جس بیع میں بائع اور مشتری کا اختیار ہو اس کا بیان
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْمُتَبَايِعَانِ کُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِالْخِيَارِ عَلَی صَاحِبِهِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا إِلَّا بَيْعَ الْخِيَارِ و حَدَّثَنِي مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ كَانَ يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَيُّمَا بَيِّعَيْنِ تَبَايَعَا فَالْقَوْلُ مَا قَالَ الْبَائِعُ أَوْ يَتَرَادَّانِ قَالَ مَالِك فِيمَنْ بَاعَ مِنْ رَجُلٍ سِلْعَةً فَقَالَ الْبَائِعُ عِنْدَ مُوَاجَبَةِ الْبَيْعِ أَبِيعُكَ عَلَى أَنْ أَسْتَشِيرَ فُلَانًا فَإِنْ رَضِيَ فَقَدْ جَازَ الْبَيْعُ وَإِنْ كَرِهَ فَلَا بَيْعَ بَيْنَنَا فَيَتَبَايَعَانِ عَلَى ذَلِكَ ثُمَّ يَنْدَمُ الْمُشْتَرِي قَبْلَ أَنْ يَسْتَشِيرَ الْبَائِعُ فُلَانًا إِنَّ ذَلِكَ الْبَيْعَ لَازِمٌ لَهُمَا عَلَى مَا وَصَفَا وَلَا خِيَارَ لِلْمُبْتَاعِ وَهُوَ لَازِمٌ لَهُ إِنْ أَحَبَّ الَّذِي اشْتَرَطَ لَهُ الْبَائِعُ أَنْ يُجِيزَهُ قَالَ مَالِك الْأَمْرُ عِنْدَنَا فِي الرَّجُلِ يَشْتَرِي السِّلْعَةَ مِنْ الرَّجُلِ فَيَخْتَلِفَانِ فِي الثَّمَنِ فَيَقُولُ الْبَائِعُ بِعْتُكَهَا بِعَشَرَةِ دَنَانِيرَ وَيَقُولُ الْمُبْتَاعُ ابْتَعْتُهَا مِنْكَ بِخَمْسَةِ دَنَانِيرَ إِنَّهُ يُقَالُ لِلْبَائِعِ إِنْ شِئْتَ فَأَعْطِهَا لِلْمُشْتَرِي بِمَا قَالَ وَإِنْ شِئْتَ فَاحْلِفْ بِاللَّهِ مَا بِعْتَ سِلْعَتَكَ إِلَّا بِمَا قُلْتَ فَإِنْ حَلَفَ قِيلَ لِلْمُشْتَرِي إِمَّا أَنْ تَأْخُذَ السِّلْعَةَ بِمَا قَالَ الْبَائِعُ وَإِمَّا أَنْ تَحْلِفَ بِاللَّهِ مَا اشْتَرَيْتَهَا إِلَّا بِمَا قُلْتَ فَإِنْ حَلَفَ بَرِئَ مِنْهَا وَذَلِكَ أَنَّ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مُدَّعٍ عَلَى صَاحِبِهِ
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے بائع (بچنے والا) اور مشتری (خریدنے والا اور بیچنے والا) دونوں کو اختیار ہے جب تک جدا نہ ہوں مگر جس بیع میں اختیار کی شرط ہو۔ عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب بائع (بچنے والا) اور مشتری (خریدنے والا اور بیچنے والا) اختلاف کریں توبائع کو قول معتبر ہوگا اور بیع کا رد کر ڈالیں گے۔ کہا مالک نے ایک شخص نے ایک چیز بیچی اور بیچتے وقت یہ شرط لگائی کہ میں فلانے سے مشورہ کروں گا اگر اس نے اجازت دی تو بیع نافذ ہے اور جو اس نے منع کیا تو بیع لغو ہے مشتری (خریدنے والا) اس شرط پر راضی ہوگیا بعد اس کے پشیمان ہوا تو اس کو اختیار نہ ہوگا بلکہ بائع (بچنے والا) کو جب وہ شخص اجازت دے گا تو نافذ ہوجائے گا۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہ حکم ہے کہ اگر ایک شخص کوئی چیز خرید کرے کسی شخص سے پھر ثمن میں اختلاف ہو بائع (بچنے والا) کہے میں نے دس دینار کو بیچا مشتری (خریدنے والا) کہے میں نے پانچ دینار کو خریدا تو بائع (بچنے والا) سے کہا جائے گا اگر تیرا جی چاہے تو پانچ دینار کو مشتری (خریدنے والا) کو دے دے نہیں تو تو قسم کھا اس امر پر میں نے اپنی چیز نہیں بیچی مگر دس دینار کو اگر بائع (بچنے والا) نے قسم کھائی تو مشتری (خریدنے والا) سے کہا جائے گا اگر تیرا جی چاہے تو اس کی چیز دس دینار کو لے لے نہیں تو قسم کھا میں نے اس چیز کو نہیں خریدا مگر پانچ دینار کو مشتری (خریدنے والا) نے یہ قسم کھائی تو وہ بری ہوجائے گا کیونکہ ہر ایک ان میں سے دوسرے کا مدعی ہے۔
عَنْ أَبِي صَالِحٍ مَوْلَی السَّفَّاحِ أَنَّهُ قَالَ بِعْتُ بَزًّا لِي مِنْ أَهْلِ دَارِ نَخْلَةَ إِلَی أَجَلٍ ثُمَّ أَرَدْتُ الْخُرُوجَ إِلَی الْکُوفَةِ فَعَرَضُوا عَلَيَّ أَنْ أَضَعَ عَنْهُمْ بَعْضَ الثَّمَنِ وَيَنْقُدُونِي فَسَأَلْتُ عَنْ ذَلِکَ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ فَقَالَ لَا آمُرُکَ أَنْ تَأْکُلَ هَذَا وَلَا تُوکِلَهُ
ابو صالح نے کہا میں نے اپنا کپڑا دار نخلہ والوں کے ہاتھ بیچا ایک وعدے پر جب میں کوفے جانے لگا تو ان لوگوں نے کہا اگر کچھ کم کردو تم تمہارا روپیہ ہم ابھی دے دیتے ہیں میں نے یہ زید بن ثابت ؓ سے بیان کیا انہوں نے کہا میں تجھے اس روپے کے کھانے اور کھلانے کی اجازت نہیں دیتا۔
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ الرَّجُلِ يَکُونُ لَهُ الدَّيْنُ عَلَی الرَّجُلِ إِلَی أَجَلٍ فَيَضَعُ عَنْهُ صَاحِبُ الْحَقِّ وَيُعَجِّلُهُ الْآخَرُ فَکَرِهَ ذَلِکَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ وَنَهَی عَنْهُ
عبداللہ بن عمر سے سوال ہوا ایک شخص کا میعادی قرض کسی پر آتا ہو قرضدار یہ کہے یہ مجھ سے کچھ کم کر کے نقد لے لے اور قرض خواہ اس پر راضی ہوجائے تو عبداللہ بن عمر نے اس کو مکروہ جانا اور اس سے منع کیا۔
عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ أَنَّهُ قَالَ کَانَ الرِّبَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ أَنْ يَکُونَ لِلرَّجُلِ عَلَی الرَّجُلِ الْحَقُّ إِلَی أَجَلٍ فَإِذَا حَلَّ الْأَجَلُ قَالَ أَتَقْضِي أَمْ تُرْبِي فَإِنْ قَضَی أَخَذَ وَإِلَّا زَادَهُ فِي حَقِّهِ وَأَخَّرَ عَنْهُ فِي الْأَجَلِ قَالَ مَالِك وَالْأَمْرُ الْمَكْرُوهُ الَّذِي لَا اخْتِلَافَ فِيهِ عِنْدَنَا أَنْ يَكُونَ لِلرَّجُلِ عَلَى الرَّجُلِ الدَّيْنُ إِلَى أَجَلٍ فَيَضَعُ عَنْهُ الطَّالِبُ وَيُعَجِّلُهُ الْمَطْلُوبُ وَذَلِكَ عِنْدَنَا بِمَنْزِلَةِ الَّذِي يُؤَخِّرُ دَيْنَهُ بَعْدَ مَحِلِّهِ عَنْ غَرِيمِهِ وَيَزِيدُهُ الْغَرِيمُ فِي حَقِّهِ قَالَ فَهَذَا الرِّبَا بِعَيْنِهِ لَا شَكَّ فِيهِ قَالَ مَالِك فِي الرَّجُلِ يَكُونُ لَهُ عَلَى الرَّجُلِ مِائَةُ دِينَارٍ إِلَى أَجَلٍ فَإِذَا حَلَّتْ قَالَ لَهُ الَّذِي عَلَيْهِ الدَّيْنُ بِعْنِي سِلْعَةً يَكُونُ ثَمَنُهَا مِائَةَ دِينَارٍ نَقْدًا بِمِائَةٍ وَخَمْسِينَ إِلَى أَجَلٍ هَذَا بَيْعٌ لَا يَصْلُحُ وَلَمْ يَزَلْ أَهْلُ الْعِلْمِ يَنْهَوْنَ عَنْهُ قَالَ مَالِك وَإِنَّمَا كُرِهَ ذَلِكَ لِأَنَّهُ إِنَّمَا يُعْطِيهِ ثَمَنَ مَا بَاعَهُ بِعَيْنِهِ وَيُؤَخِّرُ عَنْهُ الْمِائَةَ الْأُولَى إِلَى الْأَجَلِ الَّذِي ذَكَرَ لَهُ آخِرَ مَرَّةٍ وَيَزْدَادُ عَلَيْهِ خَمْسِينَ دِينَارًا فِي تَأْخِيرِهِ عَنْهُ فَهَذَا مَكْرُوهٌ وَلَا يَصْلُحُ وَهُوَ أَيْضًا يُشْبِهُ حَدِيثَ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ فِي بَيْعِ أَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ إِنَّهُمْ كَانُوا إِذَا حَلَّتْ دُيُونُهُمْ قَالُوا لِلَّذِي عَلَيْهِ الدَّيْنُ إِمَّا أَنْ تَقْضِيَ وَإِمَّا أَنْ تُرْبِيَ فَإِنْ قَضَى أَخَذُوا وَإِلَّا زَادُوهُمْ فِي حُقُوقِهِمْ وَزَادُوهُمْ فِي الْأَجَلِ
زید بن اسلم نے کہا کیا جاہلیت میں سود اس طور پر ہوتا تھا ایک شخص کا قرض میعادی دوسرے شخص پر آتا ہو جب میعاد گزر جائے تو قرضخواہ قرضدار سے کہے یا تم قرض ادا کرو یا سود دو اگر اس نے قرض ادا کیا تو بہتر ہے نہیں تو قرضخواہ اپنا قرضہ بڑھا دیتا اور پھر میعاد کراتا۔ کہا مالک نے اگر کسی شخص کے دوسرے شخص پر سو دینار آتے ہوں وعدے پر جب وعدہ گزر جائے تو قرضدار قرضخواہ سے کہے تو میرے ہاتھ کوئی ایسی چیز جس کی قیمت سو دینار ہوں ڈیڑھ سو دینار کو بیع ڈال ایک میعاد پر یہ بیع درست نہیں اور ہمیشہ اہل علم اس سے منع کرتے رہے اس لئے کہ قرضخواہ نے اپنی چیز کی قیمت سو دینار وصول کرلی اور وہ جو سو دینار قرضے کے تھے ان کی میعاد بڑھا دی۔ بعوض پچاس دینار کے جو اس کو فائدہ حاصل ہو اس شئے کے بیچنے میں۔ یہ بیع مشابہ ہے اس کے جو زید بن اسلم نے روایت کیا کہ جاہلیت کے زمانے میں جب قرض کی مدت گزر جاتی تو قرضخواہ قرضدار سے کہتا یا تو قرض ادا کر یا سود دے اگر وہ ادا کردیتا تو لے لیتا نہیں تو اور مہلت دے کر قرضہ کو بڑھا دیتا۔
قرض کے مختلف مسائل کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَطْلُ الْغَنِيِّ ظُلْمٌ وَإِذَا أُتْبِعَ أَحَدُکُمْ عَلَی مَلِيئٍ فَلْيَتْبَعْ
ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مالدار شخص کا دیر کرنا قرض ادا کرنے میں ظلم ہے اور جب تم میں سے کوئی حوالہ کیا جائے مالدار شخص پر تو چاہے کہ حوالہ قبول کرلے۔
قرض کے مختلف مسائل کا بیان
عَنْ مُوسَی بْنِ مَيْسَرَةَ أَنَّهُ سَمِعَ رَجُلًا يَسْأَلُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ فَقَالَ إِنِّي رَجُلٌ أَبِيعُ بِالدَّيْنِ فَقَالَ سَعِيدٌ لَا تَبِعْ إِلَّا مَا آوَيْتَ إِلَی رَحْلِکَ قَالَ مَالِك فِي الَّذِي يَشْتَرِي السِّلْعَةَ مِنْ الرَّجُلِ عَلَى أَنْ يُوَفِّيَهُ تِلْكَ السِّلْعَةَ إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى إِمَّا لِسُوقٍ يَرْجُو نَفَاقَهَا فِيهِ وَإِمَّا لِحَاجَةٍ فِي ذَلِكَ الزَّمَانِ الَّذِي اشْتَرَطَ عَلَيْهِ ثُمَّ يُخْلِفُهُ الْبَائِعُ عَنْ ذَلِكَ الْأَجَلِ فَيُرِيدُ الْمُشْتَرِي رَدَّ تِلْكَ السِّلْعَةِ عَلَى الْبَائِعِ إِنَّ ذَلِكَ لَيْسَ لِلْمُشْتَرِي وَإِنَّ الْبَيْعَ لَازِمٌ لَهُ وَإِنَّ الْبَائِعَ لَوْ جَاءَ بِتِلْكَ السِّلْعَةِ قَبْلَ مَحِلِّ الْأَجَلِ لَمْ يُكْرَهْ الْمُشْتَرِي عَلَى أَخْذِهَا قَالَ مَالِك فِي الَّذِي يَشْتَرِي الطَّعَامَ فَيَكْتَالُهُ ثُمَّ يَأْتِيهِ مَنْ يَشْتَرِيهِ مِنْهُ فَيُخْبِرُ الَّذِي يَأْتِيهِ أَنَّهُ قَدْ اكْتَالَهُ لِنَفْسِهِ وَاسْتَوْفَاهُ فَيُرِيدُ الْمُبْتَاعُ أَنْ يُصَدِّقَهُ وَيَأْخُذَهُ بِكَيْلِهِ إِنَّ مَا بِيعَ عَلَى هَذِهِ الصِّفَةِ بِنَقْدٍ فَلَا بَأْسَ بِهِ وَمَا بِيعَ عَلَى هَذِهِ الصِّفَةِ إِلَى أَجَلٍ فَإِنَّهُ مَكْرُوهٌ حَتَّى يَكْتَالَهُ الْمُشْتَرِي الْآخَرُ لِنَفْسِهِ وَإِنَّمَا كُرِهَ الَّذِي إِلَى أَجَلٍ لِأَنَّهُ ذَرِيعَةٌ إِلَى الرِّبَا وَتَخَوُّفٌ أَنْ يُدَارَ ذَلِكَ عَلَى هَذَا الْوَجْهِ بِغَيْرِ كَيْلٍ وَلَا وَزْنٍ فَإِنْ كَانَ إِلَى أَجَلٍ فَهُوَ مَكْرُوهٌ وَلَا اخْتِلَافَ فِيهِ عِنْدَنَا قَالَ مَالِك لَا يَنْبَغِي أَنْ يُشْتَرَى دَيْنٌ عَلَى رَجُلٍ غَائِبٍ وَلَا حَاضِرٍ إِلَّا بِإِقْرَارٍ مِنْ الَّذِي عَلَيْهِ الدَّيْنُ وَلَا عَلَى مَيِّتٍ وَإِنْ عَلِمَ الَّذِي تَرَكَ الْمَيِّتُ وَذَلِكَ أَنَّ اشْتِرَاءَ ذَلِكَ غَرَرٌ لَا يُدْرَى أَيَتِمُّ أَمْ لَا يَتِمُّ قَالَ وَتَفْسِيرُ مَا كُرِهَ مِنْ ذَلِكَ أَنَّهُ إِذَا اشْتَرَى دَيْنًا عَلَى غَائِبٍ أَوْ مَيِّتٍ أَنَّهُ لَا يُدْرَى مَا يَلْحَقُ الْمَيِّتَ مِنْ الدَّيْنِ الَّذِي لَمْ يُعْلَمْ بِهِ فَإِنْ لَحِقَ الْمَيِّتَ دَيْنٌ ذَهَبَ الثَّمَنُ الَّذِي أَعْطَى الْمُبْتَاعُ بَاطِلًا قَالَ مَالِك وَفِي ذَلِكَ أَيْضًا عَيْبٌ آخَرُ أَنَّهُ اشْتَرَى شَيْئًا لَيْسَ بِمَضْمُونٍ لَهُ وَإِنْ لَمْ يَتِمَّ ذَهَبَ ثَمَنُهُ بَاطِلًا فَهَذَا غَرَرٌ لَا يَصْلُحُ قَالَ مَالِك وَإِنَّمَا فُرِقَ بَيْنَ أَنْ لَا يَبِيعَ الرَّجُلُ إِلَّا مَا عِنْدَهُ وَأَنْ يُسَلِّفَ الرَّجُلُ فِي شَيْءٍ لَيْسَ عِنْدَهُ أَصْلُهُ أَنَّ صَاحِبَ الْعِينَةِ إِنَّمَا يَحْمِلُ ذَهَبَهُ الَّتِي يُرِيدُ أَنْ يَبْتَاعَ بِهَا فَيَقُولُ هَذِهِ عَشَرَةُ دَنَانِيرَ فَمَا تُرِيدُ أَنْ أَشْتَرِيَ لَكَ بِهَا فَكَأَنَّهُ يَبِيعُ عَشَرَةَ دَنَانِيرَ نَقْدًا بِخَمْسَةَ عَشَرَ دِينَارًا إِلَى أَجَلٍ فَلِهَذَا كُرِهَ هَذَا وَإِنَّمَا تِلْكَ الدُّخْلَةُ وَالدُّلْسَةُ
