Mauwatta Imam Malik

All 1,740 hadiths in order · Page 66 of 87

1301Mauwatta Imam Malik

کراء الارض زمین کو کرایہ پر دینے کے بیان میں

عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّهُ سَأَلَ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ کِرَائِ الْمَزَارِعِ فَقَالَ لَا بَأْسَ بِهَا بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ فَقُلْتُ لَهُ أَرَأَيْتَ الْحَدِيثَ الَّذِي يُذْکَرُ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ فَقَالَ أَکْثَرَ رَافِعٌ وَلَوْ کَانَ لِي مَزْرَعَةٌ أَکْرَيْتُهَا عَنْ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ تَکَارَی أَرْضًا فَلَمْ تَزَلْ فِي يَدَيْهِ بِکِرَائٍ حَتَّی مَاتَ قَالَ ابْنُهُ فَمَا کُنْتُ أُرَاهَا إِلَّا لَنَا مِنْ طُولِ مَا مَکَثَتْ فِي يَدَيْهِ حَتَّی ذَکَرَهَا لَنَا عِنْدَ مَوْتِهِ فَأَمَرَنَا بِقَضَائِ شَيْئٍ کَانَ عَلَيْهِ مِنْ کِرَائِهَا ذَهَبٍ أَوْ وَرِقٍ

ابن شہاب نے سالم بن عبداللہ سے پوچھا کہ کھتیوں کا کرایہ دینا کیسا ہے انہوں نے کہا کچھ قباحت نہیں سونے یا چاندی کے بدلے میں ابن شہاب نے کہا کیا تم کو رافع بن خدیج کی حدیث نہیں پہنچی سام نے کہا رافع نے زیادتی کی اگر میرے پاس زمین مزروعہ ہوتی تو میں اس کو کرایہ دیتا۔ عبدالرحمن بن عورف نے ایک زمین کرایہ کو لی ہمیشہ ان کے پاس رہی مرے دم تک ان کے بیٹے نے کہا ہم اس کو اپنی ملک سمجھتے تھے اس وجہ سے کہ معت تک ہمارے پاس رہی جب عبدالرحمن مرنے لگے تو انہوں نے کہا وہ کرایہ کی ہے اور حکم کیا کہ کرایہ ادا کرنے کا جو ان پر باقی تھا سونے یا چاندی کی قسم سے۔

Malik related to me from Ibn Shihab that he asked Salim ibn Abdullah ibn Umar about renting out fields. He said, "There is no harm in it for gold or silver." Ibn Shihab said, "I said to him, What do you think of the hadith which is mentioned from Rafi ibn Khadij?" He said, Rafi has exaggerated. If I had a field, I would rent it out."

1302Mauwatta Imam Malik

کراء الارض زمین کو کرایہ پر دینے کے بیان میں

عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ کَانَ يُکْرِي أَرْضَهُ بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ

عروہ بن زبیر اپنی زمین کو کرایہ پر دیتے تھے چاندی یا سونے کے بدلے میں۔

Malik related to me from Hisham ibn Urwa that his father used to rent out his land for gold and silver. Malik was asked about a man who rented his field for 10O sa of dates or part of its produce of wheat or from other than its produce. He disapproved of that.

1303Mauwatta Imam Malik

جس چیز میں شفعہ ثابت ہو اس کا بیان

عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ وَعَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَی بِالشُّفْعَةِ فِيمَا لَمْ يُقْسَمْ بَيْنَ الشُّرَکَائِ فَإِذَا وَقَعَتْ الْحُدُودُ بَيْنَهُمْ فَلَا شُفْعَةَ فِيهِ قَالَ مَالِك وَعَلَى ذَلِكَ السُّنَّةُ الَّتِي لَا اخْتِلَافَ فِيهَا عِنْدَنَا قَالَ مَالِك إِنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ سُئِلَ عَنْ الشُّفْعَةِ هَلْ فِيهَا مِنْ سُنَّةٍ فَقَالَ نَعَمْ الشُّفْعَةُ فِي الدُّورِ وَالْأَرَضِينَ وَلَا تَكُونُ إِلَّا بَيْنَ الشُّرَكَاءِ و حَدَّثَنِي مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ مِثْلُ ذَلِكَ قَالَ مَالِك فِي رَجُلٍ اشْتَرَى شِقْصًا مَعَ قَوْمٍ فِي أَرْضٍ بِحَيَوَانٍ عَبْدٍ أَوْ وَلِيدَةٍ أَوْ مَا أَشْبَهَ ذَلِكَ مِنْ الْعُرُوضِ فَجَاءَ الشَّرِيكُ يَأْخُذُ بِشُفْعَتِهِ بَعْدَ ذَلِكَ فَوَجَدَ الْعَبْدَ أَوْ الْوَلِيدَةَ قَدْ هَلَكَا وَلَمْ يَعْلَمْ أَحَدٌ قَدْرَ قِيمَتِهِمَا فَيَقُولُ الْمُشْتَرِي قِيمَةُ الْعَبْدِ أَوْ الْوَلِيدَةِ مِائَةُ دِينَارٍ وَيَقُولُ صَاحِبُ الشُّفْعَةِ الشَّرِيكُ بَلْ قِيمَتُهَا خَمْسُونَ دِينَارًا قَالَ مَالِك يَحْلِفُ الْمُشْتَرِي أَنَّ قِيمَةَ مَا اشْتَرَى بِهِ مِائَةُ دِينَارٍ ثُمَّ إِنْ شَاءَ أَنْ يَأْخُذَ صَاحِبُ الشُّفْعَةِ أَخَذَ أَوْ يَتْرُكَ إِلَّا أَنْ يَأْتِيَ الشَّفِيعُ بِبَيِّنَةٍ أَنَّ قِيمَةَ الْعَبْدِ أَوْ الْوَلِيدَةِ دُونَ مَا قَالَ الْمُشْتَرِي قَالَ مَالِك مَنْ وَهَبَ شِقْصًا فِي دَارٍ أَوْ أَرْضٍ مُشْتَرَكَةٍ فَأَثَابَهُ الْمَوْهُوبُ لَهُ بِهَا نَقْدًا أَوْ عَرْضًا فَإِنَّ الشُّرَكَاءَ يَأْخُذُونَهَا بِالشُّفْعَةِ إِنْ شَاءُوا وَيَدْفَعُونَ إِلَى الْمَوْهُوبِ لَهُ قِيمَةَ مَثُوبَتِهِ دَنَانِيرَ أَوْ دَرَاهِمَ قَالَ مَالِك مَنْ وَهَبَ هِبَةً فِي دَارٍ أَوْ أَرْضٍ مُشْتَرَكَةٍ فَلَمْ يُثَبْ مِنْهَا وَلَمْ يَطْلُبْهَا فَأَرَادَ شَرِيكُهُ أَنْ يَأْخُذَهَا بِقِيمَتِهَا فَلَيْسَ ذَلِكَ لَهُ مَا لَمْ يُثَبْ عَلَيْهَا فَإِنْ أُثِيبَ فَهُوَ لِلشَّفِيعِ بِقِيمَةِ الثَّوَابِ قَالَ مَالِك فِي رَجُلٍ اشْتَرَى شِقْصًا فِي أَرْضٍ مُشْتَرَكَةٍ بِثَمَنٍ إِلَى أَجَلٍ فَأَرَادَ الشَّرِيكُ أَنْ يَأْخُذَهَا بِالشُّفْعَةِ قَالَ مَالِك إِنْ كَانَ مَلِيًّا فَلَهُ الشُّفْعَةُ بِذَلِكَ الثَّمَنِ إِلَى ذَلِكَ الْأَجَلِ وَإِنْ كَانَ مَخُوفًا أَنْ لَا يُؤَدِّيَ الثَّمَنَ إِلَى ذَلِكَ الْأَجَلِ فَإِذَا جَاءَهُمْ بِحَمِيلٍ مَلِيٍّ ثِقَةٍ مِثْلِ الَّذِي اشْتَرَى مِنْهُ الشِّقْصَ فِي الْأَرْضِ الْمُشْتَرَكَةِ فَذَلِكَ لَهُ قَالَ مَالِك لَا تَقْطَعُ شُفْعَةَ الْغَائِبِ غَيْبَتُهُ وَإِنْ طَالَتْ غَيْبَتُهُ وَلَيْسَ لِذَلِكَ عِنْدَنَا حَدٌّ تُقْطَعُ إِلَيْهِ الشُّفْعَةُ قَالَ مَالِك فِي الرَّجُلِ يُوَرِّثُ الْأَرْضَ نَفَرًا مِنْ وَلَدِهِ ثُمَّ يُولَدُ لِأَحَدِ النَّفَرِ ثُمَّ يَهْلِكُ الْأَبُ فَيَبِيعُ أَحَدُ وَلَدِ الْمَيِّتِ حَقَّهُ فِي تِلْكَ الْأَرْضِ فَإِنَّ أَخَا الْبَائِعِ أَحَقُّ بِشُفْعَتِهِ مِنْ عُمُومَتِهِ شُرَكَاءِ أَبِيهِ قَالَ مَالِك وَهَذَا الْأَمْرُ عِنْدَنَا قَالَ مَالِك الشُّفْعَةُ بَيْنَ الشُّرَكَاءِ عَلَى قَدْرِ حِصَصِهِمْ يَأْخُذُ كُلُّ إِنْسَانٍ مِنْهُمْ بِقَدْرِ نَصِيبِهِ إِنْ كَانَ قَلِيلًا فَقَلِيلًا وَإِنْ كَانَ كَثِيرًا فَبِقَدْرِهِ وَذَلِكَ إِنْ تَشَاحُّوا فِيهَا قَالَ مَالِك فَأَمَّا أَنْ يَشْتَرِيَ رَجُلٌ مِنْ رَجُلٍ مِنْ شُرَكَائِهِ حَقَّهُ فَيَقُولُ أَحَدُ الشُّرَكَاءِ أَنَا آخُذُ مِنْ الشُّفْعَةِ بِقَدْرِ حِصَّتِي وَيَقُولُ الْمُشْتَرِي إِنْ شِئْتَ أَنْ تَأْخُذَ الشُّفْعَةَ كُلَّهَا أَسْلَمْتُهَا إِلَيْكَ وَإِنْ شِئْتَ أَنْ تَدَعَ فَدَعْ فَإِنَّ الْمُشْتَرِيَ إِذَا خَيَّرَهُ فِي هَذَا وَأَسْلَمَهُ إِلَيْهِ فَلَيْسَ لِلشَّفِيعِ إِلَّا أَنْ يَأْخُذَ الشُّفْعَةَ كُلَّهَا أَوْ يُسْلِمَهَا إِلَيْهِ فَإِنْ أَخَذَهَا فَهُوَ أَحَقُّ بِهَا وَإِلَّا فَلَا شَيْءَ لَهُ قَالَ مَالِك فِي الرَّجُلِ يَشْتَرِي الْأَرْضَ فَيَعْمُرُهَا بِالْأَصْلِ يَضَعُهُ فِيهَا أَوْ الْبِئْرِ يَحْفِرُهَا ثُمَّ يَأْتِي رَجُلٌ فَيُدْرِكُ فِيهَا حَقًّا فَيُرِيدُ أَنْ يَأْخُذَهَا بِالشُّفْعَةِ إِنَّهُ لَا شُفْعَةَ لَهُ فِيهَا إِلَّا أَنْ يُعْطِيَهُ قِيمَةَ مَا عَمَرَ فَإِنْ أَعْطَاهُ قِيمَةَ مَا عَمَرَ كَانَ أَحَقَّ بِالشُّفْعَةِ وَإِلَّا فَلَا حَقَّ لَهُ فِيهَا قَالَ مَالِك مَنْ بَاعَ حِصَّتَهُ مِنْ أَرْضٍ أَوْ دَارٍ مُشْتَرَكَةٍ فَلَمَّا عَلِمَ أَنَّ صَاحِبَ الشُّفْعَةِ يَأْخُذُ بِالشُّفْعَةِ اسْتَقَالَ الْمُشْتَرِيَ فَأَقَالَهُ قَالَ لَيْسَ ذَلِكَ لَهُ وَالشَّفِيعُ أَحَقُّ بِهَا بِالثَّمَنِ الَّذِي كَانَ بَاعَهَا بِهِ قَالَ مَالِك مَنْ اشْتَرَى شِقْصًا فِي دَارٍ أَوْ أَرْضٍ وَحَيَوَانًا وَعُرُوضًا فِي صَفْقَةٍ وَاحِدَةٍ فَطَلَبَ الشَّفِيعُ شُفْعَتَهُ فِي الدَّارِ أَوْ الْأَرْضِ فَقَالَ الْمُشْتَرِي خُذْ مَا اشْتَرَيْتُ جَمِيعًا فَإِنِّي إِنَّمَا اشْتَرَيْتُهُ جَمِيعًا قَالَ مَالِك بَلْ يَأْخُذُ الشَّفِيعُ شُفْعَتَهُ فِي الدَّارِ أَوْ الْأَرْضِ بِحِصَّتِهَا مِنْ ذَلِكَ الثَّمَنِ يُقَامُ كُلُّ شَيْءٍ اشْتَرَاهُ مِنْ ذَلِكَ عَلَى حِدَتِهِ عَلَى الثَّمَنِ الَّذِي اشْتَرَاهُ بِهِ ثُمَّ يَأْخُذُ الشَّفِيعُ شُفْعَتَهُ بِالَّذِي يُصِيبُهَا مِنْ الْقِيمَةِ مِنْ رَأْسِ الثَّمَنِ وَلَا يَأْخُذُ مِنْ الْحَيَوَانِ وَالْعُرُوضِ شَيْئًا إِلَّا أَنْ يَشَاءَ ذَلِكَ قَالَ مَالِك وَمَنْ بَاعَ شِقْصًا مِنْ أَرْضٍ مُشْتَرَكَةٍ فَسَلَّمَ بَعْضُ مَنْ لَهُ فِيهَا الشُّفْعَةُ لِلْبَائِعِ وَأَبَى بَعْضُهُمْ إِلَّا أَنْ يَأْخُذَ بِشُفْعَتِهِ إِنَّ مَنْ أَبَى أَنْ يُسَلِّمَ يَأْخُذُ بِالشُّفْعَةِ كُلِّهَا وَلَيْسَ لَهُ أَنْ يَأْخُذَ بِقَدْرِ حَقِّهِ وَيَتْرُكَ مَا بَقِيَ قَالَ مَالِك فِي نَفَرٍ شُرَكَاءَ فِي دَارٍ وَاحِدَةٍ فَبَاعَ أَحَدُهُمْ حِصَّتَهُ وَشُرَكَاؤُهُ غُيَّبٌ كُلُّهُمْ إِلَّا رَجُلًا فَعُرِضَ عَلَى الْحَاضِرِ أَنْ يَأْخُذَ بِالشُّفْعَةِ أَوْ يَتْرُكَ فَقَالَ أَنَا آخُذُ بِحِصَّتِي وَأَتْرُكُ حِصَصَ شُرَكَائِي حَتَّى يَقْدَمُوا فَإِنْ أَخَذُوا فَذَلِكَ وَإِنْ تَرَكُوا أَخَذْتُ جَمِيعَ الشُّفْعَةِ قَالَ مَالِك لَيْسَ لَهُ إِلَّا أَنْ يَأْخُذَ ذَلِكَ كُلَّهُ أَوْ يَتْرُكَ فَإِنْ جَاءَ شُرَكَاؤُهُ أَخَذُوا مِنْهُ أَوْ تَرَكُوا إِنْ شَاءُوا فَإِذَا عُرِضَ هَذَا عَلَيْهِ فَلَمْ يَقْبَلْهُ فَلَا أَرَى لَهُ شُفْعَةً قَالَ مَالِک لَا تَقْطَعُ شُفْعَةَ الْغَائِبِ غَيْبَتُهُ وَإِنْ طَالَتْ غَيْبَتُهُ وَلَيْسَ لِذَلِکَ عِنْدَنَا حَدٌّ تُقْطَعُ إِلَيْهِ الشُّفْعَةُ

