Mishkaat-al-Masabih

All 6,333 hadiths in order · Page 11 of 317

201Mishkaat-al-Masabih

علم اور اس کی فضیلت کا بیان

وعَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْرٍورَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اِنَّ اللّٰہَ لَا ےَقْبِضُ الْعِلْمَ انْتِزَاعًا ےَنْتَزِعُہُ مِنَ الْعِبَادِ وَلٰکِنْ ےَّقْبِضُ الْعِلْمَ بِقَبْضِ الْعُلَمَآءِ حَتّٰی اِذَا لَمْ ےَبْقَ عَالِمًا اتَّخَذَالنَّاسُ رُءُ ْوسًا جُھَّالاً فَسُئِلُوْا فَأَفْتَوْا بِغَےْرِ عِلْمٍ فَضَلُّوْا وَاَضَلُّوْا۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)

اور حضرت عبداللہ ابن عمرو ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ اللہ تعالیٰ علم کو (آخری زمانہ میں) اس طرح نہیں اٹھالے گا کہ لوگوں (کے دل و دماغ) سے اسے نکال لے بلکہ علم کو اس طرح اٹھاے گا کہ علماء کو (اس دنیا سے) اٹھالے گا یہاں تک کہ جب کوئی عالم باقی نہیں رہے گا تو لوگ جاہلوں کو پیشوا بنالیں گے ان سے مسئلے پوچھے جائیں گے اور وہ بغیر علم کے فتویٰ دیں گے لہٰذا وہ خود بھی گمراہ ہوں گے اور لوگوں کو بھی گمراہ کریں گے۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)

202Mishkaat-al-Masabih

علم اور اس کی فضیلت کا بیان

وَعَنْ شَقِےْقٍ قَالَ کَانَ عَبْدُاللّٰہِ بْنُ مَسْعُوْدٍ ص ےُّذَکِّرُ النَّاسَ فِیْ کُلِّ خَمِےْسٍ فَقَالَ لَہُ رَجُلٌ ےَا اَبَا عَبْدِالرَّحْمٰنِ ص لَوَدِدْتُّ اَنَّکَ ذَکَّرْتَنَا فِیْ کُلِّ ےَوْمٍ قَالَ اَمَا اِنَّہُ ےَمْنَعُنِیْ مِنْ ذَالِکَ اَنِّیْ اَکْرَہُ اَنْ اُمِلَّکُمْ وَاَنِّیْ اَتَخَوَّلُکُمْ بِالْمَوْعِظَۃِ کَمَا کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم ےَتَخَوَّلُنَا بِھَا مَخَافَۃَ السَّامَۃِ عَلَےْنَا۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)

اور حضرت شقیق ؓ (شقیق ابن مسلمہ نام اور کنیت ابو وائل ہے۔ آپ تابعی ہیں حجاج کے زمانہ میں وفات ہوئی بعض فرماتے ہیں کہ ٩٩ ھ میں وفات پائی ہے)۔ راوی ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ ہر جمعرات کے روز لوگوں کے سامنے وعظ و نصیحت کیا کرتے تھے (ایک روز) ایک آدمی نے عرض کیا۔ اے ابوعبدالرحمن! میری خواہش ہے کہ آپ ہمارے درمیان روزانہ وعظ و نصیحت کیا کریں۔ عبداللہ بن مسعود ؓ نے فرمایا کہ میں ایسا اس لئے نہیں کرتا کہ اس سے تم لوگ تنگ ہوجاؤ گے، میں نصیحت کے معاملہ میں تمہاری خبر گیری اس طرح کرتا ہوں جیسا کہ ہماری نصیحت کے معاملہ میں رسول اللہ ﷺ ہماری خبر گیری کیا کرتے تھے اور ہمارے اکتا جانے کا خیال رکھتے تھے۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم ) تشریح اس حدیث سے یہ بات واضح ہے کہ وعظ و نصیحت اور تبلیغ کے معاملہ میں اعتدال سے کام لینا چاہئے۔ ہر وقت اور ہر موقعہ پر وعظ و نصیحت نہیں کرنی چاہئے اس لئے کہ اس سے لوگوں کے دل اچاٹ ہوجاتے ہیں اور وہ اکتا جاتے ہیں، نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ کوئی بات دل جمعی و سکون خاطر سے نہیں سنتے اس لئے ان پر کوئی اچھا اثر بھی مرتب نہیں ہوتا۔ اسی طرح اس معاملہ میں ڈانٹ ڈپٹ، لعنت پھٹکار اور بد مزاجی و بد اخلاقی نہیں کرنا چاہئے کیونکہ اس سے مخاطب کے ذہن پر برا اثر پڑتا ہے جس سے بجائے اس کے کہ وہ اس کا کوئی نیک اثر قبول کرے اور زیادہ منحرف ہوجاتا ہے۔ جو نصیحت اپنے وقت پر اور نہایت اخلاق و متانت اور انتہائی محبت و شفقت سے کی جاتی ہے دراصل وہی مخاطب کے دل پر اثر انداز ہوتی ہے اور اس کا بہترین ثمرہ مرتب ہوتا ہے۔

203Mishkaat-al-Masabih

علم اور اس کی فضیلت کا بیان

وَعَنْ اَنَسٍ قَالَ کَانَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم اِذَا تَکَلَّمَ بِکَلِمَۃٍ اَعَادَھَا ثَلَاثًا حَتّٰی تُفْھَمَ عَنْہُ وَاِذَا اَتٰی عَلٰی قَوْمٍ سَلَّمَ عَلَےْھِمْ سَلَّمَ عَلَےْھِمْ ثَلٰثًا۔ (صحیح البخاری)

اور حضرت انس ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب کوئی بات کہتے تو اس کو تین مرتبہ فرماتے یہاں تک کہ لوگ اسے اچھی طرح سمجھ لیتے اور جب آپ ﷺ کسی جماعت کے پاس آتے اور سلام کرنے کا ارادہ فرماتے تو تین مرتبہ سلام کرتے۔ (صحیح البخاری) تشریح اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ آپ ﷺ ہر گفتگو کے موقع پر ایسا عمل اختیار فرماتے ہوں گے بلکہ مطلب یہ ہے کہ جب آپ ﷺ کوئی بہت اہم بات فرماتے ہوں گے یا کسی خاص مسئلہ کی وضاحت مقصود ہوتی ہوگی، یا کوئی دینی حکم بیان کرنا ہوتا ہوگا اور یہ ارادہ ہوتا ہو کہ اس بات کو بطور خاص بیان کرنا ہے یا یہ خیال گزرتا ہو کہ لوگوں نے بات اچھی طرح سنی نہ ہوگی تو آپ ﷺ تین مرتبہ اعادہ فرماتے اور اس بات کو بار بار کہتے تاکہ لوگ خوب سن لیں اور اچھی طرح سمجھ لیں۔ ایسے ہی تین مرتبہ سلام اس طرح کرتے تھے کہ ایک سلام تو آپ ﷺ اس وقت کرتے تھے جب مکان میں اندر جانے کی اجازت طلب فرماتے تھے، دوسرا سلام تحیہ کرتے تھے (یہ سلام ملاقات کے وقت کیا جاتا ہے) اور تیسرا سلام رخصت کے وقت کرتے تھے۔

204Mishkaat-al-Masabih

علم اور اس کی فضیلت کا بیان

وَعَنْ اَبِیْ مَسْعُوْدِ الْاَنْصَارِیِّ صقَالَ جَاءَ رَجُلٌ اِلَی النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم فَقَالَ اِنَّہُ اُبْدِعَ بِیْ فَاحْمِلْنِیْ فَقَالَ مَا عِنْدِیْ فَقَالَ رَجُلٌ ےَّا رَسُوْلَ اللّٰہِ اَنَا اَدُلُّہُ عَلٰی مَنْ ےَّحْمِلُہُ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم مَنْ دَلَّ عَلٰی خَےْرٍ فَلَہُ مِثْلُ اَجْرِ فَاعِلِہٖ۔ (صحیح مسلم)

اور حضرت ابومسعود انصاری) آپ کا اسم گرامی عقبہ عبداللہ ابن عمرہ ہے مگر یہ بھی کنیت ابومسعود انصاری سے مشہور ہیں۔ حضرت علی المرتضیٰ کے زمانہ خلافت میں انتقال ہوا ہے بعض لوگ فرماتے ہیں کہ ان کی وفات ٤١ ھ یا ٤٢ ھ میں ہوئی۔ ؓ۔ (راوی ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو اور عرض کیا کہ میری سواری چلنے سے عاجز ہوگئی ہے آپ ﷺ مجھے سواری عنایت فرمادیجئے! رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میرے پاس کوئی سواری نہیں ہے ( کہ تمہیں دے دوں) ایک آدمی نے عرض کیا یا رسول اللہ! میں اسے ایسا آدمی بتلاتا ہوں جو اسے سواری دے دے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو آدمی کسی بھلائی کی طرف راہ نمائی کرے تو اسے بھی اتنا ہی ثواب ملے گا جتنا کہ اس بھلائی پر عمل کرنے والے کو۔ (صحیح مسلم)

