وضو کو واجب کرنے والی چیزوں کا بیان
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسِ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہٖ وَسَلَّمَ اِنَّ الْوُضُوْءَ عَلَی مَنْ نَّامَ مُضْطَجِعًا فَاِنَّہُ اِذَا اضْطَجَعَ اسْتَرْخَتْ مَفَاصِلُہ،۔(رواہ الجامع ترمذی و ابوداؤد)
اور حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا وضو اس آدمی پر لازم ہوتا ہے جو لیٹ کر سو جائے اس لئے کہ جس وقت آدمی لیٹتا ہے تو اس کے (بدن کے جوڑ ڈھیلے ہوجاتے ہیں) اور پھر ہوا خارج ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔ (جامع ترمذی، ابوداؤد)
تشریح
حضرت میرک شاہ (رح) نے فرمایا ہے کہ حدیث منکر ہے کیونکہ اس کے راویوں میں ایک راوی یزید دالانی بھی ہے جو کہ کثیر الخطاء اور فاحش الوہم اور ثقات کے مخالف ہے۔
وضو کو واجب کرنے والی چیزوں کا بیان
وَعَنْ بُسْرَۃَ بِنْتِ صَفْوَانَ بْنِ نَوْفَلِ قَالَتْ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہٖ وَسَلَّمَ اِذَا مَسَّ اَحَدُکُمْ ذَکَرَہ، فَلْیَتَوَضَّأْ۔ (رواہ موطا امام مالک و مسند احمد بن حنبل و ابوداؤد و الجامع ترمذی و السنن نسائی و ابن ماجہ و الدارمی)
حضرت بسرہ ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا تم میں سے جو آدمی اپنے ذکر (عضو خاص) کو ہاتھ لگائے تو اس کو چاہئے کہ وہ وضو کرے۔ (مالک، ابوداؤد، جامع ترمذی، سنن نسائی، دارمی)
تشریح
پیشاب گاہ کو چھونے سے وضو ٹوٹ جانے میں اختلاف ہے، بلکہ اس مسئلہ میں خود صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں بھی اختلاف تھا چناچہ امام شافعی (رح) کا مسلک یہ ہے کہ اگر کسی آدمی نے اپنے ذکر کو ننگی ہتھیلی سے چھو دیا تو اس کا وضو ٹوٹ جائے گا، ان کی دلیل یہی مذکورہ حدیث ہے۔ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ (رح) فرماتے ہیں کہ ذکر کو چھو دینے سے وضو نہیں ٹوٹتا، ان کی دلیل ما بعد کی حدیث ہے جو قیس بن علی کی روایت کے ساتھ جسے انہوں نے اپنے باپ سے روایت کیا ہے، مسند ابی حنیفہ میں مذکور ہے اس کے علاوہ امام اعظم (رح) کی دلیل میں اور بہت سی حدیثیں وارد ہیں اس سلسلہ میں مزید تشفی کے لئے شرح ملا علی قاری اور مشکوٰۃ کا ترجمہ حضرت شیخ عبدالحق دہلوی میں دیکھا جاسکتا ہے۔ حضرت ابن ہمام (رح) فرماتے ہیں کہ حقیقت تو یہ ہے کہ یہ دونوں حدیثیں یعنی بسرہ کی یہ حدیث جو شوافع کی دلیل ہے اور طلق بن علی ؓ کی حدیث جو آگے آرہی ہے اور حنیفہ کی دلیل ہے، درجہ حسن سے باہر نہیں ہیں لیکن حضرت طلق ابن علی ؓ کی حدیث کو حضرت بسرہ ؓ کی حدیث پر ترجیح ہوگی اس لئے کہ حضرت بسرہ ؓ عورت اور حضرت طلق بن علی ؓ مرد ہیں اور ظاہر ہے کہ عورت کے مقابلے میں مرد کی حدیث قوی ہوتی ہے کیونکہ وہ عوت کی نسبت علم اور حدیث کو خوب اچھی طرح یاد رکھتے ہیں اور ان کی قوت حافظہ عورتوں سے زیادہ مضبوط ہوتی ہے چناچہ یہی وجہ ہے کہ دو عورتوں کی گواہی ایک مرد کی گواہی کے برابر ہوتی ہے۔
وضو کو واجب کرنے والی چیزوں کا بیان
وَعَنْ طَلْقِ بِنْ عَلِیِّ قَالَ سُئِلَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم عَنْ مَسِّ الرَّجُلِ ذَکَرَہ، بَعْدَ مَایَتَوَضَّأُ قَالَ وَھَلْ ھَوَ اِلَّا بُضْعَۃٌ مِنْہُ رَوَاہُ اَبُوْدَاؤدَ وَالتِرْمِذِیُّ وَالنِّسَائِیُ وَ رَوَی ابْنُ مَاجَۃَ نَحْوَہُ وَقَالَ الشَّیْخُ الْاِمَامُ مُحِیُّ السُّنَۃِ ھٰذَا مَنْسُوْخٌ لِاَنَّ اَبَاھُرَیْرَۃَ اَسْلَمَ بَعْدَ قُدُوْمِ طَلْقِ وَقَدْرَوَی اَبُوْھُرَیْرَۃَ عَنْ رَسُوْلِ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالِ اِذَا اَفْضَی اَحَدُکُمْ بِیَدِہٖ اِلَی ذَکَرِہٖ لَیْسَ بَیْنَہ، وَبَیْنَھَا شَیْیءٌ فَلْیَتَوَضَّأْ۔ (رَوَاہُ الشَّافِعِیُ وَالدَّارَ قُطْنِیُّ وَرَوَاہُ النَّسَائِیُّ عَنْ بُسْرَۃَ اِلَّا اَنَّہُ لَمْ یَذْکُرْ لَیْسَ بَیْنَہ، وَبَیْنَھَا شَیْی ئً )
اور حضرت طلق بن علی المرتضیٰ ) اسم گرامی طلق بن علی اور کنیت ابوعلی ہے ان کی حدیثیں ان کے بیٹے قیس سے مروی ہیں۔ (فرماتے ہیں کہ (ایک مرتبہ) سرکار دو عالم ﷺ سے پوچھا گیا کہ وضو کرنے کے بعد اگر کوئی آدمی اپنے ذکر کو چھوئے (تو کیا حکم ہے؟ ) آپ ﷺ نے فرمایا وہ بھی تو آدمی کے گوشت کا ایک ٹکڑا ہے ابوداؤد، جامع ترمذی، سنن نسائی اور سنن ابن ماجہ نے بھی اسی طرح روایت کیا ہے امام محی السنۃ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث منسوخ ہے اس لئے کہ حضرت ابوہریرۃ ؓ حضرت طلق بن علی ؓ کے آنے کے بعد اسلام لائے ہیں اور حضرت ابوہریرہ ؓ سے رسول اللہ ﷺ کی یہ حدیث منقول ہے کہ جب تم میں سے کسی کا ہاتھ اپنے ذکر پر پہنچ جائے اور ہاتھ و ذکر کے درمیان کوئی چیز حائل نہ ہو تو اس کو چاہئے وضو کرے۔ (شافع دار قطنی اور سنن نسائی نے بسرہ ؓ سے یہ روایت نقل کی ہے جس میں لَیْسَ بَیْنَہ، وَبَیْنَھَا شَیْیئٌ کے الفاظ مذکور ہیں۔
تشریح
رسول اللہ ﷺ کے جواب کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح بدن کے گوشت کے دیگر ٹکڑے مثلاً ہاتھ پاؤں کان ناک وغیرہ ہیں اسی طرح ذکر بھی بندہ کے گوشت ہی کا ایک ٹکڑا ہے اور جب ان دوسرے ٹکڑوں اور حصوں کو چھونے سے وضو نہیں ٹوٹتا تو پھر ذکر کے چھو جانے سے کیوں وضو ٹوٹے گا لہٰذا اس سے معلوم ہوا کہ مس ذکر ناقص وضو نہیں ہے۔ امام محی السنہ (رح) کا قول در اصل حضرات شوافع کی ترجمانی ہے اس کا مطب یہ ہے کہ حضرت ابوہریرۃ و طلق بن علی ؓ کے بہت بعد اسلام لائے ہیں، کیونکہ حضرت طلق ؓ ہجرت کے فورًا بعد جب کہ مسجد نبوی کی تعمیر ہو رہی تھی آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ہیں اور حضرت ابوہریرہ ؓ سن ٧ ھ میں غزوہ خبیر کے موقع پر اسلام لائے ہیں اس لئے حضرت طلق بن علی ؓ کا رسول اللہ ﷺ سے حدیث سننا پہلے ہوا اور حضرت ابوہریرہ ؓ کا سننا بعد میں ہوا ہوگا، لہٰذا حضرت طلق ؓ کی حدیث منسوخ اور حضرت ابوہریرہ ؓ کی حدیث ناسخ ہوئی۔ حنفیہ جواب دیتے ہیں کہ حضرت طلق کے اسلام لانے کے بعد حضرت ابوہریرہ ؓ کے اسلام لانے سے یہ کہاں ثابت ہوا کہ حضرت ابوہریرہ ؓ نے یہ حدیث سنی بھی بعد میں ہو شوافعہ کا یہ دعویٰ تو جب صحیح ہوسکتا ہے کہ یہ بھی ثابت ہو کہ حضرت ابوہریرہ ؓ کے اسلام لانے سے پہلے ہی حضرت طلق ؓ انتقال فرما چکے تھے یا یہ کہ اپنے وطن کو چلے گئے تھے کہ پھر اس کے بعد رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں بھی کبھی حاضر نہیں ہوئے، اس لئے کہ اگر حضرت طلق ؓ، حضرت ابوہریرہ ؓ کے اسلام لانے سے پہلے انتقال فرما جاتے ہیں یا اپنے وطن کو واپس لوٹ جاتے تو پھر حضرت ابوہریرہ ؓ کے اسلام لانے کے بعد کچھ نہیں سن سکتے تھے مگر اب تو یہ ممکن ہے کہ حضرت طلق ؓ نے یہ حدیث حضرت ابوہریرہ ؓ کے اسلام لانے کے بعد ہی سنی ہو لہٰذا شوافع کا یہ استدلال صحیح نہیں ہے۔ حضرت مظہر نے ایک اچھی اور فیصلہ کن بات کہہ دی ہے وہ فرماتے ہیں کہ ان دونوں حدیثوں میں تعارض ہوگیا ہے حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت کردہ حدیث سے تو ثابت ہو رہا ہے کہ مس ذکر ناقض وضو ہے اور حضرت طلق ؓ کی حدیث مس ذکر کو ناقض وضو نہیں کہتی لہٰذا اس تعارض کی شکل میں ہمیں چاہئے کہ ہم دوسرے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے اقوال کی طرف رجوع کریں چناچہ بہت سے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین مثلاً حضرت علی، حضرت عبداللہ ابن مسعود، حضرت ابودرداء حضرت حذیفہ اور حضرت عمر فاروق رضوان اللہ علیہم اجمعین کے یہ اقوال ثابت ہیں کہ ذکر چھونے سے وضو نہیں ٹوٹتا اس لئے یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ حنفیہ ہی کا مسلک صحیح ہے کہ مس ذکر ناقض وضو نہیں ہے، واللہ اعلم بالصواب۔
وضو کو واجب کرنے والی چیزوں کا بیان
وَعَنْ عَآئِشَۃَ قَالَتْ کَانَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم یُقَبِّلُ بَعْضَ اَزْوَاجِہٖ ثُمَّ یُسَلِّیْ وَلَا یَتَوَضَّأُ رَوَاہُ اَبُوْدَاؤدَ وَالتِّرْمِذِیُّ وَالنَّسَائِیُّ وَابْنُ مَاجَۃَ وَقَالَ التِّرْمِذِیُّ لَا یَصِحُّ عِنْدَاَصْحَابِنَا بِحَالِ إِسْنَادُ عُرْوَۃَ عَنْ عَآئِشَۃَ وِاِیْضًا اِسْنَادُ اِبْرَاھِیْمَ التَّیْمِیِّ عَنْھَا وَقَالَ اَبُوْدَاؤدَ ہٰذَا مُرْسَلٌ وَاِبْرَاھِیْمُ التَّیْمِیُّ لَمْ یَسْمَع عَنْ عَآئِشَۃَ۔
اور حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ اپنی بعض بیویوں کا بوسہ لیتے تھے اور بغیر وضو کے (پہلے ہی وضو سے) نماز پڑھ لیتے تھے (ابوداؤد، جامع ترمذی، سنن نسائی ابن ماجہ) جامع ترمذی نے کہا ہے کہ ہمارے علماء کے نزدیک کسی حال میں عروہ کی سند حضرت عائشہ ؓ سے نیز ابراہیم تیمی کی بھی سند حضرت عائشہ ؓ سے صحیح نہیں ہے اور ابوداؤد نے کہا ہے کہ یہ حدیث مرسل ہے اس لئے کہ ابراہیم تیمی نے حضرت عائشہ ؓ سے نہیں سنا ہے۔
تشریح
اس مسئلہ میں بھی علماء کا اختلاف ہے چناچہ حضرت امام شافعی (رح) اور امام مسند احمد بن حنبل کے نزدیک غیر محرم عورت کو چھونے سے وضو ٹوٹا جاتا ہے، حضرت امام مالک (رح) فرماتے ہیں کہ غیر محرم عورت کو اگر شہوت کے ساتھ چھوئے تو وضو ٹوٹ جائے گا، ورنہ نہیں ٹوٹے گا ہمارے امام اعظم ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک وضو نہیں ٹوٹتا، ان کی دلیل یہی حدیث ہے، نیز حضرت عائشہ ؓ کی ایک دوسری حدیث بھی جو صحیح البخاری و صحیح مسلم میں مذکور ہے حضرت امام اعظم (رح) کی دلیل ہے جس میں حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں رسول اللہ ﷺ جب رات میں تہجد پڑھنے کے لئے بیدار ہوتے تو میں سوتی رہتی اور میرے دونوں پاؤں رسول اللہ ﷺ کے سجدہ کی جگہ پڑھے رہتے تھے چناچہ آپ ﷺ سجدہ کے وقت میرے پیروں میں ٹھونکا دیتے تھے تو میں اپنے پیر سمیٹ لیتی تھی لہٰذا اس حدیث سے بھی معلوم ہوا کہ عورت کے چھونے سے وضو نہیں ٹوٹتا، امام جامع ترمذی کا یہ کہنا عروہ ؓ کی سماعت حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے ثابت نہیں ہے بالکل صحیح نہیں ہے کیونکہ صحیحین میں (صحیح البخاری و صحیح مسلم) میں اکثر احادیث میں حضرت عائشہ ؓ سے حضرت عروہ ؓ کا سماع ثابت ہے معلوم ہوتا ہے کہ جامع ترمذی کے اس قول کو نقل کرنے میں مصنف مشکوٰۃ سے کچھ چوک ہوگئی ہے کیونکہ جامع ترمذی کے اس قول کا یہ مطلب نہیں لیا جاتا جو مصنف مشکوٰۃ نے اخذ کیا ہے۔ ابوداؤد (رح) کا یہ کہنا کہ یہ حدیث یعنی مرسل کی ایک قسم منقطع) ہے درا اصل حنفیہ کی اس دلیل کو کمزور کرتی ہے کہ جب یہ حدیث مرسل ہے تو حنفیہ کا اس کو اپنی دلیل میں پیش کرنا صحیح نہیں ہے ہم اس کا جواب دیتے ہیں کہ ہمارے نزدیک حدیث مرسل بھی حجت ہوتی ہے اور نہ صرف ہمارے نزدیک بلکہ جمہور علماء بھی مرسل حدیث کی حجیت کو تسلیم کرتے ہیں، لہٰذا اس حدیث کو مرسل کہہ کر اسے ناقابل استدلال قرار نہیں دیا جاسکتا۔
وضو کو واجب کرنے والی چیزوں کا بیان
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسِ قَالَ اَکَلَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم کَتِفًا ثُمَّ مَسَحَ یَدَہ، بِمَسْحِ کَانَ تَحْتَہ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّی۔ (رواہ ابوداؤ دو ابن ماجۃ)
اور حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے بکری کا شانہ (یعنی بکری بریاں کے شانہ کا گوشت) کھایا، پھر اپنا ہاتھ ٹاٹ سے پونچھ لیا جو آپ ﷺ کے نیچے بچھا ہوتا تھا اور پھر کھڑے ہو کر نماز پڑھ لی۔ (ابوداؤد، ابن ماجہ)
تشریح
اس حدیث نے بھی حنفیہ کے اس مسلک کی توثیق کردی ہے کہ آگ سے پکی ہوئی چیز کھا لینے سے وضو نہیں ٹوٹتا، نیز اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ کھانا کھانے کے بعد اگر منہ پر چکنائی وغیرہ لگے تو اس کا دھونا ضروری نہیں ہے۔