سعید بن مسیب اور ابی سلمہ بن عبدالرحمن ؓ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حکم کیا شفعہ کا اس چیز میں جو تقسیم نہ ہوئی ہو شریکوں میں جب تقسیم ہوجائے اور حدیں قائم ہوجائیں پھر اس میں شفعہ نہیں۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہی حکم ہے اور اس میں کچھ اختلاف نہیں ہے۔ سعید بن مسیب سے سوال ہوا کہ شفعے میں کیا حکم ہے انہوں نے کہا شفعہ مکان میں اور زمین میں ہوتا ہے اور شفعے کا استحاق صرف شریک کو ہوتا ہے۔ سلیمان بن یسار نے بھی ایسا ہی کہا۔ کہا مالک نے اگر ایک شخص نے مشترک زمین کا ایک حصہ کسی جانور یا غلام کے بدلے میں خریدا اب دوسراشریک مشتری (خریدنے والا) سے شفعے کا مدعی ہوا لیکن وہ جانور یا غلام تلف ہوگیا اور اس کی قیمت معلوم نہیں مشتری (خریدنے والا) کہتا ہے اس کی قیمت سو دینار تھی اور شفیع کہتا ہے پچاس دینار تھی تو مشتری (خریدنے والا) سے قسم لیں گے اس امر پر کہ اس جانور یا غلام کی قیمت سو دینار تھی۔ بعد اس کے شفیع کو اختیار ہوگا چاہے سو دینار دے کر زمین کے اس حصے کو لے لے چاہے چھوڑ دے البتہ اگر شفیع گواہ لائے اس امر پر کہ اس جانور یا غلام کی قیمت پچاس دینار تھی تو اس کا قول معتبر ہوگا۔ کہا مالک نے جس شخص نے اپنے مشترک گھر یا مشترک زمین کا ایک حصہ کسی کو ہبہ کیا موہوب لہ نے واہب کو اس کے بدلے میں کچھ نقد دیا یا چیز دی تو اور شریک موہوب لہ کو اسی قدر نقد یا اس چیز کی قیمت دے کر شفعہ لے لیں گے۔ کہا مالک نے اگر کسی شخص نے اپنا حصہ مشترک زمین یا مشترک گھر میں ہبہ کیا لیکن موہوب لہ نے اس کا بدلہ نہیں دیا تو شفیع کو شفعہ کا استحقاق نہ ہوگا جب موہوب لہ دے گا تو شفیع موہوب لہ کو اس بدلہ کی قیمت دے کر شفعہ لے لے گا۔ کہا مالک نے اگر بیع کے وقت شفیع غائب ہو تو اس کا شفعہ باطل نہ ہوگا اگرچہ کتنی ہی مدت گزر جائے۔ کہا مالک نے اگر کئی شریکوں کو شفعے کا استحقاق ہو تو ہر ایک ان میں سے اپنے حصے کے موافق مبیع میں سے حصہ لیں گے اگر ایک شخص نے مشترک حصہ خرید کیا اور سب شریکوں نے سفعے کا دعویٰ چھوڑ دیا مگر ایک شریک نے مشتری (خریدنے والا) سے یہ کہا کہ میں اپنے حصے کے موافق تیری زمین سے شفعہ لوں گا۔ مشتری (خریدنے والا) یہ کہے یا تو تو پوری زمین جس قدر میں نے خریدی ہے سب لے لے یا شفعے کا دعویٰ چھوڑے تو شفیع کو لازم ہوگا یا تو پورا حصہ مشتری (خریدنے والا) سے لے لے یا شفعے کا دعویٰ چھوڑ دے۔ کہا مالک نے ایک شخص زمین کو خرید کر اس میں درخت لگادے یا کنواں کھود دے پھر ایک شخص اس زمین کے شفعے کا دعویٰ کرتا ہوا آئے تو اس کو شفعہ نہ ملے گیا جب تک کہ مشتری (خریدنے والا) کے کنوئیں اور درختوں کی بھی قیمت نہ دے۔ کہا مالک نے جس شخص نے مشترک گھر یا زمین میں سے اپنا حصہ بیچاجب بائع (بچنے والا) کو معلوم ہوا کہ شفیع اپناشفعہ لے تو اس نے بیع کو فسخ کر ڈالا اس صورت میں شفع کا شفعہ ساقط نہ ہوگا بلکہ اس قدر دام دے کر جتنے کو وہ حصہ بکا تھا اس حصے کو لے گا۔ کہا مالک نے اگر ایک شخص نے ایک حصہ مشترک گھر یا زمین کا اور ایک جانور اور کچھ اسباب ایک ہی عقد میں خرید کیا پھر شفیع نے اپنا حصہ یا شفعہ اس زمین یا گھر میں مانگا مشتری (خریدنے والا) کہنے لگا جتنی چیزیں میں نے خریدی ہیں تو ان سب کو لے لے کیونکہ میں نے ان سب کو ایک عقد میں خریدا ہے تو شففیع زمین یا گھر میں اپنا شفعہ لے گا اس طرح پر کہ ان سب چیزوں کی علیحدہ علیحدہ قیمت لگائیں گے اور پھر ثمن کو ہر ایک قیمت پر حصہ رسد تقسیم کریں گے جو حصہ ثمن کا زمین یا مکان کی قیمت پر آئے اس قدر شفیع کو دے کر وہ حصہ زمین یا مکان کا لے لے گا اور یہ ضروری نہیں کہ اس جانور اور اسباب کو بھی لے لے البتہ اگر اپنی خوشی سے لے تو مضائقہ نہیں۔ کہا مالک نے جس شخص نے مشترک زمین میں سے ایک حصہ خرید کیا اور سب شفیعوں نے شفعے کا عدویٰ چھوڑ دیا مگر ایک شفیع نے شفعہ طلب کیا تو اس شفیع کو چاہیے کہ پورا حصہ مشتری (خریدنے والا) کا لے لے یہ نہیں ہوسکتا کہ اپنے حصے کہ موافق اس میں سے لے لے۔ کہا مالک نے اگر ایک گھر میں چند آدمی شریک ہوں اور ایک آدمی ان میں سے اپنا حصہ بیچے سب شرکاء کی غیبت میں مگر ایک شریک کی موجودگی میں اب جو شریک موجود اس سے کہا جائے تو شفعہ لیتا ہے یا نہیں لیتا۔ وہ کہے بالفعل میں اپنے حصے کے موافق لے لیتا ہوں بعد اس کے جب میرے شریک آئیں گے وہ اپنے حصوں کو خرید کریں گے تو بہتر۔ نہیں تو میں کل شفعہ لے لوں گا تو یہ نہیں ہوسکتا بلکہ جو شریک موجود ہے اس سے صاف کہہ دیا جائے گا یا تو شفعہ کل لے لے یا چھوڑ دے اگر وہ لے لے گا تو بہتر نہیں تو اس کا شفعہ ساقط ہوجائے گا۔

Yahya related to me from Malik from Ibn Shihab from Said ibn al-Musayyab and from Abu Salama ibn Abd ar-Rahman ibn Awf that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, decreed for partners the right of preemption in property which had not been divided up. When boundaries had been fixed between them, then there was no right of pre-emption.