205Mishkaat-al-Masabih

علم اور اس کی فضیلت کا بیان

وَعَنْ جَرِیرٍ قَالَ کُنَّا فِی صَدْرِ النَّھَارِ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم فَجَآءَ ہُ قَوْمٌ عُرَاۃٌ مُّجْتَابِیْ النِّمَارِ اَوِ الْعَبَآءِ مُتَقَلِّدِی السُّےُوْفِ عَآمَّتُھُمْ مِّنْ مُّضَرَ بَلْ کُلُّھُمْ مِّنْ مُّضَرَ فَتَمَعَّرَ وَجْہُ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلملِمَا رَاٰی بِھِمْ مِّنَ الْفَاقَۃِ فَدَخَلَ ثُمَّ خَرَجَ فَاَمَرَ بِلَالًا فَاَذَّنَ وَاَقَامَ فَصَلّٰی ثُمَّ خَطَبَ فَقَالَ &&ےَا اَےُّھَا النَّاسُ&& اتَّقُوْا رَبَّکُمُ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَۃٍ اِلٰی اٰخِرِ الْاٰےَۃِ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلَےْکُمْ رَقِےْبًا&&(النساء : پ٤ ع١٢) وَّالْاٰےَۃَ الَّتِیْ فِی الْحَشْرِ اتَّقُوْا اللّٰہَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ&&(الحشر :پ٢٨ ع ٦) تَصَدَّقَ رَجُلٌ مِّنْ دِےْنَارِہٖ مِنْ دِرْھَمِہٖ مِنْ ثَوْبِہٖ مِنْ صَاعِ بُرِّہٖ مِنْ صَاعٍ تَمْرِہٖ حَتّٰی قَالَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَۃٍ قَالَ فَجَاءَ رَجُلٌ مِّنَ الأَنْصَارِ بِصُرَّۃٍ کَادَتْ کَفُّہُ تَعْجِزُ عَنْھَابَلْ قَدْ عَجَزَتْ ثُمَّ تَتَابَعَ النَّاسُ حَتّٰی رَأَ ےْتُ کَوْمَےْنِ مِنْ طَعَامٍ وَّثِےَابٍ حَتّٰی رَاَےْتُ وَجْہَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم ےَتَھَلَّلُ کَاَنَّہُ مُذْھَبَۃٌ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم مَنْ سَنَّ فِی الْاِسْلَامِ سُنَّۃً حَسَنَۃً فَلَہُ اَجْرُھَا وَاَجْرُ مَنْ عَمِلَ بِھَا مِنْ بَعْدِہٖ مِنْ غَےْرِ اَنْ ےُّنْقَصَ مِنْ اُجُوْرِھِمْ شَیءٌ وَمَنْ سَنَّ فِی الْاِسْلَامِ سُنَّۃً سَےِّئَۃً کَانَ عَلَےْہِ وِزْرُھَا وَوِزْرُ مَنْ عَمِلَ بِھَا مِنْ بَعْدِہٖ مِنْ غَےْرِ اَنْ ےُّنْقَصَ مِنْ اَوْزَارِھِمْ شَیئٌ۔ (صحیح مسلم)

اور حضرت جریر ؓ (آپ کا اسم گرامی جریر بن عبداللہ ہے اور کنیت ابوعمرو یا ابوعبداللہ ہے قبیلہ بحیلہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ آپ رسول اللہ ﷺ کی وفات سے صرف چالیس دن قبل اسلام کی نعمت سے مشرف ہوئے تھے اور مقام قرئیسیا میں ٥١ ھ یا ٥٤ ھ میں وفات پائی۔ ؓ راوی ہیں کہ (ایک روز) ہم دن کے ابتدائی حصہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر تھے کہ ایک قوم آپ ﷺ کی خدمت میں آئی جو ننگے بدن تھی اور عبایا کمبل لپیٹے ہوئے تھی اور گلے میں تلواریں لٹکی ہوئی تھیں۔ ان میں سے اکثر بلکہ سب کے سب قبیلہ مضر کے لوگ تھے۔ ان پر فاقہ کا اثر دیکھ کر رسول اللہ ﷺ کا چہرہ مبارک متغیر ہوگیا آپ ﷺ ( ان کے لئے کھانے کی تلاش میں) گھر تشریف لے گئے اور (جب گھر میں کچھ نہ ملا) تو واپس تشریف لائے اور حضرت بلال ؓ کو (اذان کہنے کا) حکم دیا، حضرت بلال ؓ نے اذان کہی اور تکبیر پڑھی اور جمعہ کی یا ظہر کی نماز پڑھی گئی۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے خطبہ دیا اور یہ آیت پڑھی آیت (يٰ اَيُّھَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمُ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ ) 4۔ النساء 1) ترجمہ! اے لوگو! اپنے پروردگار سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان (آدم) سے پیدا کیا ہے۔ پوری آیت تلاوت کی جس کا آخری حصہ یہ ہے۔ البتہ اللہ تعالیٰ تمہارا نگہبان ہے۔ اور پھر یہ آیت آپ ﷺ نے پڑھی جو سورة حشر میں ہے آیت (وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ ) 59۔ الحشر 18) ترجمہ! (اے ایمان والو! ) اللہ سے ڈرتے رہو اور ہر آدمی دیکھ بھال لے کہ کل (قیامت کے واسطے اس نے کیا ذخیرہ بھیجا ہے۔ پھر آپ ﷺ سے فرمایا۔ خیرات کرے آدمی اپنے دینار میں سے اپنے درہم میں سے اپنے کپڑے میں سے اپنے گہیوں کے پیمانے میں سے، یہاں تک کہ آپ ﷺ نے فرمایا۔ خیرات کرے اگرچہ کھجور کا ٹکڑا ہی کیوں نہ ہو۔ راوی فرماتے ہیں کہ ایک انصاری آدمی دینار یا در ہم سے بھری ہوئی ایک تھیلی لایا جس کے وزن سے اس کا ہاتھ تھکنے کے قریب تھا بلکہ تھک گیا تھا۔ پھر لوگوں نے پے در پے چیزوں کا لانا شروع کردیا یہاں تک کہ میں نے دو تو لے غلّہ اور کپڑے کے (جمع شدہ) دیکھے پھر میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ کا چہرہ اقدس (خوشی کی وجہ سے) کندن کی طرح چمک رہا تھا، پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو آدمی اسلام میں کسی نیک طریقہ کو رائج کرے تو اسے اس کا بھی ثواب ملے گا اور اس کا ثواب بھی جو اس کے بعد اس پر عمل کرے لیکن عمل کرنے والے کے ثواب میں کوئی کمی نہیں ہوگی اور جس آدمی نے اسلام میں کسی برے طریقہ کو رائج کیا تو اسے اس کا بھی گناہ ہوگا اور اس آدمی کا بھی جو اس کے بعد اس پر عمل کرے گا۔ لیکن عمل کرنے والے کے گناہ میں کوئی کمی نہیں ہوگی۔ (صحیح مسلم) تشریح رسول اللہ ﷺ نے جو پہلی آیت تلاوت فرمائی وہ سورة نساء میں ہے، اس آیت میں خیرات کرنے اور قرابت داروں سے حسن سلوک اور ان کے حقوق کی ادائیگی کے بارے میں ذکر کیا گیا ہے جس سے رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو خیرات کرنے اور آنے والی جماعت کی امداد و اعانت پر ترغیب دلائی۔ شروع حدیث میں راوی کا بیان ہے کہ آنے والی جماعت کمبل یا عبا لپٹے ہوئے تھی۔ راوی کا اشتباہ ہے کہ یا تو حدیث میں لفظ النمار ہے یا العباء ہے۔ بہر حال دونوں کمبل کی قسمیں ہیں اور دونوں کے معنی ایک ہی ہیں۔

206Mishkaat-al-Masabih

علم اور اس کی فضیلت کا بیان

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ ص قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم لَا تُقْتَلُ نَفْسٌ ظُلْمًا اِلَّا کَانَ عَلَی ابْنِ اٰدَمَ الْاَوَّلِ کِفْلٌ مِّنْ دَمِھَا لِاَنَّہُ اَوَّلُ مَنْ سَنَّ الْقَتْلَ (مُتَّفَقٌ عَلَےْہِ) صحیح البخاری و صحیح مسلم وسنذ کر حدیث معادیۃ لایزال طائفۃ من امتی فی باب ثواب حذہ الامۃ ان شاء اﷲ تعالی۔

اور حضرت ابن مسعود ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ جو آدمی ظلم کے طریقہ پر قتل کیا جاتا ہے تو اس کے خون کا ایک حصہ آدم کے پہلے بیٹے قابیل پر ہوتا ہے اس لئے کہ وہ پہلا آدمی ہے جس نے قتل کا طریقہ نکالا۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم) اور معاویہ ؓ کی وہ حدیث جس کی ابتداء یہ ہے لا یزال امتی ہم انشاء اللہ باب ثواب حذہ الامۃ میں بیان کریں گے۔ تشریح انسانی ظلم و ستم کی تاریخ حضرت آدم (علیہ السلام) کے پہلے بیٹے قابیل کی زندگی سے شروع ہوتی ہے جس نے اپنی ایک انتہائی معمولی نفسانی خواہش کی تکمیل کے لئے اپنے حقیقی بھائی ہابیل کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا اور انسانی تاریخ کا یہ سب سے پہلا خونی واقعہ تھا جس نے ناحق خون بہانے کی بنیاد ڈالی۔ جیسا کہ پہلے بیان کیا جا چکا ہے کہ جب کوئی نیک طریقہ رائج کرتا ہے تو اسے اس نیک کام کا ثواب بھی ملتا ہے، اسی طرح برا طریقہ رائج کرنے والے کو خود اس عمل کا اور اس طریقہ پر عمل کرنے والے کا بھی گناہ ملتا ہے۔ اسی لئے یہاں فرمایا جا رہا ہے کہ جب بھی کوئی آدمی ظلم کے طریقہ پر قتل کردیا جاتا ہے تو اس کے خون کا ایک حصہ قابیل پر بھی ہوتا ہے اس لئے کہ ناحق خون بہانے اور ظلم و ستم کے ساتھ قتل کا اول موجد وہی ہے۔

