احیاء سنت اور امت کی دینی اصلاح کی جدو جہد
عَنْ عَلِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ أَحْيَا سُنَّتِي فَقَدْ أَحَبَّنِي. وَمَنْ أَحَبَّنِي كَانَ مَعِي. (رواه الترمذى)
حضرت علی مرتضیٰ ؓٗ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس نے میری کوئی سنت زندہ کی جو میرے بعد مردہ ہو گئی تھی تو اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے مجھ سے محبت کی وہ میرے ساتھ ہوگا۔ (جامع ترمذی)
تشریح
رسول اللہ ﷺ کی کسی ہدایت اور کسی سنت پر جب تک عمل ہورہا ہے اور وہ رواج میں ہے تو وہ زندہ ہے اور جب اس پر عمل متروک ہو جائے اور رواج نہ رہے تو گویا اس کی زندگی ختم کر دی گئی۔ اب آپ کا جو وفادار امتی آپ کی اس سنت اور ہدایت کو پھر سے عمل میں لانے اور رواج دینے کی جدوجہد کرے اس کے لئے اس حدیث میں آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس نے مجھ سے محبت کی اور محبت کا حق ادا کیا اور اب وہ آخرت اور جنت میں میرے ساتھ اور میرا رفیق ہوگا۔
احیاء سنت اور امت کی دینی اصلاح کی جدو جہد
عَنْ بِلاَلِ بْنِ الْحَارِثِ الْمُزْنِيْ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ أَحْيَا سُنَّةً مِنْ سُنَّتِي قَدْ أُمِيتَتْ بَعْدِي فَإِنَّ لَهُ مِنَ الأَجْرِ مِثْلَ أُجُورِ مَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا. (رواه الترمذى)
حضرت بلال بن الحارث المزنی سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے میری کوئی سنت زند کی جو میرے بات ختم کر دی گئی تھی (متروک ہو گئی تھی) تو اس شخص کو اجر و ثواب ملے گا ان تمام بندگان خدا کے اجروثواب کے برابر جو اس پر عمل کریں گے بغیر اس کے کہ ان عمل کرنے والوں کے اجروثواب میں سے کچھ کمی کی جائے۔ (جامع ترمذی)
تشریح
اس حدیث کے مضمون کو اس مثال سے اچھی طرح سمجھا جا سکتا ہے کہ فرض کیجئے کسی علاقے کے مسلمانوں میں زکوۃ ادا کرنے کا یا مثلا باپ کے ترکہ میں بیٹیوں کو حصہ لینے کا رواج نہیں رہا پھر کسی بندہ خدا کی محنت اور جدوجہد سے اس گمراہی اور بددینی کی اصلاح ہوئی اور لوگ زکوة ادا کرنے لگے اور بیٹیوں کو شرعی حصہ دیا جانے لگا تو اس کے بعد علاقہ کے جتنے لوگ بھی زکوة ادا کریں گے اور بہنوں کو انکا شرعی حق دینگے ان کو اللہ تعالی کی طرف سے اس عمل کا جتنا اجر و ثواب ملے گا اس سب کے مجموعہ کے برابر اس بندے کو عطا ہو گا جس نے ان دینی احکام و اعمال کو پھر سے زندہ کرنے اور رواج دینے کی جدوجہد کی تھی اور یہ اجر عظیم اللہ تعالی ہی کی طرف سے خصوصی انعام کے طور پر عطا ہوگا ایسا نہیں کہ عمل کرنے والوں کے اجر سے کاٹ کر اور کچھ کم کرکے دیا جائے۔ اسکی ہمارے ہی زمانے کی ایک واقعاتی مثال یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے امت کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے یہ نظام قائم فرمایا تھا کہ ہر مسلمان جوان ہو یا بوڑھا امیر ہو یا غریب پڑھا لکھا ہو یا بے پڑھا لکھا دین کی ضروری واقفیت حاصل کریں اور دین پر چلے اور اپنے خیالات اور استطاعت کے مطابق دوسروں میں بھی اس کے لئے محنت اور کوشش کرے۔ لیکن کچھ تاریخی اسباب کی وجہ سے مرور زمان کے ساتھ یہ نظام کمزور پڑتا رہا اور صدیوں سے یہ حال ہوگیا کہ علماء مخلصین اور خواص اہل دین کے بہت ہی محدود حلقہ میں دین کی فکر باقی رہے گئی ہے۔ پھر ہمارے زمانے میں اللہ کے ایک مخلص بندے اور رسول اللہ ﷺ کے ایک وفادار امتی نے دین کی فکر و محنت کہ اس عمومی اور عوامی نظام کو پھر سے چالو کرنے اور رواج میں لانے کے لیے جدوجہد کی اور اپنی زندگی اسی کے لیے وقف کردی جس کا یہ نتیجہ آنکھوں کے سامنے ہیں کہ اس وقت (جبکہ چودھویں صدی ہجری ختم ہوکر پندرہویں صدی شروع ہوئی ہے) دنیا کے مختلف ملکوں میں مسلمانوں کے مختلف طبقات کے وہ لاکھوں افراد جن کا دین سے نہ علمی تعلق تھا نہ عملی اور انکے دل آخرت کی فکر سے بالکل خالی تھے۔ اب وہ آخرت ہی کو سامنے رکھ کر خود اپنی زندگی کو بھی اللہ و رسول ﷺ کے احکام کے مطابق بنانے اور دوسروں میں بھی اس کی فکر پیدا کرنے کے لیے محنت و کوشش کر رہے ہیں اس راہ میں قربانیاں دے رہے ہیں اور تکلیفیں اٹھا رہے ہیں۔ بلاشبہ احیاء سنت کی عظیم مثال ہے اللہ تعالی اس کو قبول فرمائے اور اس کے ذریعہ امت میں اور پھر پورے عالم انسانی میں ہدایت کو عام فرمائے۔ “وَمَا ذَٰلِكَ عَلَى اللَّـهِ بِعَزِيزٍ”
احیاء سنت اور امت کی دینی اصلاح کی جدو جہد
عَنْ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ الدِّيْنَ بَدَأَ غَرِيبًا وَسَيَعُودُ غَرِيبًا كَمَا بَدَأَ فَطُوبَى لِلْغُرَبَاءِ. وَهُمُ الَّذِيْنَ يُصْلِحُوْنَ مَا أَفْسَدَ النَّاسَ مِنْ بَعْدِىْ مِنْ سُنَّتِيْ. (رواه الترمذى)
حضرت عمرو بن عوف ؓٗ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ دین (اسلام) جب شروع ہوا تو وہ غریب (یعنی لوگوں کے لئے اجنبی اور کسمپرسی کی حالت میں) تھا، بس شادمانی ہو غرباء کیلئے اور (غرباء سے مراد) وہ لوگ ہیں جو اس فساد اور بگاڑ کی اصلاح کی کوشش کریں گے جو میرے بعد میری سنت (اور میرے طریقوں) میں لوگ پیدا کریں گے۔ (جامع ترمذی)
تشریح
ہماری اردو زبان میں تو غریب نادار اور مفلس آدمی کو کہا جانے لگا ہے لیکن اس لفظ کے اصل معنیٰ ایسے پردیسی کے ہیں جس کا کوئی شناسا اور پرسان حال نہ ہو۔
رسول اللہ ﷺ کے اس ارشاد کا حاصل یہ ہے کہ جب اسلام کی دعوت کا آغاز ہوا تھا اور اللہ تعالی کے حکم سے آپ ﷺ نے اہل مکہ کے سامنے اسلام پیش کیا تھا تو اس کی تعلیم، اس کے عقائد، اس کے اعمال اور اس کے نظام زندگی لوگوں کے لیے بالکل نامانوس اور اجنبی تھے اور وہ اس وقت ایسے غریب الوطن پردیسی کی طرح تھا جس کا کوئی جاننے پہچاننے والا اور کوئی اسکی بات پوچھنے والا نہ ہو۔ پھر رفتہ رفتہ یہ صورتحال بدلتی رہی لوگ اس سے مانوس ہوتے رہے اور اس کو اپناتے رہے یہاں تک کہ ایک وقت آیا کہ پہلے مدینہ منورہ کے لوگوں نے اجتماعی طور پر اس کو سینے سے لگایا اس کے بعد جلدی ہی قریبا پورے جزیرۃالعرب نے اس کو اپنا لیا پھر دنیا کے دوسرے ملکوں نے بھی اس کو خوش آمدید کہا اور اس کو عام مقبولیت حاصل ہوئی لیکن جیسا کہ اوپر بھی عرض کیا گیا اللہ تعالی کی طرف سے رسول اللہ ﷺ پر منکشف کیا گیا تھا کہ جس طرح اگلی امتوں میں بگاڑ آیا آپ کی امت میں بھی آئے گا اور اس کی غالب اکثریت گمراہانہ رسوم اور غلط طور طریقوں کو اپنالے گی، اور اصل اسلام جس کی دعوت و تعلیم آپ نے دی تھی بہت ہی کم لوگوں میں رہ جائے گی اور اپنے ابتدائی دور کی طرح پھر وہ غریب الوطن پردیسی کی طرح ہو جائے گا تو رسول اللہ ﷺ نے اس حدیث میں امت کو اس انقلاب حال کی اطلاع اور آگاہی دی ہے اور ساتھ ہی ارشاد فرمایا ہے کہ امت کے اس عمومی فساد کے وقت اصل اسلام پر قائم رہنے والے جو وفادار امتی اس فساد و بگاڑ کی اصلاح کی کوشش اور بگڑی ہوئی امّت کو اصل اسلام کی طرف لانے کی جدوجہد کرینگے ان کو شاباش اور مبارکباد۔ اس حدیث شریف میں دین کے ایسے وفادار خادموں کو رسول اللہ ﷺ نے غرباء کا خطاب دیا ہے۔