1304Mauwatta Imam Malik

جن چیزوں میں شفعہ نہیں ہے ان کا بیان

عَنْ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ قَالَ إِذَا وَقَعَتْ الْحُدُودُ فِي الْأَرْضِ فَلَا شُفْعَةَ فِيهَا وَلَا شُفْعَةَ فِي بِئْرٍ وَلَا فِي فَحْلِ النَّخْلِ قَالَ مَالِک وَعَلَی هَذَا الْأَمْرُ عِنْدَنَا قَالَ مَالِك وَلَا شُفْعَةَ فِي طَرِيقٍ صَلُحَ الْقَسْمُ فِيهَا أَوْ لَمْ يَصْلُحْ قَالَ مَالِك وَالْأَمْرُ عِنْدَنَا أَنَّهُ لَا شُفْعَةَ فِي عَرْصَةِ دَارٍ صَلُحَ الْقَسْمُ فِيهَا أَوْ لَمْ يَصْلُحْ قَالَ مَالِك فِي رَجُلٍ اشْتَرَى شِقْصًا مِنْ أَرْضٍ مُشْتَرَكَةٍ عَلَى أَنَّهُ فِيهَا بِالْخِيَارِ فَأَرَادَ شُرَكَاءُ الْبَائِعِ أَنْ يَأْخُذُوا مَا بَاعَ شَرِيكُهُمْ بِالشُّفْعَةِ قَبْلَ أَنْ يَخْتَارَ الْمُشْتَرِي إِنَّ ذَلِكَ لَا يَكُونُ لَهُمْ حَتَّى يَأْخُذَ الْمُشْتَرِي وَيَثْبُتَ لَهُ الْبَيْعُ فَإِذَا وَجَبَ لَهُ الْبَيْعُ فَلَهُمْ الشُّفْعَةُ و قَالَ مَالِك فِي الرَّجُلِ يَشْتَرِي أَرْضًا فَتَمْكُثُ فِي يَدَيْهِ حِينًا ثُمَّ يَأْتِي رَجُلٌ فَيُدْرِكُ فِيهَا حَقًّا بِمِيرَاثٍ إِنَّ لَهُ الشُّفْعَةَ إِنْ ثَبَتَ حَقُّهُ وَإِنَّ مَا أَغَلَّتْ الْأَرْضُ مِنْ غَلَّةٍ فَهِيَ لِلْمُشْتَرِي الْأَوَّلِ إِلَى يَوْمِ يَثْبُتُ حَقُّ الْآخَرِ لِأَنَّهُ قَدْ كَانَ ضَمِنَهَا لَوْ هَلَكَ مَا كَانَ فِيهَا مِنْ غِرَاسٍ أَوْ ذَهَبَ بِهِ سَيْلٌ قَالَ فَإِنْ طَالَ الزَّمَانُ أَوْ هَلَكَ الشُّهُودُ أَوْ مَاتَ الْبَائِعُ أَوْ الْمُشْتَرِي أَوْ هُمَا حَيَّانِ فَنُسِيَ أَصْلُ الْبَيْعِ وَالِاشْتِرَاءِ لِطُولِ الزَّمَانِ فَإِنَّ الشُّفْعَةَ تَنْقَطِعُ وَيَأْخُذُ حَقَّهُ الَّذِي ثَبَتَ لَهُ وَإِنْ كَانَ أَمْرُهُ عَلَى غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ فِي حَدَاثَةِ الْعَهْدِ وَقُرْبِهِ وَأَنَّهُ يَرَى أَنَّ الْبَائِعَ غَيَّبَ الثَّمَنَ وَأَخْفَاهُ لِيَقْطَعَ بِذَلِكَ حَقَّ صَاحِبِ الشُّفْعَةِ قُوِّمَتْ الْأَرْضُ عَلَى قَدْرِ مَا يُرَى أَنَّهُ ثَمَنُهَا فَيَصِيرُ ثَمَنُهَا إِلَى ذَلِكَ ثُمَّ يُنْظَرُ إِلَى مَا زَادَ فِي الْأَرْضِ مِنْ بِنَاءٍ أَوْ غِرَاسٍ أَوْ عِمَارَةٍ فَيَكُونُ عَلَى مَا يَكُونُ عَلَيْهِ مَنْ ابْتَاعَ الْأَرْضَ بِثَمَنٍ مَعْلُومٍ ثُمَّ بَنَى فِيهَا وَغَرَسَ ثُمَّ أَخَذَهَا صَاحِبُ الشُّفْعَةِ بَعْدَ ذَلِكَ قَالَ مَالِك وَالشُّفْعَةُ ثَابِتَةٌ فِي مَالِ الْمَيِّتِ كَمَا هِيَ فِي مَالِ الْحَيِّ فَإِنْ خَشِيَ أَهْلُ الْمَيِّتِ أَنْ يَنْكَسِرَ مَالُ الْمَيِّتِ قَسَمُوهُ ثُمَّ بَاعُوهُ فَلَيْسَ عَلَيْهِمْ فِيهِ شُفْعَةٌ قَالَ مَالِك وَلَا شُفْعَةَ عِنْدَنَا فِي عَبْدٍ وَلَا وَلِيدَةٍ وَلَا بَعِيرٍ وَلَا بَقَرَةٍ وَلَا شَاةٍ وَلَا فِي شَيْءٍ مِنْ الْحَيَوَانِ وَلَا فِي ثَوْبٍ وَلَا فِي بِئْرٍ لَيْسَ لَهَا بَيَاضٌ إِنَّمَا الشُّفْعَةُ فِيمَا يَصْلُحُ أَنَّهُ يَنْقَسِمُ وَتَقَعُ فِيهِ الْحُدُودُ مِنْ الْأَرْضِ فَأَمَّا مَا لَا يَصْلُحُ فِيهِ الْقَسْمُ فَلَا شُفْعَةَ فِيهِ قَالَ مَالِك وَمَنْ اشْتَرَى أَرْضًا فِيهَا شُفْعَةٌ لِنَاسٍ حُضُورٍ فَلْيَرْفَعْهُمْ إِلَى السُّلْطَانِ فَإِمَّا أَنْ يَسْتَحِقُّوا وَإِمَّا أَنْ يُسَلِّمَ لَهُ السُّلْطَانُ فَإِنْ تَرَكَهُمْ فَلَمْ يَرْفَعْ أَمْرَهُمْ إِلَى السُّلْطَانِ وَقَدْ عَلِمُوا بِاشْتِرَائِهِ فَتَرَكُوا ذَلِكَ حَتَّى طَالَ زَمَانُهُ ثُمَّ جَاءُوا يَطْلُبُونَ شُفْعَتَهُمْ فَلَا أَرَى ذَلِكَ لَهُمْ

حضرت عثمان نے کہا جب زمین میں حدیں پڑجائیں تو اس میں شفعہ نہ ہوگا اور نہیں شفعہ ہے کنوئیں میں اور نہ کھجور کے نر درخت میں۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہی حکم ہے۔ کہا مالک نے راستے میں شفعہ نہیں ہے خواہ وہ تقسیم کے لائق ہو یا نہ ہو۔ کہا مالک نے اگر مشتری (خریدنے والا) نے خیار کی شرط سے زمین کے ایک حصے کو خریدا تو شفیع کو شفعے کا حق نہ ہوگا جب تک کہ مشتری (خریدنے والا) کا خیار پورا نہ ہو۔ اور وہ اس کو قطعی طور پر نہ لے۔ کہا مالک نے اگر ایک شخص نے زمین خریدی اور مدت تک اس پر قابض رہا بعد اس کے ایک شخص نے اس زمین میں اپنا حق ثابت کیا تو اس کو شفعہ ملے گا اور جو کچھ زمین میں منفعت ہوئی ہے وہ مشتری (خریدنے والا) کی ہوگی جس تاریخ تک اس کا حق ثابت ہوا ہے کیونکہ وہ مشتری (خریدنے والا) اس زمین کا ضامن تھا اگر وہ رتلف ہوجاتی یا اس کے درخت تلف ہوجاتے۔ اگر بہت مدت گزر گئی یا گواہ مرگئے یا بائع (بچنے والا) اور مشتری (خریدنے والا اور بیچنے والا) مرگئے یا وہ رندہ ہیں مگر بیع کو بھول گئے بہت مدت گزرنے کی وجہ سے اس صورت میں اس شخص کو اس کا حق تو ملے گا مگر شفعے کا دعویٰ نہ پہنچے گا۔ اگر زمانہ بہت نہیں گزرا ہے اور اس شخص کو معلوم ہوا کہ بائع (بچنے والا) نے قصداً شفعہ باطل کرنے کے واسطے بیع کو چھپایا ہے تو اصل زمین کی قیمت اور جو اس میں زیادہ ہوگیا ہے اس کی قیمت وہ شخص ادا کر کے شفعہ لے لے گا۔ کہا مالک نے جیسے زندہ کے مال میں شفعہ ہے ویسے میت کے مال میں بھی شفعہ ہے۔ البتہ اگر میت کے وارث اس کے مال کو تقسیم کرلیں پھر بیچیں تو اس میں شفعہ نہ ہوگا۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک غلام اور لونڈی اور اونٹ اور گائے اور بکری اور جانور اور کپڑے میں شفعہ نہیں ہے نہ اس کنوئیں میں جس کے متعلق زمین نہیں ہے کیونکہ شفعہ اس زمین میں ہوتا ہے جو تقسیم کے قابل ہے اور اس میں حدود ہوتے ہیں زمین کی قسم سے جو چیز ایسی نہیں ہے اس میں شفعہ بھی نہیں ہے۔ کہا مالک نے اگر کسی شخص نے ایسی زمین خریدی جس میں لوگوں کو حق شفعہ پہنچتا ہے تو چاہیے کہ شفیعوں کو حاکم کے پاس لے چائے یا شفعہ لیں یا چھوڑ دیں اگر مشتری (خریدنے والا) شفیعوں کو حاکم کے پاس نہیں لے گیا لیکن ان کو خریدنے کی خبر ہوگئی تھی اور انہوں نے مدت شفعہ کا دعویٰ نہ کیا بعد اس کے دعویٰ کیا تو مسموع نہ ہوگا۔ پوری ہوئی کتاب شفعے کی۔

Yahya said that Malik related from Muhammad ibn Umara from Abu Bakr (RA) ibn Hazm that Uthman ibn Affan said, "When boundaries are fixed in land, there is no pre-emption in it. There is no pre-emption in a well or in male palm trees. "

1305Mauwatta Imam Malik

سچے حکم کرنے کا بیان

عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ وَإِنَّکُمْ تَخْتَصِمُونَ إِلَيَّ فَلَعَلَّ بَعْضَکُمْ أَنْ يَکُونَ أَلْحَنَ بِحُجَّتِهِ مِنْ بَعْضٍ فَأَقْضِيَ لَهُ عَلَی نَحْوِ مَا أَسْمَعُ مِنْهُ فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ بِشَيْئٍ مِنْ حَقِّ أَخِيهِ فَلَا يَأْخُذَنَّ مِنْهُ شَيْئًا فَإِنَّمَا أَقْطَعُ لَهُ قِطْعَةً مِنْ النَّارِ

ام سلمہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں بھی بشر ہوں اور تم میرے پاس لڑتے جھگڑتے آتے ہو شائد تم میں سے کوئی باتیں بنا کر اپنے دعوے کو ثابت کرلے پھر میں اس کے موافق فیصلہ کروں اس کے کہنے پر تو جس شخص کو میں اس کے بھائی حقل دلا دوں وہ نہ لے کیونکہ میں ایک انگارہ آگ کا اس کو دلاتا ہوں۔

Yahya related to me from Malik from Hisham ibn Urwa from his father from Zaynab bint Abi Salama from Umm Salama, the wife of the Prophet, may Allah bless him and grant him peace, that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "I am but a man to whom you bring your disputes. Perhaps one of you is more eloquent in his proof than the other, so I give judgement according to what I have heard from him. Whatever I decide for him which is part of the right of his brother, he must not take any of it, for I am granting him a portion of the Fire."