207Mishkaat-al-Masabih

علم اور اس کی فضیلت کا بیان

عَنْ کَثِیْرِ بْنِ قَیْسِ قَالَ: کُنْتُ جَالِسًا مَعَ اَبِی الدَّرْدَاءِ فِی مَسْجِدِ دِمَشْقَ فَجَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ یَا اٰبَا الدَّرْدَاءِ اِنِّی جِئْتُکَ مِنْ مَدِیْنَۃِ الرَّسُوْلِ صلی اللہ علیہ وسلم (لِحَدِیْثِ بَلَغَنِیْ اَنَّکَ تُحَدِّثَہ، عَنَ رَسُوْلِ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم) مَا جِئْتُ لِحَاجَۃِ قَالَ فَاِنِّی سَمِعْتُ رَسُوْلَ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم یَقُوْلُ مَنْ سَلَکَ طَرِیْقًا یَطْلُبُ فِیْہٖ عِلْمًا سَلَکَ اﷲُ بِہٖ طَرِیْقًا مِنْ طُرُقِ الْجَنَّۃِ وَاِنَّ الْمَلَائِکَۃَ لَتَضَعُ اَجْنِحَتَھَا رِضْیً لِّطَالِبِ الْعِلْمِ وَاِنَّ الْعَالِمِ لِیَسْتَغْفِرْ لَہ، مَنْ فِی السَّمٰوٰاتِ وَمَنْ فِی الْاَرْضِ وَ الْحِیْتَانُ فِی جَوْفِ الْمَآءِ وَاِنَّ فَضْلَ الْعَالِمِ عَلَی الْعَابِدِ کَفَضْلِ الْقَمَرِ لَیْلَۃَ الْبَدْرِ عَلَی سَآئِرِ الْکَوَاکِبِ وَاِنَّ الْعُلَمَاءَ وَرَثَہُ الْاَنْبِیَاءَ وَاِنَّ الْاَنْبِیَآءَ لَمْ یُوَرِّثُوْا دِیْنَارَاوَّلَا دِرْھَمًا وَاِنَّمَا وَرَّثُوْا الْعِلْمَ فَمَنْ اَخَذُہ، اَخَذَ بِحَظِّ وَّافِرِرَوَاہُ اَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِّیُ وَاَبُوْدَاؤدَ وَابْنُ مَاجَۃَ وَادَّرِامِیُّ وَسَمَّاہُ التِّرْمِذِیُّ قَیْسَ بْنَ کَثِیْرً۔

حضرت کثیر ابن قیس ؓ فرماتے ہیں کہ میں (ایک صحابی) حضرت ابودردا ؓ کے پاس دمشق (شام) کی مسجد میں بیٹھا ہوا تھا کہ ان کے پاس ایک آدمی آیا اور کہا کہ میں سرکار دو عالم ﷺ کے شہر سے آپ کے پاس ایک حدیث کے لئے آیا ہوں جس کے بارے میں مجھے معلوم ہوا ہے کہ اسے آپ سرکار دو عالم ﷺ سے نقل کرتے ہیں۔ آپ کے پاس میرے آنے کی اس کے علاوہ اور کوئی غرض نہیں ہے ( یہ سن کر) حضرت ابودردا ؓ نے فرمایا۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے یہ سنا کہ جو آدمی کسی راستہ کو (خواہ لمبا ہو یا مختصر) علم دین حاصل کرنے کے لئے اختیار کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو بہشت کے راستہ پر چلاتا ہے اور فرشتے طالب علم کی رضا مندی کے لئے اپنے پروں کو بچھاتے ہیں اور عالم کے لئے ہر وہ چیز جو آسمانوں کے اندر ہے (یعنی فرشتے) اور جو زمین کے اوپر ہے (یعنی جن وانس) اور مچھلیاں جو پانی کے اندر ہیں دعائے مغفرت کرتی ہیں اور عابد پر عالم کو ایسی ہی فضیلت ہے جیسے کہ چودہویں کا چاند تمام ستاروں پر فضیلت رکھتا ہے اور عالم انبیاء (علیہم السلام) کے وارث ہیں۔ انیباء وراثت میں دینار و در ہم نہیں چھوڑ گئے ہیں، ان کا ورثہ علم ہے لہٰذا جس نے علم حاصل کیا اس نے کامل حصہ پایا۔ مسند احمد بن حنبل، جامع ترمذی، سنن ابوداؤد، سنن ابن ماجہ، درامی اور جامع ترمذی نے راوی کا نام قیس ابن کثیر ؓ ذکر کیا ہے (لیکن صحیح کثیر بن قیس ہی ہے جیسا کہ صاحب مشکوۃ نے نقل کیا ہے۔ تشریح صحابی ؓ کی خدمت میں آنے والے کی علمی طلب اور حصول دین کے حقیقی جذبہ کا اظہار ہوتا ہے کہ اس نے آتے ہی سب سے پہلے یہی کیا تھا کہ آپ کے پاس آنے سے میری غرض کوئی دینوی منفعت یا محض ملاقات نہیں ہے بلکہ میں تو علم دین کے حصول کا حقیقی اور پر خلوص جذبہ لے کر آیا ہوں اور میری خواہش ہے کہ آپ کی زبان سے سرکار دو عالم ﷺ کی مقدس حدیث سن کر اپنے قلب و دماغ کو علوم نبوی کی ایک روشنی سے منور کروں۔ ہو سکتا ہے کہ طالب مذکور نے جس حدیث کے سننے کی طلب کی تھی وہ حدیث انہوں نے اجمالی طور پر سنی ہو اب ان کی خواہش یہ تھی کہ اس کو تفصیلی طور پر سن لیں یا یہ کہ وہ حدیث انہوں نے تفصیل کے ساتھ ہی (کسی دوسرے سے) سن رکھی ہو مگر اس جذبہ کے ساتھ حضرت ابودرداء ؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے کہ حدیث کو بلا واسطہ صحابی سے سنیں۔ ابودرداء ؓ نے سائل کے جواب میں جو حدیث بیان فرمائی ہوسکتا ہے کہ وہ یہی حدیث ہو اور یہی حدیث اس کا مطلوب ہو، لیکن یہ بھی احتمال ہے کہ یہ حدیث جو یہاں نقل کی گئی ہے وہ طالب کا مطلوب نہ ہو بلکہ چونکہ طالب نہایت مشقّت و پریشانی برداشت کر کے اور دور دراز کا سفر طے کر کے طلب علم اور حصول حدیث کی خاطر آیا تھا۔ اس لئے اس کی سعادت و خوش بختی کے اظہار کے طور پر اس کا ثواب بیان کیا اور اس کی مطلوبہ حدیث انہوں نے بیان کی وہ چونکہ اس باب کے مناسب نہیں تھی اس لئے مصنف کتاب نے اسے یہاں نقل نہیں کیا۔ حدیث میں فرمایا گیا ہے کہ جب طالب علم، علم کی خاطر اپنے گھر سے نکلتا ہے اور راہ مسافرت اختیار کرتا ہے تو فرشتے اس کی رضا مندی کے لئے اپنے پر بچھاتے ہیں۔ اس کی تشریح میں کہا جاتا ہے کہ یا تو واقعی طالب علم کے شرف و عزت کی خاطر فرشتے اپنے پر بچھاتے ہیں یا پھر طالب علم کی عظمت اور اس کی طرف رحمت الٰہی کے نزول کے لئے یہ کنا یہ ہے۔ نیز فرمایا گیا ہے کہ آسمانوں اور زمین میں اللہ کی جتنی بھی مخلوق ہے سب کی سب عالم کی مغفرت کے لئے دعا کرتی ہے۔ اس کے بعد پھر صراحت کی گئی کہ پانی کے اندر رہنے والی مچھلیاں بھی اس کے لئے استغفار کرتی ہیں ظاہر ہے کہ زمین کی مخلوق میں مچھلیاں بھی شامل ہیں ان کا بظاہر الگ ذکر کرنے کی ضرورت نہیں تھی مگر اس میں نکتہ یہ ہے کہ اس سے دراصل عالم کی انتہائی فضیلت و عظمت کا اظہار مقصود ہے اور اس طرف اشارہ ہے کہ پانی کا برسنا جو رحمت الٰہی کی نشانی اور نعمت الہٰی کی علامت ہے اور دنیا کی اکثر آسانیاں و راحتیں جو اسی سے حاصل ہوتی ہیں اور تمام خیر و بھلائی جو اس کے علاوہ ہیں سب کی سب عالم ہی کی برکت سے ہیں یہاں تک کہ مچھلیوں کا پانی کے اندر زندہ رہنا جو خود قدرت الٰہی کی ایک نشانی ہے، علماء ہی کی برکت کی بنا پر ہے۔ اس حدیث میں عالم اور عابد کے فرق کو بھی ظاہر کرتے ہوئے عابد پر عالم کو فوقیت اور برتری دی گئی ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ عالم کا فائدہ متعدی ہے یعنی اس کا فیضان صرف اس کی اپنی ذات تک محدود نہیں ہے اسی لئے عالم اور عابد کو چاند ستاروں سے مشابہت دی گئی ہے کہ جس طرح چودہویں کا چاند جب اپنی پوری تابانی اور جلوہ ریزی کے ساتھ آسمان پر نمودار ہوتا ہے تو دنیا کی تمام مخلوق اس سے مسینر ہوتی ہے اور اس کی روشنی تمام جگہ پہنچتی ہے جس سے دنیا فائدہ اٹھاتی ہے مگر ستارہ خود اپنی جگہ تو روشن ومنور ہوتا ہے مگر اس کا فیضان اتنا عام نہیں ہوتا کہ اس کی روشنی تمام جگہ پھیل سکے اور سب کو فائدہ پہنچا سکے۔ اگر کوئی یہ اشکال کر بیٹھے کہ عالم اور عابد میں کوئی فرق نہیں ہوتا کیونکہ اگر کوئی عالم محض علم پر بھروسہ کر بیٹھے اور علم پر نہ عمل کرے تو ظاہر ہے کہ اس کی کوئی فضیلت نہیں ہے۔ اسی طرح عابد بغیر علم کے عابد نہیں ہوسکتا کیونکہ عبادت کی حقیقی اور اصل روح علم ہی میں پوشیدہ ہے اس لئے عبادت بغیر علم کے صحیح طور پر ادا نہیں ہوسکتی۔ لہٰذا معلوم ہوا کہ جو عالم بالکل با عمل ہوگا وہی عابد بھی ہوگا اور جو عابد ہوگا وہی عالم با عمل بھی ہوگا۔ اس لئے دونوں میں فرق کیا ہوا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ عالم سے مراد وہ آدمی ہے جو تحصیل علم کے بعد عبادات ضرور یہ مثلاً فرائض واجبات اور سنن و مستحبات پر اکتفا کر کے اپنے اوقات کا بقیہ حصہ درس و تدریس میں مشغول رکھتا ہے یعنی اس کا کام درس و تدریس، دعوت و تبلیغ اور دین کی ترویج و اشاعت ہوتا ہے۔ اور عابد سے مراد وہ آدمی ہے جو تحصیل علم کے بعد اپنی زندگی کا تمام حصہ صرف عبادت ہی عبادت میں صرف کرتا ہے، نہ اسے علم کی اشاعت سے دلچسپی ہوتی ہے اور نہ تعلیم و تعلم اس کا مقصد ہوتا ہے بلکہ وہ ہمہ وقت عبادت ہی میں مشغول رہتا ہے۔ اور ظاہر ہے کہ اگر علم کی اشاعت اور تعلیم و تعلم کی فضیلت کا گہرا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ یہ عمل افادیت کے اعتبار سے سب سے بلند مقام رکھتا ہے اور جو ہر حال میں عبادت پر افضل ہے جیسا کہ اکثر احادیث سے بھی ثابت ہے۔ لہٰذا معلوم ہوا کہ عالم اور عابد میں اس اعتبار سے فرق ہے اور عابد پر عالم کو فوقیت حاصل ہے۔ شرح السنتہ میں حضرت سفیان ثوری (رح) کا قول منقول ہے جس میں وہ فرماتے ہیں کہ میں آج طالب علم سے افضل کوئی دوسری چیز نہیں جانتا۔ لوگوں نے عرض کیا کہ کیا لوگوں کے خلوص نیت میں فضیلت نہیں ہے۔ انہوں نے فرمایا طلب علم خود نیت کا سبب ہے یعنی نیت اس سے اپنے آپ ہی سنور جاتی ہے۔ چنانچہ بعض علماء کا قول نقل کیا جاتا ہے کہ انہوں نے کہا ہم نے علم غیر اللہ کے لئے حاصل کیا مگر بعد میں وہ اللہ ہی کے لئے ہوگیا، یعنی ہماری نیت پہلے مخلص اور صاف نہیں تھی مگر جب طلب علم کا حقیقی جذبہ پیدا ہوا اور علم کی روشنی نے قلب کو منور کیا تو نیت مخلص اور صحیح ہوگئی۔ علم کی فضیلت کا اس سے بھی اندازہ ہوسکتا ہے کہ حضرت امام شافعی (رح) فرماتے ہیں علم کا طلب کرنا نماز نفل سے افضل ہے کیونکہ وہ علم جسے طلب کیا جارہا ہے یا تو وہ فرض عین ہوگا یا فرض ہوگا یا فرض کفایہ ہوگا اور ظاہر ہے یہ دونوں نفل سے بہر حال افضل ہیں۔

