کتاب اور سنت کو مضبوطی سے پکڑنے کا بیان
وَعَنْ مَّالِکِ بْنِ اَنَسِ ، مُرْسَلًا قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم ((تَرَکْتُ فِیْکُمْ اَمَرَیْنِ لَنْ تَضِلُّوْا مَا تَمَسَّکْتُمْ بِھِمَا: کِتَابُ اﷲِ وَسُنَّۃُ رَسُوْلِہٖ)) (رواہ فی الموطا)
اور حضرت مالک بن انس ؓ مرسلًا روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا میں نے تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑی ہیں، جب تک تم انہیں پکڑے رہو گے ہرگز گمراہ نہیں ہوسکتے۔ وہ کتاب اللہ (قرآن مجید) اور سنت رسول اللہ (احادیث) ہیں۔ (موطا)
کتاب اور سنت کو مضبوطی سے پکڑنے کا بیان
وَعَنْ غُضَیْفِ بْنِ الْحَارِثِ الثُّمَالِیِّ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم ((مَآ اَحْدَثَ قَوْمٌ بِدْعَۃً اِلَّا رُفِعَ مِثْلُھَا مِنَ السُّنَّۃِ فَتَمَسُّکٌ بِسُنَّۃِ خَیْرٌ مِّنْ اِحْدَاثِ بِدْعَۃِ))(رواہ مسند احمد بن حنبل)
اور حضرت غضیف بن حارث الثمالی ؓ (اسم گرامی غضیف ابن حارث شمالی ہے اور کنیت ابواسماء ہے آپ صحابی ہیں اور انصار سے ہیں)۔ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جب کوئی قوم (دین میں) نئی بات نکالتی ہے (یعنی ایسی بدعت جو سنت کے مزاحم ہو) تو اس کے مثل ایک سنت اٹھالی جاتی ہے۔ لہٰذا سنت کو مضبوط پکڑنا نئی بات نکالنے (بدعت) سے بہتر ہے۔ (مسند احمد بن حنبل)
تشریح
سنت پر عمل کرنا اگرچہ وہ معمولی درجہ کی ہو بدعت پیدا کرنے اور بدعت پر عمل کرنے سے بہتر ہے اگرچہ وہ بدعت حسنہ ہو اس لئے کہ سنت نبوی کے اتباع و پیروی سے روح میں جلا پیدا ہوتا ہے جس کے نور سے قلب و دماغ منور ہوتے ہیں اس کے برخلاف بدعت ظلمت و گمراہی کا سبب ہے مثلا بیت الخلاء میں آداب سنت و شرع کے مطابق جانا، سرائیں بنانے اور مدر سے قائم کرنے سے بہتر ہے۔ کیونکہ اگر کوئی آدمی ان آداب کی رعایت کرتا ہوا بیت الخلاء جاتا ہے جو حدیث سے منقول ہیں تو وہ سنت پر عمل کرنے والا کہلائے گا۔ برخلاف اس کے کہ اگرچہ مدر سے قائم کرنا اور خانقاہیں بنانا بہت بڑا کام ہے۔ لیکن چونکہ وہ بدعت حسنہ ہے، اس لئے اس معمولی سی سنت پر عمل کرنے والا اتنے بڑے کام کرنے والے سے افضل ہوگا اس لئے کہ آداب سنت کا خیال کرنے والا اور سنت کی پیروی کرنے والا مقام و عروج اور قرب الہٰی کی طرف ترقی کرتا ہے مگر سنت کو ترک کرنے والا مقام علیا سے نیچے گرتا ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ایسی چیزیں جو افضل و اعلیٰ ہوتی ہیں وہ انہیں ترک کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ ایک مقام آجاتا ہے کہ وہ قساوت قلبی کے مرتبہ کو پہنچ جاتا ہے جسے رائن اور طبع کہتے ہیں۔ سید جمال الدین سے بھی یہی منقول ہے نیز وہ لکھتے ہیں کہ اس میں حکمت یہ ہے کہ جس نے آداب سنت کی رعایت کی مثلاً اس کا بیت الخلاء جانا بھی آداب سنت کے مطابق ہے تو اللہ کی جانب سے یہ توفیق دی جاتی ہے کہ وہ اس سے اعلیٰ سنت پر عمل کرے۔ چناچہ توفیق الہٰی کا وہی نور اعلیٰ مقامات کی طرف اس کی راہ نمائی کرتا رہتا ہے آخر کار وہ منزل مقصود تک جا پہنچتا ہے۔ اور جو آدمی کسی معمولی سنّت کو بھی ترک کرتا ہے تو نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس کے اندر یہ خامی پیدا ہوجاتی ہے کہ وہ دوسری اعلیٰ و افضل چیزوں کو بھی ترک کرتا رہتا ہے اور اس کی سلامتی قلب ترک سنت کی ظلمت میں پھنس کر تنزل کرتی رہتی ہے، یہاں تک کہ وہ مقام رین و طبع تک جا گرتا ہے۔ ملا علی قاری نے اس موقع پر بڑی اچھی بات کہی ہے کہ کیا تم یہ نہیں دیکھتے کہ کسل وسستی کی وجہ سے سنت کو ترک کرنا ملامت و عتاب کا باعث ہے اور سنت کو ناقابل اعتناء سمجھ کر اس پر عمل کرنا معصیت اور اللہ تعالیٰ کے عذاب کا سبب ہے اور سنت کا انکار بدعتی ہونے کا اظہار ہے لیکن اگر کسی بدعت کو خواہ وہ بدعت حسنہ کیوں نہ ہو ترک کردیا جائے تو یہ تمام باتیں لازم نہیں آیتیں۔ گویا سنت کو ترک کرنا بیشمار نقصان و فساد کا باعث ہے مگر بدعت کو ترک کرنا کوئی اثر نہیں ڈالتا اس لئے اس سے معلوم ہوا کہ سنت پر عمل کرنا خواہ کتنی ہی معمولی ہو، فلاح وسعادت اور بہتری کا باعث ہے اور بدعت پر عمل کرنا خواہ وہ حسنہ ہوا اس کے مقابلہ میں بہتر نہیں ہے۔
کتاب اور سنت کو مضبوطی سے پکڑنے کا بیان
وَعَنْ حَسَّانَ ، قَالَ: مَا ابْتَدَعَ قَوْمٌ بِدْعَۃً فِی دِیْنِھِمْ اِلَّا نَزَعَ اﷲُ مِنْ سُنَّتِھِمْ مِثْلَھَا ثُمَّ لَا یُعِیْدُھَا اِلَیْھِمْ اِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ۔(رواہ الدارمی)
اور حضرت حسان ؓ ( اسم گرامی حسان ابن ثابت ہے اور کنیت ابوالولید ہے انصاری اور خزرجی ہیں بعض حضرات نے کہا ہے کہ کنیت ابوالحسام ہے حضرت حسان کی وفات حضرت علی ؓ کے زمانہ خلافت میں ٤٠ ھ میں ہوئی ہے بعض لوگ فرماتے ہیں کہ وفات پچاس ہجری میں ہوئی ہے) فرماتے ہیں، کہ جب کوئی قوم اپنے دین میں نئی بات ( یعنی ایس بدعت سیہ جو سنت کے مزاحم ہو) نکالتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی سنت میں سے اس کا مثل نکال لیتا ہے (یعنی جب کوئی بدعت سیہ پیدا ہوتی ہے تو اس کے مثل سنت دنیا سے اٹھالی جاتی ہے) اور پھر وہ سنت قیامت تک اس کی طرف واپس نہیں کی جاتی۔ (درامی)
کتاب اور سنت کو مضبوطی سے پکڑنے کا بیان
وَعَنْ اِبْرَاھِیْمَ بْنِ مَیْسَرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم ((مَنْ وَقَّرَ صَاحِبَ بِدْعَۃِ فَقَدْ اَعَانَ عَلٰی ھَدْمِ الْاِسْلَامِ)) رَوَاہُ الْبَیْھَقِیْ فِی شُعَبِ الْاِیْمَانِ مُرْسَلًا۔ (رواہ البیہقی)
اور حضرت ابراہیم بن میسرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ جس آدمی نے بدعتی کی تعظیم کی اس نے اسلام کے ستون کو گرا دینے میں مدد کی۔ (بیہقی )
تشریح
اس کی وجہ یہ ہے کہ جب کوئی آدمی کسی بدعتی کی تو قیر و عزت کرتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس کے مقابلہ میں اس سنت کی عزت و احترام کا کوئی خیال نہیں ہے اس طرح وہ سنت کی تحقیر کا باعث ہوتا ہے اور ظاہر ہے کہ سنت کی تحقیر اسلام کی عمارت کو اجاڑنا ہے اسی پر اہل سنت کی تحقیر کو بھی قیاس کیا جاسکتا ہے کہ اگر کوئی آدمی کسی پابند شرع و سنت کی توہین کرتا ہے تو وہ دین و سنت کی عمارت کو نقصان پہنچاتا ہے۔ اس کے برخلاف اگر کوئی آدمی بدعتی کی تحقیر و تذلیل کرے تو یہ اس بات کا اظہار ہوگا کہ اسے سنت سے محبت ہے جو دین اسلام کی بنیادوں کو مضبوط کرنے کا سبب ہے جس پر اسے بیشمار حسنات کا مستحق قرار دیا جائے گا۔
کتاب اور سنت کو مضبوطی سے پکڑنے کا بیان
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسِ قَالَ: مَنْ تَعَلَّمَ کِتَابَ اﷲِ ثُمَّ اتَّبَعَ مَافِیْہِ ھَدَاہُ اﷲُ مِنَ الضَّلَالَۃِ فِی الدُّنْیَا وَوَقَاہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ سُوْ ۤءَ الْحِسَابِ وَفِیْ رِوَایَۃِ ، قَالَ : مَنِ اقْتَدَی بِکِتَابِ اﷲِ لَایَضِلُّ فِی الدُّنْیَا وَلَا یَشْقٰی فِی الْاٰخِرَۃِ ثُمَّ تَلَا ھٰذِہِ الْآیَۃَ(فَمَنِ اتَّبَعَ ھُدَایَ فَلَا یَضِلُّ وَلَا یَشْقٰی)) (رواہ رزین)
اور حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ جس شخص نے کتاب اللہ کا علم حاصل کیا اور پھر اس چیز کی پیروی کی جو اس (کتاب اللہ) کے اندر ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو دنیا میں گمراہی سے ہٹا کر راہ ہدایت پر لگائے (یعنی اس کو ہدایت کے راستہ پر ثابت قدم رکھے گا اور گمراہی سے بچالے گا) اور قیامت کے دن اس کو برے حساب سے بچالے گا ( یعنی اس سے مواخذہ نہیں ہوگا) اور ایک روایت میں ہے کہ جس شخص نے کتاب اللہ کی پیروی کی تو نہ وہ دنیا میں گمراہ ہوگا اور نہ آخرت میں بدبخت ہوگا (یعنی اسے عذاب نہیں دیا جائے گا) اس کے بعد عبداللہ ابن عباس ؓ نے یہ آیت تلاوت فرمائی آیت (فَمَنِ اتَّبَعَ هُدَايَ فَلَا يَضِلُّ وَلَا يَشْقٰي) 20۔ طہ 123) ترجمہ جس آدمی نے میری ہدایت (یعنی قرآن) کی پیروی کی نہ وہ دنیا میں گمراہ ہوگا اور نہ (آخرت میں) بدبخت ہوگا۔ (رزین)
تشریح
چونکہ قرآن کریم کا پڑھنا باعث سعادت اور اس پر عمل کرنا ذریعہ نجات ہے اس لئے جو آدمی قرآن کریم کو سمجھ کر پڑھے اور قرآن کو سمجھنے کی جو شرائط ہیں ان کے مطابق اس کے علوم و معارف کو حاصل کرے اور پھر قرآن کریم نے جو احکام بتائے ہیں ان پر عمل کرے اور ہدایت کا جو راستہ متعین کردیا ہے اس پر چلتا رہے تو اس کے لئے دین و دنیا دونوں جگہ سعادت و رحمت کے دروازے کھول دیئے جائیں گے۔ دنیا میں اس پر اللہ کی جانب سے رحمت ہوگی کہ وہ چونکہ قرآن کو اپنا راہبر بنا رکھے گا اس لئے گناہ و معصیت سے بچتا رہے گا برائی کے راستے کو چھوڑ دے گا جس کا نتیجہ آخرت میں یہ ہوگا کہ وہاں اس پر اللہ کی بیشمار رحمتوں کا سایہ ہوگا نہ تو حساب و کتاب کی سختی ہوگی اور نہ عذاب میں مبتلا ہوگا اور یہی بندہ کے حق میں سب سے بڑی فلاح وسعادت ہے۔