1306Mauwatta Imam Malik

سچے حکم کرنے کا بیان

عَنْ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ اخْتَصَمَ إِلَيْهِ مُسْلِمٌ وَيَهُودِيٌّ فَرَأَی عُمَرُ أَنَّ الْحَقَّ لِلْيَهُودِيِّ فَقَضَی لَهُ فَقَالَ لَهُ الْيَهُودِيُّ وَاللَّهِ لَقَدْ قَضَيْتَ بِالْحَقِّ فَضَرَبَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ بِالدِّرَّةِ ثُمَّ قَالَ وَمَا يُدْرِيکَ فَقَالَ لَهُ الْيَهُودِيُّ إِنَّا نَجِدُ أَنَّهُ لَيْسَ قَاضٍ يَقْضِي بِالْحَقِّ إِلَّا کَانَ عَنْ يَمِينِهِ مَلَکٌ وَعَنْ شِمَالِهِ مَلَکٌ يُسَدِّدَانِهِ وَيُوَفِّقَانِهِ لِلْحَقِّ مَا دَامَ مَعَ الْحَقِّ فَإِذَا تَرَکَ الْحَقَّ عَرَجَا وَتَرَکَاهُ

حضرت عمر بن خطاب کے پاس ایک یہودی اور ایک مسلمان لڑتے ہوئے آئے حضرت عمر کو یہودی کی طرف حق معلوم ہوا انہوں ہے اس کے موافق فیصلہ کیا پھر یہودی بولا قسم اللہ کی تم نے سچا فیصلہ کیا حضرت عمر نے اس کو درے سے مار اور کہا تجھے کیونکرمعلوم ہوا یہودی نے کہا ہماری کتابوں میں لکھا ہے جو حاکم سچا فیصلہ کرتا ہے اس کے داہنے ایک فرشتہ ہوتا ہے اور بائیں ایک فرشتہ دونوں اس کو مضبوط کرتے ہیں اور سیدھی راہ بتلاتے ہیں جب تک کہ وہ حاکم حق پر جما رہتا ہے جب حق چھوڑ دیتا ہے وہ فرشتے بھی اس کو چھوڑ کر آسمان پر چڑھ جاتے ہیں۔

Malik related to me from Yahya ibn Said from Said ibn al-Musayyab that Umar ibn al-Khattab had a dispute brought to him between a muslim and a jew. Umar saw that the right belonged to the jew and decided in his favour. The jew said to him, "By Allah! You have judged correctly. So Umar ibn al-Khattab struck him with a whip and said, "How can you be sure." The jew said to him, "We find that there is no judge who judges correctly but that there is an angel on his right side and an angel on his left side who guide him and give him success in the truth as long as he is with the truth. When he leaves the truth, they rise and leave him."

1307Mauwatta Imam Malik

گواہیوں کا بیان

عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَلَا أُخْبِرُکُمْ بِخَيْرِ الشُّهَدَائِ الَّذِي يَأْتِي بِشَهَادَتِهِ قَبْلَ أَنْ يُسْأَلَهَا أَوْ يُخْبِرُ بِشَهَادَتِهِ قَبْلَ أَنْ يُسْأَلَهَا

زید بن خالد جہنی سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کیا نہ خبر دوں میں تم کو سب سے بہتر گواہ کی جو گواہی دیتا ہے قبل اس کے کہ پوچھا جائے اس سے۔

Yahya related to me from Malik from Abdullah ibn Abi Bakr ibn Muhammad ibn Amr ibn Hazm from his father from Abdullah ibn Amr ibn Uthman from Abu Amra al-Ansari from Zayd ibn Khalid al-Juhani that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Shall I not tell you who is the best of witnesses? The one who brings his testimony before he is asked for it, or tells his testimony before he is asked for it."

1308Mauwatta Imam Malik

گواہیوں کا بیان

عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُ قَالَ قَدِمَ عَلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ فَقَالَ لَقَدْ جِئْتُکَ لِأَمْرٍ مَا لَهُ رَأْسٌ وَلَا ذَنَبٌ فَقَالَ عُمَرُ مَا هُوَ قَالَ شَهَادَاتُ الزُّورِ ظَهَرَتْ بِأَرْضِنَا فَقَالَ عُمَرُ أَوَ قَدْ کَانَ ذَلِکَ قَالَ نَعَمْ فَقَالَ عُمَرُ وَاللَّهِ لَا يُؤْسَرُ رَجُلٌ فِي الْإِسْلَامِ بِغَيْرِ الْعُدُولِ عَنْ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَالَ لَا تَجُوزُ شَهَادَةُ خَصْمٍ وَلَا ظَنِينٍ

ربیعہ بن ابو عبدالرحمن ؓ روایت ہے کہ ایک شخص عراق کا رہنے والا حضرت عمرب کے پاس آیا اور بولا میں تمہارے پاس اس کام کو آیا ہوں جس کا سر پیر کچھ نہیں حضرت عمر نے کہا کیا ہے اس نے کہا جھوٹی گواہیاں ہمارے ملک میں بہت پھیل گئی ہیں حضرت عمر نے کہا سچ اس نے کہا ہاں تب حضرت عمر نے کہا اب کوئی شخص مسلمان قید نہ کیا جائے گا بغیر معتبر گواہوں کے۔ حضرت عمر نے کہا نہیں درست ہے گواہی دشمن کی اور متہم کی۔

Malik related to me that Rabia ibn Abi Abd ar-Rahman said, "An Iraqi man came before Umar ibn al-Khattab and said, I have come to you because of a matter which has no beginning and no end. Umar said, What is it? The man said, False testimony has appeared in our land. Umar said, Is that so? He said, Yes. Umar said, By Allah! A man is not detained in Islam without just witnesses. "

1309Mauwatta Imam Malik

جس کو حد قذف پڑی ہو اس کی گواہ کا بیان

عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ وَغَيْرِهِ أَنَّهُمْ سُئِلُوا عَنْ رَجُلٍ جُلِدَ الْحَدَّ أَتَجُوزُ شَهَادَتُهُ فَقَالُوا نَعَمْ إِذَا ظَهَرَتْ مِنْهُ التَّوْبَةُ عَنْ ابْنَ شِهَابٍ يُسْأَلُ عَنْ ذَلِکَ فَقَالَ مِثْلَ مَا قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ قَالَ مَالِک وَذَلِکَ الْأَمْرُ عِنْدَنَا وَذَلِکَ لِقَوْلِ اللَّهِ تَبَارَکَ وَتَعَالَی وَالَّذِينَ يَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ ثُمَّ لَمْ يَأْتُوا بِأَرْبَعَةِ شُهَدَائَ فَاجْلِدُوهُمْ ثَمَانِينَ جَلْدَةً وَلَا تَقْبَلُوا لَهُمْ شَهَادَةً أَبَدًا وَأُولَئِکَ هُمْ الْفَاسِقُونَ إِلَّا الَّذِينَ تَابُوا مِنْ بَعْدِ ذَلِکَ وَأَصْلَحُوا فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ

سلیمان بن یسار وغیرہ سے سوال ہوا کہ ایک شخص کو حد قذف پڑی پھر اس کی گواہی درست ہے انہوں نے کہا ہاں جب وہ توبہ کرلے اور اس کی توبہ کی سچائی اس کے اعمال سے معلوم ہوجائے۔ ابن شہاب سے بھی یہ سوال ہوا انہوں نے بھی ایسا ہی کہا۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہی حکم ہے کیونکہ اللہ جل جلالہ نے فرمایا جو لوگ لگاتے ہیں نیک بخت بیبیوں کو پھر چار گواہ نہیں لاتے ان کو اسی کوڑے مارو پھر کبھی ان کی گواہی قبول نہ کرو وہی گنہگار ہیں مگر جو لوگ توبہ کریں بعد اس کے اور نیک ہوجائیں تو بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے پس جو شخص حد قذف لگایا جائے پھر توبہ لرے اور نیک ہوجائے اس کی گواہی درست ہے۔

Yahya said from Malik that he heard from Sulayman ibn Yasar and others that when they were asked whether the testimony of a man flogged for a hadd crime was permitted, they said, "Yes, when repentance (tawba) appears from him."

1310Mauwatta Imam Malik

ایک گواہ اور قسم پر فیصلہ کرنے کا بیان

عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَی بِالْيَمِينِ مَعَ الشَّاهِدِ

جعفر بن محمد اپنے باپ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فیصلہ کیا ایک قسم اور ایک گواہ پر۔

Yahya said, "Malik said from Jafar ibn Muhammad from his father that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, pronounced judgement on the basis of an oath with one witness."