208Mishkaat-al-Masabih

علم اور اس کی فضیلت کا بیان

وَعَنْ اَبِی اُمَامَۃَ الْبَاھِلِیِّ قَالَ ذُکِرَ لِرَسُوْلِ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم رَجُلَانِ: اَحَدُھُمَا عَابِدٌ وَالْاٰخَرُ عَالِمً فَقَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم فَضْلُ الْعَالِمِ عَلَی الْعَابِدِ کَفَضْلِی عَلَی اَدْنَا کُمْ ثُمَّ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم اِنَّ اﷲَ وَمَلَائِکَتَہ، وَاَھْلَ الْسَمٰوٰاتِ وَالْاَرْضِ حَتّٰی الَّنْمَلَۃَ فِی جُحْرِھَا وَحَتّٰی الْحَوْتَ لَیُصَلُّوْنَ عَلَی مُعَلِّمِ النَّاسِ الْخَیْرَ۔ رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ وَرَوَاہَ الدَّرِامِیُّ عَنْ مَکْحُوْلِ مُرْسَلًا وَلَمْ یَذْکُرْ رَجُلَانِ وَقَالَ فَضْلُ الْعَالِمِ عَلَی الْعَابِدِ کَفَضْلِی عَلٰی اَدْنَا کُمْ ثُمَّ تَلَا ھٰذِہٖ الْاٰیَۃَ (اِنَّمَا یَخْشَی اﷲَ مِنْ عِبَادِہٖ الْعُلَمَائُ) وَسَرَدَ الْحَدِیْثَ اِلٰی اٰخِرِہٖ۔ (جامع ترمذی)

اور حضرت ابی امامہ باہلی ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ کے سامنے دو آدمیوں کا ذکر کیا گیا جس میں سے ایک عابد تھا اور دوسرا عالم (یعنی آپ سے پوچھا گیا کہ ان دونوں میں افضل کون ہے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ عالم کو عابد پر ایسی ہی فضیلت ہے جیسی کہ میری فضیلت اس آدمی پر جو تم میں سے ادنیٰ درجہ کا ہو۔ پھر اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتے اور آسمانوں و زمین کی تمام مخلوقات یہاں تک کہ چیونٹیاں اپنے بلوں میں اور مچھلیاں اس آدمی کے لئے دعائے خیر کرتی ہیں جو لوگوں کو بھلائی (یعنی علم دین) سکھاتا ہے جامع ترمذی اور دارمی نے اس روایت کو مکحول سے مرسل طریقہ پر نقل کیا ہے جس میں لفظ رجلان کا ذکر نہیں ہے اور کہا ہے کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ عابد پر عالم کو ایسی ہی فضیلت ہے جیسی مجھے تم میں سے ادنیٰ آدمی پر ہے۔ پھر آپ ﷺ نے یہ آیت پڑھی آیت ( اِنَّمَا يَخْشَى اللّٰهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمٰ ؤُا) 35۔ فاطر 28) ترجمہ اللہ کے بندوں میں علماء ہی اللہ سے ڈرتے ہیں۔ اور پھر پوری حدیث آخرتک اسی طرح بیان کی ہے۔ تشریح اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عالم کو بہت زیادہ عظمت و فضیلت حاصل ہوتی ہے اور اسے عابد پر فوقیت اور برتری حاصل ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے عابد اور عالم دونوں میں یہ فرق ظاہر کیا ہے کہ جس طرح میں تم میں سے اس آدمی پر فضیلت رکھتا ہوں جو تم میں سے سب سے ادنیٰ درجہ کا ہو اسی طرح ایک عالم بھی عابد پر فضیلت رکھتا ہے۔ ظاہر ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو ایک ادنیٰ آدمی پر جو فضیلت حاصل ہے اس کا اندازہ نہیں کیا جاسکتا اسی طرح اب اس کا اندازہ بھی کیا جاسکتا ہے کہ ایک عالم کو عابد پر فضیلت کس مرتبہ اور درجہ کی ہوگی۔ آخر حدیث میں کہا گیا ہے کہ اسی حدیث کو دارمی نے مکحول سے طریق مرسل نقل کیا ہے اور اس میں اس حدیث کے ابتدائی الفاظ رجلان کا ذکر نہیں کیا گیا ہے یعنی ان کی روایت میں یہ الفاظ نہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے دو آدمیوں کا ذکر کیا گیا جس میں سے ایک عابد تھا اور دوسرا عالم بلکہ ان کی روایت قال رسول اللہ ﷺ سے شروع ہوتی ہے۔

209Mishkaat-al-Masabih

علم اور اس کی فضیلت کا بیان

وَعَنْ اَبِی سَعِیْدِ الْخُدْرِیِّ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم اِنَّ النَّاسَ لَکُمْ تَبَعٌ وَاِنَّ رِجَالًا یَا تُوْ نَکُمْ مِنْ اَقْطَارِ الْاَرْضِ یَتَفَقَّھُوْنَ فِی الدِّیْنِ فَاِذَا اَتَوْ کُمْ فَاسْتَوْ صَوْابِھِمْ خَیْرًا۔ (رواہ الجامع ترمذی)

اور حضرت ابوسعید ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ لوگ تمہارے (یعنی صحابہ کرام کے) تابع ہیں اور بہت سے لوگ علم دین سمجھنے اطراف عالم سے تمہارے پاس آئیں گے۔ لہٰذا جب وہ تمہارے پاس آئیں تو ان کے ساتھ بھلائی کا معاملہ کرنا۔ (جامع ترمذی) تشریح اس ارشاد کا مقصد صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو یہ بتانا ہے کہ میرے بعد چونکہ تمہاری ہی ذات دنیا کے لئے راہ بر و راہنما ہوگی اور تم ہی لوگوں کے پیشوا و امام بنوگے اس لئے تمام دنیا کے لوگ تمہارے پاس علم دین طلب کرنے اور میری احادیث حاصل کرنے آئیں گے۔ لہٰذا تمہیں چاہئے کہ وہ آئیں تو تم ان کے ساتھ بھلائی کا معاملہ کرو، ان کی نگہداشت اور تربیت میں کوتاہی نہ کرو اور ان کے ساتھ شفقت و محبت کا برتاؤ کرو، نیز ان کے قلوب کو علم دین کی اس مقدس روشنی سے جس سے تمہارے قلوب براہ راست فیضیاب ہوچکے ہیں منوّر کرو۔