وضو کو واجب کرنے والی چیزوں کا بیان
وَعَنْ اُمِّ سَلَمَۃَ اَنَّھَا قَالَتْ قَرَّبْتُ اِلَی النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم جَنْبًا مَشْوِیًّا فَاکَلَ مِنْہ، ثُمَّ قَامَ اِلَی الصَلٰوۃِ وَلَمْ یَتَوَضَّأْ۔(رواہ مسند احمد بن حنبل)
اور حضرت ام سلمہ ؓ فرماتی ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک بھنا ہوا پہلو لے گئی چناچہ آپ ﷺ نے اس میں سے کھایا پھر نماز کے لئے کھڑے ہوگئے اور وضو نہیں کیا (نہ ہاتھ منہ دھویا۔ (مسند احمد بن حنبل)
وضو کو واجب کرنے والی چیزوں کا بیان
وَعَنْ اَبِیْ رَافِعٍ ص قَالَ اَشْھَدُ لَقَدْ کُنْتُ اَشْوِیْ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم بَطْنَ الشَّاۃِ ثُمَّ صَلّٰی وَلَمْ ےَتَوَضَّأْ۔ (صحیح مسلم)
حضرت ابورافع ؓ فرماتے ہیں کہ اس بات کی قسم کھاتا ہوں کہ میں سرکار دو عالم ﷺ کے لئے بکری کا پیٹ (یعنی کے اندر کی چیزیں مثلاً دل کلیجی وغیرہ) بھونتا تھا، آپ ﷺ (اس میں سے کھاتے) پھر نماز کے لئے کھڑے ہوجاتے اور وضو نہ کرتے۔ (صحیح مسلم)
وضو کو واجب کرنے والی چیزوں کا بیان
وَعَنْہُ قَالَ اُحْدِیَتْ لَہ، شَاۃٌ فَجَعَلَھَا فِی الْقِدْرِ فَدَخَلَ رَسُوْلُ صلی اللہ علیہ وسلم فَقَالَ مَا ھٰذَا یَا اَبَارَافِعِ فَقَالَ شَاۃٌ اُھْدِیَتْ لَنَا یَا رَسُوْلُ اﷲِ فَطَبَخْتُھَا فِی الْقِدْرِ فَقَالَ نَاوِلنِْی الدْرَاعَ یَا اَبَارَافِعِ فَنَا وَلْتُہُ الذَّرَاعَ ثُمَّ قَالَ نَاوِلْنِی لذْرَاعَ الْآخَرَ فَنَا وَلْتُہُ الذِّرَاعَ الْآخَرَ ثُمَّ قَالَ نَاوِلْنِی الذِّرَاعَ الْاٰخَرَ فَقَالَ یَا رَسُوْلَ اﷲِ اِنَّمَا لِلشَّاۃِ ذِرَاعَانِ فَقَالَ لَہ، رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم اَمَّا اِنَّکَ لَوْ سَکَتَّ لَنَا وَلْتَنِیْ ذِرَاعًا فَذِرَاعًا مَاسَکَتَّ ثُمَّ دَعَا بِمَا ءِ فَتَمَضْمَضَ فَاہُ وَغَسَلَ اَطْرَافَ اَصَابِعِہٖ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّی ثُمَّ عَادَاِلَیْھِمْ فَوَجَدَ عِنْدَھُمْ لَحْمًا بَارِدًافَاَکَلَ ثُمَّ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَسَلَّی وَلَمْ یَمَسَّ مَآئً رَوَاہُ اَحْمَدُ وَرَوَاہُ الدَّارِمِیُّ عَنْ اَبِیْ عَبَیْدِ اِلَّا اَنَّہُ لَمْ یَذْکُرْ ثُمَّ دَعَا بِمَاءِ اِلٰی آخِرِہٖ۔
اور حضرت ابورافع ؓ راوی ہیں کہ (ایک دن) میرے پاس تحفہ کے طور پر بکری بھیجی گئی، چناچہ میں نے اس (کے گوشت) کو (پکانے کے لئے) ہانڈی میں ڈال دیا (اسی اثناء میں) رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اور فرمایا ابورافع یہ کیا ہے؟ میں نے عرض کیا (یا رسول اللہ! بکری کا گوشت ہے جو میرے پاس ہدیہ کے طور پر آیا تھا اسی کو میں نے ہانڈی میں پکا لیا ہے آپ نے فرمایا ابورافع! ایک دست دو! میں نے دست خدمت اقدس میں پیش کردیا پھر آپ ﷺ نے فرمایا دوسرا دست دو میں نے دوسرا دست بھی خدمت اقدس میں پیش کردیا۔ آپ ﷺ نے پھر فرمایا ایک دست اور دو میں عرض کیا یا رسول اللہ! بکری کے تو دو ہی دست ہوتے ہیں (اور وہ دونوں ہی آپ کی خدمت میں پیش کرچکا ہوں اب کہاں سے لاؤں) سرکار دو عالم ﷺ نے ان سے فرمایا ابورافع! اگر تم خاموش رہتے تو مجھ کو دست پر دست دئیے چلے جاتے جب تک کہ تم چپ رہتے، پھر آپ ﷺ نے پانی منگوایا اور منہ دھویا (یعنی کلی کی) پھر انگلیوں کے پورے دھوئے اور کھڑے ہوئے اور پھر نماز پڑھ کر ابورافع کے پاس تشریف لے گئے اور ان کے نزدیک ٹھنڈا گوشت دیکھا چناچہ آپ ﷺ نے اسے کھایا اس کے بعد مسجد تشریف لے گئے اور (شکرانہ) کی نماز پڑھی اور اس حدیث کو دارمی نے بھی روایت کیا ہے مگر ثم دعا بماء سے آخر تک ذکر نہیں کیا ہے۔
تشریح
رسول اللہ ﷺ کو دست کا گوشت بہت زیادہ مرغوب تھا اور اس کی وجہ یہ تھی کہ دست کا گوشت زیادہ قوت بخش ہوتا ہے اس لئے آپ ﷺ اسے پسند فرماتے تھے تاکہ جسمانی طاقت و قوت زیادہ حاصل ہو جس کی وجہ عبادت الٰہی بخوبی ادا ہو سکے۔ ارشاد اگر تم خاموش رہتے تو مجھ کو دست پر دست دیئے چلے جاتے جب تک کہ تم چپ رہتے کا مطلب یہ ہے کہ اگر تم چپ رہتے اور میں جس طرح مانگتا جا رہا تھا تم اسی طرح اٹھا (اٹھا کردیتے رہتے تو تم دیکھ لیتے کی خداوند کریم اپنی قدرت سے معجزہ کے طور پر بےحد و بےحساب دست مہیا فرماتا، لیکن چونکہ تمہاری نظر صرف ظاہر پر تھی اور تم نے یہ سوچ کر کہ بکری کے صرف دو ہی دست ہوتے ہیں اب کہاں سے لا کر دوں گا اپنا ہاتھ کھینچ لیا اور جب تم نے خود ہی ہاتھ کھینچ لیا اور یہ جواب دے دیا تو ادھر سے بھی امداد غیبی کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ واقعی سب دست ختم ہوگئے یہاں ایک ہلکا سا خلجان واقع ہوسکتا ہے کہ جب باری تعالیٰ کی جانب سے رسول اللہ ﷺ کی خواہش کی تکمیل کی خاطر غیبی طور پر بکری کے دست کا انتظام کیا جا رہا تھا تو محض ابورافع کے جواب دے دینے سے وہ سلسلہ رک کیوں گیا اور پھر دست ظاہر کیوں نہیں فرمائے گئے۔ جواب یہ ہے کہ باری تعالیٰ کی جانب سے تمام اعزازو کرامات اور فضل و عنایات محض خالص نیت اور توجہ الی اللہ کی بناء پر ہوتی ہے لہٰذا ہوسکتا ہے کہ سرکار دو عالم ﷺ کی توجہ الی اللہ اور اللہ تعالیٰ کی جانب سے حضوری قلب میں ابورافع کے جواب سے کچھ فرق آگیا ہو اس لئے آپ ان کے جواب کے رد کی طرف متوجہ ہوگئے تھے، چناچہ ادھر سے بھی ہاتھ روک لیا گیا اور دست ختم ہوگئے۔
وضو کو واجب کرنے والی چیزوں کا بیان
وَعَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکِ قَالَ کُنْتُ اَنَا وَاُبَّیٌّ وَاَبُوْ طَلْحَۃَ جُلُوْسًا فَاَ کَلْنَا لَحْمًا وَخُبْزًا ثُمَّ دَعُوْتُ بِوُضُوُءِ فَقَالَا لِمَ تَتَوَّضَّأُ فَقُلْتُ لِھٰذَا الطَّعَامِ الَّذِی اَکَلْنَا فَقَالَا اَتَتَوَضَّأُ مِنَ الطَّیِّبَاتِ لَمْ یَتَوَضَّأُ مِنْہُ مَنْ ھُوَ خَیْرُ مِنْکَ۔ (رواہ مسند احمد بن حنبل)