1311Mauwatta Imam Malik

ایک گواہ اور قسم پر فیصلہ کرنے کا بیان

عَنْ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ کَتَبَ إِلَی عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ وَهُوَ عَامِلٌ عَلَی الْکُوفَةِ أَنْ اقْضِ بِالْيَمِينِ مَعَ الشَّاهِدِ و حَدَّثَنِي مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَسُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ سُئِلَا هَلْ يُقْضَى بِالْيَمِينِ مَعَ الشَّاهِدِ فَقَالَا نَعَمْ قَالَ مَالِك مَضَتْ السُّنَّةُ فِي الْقَضَاءِ بِالْيَمِينِ مَعَ الشَّاهِدِ الْوَاحِدِ يَحْلِفُ صَاحِبُ الْحَقِّ مَعَ شَاهِدِهِ وَيَسْتَحِقُّ حَقَّهُ فَإِنْ نَكَلَ وَأَبَى أَنْ يَحْلِفَ أُحْلِفَ الْمَطْلُوبُ فَإِنْ حَلَفَ سَقَطَ عَنْهُ ذَلِكَ الْحَقُّ وَإِنْ أَبَى أَنْ يَحْلِفَ ثَبَتَ عَلَيْهِ الْحَقُّ لِصَاحِبِهِ قَالَ مَالِك وَإِنَّمَا يَكُونُ ذَلِكَ فِي الْأَمْوَالِ خَاصَّةً وَلَا يَقَعُ ذَلِكَ فِي شَيْءٍ مِنْ الْحُدُودِ وَلَا فِي نِكَاحٍ وَلَا فِي طَلَاقٍ وَلَا فِي عَتَاقَةٍ وَلَا فِي سَرِقَةٍ وَلَا فِي فِرْيَةٍ فَإِنْ قَالَ قَائِلٌ فَإِنَّ الْعَتَاقَةَ مِنْ الْأَمْوَالِ فَقَدْ أَخْطَأَ لَيْسَ ذَلِكَ عَلَى مَا قَالَ وَلَوْ كَانَ ذَلِكَ عَلَى مَا قَالَ لَحَلَفَ الْعَبْدُ مَعَ شَاهِدِهِ إِذَا جَاءَ بِشَاهِدٍ أَنَّ سَيِّدَهُ أَعْتَقَهُ وَأَنَّ الْعَبْدَ إِذَا جَاءَ بِشَاهِدٍ عَلَى مَالٍ مِنْ الْأَمْوَالِ ادَّعَاهُ حَلَفَ مَعَ شَاهِدِهِ وَاسْتَحَقَّ حَقَّهُ كَمَا يَحْلِفُ الْحُرُّ قَالَ مَالِك فَالسُّنَّةُ عِنْدَنَا أَنَّ الْعَبْدَ إِذَا جَاءَ بِشَاهِدٍ عَلَى عَتَاقَتِهِ اسْتُحْلِفَ سَيِّدُهُ مَا أَعْتَقَهُ وَبَطَلَ ذَلِكَ عَنْهُ قَالَ مَالِك وَكَذَلِكَ السُّنَّةُ عِنْدَنَا أَيْضًا فِي الطَّلَاقِ إِذَا جَاءَتْ الْمَرْأَةُ بِشَاهِدٍ أَنَّ زَوْجَهَا طَلَّقَهَا أُحْلِفَ زَوْجُهَا مَا طَلَّقَهَا فَإِذَا حَلَفَ لَمْ يَقَعْ عَلَيْهِ الطَّلَاقُ قَالَ مَالِك فَسُنَّةُ الطَّلَاقِ وَالْعَتَاقَةِ فِي الشَّاهِدِ الْوَاحِدِ وَاحِدَةٌ إِنَّمَا يَكُونُ الْيَمِينُ عَلَى زَوْجِ الْمَرْأَةِ وَعَلَى سَيِّدِ الْعَبْدِ وَإِنَّمَا الْعَتَاقَةُ حَدٌّ مِنْ الْحُدُودِ لَا تَجُوزُ فِيهَا شَهَادَةُ النِّسَاءِ لِأَنَّهُ إِذَا عَتَقَ الْعَبْدُ ثَبَتَتْ حُرْمَتُهُ وَوَقَعَتْ لَهُ الْحُدُودُ وَوَقَعَتْ عَلَيْهِ وَإِنْ زَنَى وَقَدْ أُحْصِنَ رُجِمَ وَإِنْ قَتَلَ الْعَبْدَ قُتِلَ بِهِ وَثَبَتَ لَهُ الْمِيرَاثُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ مَنْ يُوَارِثُهُ فَإِنْ احْتَجَّ مُحْتَجٌّ فَقَالَ لَوْ أَنَّ رَجُلًا أَعْتَقَ عَبْدَهُ وَجَاءَ رَجُلٌ يَطْلُبُ سَيِّدَ الْعَبْدِ بِدَيْنٍ لَهُ عَلَيْهِ فَشَهِدَ لَهُ عَلَى حَقِّهِ ذَلِكَ رَجُلٌ وَامْرَأَتَانِ فَإِنَّ ذَلِكَ يُثْبِتُ الْحَقَّ عَلَى سَيِّدِ الْعَبْدِ حَتَّى تُرَدَّ بِهِ عَتَاقَتُهُ إِذَا لَمْ يَكُنْ لِسَيِّدِ الْعَبْدِ مَالٌ غَيْرُ الْعَبْدِ يُرِيدُ أَنْ يُجِيزَ بِذَلِكَ شَهَادَةَ النِّسَاءِ فِي الْعَتَاقَةِ فَإِنَّ ذَلِكَ لَيْسَ عَلَى مَا قَالَ وَإِنَّمَا مَثَلُ ذَلِكَ الرَّجُلُ يَعْتِقُ عَبْدَهُ ثُمَّ يَأْتِي طَالِبُ الْحَقِّ عَلَى سَيِّدِهِ بِشَاهِدٍ وَاحِدٍ فَيَحْلِفُ مَعَ شَاهِدِهِ ثُمَّ يَسْتَحِقُّ حَقَّهُ وَتُرَدُّ بِذَلِكَ عَتَاقَةُ الْعَبْدِ أَوْ يَأْتِي الرَّجُلُ قَدْ كَانَتْ بَيْنَهُ وَبَيْنَ سَيِّدِ الْعَبْدِ مُخَالَطَةٌ وَمُلَابَسَةٌ فَيَزْعُمُ أَنَّ لَهُ عَلَى سَيِّدِ الْعَبْدِ مَالًا فَيُقَالُ لِسَيِّدِ الْعَبْدِ احْلِفْ مَا عَلَيْكَ مَا ادَّعَى فَإِنْ نَكَلَ وَأَبَى أَنْ يَحْلِفَ حُلِّفَ صَاحِبُ الْحَقِّ وَثَبَتَ حَقُّهُ عَلَى سَيِّدِ الْعَبْدِ فَيَكُونُ ذَلِكَ يَرُدُّ عَتَاقَةَ الْعَبْدِ إِذَا ثَبَتَ الْمَالُ عَلَى سَيِّدِهِ قَالَ وَكَذَلِكَ أَيْضًا الرَّجُلُ يَنْكِحُ الْأَمَةَ فَتَكُونُ امْرَأَتَهُ فَيَأْتِي سَيِّدُ الْأَمَةِ إِلَى الرَّجُلِ الَّذِي تَزَوَّجَهَا فَيَقُولُ ابْتَعْتَ مِنِّي جَارِيَتِي فُلَانَةَ أَنْتَ وَفُلَانٌ بِكَذَا وَكَذَا دِينَارًا فَيُنْكِرُ ذَلِكَ زَوْجُ الْأَمَةِ فَيَأْتِي سَيِّدُ الْأَمَةِ بِرَجُلٍ وَامْرَأَتَيْنِ فَيَشْهَدُونَ عَلَى مَا قَالَ فَيَثْبُتُ بَيْعُهُ وَيَحِقُّ حَقُّهُ وَتَحْرُمُ الْأَمَةُ عَلَى زَوْجِهَا وَيَكُونُ ذَلِكَ فِرَاقًا بَيْنَهُمَا وَشَهَادَةُ النِّسَاءِ لَا تَجُوزُ فِي الطَّلَاقِ قَالَ مَالِك وَمِنْ ذَلِكَ أَيْضًا الرَّجُلُ يَفْتَرِي عَلَى الرَّجُلِ الْحُرِّ فَيَقَعُ عَلَيْهِ الْحَدُّ فَيَأْتِي رَجُلٌ وَامْرَأَتَانِ فَيَشْهَدُونَ أَنَّ الَّذِي افْتُرِيَ عَلَيْهِ عَبْدٌ مَمْلُوكٌ فَيَضَعُ ذَلِكَ الْحَدَّ عَنْ الْمُفْتَرِي بَعْدَ أَنْ وَقَعَ عَلَيْهِ وَشَهَادَةُ النِّسَاءِ لَا تَجُوزُ فِي الْفِرْيَةِ قَالَ مَالِك وَمِمَّا يُشْبِهُ ذَلِكَ أَيْضًا مِمَّا يَفْتَرِقُ فِيهِ الْقَضَاءُ وَمَا مَضَى مِنْ السُّنَّةِ أَنَّ الْمَرْأَتَيْنِ يَشْهَدَانِ عَلَى اسْتِهْلَالِ الصَّبِيِّ فَيَجِبُ بِذَلِكَ مِيرَاثُهُ حَتَّى يَرِثَ وَيَكُونُ مَالُهُ لِمَنْ يَرِثُهُ إِنْ مَاتَ الصَّبِيُّ وَلَيْسَ مَعَ الْمَرْأَتَيْنِ اللَّتَيْنِ شَهِدَتَا رَجُلٌ وَلَا يَمِينٌ وَقَدْ يَكُونُ ذَلِكَ فِي الْأَمْوَالِ الْعِظَامِ مِنْ الذَّهَبِ وَالْوَرِقِ وَالرِّبَاعِ وَالْحَوَائِطِ وَالرَّقِيقِ وَمَا سِوَى ذَلِكَ مِنْ الْأَمْوَالِ وَلَوْ شَهِدَتْ امْرَأَتَانِ عَلَى دِرْهَمٍ وَاحِدٍ أَوْ أَقَلَّ مِنْ ذَلِكَ أَوْ أَكْثَرَ لَمْ تَقْطَعْ شَهَادَتُهُمَا شَيْئًا وَلَمْ تَجُزْ إِلَّا أَنْ يَكُونَ مَعَهُمَا شَاهِدٌ أَوْ يَمِينٌ قَالَ مَالِك وَمِنْ النَّاسِ مَنْ يَقُولُ لَا تَكُونُ الْيَمِينُ مَعَ الشَّاهِدِ الْوَاحِدِ وَيَحْتَجُّ بِقَوْلِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَقَوْلُهُ الْحَقُّ وَاسْتَشْهِدُوا شَهِيدَيْنِ مِنْ رِجَالِكُمْ فَإِنْ لَمْ يَكُونَا رَجُلَيْنِ فَرَجُلٌ وَامْرَأَتَانِ مِمَّنْ تَرْضَوْنَ مِنْ الشُّهَدَاءِ يَقُولُ فَإِنْ لَمْ يَأْتِ بِرَجُلٍ وَامْرَأَتَيْنِ فَلَا شَيْءَ لَهُ وَلَا يُحَلَّفُ مَعَ شَاهِدِهِ قَالَ مَالِك فَمِنْ الْحُجَّةِ عَلَى مَنْ قَالَ ذَلِكَ الْقَوْلَ أَنْ يُقَالَ لَهُ أَرَأَيْتَ لَوْ أَنَّ رَجُلًا ادَّعَى عَلَى رَجُلٍ مَالًا أَلَيْسَ يَحْلِفُ الْمَطْلُوبُ مَا ذَلِكَ الْحَقُّ عَلَيْهِ فَإِنْ حَلَفَ بَطَلَ ذَلِكَ عَنْهُ وَإِنْ نَكَلَ عَنْ الْيَمِينِ حُلِّفَ صَاحِبُ الْحَقِّ إِنَّ حَقَّهُ لَحَقٌّ وَثَبَتَ حَقُّهُ عَلَى صَاحِبِهِ فَهَذَا مَا لَا اخْتِلَافَ فِيهِ عِنْدَ أَحَدٍ مِنْ النَّاسِ وَلَا بِبَلَدٍ مِنْ الْبُلْدَانِ فَبِأَيِّ شَيْءٍ أَخَذَ هَذَا أَوْ فِي أَيِّ مَوْضِعٍ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ وَجَدَهُ فَإِنْ أَقَرَّ بِهَذَا فَلْيُقْرِرْ بِالْيَمِينِ مَعَ الشَّاهِدِ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ ذَلِكَ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَأَنَّهُ لَيَكْفِي مِنْ ذَلِكَ مَا مَضَى مِنْ السُّنَّةِ وَلَكِنْ الْمَرْءُ قَدْ يُحِبُّ أَنْ يَعْرِفَ وَجْهَ الصَّوَابِ وَمَوْقِعَ الْحُجَّةِ فَفِي هَذَا بَيَانُ مَا أَشْكَلَ مِنْ ذَلِكَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى

عمر بن عبدالعزیز نے لکھا عبدالحمید بن عبدالرحمن کو اور وہ عامل تھے کوفہ کے کہ ایک قسم اور ایک گواہ پر فیصلہ کیا کر۔ ام سلمہ بن عبدالرحمن اور سلیمان بن یسار سے سوال ہوا کہ ایک گواہ اور ایک قسم پر فیصلہ کرنا درست ہے انہوں نے کہا ہاں۔ کہا مالک نے جب مدعی کے پاس ایک گواہ ہو تو اس کی گواہی لے کر مدعی کو قسم دیں گے اگر وہ قسم کھالے گا تو بری ہوجائے گا اگر وہ قسم کھانے سے انکار کرے تو مدعی کا دعویٰ اس پر ثابت ہوجائے گا۔ کہا مالک نے ایک قسم اور ایک گواہ سے فیصلہ کرنا صرف اموال کے عدوے میں ہوگا اور حدود اور نکاح اور طلاق اور عتاق اور سرقہ اور قذف میں ایک گواہ اور ایک قسم پر فیصلہ کرنا درست نہیں اور جس شخص نے عتاق کو اموال کے دعوے میں داخل کیا اس نے غلطی کی کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو غلام جب ایک گواہ لاتا اس امر پر کہ مولیٰ نے اس کو آزاد کردیا ہے تو چاہیے تھا کہ غلام سے حلف لے کے اس کو آزاد کردیتے حالانکہ ایسا نہیں ہے بلکہ جب غلام اپنی آزادی پر ایک گواہ لائے تو اس کے مولیٰ سے حلف لیں گے اگر حلف کرلے گا تو آزادی ثابت نہ ہوگی۔ کہا مالک نے اسی طرح اگر عورت ایک گواہ لائے اس امر پر کہ اس کے خاوند نے اس کو طلاق دی تو خاوند سے قسم لیں گے اگر وہ قسم کھائے اس امر پر کہ میں نے طلاق نہیں دی تو طلاق ثابت نہ ہوگی۔ کہا مالک نے اگر طلاق اور عتاق میں جب ایک گواہ ہو تو خاوند اور مولیٰ پر قسم لازم آئے گی۔ کیونکہ عتاق ایک حد شرعی ہے جس میں عورتوں کی گواہی درست نہیں اس لئے کہ غلام جب آزاد ہوجاتا ہے تو اس کی حرمت ثابت ہوجاتی ہے اور اس کی حدیں اوروں پر پڑتی ہیں اور اوروں کی حدیں اس پر پڑتی ہیں اگر وہ زنا کرے اور محصن ہو تو رجم کیا جائے گا اگر اس کو کوئی مار ڈالے تو قاتل بھی مارا جائے گا اور اس کے وارثوں کو میراث کا استحقاق حاصل ہوگا اگر کوئی حجت کرنے والا یہ کہے کہ مولیٰ جب غلام کو آزاد کر دے پھر ایک شخص اپنا قرض مولیٰ سے مانگنے آئے اور ایک مرد اور دو عورتوں کی گواہی سے اپنا قرض ثابت کرے تو مولیٰ پر قرضہ ثابت ہوجائے گا اگر مولیٰ کے پاس سوائے اس غلام کے کوئی مال نہ ہوگا تو اس غلام کی آزادی فسخ کر ڈالیں گے اس سے یہ بات نکالی کہ عورتوں کی گواہی عتاق میں درست ہے تو یہ نہیں ہوسکتا کیونکہ عورتوں کی گواہی قرضے کے اثبات میں معتبر ہوئی نہ کہ عتاق میں اس کی مثال یہ ہے کہ ایک شخص اپنے غلام کو آزاد کر دے پھر اس کا قرض خواہ ایک گواہ اور ایک قسم سے اپنا قرضہ مولیٰ پر ثابت کر دے اور اس کی وجہ سے آزادی فسخ کی جائے یا مولیٰ پر قرضے کا دعویٰ کرے اور گواہ نہ رکھتا ہو تو مولیٰ سے قسم لی جائے اور وہ انکار کرے تو مدعی سے قسم لے کر اس کا قرضہ ثابت کردیا جائے اور آزادی فسخ کی جائے اسی طرح ایک شخص نکاح کرے لونڈی سے پھر لونڈی کا مولیٰ خاوند سے کہنے لگے کہ تو نے اور فلاں شخص نے مل کر میری اس لونڈی کو اتنے دینار میں خرید کیا ہے اور خاوند انکار کرے تو مولیٰ ایک مرد اور دو عورتوں کو گواہ لائے اپنے قول پر اس صورت میں بیع ثابت ہوجائے گی۔ اور وہ لونڈی خاوند پر حرام ہوجائے گی۔ اور نکاح فسخ ہوجائے گا حالانکہ طلاق میں عورتوں کی گواہی درست نہیں۔ کہا مالک نے اسی طرح اگر ایک شخص قذف کرے ایک شخص کو پھر ایک مرد یا دو عورتیں گواہی دیں کہ جس شخص کو قذف کیا ہے وہ غلام ہے تو قاذف کے ذمہ سے حد ساقط ہوجائے گی حالانکہ قذف میں شہادت عورتوں کی درست نہیں۔ کہا مالک نے یہ بھی اس کی مثال ہے کہ وہ عورتیں گواہی دیں بچے کے رونے پر تو اس بچے کے لئے میراث ثابت ہوجائے گی اور جو بچہ مرگیا ہوگا تو اس کے وارثوں کو میراث ملے گی حالانکہ ان دو عورتوں کے ساتھ نہ کوئی مرد ہے نہ قسم ہے اور کبھی میراث کا مال کثیر ہوتا ہے جیسے سونا چاندی زمین، باغ، غلام وغیرہ اگر یہی دو عورتیں ایک درہم پر یا اس سے کم پر بھی گواہی دیں تو ان کی گواہی سے کچھ ثابت نہ ہوگا۔ جب تک کہ ان کے ساتھ ایک مرد یا ایک قسم نہ ہو۔ کہا مالک نے بعضے لوگ یہ کہتے ہیں کہ ایک قسم اور ایک گواہ سے حق ثابت نہیں ہو تو بہ سبب قول اللہ تعالیٰ کے فان لم یکونا رجلین الایہ تو حجت ان لوگوں پر یہ ہے کہ آیا تم نہیں دیکھتے کہ اگر ایک شخص نے دعویٰ کیا ایک شخص پر مال کا کیا نہیں حلف لیا جاتا مدعی علیہ تو اگر حلف کرتا ہے باطل ہوجاتا ہے اس سے یہ یہ حق اگر نکول کرتا ہے پھر حلف دلاتے ہیں صاحب حق کو تو یہ امر ایسا ہے کہ نہیں ہے اختلاف اس میں کسی کا لوگوں میں سے اور نہ کسی شہر میں شہروں میں سے تو کسی دلیل سے نکالا ہے اس کو اور کس کتاب اللہ میں پایا ہے اس مسئلے کو تو جب اس امر کو اقرار کرے تو ضرور ہی اقرار کرے یمین مع الشاہد کا اگرچہ نہیں ہے یہ کتاب اللہ میں مگر حدیث میں تو موجود ہے آدمی کو چاہیے کہ ٹھیک راستہ پہچانے اور دلیل کا موقع دیکھے اس صورت میں اگر اللہ چاہے گا تو اس کی مشکل حل ہوجائے گی۔

From Malik from Abuz-Zinad that Umar ibn Abdul Aziz wrote to Abdul Hamid ibn Abd ar-Rahman ibn Zayd ibn al-Khattab who was the governor of Kufa, "Pronounce judgement on the basis of an oath with one witness."

1312Mauwatta Imam Malik

ایک شخص مر جائے اور اس کا قرض لوگوں پر ہو جس کا ایک گواہ ہو اور لوگوں کا قرض اس پر ہو جس کا ایک گواہ ہو تو کس طررح فیصلہ کرنا چاہے

قَالَ يَحْيَی قَالَ مَالِک فِي الرَّجُلِ يَهْلِکُ وَلَهُ دَيْنٌ عَلَيْهِ شَاهِدٌ وَاحِدٌ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ لِلنَّاسِ لَهُمْ فِيهِ شَاهِدٌ وَاحِدٌ فَيَأْبَی وَرَثَتُهُ أَنْ يَحْلِفُوا عَلَی حُقُوقِهِمْ مَعَ شَاهِدِهِمْ قَالَ فَإِنَّ الْغُرَمَائَ يَحْلِفُونَ وَيَأْخُذُونَ حُقُوقَهُمْ فَإِنْ فَضَلَ فَضْلٌ لَمْ يَکُنْ لِلْوَرَثَةِ مِنْهُ شَيْئٌ وَذَلِکَ أَنَّ الْأَيْمَانَ عُرِضَتْ عَلَيْهِمْ قَبْلُ فَتَرَکُوهَا إِلَّا أَنْ يَقُولُوا لَمْ نَعْلَمْ لِصَاحِبِنَا فَضْلًا وَيُعْلَمُ أَنَّهُمْ إِنَّمَا تَرَکُوا الْأَيْمَانَ مِنْ أَجْلِ ذَلِکَ فَإِنِّي أَرَی أَنْ يَحْلِفُوا وَيَأْخُذُوا مَا بَقِيَ بَعْدَ دَيْنِهِ

کہا مالک نے اگر ایک شخص مرجائے اور وہ لوگوں کا قرضدار ہو جس کا ایک گواہ ہو اور اس کا بھی قرض ایک پر آتا ہو اس کا بھی ایک گواہ ہو اور اس کے وارث قسم کھانے سے انکار کریں تو قرض خواہ قسم کا کر اپنا قرضہ وصول کریں اگر کچھ بچ رہے گا تو وہ وارثوں کو نہ ملے گا کیونکہ انہوں نے قسم نہ کھا کر اپناحق آپ چھوڑ دیا مگر جب وارث یہ کہیں کہ ہم کو معلوم نہ تھا کہ قرض میں سے کچھ بچ رہے گا اسی واسطے ہم نے قسم نہیں کھائی اور حاکم کو معلوم ہوجائے کہ وارثوں نے اسی واسطے قسم نہ کھائی تھی تو اس صورت میں وارث قسم کھا کر جو کچھ مال بچ رہا ہے اس کو کے سکتے ہیں۔

Yahya said that Malik spoke about a man who died and had a debt owing to him and there was one witness, and some people had a debt against him and they had only one witness, and his heirs refused to take an oath on their rights with their witness. He said, "The creditors take an oath and take their rights. If there is anything left over, the heirs do not take any of it. That is because the oaths were offered to them before and they abandoned them, unless they say, We did not know that our companion had extra, and it is known that they only abandoned the oaths because of that. I think that they should take an oath and take what remains after his debt."