موسیٰ بن میسرہ نے سنا ایک شخص پوچھ رہا تھا سعید بن مسیب سے میں قرض کے بدل میں بیچا کرتا ہوں سعید نے کہا تو نہ بیچ مگر اس چیز کو جو تیرے پاس ہو۔ کہا مالک نے جو شخص کوئی چیز خرید کرے اس شرط پر کہ بائع (بچنے والا) وہ شئے مشتری (خریدنے والا) کو اتنی مدت میں سپرد کردے اس میں مشتری (خریدنے والا) نے کوئی مصلحت رکھی ہو مثلا اس وقت بازار میں اس مال کی نکاسی کی امید ہو یا اور کچھ غرض ہو پھر بائع (بچنے والا) اس وعدے میں خلاف کر اور مشتری (خریدنے والا) چاہے کہ وہ شئے بائع (بچنے والا) کو پھیر دے تو مشتری (خریدنے والا) کو یہ حق نہیں پہنچتا اور بیع لازم رہے گی اگر بائع (بچنے والا) اس شئے کو قبل میعاد کے لئے آیا تو مشتری (خریدنے والا) پر جبر نہ کیا جائے گا اس کے لینے پر۔ کہا مالک نے جو شخص اناج خرید کر اس کو تول لے پھر ایک خریدار آئے جو مشتری (خریدنے والا) سے اس اناج کو خرید کرنا چاہے مشتری (خریدنے والا) اس سے کہے کہ میں اناج تول چکا ہوں اور وہ شخص مشتری (خریدنے والا) کو سچا سمجھ کر اس غلے کو نقد مول لے لے تو کچھ قباحت نہیں مگر وعدے پر لینا مکروہ ہے جب تک وہ خریدار دوبارہ اس کو تول نہ لے۔ کہا مالک نے دین کا خریدنا درست نہیں خواہ غائب پر ہو یا حاضر پر مگر جب شخص حاضر اس کا اقرار کرے اسی طرح جو دین میت پر ہو اس کا بھی خریدنا درست نہیں کیونکہ اس میں دھوکا ہے معلوم نہیں وہ قرض ملتا ہے یا نہیں اس واسطے اگر میت یا غائب پر اور بھی دین نکلا تو اس کے پیسے مفت گئے دوسرے یہ کہ وہ قرض اس کی ضمان میں داخل نہیں ہو اگر نہ پنٹا تو اس کے پیسے مفت گئے۔ کہا مالک نے بیع سلف (قرض) میں اور بیع عینہ میں یہ فرق ہے کہ بیع عینہ والا دس دینار نقد دے کر پندرہ دینار وعدے پر لیتا ہے تو یہ صریح دھوکا ہے اور بالکل فریب ہے۔
شرکت اور تولیہ اور اقالہ کے بیان میں
بَاب مَا جَاءَ فِي الشِّرْكَةِ وَالتَّوْلِيَةِ وَالْإِقَالَةِ قَالَ مَالِك فِي الرَّجُلِ يَبِيعُ الْبَزَّ الْمُصَنَّفَ وَيَسْتَثْنِي ثِيَابًا بِرُقُومِهَا إِنَّهُ إِنْ اشْتَرَطَ أَنْ يَخْتَارَ مِنْ ذَلِكَ الرَّقْمَ فَلَا بَأْسَ بِهِ وَإِنْ لَمْ يَشْتَرِطْ أَنْ يَخْتَارَ مِنْهُ حِينَ اسْتَثْنَى فَإِنِّي أَرَاهُ شَرِيكًا فِي عَدَدِ الْبَزِّ الَّذِي اشْتُرِيَ مِنْهُ وَذَلِكَ أَنَّ الثَّوْبَيْنِ يَكُونُ رَقْمُهُمَا سَوَاءً وَبَيْنَهُمَا تَفَاوُتٌ فِي الثَّمَنِ قَالَ مَالِك الْأَمْرُ عِنْدَنَا أَنَّهُ لَا بَأْسَ بِالشِّرْكِ وَالتَّوْلِيَةِ وَالْإِقَالَةِ مِنْهُ فِي الطَّعَامِ وَغَيْرِهِ قَبَضَ ذَلِكَ أَوْ لَمْ يَقْبِضْ إِذَا كَانَ ذَلِكَ بِالنَّقْدِ وَلَمْ يَكُنْ فِيهِ رِبْحٌ وَلَا وَضِيعَةٌ وَلَا تَأْخِيرٌ لِلثَّمَنِ فَإِنْ دَخَلَ ذَلِكَ رِبْحٌ أَوْ وَضِيعَةٌ أَوْ تَأْخِيرٌ مِنْ وَاحِدٍ مِنْهُمَا صَارَ بَيْعًا يُحِلُّهُ مَا يُحِلُّ الْبَيْعَ وَيُحَرِّمُهُ مَا يُحَرِّمُ الْبَيْعَ وَلَيْسَ بِشِرْكٍ وَلَا تَوْلِيَةٍ وَلَا إِقَالَةٍ قَالَ مَالِك مَنْ اشْتَرَى سِلْعَةً بَزًّا أَوْ رَقِيقًا فَبَتَّ بِهِ ثُمَّ سَأَلَهُ رَجُلٌ أَنْ يُشَرِّكَهُ فَفَعَلَ وَنَقَدَا الثَّمَنَ صَاحِبَ السِّلْعَةِ جَمِيعًا ثُمَّ أَدْرَكَ السِّلْعَةَ شَيْءٌ يَنْتَزِعُهَا مِنْ أَيْدِيهِمَا فَإِنَّ الْمُشَرَّكَ يَأْخُذُ مِنْ الَّذِي أَشْرَكَهُ الثَّمَنَ وَيَطْلُبُ الَّذِي أَشْرَكَ بَيِّعَهُ الَّذِي بَاعَهُ السِّلْعَةَ بِالثَّمَنِ كُلِّهِ إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُشَرِّكُ عَلَى الَّذِي أَشْرَكَ بِحَضْرَةِ الْبَيْعِ وَعِنْدَ مُبَايَعَةِ الْبَائِعِ الْأَوَّلِ وَقَبْلَ أَنْ يَتَفَاوَتَ ذَلِكَ أَنَّ عُهْدَتَكَ عَلَى الَّذِي ابْتَعْتُ مِنْهُ وَإِنْ تَفَاوَتَ ذَلِكَ وَفَاتَ الْبَائِعَ الْأَوَّلَ فَشَرْطُ الْآخَرِ بَاطِلٌ وَعَلَيْهِ الْعُهْدَةُ قَالَ مَالِك فِي الرَّجُلِ يَقُولُ لِلرَّجُلِ اشْتَرِ هَذِهِ السِّلْعَةَ بَيْنِي وَبَيْنَكَ وَانْقُدْ عَنِّي وَأَنَا أَبِيعُهَا لَكَ إِنَّ ذَلِكَ لَا يَصْلُحُ حِينَ قَالَ انْقُدْ عَنِّي وَأَنَا أَبِيعُهَا لَكَ وَإِنَّمَا ذَلِكَ سَلَفٌ يُسْلِفُهُ إِيَّاهُ عَلَى أَنْ يَبِيعَهَا لَهُ وَلَوْ أَنَّ تِلْكَ السِّلْعَةَ هَلَكَتْ أَوْ فَاتَتْ أَخَذَ ذَلِكَ الرَّجُلُ الَّذِي نَقَدَ الثَّمَنَ مِنْ شَرِيكِهِ مَا نَقَدَ عَنْهُ فَهَذَا مِنْ السَّلَفِ الَّذِي يَجُرُّ مَنْفَعَةً قَالَ مَالِك وَلَوْ أَنَّ رَجُلًا ابْتَاعَ سِلْعَةً فَوَجَبَتْ لَهُ ثُمَّ قَالَ لَهُ رَجُلٌ أَشْرِكْنِي بِنِصْفِ هَذِهِ السِّلْعَةِ وَأَنَا أَبِيعُهَا لَكَ جَمِيعًا كَانَ ذَلِكَ حَلَالًا لَا بَأْسَ بِهِ وَتَفْسِيرُ ذَلِكَ أَنَّ هَذَا بَيْعٌ جَدِيدٌ بَاعَهُ نِصْفَ السِّلْعَةِ عَلَى أَنْ يَبِيعَ لَهُ النِّصْفَ الْآخَرَ