کتاب اور سنت کو مضبوطی سے پکڑنے کا بیان
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُوْدِ اَنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ((ضَرَبَ اﷲُ مَثَلًا صِّرَاطًا مُّسْتَقِیْمًا وَعَنْ جَنْبَتَیِ الصِّرَاطِ سُوْرَانٌ فِیْھِمَا اَبْوَابٌ مُفَتَّحَۃٌ وَعَلَی الْاَبْوَابِ سْتُوْرٌ مُرْخَاۃٌ وَعِنْدَ رَأْسِ الصِّرَاطِ دَاعِ یَقُوْلُ اسْتَقِیْمُوْا عَلَی الصِّرَاطِ وَلَا تَعَوَجُّوْا وَفَوْقَ ذٰلِکَ دَاعِ یَّدْعُوْ کُلَّمَاھَمَّ عَبْدٌ اَنْ یَفْتَحَ شَیْئًا مِنْ تِلْکَ الْاَبْوَابِ قَالَ: وَیْحَکَ لَا تَفْتَحُہ، فَاِنَّکَ اِنْ تَفْتَحُہ، تَلِجْہ،))ثُمَّ فَسَّرَہ، فَاَخْبَرَ ((اَنَّ الْصَرَاطَ ھُوَ الْاِسْلَامُ وَاَنَّ الْاَبْوَابَ الْمُفَتَّحَۃَ مَحَارِمُ اللّٰہِ وَاَنَّ السَّتُوْرَ الْمُرْخَاۃَ حُدُوْدُ اللّٰہِ وَاَنَّ الدَّاعِیَ عَلَی رَأْسِ الصِّرَاطِ ھُوَالْقُرْاٰنُ وَاَنَّ الدَّاعِیَ مِنْ فَوْقِہٖ ھُوَوَاعِظُ اﷲِ فِیْ قَلْبِ کُلِّ مُؤْمِنِ)) رَوَاہُ رَزَیْنٌ وَاَحْمَدُ وَالْبَیْھَقِیُّ فِی شُعَبِ الْاِیْمَانِ عَنِ النَّوَاسِ بْنِ سَمَعَانَ وَکَذَا التِّرْمِذِیُّ عَنْہ، اِلَّا اَنَّہُ ذَکَرَ اَخْصَرَ مِنْہُ۔
اور حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ نے ایک مثال بیان فرمائی ہے (وہ یہ کہ) ایک سیدھا راستہ ہے اور اس کے دونوں طرف دیواریں ہیں۔ ان دیواروں میں کھلے ہوئے دروازے ہیں دروازوں پر پردے پڑے ہوئے ہیں اور راستہ کے سر پر پکارنے والا کھڑا ہے جو پکار پکار کر کہتا ہے، سیدھے راستہ پر چلے آؤ، غلط راستے پر نہ لگو! اس پکارنے والے کے اوپر (یعنی اس کے آگے کھڑا ہوا) ایک دوسرا پکارنے والا ہے، جب کوئی بندہ ان دروازوں میں سے کوئی دروازہ کھولنا چاہتا ہے تو وہ (دوسرا پکارنے والا) پکار کر کہتا ہے، تجھ پر افسوس ہے! اس کو نہ کھول اگر تو اسے کھولے گا تو اس کے اندر داخل ہوجائے گا (اور وہاں سخت تکلیف میں ہوگا) پھر رسول اللہ ﷺ نے اس مثال کی وضاحت کی اور فرمایا سیدھا راستہ سے مراد اسلام ہے (جس کو اختیار کر کے جنت میں پہنچتے ہیں) اور کھلے ہوئے دروازوں سے مراد وہ چیزیں ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے (جس کو اختیار کرنا تکمیل اسلام کے منافی ہے) اور (دروازوں پر) پڑے ہوئے پردوں سے مراد اللہ تعالیٰ کی قائم کی ہوئی حدود ہیں اور راستہ کے سرے پر جو پکارنے والا کھڑا ہے اس سے مراد اللہ تعالیٰ کی طرف سے نصیحت کرنے والا فرشتہ ہے جو ہر مومن کے دل میں ہے۔ زرین، مسند احمد بن حنبل اور بیہقی نے اس روایت کو شعب الایمان میں نو اس بن سمعان سے نقل کیا ہے اور جامع ترمذی نے بھی انہیں سے روایت کی ہے مگر جامع ترمذی نے اختصار ساتھ بیان کیا ہے۔
تشریح
شرعی احکام زیادہ تر دو ہی قسموں سے متعلّق ہیں یعنی حلال و حرام اور ان دونوں کو شریعت نے وضاحت کے ساتھ بیان فرما دیا ہے جو چیزیں حلال ہیں ان کے بارے میں بھی اعلان کردیا گیا ہے اور جو چیزیں حرام ہیں ان کی بھی تصریح کردی گئی ہے اور بتادیا گیا ہے کہ جس طرح حلال چیزوں پر عمل کر کے اللہ کی خوشنودی ورضا کے مستحق ہوگے اسی طرح حرام چیزوں کو اختیار کر کے سزا کے مستوجب گردانے جاؤ گے جو چیزیں حرام قرادی گئی ہیں ان کے اور بندوں کے درمیان اللہ نے اپنے احکام سے حدیں قائم کردی ہیں تاکہ بندے اس سے تجاوز کر کے محرمات کے ارتکاب کے مجرم نہ ہوں، انہی حرام چیزوں اور حدود کو جو احکام الہٰی ہیں اس مثال میں دروازوں اور پردوں سے تشبیہ دی گئی ہے۔ اسی طرح مثال مذکورہ میں فرمایا گیا ہے کہ ہر مومن کے دل پر ایک فرشتہ ہوتا ہے جو قلب کا محافظ ہوتا ہے جس کا کام یہ ہوتا ہے کہ وہ بندہ کو نیکی کے راستہ پر لگانے کی سعی کرے اس کو تائید الہٰی اور توفیق الٰہی کہتے ہیں اگر کسی بندے کے ساتھ تائید الہٰی و توفیق الٰہی نہ ہو تو انسان کتنا بھی چاہے ہدایت کے راستہ پر نہیں لگ سکتا۔ چناچہ مثال میں قرآن کو راہبر بتایا گیا ہے مگر اس کی طرف بھی اشارہ کردیا گیا ہے کہ قرآن کی ہدایت بھی اسی وقت کارآمد ہوتی ہے جب کہ بندہ کے ساتھ تائید الہٰی اور توفیق الٰہی بھی شامل ہو۔ قرآن تو راستہ بتادیتا ہے اور سیدھے راستے پر چلنے کی ہدایت کرتا ہے مگر اس سے نصیحت حاصل کرنا اور اس راہ پر چل کر منزل مقصود تک پہنچنا اسی وقت ہوسکتا ہے کہ جب بندہ کے دل میں اللہ کی جانب سے ہدایت ڈال دی جائے۔
کتاب اور سنت کو مضبوطی سے پکڑنے کا بیان
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُوْدِ قَالَ: مَنْ کَانَ مُسْتَنًا فَلْیَسْتَنَّ بِمَنْ قَدْمَاتَ فَاِنَّ الْحَیَّ لَا تُؤْمَنُ عَلَیْہِ الْفِتْنَۃُ اُوْلٰئِکَ اَصْحَابُ مُحَمَّدِ صلی اللہ علیہ وسلم کَانُوْا اَفْضَلَ ھٰذِہِ الْاُمَّۃِ اَبَرَّھَا قُلُوْبًا وَّاَعْمَقَھَا عِلْمًا وَّاَقَلَّھَا تَکَلُّفًا اخْتَارَھُمُ اﷲُ لِصُحْبَۃِ نَبِیِّہٖ وَلَا قَامَۃِ دِیْنِہٖ فَاعْرِفُوْالَھُمْ فَضْلُھُمْ وَاتَّبِعُوْ ھُمْ عَلَی اَثَارِھِمْ وَتَمَسَّکُوْا بِمَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ اَخْلَاقِھِمْ وَسِیَرِھِمْ فَاِنَّھُمْ کَانُوْا عَلَی الْھُدٰی الْمُسْتَقِیْم۔ (رواہ رزین)
اور حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ جو آدمی کسی طریقہ کی پیروی کرنا چاہے تو اس کو چاہئے کہ ان لوگوں کی راہ اختیار کرے جو فوت ہوگئے ہیں کیونکہ زندہ آدمی (دین میں) فتنہ سے محفوظ نہیں ہوتا اور وہ لوگ جو فوت ہو گے ہیں ( اور جن کی پیروی کرنی چاہئے) رسول اللہ ﷺ کے اصحاب ہیں، جو اس امت کے بہترین لوگ تھے، دلوں کے اعتبار سے انتہا درجہ کے نیک، علم کے اعتبار سے انتہائی کامل اور بہت کم تکلّف کرنے والے تھے، ان کو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کی رفاقت اور اپنے دین کو قائم کرنے کے لئے منتخب کیا تھا لہٰذا تم ان کی بزرگی کو پہچانو اور ان کے نقش قدم کی پیروی کرو اور جہاں تک ہو سکے ان سے آداب و اخلاق کو اختیار کرتے رہو (اس لئے کہ) وہی لوگ ہدایت کے سیدھے راستہ پر تھے۔ (رزین)
تشریح
مرے ہوئے لوگوں سے مراد صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ہیں اور زندوں سے عبداللہ ابن مسعود ؓ کے زمانہ کے لوگ اور تابعین مراد ہیں حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ نے یہ ارشاد تابعین کے سامنے ازراہ نصیحت فرمایا تھا اور ہوسکتا ہے کہ ان دور میں چونکہ باطل فرقے جنم لینے لگے تھے جو صحابہ کرام کی ذات اقدس کے پاک دامن پر گندگی و غلاظت کے چھینٹے ڈالتے تھے جیسا کہ رافضی اور ملحدین کے گروہ اس ناپاک مشغلہ میں لگے ہوئے تھے اس لئے عبداللہ ابن مسعود ؓ نے ان کے غلط الزامات اور صحابہ پر باندھے گئے بہتان کی رد میں صحابہ کرام کی عظمت و بزرگی اور ان کی فضیلت کا اظہار فرمایا۔ چنانچہ عبداللہ ابن مسعود ؓ شہادت دے رہے ہیں کہ صحابہ کرام امت کے بہترین اور انتہا درجہ کے نیک لوگ تھے۔ یعنی ان کے قلوب ایمان و اسلام کی روشنی سے پوری طرح منوّر تھے خلوص و استقامت کے اوصاف سے متصف تھے ایمان کامل کی دولت سے مشرف تھے اور زہد و تقدس و خشیت الہٰی سے ان کی زندگیاں معمور تھیں۔ پھر دوسری بات یہ کہ یہی وہ مقدس جماعت تھی جس نے سب سے پہلے رسول اللہ ﷺ کی آواز پر لبّیک کہا اور اللہ کے دین کو پھیلانے میں معین و مددگار رہے، جس کے نتیجہ میں انہیں جن جانکاہیوں اور مصیبتوں کا سامنا کرنا پڑا وہ ظلم و ستم اور تشدّد و بربریّت کے جس دور سے گزرے اور انہوں نے اسلام کی اشاعت وبقاء کے سلسلہ میں جو قربانیاں دیں وہ اسلامی تاریخ کا سب سے تابناک باب ہے۔ چنانچہ اسلامی تاریخ کے جاننے والے جانتے ہیں کہ ان مقدّس حضرات کو رسول اللہ ﷺ کی معاونت اور رفاقت اور دین اسلام کی تبلیغ و اشاعت کے صلہ میں کتنی سختیوں اور مشکلات سے دو چار ہونا پڑا، زندگی کی کوئی ایسی تکلیف نہ تھی جس میں یہ مبتلا نہ کئے گئے ہوں، کوئی ایسی آزمائش نہ تھی جس سے انہیں سابقہ نہ پڑا ہو اور یہ سب اللہ کی جانب سے محض اس لئے تھا کہ ان قلوب کو خوب جانچ، پرکھ لیا جائے اور دیکھ لیا جائے کہ جس عظیم مشن کے چلانے کے لئے ان کو منتخب کیا جا رہا ہے اور جس رسول کی رفاقت جیسے عظیم منصب کے لئے ان کو پسند کیا جا رہا ہے ان کے ذہن و فکر اور دل و دماغ اس کے اہل ہیں یا نہیں، ان کے قلوب سختیوں کو برداشت کرنے کے قابل اور مشکلات پر صبر و شکر کرنے والے ہیں یا نہیں، چناچہ ان کو امتحان میں ڈالا گیا ہے، آزمائش کی گئی اور وہ حضرات امتحان و آزمائش کے ہر مرحلہ سے کامیاب گزرے اور مصیبت و سختی کی ہر بھٹی سے کندن ہو کر نکلے، ان کے صبر و رضا کا جب امتحان لیا گیا تو ایسے صابر و شاکر نکلے کہ بڑی سے بڑی سختی اور سخت مصیبت پر بھی ان کے قدم میں لغزش آنے کی بجائے اور استقامت پیدا ہوئی اور وہ اپنے ایمان و اسلام پر پورے ایقان و اعتماد کے ساتھ قائم و مضبوط رہے ان کے اسی عظیم وصف کی شہادت قرآن نے اس طرح دی ہے کہ آیت ( اُولٰ ى ِكَ الَّذِيْنَ امْتَحَنَ اللّٰهُ قُلُوْبَهُمْ لِلتَّقْوٰى۔ (49۔ الحجرات 3) یہ صحابہ وہی ہیں جن کے دلوں کو اللہ نے ادب کے واسطے جانچ لیا ہے۔ اگر علم و فضل کی کسوٹی پر ان سختیوں کو پرکھا جائے تو بلا مبالغہ نتیجہ یہی قائم کرنا پڑے گا کہ ہر صحابی علم و معرفت، فہم و فراست، تدبر و فکر، عقل و دانش کا مینارہ نور تھا جن سے دنیا نے ظلم و جہل کے اس ماحول میں تعلیم و ترقی وتہذیب و شرافت اور انسانیت کی روشنی حاصل کی۔ چناچہ کوئی حدیث و تفسیر میں یکتا تھا تو کوئی فقہ و قراءت کا امام کسی کے اندر تصوّف و فرائض کا علم پورے کمال کے ساتھ تھا تو کسی کے اندر معانی و ادب کا بحربیکراں موجزن تھا، غرض کہ ہر ایک اپنی جگہ علمی حیثیت سے بھی کامل واکمل تھا۔ اور پھر یہ رسول اللہ ﷺ کے شرف و صحبت کا اثر اور آپ ﷺ کی نگاہ کرشمہ ساز کا کمال تھا کہ نہ صرف مرد صحابی بلکہ عورت صحابیہ بھی اپنی اپنی جگہ علم و معرفت کے آفتاب ہدایت تھے جن سے بڑے بڑے صحابی روشنی حاصل کرتے تھے۔ روحانی و اخروی عظمت وسعادت کے اس عظیم مرتبہ پر ہوتے ہوئے ان مقدس حضرات کی بےتکلّفی کا یہ عالم تھا کہ عملی دنیا میں بھی دولت و ثروت، اقتدار حکمرانی اور ملک و وجاہیت کے باوجود انہیں ننگے پاؤں پھرنے میں عار تھا اور نہ زمین و فرش پر نماز پڑھنے، لیٹنے بیٹھنے میں کوئی شرم محسوس ہوتی تھی۔ سادگی کی حد تھی کہ مٹی لکڑی کے برتن و باسن میں انہیں کھانے پینے میں کوئی تکلّف نہیں ہوتا تھا، دوسرے لوگوں کا جھوٹا کھانا اور پینا ان کے نزدیک کوئی معیوب چیز نہ تھی، آداب گفتگو کی یہ کیفیت تھی کہ ہر ایک کی نجی بات چیت نے بھی کبھی شرافت و تہذیب کا دامن نہیں چھوڑا، بیکار گفتگو، لا یعنی باتیں، لغو باتوں سے کوسوں دور رہتے کلام و گفتگو وہی کرتے جو ضروری اور بامقصد ہو صاف گوئی اس درجہ کی تھی کہ جو مسئلہ انہیں معلوم نہ ہوتا نہایت صفائی سے کہہ دیتے کہ ہمیں یہ معلوم نہیں ہے آج کل کی طرح خواہ مخواہ تکلّف کر کے لچھے دار تقریریں کر کے مسئلے کو غلط سلط بیان نہیں کرتے تھے بلکہ وہ جسے اپنے سے افضل سمجھتے تھے نہایت خلوص کے ساتھ سائل کو ان کے پاس بھیج دیتے کہ ان سے دریافت کرلو، حصول علم کا اتنا شوق تھا کہ جس کو وہ علم میں اپنے سے بڑا سمجھتے، خواہ وہ عمر میں کتنا ہی چھوٹا کیوں نہ ہو، استفادہ کے لئے اس کے پاس جانے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتا تھا۔ جیسا کہ بتایا گیا ہے کہ ان کے یہاں زندگی کے کسی بھی شعبہ میں تصنع و بناوٹ نام کو بھی نہیں ہوتی تھی یہاں تک کہ وہ لوگ اگر قرآن پڑھتے تو وہ بھی کسی تصنع و بناوٹ کے بغیر اس کے پورے حقوق و آداب کو ملحوظ رکھ کر خالص عربی لہجہ میں پڑھتے تھے یہ نہیں تھا کہ خواہ مخواہ آواز بنا کر راگ و سر کے ساتھ پڑھتے ہوں۔ یہی حال ان کے باطن کا تھا چونکہ انہیں براہ راست سرکار دو عالم ﷺ سے قرب و صحبت کا شرف حاصل تھا اس لئے ان کے قلوب پوری طرح مجلیٰ و مصفا ہو کر ہمہ وقت یاد الہٰی اور ذکر اللہ میں مصروف رہتے تھے، ان کے افکار عرفان و حقیقت کی انتہائی بلندیوں پر تھے، آج کل کے جاہل صوفیاء اور پیروں کی طرح وہ دکھلانے کے لئے حال میں آکر رقص نہ کرتے تھے نہ ہو ہا کا شور و شغب کرتے تھے اور نہ وہ اپنے قلوب کی صفائی کے لئے ہارمونیم کے ساز پر، طبلہ کی تھاپ پر اور قوالی کی تان پر حصول معرفت کا دعویٰ کرتے تھے جیسا کہ آج کے دور میں اہل اللہ کے مزارات پر ان لغویات سے تصوّف و طریقت کے نام پر سرور و کیف حاصل کیا جاتا ہے اور نہ وہ کسی اسکیم و تنطیم کے باعث حلقہ وغیرہ بنا کر مسجد و گھر میں ذکر جہر کرتے تھے بلکہ نہایت سادگی کے ساتھ جسے جہاں موقع مل جاتا وہیں یاد الہٰی میں نہایت صبر و سکون کے ساتھ مشغول ہوجانا ان کی اسی سادگی اور خلوص کی وجہ سے بظاہر تو ان کے اجسام فرش پر نظر آتے مگر ان کی روحیں عرش پر سیر کرتی ہوتیں، ان کے ظاہری بدن لوگوں کے ساتھ ہوتے مگر ان کے قلوب مقام قرب کی انتہائی بلندیوں پر ہوتے۔ صحابہ کا طرز معاشرت بھی تصنع و بناوٹ اور تکلّف سے بالکل پاک و صاف تھا، انہیں جو میسر آتا وہی کھالیتے جو مل جاتا وہی پہن لیتے، موٹا چھوٹا کپڑا ہو وہ پہن لیا، عمدہ ملا اسے استعمال کرلیا، یہ نہیں تھا کہ دنیا کو دکھلانے کے لئے یا اپنے زہد و تقدّس کا رعب جمانے کے لئے حرقہ، گڑری یا ایسے ہی لباس اپنے اوپر لازم کر رکھے ہوں، ہاں جسے یہی لباس میسر ہوتا وہ اسے بھی استعمال کرتا، کھانے پینے میں یہ تامل تھا نہایت ذوق و شوق سے کھاتے اور اگر روکھا سوکھا دال دلیا ہی اللہ دے دیتا تو اسے بھی نہایت صبر و شکر سے کھالیتے۔ بہر حال عبادات ہوں یا معاملات، اخلاق و عادات ہوں، یا معیشت و معاشرت، زندگی کے ہر پہلو میں ان کے یہاں خلوص اور بےتکلّفی و سادگی تھی اور انہوں نے اپنے نظام حیات کو ایسے سانچے میں ڈھال رکھا تھا جو خالص اسلامی دینی اور اخلاقی تھا اور یہ سب نگاہ نبوت کی کرشمہ سازی اور اس ذات اقدس کی صحبت کا اثر تھا جو خود اپنے قول الحدیث (ادبنی ربی فاحسن تادیبی) (یعنی اللہ تعالیٰ نے مجھے ادب سکھایا اور ادب کے انتہائی درجہ بر پہنچایا) کے مطابق ادب و اخلاق اور تہذیب و شرافت کے تمام جواہر ازل ہی سے اپنے اندر سموئے ہوئے تھے کہ جو قوم دنیا کی سب سے زیادہ غیر مہذب، غیر متمدن اور غیر ترقی یافتہ تھی اور اصلاح و تربیت کے ذریعہ اسے تہذیب و تمدن اور اخلاق و احسان کے اس مقام رفیع تک پہنچا دیا جہاں نہ صرف یہ کہ وہ خود ایک کامل اور عظیم قوم ثابت ہوئی بلکہ دنیا کی دوسری قوموں نے اس کے نقش قدم کو اپنے لئے جادہ منزل بنا کر تہذیب و تمدن کی انتہائی بلندیوں پر بسیرا کیا۔ چنانچہ اس حدیث میں عبداللہ ابن مسعود ؓ لوگوں کو یہی ہدایت فرما رہے ہیں کہ اگر تم ہدایت کا راستہ چاہتے ہو، فلاح کی منزل کے خواہش مند ہو، عرفان الہٰی اور حبّ رسول ﷺ کے انتہائی مقام پر پہنچنا چاہتے ہو تو تمہارے لئے ضروری ہے کہ اسی مقدّس جماعت کے راستہ کو اختیار کرو، انہی کے اخلاق و عادات کو اپنے لئے جادہ منزل جانو، انہی کی متابعت و پیروی کو کامیابی و کامرانی کا ذریعہ سمجھو اور ان کی عقیدت و محبت سے زندگی کے ہر گوشہ کو منور کرو۔ اس جگہ اتنی بات اور سمجھ لینی چاہئے کہ حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ کے ارشاد سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ جو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین انتقال فرما گئے ہیں انہیں کی پیروی و اطاعت کرنی چاہئے۔ حالانکہ مقصد یہ ہوتا ہے کہ پیروی کے لائق صحابہ کرام کی جماعت ہے خواہ وہ زندہ ہوں یا اس دنیا سے رخصت ہوچکے ہوں مردوں کی تخصیص صرف اس لئے کی گئی ہے کہ اکثر صحابہ کرام اس وقت انتقال فرما چکے تھے ورنہ یہاں زندہ اور مردہ دونوں مراد ہیں۔ اس حدیث سے صحابہ کی انتہائی عظمت اور فضل و کمال کا اظہار ہوتا ہے چونکہ تمام مخلوق اور تمام انسانوں میں یہ سب سے افضل تھے اور حق و صداقت کے قبول کرنے کی صلاحیت بدرجہ اتم ان میں موجود تھی تو اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے نبی ﷺ کی رفاقت کے لئے منتخب فرمایا اور قرآن میں بایں طور پر ان کے فضل و کمال کی شہادت دی کہ آیت ( وَاَلْزَمَهُمْ كَلِمَةَ التَّقْوٰى وَكَانُوْ ا اَحَقَّ بِهَا وَاَهْلَهَا) 48۔ الفتح 26) اور ان (صحابہ) کو پرہیزگاری کی بات پر قائم رکھا اور وہ اس کے مستحق اور اہل تھے۔ بعض آثار میں آیا ہے کہ پروردگار عالم نے تمام بندوں کے قلوب پر نظر فرمائی چناچہ رسول اللہ ﷺ کا قلب مبارک سب سے زیادہ منوّر و روشن اور پاک و صاف تھا تو نور نبوت اس میں ودیعت فرمایا اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے قلوب بھی بہت زیادہ پاک و صاف اور اہل و لائق تھے تو ان کو اپنے نبی کی ﷺ کی رفاقت کے لئے پسند فرمایا۔ اور اتنی بات تو ہم آج خود جانتے ہیں کہ ایک آدمی جب کسی پیر برحق کا مرید ہوتا ہے تو باوجودیکہ وہ پہلے سے بالکل خالی اور کورا ہوتا ہے مگر پیر کی صحبت اور اس کی خدمت و اطاعت گزاری کی وجہ سے وہ کتنا اعلیٰ مقام حاصل کرلیتا ہے تو کیا یہ ممکن ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اپنی زندگیاں رسول اللہ ﷺ کی محبت میں اور اپنی عمریں آپ ﷺ کی خدمت میں صرف کردیں اور فضل و کمال حاصل نہ کریں۔