1313Mauwatta Imam Malik

دعوے کے فیصلے کا بیان

عَنْ جَمِيلِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُؤَذِّنِ أَنَّهُ کَانَ يَحْضُرُ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَهُوَ يَقْضِي بَيْنَ النَّاسِ فَإِذَا جَائَهُ الرَّجُلُ يَدَّعِي عَلَی الرَّجُلِ حَقًّا نَظَرَ فَإِنْ کَانَتْ بَيْنَهُمَا مُخَالَطَةٌ أَوْ مُلَابَسَةٌ أَحْلَفَ الَّذِي ادُّعِيَ عَلَيْهِ وَإِنْ لَمْ يَکُنْ شَيْئٌ مِنْ ذَلِکَ لَمْ يُحَلِّفْهُ

جمیل بن عبدالرحمن عمر بن عبدالعزیز کے پاس آیا کرتے تھے جب وہ فیصلہ کرتے تھے لوگوں کا جو شخص کسی پر دعوی کرے گو مدعی اور مدعا علیہ میں یک جائی اور تعلق اور تباط معلوم ہوتا تو مدعا علیہ سے حلف لیتے ورنہ حلف نہ لیتے۔

Yahya said, "Malik said about Jamil ibn Abd ar-Rahman al-Muadhdin that he was present with Umar ibn Abdul Aziz when he was judging between people. If a man came to him with a claim against a man, he examined whether or not there were frequent transactions and dealings between them. If there were, the defendant could make an oath. If there was nothing of that nature he did not accept an oath from him." Malik summed up, "What is done in our community is that if some one makes a claim against a man, it is examined. If there are frequent transactions and dealings between them, the defendant is made to take an oath. If he takes an oath, the claim against him is dropped. If the defendant refuses to take an oath, and returns the oath to the claimant, the one claiming his right takes an oath and takes his due."

1314Mauwatta Imam Malik

لڑکوں کی گواہی کا بیان

عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ کَانَ يَقْضِي بِشَهَادَةِ الصِّبْيَانِ فِيمَا بَيْنَهُمْ مِنْ الْجِرَاحِ قَالَ مَالِک الْأَمْرُ الْمُجْتَمَعُ عَلَيْهِ عِنْدَنَا أَنَّ شَهَادَةَ الصِّبْيَانِ تَجُوزُ فِيمَا بَيْنَهُمْ مِنْ الْجِرَاحِ وَلَا تَجُوزُ عَلَی غَيْرِهِمْ وَإِنَّمَا تَجُوزُ شَهَادَتُهُمْ فِيمَا بَيْنَهُمْ مِنْ الْجِرَاحِ وَحْدَهَا لَا تَجُوزُ فِي غَيْرِ ذَلِکَ إِذَا کَانَ ذَلِکَ قَبْلَ أَنْ يَتَفَرَّقُوا أَوْ يُخَبَّبُوا أَوْ يُعَلَّمُوا فَإِنْ افْتَرَقُوا فَلَا شَهَادَةَ لَهُمْ إِلَّا أَنْ يَکُونُوا قَدْ أَشْهَدُوا الْعُدُولَ عَلَی شَهَادَتِهِمْ قَبْلَ أَنْ يَفْتَرِقُوا

ہشام بن عروہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن زبیر لڑکوں کی گواہی پر حکم کرتے تھے ان کے آپس کی مار پیٹ کے۔ کہا مالک نے لڑکے لڑ کر ایک دوسرے کو زخمی کریں تو ان کی گواہی درست ہے لیکن لڑکوں کی گواہی اور مقدمات میں درست نہیں ہے یہ بھی جب درست ہے کہ لڑ لڑا کر جدا نہ ہوگئے ہوں مکر نہ کیا ہو اگر جدا جدا چلے گئے ہوں تو پھر ان کی گواہی درست نہیں ہے مگر جب عادل لوگوں کو اپنی شہادت پر شاہد کر گئے ہوں۔

Yahya said, "Malik said from Hisham ibn Urwa that Abdullah ibn az-Zubayr gave judgment based on the testimony of children concerning the injuries between them."

1315Mauwatta Imam Malik

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مبنر پر جھوٹی قسم کھانے کا بیان

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ حَلَفَ عَلَی مِنْبَرِي آثِمًا تَبَوَّأَ مَقْعَدَهُ مِنْ النَّارِ

جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص میرے منبر پر جھوٹی قسم کھائے اس نے اپنا ٹھکانہ نبالیا جہنم میں

Yahya said, Malik related to us from Hisham ibn Hisham ibn Utba ibn Abi Waqqas from Abdullah ibn Nistas from Jabir ibn Abdullah al-Ansari that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, If someone swears a false oath near this mimbar of mine, he will take his seat in the fire. "

1316Mauwatta Imam Malik

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مبنر پر جھوٹی قسم کھانے کا بیان

عَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ اقْتَطَعَ حَقَّ امْرِئٍ مُسْلِمٍ بِيَمِينِهِ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ وَأَوْجَبَ لَهُ النَّارَ قَالُوا وَإِنْ کَانَ شَيْئًا يَسِيرًا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ وَإِنْ کَانَ قَضِيبًا مِنْ أَرَاکٍ وَإِنْ کَانَ قَضِيبًا مِنْ أَرَاکٍ وَإِنْ کَانَ قَضِيبًا مِنْ أَرَاکٍ قَالَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ

ابو امامہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص اپنے بھائی مسلمان کا حق اڑالے جھوٹی قسم کھا کر تو اللہ جنت کو اس پر حرام کرے گا اور جہنم اس کے لئے ضروری کرے گا صحابہ نے کہا یا رسول اللہ ﷺ اگرچہ وہ حق تھوڑا ہو آپ ﷺ نے فرمایا اگر ایک شاخ ہو پیلو کی اگرچہ ایک شاخ ہو پیلو کی اگرچہ ایک شاخ ہو پیلو کی تین بار فرمایا۔

Malik related to me from al-Ala ibn Abd ar-Rahman from Mabad ibn Kab as-Salami from his brother Abdullah ibn Kab ibn Malik al-Ansari from Abu Umama that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Whoever cuts off the right of a muslim man by his oath, Allah forbids him the Garden and obliges the Fire for him." They said, "Even if it is something insignificant, Messenger of Allah? ﷺ " He said, "Even if it is a tooth-stick, even if it is a tooth-stick," repeating it three times.

1317Mauwatta Imam Malik

منبر پر قسم کھانے کا بیان۔

عَنْ أَبَا غَطَفَانَ بْنَ طَرِيفٍ الْمُرِّيَّ يَقُولُ اخْتَصَمَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيُّ وَابْنُ مُطِيعٍ فِي دَارٍ کَانَتْ بَيْنَهُمَا إِلَی مَرْوَانَ بْنِ الْحَکَمِ وَهُوَ أَمِيرٌ عَلَی الْمَدِينَةِ فَقَضَی مَرْوَانُ عَلَی زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ بِالْيَمِينِ عَلَی الْمِنْبَرِ فَقَالَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ أَحْلِفُ لَهُ مَکَانِي قَالَ فَقَالَ مَرْوَانُ لَا وَاللَّهِ إِلَّا عِنْدَ مَقَاطِعِ الْحُقُوقِ قَالَ فَجَعَلَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ يَحْلِفُ أَنَّ حَقَّهُ لَحَقٌّ وَيَأْبَی أَنْ يَحْلِفَ عَلَی الْمِنْبَرِ قَالَ فَجَعَلَ مَرْوَانُ بْنُ الْحَکَمِ يَعْجَبُ مِنْ ذَلِکَ

ابی غطفان بن طریف سے روایت ہے کہ زید بن ثابت اور عبداللہ بن مطیع نے جھگڑا کیا ایک گھر میں جو دنوں میں مشترک تھا تو لے گئے مقدمہ مروان بن حکم کے پاس وہ ان دنوں میں حاکم تھا مدینہ کا مروانے فیصلہ کیا اس بات پر کہ زید بن ثابت قسم کھائیں منبر شریف پر زید نے کہا میں اپنی جگہ پر قسم کھاؤں گا مروان نے کہا نہیں وہیں قسم کھاؤ جہاں لوگوں نے قضیے چکتے ہیں تو زید بن ثابت قسم کھاتے تھے میں سچاہوں لیکن منبر پر قسم کھانے سے انکار کرتے تھے اور مروان کو تعجب ہوتا تھا۔

Yahya said that Malik had said from Daud ibn al-Husayn that he heard Abu Ghatafan ibn Tarif al-Muriyi say, "Zayd ibn Thabit al-Ansari and Ibn Muti had a dispute about a house which they shared. They went to Marwan ibn al-Hakam who was the Amir of Madina. Marwan decided that Zayd ibn Thabit must take an oath on the mimbar. Zayd ibn Thabit said, I swear to it where I am. Marwan said, No, by Allah! only in the place of sorting out claims (i.e. the mimbar). Zayd ibn Thabit began to take an oath that his right was true, and he refused to take an oath near the mimbar. Marwan ibn al-Hakam began to wonder at that." Malik said, "I do not think that anyone should be made to take an oath near the mimbar for less than a fourth of a dinar, and that is three dirhams."

1318Mauwatta Imam Malik

رہن کا روکنا درست نہیں ہے۔

عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَغْلَقُ الرَّهْنُ قَالَ مَالِک وَتَفْسِيرُ ذَلِکَ فِيمَا نُرَی وَاللَّهُ أَعْلَمُ أَنْ يَرْهَنَ الرَّجُلُ الرَّهْنَ عِنْدَ الرَّجُلِ بِالشَّيْئِ وَفِي الرَّهْنِ فَضْلٌ عَمَّا رُهِنَ بِهِ فَيَقُولُ الرَّاهِنُ لِلْمُرْتَهِنِ إِنْ جِئْتُکَ بِحَقِّکَ إِلَی أَجَلٍ يُسَمِّيهِ لَهُ وَإِلَّا فَالرَّهْنُ لَکَ بِمَا رُهِنَ فِيهِ قَالَ فَهَذَا لَا يَصْلُحُ وَلَا يَحِلُّ وَهَذَا الَّذِي نُهِيَ عَنْهُ وَإِنْ جَائَ صَاحِبُهُ بِالَّذِي رَهَنَ بِهِ بَعْدَ الْأَجَلِ فَهُوَ لَهُ وَأُرَی هَذَا الشَّرْطَ مُنْفَسِخًا

سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا نہ روکی جائے گی رہن۔ کہا مالک نے جو شخص باغ رہن کرے ایک میعاد معین پار تو جو پھل اس باغ میں رہن سے پہلے نکل چکے تھے وہ رہن نہ ہوں گے مگر جس صورت میں مرتہن نے شرط کرلی ہو تو وہ پھل بھی رہن رہیں گے اور جو کوئی شخص حاملہ لونڈی کو رہن رکھے یا بعد رہن کے وہ حاملہ ہوجائے تو اس کا بچہ بھی اس کے ساتھ رہن رہے گا یہی فرق ہے پھل اور بچے میں اس وسطے کہ پھل بیع میں بھی داخل نہیں ہوتے فرمایا رسول اللہ ﷺ نے جس شخص نے کھجور کے درخت بیچے تو پھل بائع (بچنے والا) (بچنے والا) کو ملیں گے مگر جب مشتری (خریدنے والا) شرط کرلے۔