کہا مالک نے جس شخص نے کئی قسم کا کپڑا بیچا اور چند رقم کے کپڑے مستثنی کرلینے کی شرط کرلی تو کچھ قباحت نہیں اگر شرط نہیں کی تو وہ ان کپڑوں میں شریک ہوجائے گا۔ اس لئے کہ ایک رقم کے کپڑوں میں بھی کم وبیش ہوتی ہے۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہ حکم ہے کہ شرکت اور تولیہ اور اقالہ کھانے کی چیزوں میں درست ہے ہے خواہ ان پر قبضہ ہوا ہو یا نہ ہوا ہو مگر یہ ضروری ہے کہ نقد ہو میعاد نہ ہو اور کمی بیشی نہ ہوا اگر اس میں کمی بیشی ہوگی یا میعاد ہوگی تو یہ معاملے بیع سمجھے جائیں گے شرکت اور تولیہ اور اقالہ نہ ہوں گے۔ کہا مالک نے اگر کسی شخص نے کوئی اسباب جیسے کپڑا یا غلام یا لونڈی خرید کیا پھر ایک شخص نے اس سے کہا کہ مجھ کو بھی اس میں شریک کرلو اس نے قبول کیا اور دونوں نے مل کر بائع (بچنے والا) کو قیمت ادا کردی پھر وہ اسباب کسی اور کا نکلا تو جو شخص شریک ہو وہ اپنے دام پہلے مشتری (خریدنے والا) سے لے لے گا۔ اور وہ بائع (بچنے والا) سے لے گا مگر جس صورت میں مشتری (خریدنے والا) نے خریدتے وقت بائع (بچنے والا) کے سامنے اس شریک سے کہہ دیا ہو کہ اگر مبیع میں فتور نکلے تو اس کی جواب وہی بائع (بچنے والا) پر ہوگی تو اس صورت میں وہ شریک اپنا نقصان بائع (بچنے والا) سے لے گا اگر ایسا نہ ہو تو مشتری (خریدنے والا) کی شرط کچھ کام نہ آئے گی اور تاوان کا نقصان اسی پر ہوگا۔ کہا مالک نے زید نے عمرو سے یہ کہا تو اس شئے کو خرید کرلے میرے اور اپنے ساجھے میں بکوادوں گا۔ تو میری طرف سے بھی دام دے دے تو یہ درست نہیں کیونکہ یہ سلف (قرض) ہے بکوادینے کی شرط پر اگر وہ شئے تلف ہوجائے تو عمروزید سے اس کے حصہ کے دام لے لے گا البتہ اگر عمرو ایک شئے خرید کرچکا پھر زید نے کہا مجھے بھی اس میں شریک کرلے نصف کا میں بکوادوں گا تو یہ درست ہے۔
قرض دار کے مفلس ہوجانے کا بیان
عَنْ أَبِي بَکْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَيُّمَا رَجُلٍ بَاعَ مَتَاعًا فَأَفْلَسَ الَّذِي ابْتَاعَهُ مِنْهُ وَلَمْ يَقْبِضْ الَّذِي بَاعَهُ مِنْ ثَمَنِهِ شَيْئًا فَوَجَدَهُ بِعَيْنِهِ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ وَإِنْ مَاتَ الَّذِي ابْتَاعَهُ فَصَاحِبُ الْمَتَاعِ فِيهِ أُسْوَةُ الْغُرَمَائِ
ابی بکر بن عبدالرحمن ؓ روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص نے اپنا مال بیچا کسی کے ہاتھ پھر مشتری (خریدنے والا) مفلس ہوگیا اور بائع (بچنے والا) کو ثمن وصول نہیں ہوئی لیکن بائع (بچنے والا) نے اپنی چیز بجنسہ مشتری (خریدنے والا) کے پاس پائی تو بائع (بچنے والا) اس چیز کا زیادہ حقدار ہوگا اگر مشتری (خریدنے والا) مرگیا تو اس چیز میں بائع (بچنے والا) اور قرضخواہوں کے برابر ہوگا۔
قرض دار کے مفلس ہوجانے کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَيُّمَا رَجُلٍ أَفْلَسَ فَأَدْرَکَ الرَّجُلُ مَالَهُ بِعَيْنِهِ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ مِنْ غَيْرِهِ قَالَ مَالِك فِي رَجُلٍ بَاعَ مِنْ رَجُلٍ مَتَاعًا فَأَفْلَسَ الْمُبْتَاعُ فَإِنَّ الْبَائِعَ إِذَا وَجَدَ شَيْئًا مِنْ مَتَاعِهِ بِعَيْنِهِ أَخَذَهُ وَإِنْ كَانَ الْمُشْتَرِي قَدْ بَاعَ بَعْضَهُ وَفَرَّقَهُ فَصَاحِبُ الْمَتَاعِ أَحَقُّ بِهِ مِنْ الْغُرَمَاءِ لَا يَمْنَعُهُ مَا فَرَّقَ الْمُبْتَاعُ مِنْهُ أَنْ يَأْخُذَ مَا وَجَدَ بِعَيْنِهِ فَإِنْ اقْتَضَى مِنْ ثَمَنِ الْمُبْتَاعِ شَيْئًا فَأَحَبَّ أَنْ يَرُدَّهُ وَيَقْبِضَ مَا وَجَدَ مِنْ مَتَاعِهِ وَيَكُونَ فِيمَا لَمْ يَجِدْ أُسْوَةَ الْغُرَمَاءِ فَذَلِكَ لَهُ قَالَ مَالِك وَمَنْ اشْتَرَى سِلْعَةً مِنْ السِّلَعِ غَزْلًا أَوْ مَتَاعًا أَوْ بُقْعَةً مِنْ الْأَرْضِ ثُمَّ أَحْدَثَ فِي ذَلِكَ الْمُشْتَرَى عَمَلًا بَنَى الْبُقْعَةَ دَارًا أَوْ نَسَجَ الْغَزْلَ ثَوْبًا ثُمَّ أَفْلَسَ الَّذِي ابْتَاعَ ذَلِكَ فَقَالَ رَبُّ الْبُقْعَةِ أَنَا آخُذُ الْبُقْعَةَ وَمَا فِيهَا مِنْ الْبُنْيَانِ إِنَّ ذَلِكَ لَيْسَ لَهُ وَلَكِنْ تُقَوَّمُ الْبُقْعَةُ وَمَا فِيهَا مِمَّا أَصْلَحَ الْمُشْتَرِي ثُمَّ يُنْظَرُ كَمْ ثَمَنُ الْبُقْعَةِ وَكَمْ ثَمَنُ الْبُنْيَانِ مِنْ تِلْكَ الْقِيمَةِ ثُمَّ يَكُونَانِ شَرِيكَيْنِ فِي ذَلِكَ لِصَاحِبِ الْبُقْعَةِ بِقَدْرِ حِصَّتِهِ وَيَكُونُ لِلْغُرَمَاءِ بِقَدْرِ حِصَّةِ الْبُنْيَانِ قَالَ مَالِك وَتَفْسِيرُ ذَلِكَ أَنْ تَكُونَ قِيمَةُ ذَلِكَ كُلِّهِ أَلْفَ دِرْهَمٍ وَخَمْسَ مِائَةِ دِرْهَمٍ فَتَكُونُ قِيمَةُ الْبُقْعَةِ خَمْسَ مِائَةِ دِرْهَمٍ وَقِيمَةُ الْبُنْيَانِ أَلْفَ دِرْهَمٍ فَيَكُونُ لِصَاحِبِ الْبُقْعَةِ الثُّلُثُ وَيَكُونُ لِلْغُرَمَاءِ الثُّلُثَانِ قَالَ مَالِك وَكَذَلِكَ الْغَزْلُ وَغَيْرُهُ مِمَّا أَشْبَهَهُ إِذَا دَخَلَهُ هَذَا وَلَحِقَ الْمُشْتَرِيَ دَيْنٌ لَا وَفَاءَ لَهُ عِنْدَهُ وَهَذَا الْعَمَلُ فِيهِ قَالَ مَالِك فَأَمَّا مَا بِيعَ مِنْ السِّلَعِ الَّتِي لَمْ يُحْدِثْ فِيهَا الْمُبْتَاعُ شَيْئًا إِلَّا أَنَّ تِلْكَ السِّلْعَةَ نَفَقَتْ وَارْتَفَعَ ثَمَنُهَا فَصَاحِبُهَا يَرْغَبُ فِيهَا وَالْغُرَمَاءُ يُرِيدُونَ إِمْسَاكَهَا فَإِنَّ الْغُرَمَاءَ يُخَيَّرُونَ بَيْنَ أَنْ يُعْطُوا رَبَّ السِّلْعَةِ الثَّمَنَ الَّذِي بَاعَهَا بِهِ وَلَا يُنَقِّصُوهُ شَيْئًا وَبَيْنَ أَنْ يُسَلِّمُوا إِلَيْهِ سِلْعَتَهُ وَإِنْ كَانَتْ السِّلْعَةُ قَدْ نَقَصَ ثَمَنُهَا فَالَّذِي بَاعَهَا بِالْخِيَارِ إِنْ شَاءَ أَنْ يَأْخُذَ سِلْعَتَهُ وَلَا تِبَاعَةَ لَهُ فِي شَيْءٍ مِنْ مَالِ غَرِيمِهِ فَذَلِكَ لَهُ وَإِنْ شَاءَ أَنْ يَكُونَ غَرِيمًا مِنْ الْغُرَمَاءِ يُحَاصُّ بِحَقِّهِ وَلَا يَأْخُذُ سِلْعَتَهُ فَذَلِكَ لَهُ و قَالَ مَالِك فِيمَنْ اشْتَرَى جَارِيَةً أَوْ دَابَّةً فَوَلَدَتْ عِنْدَهُ ثُمَّ أَفْلَسَ الْمُشْتَرِي فَإِنَّ الْجَارِيَةَ أَوْ الدَّابَّةَ وَوَلَدَهَا لِلْبَائِعِ إِلَّا أَنْ يَرْغَبَ الْغُرَمَاءُ فِي ذَلِكَ فَيُعْطُونَهُ حَقَّهُ كَامِلًا وَيُمْسِكُونَ ذَلِكَ
ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص نے اپنا مال بیچا کسی کے ہاتھ پھر مشتری (خریدنے والا) مفلس ہوگیا اور بائع (بچنے والا) نے اپنی چیز بعینہ مشتری (خریدنے والا) کے پاس پائی تو وہ اس کا زیادہ حقدار ہے۔ کہا مالک نے جس شخص نے کوئی اسباب بیچا پھر مشتری (خریدنے والا) مفلس ہوگیا اور بائع (بچنے والا) نے اپنی چیز بعینہ مشتری (خریدنے والا) کے پاس پائی تو بائع (بچنے والا) اس کو لے لے گا اگر مشتری (خریدنے والا) نے اس میں سے کچھ بیچ ڈالا ہے تو جس قدر باقی ہے اس کا بائع (بچنے والا) زیادہ حقدار ہے بہ نسبت اور قرضخواہوں کے۔ اگر بائع (بچنے والا) تھوڑی سی ثمن پاچکا ہے پھر بائع (بچنے والا) یہ چاہے کہ اس ثمن کو پھیر کر جس قدر اسباب اپنا باقی ہے اس کو لے لے اور جو کچھ باقی رہ جائے اس میں اور قرضخواہوں کے برابر ہے تو ہوسکتا ہے۔ کہا مالک نے اگر کسی شخص نے سوت یا زمین خریدی پھر سوت کا کپڑا بن لیا اور زمین پر مکان بنایا بعد اس کے مشتری (خریدنے والا) مفلس ہوگیا اب زمین کا بائع (بچنے والا) یہ کہے کہ میں زمین اور مکان سب لئے لیتا ہوں تو یہ نہیں ہوسکتا بلکہ زمین کی اور عملے کی قیمت لگائیں کے پھر دیکھیں گے اس قیمت کا حصہ زمین پر کتنا آتا ہے اور عملے پر کتنا آتا ہے اب بائع (بچنے والا) اور مشتری (خریدنے والا اور بیچنے والا) دونوں اس میں شریک رہیں گے زمین کا مالک اپنے حصہ کے موافق اور باقی قرضخواہ عملے کے موافق۔ کہا مالک نے اس کی مثال یہ ہے جیسے زمین اور عملے کی قیمت پندرہ سو ہوئی اس میں سے زمین کی قیمت پانچ سو ہے اور عملے کی ہزار ہے تو زمین والے کا ایک ثلث ہوگا اور باقی قرضخواہوں کے دو ثلث ہوں گے۔ کہا مالک نے یہی حکم سوت میں ہے جب کہ مشتری (خریدنے والا) نے اس کو بن لیا بعد اس کے قرضدار ہو کر مفلس ہوگیا۔ کہا مالک نے اگر مشتری (خریدنے والا) نے اس چیز میں تصرف نہیں کیا مگر اس چیز کی قیمت بڑھ گئی اب بائع (بچنے والا) یہ چاہتا ہے کہ اپنی شئے پھیر لے اور قرضخواہ چاہتے ہیں کہ وہ شئے بائع (بچنے والا) کو نہ دیں گو قرضخواہ ہوں کو اختیار ہے خواہ بائع (بچنے والا) کی ثمن پوری پوری حوالے کردیں۔ اگر اس چیز کی قیمت گھٹ گئی تو بائع (بچنے والا) کو اختیار ہے خواہ اپنی چیز لے لے پھر اس کو مشتری (خریدنے والا) کے مال سے کچھ غرض نہ ہوگی خواہ اپنی چیز نہ لے اور قرضخواہوں کے ساتھ شریک ہوجائے۔ کہا مالک (رح) نے اگر کسی شخص نے لونڈی خریدی یا جانور خریدا پھر اس لونڈی یا جانور کا مشتری (خریدنے والا) کے پاس آن کر بچہ پیدا ہوا بعد اس کے مشتری (خریدنے والا) مفلس ہوگیا تو وہ بچہ بائع (بچنے والا) ہوگا البتہ اگر قرضخواہ بائع (بچنے والا) کی پوری ثمن ادا کردیں تو بچہ کو اور اس کی ماں کو دونوں کو رکھ سکتے ہیں۔
کن چیزوں میں ادھار درست ہے۔
عَنْ أَبِي رَافِعٍ مَوْلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ اسْتَسْلَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَکْرًا فَجَائَتْهُ إِبِلٌ مِنْ الصَّدَقَةِ قَالَ أَبُو رَافِعٍ فَأَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَقْضِيَ الرَّجُلَ بَکْرَهُ فَقُلْتُ لَمْ أَجِدْ فِي الْإِبِلِ إِلَّا جَمَلًا خِيَارًا رَبَاعِيًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطِهِ إِيَّاهُ فَإِنَّ خِيَارَ النَّاسِ أَحْسَنُهُمْ قَضَائً
ابو رافع سے روایت ہے کہ جو مولیٰ (غلام آزاد کئے ہوئے) تھے رسول اللہ ﷺ کے کہ رسول اللہ ﷺ نے قرض لیا ایک چھوٹا اونٹ جب صدقے کے وقت کے وقت اونٹ آئے اور آپ ﷺ نے مجھ کو حکم کیا ویسا ہی اونٹ ادا کرنے کو میں نے کہا یا رسول اللہ ﷺ صدقے کے اونٹوں میں سب اونٹ اچھے بڑے بڑے ہیں چھ چھ برس کے آپ ﷺ نے فرمایا اس میں سے دے دے اچھے وہ لوگ ہیں جو قرض اچھے طور پر ادا کریں۔
عَنْ مُجَاهِدٍ أَنَّهُ قَالَ اسْتَسْلَفَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ مِنْ رَجُلٍ دَرَاهِمَ ثُمَّ قَضَاهُ دَرَاهِمَ خَيْرًا مِنْهَا فَقَالَ الرَّجُلُ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ هَذِهِ خَيْرٌ مِنْ دَرَاهِمِي الَّتِي أَسْلَفْتُکَ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ قَدْ عَلِمْتُ وَلَکِنْ نَفْسِي بِذَلِکَ طَيِّبَةٌ قَالَ مَالِك لَا بَأْسَ بِأَنْ يُقْبِضَ مَنْ أُسْلِفَ شَيْئًا مِنْ الذَّهَبِ أَوْ الْوَرِقِ أَوْ الطَّعَامِ أَوْ الْحَيَوَانِ مِمَّنْ أَسْلَفَهُ ذَلِكَ أَفْضَلَ مِمَّا أَسْلَفَهُ إِذَا لَمْ يَكُنْ ذَلِكَ عَلَى شَرْطٍ مِنْهُمَا أَوْ عَادَةٍ فَإِنْ كَانَ ذَلِكَ عَلَى شَرْطٍ أَوْ وَأْيٍ أَوْ عَادَةٍ فَذَلِكَ مَكْرُوهٌ وَلَا خَيْرَ فِيهِ قَالَ وَذَلِكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى جَمَلًا رَبَاعِيًا خِيَارًا مَكَانَ بَكْرٍ اسْتَسْلَفَهُ وَأَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ اسْتَسْلَفَ دَرَاهِمَ فَقَضَى خَيْرًا مِنْهَا فَإِنْ كَانَ ذَلِكَ عَلَى طِيبِ نَفْسٍ مِنْ الْمُسْتَسْلِفِ وَلَمْ يَكُنْ ذَلِكَ عَلَى شَرْطٍ وَلَا وَأْيٍ وَلَا عَادَةٍ كَانَ ذَلِكَ حَلَالًا لَا بَأْسَ بِهِ
مجاہد سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر نے ایک شخص سے روپے قرض لئے پھر اس سے اچھے ادا کئے وہ شخص بولا اے عبدالرحمن یہ تو میرے روپوں سے اچھے ہیں عبداللہ بن عمر نے کہا ہاں میں جانتا ہوں مگر میں اپنی خوشی سے دئے ہیں۔ کہا مالک نے جو شخص سونا چاندی یا اناج یا جانور قرض لے پھر اس سے بہتر ادا کرے تو کچھ قباحت نہیں جب کہ اس کی شرط نہ ہوئی ہو یا ایسی رسم نہ ہو یا اس کا وعدہ نہ کیا ہو اگر شرط یا رسم یا وعدے کے سبب سے ہو تو مکروہ ہے۔ بہتر نہیں۔ کہا مالک نے دیکھو رسول اللہ ﷺ نے چھوٹا اونٹ قرض لے کر اچھا بڑا اونٹ دیا اور عبداللہ بن عمر ؓ نے روپے قرض لے کر اس سے بہت دیئے مگر اس کی شرط یا وعدہ نہیں ہوا تھا تو جو کوئی خوشی سے ایسا کرے حلال ہے۔
جو سلف درست نہیں اس کا بیان
