز میں پیٹ میں پہنچ جائے اس پر ہر اس چیز کو قیاس کیا جاتا ہے جو منہ میں لگی ہو اور حالت نماز میں اس کے پیٹ میں پہنچ جانے کا خوف ہو تو اس سے بھی کلی کرنا مستحب ہے۔ اس حدیث سے علماء کرام نے مسئلہ بھی مستنبط کیا ہے کہ کھانا کھانے سے پہلے صفائی اور ستھرائی کے لئے ہاتھوں کو دھولینا چاہئے، ہاں اگر ہاتھ پہلے سے صاف ستھرے ہیں اور نجاست و میل نہیں لگی ہے تو پھر ہاتھوں کا دھونا ضروری نہیں ہے، اسی طرح کھانا کھانے کے بعد بھی ہاتھوں کو دھونا چاہئے اگر کھانا خشک ہونے کی وجہ سے یا چمچہ وغیرہ سے کھانے کی وجہ سے ہاتھ میں کچھ نہ لگے تو پھر ہاتھوں کا دھونا ضروری نہیں ہے۔ آخر میں یہ بات سمجھ لینی چاہئے کہ بظاہر تو اس باب سے اس حدیث کی کچھ ماسبت نظر نہیں آتی ہے اس لئے یہ اعتراض پیدا ہوسکتا ہے کہ مصنف مشکوٰۃ نے اس حدیث کو اس باب میں کیوں ذکر کیا؟ اس کا مختصر جواب یہ ہے کہ اس حدیث میں کلی کا ذکر کیا گیا ہے وہ متعلقات وضو سے ہے اس لئے اس حدیث کو اس باب میں ذکر کیا گیا ہے۔

293Mishkaat-al-Masabih

وضو کو واجب کرنے والی چیزوں کا بیان

وَعَنْ بُرَےْدَۃَ ص اَنَّ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلم صَلَّی الصَّلَوَاتِ ےَوْمَ الْفَتْحِ بِوُضُوْءٍ وَّاحِدٍ وَّمَسَحَ عَلٰی خُفَّےْہِ فَقَالَ لَہُ عُمَرُ ص لَقَدْ صَنَعْتَ الْےَوْمَ شَےْئًا لَّمْ تَکُنْ تَصْنَعُہُ فَقَالَ عَمْدًا صَنَعْتُہُ ےَا عُمَرُ ص۔(مسلم )

اور حضرت بریدہ ؓ ( اسم گرامی بریدہ بن حصیب ہے ان کی کنیت جو مشہور ہے وہ ابوعبداللہ ہے، یہ مدینہ کے باشندہ تھے مقام مرد میں یزید بن معاویہ ٦٣ ھ میں انتقال فرمایا)۔ فرماتے ہیں کہ فتح مکہ کے دن سرکار دو عالم ﷺ نے ایک وضو سے کئی نمازیں پڑھیں (یعنی ایک ہی وضو سے پانچوں نمازیں پڑھیں) اور موزوں پر مسح کیا (یہ دیکھ کر) حضرت عمر فاروق ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کی کہ آپ ﷺ نے آج وہ چیز کی ہے جس کو آپ ﷺ نے کبھی نہیں کیا آپ ﷺ نے فرمایا عمر فاروق (رضی اللہ تعالیٰ عنہ)! میں نے ایسا قصداً کیا ہے۔ (صحیح مسلم) تشریح حضرت عمر فاروق ؓ کے کہنے کا مقصد یہ تھا کہ پہلے تو آپ ﷺ کا معمول یہ تھا کہ ہر نماز لئے تازہ وضو کرتے تھے، مگر آج آپ ﷺ نے خلاف معمول ایک وقت وضو کرلیا پھر اسی وضو سے آپ ﷺ نے پانچوں نمازیں ادا فرمائیں اور پھر ایک نئی چیز کی کہ موزوں پر مسح بھی فرمایا حالانکہ آپ ﷺ ایسا کبھی نہیں کرتے تھے۔ اس کے جواب میں آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ میرا عمل کسی دوسری وجہ سے نہیں بلکہ میں نے قصدًا کیا ہے تاکہ لوگوں کو یہ معلوم ہوجائے کہ یہ دونوں صورتیں بھی جائز ہیں اور دوسرے بھی ایسا کرسکتے ہیں۔