بلاشبہ ہمارے اس زمانے میں مسلمان کہلانے والی امت کا جو حال ہے اس پر یہ حدیث پوری طرح منطبق ہے امت کی غالب اکثریت دین کی بنیادی تعلیمات سے بے خبر قبر پرستی جیسے صریح شرک میں مبتلا اور نماز و زکوۃ جیسے بنیادی ارکان کی بھی تارک ہے دن رات کے معاملات خرید و فروخت وغیرہ میں حلال و حرام کی کوئی پروا نہیں ہے جھوٹے مقدمات اور جھوٹی گواہی جیسے موجب لعنت گناہوں سے صرف اللہ و رسول ﷺ کے حکم کی وجہ سے پرہیز کرنے والے بہت ہی کم رہ گئے ہیں علماء اور درویشوں کی بڑی تعداد میں نفس پرستی اور حب جاہ و مال کی پیدا کی ہوئی وہ ساری خرابیاں دیکھی جا سکتی ہیں جو یہود و نصاریٰ کے احبار و رہبان میں پیدا ہو گئی تھیں اور جن کی وجہ سے ان پر خدا کی لعنت ہو ئی ایسے فساد عام کے وقت میں جو باتوفیق بندے اصل اسلام اور رسول اللہ ﷺ کی ہدایت و سنت سے وابستہ رہیں اور امت کی اصلاح کی فکر و کوشش میں حصہ لیں وہ لشکر محمدی کے وفادار سپاہی ہیں، انہی کو اس حدیث میں غرباء کہا گیا ہے) اور زبان نبوت سے ان کو شاباشی اور مبارکباد دی گئی ہے اللہ تعالی اس عاجز راقم سطور کو اور اس کے پڑھنے والوں کو بھی توفیق دے کہ وہ اپنے کو اس زمرے میں شامل کرنے کی کوشش کریں۔ الَلَّهُمَّ اجْعَلْنَا مِنْهُمْ وَاحْشُرْنَا فِىْ زُمْرَتِهِمْ
دنیوی معاملات میں حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتی رائے کی حیثیت
عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ قَدِمَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَهُمْ يَأْبُرُونَ النَّخْلَ فَقَالَ: مَا تَصْنَعُونَ. قَالُوا كُنَّا نَصْنَعُهُ قَالَ: لَعَلَّكُمْ لَوْ لَمْ تَفْعَلُوا كَانَ خَيْرًا. فَتَرَكُوهُ فَنَقَصَتْ فَذَكَرُوا ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ: إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ إِذَا أَمَرْتُكُمْ بِشَيْءٍ مِنْ دِينِكُمْ فَخُذُوا بِهِ وَإِذَا أَمَرْتُكُمْ بِشَيْءٍ مِنْ رَأْيٍ فَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ. (رواه مسلم)
حضرت رافع بن خدیج ؓٗ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ (ہجرت کر کے) مدینہ تشریف لائے تو آپ ﷺ نے دیکھا کہ اہل مدینہ کھجور کے درختوں بر تابیر کا عمل کرتے ہیں آپ ﷺ نے دریافت فرمایا کہ آپ لوگ یہ کیا کرتے ہیں؟ (اور کس واسطے کرتے ہیں؟) انہوں نے عرض کیا کہ یہ ہم پہلے سے کرتے آئے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا شاید کہ تم اسکو نہ کرو تو بہتر ہو تو انہوں نے اس کو ترک کر دیا تو پیداوار کم ہوئی تو لوگوں نے حضور ﷺ سے اس کا ذکر کیا تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میں (اپنی فطرت کے لحاظ سے) بس ایک بشر ہوں، جب میں تم کو دین کی لائن کی کسی بات کا حکم کرو تو اس کو لازم پکڑو (اور اس پر عمل کرو) اور جب میں اپنی ذاتی رائے سے کسی بات کے لئے تم سے کہوں تو میں بس ایک بشر ہوں۔ (مسلم)
تشریح
اللہ کے پیغمبر جو بھی حکم نبی و رسول ہونے کی حیثیت سے دی وہ واجب الاطاعت ہیں خواہ اس کا تعلق حقوق اللہ سے ہو یا حقوق العباد سے، عبادات سے ہو یا معاملات سے، اخلاق سے ہو یا معاشرت سے، یا زندگی کہ کسی بھی شعبہ سے..... لیکن کبھی کبھی اللہ کی پیغمبر کسی خالص دنیوی معاملہ میں اپنی ذاتی رائے سے بھی مشورہ دیتے ہیں تو اس کے بارے میں خود رسول اللہ ﷺ نے واضح فرما دیا ہے کہ وہ امت کے لئے واجب اطاعت نہیں ہیں بلکہ یہ بھی ضروری نہیں ہے کہ وہ ہمیشہ صحیح ہو اور اس میں غلطی بھی ہو سکتی ہے مندرجہ ذیل حدیث کا مدعا یہی ہے۔
تشریح ..... مدینہ طیبہ کھجور کی پیداوار کا خاص علاقہ تھا (اور اب بھی ایسا ہی ہے) رسول اللہ ﷺ جب ہجرت فرما کر وہاں پہنچے تو آپ ﷺ نے دیکھا کہ وہاں کے لوگ کھجور کے درختوں میں ایک درخت کو نر اور دوسرے کو مادہ قرار دے کر ان کے شگوفوں میں ایک خاص طریقہ سے پیوند کاری کرتے ہیں جس کو تابیر کہا جاتا تھا چونکہ مکہ معظمہ اور اس کے اطراف میں کھجور پیدا نہیں ہوتی اس لیے یہ تابیر کا عمل آپ ﷺ کے لیے ایک نئی بات تھی آپ ﷺ نے ان لوگوں نے اس سے دریافت فرمایا کہ یہ اب لوگ کیا کرتے ہیں اور کس لئے کرتے ہیں؟ وہ اس کی کوئی خاص حکمت اور نافعیت نہیں بتلا سکے صرف یہ کہا کہ پہلے سے ہی یہ ہوتا رہا ہے یعنی ہم نے اپنے باپ دادا کو کرتے دیکھا تھا اس لئے ہم بھی کرتے ہیں آپ ﷺ نے اس کو دور جاہلیت کی دوسری بہت سی لغو باتوں کی طرح کا ایک فضول اور بے فائدہ کام سمجھا اور ارشاد فرمایا کہ شاید اسکو نہ کروں تو بہتر ہو۔ ان لوگوں نے آپ ﷺ سے یہ سن کر اس عمل تابیر کو روک دیا۔ لیکن نتیجہ یہ ہوا کہ اس فصل میں کھجور کی پیداوار گھٹ گئی تو حضور ﷺ سے اس کا ذکر کیا آپ ﷺ نے فرمایا۔ “اِنَّمَا اَنَا بَشَرٌ الخ” یعنی میں اپنی ذات سے ایک بشر ہوں میری ہر بات دینی ہدایت اور وحی کی بنیاد نہیں ہوتی بلکہ ایک بشر کی حیثیت سے بھی بات کرتا ہوں تو جب میں نبی و رسول کی حیثیت سے دین کی لائن کی کسی بات کا حکم دوں تو واجب التعمیل ہے اور جب میں کسی دنیاوی معاملہ میں اپنی ذاتی رائے سے کچھ کہوں تو اس کی حیثیت ایک بشر کی رائے کی ہے اس میں غلطی بھی ہو سکتی ہے اور عمل تابیر کے بارے میں جو بات میں نے کہی تھی وہ میرا ذاتی خیال اور میری ذاتی رائے تھی۔
واقعہ یہ ہے کہ بہت سی چیزوں میں اللہ تعالی نے عجیب و غریب خاصیت رکھ دی ہیں جن کا پورا علم بھی بس اسی کو ہے تابیر کے عمل میں اللہ تعالی نے یہ خاصیت رکھی ہے کہ اسکی وجہ سے پیداوار زیادہ ہوتی ہے لیکن اس کے بارے میں اللہ تعالی کی طرف سے رسول اللہ ﷺ کو کچھ نہیں بتلایا گیا تھا اور آپ ﷺ کو اس کی ضرورت بھی نہیں تھی آپ ﷺ باغبانی کے رموز بتلانے کے لئے نہیں آئے تھے بلکہ عالم انسانی کی ہدایت اور اس کو رضائے الہی اور جنت کا راستہ دکھلانے کے لئے مبعوث ہوئے تھے اور اس کے لیے جس علم کی ضرورت تھی وہ آپ کو بھرپور عطا فرمایا گیا تھا۔
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ یہ خیال اور عقیدہ غلط ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو دنیا کی ہر بات اور ہر چیز کا علم تھا جو لوگ ایسا سمجھتے ہیں وہ حضور ﷺ کے عالی سے ناآشنا ہیں۔ اس حدیث پر “کتاب الاعتصام بالکتاب والسنۃ” ختم ہوئی۔
ہدایت و ارشاد اور دعوت الی الخیر کا اجر و ثواب
عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الأَنْصَارِيِّ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ دَلَّ عَلَى خَيْرٍ فَلَهُ مِثْلُ أَجْرِ فَاعِلِهِ. (رواه مسلم)
حضرت ابو مسعود انصاری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس شخص نے کسی نیک کام کی طرف (کسی بندے کی) رہنمائی کی تو اس کو اس نیک کام کے کرنے والے بندے کے اجر کے برابر ہی اجر ملے گا۔ (صحیح مسلم)