بَاب مَا لَا يَجُوزُ مِنْ السَّلَفِ حَدَّثَنِي يَحْيَى عَنْ مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَالَ فِي رَجُلٍ أَسْلَفَ رَجُلًا طَعَامًا عَلَى أَنْ يُعْطِيَهُ إِيَّاهُ فِي بَلَدٍ آخَرَ فَكَرِهَ ذَلِكَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَقَالَ فَأَيْنَ الْحَمْلُ يَعْنِي حُمْلَانَهُ و حَدَّثَنِي مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَجُلًا أَتَى عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ فَقَالَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنِّي أَسْلَفْتُ رَجُلًا سَلَفًا وَاشْتَرَطْتُ عَلَيْهِ أَفْضَلَ مِمَّا أَسْلَفْتُهُ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ فَذَلِكَ الرِّبَا قَالَ فَكَيْفَ تَأْمُرُنِي يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ السَّلَفُ عَلَى ثَلَاثَةِ وُجُوهٍ سَلَفٌ تُسْلِفُهُ تُرِيدُ بِهِ وَجْهَ اللَّهِ فَلَكَ وَجْهُ اللَّهِ وَسَلَفٌ تُسْلِفُهُ تُرِيدُ بِهِ وَجْهَ صَاحِبِكَ فَلَكَ وَجْهُ صَاحِبِكَ وَسَلَفٌ تُسْلِفُهُ لِتَأْخُذَ خَبِيثًا بِطَيِّبٍ فَذَلِكَ الرِّبَا قَالَ فَكَيْفَ تَأْمُرُنِي يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ أَرَى أَنْ تَشُقَّ الصَّحِيفَةَ فَإِنْ أَعْطَاكَ مِثْلَ الَّذِي أَسْلَفْتَهُ قَبِلْتَهُ وَإِنْ أَعْطَاكَ دُونَ الَّذِي أَسْلَفْتَهُ فَأَخَذْتَهُ أُجِرْتَ وَإِنْ أَعْطَاكَ أَفْضَلَ مِمَّا أَسْلَفْتَهُ طَيِّبَةً بِهِ نَفْسُهُ فَذَلِكَ شُكْرٌ شَكَرَهُ لَكَ وَلَكَ أَجْرُ مَا أَنْظَرْتَهُ
حضرت عمر بن خطابن سے کسی نے کہا جو شخص کسی کو اناج قرض دئیے اس شرط پر کہ فلانے شہر میں ادا کرنا انہوں نے اس کو مکروہ جانا اور کہا بار برداری کی اجرت کہاں جائے گی۔ ایک شخص عبداللہ بن عمر کے پاس آیا اور کہا میں نے ایک شخص کو قرض دیا اور عمدہ اس سے ٹھہرایا عبداللہ بن عمر نے کہا یہ ربا ہے اس نے کہا پھر کیا حکم کرتے ہو عبداللہ بن عمر نے کہا قرض تین طور پر ہے ایک اللہ کے واسطے اس میں تو اللہ کی رضا مندی ہے ایک اپنے دوست کی خوشی کے لئے اس میں دوست کی رضا مندی ہے ایک قرض اس واسطے ہے کہ حلال مال دے کر حرام مال لے یہ سود ہے پھر وہ شخص بولا اب مجھ کو کیا حکم کرتے ہو ابوعبدالرحمن انہوں نے کہا میرے نزدیک مناسب یہ ہے کہ تو دستاویز کو پھاڑ ڈال اگر وہ شخص جس کو تو نے قرض دیا ہے جیسا مال تو نے دیا ہے ویسا ہی دے تو لے لے اگر اس سے برا دے اور تو لے لے تو تجھے اجر ہوگا اگر وہ اپنی خوشی سے اس سے اچھا دے تو اس نے تیرا شکریہ ادا کیا اور تو نے جو اتنے دنوں تک اس کو مہلت دی اس کا ثواب تجھے ملا۔
جو سلف درست نہیں اس کا بیان
عَنْ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ يَقُولُ مَنْ أَسْلَفَ سَلَفًا فَلَا يَشْتَرِطْ إِلَّا قَضَائَهُ و حَدَّثَنِي مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ كَانَ يَقُولُ مَنْ أَسْلَفَ سَلَفًا فَلَا يَشْتَرِطْ أَفْضَلَ مِنْهُ وَإِنْ كَانَتْ قَبْضَةً مِنْ عَلَفٍ فَهُوَ رِبًا قَالَ مَالِك الْأَمْرُ الْمُجْتَمَعُ عَلَيْهِ عِنْدَنَا أَنَّ مَنْ اسْتَسْلَفَ شَيْئًا مِنْ الْحَيَوَانِ بِصِفَةٍ وَتَحْلِيَةٍ مَعْلُومَةٍ فَإِنَّهُ لَا بَأْسَ بِذَلِكَ وَعَلَيْهِ أَنْ يَرُدَّ مِثْلَهُ إِلَّا مَا كَانَ مِنْ الْوَلَائِدِ فَإِنَّهُ يُخَافُ فِي ذَلِكَ الذَّرِيعَةُ إِلَى إِحْلَالِ مَا لَا يَحِلُّ فَلَا يَصْلُحُ وَتَفْسِيرُ مَا كُرِهَ مِنْ ذَلِكَ أَنْ يَسْتَسْلِفَ الرَّجُلُ الْجَارِيَةَ فَيُصِيبُهَا مَا بَدَا لَهُ ثُمَّ يَرُدُّهَا إِلَى صَاحِبِهَا بِعَيْنِهَا فَذَلِكَ لَا يَصْلُحُ وَلَا يَحِلُّ وَلَمْ يَزَلْ أَهْلُ الْعِلْمِ يَنْهَوْنَ عَنْهُ وَلَا يُرَخِّصُونَ فِيهِ لِأَحَدٍ
عبداللہ بن عمر کہتے تھے جو شخص کسی کو قرض دے تو سوائے قرض ادا کرنے کے اور کوئی شرط نہ کرائے۔ عبداللہ بن مسعود کہتے تھے جو شخص کسی کو قرض دے اس سے زیادہ نہ ٹھہرائے اگر ایک مٹھی گھاس کی ہو۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہ حکم اتفاقی ہے کہ جو شخص کوئی جانور جس کا حلیہ اور صفت معلوم ہو کسی کو قرض دے تو کچھ قباحت نہیں اب مقروض ویسا ہی جانور ادا کرے۔ مگر لونڈی کو قرض لینا درست نہیں کیونکہ یہ ذریعہ ہے حرام کے حلال کرنے کا لوگ ایک درسرے کی لونڈی قرض لے آئیں گے پھر جب تک جی چاہے گا اس سے جماع کریں گے بعد اس کے مالک کو پھیر دیں گے یہ تو حلال نہیں ہمیشہ اہل علم اس سے منع کرتے رہے اور کسی کو اس کی اجازت نہ دی۔
جو مول تول یا بیع ممنوع ہے اس کا بیان
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَبِعْ بَعْضُکُمْ عَلَی بَيْعِ بَعْضٍ
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے نہ بیچیں بعض تمہارے اوپر بعض کے۔
جو مول تول یا بیع ممنوع ہے اس کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَلَقَّوْا الرُّکْبَانَ لِلْبَيْعِ وَلَا يَبِعْ بَعْضُکُمْ عَلَی بَيْعِ بَعْضٍ وَلَا تَنَاجَشُوا وَلَا يَبِعْ حَاضِرٌ لِبَادٍ وَلَا تُصَرُّوا الْإِبِلَ وَالْغَنَمَ فَمَنْ ابْتَاعَهَا بَعْدَ ذَلِکَ فَهُوَ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ بَعْدَ أَنْ يَحْلُبَهَا إِنْ رَضِيَهَا أَمْسَکَهَا وَإِنْ سَخِطَهَا رَدَّهَا وَصَاعًا مِنْ تَمْرٍ قَالَ مَالِك وَتَفْسِيرُ قَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا نُرَى وَاللَّهُ أَعْلَمُ لَا يَبِعْ بَعْضُكُمْ عَلَى بَيْعِ بَعْضٍ أَنَّهُ إِنَّمَا نَهَى أَنْ يَسُومَ الرَّجُلُ عَلَى سَوْمِ أَخِيهِ إِذَا رَكَنَ الْبَائِعُ إِلَى السَّائِمِ وَجَعَلَ يَشْتَرِطُ وَزْنَ الذَّهَبِ وَيَتَبَرَّأُ مِنْ الْعُيُوبِ وَمَا أَشْبَهَ ذَلِكَ مِمَّا يُعْرَفُ بِهِ أَنَّ الْبَائِعَ قَدْ أَرَادَ مُبَايَعَةَ السَّائِمِ فَهَذَا الَّذِي نَهَى عَنْهُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ قَالَ مَالِك وَلَا بَأْسَ بِالسَّوْمِ بِالسِّلْعَةِ تُوقَفُ لِلْبَيْعِ فَيَسُومُ بِهَا غَيْرُ وَاحِدٍ قَالَ وَلَوْ تَرَكَ النَّاسُ السَّوْمَ عِنْدَ أَوَّلِ مَنْ يَسُومُ بِهَا أُخِذَتْ بِشِبْهِ الْبَاطِلِ مِنْ الثَّمَنِ وَدَخَلَ عَلَى الْبَاعَةِ فِي سِلَعِهِمْ الْمَكْرُوهُ وَلَمْ يَزَلْ الْأَمْرُ عِنْدَنَا عَلَى هَذَا