اور حضرت انس ابن مالک ؓ فرماتے ہیں کہ میں، ابی بن کعب اور ابوطلحہ ؓ بیٹھے ہوئے تھے، ہم نے گوشت روٹی کھائی (کھانے سے فارغ ہو کر) میں نے وضو کے لئے پانی منگوایا ابی بن کعب اور طلحہ ؓ نے کہا تم وضو کیوں کرتے ہو میں نے کہا اس کھانے کی وجہ سے جو میں نے ابھی کھایا ہے ان دونوں نے کہا کیا تم پاک چیزوں کے کھانے سے وضو کرتے ہو ان چیزوں کو کھا کر اس آدمی نے وضو نہیں کیا جو تم سے بہتر ہیں (یعنی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )۔ (مسند احمد بن حنبل)
وضو کو واجب کرنے والی چیزوں کا بیان
وَعَنِ ابْنَ عُمَرَ رَضِیَ اﷲُ عَنْھُمَا کَانَ یَقُوْلُ قُبْلَۃُ الرَّجُلِ امْرَاٰتَہ، وَجسُّھَا بِیَدِہٖ مِنَ الْمُلَامَسَۃِ وَمَنْ قَبَّلَ امْرَاَتَہ، اَوْجَسَھَا بِیَدِہٖ فَعَلَیْہِ الْوُضُوْئُ۔(رواہ موطا امام مالک والشافعی)
اور حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ کے بارے میں مروی ہے کہ وہ کہا کرتے تھے کہ مرد کا اپنی عورت سے بوسہ لینا یا اس کو اپنے ہاتھ سے چھونا یہ بھی ملامست ہے اور جس آدمی نے اپنی عورت کا بوسہ لیا یا اس کو ہاتھ سے چھوا تو اس پر وضو واجب ہے۔ (مالک، شافعی)
تشریح
قرآن مجید میں جس جگہ ان چیزوں کا ذکر فرمایا گیا ہے جو وضو کو توڑنے والی ہیں انہیں ایک چیز ناقض وضو یہ بھی بتائی گئی ہے کہ اَوْلَمَسْتُمُ النِّسَآئَ۔ یعنی تم عورت سے ملامست کرو۔ ملامست کا حقیقی مفہوم کیا ہے؟ اور اس کا محل کیا ہے؟ اسی میں اختلاف ہو رہا ہے، امام شافعی (رح) تو یہ فرماتے ہیں کہ ملامست کے معنی عورت کو ہاتھ لگانا ہے، تو گویا اس طرح امام شافعی (رح) کے نزدیک عورت کو محض ہاتھ لگانے کے بعد اگر کسی آدمی کا وضو ہے تو وہ ٹوٹ جائے گا لہٰذا اگر وہ نماز پڑھنا چاہے تو اس کو دوبارہ وضو کرنا ضروری ہوگا۔ حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ کے مذکورہ بالا ارشاد کا مفہوم بھی یہی ہے جو حضرت امام شافعی (رح) کے مسلک کی تصدیق کر رہا ہے چناچہ حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ یہی فرما رہے ہیں کہ عورت کو صرف ہاتھ لگانا، یا عورت کا بوسہ لینا ملامست میں داخل ہے جس کو قرآن میں ناقض وضو فرمایا گیا ہے۔ ہمارے امام صاحب ملامست کے معنی قرار دیتے ہیں جماع اور ہمبستری یعنی قرآن میں ملامست عورت کا جو ذکر کیا گیا ہے اور جسے ناقض و جو کہا گیا ہے اس سے جماع اور ہمبستری مراد ہے۔ امام اعظم نے اپنے اس مسلک کی تصدیق میں دلائل کا ایک ذخیرہ جمع کردیا ہے جو فقہ کی کتابوں میں بڑی وضاحت کے ساتھ مذکور ہے۔
وضو کو واجب کرنے والی چیزوں کا بیان
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودِ کَانَ یَقُوْل مِنْ قُبْلَۃِ الرَّجُلِ امْرَأَتَہ، الْوُضُوْئُ۔(رواہ موطا امام مالک) وعن انب عمر ان عمر بن الخطاب قال ان القبلۃ من المس فتوضئو منہا
اور حضرت ابن مسعود ؓ فرمایا کرتے تھے کہ مرد کو اپنی عورت کا بوسہ لینے سے وضو لازم آتا ہے۔ (مؤطا امام مالک) اور حضرت عبداللہ ابن عمر راوی ہیں کہ حضرت عمر بن الخطاب نے فرمایا کہ بوسہ لینا لمس میں داخل ہے (جو قرآن میں مذکور ہے) لہٰذا بوسہ لینے کے بعد وضو کیا کرو۔
تشریح
حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ اور حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ کے ان اقوال سے معلوم ہوتا ہے کہ عورت کو چھونے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے جیسا کہ امام شافعی (رح) کا مسلک ہے۔ ہمارے امام صاحب (رح) کے نزدیک چونکہ عورت کو چھونے سے وضو نہیں ٹوٹتا اس لئے ان روایتوں کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اوّل تو یہ تمام روایتیں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر موقوف ہیں یعنی یہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے اقوال ہیں اس لئے ان کا حکم حدیث مرفوع یعنی رسول اللہ ﷺ کے ارشاد جیسا نہیں ہوسکتا دوسرے ان کے نزدیک یہ روایتیں درجہ صحت کو بھی نہیں پہنچی ہوئی ہیں۔ پھر اس سے قطع نظر رسول اللہ ﷺ کی یہ حدیث موجود ہے جو پہلے ذکر کی گئی اور جس کو حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے روایت کیا ہے کہ اس سے بصراحت یہ مفہوم ہوتا ہے کہ عورت کے چھونے سے وضو نہیں ٹوٹتا، نیز اس کے علاوہ مسندابی حنیفہ میں ایک دوسری حدیث مذکور ہے جسے حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ نے روایت کیا ہے کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا لیس فی القبلۃ وضو یعنی بوسہ لینے سے وضو لازم نہیں ہوتا جسے حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ نے روایت کیا ہے کہ سرکار دوعالم ﷺ نے ارشاد فرمایا لیس فی القبلۃ وضو یعنی بوسہ لینے سے وضو لازم نہیں ہوتا گویا اس حدیث نے بھی اس بات کی تصدیق کردی کہ عورت کو چھونے یا اس کا بوسہ لینے کو ناقض وضو کہا گیا ہے۔ واللہ اعلم۔
وضو کو واجب کرنے والی چیزوں کا بیان
وَعَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِالْعَزِیْزِ عَنْ تَمِیْمِ الدَّارِیِّ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہٖ وَسَلَّمَ الْوُضُوْءُ مِنْ کُلِّ دَمِّ سَائِلِ رَوَاھُمَا الدَّارَ قُطْنِیْ وَقَالَ عُمَرَ بْنُ عَبْدِالْعَزِیْزِ لَمْ یَسْمَعْ مِنْ تَمِیْمِ الدَّارِیِّ وَلَارَآہُ وَیَزِیِدُ بْنُ خَالِدِ وَیَزِیْدُ بْنُ مُحَمَّدِ مَجْھُوْلَانِ۔
حضرت عمر بن عبدالعزیز (رح) (امیر المومنین حضرت عمر ابن عبدالعزیز اموی (رح) ایک مشہور خلیفہ ہیں اور رجب ١٠١ ھ میں اس جہاں فانی سے رحلت فرما گئے)۔ تمیم داری ( اسم گرامی تمیم بن اوس الداری ہے ٩ ھ میں مشرف با اسلام ہوئے ہیں حضرت عثمان غنی ؓ کی شہادت کے بعد شام میں ان کی وفات ہوئی)۔ سے روایت کرتے ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہر بہنے والے خون سے وضو لازم آتا ہے کہ ان دونوں روایتوں کو دارقطنی نے نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ حضرت عمر ابن عبدالعزیز (رح) نے نہ تو تمیم داری سے سنا ہے اور نہ ہی انہیں دیکھا ہے نیز اس روایت کے دو راوی یزید ابن خالد اور یزید ابن محمد مجہول ہیں۔