تشریح
اللہ تعالی کی طرف سے انبیاء علیہم سلام اس لئے بھیجے جاتے تھے کہ اس کے بندوں کو نیکی اور بھلائی کی دعوت دیں پسندیدہ اعمال و اخلاق اور ہر طرح کے اعمال خیر کی طرف ان کی رہنمائی کرے اور ہر نوع کی برائیوں سے ان کو روکنے اور بچانے کی کوشش کریں تاکہ دنیا و آخرت میں وہ اللہ کی رحمت اور رضا کے مستحق ہوں اور اس کے غضب و عذاب سے محفوظ رہیں اسی کا جامعہ عنوان “دعوت الی الخیر، امربالمعروف ونہی عن المنکر ” ہے۔
جب خاتم النبیین سیدنا حضرت محمد ﷺ پر نبوت کا سلسلہ ختم کردیاگیا تو قیامت تک کے لیے اس پیغمبرانہ کام کی پوری ذمہ داری آپ کی امت کے سپرد کی گئی قرآن پاک میں فرمایا گیا۔
وَلْتَكُن مِّنكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ ۚ وَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ (آل عمران 104:3)
ترجمہ: اور لازم ہے کہ تم میں ایک ایسی امت ہو جو (لوگوں کو) دعوت دے خیر اور بھلائی کی اور حکم کرے معروف (اچھی باتوں) کا اور روکے ہر طرح کی برائیوں سے اور وہی بندے فلاح یاب ہوں گے (جو یہ فریضہ ادا کریں گے)
پھر چند ہی آیتوں کے بعد اس صورت میں فرمایا گیا ہے:
كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِاللَّـهِ (آل عمران 110:3)
ترجمہ: اے پیروان محمد تم (تمام امتوں میں) وہ بہترین امت ہو جو لوگوں (کی اصلاح و ہدایت) کے لئے ظہور میں لائی گئی ہے تمہارا کام (اور تمہاری ذمہ داری) یہ ہے کہ نیکی کا حکم دیتے ہو برائی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو (اور ایمان والی زندگی گزارتے ہو)۔
بہرحال سلسلہ نبوت ختم ہو جانے کے بعد اس پیغمبرانہ کام کی پوری ذمہ داری ہمیشہ کے لئے امت محمدیہ پر عائد کر دی گئی ہے اور رسول اللہ ﷺ نے اپنے ارشادات میں وضاحت فرمائی ہے کہ آپ ﷺ کے جو امتی اس ذمہ داری کو کماحقہ ادا کریں گے وہ اللہ تعالی کے کیسے عظیم انعامات کے مستحق ہونگے اور جو اس میں کوتاہی کرینگے وہ اپنے نفسوں پر کتنا بڑا ظلم کریں گے اور ان کا انجام اور حشر کیا ہوگا۔ اس تمہید کے بعد اس سلسلہ کی مندرجہ ذیل حدیث پڑھی جائیں۔
تشریح ..... اس حدیث کا مطلب و مدعا اس مثال سے اچھی طرح سمجھا جا سکتا ہے کہ مثلا ایک شخص نماز کا عادی نہیں تھا آپ کی دعوت ترغیب اور محنت کے نتیجہ میں وہ پابندی سے نماز پڑھنے لگا وہ قرآن پاک کی تلاوت و ذکر اللہ سے غافل تھا آپ کی دعوت اور کوشش کے نتیجے میں وہ قرآن پاک کی روزانہ تلاوت کرنے لگا ذکر و تسبیح کا عادی ہو گیا وہ زکوۃ ادا نہیں کرتا تھا آپ کی مخلصانہ دعوت وتبلیغ کے اثر سے وہ زکوۃ بھی ادا کرنے لگا اسی طرح اور بھی اعمال صالحہ کا پابند ہوگیا۔ تو اس کو عمر بھر کی نمازوں ذکر و تلاوت زکوۃ و صدقات اور دیگر اعمال صالحہ کا جتنا اجر و ثواب آخرت میں ملے گا (اس حدیث کی بشارت کے مطابق) اللہ تعالی اتنا ہی اجر و ثواب بطور انعام کے اپنے لامحدود خزانہ کرم سے اس داعی الخیر بندے کو بھی عطا فرمائے گا جس کی دعوت و تبلیغ نے اس کو ان اعمال صالحہ پر آمادہ کیا اور عادی بنایا۔ واقعہ یہ ہے کہ اس راستہ سے جتنا اجر و ثواب اور آخرت میں جو درجہ حاصل کیا جاسکتا ہے وہ کسی دوسرے راستہ سے حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ بزرگان دین کی اصطلاح میں یہ طریق نبوت کا سلوک بشرطیکہ خالصا لوجہ اللہ صرف رضائے الہی کی طلب میں ہوں۔
ہدایت و ارشاد اور دعوت الی الخیر کا اجر و ثواب
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ دَعَا إِلَى هُدًى كَانَ لَهُ مِنَ الأَجْرِ مِثْلُ أُجُورِ مَنْ تَبِعَهُ لاَ يَنْقُصُ ذَلِكَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا وَمَنْ دَعَا إِلَى ضَلاَلَةٍ كَانَ عَلَيْهِ مِنَ الإِثْمِ مِثْلُ آثَامِ مَنْ تَبِعَهُ لاَ يَنْقُصُ ذَلِكَ مِنْ آثَامِهِمْ شَيْئًا. (رواه مسلم)
حضرت ابوہریرہ ؓٗ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ وسلم نے فرمایا کہ جس بندے نے کسی نیکی کے راستہ کی طرف (لوگوں کو) دعوت دی تو اس داعی کو ان سب لوگوں کے اجروں کے برابر اجر ملے گا جو اس کی بات مان کر نیکی کے اس راستہ پر چلیں گے اور عمل کریں گے اور اس کی وجہ سے ان عمل کرنے والوں کے اجروں میں کوئی کمی نہ ہوگی۔ (اور اسی طرح) جس نے (لوگوں کو) کسی گمراہی (اور بد عملی) کی دعوت دی تو اس داعی کو ان سب لوگوں کے گناہوں کے برابر گناہ ہوگا جو اس کی دعوت پر اس گمراہی اور بد عملی کے مرتکب ہونگے اور اس کی وجہ سے ان لوگوں کے گناہوں میں (اور ان کے عذاب میں) کوئی کمی نہ ہوگی۔ (صحیح مسلم)
تشریح
اس حدیث میں داعیان حق و ہدایت کو بشارت سنانے کے ساتھ داعیان ضلالت کی بدانجامی بھی بیان فرمائی گئی ہے حقیقت یہ ہے کہ جن خوش نصیبوں کو دعوت الی الخیر اور ارشاد و ہدایت کی توفیق ملتی ہے وہ رسول اللہ ﷺ بلکہ تمام انبیاء علیہ السلام کے مشن کے خادم اور ان کے لشکر کے سپاہی ھیں اور جن کی بدبختی نے انکو گمراہی اور بدعملی کا داعی بنا دیا ہے وہ شیطان کے ایجنٹ اور اسکے لشکری ہیں اور ان دونوں کا انجام وہ ہے جو اس حدیث میں بیان فرمایا گیا ہے۔
ہدایت و ارشاد اور دعوت الی الخیر کا اجر و ثواب
عَنْ أَبِي رَافِعٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَأَنْ يَهْدِيَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى يَدَيْكَ رَجُلًا خَيْرٌ لَكَ مِمَّا طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ وَغَرَبَتْ» (رواه الطبرانى فى الكبير)
حضرت ابو رافع ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ یہ بات کہ اللہ تعالی تمہارے ہاتھ اور تمہارے ذریعہ کسی آدمی کو ہدایت دے دی تمہارے لئے اس ساری کائنات سے بہتر ہے جس پر آفتاب طلوع ہوتا ہے اور غروب ہوتا ہے۔ (معجم کبیر للطبرانی)
تشریح
ظاہر ہے کہ اس دنیا کا کوئی حصہ ایسا نہیں ہے جس پر آفتاب طلوع اور غروب نہ ہوتا ہو تو حدیث کا مطلب یہ ہوا کہ اگر اللہ تعالیٰ تمہارے ذریعہ کسی ایک آدمی کو بھی ہدایت دے دے تو یہ تمہارے حق میں اس سے بہتر اور زیادہ نفع بخش ہے کہ مشرق سے مغرب تک کی ساری دنیا تم کو مل جائے۔ اللہ تعالی ان حقائق کا یقین نصیب فرمائے اور عمل کی توفیق دے۔
امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی تاکید اور اس میں کوتاہی پر سخت تہدید
عَنْ حُذَيْفَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَتَأْمُرُنَّ بِالْمَعْرُوفِ وَلَتَنْهَوُنَّ عَنِ الْمُنْكَرِ أَوْ لَيُوشِكَنَّ اللَّهُ أَنْ يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عِذَابًا مِنْ عِنْدِهِ ثُمَّ لَتَدْعُنَّهُ وَلاَ يُسْتَجَابُ لَكُمْ. (رواه الترمذى)