210Mishkaat-al-Masabih

علم اور اس کی فضیلت کا بیان

وَعَنْ اَبِی ھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم اَلْکَلِمَۃُ الْحِکْمَۃُ ضَالَّۃُ الْحَکِیْمِ فَحَیْثُ وَجَدَھَا فَھُوَا حَقُّ بِھَا رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ وَابْنُ مَاجَۃَ وَقَالَ التِّرْمِذِیُّ ھٰذَا حَدِیْثٌ غَرِیْبٌ وَاِبْرَاھِیْمُ بْنُ الْفَضْلِ الرَّاوِی یُضَعَّفَ فَی الْحَدِیْثِ۔

اور حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ (دین میں) فائدہ دینے والی بات دانش مند آدمی کا مطلوب ہے لہٰذا وہ جہاں اسے پائے اس کا مستحق ہے۔ اور جامع ترمذی نے کہا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے اور اس حدیث میں ایک راوی ابراہیم ابن فضل ہیں جو کو (روایت حدیث میں) ضعیف خیال کیا جاتا ہے۔ (جامع ترمذی و سنن ابن ماجہ) تشریح یہ حدیث دانشمندی اور صاحب فہم انسان کو یہ احساس و شعور بخش رہی ہے کہ جب کسی سے دین کی کوئی فائدہ مند بات سنی جائے تو عقل کا یہ تقاضہ ہونا چاہئے کہ فوراً اسے قبول کر کے اس پر عمل کیا جائے اس لئے کہ عقل و خرد کا یہی تقاضا انسان کی معراج کا ضامن ہوتا ہے۔ یہ انتہائی بےوقوفی اور کم ظرفی کی بات ہے کہ اگر کوئی مفید اور بہتر بات کسی ایسے آدمی سے سنی جائے جو اپنے سے کمتر و کم رتبہ ہو تو اس کو اس لئے ناقابل اعتناء اور ناقابل عمل قرار دے دیا جائے کہ وہ بڑی بات اور چھوٹا منہ ہے۔ اسی وجہ سے علماء نے لکھا ہے کہ اگر کوئی آدمی اس بہتر و حق بات کو تو قابل قبول عمل جانے جو حضرت بایزید بسطامی (رح) جیسے صاحب عقل و تقدس ہستی سے منقول ہو۔ مگر جب وہی بات اپنی کسی کنیز اور لونڈی سے سنے تو اسے ناقابل اعتناء سمجھے تو وہ آدمی مغرور و متکبر کہلائے گا۔ مرد باید کہ گیرد اندر گوش گرنوشت ست پند بر دیوار

211Mishkaat-al-Masabih

علم اور اس کی فضیلت کا بیان

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم فَقِیْہٌ وَاحِدٌ اَشَدُّ عَلَی الشَّیْطَانِ مِنْ اَلْفِ عَابِدِ۔(راوہ الجامع ترمذی وابن ماجۃ)

اور حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ ایک فقیہ (یعنی عالم دین) شیطان پر ایک ہزار عابدوں سے زیادہ سخت ہے۔ (جامع ترمذی وسنن ابن ماجہ) تشریح مقابلہ کا یہ مسلم اصول ہے کہ کامیابی اس آدمی کے حصہ میں آتی ہے جو اپنے مد مقابل کے داؤ پیچ سے بخوبی واقف ہو اور اس کا توڑ جانتا ہو۔ چنانچہ ہم خود دیکھتے ہیں کہ مقابلہ کے اکھاڑہ میں وہ آدمی جو اپنے ظاہری قویٰ اور جسم کے اعتبار سے کوئی اہمیت نہیں رکھتا اپنے اس مقابل کو پچھاڑ دیتا ہے جو جسم و بدن کے اعتبار سے اس سے کئی گنا زیادہ طاقتور ہوتا ہے کیونکہ وہ جب مقابلہ میں آتا ہے تو اس کا دماغ بنیادی طور پر مقابل کے ہر وار سے بچاؤ کی شکل اور اس کے ہر داؤ کا جواب اپنے خزانہ میں رکھتا ہے نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ کامیابی اسی ہی سے ہوتی ہے۔ دنیا میں باطنی طور پر انسان کا سب سے بڑا دشمن شیطان ہے جو اپنے مکر و فریب کی طاقت سے لوگوں کو گمراہی کی وادی میں پھینکتا رہتا ہے۔ ظاہر ہے کہ وہ لوگ جو شیطان کے مکر و فریب سے واقف نہیں ہوتے اور اس کی طاقت و قوت کا جواب نہیں رکھتے وہ گمراہ ہوجاتے ہیں مگر ایسے لوگ جو اس کے ہر داؤ کا جواب رکھتے ہیں اور اس کی طاقت و قوت کی شہ رگ پر ان کا ہاتھ ہوتا ہے وہ نہ صرف یہ کہ خود اس کی گمراہی سے محفوظ رہتے ہیں بلکہ دوسروں کو بھی محفوظ رکھتے ہیں اور یہ لوگ وہی عالم ہوتے ہیں جن کے قلب و دماغ نور الہٰی کی مقدس روشنی سے منوّر اور ان کے ذہن و فکر علم و معرفت کی طاقت سے بھر پور ہوتے ہیں۔ اسی لئے اس حدیث میں فرمایا جا رہا ہے کہ شیطان کے مقابلہ میں ایک ہزار عابد جتنی طاقت رکھتے ہیں اتنی طاقت تنہا ایک عالم کے پاس ہوتی ہے کیونکہ جب شیطان لوگوں پر اپنے مکر و فریب کا جال ڈالتا ہے اور انہیں خواہشات نفسانی میں پھنسا کر گمراہی کے راستہ پر لگا دینا چاہتا ہے تو عالم اس کی چال سمجھ لیتا ہے چناچہ وہ لوگوں پر شیطان کی گمراہی کو ظاہر کرتا ہے اور ایسی تدابیر انہیں بتادیتا ہے جن پر عمل کرنے سے وہ شیطان کے ہر حملے سے محفوظ رہتے ہیں۔ برخلاف اس کے وہ عابد جو صرف عبادت ہی عبادت کرنا جانتا ہے اور علم و معرفت سے کوسوں دور ہوتا ہے وہ تو محض اپنی ریاضت و مجاہدہ اور عبادت میں مشغول رہتا ہے اسے یہ خبر بھی نہیں ہونے پاتی کہ شیطان کس چور دروازے سے اس کی عبادت میں خلل ڈال رہا ہے اور اس کی تمام سعی و کوشش کو ملیا میٹ کر رہا ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ظاہری طور پر وہ عبادت میں مشغول رہتا ہے، مگر لا علم ہونے کی وجہ سے وہ شیطان کے مکر و فریب میں پھنسا ہوا ہوتا ہے اس لئے نہ وہ خود شیطان کی گمراہی سے محفوظ رہتا ہے اور نہ وہ دوسروں کو محفوظ رکھ سکتا ہے۔

212Mishkaat-al-Masabih

علم اور اس کی فضیلت کا بیان

وَعَنْ اَنَسِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِیْضَۃٌ عَلٰی کُلِّ مُسْلِمِ وَمُسْلِمَۃِ وَوَاضِعُ الْعِلْمِ عِنْدَ غَیْرِ اَھْلِہٖ کَمُقَلِّدِ الْخَنَازِیْرِ الْجَوْھَرَوَاللُّؤْلُؤْوَالذَّھَبَ رَوَاہُ ابْنُ مَاجَۃَ وَرَوَی الْبَیْھَقِیُّ فِی شُعَبِ الْاِیْمَانِ اِلٰی قَوْلِہٖ مُسْلِمِ وَقَالَ ھٰذَا حَدِیْثٌ مَتْنُہ، مَشْھُوْرٌوَاِسْنَادُہ، ضَعِیْفٌ وَقَدْرُوِیَ مِنْ اَوْجُہِ کُلُّھَا ضَعِیْفٌ۔