کتاب اور سنت کو مضبوطی سے پکڑنے کا بیان
وَعَنْ جَابِرِاَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اﷲُ عَنْھُمَا اٰتَی رَسُوْلَ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم بِنُسْخَۃِ مِنَ التَّوْرَاۃِ فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اﷲِ!ھٰذِہٖ نُسْخَۃٌ مِّنَ التَّوْرَاۃِ فَسَکَتَ فَجَعَلَ یَقْرَأُوَوَجْہُ رَسُوْلِ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم یَتَغَیَّرُ فَقَالَ اَبُوْبَکْرِ رَضِیَ اﷲُ عَنْہ، ثَکِلَتْکَ الثَّوَاکِلُ مَاتَرٰی مَابِوَجْہٖ رَسُوْلِ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم فَنَظَرَ عُمَرُ اِلٰی وَجْہٖ رَسُوْلِ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم فَقَالَ اَعُوْذُ بِاﷲِ مِنْ غَضَبِ اﷲِ وَغَضَبِ رَّسُوْلِہٖ رَضِیْنَا بِاﷲِ رَبًا وَبِالْاِ سْلَامِ دِیْنَا وَبِمُحَمَّدِ نَبِیًّا فَقَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم ((وَالَّذِیْ نَفْسُ مُحَمَّدِ بِیَدِہٖ لَوْبَدَاْلَکُمْ مُوْسٰی فَاتَّبَعْتُمُوْہ، وَتَرَکْتُمُوْنِیْ الَضَلَلْتُمْ عَنْ سَوَاءِ لسَّبِیْلِ وَلَوْ کَانَ حَیًّا وَاَدْرَکَ نَبُوَّتِیْ لاَ تَّبَعَنِی))(رواہ الدامی)
اور حضرت جابر ؓ راوی ہیں کہ (ایک مرتبہ) حضرت عمر بن خطاب ؓ سرکار دو عالم ﷺ کے پاس تورات کا ایک نسخہ لائے اور عرض کیا، یا رسول اللہ! یہ تورات کا نسخہ ہے، رسول اللہ ﷺ خاموش رہے۔ پھر حضرت عمر فاروق ؓ نے (تورات کو) پڑھنا شروع کردیا۔ ادھر غصہ سے رسول اللہ ﷺ کا چہرہ مبارک متغیر ہونے لگا (یہ دیکھ کر) حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے کہا عمر! گم کرنے والیاں تمہیں گم کریں۔ کیا تم رسول اللہ ﷺ کے چہرہ اقدس (کے تغیر) کو نہیں دیکھتے۔ حضرت عمر فاروق ؓ نے رسول اللہ ﷺ کے چہرۂ منوّر کی طرف نظر ڈالی اور (غصہ کے آثار دیکھ کر کہا) میں اللہ کے غضب اور اس کے رسول کے غصہ سے پناہ مانگتا ہوں۔ ہم اللہ تعالیٰ کے رب ہونے پر، اسلام کے دین ہونے پر اور محمد ﷺ کے نبی ہونے پر راضی ہیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قسم ہے اس ذات پاک کی جس کے قبضہ میں محمد ﷺ کی جان ہے اگر موسیٰ (علیہ السلام) تمہارے درمیان ظاہر ہوتے تو تم ان کی پیروی کرتے اور مجھے چھوڑ دیتے (جس کے نتیجہ میں) تم سیدھے راستہ سے بھٹک کر گمراہ ہوجاتے اور (حالانکہ) اگر موسیٰ (علیہ السلام) زندہ ہوتے اور میرا زمانہ نبوت پاتے تو وہ (بھی) یقینًا میری (ہی) پیروی کرتے۔ (درامی)
تشریح
جملہ ثکلتک الثواکل (گم کرنے والیاں تمہیں گم کریں) اپنے معنی و مفہوم کے اعتبار سے موت کے لئے بد دعا ہے لیکن یہ ایک اہل عرب کا محاورہ ہے جو اپنے اصل معنی و مفہوم میں استعمال نہیں ہوتا بلکہ ایسے مواقع پر بولا جاتا ہے جب اپنے کسی بےتکلف دوست سے کسی کو تعجب کا اظہار مقصود ہوتا ہے جیسے کوئی آدمی اپنے بےتکلف مخاطب سے ایسے موقع پر جب کہ وہ کسی ظاہری بات کو بھی نہیں سمجھ رہا ہوتا یہ کہے کہ مجھے بڑا تعجب ہے کہ یہ کھلی ہوئی بات بھی تم نہیں سمجھ رہے ہو۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کتاب و سنت کو چھوڑ کر یہود و نصاری اور حکماء اور فلاسفہ کی کتابوں کی طرف بےضرورت رجوع کرنا اور ان کی طرف التفات کرنا مناسب نہیں بلکہ یہ گمراہی کی بات ہے۔
کتاب اور سنت کو مضبوطی سے پکڑنے کا بیان
وَعَنْہ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم ((کَلَامِیْ لَا یَنْسَخُ کَلَامَ اﷲِ وَ کَلَامُ اﷲِ یَنْسَخُ کَلَامِیْ وَ کَلَامُ اﷲِ یَنْسَخُ بَعْضُہ، بِعْضًا))
اور حضرت جابر ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا میرا کلام، کلام اللہ کو منسوخ نہیں کرتا اور کلام اللہ میرے کلام کو منسوخ کردیتا ہے اور کلام اللہ کا بعض کو منسوخ کرتا ہے۔
تشریح
نسخ کے معنی لغت میں کسی چیز کو مٹانے یا نقل و تحویل کے آتے ہیں جیسے کہ کہا جاتا ہے کہ نسخت الریح اثار القوم۔ کہ ہوا نے لوگوں کے پاؤں کے نشان مٹا دیئے یا اسی طرح بولتے ہیں نسخ الکتاب الی کتاب کہ ایک جگہ سے کتاب کو دوسری طرف نقل کیا۔ علماء کی اصطلاح میں نسخ اسے کہتے کہ کسی حکم شرعی کا اصلاح دین کی خاطر کسی دوسرے حکم کے ذریعہ تغیر و تبدل کیا جائے۔ یا کسی حکم کو نافذ کرنا کہ جس کے اور اس سے پیشتر کا حکم جو مقدم تھا اٹھ جائے اوّل حکم کو منسوخ اور دوسرے حکم کو ناسخ کہتے ہیں۔ نسخ کی چار قسمیں ہیں۔ (١) کتاب اللہ کا نسخ کتاب اللہ کے ساتھ (٢) حدیث کا نسخ حدیث کے ساتھ (١) کتاب اللہ کا نسخ حدیث کے ساتھ (٤) حدیث کا نسخ کتاب اللہ کے ساتھ۔ اس کی توضیح یہ ہے کہ مثلاً پہلے کوئی حکم قرآن میں اللہ تعالیٰ کی جانب سے اتارا گیا لیکن بعد میں کسی خاص مصلحت کی وجہ سے قرآن کی کسی دوسری آیت نے آکر اس حکم کو منسوخ کردیا، اب اس کی بھی دو شکلیں ہوں گی، یا تو وہ آیت قرآن میں باقی رہے اور صرف تلاوت کی جاتی رہے مگر اس کا حکم کالعدم قرار دیا گیا۔ یا یہ کہ حکم کے ساتھ آیت بھی منسوخ کردی گئی اور اسی طرح نسخ کی دوسری شکل یہ ہے کہ حدیث کے کسی حکم کو حدیث ہی کے ذریعہ منسوخ کردیا گیا ہو، تیسری شکل نسخ کی یہ ہے کہ قرآن کے کسی حکم کو حدیث کے ذریعہ رسول اللہ ﷺ نے منسوخ فرمایا ہو لیکن اس میں کسی قسم کا یہ اشکال پیدا نہیں ہوسکتا کہ حکم الہٰی کو رسول ﷺ جو ایک انسان ہوتا ہے کس طرح کالعدم قرار دے سکتا ہے یہ اشکال وہیں رفع ہوگیا ہے جہاں یہ بتلا دیا گیا ہے کہ حدیث بظاہر تو رسول اللہ ﷺ کی زبان سے نکلے ہوئے الفاظ کے مجموعہ کا نام ہے لیکن حقیقت میں حدیث بھی وحی من اللہ ہے فرق صرف اتنا ہے کہ قرآن ایسی وحی ہے جس کی تلاوت نہیں کی جاتی اور جس کا مضمون براہ راست بار گاہ الوہیت سے اترتا ہے لیکن الفاظ رسول کے ہوتے ہیں اس صورت میں یہ حدیث متعارض نظر آئے گی جس سے معلوم ہوتا ہے کہ حدیث قرآن کے حکم کو منسوخ نہیں کرسکتی۔ لہٰذا اس کا جواب یہی ہوگا کہ حدیث میں لفظ کلامی سے مراد رسول اللہ ﷺ کا وہ ارشاد ہے جو خود رسول اللہ کی ذاتی رائے اور اجتہاد کے طریقہ پر وارد ہو، نہ کہ وہ ارشاد جو بطور وحی آپ ﷺ کے قلب پر القاء فرمایا گیا ہے اس تاویل کے بعد یہ تعارض رفع ہوجائے گا۔ یا پھر یہ تاویل کی جائے گی کہ یہ حدیث خود منسوخ ہے لہٰذا اس سے اس کلیہ پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ چوتھی شکل نسخ کی یہ ہے کہ حدیث کے کسی حکم کو کتاب اللہ کے ذریعہ منسوخ قرار دے دیا گیا، یہاں یہ بات بھی سمجھ لینی چاہئے کہ کسی قانون میں تبدیلی یا کسی حکم کی منسوخی دو وجہ سے ہوتی ہے اوّل تو یہ کہ قانون بناتے وقت بانی قانون سے کوئی فروگزاشت یا غلطی ہوگئی جس کی وجہ سے بعد میں اس قانون میں تبدیلی اور منسوخی ضروری قرار دی گئی۔ ظاہر ہے کہ کلام اللہ میں یہ محال ہے اس لئے کہ اللہ کی علیم وخبیر ذات کسی قسم کی غلطی، بھول چوک یا فروگزاشت سے بالکل منزّٰی و پاک و صاف ہے اس لئے جو بھی قانون بنائے گا یا جو بھی حکم دے گا وہ بالکل صحیح و کامل ہوگا اس میں کسی غلطی کا امکان بھی نہیں ہوسکتا اسی طرح رسول کے بتائے ہوئے احکام میں بھی یہ چیز نہیں ہوسکتی کیونکہ ایسے احکام جن کا تعلق دینی امور سے ہوتا ہے وہ براہ راست بارگاہ الوہیت سے نازل ہوئے ہیں اور دربار رسالت سے ان کا انعقاد عمل میں آتا ہے گویا وہ خود بھی احکام اللہ کے مرتبہ کے ہوتے ہیں یہی وجہ ہے کہ جس طرح قرآن کے احکام پر عمل کرنا فرض ہے اسی طرح حدیث کے احکام کی پیروی کرنا بھی ضروری و لازم ہے لہٰذا حدیث کے احکام میں بھی کسی حکم کی تبدیلی کا سبب یہ نہیں ہوسکتا۔ کسی قانون و حکم کی تبدیلی و منسوخی کی دوسری وجہ یہ ہوتی ہے کہ محکوم کی حالت بدلنے سے مصلحت بھی بدل گئی ہے اس لئے قانون بھی بدل گیا جیسے کہ مریض کی حالت بدل جانے پر نسخہ بھی بدل دیا جاتا ہے۔ مثلاً ایک قانون بنایا گیا یا کوئی حکم دیا گیا اس وقت ماحول اس قسم کے قانون کا متقاضی تھا، یا محکوم کے ذہن مزاج اسی حکم کے لائق تھے مگر بعد میں جب ماحول میں تبدیلی آگئی، محکوم کے ذہن و مزاج بھی دوسرا رخ اختیار کر گئے تو اب بانی قانون کی مصلحت بھی بدل گئی لہٰذا اس نے محکوم اور ماحول کی بھلائی اور اصلاح کی خاطر اس سے پہلے قانون کو بدل دیا اور اس جگہ کسی دوسرے قانون کو لاگو کردیا ظاہر ہے کہ ایسا نسخ صحیح اور جائز ہوگا اس میں کسی قسم کا کوئی عقلی و نقلی اشکال پیدا نہیں ہوسکتا اور یہی تبدیلی و تفسیر اور نسخ قرآن و احادیث کے احکام میں ہوتے ہیں لہٰذا ان میں کوئی شبہ نہیں کیا جاسکتا۔