Yahya said, "Malik related to us from Ibn Shihab from Said ibn al-Musayyab that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, The pledge given as security is not forfeited. "

1319Mauwatta Imam Malik

پھلوں اور جانوروں کے رہن کا بیان

بَاب الْقَضَاءِ فِي رَهْنِ الثَّمَرِ وَالْحَيَوَانِ قَالَ يَحْيَى سَمِعْت قَوْله تَعَالَى يَقُولُ فِيمَنْ رَهَنَ حَائِطًا لَهُ إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى فَيَكُونُ ثَمَرُ ذَلِكَ الْحَائِطِ قَبْلَ ذَلِكَ الْأَجَلِ إِنَّ الثَّمَرَ لَيْسَ بِرَهْنٍ مَعَ الْأَصْلِ إِلَّا أَنْ يَكُونَ اشْتَرَطَ ذَلِكَ الْمُرْتَهِنُ فِي رَهْنِهِ وَإِنَّ الرَّجُلَ إِذَا ارْتَهَنَ جَارِيَةً وَهِيَ حَامِلٌ أَوْ حَمَلَتْ بَعْدَ ارْتِهَانِهِ إِيَّاهَا إِنَّ وَلَدَهَا مَعَهَا قَالَ مَالِك وَفُرِقَ بَيْنَ الثَّمَرِ وَبَيْنَ وَلَدِ الْجَارِيَةِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ بَاعَ نَخْلًا قَدْ أُبِّرَتْ فَثَمَرُهَا لِلْبَائِعِ إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَهُ الْمُبْتَاعُ قَالَ وَالْأَمْرُ الَّذِي لَا اخْتِلَافَ فِيهِ عِنْدَنَا أَنَّ مَنْ بَاعَ وَلِيدَةً أَوْ شَيْئًا مِنْ الْحَيَوَانِ وَفِي بَطْنِهَا جَنِينٌ أَنَّ ذَلِكَ الْجَنِينَ لِلْمُشْتَرِي اشْتَرَطَهُ الْمُشْتَرِي أَوْ لَمْ يَشْتَرِطْهُ فَلَيْسَتْ النَّخْلُ مِثْلَ الْحَيَوَانِ وَلَيْسَ الثَّمَرُ مِثْلَ الْجَنِينِ فِي بَطْنِ أُمِّهِ قَالَ مَالِك وَمِمَّا يُبَيِّنُ ذَلِكَ أَيْضًا أَنَّ مِنْ أَمْرِ النَّاسِ أَنْ يَرْهَنَ الرَّجُلُ ثَمَرَ النَّخْلِ وَلَا يَرْهَنُ النَّخْلَ وَلَيْسَ يَرْهَنُ أَحَدٌ مِنْ النَّاسِ جَنِينًا فِي بَطْنِ أُمِّهِ مِنْ الرَّقِيقِ وَلَا مِنْ الدَّوَابِّ

کہا مالک نے ہمارے نزدیک اس میں کچھ اختلاف نہیں ہے اگر کوئی لونڈی یا جانور بیچے اور اس کے یٹ میں بچہ ہو تو وہ بچہ مشتری (خریدنے والا) کا ہوگا خواہ مشتری (خریدنے والا) اس کی شرط لگائے یا نہ لگائے تو کھجور کا درخت جانور کی مانند نہیں نہ پھل کھجور کے بچے کے مانند ہیں۔ کہا مالک نے یہ بھی اس کی دلیل ہے کہ آدمی درخت کے پھلوں کو رہن کرسکتا ہے بغیر درختوں کے اور یہ نہیں ہوسکتا کہ پیٹ کے بچے کو رہن کرے بغیر اس کی ماں کے آدمی ہو یا جانور۔

Yahya said, "I heard Malik say that if a man pledges his garden for a stated period and the fruits of that garden are ready before the end of that period, the fruits are not included in the pledge with the real estate, unless it is stipulated by the pledger in his pledge. However, if a man receives a slave-girl as a pledge and she is pregnant or she becomes pregnant after his taking her as a pledge, her child is included with her.

1320Mauwatta Imam Malik

جانور کو رہن رکھنے کا بیان

بَاب الْقَضَاءِ فِي الرَّهْنِ مِنْ الْحَيَوَانِ قَالَ يَحْيَى سَمِعْت قَوْله تَعَالَى يَقُولُ الْأَمْرُ الَّذِي لَا اخْتِلَافَ فِيهِ عِنْدَنَا فِي الرَّهْنِ أَنَّ مَا كَانَ مِنْ أَمْرٍ يُعْرَفُ هَلَاكُهُ مِنْ أَرْضٍ أَوْ دَارٍ أَوْ حَيَوَانٍ فَهَلَكَ فِي يَدِ الْمُرْتَهِنِ وَعُلِمَ هَلَاكُهُ فَهُوَ مِنْ الرَّاهِنِ وَإِنَّ ذَلِكَ لَا يَنْقُصُ مِنْ حَقِّ الْمُرْتَهِنِ شَيْئًا وَمَا كَانَ مِنْ رَهْنٍ يَهْلِكُ فِي يَدِ الْمُرْتَهِنِ فَلَا يُعْلَمُ هَلَاكُهُ إِلَّا بِقَوْلِهِ فَهُوَ مِنْ الْمُرْتَهِنِ وَهُوَ لِقِيمَتِهِ ضَامِنٌ يُقَالُ لَهُ صِفْهُ فَإِذَا وَصَفَهُ أُحْلِفَ عَلَى صِفَتِهِ وَتَسْمِيَةِ مَالِهِ فِيهِ ثُمَّ يُقَوِّمُهُ أَهْلُ الْبَصَرِ بِذَلِكَ فَإِنْ كَانَ فِيهِ فَضْلٌ عَمَّا سَمَّى فِيهِ الْمُرْتَهِنُ أَخَذَهُ الرَّاهِنُ وَإِنْ كَانَ أَقَلَّ مِمَّا سَمَّى أُحْلِفَ الرَّاهِنُ عَلَى مَا سَمَّى الْمُرْتَهِنُ وَبَطَلَ عَنْهُ الْفَضْلُ الَّذِي سَمَّى الْمُرْتَهِنُ فَوْقَ قِيمَةِ الرَّهْنِ وَإِنْ أَبَى الرَّاهِنُ أَنْ يَحْلِفَ أُعْطِيَ الْمُرْتَهِنُ مَا فَضَلَ بَعْدَ قِيمَةِ الرَّهْنِ فَإِنْ قَالَ الْمُرْتَهِنُ لَا عِلْمَ لِي بِقِيمَةِ الرَّهْنِ حُلِّفَ الرَّاهِنُ عَلَى صِفَةِ الرَّهْنِ وَكَانَ ذَلِكَ لَهُ إِذَا جَاءَ بِالْأَمْرِ الَّذِي لَا يُسْتَنْكَرُ قَالَ مَالِك وَذَلِكَ إِذَا قَبَضَ الْمُرْتَهِنُ الرَّهْنَ وَلَمْ يَضَعْهُ عَلَى يَدَيْ غَيْرِهِ

کہا مالک نے ہمارے نزدیک اس میں کچھ اختلاف نہیں ہے کہ شئے مرہوں اگر ایسی ہو جس کا تلف ہونا معلوم ہوجائے جیسے زمین اور گھر اور جانور تو اس صورت میں شئے مرہوں کے تلف ہونے سے مرتہن کا کچھ حق کم نہ ہوگا بلکہ راہن کا نقصان ہوگا اور جو شئے مرہوں ایسی ہو جس کا تلف ہوناصرف مرتہن کے کہنے سے معلوم ہو (جیسے سونا چاندی وغیرہ) تو مرتہن اس کی قیمت کا ضامن ہوگا (جس صورت میں گواہ نہ رکھتا ہو اس کے تلف ہونے کا) اب اگر راہن اور مرتہن زر رہن میں اختلاف کریں تو مرتہن سے کہا جائے گا تو خلفاً شئے مرہوں کے اوصاف اور زررہن کو بیان کر جب وہ بیان کرے گا تو نگاہ والے لوگ اس شئے کی قیمت مرتہن نے جو اوصاف بیان کئے ہیں ان کے لحاظ سے لگائیں گے اگر قیمت زر رہن سے زیادہ ہو تو رہن جس قدر زیادہ ہے مرتہن سے وصول کرلے گا اگر قیمت زر رہن سے کم ہو تو راہن سے حلف لیں گے اگر وہ حلف کرلے گا تو جس قدر مرتہن نے زر رہن قیمت سے زیادہ بیان کیا ہے وہ اس کے ذمہ سے ساقط ہوجائے گا اور جو حلف سے انکار کرے تو اس قدر مرتہن کو ادا کرے گا اگر مرتہن نے کہا میں شئے مرہوں کی قیمت نہیں جانتا تو راہن سے شئے مرہوں کے اوصاف پر حلف لے کر اس کے بیان پر فیصلہ کریں گے جب کہ وہ کوئی امرخلاف واقعہ بیان نہ کرے۔ کہا مالک نے اگر ایک شئے دو آدمیوں کے پاس رہن ہو تو ایک مرتہن اپنے دین کا تقاضا کرے اور شئے مرہوں کو بیچنا چاہے اور ایک مرتہن راہن کو مہلت دے اگر شئے مرہوں ایسی ہے کہ اس کے نصف بیچ ڈالنے سے دوسرے مرتہن کا نقصان نہیں ہوتا تو آدھی بیچ کر ایک مرتہن کا دین ادا کردیں گے اور جو نقصان ہوتا ہے تو کل شئے مرہوں کو بیچ کر جو مرتہن تقاضا کرتا ہے اس کو نصف دے دیں گے اور جس مرتہن نے مہلت دی ہے وہ اگر خوشی ہے چاہے تو نصف ثمن کو راہن کے حوالہ کر دے نہیں تو حلف کرے میں نے اس واسطے مہلت دی تھی کہ شئے مرہوں اپنے حال پر میرے پاس رہے پھر اس کا حق اسی وقت ادا کردیا جائے۔ کہا مالک نے اگر غلام کو رہن رکھے تو غلام کا مال راہن لے لے گا مگر جب مرتہن شرط کرلے کہ اس کا مال بھی اس کے ساتھ رہن رہے۔

Yahya said that he had heard Malik say, "The undisputed way of doing things in our community concerning pledges is that in cases where land or a house or an animal are known to have been destroyed whilst in the possession of the broker of the pledge, and the circumstances of the loss are known, the loss is against the pledger. There is no deduction made from what is due to the broker at all. Any pledge which perishes in the possession of the broker and the circumstances of its loss are only known by his word, the loss is against the broker and he is liable for its value. He is asked to describe whatever was destroyed and then he is made to take an oath about that description and what he loaned on security for it. "Then people of discernment evaluate the description. If the pledge was worth more than what the broker loaned, the pledger takes the extra. If the assessed value of the pledge is less than what he was loaned, the pledger is made to take an oath as to what the broker loaned and he does not have to pay the extra which the broker loaned above the assessed value of the pledge. If the pledger refuses to take an oath, he has to give the broker the extra above the assessed value of the pledge. If the broker says that he doesnt know the value of the pledge, the pledger is made to take an oath on the description of the pledge and that is his if he brings a matter which is not disapproved of." Malik said, "All this applies when the broker takes the pledge and does not put it in the hands of another."