اور حضرت انس ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم نے فرمایا۔ علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد و عورت پر فرض ہے اور نااہل کو علم سیکھانا ایسا ہی ہے جیسے کوئی آدمی سور کے گلے میں جواہرات، موتیوں اور سونے کا ہار ڈال دے۔ (ابن ماجہ) اور بیہقی نے اس روایت کو شعب الایمان میں لفظ مسلم تک نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ اس حدیث کا متن مشہور ہے اور اسناد ضعیف ہیں اور یہ حدیث مختلف طریقوں سے بیان کی گی ہے اور وہ سب ضعیف ہیں۔ (ابن ماجہ) تشریح اس حدیث سے علم کی اہمیت و عظمت اور اس کی ضرورت واضح ہوتی ہے کہ ہر مسلمان مرد و عورت کے لئے علم کا حاصل کرنا ضروری ہے، اس لئے کہ انسان جس مقصد کے لئے خلیفۃ اللہ بنا کر اس دنیا میں بھیجا گیا ہے وہ بغیر علم کے پورا نہیں ہوسکتا۔ انسان بغیر علم کے نہ اللہ کی ذات کو پہچانتا ہے اور نہ اسے اپنی حقیقت کا عرفان حاصل ہوتا ہے۔ جیسا کہ پہلے بھی بتایا گیا ہے کہ یہاں علم سے مراد علم دین ہے جس کی ضرورت زندگی کے ہر دور اور ہر شعبہ میں پڑتی ہے، مثلاً جب آدمی مسلمان ہوتا ہے یا احساس و شعور کی منزل کو پہنچتا ہے تو اسے اس بات کی ضرورت ہوتی ہے کہ وہ اپنے پیدا کرنے والے کی ذات اور اس کی صفات کی معرفت حاصل کرے اور عرفان الہٰی کی مقدس روشنی سے قلب و دماغ کی ہر ظلمت و کجروی کو ختم کرے۔ اسی طرح رسول کی نبوت و رسالت کا جاننا یا ایسی چیزوں کا علم حاصل کرنا جن پر ایمان و اسلام کی بنیاد ہے اس کے لئے ضروری ہوتا ہے۔ پھر جب عملی زندگی سے اسے واسطہ پڑتا ہے تو اسے ضرورت ہوتی ہے کہ اعمال کے احکام کا علم ہو۔ یعنی جب نماز کا وقت آئے گا تو اس پر نماز کے احکام و مسائل سیکھنا واجب ہوگا۔ جب رمضان آئے گا تو روزے کے احکام معلوم کرنا اس کے لئے ضروری ہوگا۔ اگر اللہ نے اسے مالی وسعت دی ہے اور صاحب نصاب ہے تو زکوٰۃ کے مسائل جاننا ضروری ہوگا۔ جب شادی کی تو بیوی کو گھر میں لایا تو حیض و نفاس کے مسائل طلاق وغیرہ اور ایسی چیزیں جن کا تعلق میاں بیوی کی باہمی زندگی اور ان کے تعلقات سے ہے ان کا علم حاصل کرنا واجب ہوگا۔ اسی طرح تجارت و زراعت اور خریدو فروحت کے احکام و مسائل سیکھنا بھی واجب ہوگا گویا زندگی کا کوئی شعبہ ہو خواہ اعتقادات ہوں یا عبادات، معاملات ہوں یا تعلقات، تمام چیزوں کی بصیرت حاصل کرنا اور ان کو جاننا سیکھنا اس پر فرض ہوگا، اگر وہ ایسا نہ کرے گا تو اس کی وجہ سے وہ ہر جگہ حدود شریعت سے تجاوز کرتا رہے گا اور دینی احکام و مسائل سے ناواقفیت کی بنا پر اس کا ہر فعل و عمل خلاف شریعت ہوگا جس کی وجہ سے وہ سخت گناہ گار ہوگا۔ بعض حضرات نے یہ بھی کہا ہے کہ یہاں علم سے مراد علم اخلاص اور آفات نفس کی معرفت ہے۔ یعنی ہر مسلمان مرد و عورت کے لئے ضروری ہے کہ وہ نفس کی تمام برائیوں مثلاً حسد، بغض، کینہ اور کدورت کو پہچانیں اور ان چیزوں کا علم حاصل کریں جو اعمال خیر کو فاسد کرتی ہیں۔ اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ علم کی مقدس روشنی تو انہیں کے نصیب میں ہوتی ہے جو اس کے اہل ہوتے ہیں اور جن کی صلاحیت طبع کا میلان اس طرف ہوتا ہے نیز جس کی جتنی استعداد و صلاحیت ہوتی ہے اسے علم سے اتنا ہی حصہ ملتا ہے۔ لہٰذا علم سکھانے میں اس بات کا خیال بطور خاص رکھنا چاہئے کہ جس کی جتنی استعداد ہو اور وہ جس معیار کی صلاحیت رکھتا ہو اسی اعتبار سے اسے علم سکھایا جائے۔ یہ نہ ہونا چاہئے کہ کسی آدمی کی استعداد و صلاحیت تو انتہائی کم درجہ کی ہے مگر علم اسے انتہائی اعلیٰ وارفع سکھایا جا رہا ہو اسی طرح ہر علم کے سکھانے کا موقع و محل ہوتا ہے۔ جو علم جس موقع پر ضروری ہو اور جس علم کا جو محل ہو اس کے مطابق سکھایا جائے۔ مثلاً اگر کوئی آدمی عوام اور جہلاء کے سامنے یکبارگی تصوف کے اسرار و معانی اور اس کی باریکیاں بیان کرنے لگے تو انہیں اس سے فائدہ ہونا تو الگ رہا اور زیادہ گمراہ ہوجائیں گے۔

213Mishkaat-al-Masabih

علم اور اس کی فضیلت کا بیان

وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم خَصْلَتَانِ لَا تَجْتَمِعَانِ فِی مُنَافِقِ حُسْنُ سَمْتِ وَلَا فِقْہٌ فِی الدِّیْنِ۔ (رواہ الجامع ترمذی)

اور حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے فرمایا۔ دو خصلتیں ایسی ہیں جو منافق میں جمع نہیں ہوتیں۔ ایک تو خلق نیک دوسری دینی سمجھ۔ (جامع ترمذی) تشریح اس حدیث میں اس بات کی رغبت دلائی جا رہی ہے کہ یہ دو وصف چونکہ ایسے ہیں جو مخلص مومن ہی کا حصہ ہیں اس لئے ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ دونوں خصلتوں کو اپنے اندر پیدا کرلے یعنی نیک عادتیں، اچھے اخلاق اور بہترین اوصاف کے جوہر اپنے اندر سموئے اور علم حاصل کر کے دینی سمجھ پیدا کرے۔ علامہ تور بشتی (رح) فرماتے ہیں کہ تفقہ فی الدّین یعنی دینی سمجھ کی حقیقت یہ ہے کہ دل میں دین کی معرفت جاگزیں ہو پھر زبان سے اس کا اظہار ہو اور اس کے مطابق عمل کرے جس کے سبب سے خوفِ اللہ اور تقویٰ حاصل ہو۔

214Mishkaat-al-Masabih

علم اور اس کی فضیلت کا بیان

وَعَنْ اَنَسِ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم مَنْ خَرَجَ فِی طَلَبِ الْعِلْمِ فَھُوَفِی سَبِیْلِ اﷲِ حَتّٰی یَرْجِعَ۔ (رواہ الجامع ترمذی والدارمی)

اور حضرت انس ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ جو آدمی گھر سے علم حاصل کرنے کے لئے نکلا تو وہ جب تک کہ (گھر) واپس نہ آجائے اللہ کی راہ میں ہے۔ (جامع ترمذی، درامی) تشریح اس ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ جو آدمی اپنے عزیز و اقا رب کو چھوڑ کر ماں باپ کی محبت و شفقت سے منہ پھیر کر اور اپنے گھر بار کی تمام راحتیں ترک کر کے علم دین حاصل کرنے کے لئے اپنے وطن و شہر سے نکلتا ہے خواہ وہ علم فرض عین ہو یا فرض کفایہ یعنی ضرورت و حاجت سے زیادہ، تو وہ طالب علم مجاہد فی سبیل اللہ کے مرتبہ کا ہوتا ہے جو ثواب اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کو ہوتا ہے وہی ثواب اس طالب کو بھی ملتا ہے، اس لئے کہ جس طرح ایک مجاہد سر پر کفن باندھ کر محض اس جذبہ سے میدان جنگ میں پہنچتا ہے کہ وہ اللہ کے دین کو سر بلند کرے اور اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ کے نام کا بول بالا کرے اسی طرح طالب علم محض اس مقصد کے لئے علم دین حاصل کرنے کے لئے گھر سے نکلتا ہے تاکہ وہ اپنے نفس کی تمام خواہشات کو ختم کر کے اور کسر نفسی اختیار کر کے علم الہٰی کی مقدس روشنی سے ظلم و جہل کی تمام تاریکیوں کو دور کردے، اللہ کے دین کو تمام عالم میں پھیلائے اور شیطان کے مکر و فریب سے لوگوں کو محفوظ رکھ کر شیطان کو ذلیل و خوار کرے۔ لہٰذا یہ جب تک علم حاصل کر کے اپنے گھر واپس نہیں آجاتا برابر میدان جِہاد کا ثواب حاصل کرتا رہتا ہے۔ پھر اس حدیث میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ جب طالب علم حصول علم سے فارغ ہو کر اپنے گھر واپس آجاتا ہے تو اس سے بھی زیادہ مرتبہ اور درجہ پاتا ہے کیونکہ جب وہ تعلیم کو مکمل کر کے لوٹتا ہے تو دنیا میں علم و معرفت کی روشنی پھیلانے، لوگوں کو تعلیم دینے اور انسانی زندگی کو علم و عمل سے کامل کرنے کے لئے ایک مصلح اور معلم کی حیثیت میں آتا ہے جس کی وجہ سے وہ وارث انبیاء کے معزز و مقدّس لقب سے نوازا جاتا ہے۔

215Mishkaat-al-Masabih

علم اور اس کی فضیلت کا بیان

وَعَنْ سَخْبَرَۃَ الازْدِیِّ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم مَنْ طَلَبَ الْعِلْمَ کَانَ کَفَّارَۃً لِّمَا مَضَی رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ وَالدَّرِامِیُّ وَقَالَ التِّرْمِذِیُّ ھٰذَا حَدِیْثٌ ضَعِیْفُ الْاِسْنَادِ وَ اَبُوْدَ اؤدَ الرَّاوِیُّ یُضَعَّفُ۔

اور حضرت سنجرہ ازدی ؓ (اسم گرامی سنجرہ ؓ اور کنیت ابوعبداللہ ہے آپ ازدی ہیں بعض اسدی بتاتے ہیں) راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے فرمایا جو آدمی علم طلب کرتا ہے تو وہ اس کے گزرے ہوئے (صغیرہ) گناہوں کے لئے کفارہ ہوجاتا ہے۔ اس حدیث کے ایک راوی ابوداؤد (روایت حدیث میں) ضعیف شمار کئے جاتے ہیں۔

216Mishkaat-al-Masabih

علم اور اس کی فضیلت کا بیان

وَعَنْ اَبِی سَعِیْدِ الْخُدْرِیِّ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم لَنْ یَّشْبَعَ الْمُؤْمِنُ مِنْ خَیْرِ یَّسْمَعَہُ حَتّٰی یَکُوْنَ مُنْتَھَاہُ الْجَنَّۃَ۔ (رواہ الجامع ترمذی)