کتاب اور سنت کو مضبوطی سے پکڑنے کا بیان
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اﷲُ عَنْھُمَا قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم ((اِنَّ اَحَادِیْثَنَا یَنْسَخُ بَعْضُھَا بِعْضًا کَنَسْخِ الْقُرْاٰنْ))
اور حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہماری (بعض) احادیث بعض کو اس طرح منسوخ کرتی ہیں جیسا کہ (قرآن کے بعض حصہ کو) قرآن منسوخ کرتا ہے۔
کتاب اور سنت کو مضبوطی سے پکڑنے کا بیان
وَعَنْ اَبِی ثُعْلَبَۃَ الْخُشَنِی قَالَ :قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم ((اِنَّ اﷲَ فَرَضَ فَرَائِضَ فَلَا تُضَیِّعُوْھَا وَحَرَّمَ حُرُمَاتِ فَلَا تَنْتَھِکُوْ ھَاوَحَدّحُدُوْدًا فَلَا تَعْتَدُوْھَاوَسَکَتَ عَنْ اَشْیَآءَ مِنْ غَیْرِ نِسْیَانِ فَلَا تُبْحَثُوْاعَنْھَا((رَوَی الْاَحَادِیْثَ الثَّلَاثَۃَ الدَّارَقُطْنِی))۔
اور حضرت ابوثعلبہ خشنی ( آپ کے نام میں بہت زیادہ اختلاف ہے بعض نے جرہم بن ثابت کہا ہے اور بعض نے جرثوم بن ثابت اور عمر ابن جرثوم لکھا ہے بہر حال یہ اپنی کنیت ابوثعلبہ سے مشہور ہیں ٧٥ ھ میں بعہد عبدالملک بن مرواں کا انتقال ہوا ہے)۔ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ نے چند فرائض کو فرض کیا ہے لہٰذا تم ان کو ضائع نہ کرو (یعنی ان کو نہ چھوڑو یا ان کے شرائط و ارکان کو ترک نہ کرو، یا یہ کہ ان فرائض میں نمائش و ریا، شک و شبہ اور غرور وتکبر نہ کرو) اور چند چیزیں اللہ تعالیٰ نے حرام کی ہیں (یعنی ان کو اختیار کرنا گناہ قرار دیا ہے) لہٰذا تم ان کے نزدیک بھی مت جاؤ اور چند حدود مقرر کی ہیں (مثلاً قصاص وغیرہ) لہٰذا تم ان سے تجاوز نہ کرو (یعنی ان میں اپنی طرف سے کمی و زیادتی نہ کرو) اور چند چیزوں کے بارے میں بھول کر نہیں (بلکہ دانستہ) اختیار کیا ہے (یعنی کتنی چیزیں ایسی ہیں جن کے بارے میں وضاحت نہیں کی گئی کہ وہ حرام ہیں یا حلال اور یا واجب ہیں، لہٰذا ان چیزوں میں تم اپنی طرف سے) بحث نہ کرو۔ مذکورہ تینوں حدیثیں دار قطنی نے روایت کی ہیں۔
علم اور اس کی فضیلیت کا بیان
علم کیا ہے؟ یہ وہ عظیم وصف ہے جو انسان کو نہ صرف یہ کہ شرافت و تہذیب کا سرمایہ بخشتا ہے عزّت و عظمت کی دولت سے نوازتا ہے، اخلاق و عادات میں جلا پیدا کرتا ہے اور انسانیت کو انتہائی بلندیوں پر پہنچاتا ہے، بلکہ قلب انسانی کو عرفان الہٰی کی مقدّس روشنی سے منوّر کرتا ہے، ذہن و فکر کو صحیح عقیدے کی معراج بخشتا ہے اور دل و دماغ کو اللہ تعالیٰ کی عبادت و اطاعت گزاری کی راہ مستقیم پر لگاتا ہے۔ اسلام! جو انسان کے لئے ترقی و عظمت کی راہ میں سب سے عظیم مینارۂ نور ہے، وہ اس عظیم و صف کو انسانی برادری کے لئے ضروری قرار دیتا ہے اور اس کے حصول کو دینی و دنیوی ترقی و کامیابی کا زینہ بناتا ہے۔ یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہئے کہ اسلام ہر اس علم کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے جو اسلامی عقیدہ و عمل سے مزاحم ہوئے بغیر انسانی معراج کا ضامن ہو، اسلام کسی بھی علم کے حصول کو منع نہیں کرتا۔ لیکن ایسے علم سے وہ بیزاری کا اظہار بھی کرتا ہے جو ذہن و فکر کو گمراہی کی طرف موڑ دے یا انسان کو اللہ کے رسول سے نا آشنا رکھ کر دہریت کے راستہ پر لگا دے۔ یہاں ( کتاب العلم) کا عنوان قائم کر کے جس علم کی ضرورت و فضیلت پر مشتمل، احادیث بیان کی جارہی ہیں وہ علم دین ہے جو شریعت کی نظر میں بنیادی اور ضروری حیثیت رکھتا ہے۔ دینی علم دوسرے علوم کے مقابلے میں اسلام کی نظر میں سے سب مقدّم اور ضروری ہے جس کا حاصل کرنا ہر مسلمان کے لئے ضروری قرار دیا گیا ہے۔ چناچہ ارشاد منقول ہے۔ الحدیث (طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِیْضَۃٌ عَلٰی کُلَّ مُسْلِمٍ )۔ علم کا حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔ ظاہر ہے کہ اسلام جس زندگی کا تقاضا کرتا ہے اور انسان کو عبودیت کی معراج پر دیکھنا چاہتا ہے وہ علم دین ہی پر موقوف ہے علم دین کی بناء پر انسان، انسان بنتا ہے اور بندہ اپنی حقیقت کو پہچان کر ذات حق کا عرفان حاصل کرتا ہے، نیز عقیدہ و عمل کی تمام راہیں اسی سے نکلتی ہیں جس پر چل کر بندہ اپنے پروردگار کا حقیقی اطاعت گزار، رسول کا فرماں بردار اور دین و شریعت کا پابند بنتا ہے۔ (علم دین) جو کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ﷺ پر مشتمل ہے۔ اس کی دو قسمیں کی جاتی ہیں۔ اول (مبادی) یعنی وسائل، دوم (مقاصد) مبادی۔ اس علم کو کہتے ہیں جس کے حصول پر کتاب و سنت کی معرفت موقوف ہے، یعنی جب تک یہ علم حاصل نہ کیا جائے قرآن و حدیث کے علوم و معارف کا عرفان حاصل نہیں ہوسکتا مثلاً لغت، صرف و نحو وغیرہ کے علوم کہ جب تک ان کو حاصل نہ کیا جائے اور ان پر نظر نہ ہو کتاب و سنت کا علم صحیح طور پر نہیں آسکتا اور نہ ان کے حقیقی منشا، و مقصد کو حاصل کیا جاسکتا ہے۔ مقاصد۔ وہ علم ہے جو عقائد، اعمال اور اخلاق سے متعلق ہے۔ یعنی یہی وہ علم ہے جو مقصود بالذات اور فی نفسہ ضروری ہے اور اسی کو حاصل کر کے دین و شریعت کی پابندی کا سیدھا راستہ سامنے آتا ہے۔ ان سب کو علم معاملات بھی کہا جاتا ہے۔ اسی طرح ایک علم مکاشفہ بھی ہوتا ہے۔ یہ دراصل وہ نور ہوتا ہے جو علم پر عمل کرنے سے قلب میں پیدا ہوتا ہے جس کی مقدّس روشنی سے ہر چیز کی حقیقت واشگاف ہوجاتی ہے اور حق تعالیٰ کی ذات وصفات اور احوال کی معرفت پیدا ہوتی ہے اس علم مکاشفہ کو علم حقیقت اور علم وراثت میں کہتے ہیں جیسے کہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے۔ الحدیث (مَنْ عَمِلَ بِمَا عَلِمَ وَرَّثَہُ ا مَالَمْ یُعْلَمْ )۔ جو آدمی علم پر عمل کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو اس چیز کا علم نصیب کرتا ہے جو نہ جانا جاتا ہے اور نہ پڑھا جاتا ہے۔ بہر حال، علم ظاہر و علم باطن کی جو اقسام مشہور ہیں وہ یہی ہیں۔ یہ ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم ہیں اور ان دونوں میں بدن و روح اور پوست و مغز کی نسبت ہے۔ نیز علم کی فضیلت میں جو آیتیں وارد ہیں، یا احادیث منقول ہیں وہ ان تمام اقسام کو مراتب درجات کے تفاوت کے ساتھ شامل ہیں۔
علم اور اس کی فضیلت کا بیان
عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْرٍوص قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم بَلِّغُوْا عَنِّیْ وَلَوْ اٰےَۃً وَّحَدِّثُوْا عَنْ بَنِیْ اِسْرَائِےْلَ وَ لَا حَرَجَ وَ مَنْ کَذَبَ عَلَیَّ مُتَعَمِّدًا فَلْےَتَبَوَّأْ مَقْعَدَہُ مِنَ النَّارِ ۔ (رواہ بخاری)
حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ میری طرف سے پہنچاؤ اگرچہ ایک ہی آیت ہو۔ اور بنی اسرائیل سے جو قصے سنو لوگوں کے سامنے بیان کرو یہ گناہ نہیں ہے اور جو آدمی قصدًا میری طرف جھوٹ بات منسوب کرے اسے چاہئے کہ وہ اپنا ٹھکانہ دوزخ میں ڈھونڈ لے۔ (صحیح البخاری)
تشریح
آیت سے مراد وہ احادیث ہے جو بظاہر چھوٹی چھوٹی ہیں لیکن افادیت کے اعتبار سے علوم و معارف کر بحر بیکراں اپنے اندر سموئے ہوئے ہوتی ہیں جیسے ایک چھوٹی سی حدیث ہے کہ الحدیث (من صمت نجا) یعنی جو خاموش رہا وہ نجات پا گیا۔ یا اسی طرح دوسری مختصر مگر جامع احادیث۔ گویا اس جملہ کا مطلب یہ ہوا کہ اگرچہ تم میری کسی ایسی حدیث کو پاؤ جو بااعتبار جملہ و الفاظ کے بہت چھوٹی اور مختصر ہو مگر اس کو دوسروں تک ضرور پہنچاؤ اور اس کی افادیت سے دوسروں کو روشناس کراؤ۔ علماء لکھتے ہیں کہ اس حدیث کا اصل مقصد علم کو پھیلانے اور دوسروں کو علم کی روشنی سے منوّر کرنے کی ترغیب دلانا ہے کہ جہاں تک ہو سکے علم کے پھیلانے اور دین کی بات کو پہنچانے میں سعی و کوشش کرنی چاہئے۔ ہوسکتا ہے کہ تم جس کو دوسروں تک پہنچا رہے ہو اگرچہ وہ بہت مختصر ہے مگر کیا تعجب کہ اسی سے اس کی دنیا بھی سنور جائے اور دین بھی بن جائے اور وہ راہ ہدایت کو پالے جس کے نتیجے میں نہ صرف یہ کہ ایک آدمی کی ہدایت ہوگی اور وہ راہ راست پر لگ جائے گا بلکہ اس کی وجہ سے تمہیں بھی اجر ملے گا اور بیشمار حسنات سے نوازے جاؤ گے۔ حدیث میں دوسری بات یہ بتائی گئی ہے کہ اگر بنی اسرائیل سے کوئی قصہ سنو یا تمہیں ان سے کوئی واقعہ معلوم ہو تو تم اس کو لوگوں سے بیان کرسکتے ہو مگر ان کے احکام وغیرہ کو نقل کرنے کی اجازت نہیں ہے جیسا کہ گذشتہ احادیث میں گزر چکا ہے۔ اس لئے کہ کسی واقعہ یا قصہ کو محض خبر کے طور پر بیان کردینا شرعی امور میں کوئی نقصان پیدا نہیں کرتا مگر ان کے احکام کو نقل کرنا یا ان کی تبلیغ کرنا شریعت محمدی کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے کیونکہ جب اس دنیا میں شریعت محمدی کا نفاذ ہوگیا ہے تو اب تمام دوسری شریعتیں منسوخ اور کالعدم قرار دے دی گئی ہیں۔ لہٰذا شریعت محمدی کو چھوڑ کو دوسری شریعت کے احکام و اعمال کی تبلیغ کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ اخر حدیث میں رسول اللہ ﷺ کی طرف کسی غلط بات کو منسوب کرنے پر نہایت سخت الفاظ میں زجر و توبیح فرمائی گئی ہے۔ چناچہ فرمایا گیا ہے کہ جو آدمی میری طرف کسی غلط بات کا انتساب کرتا ہے اور مجھ پر بہتان باندھتا ہے تو اسے چاہئے کہ وہ جہنم کی آگ میں جلنے کے لئے تیار ہوجائے۔ اس لئے کہ ایسا بدبخت جو دنیا کی سب سے بڑے صادق و مصدوق ہستی پر بہتان باندھتا ہے وہ اسی سزا کا مستحق ہے کہ اسے جہنم کے شعلوں کے حوالے کردیا جائے۔ اس بارے میں جہاں تک مسئلہ کا تعلق ہے علماء متفقہ طور پر یہ لکھتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی ذات اقدس کی طرف کسی ایسی بات یا ایسے عمل کی نسبت کرنا جو واقعہ میں آپ ﷺ سے ثابت نہیں ہے حرام اور گناہ کبیرہ ہے اور ایسا کا ذب انسان اللہ کے سخت عذاب میں گرفتار کیا جائے گا اور بعض علماء مثلاً امام محمد جوینی (رح) نے تو اس جرم کو اتنا قابل نفرت اور سخت خیال کیا ہے کہ وہ ایسے آدمی کے بارے میں کفر کا حکم لگاتے ہیں۔ حدیث من کذب علی متعمدا فلیتبوا مقعدہ من النار یعنی جو آدمی قصدا میری طرف جھوٹ بات کی نسبت کرے اسے چاہئے کہ وہ اپنا ٹھکانا دوزخ میں تلاش کرے۔ کہ بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ بڑے پایہ اور اونچے درجہ کی حدیث ہے اور اس کا شمار متواترات میں ہوتا ہے بلکہ دوسری متواتر حدیثیں اس کے مرتبہ کو نہیں پہنچتی ہیں۔ اس لئے کہ اس حدیث کو صحابہ کی ایک بہت بڑی جماعت نقل کرتی ہے چناچہ بعض محدثین نے لکھا ہے کہ اس حدیث کو باسٹھ صحابہ کر امن رضوان اللہ علیہم اجمعین نے روایت کیا ہے جن میں عشرہ مبشرہ بھی شامل ہیں۔
علم اور اس کی فضیلت کا بیان
وَعَنْ سَمُرَۃَ بْنِ جُنْدُبٍص وَالْمُغِےْرَۃِص بْنِ شُعْبَۃَ قَالَا قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم مَنْ حَدَّثَ عَنِّیْ بِحَدِےْثٍ ےَّرٰی اَنَّہُ کَذِبٌ فَھُوَ اَحَدُ الْکَاذِبِےْن ۔ (مسلم)
اور حضرت سمرہ بن جندب ؓ ( اسم گرامی سمرہ ابن جندب اور کنیت ابوسعد ہے ٥٨ ھ، ٥٩ ھ میں ان کا انتقال ہوا ہے۔ (اسد الغابہ) اور مغیرہ بن شعبہ رضی عنہما (اسم گرامی مغیرہ بن شعبہ ہے کنیت ابوعبداللہ اور بعض حضرات کے قول کے مطابق ابوعیسٰی ہے ٥٠ ھ میں انتقال فرمایا۔ (اسد الغابہ) راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ جو آدمی میری (طرف منسوب کر کے کوئی ایسی) حدیث بیان کرے جس کے بارے میں اس کا خیال ہو کہ وہ جھوٹی ہے تو وہ جھوٹے آدمیوں میں سے ایک جھوٹا ہے۔ (صحیح مسلم)
تشریح
مطلب یہ کہ اگر کوئی آدمی کسی ایسی حدیث کو لوگوں کے سامنے بیان کرے اور اس کی اشاعت کرے جو واقعتًہ میری حدیث نہیں ہے اور پھر اس کو یہ معلوم بھی ہو کہ میں جو حدیث بیان کر رہا ہوں وہ حقیقت میں رسول اللہ ﷺ کی حدیث نہیں ہے بلکہ وضع کی گئی ہے تو وہ آدمی جس نے یہ جھوٹی حدیث وضع کی ہے اس لئے جھوٹا ہے کہ اس نے ذات رسالت ﷺ کی طرف غلط اور جھوٹ بات کی نسبت کی ہے تو یہ آدمی بھی جو اس حدیث کو بیان کر رہا ہے اس لئے جھوٹا اور کذّاب ہے کہ وہ اشاعت کر کے اور یہ جان کر بھی کہ یہ غلط حدیث ہے دوسروں تک پہنچا کر اس آدمی کی مدد کر رہا ہے۔ اور ظاہر ہے کہ جس طرح جھوٹی حدیث بنانے والا اللہ کے عذاب میں گرفتار ہوگا اسی طرح اس کو بیان کرنے والے سے بھی آخرت میں مواخذہ کیا جائے گا اور اسے سخت سزادی جائے گی۔
علم اور اس کی فضیلت کا بیان
وَعَنْ مُّعَاوِیَۃَص قَالَ قَالَ رَسُوْل ُاللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم مَنْ ےُّرِدِ اللّٰہُ بِہٖ خَےْرًا ےُّفَقِّھْہُ فِی الدِّےْنِ وَاِنَّمَا اَنَا قَاسِمٌ وَّاللّٰہُ ےُعْطِیْ۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)
اور حضرت معاویہ ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ جس آدمی کے لئے اللہ تعالیٰ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے اسے دین کی سمجھ عطا فرما دیتا ہے اور میں (علم کو) تقسیم کرنے والا ہوں عطا کرنے والا تو اللہ ہی ہے۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم )
تشریح
اس حدیث سے علم اور عالم کی فضیلت کا اظہار ہوتا ہے کہ جس آدمی کو خداوند تعالیٰ خیر و بھلائی کے راستہ پر لگانا چاہتا ہے اسے علم کی دولت عنایت فرماتا ہے اور ظاہر ہے کہ یہ اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے کہ وہ کسی آدمی کو دینی امور یعنی احکام شریعت اور راہ طریقت و حقیقت کی سمجھ عنایت فرما دے جو ہدایت و راستی اور خیر و بھلائی کی سب سے بڑی شاہراہ ہے۔ حدیث کے دوسرے جزء کا مطلب یہ ہے کہ علم کا مبداء حقیقی تو باری تعالیٰ کی ذات ہے میرا کام تو صرف یہ ہے کہ میں دینی مسائل اور شرعی احکام لوگوں تک پہنچا دوں اور حدیث بیان کر دوں۔ اب آگے اللہ تعالیٰ کی مرضی ہے کہ وہ جسے جتنا چاہے ان پر عمل کرنے کی توفیق اور غور و فکر کی صلاحیت عنایت فرمائے۔
علم اور اس کی فضیلت کا بیان
وَعَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَ ص قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم النَّاسُ مَعَادِنُ کَمَعَادِنِ الذَّھَبِ وَالْفِضَّۃِ خِےَارُھُمْ فِی الْجَاھِلِےَّۃِ خِےَارُھُمْ فِی الْاِسْلَامِ اِذَا فَقِھُوْا (صحیح مسلم)
اور حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ آدمی کان ہیں جس طرح سونے اور چاندی کی کان ہوتی ہے جو لوگ ایام جاہلیت میں بہتر تھے وہ زمانہ اسلام میں بہتر ہیں اگر وہ سمجھیں۔ (صحیح مسلم)
تشریح
انسان کو معدن یعنی کان سے تشبیہ دی گئی ہے اور یہ تشبیہ نیک اخلاقی و عادات اور صفات و کمالات کی استعداد و صلاحیت کے تفاوت میں دی گئی ہے کہ جس طرح ایک کان میں لعل و یاقوت پیدا ہوتے ہیں تو دوسری کان میں سونا، چاندی اور بعض کان میں چونا، سرمہ، پتھر وغیرہ ہی پیدا ہوتے ہیں اسی طرح انسان کی ذات ہے کہ بعض تو اپنے اخلاق و عادات اور صفات و کمالات کی بنا پر با عظمت اور با شوکت ہوتے ہیں بعض ان سے کچھ کم درجہ کے ہوتے ہیں اور بہت سے ایسے بھی ہوتے ہیں جو ان صفات میں انتہائی کمتر و بےوقعت ہوتے ہیں۔ حدیث کے آخری جملہ کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ ایمان لانے سے پہلے حالت کفر میں بہترین خصائل و عادات کے مالک تھے مثلاً سخاوت و شجاعت، اخلاق و دیانتداری اور محبت و مروّت کی بہترین صفات سے متصف تھے تو وہ اسلام لانے کے بعد بھی ان صفات کی بناء پر بہترین قرار دئیے گئے ہیں۔ ٹھیک ایسے ہی جیسے کہ سونا اور چاندی جب تک کان میں پڑے رہتے ہیں کہ وہ خاک میں پڑے رہنے کی وجہ سے اپنی اصلی حالت میں نہیں ہوتے جب انہیں کان سے نکال لیا جاتا ہے اور بھٹی میں ڈال کر تیار کیا جاتا ہے تو نہ صرف یہ کہ وہ اپنی اصلی صورت میں آجاتے ہیں بلکہ ان کی آب و تاب میں بھی اضافہ ہوجاتا ہے۔ اسی طرح جب تک کوئی آدمی کفر کی ظلمت میں چھپا رہتا ہے تو خواہ وہ کتنا باوقار ہو اور اس کے اندر کتنی ہی سخاوت ہو کتنی ہی شجاعت ہو اسے برتری حاصل نہیں ہوتی، مگر جب کفر کے تمام پردوں کو چاک کر کے ظلم سے باہر نکلتا ہے اور ایمان و اسلام کو قبول کر کے علم دین میں کمال حاصل کرلیتا ہے اور پھر اپنے آپ کو ریاضت و مجاہد اور دینی محنت و مشقت کی بھٹیوں کے حوالہ کردیتا ہے تو اس کے بعد نہ صرف یہ کہ وہ اپنی اصل حالت میں آجاتا ہے بلکہ علم و معرفت کی روشنی سے اس کا قلب و دماغ منوّر ہوجاتا ہے اور وہ عزت کی انتہائی بلندیوں پر جا پہنچتا ہے۔
علم اور اس کی فضیلت کا بیان
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍص قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم لَا حَسَدَ اِلَّا فِی اثْنَےْنِ رَجُلٌ اَتَاہُ اللّٰہُ مَالًا فَسَلَّطَہُ عَلٰی ھَلَکَتِہٖ فِی الْحَقِّ وَرَجُلٌ اَتَاہُ اللّٰہُ الْحِکْمَۃَ فَھُوَ ےَقْضِیْ بِھَا وَےُعَلِّمُھَا۔(صحیح البخاری و صحیح مسلم)