تشریح
حضرت امام اعظم (رح) کا یہی مسلک ہے کہ ہر بہنے والے خون سے وضو لازم آتا ہے یعنی اگر بدن کے کسی بھی حصہ سے خون نکلا اور نکل کر اس حصہ تک بہہ گیا جس کا دھونا وضو اور غسل میں ضروری ہوتا ہے تو اس سے وضو ٹوٹ جائے گا چناچہ یہ حدیث امام صاحب کے مسلک کی دلیل ہے، امام صاحب کے علاوہ دیگر ائمہ کا مسلک یہ ہے کہ اگر خون، پیشاب یا پاخانہ کے راستہ سے نکلے تو وضو ٹوٹ جائے گا اس کے علاوہ کسی دوسری جگہ سے نکلا تو نہیں ٹوٹے گا۔ حضرت دار قطنی اس حدیث میں کلام فرما رہے ہیں، ان کا کہنا یہ ہے کہ حضرت عمر ابن عبدالعزیز (رح) نے نہ تو تمیم داری سے سنا ہے اور نہ انہیں دیکھا ہے اس لئے حدیث مرسل ہے، نیز اس حدیث کے دو راوی یزید بن خالد اور یزید بن محمد کے مجہول میں گویا ان کا مقصد اس کلام سے یہ ہے کہ جس حدیث میں یہ کلام ہو اس کو امام صاحب کا اپنے مسلک کی دلیل بنانا کوئی وزنی بات نہیں ہے۔ ہم اس کا جواب یہ دیتے ہیں کہ حدیث مرسل نہ صرف یہ کہ ہمارے ہی نزدیک بلکہ جمہور علماء کے نزدیک بھی دلیل اور حجت بن سکتی ہے اسی طرح یزید ابن خالد اور یزید بن محمد کے مجہول ہونے میں بھی اختلاف ہے بعض حضرات نے تو انہیں مجھول قرار دیا ہے جیسا کہ دارقطنی فرما رہے ہیں مگر بعض حضرات نے انہیں مجہول نہیں کہا ہے اس سے قطع نظر امام صاحب کی اصل دلیل تو یہ حدیث ہے کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے مَنْ قَاءَ اَوْرَعُفُ اَوْ اَمْذَی فِی صَلٰوتِہ فَلْیَنْصَرِفْ وَلْیَتَوَضَّأ وَلْیَبْنِ عَلَی صَلٰوتِہ مَالَمْ یَتَکَلَّمْ۔ (کذافی الھدایہ) اگر کسی آدمی نے اپنی نماز میں قے کی یا اس کی نکسیر پھوٹی یا مذی نکلی تو اس کو چاہئے کہ وہ نماز سے نکل کر آئے اور پھر وضو کرے اور جب تک کہ کلام نہ کرے اسی نماز پر بناء کرے۔ نیز ابوداؤد میں بھی اس مضمون کی حدیث منقول ہے لہٰذا اس سے معلوم ہوا کہ پیشاب اور پاخانہ کے مقام کے علاوہ بدن کے کسی دوسرے حصہ سے بھی خون نکلے تو وضو ٹوٹ جائے گا۔
آداب ان چیزوں کو کہتے ہیں کہ جس کا ذکر کرنا اچھا اور بہتر ہو وہ چیزیں خواہ عمل سے تعلق رکھتی ہوں خواہ قول سے چناچہ اس بات میں ان احادیث کو ذکر کیا جا رہا ہے جن کا تعلق استنجاء کے آداب سے ہے یعنی ان چیزوں کا ذکر کیا گیا ہے جو استنجاء کے سلسلے میں ممنوع و مکر وہ ہیں اور ان چیزوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے جو استنجاء میں مطلوب و مستحب ہیں۔
عَنْ اَبِیْ اَےُّوْبَ الْاَنْصَارِیِّص قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اِذَا اَتَےْتُمُ الْغَآئِطَ فَلاَ تَسْتَقْبِلُوا الْقِبْلَۃَ وَلَا تَسْتَدْبِرُوْھَا وَلٰٰکِنْ شَرِّقُوْا اَوْ غَرِّبُوْا (مُتَّفَقٌ عَلَےْہِ) قَالَ الشَّےْخُ الْاِمَامُ مُحْیْ السُّنَّۃِ رَحِمَہُ اللّٰہُ ھٰذَا الْحَدِےْثُ فِی الصَّحْرَآءِ وَاَمَّا فِی الْبُنْےَانِ فَلَا بَاْسَ لِمَا رُوِیَ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْھَا قَالَ ارْتَقَےْتُ فَوْقَ بَےْتِ حَفْصَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْھَالِبَعْضِ حَاجَتِیْ فَرَاَےْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم ےَقْضِیْ حَاجَتَہُ مُسْتَدْبِرَا لْقِبْلَۃِ مُسْتَقْبِلَ الشَّامِ۔(صحیح البخاری و صحیح مسلم)
حضرت ابوایوب انصاری (اسم گرامی خالد ابن زید ہے اور کنیت ابوایوب ہے ٥٠ ھ یا ٥١ ھ میں ان کا انتقال ہے)۔ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا جب تم بیت الخلاء جاؤ تو قبلہ کی طرف منہ نہ کرو بلکہ مشرق اور مغرب کی طرف منہ اور پشت رکھو (صحیح البخاری و صحیح مسلم) حضرت امام محی السنۃ فرماتے ہیں کہ یہ جنگل کا حکم ہے ایسا کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں کیونکہ حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ میں اپنی ضرورت سے حفصہ کے مکان پر چڑھا تو میں نے رسول اللہ ﷺ کو (بیت الخلاء میں) قضاء حاجت کرتے دیکھا، آپ ﷺ قبلہ کی طرف پشت اور شام کی طرف منہ کئے ہوئے تھے۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم )
تشریح
حدیث میں جہت اور سمت کا جو تعین فرمایا گیا ہے وہ اہل مدینہ کے اعتبار سے یا ان لوگوں کے لئے جو اسی سمت رہتے ہیں اس لئے کہ مدینہ میں قبلہ جنوب کی طرف پڑتا ہے اس لئے ان کو تو مشرق اور مغرب ہی کی طرف منہ اور پشت کرنی ہوگی، ہمارے ملک والوں کے لئے یا ان ممالک کے لئے جو اس سمت میں واقع ہیں ان کو مشرق اور مغرب کی طرف منہ اور پشت نہ کرنی چاہئے کیونکہ یہاں کے اعتبار سے قبلہ مغرب کی طرف پڑتا ہے۔ بہر حال۔ اس مسئلہ میں علماء کا اختلاف ہے، ہمارے امام صاحب تو فرماتے ہیں کہ پیشاب، پاخانہ کے وقت قبلہ کی طرف نہ منہ کرنا چاہئے خواہ جنگل ہو یا آبادی و گھر ہو، اگر کرے گا تو مرتکب حرام ہوگا۔ حضرت امام شافعی (رح) کے نزدیک قبلہ کی طرف منہ اور پشت کرنا جنگل میں تو حرام ہے آبادی و گھر میں حرام نہیں ہے۔ حضرت امام اعظم (رح) کی دلیل پہلی حدیث ہے جو ابوایوب انصاری ؓ سے منقول ہے اس حدیث میں قبلہ کی طرف منہ اور پشت نہ کرنے کا حکم مطلقاً ہے اس میں جنگل و آبادی و گھر کی کوئی قید نہیں ہے لہٰذا جو حکم جنگل کا ہوگا وہی حکم آبادی کا بھی ہوگا یہ حدیث نہ صرف یہ کہ حضرت ابوایوب ہی سے منقول ہے بلکہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی ایک بڑی تعداد اس کی روایت کرتی ہے۔ پھر امام صاحب کی دوسری دلیل یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے قبلہ کی طرف منہ اور پشت نہ کرنے کا حکم قبلہ کی تعظیم و احترام کے پیش نظر دیا ہے لہٰذا جس طرح جنگل میں تعظیم قبلہ ملحوظ رہے گا اسی طرح آبادی و گھر میں بھی احترام قبلہ کا لحاظ ضروری ہوگا جیسا کہ قبلہ کی طرف تھوکنا اور پاؤں پھیلانا ہر جگہ منع ہے۔ امام محی السنۃ نے حضرت عبداللہ بن عمر فاروق ؓ کی جو حدیث روایت کی ہے وہ حضرت امام شافعی (رح) کی دلیل ہے، اس حدیث سے معلوم ہوا کہ قبلہ کی طرف پشت کرنا گھر میں جائز ہے۔ ہم اس کا جواب یہ دیتے ہیں کہ اول تو یہ ہوسکتا ہے کہ عبداللہ بن عمر فاروق ؓ نے رسول اللہ ﷺ کو گھر میں بیت الخلاء کے اندر قبلہ کی طرف پشت اور شام کی طرف منہ کئے ہوئے اس حکم کے نفاذ سے پہلے دیکھا ہوگا، لہٰذا یہ حکم پہلے کے لئے ناسخ ہے، پھر دوسرے یہ کہ رسول اللہ ﷺ قبلہ کی طرف منہ کئے ہوئے نہیں بیٹھے ہوں گے بلکہ آپ ﷺ اس انداز سے گھوم کر بیٹھے ہوں گے کہ حقیقت میں قبلہ کی طرف پشت نہ ہوگی اور ظاہر ہے کہ موقع کے نزاکت کے پیش نظر عبداللہ بن عمر فاروق ؓ نے وہاں کھڑے ہو کر بغور تو آپ ﷺ کو دیکھا نہیں ہوگا، بلکہ جب یہ چھت پر چڑھے تو ان کی نظر اچانک ادھر بیت الخلاء کی طرف اٹھ گئی ہوگی اس لئے اس میں سرسری طور پر عبداللہ بن عمر ؓ آپ ﷺ کی نشست کا صحیح اندازہ نہیں لگا سکے اس حدیث کے بارے میں جب یہ احتمال بھی نکل سکتا ہے تو پھر حضرت شافعی (رح) کو اپنے مسلک کی دلیل کے لئے اس کا سہارا لینا کچھ مناسب نہیں معلوم ہوتا۔
وَعَنْ سَلْمَانَ قَالَ نَھَانَا ےَعْنِیْ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اَنْ نَّسْتَقْبِلَ الْقِبْلَۃَ لِغَآئِطٍ اَوْ بَوْلٍ اَوْ نَسْتَنْجِیَ بِالْےَمِےْنِ اَوْ اَنْ نَّسْتَنْجِیَ بِاَقَلَّ مِنْ ثَلٰثَۃِ اَحْجَارٍ اَوْ اَنْ نَّسْتَنْجِیَ بِرَجےِعْ ٍاَوْ بِعَظْمٍ۔(صحیح مسلم)
اور حضرت سلمان (اسم گرامی سلمان فارسی اور کنیت ابوعبداللہ ہے۔ ان کی وفات ٣٥ ھ حضرت عثمان کی خلافت کے آخری زمانہ میں ہوئی ہے بعض لوگوں نے کہا کہ ٣٦ ھ کے اوائل میں ہوئی ہے)۔ فرماتے ہیں سرکار دو عالم ﷺ نے ہمیں منع کیا ہے اس سے کہ ہم پاخانہ یا پیشاب کے وقت قبلہ کی طرف منہ کریں اور اس سے کہ ہم داہنے ہاتھ سے استنجاء کریں اور اس سے کہ ہم تین ڈھیلوں سے کم استنجاء کریں اور اس سے کہ ہم گوبر یا ہڈی سے استنجاء کریں۔ (صحیح مسلم)
تشریح
ہمارے علماء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ پاخانہ یا پیشاب کرتے وقت قبلہ کی طرف منہ کر کے بیٹھنا مکروہ تحریمی ہے اور دائیں ہاتھ سے استنجاء کرنا مکرہ تنزیہی ہے گویا پہلی نہی تو تحریمی ہے او دوسری تنزیہی ہے۔ اتنی بات جان لینی چاہئے کہ استنجاء کرنے کے وقت پیشاب گاہ کو دایاں ہاتھ نہ لگانا چاہئے بلکہ طریقہ یہ ہونا چاہئے کہ ڈھیلا بائیں ہاتھ میں لے کر اس پر پیشاب گاہ کو رکھ لے مگر دائیں ہاتھ سے پکڑ کر نہ رکھے کیونکہ یہ بھی مکروہ ہے۔ امام شافعی (رح) کے نزدیک تین ڈھیلوں سے استنجاء کرنا واجب ہے مگر ہمارے امام صاحب فرماتے ہیں کہ استنجاء کے لئے تین ڈھیلے لینا شرط نہیں ہے اگر تین سے کم ہی میں پاکی حاصل ہوجائے تو یہ بھی کافی ہے ان کی دلیل صحیح البخاری کی یہ حدیث ہے کہ عبداللہ بن مسعود ؓ نے فرمایا کہ سرکار دو عالم ﷺ پاخانہ کیلئے تشریف لے گئے اور مجھ سے فرمایا کہ تین ڈھیلے لاؤ مجھے ڈھیلے تو دو ہی ملے اس لئے میں اس کے ساتھ گوبر کا ایک ٹکڑا بھی لایا، رسول اللہ ﷺ نے دونوں ڈھیلے تو لے لئے اور گوبر کے ٹکڑے کو پھینک دیا۔
وَعَنْ اَنَسٍ ص قَالَ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اِذَا دَخَلَ الْخَلَآءَ ےَقُوْلُ اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنَ الْخُبْثِ وَالْخَبَائِثِ۔(صحیح البخاری و صحیح مسلم)
اور حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ جب پاخانہ میں داخل ہوتے (یعنی داخل ہونے کا ارادہ کرتے) تو یہ دعا پڑھتے اے اللہ میں تجھ سے پناہ مانگتا ہوں ناپاک جنوں اور جنیوں (یعنی نرما و مادہ دونوں سے)۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)
تشریح
آداب پاخانہ میں سے یہ ہے کہ جب کوئی آدمی پاخانہ کے لئے بیت الخلاء میں جائے تو اندر داخل ہونے سے پہلے یہ دعا پڑھ لینی چاہئے، اگر پاخانہ کے لئے جنگل میں جائے تو عین ارادہ کے وقت یعنی دامن وغیرہ سمیٹ کر بیٹھنے لگے اس وقت یہ دعا پڑھ لے۔
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ مَرَّ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم بِقَبْرَ ےْنِ فَقَالَ اِنَّھُمَا لَےُعَذَّبَانِ وَمَا ےُعَذَّبَانِ فِیْ کَبِےْرٍ اَمَّااَحَدُھُمَا فَکَانَ لَا ےَسْتَتِرُ مِنَ الْبَوْلِ وََفِی رِوَاےَۃٍ لِمُسْلِمٍ لَا ےَسْتَنْزِہُ مِنَ الْبَوْلِ وَاَمَّا الْاٰخَرُ فَکَانَ ےَمْشِیْ بِالنَّمِےْمَۃِ ثُمَّ اَخَذَ جَرِےْدَۃً رَّطْبَۃً فَشَقَّھَا بِنِصْفَےْنِ ثُمَّ غَرَزَ فِیْ کُلِّ قَبْرٍ وَّاحِدَۃٍ قَالُوْا ےَارَسُوْلَ اللّٰہِ لِمَ صَنَعْتَ ھٰذَا؟فَقَالَ لَعَلَّہُ اَنْ ےُّخَفَّفَ عَنْھُمَا مَالَمْ ےَےْبَسَا۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)
اور حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ راوی ہیں کہ ایک مرتبہ سرکار دو عالم ﷺ دو قبروں کی پاس سے گزرے تو آپ ﷺ نے (انھیں دیکھ کر) فرمایا کہ ان دونوں قبر والوں پر عذاب نازل ہو رہا ہے اور عذاب بھی کسی بڑی چیز پر نہیں نازل ہو رہا ہے (کہ جس سے بچنا مشکل ہو) ان میں ایک تو پیشاب سے نہیں بچتا تھا مسلم کی ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں کہ پیشاب سے احتیاط نہیں کرتا تھا اور دوسرا چغل خور تھا پھر آپ ﷺ نے کھجور کی ایک ترشاخ لی اور اس کو بیچ سے آدھیوں آدھ چیرا انہیں ایک ایک کر کے دونوں قبروں پر گاڑ دیا۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے ( یہ دیکھ کر) پوچھا یا رسول اللہ آپ ﷺ نے ایسا کیوں کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا شاید (اس عمل سے) ان کے عذاب میں (اس وقت تک کے لئے) کچھ تخفیف ہوجائے جب تک یہ شاخیں خشک نہ ہوں۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)