ابوہریرہ ؓ روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے مت ملو بنجاروں سے آگے بڑھ کر ان کا مال خریدنے کے واسطے اور نہ بیچنے ایک تم میں کا دوسرے کی بیع پر اور نہ بخش کرو اور نہ بیچے بستی والا دیہات والے کی طرف سے اور نہ جمع کرے دودھ اونٹ اور بکری کے تھنوں میں اگر کوئی ایسی اونٹنی یا بکری خریدے پھر دودھ دوہنے کے بعد اس کا حال معلوم ہو تو مشتری (خریدنے والا) کو اختیار ہے اگر چاہے رکھ لے یا چاہے تو پھیر دے اور دوھ کے بدلے میں ایک صاع کھجور دے دے۔ کہا مالک نے یہ جو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا نہ بیچے تم میں کا دوسرے کی بیع پر اس سے یہ مراد ہے کہ ایک شخص دوسرے کے مول پر مول نہ کرے جب بائع (بچنے والا) پہلے مول پر راضی ہوچکا ہو اور اپنی چیز تو لنے لگا ہو اور عیب سے اپنے تئیں بری کرنے لگا ہو یا اور کوئی کام ایسا کرے جس سے معلوم ہو کہ بائع (بچنے والا) پہلے مول پر راضی ہوچکا ہے اور جو بائع (بچنے والا) پہلے مول پر راضی نہ ہو بلکہ وہ مال اسی طرح بیچنے کے واسطے رکھا ہوا تو ہر ایک کو اس کا مول کرنا درست ہے اور اگر ایک شخص کے مول کرتے ہی اور لوگوں کو مول کرنا منع ہوجائے تو اس میں بیچنے والے کا نقصان ہے۔
جو مول تول یا بیع ممنوع ہے اس کا بیان
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی عَنْ النَّجْشِ قَالَ مَالِک وَالنَّجْشُ أَنْ تُعْطِيَهُ بِسِلْعَتِهِ أَکْثَرَ مِنْ ثَمَنِهَا وَلَيْسَ فِي نَفْسِکَ اشْتِرَاؤُهَا فَيَقْتَدِي بِکَ غَيْرُکَ
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے منع کیا نجش سے اور یہ نجش ہے کہ مال کی قیمت اس کی حیثیت سے زیادہ دینے لگے لینے کی نیت سے نہیں بلکہ اس غرض سے کہ دوسرا شخص دھوکا کھا کر اس قیمت کو لے لے۔
بیع کے مختلف مسائل کا بیان
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَجُلًا ذَکَرَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ يُخْدَعُ فِي الْبُيُوعِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا بَايَعْتَ فَقُلْ لَا خِلَابَةَ قَالَ فَکَانَ الرَّجُلُ إِذَا بَايَعَ يَقُولُ لَا خِلَابَة
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے آپ ﷺ سے بیان کیا کہ مجھ کو لوگ فریب دیتے ہیں خریدو فروخت میں آپ ﷺ نے فرمایا جب تو خریدو فروخت کیا کرے تو کہہ دیا کر کہ فریب نہیں ہے وہ شخص جب معاملہ کرتا تو یہی کہا کرتا کہ فریب نہیں ہے۔
بیع کے مختلف مسائل کا بیان
عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ أَنَّهُ سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ الْمُنْکَدِرِ يَقُولُ أَحَبَّ اللَّهُ عَبْدًا سَمْحًا إِنْ بَاعَ سَمْحًا إِنْ ابْتَاعَ سَمْحًا إِنْ قَضَی سَمْحًا إِنْ اقْتَضَی
یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ محمد بن منکدر کہتے تھے اللہ اس بندے کو چاہتا ہے جو بیچتے وقت نرمی کرتا ہے اور خریدتے وقت بھی نرمی کرتا ہے قرص ادا کرتے وقت بھی نرمی کرتا ہے اور قرض وصول کرتے وقت بھی۔
بیع کے مختلف مسائل کا بیان
عَنْ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ يَقُولُ إِذَا جِئْتَ أَرْضًا يُوفُونَ الْمِکْيَالَ وَالْمِيزَانَ فَأَطِلْ الْمُقَامَ بِهَا وَإِذَا جِئْتَ أَرْضًا يُنَقِّصُونَ الْمِکْيَالَ وَالْمِيزَانَ فَأَقْلِلْ الْمُقَامَ بِهَا قَالَ مَالِك فِي الرَّجُلِ يَشْتَرِي الْإِبِلَ أَوْ الْغَنَمَ أَوْ الْبَزَّ أَوْ الرَّقِيقَ أَوْ شَيْئًا مِنْ الْعُرُوضِ جِزَافًا إِنَّهُ لَا يَكُونُ الْجِزَافُ فِي شَيْءٍ مِمَّا يُعَدُّ عَدًّا قَالَ مَالِك فِي الرَّجُلِ يُعْطِي الرَّجُلَ السِّلْعَةَ يَبِيعُهَا لَهُ وَقَدْ قَوَّمَهَا صَاحِبُهَا قِيمَةً فَقَالَ إِنْ بِعْتَهَا بِهَذَا الثَّمَنِ الَّذِي أَمَرْتُكَ بِهِ فَلَكَ دِينَارٌ أَوْ شَيْءٌ يُسَمِّيهِ لَهُ يَتَرَاضَيَانِ عَلَيْهِ وَإِنْ لَمْ تَبِعْهَا فَلَيْسَ لَكَ شَيْءٌ إِنَّهُ لَا بَأْسَ بِذَلِكَ إِذَا سَمَّى ثَمَنًا يَبِيعُهَا بِهِ وَسَمَّى أَجْرًا مَعْلُومًا إِذَا بَاعَ أَخَذَهُ وَإِنْ لَمْ يَبِعْ فَلَا شَيْءَ لَهُ قَالَ مَالِك وَمِثْلُ ذَلِكَ أَنْ يَقُولَ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ إِنْ قَدَرْتَ عَلَى غُلَامِي الْآبِقِ أَوْ جِئْتَ بِجَمَلِي الشَّارِدِ فَلَكَ كَذَا وَكَذَا فَهَذَا مِنْ بَابِ الْجُعْلِ وَلَيْسَ مِنْ بَابِ الْإِجَارَةِ وَلَوْ كَانَ مِنْ بَابِ الْإِجَارَةِ لَمْ يَصْلُحْ قَالَ مَالِك فَأَمَّا الرَّجُلُ يُعْطَى السِّلْعَةَ فَيُقَالُ لَهُ بِعْهَا وَلَكَ كَذَا وَكَذَا فِي كُلِّ دِينَارٍ لِشَيْءٍ يُسَمِّيهِ فَإِنَّ ذَلِكَ لَا يَصْلُحُ لِأَنَّهُ كُلَّمَا نَقَصَ دِينَارٌ مِنْ ثَمَنِ السِّلْعَةِ نَقَصَ مِنْ حَقِّهِ الَّذِي سَمَّى لَهُ فَهَذَا غَرَرٌ لَا يَدْرِي كَمْ جَعَلَ لَهُ
سعید بن مسیب کہتے تھے جب تو ایسے ملک میں آئے جہاں کے لوگ پورا پورا ناپتے اور تولتے ہوں تو وہاں زیادہ رہ جب ایسے ایسے ملک میں آئے جہان کے لوگ ناپ تول میں کمی کرتے ہوں تو وہاں کم رہ۔ کہا مالک نے کوئی شخص اونٹ یا بکریاں یا کپڑا یا غلام لونڈی بےگنے جھنڈ کے جھنڈخریدلے اچھا نہیں جو چیزیں گنتی ہے بکتی ہیں ان کو گن لینا بہتر ہے۔ ابن شہاب سے سوال ہوا کوئی شخص ایک جانور کو لے پھر دوسرے شخص کو اس سے زیادہ پر کرایہ کو دے انہوں نے کہا کچھ قباحت نہیں۔
عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ قَالَ خَرَجَ عَبْدُ اللَّهِ وَعُبَيْدُ اللَّهِ ابْنَا عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فِي جَيْشٍ إِلَی الْعِرَاقِ فَلَمَّا قَفَلَا مَرَّا عَلَی أَبِي مُوسَی الْأَشْعَرِيِّ وَهُوَ أَمِيرُ الْبَصْرَةِ فَرَحَّبَ بِهِمَا وَسَهَّلَ ثُمَّ قَالَ لَوْ أَقْدِرُ لَکُمَا عَلَی أَمْرٍ أَنْفَعُکُمَا بِهِ لَفَعَلْتُ ثُمَّ قَالَ بَلَی هَاهُنَا مَالٌ مِنْ مَالِ اللَّهِ أُرِيدُ أَنْ أَبْعَثَ بِهِ إِلَی أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ فَأُسْلِفُکُمَاهُ فَتَبْتَاعَانِ بِهِ مَتَاعًا مِنْ مَتَاعِ الْعِرَاقِ ثُمَّ تَبِيعَانِهِ بِالْمَدِينَةِ فَتُؤَدِّيَانِ رَأْسَ الْمَالِ إِلَی أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ وَيَکُونُ الرِّبْحُ لَکُمَا فَقَالَا وَدِدْنَا ذَلِکَ فَفَعَلَ وَکَتَبَ إِلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَنْ يَأْخُذَ مِنْهُمَا الْمَالَ فَلَمَّا قَدِمَا بَاعَا فَأُرْبِحَا فَلَمَّا دَفَعَا ذَلِکَ إِلَی عُمَرَ قَالَ أَکُلُّ الْجَيْشِ أَسْلَفَهُ مِثْلَ مَا أَسْلَفَکُمَا قَالَا لَا فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ابْنَا أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ فَأَسْلَفَکُمَا أَدِّيَا الْمَالَ وَرِبْحَهُ فَأَمَّا عَبْدُ اللَّهِ فَسَکَتَ وَأَمَّا عُبَيْدُ اللَّهِ فَقَالَ مَا يَنْبَغِي لَکَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ هَذَا لَوْ نَقَصَ هَذَا الْمَالُ أَوْ هَلَکَ لَضَمِنَّاهُ فَقَالَ عُمَرُ أَدِّيَاهُ فَسَکَتَ عَبْدُ اللَّهِ وَرَاجَعَهُ عُبَيْدُ اللَّهِ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ جُلَسَائِ عُمَرَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ لَوْ جَعَلْتَهُ قِرَاضًا فَقَالَ عُمَرُ قَدْ جَعَلْتُهُ قِرَاضًا فَأَخَذَ عُمَرُ رَأْسَ الْمَالِ وَنِصْفَ رِبْحِهِ وَأَخَذَ عَبْدُ اللَّهِ وَعُبَيْدُ اللَّهِ ابْنَا عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ نِصْفَ رِبْحِ الْمَالِ
زید بن اسلم نے اپنے باپ سے روایت ہے کہ کہ عبداللہ بن عبیداللہ بیٹے حضرت عمر بن خطا کے ایک لشکر کے ساتھ نکلے جہاد کے واسطے عراق کی طرف جب لوٹے تو ابومویس اشعری کے پاس گئے جو حاکم تھے بصرے کے انہوں نے کہا مرحبا اور سہلا پھر کہا کاش میں تم کو کچھ نفع پہنچا سکتا تو پہنچاتا میرے پاس کچھ روپیہ ہے اللہ کا جس کو میں بھیجنا چاہتا ہوں حضرت عمر کے پاس تو میں وہ روپے تم کو قرض دے دیتا ہوں اس کا اسباب خرید لو عراق سے پھر مدینہ میں اس مال کو بیچ کر اصل روپیہ حضرت عمر کو دیدینا اور نفع تم لے لینا انہوں نے کہا ہم بھی یہ چاہتے ہیں ابوموسیٰ نے ایسا ہی کیا اور حضرت عمر کو لکھ بھیجا کہ ان دونوں سے اصل روپیہ وصول کرلیجئے گا جب دونوں مدینہ کو آئے انہوں نے مال بیچا اور نفع حاصل کیا پھر اصل مال لے کر حضرت عمر کے پاس گئے حضرت عمر نے پوچھا کی ابومویس نے لشکر کے سب لوگوں کو اتنا اتنا روپیہ قرض دیا تھا انہوں نے کہا نہیں حضرت عمر نے کہا پھر تم کو امیرالمومنین کا بیٹا سمجھ کر یہ روپیہ دیا ہوگا اصل روپیہ اور نفع دونوں دے دو عبداللہ تو چپ ہو رہے اور عبیداللہ نے کہا اے امیر المومنین تم کو ایسا نہیں کرنا چاہئے اگر مال تلف ہوتا یا نقصان ہوتا تو ہم ضمان دیتے حضرت عمرنے کہا نہیں دے دو عبداللہ چپ ہو رہے عبیداللہ نے پھر جواب دیا اتنے میں ایک شخص حضرت عمر کے مصاحبوں میں سے بولا اے امیر المومنین تم اس کو مضاربت کردو تو بہتر ہے حضرت عمر نے کہا میں نے کیا پھر حضرت نے اصل مال اور نصف نفع لیا اور عبداللہ اور عبیداللہ نے آدھا نفع لیا۔
Malik related to me from Zayd ibn Aslam that his father said, "Abdullah and Ubaydullah, the sons of Umar ibn al-Khattab went out with the army to Iraq. On the way home, they passed by Abu Musa al-Ashari (RA) who was the amir of Basra. He greeted them and made them welcome, and told them that if there was anything he could do to help them, he would do it. Then he said, There is some of the property of Allah which I want to send to the amir al-muminin, so I will lend it to you, and you can buy wares from Iraq and sell them in Madina. Then give the principal to the amir al-muminin, and you keep the profit. They said that they would like to do it, and so he gave them the money and wrote to Umar ibn al-Khattab to take the money from them. When they came to sell they made a profit, and when they paid the principal to Umar he asked, Did he lend everyone in the army the like of what he lent you? They said, No. Umar ibn al-Khattab said, He made you the loan, because you are the sons of the amir al-muminin, so pay the principal and the profit. Abdullah was silent. Ubaydullah said, You do not need to do this, amir al-muminin. Had the principal decreased or been destroyed, we would have guaranteed it. Umar said, Pay it. Abdullah was silent, and Ubaydullah repeated it. A man who was sitting with Umar said, Amir al-muminin, better that you make it a qirad. Umar said, I have made it qirad. Umar then took the principal and half of the profit, and Abdullah and Ubaydullah, the sons of Umar ibn al-Khattab took half of the profit."