اور حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ دو آدمیوں کے بارے میں حسد کرنا ٹھیک ہے ایک تو وہ آدمی جسے اللہ نے مال دیا اور پھر اسے راہ حق میں خرچ کرنے کی توفیق عنایت فرمائی۔ دوسرا وہ آدمی جسے اللہ نے علم دیا چناچہ وہ اس علم کے مطابق حکم کرتا اور دوسروں کو سکھاتا ہے۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم )
تشریح
حسد اسے فرماتے ہیں کہ کسی دوسرے کے پاس کوئی نعمت دیکھ کر یہ آرزو کی جائے کہ یہ نعمت میرے پاس آجائے اور اس کے پاس سے ختم ہوجائے۔ ظاہر ہے کہ یہ ایک بہت بری خصلت اور انتہائی ذلت نفس کی بات ہے۔ اسلام جو اخلاق، پاکیزگی کا سب سے بڑا علمبردار ہے اس غیر اخلاقی اور ذلیل خصلت کو پسند نہیں کرتا اور اس سے بچنے کا حکم دیتا ہے۔ حسد کے مقابلہ میں غبطہ ہے۔ غِبط اسے فرماتے ہیں کہ کسی کے پاس کوئی نعمت دیکھ کر یہ آرزو کی جائے کہ جیسی نعمت اس کے پاس ہے اللہ اس نعمت سے مجھے بھی سرفراز فرمائے۔ شریعت اس کو جائز قرار دیتی ہے مگر یہ بھی اچھی باتوں مثلاً نیک اخلاق و عادات، بہترین خصائل اور فضل و کمال کے بارے میں جائز ہے چناچہ اس حدیث میں جس حسد کے بارے میں فرمایا گیا ہے وہ غطبہ ہے۔
علم اور اس کی فضیلت کا بیان
وَعَنْ اَبِیْ ہُرَےْرَۃَ صقَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اِذَا مَاتَ الْاِنْسَانُ اِنْقَطَعَ عَنْہُ عَمَلُہُ اِلَّا مِنْ ثَلاَثَۃً اِلاَّمِنْ صَدَقَۃٍ جَارِےَۃٍ اَوْ عِلْمٍ ےُنْتَفَعُ بِہٖ اَوْ وَلَدٍ صَالِحٍ ےَّدْعُوْ لَہُ ۔ (صحیح مسلم)
اور حضرت ابوہریرۃ ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ جب انسان مرجاتا ہے تو اس کے عمل کے ثواب کا سلسلہ اس سے منقطع ہوجاتا ہے مگر تین چیزوں کے ثواب کا سلسلہ باقی رہتا ہے۔ (١) صدقہ جاریہ (٢) علم جس سے نفع حاصل کیا جائے (٣) صالح اولاد جو مرنے کے بعد اس کے لئے دعا کرے۔ (صحیح مسلم)
تشریح
ایسے اعمال جن کا تعلق دنیاوی زندگی سے ہوتا ہے ان کے اثرات مرنے کے بعد دنیا ہی میں ختم ہوجاتے ہیں مثلاً نماز، روزہ وغیرہ ایسے اعمال ہیں جو انسان کی زندگی میں ادا ہوتے تھے گو کہ ان کا ثواب بأیں طور باقی رہتا ہے کہ وہ ذخیرہ آخرت ہوجاتے ہیں اور مرنے کے بعد اس پر جزاء ملتی ہے مگر ان کا سلسلہ مرنے کے بعد آئندہ جاری نہیں رہتا۔ کیونکہ زندگی میں جب تک یہ اعمال ہوتے تھے اس کا ثواب ملتا رہتا تھا جب زندگی ختم ہوگئی تو یہ اعمال بھی ختم ہوگئے اور جب یہ اعمال ختم ہوگئے تو اس پر جزاء سزا کا ترتب بھی ختم ہوگیا۔ لیکن کچھ اعمال ایسے بھی ہیں جن کے ثواب کا سلسلہ نہ صرف یہ کہ زندگی میں ملتا ہے بلکہ مرنے کے بعد باقی و جاری رہتا ہے۔ ایسے ہی اعمال کے بارے میں اس حدیث میں ارشاد فرمایا جا رہا ہے کہ تین اعمال ایسے ہیں کہ زندگی ختم ہوجانے کے بعد بھی ان کے ثواب کا سلسلہ برابر جاری رہتا ہے اور مرنے والا برابر اس سے منتفع ہوتا رہتا ہے۔ پہلی چیز صدقہ جاریہ ہے، یعنی اگر کوئی آدمی اللہ کی راہ میں زمین وقف کر گیا ہے یا کنواں و تالاب بنوا گیا ہے یا ایسے ہی اللہ کی مخلوق کے فائدہ کی خاطر کوئی دوسری چیز اپنے پیچھے چھوڑ گیا ہے تو جب تک یہ چیزیں قائم رہیں گی اور لوگ اس سے فائدہ اٹھاتے رہیں گے اس کو برابر ثواب ملتا رہے گا۔ دوسری چیز علم نافع ہے یعنی کسی ایسے عالم نے وفات پائی جو اپنی زندگی میں لوگوں کو اپنے علم سے فائدہ پہنچاتا رہا اور پھر اپنے علوم و معارف کو کسی کتاب کے ذریعہ محفوظ کر گیا جو ہمیشہ لوگوں کے لئے فائدہ مند اور رشد و ہدایت کا سبب بنی ہے یا کسی ایسے آدمی کو اپنا شاگرد بنا گیا جو اس کے علم کا صحیح وارث ہے جس سے لوگ فائدہ اٹھا سکتے ہیں تو یہ سب چیزیں ایسی ہیں جو زندگی ختم ہونے کے بعد اس کے لئے سرمایہ وسعادت ثابت ہوں گی اور جن کا ثواب اسے وہاں برابر ملتا رہے گا۔ تیسری چیز اولاد صالح ہے ظاہر ہے کہ کسی انسان کے لئے سب سے بڑی سعادت اور وجہ افتخار اس کی اولاد صالح ہی ہوتی ہے اس لئے کہ صالح اولاد نہ صرف یہ کہ ماں باپ کے لئے دنیا میں سکون و راحت کا باعث بنتی ہے بلکہ ان کے مرنے کے بعد ان کے لئے وسیلہ نجات اور ذریعہ فلاح بھی بنتی ہے اور اس طرح سے کہ لائق و نیک لڑکا اپنے والدین کی قبروں پر جاتا ہے وہاں فاتحہ پڑھتا ہے دعائے مغفرت کرتا ہے، قرآن پڑھ کر ان کو بخشتا ہے اور ان کی طرف سے خیرات و صدقات کرتا ہے اور ظاہر ہے کہ یہ سب چیزیں مردہ کے لئے ثواب کا باعث ہیں جن سے وہ اخروی زندگی میں کامیاب ہوتا ہے۔
علم اور اس کی فضیلت کا بیان
وَعَنْہ، قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم مَنْ نَّفَّسَ عَنْ مُّؤْمِنٍ کُرْبَۃً مِّنْ کُرَبِ الدُّنْےَا نَفَّسَ اللّٰہُ عَنْہُ کُرْبَۃً مِّنْ کُرَبِ ےَوْمِ الْقِےٰمَۃِ وَمَنْ ےَّسَّرَ عَلٰی مُعْسِرٍ ےَسَّرَ اللّٰہُ عَلَےْہِ فِی الدُّنْےَا وَالْاٰخِرَۃِ وَمَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا سَتَرَہُ اللّٰہُ فِی الدُّنْےَا وَالْاٰخِرَۃِ وَاللّٰہُ فِیْ عَوْنِ الْعَبْدِ مَا کَانَ الْعَبْدُ فِیْ عَوْنِ اَخِےْہِ وَمَنْ سَلَکَ طَرِےْقًا ےَّلْتَمِسُ فِےْہِ عِلْمًا سَھَّلَ اللّٰہُ لَہُ بِہٖ طَرِےْقًا اِلَی الْجَنَّۃِ وَ مَا اجْتَمَعَ قَوْمٌ فِی بَےْتٍ مِّنْ بُےُوْتِ اللّٰہِ ےَتْلُوْنَ کِتَابَ اللّٰہِ وَےَتَدَارَسُوْنَہُ بَےْنَھُمْ اِلَّا نَزَلَتْ عَلَےْھِمُ السَّکِےْنَۃُ وَغَشِےَتْھُمُ الرَّحْمَۃُ وَحَفَّتْھُمُ الْمَلٰئِکَۃُ وَذَکَرَھُمُ اللّٰہُ فِےْمَنْ عِنْدَہُ وَمَنْ بَطَّأَ بِہٖ عَمَلُہُ لَمْ ےُسْرِعْ بِہٖ نَسَبُہُ ۔ (مسلم)
اور حضر ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ جو آدمی دنیا کی سختیوں میں سے کسی مسلمان کی کوئی سختی اور تنگی دور کرے تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن وہاں کی سختیاں اس سے دور کرے گا اور جس نے کسی مسلمان کی پردہ پوشی کی اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں اس کی پردہ پوشی کرے گا اور اللہ تعالیٰ اس وقت تک بندوں کی مدد کرتا ہے جب تک وہ اپنے بھائی مسلمان کی مدد کرتا رہتا ہے اور جو آدمی علم کی تلاش میں کسی راستہ پر چلتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس پر جنت کے راستہ کو آسان کردیتا ہے اور جب کوئی جماعت اللہ کے گھر (مسجد یا مدرسہ) میں قرآن پڑھتی پڑھاتی ہے تو اس پر (اللہ کی جانب سے) تسکین نازل ہوتی ہے۔ رحمت الٰہی اس کو اپنے اندر چھپا لیتی ہے اور فرشتے اس کو گھیر لیتے ہیں، نیز اللہ تعالیٰ اس جماعت کا ذکر ان (فرشتوں) میں کرتا ہے جو اس کے پاس رہتے ہیں اور جس نے عمل میں تاخیر کی آخرت میں اس کا نسب کام نہیں آئے گا۔ (صحیح مسلم)
تشریح
اس حدیث سے اسلام کی اخلاقی تعلیمات کی عظمت و برتری کا پتہ چلتا ہے، اسلام اپنی تعلیمات کے ذریعہ پوری انسانی براداری کے درمیان محبت و مروت، انسانی ہمدردی و رواداری، امدادومعاونت اور حسن سلوک کی اعلیٰ روح پیدا کرنا چاہتا ہے تاکہ انسان اخلاق و محبت کی ایک کڑی میں منسلک ہو کر پورے امن و سکون اور چین و راحت کے ساتھ حقوق عبدیت ادا کرسکیں۔ چنانچہ فرمایا جا رہا ہے کہ اگر تم قیامت کے دن کی سختی سے بچنا چاہتے ہو تو تم اپنے بھائی کی خبر گیری کرو جو دنیا کی سختی میں پھنسا ہوا ہے، اگر اس پر کوئی سخت وقت آپڑا ہے تو اس کی مدد کرو۔ اگر وہ زندگی کی کسی الجھن میں پھنسا ہوا ہے تو اسے چھٹکارادلاؤ۔ اگر وہ مصائب و تکلیف میں مبتلا ہے تو ان کو اس سے دور کرو۔ اس لئے کہ حسن سلوک کا یہی وہ راستہ ہے جس پر چل کر تم آخرت کی سختیوں سے نہایت آسانی کے ساتھ گزر جاؤ گے۔ اعلان کیا جا رہا ہے کہ اگر تم دین و دنیا دونوں جگہ کی آسانیاں چاہتے ہو، اگر تم اس کے متمنی ہو کہ دنیا کی کامیابی و کامرانی تمہارے قدم چومے اور آخرت کی فلاح وسعادت تمہارے حصہ میں آئے تو اپنے اس بھائی کی مدد کرو جو تنگدست ہے۔ مفلسی و متلاشی کے جال میں پھنسا ہوا ہے، بےروزگاری و تباہ حالی کی چکی میں پس رہا ہے، مثلاً اگر وہ مقروض ہے اور اللہ نے تمہیں وسعت دی ہے تو اس کا قرض ادا کردو۔ اگر کوئی خود تمہارا مقروض ہے اور تم جانتے ہو کہ وہ قرض ادا کرنے پر قادر نہیں ہے تو تم اس کا قرض معاف کردو، اگر کوئی انتہائی تباہ حال و پریشان ہے تو اس کی مدد کر کے تنگدستی سے اسے چھٹکار دلاؤ۔ اگر کوئی اپنی ناداری و مفلسی کی بناء پر اپنی کسی سخت ضرورت کو پورا نہیں کرسکتا تو تم اس کی اس ضرورت کو پورا کردو اور پھر دیکھو اللہ کی رحمت کسی طرح بڑھ کر تمہیں اپنے دامن میں چھپاتی ہے۔ دنیا کی عزت و عظمت تمہارے قدموں میں کھیلتی نظر آئے گی اور زندگی کی ہر آسانی تمہارے لئے مہیا ہوگی اور نہ صرف دنیا میں بلکہ آخرت میں بھی اللہ کی رحمت تمہارے ساتھ ہوگی، وہاں کی ہر سختی اور ہر آزمائش میں تمہارا ہی حسن سلوک مددگار و معاون ہوگا اور تم وہاں کے ہر امتحان میں کامیاب رہو گے۔ اسی طرح فرمایا گیا ہے کہ اگر تم دنیا و آخرت میں اپنے عیوب کی پردہ پوشی چاہتے ہو تو تم دنیا میں اپنے بھائی کی پردہ پوشی کرو۔ یعنی کسی کے عیب کو لوگوں کے سامنے بیان کر کے اسے رسوا اور ذلیل نہ کرو۔ اگر کسی سے کوئی گناہ سرزد ہوگیا ہے تو اسے لوگوں کے سامنے ظاہر کر کے اور برسر عام اچھال کے اسے شرمندہ نہ کرو کیونکہ یہ اللہ کا معاملہ ہے وہ اگر چاہے گا تو اسے دنیا ہی میں یا آخرت میں سزا دے دے گا ورنہ اپنی رحمت سے اسے معاف کر دے گا۔ یا پردہ پوشی کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی اپنی ناداری و مفلسی کی بنا پر لباس کی نعمت سے محروم ہے اور اتنا تنگدست و غریب ہے کہ اپنے ستر کو بھی نہیں چھپا سکتا تو چاہئے کہ اپنے اس نادار بھائی کی ستر پوشی کرے اس لئے کہ جو اپنے بھائی کی ستر پوشی کرے گا اللہ تعالیٰ دنیا میں اور قیامت میں اس کے عیوب اور گناہوں کی پردہ پوشی فرمائے گا اور آخر میں عمومی طور پر یہ کلیہ بتادیا گیا ہے کہ جب تک کوئی بندہ اپنے کسی بھائی کی مدد میں لگا رہتا ہے اور اللہ کی مخلوق کی خبر گیری میں مصروف رہتا ہے تو اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی مدد و نصرت رہتی ہے۔ حدیث میں طلب علم اور طالب علم کی فضیلت بھی ظاہر فرمائی جا رہی ہے، چناچہ ارشاد ہے ہو رہا ہے کہ جو آدمی علم دین کے حصول کے لئے اپنے وطن و شہر کو چھوڑ کر عزیز و اقا رب سے جدا ہو کر اور عیش و آرام پر لات مار کر حصول علم کے جذبہ سے باہر نکلتا ہے اور تلاش علم کے لئے راہ مسافرت پر گامزن ہوتا ہے تو رب قدوس اس کی ریاضت و مشقت اور جان کا ہی و پریشانی کی وجہ سے اس پر بہشت کی راہ آسان کردیتا ہے یعنی طالب علم کی کوششوں کے صلہ میں اسے جنت میں داخل کیا جائے گا یا یہ کہ اسے خداوند کیجانب سے اس عظیم سعادت کی توفیق ہوگی کہ اس نے جس علم کی تلاش میں اتنی مصیبتوں اور پریشانیوں کو برادشت کیا اس پر وہ نیک عمل بھی کرے جو جنت میں داخل ہونے کا سبب اور باعث ہے۔ اسی طرح جو لوگ مساجد و مدارس میں حصول علم میں منہمکم ہوتے ہیں اور قرآن کے علوم و معارف سے استفادہ کرنے اور دوسروں کو پڑھانے میں مشغول ہوتے ہیں ان پر اللہ کی جانب سے بےپایاں رحمت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور ان پر اللہ کی جانب سے تسکین کا نزول ہوتا ہے یعنی طلب علم کے سلسلہ میں ان کے اندر خاطر جمعی اور دل بستگی ودیعت فرمائی جاتی ہے جس کی وجہ سے ان کے قلوب دنیا کے عیش و عشرت، راحت و آرام اور غیر اللہ کے خوف و ڈر سے پاک صاف ہو کر ہر وقت اللہ کی طرف لو لگائے رہتے ہیں اور ان کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان کے دل نور الہٰی کی مقدس روشنی سے جگمگا اٹھتے ہیں نیز فرشتے ان کی عزت و توقیر کرتے ہیں اور فرط عقیدت سے ان لوگوں کو گھیرے رہتے ہیں اور پھر رب قدوس اس مقدس جماعت کا تذکرہ جو درس و تدریس میں مشغول ہوتی ہے اپنے ان فرشتوں کے درمیان کرتا ہے جو اس کے پاس ہوتے ہیں یہ اس جماعت کی انتہائی عظمت و فضیلت کی دلیل ہے۔ آخر حدیث میں اس طرف اشارہ فرمایا گیا ہے کہ آخرت کی کامیابی و کامرانی اور فلاح وسعادت کا درا و مدار عمل پر ہے۔ اگر دنیا میں عمل خیر میں کوتاہی نہیں تو آخرت میں عزت و عظمت کا حقدار ہوگا اور دنیا میں کسی نے عمل میں کوتاہی کی اگرچہ وہ دنیا میں کتنا ہی با اقبال و با عظمت کیوں نہ رہا ہو اور کتنا ہی بڑا حسب و نسب والا کیوں نہ ہو آخرت میں اس سے باز پرس ہوگی اور وہاں دنیا کی عالی نسبی اور وجاہیت کچھ کام نہیں دے گی بندہ عشق شدی ترک نسب کن جامی کہ دریں راہ فلاں ابن فلاں چیزے نیست (یعنی اے جامی) جب تم اسیر عشق ہوگئے تو حسب و نسب کے چکر میں نہ پڑو کیونکہ اس راہ میں فلاں ابن فلاں کوئی چیز نہیں ہے۔
علم اور اس کی فضیلت کا بیان
ووَعَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اِنَّ اَوَّلَ النَّاسِ ےُقْضٰی عَلَےْہِ ےَوْمَ الْقِےٰمَۃِ رَجُلٌ اُسْتُشْھِدَ فَاُتِیَ بِہٖ فَعَرَّفَہ، نِعَمَہ، فَعَرَفَھَا فَقَالَ فَمَا عَمِلْتَ فِےْھَا قَالَ قَاتَلْتُ فِےْکَ حَتَّی اسْتُشْھِدْتُّ قَالَ کَذَبْتَ وَلٰکِنَّکَ قَاتَلْتَ لِاَنْ ےُّقَالَ جَرِیٌّ فَقَدْ قِےْلَ ثُمَّ اُمِرَ بِہٖ فَسُحِبَ عَلٰی وَجْھِہٖ حَتّٰی اُلْقِیَ فِی النَّارِ وَرَجُلٌ تَعَلَّمَ الْعِلْمَ وَعَلَّمَہُ وَقَرَءَ الْقُرْآنَ فَاُتِیَ بِہٖ فَعَرَّفَہُ نِعَمَہُ فَعَرَفَھَا قَالَ فَمَا عَمِلْتَ فِےْھَا قَالَ تَعَلَّمْتُ الْعِلْمَ وَعَلَّمْتُہُ وَقَرَاْتُ فِےْکَ الْقُرْآنَ قَالَ کَذَبْتَ وَلٰکِنَّکَ تَعَلَّمْتَ الْعِلْمَ لِےُقَالَ اِنَّکَ عَالِمٌ وَقَرَأْتَ الْقُرْآنَ لِیُقَالَ ھُوَ قَارِیٌ فَقَدْ قِےْلَ ثُمَّ اُمِرَ بِہٖ فَسُحِبَ عَلٰی وَجْھِہٖ حَتّٰی اُلْقِیَ فِی النَّارِ وَرَجُلٌ وَّسَّعَ اللّٰہُ عَلَےْہِ وَاَعْطَاہُ مِنْ اَصْنَافِ الْمَالِ کُلِّہٖ فَأُتِیَ بِہٖ فَعَرَّفَہُ نِعَمَہُ فَعَرَفَھَا قَالَ فَمَا عَمِلْتَ فِےْھَا قَالَ مَا تَرَکْتُ مِنْ سَبِےْلٍ تُحِبُّ اَنْ ےُّنْفَقَ فِےْھَا اِلَّا اَنْفَقْتُ فِےْھَا لَکَ قَالَ کَذَبْتَ وَلٰکِنَّکَ فَعَلْتَ لِےُقَالَ ھُوَ جَوَّادٌ فَقَدْ قِےْلَ ثُمَّ اُمِرَ بِہٖ فَسُحِبَ عَلٰی وَجْھِہٖ ثُمَّ اُلْقِیَ فِی النَّارِ۔ (صحیح مسلم)
اور حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ قیامت کے دن پہلا آدمی جس پر (خلوص نیت کو ترک کردینے کا) حکم لگایا جائے گا وہ ہوگا جسے (دنیا میں) شہید کردیا گیا تھا۔ چناچہ (میدان حشر میں) وہ پیش کیا جائے گا اور اللہ تعالیٰ اس کو اپنی (دی ہوئی) نعمتیں یاد دلائے گا جو اسے یاد آجائیں گی۔ پھر اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا کہ تو نے ان نعمتوں کے شکر میں کیا کام کیا؟ یعنی اللہ اسے اپنی نعمتیں جتا کر الزاماً فرمائے گا کہ تو نے ان نعمتوں کے شکرانہ میں کیا اعمال کئے؟ وہ کہے گا میں تیری راہ میں لڑا یہاں تک کہ شہید کردیا گیا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ تو جھوٹا ہے کیونکہ تو اس لئے لڑا تھا کہ تجھے بہادر کہا جائے چناچہ تجھے (بہادر کہا گیا) اور تیرا اصل مقصد مخلوق سے حاصل ہوا اب مجھ سے کیا چاہتا ہے، پھر حکم دیا جائے گا کہ اسے منہ کے بل کھینچا جائے، یہاں تک کہ اسے آگ میں ڈال دیا جائے گا، پھر (دوسرا) وہ آدمی ہوگا جس نے علم حاصل کیا، دوسروں کو تعلیم دی اور قرآن کو پڑھا چناچہ اسے بھی (اللہ کے حضور میں) لایا جائے گا، اللہ تعالیٰ اس کو (اپنی عطا کی ہوئی) نعمتیں یاد دلائے گا جو اسے یاد آجائیں گی پھر اللہ پوچھے گا کہ تو نے ان نعمتوں کے شکر میں کیا اعمال کئے؟ وہ کہے گا میں نے علم حاصل کیا اور دوسروں کو سکھایا اور تیرے ہی لئے قرآن پڑھا اللہ تعالیٰ فرمائے گا تو جھوٹا ہے تو نے تو علم محض اس لئے حاصل کیا تھا تاکہ تجھے عالم کہا جائے اور قرآن اس لئے پڑھا تھا تاکہ تجھے لوگ قاری کہیں، چناچہ تجھے (عالم و قاری) کہا گیا۔ پھر حکم دیا جائے گا کہ اسے منہ کے بل گھسیٹا جائے یہاں تک کہ اسے آگ میں ڈال دیا جائے گا۔ پھر (تیسرا) وہ آدمی ہوگا جس کو اللہ نے (معیشت میں) وسعت دی اور ہر قسم کا مال عطا فرمایا۔ اس کو بھی اللہ کے حضور میں لایا جائے گا اللہ تعالیٰ اس کو (اپنی عطا کی ہوئی) نعمتیں یاد دلائے گا جو اسے یاد آجائیں گی۔ پھر اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا تو نے ان نعمتوں کے شکر میں کیا اعمال کئے؟ وہ کہے گا میں نے کوئی ایسی راہ نہیں چھوڑی جس میں تو خرچ کرنا پسند کرتا ہو اور تیری خوشنودی کے لئے میں اس میں خرچ نہ کیا ہو، اللہ تعالیٰ فرمائے گا تو جھوٹا ہے، تو نے خرچ اس لئے کیا تاکہ تجھے (سخی) کہا جائے اور تجھے (سخی) کہا گیا۔ پھر حکم دیا جائے گا کہ اسے منہ کے بل گھسیٹا جائے یہاں تک کہ اسے آگ میں ڈال دیا جائے گا۔ (صحیح مسلم)
تشریح
اعمال میں نیت کا کیا درجہ ہے؟ اور خلوص کی کتنی ضرورت ہے؟ اس حدیث سے بخوبی واضح ہوتا ہے بندہ کتنا بڑے سے بڑا عمل خیر کرے، بڑی سے بڑی نیکی کر ڈالے لیکن اگر اس کی نیت بخیر نہیں ہے تو اس کا وہ عمل اور نیکی کسی کام نہیں آئے گی اللہ تعالیٰ کو وہی عمل پسند ہے جس میں محض اللہ تعالیٰ کی خوشنودی اور اس کی رضا کی نیت ہو اور جذبہ اطاعت خلوص سے بھر پور ہو، ورنہ جو بھی عمل بغیر اخلاص اور بغیر نیت خیر کیا جائے گا چاہے وہ کتنا ہی عظیم عمل کیوں نہ ہو بارگاہ الوہیت سے ٹھکرا دیا جائے گا اور اس پر کوئی مفید نتیجہ مرتب نہیں ہوگا بلکہ الٹا اللہ تعالیٰ کے عذاب میں گرفتار کیا جائے گا جیسا کہ اس حدیث سے معلوم ہوا۔