اور حضرت ابوسعید خدری ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے فرمایا۔ مومن بھلائی (یعنی علم) سے سیر نہیں ہوتا وہ اس کو سنتا (یعنی حاصل کرتا) ہے یہاں تک کہ اس کی انتہا جنت ہوتی ہے۔ (جامع ترمذی ) تشریح طلب علم، ایمان کا خاصہ ہے چونکہ ایمان نور ہی نور ہے اس لئے وہ علم کو جو نور الہٰی ہے پوری طرح سے اپنے اندر جذب کرلینا چاہتا ہے۔ اسی لئے فرمایا جا رہا ہے کہ جب انسان کا قلب و دماغ ایمان کی روشنی سے منوّر ہوجاتا ہے تو وہ علم و معرفت کے نور سے انسانی معراج کی انتہائی بلندیوں تک پہنچ جانا چاہتا ہے، یہی وجہ ہے کہ مومن کا پیٹ علم سے کبھی نہیں بھرتا وہ جوں جوں علم کی بلندیوں پر پہنچتا رہتا ہے اس کی خواہش و تمنا یہی رہتی ہے کہ وہ اس منزل کی آخری حدود تک پہنچ جائے اگرچہ علم کا میدان چونکہ اتنا وسیع ہے کہ اگر انسان اپنی بڑی سے بڑی زندگی کے ساتھ بھی ایک لمحہ گزارے بغیر اس میں دوڑتا رہے تو وہ اس کی انتہائی حدود کو نہیں پہنچ سکتا، مگر اس کے باوجود مومن تمام عمر علم کی تلاش میں رہتا ہے اور وہ عمر کے آخری حصے تک علم کے دامن کو چھوڑنا نہیں چاہتا یہاں تک کہ اس کی زندگی اپنے مقررہ وقت پر آکر ختم ہوجاتی ہے اور وہ علم اس صادق طلب اور سچی دھن کے عوض جس میں وہ زندگی بھر مصروف رہا جنت کی ابدی سعادتوں سے نوازا جاتا ہے۔ در حقیقت اس حدیث میں طالب علم اور اہل علم کے لئے بڑی عظیم خوشخبری ہے کہ یہ لوگ اس دنیا سے ایمان کے ساتھ رخصت ہوتے ہیں اور رضائے مولیٰ سے ان کا دامن پر ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ اکثر اہل اللہ اپنی زندگی کے آخری لمحہ تک حصول علم میں منہمک رہے ہیں باوجودیکہ ان کی علمی فضیلت و عظمت انتہائی درجہ کی ہوتی تھی مگر وہ اس سعادت کے حصول کی خاطر طلب علم میں ہمیشہ مشغول رہتے تھے۔ اس سلسلہ میں اتنی بات بھی ذہن میں رکھ لینی چاہئے کہ علم کا دائرہ بہت وسیع ہے اور یہ اپنے بہت سے گوشوں پر حاوی ہے اس لئے وہ حضرات جو تصنیف و تالیف اور تعلیم و تعلّم میں مشغول رہتے ہیں وہ بھی دراصل طالب علم میں ہی مشغول ہوتے ہیں اس لئے ان کو بھی طلب علم اور تکمیل علم کا ثواب ملتا ہے اور وہ اسی زمرہ میں شمار کئے جاتے ہیں۔

217Mishkaat-al-Masabih

علم اور اس کی فضیلت کا بیان

وَعَنْ اَبِی ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم مَنْ سُئِلَ عَنْ عِلْمِ عَلِمَہ، ثُمَّ کَتَمَہ، اُلْجِمَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ بِلِجَامِ مِّنْ نَّارِ رَوَاہُ اَحْمَدُ وَاَبُوْدَاوُدَ وَالتِّرْمِذِیُّ۔ (ورواہ ابن ماجۃ عن انس)

اور حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے فرمایا۔ جس آدمی سے علم کی کوئی ایسی بات پوچھی گئی جو اسے معلوم تھی مگر اس نے چھپایا (یعنی بتایا نہیں) تو قیامت کے دن اس کے منہ میں آگ کی لگام دی جائے گی۔ سنن ابوداؤد، جامع ترمذی اور ابن ماجہ نے اس حدیث کو حضرت انس ؓ سے روایت کیا ہے۔ (سنن ابوداؤد، جامع ترمذی ) تشریح اس حدیث میں ایسے عالم کے بارے میں و عید بیان کی جا رہی ہے جو دینی باتیں معلوم ہونے کے باوجود لوگوں کو نہیں بتاتا اور سائل کو جواب نہیں دیتا۔ مگر یہ وعید ایسے علم کے بارے میں ہے جس کی تعلیم ضروری اور واجب ہو۔ مثلاً کوئی آدمی اسلام لانے کا ارادہ کرے اور کسی عالم سے کہے کہ اسلامی تعلیمات سے مجھے آگاہ کرو اور بتاؤ کہ اسلام کیا چیز ہے یا وہ نماز کے وقت عالم سے پوچھتا ہے کہ نماز کے جو احکام و مسائل ہیں ان سے مجھے آگاہ کرو، یا کسی حلال و حرام چیز کا کوئی فتوٰی معلوم کرنا چاہتا ہے تو ان سب چیزوں کا جواب دینا اور جہاں تک اسے معلوم ہوں صحیح صحیح بات بتانا عالم کے لئے ضروری اور واجب ہے۔ البتہ نوافل و مباح چیزوں کے بارے میں یہ حکم نہیں ہوگا۔

218Mishkaat-al-Masabih

علم اور اس کی فضیلت کا بیان

وَعَنْ کَعْبِ بْنِ مَالِکِ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم مَنْ طَلَبَ الْعِلْمُ لِیُجَارِیَ بِہِ لْعُلَمَآءَ اَوْلِیُمَارِیَ بِہِ السُّفَھَآءَ اَوْیَصْرِفَ بِہٖ وُجُوْہَ النَّاسِ اِلَیْہٖ اَدْخَلَہُ اﷲُ النَّارْرَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ وَرَوَاہُ ابْنُ مَاجَۃَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ۔

اور حضرت کعب ابن مالک ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ جس آدمی نے علم کو اس غرض سے حاصل کیا کہ اس کے ذریعے علماء پر فخر کرے، بیوقوفوں سے جھگڑے اور لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرے تو اللہ تعالیٰ اس کو جہنم کی آگ میں داخل کرے گا۔ جامع ترمذی اور سنن ابن ماجہ نے اس حدیث کو حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ سے روایت کیا ہے۔ (جامع ترمذی ) تشریح علم اپنی لطافت اور نورانیت کے سبب ریاکاری، خودنمائی، غرور وتکبر اور بےجا فخر و مباہات کی غلاظتوں کو برداشت نہیں کرسکتا۔ جب علم کی اوّلین کرن یہی چاہتی ہے کہ وہ انسان کے دل و دماغ سے ظلم و جہل کی ہر تاریکی کو دور کر دے تو یہ کیسے برداشت کیا جاسکتا ہے کہ ایک عالم جس کے دماغ میں علم کی مقدّس روشنی بھری ہو، ان غیر اسلامی وغیر اخلاقی چیزوں کا مظاہرہ کرے۔ علم کا تقاضا تو یہ ہے کہ ایک انسان تہذیب و شرافت اور تعلیم و ترقی کی انتہائی بلندیوں پر ہونے کے باوجود بھی سراپا انکسار متواضع بنا رہے، ریاکاری و خودنمائی سے الگ رہے اور اخلاق و احسان کی زندگی اختیار کئے رہے۔ اس لئے فرمایا جارہا ہے کہ اگر کوئی علم محض دینوی منفعت اور ذاتی وجاہت و عزت کی خاطر حاصل کرتا ہے۔ اگر اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ علم حاصل کرنے کے بعد لوگ ہماری طرف متوجہ ہوں، عوام پر اپنی علم دانی کا سکّہ جما کر ان سے مال و دولت حاصل کیا جائے علم کو دنیا کے کاروبار اور نفسانی خواہشات کی تکمیل کے لئے آلہ کار بنایا جائے اور نہ صرف یہ بلکہ علم حاصل کرنے کے بعد وہ علماء حق کے ساتھ غرور وتکبر کا معاملہ کرتا ہے، جاہلوں سے خواہ مخواہ الجھتا رہتا ہے، لوگوں کے سامنے بےجا فخر و مباہات کا مظاہرہ کرتا ہے۔ تو ایسے عالم کو کان کھول کر سن لینا چاہئے کہ چاہے وہ دنیاوی اعتبار سے اپنے مقاصد میں کامیاب ہوجائے اور تقدیر الہٰی اس کی خواہشات اور اغراض کی سیادت و وجاہت بلکہ اس کو اس عدم اخلاص کی سزا بایں طور بھگتنی ہوگی کہ اسے جہنم کے شعلوں کے حوالے کردیا جائے گا۔ ہاں، ایسا آدمی جو پہلے اپنی نیت میں مخلص تھا، اس کے ارادہ میں کسی قسم کو کوئی کھوٹ نہیں تھا اور اس کا مقصد حاصل کرنے سے محض اعلاء کلمۃ اللہ اور رضائے مولیٰ تھا مگر بعد میں بتقضائے فطرت و انسانی جبلت اس کی نیت میں کھوٹ پیدا ہوگیا اور اس میں نمود و نمائش اور ریاکاری کا اثر ہوگیا تو وہ اس حکم میں داخل نہیں ہوگا کیونکہ اس معاملہ میں بہر حال وہ معذور ہے۔