294Mishkaat-al-Masabih

وضو کو واجب کرنے والی چیزوں کا بیان

وَعَنْ سُوَےْدِ بْنِ النُّعْمَانِ ص اَنَّہُ خَرَجَ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم عَامَ خَےْبَرَ حَتّٰی اِذَا کَانُوْا بِالصَّہْبَآءِ وَھِیَ اَدْنٰی خَےْبَرَ صَلَّی الْعَصْرَ ثُمَّ دَعَا بِالاَْزْوَادِ فَلَمْ ےُؤْتَ اِلَّا بِالسَّوِےْقِ فَاَمَرَ بِہٖ فَثُرٍّیَ فَاَکَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم وَاَکَلْنَا ثُمَّ قَامَ اِلَی الْمَغْرِبِ فَمَضْمَضَ وَمَضْمَضْنَا ثُمَّ صَلّٰی وَلَمْ ےَتَوَضَّأْ۔ (صحیح البخاری)

اور حضرت سوید بن نعمان ؓ ( اسم گرامی حضرت سوید ابن نعمان ؓ ہے آپ کا شمار اہل مدینہ میں ہے)۔ راوی ہیں کہ وہ سرکار دو عالم ﷺ کے ہمراہ خیبر ( کے فتح) کے سال سفر پر گئے جب صہباء کے مقام پر پہنچے جو خیبر کے نزدیک ہے، عصر کی نماز پڑھی اور پھر آپ ﷺ نے توشہ (زاد راہ) منگوایا، چناچہ ستو کے علاوہ کچھ نہ تھا جو حاضر کیا گیا اور آپ ﷺ کے حکم سے اس کو گھولا گیا، پھر رسول اللہ ﷺ نے اور ہم نے اس کو کھایا اور پھر مغرب کی نماز کے لئے کھڑے ہوئے آپ ﷺ نے کلی کی اور ہم نے بھی کلی کی اور وضو نہیں کیا۔ (صحیح البخاری) تشریح اس حدیث نے اس مسئلہ کی وضاحت کردی کہ آگ سے پکی ہوئی چیز کو کھانے سے وضو نہیں ٹوٹتا، اس لئے کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ستو کھایا جو آگ ہی سے تیار کیا جاتا ہے اور اس کے بعد صرف کلی کر کے مغرب کی نماز پڑھ لی اور وضو نہیں کیا۔

295Mishkaat-al-Masabih

وضو کو واجب کرنے والی چیزوں کا بیان

عَنْ اَبِی ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہٖ وَسَلَّمَ لَا وَضُوْءَ اِلَّا مِنْ صُوْتِ اَوْرِیْحِ۔ (رواہ مسند احمد بن حنبل والجامع ترمذی)

حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا وضو کرنا آواز با بو سے واجب ہوتا ہے۔ (مسند احمد بن حنبل، جامع ترمذی) تشریح مطلب یہ ہے کہ وضو شک سے نہیں ٹوٹتا، جب تک یقین نہ ہوجائے وضو باقی رہتا ہے یعنی پیٹ میں اگر محض قراقر ہو تو اس شبہ سے کہ شاید ریاح کا اخراج ہوگیا ہو وضو نہیں ٹوٹے گا ہاں جب آواز کے نکلنے یا بو سے یقین ہوجائے کہ ریاح خارج ہوگئی ہے تو جب وضو ٹوٹ جائے گا۔

296Mishkaat-al-Masabih

وضو کو واجب کرنے والی چیزوں کا بیان

وَعَنْ عَلِیِّ رَضِیَ اﷲُ عَنْہُ قَالَ سَأَلَتٌ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلم عَنِ الْمُذِیِّ فَقَالَ مِنَ الْمُذِیِّ الْوُضُوْءُ وَمِنَ الْمَنِیِّ الْغُسْلُ۔(رواہ الجامع ترمذی)

اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں کہ میں نے (حضرت مقداد ؓ کے واسطہ سے) سرکار دو عالم ﷺ سے مذی کے بارے میں دریافت کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ مذی نکلنے سے وضو لازم آتا ہے اور منی نکلنے سے غسل واجب ہوتا ہے۔ (جامع ترمذی)

297Mishkaat-al-Masabih

وضو کو واجب کرنے والی چیزوں کا بیان

وَعَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہٖ وَسَلَّمَ مِفْتَاحُ الصَّلَاۃِ الطُّھُوْرُ وَ تَحْرِیْمُھَا التَّکْبِیْرُ وَ تَحَلِیْلُھَا التَّسْلِیْمُ۔ رَوَاہُ اَبُوَدَاؤدَ وَالْتِرْمِذِّیُّ وَالدَّارِمِیُّ وَرَوَاہُ ابْنُ مَاجَۃَ عَنْہُ وَعَنْ اَبِی سَعِیْدِ۔

اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا نماز کی کنجی وضو ہے نماز کی تحریم تکبیر (یعنی اللہ اکبر کہنا) ہے اور نماز کی تحلیل سلام پھیرنا۔ (ابوداؤد، جامع ترمذی، ودارمی اور ابن ماجہ نے اس حدیث کو حضرت علی المرتضیٰ اور حضرت ابی سعید سے روایت کیا ہے) تشریح ؛ تکبیر یعنی اللہ اکبر کہنے سے نماز شروع ہوتی ہے جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ کھانا پینا اور جتنے کام نماز کے منافی ہیں اب سب حرام ہوگئے ہیں اور سلام پھیرنے سے نماز ختم ہوجاتی ہے جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ نماز شروع کردینے سے جتنی چیزیں حرام کرلی گئی تھیں اب وہ سب حلال ہوگئیں ہیں اسی کو فرمایا گیا ہے کہ نماز کی تحریم تکبیر اور اس کی تحلیل سلام پھیرنا ہے۔

298Mishkaat-al-Masabih

وضو کو واجب کرنے والی چیزوں کا بیان

وَعَنْ عَلِیِّ بْنِ طَلْقِ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہٖ وَسَلَّمَ اِذَا فَسَا اَحَدُکُمْ فَلْیَتَوَضَّأَ وَلَا تَأْتُوْا النِّسَاءَ فِی اَعْجَازِ ھِنَّ۔(رواہ الجامع ترمذی و ابوداؤد)

اور حضرت علی بن طلق ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی حدث کرے (یعنی بغیر آواز کے ہوا خارج ہو) تو اسے وضو کرنا چاہئے اور تم عورتوں سے (خلاف فطرت) ان کی مقعد (یعنی پاخانہ کی جگہ) میں جماع نہ کرو۔ (جامع ترمذی، ابوداؤد)

299Mishkaat-al-Masabih

وضو کو واجب کرنے والی چیزوں کا بیان

وَعَنْ مُعَاوِیَۃَ ابْنِ اَبِی سُفْیَانَ اَنَّ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ اِنَّمَا الْعَیْنَانِ وِکَاءُ السَّہِ فَاِذَا نَأمَتِ الْعَیْنُ اسْتَطْلَقَ الْوِکَائُ(رواہ الدارمی)

اور حضرت معاویہ بن ابی سفیان ؓ (اسم گرامی معاویہ ؓ کنیت ابوعبدالرحمن اور والد کا نام ابوسفیان ہے۔ آپ کاتب وحی ہیں ٦٠ ھ میں وفات پائی)۔ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا آنکھیں سرین کا سر بند ہیں چناچہ آنکھ سو جاتی ہے تو سر بند کھل جاتا ہے۔ (دارمی) تشریح جب انسان جاگتا رہتا ہے تو گویا اس کے مقعد پر بند لگا رہتا ہے جس کی وجہ سے ہوا خارج نہیں ہوتی بلکہ رکی رہتی ہے اور اگر خارج ہوتی ہے تو اس کا احساس ہوتا ہے جب سو جاتا ہے تو چونکہ وہ بےاختیار ہوجاتا ہے جوڑ ڈھیلے پڑجاتے ہیں تو ہوا کے خارج ہونے کا گمان رہتا ہے جس کا اسے یقینی احساس نہیں ہوسکتا اسی لئے نیند کو ناقض وضو کہا جاتا ہے۔