حضرت حذیفہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا (اے اہل ایمان) قسم اس پاک ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے تم پر لازم ہیں اور تم کو تاکید ہے کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ انجام دیتے رہو (یعنی اچھی باتوں اور نیکیوں کی لوگوں کو ہدایت و تاکید کرتے رہو اور بری باتوں اور برے کاموں سے ان کو روکتے رہو) یا پھر ایسا ہوگا کہ (اس معاملہ میں تمہاری کوتاہی کی وجہ سے) اللہ تم پر اپنا کوئی عذاب بھیج دے گا پھر تم اس سے دعائیں کرو گے اور وہ تمہاری دعائیں قبول نہیں کی جائیں گے۔ (جامع ترمذی)
تشریح
اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے امت کو واضح الفاظ میں آگاہی دی ہے کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر میری امت کا ایسا اہم فریضہ ہے کہ جب اس کی ادائیگی میں غفلت اور کوتاہی ہوگی تو اللہ تعالی کی طرف سے وہ کسی فتنہ اور عذاب میں مبتلا کر دی جائے گی۔ اور پھر جب دعا کرنے والے اس عذاب اور فتنہ سے نجات کے لئے دعائیں کریں گے تو ان کی دعائیں بھی قبول نہ ہوں گی۔
اس عاجز کے نزدیک اس میں قطعا شبہ کی گنجائش نہیں کہ صدیوں سے یہ امت طرح طرح کے جن فتنوں اور عذابوں میں مبتلا ہے اور امت کے اخیار اور صلحاء کی دعاؤں اور التجاؤں کے باوجود ان عذابوں سے نجات نہیں مل رہی ہے تو اس کا بہت بڑا سبب یہی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ وسلم نے اللہ تعالی کے حکم سے امت کو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی جو ذمہ داری سپرد کی تھی اور اس سلسلہ میں جو تاکیدی احکام دیئے تھے اور اس کا جو عمومی نظام قائم فرمایا تھا وہ صدیوں سے تقریبا معطل ہے امت کی مجموعی تعداد میں اس فریضہ کے ادا کرنے والے فی ہزار ایک کے تناسب سے بھی نہیں ہیں الغرض یہ وہی صورتحال ہے جس کی رسول اللہ ﷺ نے اپنے اس ارشاد میں واضح آگاہی دی تھی۔
امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی تاکید اور اس میں کوتاہی پر سخت تہدید
عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيْقِ إِنَّكُمْ تَقْرَءُونَ هَذِهِ الآيَةَ: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ لاَ يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ} فَإِنِّيْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إِنَّ النَّاسَ إِذَا رَأَوُا الْمُنْكَرَ فَلَمْ يُغَيِّرُوا يُوْشَكَ أَنْ يَعُمَّهُمُ اللَّهُ بِعِقَابِهِ. (رواه ابن ماجه والترمذى)
حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ وسلم نے فرمایا کہ تم لوگ قرآن پاک کی یہ آیت پڑھتے ہو “يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ لاَ يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ” (اے ایمان والو تم پر لازم ہے اپنے نفسوں کی فکر تمہارا کچھ نہ بگاڑیں گے گمراہ ہونے والے لوگ جب تم راہ ہدایت پر ہو) (حضرت صدیق اکبر نے اس آیت کا حوالہ دے کر فرمایا کہ کسی کو اس آیت سے غلط فہمی نہ ہو) میں نے خود رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے آپ ﷺ فرماتے تھے کہ جب لوگوں کا یہ حال ہو جائے کہ وہ شریعت کے خلاف کام ہوتے دیکھیں اور اس کی تغییر و اصلاح کے لئے کچھ نہ کریں تو قریبی خطرہ ہے کہ اللہ تعالی کی طرف سے ان سب ہی پر عذاب آجائے۔ (سنن ابن ماجہ جامع ترمذی)
تشریح
سورہ مائدہ کی یہ 125 ایک سو پچسویں آیت ہے جس کا حوالہ صدیق اکبر ؓٗ نے دیا ہے اس آیت کے ظاہری الفاظ سے کسی کو یہ غلط فہمی ہو سکتی ہے کہ اہل ایمان کی ذمہ داری بس یہ ہے کہ وہ اس کی فکر کریں کہ وہ خود اللہ اور رسول کے بتلائے ہوئے راستہ پر چلتے رہیں دوسروں کی اصلاح و ہدایت کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے اگر دوسرے لوگ اللہ و رسول کے احکام کے خلاف چل رہے ہیں ہم کو ان کی گمراہی اور غلط کاری سے کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔
صدیق اکبر ؓٗ نے اس غلط فہمی کو رفع کرنے کے لئے فرمایا کہ آیت سے ایسا سمجھنا غلط ہوگا میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ وسلم سے سنا ہے آپ فرماتے تھے کہ جب لوگوں کا رویہ یہ ہو جائے کہ دوسرے لوگوں کو خلاف شریعت کام کرتے دیکھے اور ان کی اصلاح کے لیے کچھ نہ کریں بلکہ ان کو ان کے حال پر چھوڑ دیں تو اس بات کا قریبی خطرہ ہوگا کہ خدا کی طرف سے ایسا عذاب آئے جو سب ہی کو اپنی لپیٹ میں لے لے۔
صدیق اکبر ؓ کی اس حدیث اور قرآن و حدیث کے دوسرے نصوص کی روشنی میں سورہ مائدہ کی اس آیت کا مفاد اور مدعی یہ ہوگا کہ اے اہل ایمان جب تم راہ ہدایت پر ہو اللہ و رسول کے احکام کی تعمیل کر رہے ہو (جس میں امر بالمعروف نہی عن المنکر اور بقدر امکان بندگان خدا کی اصلاح و ہدایت کی کوشش بھی شامل ہے) تو اس کے بعد جو ناخدا ترس لوگ ہدایت قبول نہ کریں اور گمراہی کی حالت میں رہیں تو اس کی اس گمراہی اور معاشیت کوشی کی تم پر کوئی ذمہ داری نہیں تم عند اللہ بری الذمہ ہو۔
(حضرت ابو سعید خدری ؓ کی حدیث “مَنْ رَأَى مِنْكُمْ مُنْكَرًا فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهِ الحديث” اس سلسلہ معارف الحدیث کی کتاب الایمان میں درج ہو چکی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جو شخص کوئی خلاف شریعت کام ہوتا دیکھے تو اگر اس کے لئے اس کا امکان ہے کہ طاقت استعمال کرکے اس کو روک دے تو ایسا ہی کرے اور اگر اس کی استطاعت اور قدرت نہیں ہے تو زبان ہی سے نصیحت اور اظہار ناراضی کرے اگر اس کی بھی استطاعت اور قدرت نہیں ہے تو دل ہی سے اس کو برا سمجھے اور دل میں اس کے خلاف جذبہ رکھے)
امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی تاکید اور اس میں کوتاہی پر سخت تہدید
عَنْ جَرِيرِ ابْنِ عَبْدِاللهِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَا مِنْ رَجُلٍ يَكُونُ فِي قَوْمٍ يُعْمَلُ فِيهِمْ بِالْمَعَاصِي، يَقْدِرُونَ عَلَى أَنْ يُغَيِّرُوا عَلَيْهِ، وَلَا يُغَيِّرُونَ إِلَّا أَصَابَهُمُ اللَّهُ بِعِقَابٍ قَبْلَ أَنْ يَمُوتُوا» (رواه ابوداؤد وابن ماجه)
حضرت جریر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ وسلم سے سنا آپ فرماتے تھے کہ کسی قوم (اور جماعت) میں کوئی آدمی ہوں جو ایسے اعمال کرتا ہو جو گناہ اور خلاف شریعت ہیں اور اس قوم اور جماعت کے لوگ اس کی قدرت اور طاقت رکھتے ہوں کہ اس کی اصلاح کر دیں اور اس کے باوجود اصلاح نہ کریں (اسی حال میں اس کو چھوڑے رکھیں) تو ان لوگوں کو اللہ تعالی مرنے سے پہلے کسی عذاب میں مبتلا فرمائے گا۔ (سنن ابی داؤد سنن ابن ماجہ)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ استطاعت اور قدرت کے باوجود غلط کار اور بگڑے ہوئے لوگوں کی اصلاح و ہدایت کی کوشش نہ کرنا اور بے پروائی کا رویہ اختیار کرنا اللہ کے نزدیک ایسا گناہ ہے جس کی سزا آخرت سے پہلے اس دنیا میں بھی دی جاتی ہے۔ اللهم اغفر لنا وارحمنا ولا تعذبنا
امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی تاکید اور اس میں کوتاہی پر سخت تہدید
عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَوْحَى الله عَزَّ وَجَلَّ إِلَى جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ أَنِ اقْلِبْ مَدِينَةَ كَذَا وَكَذَا بِأَهْلِهَا، قَالَ: فَقَالَ: يَا رَبِّ إِنَّ فِيهِمْ عَبْدَكَ فُلَانًا لَمْ يَعْصِكَ طَرْفَةَ عَيْنٍ، قَالَ: فَقَالَ: اقْلِبْهَا عَلَيْهِمْ، فَإِنَّ وَجْهَهُ لَمْ يَتَمَعَّرْ فِيَّ سَاعَةً قَطُّ " (رواه البيهقى فى شعب الايمان)
حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بیان فرمایا کہ اللہ تعالی نے جبرئیل علیہ السلام کو حکم دیا کہ فلاں بستی کو اس کی پوری آبادی کے ساتھ الٹ دو! جبرائیل نے عرض کیا خداوندا اس شہر میں تیرا فلاں بندہ بھی ہے جس نے پل جھپکنے کے برابر بھی کبھی تیری نافرمانی نہیں کی اللہ تعالی کا حکم ہوا کہ اس بستی کو اس بندے پر اور اس کے دوسرے سب باشندوں پر الٹ دو کیوں کہ کبھی ایک ساعت کے لیے بھی میری وجہ سے اس بندہ کا چہرہ متغیر نہیں ہوا۔ (شعب الایمان للبیہقی)
تشریح
اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے پہلے کسی زمانہ کا یہ واقعہ بیان فرمایا کہ کوئی بستی تھی جس کے باشندے عام طور سے سخت فاسق فاجر تھے اور ایسی بد اعمالیاں کرتے تھے جو اللہ تعالی کے قہر و جلال کا باعث بن جاتی ہیں لیکن اس بستی میں ایک ایسا بندہ بھی تھا جو اپنی ذاتی زندگی کے لحاظ سے اللہ تعالی کا پورا فرما بردار تھا اور اس سے کبھی معصیت سرزد نہیں ہوئی تھی مگر دوسری طرف اس کا حال یہ تھا کہ بستی والوں کے فسق و فجور اور ان کی بداعمالیوں پر کبھی اس کو غصہ بھی نہیں آتا تھا اور اس کے چہرے پر شکن بھی نہیں پڑتی تھی۔ اللہ تعالی کے نزدیک یہ بھی اس درجہ کا جرم تھا کہ جبرائیل علیہ السلام کو حکم ہوا کہ بستی کے فاسق فاجر باشندوں کے ساتھ اس بندے پر بھی بستی کو الٹ دو۔
اللہ تعالی اس حدیث سے عبرت حاصل کرنے اور سبق لینے کی توفیق دے۔ (آمین)
امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی تاکید اور اس میں کوتاہی پر سخت تہدید
عَنِ الْعُرْسِ بْنِ عَمِيرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا عُمِلَتِ الْخَطِيئَةُ فِي الأَرْضِ كَانَ مَنْ شَهِدَهَا فَكَرِهَهَا. كَانَ كَمَنْ غَابَ عَنْهَا وَمَنْ غَابَ عَنْهَا فَرَضِيَهَا كَانَ كَمَنْ شَهِدَهَا. (رواه ابوداؤد)
حضرت عرس بن عمیرہ ؓ رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ جب کسی سرزمین میں گناہ کیا جائے تو جب لوگ وہاں موجود ہوں اور اس گناہ سے ناراض ہوں تو (اللہ کے نزدیک) وہ ان لوگوں کی طرح ہیں جو وہاں موجود نہیں ہیں (یعنی ان سے اس گناہ کے بارے میں کوئی باز پرس نہ ہوگی) اور جو لوگ اس گناہ والی سرزمین میں موجود نہ ہوں مگر اس گناہ سے راضی ہوں وہ ان لوگوں کی طرح ہیں جو وہاں موجود تھے (اور گویا شریک گناہ تھے)۔ (سنن ابی داود)
تشریح
اس باب کی دوسری حدیثوں کی روشنی میں حضور ﷺ کے ارشاد کا مطلب یہ ہوگا کہ جن لوگوں کے سامنے اللہ و رسول کے احکام اور شریعت کے خلاف کام کیے جائیں وہ اگر ان سے ناراض ہوں اور حسب استطاعت اصلاح و تغییر کی کوشش کریں ورنہ کم از کم دل ہی میں اس کے خلاف جذبہ رکھیں تو خواہ ان کی ناراضی اور کوششوں کا کوئی اثر نہ ہو اور معصیتوں کا سلسلہ اسی طرح جاری رہے تب بھی ان سے کوئی بازپرس نہ ہوگی (بلکہ وہ ان شاء اللہ ماجور ہوں گے) اور جن لوگوں کو ان کے خلاف شریعت کاموں سے ناگواری اور ناراضی بھی نہ ہو وہ اگرچہ گناہوں کی جگہ سے دور ہوں پھر بھی وہ مجرم ہونگے اور شریک گناہ سمجھے جائیں گے اللہ تعالی توفیق دے کہ رسول اللہ ﷺ کے ارشادات کی روشنی میں ہم اپنا احتساب کریں۔
امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی تاکید اور اس میں کوتاہی پر سخت تہدید
عَنِ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَثَلُ الْمُدْهِنِ فِي حُدُودِ اللَّهِ وَالْوَاقِعِ فِيهَا مَثَلُ قَوْمٍ اسْتَهَمُوا سَفِينَةً، فَصَارَ بَعْضُهُمْ فِي أَسْفَلِهَا وَصَارَ بَعْضُهُمْ فِي أَعْلاَهَا، فَكَانَ الَّذِي فِي أَسْفَلِهَا يَمُرُّونَ بِالْمَاءِ عَلَى الَّذِينَ فِي أَعْلاَهَا، فَتَأَذَّوْا بِهِ، فَأَخَذَ فَأْسًا، فَجَعَلَ يَنْقُرُ أَسْفَلَ السَّفِينَةِ، فَأَتَوْهُ فَقَالُوا مَا لَكَ قَالَ تَأَذَّيْتُمْ بِي، ولابد لِي مِنَ الْمَاءِ، فَإِنْ أَخَذُوا عَلَى يَدَيْهِ أَنْجَوْهُ وَنَجَّوْا أَنْفُسَهُمْ، وَإِنْ تَرَكُوهُ أَهْلَكُوهُ وَأَهْلَكُوا أَنْفُسَهُمْ. (رواه البخارى)
حضرت نعمان بن بشیر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مثال ان لوگوں کی جو اللہ کی حدود اور اس کے احکام کے بارے میں مداہنت (یعنی سہل انگاری اور ڈھیلے پن) سے کام لیتے ہیں (روک ٹوک نہیں کرتے) اور ایسے لوگوں کی جو خود اللہ کی حدود کو پامال اور اس کے احکام کی خلاف ورزی کرتے ہیں ایک ایسے گروہ کی سی مثال ہے جو باہم قرعہ اندازی کرکے ایک کشتی پر سوار ہوا تو کچھ لوگوں نے کشتی کے نیچے کے درجہ میں جگہ پائی اور کچھ نے اوپر والے درجہ میں۔ تو نیچے کے درجہ والا آدمی پانی لے کر اوپر کے درجہ والوں پر سے گزرتا تھا اس سے انہوں نے تکلیف محسوس کی (اور اس پر ناراضی کا اظہار کیا) تو نیچے کے درجے والے نے کلہاڑا لیا اور لگا صاف کرنے کشتی کے نیچے کے حصے میں (تاکہ نیچے ہی سے دریا سے براہ راست پانی حاصل کرلے اور پانی کے لئے اوپر آنا جانا نہ پڑے) تو اوپر کے درجہ والے اس کے پاس آئے اور کہا کے تم کو کیا ہو گیا ہے؟ (یہ کیا کر رہے ہیں؟) اس نے کہا کہ (پانی کے لئے میرے آنے جانے سے) تم کو تکلیف ہوئی (زندگی کی) ناگزیر ضرورت ہے (میں دریا سے پانی حاصل کرنے کے لئے یہ سوراخ کر رہا ہوں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا) تو اگر یہ کشتی والے اس آدمی کا ہاتھ پکڑ لیں (اور اس کو کشتی میں سوراخ نہ کرنے دیں) تو اس کو بھی ہلاکت سے بچا لیں گے اور اپنے کو بھی اور اور اس کو اس کے حال پر چھوڑ دیں گے (اور کشتی میں سوراخ کرنے دینگے) تو اس کو بھی موت کے گھاٹ اتار دیں گے۔ اور اپنے کو بھی (سب ہی غرقاب ہو جائیں گے)۔ (صحیح بخاری)
تشریح
حدیث کی بقدر ضرورت تشریح ترجمہ ہی کے ضمن میں کردی گئی ہے بڑی ہی عام فہم اور سبق آموز مثال ہے۔ حدیث کا پیغام یہ ہے کہ جب کسی بستی یا کسی گروہ میں اللہ کی حدود پامال کی جاتی ہوں اور اس کے احکام کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہوتی ہو وہ بد اعمالیاں ہوتی ہوں جو خداوند ذوالجلال کے قہر و عذاب کو دعوت دیتی ہیں تو اگر ان میں کے اچھے اور نیک لوگ اصلاح و ہدایت کی کوئی کوشش نہیں کریں گے تو جب خدا کا عذاب نازل ہوگا تو یہ بھی اس کی لپیٹ میں آجائیں گے اور انکی ذاتی نیکی اور پرہیزگاری ان کو نہ بچا سکے گی۔ قرآن پاک میں بھی فرمایا گیا ہے
“وَاتَّقُوا فِتْنَةً لَّا تُصِيبَنَّ الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنكُمْ خَاصَّةً ۖ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّـهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ” (الانفال نمبر 25) (اور اس عذاب سے ڈرو اور بچنے کی کوشش کرو جو صرف ظالموں، مجرموں ہی پر نہیں آئے گا اور خود جان لو کہ اللہ کی سزا بڑی ہی سخت ہے)
کن حالات میں امر بالمعروف و نہی عن المنکر کی ذمہ داری ثابت ہوجاتی ہے
عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيَّ فِي قوله تعالى {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ لاَ يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ} قَالَ أَمَا وَاللَّهِ سَأَلْتَ عَنْهَا خَبِيرًا سَأَلْتُ عَنْهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: بَلِ ائْتَمِرُوا بِالْمَعْرُوفِ وَتَنَاهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ حَتَّى إِذَا رَأَيْتَ شُحًّا مُطَاعًا وَهَوًى مُتَّبَعًا وَدُنْيَا مُؤْثَرَةً وَإِعْجَابَ كُلِّ ذِي رَأْيٍ بِرَأْيِهِ فَعَلَيْكَ بِخَاصَّةِ نَفْسِكَ وَدَعِ الْعَوَامَّ فَإِنَّ مِنْ وَرَائِكُمْ أَيَّامًا الصَّبْرُ فِيهِنَّ مِثْلُ الْقَبْضِ عَلَى الْجَمْرِ لِلْعَامِلِ فِيهِنَّ مِثْلُ أَجْرِ خَمْسِينَ رَجُلاً يَعْمَلُونَ مِثْلَ عَمَلِكُمْ. (رواه الترمذى)
حضرت ابو ثعلبہ خشنی ؓ سے روایت ہے انہوں نے اللہ تعالی کے ارشاد “يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ لاَ يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ” کے بارے میں (ایک صاحب کے سوال کے جواب میں) فرمایا کہ میں نے اس آیت کے بارے میں اس ہستی سے پوچھا تھا جو (اس کے مطلب اور مدعی سے اور اللہ کے حکم سے) سب سے زیادہ باخبر تھی (یعنی) رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا تھا تو آپ نے ارشاد فرمایا (اس آیت سے غلط فہمی میں نہ پڑو) بلکہ تم امر بالمعروف اور نہی عن المنکر برابر کرتے رہو یہاں تک کہ جب (وہ وقت آ جائے کہ) تم دیکھو کہ بخل اور دولت اندوزی کے جذبہ کی اطاعت کی جاتی ہے اور (اللہ اور رسول کے احکام کے مقابلہ میں) اپنی نفسانی خواہشات کا اتباع کیا جاتا ہے اور (آخرت کو فراموش کرکے) بس دنیا ہی کو مقصود بنا لیا گیا ہے اور ہر شخص خود رائی اور خود بینی کا مریض ہے (تو جب عام لوگوں کی حالت یہ ہو جائے) تو اس وقت بس اپنی ذات ہی کی فکر کرو اور عوام کو چھوڑو (ان کا معاملہ خداکے حوالہ کردو) کیونکہ تمہارے بعد میں ایسا دور بھی آئے گا کہ صبر اور ثابت قدمی (کے ساتھ دین پر قائم رہنا اور شریعت پر چلنا) ایسا (مشکل اور صبر آزما) ہوگاجیسا ہاتھ میں انگارہ لے لینا ان دنوں میں شریعت پر عمل کرنے والے پچاس آدمیوں کے برابر اجر و ثواب ملے گا (جامع ترمذی)
تشریح
حضرت ابو ثعلبہ خشنی ؓ سے ایک تابعی ابو امیہ شعبانی نے سورہ مائدہ کی اس آیت نمبر 125 کے متعلق جس کے بارے میں حضرت صدیق اکبر ؓ کا ارشاد اوپر گزر چکا ہے سوال کیا تھا تو انھوں نے یہ جواب دیا کہ میں نے خود رسول اللہ ﷺ سے اس آیت کے بارے میں دریافت کیا تھا (کیونکہ اس کے ظاہری الفاظ سے یہ شبہ ہوسکتا ہے کہ اگر ہم خود اللہ و رسول کی ہدایت کے مطابق چل رہے ہیں تو دوسرے لوگوں کے دین کی فکر اور امر بالمعروف ونہی عن المنکر ہماری ذمہ داری نہیں ہے) تو رسول اللہ ﷺ نے وہ جواب ارشاد فرمایا جو حدیث میں مذکور ہوا جس کا حاصل یہ ہے کہ اپنے دین کی فکر کے ساتھ دوسرے بندگان خدا کے دین کی فکر اور اس سلسلہ میں امربالمعروف ونہی عن المنکر بھی دینی فریضہ اور خداوندی مطالبہ ہے اس لیے اس کے کو برابر کرتے رہو۔ ہاں جب امت کا حال یہ ہو جائے کہ بخل و کنجوسی اس کا مزاج بن جائے اور دولت کی پوجا ہونے لگے اور اللہ و رسول کے احکام کے بجائے بس خواہشات نفس کا اتباع کیا جانے لگے اور آخرت کو بھلا کر دنیا ہی کو مقصود بنا لیا جائے اور خود بینی اور خود رائی کی وبا عام ہوجائے تو اس بگڑی ہوئی فضا میں چونکہ امر بالمعروف نہی عن المنکر کی تاثیر و افادیت اور عوام کی اصلاح پذیری کی امید نہیں ہوتی اس لئے چاہیے کہ بندہ عوام کی فکر چھوڑ کے بس اپنی ہی اصلاح اور معصیت سے حفاظت کی فکر کرے۔
آخر میں حضور ﷺ نے فرمایا کہ بعد میں ایسے دور بھی آئیں گے جب دین پر قائم رہنا اور اللہ و رسول کے احکام پر چلنا ہاتھ میں آگ لینے کی طرح تکلیف دہ اور صبر آزما ہو گا۔ ظاہر ہے کہ ایسے حالات میں خود دین پر قائم رہنا ہی بہت بڑا جہاد ہوگا اور دوسروں کی اصلاح کی فکر اور اس سلسلہ میں امر بالمعروف و نہی عن المنکر کی ذمہ داری باقی نہیں رہے گی۔ اور ایسی ناموافق فضا اور سخت حالات میں اللہ و رسول کے احکام پر صبروثابت قدمی کے ساتھ عمل کرنے والوں کے بارے میں آپ ﷺ نے فرمایا کہ ان کو پچاس پچاس تمہارے جیسے عمل کرنے والوں کی برابر اجر و ثواب ملے گا۔
فی سبیل اللہ جہاد و قتال اور شہادت
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: يَا أَبَا سَعِيدٍ مَنْ رَضِيَ بِاللَّهِ رَبًّا وَبِالإِسْلاَمِ دِينًا وَبِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ. فَعَجِبَ لَهَا أَبُو سَعِيدٍ فَقَالَ أَعِدْهَا عَلَيَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَفَعَلَ ثُمَّ قَالَ: وَأُخْرَى يُرْفَعُ بِهَا الْعَبْدُ مِائَةَ دَرَجَةٍ فِي الْجَنَّةِ مَا بَيْنَ كُلِّ دَرَجَتَيْنِ كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ. قَالَ وَمَا هِيَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ. (رواه مسلم)
حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے (ایک دن) ارشاد فرمایا کہ جس بندے نے دل سے برضا و رغبت اللہ تعالی کو اپنا مالک و پروردگار اسلام کو اپنا دین اور محمد (ﷺ) کو اللہ کا رسول و ہادی مان لیا اس کے لئے جنت واجب ہوگئی (رسول اللہ ﷺ کی زبان مبارک سے یہ بشارت سن کر حدیث کے راوی) ابو سعید خدریؓ کو بڑی خوشی ہوئی اور انہوں نے (حضور ﷺ سے) عرض کیا کہ یارسول اللہ یہی بات پھر ارشاد فرما دیں! چنانچہ آپ ﷺ نے پھر وہی بعد دوبارہ ارشاد فرمائی (اسی کے ساتھ مزید یہ بھی) آپ ﷺ نے فرمایا کہ ایک اور دینی عمل ہے (جو اللہ تعالی کے نزدیک اتنا عظیم ہے کہ) اس عمل کرنے والے کو اللہ تعالی جنت میں سو درجے بلند فرمائے گے جن میں سے دو درجوں کے درمیان زمین و آسمان کا سا فاصلہ علیہ (یہ سن کر) ابو سعید خدریؓ نے عرض کیا کہ حضرت وہ کون سا عمل ہے؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا وہ ہے جہاد فی سبیل اللہ جہاد فی سبیل اللہ جہاد فی سبیل اللہ (صحیح مسلم)
تشریح
جیسا کہ معلوم ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمام نبی و رسول اسی لئے بھیجے گئے کہ اس کے بندوں کو دین حق یعنی زندگی کے اس خدا پرستانا اور شریفانہ طریقہ کی دعوت و تعلیم دیں اور اس پر چلانے کی کوشش کریں جو ان کے خالق و پروردگار نے ان کے لئے مقرر کیا ہے اور جس میں اس کی دنیا و آخرت کی سکول آف صلاح و فلاح ہے اور جس پر چلنے والوں کیلئے خدا کی رضا ورحمت اور جنت کی ضمانت ہے۔
قرآن مجید کا بیان اور ہمارا ایمان ہے کہ سب ہیں انبیاء و رسل علیہم السلام نے اپنے اپنے دور اور دائرہ میں اس کی دعوت دی اور اسی کیلئے جدوجہد کی۔ لیکن قریبا سب ہی کے ساتھ ایسا ہوا کہ ان کے زمانے اور ان کی قوم کے شریر و بد نفس لوگوں نے نہ صرف یہ کہ ان کی دعوت حق کو قبول نہیں کیا بلکہ شدید مخالفت و مزاحمت کی اور دوسروں کا بھی راستہ روکا اور اگر ان کے ہاتھ میں طاقت ہوئی تو انہوں نے اللہ کے نبیوں اور ان پر ایمان لانے والوں کو ظلم و جبر کا بھی نشانہ بنایا بلاشبہ انبیاء علیہم السلام اور ان کی دعوت حق کے یہ دشمن انسانوں اور انسانیت کے حق میں سانپوں اور اژدہوں سے بھی زیادہ زہریلے اور خطرناک تھے اس لیے اکثر ایساہوا کہ ایسے لوگوں اور ایسی قوموں پر خدا کا عذاب نازل ہوا اور صفحہ ہستی سے ان کا نام و نشان تک مٹا دیا گیا اور وہ اسی کے مستحق تھے “وَمَا ظَلَمَهُمُ اللَّـهُ وَلَـٰكِن كَانُوا أَنفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ” قرآن مجید میں حضرات انبیاء علیہم السلام اور ان کے شریر و بد نفس مکذبین کے یہ حالات تفصیل سے بیان فرمائے گئے ہیں۔
سب سے آخر میں خاتم النبیین سیدنا حضرت محمد ﷺ مبعوث ہوئے انبیائے سابقین کی طرح آپ نے بھی قوم کو دین حق کی دعوت دی کچھ نیک فطرت بندگان خدا نہیں آپ کی دعوت کو قبول کیا اور کفر و شرک فسق و فجور اور ظلم و عدوان کی جاہلی زندگی چھوڑ کے وہ خدا خدا پرستانہ پاکیزہ زندگی اختیار کرلی جس کی آپ دعوت دیتے تھے لیکن قوم کے اکثر بڑوں اور سرداروں نے شدید مخالفت اور مزاحمت کا رویہ اختیار کیا خود رسول اللہ ﷺ کو بھی سے ستایا اور آپ پر ایمان لانے والوں پر خاص کر بےچارے غرباء اور ضعفاء پر مظالم و مصائب کے پہاڑ توڑے مکہ کے یہ اشرار ابو جہل ابو لہب وغیرہ بلاشبہ اس کے مستحق تھے کہ اگلی امتوں کے معذین کی طرح ان پر بھی آسمانی عذاب آتا اور صفحہ ہستی کو ان کے وجود سے پاک کر دیا جاتا لیکن رسول اللہ ﷺ کو اللہ تعالی نے سید المرسلین و خاتم النبیین کے علاوہ رحمت للعالمین بنا کر بھی بھیجا تھا اور اس بنا پر آپ ﷺ کے لئے طے فرما دیا گیا تھا کہ آپ کے مخالفین و مکذبین ین اور ستانے والے خبیث ترین دشمنوں پر بھی آسمانی عذاب نازل نہیں کیا جائے گا اور بجائے اسکے آپ پر ایمان لانے والوں ہی کے ذریعہ ان کا زور توڑا جائے گا اور دین حق کی دعوت کا راستہ صاف کیا جائے گا اور انہی کے ہاتھوں سے ان مجرمین کو سزا دلوائی جائے گی اور اس عمل میں ان کی حیثیت اللہ کی لشکریوں اور خداوندی کارندوں کی ہوگی چنانچہ جب وہ وقت آگیا جو اللہ تعالی کی طرف سے اس کے لیے مقرر تھا تو نبوت کے تیرہویں سال رسول اللہ ﷺ اور آپ پر ایمان لانے والوں کو مکہ معظمہ سے ہجرت کا حکم ہوا یہ ہجرت دراصل دین حق کی دعوت کے اس دوسرے مرحلہ کی ابتدا تھی جس کیلئے ایمان لانے والے حاملین دعوت کو اللہ تعالی کا حکم تھا کہ وہ مزاحمت کرنے والے اور اہل ایمان پر ظلم و ستم کرنے والے اشرار ناہنجار کا زور توڑنے کے لیے اور دعوت حق کا راستہ صاف کرنے کے لیے حسب ضرورت اپنی جان اور اپنی ہر چیز قربان کرنے کے لیے تیار ہو جائیں اور میدان میں آجائیں اسی کا عنوان جہاد و قتال فی سبیل اللہ ہے اور اس راستہ میں اپنی جان قربان کردینے کا نام شہادت ہے۔
ناظرین کرام نے اس تمہید سے سمجھ لیا ہوگا کہ کفر و اہل کفر کے خلاف اہل ایمان کی مسلح جدوجہد (ہوا اقدامی ہوں یا مدافعانہ) اللہ و رسول کے نزدیک اور شریعت کی زبان میں جب ہی جہاد و قتال فی سبیل اللہ ہے جبکہ اس کا مقصد دین حق کی حفاظت و نصرت یا اس کے لیے راستہ صاف کرنا اور اللہ کے بندوں کو خدا کی رحمت کا مستحق اور جنتی بنانا ہو۔ لیکن اگر جنگ اور طاقت آزمائی کا مقصد ملک و مال ہو یا اپنی قوم یا وطن کا جھنڈا اونچا رکھنا ہو تو وہ ہرگز جہاد و قتال فی سبیل اللہ نہیں ہے۔
سطور بالا میں جو کچھ عرض کیا گیا اس سے ناظرین کو یہ بھی معلوم ہوگیا ہوگا کہ رسول اللہ ﷺ کی شریعت میں جہاد کا حکم و قانون اس لحاظ سے بڑی رحمت ہے کہ انبیاء علیہم السلام کی دعوت حق کی تکذیب اور مزاحمت کرنے والوں پر جس طرح کے آسمانی عذاب پہلے آیا کرتے تھے اب قیامت تک کبھی نہیں آئیں گے گویا جہاد کسی درجہ میں اس کا بدل ہے۔ واللہ اعلم۔
اس تمہید کے بعد رسول اللہ ﷺ کے مندرجہ ذیل ارشادات پڑھے جائیں جن میں مختلف عنوانات سے جہاد اور شہادت کی سبیل اللّٰہ کے فضائل بیان فرمائے گئے ہیں۔
تشریح ..... ظاہر ہے کہ جو شخص بشرح صدر اور دل و جان سے اللہ تعالی کو اپنا رب اور سیدنا حضرت محمد ﷺ کو رسول برحق اور اسلام کو اپنا دین بنا لے گا اس کی زندگی بھی اسلامی ہو گی اور اپنے رب کا فرمانبردار اور رسول پاک صلی اللہ ھو علیہ وسلم کا تابعدار ہوگا آپ ﷺ نے ایسے بندوں کو بشارت سنائی کے ان کے لئے اللہ تعالی کی طرف سے جنت کا فیصلہ ہو چکا ہے اور جنت ان کے لئے واجب ہو چکی ہے حضرت ابو سعید خدری کو حضور ﷺ کی زبان مبارک سے یہ بشارت سن کر بے حد خوشی ہوئی (غالبا اس لئے کہ اللہ تعالی کے فضل کرم سے یہ دولت ان کو نصیب تھی) انہوں نے (اسی وجد و مسرت کی حالت میں) حضور ﷺ سے درخواست کی کہ حضرت اسکو دوبارہ ارشاد فرما دیں آپ ﷺ نے دوبارہ ارشاد فرما دیا اور اس کے ساتھ مزید ارشاد فرمایا کہ جس کے عامل کو اللہ تعالیٰ جنت میں سو (100) درجے بلند فرمائیں گے حضرت ابوسعید کے یہ دریافت کرنے پر کہ وہ کون سا عمل ہے آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا وہ ہے جہاد فی سبیل اللہ جہاد فی سبیل اللہ جہاد فی سبیل اللہ۔
آپ ﷺ نے جواب میں تین دفع ارشاد فرمایا “الْجِهَاد‘ فِىْ سَبِيْلِ اللهِ” اس سے ہر صاحب ذوق سمجھ سکتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے قلب مبارک میں جہاد کی کیسی عظمت اور کیسی رغبت و محبت تھی آگے درج ہونے والی حدیث سے یہ بات اور زیادہ واضح ہو جائے گی۔
واضح رہے کہ آخرت اور جنت و دوزخ کے بارے میں قرآن و حدیث میں جو کچھ فرمایا گیا ہے اس کی پوری حقیقت وہاں پہنچ کر ہی معلوم ہوگی ہماری اس دنیا میں اس کی کوئی نظیر اور مثال بھی موجود نہیں ہے..... ہمیں بس دل سے مان لینا اور یقین کر لینا چاہئے کہ اللہ و رسول نے جو کچھ ارشاد فرمایا وہ برحق ہے اور جب وقت آئے گا انشاءاللہ اس کو ہم بھی دیکھ لیں گے۔
فی سبیل اللہ جہاد و قتال اور شہادت
عَنِ أَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْلاَ أَنَّ رِجَالاً مِنَ الْمُؤْمِنِينَ لاَ تَطِيبُ أَنْفُسُهُمْ أَنْ يَتَخَلَّفُوا عَنِّي، وَلاَ أَجِدُ مَا أَحْمِلُهُمْ عَلَيْهِ، مَا تَخَلَّفْتُ عَنْ سَرِيَّةٍ تَغْزُو فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوَدِدْتُ أَنِّي أُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ثُمَّ أُحْيَا، ثُمَّ أُقْتَلُ ثُمَّ أُحْيَا، ثُمَّ أُقْتَلُ ثُمَّ أُحْيَا، ثُمَّ أُقْتَلُ. (رواه البخارى ومسلم)
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اس پاک ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے اگر یہ بات نہ ہوتی کہ بہت سے اہل ایمان کے دل اس پر راضی نہیں کہ وہ جہاد کے سفر میں میرے ساتھ نہ جائیں اور میرے پاس ان کے لیے سواریوں کا انتظام نہیں ہے (اگر یہ مجبوری حائل نہ ہوتی) تو میں راہ خدا میں جہاد کے لیے جانے والی ہر جماعت کے ساتھ جاتا (اور جہاد کی ہر مہم میں حصہ لیتا) قسم اس ذات پاک کی جس کے قبضے میں میری جان ہے میری دلی آرزو ہے کہ میں راہ خدا میں شہید کیا جاؤں مجھے پھر زندہ کر دیا جائے اور میں پھر شہید کیا جاؤں اور پھر مجھے زندہ کیا جائے اور میں پھر شہید کیا جاؤں اور مجھے پھر زندگی عطا فرمائی جائے اور میں پھر شہید کیا جاؤں۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
حدیث کا مقصد ومدعا جہاد اور شہادت فی سبیل اللہ کی عظمت اور محبوبیت بیان فرمانا ہے حضور ﷺ کے ارشاد کا حاصل یہ ہے کہ میرے دل کا داعیہ اور جذبہ تو یہ ہے کہ راہ خدا میں جہاد کے لیے جانے والے ہر لشکر اور ہر دستہ کے ساتھ جاؤں اور ہر جہادی مہم میں میری شرکت ہو لیکن مجبوری یہ دامن گیر ہے کہ مسلمانوں میں بہت سے ایسے فدائی ہیں جو اس پر راضی نہیں ہوسکتے کہ میں جاؤں اور وہ میرے ساتھ نہ جائیں اور میرے پاس ان سب کے لئے سواریوں کا بندوبست نہیں ہے اس لئے ان کی خاطر میں اپنے جذبہ کو دبا لیتا ہوں اور انتہائی دلی خواہش کے باوجود ہر جہادی مہم میں نہیں جاتا اگر آپ ﷺ نے اس سلسلہ میں اپنے دلی داعیہ اور جذبے کا اظہار فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا اور قسم کے ساتھ فرمایا کہ میری میری دلی آرزو یہ ہے کہ میں میدان جہاد میں دشمنان حق کے ہاتھوں قتل کیا جاؤں اس کے بعد اللہ تعالی مجھے پھر زندہ فرمائیں اور میں پھر اس کی راہ میں اسی طرح قتل کیا جاؤں اور پھر اللہ تعالی مجھے زندگی عطا فرمائیں اور پھر اسی طرح شہیدکیاجاؤں اور پھر مجھے زندگی عطا ہو اور میں پھر اس کو قربان کروں اور شہید کیا جاؤں۔
فی سبیل اللہ جہاد و قتال اور شہادت
عَنْ أَنَسٍَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا أَحَدٌ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ يُحِبُّ أَنْ يَرْجِعَ إِلَى الدُّنْيَا وَلَهُ مَا عَلَى الأَرْضِ مِنْ شَيْءٍ، إِلاَّ الشَّهِيدُ، يَتَمَنَّى أَنْ يَرْجِعَ إِلَى الدُّنْيَا فَيُقْتَلَ عَشْرَ مَرَّاتٍ، لِمَا يَرَى مِنَ الْكَرَامَةِ. (رواه البخارى ومسلم)
حضرت انس ؓٗ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جنت میں پہنچ جانے کے بعد کوئی شخص بھی نہیں چاہے گا اور نہیں پسند کرے گا کہ اس کو پھر دنیا میں اس حال میں واپس کر دیا جائے کہ دنیا کی ساری چیزیں اسکی ہوں (وہ سب کا مالک ہوں) البتہ جو راہ خدا میں شہید ہو کر جنت میں پہنچے گا وہ اس کی آرزو کرے گا کہ اس کو پھر دنیا میں واپس کر دیا جائے اور وہ پھر (ایک دفعہ نہیں) دس دفعہ راہ خدا میں شہید کیا جائے وہ یہ آرزو اس لیے کرے گا کہ جنت میں دیکھے گا کہ اللہ تعالی کی طرف سے شہیدوں کا کیسا اکرام و اعزاز ہے۔ (اور وہاں ان کا کیا مقام و مرتبہ ہے)۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
فی سبیل اللہ جہاد و قتال اور شہادت
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الْقَتْلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ يُكَفِّرُ كُلَّ شيء إِلاَّ الدَّيْنَ. (رواه مسلم)
حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا راہ خدا میں شہید ہونا سب گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے سوائے قرض کے۔ (صحیح مسلم)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ بندے سے اللہ تعالی کے احکام کی تعمیل اور حقوق کی ادائیگی میں جو کوتاہیاں اور جو قصور و گناہ ہوئے ہونگے راہ خدا میں جان کی مخلصانہ قربانی اور فی سبیل اللہ شہادت ان سب کا کفارہ بن جائیگی شہادت کے طفیل وہ سب معاف ہو جائیں گے ہاں اس پر جو کسی بندے کا قرض ہوگا اور اس کے علاوہ بھی بندوں کے جو حقوق ہوں گے وہ شہادت سے بھی معاف نہیں ہونگے اس حدیث سے شہادت فی سبیل اللہ کی عظمت بھی معلوم ہوئی اور قرض وغیرہ حقوق العباد کی غیرمعمولی سنگینی بھی اللہ تعالیٰ اس سے سبق لینے کی توفیق دے۔
فی سبیل اللہ جہاد و قتال اور شہادت
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الشَّهِيدُ لَا يَجِدُ أَلَمِ الْقَتْلِ إِلاَّ كَمَا يَجِدُ أَحَدُكُمْ مِنْ أَلَمِ الْقَرْصَةِ. (رواه الترمذى والنسائى والدارمى)
حضرت ابوہریرہ ؓٗ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا راہ خدا میں شہید ہونے والا بندہ قتل کئے جانے کی بس اتنی ہی تکلیف محسوس کرتا ہے جتنی تکلیف تم میں سے کوئی آدمی چیونٹی کے کاٹ لینے کی محسوس کرتا ہے۔ (جامع ترمذی، سنن نسائی، سنن دارمی)
تشریح
جس طرح ہماری اس دنیا میں آپریشن کی جگہ کو دوا یا انجکشن کے ذریعے سن کر کے بڑے بڑے آپریشن کیے جاتے ہیں اور اس کی وجہ سے آپریشن کی تکلیف برائے نام ہی محسوس ہوتی ہے اس طرح سمجھنا چاہیے کہ جب کوئی بندہ رہا ہے خدا میں شہید کیا جاتا ہے تو اللہ تعالی کی طرف سے اس پر ایسی کیفیت طاری کردی جاتی ہے کہ اس کو اس سے زیادہ تکلیف محسوس نہیں ہوتی جتنی کسی کو چیونٹی کے کاٹنے سے ہوتی ہے۔
جامع ترمذی ہی کی ایک دوسری روایت میں ہے کہ جب کوئی بندہ راہ خدا میں شہید کیا جاتا ہے تو اسی وقت جنت میں اسکا جو ٹھکانا ہے وہ اس کے سامنے کر دیا جاتا ہے (يرى مقعده من الجنة) جنت کے اس نظارہ کی لذت و محویت بھی ایسی چیز ہے جس کی وجہ سے قتل کی تکلیف محسوس نہ ہونا قرین قیاس ہے۔
فی سبیل اللہ جہاد و قتال اور شہادت
عَنْ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ سَأَلَ اللَّهَ الشَّهَادَةَ بِصِدْقٍ بَلَّغَهُ اللَّهُ مَنَازِلَ الشُّهَدَاءِ وَإِنْ مَاتَ عَلَى فِرَاشِهِ. (رواه مسلم)
حضرت سہل بن حنیف ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو بندہ صدق قلب سے اللہ تعالی سے شہادت کی استدعا کرے گا اللہ تعالی اس کو شہیدوں ہی کے مقام و مرتبہ پر پہنچا دے گا اگرچہ اپنے بستر ہی پر اس کا انتقال ہوا۔ (صحیح مسلم)
تشریح
ہمارے زمانے میں قتال فی سبیل اللہ اور شہادت کا دروازہ گویا بند ہے لیکن اس حدیث نے بتلایا کہ جو بندہ شہادت کے مندرجہ بالا فضائل پر نگاہ رکھتے ہوئے سچے دل سے اس کے طالب اور آرزو مند ہوں گے اللہ تعالیٰ ان کی طلب اور نیت کی بنا پر ان کو شہیدوں ہی کا مقام و مرتبہ عطا فرمائے گا۔