219Mishkaat-al-Masabih

علم اور اس کی فضیلت کا بیان

وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم مَنْ تَعَلَّمَ عِلْمًا مِمَّا یُبْتَغَی بِہٖ وَجْہُ اﷲِ لَا یَتَعَلَّمَہ، اِلَّا لِیُصِیْبَ بِہٖ عَرَضًا مِنَ الدُّنْیَا لَمْ یَجِدْ عَرْفَ الْجَنَّۃِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ یَعْنِی رِیْحَھَا۔(رواہ مسند احمد بن حنبل و ابوداؤد و ابن ماجۃ)

اور حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ جس نے اس علم کو جس سے اللہ تعالیٰ کی رضا طلب کی جاتی ہے، اس غرض سے سیکھا کہ وہ اس کے ذریعہ دنیا کی متاع حاصل کرے تو قیامت کے دن اسے جنت کی خوشبو بھی میسر نہیں ہوگی۔ (مسند احمد بن حنبل، ابوداؤ، ابن ماجہ) تشریح جو کوئی علم دین محض اس لئے حاصل کرے کہ اس کے ذریعہ دنیا کی دولت و عزت سمیٹے اور اسے حصول دنیا کے لئے وسیلہ بنائے تو اس کے لئے یہ وعید بیان فرمائی جارہی ہے۔ ہاں اگر علم دینی نہ ہو دنیاوی ہو تو اس کو اس مقصد کے لئے اسے حصول دنیا کے لئے وسیلہ اور ذریعہ معاش بنا لیا جائے گا حاصل کرنا کوئی برا نہیں ہے لیکن اس میں بھی یہ شرط ہے کہ وہ علم ایسا نہ ہو جس کے حصول کو شریعت درست قرار نہیں دیتی۔ مثلاً علم نجوم وغیرہ یا دوسرے ایسے علوم جو عقیدہ و عمل پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اس حدیث میں یہ کہنا کہ ایسا عالم جس کی نیت حصول علم کے سلسلہ میں خالصاً اللہ کی رضا نہ ہو اسے جنت کی خوشبو بھی میسر نہیں آئے گی، یہ کنایہ ہے بہشت میں عدم دخول سے اور مبالغہ ہے محرومی جنت میں اور اس سے مراد یہ ہے کہ ایسا آدمی مخلص اور مقرب بندوں کے ہمراہ، بغیر عذاب کے جنت میں داخل نہیں ہوگا۔

220Mishkaat-al-Masabih

علم اور اس کی فضیلت کا بیان

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُوْدِ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم نَضَّرَ اﷲُ عَبْدًاسَمِعَ مَقَالَتِی فَحَفِظَھَا وَوَعَاھَا وَاَدَّاھَا فَرُبَّ حَامِلِ فِقْہِ غَیْرُ فَقِیْہِ وَرُبَّ حَامِلِ فِقْہِ اِلٰی مَنْ ھُوَ اَفْقَہ، مِنْہ،۔ ثَلَاثٌ لَا یَغُلُّ عَلَیْھِنَّ قَلْبُ مُسْلِمِ، اِخْلَاصُ الْعَمَلِ لِلّٰہِ وَالنَّصِیْحَۃُ لِلْمُسْلِمِیْنَ وَلُزُوْمُ جَمَا عَتِھِمْ فَاِنَّ دَعْوَتَھُمْ تُحِیْطُ مِنْ وَّرَائِھِمْ رَوَاہُ الشَّافِعِیُّ وَالبَیْھَقِیُّ فِی الْمَدْخَلِ وَرَوَاہُ اَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِیُّ وَاَبُوْدَاؤدَ وَابْنُ مَاجَۃً وَالدَّارِمِیُّ عَنْ زَیْدِ بْنِ ثَابِتِ اِلَّا اَنَّ التِّرْمِذِیَّ وَاٰبَا دَاوُدَ لَمْ یَذْکُرَا ثَلَاثٌ لاَ یَغُلُّ عَلَیْھِنَّ اِلٰی اٰخِرِہٖ۔

اور حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ اللہ تعالیٰ اس بندہ کو تر و تازہ رکھے (یعنی اس کی قدر و منزلت بہت کافی ہو اور اسے دین و دنیا کی خوشی و مسرت کے ساتھ رکھے) جس نے میری کوئی بات سنی اور اسے یاد رکھا اور ہمیشہ یاد رکھا اور اس کو جیسا سنا ہو پہر لوگوں تک پہنچایا۔ کیونکہ بعض حامل فقہ (یعنی علم دین کے حامل) فقیہ (یعنی سمجھ دار) نہیں ہوتے اور بعض حامل فقہ ان لوگوں تک پہنچا دیتے ہیں جو ان سے زیادہ فقیہ (سمجھ دار) ہوتے ہیں۔ اور تین چیزیں ایسی ہیں جن میں مسلمان کا دل خیانت نہیں کرتا۔ ایک تو عمل خاص طور پر اللہ کے لئے کرنا، دوسرے مسلمانوں کے ساتھ بھلائی کرنا اور تیسرے مسلمانوں کی جماعت کو لازم پکڑنا۔ اس لئے کہ جماعت کی دعا ان کو چاروں طرف سے گھیرے ہوئے ہے۔ (شافعی، بیہقی) تشریح مطلب یہ کہ حدیث کو محفوظ اور یاد رکھنے والے بعض تو ایسے ہوتے ہیں جو خود زیادہ سمجھ دار نہیں ہوتے اور بعض سمجھ رکھتے ہیں لیکن ایسا بھی ہوتا ہے کہ وہ جس کے سامنے حدیث بیان کرتے ہیں وہ ان سے زیادہ سمجھ رکھتا ہے لہٰذا چاہئے کہ حدیث جس طرح سنی جائے اسی طرح دوسروں تک اسے پہنچایا جائے تاکہ جس کو حدیث پہنچائی جارہی ہے اور جس کے سامنے بیان کی جارہی ہے وہ حدیث کا مطلب بخوبی سمجھ لے۔ اس حدیث سے اس طرف اشارہ کردیا ہے کہ راویان حدیث کو چاہئے کہ وہ حدیث کو جن الفاظ میں سنیں بعینہ انہیں الفاظ میں نقل کریں۔ یغل اگر یاء کے زبر اور غین کے زیر کے ساتھ ہو تو اس کے معنی حقد یعنی کینہ کے ہوتے ہیں اور اگر یا کے پیش اور غین کے زبر کے ساتھ ہو یا حرفِ یا کے زبر غین کے پیش کے ساتھ ہو تو اس کے معنی خیانت کے ہوجاتے ہیں چناچہ فرمایا جا رہا ہے کہ مومن ان تین چیزوں میں خیانت نہیں کرتا یعنی مومن کے اندر یہ تینوں چیزیں ضرور پائی جاتی ہیں اور جب مومن سے یہ تینوں اعمال صادر ہوتے ہیں تو اس میں کینہ داخل ہوتا کہ وہ ان چیزوں سے منحرف کردے۔ خلوص عمل کا مطلب اور اس کا انتہائی درجہ یہ ہے کہ بندہ جو عمل کرے وہ محض اللہ تعالیٰ کی خوشنودی اور اس کی رضاء کے لئے کرے۔ اس کے علاوہ اس کا مقصد کوئی دوسرا نہ ہو، نہ کوئی دنیوی غرض ہو اور نہ کوئی اخروی منفعت صرف رضائے مولا ہی سامنے ہو اور وہی حاصل مقصد پھر اس میں بھی دو درجے ہوجاتے ہیں۔ عام لوگوں کا جو خلوص عمل ہوتا ہے وہ خاص یعنی اہل اللہ کے خلوص عمل سے کمتر درجہ کا ہوتا ہے کیونکہ یہ لوگ اپنی ریاضت و مجاہدہ اور تلعق مع اللہ کی بنا پر خلوص کی انتہائی بلندیوں تک پہنچے ہوئے ہوتے ہیں۔ مسلمانوں کے ساتھ بھلائی کا طریقہ یہ ہے کہ حتی المقدور اپنے دوسرے بھائیوں کو خیر و بھلائی کی نصیحت کرتا رہے اور انہیں سیدھی راہ پر لگانے کی کوشش کرتا رہے، نیز دنیاوی اعتبار سے ان کی امداد و اعانت کرے اور ان کی ہر مشکل میں خبر گیری رکھے۔ مسلمانوں کی جماعت کو لازم پکڑنے کے معنی یہ ہیں کہ زندگی کے ہر مرحلہ پر اجتماعیت کے اصول پر کار بند رہے اور اپنے آپ کو کبھی انفرادیت کی راہ پر نہ ڈالے، علماء دین اور علمائے امت کے متفقہ عقائد صحیحہ اور اعمال صالحہ کی موافقت کرتا رہے اور ان کے ساتھ رہے۔ مثلاً نماز جمعہ اور جماعت وغیرہ میں ان لوگوں کے ہمراہ رہ کر اجتماعیت کو فروغ دے تاکہ اسلامی طاقت و قوت میں بھی اضافہ ہو اور رحمت الٰہی کے نزول کا سبب بھی کیونکہ جماعت پر اللہ کی رحمت ہوتی ہے۔ لفظ من و رائھم مشکوۃ کے بعض نسخوں میں میم کے زیر کے ساتھ ہے اور بعض نسخوں میں زبر کے ساتھ۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ شیطان کے مکر و فریب سے بچنے کے لئے جماعت کو مسلمانوں کی دعا گھیرے ہوئے ہے جس کی بنا پر وہ شیطان کی گمراہی سے بچتے ہیں۔ اس میں اس بات پر تنبیہہ مقصود ہے کہ جو کوئی علمائے دین اور صلحائے امت کی جماعت سے اپنے آپ کو الگ کرلیتا ہے اس کو نہ جماعت کی برکت میسر ہوتی ہے اور نہ مسلمانوں کی دعا حاصل ہوتی ہے۔