300Mishkaat-al-Masabih

وضو کو واجب کرنے والی چیزوں کا بیان

وَعَنْ عَلِیِّ رَضِیَ اﷲُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہٖ وَسَلَّمَ وِکَاءُ السَّہِ الْعَیْنَانِ فَمَنْ نَامَ فَلَیْتَوَضَّا۔ (رواہ ابوداؤد)وَقَالَ الشَّیْخُ الْاِقَامُ مُحِیُّ السُّنَّۃِ رَحِمَہُ اﷲُ ھٰذَا فِی غَیْرِ الْقَاعِدِ لِمَا صَحَّ عَنْ اَنَسِ قَالَ کَانَ اَصْحَابُ رَسُوْلُ اﷲِ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہٖ وَسَلَّمَ یَنْتُظُرُوْنَ الْعِشَاءَ حَتّٰی تَحْفَقَ رَؤُوْسُھُمْ ثُمَّ یَصَلُّوْنَ وَلَا یَتَوَضَّأًوُنَ رَوَاہُ اَبُوْدَاوُدْوَالْتِرْمِذِّیُّ اِلَّا اَنَّہُ ذَکَرَ فِیْہِ یُنَامُوْنَ بَدَلَ یَنْتَظِرُوْنَ الْعِشَاءَ حَتَّی تُخْفِقَ رُوؤُسُھُمْ۔

اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے فرمایا سرین کا سر بند آنکھیں ہیں لہٰذا جو آدمی سو جائے اسے چاہئے کہ وضو کرے۔ (ابوداؤد) اور حضرت امام محی السنۃ (رح) فرماتے ہیں کہ یہ حکم اسی آدمی کے واسطے ہے جو بیٹھا نہ ہو (بلکہ لیٹ کر سویا ہو) اس لئے کہ حضرت انس ؓ سے صحیح طور پر ثابت ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ سرکار دو عالم ﷺ کے اصحاب عشاء کی نماز بیٹھے ہوئے) انتظار کیا کرتے تھے یہاں تک کے نیند کے سبب سے ان کے سر جھک جاتے تھے، اسی حالت میں وہ اٹھ کر نماز پڑھ لیتے تھے وضو نہ کرتے تھے۔ (ابوداؤد، جامع ترمذی) مگر جامع ترمذی نے اپنی روایت میں یَنْتَظِرُوْنَ الْعِشَاءَ حَتَّی تَخْفِقَ رُؤُوْسُھُمْ کے بجائے لفظ ینامون ذکر کیا ہے۔ تشریح حضرت امام محی السنۃ کے قول کا مطلب یہ ہے کہ اس حدیث کا حکم سونے والوں کے بارے میں نہیں ہے بلکہ ایسے آدمی کے بارے میں ہے جو لیٹ کر سو جائے، کیونکہ لیٹ کر سونے سے تمام اعضاء ڈھیلے ہوجاتے ہیں اور اپنے اوپر پوری طرح اختیار نہیں رہتا اس لئے ہوسکتا ہے کہ اس حالت میں ریاح خارج ہوجائے اور اس کا احساس بھی نہ ہو۔ ہاں جو آدمی لیٹ کر نہیں بلکہ بیٹھا بیٹھا اس طرح سو جائے اس کی مقعد زمین پر رکھی رہے اور پھر جب وہ جاگے تو مقعد اسی طرح زمین پر ٹھہری ہوئی ہو تو وضو نہیں ٹوٹتا چاہے وہ جتنا بھی سوئے، چناچہ حضرت انس ؓ کی مذکورہ حدیث سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ بیٹھے ہوئے سونے سے وضو نہیں ٹوٹتا، بیٹھنے کی اقسام فقہ کی کتابوں میں مذکور ہیں، جن کو قیاس یا دیگر احادیث سے ثابت کیا گیا ہے۔