تشریح
مسلم کے الفاظ کی مناسبت سے اس کا مطلب یہ ہوگا کہ پہلا آدمی جس پر اس کی قبر میں عذاب نازل ہو رہا تھا وہ تھا جو پیشاب سے پچتا نہیں تھا یعنی پیشاب کرتے وقت اس بات کی احتیاط نہیں کرتا تھا کہ چھینٹیں اس کے اوپر نہیں پڑتیں ایک دوسری روایت میں لا یستبراء کے الفاظ ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ آدمی پیشاب سے پاکی طلب نہیں کرتا تھا نیز ایک روایت میں لا یستنتر کے الفاظ مذکور ہیں استنا کے معنی آتے ہیں عضو تناسل کو زور سے جھاڑنا یا کھنچنا تاکہ پیشاب کے جو قطرے اندر رہ گئے ہوں وہ نکل جائیں اس طرح معنی یہ ہوں گے وہ آدمی پیشاب گاہ کو اچھی طرح جھاڑ کر پیشاب کے قطروں کو نکالتا نہ تھا۔ بہر حال ان تمام الفاظ کے مفہوم میں کوئی فرق نہیں ہے، مطلب سب کا یہی ہے کہ وہ پیشاب سے پاکی اور صفائی حاصل نہیں کرتا تھا اور چونکہ پیشاب سے پاکی حاصل نہ کرنا گناہ کبیرہ اور نماز کے بطلان کا سبب ہے اس لئے اسے اللہ کی جانب سے عذاب میں گرفتار کیا گیا۔ اس سلسلہ میں ایک خاص بات ضروری ہے کہ بعض لوگوں کے ذہن میں یہ غلط اور گمراہ کن خیال پیدا ہوگیا ہے کہ چونکہ رسول اللہ ﷺ کے بارے میں یہ ثابت نہیں ہے کہ آپ ڈھیلے سے پیشاب خشک کرتے تھے اس لئے ہر آدمی کو چاہئے کہ پیشاب کے بعد ڈھیلے کا استعمال نہ کرے، یہ انتہائی گمراہی اور کم عقلی کی بات ہے، اگر کسی آدمی کا مزاج ہی اتنا قوی اور مضبوط ہو، نیز اسے اس بات کا یقین ہو کہ پیشاب سے فارغ ہوجانے کے بعد قطرے نہیں آئیں گے تو البتہ اس کے لئے یہ کافی ہے کہ وہ صرف پانی سے استنجاء کرلے ڈھیلے کا استعمال کرنا اس کے لئے ضروری نہیں ہوگا اور جس کے قطرہ دیر تک آتا ہو جیسا کہ اکثر ایسا ہی ہوتا ہے تو پھر اگر وہ ڈھیلے کا استعمال کرنا اس کے لئے ضروری نہیں ہوگا اور جس کے قطرہ دیر تک آتا ہو جیسا کہ اکثر ایسا ہی ہوتا ہے تو پھر اگر وہ ڈھیلے کا استعمال نہ کرے صرف پانی سے پاک کرے گا تو اس کے پائجامہ اور کپڑا وغیرہ گندا اور ناپاک ہوگا، جہاں تک حضور اکرم ﷺ کی ذات اقدس کا سوال ہے تو اس کے بارے میں عرض ہے کہ چونکہ آپ ﷺ کا مزاج مبارک مضبوط اور قوٰی انتہائی طاقتور تھے اس لئے آپ ڈھیلے کا استعمال نہیں فرماتے تھے صرف پانی ہی سے استنجاء پاک کرلیتے تھے۔ پھر دوسرے یہ کہ وہ فعل جو رسول اللہ ﷺ سے خود ثابت نہ ہو مگر اس کا کرنا کسی نہ کسی وجہ سے مطلوب اور ضروری ہو تو اسے یہ کہہ کرنا قابل اعتناء قرار نہیں دیا جاسکتا کہ یہ فعل چونکہ آپ ﷺ سے ثابت نہیں ہے اس لئے ہم بھی اسے نہیں کرتے مثلاً آپ ﷺ نے فصد نہیں کرائی ہے اب اگر کسی دوسرے کو فصد کی حاجت ہو اور وہ یہ کہے کہ چونکہ رسول اللہ ﷺ نے فصد نہیں کرائی ہے اس لئے میں فصد نہیں کراتا تو ظاہر ہے کہ یہ بات اسی کے لئے نقصان دہ ہوگی۔ بہر حال مقصد یہ ہے کہ نظر شارع کی غرض پر ہونی چاہئے اور یہ دیکھنا چاہئے کہ شارع کا اصل مقصد کیا ہے اور وہ ظاہر ہے کہ طہارت ہے جس کی ہمیں تاکید کی گئی ہے اس لئے ہمیں تو طہارت حاصل کرنی چاہئے خواہ وہ کسی طرح حاصل ہو پانی سے حاصل ہو یا ڈھیلے سے اس قسم کے بیہودہ احتمالات نکال کر اور غلط حیلہ و بہانہ کر کے اپنے کپڑوں کو گندہ کرنا اور نجاست میں اپنے آپ کو ملوث کرنا اور پھر اسی طرح نماز پڑھنا انتہائی غلط اور گمراہی کی بات ہے، پیشاب سے بچنے اور اس سے احتیاط کرنے کی کتنی اہمیت ہے؟ اس کا اندازہ رسول اللہ ﷺ کے اس ارشاد سے ہوسکتا ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا عذاب قبر اکثر پیشاب کی بناء پر ہوتا ہے (اس لئے) پیشاب سے پاکی حاصل کرو۔ یا اسی طرح فرمایا پیشاب سے پرہیز کرو اس لئے کہ وہ اس چیز کا اول ہے جس کی وجہ سے بندہ قبر میں حساب (کی سختی) میں گرفتار ہوگا (طبرانی) پھر اس کے علاوہ ایک چیز یہ بھی ہے کہ حضرت عمر فاروق ؓ کے بارے میں ثابت ہے کہ وہ پیشاب کے بعد ڈھیلا استعمال کرتے تھے اور ظاہر ہے کہ صحابی کا فعل حجت ہے اس لئے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ میری سنت کو لازم پکڑو اور خلفائے راشدین کی سنت کو بھی لازم پکڑو۔ چنانچہ حضرت عمر کے ؓ کے بارے میں مصنف ابن ابی شیبہ میں منقول ہے کہ ابوبکر عن یسار، بن نمیر کان عمر اذا بال مسح زکرہ بحائط او حجرلم یمسہ مائ۔ حضرت عمر فاروق جب پیشاب کرتے تھے تو اپنا عضو تناسل دیوار پر یا پتھر پر پھیر تے تھے اور اس پر پانی لگاتے بھی نہیں تھے۔ نیز حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی فرماتے ہیں کہ اس مسئلہ پر کہ پیشاب کے بعد ڈھیلا استعمال کرنا چاہئے اہل سنت کا اتفاق و اجماع ہے، واللہ علم تمیمۃ کے معنی ہیں سخن چینی، یعنی کوئی آدمی ایسے دو آدمیوں کی بات جن میں آپس میں دشمنی ہو ایک دوسرے تک فساد پھیلانے کے لئے پہنچائے یا کوئی آدمی دو آدمیوں میں دشمنی پیدا کرائے اس طرح کہ ایک کی بات دوسرے کے پاس قسم اور گالی وغیرہ اس انداز سے نقل کرے جس سے اشتغال پیدا ہو۔ امام نووی (رح) فرماتے ہیں کہ نمیمہ کہ معنی یہ ہیں کہ کسی کی گفتگو کسی دوسرے آدمی سے ضرر پہنچانے کے لئے نقل کی جائے بہر حال آج کل عرف عام ہے جسے چغل خوری فرماتے ہیں وہی معنی نمیمہ کے ہیں چغل خوری چونکہ انسانی اور اخلاقی نقطہ نظر سے انتہائی بدترین اور کمینی خصلت ہے اور اس لئے اسلام بھی چغل خور کو انتہائی نفرت کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور چغل خوری کو ایک بدتر برائی قرار دیتا ہے چناچہ صحیحین میں منقول ہے کہ جنت میں چغل خور داخل نہیں ہوگا۔ حضرت عمر فاروق ؓ کے بارے میں منقول ہے کہ انہوں نے ایک مرتبہ کعب احبار سے جو ایک بڑے یہودی عالم تھے اور بعد میں اسلام لائے، پوچھا کہ تم نے توریت میں سے سب سے بڑا گناہ کون سا پڑھا ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ چغل خوری۔ حضرت عمر فاروق ؓ نے فرمایا کہ کہ اس کا گناہ قتل کے گناہ سے بھی زیادہ ہیبت ناک ہے! انہوں نے کہا قتل بھی چغل خوری ہی سے ہوتے ہیں اور دوسری برائیاں بھی اسی سے پیدا ہوتی ہیں۔ حدیث کے آخر میں یہ جو فرمایا گیا ہے کہ آپ ﷺ نے کھجور کی ترشاخ لے کر اس کے دو ٹکڑے کئے اور ایک ایک ان دونوں قبروں پر گاڑ دیا اور پھر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے سوال پر آپ ﷺ نے اس کی وجہ یہ فرمائی کہ جب تک یہ شاخیں تر رہیں گی اس وقت کے لئے ان کے عذاب میں شاید کچھ تخفیف ہوجائے تو عذاب کے تخفیف کا سبب علماء یہ لکھتے ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے جب اپنی روحانی آنکھوں سے دیکھا کہ یہ اللہ کے عذاب میں گرفتار ہیں تو سرکار دو عالم ﷺ کی شان رحمت اسے برداشت نہ کرسکی، آپ ﷺ نے بارگاہ الوہیت میں ان کے لئے رحم و کرم کی درخواست کی، ادھر غفور الرحیم نے بھی اپنے حبیب کی درخواست کو شرف قبولیت سے نوازا اور فیصلہ صادر فرمایا دیا کہ جب تک ان پر گاڑی ہوئی شاخیں خشک نہ ہوں اس وقت تک ان دونوں پر عذاب میں کمی کردی جائے۔ چنانچہ اس کی وضاحت بھی ایک دوسری روایت میں موجود ہے جسے مسلم نے نقل کیا ہے اس کے آخری الفاظ یہی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے میری شفاعت قبول فرما لی ہے کہ جب تک یہ شاخیں تر رہیں گی یہ عذاب میں گرفتار نہیں رہیں گے۔ بہرحال بظاہر تو اس کا سبب یہی معلوم ہوتا ہے جس کی تصدیق بھی مسلم کی اس روایت سے ہوجاتی ہے، ویسے علماء نے اس کے علاوہ بھی بہت سے اسباب لکھے ہیں جو دیگر کتابوں اور شروح میں وضاحت کے ساتھ منقول ہیں چناچہ کرمانی کا قول ہے کہ تخفیف عذاب کا سبب وہ تر شاخ تھی کہ اس کے اندر رفع عذاب کی خاصیت تھی مگر یہ خاصیت اس کی بنفسہ نہیں تھی بلکہ یہ خاصیت اسے سرکار دو عالم ﷺ کے دست مبارک کی برکت کی وجہ سے حاصل ہوئی تھی۔ اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ علماء اور صلحاء اور اللہ کے نیک بندوں کو چاہئے کہ وہ قبور پر جایا کریں تاکہ ان کی وجہ سے اہل قبور کے عذاب میں تخفیف ہو کیونکہ صالحین کا قبروں پر جانا مردوں کے عذاب میں تخفیف کا باعث ہوتا ہے۔
وَعَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَص قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اِتَّقُوْا للَّاعِنَےْنِ قَالُوْا وَمَا اللَّاعِنَانِ ےَا رَسُولَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ الَّذِیْ َےتَخَلّٰی فِیْ طَرِےْقِ النَّاسِ اَوْ فِیْ ظِلِّھِمْ۔(صحیح مسلم)
اور حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا تم ان دو چیزوں سے بچو جو لعنت کا سبب ہیں صحابہ نے کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کیا یا رسول اللہ! وہ چیزیں کیا ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا ایک تو یہ ہے کہ کوئی آدمی لوگوں کے راستہ میں پاخانہ کرے، دوسرے یہ کہ کوئی آدمی لوگوں کے سایہ کے نیچے پاخانہ کرے۔ (صحیح مسلم)
تشریح
علماء کرام نے اس ارشاد کی یہ وضاحت کی ہے کہ راستہ سے مراد شاہراہ ہے یعنی ایسا راستہ اور ایسی سڑک وغیرہ جس پر لوگ اکثر چلتے پھرتے ہوں یہاں وہ راستہ مراد نہیں ہے جو ویران پڑا رہتا ہو یا کبھی کبھی اس پر کوئی اکا دکا آدمی چلتا پھرتا ہو۔ سایہ مراد وہ سایہ دار درخت ہے یا سائبان ہے جس کے نیچے لوگ اٹھتے بیٹھے ہوں، یا وہ لوگوں کے سونے کی جگہ ہو بہر حال ان دونوں جگہوں پر پاخانہ کر کے گندگی اور غلاظت پھیلانے سے منع کیا جا رہا ہے، اس لئے کہ اس سے اللہ کی مخلوق کی ایذاء رسانی کا سامان ہوتا ہے اور لوگوں کو تکلیف پہنچتی ہے اور ظاہر ہے کہ ایک مومن و مسلمان کی شان سے یہ بعید ہے کہ وہ کسی دوسرے آدمی کی تکلیف و پریشانی کا سبب بنے۔
وَعَنْ اَبِیْ قَتَادَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اِذَا شَرِبَ اَحَدُکُمْ فَلَا َےَتَنَفَّسْ فِیْ الْاِنَاءِ وَاِذَا اَتَی الْخَلَاءَ فَلَا ےَمَسَّ ذَکَرَہُ بِےَمِےْنِہٖ۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)
اور حضرت ابوقتادہ ؓ (اسم گرامی حارث بن ربعی ہے انصاری اور خزرجی ہیں آپ اپنی کنیت ابوقتادہ سے مشہور ہیں)۔ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی آدمی پانی پیئے تو (پانی پینے کے) برتن میں سانس نہ لے اور جب پاخانہ میں جائے تو داہنے ہاتھ سے عضو مخصوص کو نہ چھوئے اور نہ داہنے ہاتھ سے استنجاء کرے۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم )
تشریح
اس حدیث میں دو ادب بتائے جا رہے ہیں پہلی چیز تو یہ بتائی جا رہی ہے کہ جب کوئی آدمی پانی پئے تو اسے چاہئے کہ وہ پانی پینے کے دوران اسی برتن میں سانس نہ لے جس میں وہ پانی پی رہا ہے جب اسے سانس لینا ہو تو برتن کو منہ سے جدا کر دے تاکہ منہ یا ناک سے کوئی چیز نکل کر پانی میں نہ گرپڑے۔ دوسرے چیز یہ بتائی جا رہی ہے کہ جو کوئی آدمی پاخانہ جاے تو اسے چاہئے کہ وہ داہنے ہاتھ سے نہ تو اپنے عضو مخصوص کو چھوئے اور نہ داہنے ہاتھ سے اسنتجاب کرے، اس لئے کہ داہنے ہاتھ سے کھانا وغیرہ کھایا جاتا ہے اور یہ چیز صفائی اور پاکیزگی کے خلاف ہے کہ جس ہاتھ سے کھانا وغیرہ کھایا جائے اسی ہاتھ سے ایسے اعضاء کو چھوا جائے جس سے گندگی اور غلاظت لگتی ہو۔
وَعَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَص قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم مَنْ تَوَضَّاَ فَلْےَسْتَنْثِرْوَ مَنِ اسْتَجْمَرَ فَلْےُوْتِرْ۔(صحیح البخاری و صحیح مسلم)
اور حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا جو آدمی وضو کرے تو اسے چاہئے کہ وہ ناک کو بھی جھاڑ دے اور جو آدمی (پاخانہ کے بعد ڈھیلے سے) استنجاء کرے اسے چاہئے کہ طاق ڈھیلے لے (یعنی تین، یا پانچ، یا سات۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم )