Mauwatta Imam Malik

All 1,740 hadiths in order · Page 65 of 87

1281Mauwatta Imam Malik

قراض کا بیان

عَنْ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ أَعْطَاهُ مَالًا قِرَاضًا يَعْمَلُ فِيهِ عَلَى أَنَّ الرِّبْحَ بَيْنَهُمَا

حضرت عثمان بن عفان کو مال دیا مضاربت کے طور پر تاکہ یعقوب محنت کریں اور نفع میں شریک ہوں۔

Malik related to me from al-Ala ibn Abd ar-Rahman from his father from his father that Uthman ibn Affan gave him some money as qirad to use provided the profit was shared between them.

1282Mauwatta Imam Malik

جس طرح مضاربت درست ہے اس کا بیان

بَاب مَا يَجُوزُ فِي الْقِرَاضِ قَالَ مَالِك وَجْهُ الْقِرَاضِ الْمَعْرُوفِ الْجَائِزِ أَنْ يَأْخُذَ الرَّجُلُ الْمَالَ مِنْ صَاحِبِهِ عَلَى أَنْ يَعْمَلَ فِيهِ وَلَا ضَمَانَ عَلَيْهِ وَنَفَقَةُ الْعَامِلِ فِي الْمَالِ فِي سَفَرِهِ مِنْ طَعَامِهِ وَكِسْوَتِهِ وَمَا يُصْلِحُهُ بِالْمَعْرُوفِ بِقَدْرِ الْمَالِ إِذَا شَخَصَ فِي الْمَالِ إِذَا كَانَ الْمَالُ يَحْمِلُ ذَلِكَ فَإِنْ كَانَ مُقِيمًا فِي أَهْلِهِ فَلَا نَفَقَةَ لَهُ مِنْ الْمَالِ وَلَا كِسْوَةَ قَالَ مَالِك وَلَا بَأْسَ بِأَنْ يُعِينَ الْمُتَقَارِضَانِ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا صَاحِبَهُ عَلَى وَجْهِ الْمَعْرُوفِ إِذَا صَحَّ ذَلِكَ مِنْهُمَا قَالَ مَالِك وَلَا بَأْسَ بِأَنْ يَشْتَرِيَ رَبُّ الْمَالِ مِمَّنْ قَارَضَهُ بَعْضَ مَا يَشْتَرِي مِنْ السِّلَعِ إِذَا كَانَ ذَلِكَ صَحِيحًا عَلَى غَيْرِ شَرْطٍ قَالَ مَالِك فِيمَنْ دَفَعَ إِلَى رَجُلٍ وَإِلَى غُلَامٍ لَهُ مَالًا قِرَاضًا يَعْمَلَانِ فِيهِ جَمِيعًا إِنَّ ذَلِكَ جَائِزٌ لَا بَأْسَ بِهِ لِأَنَّ الرِّبْحَ مَالٌ لِغُلَامِهِ لَا يَكُونُ الرِّبْحُ لِلسَّيِّدِ حَتَّى يَنْتَزِعَهُ مِنْهُ وَهُوَ بِمَنْزِلَةِ غَيْرِهِ مِنْ كَسْبِهِ

کہا مالک نے مضاربت اس طور پر درست ہے کہ آدمی ایک شخص سے روپیہ لے اس شرط پر کہ محنت کرے گا لیکن اگر نقصان ہو تو اس پر ضمان نہ ہوگا اور مضاربت کا خریچ سفر کی حالت میں کھانے پینے سواری کا دستور کے موافق اسی مال میں سے دیا جائے گا نہ کہ اقامت کی حالت میں۔ کہا مالک نے اگر مضا رب رب المال کی مدد کرے یا رب المال کی دستور کے موافق بغیر شرط کے تو درست ہے۔ کہا مالک نے اگر رب المال مضا رب سے کوئی چیز خرید لے بغیر شرط کے تو کچھ قباحت نہیں۔ کہا مالک نے اگر رب المال ایک غیر شخص اور ایک اپنے غلام کو مال دے مضاربت کے طور پر اس شرط سے کہ دونوں محنت کریں درست ہے اور غلام کے حصہ کا نفع غلام کے پاس رہے گا مگر جب مولیٰ اس سے لے لے تو مولیٰ کا ہوجائے گا۔

Malik said, "The recognised and permitted form of qirad is that a man take capital from an associate to use. He does not guarantee it and in travelling pays out of the capital for food and clothes and what he makes good use of, according to the amount of capital. That is, when he travels to do the work and the capital can support it. If he remains with his people, he does not have expenses or clothing from the capital."

1283Mauwatta Imam Malik

جس طرح مضاربت درست ہے اس کا بیان

بَاب الْقِرَاضِ فِي الْعُرُوضِ قَالَ يَحْيَى قَالَ مَالِك لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ أَنْ يُقَارِضَ أَحَدًا إِلَّا فِي الْعَيْنِ لِأَنَّهُ لَا تَنْبَغِي الْمُقَارَضَةُ فِي الْعُرُوضِ لِأَنَّ الْمُقَارَضَةَ فِي الْعُرُوضِ إِنَّمَا تَكُونُ عَلَى أَحَدِ وَجْهَيْنِ إِمَّا أَنْ يَقُولَ لَهُ صَاحِبُ الْعَرْضِ خُذْ هَذَا الْعَرْضَ فَبِعْهُ فَمَا خَرَجَ مِنْ ثَمَنِهِ فَاشْتَرِ بِهِ وَبِعْ عَلَى وَجْهِ الْقِرَاضِ فَقَدْ اشْتَرَطَ صَاحِبُ الْمَالِ فَضْلًا لِنَفْسِهِ مِنْ بَيْعِ سِلْعَتِهِ وَمَا يَكْفِيهِ مِنْ مَئُونَتِهَا أَوْ يَقُولَ اشْتَرِ بِهَذِهِ السِّلْعَةِ وَبِعْ فَإِذَا فَرَغْتَ فَابْتَعْ لِي مِثْلَ عَرْضِي الَّذِي دَفَعْتُ إِلَيْكَ فَإِنْ فَضَلَ شَيْءٌ فَهُوَ بَيْنِي وَبَيْنَكَ وَلَعَلَّ صَاحِبَ الْعَرْضِ أَنْ يَدْفَعَهُ إِلَى الْعَامِلِ فِي زَمَنٍ هُوَ فِيهِ نَافِقٌ كَثِيرُ الثَّمَنِ ثُمَّ يَرُدَّهُ الْعَامِلُ حِينَ يَرُدُّهُ وَقَدْ رَخُصَ فَيَشْتَرِيَهُ بِثُلُثِ ثَمَنِهِ أَوْ أَقَلَّ مِنْ ذَلِكَ فَيَكُونُ الْعَامِلُ قَدْ رَبِحَ نِصْفَ مَا نَقَصَ مِنْ ثَمَنِ الْعَرْضِ فِي حِصَّتِهِ مِنْ الرِّبْحِ أَوْ يَأْخُذَ الْعَرْضَ فِي زَمَانٍ ثَمَنُهُ فِيهِ قَلِيلٌ فَيَعْمَلُ فِيهِ حَتَّى يَكْثُرَ الْمَالُ فِي يَدَيْهِ ثُمَّ يَغْلُو ذَلِكَ الْعَرْضُ وَيَرْتَفِعُ ثَمَنُهُ حِينَ يَرُدُّهُ فَيَشْتَرِيهِ بِكُلِّ مَا فِي يَدَيْهِ فَيَذْهَبُ عَمَلُهُ وَعِلَاجُهُ بَاطِلًا فَهَذَا غَرَرٌ لَا يَصْلُحُ فَإِنْ جُهِلَ ذَلِكَ حَتَّى يَمْضِيَ نُظِرَ إِلَى قَدْرِ أَجْرِ الَّذِي دُفِعَ إِلَيْهِ الْقِرَاضُ فِي بَيْعِهِ إِيَّاهُ وَعِلَاجِهِ فَيُعْطَاهُ ثُمَّ يَكُونُ الْمَالُ قِرَاضًا مِنْ يَوْمَ نَضَّ الْمَالُ وَاجْتَمَعَ عَيْنًا وَيُرَدُّ إِلَى قِرَاضٍ مِثْلِهِ

کہا مالک نے مضاربت در نہیں درست ہے مگر سونے چاندی اور اسباب میں درست نہیں کیونکہ اسباب میں مضارب دو طرح پر ہوگی ایک یہ کہ رب المال مضارب کو اسباب دے اور کہے اس کو بیچ کر اس کے داموں میں مضاربت کر یہ درست نہیں کیونکہ اس میں رب المال کا ایک خاص فائدہ ہوا وہ یہ کہ اس کا اسباب بغیر وقت کے بک گیا دوسری شکل یہ ہے کہ رب المال مضارب کو اسباب میں دے کر یہ کہے اس اسباب کے بدلے میں اور اسباب خرید کر کے تجارت کر جب معاملہ ختم کرنا منظور ہو تو جیسا اسباب میں نے دیا ہے ویسا ہی اسباب خرید کر کے دینا جو بچ رہے وہ ہم تم بانٹ لیں گے یہ بھی درست نہیں کیوکنہ اس میں دھوکا ہے شاید جس وقت یہ اسباب رب المال نے مضارب کو دیا ہے گراں ہو پھر جس وقت ارزاں خریدے تو مضارب راس المال میں سے نفع کمالے گا شاید جس وقت رب المال نے دیا ہے اس وقت ارزاں ہو۔ پھر معاملہ ختم ہوتے وقت گراں ہوجائے تو مضارب کا صل اور نفع سب اس کی خرید میں صرف ہوجائے اور مضارب کی کوشش اور محنت برباد ہوجائے اس پر بھی اگر کوئی اس طرح مضاربت کرے تو پہلے مضارب کو اس اسباب کے بیچنے کے دستور کے موافق اجرت دلا کر جس روز سے راس المال نقد ہوا ہے مضارب قائم کریں گے پھر معاملہ ختم ہوتے وقت بھی اس قدر نقد کو راس المال سمجھیں۔

1284Mauwatta Imam Malik

جس طرح مضاربت درست ہے اس کا بیان

بَاب الْكِرَاءِ فِي الْقِرَاضِ قَالَ يَحْيَى قَالَ مَالِك فِي رَجُلٍ دَفَعَ إِلَى رَجُلٍ مَالًا قِرَاضًا فَاشْتَرَى بِهِ مَتَاعًا فَحَمَلَهُ إِلَى بَلَدِ التِّجَارَةِ فَبَارَ عَلَيْهِ وَخَافَ النُّقْصَانَ إِنْ بَاعَهُ فَتَكَارَى عَلَيْهِ إِلَى بَلَدٍ آخَرَ فَبَاعَ بِنُقْصَانٍ فَاغْتَرَقَ الْكِرَاءُ أَصْلَ الْمَالِ كُلَّهُ قَالَ مَالِك إِنْ كَانَ فِيمَا بَاعَ وَفَاءٌ لِلْكِرَاءِ فَسَبِيلُهُ ذَلِكَ وَإِنْ بَقِيَ مِنْ الْكِرَاءِ شَيْءٌ بَعْدَ أَصْلِ الْمَالِ كَانَ عَلَى الْعَامِلِ وَلَمْ يَكُنْ عَلَى رَبِّ الْمَالِ مِنْهُ شَيْءٌ يُتْبَعُ بِهِ وَذَلِكَ أَنَّ رَبَّ الْمَالِ إِنَّمَا أَمَرَهُ بِالتِّجَارَةِ فِي مَالِهِ فَلَيْسَ لِلْمُقَارَضِ أَنْ يَتْبَعَهُ بِمَا سِوَى ذَلِكَ مِنْ الْمَالِ وَلَوْ كَانَ ذَلِكَ يُتْبَعُ بِهِ رَبُّ الْمَالِ لَكَانَ ذَلِكَ دَيْنًا عَلَيْهِ مِنْ غَيْرِ الْمَالِ الَّذِي قَارَضَهُ فِيهِ فَلَيْسَ لِلْمُقَارِضِ أَنْ يَحْمِلَ ذَلِكَ عَلَى رَبِّ الْمَالِ

کہا مالک نے اگر مضارب اسباب خرید کر کے ایک شہر میں لے گیا وہاں نہ بکا اور نقصان سمجھ کو دوسرے شہر کو لے گیا وہاں پر نقصان سے بکا اور راس المال سب کرایہ پر صرف ہوگیا بلکہ اور کچھ کرایہ باقی رہ گیا تو مضارب اس کو اپنی ذات سے ادا کرے رب المال سے نہیں لے سکتا۔

1285Mauwatta Imam Malik

جس طور سے مضاربت درست نہیں اس کا بیان

بَاب مَا لَا يَجُوزُ فِي الْقِرَاضِ قَالَ مَالِك إِذَا كَانَ لِرَجُلٍ عَلَى رَجُلٍ دَيْنٌ فَسَأَلَهُ أَنْ يُقِرَّهُ عِنْدَهُ قِرَاضًا إِنَّ ذَلِكَ يُكْرَهُ حَتَّى يَقْبِضَ مَالَهُ ثُمَّ يُقَارِضُهُ بَعْدُ أَوْ يُمْسِكُ وَإِنَّمَا ذَلِكَ مَخَافَةَ أَنْ يَكُونَ أَعْسَرَ بِمَالِهِ فَهُوَ يُرِيدُ أَنْ يُؤَخِّرَ ذَلِكَ عَلَى أَنْ يَزِيدَهُ فِيهِ قَالَ مَالِك فِي رَجُلٍ دَفَعَ إِلَى رَجُلٍ مَالًا قِرَاضًا فَهَلَكَ بَعْضُهُ قَبْلَ أَنْ يَعْمَلَ فِيهِ ثُمَّ عَمِلَ فِيهِ فَرَبِحَ فَأَرَادَ أَنْ يَجْعَلَ رَأْسَ الْمَالِ بَقِيَّةَ الْمَالِ بَعْدَ الَّذِي هَلَكَ مِنْهُ قَبْلَ أَنْ يَعْمَلَ فِيهِ قَالَ مَالِك لَا يُقْبَلُ قَوْلُهُ وَيُجْبَرُ رَأْسُ الْمَالِ مِنْ رِبْحِهِ ثُمَّ يَقْتَسِمَانِ مَا بَقِيَ بَعْدَ رَأْسِ الْمَالِ عَلَى شَرْطِهِمَا مِنْ الْقِرَاضِ قَالَ مَالِك لَا يَصْلُحُ الْقِرَاضُ إِلَّا فِي الْعَيْنِ مِنْ الذَّهَبِ أَوْ الْوَرِقِ وَلَا يَكُونُ فِي شَيْءٍ مِنْ الْعُرُوضِ وَالسِّلَعِ وَمِنْ الْبُيُوعِ مَا يَجُوزُ إِذَا تَفَاوَتَ أَمْرُهُ وَتَفَاحَشَ رَدُّهُ فَأَمَّا الرِّبَا فَإِنَّهُ لَا يَكُونُ فِيهِ إِلَّا الرَّدُّ أَبَدًا وَلَا يَجُوزُ مِنْهُ قَلِيلٌ وَلَا كَثِيرٌ وَلَا يَجُوزُ فِيهِ مَا يَجُوزُ فِي غَيْرِهِ لِأَنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَالَ فِي كِتَابِهِ وَإِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوسُ أَمْوَالِكُمْ لَا تَظْلِمُونَ وَلَا تُظْلَمُونَ

کہا مالک نے اگر ایک شخص کا قرض دوسرے پر آتا ہو پھر قرضدار یہ کہے قرضخواہ سے تو اپنا روپیہ مضاربت کے طور پر رہنے دے میرے پاس تو یہ درست نہیں بلکہ قرض خواہ کو چاہیے کہ اپنا روپیہ وصول کرلے پھر اختیار ہے خواہ مضاربت کے طور پردے یا اپنے پاس رکھ چوڑے کیونکہ قبل روپیہ وصول کرنے کے اس کو مضاربت کردینے میں ربا کا شبہ ہے گویا قرضدار نے مہلت لے کر قرض میں زیادتی کی۔ کہا مالک نے ایک شخص نے دوسرے کو روپیہ دیا مضاربت کے طور پر پھر اس میں سے کچھ روپیہ تلف ہوگیا قبل تجارت شروع کرنے کے پھر مضا رب نے جس قدر روپیہ بچا تھا اس میں تجارت کرکے نفع کمایا اب مضا رب یہ چاہے کہ رائس المال اسی کو قرار دے جو بچ رہا تھا بعد نقصان کے اور جس قدر اس سے زیادہ ہو اس کو نفع سمجھ کر آدھوں آدھ بانٹ لے تو یہ نہیں ہوسکتا بلکہ رائس المال کی تکمیل کرکے جو کچھ بچے گا اس کو شرط کے موافق تقسیم کرلیں گے۔ کہا مالک نے مضاربت درست نہیں مگر چاندی اور سونے میں اور اسباب وغیرہ میں درست نہیں لیکن قراض اور بیوع میں اگر فساد قلیل ہو اور فسخ ان کا دشوار ہو تو جائز ہوجائیں گے برخلاف ربا کے کہ وہ قلیل وکثیر حرام ہے کسی طرح جائز نہیں کیونکہ اللہ جل جلالہ فرماتا ہے اگر تم توبہ کرو ربا سے تو تم کو اس مال ملے گا نہ ظلم کرو نہ ظلم کئے جاؤ۔

Malik said, "When a man owes money to another man and he asks him to let it stay with him as a quirad, that is disapproved of until the creditor receives his property. Then he can make it a qirad loan or keep it. That is because the debtor may be in a tight situation, and want to delay it to increase it for him."

1286Mauwatta Imam Malik

جس طور سے مضاربت درست نہیں اس کا بیان

بَاب التَّعَدِّي فِي الْقِرَاضِ قَالَ يَحْيَى قَالَ مَالِك فِي رَجُلٍ دَفَعَ إِلَى رَجُلٍ مَالًا قِرَاضًا فَعَمِلَ فِيهِ فَرَبِحَ ثُمَّ اشْتَرَى مِنْ رِبْحِ الْمَالِ أَوْ مِنْ جُمْلَتِهِ جَارِيَةً فَوَطِئَهَا فَحَمَلَتْ مِنْهُ ثُمَّ نَقَصَ الْمَالُ قَالَ مَالِك إِنْ كَانَ لَهُ مَالٌ أُخِذَتْ قِيمَةُ الْجَارِيَةِ مِنْ مَالِهِ فَيُجْبَرُ بِهِ الْمَالُ فَإِنْ كَانَ فَضْلٌ بَعْدَ وَفَاءِ الْمَالِ فَهُوَ بَيْنَهُمَا عَلَى الْقِرَاضِ الْأَوَّلِ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ وَفَاءٌ بِيعَتْ الْجَارِيَةُ حَتَّى يُجْبَرَ الْمَالُ مِنْ ثَمَنِهَا قَالَ مَالِك فِي رَجُلٍ دَفَعَ إِلَى رَجُلٍ مَالًا قِرَاضًا فَتَعَدَّى فَاشْتَرَى بِهِ سِلْعَةً وَزَادَ فِي ثَمَنِهَا مِنْ عِنْدِهِ قَالَ مَالِك صَاحِبُ الْمَالِ بِالْخِيَارِ إِنْ بِيعَتْ السِّلْعَةُ بِرِبْحٍ أَوْ وَضِيعَةٍ أَوْ لَمْ تُبَعْ إِنْ شَاءَ أَنْ يَأْخُذَ السِّلْعَةَ أَخَذَهَا وَقَضَاهُ مَا أَسْلَفَهُ فِيهَا وَإِنْ أَبَى كَانَ الْمُقَارَضُ شَرِيكًا لَهُ بِحِصَّتِهِ مِنْ الثَّمَنِ فِي النَّمَاءِ وَالنُّقْصَانِ بِحِسَابِ مَا زَادَ الْعَامِلُ فِيهَا مِنْ عِنْدِهِ قَالَ مَالِك فِي رَجُلٍ أَخَذَ مِنْ رَجُلٍ مَالًا قِرَاضًا ثُمَّ دَفَعَهُ إِلَى رَجُلٍ آخَرَ فَعَمِلَ فِيهِ قِرَاضًا بِغَيْرِ إِذْنِ صَاحِبِهِ إِنَّهُ ضَامِنٌ لِلْمَالِ إِنْ نَقَصَ فَعَلَيْهِ النُّقْصَانُ وَإِنْ رَبِحَ فَلِصَاحِبِ الْمَالِ شَرْطُهُ مِنْ الرِّبْحِ ثُمَّ يَكُونُ لِلَّذِي عَمِلَ شَرْطُهُ بِمَا بَقِيَ مِنْ الْمَالِ قَالَ مَالِك فِي رَجُلٍ تَعَدَّى فَتَسَلَّفَ مِمَّا بِيَدَيْهِ مِنْ الْقِرَاضِ مَالًا فَابْتَاعَ بِهِ سِلْعَةً لِنَفْسِهِ قَالَ مَالِك إِنْ رَبِحَ فَالرِّبْحُ عَلَى شَرْطِهِمَا فِي الْقِرَاضِ وَإِنْ نَقَصَ فَهُوَ ضَامِنٌ لِلنُّقْصَانِ قَالَ مَالِك فِي رَجُلٍ دَفَعَ إِلَى رَجُلٍ مَالًا قِرَاضًا فَاسْتَسْلَفَ مِنْهُ الْمَدْفُوعُ إِلَيْهِ الْمَالُ مَالًا وَاشْتَرَى بِهِ سِلْعَةً لِنَفْسِهِ إِنَّ صَاحِبَ الْمَالِ بِالْخِيَارِ إِنْ شَاءَ شَرِكَهُ فِي السِّلْعَةِ عَلَى قِرَاضِهَا وَإِنْ شَاءَ خَلَّى بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا وَأَخَذَ مِنْهُ رَأْسَ الْمَالِ كُلَّهُ وَكَذَلِكَ يُفْعَلُ بِكُلِّ مَنْ تَعَدَّى

کہا مالک نے اگر مضارب نے تجارت کر کے نفع کمایا پھر اصل مال یا نفع میں سے لونڈی خرید کر اس سے وطی کی اور وہ حاملہ ہوگئی اب مال میں نقصان ہوا تو مضارب کے ذاتی مال میں سے اس لونڈی کی قیمت لے کر نقصان کو پورا کریں گے جو کچھ بچ رہے گا وہ شرط کے موافق مضارب اور رب المال کا ہوگا اگر اس سے بھی نقصان پورا نہ ہو تو لونڈی کو بیچ کر نقصان پورا کریں گے۔ کہا مالک نے اگر مضارب نے یہ قصور کیا کہ اسباب خریدنے میں انپی طرف سے خواہ مخواہ اس کی قیمت بڑھا دی تو رب المال کو اختیار ہے چاہے اس اسباب کو رہنے دے اور جس قدر مضارب نے راس المال سے زیادہ دیا ہے وہ ادا کردے چاہے مضارب کا شریک ہوجائے اس مال میں کہا مالک نے اگر مضارب نے مال مضاربت کسی اور کو مضاربت کے طور پر دیا بغیر رب المال کے پوچھے ہوئے تو وہ مال کا ضامن ہوجائے گا اگر اس میں نقصان ہو تو مضارب اپنی ذات سے ادا کرے گا اگر نفع ہو تو رب المال اپنا راس المال اور نفع شرط کے موافق لے لے گ بعد اس کے جو بچ رہے گا اس میں مضارب اور مضارب کا شریک ہوں گے۔ کہا مالک نے اگر مضارب مال مضاربت میں سلف کر کے کوئی اسباب اپنے لئے خریدے اگر اس میں نفع ہوگا تو مضارب اور رب المال شرط کے موافق اس میں شریک ہوں گے اگر نقصان ہوگا تو مضارب کو نقصان کا ضمان دینا ہوگا کہا مالک نے اگر مضارب نے مال مضاربت میں سلف کر کے اپنے لئے کوئی اسباب خریدا تو رب المال کو اختیار ہے خواہ اس مال میں شریک ہوجائے یا اس مال کو چھوڑ دے اور اپنا راس المال مضارب سے پھیر لے اسی طرح جو مضارب قصور کرے تو رب المال کو اپنا مال پھیر لینے کا اختیار ہے۔

1287Mauwatta Imam Malik

مضارب مال مضاربت میں سے کتنا خرچ کرسکتا ہے

بَاب مَا يَجُوزُ مِنْ النَّفَقَةِ فِي الْقِرَاضِ قَالَ يَحْيَى قَالَ مَالِك فِي رَجُلٍ دَفَعَ إِلَى رَجُلٍ مَالًا قِرَاضًا إِنَّهُ إِذَا كَانَ الْمَالُ كَثِيرًا يَحْمِلُ النَّفَقَةَ فَإِذَا شَخَصَ فِيهِ الْعَامِلُ فَإِنَّ لَهُ أَنْ يَأْكُلَ مِنْهُ وَيَكْتَسِيَ بِالْمَعْرُوفِ مِنْ قَدْرِ الْمَالِ وَيَسْتَأْجِرَ مِنْ الْمَالِ إِذَا كَانَ كَثِيرًا لَا يَقْوَى عَلَيْهِ بَعْضَ مَنْ يَكْفِيهِ بَعْضَ مَئُونَتِهِ وَمِنْ الْأَعْمَالِ أَعْمَالٌ لَا يَعْمَلُهَا الَّذِي يَأْخُذُ الْمَالَ وَلَيْسَ مِثْلُهُ يَعْمَلُهَا مِنْ ذَلِكَ تَقَاضِي الدَّيْنِ وَنَقْلُ الْمَتَاعِ وَشَدُّهُ وَأَشْبَاهُ ذَلِكَ فَلَهُ أَنْ يَسْتَأْجِرَ مِنْ الْمَالِ مَنْ يَكْفِيهِ ذَلِكَ وَلَيْسَ لِلْمُقَارَضِ أَنْ يَسْتَنْفِقَ مِنْ الْمَالِ وَلَا يَكْتَسِيَ مِنْهُ مَا كَانَ مُقِيمًا فِي أَهْلِهِ إِنَّمَا يَجُوزُ لَهُ النَّفَقَةُ إِذَا شَخَصَ فِي الْمَالِ وَكَانَ الْمَالُ يَحْمِلُ النَّفَقَةَ فَإِنْ كَانَ إِنَّمَا يَتَّجِرُ فِي الْمَالِ فِي الْبَلَدِ الَّذِي هُوَ بِهِ مُقِيمٌ فَلَا نَفَقَةَ لَهُ مِنْ الْمَالِ وَلَا كِسْوَةَ قَالَ مَالِك فِي رَجُلٍ دَفَعَ إِلَى رَجُلٍ مَالًا قِرَاضًا فَخَرَجَ بِهِ وَبِمَالِ نَفْسِهِ قَالَ يَجْعَلُ النَّفَقَةَ مِنْ الْقِرَاضِ وَمِنْ مَالِهِ عَلَى قَدْرِ حِصَصِ الْمَالِ

کہا مالک نے اگر مال مضارب بہت ہو خرچہ اٹھا سکتا ہو تو مضارب کو درست ہے کہ سفر کی حالت میں اپنا کپڑا موافق دستور کے اسی مال میں سے کرے یا کسی شخص کو محنت مزدوری کے لئے نوکر رکھے جب اکیلے اس سے محنت نہ ہوسکتی ہو اور بعض کام ایسے ہیں جن کو مضارب خود نہیں کرسکتا جیسے قرضداروں سے تقاضا کرنا اسباب کی باندھا بوندھی اور اس کو اٹھاکر لے چلنا البتہ جب تک مضارب اپنے شہر میں رہے تو مضارب کے مال میں سے کھانا کپڑا نہ کرے۔ کہا مالک نے اگر مضارب سفر میں اپنا ذاتی مال بھی لے کر گیا تو سفر کا خرچ حصہ رسد دونوں مال پر ڈالے۔

1288Mauwatta Imam Malik

مضارتب میں جو شرط اس کا بیان

بَاب مَا يَجُوزُ مِنْ الشَّرْطِ فِي الْقِرَاضِ قَالَ يَحْيَى قَالَ مَالِك فِي رَجُلٍ دَفَعَ إِلَى رَجُلٍ مَالًا قِرَاضًا وَشَرَطَ عَلَيْهِ أَنْ لَا تَشْتَرِيَ بِمَالِي إِلَّا سِلْعَةَ كَذَا وَكَذَا أَوْ يَنْهَاهُ أَنْ يَشْتَرِيَ سِلْعَةً بِاسْمِهَا قَالَ مَالِك مَنْ اشْتَرَطَ عَلَى مَنْ قَارَضَ أَنْ لَا يَشْتَرِيَ حَيَوَانًا أَوْ سِلْعَةً بِاسْمِهَا فَلَا بَأْسَ بِذَلِكَ وَمَنْ اشْتَرَطَ عَلَى مَنْ قَارَضَ أَنْ لَا يَشْتَرِيَ إِلَّا سِلْعَةَ كَذَا وَكَذَا فَإِنَّ ذَلِكَ مَكْرُوهٌ إِلَّا أَنْ تَكُونَ السِّلْعَةُ الَّتِي أَمَرَهُ أَنْ لَا يَشْتَرِيَ غَيْرَهَا كَثِيرَةً مَوْجُودَةً لَا تُخْلِفُ فِي شِتَاءٍ وَلَا صَيْفٍ فَلَا بَأْسَ بِذَلِكَ قَالَ مَالِك فِي رَجُلٍ دَفَعَ إِلَى رَجُلٍ مَالًا قِرَاضًا وَاشْتَرَطَ عَلَيْهِ فِيهِ شَيْئًا مِنْ الرِّبْحِ خَالِصًا دُونَ صَاحِبِهِ فَإِنَّ ذَلِكَ لَا يَصْلُحُ وَإِنْ كَانَ دِرْهَمًا وَاحِدًا إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ نِصْفَ الرِّبْحِ لَهُ وَنِصْفَهُ لِصَاحِبِهِ أَوْ ثُلُثَهُ أَوْ رُبُعَهُ أَوْ أَقَلَّ مِنْ ذَلِكَ أَوْ أَكْثَرَ فَإِذَا سَمَّى شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ قَلِيلًا أَوْ كَثِيرًا فَإِنَّ كُلَّ شَيْءٍ سَمَّى مِنْ ذَلِكَ حَلَالٌ وَهُوَ قِرَاضُ الْمُسْلِمِينَ قَالَ وَلَكِنْ إِنْ اشْتَرَطَ أَنَّ لَهُ مِنْ الرِّبْحِ دِرْهَمًا وَاحِدًا فَمَا فَوْقَهُ خَالِصًا لَهُ دُونَ صَاحِبِهِ وَمَا بَقِيَ مِنْ الرِّبْحِ فَهُوَ بَيْنَهُمَا نِصْفَيْنِ فَإِنَّ ذَلِكَ لَا يَصْلُحُ وَلَيْسَ عَلَى ذَلِكَ قِرَاضُ الْمُسْلِمِينَ

کہا مالک نے اگر کوئی شخص دوسرے کو اپنا مال مضاربت کے طور پردے اور یہ شرط لگائے کہ فلاں فلاں قسم کا اسباب نہ خریدنا تو اس میں کچھ قباحت نہیں۔ کہا مالک نے اگر یہ شرط لگائے کہ فلاں ہی قسم کا مال خریدنا تو مکررہ ہے۔ مگر جب وہ اسباب کثرت سے ہر فصل میں بازار میں رہتا ہو تو کچھ قباحت نہیں۔ کہا مالک نے اگر رب المال مضاربت میں کچھ خاص نفع اپنے لئے مقرر کرے اگرچہ ایک درہم ہو تو درست نہیں۔ البتہ یہ درست ہے کہ مضا رب کے واسطے آدھا یا تہائی یا پاؤ نفع ٹھہرائے اور باقی اپنے لئے۔

Yahya said that Malik spoke about an investor who made a qirad loan and stipulated to the agent that only certain goods should be bought with his money or he forbade certain goods which he named to be bought. He said, "There is no harm in an investor making a condition on an agent in qirad not to buy a certain kind of animal or goods which he specifies. It is disapproved of for an investor to make as a condition on an agent in qirad that he only buy certain goods unless the goods which he orders him to buy are in plentiful supply and do not fail either in winter or summer. There is no harm in that case."

1289Mauwatta Imam Malik

مضارب مال مضاربت میں سے کتنا خرچ کرسکتا ہے

بَاب مَا لَا يَجُوزُ مِنْ النَّفَقَةِ فِي الْقِرَاضِ قَالَ يَحْيَى قَالَ مَالِك فِي رَجُلٍ مَعَهُ مَالٌ قِرَاضٌ فَهُوَ يَسْتَنْفِقُ مِنْهُ وَيَكْتَسِي إِنَّهُ لَا يَهَبُ مِنْهُ شَيْئًا وَلَا يُعْطِي مِنْهُ سَائِلًا وَلَا غَيْرَهُ وَلَا يُكَافِئُ فِيهِ أَحَدًا فَأَمَّا إِنْ اجْتَمَعَ هُوَ وَقَوْمٌ فَجَاءُوا بِطَعَامٍ وَجَاءَ هُوَ بِطَعَامٍ فَأَرْجُو أَنْ يَكُونَ ذَلِكَ وَاسِعًا إِذَا لَمْ يَتَعَمَّدْ أَنْ يَتَفَضَّلَ عَلَيْهِمْ فَإِنْ تَعَمَّدَ ذَلِكَ أَوْ مَا يُشْبِهُهُ بِغَيْرِ إِذْنِ صَاحِبِ الْمَالِ فَعَلَيْهِ أَنْ يَتَحَلَّلَ ذَلِكَ مِنْ رَبِّ الْمَالِ فَإِنْ حَلَّلَهُ ذَلِكَ فَلَا بَأْسَ بِهِ وَإِنْ أَبَى أَنْ يُحَلِّلَهُ فَعَلَيْهِ أَنْ يُكَافِئَهُ بِمِثْلِ ذَلِكَ إِنْ كَانَ ذَلِكَ شَيْئًا لَهُ مُكَافَأَةٌ

کہا مالک نے مضارب کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ مضاربت کے مال میں سے کچھ ہبہ کرے یا کسی فقیر کو دے یا کسی احسان کا بدلہ ادا کرے اگر اور لوگ بھی اپنا کھانا ہے کر آئیں تو مضارب بھی اپنا کھانا لاکر ان میں شریک ہوسکتا ہے جب کہ دیدہ و دانستہ ضرورت سے زیادہ نہ لائے اگر ایسا کرے گا تو رب المال سے اجازت لینا ضروری ہے اگر رب المال نے اجازت نہ دی تو جس قدر زیادہ اس نے صرف کیا ہے اس کو مجرا کر دے۔

1290Mauwatta Imam Malik

مضارب قرض پر مال بیچے تو کیا حکم ہے

بَاب الدَّيْنِ فِي الْقِرَاضِ قَالَ يَحْيَى قَالَ مَالِك الْأَمْرُ الْمُجْتَمَعُ عَلَيْهِ عِنْدَنَا فِي رَجُلٍ دَفَعَ إِلَى رَجُلٍ مَالًا قِرَاضًا فَاشْتَرَى بِهِ سِلْعَةً ثُمَّ بَاعَ السِّلْعَةَ بِدَيْنٍ فَرَبِحَ فِي الْمَالِ ثُمَّ هَلَكَ الَّذِي أَخَذَ الْمَالَ قَبْلَ أَنْ يَقْبِضَ الْمَالَ قَالَ إِنْ أَرَادَ وَرَثَتُهُ أَنْ يَقْبِضُوا ذَلِكَ الْمَالَ وَهُمْ عَلَى شَرْطِ أَبِيهِمْ مِنْ الرِّبْحِ فَذَلِكَ لَهُمْ إِذَا كَانُوا أُمَنَاءَ عَلَى ذَلِكَ فَإِنْ كَرِهُوا أَنْ يَقْتَضُوهُ وَخَلَّوْا بَيْنَ صَاحِبِ الْمَالِ وَبَيْنَهُ لَمْ يُكَلَّفُوا أَنْ يَقْتَضُوهُ وَلَا شَيْءَ عَلَيْهِمْ وَلَا شَيْءَ لَهُمْ إِذَا أَسْلَمُوهُ إِلَى رَبِّ الْمَالِ فَإِنْ اقْتَضَوْهُ فَلَهُمْ فِيهِ مِنْ الشَّرْطِ وَالنَّفَقَةِ مِثْلُ مَا كَانَ لِأَبِيهِمْ فِي ذَلِكَ هُمْ فِيهِ بِمَنْزِلَةِ أَبِيهِمْ فَإِنْ لَمْ يَكُونُوا أُمَنَاءَ عَلَى ذَلِكَ فَإِنَّ لَهُمْ أَنْ يَأْتُوا بِأَمِينٍ ثِقَةٍ فَيَقْتَضِي ذَلِكَ الْمَالَ فَإِذَا اقْتَضَى جَمِيعَ الْمَالِ وَجَمِيعَ الرِّبْحِ كَانُوا فِي ذَلِكَ بِمَنْزِلَةِ أَبِيهِمْ قَالَ مَالِك فِي رَجُلٍ دَفَعَ إِلَى رَجُلٍ مَالًا قِرَاضًا عَلَى أَنَّهُ يَعْمَلُ فِيهِ فَمَا بَاعَ بِهِ مِنْ دَيْنٍ فَهُوَ ضَامِنٌ لَهُ إِنَّ ذَلِكَ لَازِمٌ لَهُ إِنْ بَاعَ بِدَيْنٍ فَقَدْ ضَمِنَهُ

کہا مالک نے اگر مضارب نے مال مضاربت کے بدلے میں ایک اسباب خریدا پھر اس اسباب کو قرض بیچا نفع پر ابھی قرض وصول نہیں ہوا تھا کہ مضارب مرگیا تو مضارب کے وارثوں کو اختیار ہوگا چاہے اس قرض کو وصول کر کے مضارب کے قائم مقام ہوجائیں چاہے اس قرض کا مقابلہ رب المال سے کروا کر آپ الگ ہوجائیں اس صورت میں ان کو کچھ نہ ملے گا۔ اگر وارثوں نے تقاضا کر کے اس قرض کو وصول کیا تو اپنا نفع اور خرچ مضارب کی مانند اس میں سے لیں یہ جب ہے کہ وارث معتبر ہوں اگر ان کا اعتبار نہ ہو تو ایک معتبر شخص کو مقرر کر کے قرضہ اور نفع وصول کروا دیں جب وصول ہوجائے تو وہ مضارب کے مثل ہوں گے۔

1291Mauwatta Imam Malik

جو شرط مضاربت میں درست نہیں اس کا بیان

بَاب مَا لَا يَجُوزُ مِنْ الشَّرْطِ فِي الْقِرَاضِ قَالَ يَحْيَى قَالَ مَالِك لَا يَنْبَغِي لِصَاحِبِ الْمَالِ أَنْ يَشْتَرِطَ لِنَفْسِهِ شَيْئًا مِنْ الرِّبْحِ خَالِصًا دُونَ الْعَامِلِ وَلَا يَنْبَغِي لِلْعَامِلِ أَنْ يَشْتَرِطَ لِنَفْسِهِ شَيْئًا مِنْ الرِّبْحِ خَالِصًا دُونَ صَاحِبِهِ وَلَا يَكُونُ مَعَ الْقِرَاضِ بَيْعٌ وَلَا كِرَاءٌ وَلَا عَمَلٌ وَلَا سَلَفٌ وَلَا مِرْفَقٌ يَشْتَرِطُهُ أَحَدُهُمَا لِنَفْسِهِ دُونَ صَاحِبِهِ إِلَّا أَنْ يُعِينَ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ عَلَى غَيْرِ شَرْطٍ عَلَى وَجْهِ الْمَعْرُوفِ إِذَا صَحَّ ذَلِكَ مِنْهُمَا وَلَا يَنْبَغِي لِلْمُتَقَارِضَيْنِ أَنْ يَشْتَرِطَ أَحَدُهُمَا عَلَى صَاحِبِهِ زِيَادَةً مِنْ ذَهَبٍ وَلَا فِضَّةٍ وَلَا طَعَامٍ وَلَا شَيْءٍ مِنْ الْأَشْيَاءِ يَزْدَادُهُ أَحَدُهُمَا عَلَى صَاحِبِهِ قَالَ فَإِنْ دَخَلَ الْقِرَاضَ شَيْءٌ مِنْ ذَلِكَ صَارَ إِجَارَةً وَلَا تَصْلُحُ الْإِجَارَةُ إِلَّا بِشَيْءٍ ثَابِتٍ مَعْلُومٍ وَلَا يَنْبَغِي لِلَّذِي أَخَذَ الْمَالَ أَنْ يَشْتَرِطَ مَعَ أَخْذِهِ الْمَالَ أَنْ يُكَافِئَ وَلَا يُوَلِّيَ مِنْ سِلْعَتِهِ أَحَدًا وَلَا يَتَوَلَّى مِنْهَا شَيْئًا لِنَفْسِهِ فَإِذَا وَفَرَ الْمَالُ وَحَصَلَ عَزْلُ رَأْسِ الْمَالِ ثُمَّ اقْتَسَمَا الرِّبْحَ عَلَى شَرْطِهِمَا فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لِلْمَالِ رِبْحٌ أَوْ دَخَلَتْهُ وَضِيعَةٌ لَمْ يَلْحَقْ الْعَامِلَ مِنْ ذَلِكَ شَيْءٌ لَا مِمَّا أَنْفَقَ عَلَى نَفْسِهِ وَلَا مِنْ الْوَضِيعَةِ وَذَلِكَ عَلَى رَبِّ الْمَالِ فِي مَالِهِ وَالْقِرَاضُ جَائِزٌ عَلَى مَا تَرَاضَى عَلَيْهِ رَبُّ الْمَالِ وَالْعَامِلُ مِنْ نِصْفِ الرِّبْحِ أَوْ ثُلُثِهِ أَوْ رُبُعِهِ أَوْ أَقَلَّ مِنْ ذَلِكَ أَوْ أَكْثَرَ قَالَ مَالِك لَا يَجُوزُ لِلَّذِي يَأْخُذُ الْمَالَ قِرَاضًا أَنْ يَشْتَرِطَ أَنْ يَعْمَلَ فِيهِ سِنِينَ لَا يُنْزَعُ مِنْهُ قَالَ وَلَا يَصْلُحُ لِصَاحِبِ الْمَالِ أَنْ يَشْتَرِطَ أَنَّكَ لَا تَرُدُّهُ إِلَيَّ سِنِينَ لِأَجَلٍ يُسَمِّيَانِهِ لِأَنَّ الْقِرَاضَ لَا يَكُونُ إِلَى أَجَلٍ وَلَكِنْ يَدْفَعُ رَبُّ الْمَالِ مَالَهُ إِلَى الَّذِي يَعْمَلُ لَهُ فِيهِ فَإِنْ بَدَا لِأَحَدِهِمَا أَنْ يَتْرُكَ ذَلِكَ وَالْمَالُ نَاضٌّ لَمْ يَشْتَرِ بِهِ شَيْئًا تَرَكَهُ وَأَخَذَ صَاحِبُ الْمَالِ مَالَهُ وَإِنْ بَدَا لِرَبِّ الْمَالِ أَنْ يَقْبِضَهُ بَعْدَ أَنْ يَشْتَرِيَ بِهِ سِلْعَةً فَلَيْسَ ذَلِكَ لَهُ حَتَّى يُبَاعَ الْمَتَاعُ وَيَصِيرَ عَيْنًا فَإِنْ بَدَا لِلْعَامِلِ أَنْ يَرُدَّهُ وَهُوَ عَرْضٌ لَمْ يَكُنْ ذَلِكَ لَهُ حَتَّى يَبِيعَهُ فَيَرُدَّهُ عَيْنًا كَمَا أَخَذَهُ قَالَ مَالِك وَلَا يَصْلُحُ لِمَنْ دَفَعَ إِلَى رَجُلٍ مَالًا قِرَاضًا أَنْ يَشْتَرِطَ عَلَيْهِ الزَّكَاةَ فِي حِصَّتِهِ مِنْ الرِّبْحِ خَاصَّةً لِأَنَّ رَبَّ الْمَالِ إِذَا اشْتَرَطَ ذَلِكَ فَقَدْ اشْتَرَطَ لِنَفْسِهِ فَضْلًا مِنْ الرِّبْحِ ثَابِتًا فِيمَا سَقَطَ عَنْهُ مِنْ حِصَّةِ الزَّكَاةِ الَّتِي تُصِيبُهُ مِنْ حِصَّتِهِ وَلَا يَجُوزُ لِرَجُلٍ أَنْ يَشْتَرِطَ عَلَى مَنْ قَارَضَهُ أَنْ لَا يَشْتَرِيَ إِلَّا مِنْ فُلَانٍ لِرَجُلٍ يُسَمِّيهِ فَذَلِكَ غَيْرُ جَائِزٍ لِأَنَّهُ يَصِيرُ لَهُ أَجِيرًا بِأَجْرٍ لَيْسَ بِمَعْرُوفٍ قَالَ مَالِك فِي الرَّجُلِ يَدْفَعُ إِلَى رَجُلٍ مَالًا قِرَاضًا وَيَشْتَرِطُ عَلَى الَّذِي دَفَعَ إِلَيْهِ الْمَالَ الضَّمَانَ قَالَ لَا يَجُوزُ لِصَاحِبِ الْمَالِ أَنْ يَشْتَرِطَ فِي مَالِهِ غَيْرَ مَا وُضِعَ الْقِرَاضُ عَلَيْهِ وَمَا مَضَى مِنْ سُنَّةِ الْمُسْلِمِينَ فِيهِ فَإِنْ نَمَا الْمَالُ عَلَى شَرْطِ الضَّمَانِ كَانَ قَدْ ازْدَادَ فِي حَقِّهِ مِنْ الرِّبْحِ مِنْ أَجْلِ مَوْضِعِ الضَّمَانِ وَإِنَّمَا يَقْتَسِمَانِ الرِّبْحَ عَلَى مَا لَوْ أَعْطَاهُ إِيَّاهُ عَلَى غَيْرِ ضَمَانٍ وَإِنْ تَلِفَ الْمَالُ لَمْ أَرَ عَلَى الَّذِي أَخَذَهُ ضَمَانًا لِأَنَّ شَرْطَ الضَّمَانِ فِي الْقِرَاضِ بَاطِلٌ قَالَ مَالِك فِي رَجُلٍ دَفَعَ إِلَى رَجُلٍ مَالًا قِرَاضًا وَاشْتَرَطَ عَلَيْهِ أَنْ لَا يَبْتَاعَ بِهِ إِلَّا نَخْلًا أَوْ دَوَابَّ لِأَجْلِ أَنَّهُ يَطْلُبُ ثَمَرَ النَّخْلِ أَوْ نَسْلَ الدَّوَابِّ وَيَحْبِسُ رِقَابَهَا قَالَ مَالِك لَا يَجُوزُ هَذَا وَلَيْسَ هَذَا مِنْ سُنَّةِ الْمُسْلِمِينَ فِي الْقِرَاضِ إِلَّا أَنْ يَشْتَرِيَ ذَلِكَ ثُمَّ يَبِيعَهُ كَمَا يُبَاعُ غَيْرُهُ مِنْ السِّلَعِ قَالَ مَالِك لَا بَأْسَ أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُقَارِضُ عَلَى رَبِّ الْمَالِ غُلَامًا يُعِينُهُ بِهِ عَلَى أَنْ يَقُومَ مَعَهُ الْغُلَامُ فِي الْمَالِ إِذَا لَمْ يَعْدُ أَنْ يُعِينَهُ فِي الْمَالِ لَا يُعِينُهُ فِي غَيْرِهِ

کہا مالک نے رب المال کو یہ درست نہیں کہ نفع میں سے کچھ خاص اپنے لئے نکال لے نہ مضاربت کو درست ہے اور مضاربت کے ساتھ یہ درست نہیں کہ کسی بیع یا کرائے یا قرض یا اور کوئی احسان کی شرط ہو البتہ یہ درست ہے کہ بلاشرط ایک دوسرے کی مدد کرے موافق دستور کے اور یہ درست نہیں کہ کوئی ان میں سے دوسرے پر زیادتی کی شرط کرلے خواہ وہ زیادتی سونے یا چاندی یا طعام اور کسی قسم سے ہو اگر مضاربت میں ایسی شرطیں ہوں تو وہ اجارہ ہوجائے گا پھر اجارہ درست نہیں مگر معین معلوم اجرت کے بدلے میں اور مضاربت کو درست نہیں کہ کسی کے احسان کا بدلہ مضاربت میں سے ادا کرے نہ یہ درست ہے کہ مضاربت کے مال کو تولیہ کے طور پردے یا آپ لے۔ اگر مال میں نفع ہو تو دونوں نفع کو بانٹ لیں گے اپنی شرط کے موافق اگر نفع نہ ہو یا نقصان ہو تو مضا رب پر ضمان نہ ہوگا نہ اپنے خرچ کا نہ نقصان کا بلکہ مالک کا ہوگا۔ اور مضاربت درست ہے جب رب المال اور مضا رب راضی ہوجائیں نفع کے تقسیم کرنے پر آدھوں آدھ یا دوتہائی رب المال کا اور ایک تہائی مضا رب کا یا تین ربع رب المال کے ایک ربع مضا رب کا یا اس سے کم یا زیادہ۔ کہا مالک نے مضا رب اگر یہ شرط کرنے کہ اتنے برس تک رائس المال مجھ سے واپس نہ لیا جائے یا رب المال یہ شرط کرے کہ اتنے برس تک مضا رب رائس المال نہ دے تو یہ درست نہیں۔ کیونکہ مضاربت میں میعاد نہیں ہوسکتی جب رب المال اپنا روپیہ مضا رب کے حوالے کرے اور مضا رب کو اس میں تجارت کرنا اچھا معلوم نہ ہو اگر وہ روپیہ بجنسہ اسی طرح موجود ہے تو رب المال اپنا روپیہ لے لے اگر مضا رب ان روپوں کے بدلے میں کوئی اسباب خرید کرچکا تو رب المال اس اسباب کو نہیں لے سکتا نہ مضا رب دے سکتا ہے جب تک اس اسباب کو بیچ کر نقد روپیہ نہ کرلے۔ کہا مالک نے رب المال مضا رب سے یہ شرط کرلے کہ زکوٰۃ اپنے نفع کے حصہ میں سے دینا تو درست نہیں نہ رب المال کو یہ شرط لگانا درست ہے کہ مضا رب خواہ مخواہ فلانے ہی شخص سے اسباب خریدے۔ کہا مالک نے اگر رب المال مضا رب پر ضمان کی شرط کرلے تو درست نہیں اس صورت میں اگر نفع ہو تو مضا رب کو شرط سے زیادہ اس وجہ سے نقصان کا تاوان لیا تھا نہ ملے گا اگر مال تلف ہوا یا اس میں نقصان ہو تو مضارب پر تاوان نہ ہوگا گو اس نے تاوان کی شرط لگائی ہو۔

Yahya said that Malik said, "The person who puts up the principal must not stipulate that he has something of the profit alone without the agent sharing in it, nor must the agent stipulate that he has something of the profit alone without the investor sharing. In qirad, there is no sale, no rent, no work, no advance, and no convenience which one party specifies to himself without the other party sharing unless one party allows it to the other unconditionally as a favour and that is alright to both. Neither of the parties should make a condition over the other which increases him in gold or silver or food over the other party."

1292Mauwatta Imam Malik

مضاربت میں بضاعۃ کا بیان

بَاب الْبِضَاعَةِ فِي الْقِرَاضِ قَالَ يَحْيَى قَالَ مَالِك فِي رَجُلٍ دَفَعَ إِلَى رَجُلٍ مَالًا قِرَاضًا وَاسْتَسْلَفَ مِنْ صَاحِبِ الْمَالِ سَلَفًا أَوْ اسْتَسْلَفَ مِنْهُ صَاحِبُ الْمَالِ سَلَفًا أَوْ أَبْضَعَ مَعَهُ صَاحِبُ الْمَالِ بِضَاعَةً يَبِيعُهَا لَهُ أَوْ بِدَنَانِيرَ يَشْتَرِي لَهُ بِهَا سِلْعَةً قَالَ مَالِك إِنْ كَانَ صَاحِبُ الْمَالِ إِنَّمَا أَبْضَعَ مَعَهُ وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهُ لَوْ لَمْ يَكُنْ مَالُهُ عِنْدَهُ ثُمَّ سَأَلَهُ مِثْلَ ذَلِكَ فَعَلَهُ لِإِخَاءٍ بَيْنَهُمَا أَوْ لِيَسَارَةِ مَئُونَةِ ذَلِكَ عَلَيْهِ وَلَوْ أَبَى ذَلِكَ عَلَيْهِ لَمْ يَنْزِعْ مَالَهُ مِنْهُ أَوْ كَانَ الْعَامِلُ إِنَّمَا اسْتَسْلَفَ مِنْ صَاحِبِ الْمَالِ أَوْ حَمَلَ لَهُ بِضَاعَتَهُ وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهُ لَوْ لَمْ يَكُنْ عِنْدَهُ مَالُهُ فَعَلَ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ وَلَوْ أَبَى ذَلِكَ عَلَيْهِ لَمْ يَرْدُدْ عَلَيْهِ مَالَهُ فَإِذَا صَحَّ ذَلِكَ مِنْهُمَا جَمِيعًا وَكَانَ ذَلِكَ مِنْهُمَا عَلَى وَجْهِ الْمَعْرُوفِ وَلَمْ يَكُنْ شَرْطًا فِي أَصْلِ الْقِرَاضِ فَذَلِكَ جَائِزٌ لَا بَأْسَ بِهِ وَإِنْ دَخَلَ ذَلِكَ شَرْطٌ أَوْ خِيفَ أَنْ يَكُونَ إِنَّمَا صَنَعَ ذَلِكَ الْعَامِلُ لِصَاحِبِ الْمَالِ لِيُقِرَّ مَالَهُ فِي يَدَيْهِ أَوْ إِنَّمَا صَنَعَ ذَلِكَ صَاحِبُ الْمَالِ لِأَنْ يُمْسِكَ الْعَامِلُ مَالَهُ وَلَا يَرُدَّهُ عَلَيْهِ فَإِنَّ ذَلِكَ لَا يَجُوزُ فِي الْقِرَاضِ وَهُوَ مِمَّا يَنْهَى عَنْهُ أَهْلُ الْعِلْمِ

کہا مالک نے اگر مضارب نے رب المال سے قرض لیا، یا رب المال نے مضارب سے لیا یا رب المال نے مضارب کو کچھ مال بضاعۃ کے طور پر دیا کہ اس کو بیچ لاؤ یا کچھ روپیہ دیا کہ اس کا مال خرید کر لاؤ اگر یہ معاملے صرف محبت کی وجہ سے ہوں یا خفیف ہونے کے سبب سے مضارب کے معاملے کو اس میں کچھ دخل نہ ہو یعنی اگر مضاربت کا معاملہ نہ ہوتا جب بھی یہ کام ایک دوسرے کا کردیتا تو جائز ہے ورنہ جائز نہیں اہل علم اس سے منع کرتے ہیں۔

1293Mauwatta Imam Malik

مضاربت میں قرض کا بیان

بَاب السَّلَفِ فِي الْقِرَاضِ قَالَ يَحْيَى قَالَ مَالِك فِي رَجُلٍ أَسْلَفَ رَجُلًا مَالًا ثُمَّ سَأَلَهُ الَّذِي تَسَلَّفَ الْمَالَ أَنْ يُقِرَّهُ عِنْدَهُ قِرَاضًا قَالَ مَالِك لَا أُحِبُّ ذَلِكَ حَتَّى يَقْبِضَ مَالَهُ مِنْهُ ثُمَّ يَدْفَعَهُ إِلَيْهِ قِرَاضًا إِنْ شَاءَ أَوْ يُمْسِكَهُ قَالَ مَالِك فِي رَجُلٍ دَفَعَ إِلَى رَجُلٍ مَالًا قِرَاضًا فَأَخْبَرَهُ أَنَّهُ قَدْ اجْتَمَعَ عِنْدَهُ وَسَأَلَهُ أَنْ يَكْتُبَهُ عَلَيْهِ سَلَفًا قَالَ لَا أُحِبُّ ذَلِكَ حَتَّى يَقْبِضَ مِنْهُ مَالَهُ ثُمَّ يُسَلِّفَهُ إِيَّاهُ إِنْ شَاءَ أَوْ يُمْسِكَهُ وَإِنَّمَا ذَلِكَ مَخَافَةَ أَنْ يَكُونَ قَدْ نَقَصَ فِيهِ فَهُوَ يُحِبُّ أَنْ يُؤَخِّرَهُ عَنْهُ عَلَى أَنْ يَزِيدَهُ فِيهِ مَا نَقَصَ مِنْهُ فَذَلِكَ مَكْرُوهٌ وَلَا يَجُوزُ وَلَا يَصْلُحُ

کہا مالک نے ایک شخص کا قرض دوسرے پر آتا ہو قرض خواہ مقروض سے کہے تو میرا روپیہ اپنے پاس رہنے دے۔ مضاربت کے طور پر تو یہ درست نہیں البتہ یہ ہوسکتا ہے کہ قرض خواہ اپنا قرض وصول کر کے پھر چاہے تو مضاربت کے طور پردے یا نہ دے۔ کہا مالک نے اگر مضارب رب المال سے یہ کہے میرے پاس سب روپیہ مضاربت کا جمع ہے مگر تو اس روپے کو مجھے قرض دے دے تو یہ درست نہیں بلکہ مالک کو چاہیے کہ روپیہ اپنا لے کر پھر چاہے قرض دے

1294Mauwatta Imam Malik

مضاربت میں حساب کا بیان

بَاب الْمُحَاسَبَةِ فِي الْقِرَاضِ قَالَ يَحْيَى قَالَ مَالِك فِي رَجُلٍ دَفَعَ إِلَى رَجُلٍ مَالًا قِرَاضًا فَعَمِلَ فِيهِ فَرَبِحَ فَأَرَادَ أَنْ يَأْخُذَ حِصَّتَهُ مِنْ الرِّبْحِ وَصَاحِبُ الْمَالِ غَائِبٌ قَالَ لَا يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يَأْخُذَ مِنْهُ شَيْئًا إِلَّا بِحَضْرَةِ صَاحِبِ الْمَالِ وَإِنْ أَخَذَ شَيْئًا فَهُوَ لَهُ ضَامِنٌ حَتَّى يُحْسَبَ مَعَ الْمَالِ إِذَا اقْتَسَمَاهُ قَالَ مَالِك لَا يَجُوزُ لِلْمُتَقَارِضَيْنِ أَنْ يَتَحَاسَبَا وَيَتَفَاصَلَا وَالْمَالُ غَائِبٌ عَنْهُمَا حَتَّى يَحْضُرَ الْمَالُ فَيَسْتَوْفِي صَاحِبُ الْمَالِ رَأْسَ مَالِهِ ثُمَّ يَقْتَسِمَانِ الرِّبْحَ عَلَى شَرْطِهِمَا قَالَ مَالِك فِي رَجُلٍ أَخَذَ مَالًا قِرَاضًا فَاشْتَرَى بِهِ سِلْعَةً وَقَدْ كَانَ عَلَيْهِ دَيْنٌ فَطَلَبَهُ غُرَمَاؤُهُ فَأَدْرَكُوهُ بِبَلَدٍ غَائِبٍ عَنْ صَاحِبِ الْمَالِ وَفِي يَدَيْهِ عَرْضٌ مُرَبَّحٌ بَيِّنٌ فَضْلُهُ فَأَرَادُوا أَنْ يُبَاعَ لَهُمْ الْعَرْضُ فَيَأْخُذُوا حِصَّتَهُ مِنْ الرِّبْحِ قَالَ لَا يُؤْخَذُ مِنْ رِبْحِ الْقِرَاضِ شَيْءٌ حَتَّى يَحْضُرَ صَاحِبُ الْمَالِ فَيَأْخُذَ مَالَهُ ثُمَّ يَقْتَسِمَانِ الرِّبْحَ عَلَى شَرْطِهِمَا قَالَ مَالِك فِي رَجُلٍ دَفَعَ إِلَى رَجُلٍ مَالًا قِرَاضًا فَتَجَرَ فِيهِ فَرَبِحَ ثُمَّ عَزَلَ رَأْسَ الْمَالِ وَقَسَمَ الرِّبْحَ فَأَخَذَ حِصَّتَهُ وَطَرَحَ حِصَّةَ صَاحِبِ الْمَالِ فِي الْمَالِ بِحَضْرَةِ شُهَدَاءَ أَشْهَدَهُمْ عَلَى ذَلِكَ قَالَ لَا تَجُوزُ قِسْمَةُ الرِّبْحِ إِلَّا بِحَضْرَةِ صَاحِبِ الْمَالِ وَإِنْ كَانَ أَخَذَ شَيْئًا رَدَّهُ حَتَّى يَسْتَوْفِيَ صَاحِبُ الْمَالِ رَأْسَ مَالِهِ ثُمَّ يَقْتَسِمَانِ مَا بَقِيَ بَيْنَهُمَا عَلَى شَرْطِهِمَا قَالَ مَالِك فِي رَجُلٍ دَفَعَ إِلَى رَجُلٍ مَالًا قِرَاضًا فَعَمِلَ فِيهِ فَجَاءَهُ فَقَالَ لَهُ هَذِهِ حِصَّتُكَ مِنْ الرِّبْحِ وَقَدْ أَخَذْتُ لِنَفْسِي مِثْلَهُ وَرَأْسُ مَالِكَ وَافِرٌ عِنْدِي قَالَ مَالِك لَا أُحِبُّ ذَلِكَ حَتَّى يَحْضُرَ الْمَالُ كُلُّهُ فَيُحَاسِبَهُ حَتَّى يَحْصُلَ رَأْسُ الْمَالِ وَيَعْلَمَ أَنَّهُ وَافِرٌ وَيَصِلَ إِلَيْهِ ثُمَّ يَقْتَسِمَانِ الرِّبْحَ بَيْنَهُمَا ثُمَّ يَرُدُّ إِلَيْهِ الْمَالَ إِنْ شَاءَ أَوْ يَحْبِسُهُ وَإِنَّمَا يَجِبُ حُضُورُ الْمَالِ مَخَافَةَ أَنْ يَكُونَ الْعَامِلُ قَدْ نَقَصَ فِيهِ فَهُوَ يُحِبُّ أَنْ لَا يُنْزَعَ مِنْهُ وَأَنْ يُقِرَّهُ فِي يَدِهِ

کہا مالک نے اگر مضارب نے تجارت کر کے نفع کمایا پھر رب المال کی غیر حاضری میں یہ چاہے کہ نفع میں سے اپنا حصہ لے لے تو یہ درست نہیں جب تک کہ رب المال موجود نہ ہو اگر لے لے گا تو وہ اس کا ضامن رہے گا کہا مالک نے مضارب اور رب المال کو درست نہیں کہ نفع کا حساب لگائیں اور مال موجود نہ ہو بلکہ مال سامنے لانا چاہیے۔ پہلے رب المال اپنا راس المال لے لے پھر نفع کو شرط کے موافق تقسیم کر لیں کہا مالک نے اگر مضارب نے کوئی اسباب خریدا اور مضارب کے قرض خواہوں نے اس کو پکڑ کر کہا کہ اس مال کو بیچ کر جتنا حصہ نفع میں تیرا ہے وہ ہم لے لیں گے اور رب المال وہاں موجود نہیں تو یہ نہیں ہوسکتا بلکہ رب المال جب موجود ہو تو وہ اپنا راس المال لے کر پھر نفع کو تقسیم کر دے۔ کہا مالک نے اگر مضارب نے تجارت کر کے نفع کمایا پھر راس المال جد کر کے نفع کو گواہوں کے سامنے تقسیم کیا تو یہ درست نہیں اگر کچھ لے بھی لے تو پھیر دے جب رب المال آئے تو وہ اپنا راس المال لے کر باقی مال تقسیم کردے۔ کہا مالک نے اگر مضارب نے تجارت کر کے نفع کمایا پھر رب المال کے نفع کا حصہ لے کر آیا اور کہا کہ یہ تیرا حصہ ہے نفع کا اور میں نے بھی اسی قدر لے لیا اور راس المال تیرا میرے پاس موجود ہے تو یہ درست نہیں بلکہ کل مال اور اصل اور نفع مالک کے سامنے لے کر آئے پھر اس کو اختیار ہے اپنا راس المال لے کر رکھ چھوڑے یا پھر مضارب کے حوالے کردے۔

1295Mauwatta Imam Malik

مضاربت کے مختلف مسائل کا بیان

بَاب جَامِعِ مَا جَاءَ فِي الْقِرَاضِ قَالَ يَحْيَى قَالَ مَالِك فِي رَجُلٍ دَفَعَ إِلَى رَجُلٍ مَالًا قِرَاضًا فَابْتَاعَ بِهِ سِلْعَةً فَقَالَ لَهُ صَاحِبُ الْمَالِ بِعْهَا وَقَالَ الَّذِي أَخَذَ الْمَالَ لَا أَرَى وَجْهَ بَيْعٍ فَاخْتَلَفَا فِي ذَلِكَ قَالَ لَا يُنْظَرُ إِلَى قَوْلِ وَاحِدٍ مِنْهُمَا وَيُسْأَلُ عَنْ ذَلِكَ أَهْلُ الْمَعْرِفَةِ وَالْبَصَرِ بِتِلْكَ السِّلْعَةِ فَإِنْ رَأَوْا وَجْهَ بَيْعٍ بِيعَتْ عَلَيْهِمَا وَإِنْ رَأَوْا وَجْهَ انْتِظَارٍ انْتُظِرَ بِهَا قَالَ مَالِك فِي رَجُلٍ أَخَذَ مِنْ رَجُلٍ مَالًا قِرَاضًا فَعَمِلَ فِيهِ ثُمَّ سَأَلَهُ صَاحِبُ الْمَالِ عَنْ مَالِهِ فَقَالَ هُوَ عِنْدِي وَافِرٌ فَلَمَّا آخَذَهُ بِهِ قَالَ قَدْ هَلَكَ عِنْدِي مِنْهُ كَذَا وَكَذَا لِمَالٍ يُسَمِّيهِ وَإِنَّمَا قُلْتُ لَكَ ذَلِكَ لِكَيْ تَتْرُكَهُ عِنْدِي قَالَ لَا يَنْتَفِعُ بِإِنْكَارِهِ بَعْدَ إِقْرَارِهِ أَنَّهُ عِنْدَهُ وَيُؤْخَذُ بِإِقْرَارِهِ عَلَى نَفْسِهِ إِلَّا أَنْ يَأْتِيَ فِي هَلَاكِ ذَلِكَ الْمَالِ بِأَمْرٍ يُعْرَفُ بِهِ قَوْلُهُ فَإِنْ لَمْ يَأْتِ بِأَمْرٍ مَعْرُوفٍ أُخِذَ بِإِقْرَارِهِ وَلَمْ يَنْفَعْهُ إِنْكَارُهُ قَالَ مَالِك وَكَذَلِكَ أَيْضًا لَوْ قَالَ رَبِحْتُ فِي الْمَالِ كَذَا وَكَذَا فَسَأَلَهُ رَبُّ الْمَالِ أَنْ يَدْفَعَ إِلَيْهِ مَالَهُ وَرِبْحَهُ فَقَالَ مَا رَبِحْتُ فِيهِ شَيْئًا وَمَا قُلْتُ ذَلِكَ إِلَّا لِأَنْ تُقِرَّهُ فِي يَدِي فَذَلِكَ لَا يَنْفَعُهُ وَيُؤْخَذُ بِمَا أَقَرَّ بِهِ إِلَّا أَنْ يَأْتِيَ بِأَمْرٍ يُعْرَفُ بِهِ قَوْلُهُ وَصِدْقُهُ فَلَا يَلْزَمُهُ ذَلِكَ قَالَ مَالِك فِي رَجُلٍ دَفَعَ إِلَى رَجُلٍ مَالًا قِرَاضًا فَرَبِحَ فِيهِ رِبْحًا فَقَالَ الْعَامِلُ قَارَضْتُكَ عَلَى أَنَّ لِي الثُّلُثَيْنِ وَقَالَ صَاحِبُ الْمَالِ قَارَضْتُكَ عَلَى أَنَّ لَكَ الثُّلُثَ قَالَ مَالِك الْقَوْلُ قَوْلُ الْعَامِلِ وَعَلَيْهِ فِي ذَلِكَ الْيَمِينُ إِذَا كَانَ مَا قَالَ يُشْبِهُ قِرَاضَ مِثْلِهِ وَكَانَ ذَلِكَ نَحْوًا مِمَّا يَتَقَارَضُ عَلَيْهِ النَّاسُ وَإِنْ جَاءَ بِأَمْرٍ يُسْتَنْكَرُ لَيْسَ عَلَى مِثْلِهِ يَتَقَارَضُ النَّاسُ لَمْ يُصَدَّقْ وَرُدَّ إِلَى قِرَاضِ مِثْلِهِ قَالَ مَالِك فِي رَجُلٍ أَعْطَى رَجُلًا مِائَةَ دِينَارٍ قِرَاضًا فَاشْتَرَى بِهَا سِلْعَةً ثُمَّ ذَهَبَ لِيَدْفَعَ إِلَى رَبِّ السِّلْعَةِ الْمِائَةَ دِينَارٍ فَوَجَدَهَا قَدْ سُرِقَتْ فَقَالَ رَبُّ الْمَالِ بِعْ السِّلْعَةَ فَإِنْ كَانَ فِيهَا فَضْلٌ كَانَ لِي وَإِنْ كَانَ فِيهَا نُقْصَانٌ كَانَ عَلَيْكَ لِأَنَّكَ أَنْتَ ضَيَّعْتَ وَقَالَ الْمُقَارَضُ بَلْ عَلَيْكَ وَفَاءُ حَقِّ هَذَا إِنَّمَا اشْتَرَيْتُهَا بِمَالِكَ الَّذِي أَعْطَيْتَنِي قَالَ مَالِك يَلْزَمُ الْعَامِلَ الْمُشْتَرِيَ أَدَاءُ ثَمَنِهَا إِلَى الْبَائِعِ وَيُقَالُ لِصَاحِبِ الْمَالِ الْقِرَاضِ إِنْ شِئْتَ فَأَدِّ الْمِائَةَ الدِّينَارِ إِلَى الْمُقَارَضِ وَالسِّلْعَةُ بَيْنَكُمَا وَتَكُونُ قِرَاضًا عَلَى مَا كَانَتْ عَلَيْهِ الْمِائَةُ الْأُولَى وَإِنْ شِئْتَ فَابْرَأْ مِنْ السِّلْعَةِ فَإِنْ دَفَعَ الْمِائَةَ دِينَارٍ إِلَى الْعَامِلِ كَانَتْ قِرَاضًا عَلَى سُنَّةِ الْقِرَاضِ الْأَوَّلِ وَإِنْ أَبَى كَانَتْ السِّلْعَةُ لِلْعَامِلِ وَكَانَ عَلَيْهِ ثَمَنُهَا قَالَ مَالِك فِي الْمُتَقَارِضَيْنِ إِذَا تَفَاصَلَا فَبَقِيَ بِيَدِ الْعَامِلِ مِنْ الْمَتَاعِ الَّذِي يَعْمَلُ فِيهِ خَلَقُ الْقِرْبَةِ أَوْ خَلَقُ الثَّوْبِ أَوْ مَا أَشْبَهَ ذَلِكَ قَالَ مَالِك كُلُّ شَيْءٍ مِنْ ذَلِكَ كَانَ تَافِهًا لَا خَطْبَ لَهُ فَهُوَ لِلْعَامِلِ وَلَمْ أَسْمَعْ أَحَدًا أَفْتَى بِرَدِّ ذَلِكَ وَإِنَّمَا يُرَدُّ مِنْ ذَلِكَ الشَّيْءُ الَّذِي لَهُ ثَمَنٌ وَإِنْ كَانَ شَيْئًا لَهُ اسْمٌ مِثْلُ الدَّابَّةِ أَوْ الْجَمَلِ أَوْ الشَّاذَكُونَةِ أَوْ أَشْبَاهِ ذَلِكَ مِمَّا لَهُ ثَمَنٌ فَإِنِّي أَرَى أَنْ يَرُدَّ مَا بَقِيَ عِنْدَهُ مِنْ هَذَا إِلَّا أَنْ يَتَحَلَّلَ صَاحِبَهُ مِنْ ذَلِكَ

کہا مالک نے اگر مضارب نے اسباب خریا اور رب المال نے کہا اس کو بیچ ڈال مضارب نے کہا ابھی اس کا بیچنا مناسب نہیں ہے تو اور تجارت پیشہ سے جو اس امر میں مہارت رکھتے ہوں پوچھیں گے اگر وہ بیچنے کی رائے دیں گے تو بیع کر ڈالیں گے ورنہ انتظار کریں۔ کہا مالک نے اگر مضارب نے مال مضاربت میں تجارت شروع کی پھر رب المال نے اپنا مال مانگا اس نے کہا میرے پاس پورا مال موجود ہے جب وہ لینے گیا تو مضارب نے کہا کچھ مال میرے پاس تلف ہوگیا پہلے میں نے اس واسطے کہہ دیا تھا کہ تو اپنے مال کو میرے پاس رہنے دے تو مضارب کے اس قول کا اعتبار نہ ہوگا مگر جب وہ دلیل قائم کرے۔ کہا مالک نے اسی طرح اگر مضارب بولا میں نے اتنا نفع کمایا ہے جب مالک نے مال اور نفع طلب کیا تو کہنے لگا نفع نہیں ہوا اس کی بات کا اعتبار نہ ہوگا جب تک دلیل نہ لائے۔ کہا مالک نے اگر مضارب نے نفع کمایا پھر رب المال کہنے لگا کہ دو حصے نفع کے میرے لئے ٹھہرے تھے اور ایک حصہ تیرے لئے اور مضارب نے کہا میرے لئے دو حصے ٹھہرے تھے اور ایک حصہ تیرے لئے تو مضارب کا قول قسم سے قبول ہوگا مگر جب دستور کے خلاف ہو تو رواج کے موافق حکم ہوگا۔ کہا مالک نے زید نے عمرو کو سو دینار مضاربت کے طور پر دیئے عمرو نے اس کے عوض میں اسباب خریدا جب بائع (بچنے والا) کو دینے لگا تو معلوا ہوا وہ سو دینار چوری ہوگئے اب رب المال کہتا ہے تو اس مال کو بیچ اگر اس میں نفع ہو تو میرا ہے اور جو نقصان ہو تجھ پر ہے کیونکہ تو نے میرا مال تلف کیا مضارب کہتا ہے تو اپنے پاس سے اس اسباب کی قیمت دے کیونکہ میں نے اس کو تیرے مال کے بدلے میں خریدا ہے تو مضارب کو حکم ہوگا اس اسباب کی قیمت بائع (بچنے والا) کو ادا کرے اور رب المال سے کہا جائے گا اگر تیرا جی چاہے تو سو دینار مضارب کو پھر دے دے تاکہ مضاربت بحال رہے نہیں تو اس اسباب سے تجھ کو کچھ تعلق نہ ہوگا۔ اگر رب المال نے سو دینار پھر دے دیئے تو مضاربت اپنے حال پر قائم رہے گی ورنہ وہ اسباب مضارب کا ہوجائے گا۔ کہا مالک نے جب رب المال اور مضارب الگ ہوجائیں (یعنی معاملہ مضاربت ختم ہوجائے) لیکن مضارب کے پاس مال مضاربت میں سے کوئی پھٹی پرانی مشک یا پھٹا پرانا کپڑا وغیرہ رہ جائے اگر وہ شئے کم قیمت حقیر ہے تو مضارب ہی کی ہوجائے گی اس کے پھیرنے کا حکم نہ ہوگا اگر وہ شئے قیمت دار ہو جیسے کوئی جانور یا اونٹ یا عمدہ کپڑا یمن کا تو اس کا پھیرنا ضروری ہے مگر جب رب المال سے معاف کرالے۔

1296Mauwatta Imam Malik

مساقات کا بیان

عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِيَهُودِ خَيْبَرَ يَوْمَ افْتَتَحَ خَيْبَرَ أُقِرُّكُمْ فِيهَا مَا أَقَرَّكُمْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى أَنَّ الثَّمَرَ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ قَالَ فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْعَثُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ رَوَاحَةَ فَيَخْرُصُ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُمْ ثُمَّ يَقُولُ إِنْ شِئْتُمْ فَلَكُمْ وَإِنْ شِئْتُمْ فَلِيَ فَكَانُوا يَأْخُذُونَهُ

سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا خبیر کے یہودیوں سے جس دن خبیر فتح ہوا جو تم کو اللہ نے دیا ہے اس پر میں تہیں برقرار رکھوں گا اس شرط سے کہ جتنے پھل یہاں پیدا ہوتے ہیں وہ ہم میں تم میں مشترک ہوں تو رسول اللہ ﷺ عبداللہ بن رواضہ کو بھیجتے تھے وہ درختوں کو دیکھ کر ان کے پھلوں کا اندازہ کرتے تھے اگر تم چاہو تو تم ان پھولوں کو لے لو اور جو اندازہ ہوا ہے اس کا آدھا ہم کو دیدو ہم تم کو اس اندازے کے آدھے پھل دیں گے یہود خود پھل لے لیا کرتے۔

Yahya related to me from Malik from Ibn Shihab from Said ibn al-Musayyab that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said to the jews of Khaybar on the day of the conquest of Khaybar, "I confirm you in it as long as Allah, the Mighty, the Majestic, establishes you in it, provided that the fruits are divided between us and you." Said continued, "The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, used to send Abdullah ibn Rawaha, to assess the division of the fruit crop between him and them, and he would say, If you wish, you can buy it back, and if you wish, it is mine. They would take it."

1297Mauwatta Imam Malik

مساقات کا بیان

عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَبْعَثُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ رَوَاحَةَ إِلَى خَيْبَرَ فَيَخْرُصُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ يَهُودِ خَيْبَرَ قَالَ فَجَمَعُوا لَهُ حَلْيًا مِنْ حَلْيِ نِسَائِهِمْ فَقَالُوا لَهُ هَذَا لَكَ وَخَفِّفْ عَنَّا وَتَجَاوَزْ فِي الْقَسْمِ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ يَا مَعْشَرَ الْيَهُودِ وَاللَّهِ إِنَّكُمْ لَمِنْ أَبْغَضِ خَلْقِ اللَّهِ إِلَيَّ وَمَا ذَاكَ بِحَامِلِي عَلَى أَنْ أَحِيفَ عَلَيْكُمْ فَأَمَّا مَا عَرَضْتُمْ مِنْ الرَّشْوَةِ فَإِنَّهَا سُحْتٌ وَإِنَّا لَا نَأْكُلُهَا فَقَالُوا بِهَذَا قَامَتْ السَّمَوَاتُ وَالْأَرْضُ قَالَ مَالِك إِذَا سَاقَى الرَّجُلُ النَّخْلَ وَفِيهَا الْبَيَاضُ فَمَا ازْدَرَعَ الرَّجُلُ الدَّاخِلُ فِي الْبَيَاضِ فَهُوَ لَهُ قَالَ وَإِنْ اشْتَرَطَ صَاحِبُ الْأَرْضِ أَنَّهُ يَزْرَعُ فِي الْبَيَاضِ لِنَفْسِهِ فَذَلِكَ لَا يَصْلُحُ لِأَنَّ الرَّجُلَ الدَّاخِلَ فِي الْمَالِ يَسْقِي لِرَبِّ الْأَرْضِ فَذَلِكَ زِيَادَةٌ ازْدَادَهَا عَلَيْهِ قَالَ وَإِنْ اشْتَرَطَ الزَّرْعَ بَيْنَهُمَا فَلَا بَأْسَ بِذَلِكَ إِذَا كَانَتْ الْمَئُونَةُ كُلُّهَا عَلَى الدَّاخِلِ فِي الْمَالِ الْبَذْرُ وَالسَّقْيُ وَالْعِلَاجُ كُلُّهُ فَإِنْ اشْتَرَطَ الدَّاخِلُ فِي الْمَالِ عَلَى رَبِّ الْمَالِ أَنَّ الْبَذْرَ عَلَيْكَ كَانَ ذَلِكَ غَيْرَ جَائِزٍ لِأَنَّهُ قَدْ اشْتَرَطَ عَلَى رَبِّ الْمَالِ زِيَادَةً ازْدَادَهَا عَلَيْهِ وَإِنَّمَا تَكُونُ الْمُسَاقَاةُ عَلَى أَنَّ عَلَى الدَّاخِلِ فِي الْمَالِ الْمَئُونَةَ كُلَّهَا وَالنَّفَقَةَ وَلَا يَكُونُ عَلَى رَبِّ الْمَالِ مِنْهَا شَيْءٌ فَهَذَا وَجْهُ الْمُسَاقَاةِ الْمَعْرُوفُ قَالَ مَالِك فِي الْعَيْنِ تَكُونُ بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ فَيَنْقَطِعُ مَاؤُهَا فَيُرِيدُ أَحَدُهُمَا أَنْ يَعْمَلَ فِي الْعَيْنِ وَيَقُولُ الْآخَرُ لَا أَجِدُ مَا أَعْمَلُ بِهِ إِنَّهُ يُقَالُ لِلَّذِي يُرِيدُ أَنْ يَعْمَلَ فِي الْعَيْنِ اعْمَلْ وَأَنْفِقْ وَيَكُونُ لَكَ الْمَاءُ كُلُّهُ تَسْقِي بِهِ حَتَّى يَأْتِيَ صَاحِبُكَ بِنِصْفِ مَا أَنْفَقْتَ فَإِذَا جَاءَ بِنِصْفِ مَا أَنْفَقْتَ أَخَذَ حِصَّتَهُ مِنْ الْمَاءِ وَإِنَّمَا أُعْطِيَ الْأَوَّلُ الْمَاءَ كُلَّهُ لِأَنَّهُ أَنْفَقَ وَلَوْ لَمْ يُدْرِكْ شَيْئًا بِعَمَلِهِ لَمْ يَعْلَقْ الْآخَرَ مِنْ النَّفَقَةِ شَيْءٌ قَالَ مَالِك وَإِذَا كَانَتْ النَّفَقَةُ كُلُّهَا وَالْمَئُونَةُ عَلَى رَبِّ الْحَائِطِ وَلَمْ يَكُنْ عَلَى الدَّاخِلِ فِي الْمَالِ شَيْءٌ إِلَّا أَنَّهُ يَعْمَلُ بِيَدِهِ إِنَّمَا هُوَ أَجِيرٌ بِبَعْضِ الثَّمَرِ فَإِنَّ ذَلِكَ لَا يَصْلُحُ لِأَنَّهُ لَا يَدْرِي كَمْ إِجَارَتُهُ إِذَا لَمْ يُسَمِّ لَهُ شَيْئًا يَعْرِفُهُ وَيَعْمَلُ عَلَيْهِ لَا يَدْرِي أَيَقِلُّ ذَلِكَ أَمْ يَكْثُرُ قَالَ مَالِك وَكُلُّ مُقَارِضٍ أَوْ مُسَاقٍ فَلَا يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يَسْتَثْنِيَ مِنْ الْمَالِ وَلَا مِنْ النَّخْلِ شَيْئًا دُونَ صَاحِبِهِ وَذَلِكَ أَنَّهُ يَصِيرُ لَهُ أَجِيرًا بِذَلِكَ يَقُولُ أُسَاقِيكَ عَلَى أَنْ تَعْمَلَ لِي فِي كَذَا وَكَذَا نَخْلَةً تَسْقِيهَا وَتَأْبُرُهَا وَأُقَارِضُكَ فِي كَذَا وَكَذَا مِنْ الْمَالِ عَلَى أَنْ تَعْمَلَ لِي بِعَشَرَةِ دَنَانِيرَ لَيْسَتْ مِمَّا أُقَارِضُكَ عَلَيْهِ فَإِنَّ ذَلِكَ لَا يَنْبَغِي وَلَا يَصْلُحُ وَذَلِكَ الْأَمْرُ عِنْدَنَا قَالَ مَالِك وَالسُّنَّةُ فِي الْمُسَاقَاةِ الَّتِي يَجُوزُ لِرَبِّ الْحَائِطِ أَنْ يَشْتَرِطَهَا عَلَى الْمُسَاقَى شَدُّ الْحِظَارِ وَخَمُّ الْعَيْنِ وَسَرْوُ الشَّرَبِ وَإِبَّارُ النَّخْلِ وَقَطْعُ الْجَرِيدِ وَجَذُّ الثَّمَرِ هَذَا وَأَشْبَاهُهُ عَلَى أَنَّ لِلْمُسَاقَى شَطْرَ الثَّمَرِ أَوْ أَقَلَّ مِنْ ذَلِكَ أَوْ أَكْثَرَ إِذَا تَرَاضَيَا عَلَيْهِ غَيْرَ أَنَّ صَاحِبَ الْأَصْلِ لَا يَشْتَرِطُ ابْتِدَاءَ عَمَلٍ جَدِيدٍ يُحْدِثُهُ الْعَامِلُ فِيهَا مِنْ بِئْرٍ يَحْتَفِرُهَا أَوْ عَيْنٍ يَرْفَعُ رَأْسَهَا أَوْ غِرَاسٍ يَغْرِسُهُ فِيهَا يَأْتِي بِأَصْلِ ذَلِكَ مِنْ عِنْدِهِ أَوْ ضَفِيرَةٍ يَبْنِيهَا تَعْظُمُ فِيهَا نَفَقَتُهُ وَإِنَّمَا ذَلِكَ بِمَنْزِلَةِ أَنْ يَقُولَ رَبُّ الْحَائِطِ لِرَجُلٍ مِنْ النَّاسِ ابْنِ لِي هَاهُنَا بَيْتًا أَوْ احْفِرْ لِي بِئْرًا أَوْ أَجْرِ لِي عَيْنًا أَوْ اعْمَلْ لِي عَمَلًا بِنِصْفِ ثَمَرِ حَائِطِي هَذَا قَبْلَ أَنْ يَطِيبَ ثَمَرُ الْحَائِطِ وَيَحِلَّ بَيْعُهُ فَهَذَا بَيْعُ الثَّمَرِ قَبْلَ أَنْ يَبْدُوَ صَلَاحُهُ وَقَدْ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الثِّمَارِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهَا قَالَ مَالِك فَأَمَّا إِذَا طَابَ الثَّمَرُ وَبَدَا صَلَاحُهُ وَحَلَّ بَيْعُهُ ثُمَّ قَالَ رَجُلٌ لِرَجُلٍ اعْمَلْ لِي بَعْضَ هَذِهِ الْأَعْمَالِ لِعَمَلٍ يُسَمِّيهِ لَهُ بِنِصْفِ ثَمَرِ حَائِطِي هَذَا فَلَا بَأْسَ بِذَلِكَ إِنَّمَا اسْتَأْجَرَهُ بِشَيْءٍ مَعْرُوفٍ مَعْلُومٍ قَدْ رَآهُ وَرَضِيَهُ فَأَمَّا الْمُسَاقَاةُ فَإِنَّهُ إِنْ لَمْ يَكُنْ لِلْحَائِطِ ثَمَرٌ أَوْ قَلَّ ثَمَرُهُ أَوْ فَسَدَ فَلَيْسَ لَهُ إِلَّا ذَلِكَ وَأَنَّ الْأَجِيرَ لَا يُسْتَأْجَرُ إِلَّا بِشَيْءٍ مُسَمًّى لَا تَجُوزُ الْإِجَارَةُ إِلَّا بِذَلِكَ وَإِنَّمَا الْإِجَارَةُ بَيْعٌ مِنْ الْبُيُوعِ إِنَّمَا يَشْتَرِي مِنْهُ عَمَلَهُ وَلَا يَصْلُحُ ذَلِكَ إِذَا دَخَلَهُ الْغَرَرُ لِأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ الْغَرَرِ قَالَ مَالِك السُّنَّةُ فِي الْمُسَاقَاةِ عِنْدَنَا أَنَّهَا تَكُونُ فِي أَصْلِ كُلِّ نَخْلٍ أَوْ كَرْمٍ أَوْ زَيْتُونٍ أَوْ رُمَّانٍ أَوْ فِرْسِكٍ أَوْ مَا أَشْبَهَ ذَلِكَ مِنْ الْأُصُولِ جَائِزٌ لَا بَأْسَ بِهِ عَلَى أَنَّ لِرَبِّ الْمَالِ نِصْفَ الثَّمَرِ مِنْ ذَلِكَ أَوْ ثُلُثَهُ أَوْ رُبُعَهُ أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ أَوْ أَقَلَّ قَالَ مَالِك وَالْمُسَاقَاةُ أَيْضًا تَجُوزُ فِي الزَّرْعِ إِذَا خَرَجَ وَاسْتَقَلَّ فَعَجَزَ صَاحِبُهُ عَنْ سَقْيِهِ وَعَمَلِهِ وَعِلَاجِهِ فَالْمُسَاقَاةُ فِي ذَلِكَ أَيْضًا جَائِزَةٌ قَالَ مَالِك لَا تَصْلُحُ الْمُسَاقَاةُ فِي شَيْءٍ مِنْ الْأُصُولِ مِمَّا تَحِلُّ فِيهِ الْمُسَاقَاةُ إِذَا كَانَ فِيهِ ثَمَرٌ قَدْ طَابَ وَبَدَا صَلَاحُهُ وَحَلَّ بَيْعُهُ وَإِنَّمَا يَنْبَغِي أَنْ يُسَاقَى مِنْ الْعَامِ الْمُقْبِلِ وَإِنَّمَا مُسَاقَاةُ مَا حَلَّ بَيْعُهُ مِنْ الثِّمَارِ إِجَارَةٌ لِأَنَّهُ إِنَّمَا سَاقَى صَاحِبَ الْأَصْلِ ثَمَرًا قَدْ بَدَا صَلَاحُهُ عَلَى أَنْ يَكْفِيَهُ إِيَّاهُ وَيَجُذَّهُ لَهُ بِمَنْزِلَةِ الدَّنَانِيرِ وَالدَّرَاهِمِ يُعْطِيهِ إِيَّاهَا وَلَيْسَ ذَلِكَ بِالْمُسَاقَاةِ إِنَّمَا الْمُسَاقَاةُ مَا بَيْنَ أَنْ يَجُذَّ النَّخْلَ إِلَى أَنْ يَطِيبَ الثَّمَرُ وَيَحِلَّ بَيْعُهُ قَالَ مَالِك وَمَنْ سَاقَى ثَمَرًا فِي أَصْلٍ قَبْلَ أَنْ يَبْدُوَ صَلَاحُهُ وَيَحِلَّ بَيْعُهُ فَتِلْكَ الْمُسَاقَاةُ بِعَيْنِهَا جَائِزَةٌ قَالَ مَالِك وَلَا يَنْبَغِي أَنْ تُسَاقَى الْأَرْضُ الْبَيْضَاءُ وَذَلِكَ أَنَّهُ يَحِلُّ لِصَاحِبِهَا كِرَاؤُهَا بِالدَّنَانِيرِ وَالدَّرَاهِمِ وَمَا أَشْبَهَ ذَلِكَ مِنْ الْأَثْمَانِ الْمَعْلُومَةِ قَالَ فَأَمَّا الرَّجُلُ الَّذِي يُعْطِي أَرْضَهُ الْبَيْضَاءَ بِالثُّلُثِ أَوْ الرُّبُعِ مِمَّا يَخْرُجُ مِنْهَا فَذَلِكَ مِمَّا يَدْخُلُهُ الْغَرَرُ لِأَنَّ الزَّرْعَ يَقِلُّ مَرَّةً وَيَكْثُرُ مَرَّةً وَرُبَّمَا هَلَكَ رَأْسًا فَيَكُونُ صَاحِبُ الْأَرْضِ قَدْ تَرَكَ كِرَاءً مَعْلُومًا يَصْلُحُ لَهُ أَنْ يُكْرِيَ أَرْضَهُ بِهِ وَأَخَذَ أَمْرًا غَرَرًا لَا يَدْرِي أَيَتِمُّ أَمْ لَا فَهَذَا مَكْرُوهٌ وَإِنَّمَا ذَلِكَ مَثَلُ رَجُلٍ اسْتَأْجَرَ أَجِيرًا لِسَفَرٍ بِشَيْءٍ مَعْلُومٍ ثُمَّ قَالَ الَّذِي اسْتَأْجَرَ الْأَجِيرَ هَلْ لَكَ أَنْ أُعْطِيَكَ عُشْرَ مَا أَرْبَحُ فِي سَفَرِي هَذَا إِجَارَةً لَكَ فَهَذَا لَا يَحِلُّ وَلَا يَنْبَغِي قَالَ مَالِك وَلَا يَنْبَغِي لِرَجُلٍ أَنْ يُؤَاجِرَ نَفْسَهُ وَلَا أَرْضَهُ وَلَا سَفِينَتَهُ إِلَّا بِشَيْءٍ مَعْلُومٍ لَا يَزُولُ إِلَى غَيْرِهِ قَالَ مَالِك وَإِنَّمَا فَرَّقَ بَيْنَ الْمُسَاقَاةِ فِي النَّخْلِ وَالْأَرْضِ الْبَيْضَاءِ أَنَّ صَاحِبَ النَّخْلِ لَا يَقْدِرُ عَلَى أَنْ يَبِيعَ ثَمَرَهَا حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهُ وَصَاحِبُ الْأَرْضِ يُكْرِيهَا وَهِيَ أَرْضٌ بَيْضَاءُ لَا شَيْءَ فِيهَا قَالَ مَالِك وَالْأَمْرُ عِنْدَنَا فِي النَّخْلِ أَيْضًا إِنَّهَا تُسَاقِي السِّنِينَ الثَّلَاثَ وَالْأَرْبَعَ وَأَقَلَّ مِنْ ذَلِكَ وَأَكْثَرَ قَالَ وَذَلِكَ الَّذِي سَمِعْتُ وَكُلُّ شَيْءٍ مِثْلُ ذَلِكَ مِنْ الْأُصُولِ بِمَنْزِلَةِ النَّخْلِ يَجُوزُ فِيهِ لِمَنْ سَاقَى مِنْ السِّنِينَ مِثْلُ مَا يَجُوزُ فِي النَّخْلِ قَالَ مَالِك فِي الْمُسَاقِي إِنَّهُ لَا يَأْخُذُ مِنْ صَاحِبِهِ الَّذِي سَاقَاهُ شَيْئًا مِنْ ذَهَبٍ وَلَا وَرِقٍ يَزْدَادُهُ وَلَا طَعَامٍ وَلَا شَيْئًا مِنْ الْأَشْيَاءِ لَا يَصْلُحُ ذَلِكَ وَلَا يَنْبَغِي أَنْ يَأْخُذَ الْمُسَاقَى مِنْ رَبِّ الْحَائِطِ شَيْئًا يَزِيدُهُ إِيَّاهُ مِنْ ذَهَبٍ وَلَا وَرِقٍ وَلَا طَعَامٍ وَلَا شَيْءٍ مِنْ الْأَشْيَاءِ وَالزِّيَادَةُ فِيمَا بَيْنَهُمَا لَا تَصْلُحُ قَالَ مَالِك وَالْمُقَارِضُ أَيْضًا بِهَذِهِ الْمَنْزِلَةِ لَا يَصْلُحُ إِذَا دَخَلَتْ الزِّيَادَةُ فِي الْمُسَاقَاةِ أَوْ الْمُقَارَضَةِ صَارَتْ إِجَارَةً وَمَا دَخَلَتْهُ الْإِجَارَةُ فَإِنَّهُ لَا يَصْلُحُ وَلَا يَنْبَغِي أَنْ تَقَعَ الْإِجَارَةُ بِأَمْرٍ غَرَرٍ لَا يَدْرِي أَيَكُونُ أَمْ لَا يَكُونُ أَوْ يَقِلُّ أَوْ يَكْثُرُ قَالَ مَالِك فِي الرَّجُلِ يُسَاقِي الرَّجُلَ الْأَرْضَ فِيهَا النَّخْلُ وَالْكَرْمُ أَوْ مَا أَشْبَهَ ذَلِكَ مِنْ الْأُصُولِ فَيَكُونُ فِيهَا الْأَرْضُ الْبَيْضَاءُ قَالَ مَالِك إِذَا كَانَ الْبَيَاضُ تَبَعًا لِلْأَصْلِ وَكَانَ الْأَصْلُ أَعْظَمَ ذَلِكَ أَوْ أَكْثَرَهُ فَلَا بَأْسَ بِمُسَاقَاتِهِ وَذَلِكَ أَنْ يَكُونَ النَّخْلُ الثُّلُثَيْنِ أَوْ أَكْثَرَ وَيَكُونَ الْبَيَاضُ الثُّلُثَ أَوْ أَقَلَّ مِنْ ذَلِكَ وَذَلِكَ أَنَّ الْبَيَاضَ حِينَئِذٍ تَبَعٌ لِلْأَصْلِ وَإِذَا كَانَتْ الْأَرْضُ الْبَيْضَاءُ فِيهَا نَخْلٌ أَوْ كَرْمٌ أَوْ مَا يُشْبِهُ ذَلِكَ مِنْ الْأُصُولِ فَكَانَ الْأَصْلُ الثُّلُثَ أَوْ أَقَلَّ وَالْبَيَاضُ الثُّلُثَيْنِ أَوْ أَكْثَرَ جَازَ فِي ذَلِكَ الْكِرَاءُ وَحَرُمَتْ فِيهِ الْمُسَاقَاةُ وَذَلِكَ أَنَّ مِنْ أَمْرِ النَّاسِ أَنْ يُسَاقُوا الْأَصْلَ وَفِيهِ الْبَيَاضُ وَتُكْرَى الْأَرْضُ وَفِيهَا الشَّيْءُ الْيَسِيرُ مِنْ الْأَصْلِ أَوْ يُبَاعَ الْمُصْحَفُ أَوْ السَّيْفُ وَفِيهِمَا الْحِلْيَةُ مِنْ الْوَرِقِ بِالْوَرِقِ أَوْ الْقِلَادَةُ أَوْ الْخَاتَمُ وَفِيهِمَا الْفُصُوصُ وَالذَّهَبُ بِالدَّنَانِيرِ وَلَمْ تَزَلْ هَذِهِ الْبُيُوعُ جَائِزَةً يَتَبَايَعُهَا النَّاسُ وَيَبْتَاعُونَهَا وَلَمْ يَأْتِ فِي ذَلِكَ شَيْءٌ مَوْصُوفٌ مَوْقُوفٌ عَلَيْهِ إِذَا هُوَ بَلَغَهُ كَانَ حَرَامًا أَوْ قَصُرَ عَنْهُ كَانَ حَلَالًا وَالْأَمْرُ فِي ذَلِكَ عِنْدَنَا الَّذِي عَمِلَ بِهِ النَّاسُ وَأَجَازُوهُ بَيْنَهُمْ أَنَّهُ إِذَا كَانَ الشَّيْءُ مِنْ ذَلِكَ الْوَرِقِ أَوْ الذَّهَبِ تَبَعًا لِمَا هُوَ فِيهِ جَازَ بَيْعُهُ وَذَلِكَ أَنْ يَكُونَ النَّصْلُ أَوْ الْمُصْحَفُ أَوْ الْفُصُوصُ قِيمَتُهُ الثُّلُثَانِ أَوْ أَكْثَرُ وَالْحِلْيَةُ قِيمَتُهَا الثُّلُثُ أَوْ أَقَلُّ

سلیمان بن یسار سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عبداللہ بن روحہ کو بھیجتے تھے خبیر کی طرف وہ پھلوں کا اور زمینوں کا اندازہ کردیتے تھے ایک بار یہودیوں نے اپنی عورتوں کا زیور جمع کیا اور عبداللہ بن روحہ کو دینے لگے یہ لے مگر ہمارے محصول میں کمی کردو عبداللہ بن روحہ نے کہا اے یہود اللہ کی ساری مخلوق میں میں تم کو زیادہ برا سمجھتا ہوں اس پر بھی میں نہیں چاہتا کہ تم پر ظلم کروں اور جو تم مجھے رشوت دیتے ہو وہ حرام ہے اس کو ہم لوگ نہیں کھاتے اس وقت یہودی کہنے لگے اس وجہ سے اب تک آسمان اور زمین قائم ہیں۔ کہا مالک نے اگر کوئی ایسی زمین کی مساقات کرے جس میں درخت بھی ہوں انگور کے یا کھجور کے اور خالی زمین بھی ہو تو اگر خالی زمین ثلث یا ثلث سے کم ہو تو مساقات درست ہے اور اگر خالی زمین زیادہ ہو اور درخت ثلث یا ثلث سے کم میں ہوں تو ایسی زمین کا کرایہ دینا درست ہے مگر مساقات درست نہیں کیونکہ لوگوں کا یہ دستور ہے کہ زمین میں مساقات کیا کرتے ہیں اور اس میں تھوڑی سی زمین میں درخت بھی رہتے ہیں یا جس مصحف یا تلوار میں چاندی لگی ہو اس کو چاندی کے بدلے میں بیچنے میں یا ہار یا انگوٹھی کو جس میں سونا بھی ہوسونے کے بدلے میں بیچتے ہیں اور ہمیشہ سے لوگ اس قسم کی خریدو فروخت کرتے چلے آئے ہیں اور اس کی کوئی حد نہیں مقرر کی کہ اس قدر سونا یا چاندی ہو تو حلال ہے اور اس سے زیادہ ہو تو حرام ہے مگر ہمارے نزدیک لوگوں کے عملدرامد کے موافق یہ حکم ٹھہرا ہے کہ جب مصحف یا تلوار یا انگوٹھی میں سونا چاندی دثلث قیمت کے برابر ہو یا اس سے کم تو اس کی بیع چاندی یا سونے کے بدلے میں درست ہے ورنہ درست نہیں۔

Malik related to me from Ibn Shihab from Sulayman ibn Yasar that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, used to send Abdullah ibn Rawaha to Khaybar, to assess the division of the fruit crop between him and the jews of Khaybar. The jews collected for Abdullah pieces of their womens jewellery and said to him, "This is yours. Go light on us and dont be exact in the division!" Abdullah ibn Rawaha said, "O tribe of jews! By Allah! You are among the most hateful to me of Allahs creation, but it does not prompt me to deal unjustly with you. What you have offered as a bribe is forbidden. We will not touch it." They said, "This is what supports the heavens and the earth."

1298Mauwatta Imam Malik

غلاموں کی خدمت کی شرط کرنا مساقات میں۔

بَاب الشَّرْطِ فِي الرَّقِيقِ فِي الْمُسَاقَاةِ قَالَ يَحْيَى قَالَ مَالِك إِنَّ أَحْسَنَ مَا سُمِعَ فِي عُمَّالِ الرَّقِيقِ فِي الْمُسَاقَاةِ يَشْتَرِطُهُمْ الْمُسَاقَى عَلَى صَاحِبِ الْأَصْلِ إِنَّهُ لَا بَأْسَ بِذَلِكَ لِأَنَّهُمْ عُمَّالُ الْمَالِ فَهُمْ بِمَنْزِلَةِ الْمَالِ لَا مَنْفَعَةَ فِيهِمْ لِلدَّاخِلِ إِلَّا أَنَّهُ تَخِفُّ عَنْهُ بِهِمْ الْمَئُونَةُ وَإِنْ لَمْ يَكُونُوا فِي الْمَالِ اشْتَدَّتْ مَئُونَتُهُ وَإِنَّمَا ذَلِكَ بِمَنْزِلَةِ الْمُسَاقَاةِ فِي الْعَيْنِ وَالنَّضْحِ وَلَنْ تَجِدَ أَحَدًا يُسَاقَى فِي أَرْضَيْنِ سَوَاءٍ فِي الْأَصْلِ وَالْمَنْفَعَةِ إِحْدَاهُمَا بِعَيْنٍ وَاثِنَةٍ غَزِيرَةٍ وَالْأُخْرَى بِنَضْحٍ عَلَى شَيْءٍ وَاحِدٍ لِخِفَّةِ مُؤْنَةِ الْعَيْنِ وَشِدَّةِ مُؤْنَةِ النَّضْحِ قَالَ وَعَلَى ذَلِكَ الْأَمْرُ عِنْدَنَا قَالَ وَالْوَاثِنَةُ الثَّابِتُ مَاؤُهَا الَّتِي لَا تَغُورُ وَلَا تَنْقَطِعُ قَالَ مَالِك وَلَيْسَ لِلْمُسَاقَى أَنْ يَعْمَلَ بِعُمَّالِ الْمَالِ فِي غَيْرِهِ وَلَا أَنْ يَشْتَرِطَ ذَلِكَ عَلَى الَّذِي سَاقَاهُ قَالَ مَالِك وَلَا يَجُوزُ لِلَّذِي سَاقَى أَنْ يَشْتَرِطَ عَلَى رَبِّ الْمَالِ رَقِيقًا يَعْمَلُ بِهِمْ فِي الْحَائِطِ لَيْسُوا فِيهِ حِينَ سَاقَاهُ إِيَّاهُ قَالَ مَالِك وَلَا يَنْبَغِي لِرَبِّ الْمَالِ أَنْ يَشْتَرِطَ عَلَى الَّذِي دَخَلَ فِي مَالِهِ بِمُسَاقَاةٍ أَنْ يَأْخُذَ مِنْ رَقِيقِ الْمَالِ أَحَدًا يُخْرِجُهُ مِنْ الْمَالِ وَإِنَّمَا مُسَاقَاةُ الْمَالِ عَلَى حَالِهِ الَّذِي هُوَ عَلَيْهِ قَالَ فَإِنْ كَانَ صَاحِبُ الْمَالِ يُرِيدُ أَنْ يُخْرِجَ مِنْ رَقِيقِ الْمَالِ أَحَدًا فَلْيُخْرِجْهُ قَبْلَ الْمُسَاقَاةِ أَوْ يُرِيدُ أَنْ يُدْخِلَ فِيهِ أَحَدًا فَلْيَفْعَلْ ذَلِكَ قَبْلَ الْمُسَاقَاةِ ثُمَّ يُسَاقِي بَعْدَ ذَلِكَ إِنْ شَاءَ قَالَ وَمَنْ مَاتَ مِنْ الرَّقِيقِ أَوْ غَابَ أَوْ مَرِضَ فَعَلَى رَبِّ الْمَالِ أَنْ يُخْلِفَهُ

کہا مالک نے اگر عامل زمین کے مالک سے یہ شرط کرلے کہ کام کاج کے واسطے جو غلام پہلے مقرر تھے وہ میرے پاس بھی مقرر رکھنا تو اس میں کچھ قباحت نہیں کیونکہ اس میں عامل کی کچھ منفعت نہیں ہے صرف اتنافائدہ ہے کہ اس کے ہونے سے عامل کو محنت کم پڑے گی اگر وہ نہ ہوتے تو محنت زیادہ پڑتی۔ اس کی ایسی ہے کہ ایک مساقات ان درختوں میں ہو کہ جن میں پانی چشموں سے آتا ہے اور ایک مساقاہ ان درختوں میں ہو کہ نہاں پانی بھر کر اونٹ پر لانا پڑتا ہے دونوں برابر نہیں ہوسکتیں اس لئے کہ ایک میں محنت زیادہ ہے اور دوسرے میں کم۔ کہا مالک نے عامل کو یہ نہیں پہنچتا کہ ان غلاموں سے اور کوئی کام لے یا مالک سے اس کی شرط کرلے۔ کہا مالک نے عامل کو یہ درست نہیں کہ مالک سے ان غلاموں کی شرط کرلے جو پہلے سے باغ میں مقرر نہ تھے۔ کہا مالک نے زمین کے مالک کو یہ درست نہیں کہ جو غلام پہلے سے باغ میں مقرر تھے ان میں سے کسی غلام کے نکال لینے کی شرط مقرر کرے بلکہ اگر کسی غلام کو نکالنا چاہے تو مساقات کے اول نکال لے اسی طرح اگر کسی کو شریک کرنا چاہے تو مساقات کے اول شریک کرلے بعد اس کے مساقات کرے۔

Yahya said that Malik said, "The best of what has been heard about a sharecropper stipulating on the owner of the property the inclusion of some slave workers, is that there is no harm in that if they are workers that come with the property. They are like the property. There is no profit in them for the share-cropper except to lighten some of his burden. If they did not come with the property, his toil would be harder. It is like share-cropping land with a spring or land with a watering trough. You will not find anyone who receives the same share for share-cropping two lands which are equal in property and yield, when one property has a constant plentiful spring and the other has a watering trough, because of the lightness of working land with a spring, and the hardship of working land with a watering trough."

1299Mauwatta Imam Malik

کراء الارض زمین کو کرایہ پر دینے کے بیان میں

عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی عَنْ کِرَائِ الْمَزَارِعِ قَالَ حَنْظَلَةُ فَسَأَلْتُ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ فَقَالَ أَمَّا بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ فَلَا بَأْسَ بِهِ

رافع بن خدیج سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے منع کیا کھیتوں کے کرایہ دینے سے حنظلہ نے کہا میں نے رافع سے پوچھا اگر سونے یا چاندی کے بدلے میں کرایہ کر دے انہوں نے کہا کچھ قباحت نہیں۔

Yahya related to me from Malik from Rabia ibn Abd ar-Rahman from Handhala ibn Qays az-Zuraqi from Rafi ibn Khadij that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, forbade renting out fields. Handhala said, "I asked Rafi ibn Khadij, about paying in gold and silver, and he said, There is no harm in it. "

1300Mauwatta Imam Malik

کراء الارض زمین کو کرایہ پر دینے کے بیان میں

عَنْ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ عَنْ کِرَائِ الْأَرْضِ بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ فَقَالَ لَا بَأْسَ بِهِ

سعید بن مسیب سے ابن شہاب نے پوچھا زمین کو کرایہ پر دینا سونے یا چاندی کے بدلے میں درست ہے کہا ہاں کچھ قباحت نہیں۔

Malik related to me that Ibn Shihab said, "I asked Said ibn al-Musayyab about renting land for gold or silver, and he said, There is no harm in it. "